2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 2:127–128

وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُ١ؕ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 2:127 in the Quran reader

اور اس وقت کو یاد کرو جب ابراہیم اور اسمعیل (علیہما السلام) بیت اللہ شریف کی بنیادیں اٹھا رہے تھے ، اور دونوں کہتے تھے اے ہمارے پروردگار ! ہم سے قبول فرما بیشک تو سننے والا اور جاننے والا ہے ۔

رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ١۪ وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَ تُبْ عَلَیْنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:128 in the Quran reader

اے پروردگار ! بنا دے ہم دونوں کو اپنی فرمانبرداری کرنے والے ، اور بنا دے ہماری اولاد میں سے بھی ایک اپنی فرمانبردار امت ، اور بتلا ہم کو ہمارے احکام ، اور ہمارے اوپر رجوع فرما مہربانی کے ساتھ بیشک تو ہی رجوع فرمانے والا اور از حد مہربان ہے ۔

ربط آیات : اس آیت کا تعلق سابقہ درس کی آیت مبارکہ (آیت) ” واذ جعلنا البیت مثابۃ للناس “۔ کے ساتھ ہے وہاں پر تھا کہ اس بات کو یاد کرو جب ہم نے بیت اللہ شریف کو لوگوں کے رجوع کی جگہ مرکز ہدایت اور جائے امن بنایا اس کے ساتھ مقام ابراہیم کا ذکر ہوا ، بیت اللہ شریف کو پاک وصاف رکھنے کا حکم ہوا ، وہاں پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر بھی تھا جس میں اہالیان شہر مکہ کے لیے پھلوں کی روزی طلب کی گئی تھی ، اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو شرف قبولیت بخشا جسے ہر شخص اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے ۔ (تاریخ کعبہ) آیت زیر درس میں بیت اللہ شریف کی تعمیر کا ذکر ہے یہ بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے فضائل میں سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ شریف کی تعمیر آپ کے ہاتھوں سے کرائی چناچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے (آیت) ” واذ یرفع ابرھیم القواعد من البیت واسمعیل “۔ وہ کتنی مبارک گھڑی تھی جب ابراہیم اور اسمعیل (علیہما السلام) یعنی باپ بیٹا اپنے مبارک ہاتھوں سے بیت اللہ شریف کی بنیادیں اٹھا رہے تھے ، بعض دوسری احادیث میں آتا ہے (1) (تفسیر ابن کثیر ص 383 ج 1) کہ بیت اللہ شریف کی ابتدائی تعمیر حضرت آدم (علیہ السلام) نے کی تھی ، حضرت ابوذر غفاری ؓ کی روایت میں آتا ہے (2) (مسند احمد ص 151 ج 5) کہ حضور ﷺ سے دریافت کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ زمین پر اللہ تعالیٰ کے اولین گھر کی تعمیر کا ذکر آیت پاک (آیت) ” ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبرکا “۔ میں آیا ہے اس آیت میں لفظ بکہ استعمال ہوا ہے مگر بکہ اور مکہ ہم معنی الفاظ ہیں ۔ توراۃ میں بکہ کا ذکر بھی آتا ہے ، اسے ام القری بھی کہتے ہیں گویا دنیا میں اللہ تعالیٰ کا سب سے پہلے تعمیر ہونے والا گھر بیت اللہ شریف ہے ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا حضور ﷺ اس کے بعد کون سا گھر تعمیر ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا بیت المقدس ، نیز یہ بھی ارشاد فرمایا کہ بیت اللہ اور بیت المقدس کی تع میرات میں چالیس (40) سال کا وقفہ ہے یہاں پر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت داود (علیہ السلام) کے زمانہ میں تو بہت زیادہ فرق ہے پھر دونوں گھروں کی تعمیر میں صرف چالیس (40) سال کے واقفہ کا کیا مطلب ؟ مفسرین کرام فرماتے ہیں (3) (معالم التنزیل ص 51 ، ج 3 ، تفسیر طبری ص 546 ج 1) کہ اس تعمیر سے مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت داؤد (علیہما السلام) والی تع میرات مراد نہیں بلکہ ان دونوں گھروں کی اولین تع میرات مراد ہیں جو حضرت آدم (علیہ السلام) کے ہاتھوں انجام پائیں ، اس کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے کا طوفان آیا ، اس کے علاوہ اور بھی کئی سیلاب آئے جن میں بیت اللہ شریف کی عمارت بہ گئی ، اور وہاں پر صرف ایک ٹیلہ سا باقی رہ گیا ، عمارت منہدم ہوگئی ، پھر جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا دور آیا ، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کی دوبارہ تعمیر کا حکم دیا ۔ قرآن پاک کے لفظ ” قواعد “ سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ اس عمارت کی اولین تعمیر نہیں تھی بلکہ یہ عمارت اپنی اصل بنیادوں پر دوبارہ اٹھائی جارہی تھی ، چونکہ اس وقت عمارت کے کوئی نشانات باقی نہ تھے صرف ایک ٹیلہ سا باقی تھا ، تو عمارت کی اصل بنیادوں کی نشاندھی کے لیے اللہ تعالیٰ نے بادل کا ایک ٹکڑا بھیجا جس نے اس اصل جگہ پر سایہ کر کے اس کا تعین کردیا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ بیت اللہ شریف کا اصل مقام یہ ہے چناچہ آپ نے اسی جگہ پر دو بار تعمیر شروع کی اس وقت حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کی عمر مبارک چودہ سال کی تھی ۔ (خبر گیری کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی آمد ورفت) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت سارہ ؓ شام وفسلطین میں تھے جب کہ حضرت ہاجرہ ؓ اور اسمعیل (علیہ السلام) حجاز میں تھے آپ ایک سال یا دو سال میں ایک مرتبہ آکر بیوی بچے کی خبرگیری کرتے ، تاہم آپ کی بیوی سارہ ؓ کی یہ شرط تھی کہ آپ بیوی بچے کی خبرگیری کے لیے قلیل وقت کے لیے جاسکتے ہیں ، ان کے پاس رات کو ٹھہرنے کی اجازت نہیں ہوگی ، اس عرصہ میں حضرت ہاجرہ ؓ کا انتقال ہوگیا اور حضرت اسمعیل (علیہ السلام) نے قبیلہ بنو جرہم میں نکاح کرلیا روایات میں آتا ہے (1) (بخاری ص 475۔ ج۔ 1) کہ ایک مرتبہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیٹے کی خبر گیری کے لیے آئے تو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) گھر پر موجود نہیں تھے ، انہوں نے ان کی بیوی سے دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ کہیں شکار کے لیے گئے ہوئے ہیں آپ نے گذران اوقات بارہ میں پوچھا تو اس عورت نے کہا کہ ذریعہ معاش کوئی نہیں ہے بڑی مشکل سے گذر اوقات ہورہا ہے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کوئی کام نہیں کرتے ، اس لیے فاقے آتے ہیں یہ شکایت سن کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ جب تیرا شوہر آئے تو اسے میرا سلام کہنا اور ساتھ یہ پیغام بھی دینا کہ وہ اپنے گھر کی چوکھٹ بدل دیں جب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) شکار سے واپس آئے تو انہیں باپ کی آمد کی خیر و برکت معلوم ہوئی ، چناچہ انہوں نے بیوی کے بتانے سے پہلے خود ہی پوچھ لیا کہ میرے بعد کون آیا تھا بیوی نے بتایا کہ ایک بوڑھا آدمی آیا تھا ، اس نے حال احوال پوچھا تو میں نے سب احوال بتا دیے ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے پھر دریافت کیا کہ وہ کوئی پیغام بھی دے گئے ہیں تو بیوی نے کہا کہ ہاں وہ کہہ گئے ہیں کہ اپنے گھر کی چوکھٹ تبدیل کر دو آپ پیغام کا مطلب سمجھ گئے چناچہ بیوی کو الگ کردیا اور بتایا کہ اب میں تمہیں گھر میں نہیں رکھ سکتا ، اس کے بعد حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے دوسرا نکاح کیا کئی سال بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دوبارہ تشریف لائے ، اتفاق سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پھر گھر میں موجود نہیں تھے ان کی بیوی موجود تھی آپ نے اس سے گھر کے حالات دریافت کیے اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے گھر کے حالات بہت اچھے ہیں ، میرا خاوند بھی بڑا اچھا آدمی ہے نیک سیرت اور عبادت گذار ہے اللہ تعالیٰ نے ہمیں رزق بھی وافر دیا ہے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) شکار بھی کرتے ہیں گزر اوقات بھی بڑی اچھی ہو رہی ہے اس عورت نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے سواری سے اترنے کی درخواست کی تاکہ آپ کی خاطر تواضع کرسکے ، مگر آپ نے کہا کہ میں نے ٹھہرنا نہیں ہے ہاں جب تمہارا خاوند آئے تو اسے میرا یہ پیغام دینا کہ تمہارے مکان کی چوکھٹ بہت اچھی ہے اسے تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں آپ یہ پیغام دے کر چلے گئے جب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) گھر واپس آئے ، تو بیوی نے پیغام دیا ، آپ نے فرمایا وہ میرے باپ تھے اور یہ پیغام دے گئے ہیں کہ میں تمہیں اپنے ساتھ رکھوں ۔ (تعمیر کعبہ) یہ واقعہ بھی تفسیری روایتوں میں موجود ہے (1) (تفسیر عزیزی فارسی ص 477 پارہ 1) کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تیسری مرتبہ مکہ معظمہ آنے کا ارادہ کیا تو اپنی بیوی حضرت سارہ ؓ سے طے کرلیا کہ اس دفعہ میں کچھ عرصہ وہاں ٹھہروں گا چناچہ یہ ان ایام کا ذکر ہے کہ آپ کو بیت اللہ شریف کی تعمیر کا حکم ہوا ، جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ خانہ کعبہ کی اصل بنیادوں کی نشاندہی کے لیے اللہ تعالیٰ نے بادل کے ایک ٹکڑے کو مامور کیا اور اس طرح باپ بیٹے نے بیت اللہ شریف کی تعمیر کی ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مقام ابراہیم پر کھڑے ہو کر دیواریں چنیں اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) آپ کے لیے گارا اور پتھر لاتے رہے ، اس طرح حضرت آدم (علیہ السلام) کی تعمیر کے بعد جب یہ عمارت طوفان نوح کی نذر ہوگئی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے ہاتھوں دوبارہ تعمیر ہوئی کہتے ہیں کہ یہ عمارت ذی قعدہ میں شروع ہو کر ذی الحجہ میں تقریبا ایک ماہ میں پایہ تکمیل کو پہنچی ۔ (تعمیر اور کعبہ کے مختلف ادوار) بیت اللہ شریف کی تعمیر مذکور کے بعد دوبارہ تعمیر قصی بن کلاب کے زمانے میں ہوئی جو حضور خاتم النبیین ﷺ کے جد امجد تھے ، حضور ﷺ کے اپنے زمانہ مبارک میں بیت اللہ شریف کی عمارت پھر بوسیدہ ہوچکی تھی چناچہ قریش مکہ نے چندہ جمع کر کے بیت اللہ شریف کو دوبارہ تعمیر کیا اس وقت حضور ﷺ کی عمر مبارک پینتیس (35) برس تھی گویا یہ تعمیر آپ کی بعثت سے پانچ برس قبل ہوئی کہتے ہیں کہ رؤسا مکہ نے طے کرلیا تھا کہ اس مقدس تعمیر میں ناپاک مال استعمال نہیں کیا جائے گا چناچہ پاک وصاف اور حلال مال سے جو چندہ جمع ہوا وہ پوری عمارت کی تعمیر کے لیے ناکافی تھا لہذا حطیم والا سات ہاتھ کا حصہ چھوڑ کر باقی جگہ پر بیت اللہ تعمیر کرلیا گیا ، اسی موقع پر حجر اسود کی تنصیب کا جھگڑا کھڑا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اس کا فیصلہ حضور ﷺ کے مبارک ہاتھوں سے اس طرح کروایا کہ سارے لوگ خوش ہوگئے ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے اپنے زمانہ نبوت میں بیت اللہ شریف کی تجدید نہیں کی ، اس کی ایک وجہ تو سرمایہ کی کمی تھی ، اور دوسری یہ کہ حضور ﷺ نے فرمایا (1) (بخاری ص 470 ج 1 ، مسلم ص 429۔ ج 1) کہ اگر میں اس کو دوبارہ تعمیر کرتا ، تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرز پر کرتا ، اور اس وقت عمارت میں تغیر وتبدل کرنا مناسب نہیں تھا یزید کی وفات کے بعد حجاز میں نو سال تک حکومت حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کے پاس رہی ، حجاز ، مکہ ، مدینہ اور طائف وغیرہ آپ ہی کے زیر نگرانی تھے ، اس زمانہ میں آپ نے بیت اللہ شریف کو دوبارہ تعمیر کیا اور آپ نے یہ عمارت ابراہیمی بنیادوں پر قائم کی یعنی حطیم کو خانہ کعبہ میں داخل کر لای ، حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کی شہادت کے بعد حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان کے حکم پر عمارت کی تجدید کی اور حطیم کو پھر باہر نکال دیا ۔ ہارون الرشید نے اپنے زمانے میں حطیم کو پھر شامل کر کے از سر نو تعمیر کرنے کا ارادہ کیا اس وقت امام مالک (رح) نے اسے ایسا نہ کرنے کی درخواست کی (2) (تفسیر عزیزی فارسی ص 479 پارہ 1 ، ابن کثیر ص 183 ج 1) آپ کا نظریہ یہ تھا کہ ایسا کرنے سے یہ مقدس گھر آئندہ آنے والوں کے لیے کھلونا بن جائے گا چناچہ ہارون الرشید نے اپنا ارادہ ترک کردیا ، اس کے بعد ترکوں کے عہد میں سلطان مراد خان کے زمانے میں بیت اللہ شریف کی تعمیر کی تجدید ہوئی یہ 1040 ء کا واقعہ ہے موجودہ عمارت وہی ترکوں کی تعمیر کردہ ہے ، اب تک بیت اللہ کی عمارت میں کوئی تبدل و تغیر نہیں ہوا ، البتہ موجودہ سعودی حکومت کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہے کہ انہوں نے بھاری رقوم خرچ کر کے حرم پاک کو وسیع کردیا ہے اور زائرین کے آرام و سہولت کے لیے بڑے بڑے منصوبوں پر کام کیا ہے ۔ (دعا کی قبولیت) الغرض جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) خانہ کعبہ کی دیواریں اٹھا رہے تھے تو ساتھ ساتھ نہایت مخلصانہ انداز میں دعا بھی کر رہے تھے ، (آیت) ” ربنا تقبل منا “۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے (آیت) ” انک انت السمیع العلیم “۔ بیشک تو سننے والا اور جاننے والا ہے تو دعا کو سنتا بھی ہے اور ہمارے اخلاص کو بھی جانتا ہے ، لہذا ہمارے عمل کو قبول فرما لے ۔ ظاہر ہے کہ قبولیت کے بغیر ہر عمل بیکار محض ہے اسی لیے انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام ہمیشہ دعا کیا کرتے تھے ، کہ ہمارا عمل قبول ہوجائے ، ہر مومن کی بھی یہی تمنا ہوتی ہے کہ اس کی نیکی بارگاہ رب العزت میں مقبول ہوجائے ، حضرت ابودرداء ؓ کی روایت میں آتا ہے (1) (تفسیر ابن کثیر 43 ج 2) کہ اگر مجھے علم ہوجائے کہ میری دو رکعت نماز قبول ہوگئی ہے تو میں اس کے بدلے میں دنیا ومافیہا کی ہر چیز کو ٹھکرا دوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قبولیت کا جو معیار مقرر فرمایا ہے وہ بہت بلند ہے (آیت) ” انما یتقبل اللہ من المتقین “۔ یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ متقیوں کے اعمال کو ہی قبول کرتا ہے نیکی اسی کی قبول ہوگی جس کا دل تقوی سے معمور ہے اگر تقوی سے خالی ہے دل میں کفر شرک ، نفاق ، اور ریا کاری بھری ہوئی ہے ، تو کوئی عمل بھی قبول نہیں ہوگا ، قبولیت کا معیار خلوص اور تقوی ہے ۔ اس وقت حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اگرچہ چودہ سال کے بچے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے نیکی اور تقوی کی دولت ابتدائے زندگی سے ہی ودیعت کردی تھی ، لہذا اللہ تعالیٰ نے ان دونوں باپ بیٹا کے عمل کو شرف قبولیت بخشا ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) بڑے ہو کر ” رسولا نبیا “۔ بنے اللہ تعالیٰ نے مختلف سورتوں میں آپ کی تعریف کی ہے آپ صاحب شریعت رسول ہوئے ہیں تاریخی روایتوں سے پتہ چلتا ہے (2) (معالم التنزیل ص 53 ج 1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی ص 451 پارہ 1) کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی متعدد بیویاں اور بارہ بیٹے تھے اور حضرت اسماعیل کے بارہ بیٹے اور ایک بیٹی تھی ایک بیٹے کی نسل سے اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے خاندان پیدا کیے ، آپ کا سب سے بڑا بیٹا نابت تھا اور سب سے چھوٹا قیدار تھا آپ کے بعد بیت اللہ شریف کی تولیت آپ کے بڑے بیٹے نابت کو ہی ملی تھی ، اللہ تعالیٰ نے دونوں باپ بیٹے کو اتنی فضیلت بخشی ۔ (قبولیت دعا کی شرائط) ترمذی شریف کی حدیث میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے (1) (ترمذی ص 26) ” لا تقبل صلوۃ بغیر طھور “۔ یعنی اللہ تعالیٰ طہارت کے بغیر کسی نماز کو قبول نہیں ۔ فرماتے گویا نماز کی قبولیت کے لیے طہارت بمنزلہ شرط کے ہے پاکیزگی کے بغیر کتنی نمازیں پڑھو قیام کرو ، رکوع و سجود کرو ، کوئی فائدہ نہیں ، اسی طرح دیگر نیکیوں کی شرط بھی ایمان اور اخلاص ہے اس کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں ، اسی طرح بعض برائیاں ایسی ہیں جن کے ارتکاب سے نیکیاں مردود ہوجاتی ہیں ، حضور ﷺ کا ارشاد (2) (ترمذی ص 279) کہ ایک مرتبہ شراب نوشی کرنے والے کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی ، اگر توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتے ہیں ورنہ قانون یہی ہے فرمایا جو غلام اپنے مالک کی مرضی کے خلاف بھاگ جائے وہ جب تک واپس نہ آئے اس کی کوئی نماز قبول نہیں ہوتی کیونکہ اس نے مالک کو دھوکا دیا ہے ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں آتا ہے (3) (جامع صغیر مع شرح فیض القدیر ص 216 ج 1) کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ” اخلص فی دینک یکفیک قلیلا من العمل “۔ دین میں اخلاص پیدا کرلو تو پھر تمہارا تھوڑا عمل بھی کفایت کر جائے گا اسی واسطے قرآن پاک میں آتا ہے (آیت) ” مخلصین لہ الدین “۔ اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ، اور اخلاص ایک ایسی نعمت ہے جو توحید کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی امام ابوبکر جصاص (رح) فرماتے (1) (احکام القرآن ص 474 ، ج 3) اگر انسان میں خلوص موجود ہے ، اس کا عقیدہ تو حید پر ہے فکر درست ہے تو پھر اس کے اعمال بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ہیں ۔ (اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری) بیت اللہ شریف کی تعمیر کے تذکرہ کے بعد امت مسلمہ کی تاسس اور پھر نبی آخرالزمان ﷺ کی بعثت کی دعا ہے یہی مرکزی مضمون ہے جو اگلی آیت میں آرہا ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی دعا میں حضور خاتم النبیین ﷺ کی بعثت کی درخواست پیش کی ، گویا نبی کریم ﷺ کے ظہور سے ہزاروں سال پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے آپ کے لیے دعا کی اور دعا کے پہلے حصے میں عرض کیا (آیت) ” ربنا واجعلنا مسلمین لک “۔ اے پروردگار ! ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار بنا لے کہ ہم دونوں ہر حالت میں تیری اطاعت کرنے والے بن جائیں ، انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی ہمیشہ یہی دعا رہی (آیت) ” توفنی مسلماوالحقنی بالصلحین “۔ اے اللہ ! ہماری موت فرمانبرداری کی حالت میں آئے اور جب وصیت کرتے ہیں تو فرماتے ہیں (آیت) ” فلا تموتن الا وانتم مسلمون “ کوشش کرو بھائی کہ تمہارا خاتمہ اسلام اور فرمانبرداری کی حالت میں ہو ، چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) نے بھی ہی دعا کی (آیت) ” ربنا واجعلنا مسلمین لک “۔ اے اللہ ! ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار بنا ، اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہی ممکن ہے ، دوسری جگہ موجود ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ابراہیم ! ” اسلم “ فرمانبردار ہو جاء ، آپ نے جواب دیا (آیت) ” اسلمت لرب العلمین “۔ میں رب العلمین کا مطیع ہوگیا ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے بعض امتحانوں کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کو امامت عطا کی ۔ (امت مسلمہ کی تاسیس) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلے اپنے لیے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی دعا مانگی اور پھر اپنی اولاد کے متعلق عرض کیا (آیت) ” ومن ذریتنا امۃ مسلمۃ لک “۔ اور ہماری اولاد میں سے ایک فرمانبردار امت پیدا فرما ، یہاں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس وقت یہ دعا کی گئی اس وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہی موجود تھے ، لہذا امت مسلمہ کی دعا حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد کے حق جاتی ہے کیونکہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) تو اس وقت تک ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے تھے اسی مقام پر یہود ونصاری دھوکا کھاتے ہیں اور حضور ﷺ کی رسالت کا انکار کرتے ہیں ان کا دعوی یہ ہے کہ یہ دعا حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے حق میں ہے ، اور امت مسلمہ بھی آپ ہی کی قوم ہے حالانکہ تاریخی شواہد سے واضح ہو رہا ہے کہ امت مسلمہ کا تعلق حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے ہے جو اس وقت موجود تھے ، اور دعا میں شامل تھے چناچہ یہ قبولیت دعا کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری نبی حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے مبعوث فرمایا ۔ (مناسک حج کی تعلیم) دعا کے دوسرے حصہ میں باپ بیٹے نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی (آیت) ” وارنا منا سکنا “ اے پروردگار ! ہم کو ہمارے مناسک حج بھی بتلا دے ، مناسک منسک کی جمع ہے جس کا لفظی معنی دھونا ہے اسی لیے عربی والے کپڑا دھونے کو نسک الثوب بولتے ہیں ، نسک قربانی کو بھی کہتے ہیں اسی مناسبت سے عبادت و ریاضت کو نسک کہتے ہیں اور عابد کو ناسک اور عبادت گاہ یا قربانی کی جگہ کو منسک کہتے ہیں گویا معنی یہی نکلتا ہے کہ جس طرح دھونے سے کپڑا میل کچیل سے پاک ہوجاتا ہے ، اسی طرح قربانی اور عبادت سے انسان کے گناہ دھل جاتے ہیں ۔ جب خانہ کعبہ کی تعمیر مکمل ہوگئی تو جیسا کہ گذشتہ درس میں ذکر آچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اعلان حج کا حکم صادر فرمایا تو ضروری تھا کہ جس حج کا حکم دیا جا رہا ہے اس کا طریقہ اور احکام بھی معلوم ہونے چاہئیں اسی لیے باپ اور بیٹا دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں ارکان حج بھی سکھلا دے تاکہ جو لوگ اس ارادہ سے آئیں وہ تیرے احکام کے مطابق اس فریضہ کو ادا کرسکیں ۔ حجۃ الوداع کے موقع پر حضور نبی کریم ﷺ نے عرفات کے میدان میں اونٹ کی سواری پر خطبہ ارشاد فرمایا (1) (مسلم ص 419 ج 1) ” یایھا الناس خذوا عنی مناسککم “۔ اے لوگو ! مجھ سے احکام حج اچھی طرح سیکھ لو ” لعلی لا اراکم بعد عامی ھذا “ شاید اس سال کے بعد تمہارے ساتھ ملاقات نہ ہو سکے ، اور پھر واقعی ایسا ہی ہوا ، آپ اس حج کے بعد دوبارہ مکہ مکرمہ نہ آسکے ، اور تین ماہ بعد خالق حقیقی سے جا ملے ، غرض مناسک سے حج کا طریقہ اور اس کے احکام مراد ہیں جن کے مطابق قیامت تک آنے والے لوگ حج کرتے رہیں گے ۔ لفظ ارنا “ رؤیت یا ” رای “ سے ہے ، اس کا مصدر رای بھی آتا ہے اگر رویت مصدر لیا جائے تو اس کا معنی آنکھ سے دیکھنا ہے اے اللہ ! ہمیں مناسک حج دکھادے ، اور رائی مصدر ہو تو اس کا معنی دل سے جاننا ہوگا (آیت) ” الم تر الی الذی “ سے رویت قلبی مراد ہے تو یہاں بھی ” ارنا “ کا معنی یہ ہوگا ، کہ ہمیں مناسک حج کا علم عطا فرما (آیت) ” وتب علینا “۔ اور ہماری توبہ قبول فرما ، مہربانی کے ساتھ ہم پر رجوع فرما (آیت) ” انک انت لتواب الرحیم “۔ بیشک تو ہی توبہ قبول کرنے والا ہے یعنی مہربانی کے ساتھ رجوع کرنے والا ہے تو از حد مہربان ہے ، باپ اور بیٹے کی دعا کی دو حصے مکمل ہوئے ، تیسرے حصے میں حضور خاتم النبیین ﷺ کی بعثت کی درخواست کی گئی ہے جو اگلے درس میں آئے گی ۔
Ayah 2:129

رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 2:129 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! ان کے اندار نہیں میں سے ایک رسول بھیج جو ان پر تیری آیتیں تلاوت کرے ، اور ان کو کتاب اور حکمت سکھائے اور انکو پاک کرے ، بیشک تو زبردست اور حکمت والا ہے ۔

گذشتہ سے پیوستہ : جس وقت حضرت ابراہیم اور اسمعیل (علیہ السلام) خانہ کعبہ کی دیواریں اٹھا رہے تھے تو ساتھ ساتھ دعا بھی مانگ رہے تھے دعا کے بعض حصے گذشتہ درس میں بیان ہوچکے ہیں سب سے پہلے انہوں نے عرض کیا (آیت) ” ربنا تقبل منا “۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم سے یہ عمل قبول فرمائے (آیت) ” انک انت السمیع العلیم “۔ تو سنتا بھی ہے اور ہر شخص کی نیت اور ارادے کو بھی جانتا ہے دونوں باپ بیٹے نے اپنی عاجزی کا اظہار کیا اور عرض کیا کہ ہمارے اس عمل کا مقصد محض تیری رضا ہے لہذا تو ہم سے یہ عمل قبول کرلے ۔ دعا کے دوسرے حصے میں عرض کیا (آیت) ” ربنا واجعلنا مسلمین لک “ اے ہمارے پروردگار ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار بنا لے (آیت) ” ومن ذریتنا امۃ مسلمۃ لک “۔ اور ہماری اولاد میں سے ایک ایسی جماعت بنا جو تیری فرمانبردار ہو چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کی دعا کو شرف قبولیت بخشا ، اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اسمعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں امت مسلمہ پیدا کی ، بنیادی طور پر تو اس امت مسلمہ میں عرب ہی شامل ہوئے جو کہ اسمعیلی نسل کے قریش تھے ، اس کے بعد انصار مدینہ ان میں شامل ہوئے ، اور پھر جو لوگ بھی ان کے ساتھ ملتے رہے ، وہ سب اس امت میں شامل ہیں ، اس دعائے ابراہیمی کا نتیجہ کئی ہزار سال بعد نکلا جب اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبیین ﷺ کو مبعوث فرمایا ۔ دعا کے تیسرے حصہ میں عرض کیا (آیت) ” وارنا منا سکنا “۔ اور ہمیں مناسک حج بھی سکھادے تاکہ ہمارے بعد آنے والے بھی اسی طریقے کے مطابق بیت اللہ شریف کا حج کرتے رہیں ، نیز یہ دعا کی (آیت) ” وتب علینا “۔ اے اللہ ! ہماری توبہ قبول فرما لے کیونکہ (آیت) ” انک انت التواب الرحیم “۔ تو توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ دعا کر رہے تھے اور صاحبزادے حضرت اسمعیل (علیہ السلام) آمین کہہ کر دعا میں شامل تھے ۔ (حضور ﷺ کی بعثت کیلئے دعا) حضرت خلیل اللہ (علیہ السلام) کی دعا کا چوتھا جز یہ تھا (آیت) ” ربنا وابعث فیھم رسولا منھم “۔ اے ہمارے پروردگار ! ان کے اندر انہیں میں سے ایک رسول مبعوث فرما ، یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے امت مسلمہ کی درخواست پہلے اور رسول کی بعثت کی دعا بعد میں کیوں کی ، اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے امت مسلمہ کی درخواست اپنی اولاد میں سے کی تھی ، ظاہر ہے کہ قریش عرب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہی ہیں ، جنہوں نے امت مسلمہ کی داغ بیل ڈالی ، پھر ان کے ساتھ انصار مدینہ شامل ہوئے اور پھر باقی اقوام عالم کو امت مسلمہ کی رکنیت حاصل ہوئی چونکہ نبی آخر الزمان ﷺ کی بعثت امت مسلمہ میں سے مطلوب تھی ، اس لیے امت کا ذکر پہلے کیا اور بعثت نبوی کا بعد میں کیا ، سورة جمعہ میں اسی قسم کا ذکر ملتا ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے احسان جتلاتے ہوئے فرمایا (آیت) ” ھو الذی بعث فی الامین رسولا منھم “۔ اللہ تعالیٰ کی وہ ذات ہے جس نے عرب کے ناخوندہ لوگوں میں اپنا رسول بھیجا ، ظاہر ہے کہ عرب کے اکثر لوگ لکھنے پڑھنے سے عاری تھے کوئی اکا دکا آدمی ہی نوشت وخواند سے واقف تھا لہذا اس مقام پر امیوں کا ذکر کیا مگر مخاطب وہی قریش ہیں جو کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں سے تھے ، (عظیم الشان رسول) لفظ ” رسولا “ اسم نکرہ ہے ، اور اس سے عظمت کا اظہار ہوتا ہے لہذا اس کا معنی صرف رسول نہیں ، بلکہ عظیم الشان رسول ہوگا دوسری آیات میں بھی یہ لفظ نکرہ کے طور پر ہی استعمال ہوا ہے جیسے (آیت) ” بعث فی الامین رسولا منھم “۔ اس میں ” منھم “ کی قید سے بھی واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ میں سے ایک عظیم الشان رسول مبعوث فرمایا ہے گویا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے آپ کی اولاد میں سے امت مسلمہ بنائی اور پھر ان میں سے ” الرسول “ نہیں بلکہ ” رسولا “ یعنی نہایت عظمت والا رسول مبعوث فرمایا ۔ یہ ایک عام سنت اللہ بھی ہے کہ ہر نبی اپنی قوم میں سے معبوث ہوتا ہے قرآن پاک میں تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے متعلق ایسا ہی مذکور ہے ، مثلا عاد ، ثمود ، صالح (علیہ السلام) کی قوم قوم ابراہیم ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی قومیں ، غرضیکہ ہر نبی اپنی ہی قوم میں ہوا ہے کہیں باہر سے نہیں آیا چناچہ نبی آخر الزمان ﷺ کو بھی اللہ تعالیٰ نے ان کی اپنی ہی قوم قریش میں سے مبعوث فرمایا ، ایسا ہونا منطقی طور پر ضروری بھی ہے کیونکہ اپنی ہی قوم میں سے ہونے کی وجہ سے نبی کے اخلاق واطوار کو ہر شخص جانتا اور پہچانتا ہے ، اور اس کے اخلاص کی بنا پر نبوت کی تصدیق کرسکتا ہے ، چناچہ حضور ﷺ کی بعثت کی سعادت بھی آپ کی اپنی قوم کو حاصل ہوئی ۔ (نبی انسان ہی ہوتا ہے) چونکہ نبی اپنی ہی قوم میں سے ہوتا ہے ، اس لیے وہ اسی جنس میں سے یعنی انسان ہوتا ہے کہ انسانوں کی طرف مبعوث ہونے والا نبی انسان ہی ہوگا کسی غیر نسل سے نہیں ہو سکتا ، اگر ایسا ہو ، تو امت کو نبی کے اتباع میں سخت دشواری پیش آسکتی ہے یا بعض معاملات میں اتباع ناممکن بھی ہو سکتی ہے مثلا اگر کسی فرشتے یا جن کو انسانوں کی طرف نبی مبعوث کیا جائے تو یہ نسل ہی مختلف ہوگی ، نبی اور امت کے مادہ تخلیق میں فرق ہوگا ، ان کی بود وباش اور عادات وخصائل میں فرق ہوگا ، ان کی ضروریات مختلف ہوں گی ، لہذا نبی کا اتباع کیسے ممکن ہوگا ، اور پھر یہ بھی ہے کہ نبی کا اپنی قوم کی جنس سے ہونا کوئی عار کی بات بھی نہیں ہے علم عقائد والے نبی کی تعریف یہ لکھتے ہیں (1) (شرح عقائد طبع ملتان ص 14 دخیالی ص 40 طبع لکھنو) ” الرسول انسان بعثہ اللہ تعالیٰ الی الخلق لتبلیغ الاحکام “۔ یعنی نبی وہ انسان ہوتا ہے ، جسے اللہ تعالیٰ لوگوں کی طرف احکام شرعیہ پہنچانے پر مقرر کرتے ہیں اور اس کی شان کو بلند فرماتے ہیں لوگوں نے خواہ مخواہ باطل عقائد وضع کرلیے ہیں کہ نبی کو انسان کہنے سے اسکی نعوذ باللہ توہین ہوجاتی ہے ایسی کوئی بات نہیں بلکہ نبی کا انسان ہونا تو انسانیت کی عظمت پر دلالت کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ جب آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا تو کہا (آیت) ” انی خالق بشرا من طین “۔ میں بشر کو مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں اس میں تحقیر کی کون سی بات ہے نہ معلوم لوگوں نے یہ کیسے سمجھ لیا ہے کہ نبی کو بشر کہنے سے نبی کی توہین ہوجائے گی ہاں یہ ضرور ہے کہ نبی ایک عام انسان کی طرح نہیں ہوتا جس میں ہر ایک نیک وبد شامل ہوتا ہے بلکہ نبی کو تمام امت پر فضیلت حاصل ہوتی ہے اور وہ معصوم ہوتا ہے ، البتہ جہاں تک انسانیت یا بشریت کا تعلق ہے قرآن پاک نے بار بار اس کی تصدیق کی ہے (آیت) ” قل انما انا بشر مثلکم “۔ اللہ تعالیٰ نے خود حضور ﷺ سے اعلان بشریت کرایا ہے دوسری جگہ آپ ہی کی زبان سے کہلوایا (آیت) ” ھل کنت الا بشرا رسولا “۔ آپ فرما دیجئے کہ میں اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک انسان ہوں اور اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں ، نہ میں عالم الغیب ہوں ، نہ مختار کل ہوں ، نہ میرے قبضے میں خزانے ہیں نہ تمہاری فرمائش پوری کرنا میرے بس میں ہے ، میں تو اللہ تعالیٰ کا رسول اور انسان ہوں ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور دیگر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام بھی یہی کہتے رہے ہیں کہ میں بھی تمہاری طرح انسان اور بشر ہوں جس طرح تم کسی کی اولاد ہو اسی طرح میرے بھی ماں باپ ہیں جس طرح تمہاری نسل سے تمہاری اولاد ہے ، اسی طرح میری بھی ہے تمہاری بھی ضروریات زندگی ہیں اور میری بھی ہیں باقی انسانوں پر پیش آنے والی واردت بیماری ، صحت وغیرہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر بھی وارد ہوتے ہیں تمام طبعی امور حتی کہ موت وحیات بھی سب پر طاری ہوتی ہے ، البتہ فرمایا کہ نبی کو امت پر فضیلت ہے ” یوحی الی “۔ مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے ، اور یہ بہت بڑی عزت واکرام والی چیز ہے جو اسے حاصل ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ اس کام کے لیے منتخب کرلے ، اس سے زیادہ فضیلت والی اور کوئی چیز نہیں ، غرضیکہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام بھی انسان ہی ہوتے ہیں ، مگر انسانیت میں ان کا درجہ بہت بلند ہے ، انسان کہنے میں ان کی توہین نہیں ہوتی ، بلکہ انسان تو وہ ہستی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق پر فضیلت بخشی اسی لیے تو فرمایا (آیت) ” ولقد کرمنا بنی ادم “۔ ہم نے آدم کے بیٹے یعنی انسان کو عزت بخشی ۔ (کوئی امتی نبی کی شان کو نہیں پہنچ سکتا) امتی خواہ کتنا بھی نیک کار ، صالح اور پاکباز ہو وہ معصوم نہیں ہوتا چہ جائیکہ عام انسان تو گنہگار ہوتے ہیں اس کے برخلاف نبی ہمیشہ معصوم ہوتا ہے اس صفت کے بغیر نبی ، نبی نہیں ہوسکتا ، اور اگر اس میں معصومیت مفقود ہو تو اس کا اتباع ممکن نہیں لہذا کوئی بدترین شخص بھی نبی کی توہین نہیں کرسکتا ، وہ تو معصوم ہے اگر کوئی شخص نبی کے درجے میں برابری کا دعوی کرے تو وہ مومن نہیں رہتا ، مگر ہمارے ہی بھائیوں نے نبی کو انسانیت کے دائرے سے خارج کر کے ” نور من نور اللہ “ کا خطاب دے دیا ، بھائی یہ تو عیسائیوں والا عقیدہ ہے (آیت) ” وجعلوا لہ من عبادہ جزء ا “۔ اللہ کے لیے اسی کے بندوں میں جزوبنا لیا اور مشرک ہوگئے اللہ تعالیٰ تو خالق ہے باقی سب مخلوق ہے اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو عورت کے بطن سے پیدا کیا ہے یہ اس کی کمال صنعت کا ظہور ہے اس کو خدا کا جزو بنانا سخت بےادبی اور گستاخی ہے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے بہت بڑی فضیلت عطا کی ہے ۔ (تلاوت قرآن پاک) فرمایا اے ہمارے رب ! امت مسلمہ میں انہیں میں سے ایک رسول بھیج (آیت) ” یتلوا علیھم ایتک “۔ جو ان پر تیری آیات تلاوت کرے ، آیت سے مراد احکام یا فرمان ہے جو نبی پر نازل ہوتا ہے چناچہ ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ مولا کریم ! جس عظیم الشان نبی کی بعثت کی دعا کر رہا ہوں اس کا پہلا فرض یہ ہو کہ وہ تیری آیتیں ان کو پڑھ کر سنائے اور انہیں تیرے احکام سے آگاہ کرے کیونکہ نبی کیلئے اللہ تعالیٰ کا عام حکم ہے (آیت) ” یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک “۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بھی حکم آپ پر نازل ہو ، آپ اسے آگے امت تک پہنچا دیں ۔ تلاوت کے دو مفہوم ہوتے ہیں ، اس کا پہلا مقصد احکام کو دوسروں تک پہنچانا یا دوسروں کو تعلیم دینا ہوتا ہے اور اس کا دوسرا مقصد خود اپنی ذات کے لیے تلاوت ہے جس طرح ہم قرآن پاک کو کلام الہی ہونے کی وجہ سے ثواب کے لیے پڑھتے ہیں اور پھر یہ بھی ہے کہ جس قدر بار بار تلاوت کرے گا ، اتنا ہی ثواب کا حقدار ہوگا ، خود لفظ قرآن کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ کتاب جو بار بار بتکرار پڑھی جائے ، (نزول وحی) اللہ تعالیٰ کی آیات جن کا ذکر اس آیت میں آیا ہے وہ وحی کے ذریعے حضور ﷺ کی ذات والا صفات پر نازل ہوتی تھیں ، جب آپ پر وحی نازل ہوتی تو آپ گھر سے باہر تشریف لاتے اور کاتبان وحی میں سے جو بھی قریب ہوتا اسے طلب فرماتے اور حکم کرتے کہ اس آیت یا سورة کو فلاں مقام پر لکھ لو تو وہ لکھ لیتے ، بعض اوقات آپ عام مجلس میں تشریف لاتے اور اعلان فرماتے کہ ابھی ابھی اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا ہے بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ مجمع عام میں تشریف فرما ہوتے اور آپ پر وحی کی کیفیات طاری ہوجاتیں ، آپ کا چہرہ متغیر ہوجاتا اور پھر تھوڑی دیر بعد آپ ارشاد فرماتے کہ یہ وحی نازل ہوئی ہے پھر آپ حضرت زید ؓ ، حضرت علی ؓ حضرت عثمان ؓ یا جو بھی کاتب مل جاتا اسے تحریر کروا دیتے ۔ (کتاب کی تعلیم) پہلی بات تو یہ تھی کہ وہ عظیم الشان رسول تیری آیات کی تلاوت کرے گا اب دوسری بات یہ بتائی کہ (آیت) ” ویعلمھم الکتب “۔ کہ وہ رسول امت کو کتاب کی تعلیم دے گا کسی کتاب کو صرف پڑھ کر سنا دینا اور چیز ہے اور اس کی تعلیم دینا دوسری بات ہے یہاں پر کتاب کی تعلیم کا ذکر ہے اور علم محنت کے بغیر حاصل نہیں ہوتا ، امام بخاری (رح) فرماتے ہیں (1) (بخاری ص 16 ج 1) ” انما العلم بالتعلم “۔ علم خودبخود حاصل نہیں ہوتا ، بلکہ سیکھنے سے آتا ہے اور جو لوگ خود بخود سیکھتے ہیں ، استاد کی مدد حاصل نہیں کرتے ، صرف کتابیں پڑھ کر عالم بننا چاہتے ہیں وہ علم میں کچے رہتے ہیں اور ان میں اکثر گمراہ ہوتے ہیں ان میں کما حقہ علم کی پختگی نہیں آتی ، علم حاصل کرنے کے لیے بڑی محنت درکار ہوتی ہے سلف صالحین نے حصول علم میں جس قدر محنتیں کی ہیں اس کا آج تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ، امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ میں سولہ سال تک اس حالت میں رہا کہ رات کو پیاس لگتی تھی تو رات بھر ایک پیالہ پانی بھی نہیں پیتا تھا کہ کہیں مطالعہ میں غفلت نہ آجائے ، اگر غنودگی طاری ہوگئی تو مطالعہ ادھورا رہ جائے گا ، چالیس چالیس سال تک لوگوں نے اتنی بڑی بڑی محنت کی ہے تب جا کر علم حاصل ہوا ہے ، بہرحال تعلیم ایک اہم چیز ہے ، اس کے بغیر انسان میں کمال پیدا نہیں ہوتا ، بلکہ وہ استاد کی مدد سے سیکھنا پڑتا ہے ۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں (1) (حجۃ اللہ البالغہ ص 52۔ ج 1) کہ دنیا کا کوئی ادنی سے ادنی یا اعلی سے اعلی پیشہ ہو ، جب تک کوئی استاد کے سامنے زانوئے تلمذ تہ نہیں کرے گا علم وفن حاصل نہیں کرسکتا ، لوہار ، ہو یا درزی ، ڈاکٹر ہو یا انجینئر اسے ماہر فن کی صحبت حاصل کرنا ہوگی ، اس کے بغیر وہ اپنے فن میں کامل نہیں ہو سکتا ، اسی طرح یہ تعلیم جو اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے ذریعے سے بھیجی ہے سب سے زیادہ دقیق ہے یہ بغیر استاد کے کیسے حاصل ہو سکتی ہے ایسی کوشش کرنے والے منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکیں گے بلکہ گمراہ ہوجائیں گے لہذا وحی کی تعلیم کے لیے پیغمبر کی ضرورت ہے اور اس لحاظ سے آپ کی ایک صفت معلم بھی ہے ۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ مسجد میں تشریف لائے وہاں پر دو گروہ اپنے اپنے کام میں مصروف تھے ، ایک گروہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والوں کا تھا ، جو ذکر میں مشغول تھا اور دوسرا گروہ تعلیم و تعلم کا کام کر رہا تھا ، حضور ﷺ اس دوسرے گروہ میں تشریف فرما ہوئے اور فرمایا (2) (ابن ماجہ۔ 21) ” انما بعثت معلما “ یعنی مجھے اللہ تعالیٰ نے معلم بنا کر بھیجا ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہی دعا کی تھی (آیت) ” ویعلمھم الکتب “۔ یا اللہ ! ان میں ایسا نبی بھیج جو انہیں کتاب کی تعلیم دے ۔ تعلیم کتاب کے سلسلے میں بعض اوقات الجھنیں پیدا ہوتی ہیں ، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین صاحب لسان تھے ، عربی ان کی مادری زبان تھی ، اس کے باوجود بعض امور کے سمجھنے میں دقت پیش آتی تھی اس سورة بقرہ میں خیط اسود اور خیط ابیض کا ذکر آتا ہے ، عدی ؓ بن حاتم اس کا مطلب نہ سمجھ سکے حالانکہ خالص عرب اور پھر شاعر بھی تھے زبان پر عبور حاصل ہونے کے باوجود وہ ان الفاظ کے مفہوم تک نہ پہنچ سکے ، آپ خیط ابیض اور خیط اسود کو سفید و سیاہ رسی سمجھتے رہے حالانکہ اس سے مراد دن اور رات ہے ، اسی طرح ظلم کا معنی سمجھنے میں بھی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو غلطی ہوئی اور پریشان ہوگئے ، حضور ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ یہاں پر ظلم سے مراد شرک ہے (آیت) ” ان الشرک لظلم عظیم “۔ شرک بہت بڑا ظلم ہے خود قرآن پاک میں تصریح موجود ہے غرض ! اس قسم کے نکات تعلیم کے ذریعے حل ہوتے ہیں کہیں کسی حکم کو خاص کرنا ہوتا ہے کسی کی عمومیت بیان کرنی ہوتی ہے جو کہ استاد کے بغیر ممکن نہیں ، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) کی حکمت میں یہ بات بیان ہوئی ہے (1) کہ بعض چیزیں بینات کے قبیلے سے ہوتی ہیں ، انسان ذرا سی توجہ کرے ، تو آسانی سے حاصل کرسکتا ہے ، اور بعض ایسی ہوتی ہیں جن کو آسانی سے سمجھنا ممکن نہیں ہوتا جیسے فرمایا (آیت) ” ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق “۔ وہ ذات خداوندی جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کو بھیجا ، یہاں پر ہدایت اور دین حق کو سمجھنے کے لیے استاد کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ یہ ایسی معمولی چیز نہیں ہے جو ادنی توجہ سے معلوم ہوجائے ، اس لیے فرمایا کہ اے اللہ ! انہیں میں سے رسول بھیج جو انہیں کتاب کی تعلیم دے ۔ ّ (حکمت کی تعلیم) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تیسری دعا یہ تھی (آیت) ” ویعلمھم الکتب والحکمۃ “۔ ایسا رسول مبعوث فرمایا جو کتاب کے علاوہ انہیں حکمت کی تعلیم بھی دے حکم کی تشریح میں مفسرین کرام کے بہت سے اقوال ہیں ، بعض فرماتے ہیں (2) (روح المعانی ص 387 ج 1) کہ حکمت سے مراد انوار قلوب یا باطنی باتوں کا جاننا ہے بعض دوسرے حضرات فرماتے ہیں کہ حکمت عقل کی دلیل اور دل کی بصیرت کا نام ہے ، حضرت امام مالک (رح) فرماتے ہیں (3) (تفسیر کبیر ص 74 ، ج 4) ” معرفۃ الدین والفقہ فیہ والاتباع لہ “۔ یعنی حکمت نام سے دین کی معرفت اس کی سمجھ اور اس کے اتباع کا ، عام طور پر حکیم کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے ، ” من اتقن العلم والعمل “۔ حکیم وہ ہے جس نے علم اور عمل میں پختگی حاصل کرلی ڈاکٹر کا معنی ماہر فی الفن ہے ، خواہ وہ بےعمل ہو مگر حکیم وہ ہوگا جو علم اور عمل میں مساوی ہوگا ۔ بعض فرماتے ہیں (4) (تفسیر کبیر ، ص 74 ج 4) کہ شریعت الہیہ میں جتنی مصلحتیں اور دین کے جتنے احکام ہیں ان کو پہچاننے کا نام حکمت ہے حق اور باطل کے درمیان امتیاز کرنا بھی حکمت کہلاتا ہے ، اسی طرح حضور ﷺ کی سنت کو بھی حکمت سے تعبیر کیا گیا ہے بعض کہتے ہیں کہ تمام چیزوں کو ان کی حقیقت کے ساتھ جاننے کا نام حکمت ہے ، حدیث شریف میں آتا ہے (1) ـ۔۔۔ اللھم ارنا الحق حقا “۔ اے اللہ ! ہمیں حق کو سمجھنے کی توفیق عطا کر ، ایسا نہ ہو کہ ہم باطل کو حق سمجھنے لگیں ، بزرگان دین کی دعا میں آتا ہے کہ ہمیں چیزیں اس طرح دکھا جس طرح وہ واقعہ میں ہیں ، بسا اوقات آدمی کسی چیز کو سمجھتا کچھ ہے مگر حقیقت میں کچھ اور ہوتا ہے ، امام ابن درید (رح) جو کہ لغت کے امام ہیں وہ فرماتے ہیں کہ ہر وہ چیز جو تمہارے لیے نصیحت کا باعث بنے یا تمہیں برائی پر زجر کرے یا کسی قبیح کام سے روکے یا کسی بزرگی کے کام کی طرف دعوت دے ، وہ سب حکمت ہے امام راغب (رح) جو لغت اور تفسیر کے امام ہیں فرماتے ہیں ” الحکمۃ اصابۃ الحق بالعلم والعقل “۔ حق کو علم اور عقل کے ذریعے پالینا حکمت ہے اور بعض فرماتے ہیں کہ قول اور عمل میں برابری کا نام حکمت ہے ۔ امام بیضاوی (رح) اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں (2) (تفسیر بیضاوی ص 78 ج 1) کہ ایسی چیز جس کے ذریعے انسان کے نفس کی تکمیل ہوتی ہو ، حکمت ہے ، حدیث شریف میں آتا ہے (3) (کنزالعمال ص 82 ج 3) ” راس الحکمۃ مخافۃ اللہ “۔ یعنی حکمت کی جڑ اور بنیاد اللہ تعالیٰ کا خوف ہے جس انسان کے اندر اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا ہوجائے سمجھ لو کہ اس میں حکمت کی بنیاد قائم ہوگئی ہے ، حدیث شریف میں یہ بھی آتا ہے (4) (جامع صغیر مع شرح فیض القدیر ص 43 ، ج 6) من اخلص للہ ربعین یوما “۔ جس نے چالیس دن تک اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی ” جرت ینابیع الحکمۃ من قلبہ علی لسانہ “۔ حکمت کی سو باتین اس کے دل کی طرف سے اس کی زبان پر جاری ہوجائیں گی ۔ بعض محققین کہتے ہیں ، حکمت نام ہے معرفۃ افضل الاشیآء بافضل العلوم “۔ افضل چیز کو افضل علم کے ساتھ جاننے کا نام حکمت ہے ظاہر ہے کہ سب سے افضل چیز اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات ہیں اور سب سے افضل وہ علم ہے جس سے انسان کو حضور قلب حاصل ہوجائے ، اگر اس کے دل میں ایسی کیفیت پیدا ہوجائے تو وہ خدا تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کو پہچان لے گا اور سمجھا جائے گا کہ یہ شخص حکیم ہے تاہم عام فہم معنی میں حکمت دانشوری سمجھ اور پتے کی باتوں کو کہتے ہیں ایسی باتیں احکام ہوتے ہیں ان کی مصلحتیں اور ان کے اسرار بھی ہوتے ہیں ، ان کے غوامض ہوتے ہیں ، اس میں سنت بھی شامل ہے اور حضور نبی کریم ﷺ نے یہ تمام باتیں سکھائی ہیں اس لیے فرمایا (آیت) ” ویعلمھم الکتب والحکمۃ “۔ وہ رسول جو لوگوں کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے ۔ (تزکیہ نفس) دعا کا چوتھا جزو تھا (آیت) ” ویزکیھم “۔ اور ان کو پاک کر دے ، یہ لفظ بڑے دور رس معانی کا حامل ہے ، پاکیزگی سے مراد یہ ہے کہ ان سے تمام رذائل ہوجائیں گے اور تمام فضائل ان میں پیدا ہوجائیں گے رذائل میں نفاق ، بداخلاقی ، گندگی ، معاصی ، بداعمالی ، اور دیگر تمام شریر چیزیں آتی ہیں جن میں سب سے پاکیزگی مطلوب ومقصود ہے تزکیہ اسی کو کہتے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) اس موقع پر یہ بات سمجھائی کہ کسی قوم میں فوز و فلاح اور سعادت تزکیہ کے بغیر نہیں آسکتی ، لہذا انہوں نے امت مسلمہ کے لیے تزکیہ کی دعا کی اور پھر آپ کی دعا کا اثر بھی دیکھئے حضور نبی کریم ﷺ کے اولین مخاطبین کی جہالت مثالی تھی ، ان کی خباثت ، جہالت اور ہٹ دھرمی سب کچھ عیاں ہے ، مگر اس تزکیہ کی بدولت کیسے کیسے جلیل القدر لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے تن من دھن ہر چیز دین پر قربان کردی ، ایک دوسرے مقام پر تزکیہ کو یوں بیان فرمایا (آیت) ” خذ من اموالھم صدقۃ “۔ ان کے مالوں میں سے زکوۃ وصول کرلیں (آیت) ” تطھرھم وتزکیھم “۔ وہ ظاہری اور باطنی ہر دو پہلوؤں سے پاک ہوجائیں گے غرضیکہ تزکیہ سے مراد ظاہری پاکیزگی بھی ہے ، اور باطن کی پاکیزگی بھی ہے ، اسی لیے فرمایا اے اللہ ! ان میں ایسا رسول بھیج جو تیری آیات پڑھ کر سنائے ، انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے ۔ (بیعت وتزکیہ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کا آخری حصہ تزکیہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے اسی لیے اس کو دعا کے آخر میں بیان کیا گیا ہے ، بزرگان دین کی بیعت حصول تزکیہ کا ایک ذریعہ ہے جو کہ حضرت علی ؓ سے چلا آرہا ہے بزرگان دین مرید کو وظیفہ بتاتے ہیں عبادت و ریاضت کا طریقہ سکھاتے ہیں اور ضروری پرہیز بھی بتاتے ہیں تاکہ مرید برائیوں سے پاک ہوجائے اور اس میں خوبیاں اجاگر ہوجائیں مگر آج پیری مریدی ایک پیشہ کی حیثیت اختیار کرچکا ہے بیت ایک رسمی چیز بن کر رہ گئی ہے فاسق فاجر بےنماز ، بٹیر اور کتے پالنے والے گدی نشین ہیں اور جہلائے بیعت لے رہے ہیں نہ پیر کو احکام الہی کا علم ہے ، نہ مرید کے پلے کچھ پڑتا ہے پس چند رسوم ادا کر کے پیری مریدی کے بندھن میں بندھ گئے ، نہ پیر نے تربیت کی نہ حلال وحرم کی تمیز سکھائی تو تزکیہ کیسے ہوگا ، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے نبی نے جن لوگوں سے بعیت لی تھی اس کا کوئی مقصد تھا ، اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں سے ان شرائط پر بیعت لیں کہ کفر وشرک کا ارتکاب نہیں کریں گے گناہ کی باتوں سے پرہیز کریں گے چوری نہیں کریں گے ، بدکاری نہیں کریں گے کسی پر بہتان نہیں باندھیں گے وغیرہ وغیرہ ۔ فرمایا اگر ان شرائط کے مطابق مراد اور عورتیں بیعت کریں تو ان کی بیعت لیں اور جو ان شرائط کو پورا نہ کریں ان سے بیعت نہ لیں مگر آج حالت یہ ہوچکی ہے کہ بیعت بھی ہو رہی ہے اور کفر ، شرک ، بدعات کی بھی فراوانی ہے کوئی پیر مرید سے نہیں پوچھتا کہ کیا کر رہے ہو ، قبریں پکی بن رہی ہیں ، گبند تعمیر ہو رہے ہیں ان پر قوالی ہو رہی ہے گانے گائے جاتے ہیں قبروں پر چادریں چڑھتی ہیں ، سجدے ہوتے ہیں ، بتائیے اب تزکیہ کہاں سے آئے گا بزرگان دین نے ان باتوں کا حکم نہیں دیا تھا ، انہوں نے تو اپنے لیے جھونپڑا بھی پسند نہ کیا ، اس دنیا کی پوری زندگی مسافرون کی طرح گذار دی مگر آج ان کی قبروں پر عالیشان گبند بنائے جاتے ہیں لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں جن بزرگوں کی تعلیم یہ تھی کہ مرد کے لیے سونا اور ریشم حرام ہے ان کی قبروں پر سونے کے دروازے اور ریشم کی چادریں چڑھائی جا رہی ہیں ، کیا وہ بزرگ ان خرافات سے بیزار نہیں ہوتے ہوں گے ، تو تو ساری عمر ایمان کی دعوت دیتے رہے ، کفر وشرک سے بیزاری کا اظہار کرتے رہے مگر ہم ان کے بعد کیا کر رہے ہیں ، غرضیکہ پیغمبر کا ایک فریضہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کا تزکیہ کرتا ہے ، حضور ﷺ کے پاس ایک شخص آیا حضور ! میں نے فلاں جگہ پر جانور ذبح کرنے کی منت مانی ہے کیا اسے پورا کروں آپ نے پوچھا اس جگہ کبھی کوئی بت تو نہیں تھا ، یا کسی زمانے میں وہاں کوئی بزرگ تو نہیں بیٹھا تھا لوگوں نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے وہاں پر جانور ذبح کرنے کی اجازت دے دی (1) (ابو داؤد ص 113 ، ج 2) آپ کا مقصد یہ تھا کہ ایسا نہ ہو کہ زمانہ جاہلیت میں وہاں کوئی تھان ہو جس کی پوجا ہوتی ہو ، کوئی بزرگ کسی درخت کے نیچے بیٹھ گیا تو درخت کی پوجا ہونے لگی آپ نے اس قدر احتیاط فرمائی ۔ (اختتام دعا) الغرض ! حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) نے دعا کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی تعریف فرمائی (آیت) ” انک انت العزیز الحکیم “۔ اے مولا کریم ! تو ہی کمال قدرت کا مالک ہے ، عزیز کا معنی غالب ہے یعنی ہرچیز پر تیرا ہی غلبہ ہے ، اور حکیم سے مراد کمال حکمت کا مالک بھی تو ہی ہے تیرے سب امور حکمت اور مصلحت پر مبنی ہوتے ہیں ہماری دعا کو قبول فرما اور امت مسلمہ قائم کر اور پھر ان میں عالیشان رسول بھیج جو تیری آیات پڑھے انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے ۔