2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعالم العرفان

Ayah 2:30

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَ١ۚ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:30 in the Quran reader

اور اس وقت کو خیال میں لاؤ جب تیرے رب نے فرشتوں سے فرمایا۔ تحقیق میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے عرض کیا کیا زمین میں (ایسوں) کو بنائے گا جو اس میں فساد کریں گے اور خون بہائیں گے اور ہم تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ تیری تعریف کے ساتھ اور تیری تنزیہہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

گزشتہ سے پیوستہ : اس سے پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے چار بنیادی مسائل یعنی توحید ، رسالت ، ایمان بالقرآن اور معاد (قیامت) کا ذکر فرمایا ہے۔ اس کے بعد قرآن و رسالت میں شک کرنے والے لوگوں کا رد فرمایا۔ اور اللہ تعالیٰ کی صفات کمال کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ان بیشمار انعامات کا بھی تذکرہ فرمایا۔ جو اس نے بنی نوع انسان پر کئے۔ ان میں خصوصاً مادی انعامات کا بیان تھا ۔ جس میں انسان کا اپنا وجود ، زمین و آسمان کی تخلیق ، زمین میں پیدا ہونے والی تمام چیزیں شامل ہیں۔ بالخصوص زمین سے نکلنے والے پانی کا ذکر تھا۔ جس سے انسان فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسی سے نباتات پیدا ہوتے ہیں جو انسان کی روزی کا ذریعہ ہے ۔ موضوع : مادی انعامات کے تذکرہ کے بعد اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے ان روحانی اور نفسانی نعمتوں کا ذکر کیا ہے جو اس نے انسان کو عطا فرمائیں۔ چناچہ اس مقام پر حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق اور خلافت ارضی کو بیان فرمایا گیا۔ تخلیق آدم ایک بنیادی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی خلافت آدم (علیہ السلام) کو عطاء کی اور پھر یہ خلافت بنی نوع انسان میں ودیعت کرکے خلافت ارضی کے مسئلہ کو واضح کردیا۔ گویا اس رکوع کا موضوع خلافت ارضی ہے۔ ہر جنتی بادشاہ ہوگا : قرآن پاک کی آیات مبارکہ اور احادیث سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جو لوگ دنیا کی زندگی کے بعد حشر و نشر کی منازل طے کرکے جنت میں پہنچیں گے۔ ان میں سے ہر شخص بادشاہ ہوگا۔ اس دنیا میں تو بادشاہی کروڑوں میں سے ایک کو نصیب ہوتی ہے۔ مگر جنت کے ہر باشندے کا اعزاز دنیا کے بادشاہ سے کہیں زیادہ ہوگا۔ ہر جنتی کو آرام و راحت کے ایسے ایسے سامان میسر ہوں گے۔ جو دنیا کے کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کو بھی حاصل نہیں ہوسکتے ۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں جنت میں ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ بھی حاصل ہوجائے۔ تخلیق انسانی سے قبل کے ادوار : اس رکوع میں تخلیق آدم کا ذکر ہے ، مگر پہلے کے ادوار کو ہم نہیں جانتے۔ کسی کو خواب میں بھی معلوم نہیں ہوا۔ کہ آدم (علیہ السلام) سے پہلے کتنے دور گزر چکے ہیں۔ شاہ ولی اللہ (رح) نے اپنی کتاب “ تضیمات الٰہیہ ” میں بیان کیا ہے۔ اور شاہ اسماعیل شہید نے بھی اپنی کتاب “ عبقات ” میں اس طرف اشارہ کیا ہے۔ کہ کسی حکیم انسان کا کمال یہ ہے کہ وہ صرف آدم (علیہ السلام) کے دور ہی کو ابتداء سے انتہاء تک سمجھ لے۔ چہ جائیکہ کوئی شخص اس دور سے پہلے کے ادوار کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ حضرت مجدد الف ثانی (رح) ، شاہ عبد العزیز (رح) ، شاہ اسماعیل شہید (رح) اور ان کے جدا امجد خود شاہ ولی اللہ (رح) اس امت کے آخری دور کے حکماء میں سے ہیں۔ البتہ ان سے پہلے بڑے بڑے حکماء گزرے ہیں جنہوں نے قرآن پاک کی تفاسیر اور تاریخ کی کتابیں لکھی ہیں۔ ان میں امام ابن کثیر (رح) بڑے پائے کے محدث ، مفسر اور تاریخ دان ہوئے ہیں۔ آپ امام ابن تیمیہ (رح) کے شاگرد تھے آپ کا زمانہ آٹھویں صدی ہجری ہے۔ آپ کی تفسیر کی مشہور کتاب ابن کثیر ہے آپ نے بخاری شریف کی شرح اور اصول حدیث پر بھی کتابیں لکھی ہیں۔ آپ کی تاریخ کی کتاب البدایہ والنہایہ نہایت مستند کتاب ہے۔ جو چودہ جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس میں انہوں نے ابتداء سے لے کر اپنے دور تک تمام زمانوں کی تاریخ لکھی ہے۔ یہ کتاب آپ نے روایت کے اعتبار سے ترتیب دی ہے۔ صحیح اور غلچ روایت کی پڑتال ہے۔ اگرچہ ابن خلدون (رح) اور ابن جریر (رح) جیسے بڑے بڑے مؤرخوں نے تاریخ کی کتابیں لکھی ہیں۔ ان کے علاوہ سینکڑوں اور ہزاروں تاریخ کی کتب موجود ہیں۔ مگر ان سب سے مستند ترین کتاب امام ابن کثیر (رح) کی ہے۔ اس کتاب کی پہلی جلد میں امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں (1 ۔ البدایہ والنہایہ ج 1 ص 55) کہ آدم (علیہ السلام) کی تخلیق سے پہلے اس زمین پر کئی دور گزر چکے ہیں۔ مثلاً ایک قوم یا افراد کو حن کہتے تھے۔ اس کے بعد بن کا دور گزرا۔ اور پھر حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق سے دو ہزار سال قبل اس دنیا میں جنات کا دور دورہ تھا۔ انہوں نے زمین میں فساد برپا کیے۔ جس طرح آج کل کی دنیا میں قتل و غارت گری ایک عام معمول ہے اس طرح اس دور کے جنات میں بھی جنگ و جدل عام تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جنات کی سرکوبی کے لیے فرشتوں کو بھیجا ۔ چناچہ انہوں نے جنات کو مار مار کر پہاڑوں اور جزیروں میں بھگا دیا اور اس زمین کو صاف کیا۔ اس واقعہ کے دو ہزار سال بعد آدم (علیہ السلام) کی تخلیق ہوئی۔ جنات کا ذکر تو قرآن پاک میں بیشتر مقامات پر آیا ہے ۔ تاہم حن اور بن کے ادوار کا علم تاریخی روایات سے ہوتا ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ موجودہ دور سے پہلے کتنے دور گزر چکے ہیں۔ حکماء نے اپنی اپنی تحقیق کے مطابق اپنی کتابوں میں ان ادوار کا تذکرہ کیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ فرشتوں کا مادو تخلیق : اللہ تعالیٰ نے انسانوں ، فرشتوں ، جنات اور شیاطین کو مختلف مادوں سے پیدا فرمایا۔ پھر ان مادوں کے عناصر بھی مختلف ہیں۔ فرشتے ایک خاص نوری مادے سے پیدا کئے گئے ہیں۔ پھر ان فرشتوں کے مختلف درجات ہیں۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں (1 ۔۔۔۔۔ ) ۔ کہ فرشتوں میں سے اعلیٰ درجہ ملا اعلیٰ کا ہے۔ یہ حاملین عرش فرشتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر حافین حول العرش والے فرشتے ہیں۔ یہ سب خطیرۃ القدس کے فرشتے ہیں پھر آسمانوں کے فرشتے پھر فضائی فرشتے۔ اس کے بعد ارضی فرشتے ہیں تو زمین پر موجود رہتے ہیں۔ (یہ ملاسافل کے فرشتے ہیں) ۔ حجۃ اللہ البالغۃ میں شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں (2 ۔ حجۃ اللہ البالغہ ج 1 ص 16) کہ اول درجے کے فرشتوں کا مادہ تخلیق اس آگ کی مانند ہے جو دوران سفر طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ظاہر ہوئی۔ آپ اپنی زوجہ کے ہمراہ جا رہے تھے۔ بھیڑ بکریاں ستاھ تھیں۔ رات کا اندھیرا تھا بیوی حاملہ تھی۔ ان کو دردزہ شروع ہوگیا موسیٰ (علیہ السلام) کو دور سے آگ نظر آئی۔ آپ اس طرف گئے۔ تو وہ آگ ایک درخت سے نکل رہی تھی ۔ جو درخت کے پتوں کو جلانے کی بجائے انہیں سرسبز و شاداب کر رہی تھی۔ آگ جس قدر بھڑکتی تھی درخت کی شاخوں اور پتوں میں شادابی آتی تھی۔ یہ واقعہ کس قدر قرآن پاک میں موجود ہے۔ بعض تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آگ نہیں تھی بلکہ حجابِ نوری یا ناری تھا۔ الغرض ! فرشتوں کی تخلیق اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے مادے سے کی۔ پھر اس میں مقدس روحیں ڈالیں جس طرح انسانوں اور جنوں میں روحیں موجود ہیں۔ اسی طرح فرشتوں میں بھی روحیں ہیں۔ جنات اور شیاطین : جنات کے مادہ تخلیق کے متعلق قرآن پاک میں موجود ہے : “ والجان خلقنہ من قبل من نار ” یعنی جنات کا مادہ تخلیق آگ اور ہوا ہے۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں (1 ۔ حجۃ الہ البالغۃ ج 1 ص 17) کہ شیاطین کا مادہ تخلیق نہایت گندا اور غلیظ ہوتا ہے بالکل سنڈاس کی مانند کہ جب وہ زیادہ مقدار میں ہوتا ہے تو اس سے بخار اور بو اٹھتی ہے۔ تو گویا جنات اور شیاطین کا مادہ آگ اور ہوا ہے۔ اس میں گیس ہوتی ہے۔ اور تیش کا مادہ بھی ہوتا ہے۔ انسان کا مادہ تخلیق : انسان کا مادہ تخلیق خاک ہے۔ دنیا میں جتنے بھی خارجی عناصر پائے جاتے ہیں وہ سب آدم کے وجود میں موجود ہیں تخلیق انسانی کے متعلق قرآن پاک میں آتا ہے “ خلق الانسان من صلصال ” انسان کو کھڑکنے والی مٹی سے پیدا کیا۔ دوسرے مقامات پر تراب اور طین کا لفظ بھی آتا ہے۔ الغرض انسان کی تخلیق مٹی سے ہوئی۔ اور یہ تخلیق باقی تخلیقات کی نسبت پیچیدہ ہے۔ اس میں تمام عناصر پائے جاتے ہیں۔ حضرت آدم (علیہ السلام) : اس مقام پر تخلیق انسانی کے متعلق ارشاد ہوتا ہے “ واذ قال ربک للملئکۃ انی جاعل فی الارض خلیفۃ ” یعنی اس بات پر غور کرو کہ جب تیرے پروردگار نے فرشتوں کے سامنے فرمایا۔ کہ تحقیق میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں گویا آدم کی تخلیق اس واسطے ہوئی کہ اسے دنیا میں خلیفہ مقرر کیا جانا ہے۔ لہٰذا آدم کی تخلیق مستقل تخلیق نہیں بلکہ خلیفہ ہونے کی حیثیت سے ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہاں خلافت کا ایک اہم ترین مسئلہ بھی سمجھا دیا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا۔ “ یداود انا جعلنک خلیفۃ فی الارض ” یعنی اے داؤد ! ہم نے آپکو دنیا میں خلیفہ بنایا ہے۔ قرآن پاک میں خلیفہ دو معانی میں آتا ہے۔ پہلا معنی وہی ہے جو آدم (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا کہ میں آپ کو اپنا خلیفہ یعنی نائب بنانے والا ہوں۔ “ خلف یخلف ” دوسرے کے پیچھے آنے والے یعنی نیابت کرنے والے کو کہتے ہیں۔ قرآن پاک میں یہ بھی آتا ہے “ ھو الذی جعلکم خلیف فی الارض ” یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ذات ہے۔ جس نے تمہیں ایک دوسرے کا جانشین یا خلیفہ بنایا۔ جس طرح بیٹا اپنے باپ کا جانشین ہوتا ہے۔ خلیفہ کا دوسرا معنی جو اس مقام پر واضح ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو اپنا خلیفہ یعنی نیابت انجام دینے والا پیدا کیا انسان کے علاوہ باقی بیشمار مخلوقات بھی اس زمین پر پیدا کی گئی ہیں۔ مگر خلافت کا حق اللہ تعالیٰ نے صرف حضرت انسان کو دیا ہے۔ اور اس سے بھی مراد یہ ہے کہ زمین اور ساری کائنات کی اصل بادشاہت تو اللہ تعالیٰ کی ہے۔ آدم (علیہ السلام) کو صرف نبابت تفویض ہوئی ہے گویا انسان دنیا میں خلافت اپنی مرضی سے انجام نہیں دے گا۔ بلکہ حکم تو اللہ تعالیٰ کا ہوگا اور انسان اس حکم کو نافذ کرنے کا ذمہ دار ہوگا ۔ سورة نور میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ اور صحابہ کرام ؓ سے جس خلافت کا وعدہ فرمایا اور جس کو پورا فرمایا وہ یہی خلافت ہے “ وعد اللہ الذین امنوا منکم وعملوا الصلحت یستخلفنھم فی الارض ”۔ مسئلہ خلافت : معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ نظام ، نظام خلافت ہے۔ دین میں ملوکیت اور ڈکٹیٹر شپ کی کوئی حیثیت نہیں۔ انسان تو اس زمین پر اللہ تعالیٰ کا نظام نافذ کرنے والا ادارہ ہے۔ اس کی اپنی کوئی مستقل حیثیت نہیں ہے۔ کہ جس قسم کے احکام چاہے نافذ کرے بلکہ اسے احکام اللہ تعالیٰ سے ہی حاصل کرنا ہوں گے۔ مسلمانوں کے تمام فرقے اس بات پر متفق ہیں کہ خلیفہ ہونا چاہئے۔ صرف ایک خارجی فرقہ ایسا ہے جو کہتا ہے کہ حکومت صرف اللہ ہی کی ہے۔ کوئی اس کا خلیفہ نہیں ہے۔ یہ انار کسٹ لوگ ہیں۔ جو خلافت کو تسلیم نہیں کرئے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق ہی بطور خلیفہ کے کی ہے۔ اس معاملہ میں شیعہ مذہب بھی باطل ہے۔ کہ اس کے پیرو کار خلیفہ یا حاکم (امام) کو معصوم اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر شدہ مانتے ہیں۔ یہ نظریہ بھی غلط ہے۔ کیونکہ خلیفہ کو منتخب کرنے والے عام لوگ ہیں اور وہی اسے معزول بھی کرسکتے ہیں۔ اس مسئلہ میں اہل السنت والجماعت کا نظریہ بالکل واضح ہے۔ کہ خلیفہ کا انتخاب واجب ہے اس کو منصوص اور مقرر نہیں کیا گیا۔ بلکہ جماعت المسلمین پر چھوڑا گیا ہے کہ وہ اپنے میں سے بہتر شخص کو اس منصب پر فائز کرلیں۔ خلیفہ کے بغیر نظام ارضی کا چلانا درست نہیں ہے صحابہ کرام ؓ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ چناچہ حضور ﷺ کی وفات پر مسئلہ خلافت آپ کے دفن سے پہلے طے کرلیا گیا۔ ترمذی شریف کی روایت میں (1 ۔ شمائل ترمذی ص 601) آتا ہے۔ کہ اگر مسئلہ خلافت طے نہ کیا جاتا تو امت کے اختلافات کا ختم ہونا ممکن نہ تھا۔ حضور ﷺ کے دفن کے متعلق اختلاف رائے پیدا ہوا۔ کسی کی رائے یہ تھی کہ آپ کا جسد اطہر بیت المقدس لے جایا جائے۔ کوئی مکہ معظمہ لے جانے کے حق میں تھا۔ تو اس کا فیصلہ بھی حضور ﷺ کے جانشین حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کیا۔ انہوں نے کہا (2 ۔ شمائل مع ترمذی ص 600 ، مطیع نور محمد کراچی) کہ اس معاملہ میں جھگڑا نہ کرو۔ میں نے خود آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے سنا تھا۔ کہ جس جگہ پر آپ کا وصال مبارک ہوا۔ اسی جگہ پر آپ کو دفن کیا جائے گا۔ اس طرح یہ اہم معاملہ طے ہوگیا۔ تاہم یہ واضح ہے کہ قرآن پاک یا حضور نبی کریم (علیہ السلام) نے کسی کا نام لے کر خلافت کا فیصلہ نہیں کیا۔ بلکہ یہ کام جماعت المسلمین پر چھوڑا کہ جس کو مناسب سمجھیں ، خلیفہ مقرر کرلیں۔ البتہ نبی (علیہ السلام) نے اشارتاً یہ بات سمجھا (3 ۔ مسلم ج 2 ص 273) دی “ یابی اللہ والمؤمنون الا ابابکر ” یعنی میرے بعد اللہ تعالیٰ بھی انکار کرے گا اور مومن بھی انکار کریں گے کہ خلیفہ ابوبکر ؓ کے سوا کوئی نہیں ہونا چاہئے۔ انتخاب خلیفہ کا ایک طریقہ تو یہ ہوگیا کہ عامۃ المسلمین جس کو چاہیں اپنے میں سے خلیفہ منتخب کرلیں جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا انتخاب ہوا۔ اس کے علاوہ بعض دوسرے ذرائع بھی ہیں۔ جو امت میں ملتے ہیں۔ مثلاً حضر ت ابوبکر ؓ نے آخری ایام میں حضرت عمر ؓ کا انتخاب بطور خلیفہ خود کردیا تھا (4 ۔ البدایہ والنہایہ ج 7 ص 18) آپ نے ایک خط لکھ دیا تھا کہ لوگوں کے سامنے پڑھ دینا۔ یہ گویا خلافت کا پروانہ تھا۔ حضرت عمر ؓ امت میں بہترین آدمی تھے۔ ان کا انتخاب اس طرح عمل میں آیا۔ حضرت عمر ؓ نے اپنے بعد خلافت کا فیصلہ کرنے کے لیے چھ آدمیوں کی شوریٰ قائم کی اور فرمایا (1 ۔ البدایہ النہایہ ج 7 ص 144) کہ میرے بعد خلافت کا فیصلہ یہ لوگ کریں گے۔ یہ چھ آدمی وہ تھے کہ حضور ﷺ دنیا سے رخصت ہوتے وقت ان سے بڑے راضی تھے۔ چناچہ ان حضرات نے حضرت عثمان غنی ؓ کو خلیفہ منتخب کیا۔ خلافت پر فائز ہونے کی ایک چوتھی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص خود بخود غلبہ پا کر حکومت حاصل کرے۔ کہتے ہیں کہ ایسا شخص بھی قابل اطاعت ہے ہاں اگر وہ شریعت کے احکام جاری کرنے میں کوتاہی کرے۔ تو اسکی اطاعت نہیں کی جائے گی۔ الغرض اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو زمین پر اسکے احکام نافذ کرنے کے لیے خلیفہ بنایا۔ اور پھر یہ خلافت آپ کی نسل میں باقی رکھی۔ کہ خلافت کا حق بنی نوع انسان کو حاصل ہے۔ یہ حق کسی اور مخلوق کو نہیں پہنچتا۔ الغرض ! جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو اپنا نائب مقرر کرنے کا ارادہ فرمایا۔ تو “ قالوا اتجعل فیھا من یفسد فیھا ویسفک الدمآء ” یعنی فرشتوں نے کہا اے مولا کریم تو دنیا میں ایسی ہستی کو اپنا خلیفہ مقرر کرنا چاہتا ہے۔ جو زمین میں فساد کریں گے۔ اور خون بہائیں گے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ فرشتوں کا یہ جواب کئی وجاہات کی بناء پر ہوسکتا ہے۔ اولاً یہ کہ خود اللہ تعالیٰ نے یہ بات انہیں الہام کی ہو۔ جس کی بناء پر انہوں نے یہ رائے دی۔ یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فرشتوں نے جنات کے حالات پر قیاس کیا۔ وہ دیکھ چکے تھے۔ کہ جنات نے زمین پر فتنہ و فساد برپا کیا۔ لہٰذا انہوں نے گمان کیا۔ کہ آدم کی اولاد بھی ایسا ہی کرے گی۔ تیسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ فرشتوں نے خلیفہ کے لفظ سے یہ قیاس کیا۔ کہ خلیفہ جب زمین پر حکومت کی باگ ڈور سنبھالے گا تو وہاں پر لازماً فتنہ و فساد اور خونریزی بھی ہوگی۔ لہٰذا انہوں نے اللہ تعالیٰ کو یہ جواب دیا ۔ تاہم زیادہ تر مفسرین کرام فرماتے ہیں (2 ۔ تفسیر معالم التنزیل ج 1 ص 20 ، تفسیر جلالین ص 7) کہ فرشتوں کا یہ گمان جنات کے حالات کی بنا پر تھا۔ اس گمان کے اظہار کے ساتھ ساتھ فرشتوں نے بارگاہِ رب العزت میں یہ بھی عرض کیا “ ونحن نسبح بحمد ” مولا کریم ! اس فتنہ و فساد برپا کرنے والی مخلوق کی کیا ضرورت ہے۔ ہم تیری تسبیح بیان کرتے ہیں تیری حمد کے ساتھ۔ “ ونقدس لک ” اور تیری پاکیزگی بھی بیان کرتے ہیں۔ لہٰذا ہم اس کام کے لیے کافی ہیں۔ تحمید کا معنی یہ کہ خوبی کی تمام باتیں اللہ تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں۔ اور تنزیہہ کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ذات ہر قسم کے نقائص اور عیوب سے پاک ہے۔ وہ ہر قسم کی کمزوریوں اور نقص والی چیزوں سے مبرا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ۔ وہ تمام شریکوں سے پاک ہے۔ فرشتوں کا یہ جواب سن کر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا “ قال انی اعلم ما لا تعلمون ” اے فرشتو ! تم اس راز کو نہیں جانتے۔ صرف میں ہی جانتا ہوں کہ میں نے آدم میں کسی قدر کمال اور شرف ودیعت کیا ہے۔
Ayahs 2:31–33

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓئِكَةِ١ۙ فَقَالَ اَنْۢبِئُوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:31 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو سارے نام سکھا دیے ۔ پھر پیش کیا ان کو فرشتوں پر ۔ پس کہا مجھے ان چیزوں کے نام بتاؤ اگر تم سچے ہو

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 2:32 in the Quran reader

انہوں نے کہا پاک ہے تیری ذات۔ نہیں ہے ہمارے پاس علم مگر وہ جو تو نے ہم کو سکھلایا ہے۔ بیشک تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے

قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۙ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۙ وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ Open ayah 2:33 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ اے آدم ! بتلا دے ان کو ان چیزوں کے نام پس جب اس نے ان کو ان چیزوں کے نام بتلا دیے تو فرمایا۔ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں جانتا ہوں آسمانوں اور زمینوں کی پوشیدہ چیزوں کو۔ اور میں جانتا ہوں اس چیز کو جس کو تم ظاہر کرتے ہو۔ اور جس کو تم چھپاتے ہو

گزشتہ سے پیوستہ : اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان کو وحدانیت اختیار کرنے اور اپنے خالق کی عبادت کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور اس کی پہچان کے سلسلے میں اس کی صفات و کمالات کا ذکر ہوا۔ اللہ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا جو اس نے نسل انسانی پر کیے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کا ذکر کیا “ واذ قال ربک للمئکۃ انی جاعل فی الارض خلیفۃ ” اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سامنے تذکرہ کیا۔ کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں تو فرشتوں نے جواب میں کہا “ اتجعل فیھا من یفسد فیھا ” کیا تو زمین میں ایسی ہستی کو بنائے گا جو فساد کریگی اور خون بہائے گی۔ حالانکہ ہم تیری تسبیح بیان کرتے ہیں ۔ تیری حمد کے ساتھ۔ اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا “ انی اعلم مالا تعلمون ” یعنی بیشک میں جانتا ہوں ، جو تم نہیں جانتے۔ خلافت کے متعلق بھی پہلے بیان ہوچکا ہے۔ کہ خلافت نیا بت کو کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کو بطور خلیفہ پیدا فرمایا ہے۔ تاکہ وہ زمین پر اللہ تعالیٰ کی نیابت کے فرائض انجام دے سکیں ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر شرعی قانون انسان کے ذریعے نافذ فرمایا ہے۔ اور تکوینی احکام یعنی وہ احکام جو انسانوں سے متعلق نہیں ہیں وہ قدرت کے مقرر کردہ دوسرے کارندے انجام دیتے ہیں۔ تخلیق آدم پر فرشتوں کا گمان کرنا کہ یہ زمین پر فتنہ و فساد برپا کرے گا۔ اس کا بیان بھی ہوچکا۔ فرشتوں نے خیال کیا کہ خلیفہ کی ضرورت ہی ایسی جگہ پڑتی ہے۔ جہاں قتل و غارت اور خونریزی ہوگی۔ لہٰذا انہوں نے ایسا گمان کیا ۔ یا پھر یہ وجہ تھی کہ انہوں نے انسانوں کو جنوں پر قیاس کیا ۔ جو اس نسل سے پہلے اس زمین پر فتنہ و فساد برپا کرچکے تھے ۔ آدم (علیہ السلام) کو کن چیزوں کے نام سکھلائے گئے : آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے وقت اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کے درمیان سوال و جواب ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو سارے نام سکھا دیے۔ ان ناموں سے کیا مراد ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے کون سے نام آدم (علیہ السلام) کو سکھلائے۔ اس سلسلہ میں مفسرین کرام کے کئی اقوال ہیں۔ تفسیر ابو السعود اور مدارک عربی زبان کی چارچار جلدوں کی مختصر تفسیریں ہیں۔ ان کے مؤلفین حنفی امام تھے وہ اور بعض دیگر حضرات فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر مدارک ج 1 ص 41 وابو السعود ج 1 ص 69) کہ “ علم ادم الاسمآء ” سے مراد تمام انواع و اجناس کے نام ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ نے سکھائے۔ اس سے مراد ہر فرد کا نام سکھلانا نہیں۔ کیونکہ ہر ہر فرد اور جزو کا تعلق غیب سے ہے۔ اور اسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ اور کوئی نہیں جانتا۔ انواع و اجناس کا مطلب یہ ہے کہ جیسے انسان ایک نوعی نام ہے۔ اس طرح اجناس میں سے حیوان ایک جنس ہے۔ اور پھر آگے اس کی بہت سی قسمیں ہیں۔ مثلاً گھوڑے ، بھینس ، گائے ، بھیڑ بکریاں ، کیڑے مکوڑے وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کے نام آدم (علیہ السلام) کو سکھائے ۔ بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں (1 ۔ ابن کثیر ج 1 ص 73 ، تفسیر طبری ج 1 ص 216) کہ “ علم ادم الاسمآء ” سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی قیامت تک پیدا ہونے والی اولاد کے نام بتلا دیے۔ برخلاف اس کے شیخ ابن عربی (رح) فرماتے ہیں (2 ۔ ) کہ اسماء سے مراد اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنی ہیں۔ نہ کہ بعض دوسری چیزوں کے نام۔ بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں (3 ۔ معالم التنزیل ج 1 ص 21) کہ اسماء سے مراد جزیات ہیں ۔ مگر تمام کی تمام اور ہر قسم کی جزیات نہیں ۔ بلکہ صرف وہ جزیات مراد ہیں جن کی ضرورت تھی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس (رح) فرماتے ہیں (4 ۔ تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 73) کہ صرف انسانی ضروریات کی تمام چیزوں کے نام بتلا دیے۔ جو چیزیں انسانی ضرورت سے باہر ہیں۔ ان کے بتانے کا نہ کوئی فائدہ تھا۔ اور نہ ہی وہ بتائیں۔ قرآن پاک میں اس کی مثال سورة نمل میں آتی ہے۔ کہ ملکہ سباکو “ واتیت من کل شیء ” ہر چیز دی گئی تھی۔ تو یہاں پر ہر چیز سے مراد اس کی سلطنت کی ضرورت ہی ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے۔ کہ اس زمانے میں بلکہ سبا کے پاس فنٹیم طیارے اور راکٹ بھی موجود تھے۔ بلکہ ضرورت کی تمام اشیاء اسے میسر تھیں۔ تو یہاں پر بھی الاسمآء کلھا سے مراد انہی چیزوں کے نام ہیں جو انسانی ضروریات میں شامل ہیں۔ اسی طرح سورة نمل میں شہد کی مکھیوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے “ ثم کلی من کل الثمرات ” پھر تمام پھلوں سے کھاؤ اور شہد پیدا کرو۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی فطرت میں ایک پاکیزہ چیز رکھ دی ہے۔ اور اس کے پیٹ میں ایک لطیف قسم کا مادہ پیدا کردیا ہے ۔ جس سے شہد بنتا ہے۔ تو یہاں پر تمام قسم کے پھل کھانے سے مراد یہ نہیں ہے کہ دنیا جہاں کا ہر اچھا ، برا ، کڑوا ، کیلا پھل کھائے بلکہ مقصد یہ ہے کہ اس کی ضرورت اور رسائی کے مطابق جتنے پھل ہیں مکھی ان پر بیٹھتی ہے۔ اور پھر اس سے اللہ تعالیٰ شہد جیسی مفید چیز پیدا کرتا ہے۔ بادام اور اخروٹ وغیرہ ایسے پھل ہیں ۔ جن کے مغز تک رسائی ہی نہیں۔ تو ایسی چیزوں کے کھانے کا حکم اللہ تعالیٰ نے نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی فطرت اور شریعت میں یہ قانون رکھ دیا ہے۔ کہ وہ پاکیزہ چیزوں پر بیٹھتی ہے۔ گندی جگہ پر نہیں بیٹھتی ہے۔ مشاہدے سے معلوم ہوا ہے۔ کہ اگر شہد کی مکھی غلاظت والی جگہ پر بیٹھ جائے۔ اور اس کا پتہ چل جائے ۔ تو مکھیوں کی ملکہ کے پاس شکایت پیش ہوتی ہے۔ اور ایسی مکھی کو سزائے موت تک دے دی جاتی ہے۔ پھلوں میں بھی بعض کڑوے پھل ہوتے ہیں۔ مگر مکھی وہاں سے مادہ حاصل کرنے کی پابند نہیں ہے۔ اسی طرح بعض پھول بھی بدبودار ہوتے ہیں جو شہد کے لیے ناموافق ہوتے ہیں۔ اگرچہ ہوتے وہ بھی پھول ہی ہیں ۔ پھر یہ بھی ہے کہ جس قسم کے پھل یا پھول سے مکھی رس چوسے گی۔ شہد کا ذائقہ بھی ویسا ہی ہوگا۔ مثلاً کھجور پر بیٹھے گی تو وہ ذائقہ حاصل کرے گی اور انگور کی شاخ پر جائے گی۔ تو دیسی مٹھاس حاصل کرے گی۔ مقصد یہ ہے کہ مکھی کے ہر پھل اور پھول چوسنے سے مراد صرف وہ پھل اور پھول ہیں۔ جو اس کی شہد کی ضرورت سے مناسبت رکھتے ہیں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر بیضاوی ج 1 ص 45) “ وعلم ادم الاسمآء کلھا ” سے مراد انسانی ضرورت کی تمام چیزیں ہیں۔ ان میں غیر ضروری اشیاء کے نام مراد نہیں ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں (2 ۔ تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 73 ، تفسیر عزیزی فارسی ص 136 پارہ 1) ہانڈی چمچہ وغیرہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں۔ مگر چونکہ ان کا تعلق ضروریات انسانی سے ہے۔ لہٰذا ان کے نام آدم (علیہ السلام) کو بتا دیے گئے۔ امام ابوبکر جصاص (رح) اور بعض دوسرے مفسرین کرام فرماتے ہیں (3 ۔ تفسیر بیضاوی ج 1 ص 46 ، تفسیر روح المعانی ج 1 ص 224) ۔ کہ چیزوں کے نام سکھانا بالکل ایسا نہیں تھا جیسے بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے۔ ب ، بلی ، ط ، طوطا بلکہ نام سکھانے سے مرا د یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی طبیعت اور مزاج میں بطور صلاحیت ان چیزوں کے نام رکھ دیے تھے۔ اور پھر جب فرشتوں کے سامنے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تو آدم (علیہ السلام) نے تمام نام بتلا دیے۔ بعض مفسرین کی رائے یہ ہے (4 ۔ تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 73 ، تفسیر کبیر ج 1 ص 176) کہ چیزوں کے نام بطور تعلیم سکھلائے گئے۔ جیسے کسی چیز کی وضاحت کی جاتی ہے۔ کہ یہ فلاں چیز ہے اس کی خاصیت یہ ہے ۔ اور اس کا فائدہ یہ ہے۔ وغیرہ وغیرہ “ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ”۔ ملائکہ کا امتحان : آدم (علیہ السلام) کو تمام ضروری اشیاء کے نام سکھلانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو آزمایا چناچہ وہ تمام چیزیں فرشتوں کے سامنے پیش کردیں “ ثم عرجحم علی الملئکۃ ” اور فرشتوں کو حکم دیا “ انبؤنی باسمآء ھولا ” مجھے ان تمام چیزوں کے نام بتاؤ “ ان کنتم صدقین ” اگر تم سچے ہو۔ یعنی اے فرشتو ! تمہارا دعویٰ یہ ہے کہ انسانی مخلوق کے پیدا کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ تم میری تسبیح و تقدیس بیان کرنے کے لیے کافی ہو۔ اور یہ مخلوق تو دنیا میں خونریزی کرے گا۔ مگر تم نہیں جانتے کہ انسان کون سے کمالات کا حامل ہوگا۔ منجملہ ان کے علم و فہم کا کمال سب سے اعلیٰ ہے۔ جو اسے دیا گیا ہے۔ اور خلیفہ کے لیے ان چیزوں کی ماہیت اور حقیقت کا جاننا بھی ضروری ہے۔ جن پر اس نے احکام کا نفاذ کرنا ہے۔ مثلاً اگر خلیفہ کو شراب کی خاصیت کا ہی علم نہ ہو کہ یہ کس طرح انسانی عقل کو ماؤف کرتی ہے۔ اور یہ کن نقصانات کی وجہ سے ام الخبائث کہلاتی ہے۔ تو خلیفہ شراب کے رسیا کو سزا کیسے دے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تمام ضروری چیزوں کے نام ، ان کی حقیقت اور ماہیت سے آدم (علیہ السلام) کو آگاہ کردیا۔ تاکہ اللہ تعالیٰ کی نیابت کا پورا پورا حق ادا کرسکے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ امتحان میں کامیاب نہ ہوسکے۔ “ قالوا سبحنک ” کہنے لگے اے مولا کریم ! تیری ذات پاک ہے “ لاعلم لنا الا ما علمتنا ” ہمیں اعتراف ہے کہ ہمیں ان چیزوں کے اسماء ان کی خاصیت اور ماہیت کا علم نہیں ہے۔ ہم اس معاملہ میں عاجز ہیں۔ ہمارا علم تو اسی قدر ہے جس قدر تو نے ہمیں سکھایا ہے۔ اس کے علاوہ ہم کچھ نہیں جانتے۔ “ انک انت العلیم الحکیم ” بیشک تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں (1 ۔ حجۃ اللہ البالغۃ ج 1 ص 19 ، 20) کہ احادیث میں آتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو بتلا دیا تھا۔ کہ آدم میں بہیمیت اور ملکیت دونوں خواص ہوں گے مگر فرشتوں کی نگاہ صرف بہیمیت تک ہی پہنچی۔ آدم کی ملکیت تک نہ گئی۔ چناچہ اس کمال کو واضح کرنے کے لئے علمی صلاحیت پیش کی تب فرشتوں نے عاجزی کا اظہار کیا۔ کہ ہمارے پاس یہ کمال نہیں ہے۔ ہمیں تو اتنا ہی علم ہے جتنا تو نے عطا کیا۔ ہاں جس ہستی کے پاس علم و فہم کا یہ خزانہ ہوگا۔ خلافت کے لائق وہی ہوگی۔ اور وہی ہستی قانونِ خداوندی کو نافذ کرسکے گی۔ یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک علم فرشتوں کو عطا ہی نہیں کیا تو ان کے امتحان کا کیا مطلب ؟ اگر آدم (علیہ السلام) کی طرح فرشتوں کو بھی وہ علم سکھلا دیا جاتا تو وہ بھی جواب دے دیتے۔ اس کے جواب میں مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر بیان القرآن ج 1 ص 18) ۔ کہ آدم (علیہ السلام) کو اسماء کی تعلیم فرشتوں کی موجودگی میں دی گئی تھی۔ فرق صرف یہ ہے۔ کہ آدم (علیہ السلام) کو ان چیزوں کی ضرورت تھی ۔ لہٰذا انہوں نے ان کے نام ذہن میں محفوظ کرلیے۔ مگر فرشتوں کو چونکہ ایسی چیزوں کی ضرورت ہی نہ تھی لہٰذا انہوں نے یہ نام ذین نشین رکھنے کی کوشش ہی نہ کی اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی استاد پوری کلاس کے سامنے لیکچر دے سبق کی پوری پوری وضاحت کردی۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ امتحان کے وقت بعض طالب علم ٹھیک ٹھیک جواب دیتے ہیں۔ مگر بعض کو کچھ یاد نہیں ہوتا۔ حالانکہ استاد نے سب کو بیک وقت ایک ہی لیکچر دیا تھا۔ یہی حال آدم (علیہ السلام) اور فرشتوں کا ہوا۔ آدم (علیہ السلام) نے حسب حال ہونے کی بناء پر ان چیزوں کے نام یاد کر لئے اور بوقت امتحان بتا دیے۔ مگر فرشتے اس سبق کو ضبط نہ کرسکے لہٰذا انہوں نے امتحان کے وقت عاجزی کا اظہار کردیا ۔ آدم (علیہ السلام) کی کامیابی : الغرض ! جب فرشتے اس امتحان میں ناکام ہوگئے۔ تو اللہ تعالیٰ آدم (علیہ السلام) کی طرف متوجہ ہوئے۔ “ قال یادم انبئھم باسمآئھم ” فرمایا اے آدم ! ان کو ان چیزوں کے نام بتلا دے۔ چناچہ “ فلما انباھم باسمائھم ” جب آدم (علیہ السلام) نے ان کو ان چیزوں کے نام بتلا دیت کہ یہ ہنڈیا ہے اس میں سالن پکایا جاتا ہے۔ یہ توا ہے اس پر روٹی پکائی جاتی ہے ۔ یہ فلاں چیز ہے۔ یہ فلاں چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس قدر امتحانی سوال کیے۔ آدم (علیہ السلام) نے فرفر جواب دے دیے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا “ قال الم اقل لکم ” کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا “ انی اعلم غیب السموٹ والارض ” کہ میں آسمان و زمین کی پوشیدہ چیزوں کو جاننے والا ہوں۔ یہاں آسمان و زمین کے غیوب کا تعلق مخلوق کے اعتبار سے ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ کے لیے بھی کوئی چیز غائب ہے۔ اس کے لیے تو کوئی چیز بھی پس پردہ نہیں البتہ مخلوق کے لیے بعض چیزیں ظاہر ہوتی ہیں۔ اور بعض پوشیدہ ۔ دوسری جگہ ہے “ وما یعزب عن ربک من مثقال ذرۃ ” تیرے رب سے تو ایک ذرہ بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ اس پر تو ہر چیز عیاں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ “ عالم الغیب والشھادۃ ” اس لیے بولا جاتا ہے کہ وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ جو مخلوق کے اعتبار سے پوشیدہ ہے یا ظاہر ہے۔ یہاں پر بھی “ انی اعلم غیب السموت والارض ” کا مطلب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو جانتا ہوں ، جو مخلوق یعنی انسان ، جن اور فرشتوں کے اعتبار سے خواہ پوشیدہ ہیں یا ظاہر ہیں۔ حتیٰ کہ آدم (علیہ السلام) کی صلاحیت اور ان کے کمال کو بھی جانتا ہوں۔ اے فرشتو ! تمہاری نظر تو آدم (علیہ السلام) کی بیمیت تک ہی پہنچی ہے اور اسی سے تم نے اندازہ لگا لی ہے کہ یہ فتنہ و فساد برپا کرے گا۔ اور خونریزی کا مرتکب ہوگا۔ یا تم نے جنات پر قیاس کرکے کہہ دیا ہے کہ آدم زمین میں لڑائی جھگڑے کا موجب بنے گا۔ تمہاری نظر اس کے کمال تک پہنچ جاتی تو یہ گمان نہ کرتے۔ ہوسکتا ہے کہ فرشتوں کے دل میں یہ بات آئی ہو کہ اے مولا کریم ! ہم تیری تسبیح و تقدیس بیان کرنے والے ہیں لہٰذا اگر زمین میں نیابت کی ضرورت ہے تو ہم حاضر ہیں ۔ اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں ہر اس چیز کو جانتا ہوں جس کو تم ظاہر کرتے ہو یا چھپاتے ہو۔ اے فرشتو ! شاید تمہارا خیال ہو کہ صلاحیت ہم میں پائی جاتی ہے۔ وہ آدم میں نہ پائی جاتی ہو۔ مگر یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ نے آدم میں وہ کمال رکھ دیا ہے جہاں تک تمہاری رسائی نہیں ہے۔ لہٰذا نیابت کا حقدار آدم (علیہ السلام) ہی ہے۔ اسی لیے فرمایا “ واعلم ما تبدون وما کنتم تکتمون ” اے فرشتو ! میں جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی برتری اور فضیلت کو عملی طور پر فرشتوں کے سامنے پیش کیا ہے۔ چناچہ اگلی آیات میں فرشتوں کو سجدہ کے حکم کا بیان ہے۔
Ayahs 2:34–36

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ١٘ۗ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:34 in the Quran reader

اور اس بات کو اپنے دھیان میں لاؤ جب کہا ہم نے فرشتوں سے سجدہ کرو آدم کے لیے۔ پس سجدہ کیا انہوں نے۔ مگر ابلیس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور وہ کفر کرنے والوں میں سے تھا

وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا١۪ وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:35 in the Quran reader

اور ہم نے کہا اے آدم تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔ اور تم دونوں اس میں سے وسعت اور کشادگی سے کھاؤ۔ جہاں سے بھی چاہو۔ اور تم دونوں اس درخت کے قریب نہ جانا ، پس ہوجاؤ گے تم دونوں ظلم کرنے والوں میں سے

فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ١۪ وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 2:36 in the Quran reader

پس پھسلایا ان دونوں کو شیطن نے اس سے ۔ پا سن کو اس نعمت سے نکالا جس کے اندر وہ تھے اور ہم نے کہا اتر جاؤ بعض تمہارے بعض کے لیے دشمن ہیں۔ اور تمہارے لیے زمین میں ٹھکانا ہے۔ اور ایک مدت تک فائدہ اٹھانے کی بات ہے

فرشتوں کی سجدہ ریزی : حضرت آدم (علیہ السلام) کو خلافت عطا کرنے پر فرشتوں کو آپ کی فضیلت کا علم ہوگیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے آدم (علیہ السلام) کی تعظیم کرائی۔ تاکہ ان کی نیابت واضح ہوجائے۔ تو فرشتوں کو حکم ہوا۔ “ واذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم ” کہ آدم (علیہ السلام) کے لیے سجدہ کرو “ فسجدو الا ابلیس ” تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ مفسرین کرام نے اس مسئلہ میں بڑی بحث کی ہے۔ کہ جو سجدہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے آدم (علیہ السلام) کے لیے کرایا ، وہ کس قسم کا سجدہ تھا۔ انتہائی درجے کی حاضری ، تذلل اور تواضح کے ساتھ پیشانی کو زمین پر رکھ دینا سجدہ کہلاتا ہے۔ اور اس کی مختلف قسمیں ہیں۔ مثلاً اگر یہ پیشانی معبود برحق کے حق کو ادا کرنے کے لیے بجکالی ہے تو اللہ تعالیٰ کے سوا ایسا کرنا ہر دور اور ہر شریعت میں حرام ، باطل ، کفر اور شرک رہا ہے۔ اور ایسے سجدہ کو سجدہ عبادت کہتے ہیں۔ البتہ سجدہ تحیہ و تکریم جو محض عزت و اعزاز کے لیے کیا جائے۔ یا جو سلام کے وقت کیا جائے۔ ایسا سجدہ پہلی شریعتوں میں روا تھا مگر ہماری شریعت میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی دوسرے کو یہ سجدہ کرنا بھی حرام قرار دیا گیا ہے۔ جو سجدہ فرشتوں نے آدم (علیہ السلام) کے روبرو کیا۔ یہ سجدہ تعظیمی تھا (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 177 ، تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 77) یہ سجدہ عبادت نہ تھا۔ جو ہر شریعت میں حرام رہا ہے۔ خدا تعالیٰ کے ماسوا کو اب ہر قسم سجدہ حرام ہے : شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں (2 ۔ حجۃ اللہ البالغہ ج 1 ص 67) کہ سجدہ عبادت اور سجدہ تعظیمی کے درمیان فرق صرف نیت سے ہی ممکن ہے۔ اگر بوقت سجدہ نیت یہ ہے کہ یہ وہی سجدہ ہے جو حق تعالیٰ کے سامنے روا ہے تو پھر ایسا سجدہ غیر اللہ کے سامنے کفر اور شرک ہوگا۔ اور اگر سجدہ محض تعظیم و تکریم کے لیے ہے تو یہ پہلی امتوں میں جائز تھا۔ جیسے یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں کا یوسف (علیہ السلام) کو سجدہ یا فرشتوں کا آدم (علیہ السلام) کو سجدہ۔ مگر ہماری شریعت میں ہر قسم کا سجدہ ناجائز ہے۔ خواہ وہ تعظیمی ہو یا عبادتی ہو۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی غیر کے سامنے سجدہ منع ہے۔ ترمذی شریف کی روایت میں حضور ﷺ کا فرمان ہے (3 ۔ ترمذی ص 187) “ لو کنت امرا احدا لامرت المراۃ ان تسجد لزوجہا ” یعنی اگر میں کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ اپنے خاوند کے سامنے سجدہ کرے کہ اللہ تعالیٰ نے خاوند کا بڑا حق رکھا ہے۔ ایک دوسری روایت میں آتا ہے (4 ۔ مسند احمد ج 3 ص 159) “ لایصلح لبشر ان یسجد لبشر ” یعنی کسی انسان کے لیے لائق نہیں کہ وہ کسی دوسرے انسان کو سجدہ کرے۔ ایک صحابی نے حضور بنی کریم ﷺ سے عرض کیا۔ کہ حضرت ! ہم باہر جاکر دیکھتے ہیں کہ وہاں کے لوگ اپنے بادشاہوں کو سجدہ کرتے ہیں ، حالانکہ وہ تو باطل ہیں۔ اور آپ نبی برحق ہیں۔ تو ہم آپ کے سامنے کیوں سجدہ نہ کریں۔ حضور ﷺ نے منع فرما دیا اور کہا (1 ۔ بودازدج 1 ص 291) کہ دیکھو بھائی ! جب میں دنیا سے رخصت ہوجاؤں گا تو کیا تم میری قبر پر سجدہ کرو گے۔ تو اس شخص نے کہا۔ حضور ! ہم ایسا نہیں کریں گے۔ آپ نے فرمایا جس طرح میری قبر پر سجدہ حرام ہے۔ اسی طرح میرے سامنے سجدہ گرنا آج بھی حرام ہے خواہ تعظیمی ہی کیوں نہ ہو۔ مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں (2 ۔ بیان القرآن ) کہ اگر کسی نے قبر کو سجدہ کیا تو اس کو کفر اور شرک تو نہیں کہیں گے مگر اس کے حرام ہونے میں سب کا اتفاق ہے۔ اور اگر اس سجدہ سے مراد وہی سجدہ ہے جو بندے اپنے رب کے سامنے کرتے ہیں۔ تو ایسا کرنے والا کافر اور مرتد ہوجائے گا۔ اور اگر محض تعظیم کے لیے قبر۔ بادشاہ یا استاد کے سامنے کیا ہے۔ تو تمام صحابہ کرام ؓ آئمہ دین ، علمائے کرام اور سلف صالحین کا متفقہ فتویٰ ہے کہ اس کی حرمت میں کوئی شبہ نہیں۔ اگرچہ کفر کے درجے تک نہیں پہنچتا۔ فرشتوں کے سجدہ کی بعض توجیہات : بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں (3 ۔ ابن کثیر ج 1 ص 77 ، درمنثور ج 1 ص 50) کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور یوسف (علیہ السلام) کو سجدہ بمنزلہ قبلہ کے تھا۔ یعنی حقیقت میں سجدہ تو اللہ تعالیٰ کے سامنے کیا گیا تھا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت یوسف (علیہ السلام) محض جہت تھے۔ جن کی طرف منہ کرکے سجدہ کیا گیا۔ یہ بالکل ایسا ہی تھا جیسا کہ ہم آج بھی قبلہ کی طرف منہ کرکے اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ اور اس سے مراد قبلہ کو سجدہ کرنا نہیں ہوتا۔ بلکہ سجدہ تو اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہوتا ہے اسی طرح فرشتوں نے بھی آدم (علیہ السلام) کی طرف منہ محض قبلہ ہونے کی حیثیت سے کیا تھا۔ سجدہ آدم (علیہ السلام) کو نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ہی تھا۔ بعض فرماتے ہیں (4 ۔ تفسیر مظہری ج 1 ص 56) کہ لادم کا “ ل ” سببی ہے۔ یعنی حکم یہ تھا کہ حق تعالیٰ کو سجدہ کرو۔ آدم (علیہ السلام) کی وجہ سے اور سبب سے۔ اور بعض فقہائے کرام فرماتے ہیں (5 ۔ ابن کثیر ج 1 ص 78 ، معالم النتزل ج 1 ص 21) کہ اس سجدہ میں دونوں باتیں پائی جاتی ہیں۔ یعنی سجدہ عبادت تو اللہ تعالیٰ کے لیے تھا۔ اور تعظیم و تکریم آدم (علیہ السلام) کے لیے تھی گویا یہ خلافت کا تعظیمی سجدہ تھا۔ سجدہ خلافت یا سجدہ تعظیمی میں مسجود الیہ عرضی یا مجازی ہوتا ہے۔ حضرت مولانا نانوتوی (رح) فرماتے ہیں (1 ۔ ) کہ سجدہ عبادت میں مسجود الیہ بالذات ہوتا ہے۔ اس ضمن میں مولانا عبید اللہ سندھی (رح) مفسر قرآن کی توجہیہ یہ ہے (2 ۔ الماد الرحمن فی تفسیر القرآن ج 1 ص 33) کہ فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کی اس زبردست تجلی کو سجدہ کیا تھا۔ جو آدم (علیہ السلام) کے قلب پر پڑ رہی تھی۔ یہی توجہیہ مولانا نانوتوی (رح) نے خانہ کعبہ کے متعلق اس وقت کی تھی جب ایک ہندو دیانند سرسوتی نے اعتراض پیش کیا تھا۔ اس کا کہنا یہ تھا کہ اگر ہندو پتھر کی مورتیوں کے سامنے سجدہ کرتا ہے۔ تو مسلمان بھی پتھروں سے بنی ہوئی دیواروں والے مکان یعنی خانہ کعبہ کو سجدہ کرتے ہیں ۔ پھر ہندو اور مسلمان میں فرق کیا ہوا ؟ اس کے جواب میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) نے فرمایا (3 ۔ قبلہ نما) تھا کہ مسلمان اس مکان کو سجدہ نہیں کرتے بلکہ اس تجلی الٰہی کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ جو اس گھر پر پڑتی ہے۔ چونکہ یہ تجلی اعظم اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ لہٰذا مسلمان پتھر کی دیواروں کو سجدہ نہیں کرتے بلکہ خدا تعالیٰ کو کرتے ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر کسی وقت خدانخواستہ بیت اللہ شریف کی دیواریں منہدم بھی ہوجائیں اور بظاہر وہاں کوئی چیز باقی نہ رہے تو بھی مسلمان اسی جہت میں سجدہ ریز ہوں گے۔ برخلاف اس کے ہندو اسی طرف سجدہ کریں گے۔ جس طرح ان کا بت رکھا ہوا ہوگا۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ بت کے سامنے سجدہ کرنا دو مختلف چیزیں ہیں ۔ ابلیس کا انکار : الغرض ! جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو سجدہ کا حکم دیا تو فسجدوا سب سے سجدہ کیا “ الا ابلیس ” سوائے ابلیس کے۔ یہاں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سجدہ کرنے کا حکم تو فرشتوں کو دیا تھا۔ “ واذقلنا للمئکۃ اسجدوا ” مگر ابلیس کے انکار کا کیا مطلب ؟ تو مفسرین کرام فرماتے ہیں (4 ۔ تفسیر عزیزی فارسی ج 1 ص 175) کہ سجدے کا حکم نہ صرف ملائکہ کو تھا۔ بلکہ جنات کو بھی تھا۔ اور ابلیس جنات میں سے ہے۔ بلکہ ابو الجنات تھا۔ اور جب کسی بڑے کو کوئی حکم دیا جاتا ہے ۔ تو اس کے ماتحت والے خود بخود اس حکم کے پابند ہوجاتے ہیں۔ سورة اعراف میں ابلیس کے متعلق آتا ہے کہ جب اس نے سجدہ نہ کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے دریافت کیا “ ما منعک الا تسجد اذ امرتک ” جب میں نے تمہیں حکم دیا تو تو نے سجدہ کیوں نہ کیا ؟ معلوم ہوا کہ سجدہ کرنے کا حکم ابلیس کو بھی ہوا تھا اور نسلی طور پر یہ جنات میں سے تھا۔ جیسا کہ سورة کہف میں “ کا نہ من الجن ففسق عن امر ربہ ” وہ جنوں میں سے تھا۔ پس اپنے رب کے حکم سے باہر ہوگیا۔ مقصد یہ کہ سجدہ کا حکم فرشتوں اور جنات دونوں انواع کو ہوا تھا۔ فرشتے آدم (علیہ السلام) کے سامنے سربسجود ہوگئے۔ مگر ابلیس اور اس کی قوم نے انکار کیا ۔ حضرت یحییٰ منیزی (رح) خواجہ نظام الدین اولیاء (رح) کے خلیفہ اور بڑے پائے کے عالم اور بزرگ تھے انہوں نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے۔ کہ ابلیس نے ساتھ لاکھ سال اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تھی۔ مگر ایک ایک حکم کی سرتابی پر مردود ہوگیا۔ اور اتنے لمبے عرصے کی عبادت برباد ہوگئی۔ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 178) کہ محدث ابن ابی الدنیا نے اپنی کتاب مکاید الشیطان میں ایک روایت بیان کی ہے۔ مکاید الشیطان کا مطلب ہے۔ شیطان کی مکاریاں تو وہ فرماتے ہیں کہ کسی موقع پر ابلیس کی ملاقات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ہوگئی۔ ابلیس نے عرض کیا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے پاس میری سفارش کریں۔ وہ میری توبہ قبول کرلے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے سفارش کا وعدہ کیا۔ اور دعا میں مشغول ہوگئے۔ ادھر سے خدا تعالیٰ کا حکم ہوا۔ کہ میں ابلیس کی توبہ اس شرط پر قبول کرنے کو تیار ہوں کہ وہ آدم (علیہ السلام) کی قبر کو سجدہ کرے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے ابلیس کو یہ شرط پیش کی تو کہنے لگا۔ کہ زندگی میں تو میں نے آدم کو سجدہ کیا اب اس کی قبر کو سجدہ کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔ ابلیس اپنی بات پر پکا تھا۔ اس نے انکار کیا۔ “ ابی واستکبر وکان من الکفرین ” نہ صرف انکار کیا بلکہ تکبر بھی کیا۔ اور تھا انکار کرنے والوں میں۔ یہاں پر ایک اور مسئلہ بھی سمجھ لیں۔ آپ کے مشاہدہ میں بھی شاید آیا ہو کہ آج کل کے بعض مرید اپنے پیروں کے سامنے سجدہ کرتے ہیں۔ بلاشبہ یہ مشر کا نہ فعل ہے۔ اگر نیت عبادت کی تھی۔ تو سجدہ کرنے والا کافر ہوگیا۔ اور اگر عبادت کی نیت نہ بھی تھی۔ محض تعظیم مقصود تھی تو اس کے حرام ہونے میں کسی عالم کو ، کسی بزرگ کو اختلاف نہیں۔ بعض فرماتے ہیں کہ یہ بھی شرک ہے۔ اس سے اجتناب کرنا چاہئے۔ اور جو ایسا کرتا ہے اس کو روکنا چاہئے۔ حسد او لین گناہ ہے : مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 175) کہ ابن منذر (رح) نے عبادۃ بن ابی امیہ (رح) سے ایک روایت بیان کی ہے۔ کہ اس کائنات میں سب سے پہلا گناہ حسد تھا۔ جو ابلیس نے آدم (علیہ السلام) پر کیا۔ اور کہا “ انا خیر منہ ” میں اس سے بہتر ہوں “ وخلقتنی من نار وخلقتہ من طین ” مجھے آگ سے پیدا کیا اور آدم کو مٹی سے۔ لہٰذا میں اس سے افضل ہوں۔ میں کیوں اس کو سجدہ کروں۔ یہی ابلیس کی بھول تھی کہ اس نے اپنی شخصیت کی طرف دیکھا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم پر نگاہ نہ ڈالی ۔ لہٰذا مردود ٹھہرا۔ اس سے ثابت ہوا کہ جو کوئی بھی خدا تعالیٰ کے حکم کا انکار کرے گا۔ وہ ابلیس کی طرح کافر ہوجائے گا۔ ابلیس نے حسد کی وجہ سے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ نہ کیا۔ “ وکان من الکفرین ” اور اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ کفر کرنے والا تھا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا جنت میں : انکار ابلیس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حکم دیا “ وقلنا یادم اسکن انت وزوجک الجنۃ ” اے آدم ! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔ حضرت حوا ؓ کی تخلیق کے متعلق دوسرے مقام پر فرمایا “ خلق منھا زوجھا ” آدم (علیہ السلام) کی وحشت کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں کی پسلیوں سے ان کا جوڑا پیدا فرمایا۔ اور آپ حضرت حوا ؓ سے مانوس ہوگئے۔ اس لیے فرمایا کہ تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔ “ وکلا منھا رغد حیث شئتما ” اور تم اس میں سے کشادگی کے ساتھ کھاؤ جہاں سے چاہو۔ اس جنت کے متعلق بھی مختلف روایتیں ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ جنت زمین پر تھی۔ مگر صحیح قول یہ ہے کہ جس جنت میں آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا ؓ کو رہنے کا حکم ہوا عالم بالا میں جنۃ الماوی ہے۔ جس کا ذکر قرآن پاک کے دوسرے مقامات پر آیا ہے۔ سورة نجم میں موجود ہے “ عند سدرۃ المنتھی ” جو کہ سدرۃ المتہی کے قریب ہے “ عند ھا جنۃ الماوی ” جو کہ سدرۃ المنتہی کے قریب ہے “ عندھا جنۃ الماوی ” یہ عالم بالا ہی کے متعلق ہے۔ شجر ممنوعہ : جنت میں سکونت اختیار کرنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) اور حوا ؓ کو یہ حکم بھی دیا کہ جہاں سے جتنا جی چاہے کھاؤ مگر “ ولا تقربا ھذہ الشجرۃ ” اس درخت کے قریب نہ جانا۔ اگر ایسا کرو گے “ فتکونا من الظلمین ” تو ظلم کرنے والوں میں سے ہوجاؤ گے ۔ اللہ تعالیٰ نے تنبیہہ فرما دی۔ یہ کون سا درخت تھا جس کی مقاربت سے منع فرمایا گیا۔ اس کے متعلق مفسرین کرام کے کئی اقوال ہیں۔ بعض اسے کھجور کا درخت بتاتے ہیں بعض انجیر کا اور بعض انگور کا (1 ۔ تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 79 ، درمنثور ج 1 ص 52) بائیبل کی روایت کے مطابق یہ نیکی اور بدی کی پہچان کا درخت تھا۔ اور بعض نے یہ توجیہہ (2 ۔ الہام الرحمن از حضرت سندھی (رح) ج 1 ص 35) کی ہے کہ آدم (علیہ السلام) اور حوا ؓ کے ملاپ یعنی مباشرت کو درخت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور اس لحاظ سے پیدا ہونے والی اولاد کو پھل کہا گیا ہے۔ بعض مفسرین (3 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پ 1 ص 190 ، ابن کثیر ج 1 ص 79) کا خیال ہے کہ شجر ممنوعہ گندم کا درخت تھا۔ مگر یہاں یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ گندم کا درخت نہیں بلکہ چھوٹا سا پودا ہوتا ہے۔ مفسرین نے اس اعتراض کا جواب بھی دیا ہے ۔ فرماتے ہیں کہ شاعر لوگ لطیفے کی زبان میں کہتے ہیں۔ ؎ بخورنان جواری گرجوار اللہ می خواہی کہ گندم کرو آدم (علیہ السلام) رابیرون از جنۃ الماوی اگر اللہ تعالیٰ کا قرب چاہتے ہو تو جوار کی روٹی کھاؤ ۔ جو قدرے ٹھنڈی ہوتی ہے۔ گندم گرم ہوتی ہے۔ اگر اس کی روٹی کھاؤ گے تو اس نے آدم (علیہ السلام) کو جنت سے نکلوا دیا۔ مولانا رومی (رح) بھی فرماتے ہیں ۔ ؎ این عشق نیست این فساد گندم است۔ یہ عشق نہیں ہے بلکہ گندم کی گرمی کا اثر ہے۔ اور یہ اسی کا برپا کردہ فساد ہے۔ غرضیکہ گندم کے اس درخت کو دنیا کے گندم کے درخت پر قیاس نہیں کرنا چاہئے۔ امام ابو داؤد (رح) نے خود اپنا مشاہدہ نقل کیا ہے (4 ۔ ابوداؤد ج 1 ص 216) کہ انہوں نے مصر میں اتنا بڑا سنگترہ دیکھا جسے دو ٹکڑے کرکے بڑی مشکل سے اونٹ پر لادا گیا۔ اگر اس دنیا میں اتنا بڑا سنگترہ ہو سکتا ہے۔ تو جنت میں گندم کا درخت اتنا بڑا کیوں نہیں ہو سکتا۔ امام ابو داؤد (رح) نے یہ بھی بیان کیا ہے (1 ۔ ابوداؤد ج 1 ص 236) کہ انہوں نے دس بالشت لمبا کھیرا دیکھا ہے۔ یہ تر کی قسم کا کھیرا جو موسم گرما میں ہوتا ہے۔ اور بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے۔ روایات میں آتا ہے (2 ۔ ترمذی ص 326) کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول کے وقت انار کے دانے اتنے بڑے بڑے ہوں گے کہ ایک دانے کے نصف خول سے اتنا بڑا خیمہ بن سکے گا جس کے نیچے دس بیس آدمی ٹھہر سکیں۔ بہرحال یہ اعتراض معقول نہیں ہے۔ کہ گندم کا پودا ہوتا ہے۔ درخت نہیں ہوتا۔ ہوسکتا ہے کہ جنت میں گندم کا بہت بڑا درخت ہو۔ جس کے قریب جانے یا پھل کھانے سے منع کیا گیا تھا۔ شیطانی وسوسہ : اللہ تعالیٰ کے حکم سے آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا ؓ جنت میں رہنے لگے۔ وہ بچوں کی طرح معصوم تھے۔ ابھی ان میں بیہمیت کا مادہ نہیں ابھرا تھا کہ شیطان نے آہستہ آہستہ وسوسہ ڈالنا شروع کیا۔ “ فازلھما الشیطن عنھا ” ان دونوں کو شیطن نے پھسلا دیا۔ دوسری جگہ آتا ہے ۔ “ فوسوس لھما الشیطن ” شیطان نے دونوں میں وسوسہ ڈالا۔ کس چیز کے متعلق وسوسہ ڈالا۔ اس میں مختلف اقوال ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ درخت کا پھل کھانے کے متعلق وسوسہ ڈالنا۔ دوسری جگہ موجود ہے کہ شیطان نے کہا کہ اس کو کھالو گے تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہاں رہ جاؤ گے۔ اور کسی قسم کا خطرہ لاحق نہ ہوگا۔ بعض کہتے ہیں (3 ۔ درمنثور جق ص 53) کہ ضروری نہیں کہ وسوسہ دل کے اندر ہی ڈالا جائے۔ کوئی فعل سرزد کرنے سے بھی وسوسہ اندازی ہوتی ہے۔ بعض کہتے ہیں (4 ۔ الہام الرحمن فی تفسیر القرآن ج 1 ص 35) کہ شیطان ایک جنیہ کو پکڑ کر لایا۔ اور جنت کے دروازے پر اس سے مباشرت کی جسے آدم (علیہ السلام) دیکھ رہے تھے۔ تو ان کے دل میں بھی ویسا ہی خیال پیدا ہوا۔ انہوں نے حضرت حوا ؓ کے ساتھ مقاربت کی۔ جس کا یہ نتیجہ ہوا۔ کہ جنت کا لباس اتر گیا اور وہ دونوں برہنہ ہوگئے۔ جنت سے خروج : شیطان کی وسوسہ اندازی کا نتیجہ یہ ہوا۔ کہ اس وسوسہ اندازی نے “ فاخرجھما مما کانا فیہ ” ان دونوں کو اسی جگہ یعنی جنت سے نکال دیا جس کے اندر وہ تھے۔ “ وقلنا اھبطوا ” اور “ ھم ” نے کہا اتر جاؤ “ بعضکم لبعض عدو ” بعض تمہارے بعض کے دشمن ہیں۔ شیطان تمہارا دشمن ہے اور تم اس کے دشمن ہو۔ “ ولکم فی الارض مستقر ” اور زمین میں تمہارے لیے ٹھکانا ہے۔ اب تمہاری رہائش زمین پر ہوگی۔ “ ومتاع الی حین ” اور ایک مدت تک فائدہ اٹھانا ہے۔ یعنی تمہاری اصل رہائش گاہ زمین ہی ہوگی۔ البتہ اگر زمین کو چھوڑ کر کہیں فضاؤں یا سمندروں میں جاؤ گے تو وہ عارضی قیام گاہ ہوگا۔ مستقل قیام زمین پر ہی کرو گے۔ زمین ہی اصل ٹھکانا ہے : آج کے دور میں جو پراپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ ہم زمین پر مستقل طور پر نہیں رہیں گے بلکہ چاند ، مریخ یا دوسرے سیاروں میں چلے جائیں گے۔ تو یہ محض شیطانی پراپیگنڈا ہے۔ چاند ہماری زمین سے قریب ترین سیارہ ہے۔ اور اس کا فاصلہ اٹھائی لاکھ میل ہے۔ مریخ تو یہاں سے پچاس کروڑ میل دور ہے۔ اور دوسرے سیارے اس سے بھی دور ہیں۔ فرض کرلیا کہ چاند پر رہائش کا بندوبست ہوجاتا ہے۔ وہاں ہوٹل قائم ہوجاتے ہیں۔ تو سائنسدانوں کا اپنا اندازہ یہ ہے کہ ایک پونڈ غذا کو چاند پر پہنچانے کے لیے تیس ہزار پونڈ خرچ ہوں گے۔ وہاں پہنچنے کا خصوصی لباس چار لاکھ روپے میں تیار ہوگا۔ یہ لباس تو راستے میں ہی جل جائے گا۔ چاند پر تو ایٹمی لباس پہننا ہوگا۔ وہاں کی گرمی کی مقدار تقریباً چالیس ہزار سنٹی گریڈ ہے۔ جہاں پر پانی تو کیا تابنا بھی پگھلنے لگتا ہے۔ چاند کے ایک طرف گرمی ہے۔ اور دوسری طرف اتنی سردی ہے۔ جس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ لہٰذا ایسی جگہ پر رہنے کے لیے اتنا قیمتی لباس تیار کرانا ہوگا۔ ظاہر ہے ۔ خوراک اور لباس پر اتنی رقم خرچ کرکے رہائش پذیر ہوگا۔ اگر کوئی وہاں تک پہنچے گا بھی تو اس کا قیام بالکل عارضی ہوگا۔ آخر کار اسے زمین پر ہی آنا پڑے گا۔ اسی لیے فرمایا کہ تمہارا اصل ٹھکانا زمین پر ہی ہوگا۔ دوسری جگہ فرمایا “ منھا خلقنکم وفیھا نعیدکم ومنھا نخرجکم تارۃ اخری ” اے انسان ! ہم نے تمہیں اسی زمین سے پیدا کیا۔ اسی میں لوٹائیں گے۔ اور پھر قیامت کو دوسری مرتبہ اسی سے نکالیں گے۔ اسی لیے یہاں پر فرمایا ، کہ اے آدم اور حوا تم یہاں سے زمین پر اتر جاؤ ایک خاص مدت تک وہی تمہارا ٹھکانا ہوگی۔