Ayahs 2:224–226ربط آیات
اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ حیض کی وضاحت فرمائی کہ ایسی حالت میں عورت سے مباشرت حرام ہے ، تا ہم طہارت حاصل کرلینے کے بعد عورتوں کے پاس جانے کی اجازت ہے ، اس سے گزشتہ آیت میں مشرک مرد اور مشرکہ عورتوں سے نکاح کی ممانعت فرمائی تھی ۔ اس سے پہلے یتیموں کے مال سے متعلق مسائل تھے ، اور انہیں ساتھ ملانے کی اجازت دی تا ہم فرمایا کہ ہر حال میں یتیموں کی اصلاح پیش نظر ہونی چاہئے ، محتاجوں کی اعانت کے متعلق بھی حکم آ چکا ہے کہ اپنی جائز ضروریات سے زاید مال مستحقین پر خرچ کر دو ، ضرورت سے زیادہ مال رکھنا شرکا باعث ہے ، اس سے پہلے شراب اور جوئے کی حرمت کا بیان بھی آ چکا ہے کہ یہ سب ناپاک چیزیں ہیں اور ہر برائی کی جڑ ہیں۔
مسئلہ قسم
گزشتہ دروس کی آیات میں متذکرہ قبیح چیزوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس درس کی آیات میں لوگوں میں پائی جانے والی ایک اور بری بات کا ذکر فرمایا ہے اور وہ ہے نیکی کا کام ہ کرنے پر اللہ کی قسم اٹھانا ، قسم کے متعلق احکام مختلف سورتوں میں بیان ہوئے ہیں ، منجملہ ان کے یہ آیات اور سورة مائدہ کی آیات ہیں ۔ قرآن و حدیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قسم اٹھانا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ اگر کوئی سچا ہو اور قسم اٹھائے بغیر چارہ بھی نہ ہو ، تو ایسی صورت میں قسم اٹھانے کی اجازت ہے اور اس میں شرط یہ ہے کہ قسم اللہ کے کسی نام یا اس کی صفت کے ساتھ اٹھائی جائے ، کسی انسان ، جن ، نبی یا کسی اور چیز کی قسم نہیں اٹھانی چاہئے ، کیونکہ من اقسم بغیر اللہ فقد اشرک جس نے غیر اللہ کی قسم اٹھائی اس نے شرک کا ارتکاب کیا ، اور اگر ایسی قسم اٹھانے والا شخص اس غیر اللہ کی ایسی ہی تعظیم کرتا ہے جیسی اللہ کی کرنی چاہئے یا اس کی صفت کو ویسی ہی جانتا ہے۔ جیسی اللہ کی صفت ، تو پھر ایسے شخص نے حقیقتاً شرک کیا اور مشرک یا کافر ہوگیا اور اگر حقیقی تعظیم غیر اللہ مراد نہ ہو پھر بھی غیر اللہ کی تعظیم میں شبہ ہوگا ، اس کے مناسب نہیں کہ کسی حال میں بھی غیر اللہ کی قسم اٹھائی جائے اور مطلقاً بھی قسم اچھی نہیں لہٰذا بہتر یہی ہے کہ حتیٰ الامکان قسم اٹھانے سے گریز کیا جائے۔ اما شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے پوری زندگی میں کبھی قسم نہیں اٹھائی۔
نا جائز قسم کی ممانعت
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جائز امور میں تو قسم اٹھانے کی اجازت ہے مگر بری باتوں میں قسم مت ٹھائو ۔ ولا تجعلوا اللہ عرضۃ لا یمانکم اللہ تعالیٰ کے پاک ناموں کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بنائو ۔ ان امور میں ا تبروا اوتتقوا وتصلحوا بین الناس کہ تم نیکی نہیں کرو گے ۔ پرہیز گاری اختیار نہیں کرو گے یا لوگوں کے درمیان صلح نہیں کر ائو گے ۔ فرمایا یہ تو بہت بری حرکت ہے کہ ایک اچھائی کے کام میں اللہ کی قسم کھاتے ہو کہ ہم یہ نیکی کا کام نہیں کریں گے۔ یہ تو بہت ہی بری بات ہے یا مثلاً کوئی اس بات کی قسم اٹھائے کہ میں والدین سے کلام نہیں کرونگا ۔ یا کسی محتاج کی اعانت نہیں کروں گا ، یا کوئی فرض ادا نہیں کروں گا تو فرمایا ایسا نہ کرو۔ واللہ سمیع اللہ تعالیٰ سنے والا ہے ۔ لہٰذا کوئی ایسی بات زبان پر نہ لائو جو قابل مواخذہ ہو اور وہ علیم بھی ہے۔ جو دلوں کے رازوں کو بھی جانتا ہے اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے۔ وہ تمہاری یتوں سے بھی واقف ہے کہ کوئی کام تم اچھی نیت سے کر رہے ہو یا بری نیت سے ، لہٰذا اپنا دل قابو میں رکھو اور اس میں کوئی برا خیال نہ آنے دو ۔ زبان پر کنٹرول ہونا چاہئے۔ زبان سے کوئی بری بات نہ نکلے کیونکہ اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے تم اس کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔
قسم کی تین قسمیں
فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ قسم کی تین قسمیں ہیں ۔ پہلی قسم یمین لغو ہے۔ جو بغیر ارادے کے زبا سے نکل جائے ، ایسی قسم پر کوئی مواخذہ نہیں اور نہ ہی کفارہ ادا کرنا پڑتا ہے ۔ اس پر آخرت میں بھی کوئی گرفت نہیں ، ہاں اگر دل کے ارادے سے قسم اٹھائی جائے بما کسبت قلوبکم ایسی قسم پر یقینا مواخذہ ہوگا ۔ دوسری قسم یمین غموس ہے۔ غمس کا معنی کسی گناہ میں غوطہ مارا ہے ، اگر کوئی شخص کسی گزشتہ واقعہ کے متعلق دیدہ دانستہ غلط قسم اٹھاتا ہے ، مثلاً یہ کہ فلاں شخص میرے پاس آیا تھا ، مگر حقیقت میں وہ نہیں آیا تھا تو ایسی قسم غموس کہلاتی ہے۔ اس میں اگرچہ کفارہ نہیں ہے ، مگر قسم اٹھانے والا گناہ گار ہوتا ہے اور آخرت میں قابل مواخذہ ہے۔ قسم کی تیسری قسم یمین منعقدہ ہے یعنی کوئی شخص آے والے زمانہ کے لیے قسم اٹھائے کہ میں فلاں کام کروں گا یا فلاں کام نہیں کروں ۔ اگر ایسی قسم جائز کام سے متعلق ہے اور اس نے قسم کو پورا بھی کردیا ، تو وہ بری ہوگیا ، اگر اس نے قسم کو توڑ دیا ہے تو کفارہ دینا پڑے گا اور قسم کسی ناجائز کام سے متعلق اٹھائی ہے تو قسم کو توڑ کر کفارہ ادا کرنا چاہئے۔
قسم کا کفارہ
حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جب میں کسی بات پر قسم کھا لیتا ہوں اور پھر دیکھتا ہوں کہ دوسری بات زیادہ بہتر ہے۔ تو قسم توڑکر کفار ادا کردیتا ہوں ۔ ایک موقع پر 1 ؎ مشہور صحابی حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے عرض کیا ، حضور ! ہم جہاد پر جانا چاہتے ہیں ، ہمارے لیے سواری کا انتظام فرما دیں ۔ آپ نے فرمایا واللہ لا احملکم اللہ کی قسم میں تم کو کسی سواری پر سوار نہیں کر ائوں گا۔ صحابی خاموش ہو کر چلے گئے ۔ تھوڑی دیر کے بعد حضور ﷺ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کو بلا کر اونٹ ان کے حوالے کردیے۔ انہوں نے عرض کیا حضور آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ آپ ہمیں سوار نہیں کریں گے ، اور میں نے اپنے ساتھیوں سے بھی کردیا کہ آپ نے یہ قسم اٹھا لی ہے ۔ حضور ! اگر اب میں اونٹ لے گیا تو اپنے ساتھیوں میں جھوٹا ثابت ہوں گا ، حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ، جب میں کسی معاملہ میں قسم اٹھالیتا ہوں اور پھر دیکھتا ہوں کہ دوسری بات بہتر ہے تو قسم توڑ کر کفارہ ادا کردیتا ہوں ۔ ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ایک بات پر اصرار نہ کرے جب کہ دوسری بات بہتر ہو ، اس کو چاہئے کہ ایسی قسم توڑ کر کفارہ ادا کر دے ، اللہ تعالیٰ کی رضا اسی میں ہے۔ قسم کا کفارہ سورة مائدہ میں مذکور ہے قسم توڑنے والا ایک غلام آزاد کرے۔ غلامی کا رواج اب ختم ہوچکا ہے۔ لہٰذا یہ کفارہ تو اب ادا نہیں کیا جاسکتا ، البتہ یہ کہ دس مسکینوں کو اتنا کپڑا پہنا دیا جائے ، جس میں وہ نماز ادا کرسکیں ، یا دس مسا کی کو دو وقت اوسط درجے کا کھانا کھلا یا جائے ، نہ زیادہ اچھا ہو اور نہ برا ہو ۔ سادہ گوشت روٹی کھلا دینا کافی ہوگا ۔ اگر اتنی استطاعت بھی نہ ہو ، تو پھر تین دن
1 ؎۔ مسلم ص 47 ج 2 (فیاض)
قسم اٹھائے کہ میں فلاں کام کروں گا یا فلاں کام نہیں کروں۔ اگر ایسی قسم جائز کام سے متعلق ہے اور اس نے قسم کو پورا بھی کردیا ، تو وہ بری ہوگیا۔ اگر اس نے قسم کو توڑ دیا ہے۔ تو کفارہ دینا پڑے گا۔ اور قسم کسی ناجائز کام سے متعلق اٹھائی ہے تو قسم کو توڑ کر کفارہ ادا کرنا چاہئے۔
قسم کا کفارہ
حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) کا ارشاد گرامی ہے کہ جب میں کسی بات پر قسم کھا لیتا ہوں اور پھر دیکھتا ہوں کہ دوسری بات زیادہ بہتر ہے تو قسم توڑ کر کفار ادا کردیتا ہوں۔ ایک موقع 1 ؎ پر مشہور صحابی حضرت ابو موسیٰ اشعری نے عرض کیا ، حضور !
ہم جہاد پر جانا چاہتے ہیں ، ہمارے لئے سواری کا انتظام فرما دیں۔ آپ نے فرمایا واللہ لا احملکم اللہ کی قسم میں تم کو کسی سواری پر سوار نہیں کر ائوں گا۔ صحابی خاموش ہو کر چلے گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد حضور ﷺ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کو بلا کر اونٹ ان کے حوالے کردیئے ۔ انہوں نے عرض کیا حضور آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ آپ ہمیں سوار نہیں کریں گے اور میں نے اپنے ساتھیوں سے بھی کہہ دیا کہ آپ نے یہ قسم اٹھا لی ہے۔ حضور ! اگر اب میں اونٹ لے گیا تو اپنے ساتھیوں میں جھوٹا ثابت ہوں گا۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا جب میں کسی معاملے میں قسم اٹھا لیتا ہوں اور پھر دیکھتا ہوں کہ دوسری بات بہتر ہے۔ تو قسم توڑ کر کفارہ ادا کردیتا ہوں۔ ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ حضور نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ایک بات پر اصرار نہ کرے جب کہ دوسری بات بہتر ہو۔ اس کو چاہئے کہ ایسی قسم توڑ کر کفارہ ادا کر دے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا اسی میں ہے۔
قسم کا کفارہ سورة مائدہ میں مذکور ہے قسم توڑنے والا ایک غلام آزاد کرے۔ غلامی کا رواج اب ختم ہو چاک ہے۔ لہٰذا یہ کفارہ تو اب ادا نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ یہ کہ دس مسکینوں کو اتنا کپڑا پہنا دیا جائے ، جس میں وہ نماز ادا کرسکیں۔ یا دس مساکین کو دو وقت اوسط درجے کا کھانا کھلایا جائے۔ نہ زیادہ اچھا ہو اور نہ برا ہو۔ سادہ گوشت روٹی کھلا دینا کافی ہوگا۔ اگر اتنی استطاعت بھی نہ ہو ، تھر تین دن
1 ؎ مسلم ص 47/ج 2 (فیاض)
کے مسلسل روزے رکھے۔ ان چاروں صورتوں سے قسم کا کفارہ ادا ہوتا ہے۔
الغرض ! فرمایا لا یواخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم اللہ تعالیٰ تماری لغو قسموں پر مئواخذہ نہیں کرتا ولکن یواخذکم بما کسبت قلوبکم بلکہ ان قسموں پر مئواخذہ کرتا ہے جو تم دل کے ارادے سے اٹھاتے ہو۔ لہٰذا کثرت سے قسمیں نہیں اٹھانا چاہئیں جو کوئی ایسا کرے گا ، اسے ان احکام کی پابندی کرنا ہوگی۔ ہاں ! اگر کوئی شخص ایسی کوتاہی کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لے اور مذکورہ احکام کے تحت کفارہ ادا کر دے تو واللہ غفور حلیم اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور بردبار ہے مگر ایک بات یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی بخشش اور اس کی بردباری سے انسان کی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہئے۔ بلکہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہئے کہ کہیں اس کی گرفت میں نہ آجائے۔
مسئلہ ایلا۔
اس سے پیشتر حیض کا مسئلہ بیان ہوچکا ہے کہ حیض کے دوران عورت کے قریب جانا حرام ہے۔ اب اسی نوعیت کا ایک اور مسئلہ بیان ہو رہا ہے جسے ایلاء کہتے ہیں۔ ایلاء کا لغوی معنی قسم اٹھانا ہے اور مراد اس سے یہ ہے کہ کوئی شخص اس امر کی قسم اٹھا لے کہ وہ اپنی عورت کے قریب نہیں جائیگا۔ اس کی چار صورتیں ہو سکتی ہیں۔
(1) مطلقاً قسم اٹھانا کہ عورت کے قریب نہیں جائوں گا۔
(2) چار ماہ کی مدت مقرر کرے کہ اتنا عرصہ عورت کے قریب نہیں جائوں گا۔
(3) چار ماہ سے زیادہ مثلاً پانچ ، چھ ، آٹھ ماہ کے لئے قسم کھائے کہ عورت کے قریب نہیں جائوں گا۔
(4) چار ماہ سے کم مدت ایک ، دو ، تین ماہ تک کے لئے قسم کھائے کہ عورت کے قریب نہیں جائوں گا۔
چوتھی صورت یعنی چار ماہ سے کم مدت کے ایلاء کو شرعی ایلاء نہیں کہا جائے گا۔ اور اگر اس دوران عورت سے مقاربت کرلی۔ تو قسم توڑنے کا کفارہ ادا کرنا ہوگا۔ باقی تین صورتوں میں حکم یہ ہے کہ ایسے شخص کو قسم توڑ دینی چاہئے اور اس کا کفارہ ادا کرنا چاہئے اور اگر چار ماہ کا عرصہ گزر گیا اور قسم کھانے والا شخص عورت کے پاس نہیں گیا ، تو پھر ایلاء مئوثر ہوگیا۔ البتہ اس کے حکم میں فقہائے کرام کے مختلف اقوال ہیں۔ امام ابوحنیفہ اور بعض دوسرے ائمہ کا قول ہے۔ کہ ایسی صورت میں ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی۔ اب اگر مرد دوبارہ رجوع کرنا چاہے تو اسے نئے حق مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا ہوگا۔ اگر رجوع کا کوئی ارادہ نہیں تو عورت آزاد ہے ، عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔
البتہ ائمہ ثلاثہ امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد فرماتے ہیں کہ چار ماہ کی مدت گزرنے کے بعد طلا قخود بخود واقع نہیں ہوگی ، بلکہ حاکم وقت اس شخص کو عدالت میں طلب کر کے اسے مجبور کریگا کہ یا تو وہ رجوع کرلے یا طلاق دے دے دونوں صورتوں میں جو بھی فیصلہ ہوگا۔ اس کے مطابق عمل ہوگا۔
اس مقام پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ شرعی ایلاء اس صورت میں قائم ہوگا جب عورت کے پاس نہ جانے کی قسم کھائی گئی ہو۔ اگر قسم نہیں کھائی ویسے ہی کردیا کہ بیوی کے پاس نہیں جائوں گا۔ تو یہ ایلاء شمار نہیں ہوگا۔ بعض مفسرین (جیسا صاحب تفہیم القرآن کو مغالطہ ہوا ہے اور اس نے غلط مسئلہ لکھا ہے) کو مغالطہ ہوا ہے۔ جو کہتے ہیں کہ بغیر قسم کے بھی ایلاء ہوجاتا ہے۔ حالانکہ حضرت علی اور دوسرے صحابہ کرام سے ثابت ہے کہ ایلاء کے لئے قسم اٹھاناضروری ہے۔ کیونکہ اگر کوئی شخص و بسے ہی ایک دو سال کے لئے علیحدہ رہے تو ایلاء قائم نہیں ہوگا۔ لغوی اعتبار سے بھی قسم ضروری ہے کیونکہ ایلاء کا معنی ہ قسم ہے۔ البتہ قسم کے بغیر ایسی بات کرنے سے انسان گنہگار ضرور ہتا ہے۔ ایسی چیزوں سے اجتناب کرنا چاہئے اس سے عورت کو تنگ کرنا مقصود ہے جو کہ ناروا ہے۔ جس طرح میاں بیوی کے دیگر حقوق ہیں۔ اسی طرح نفسانی خواہش کی تکمیل بھی دونوں کا حق ہے اور کسی فریق کو اس کے حق سے محروم کرنا مستحسن نہیں ہے۔ بلکہ بری بات ہے۔
فرمایا للذین یولون من نسآئھم تربص اربعۃ شہر ان لوگوں کے لئے چار ماہ کی مہلت ہے۔ جو اپنی بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم کھالیتے ہیں۔ فان فآء وا پس اگر وہ اس دوران لوٹ آئیں۔ فان اللہ غفور رحیم تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور مہربان ہے غلطی کوتاہی معاف ہوجائے گی
Ayahs 2:227–228ربط آیات
گزشتہ درس میں قسم کے متعلق بیان تھا۔ اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایلاء کا مسئلہ بیان فرمایا ایلاء سے مراد عورت سے عدم مقاربت کی قسم کھانا ہے اور اس کی مدت زیادہ سے زیادہ چار ماہ رکھی گئی ہے۔ اگر خاوند اس دوران رجوع کرے لے تو قسم کفارہ ادا کر دے اور اگر چار ماہ کی مدت پوری ہوگئی تو عورت پر ایک طلاق بائن پڑ جائیگی۔ تاہم بعض فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ طلاق خود بخود واقع نہیں ہوگی بلکہ ایلاء کرنے والے کو عدالت میں طلب کر کے رجوع یا طلاق کا فیصلہ کیا جائے گا۔
نکاح اور طلاق
نکاح اور طلاق کے مسائل اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی مختلف سورتوں میں بیان فرمائے ہیں ، خصوصاً سورة احزاب ، طلاق اور اس سورة بقرۃ میں یہ مسائل آئے ہیں۔ نکاح میاں بیوی کے درمیان ایک دائمی اور اجتماعی معاہدہ ہے۔ جسے مرتے دم تک نبھانے کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ جب تک نکاح کا معاہدہ طے نہیں پاتا ، اس معاہدہ کے فریقین یعنی مرد اور عورت کے اخلاق کی چھان بین کی جاتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کو کس حد تک قابل قبول ہیں پھر جب نکاح طے پا جاتا ہے۔ تو زوجین پر معاہدہ نکاح کی قانونی پابندی عائد ہوجاتی ہے۔ جسے پورا کرنے کے وہ پابند ہوتے ہیں۔ شریعت نے مرد اور عورت دونوں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں کچھ حقوق دیئے ہیں اور کچھ فرائض سونپے ہیں۔ اگر فریقین ان کی پابندی کرتے ہیں تو ان کی ازدواجی زندگی نہایت پرسکون گزرتی ہے۔ تاہم بعض اوقات اس قسم کے حالات پیدا ہوجاتے ہیں۔ جن میں اس معاہدہ سے مسنلک فریقین کا نباہ ممکن نہیں رہتا ، تو ایسی صورت میں شریعت نے ان میں تفریق کا قانون بھی نافذ کردیا ہے۔ تاکہ وہ ساری عمر کٹھن زندگی گزارنے کی بجائے اپنے لئے کوئی دوسرا بہتر ذریعہ تلاش کرسکیں۔
دوسرے مذاہب سے تقابل
اس مسئلہ میں اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب افراط وتفریط کا شکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے معاشروں میں طرح طرح کی قباحتیں پیدا ہو رہی ہیں۔ مثلاً بائیبل کے باب استثناء میں موجود ہے کہ اگر خاوند اپنی بیوی پر کسی وجہ سے ناراض ہوجائے تو فوراً طلاق نامہ عورت کے ہاتھ میں دے کر گھر سے نکال دے ، اس سلسلہ میں صفائی وغیرہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ادھر مطلقہ کو حق حاصل ہے کہ طلاق کے فوراً بعد دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔ یہ تو یہودی مذہب ہے اب عیسائیوں کو لیجیے ان میں طلاق کا تصور ہی نہیں ہے جب ایک دفعہ نکاح ہوگیا تو ساری عمر کے لئے میاں بیوی ایک دوسرے کے پابند ہوگئے۔ اب ان کو موت ہی علیحدہ کرسکتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب کسی جوڑے کا میلان طبع ایک سانہ ہوا اور ان میں ناچاقی پیدا ہوئی تو ساری عمر عذاب میں بسر کرنا پڑی۔ البتہ عیسائیوں کا دوسرا فرقہ جو صدیوں بعد کی پیداوار ہے اس نے عدالت کے ذریعے طلاق کو قانونی شکل دے دی ہے اس کا طریقہ کار ہے کہ عدالت مجاز فریقین کو طلب کرے گی۔ اور اس بات کی تحقیق کریگی کہ ترفیقین میں سے کسی نے دوسرے پر ظلم کیا ہے۔ یا کسی ایک نے زنا کا ارتکاب کیا ہے اگر کوئی ایسا جرم ثابت ہوجائے تو عدالت ان کے درمیان تفریق ڈال دے گی اور اس طرح طلاق واقع ہوجائے گی۔ اسی طرح ہندو مت میں بھی طلاق کا کوئی تصور نہیں مرتے دم تک میاں بیوی میں علیحدہ نہیں ہو سکتی۔ رومیوں اور یونانیوں میں بھی طلاق نامی کوئی چیز نہیں پائی جاتی تھی جس کی وجہ سے ان مذاہب میں معاشرتی برائیاں جنم لیتی ہیں۔
اسلام میں نظریہ طلاق
اسلام نے افراط وتفریط سے ہٹ کر اعتدال کی راہ اختیار کی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نکاح اس لئے نہیں کیا جاتا کہ زوجین میں تفریق ڈال دی جائے ۔ اس معاہدہ (Agreement) کو بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اس کے باوجود اگر میاں بیوی کے لئے اکٹھے زندگی گزارنا ممکن نہ ہو ، تو پھر اسلام نے طلاق کے ذریعے ان کی علیحدگی کا انتظام بھی کردیا ہے۔ اگرچہ طلاق پسندیدہ چیز نہیں ہے اور حضور ﷺ کا ارشاد ہے۔ ابغض المباحات الی اللہ الطلاق یعنی مباح اشیا میں سب سے ناپسندیدہ چیز اللہ کے نزدیک طلاق ہے۔ تاہم ضرورت کے تحت اس کی اجازت ہے۔ طلاق کی صورت میں اسلام نے ایک اور ضروری قانون عدت کا دیا ہے۔ جو دوسرے مذاہب میں نہیں ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ طلاق کے بعد عورت ایک خاص مدت تک دوسرا نکاح نہیں کرسکتی۔ اس کا مقصد تحفظ نسب ہے تاکہ پیدا ہونے والی اولاد کا نسب مشکوک نہ ہوجائے۔ طلاق کے بعد اگر عورت فوراً دوسرا نکاح کرلے تو بچے کے نسب پر شبہ ہو سکتا ہے کہ پہلے خاوند کا ہے یا دوسرے کا اور اس طرح کئی پیچیدگیاں پیدا ہونے کا احتمال ہے اسلام نے عورت کے دو نکاحوں کے درمیان مختلف صورتوں میں مختلف مدتیں مقرر کردی ہیں۔ تاکہ اس بات کی وضاحت ہوجائے کہ آئندہ پیدا ہونے اولا بچہ کس باپ کا ہے۔ نیز پہلے نکاح کے احترام کا تقاضا بھی ہے۔ کہ دوسرے نکاح سے پہلے کچھ وقفہ ہونا چاہئے۔
عدت
عدت اس کم از کم مدت کا نام ہے۔ جو طلاق کی تاریخ یا شوہر کی فوتیدگی کی تاریخ کرسکتی۔ عدت مختلف صورتوں کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے۔ مثلاً فوتیدگی کی صورت میں عدت تاریخ وفات سے چار ماہ دس دن ہے۔ اتنے عرصہ میں پتہ چل جاتا ہے۔ کہ عورت حاملہ تو نہیں ہے۔ اگر حاملہ نہیں ہے تو چار ماہ دس دن کی عدت گزار کر عورت نکاح کرسکتی ہے اور اگر حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے جس دن بچہ جنے گی اس کے بعد نکاح کرسکتی ہے۔ بیوگی سے لے کر وضع حمل تک کی مدت کا کوئی تعین نہیں ہے۔ یہ عرصہ خواہ ایک دن کا ہو یا پورے نو ماہ کا حاملہ کی عدت وضع حمل ہے۔ لہٰذا بچہ جب بھی پیدا ہو ، عورت نکاح کرسکتی ہے۔ حجتہ الوداع کے سفر میں ایک صحابی اونٹنی سے گر کر فوت ہوگئے۔ ان کی بیوی حاملہ تھی۔ ٹھیک بائیس دن بعد اس کے ہاں بچہ پیدا ہوگیا ، تو حضور ﷺ نے فرمایا ، اس کی عدت ختم ہوگئی ہے یہ جب چاہے نکاح ثانی کرسکتی ہے۔
اگر عورت عاقل ، بالغ اور آزاد ہے ، اور اسے حیض آتے ہیں کسی وجہ سے طلاق ہوگئی ہے تو اس کی عدت تین حیض ہوگی۔ یہ تین حیض خواہ دو ماہ میں آجائیں یا 19 ماہ میں ، اسے بہرحال تین حیض تک انتظار کرنا ہوگا۔ عام طور پر حیض ماہ بماہ آتے ہیں۔ اس لئے ایسی عورت کے حیص کم و یش تین ماہ میں پورے ہوجاتے ہیں جس کے بعد اسے نکاح کی اجازت ہوتی ہے۔
پاکستان میں نافذ عائلی قوانین میں ایسی عورت کی عدت نوے دن مقرر کی گئی ہے۔ جو کہ درست نہیں ہے حیض والی عورت کو تین حیض کی عدت پوری کرنا ہوگی۔ خواہ اس میں کتنا عرصہ لگے۔ البتہ ایسی عورت جو ابھی بالغ نہیں ہوئی یا جو کبر سنی میں پہنچی چکی ہے اور اس کے حیض بند ہوچکے ہیں۔ ایسی عورت کی عدت تین ماہ یا 90 دن درست ہے۔ اس کی تفصیلات سورة احزاب میں موجود ہیں۔ ایک اور صورت بھی ہو سکتی ہے کہ نکاح ہوگیا ۔ مگر میاں بیوی کی خلوت صحیحہ نہیں ہوئی ، انہیں مباشرت کا موقع نہیں ملا۔ ایسی صورت میں اگر طلاق واقع ہوجائے ، تو فرمایا فمالکم علیھن من عدۃ تعتدونھا ایسی عورتوں کے لئے کوئی عدت نہیں۔ وہ جب چاہیں دوسرا نکاح کرسکتی ہیں۔ اس معاملہ میں بھی عائلی قوانین درست نہیں کیونکہ وہاں سب کے لئے نوے دن کی عدت مقرر ہے حالانکہ یہاں کوئی عدت نہیں ہے ۔
ایسا ہی عدت کا ایک مسئلہ ہمارے نوٹس میں آیا تھا۔ کہوٹہ کے رہنے والے ایک شخص نے بتایا کہ کسی عورت کو طلاق ہوگئی۔ اس کو یحض دیر سے آتا ہے اور نوے دن میں اس کے تین حیض مکمل نہیں ہوئے۔ مگر یونین کونسل والوں نے نوے دن کے بعد اس کا نکاح کرا دیا۔ حالانکہ یہ نکاح ہوا ہی نہیں ہے۔ کیونکہ عدت کے دوران نکاح ہو نہیں سکتا۔ تو اس قسم کی خرابیاں ہیں۔ جو عائلی قوانین میں خامی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ اس قسم کے نکاح قرآن و سنت کے خلاف ہیں اور اس کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں۔ جو ایسا حکم دیتے ہیں۔
حیض یا طہر
الغرض فرمایا وا لمطلقت یتربض بانفسھن ثلاثۃ قروٓء ط مطلقہ عوتریں اپنے آپ کو تین حیض تک انتظار میں رکھیں۔ قروء قرء کی جمع ہے اور اس لفظ کے معانی میں فقہائے کرام میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اہل لغت بھی اس کے مختلف معانی بتاتے ہیں۔ دراصل یہ لفظ دو معانی میں مشترک ہے یعنی اس کا معنی حیض بھی آتا ہے اور طہر بھی طہر اس وقفہ یا مدت کو کہتے ہیں۔ جو دو حیضوں کے درمیان ہوتا ہے۔ امام ابوحنیفہ قرء کا معنی حیض بتاتے ہیں۔ اسی لئے ان کے نزدیک بالغ مطلقہ عورت کی عدت تین حیض ہے۔ وہ ابو دائود شریف کی حدیث سے استدلال کرتے ہیں کہ ایک عورت نے حضور ﷺ سے استخاضہ کے متعلق مسئلہ پوچھا ، تو آپ نے فرمایا تدع الصلوۃ ایام اقرآئہا یعنی حیض کے دنوں میں نماز نہ پڑھے البتہ جب حیض کے عام ایام گزر جائیں تو پھ رغسل کر کے نماز ادا کرے کیونکہ اب یہ حیض نہیں رہا ، بلکہ استخاضہ کا خون شمار ہوگا۔ مقصد یہ کہ اس حدیث سے قرء کا معنی حیض نکلتا ہے۔ البتہ امام شافعی قرء سے مراد طہر لیتے ہیں۔ ان کا مسلک یہ ہے کہ طلاق کے بعد عورت تین طہر گزرنے تک دوسرا نکاح نہ کرے۔
کتمان حمل جائز نہیں
اللہ تعالیٰ نے اس معاملہ میں عورتوں کو متنبہ فرمایا ہے ولا یحل لھن ان یکتمن ماخلق اللہ فی ارحامھن کہ ان کے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ وہ چھپائیں اس چیز کو جو اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا کی ہے۔ مقصد یہ کہ طلاق یا بیوگی کے وقت اگر عورت حمل سے ہے تو اسے وضع حمل تک انتظار کرنا چاہئے۔ محض نکاح ثانی کے لئے حمل کو چھپانا ہرگز جائز نہیں۔ ایسا کرنے سے نسل میں گڑ بڑ ہوگی۔ فرمایا ایسا ہرگز نہ کریں ان کن یومن باللہ والیوم الاخر اگر وہ اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکتھی ہیں تو انہیں کتمان حمل کا ارتکاب نہیں کرنا چاہئے۔ بلکہ شریعت کے مطابق صاف صاف بتلا دینا چاہئے اور پھر وہی طریقہ اختیار کرنا چاہئے جو جائز ہو۔
طلاق رجعی
آگے رجوع عن الطلاق کا مسئلہ بیان فرمایا کہ اگر طلاق سنت طریقہ کے مطابق دی گئی ہو۔ تو پہلی یا دوسری طلاق کے بعد خاوند کو حق حاصل ہے کہ وہ رجوع کے۔ وبعولتھن احق بردھن فی ذلک ان ارآدوا اصلاحاً ط اگر نیت اصلاح کی ہے تو مطلقہ عورتوں کے خاوندوں کو زیادہ حق حاصل ہے کہ وہ ان عورتوں کو واپس لوٹائیں اسے طلاق رجعی کہتے ہیں۔ مثلاً کسی شخص نے اپنی بیوی کو ایک طلاق صریح الفاظ میں دے دی ہے اور عدت شروع ہوگئی ہے تو اس خاوند کو حق حاصل ہے کہ عدت پوری ہونے سے پہلے بغیر دوبارہ نکاح کئے عورت کی طرف رجوع کرے اس امر کا اظہار زبانی طور پر کر دے یا ویسے ہی مباشرت کرے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس نے رجوع کرلیا۔ اسی طرح دوسری طلاق دینے کے بعد بھی بغیر نکاح کے رجوع ہو سکتا ہے بشرطیکہ عدت کے اندر ہو اور اگر عدت گزر گئی ، تو عورت آزاد ہو جائیگی۔ اب بغیر نکاح کے رجوع نہیں کرسکتا۔ یہ رجعی طلاق کا مسئلہ ہے جو محض ڈرانے دھمکانے کے لئے دی جائے۔
اگر طلاق بائن ہو ، خواہ ایک ہو یا دو ہوں تو ایسی صورت میں بغیر نکاح کے رجوع ممکن نہیں۔ رجوع کے لئے بہر صورت دوبارہ نکاح کرنا ہوگا۔ طلاق بائن کا مطلب یہ ہے کہ نیت جدا کرنے کی ہو۔ الفاظ صریح نہ ہوں محض اشارے کنائے سے کہہ دیا جاوے۔ کہ تو مجھ پر حرام ہے یا اپنے والدین کے ہاں چلی جا وغیرہ وغیرہ۔
اور اگر تینوں طلاقیں دے دی ہیں تو پھر کسی صورت رجوع نہیں ہو سکتا۔ عورت عدت پوری کرنے کے بعد نکاح ثانی کرنے کی مجاز ہوگی ، تو فرمایا کہ رجعی طلاق میں خاوندوں کا زیادہ حق ہے کہ وہ رجوع کرلیں بشرطیکہ ان کا ارادہ اصلاح کا ہو ، محض تنگ کرنا مقصود نہ ہو۔ جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں ہوتا تھا کہ عورت کو تنگ کر نیکی غرض سے کبھی طلاق دے دی کبھی رجوع کرلیا تاکہ وہ دوسری جگہ بھی نہ جاسکے یہ بات جائز نہیں ہے۔
حقوق زوجین
آگے اللہ تعالیٰ نے مرد و زن کے حقوق کا تذکرہ فرمایا ہے۔ لوھن مثل الذی علیھن بالمعروف دستور کے مطابق عورتوں کا مردوں پر اسی طرح حق ہے جس طرح مردوں کا عورتوں پر ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ زوجین کے اپنے اپنے دائرہ کار میں کچھ حقوق ہیں۔ لہٰذا ان کی پاسداری ہونی چاہئے۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ مرد و اپنے حقوق زبردستی عورت سے وصول کرے۔ مگر عورت کو اس کا حق نہ دے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے عورت کا وراثت میں حق رکھا ہے۔ لہٰذا مرد پر لازم ہے کہ اسے یہ حق ادا کیا جائے۔ زمانہ جاہلیت میں عورت کو وراثت میں حصہ دار نہیں سمجھا جاتا تھا۔ یہ بیماری عام معاشرتی حقوق سے بھی محروم تھی جو کہ سراسر زیادتی ہے۔ رومی اور یونانی بھی عورت کو ذلیل سمجھتے تھے اور اس کا حق تسلیم نہیں کرتے تھے۔ عیسائی بھی اسی قسم کے تاثر کا شکار ہیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے مردو ! جس طرح تمہارے کچھ حقوق ہیں ، اسی طرح عورتوں کے بھی حقوق ہیں۔ انہیں ان سے محروم نہ کرو یہ تو اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے کس فرد کو کس مقام پر رکھا ہے۔ ” خلق منھا زوجھا وبت منھما رجالاً کثیراً ونسآء “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ایک فرد سے سب کو پیدا کیا۔ پھر اسی میں سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور پھر بیشمار مرد و زن بکھیر دیئے۔ یہ اس کی حکمت ہے کہ کسی کو مرد بنا دیا اور کسی کو عورت بنا دیا۔ اب تمہارا فرض یہ ہے کہ ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھو۔ دوسرے کو حقیر نہ سمجھو اور دستور کے مطابق ایک دوسرے کے ساتھ اچھا معاملہ کرو ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد یہ ہے کہ اپنے اپنے دائرہ عمل میں حقوق و فرائض کو بجا لائو اور کسی دوسرے کا حق غصب نہ کرو۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ تم پر یہ حق ہے کہ بیوی کے لئے بھی ویسی ہی خوراک کا بندوبست کرو۔ جیسا کہ اپنے لئے کرتے ہو۔ جس معیار کا لباس پسند کرتے ہو ، عورت کو بھی مہیا کرو۔ اس کا بھی معقول ٹھکانہ بنا کر دو ۔ اس کا حق مہر ادا کرو اور اسے آزادی دو کہ اپنی مرضی سے جہاں چاہے اس رقم کو خرچ کرسکے۔ یہ اس کے حقوق ہیں اسے بلاوجہ مارنا پیٹنا بھی جائز نہیں۔ ہاں اگر کسی جائز ضرورت کی بنا پر تنبیہ مقصود ہو۔ تو اتنی خفیف ضربات لگائو کہ ہڈی پسلی نہ ٹوٹے۔ اس کی اجازت ہے فاضربوھن ناجائز مارپیٹ درست نہیں۔ اس سے قطع تعلقی بھی نہیں کرنی چاہئے عورت پر بھی حق ہے کہ وہ خاوند کی مرضی کے بغیر گھر سے باہر نہ جائے ۔ سینما وغیرہ کے لئے جانا تو ویسے ہی حرام ہے۔ جائز امور کے لئے بھی اجازت لینی چاہئے۔ اس کی تفصیلات آگے سورة نساء میں آئیں گی۔
مرد کی فضیلت
فرمایا ان حقوق کے باوجود وللرجال علیھن درجۃ مردوں کو عورتوں پر برتری حاصل ہے ایک درجہ کی فضیلت حاصل ہے۔ اسی موضوع کو سورة نساء میں یوں بیان کیا ہے ” الرجال قوامون علی النسآء مرد عورتوں پر نگران ہیں یا ان کے محافظ ہیں ان سے برتر ہیں اور یہ ایک فطرتی امر ہے جس سے انکار ممکن نہیں اور پھر مردوں کی برتری کی دلیل بھی بیان فرمائی ۔ ” وبما انفقوا من اموالھم “ کہ مرد اپنی کمائی عورتوں پر خرچ کرتے ہیں۔ ان کے کفیل ہیں اللہ نے انہیں برتری دی ہے اور مشقت کے کام مرد کے سپرد کئے ہیں۔ کمانا اس کے ذمہ ہے۔ عورت کا کام گھر کی ذمہ داریاں پوری کرنا ہیں۔ انہیں کم مشقت برداشت کرنا پڑتی ہے۔ لہٰذا مرد کو برتری حاصل ہے اس کی مثال موجودہ دور میں بھی ملتی ہے کہ دنیا کی ڈیڑھ سو سے زیادہ اقوام میں سے صرف امریکہ ، روس ، برطانیہ ، فرانس اور چین کو ویٹو پاور حاصل ہے ان میں سے کوئی ایک ملک باقی پوری دنیا کے متفقہ فیصلے کو رد کرسکتا ہے کہ اس کو یہ طاقت حاصل ہے۔ اسی طرح گھر کی چار دیواری میں مرد کو ویٹو پاور حاصل ہے۔ یہ پاور عورت کو یا بچوں کو حاصل نہیں ایک باپ اپنے سارے بیٹوں کے متفقہ مطالبہ کو رد کرسکتا ہے۔
طلاق کا حق مرد کو ہے
اسی طرح طلاق کا حق بھی اللہ تعالیٰ نے مرد کو دیا ہے۔ عورت اس سے محروم ہے اس میں بھی مصلحت ہے ” بیدہ عقدۃ الناکح “ نکاح کی گرہ چونکہ مرد کے ہاتھ میں ہے۔ اس لئے اس گرہ کو کھولنے کا اختیار بھی مرد کو حاصل ہے۔ مگر قدرت کے اس قانون کے خلاف جب برطانیہ میں عورت کو طلاق کا حق مل گیا تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب وہاں پچاس فیصد سے زیادہ طلاقتیں ہونے لگیں ہیں۔ ہر عورت دعویٰ کرسکتی ہے کہ اسے طلاق ملنی چاہئے ؟ محض اس لئے کہ اس کا خاوند سوتے میں خراٹے لیتا ہے اور اس کی نیند خراب ہوتی ہے۔ دوسری کہتی ہے کہ میرا خاوند میرے کبوتر یا میرے کتے سے محبت نہیں رکھتا۔ میں اس سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ ایسی ایسی معمولی باتوں پر طلاق روزمرہ کا کھیل بن کر رہ گیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے قانون کے خلاف اپنا قانون جاری کیا ہے۔ یہ اس مساوات کا نتیجہ ہے۔ جو عورت کو مرد کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ حالانکہ قرآن پاک کہتا ہے کہ مرد کو عورت پر فضیلت حاصل ہے ۔ اب اس مساوات کی بناء پر دفتروں میں ، فوج میں ہر جگہ عوتریں ملازمت کر رہی ہیں ، حالانکہ فوجی خدمات عورت کے فرائض سے بالکل باہر ہیں۔ اسی خلط ملط کی وجہ سے طرح طرح کی معاشرتی برائیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ اکثر ادارے بدکاری کے اڈے بنے ہوئے ہیں۔ کوئی صحیح نسل قائم نہیں ہ سکی۔ گزشتہ صدی میں ایک انگریزی مصنف ڈاکٹر لکھتا ہے کہ یورپ کی پینتالیس 45 کروڑ کی آبادی میں سے پینتالیس 45 آدمی بھی ایسے نہیں نکالے جاسکتے جن کو یقین کے ساتھ نطفہ حلال تسلیم کیا جائے یہ اس کی اپنے قانون کے متعلق رائے ہے کہ اتنا گندہ قانون وضع کیا گیا ہے جب شاپنگ کے لئے عورتوں کو آزادی ہوگی اور غیر مردوں کے ساتھ میل جول کریں گی۔ ائیرہوسٹس بن کر ساری دنیا کا سفر بغیر محرم کے کرینگی ، دفتروں میں مردوں کے ماتحت کام کریں گی ، تو پھر اچھے نتائج کی توقع …د کیسے کی جاسکتی ہے جہاں تک فوجی خدمات کا تعلق ہے صرف غیر معمولی (AB Normal) حالات میں عورت کو حصہ لینے کی اجازت ہے۔ وگرنہ عام حالات (Normal) میں عورت کو مردوں کے دوش بدوش کام کرنے کی قطعاً اجازت نہیں کیونکہ مرد کا دائرہ کار اور ہے عورت کا اور ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے عورت پر جمعہ فرض نہیں کیا۔ اس کی نماز گھر میں بہتر ہے۔ تاہم وہ خاوند کی اجازت سے نماز کے لئے مسجد میں جاسکتی ہے۔ بہرحال فرمایا کہ مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ کی فضیلت ہے۔ اس کی تفصیل سورة نساء میں آئیگی ۔ واللہ عزیز حکیم اللہ تعالیٰ کمال قوت کا مالک اور حکیم ہے۔ اس کا ہر حکم حکمت پر مبنی ہے۔ لہٰذا اس کے احکام پر عملدرآمد کرنا چاہئے۔
Ayah 2:229ربط آیات
گزشتہ آیت کریمہ میں عدت کا مسئلہ بیان ہوا تھا جس کا مقصد یہ ہے کہ طلاق اور دوسرے نکاح کے درمیان عورت وقفہ کرے تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ امید سے ہے یا نہیں۔ پھر اگر امید سے ہے تو وضع حمل تک نکاح ثانی نہ کرے اور امید سے نہیں تو تین حیض تک اپنے آپ کو روکے رکھے۔ کم سن اور معمر عورتوں کی عدت تین ماہ مقرر کی گئی ہے اور بیوہ کے لئے چار ماہ دس دن عدت ہے۔ یہ بھی گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے۔ کہ مرد کو عورت پر ایک درجہ فضیلت حاصل ہے وہ ان کے نگران اور کفیل ہیں۔ باقی حقوق میں مساوات ہے۔ کچھ حقوق مرد کے ہیں اور کچھ عورت کے ، اپنے اپنے دائرہ کار میں زوجین حقوق و فرائض کے ذمہ دا ر ہیں۔
نکاح و سنت انبیا ہے
آج کے درس میں طلاق کی تعداد اور ان سے متعلقہ احکام کا ذکر ہے۔ کل بیان کیا تھا کہ نکاح مرد و عورت کے درمیان ایک معاہدہ ہوتا ہے ۔ جس کی پابندی فریقین کے لئے ضروری ہے۔ تاہم عام معاہدات اور نکاح کے معاہدہ میں قدرے فرق ہے کسی دو پارٹیوں کے درمیان لین دین کے سلسلہ میں ، کاروبار میں ، یا شراکت کے متعلق معاہدہ ہوتا ہے۔ یہ معاہدہ محض معاملہ کی حد تک ہوتا ہے۔ مگر ناکح کے معاہدہ میں معاملہ کے علاوہ عبادت اور سنت کا معنی بھی پایا جاتا ہے۔ آپ اکثر نکاح کے موقع پر خطبہ سنتے ہیں الناکح من سنتی فمن رغب عن سنتی فلیس منی یعنی نکاح کرنا میری سنت ہے ، جو اس سے اعراض کرے ، وہ مجھ سے نہیں ہے۔
ایک اور حدیث میں حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا النکاح من سنۃ الانبیآء نکاح سارے نبیوں کی سنت ہے قرآن پاک میں بھی ابنیاء (علیہم السلام) کی حیثیت کے متعلق آتا ہے کہ سب نبیوں کی بیویاں تھیں اور سچے تھے ان میں سے ایسا کوئی نہیں جو کھاتا پیتا نہ ہو اور معاملہ نہ کرتا ہو ۔ اس کو نکاح وغیرہ سے واسطہ نہ پڑتا ہو۔ البتہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) جو ہر وقت عبادت میں مصروف رہتے تھے ان کو نکاح کا موقعہ نہیں مل سکا اور عیسیٰ (علیہ السلام) بھی اس سے مستثنیٰ ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے نکاح نہیں کیا۔ البتہ جب وہ قرب قیامت میں دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے تو پھر نکاح بھی کریں گے اور ان کی اولاد بھی ہوگی ، اس کے بعد ان کی طبعی وفات بھی ہوگی اور وہ دفن بھی ہونگے بہرحال نکاح تمام انبیاء کی سنت ہے۔
شرائط نکاح
نکاح اگرچہ ایک اجتماعی معاہدہ ہے۔ مگر اس کی بھی کچھ حدود اور قیود ہیں۔ شریعت مطہرہ نے کوئی سے مرد و زن کے درمیان نکاح کو جائز قرار نہیں دیا۔ بلکہ بعض صورتوں کو حرام قرار دیدیا ہے۔ آگے سورة نساء میں آئے گا ، ” حرمت علیکم امھتکم “ تمہارے لئے تمہاری مائیں ، بہنیں ، بیٹیاں ، بھتیجیاں ، بھانجیاں اور خوش دامن وغیرہ حرام کردی گئی ہیں۔ ان کے ساتھ نکاح کی طلاق نہ ہو۔ اس کے علاوہ رضاعی ماں بہن سے بھی نکاح نہیں ہو سکات۔ یہ سب محرمات ہیں۔ فرمایا ” واحل لکم ماورآء ذلکم “ ان کے علاوہ باقی عورتوں سے نکاح جائز ہے وہ تمہارے لئے حلال ہیں۔
نکاح کے لئے گواہان بھی لازمی ہیں کسی دیگر معاملہ میں گواہ کے بغیر بھی معاہدہ ہو سکتا ہے۔ مگر نکاح کا معاہدہ ایک ایسا معاہد ہ ہے کہ گواہوں کے بغیر پایہ تکمیل کو نہیں پہنچتا۔ پھر نکاح کے لئے حق مہر مقرر ہونا بھی اس کی شرائط میں سے ہے۔ مہر دینا ڑے گا مال خرچ کرنا ہوگا۔ اس کے بغیر نکاح درست نہیں۔
نکاح کے معاہدہ میں بعض حقوق کا تعین بھی ہے عورت اپنے حقوق طلب کرسکتی ہے ، کھانا ، کپڑا ، رہائش عورت کے حقوق ہیں۔ جو مرد کے ذمے ہیں۔ البتہ عورت کو چاہئے کہ وہ خاوند کی حیثیت کے مطابق ان چیزوں کا مطالبہ کرے ، اس کی حیثیت سے زیادہ طلب کر کے اسے مشکل میں نہ ڈالے ، پھر یہ بھی نکاح کی شرط ہے کہ اگر کسی وجہ سے میاں بیوی کا گزارہ نہ ہو سکے ، تو خاص شرائط کے تحت اس معاہدہ کو ختم بھی کیا جاسکتا ہے۔ طلاق اور خلع کا قانون بھی شریعت میں موجود ہے زوجین کے درمیان تنازعہ کی صورت میں پہلے خود اسے حل کرنے کی کوشش کرو اگر ایسا نہیں ہوسکا۔ تو مرد و عورت کے خاندانوں میں سے ایک ایک نمائندہ لے لو ، جو مل کر صلح و صفائی کی کوشش کریں۔ اگر پھر بھی مصالحت نہ ہو سکے۔ تو پھر معروف طریقے سے میاں بیوی میں جدائی کرا دو کہ اب اس کے بغیر کوئی اور چارہ کار نہیں رہا۔ لہٰذا دونوں کی بھلائی اس میں ہے کہ ان میں فریق ڈال دی جائے۔ یہ سب نکاح کے اصول و قواعد ہیں۔
طلاق کی تین قسمیں
میاں بیوی میں جدائی کے لئے شریعت نے طلاق کا طریقہ کار مقرر کیا ہے ……… فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ طلاق کی تین قسمیں ہیں یعنی احسن ، سنت اور بدعت ، طلاق احسن سے مراد اچھی اور بہتر طلاق ہے اور یہ اس طلاق کو کہتے ہیں۔ جو عورت کو اس طہر میں دی جائے۔ جس میں میاں بیوی کا ملاپ نہ ہوا ہو اور ایک وقت میں ایک ہی طلاق ہو۔ ایسی طلاق کی صورت میں عدت کے اندر خاوند دوبارہ عورت سے رجوع کرسکتا ہے اور رجوع کے لئے نکاح کی ضرورت نہیں۔ اگر عدت گزر جائے تو عورت آزاد ہوجائے گی۔ ہاں اگر کوئی شخص اب بھی رجوع کرنا چاہے تو دوبارہ نکاح کر کے عورت کو گھر لاسکتا ہے۔ عدت کے بعد عورت کسی دوسری جگہ نکاح کرنے کی بھی مجاز ہے۔
اگر کوئی شخص ایک سے زیادہ یعنی دو یا زیادہ سے زیادہ تین طلاقیں دینا چاہتا ہے یعنی اس نے ارادہ کرلیا ہے کہ عورت کو کسی صورت میں بھی نہیں رکھنا ۔ تو پھر اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہر طہر میں ایک طلاق دے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ پہلی اور دوسری طلاق کے بعد اگر خاوند ، رجوع کرنا چاہے تو کرسکتا ہے ۔ اور اگر تیسری طلاق اس طلاق کو طلاق سنت کہتے ہیں کہ یہ سنت کے مطابق ہے۔
تیسری قسم طلاق ، طلاق بدعت کہلاتی ہے اور یہ ایسی ہے کہ یا تو طہر کی بجائے حیض کے دوران طلاق دے دے یا تینوں طلاقیں بیک وقت دے دے۔ اس طرح طلاق تو واقع ہوجائے گی مگر دینے والا گنہگار ہوگا۔ کیونکہ اس نے صحیح طریقہ اختیار نہیں کیا۔
رجعی طلاقیں دو ہیں
اس آیت میں فرمایا الطلاق مرتن یعنی رجعی طلاقیں دو ہیں۔ ایک طلاق دینے کے بعد رجوع ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد اگر دوسری طلاق دے دی تو پھر رجوع کی گنجائش ہے۔ البتہ تیسری طلاق کے بعد یہ سہولت ختم ہوجاتی ہے۔ ہاں طلاق رجعی میں رجوع دو صورتوں میں ہو سکتا ہے۔ اگر طلاق صریح الفاظ میں دی گئی ہے۔ تو بغیر نکاح کے رجوع ہو سکتا ہے اور اگر اشارے کنایہ سے طلاق دی ہے اور نیت قطعی علیحدگی کی ہے تو یہ طلاق بائن ہوجائے گی۔ اس میں رجوع کے لئے دوبارہ نکاح کرنا ہوگا۔ خواہ ایک طلاق کے بعد رجوع مقصود ہے یا دوسری طلاق کے بعد تیسری طلاق کا ذکر تو آگے آئیگا۔ یہاں فرمایا کہ رجوع کے لئے زیادہ سے زیادہ دو طلاقیں ہیں۔
علیحدگی کا طریقہ کار
فرمایا دسوری طلاق کے بعد فامساک بمعروف یا تو دستور کے مطابق روک لو اور اس سے اچھا سلوک کرو …… اس کا خرچہ ادا کرو۔ بشرطیکہ ارادہ اصلاح کا ہو ، تنگ کرنے کا نہ ہو۔ ایسا نہ ہو کہ نہ تو عورت کا حق ادا کیا جاوے اور نہ اس کو آزاد کیا جائے۔ بلکہ دستور کے مطابق اس سے اچھا سلوک کرنا چاہئے۔ شریعت مطہرہ نے عورت کے جو حقوق مقرر کئے ہیں ، انہیں ادا کرو اور اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو پھر او تسریح باحسان اسے نیکی کے ساتھ جدا کر دو ۔ لڑائی جھگڑے میں نہ پڑو بلکہ لین دین کا جو معاملہ ہے اسے احسن طریقے سے نپٹا کر مطلقہ کو رخص کر دو ۔ ہاں یاد رکھو ولا یحل لکم اور تمہارے لئے یہ چیز حلال نہیں ہے ان تاخذوا ممآ اتیتموھن شیآء کہ تم ان عورتوں سے کوئی چیز واپس لے لو ، جو تم نے انہیں دے کھی ہے۔ مثلاً اگر مہر ادا کردیا تھا ، تو طلاق کے وقت واپس لینے کی کوشش کی ہے یا کوئی تحفہ دیا تھا ، تو اس کا مطالبہ کردیا۔ یہ درست نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ عطیہ دے کر اس کو واپس لینا ایسا ہے۔ جیسے کتا قے کر کے خود ہی چاٹ لیتا ہے۔ فرمایا ہماری مسلمانوں کی مثال بری نہیں ہونی چاہئے۔ لیس لنا مثل السوٓء سورة نسآء میں آتا ہے کہ واتیتم احدلھن قنطاراً فلاتاخذوامنہ شیئاً ط اگر تم نے عورتوں کو ڈھیر مال بھی دے رکھا ہے تو ان سے کوئی چیز واپس نہ لو۔ خاص طور پر کوئی بہتان لگا کر مال واپس لینا اور بھی برا ہے ۔ یہ چیز مسلمان کے شایان نہیں ہے۔ لہذا اگر تم نے طلاق کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے۔ تو پھر دستور کے مطابق اچھے طریقے سے رخصت کر دو ۔
خلع کا بیان
یہ بات گزشتہ درس میں بیان ہوچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے طلاق کا حق مرد کو دیا ہے۔ عورت کو نہیں دیا اور اس میں بھی اس کی مصلحت کارفرما ہے۔ تجربہ شاہد ہے کہ حیض و نفاس یا حمل کے دوران عورت کے اعصاب پر خاص اثر پڑتا ہے جس کی وجہ سے وہ جلد باز واقع ہوئی ہے۔ اگر طلاق کا حق عورت کو مل جاتا تو طلاق کے معاملات کو کنٹرول کرنا مشکل ہوجاتا ۔ پھر یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ جن ممالک میں عورت کو یہ حق دیا گیا ہے۔ وہاں کس قدر معاشرتی برائیاں پیدا ہوئی ہیں۔ تو بہرحال طلاق کا حق اللہ تعالیٰ نے مرد کو دیا ہے۔ اور اسے عورت پر ایک درجہ فضیلت دی ہے البتہ بغض غیر معمولی حالات سے عہدہ برا ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ عورت کو خلع کا حق دیا ہے۔ اگر خاوند ظلم کرتا ہے اور طلاق بھی نہیں دیتا تو عورت کو حق حاصل ہے کہ وہ عدالت مجاز کی طرف رجوع کر کے اپنا معاملہ پیش کرے۔ عدالت فریقین کے دلائل سننے کے بعد اگر مناسب سمجھے تو میاں بیوی میں علیحدگی کرا سکتی ہے۔ اس صورت میں طلاق کی ضرورت نہ ہوگی۔ البتہ اگر فریقین رضا مند ہوجائیں کہ خاوند اتنے مال کے عوض خلع پر راضی ہوگا۔ تو عورت اتنا مال مرد کو ادا کر کے خلع حاصل کر لیگی۔ اسی چیز کے متعلق فرمایا کہ عام حالات میں تو مرد کو حق حاصل نہیں کہ وہ ادا شدہ مال عورت سے واپس لے۔ الا ان یخاف الا یقیما حدود اللہ سوائے اس صورت کے کہ ان دونوں کو خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدود قائم نہیں رکھ سکیں گے۔ یعنی ان کا نباہ مشکل ہوگیا ہے اور علیحدگی ضروری ہے۔ تو جب دونوں فریق خلع کے بدلے کسی مال کی ادائیگی پر رضا مند ہوجائیں تو ایسا مال خاوند لے سکتا ہے۔
اس قسم کا واقعہ 1 ؎ خود حضور ﷺ کے زمانے میں پیش آیا۔ رئیس المنافقین عبداللہ ابن ابی کی بیٹی 2 ؎ جمیلہ حضور ﷺ کے ایک صحابی ثابت بن قیس کے نکاح میں تھی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ باپ دشمن اسلام ہے اور اس کا بیٹا اور بیٹی جاں نثار ان اسلام ہیں۔ حضرت ثابت بڑے نیکی آدمی تھے۔ مگر شکل و صورت کے لحاظ سے جمیلہ کو قابل قبول نہ تھے۔ انہیں احساس کمتری اس طرح پیدا ہوا کہ کسی
1 ؎ قرطبی 139/ج 3 ، 2 ؎ الطبقات الکبری لاسن سعد 382 (فیاض
موقع پر حضرت جمیلہ نے کسی مقام پر پردہ اٹھایا تو وہاں ایک جماعت موجود تھی جن میں حضرت ثابت بھی موجود تھے۔ حضرت جمیلہ نے محسوس کیا کہ ان کا خاوند رنگ روپ اور شکل و صورت کے لحاظ سے سب سے کم تر ہے ۔ چناچہ اس نے اس بات کا ذکر حضور ﷺ سے کیا کہ حضور ہم دونوں بطور میاں بیوی نہیں رہ سکتے۔ آپ نے دریافت فرمایا کیا ثابت میں کوئی اخلاق کمزوری واقع ہوئی ہے جس کی وجہ سے تو متنفر ہوگئی ہے ۔ تو اس نے عرض کیا۔ حضور ! ایسی بات نہیں۔ وہ بڑا با اخلاق ہے۔ ولکنی اکرہ الکفر فی الاسلام مگر میں اسلام میں رہ کر کفر کو پسند نہیں کرتی۔ مقصد یہ کہ وہ مجھے بالکل پسند نہیں۔ میں اس سے گلو خلاصی چاہتی ہوں کیوں کہ اگر میں بادل نخواستہ اس کے ساتھ رہوں گی تو اس کی فرمانبرداری میں فرقآئے گا اور یہ چیز اسلام کی تعلیمات کے منافی ہوگی۔ لہٰذا آپ ہماری علیحدگی کی کوئی صورت پیدا فرما دیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ثابت نے آپ کو حق مہر میں یا تحفہ کے طور پر جو باغ دیا تھا کہ تم وہ باغ واپس کرنے کے لئے تیار ہو۔ حضرت جمیلہ نے کہا کہ ہاں میں ایسا کرنے پر رضا مند ہوں۔ اس کے علاوہ اگر ثابت کا اور بھی مطالبہ ہو تو میں پورا کرنے کو تیار ہوں۔ چناچہ باغ کی واپسی کی شرط پر حضور ﷺ نے خلع کے حکم پر عمل کرتے ہوئے ان دونوں کی علیحدگی کرا دی۔
بہرحال خلے میں طلاق کے الفاظ کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ البتہ یہ طلاق بائن کا قائم مقام ہوتا ہے اور طلاق کی طرح اس میں بھی عورت کو عدت گزارنا ہوتی ہے۔ البتہ عدت کی مدت کے متعلق فقہائے کرام میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض فقہائے کرام کا خیال ہے کہ خلع میں عدت ایک حیض ہے۔ تاہم جمہور فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ طلاق کی مانند خلع کی عدت بھی تین حیض یا تین ماہ ہے جیسی صورت بھی ہو۔
طلاق بالمال
خلع کے علاوہ علیحدگی کی ایک اور صورت بھی ہے جسے طلاق بالمال کہتے ہیں ۔ خاوند مال کا مطالبہ کرے کہ اتنا مال مجھے دو تو میں طلاق دیتا ہوں۔ اگر فریقین رضا مند ہوجائیں تو مقررہ مال کے عوض خاوند باقاعدہ طلاق دے دیگا اور وہ طلاق کے حکم میں آئے گی۔ خلع نہیں ہوگا۔ آیت کے اگلے حصے میں روئے سخن مسلمانوں کی عام جماعت کی طرف ہے۔ فرمایا فان خفتم الا یقیما حدود اللہ اے لوگو ! اگر تم کو ڈر ہے کہ یہ میاں بیوی اللہ کی حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گے۔ یعنی ان میں اختلافات کی خلیج اتنی وسیع ہوچکی ہے کہ اب ان کا میاں بیوی کی حیثیت سے گزر اوقات ممکن نہیں فلا جناح علیھما فیما افتدت بہ تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں اس چیز میں کہ وہ اپنی جان چھڑائی کا فدیہ دے ۔ یعنی عورت فدیہ دے کر مرد سے خلع حاصل کرے۔ ہاں یہ بات یاد رہے کہ اگر خاوند بےقصور ہے۔ اور عورت اس سے بلاوجہ علیحدگی چاہتی ہے تو وہ گنہگار ہوگی اور اگر خاوند بلاوجہ عوتر کو تنگ کرتا ہے تو وہ گنہگار ہوگا۔ تاہم دونوں صورتوں میں خلع واقع ہوجائے گا۔
امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ اس قسم کا مال لینا مکروہ ہے۔ مگر بہرحال جائز ہے دوسرے فقہائے کرام کا کہنا ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے خاص حالات میں خلع کی اجازت دے دی ہے۔ اس لئے اس کے عوض مال وصول کرنا بالکل جائز ہے۔ اس میں کوئی کراہت نہیں۔
حدود اللہ کا احترام
فرمایا تلک حدود اللہ فلاتعتدوھا یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں ان سے آگے نہ بڑھو۔ یہ نکاح ، طلاق ، ایلاء خلع وغیرہ اللہ تعالیٰ کے نافذ کردہ قوانین ہیں ان کی پاسداری کرو اور ان کے خلاف کر کے اللہ کی حدود کو نہ توڑ بیٹھنا ۔ رمضان المبارک میں جہاں روزوں کی فرضیت کا ذکر تھا ، وہاں فرمایا کہ روزہ رکھ کر کھانا پینا اور مباشرت حرام ہے۔ یہ اللہ کی حدیں ہیں۔ فلاتقربوھا “ ان کے قریب بھی نہ جانا اور یہاں فرمایا فلاتعتدوھا ان کو عبور نہ کرنا۔ ظاہر ہے کہ کھانا ، پینا اور مباشرت کرنا انسان کی غایت درجہ کی خواہشات ہیں اور انسان کسی وقت بھی ان کو پورا کرسکتا ہے۔ اس لئے وہاں پر سخت حکم دیا کہ ان حدود کے قریب بھی نہ جائو ، کہیں پھسل کر حدود اللہ کو ضائع نہ کر بیٹھو اور نکاح طلاق وغیرہ کے مسئلہ میں تنازعہ ہوتا ہے دو فریق ملوث ہوتے ہیں۔ اس لئے یہاں پر حدود کی خلاف ورزی کا اتنا خطرہ نہیں ہوتا۔ جتنا روزہ کے معاملہ میں ہوتا ہے۔ اس لئے یہاں پر فرمایا کہ اللہ کی حدود پار نہ کر جانا۔ ورنہ تباہ ہو جائو گے اور یاد رکھو ومن یتعد حدود اللہ فاولئک ھم الظلمون ، جو اللہ تعالیٰ کی باندھی ہوئی حدود سے آگے بڑھے گا۔ ایسے ہی لوگ ظالم ہیں۔ ظاہر ہے ظالم مستوجب سزا ہوتا ہے۔ اللہ کی گرفت میں آتا ہے ۔ اس لئے فرمایا جو اللہ کی حدود کو توڑے گا وہ ظالموں میں شمار ہو کر سزا کا مستحق ہوگا۔