Ayah 2:259ربط آیات
گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اولیاء الرحمن اور اولیاء الشیطان کی مثال بیان فرمائی ۔ ایک طرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اولیاء الرحمن کا نمونہ ہیں اور دوسری طرف نمروداولیاء الشیطان کی مثال ہے دونوں کا مناظرہ و مباحثہ اور پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا دلائل وبراہین کی رو سے غالب آجانا اور کافر کا حیران و پریشان ہوجانا یہ سب بیان ہوچکا ہے ، اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دستگیری فرمائی اور اس بات کو ثابت کردیا کہ اللہ ولی الذین امنوا یعنی اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا کارساز ہے ۔ اس مثال سے شیطان کی شطینت بھی سمجھ میں آئی کہ نمرود کو اللہ تعالیٰ نے بادشاہی عطا کی تھی ، مگر اس انعام کا شکر گزار ہونے کی بجائے ، وہ شیطان کے پیچھے لگ گیا اور خود خدائی کا دعویدار بن گیا ۔ اس نے انعام الٰہی سے غلط فائدہ اٹھایا اور سر کشی اختیار کی جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے صراط مستقیم دکھانا چاہا تو اس نے جھگڑا شروع کردیا ۔
آ ج کے درس والی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک اور مثال کے ذریعے اپنی قدرت کاملہ اور حیات بعد المحات کا مسئلہ سمجھایا ہے۔ یہ مثال بیان کر کے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے کو ثابت کیا ہے۔ مولانا عبید اللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ اس قسم کے واقعات معارف الٰہیہ میں شمارہوتے ہیں اور ان کو دیکھ کر انسان کا روز قیامت پر یقین پختہ ہوتا ہے ، لہٰذا خلیفہ وقت کا فرض ہے کہ وہ ایسے واقعات کی تشہیر کرے تا کہ لوگوں کے دلوں میں دوبارہ جی اٹھنے کے متعلق کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے۔
متعلقہ شخص کون تھا
اس آیت کی ابتداء او کالذی سے کی گئی ہے یعنی اس شخص کا واقعہ جس کا گزر ایک تباہ شدہ بستی پر ہوا اور اس نے دل میں سوچا کہ اللہ تعالیٰ ایسی پامال شدہ بستی کو کیسے دوبارہ آباد کرے گا ۔ یہاں پر اس شخص کا تعارف نہیں کرایا گیا ۔ جس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا ۔ حدیث پاک میں بھی اس کی کوئی تصریح نہیں ملتی ، البتہ بائیبل ، تفسیری روایات اور تاریخ سے اس شخص کے متعلق معلومات حاصل ہوتی ہیں ۔ مفسرین کے اقوال میں سے ایک قول تو یہ ہے کہ یہ شخص سرے سے مسلمان ہی نہیں تھا بلکہ حیات بعد المحات کا منکر تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی آنکھوں سے دوبارہ جی اٹھنے کا مشاہدہ کرایا ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ شخص نہ صرف مومن تھا بلکہ اللہ کا نبی تھا۔ اب رہا یہ سوال کہ کون سا نبی تھا ، تو بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ میاہ نبی تھے جن کا ذکر تورات میں موجود ہے اور زیادہ مشہور قول یہ ہے کہ آپ عزیز (علیہ السلام) تھے اور اسی عجیب و غریب واقعہ کی بناء پر اسرائیلی آپ کو خدا کا بیٹا کہنے لگے ، جیسا کہ قرآن پاک میں موجود ہے وقالت الیھود عزیز ابن اللہ یعنی یہودیوں نے کہا کہ عزیز اللہ کا بیٹا ہے۔
تاریخی پس منظر
یہ واقعہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت با سعادت سے پانچ سو سال پہلے پیش آیا ۔ جب بنی اسرائیل میں سر کشی پیدا ہوگئی ۔ اور وہ مختلف قسم کی برائیوں میں مبتلا ہوگئے۔ تو اس وقت بابل پر بخت نصر جیسا جابر و ظالم بادشاہ حکمران تھا ، کہتے ہیں کہ نمرود کی طرح بخت نصر نے بھی پوری دنیا پر حکومت کی ۔ چناچہ اس نے شام و فلسطین پر حملہ کر کے تباہ و برباد کردیا اور یروشلم اور بیت المقدس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ بیشمار بنی اسرائیلیوں کو قتل کردیا اور لا تعداد لوگوں کو غلام اور لونڈیاں بنا کر اپنے ساتھ عراق لے گیا بنی اسرائیل کی تمام کتابیں تورات سمیت جلا ڈالیں ۔ حتیٰ کہ تورات کا ایک نسخہ بھی سلامت نہ بچا ، تاریخی واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ قید ہونے والوں میں حضرت عزیر (علیہ السلام) بھی شامل تھے کچھ عرصہ بعد جب آپ قید سے رہا ہو کر واپس اپنے وطن آ رہے تھے تو یہ واقعہ راستے میں پیش آیا ، اس وقوعہ کے مقام کے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ راستے میں کوئی شہر یا بستی تھی ۔ بعض دوسرے کہتے ہیں کہ یہ خود یروشلم کا شہر تھا۔ بہر حال اس کی حالت یہ تھی کہ مکانوں کی چھتیں اور دیواریں زمین بوس ہوچکی تھیں اور وہاں کوئی شخص زندہ سلامت موجود نہیں تھا۔ ایسامعلوم ہوتا تھا کہ کسی زمانے میں یہ ایک پر رونق اور آباد شہر تھا ، مگر اس وقت کھنڈرات کا ڈھیر بن چکا تھا۔
واقعہ پر سطحی نظر
کہتے ہیں کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) گدھے پر سوار آ رہے تھے ، آپ کے پاس کھانے پینے کا کچھ سامان بھی تھا ۔ ایک برتن میں پھلوں کا کچھ شیرہ تھا اور ایک ٹوکری میں انجیر تھے ۔ یہ دونوں چیزیں ایسی ہیں جو جلد خراب ہوجاتی ہیں ۔ بہر حال آپ کا اس اجڑے ہوئے شہر پر گزر ہوا ۔ کھنڈرات کو عبور کرتے ہوئے ایک مقام پر ان کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ کیا یہ جڑا ہوا شہر بھی کبھی آباد ہوگا ؟ اسی سوچ و بچار میں کھنڈرات کے درمیان ایک مقام پر اترے ، گدھے کو باندھا ، کھانے کا کچھ حصہ کھایا اور باقی پاس رکھ لیا ، تھکے ہوئے تو تھے ہی ، ذرا آرام کرنے کے لیے لیٹ گئے اور پھر ایسے سوئے کہ اللہ تعالیٰ نے سو سال تک سلائے رکھا۔ جس وقت سوئے تھے تو دن کا ابتدائی حصہ تھا اور جب پیدا ہوئے تو ابھی سورج غروب نہیں ہوا تھا ۔ اٹھنے کے بعد ان سے سوال و جواب ہوئے کہ کتنا عرصہ سوئے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ، مگر اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ وہ سو سال تک سوتے رہے ہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کے کرشمہ کے طور پر انہیں دکھایا کہ اس سو سال کے عرصہ میں ان کا کھانا بالکل ترو تازہ تھا خراب نہیں ہوا تھا۔ البتہ ان کا گدھا مر چکا تھا اور اس کی ہڈیاں ادھر ادھر بکھری پڑی تھیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کے سامنے گدھے کو زندہ کیا ۔
جب عزیر (علیہ السلام) موت کی نیند سو رہے تھے تو اس دوران بخت نصر مر گیا ، ایران کے بادشاہ خسرو نے فلسطین پر حملہ کر کے اسے اپنے زیر نگیں کرلیا ، اور بنی اسرائیلوں کو آزاد کردیا اور انہیں فلسطین کو دوبارہ آباد کر نیکی اجازت دے دی چناچہ انہوں نے تیس سال کے مختصر عرصہ میں اس اجڑے ہوئے شہر کو دوبارہ آباد کرلیا اور پھر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ یہ شہر کبھی ویران ہوا ہی نہیں ۔ بلکہ پہلے سے بھی زیادہ پر رونق ہوگیا ۔ دنیا کی تاریخ میں آبادی اور بربادی کی ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں ۔ پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی تھی ، مگر جنگ کے خاتمہ سے چند سال کے اندر اندر جرمنی اس طرح آباد ہوگیا کہ گویا وہاں کوئی حادثہ پیش ہی نہیں آیا ۔ بڑی بڑی بلڈنگیں ، فیکٹریاں ، کاروباری مراکز پہلے سے بھی زیادہ شان و شوکت کے ساتھ معرض وجود میں آگئے۔ اسی طرح تیس سال کے عرصہ میں وہ شہر پوری آب و تاب کے ساتھ دوبارہ آباد ہوگیا اور جب عزیر (علیہ السلام) اپنی موت کے سو سال پورے ہونے پر دوبارہ اٹھائے گئے تو وہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ میلوں تک پھیلے ہوئے کھنڈرات ہنستے بستے شہر میں تبدیل ہوچکے تھے ۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے بطور نمونہ دکھا دیا کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کردینا اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ملہ کا ظہور ہے۔
تباہ شدہ بستی
ارشاد ہوتا ہے اوکالذی مرعلی قریۃ کیا آپ کے علم میں یہ بات نہیں آئی کہ وہ شخص جو ایک بستی پر گزرا ۔ یہ بستی یروشلم تھا یا کوئی اور نگری تھی ۔ وھی خاویۃ علی عروشھا اور اس بستی کی حالت یہ تھی کہ اپنی چھتوں پر گہری پڑی تھی ۔ تباہ و برباد ہوچکی تھی نہ کوئی دیوار سالم تھی اور نہ کسی مکان کی چھت باقی تھی بلکہ پوری بستی ملبے کا ڈھیر بن چکی تھی ۔ وہاں کوئی زندہ سلامت آدمی موجود نہیں تھا ، اگرچہ عام خیال یہی ہے کہ یہ بستی بخت نصر بادشاہ نے تباہ کردی تھی مگر کہتے ہیں کہ یہ کسی حادثہ کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے ۔ جب زبردست قسم کا زلزلہ آتا ہے تو سینکڑوں میل تک تباہی پھیل جاتی ہے ۔ بذرتہ کی بستی میں زلرلے نے وہ تباہی مچائی کہ رات کے تھوڑے سے حصہ میں دس بارہ ہزار کی آبادی میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچا ۔ 1923 ء میں جاپان میں بہت بڑا زلزلہ آیا تھا ہزاروں میل زمین میں لمبے لمبے شگاف پڑگئے تھے۔ ڈیڑھ لاکھ آدمی ہلاکت کے منہ میں چلے گئے تھے ، قیامت صغریٰ کا نمونہ تھا۔ 1935 ئ میں کوئٹہ جیسا آباد شہر آفا ً فاناً ملبے میں تبدیل ہوگیا تھا۔ ہزاروں جانیں تلف ہوگئیں تھیں۔ بہر حال اللہ کے نبی نے بستی کی بربادی کو دیکھ کر تعجب کے ساتھ کہا قال انی یحییٰ ھذا اللہ بعد موتھا اس قدر تباہی کے بعد اللہ تعالیٰ اس بستی کو کیسے زندہ کریگا۔ یہاں پر حیات اور موت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ، اگر ھذہ سے مراد وہ بستی ہے۔ تو اس کا معنی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اس اجڑی ہوئی بستی کو دوبارہ کیسے آباد کریگا اور اگر اس سے مراد اس بستی کے لوگ ہیں جو بستی کی تباہی کے ساتھ ہی موت کی آغوش میں چلے گئے تھے تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو کیسے زندہ کرے گا ، جب کہ ان پر موت طاری ہوچکی ہے۔
موت وحیات کا منظر
حضرت عزیر (علیہ السلام) کے اس تعجب خیز سوال کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس طرح دیا کہ فاماتہ اللہ مائۃ عام آپ پر سو سال تک کے لیے موت طاری کردی ۔ ثم بعثہ پھر آپ کو اٹھایا اور کہا قال کم لبثت تم کتنی دیر ٹھہرے یعنی اس حالت میں کتنا عرصہ رہے ، ذرا بتائو توسہی ۔ قال لبثت یوما ً او بعض یوم عرض کیا ، ایک دن یا دن سے کچھ کم ٹھہرا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ قال بل لبثت مائۃ عام بلکہ تم ایک سو سال تک ٹھہرے اور آپ کو باور کرانے کے لیے فرمایا فانظرالی طعامک وشرابک لم یتسنہ ذرا پنے کھانے اور مشروب کی طرف دیکھو ، وہ متغیر نہیں ہوا ، یعنی اتنا عرصہ گزرنے کے بعد گل سڑکر خراب نہیں ہوا نہ اس کی شکل تبدیل ہوئی ہے ، نہ ذائقہ اور نہ رنگ ، یہ اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت ہے کہ جلد خراب ہوجانے والی چیز کو اتنے لمبے عرصے تک محفوظ رکھا اور دوسری طرف خود عزیر (علیہ السلام) ہیں ۔ ان کا جسم سو سال تک کھنڈرات کے درمیان پڑا رہا مگر بالکل صحیح سلامت اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ، نہ اس کا گوشت گلا سڑا اور نہ ہڈیاں علیحدہ ہوئیں ۔ جس طرح اس مالک الملک کے اصحاب کہف کو تین سو نو سال تک ایک غار میں محفوظ رکھا ، اسی طرح حضرت عزیر (علیہ السلام) کے جسم کو ایک سو سال تک آنچ نہ آنے دی ۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے اپنی حکمت کے ساتھ ایسی چیزیں ظاہر کرتا ہے ، پورا شہر آباد ہوگیا ، مگر جس جگہ عزیر (علیہ السلام) آرام فرما تھے ، وہاں تک کسی کی رسائی نہیں ہوئی ۔ آج لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ دجال کہاں مقید ہے۔ آج دنیا کا کوئی حصہ نظروں سے اوجھل نہیں رہا ۔ آخر وہ کہاں چھپا ہوا ہے۔ بھائی اللہ تعالیٰ نے اسے لوگوں کی نظروں سے مخفی کردیا ہے ۔ جب اس کا حکم ہوگا ، ظاہر ہوجائے گا ۔ یاجوج ماجوج کی قوم بھی ایسی ہی ہے ، وہ بھی کسی کو نظر نہیں آتے ، انگریزوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پوری دنیا کا کونہ کونہ چھان مارا ہے مگر یاجوج ماجوج کہیں نظر نہیں آئے ۔ مگر یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی حکمت سے چھپا رکھا ہے ۔ قرآن پاک میں موجود ہے جب اس کا حکم ہوگا یہ قوم پہاڑوں سے نکل کر ظاہر ہوجائے گی ۔
گدھا کیسے زندہ ہوا
حضرت عزیر (علیہ السلام) کے خود اپنے ساتھ اور کھانے کے ساتھ تو یہ معاملہ ہوا ۔ سب انکے گدھے کا انجام دیکھئے ۔ ہمارے ہاں تو گدھے کی سواری کو مستحسن نہیں سمجھا جاتا ، مگر اس زمانے میں یہ ایک علیحدہ سواری شمار ہوتی تھی ۔ بڑے خوبصورت اور طاقتور گدھے ہوتے تھے ، خود حضور نبی کریم ﷺ نے گدھے کی سواری کی ہے۔ آپ بالکل تکلیف نہیں فرماتے تھے جو سواری میسر آئے ، استعمال میں لے آتے تھے جب آپ بنو قریظہ سے جنگ کے لیے تشریف لے گئے ۔ تو آپ کے پاس یہی سواری تھی اور اس پر پالان بھی نہیں تھا ۔ مگر آپ نے اسی حالت میں اس پر سفر کیا ۔ آپ نے اونٹ اور گھوڑے پر بھی سفر کیا اور اگر کوئی سواری نہیں ملی تو پیدل ہی چلے دیئے ، حضرت جابر ؓ بیمار ہوگئے آپ کا گھر مدینہ طیبہ سے تین میل کے فاصلے پر تھا۔ حضور ﷺ بیمار پرسی کے لیے جانا چاہتے تھے ، کوئی سواری نہیں ملی تو پیدل ہی چل دیئے۔ حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ تشریف لائے تو آپ پر گردو غبارپڑا ہوا تھا ، بہر حال گدھے کی سواری کو معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے عزیر (علیہ السلام) کو مخاطب کر کے فرمایا۔ وانظرالی حمارک ذرا اپنے گدھے کی طرف دیکھو کہ اس کا کیا حشر ہوا ہے۔ فرمایا یہ سب واقعات پیش کرنے کا کوئی مقصد ہ۔ ولنجعلک ایۃ للناس تا کہ ہم آپ کو لوگوں کے لیے نتمونہ بنا دیں کہ دیکھو ! اللہ تعالیٰ نے موت طاری کرنے کے بعد پھر کس طرح زندہ کردیا ، اب دیکھو گدھا کس طرح زندہ ہوتا ہے۔ فرمایا وانظر الی العظام ان ہڈیوں کی طرف نگاہ کرو ۔ گدھا مر چکا ہے ، گوشت گل سڑ کر ختم ہوچکا تھا اور اس کی ہڈیاں ادھر ادھر بکھری پڑی تھیں ۔ فرمایا ان کی طرف دیکھو کیف ننشزھا ہم کس طرح ان کا ڈھانچہ تیار کرتے ہیں ۔ نشنر کا معنی ہوتا ہے ، ابھارنا ، اٹھارنا وغیرہ ناشزہ اس عورت کو کہتے ہیں ، جو خاوند کی نافرمان ہو اور مقابلے میں اٹھ کھڑ ی ہو۔ فرمایا دیکھو ! ہم ان ہڈیوں کو جوڑ کر ڈھانچہ تیار کرتے ہیں ۔ ثم نکسوھا لحما ً پھر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں چناچہ حضرت عزیر (علیہ السلام) کی آنکھوں کے سامنے ہڈیاں ابھریں ، ان کا ڈھانچہ تیار ہوا ۔ پھر ان پر گوشت چڑھا ، گدھے کی شکل و صورت بنی اور پھر وہ زندہ ہو کر بولنے لگا۔ ہر ذی جان کا جسم ہڈیوں پر قائم ہوتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ، جب انسان مرجاتا ہے تو اسکے جسم کی تمام کثافتیں گل سڑ جاتی ہیں ۔ صرف دم کی ہڈی کسی نہ کسی صورت میں باقی رہتی ہے ۔ قیامت کے دن اسی ہڈی سے پورا ڈھانچہ اور پھر پورا جسم اٹھایا جائے گا ۔ اسی چیز کو اللہ تعالیٰ نے گدھے پر وارد کیا اور پھر حضرت عزیر (علیہ السلام) کی آنکھوں کے سامنے جیتے جاگتے گدھے کی صورت میں کھڑا کردیا۔
عالم برزخ
وار د ہونے والی موت کے اس سو سالہ عرصہ کو عالم برزخ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے جب کوئی انسان مر جاتا ہے۔ تو اس کا تعلق اس دنیا سے کٹ جاتا ہے اور قیامت کے روز دوبارہ جی اٹھنے تک برزخی زندگی کہلاتی ہے ۔ اس عرصہ میں انسان کو وقت کا احساس نہیں ہوتا کہ وہ کتنا عرصہ برزخ میں ہو رہا ہے جیسا کہ سورة یٰسین میں آتا ہے کہ جب لوگ قبروں سے اٹھیں گے ، تو کہیں گے من بعثنا من مرقدناھذا ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھایا ۔ ان کو ایسا ہی محسوس ہوگا جیسے کوئی شخص رات کو یا دن کے وقت کچھ دیر کے لیے سوتا ہے ، اور پھر اٹھ بیٹھتا ہے۔ یہی چیز حضرت عزیر (علیہ السلام) کے ساتھ پیش آئی ، انہیں احساس ہی نہیں ہوا کہ وہ سو سال تک سوئے رہے ہیں ، وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ دن کا کچھ حصہ سوئے ہیں ۔ عالم برز خ میں وقت کا احساس تو نہیں ہوتا ، مگر راحت اور تکلیف کا احساس ضرور ہوتا ہے ، جیسا کہ احادیث میں آتا ہے کہ جب کسی شخص کو دفن کردیا جاتا ہے تو پھر منکر نکیر اس سے سوال و جواب کرتے ہیں اس ابتدائی امتحان میں اگر وہ شخص کامیاب ہوا ہے ، تو اس کو میٹھی نیند سلا دیا جاتا ہے اور اس کے لیے راحت کا سامنا مہیا کردیا جاتا ہے۔ بر خلاف اس کے اگر وہ ناکام ہوگیا ہے۔ سوالات کا جواب نہیں دے سکا ، تو پھر قیامت تک کے لیے اسے تکلیف میں مبتلا کردیا جاتا ہے۔ اس طرح اسے تکلیف کا احساس تو ہوتا ہے مگر وقت کا احساس نہیں ہوتا ۔
اجسام کی حفاظت
مرنے کے بعد ایک عام انسان کے جسم کی حفاظت کی کوئی گارنٹی نہیں ۔ قانون قدرت کے مطابق مردہ جسم گل سڑ کر ختم ہوجاتے ہیں ۔ قبروں کی کھدائی کے دوران بعض اوقات چھوٹی موٹی ہڈیاں ملتی ہیں اور بعض اوقات وہ بھی نہیں ملتیں ، البتہ اس امر پر اتفاق ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے اجسام قبر میں بھی محفوظ رہتے ہیں ۔ ان اللہ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کردیا کہ وہ نبیوں کے جسموں کو کھا سکے ، ہاں شہداء کے متعلق مشاہدہ سے معلوم ہوا ہے کہ بعض شہداء کے جسم بھی قبروں میں محفوظ رہتے ہیں ۔ بخاری شریف میں روایت موجود ہے کہ بعض شہداء کو شہید ہوئے پنتالیس سال گزر چکے تھے ۔ بارش اور سیلاب کی وجہ سے ان کی قبروں میں شگاف پڑگئے ، تو لوگوں نے دیکھا کہ ان کے جسم ویسے ہی محفوظ تھے جیسا وہ دفن کیے گئے ۔ ابھی پچھلے دنوں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ جو لوگ چھ سو سال پہلے تاتاریوں کے علاقے میں کفار سے لڑ کر شہید ہوئے تھے ، ان کے جسم بالکل محفوظ برآمد ہوئے تھے۔
یقین تین مدارج
فلما تبین لہ جب یہ تمام چیزیں حضرت عزیر (علیہ السلام) پر واضح ہوگئیں ان کے سوال کا جواب مل گیا ۔ انہوں نے حیرانگی کے انداز میں سوال کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس اجڑی ہوئی بستی کو کیسے دوبارہ زندہ کریگا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کی آنکھوں سے دکھا دیا کہ اس نے نہ صرف پورے شہر کو آباد کردیا بلکہ خود ان کو اور ان کے گدھے کو سو سال کے بعد پھر زندہ کردیا تو عزیر (علیہ السلام) نے کہا قال اعلم ان اللہ علی کل شی قدیر میں جان گیا ہوں اور مجھے علم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ جو چاہے کرسکتا ہے ۔ آباد کو برباد اور اجڑے دیار کو پھر سے آباد کرسکتا ہے زندہ کو مردہ اور مردہ کو زندہ کرنے پر قادر ہے۔ کسی چیز کو تسلیم کرلینے یا اس پر یقین کرلینے کے تین درجے ہیں ، اگر کسی چیز کا علم کسی دوسرے ثقہ شخص کی معرفت ہو تو اسے علم الیقین کہتے ہیں ، کیونکہ ایسی چیز کا ادراک علم کے ذریعے ہوا ہے اور اگر کوئی شخص خود اپنی آنکھوں سے کوئی واقعہ دیکھ لے تو اسے عین الیقین کہتے ہیں اور یقین کا تیسرا درجہ حق الیقین ہے اور یہ اس صورت میں ہوتا ہے کہ جب کوئی واقعہ خود اپنے ساتھ پیش آئے ۔ ظاہر ہے کہ جو چیز خود اپنے اوپر واردہوئی اور اس کی کیفیت خود اپنے اوپر طاری ہوئی ہو ۔ اس سے انکار کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی اور یہ کسی چیز کو تسلیم کرلینے کا آخری درجہ یعنی حق الیقین ہے۔
حضرت عزیر (علیہ السلام) کا واقعہ عین الیقین بھی ہے اور حی الیقین بھی عین الیقین اس لحاظ سے کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) نے خود اپنی آنکھوں سے مردہ گدھے کو زندہ ہوتے دیکھا ۔ ان کی نظروں کے سامنے گدھے کی بوسیدہ ہڈیوں سے ڈھانچہ تیار ہوا ، پھر ان پر گوشت چڑھا ، گدھے کی شکل و صورت بنی اور پھر وہ آواز دینے لگا۔ یہ واقعہ حق الیقین کے درجے میں اس لحاظ سے ہے کہ یہ معاملہ خود عزیر (علیہ السلام) کے ساتھ پیش آیا ، وہ خود سو سال تک موت کی آغوش میں رہے اور پھر زندہ ہوگئے ۔ جہاں تک پہلے درجے علم الیقین کا معلق ہے تو حضرت عزیر (علیہ السلام) کو بھی حاصل تھا ، کیونکہ آپ اللہ کے نبی اور برگزیدہ مومن تھے اور آپ کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور قیامت کے دن دوبارہ جی اٹھنے پر علمی لحاظ سے بھی یقین تھا۔ اگلی آیت میں بھی اسی قسم کا واقعہ ہے ، وہاں بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا اظہار اور علم الیقین سے عین الیقین اور حق الیقین تک کا مشاہدہ ہے۔
Ayah 2:260تمہید
توحید باری تعالیٰ ، اس کی کمال قدرت اور بعثت بعد الموت کے متعلق اس رکوع میں دو واقعات آچکے ہیں ، گزشتہ سے پیوستہ درس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور نمرود کے مناظرے کی تفصیلات بیان ہوئی تھیں اور گزشتہ درس میں حضرت عزیر (علیہ السلام) کا واقعہ آیا تھا جس میں انہوں نے موت وحیات کے منظر کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر کے اطمینان قلب حاصل کیا ۔ آج کے درس میں اسی قسم کا تیسرا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ اس میں بھی بعث بعد الموت کا بیان ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خو د اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ انہیں مردوں کے زندہ ہونے کا مشاہدہ کرایا جائے تا کہ ان کا ایمان عین الیقین کے درجے تک پہنچ جائے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور حکم دیا کہ چار پرندے لے کر ذبح کرو ، ان کے گوشت آپس میں ملا دو ، پھر ان کے تھوڑے تھوڑے حصے مختلف پہاڑوں پر رکھ دو ، اس کے بعد ہر ایک پرندے کو اس کا نام لے کر بلائو ، وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آئیں گے ۔ اسی طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی آنکھوں سے مردہ پرندوں کو زندہ ہوتے ہوئے دیکھ کر اطمینان قلب حاصل کیا ۔
پس منظر
بعض مفسرین کرام حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اللہ تعالیٰ سے اس سوال کے پس منظر میں یہ بات بیان کرتے ہیں کہ موت اور زندگی سے متعلق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا نمرود کے ساتھ مکالمہ ہوچکا تھا۔ جس میں آپ نے دعویٰ کیا تھا کہ زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے۔ مگر نمرود اس کا مطلب نہ سمجھ سکا اور اس نے بےگناہ کو قتل کرادیا اور مجرم کو آزاد کردیا چناچہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کی اس احمقانہ حرکت پر موضوع سخن بدل کر طلوع شمس کی دلیل پیش کردی جس سے نمرود عاجز آ گیا تو مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اگرچہ ابراہیم (علیہ السلام) کو پورا پورا یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔ مگر ان کے دل میں موت وحیات کا منظر اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر نیکی خواہش پید اہوئی ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دکھا دیا کہ کس طرح پرندے زندہ ہوگئے۔ بعض دوسرے مفسرین اس پس منظر میں یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دریا کے کنارے پر ایک مردہ جانور پڑا دیکھا ۔ جب دریا میں مد آتی اور پانی کناروں سے باہر نکلتا تو دریائی جانور مر دہ جانور کا گوشت کھاتے اور جب پانی پیچھے ہٹ جاتا تو خشکی کے جانور اس مردار کا گوشت کھاتے اور اوپر سے پرندے بھی آ کر گوشت کھا جاتے ، یہ دیکھ کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دل میں خیال پیدا ہوا کہ اس مردار کا گوشت خشکی ، پانی اور فضا کے جانور کھا رہے ہیں ، یہ گوشت کتنے مختلف پیٹوں میں جا رہا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے مختلف اجزاء کس کس جگہ سے کیسے اکٹھے کر کے اس کو دوبارہ زندہ کریگا ۔ لہٰذا ان کی خواہش پیدا ہوئی کہ اللہ تعالیٰ انہیں وہ کیفیت مشاہدہ کرا دے جس طرح وہ قیامت کے دن لوگوں کو دوبارہ زندہ کریگا ۔ چناچہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کیا ۔ واذقال ابراہیم رب ارنی کیف تحی الموتی اے مولا کریم ! مجھے دکھا دے تو مردوں کو کیسے زندہ کریگا ، اللہ تعالیٰ نے جواب دیا قال اولم تو من کیا تمہیں یقین نہیں ہے۔ مطلب یہ کہ کیا تمہیں اس معاملے میں کوئی شک ہے۔ قال بلی ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کیوں نہیں ، میں یقین رکھتا ہوں ، مگر سوال کرنے کا مقصد یہ ہے ۔ ولکن لیطمن قلبی کہ میں اس معاملے میں اطمینا ن قلب چاہتا ہوں ۔
انبیاء شک سے پاک ہیں
اس مقام پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ابراہیم (علیہ السلام) کا اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کسی شک کی بناء پر تھا کہ واقعی کوئی شخص مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے یا نہیں ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ایسا ہرگز نہیں تھا۔ اس معاملہ میں تو کسی عام مومن کو بھی شک نہیں ہو سکتا ۔ ابراہیم (علیہ السلام) تو اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر تھے انہیں یہ شک کیسے ہو سکتا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا اولم تو من تو یقین نہیں رکھتا کہ مردے دوبارہ زندہ ہوجائیں گے ۔ تو ابراہیم (علیہ السلام) کا جواب تھا بلیٰ کیوں نہیں زندہ ہو سکتے ؟ اے اللہ کریم ! مجھے تو یقین کامل ہے ، مگر میں محض تسکین قلب کے لیے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنا چاہتا ہوں ۔ لہٰذا وہاں پر شک کا کوئی احتمال نہیں تھا۔ صحیحین کی روایت میں آتا ہے حضور ﷺ ے فرمایا ۔ نحن احق بالشک من ابراہیم یعنی اگر ابراہیم (علیہ السلام) کو کسی قسم کا شک یا تردد ہوتا تو ہم ان کی نسبت شک کرنے کے زیادہ حق دار ہیں ۔ مگر ایسا نہیں ہے نہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کبھی شک ہوا اور نہ میں نے کبھی اللہ تعالیٰ کی قدرت میں شک کیا ہے ۔ انبیاء ہمیشہ شک سے پاک ہوتے ہیں ۔
اطمینان قلب کے لیے کسی چیز کا مطالبہ کرنا کمال یقین کے منافی نہیں ہے۔ کیونکہ تسکین قلب ایمان سے زائد چیز ہے ۔ سورة فتح میں حدیبیہ کے واقعہ سے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جب صحابہ کرام ؓ درخت کے نیچے بیٹھ کر حضور ﷺ کے دست مبارک پر بیعت رضوان کر رہے تھے تو اللہ تعالیٰ ۔۔۔ انکے دلوں کی بات کو جانتا تھا فانزل السکینہ علیھم اور ان پر تسکین نازل فرمائی ۔ نبی کریم اور تمام صحابہ کرام ؓ کو تسکین قلب حاصل ہوگئی ۔ بعض دوسرے مواقع پر بھی اس قسم کے ارشادات ملتے ہیں ۔ تو بہر حال نبی کریم ﷺ نے بھی یہی بات سمجھائی کہ مردوں کو زندہ کرنے یا اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کسی بھی معاملے میں کسی نبی کو شک نہیں ہو سکتا ۔ جب میں کسی معاملہ میں شک نہیں کرتا تو ابراہیم (علیہ السلام) کیسے شک کرسکتے تھے۔
حضر ت علی ؓ کا مقولہ ہے لو کشف الغطاء مازودت یقینا یعنی اگر غیب کا پردہ بھی کھول دیا جائے۔ تو میرے یقین میں اضافہ نہیں ہوگا ۔ اس قول سے بعض لوگوں نے یہ اخذ کیا ہے کہ حضرت علی ؓ ۔۔۔۔۔ کا علم الیقین اتناپختہ ہے کہ عین الیقین سے ان کے ایمان میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا ۔ بر خلاف اس کے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اطمینان قلب کے لیے خود عین الیقین کا مطالبہ کر رہے ہیں لہٰذا بقول ان کے اس سے حضرت علی ؓ کی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر فضلیت ثابت ہوتی ہے۔ بھائی ! یہ بات نہیں ہے ۔ حضرت علی ؓ تو اولیاء الہ میں سے ہیں جب کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ ہیں ۔ ان کے مراتب میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ مفسر قرآن مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ ایک ولی کا عین الیقین بھی نبی کے علم الیقین تک نہیں پہنچ سکتا ، نبی کا اصل یقین ہی اتنا بلند ہے کہ ولی کی وہاں تک رسائی نہیں ۔ چہ جائیکہ بنی کے طمانیت قلب والے یقین تک پہنچ جائے وہ تو اور بھی بلند ہوتا ہے ، لہٰذا ولی کی نبی پر فضلیت تو کجا ، وہ تو انبیاء کی گرد تک کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔ حضرت علی ؓ کا مطلب یہ ہے کہ ایمان کی حد تک ان کا یقین اتنا پختہ ہے کہ اس میں مزید اضافے کی گنجائش نہیں اگرچہ درمیان سے غیب کا پردہ بھی اٹھ جائے آپ نے اطمینان قلب کی بات نہیں کی ۔ یقین اور طمانیت قلب دو علیحدہ چیزیں ہیں ۔ اسی لیے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی فرمایا تھا کہ مولا کریم ! تیری قدرت پر مجھے پورا پورا یقین ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ، مگر میں دلی اطمینان چاہتا ہوں جو کہ اس سے اگلا درجہ ہے ، مجھے میری آنکھوں سے مشاہدہ کرا دے کہ مردے کس طرح زندہ ہوتے ہیں۔
چار پرندے
قال اللہ تعالیٰ نے فرمایا فخذاربعۃ من الطیر چار پرندے پکڑ لو ۔ فصر ھن الیک انکو مانوس کرلو ، اپنی طرف مائل کرلو ۔ بعض اسے ص کی زیر کے ساتھ فصر ھن پڑھتے ہیں ۔ صار یصیر کا معنی ٹکڑے ٹکڑے کرنا بھی ہوتا ہے اس لحاظ سے معنی یہ ہوگا کہ چار پر دنے لو اور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دو ۔ بہر حال یہ لفظ دونوں معنوں میں آتا ہے ۔ اپنے ساتھ ماوس کرلو ، یا ذبح کر کے بوٹی بوٹی کر دو ۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ پرندوں کو محض مانوس کیا گیا تھا ، ذبح نہیں کیا گیا تھا ۔ مگر یہ تفسیر مردو د ہے اصل بات یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے ان پر ندوں کو ذبح کیا ، ا کے پر اتار دیے اور ان کا گوشت ٹکڑے ٹکڑے کر کے آپس میں ملا دیا ۔ خلط ملط کردیا ، جیسے گوشت کا قیمہ کیا جاتا ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ وہ چار جانور کون کون سے تھے۔ قرآن پاک میں تو اسکی تفصیل نہیں ہے ۔ البتہ تفسیروں میں آتا ہے کہ یہ چار جانور ، مرغ ، کوا ، کبوتر اور امور تھے۔ اور ان پردوں کا انتخاب اس وجہ سے تھا کہ ان میں کوئی نہ کوئی انسانی صفت پائی جاتی ہے مثلاً مرغ میں شہوت کا مادہ زیادہ پایا جاتا ہے اور یہی چیز انسان میں بد درجہ اتم موجود ہے۔ اسی وجہ سے بڑے ہنگامے ، جنگیں اور پھر تباہی ہوتی ہے کوے میں حرص کا مادہ بہت زیادہ ہوتا ہے اور بعض انسان بھی حرص و ہوا میں بہت آگے ہوتے ہیں ۔ کبوتر میں دنیا کی محبت بیحد ہوتی ہے اور بعض دنیا دار انسان بھی اسی مرض میں مبتلا ہوتے تھے ، چوتھا جانور مور ہے اس میں تکبر کی فروانی ہوتی ہے جب خوش ہوتا ہے تو ناچنے لگتا ہے اور اپنے خوبصورت پر پھیلا دیتا ہے۔ اسے اپنے حس و جمال پر بڑا فخر ہے مگر جب اپنے پائوں کی طرف دیکھتا ہے تو شرمسارہو جاتا ہی اور پر گرا دیتا ہے۔ یہی حال حضرت انسان کا بھی ہے ذرا آسودگی ملتی ہے تو غرورو تکبر کرتا ہے ۔ بات بات پر اکڑنا شروع کردیتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کی پکڑآتی ہے تو ہتھیار ڈال دیتا ہے ۔ بعض لوگوں نے کوے کی جگہ گدھ کا ذکر کیا ہے وہ بھی کھانے کا بڑا لالچی ہوتا ہے۔ جب کہ اکثر انسان بھی کھانے پینے کو ہی زندگی سمجھتے ہیں ۔ انسان میں پائے جانے والے ان چار اوصاف یعنی حرص ، شہوت ، حب دنیا اور تکبر کے علاوہ ہر انسان کے بعض اپنے اپنے خواص بھی ہیں۔ جن میں خون ، سودا ، بلغم اور صفرا شامل ہیں ۔ بہر حال ان چار اوصاف والے پرندوں کے انتخاب سے یہ با ت بھی سمجھ میں آتی ہے کہ ان کو ذبح کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان بھی اگر ان اوصاف فبیحہ کو کچل ڈالے تو کمال تک پہنچ جائے گا ، جب تک یہ گندے اوصاف انسان میں موجود رہیں ، وہ کامیابی کی منزل سے ہم کنار نہیں ہو سکتا۔
پرندوں کی موت و حیات
بہر حال قرآن پاک یا حضور ﷺ نے ان پرندوں کی تفصیل نہیں بتائی۔ اس قسم کی باتیں تفسیری روایات میں آتی ہیں۔ اس قسم کی باتیں تفسیری روایات میں آتی ہیں۔ اس قسم کی حکمت کی باتیں مفسرین کرام سمجھا دیتے ہیں ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق چاروں پرندوں کو ذبح کیا ۔ ان کے پر علیحدہ کردیئے۔ پھر ان کے گوشت کا قیمہ کر کے آپس میں ملا دیا ۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ثم اجعل علی کل جبل منھن جزء پھر ہر پہاڑ پر اس ملے جلے گوشت کا ایک جزو رکھ دو ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ے تعمیل حکم کیا ، اس قیمہ کے چار حصے کیے اور چار مختلف پہاڑوں پر رکھ دیے۔ پھر ارشاد ہوا ثم ادعھ پھر انہیں بلائو تفسیری روایات میں آتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے باری باری ہر ایک پردے کا نام لے کر بلایا اور پھر اس کا نتیجہ یہ ہوگا ۔ یاتیک سعیا ً تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آئیں گے چناچہ ایسا ہی ہوا۔ جب آپ نے مرغ کو آواز دی تو فضا میں اس کی ہڈیاں نمودار ہوئیں پھر اس کے گوشت کا جو حصہ جس جس پہا ڑ پر تھا ۔ وہاں سے فوراً آیا اور ہڈیوں پر چڑھ گیا ۔ پھر مرغ کے پر آ کر لگ گئے اور مکمل مرغ بن کر زندہ ہوگیا ۔ اس طرح دوسرے پردے بھی زندہ سلامت ہوگئے۔ جس طرح عزیر (علیہ السلام) کے گدھے کی ہڈیاں اکٹھی ہوئیں ان پر گوشت چڑھا اور پھر وہ مکمل گدھا بن کر آواز دیے لگا اسی طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نظروں کے سامے ذبح شدہ پرندے دوبارہ زندہ ہوگئے اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے دکھا دیا کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کریگا ۔ یہ جواب تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس سوال کا رب اری کیفی تحی الموتی کہ مولا کریم ! مجھے مشاہدہ کرا دے کہ تو کس طرح مردوں کو زدہ کرتا ہے۔
کمال قدرت کا مشاہدہ
زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت کا ایک نمونہ ہے اس قسم کے بیشمار مشاہدات انسان اپنی روزمرہ زندگی میں کرتا ہے۔ انسان کی آنکھوں کے سامنے بالکل خشک ہوجاتی ہے۔ کوئی سبزہ نہیں ہوتا ، پھر بارش ہوتی ہے ، تو پھر سر سبز ہوجاتی ہے ، گویا اللہ تعالیٰ یحییٰ الارض بعد موتھا مردہ زمین کو دوبارہ زندہ کردیتا ہے۔ فرمایا کذلک یحییٰ اللہ الموتی اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کردیگا یہ کوئی عجوبہ نہیں جس کا انکار کردیا جائے ۔ اس قسم کی چیزیں تو ہم ہر روز اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ۔ ہر موسم کی اپنی بہار ہوتی ہے ، کبھی درخت اور نباتات اپنے جوبن پر ہوتے ہیں ، پھر خزاں کا موسم آتا ہے تو درختوں کے پتے گر جاتے ہیں اور درخت ٹنڈ منڈہو جاتے ہیں ۔ پھر جب بہار کا موسم آتا ہے تو نئے شگوفے پھوٹتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے درخت ہرے بھرے ہوجاتے ہیں ، ان میں پھل لگتے ہیں ۔ پکتے ہیں اور پھر لوگ انہیں اتار لیتے ہیں ۔ یہی حال سبزیوں اور فصلوں کا ہے جب موسم آتا ہے تو کسان زمین کو پانی دیتا ہے یا آسمان سے بارش برستی ہے پھر زمین میں ہل چلایا جاتا ہے بیج بویا جاتا ہے پھر فصل اور سبزیاں اگتی ہیں اور جب پک کر تیار ہوجاتی ہیں تو انہیں کاٹ لیا جاتا ہے اور زمین پھر ایک دفعہ ویران ہوجاتی ہے۔ بنی اسرائیل کے ایک مردہ کے زندہ ہونے کا واقعہ گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ گائے ذبح کرو اور اس کے گوشت کا ایک ٹکڑا اس مردہ کو لگائو تو وہ زندہ ہوجائے گا ۔ وہاں پر بھی یہی الفاظ آئے تھے ” کذلک یحییٰ اللہ الموتی “ اللہ تعالیٰ اسی طرح مردوں کو زندہ کرتا ہے۔ یہاں پر بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی آنکھوں کے سامے ذبح شدہ پرندوں کو زندہ کیا ۔ مطلب یہی تھا کہ اللہ تعالیٰ کمال قدرت کا مالک ہے جب اس کا حکم ہوگا ۔ قیامت برپا ہوگی ۔ تو تمام مردے دوبارہ زندہ ہوجائیں گے ۔ فرمایا واعلم اور جا لو ، خوب اچھی طرح سمجھ لو ، ان اللہ عزیز حکیم کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب ہے ۔ جس طرح چاہے کرے ، اس کے کام میں کوئی رکاوٹ ہیں ڈال سکتا ، وہ حکیم ہے ، اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ۔ وہ کمال درجہ کی حکمت کا مالک ہے عزیز کا مالک عزت والا بھی ہوتا ہے یہ خدا کی صفت ہے ، وہ عزت کا مالک بھی ہے۔
معجزہ اور کرامت
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور کمال قدرت کے تین واقعات آ چکے ہیں ۔ خصوصاًبعث بعد الموت کے متعلق حضرت عزیر (علیہ السلام) کا واقعہ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ پرندوں والا واقعہ بالکل واضح ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ اس قسم کا جو عجوبہ ظاہر کرتا ہے ، اسے معجزہ کہتے ہیں ۔ قرآن پاک اور احادیث میں بیشمار معجزات کا تذکرہ موجود ہے ۔ اگر اس قسم کے واقعات کسی امتی کے ہاتھ پر ظاہر ہوں تو وہ کرامت کہلاتے ہیں ۔ قادری سلسلہ کے بزرگوں میں سے یہاں پنجاب میں ایک بزرگ شیخ عبد القادر جیلانی (رح) کی اولاد میں سے تھے ان کے لیے ثابت ہے کہ انہوں نے اللہ کے حکم سے مردہ کو زندہ کیا تھا۔ لکھنؤ میں ایک مردہ کو دوبارہ زندہ کیا گیا۔ لوگوں نے یہ کرامت بھی دیکھی۔ شاہ ولی اللہ دہلوی (رح) کے چچا کے سامنے بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا انہوں نے بھی مردہ کو زندہ کیا تھا الغرض ! اس قسم کے واقعات کرامت کہلاتے ہیں۔ یہ بات اچھی طرح ذہن نشی کر لینی چاہیے کہ معجزہ یا کرامت اللہ تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے ۔ ایسا کام انسان کے اختیار میں ہیں ہے۔ وما کان لرسول ان یاتی بایۃ الا باذن اللہ کسی نبی کے اختیار میں بھی ہیں ، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایسا کرسکتا ہے لہٰذا معجزات اور کرامات کے جو سچے واقعات ہیں ۔ انہیں تسلیم کرنا چاہئے ، مگر بلا تحقیق ہر بےسروپا کو کرامت تسلیم کرنا درست نہیں ہے ۔ شیخ عبد القادر جیلانی (رح) کے ہاتھ پر بہت سی کرامات ظاہر ہوئیں جن کا ثبوت ملتا ہے مگر بارہ سال تک کشتی ڈبوین والے واقعہ کی کوئی اصل نہیں ہے ، لہٰذا یہ قابل تسلیم ہر گز نہیں۔ معجزہ اور کرامت کے علاوہ ایک اور چیز ہے ، جسے استدراج کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو کسی کافر کے ہاتھ میں بھی کوئی عجوبہ ظاہر کر دے ، مگر یہ عزت والی بات نہیں ہوتی بلکہ یہ امتحان ہوتا ہے ، جس طرح حدیث شریف میں موجود ہے کہ دجال مردوں کو زندہ کریگا یہ کرامت نہیں بلکہ استدراج ہوگا ۔
توحید باری تعالیٰ اور معاد کے متعلق تین واقعات بیان کرنے کے بعد روئے سخن پھر انفاق فی سبیل اللہ کی طرف جاتا ہے اگلی آیا ت کا تعلق پھر اسی پہلی افقوا مما رزقنکم کے ساتھ ہے ، لہٰذا اگلے رکوع کا موضوع پھر وہیں سے چلے گا ، جہاں پچھلا بیان ختم ہوا تھا ، درمیان میں اس کی تائید کے لیے تین واقعات کا ذکر آ گیا ہے۔
Ayahs 2:261–263ربط آیات انفاق فی سبیل اللہ
آیت الکرسی میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا بیان تھا ، جو دین کا اصل الاصول اور بنیاد ہے اس آیت میں اللہ کی صفات کا ذکر بھی آ چکا ہے۔ گزشتہ رکوع کی تین آیات میں تین واقعات بیان ہوئے ہیں ، جن کو جان لینے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ہدایت اور گمراہی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے ۔ وہ جسے چاہے ہدایت سے نوازتا ہے اور جسے چاہے اس سے محروم رکھتا ہے ، زندگی اور موت بھی اللہ جل جلالہٗ کے دست قدرت میں ہے کسی اور کے اختیار میں نہیں ۔ اس سے پہلے بنی اسرائیل کے جہاد کا واقعہ بھی بیان ہوا کہ کس طرح ان لوگوں نے جہاد سے گریز کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں سزا میں مبتلا کردیا اللہ تعالیٰ نے انہیں واضح ہدایات دیں کہ جان و مال کی قربانی سے دریغ نہ کرو ۔ اہل ایمان سے یہ بھی فرمایا انفقوا مما رزقنکم ہم نے جو تم کو رزق دیا ہے ۔ اس میں سے خرچ کرو ، درمیان میں مذکورہ بالا بیانات کے بعد روئے سخن پھر انفاق فی سبیل اللہ کی طرف ہے۔ ان آیات میں اللہ کے راستے میں خرچ کر نیکی فضلیت کا بیان ہے اور ان شرائط کا ذکر ہے جن کی بناء پر خرچ کیا ہوا مال اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوتا ہے۔ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے سات باتیں بیان کی ہیں ، ان میں دو باتوں کا ذکر آج کے درس میں ہے اور باقی پانچ اگلی آیات میں آئیں گی۔
اجر وثواب کے درجات
پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے صدقہ کی فضلیت بیان فرمائی ہے اور اس کے بدلے میں ملنے والے اجر کا نقشہ کھینچا ہے۔ نیکی کے ہر کام میں خرچ کرنا انفاق فی سبیل اللہ کہلاتا ہے تا ہم جہاد کی خاطر خرچ کرنا اس کی خصوصی مد ہے ، کیونکہ جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے دین کو غلبہ حاصل ہوتا ہے۔ جس سے دین کی اشاعت میں مدد ملتی ہے۔ دینی تعلیم کا فروغ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ اس کے علاوہ غرباء و مسکین کی اعانت ، بیوگان اور یتامی ٰ کی حاجت روائی انفاق فی سبیل اللہ کا اہم جزو ہے۔ اس قسم کے تمام اخراجات کی فضلیت اور اجر وثواب کو اللہ تعالیٰ نے ایک مثال کے ذریعے سمجھایا ہے ، چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ مثل الذین ینفقون اموالھم فی سبیل اللہ کمثل حبۃ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کے مال کی مثال اس دانے جیسی ہے انبتت سبع سنابل جو سات خوشے اگاتا ہے ۔ فی کل سنبلۃ مائۃ حبۃ اور ہر خوشے میں سودا نے پیدا ہوتے ہیں ۔ جس طرح زرخیز زمین میں ایک دانہ بویا جائے اور اس کی مناسب دیکھ بھال اور آبیاری کی جائے تو اس سے سات سو دانے پیدا ہوتے ہیں ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ ہونے ولے ایک پیسہ کا اجر وثواب سات سو گناہ حاصل ہوتا ہے۔ قرآن و سنت میں ہر نیکی کے اجر وثواب کے کئی معیار ہیں جن کا ذکر آتا ہے سورة الانعام میں آتا ہے ۔ من جاء بالحسۃ فلہ عشرا مثالھا ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ہے جب کہ حدیث میں سات سو گنا تک بیان کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ نیکی کے کام میں جس قدر اخلاص پایا جاتا ہے اس کے مطابق اس نیکی کا اجر وثواب حاصل ہوتا ہے ، تا ہم سورة انعام کی آیت پاک کے مطابق ہر نیکی کا کم از کم اجر دس گنا ہے ۔ اس کے بعد جس قدر اخلاص بڑھتا جائیگا ۔ ثواب میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے حتیٰ کہ اعلیٰ درجہ کے اخلاص پر سات سو گنا تک اجر حاصل ہوگا ، تا ہم مفسرین کرام بیا ن فرماتے ہیں کہ جہاد فی سبیل اللہ جس کے ساتھ دین کی اقامت اور اشاعت وابستہ ہے ، اس سلسلہ میں کی گئی ادنیٰ یا ادنیٰ درجہ کی نیکی کا ثواب سات سو گنا سے شروع ہوتا ہے اور پھر جس قدر خلوص بڑھتا جاتا ہے اسی قدر اجر وثواب بھی بڑھتا جاتا ہے۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ کسی جہاد کے موقع پر ایک شخص نے حضور ﷺ کی خدمت میں ایک اونٹنی پیش کی جس کی مہارلگی ہوئی تھی اور اس پر کجادہ کسا ہوا تھا آپ بہت خوش ہوئے اور فرمایا ، تم نے بہت اچھا کیا ۔ اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت والے دن ایسی کسے ہوئے کجاوے والی سات سو اونٹنیاں عنایت کرے گا ۔ گویا جہاد میں خرچ کیے جاے والے مال کا کم از کم اجر سات سو گنا سے شروع ہوتا ہے کیوکنہ دین کی عزت اور بقاء جہاد کی وجہ سے ہے اور اعلیٰ درجہ کی کوئی انتہا نہیں ہے اللہ تعالیٰ جتنا چاہے ۔ بڑھا چڑھا کر دے دے وہ مالک ہے ۔ اسی لیے فرمایا واللہ یضعف لم یشاء اللہ تعالیٰ بڑھاتا ہے جسکے لیے چاہے واللہ واسع علیم اللہ تعالیٰ بڑ ی وسعت والا ہے اور سب کچھ جاننے والا ہے ۔ گویا اللہ تعالیٰ نے صدقہ کی فضلیت کے متعلق دو باتیں بیان فرما دیں ، پہلی یہ کہ عام نیکی کا بدلہ دس گنا ہ سے لے کر سات سو گنا تک ہے اور جہاد فی سبیل اللہ میں حصہ لینے کا حکم کم از کم سات سو گنا اور زیاد سے زیادہ کوئی حد نہیں۔
معیار قبولیت
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں خرچ کیے جانے والے مال کی قبولیت کا ایک معیار مقرر کیا ہے اور وہ ہے کہ صدقہ محض رضا الٰہی کے لیے ہو اور وصول کنندہ کو نہ تو احسان جتلایا جائے اور نہ اسے صدقہ کے بدلے اذیت دی جائے ، چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ الذین ینفقون اموالھم فی سبیل اللہ وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔ ثم لا یتبعون ما انفقوا منا ولا اذی پھر اس خرچ کرنے کے پیچھے احسان اور اذیت نہیں لگاتے یعنی وہ کوئی چیز دے کر مستحق کو نہ احسان جتلاتے ہیں کہ میں نے تیری فلاں وقت حاجت پوری کی اور نہ اسکو اذیت پہنچاتے ہیں یعنی ستاتے نہیں ۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ غریب آدمی کو صدقہ دیا اور پھر اسے بار بار یاد دلاتے رہے یا دوسروں کے سامنے بیان کرتے پھرتے ہیں کہ میں نے فلاں آدمی کو زکوٰۃ و خیرات دی ہے یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جس محتاج کو کوئی چیز عطا کی ہے ۔ اس کے بدلے میں اس سے بیگار لی جائے ، جو ظاہر ہے کہ اسے تنگ کرنے اور ستانے کے مترادف ہوگا کسی کو دھکا دے دیا جائے۔ پٹائی کردی جائے ، گالی نکالی جائے یا طعن و ملامت کی جائے ، یہ سب ایذا رسانی کی باتیں ہیں ۔ فرمایا وہ لوگ جو خرچ کرنے کے بعد ایسی بری حرکات سے باز رہتے ہیں ۔ لھم لجرھم عند ربھم ایسے ہی لوگوں کے لیے ان کے رب کے ہاں اجر ہے جو انہیں کئی گنا بڑھا چڑھا کردیا جائے گا ۔ ولا خوف علیھم ولا ھم یحزنون ایسے لوگوں کو نہ اس دنیا میں کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ اگلے جہاں میں غمگین ہونگے بلکہ ان کی دنیا و آخرت ہر دو مقامات سنور جائیں گے اور وہ کامیاب و کامران ہونگے۔ بر خلاف اس کے اگر کسی شخص نے کسی محتاج کی مالی اعانت بھی کی ، اور اس کو احسان جتلایا اذیت پہنچائی ، تو اس کا صدقہ باطل ہوگا ۔ اور اس کے بدلے میں کوئی اجر وثواب بھی حاصل نہیں ہوگا ۔ بلکہ وہ الٹا معصیت میں مبتلا ہو کر عذاب کا مستحق ہوجائیگا ۔ حضور خاتم النبیین ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ قیامت کے د ن اللہ تعالیٰ احسان جتلانے والے شخص کی طرف نظر شفقت سے دیکھنا بھی پسند نہیں کریگا ۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو پاک بھی نہیں فرمائے گا۔ بلکہ ان کے لیے عذاب الیم تیار ہوگا ۔ اس حدیث میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جو شخص اپنا تہبند یا شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکاتا ہے ۔ اس کی طرف نظر شفقت سے نہیں دیکھے گا اور وہ جہنم میں جائیگا ۔ حدیث کے الفاظ میں اسفل من الکعبین ففی النار بھی آیا ہے ۔ ٹخنوں سے نیچے پاجامہ لٹکانا مکروہ تحریمی اور قابل مواخذہ ہے ۔ بہر حال صدقہ کے متعلق دو چیزوں کی سخت وعید فرمائی کہ صدقہ دینے والے نہ تو احسان جتلائے اور نہ تکلیف دے ۔ اگر ایسا کرے گا تو نہ صرف اس کا صدقہ باطل ہوجائے گا بلکہ خود معطلی گناہ گار ہوگا اور عذاب کا مستحق ٹھہرے گا ۔
مسائل کے ساتھ نرم رویہ
بعض اوقات سائل لجاجت کرتا ہے۔ منت سماجت کرتا ہے اور اپنے سوال پر اصرار کرتا ہے۔ اس صورت میں فرمایا قول معروف دستور کے مطابق نرم جواب دینا و مغفرۃ اور در گزر کرنا ، اس کے اصرار پر بد زبانی سے پرہیز کرنا خیر من صدقۃ یتبعھا اذی اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد اذیت پہنچائی جائے ۔ مطلب یہ کہ سائل کے بضد ہونے پر اسے نرمی کے ساتھ جواب دے دیا جائے تو بہتر ہے۔ بجائے اس کے کہ اسے کچھ دے بھی دیا جائے اور ساتھ طعن تشنیع اور گالی بھی دے دی جائے یا اسے دھکے دیکر نکال دیا جائے ایسا کرنے سے صدقہ باطل ہوجائے گا لہٰذا ایسی باتوں سے پرہیز کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کرتے وقت یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے صدقات و خیرات کی ضرورت ہے ، نہیں بلکہ واللہ غنی اللہ تعالیٰ تو ایسی چیزوں سے بےنیاز ہے۔ صدقہ دینے سے انسان کا اپنا ہی فائدہ ہے اسے تقرب الیٰ اللہ حاصل ہوگا ۔ اس کا نفس پاک ہوجائے گا ۔ اللہ تعالیٰ حلیم بھی ہے ۔ بڑا برد باد ہے ، اکثر اوقات مجرموں کو مہلت دیتا ہے۔ بہت سے لوگ اللہ کی اس مہلت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر برے کاموں میں لگ جاتے ہیں ۔ مگر انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ وقت مقرر پر گرفت بھی کرلیتا ہے۔