2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 2:264–266

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰى١ۙ كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:264 in the Quran reader

اے ایمان والو اپنے صدقات کو باطل نہ کرو۔ احسان جتلا کر اور تکلیف دے کر اس شخص کی طرح جو لوگوں کو دکھانے کے لیے مال خرچ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر یقین نہیں رکھتا ۔ پس اس شخص کی مثال ( یعنی اس کے خرچ کرنی کی) صاف چٹان یا پتھر کی ہے ، جس پر مٹی ہو پس پہنچے اس کو موسلادھار بارش اور چھوڑ دے ۔ اس کو بالکل خالی اور صاف یہ لوگ اس میں سے کسی چیز پر قادر نہیں ہوں گے جو کچھ انہوں نے کمایا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کفر کرنے والی قوم کی رہنمائی نہیں کرتا

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:265 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی مثال جو اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ، اور اپنے دلوں کی پختگی کے لیے ، ان کی مثال اس باغ جیسی ہے ، جو اونچی جگہ پر واقع ہو ۔ اس کو موسلا دھار بارش پہنچے ، پس وہ اپنا پھل دگنا دے ۔ پس اگر زور دار بارش نہ پہنچے تو ہلکی بارش بھی اس کے لیے کار آمد ہوگی ، اور اللہ تعالیٰ نگاہ میں رکھتا ہے ، جو کام تم کرتے ہو

اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ لَهٗ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ۙ وَ اَصَابَهُ الْكِبَرُ وَ لَهٗ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُ١۪ۖ فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِیْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:266 in the Quran reader

کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات کو پسند کرتا ہے ، کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو ۔ اس کے سامنے نہریں بہتی ہوں اور اس شخص کے لیے اس باغ میں ہر قسم کے پھل ہوں اور اس شخص کو بڑھاپا آپہنچے اور اس کی اولاد کمزور ہو ۔ پس اس باغ کو بگولہ پہنچے جس کے اندر آگ ہو اور وہ اس باغ کو جلا ڈالے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ واضح طور پر اپنی آیات بیان فرماتا ہے تا کہ تم غور و فکرو کرو

ابطلال صدقہ کی پہلی دو وجوہات ابطال صدقہ کے متعلق دو وجوہات کا ذکر گزشتہ درس میں بھی آ چکا ہے۔ آج کے درس میں ان کا تذکرہ دوبارہ آ رہا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ یایھا الذین امنوا لا تبطلوا صدقتکم بالمن والاذی اے اہل ایمان ! اپنے صدقات و خیرات کو احسان جتلا کر اور تکلیف پہنچا کر باطل نہ کرو ۔ یہی دو چیزیں پہلے بھی بیان ہوئی ہیں وہاں فرمایا تھا ثم لا یتبعون ما انفقوا مناولا اذی گویا دونوں مقامات پر احسان اور اذیت کو ابطلال صدقہ کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ ایسا کرنے سے نہ صرف صدقہ بےمقصد ہوجاتا ہے بلکہ الٹا انسان گناہ گارہو کر عذاب کا مستحق ہوجاتا ہے گویا یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ کا مفہوم محض اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کیلئے خرچ کرنے کا نام ہے ، یہ دو باتیں آگئیں۔ تیسری وجہ ریا کاری ابطال صدقہ کی تیسری وجہ کے متعلق فرمایا کالذی ینفق مالہ رئاء الناس جو شخص لوگوں کے دکھانے کے لیے مال خرچ کرتا ہے ۔ اس کا صدقہ بھی اس طرح باطل ہوجاتا ہے۔ جس طرح احسان جتلا کر اور اذیت پہنچا کر ضائع ہوتا ہے ۔ ریا کار نہ صرف اجر وثواب سے محروم رہتا ہے بلکہ الٹا گناہ گار ہوجاتا ہے ، کیونکہ اس نے اللہ کی رضا کے لیے خرچ نہیں کیا ۔ بلکہ شہرت اور نیک نامی کی خاطر کیا ہے ۔ حدیث شریف میں آتا ہے ۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ریا کار کو فرمائے گا ، جائو تمہارے لیے میرے پاس کوئی اجر نہیں ۔ تم ایسے صدقہ کا اجر ان سے لو ، جن کی خوشنودی کی خاطر صدقہ کیا تھا ، کیونکہ انا اغنی الشرکاء میں شریکوں سے پاک ہوں میرا کوئی ہمسر نہیں ۔ اسی لیے ریا کو شرک اصغر کہا گیا ہے۔ شرک کی بہت سی قسمیں ہیں ۔ جن میں ریا ہلکی قسم کا شرک شمار ہوتا ہے۔ فرمایا ایک تو ایسا شخص دکھاوے کے لیے خرچ کرتا ہے اور ڈدوسرے ولا یومن باللہ والیوم الاخر اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر یقین بھی نہیں رکھتا ، اگر اسے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، اس کی قدرت کاملہ اور بعث بعد الموت کا یقین ہوتا ، تو پھر دوسروں کو دکھا دے کے لیے نیکی کا کام نہ کرتا محض رضا الٰہی کے لیے اپنا مال خرچ کرتا۔ چٹان کی مثال فرمایا و مثلہ کمثل صفوان علیہ تراب ریا کار کی مثال اس چٹان کی سی ہے۔ جس پر مٹی پڑی ہو اور بظاہر یہ نظر آئے کہ اگر اس مٹی میں بیج بو دیا جائے تو فصل اگ آئے گی ۔ مگر حقیقت میں وہ مٹی نہیں ہوتی بلکہ سخت اور صاف چٹان پر مٹی کی تہہ جمی ہوتی ہے۔ فاصابہ وابل جب اس پرزور کا مینہ برسا ، تیز بارش ہوئی فتر کہ صلداً تو مٹی بہ گئی اور صاف چٹان باقی رہ گئی ۔ مقصد یہ ہے کہ جس طرح چٹان پر بوئے گئے بیج سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ اسی طرح ریا کاری میں خرچ کیے گئے مال کا کچھ بدلہ نہیں ملے گا ۔ جو بھی صدقہ احسان جتلانے ، ایذا پہنچانے یا ریا کاری کے لیے دیا جائے گا وہ باطل ہوجائے گا فرمایا لا یقدرون علی شی مما کسبوا یہ لوگ اس میں سے کسی چیز پر قادر نہیں ہونگے جو کچھ انہوں نے کمایا ہے یعنی جو صدقہ و خیرات کیا ہے ، کیونکہ اس میں ریا کاری کا عنصر شامل ہے لہٰذا انہیں اس کا کوئی اجر نہیں ملے گا۔ کافر رہنمائی سے محروم ہیں فرمایا واللہ لا یھدی القوم الکفرین اللہ تعالیٰ کا فروں کی رہنمائی نہیں کرتا ، جو لوگ بظاہر نیکی کا کام کرتے ہیں ۔ دھڑا دھڑ مال خرچ کر رہے ہیں مگر نیت میں خرابی ہے۔ کوئی احسان جتلا رہا ہے کوئی ایذاء پہنچا رہا ہے اور کوئی محض ذاتی شہرت کی خاطر خرچ کررہا ہے تو ایسے لوگ ہمیشہ غلط راستے پر بھٹکتے رہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی راہ راست کی طرف راہنمائی نہیں فرمائیں گے یہ ان کے لیے سزا کے طور پر ہے۔ ورنہ اگر ان میں ذرہ بھی نیک نیتی موجود ہو ، تو اللہ تعالیٰ ان کی رہنمائی صراط مستقیم کی طرف فرما دے ، مگر جب تک یہ لوگ اپنی بری حرکتوں سے باز نہیں آئیں گے۔ کفر ، شرک اور فسق و فجوز پر نادم ہو کر اس کو ترک نہیں کردیں گے اور اللہ تعالیٰ سے خود صراط مستقیم کی رہنمائی طلب نہیں کریں گے ، اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت نصیب نہیں کرے گا ۔ رضا الٰہی کے لیے خرچ ریا کاری کے طور پر خرچ کرنے کی وضاحت کے بعد اب تصویر کا دوسرا رخ پیش کیا جا رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ ومثل الذین ینفقون اموالھم ابتغاء مرضات اللہ اور ان لوگوں کی مثال جو اللہ کی رضا کے لیے اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ رضا الٰہی کا حصول بہت بڑی نعمت ہے۔ جس سے اللہ راضی ہوگیا اسے سب کچھ مل گیا اور جس کسی سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوگیا وہ ہر چیز سے محروم ہوگیا ، تو فرمایا جو لوگ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے مال خرچ کرتے ہیں ۔ وتثبیتاً من انفسھم اور ان کا دوسرا مقصد اپنے نفسوں کو ثابت رکھنا ہوتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے ساتھ ساتھ ان کا مقصود اصلاح نفس بھی ہوتا ہے۔ تا کہ دل انفاق فی سبیل اللہ اور نیکی کے دوسرے کاموں پر ثابت قدم رہے اور ان کے دلوں سے بخل کا مادہ دور ہو کر ان میں فیاضی کا مادہ پیدا ہوجائے۔ فرمایا ایسے لوگوں کی مثال کمثل جنۃ بربوۃ اس باغ جیسی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو اصابھا وابل جب اس باغ پر زور دار بارش ہو فاتت اکلھا ضعفین تو وہ دگنا پھل دے ۔ فان لم یصبھا وابل فطلل اور اگر تیز بارش نہ ہو تو اس کے لیے معمولی بارش جیسے اوس ، بھی کافی ہو ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں ۔ یہاں پر تیز بارش سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص فیاضی کا خوب مظاہرہ کرتا ہے اور اللہ کے راستے میں کھل کر خرچ کرتا ہے۔ تو اس مثال کے مطابق وہ کئی گنازیادہ اجر وثواب کا مستحق ہے اور معمولی بارش یعنی تھوڑی مقدار میں خرچ کرتا ہے تو اس کی کامیابی کے لیے وہ بھی کافی ہے ۔ بشرطیکہ اس کی نیت درست ہو ، احسان ، ایذا اور ریا کاری سے پاک ہو۔ نیت بمنزلہ زمین کے ہے ، اگر زمین زرخیز ہے یعنی نیت درست ہے۔ تو تھوڑا خرچ کرنا بھی اس کے لیے مفید ہوگا ۔ جیسا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں آتا ہے۔ اخلص فی دینک یکفیک قلیل من العمل اپنے دین میں اخلاص پیدا کرلو ، تو تھوڑا عمل بھی کفایت کرے گا ۔ لہٰذانیکی کے ہر کام میں رضا الٰہی ہمیشہ پیش نظر ہونی چاہئے ، قبولیت کا یہی معیار ہے ۔ واللہ بما تعملون بصیر تم جو کچھ بھی کرتے ہو ، اللہ تعالیٰ اس کو خوب دیکھ رہا ہے۔ تمہارے کسی عمل سے غافل نہیں ۔ تمہارے دلوں کے حالات اور نیت سے واقف ہے ۔ وہ تمہارے اخلاص کے درجے کو جانتا ہے ، اس سے کوئی چیز اوجھل نہیں لہٰذا ہر کام کرتے وقت اپنی نیت کو درست کرلو۔ باغ کی مثال کسی متوقع نعمت کے ضائع ہوجانے پر کس قدر پریشانی ہوتی ہے۔ اسکی وضاحت چٹان والی مثال میں ہوچکی ہے۔ اب اللہ تعالیٰ اس قسم کی ایک اور مثال بیان فرماتے ہیں ۔ جس میں یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت پر ہی انسان کا انحصار ہو ، اور وہ ضائع ہوجائے تو انسان کو کس قدر دکھ ہوتا ہے اور اس کی امیدوں پر کس طرح پانی پھرجاتا ہے ۔ اسی طرح جب کوئی شخص نیکی کا کام کرنے کے باوجود بعض وجوہ کی بناء پر اس کے اجر وثواب سے محروم ہوجاتا ہے ، تو اس کے لیے کتنا اذیت ناک ہوتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ایود احدکم ان تکون لہ جنۃ من نخیل واعناب تجری من تحتھا الانھار کیا تم میں سے کوئی شخص یہ بات پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو ۔ جس کے سامنے نہریں بہتی ہوں لہ فیھا من کل السموات اس باغ میں ہر قسم کے پھل موجود ہوں واصابہ الکبر اور باغ کا مالک بڑھاپے کی عمر میں ہو ۔ ولہ ذریۃ ضعفاء اور اس کی اولاد کمزورہو ۔ یعنی ان کے لیے کوئی اور ذریعہ معاش بھی نہ ہو ۔ تو ایسی صورت میں فاصابھا اعصار فیہ نار فاحترقت باغ کسی بگولے کی لپیٹ میں آجائے جس کے اندر آگ ہو جو باغ کو جلا کر خاک کر ڈالے ۔ تو ذرا اندازہ کیجئے ، ایسی صورت میں اس باغ کے مالک کی کیا حالت ہوگی ۔ اس کا ایک ہی ذریعہ معاش تھا ، یہ باغ ہی اس کی کل پونجی تھی جس پر اس کا اور اس کی اولاد کا انحصار تھا ۔ جب یہ ہی جل کر خاکستر ہوگیا تو وہ کس طرح ہر چیز سے محروم ہوگیا ۔ فرمایا احسان جتلانے والے ایذاء پہنچانے والے یا ریا کاری کے لیے خرچ کرنے والے کی حالت بھی قیامت کے دن ایسی ہوگی ۔ جس طرح وہ باغ اپنے مالک کا کبر سنی کا سہارا تھا۔ اسی طرح یہ شخص اپنے خرچ کردہ مال کے اجر وثواب کی امید لگائے بیٹھا تھا ، مگر جب قیامت کا دن ہوگا ، تو ایسا شخص اسی طرح ثواب سے محروم ہوجائے گا۔ جس طرح باغ کا مالک باغ کے جل جانے کے بعد اس کے ثمرات سے محروم ہوگیا ، قیامت کے دن ایسا شخص ایک محتاج اور بالکل قلاش کے طور پر پریشان پھرے گا ، مگر اس کو فائدہ پہنچانے والی کوئی چیز اس کے پا س نہ ہوگی۔ فرمایا کذلک یبین اللہ لکم الایت اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے احکام یا نشانیاں تمہارے پاس کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔ لعلکم تتفکرون تا کہ تم غور و فکر کرسکو ۔ اچھی اور بری چیز میں امتیاز کرسکو لہٰذا آج صراط مستقیم پر گامزن ہو جائو تا کہ کل قیامت کو پریشانی سے بچ جائو۔
Ayahs 2:267–268

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ١۪ وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 2:267 in the Quran reader

اے ایمان والو ! وہ پاک چیزیں خرچ کرو ، جو تم نے کمائی ہیں ، اور اس میں سے بھی جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالی ہیں اور ردی چیز کا قصد نہ کرو کہ تم اس سے خرچ کرتے ہو ، اور خود اس سے لینے والے نہیں ، سوائے اس کے کہ تم اس میں چشم پوشی کرو ، اور جان لو کہ بیشک اللہ تعالیٰ بےپروا ہے اور تعریفوں والا ہے

اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًا١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۖۙ Open ayah 2:268 in the Quran reader

شیطان تم کو فقر کا وعدہ دیتا ہے ، اور بےحیائی کا حکم دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ تم کو اپنی طرف سے مغفرت اور فضل کا وعدہ دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

ربط آیات صدقات کی قبولیت کے متعلق تین شرائط کا پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ کسی کو خیرات دے کر نہ تو اس پر احسان جتلایا جائے ، نہ اسے تکلیف پہنچائی جائے اور نہ خرچ کرنے میں ریا کاری کا عنصر شامل ہو ، یعنی خالص نیک نیتی کے ساتھ رضائے الٰہی مقصود ہو ، اگر یہ چیزیں موجود ہوں گی ، تو صدقہ باطل ہوجائے گا ۔ اور دینے والا گناہ گار ہو کر الٹا وبال میں پڑجائے گا ۔ آج کے درس میں قبولیت کی چوتھی شرط مال کی پاکیزگی کا بیان ہے۔ قبولیت کی چوتھی شرط پاکیزگی مال ارشاد ہوتا ہے ۔ یایھا الذین امنوا انفقوا من طیبت ما کسبتم اے ایمان والو ! خرچ کرو پاک اور ستھری چیزیں جو تم نے کمائی ہیں ۔ گویا قبولیت صدقہ کے لیے یہ بھی ایک شرط ہے کہ صاف ستھری اور بہتر چیز اللہ کے راستہ میں دی جائے۔ مفسرین کرام نے طیبات کی تفصیل میں دو چیزیں بیان کی ہیں ۔ پہلی چیز یہ ہے کہ جو مال فی سبیل اللہ خرچ کیا جا رہا ہے ، وہ حلال ہو ، جائز ذرائع سے حاصل کیا گیا ہو ۔ حرام مال سے ادا کردہ صدقہ قابل قبول نہیں ۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص چوری ، ڈاکہ یا رشوت کا مال صدقہ کرتا ہے تو وہ بارگاہ ایزدی میں کیسے قبول ہوگا ، بلکہ ایسا کرنے سے انسان الٹا گناہ گار ہوگا ۔ مسند احمد کی روایت میں ہے کہ جو شخص حرام کمائی کی خوراک کھائے گا یا لباس پہنے گا ، نہ اس کی عبادت قبول ہوگی اور نہ اس کا صدقہ خیرات قبول ہوگا ، اور اگر ایساشخص مر گیا اور اپنے پیچھے مال چھوڑ گیا تو وہی مال اس کے لیے جہنم کا زاد راہ ہوگا ۔ بعض چیزیں تو شرعا ًقطعی حرام ہیں اور بعض مشتبہ ہوتی ہیں ۔ مشتبہ مال کی خیرات بھی درجہ قبولیت کو نہیں پہنچتی ، کیونکہ واضح حکم موجود ہے۔ کلوا مما فی الارض حلا لاطیبا یعنی حلال اور پاکیزہ چیزیں کھائو ، حرام سے پرہیز کرو۔ طیب کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جو چیز بھی صدقہ میں دی جا رہی ہے۔ وہ اعلیٰ اور بہتر ہو نہ کہ نکمی اور ردی چیز ، ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ اچھی چیز اپنے لیے رکھ لی جائے اور کم تر چیز زکوٰۃ و صدقات میں دی جائے ، یہ بھی مناسب ہیں ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ بعض لوگ ایسے ہیں جو کھجور کے اچھے گچھے اپنے واسطے محفوظ کرلیتے ہیں اور کمتر گچھے اصحاب صفہ ؓ کے لیے لٹکا دیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسی تقسیم نے منع فرمایا ہے ۔ جب تم خود ردی چیز کو پسند نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ اسے کیسے پسند کریگا ، لہٰذا زکوٰۃ و صدقات میں بہتر چیزدینی چاہئے۔ ذاتی کمائی میں سے خرچ فرمایا ، اے اہل ایمان ! ان پاکیزہ چیزوں میں سے خرچ کرو ما کسبتم جو تم نے کمائی ہیں ۔ اب کمائی کی بھی مختلف صورتیں ہیں ۔ منجملہ ان کے کمائی کا اولین ذریعہ انسان کی ذاتی محنت و مشقت ہے ۔ کوئی تجارت کرتا ہے ، دکاندار ہے ، ملازم ہے ۔ کارخانہ دار ہے یا مزدور ہے۔ یہ سب ذاتی آمدن کے ذرائع ہیں آمدن کے بعض دوسرے ذرائع اضطراری ہوتے ہیں ۔ جن میں انسان کی ذاتی مشقت کا دخل نہیں ہوتا ، مثلاً کہیں سے ہدیہ مل گیا ، وصیت کے ذریعے کوئی چیز حاصل ہوگی یا اسے وراثت سے حصہ مل گیا ۔ ان ذرائع سے حاصل شدہ مال بھی انسان کی ملکیت ہوتا ہے تو پاکیزہ چیزیں خرچ کرنے کا قانون ان تمام ذرائع سے حاصل شدہ آمدنی پر ہوگا ، لہٰذا حکم ہوا ہے کہ تم جس حلال مال سے بھی خرچ کرنا چاہو ، اچھی اور بہتر چیز دو ۔ اللہ کے راستے میں کم تر چیز دینے کی کوشش نہ کرو ۔ پہلے گزر چکا ہے ۔ انفقوا مما رزقنکم اس میں سے خرچ کرو جو ہم نے تمہیں دیا ہے۔ جب سارے کا سارا اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہے۔ تو پھر اسی کے نام پر اچھی سے اچھی چیز دینی چاہئے نہ کہ گھٹیا چیز کیونکہ دینے والا تو وہ خود ہی ہے۔ زرعی پیداوار میں سے خرچ براہ راست خود محنت کر کے کمانے کے علاوہ ایک ذریعہ آمدنی زرعی پیداوار بھی ہے۔ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس میں سے بھی خرچ کرو ومما اخرجنا لکم من الارض جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالا زرعی پیداوار میں ہر قسم کا غلہ مثلا ً گندم ، جو ، چاول ، مکئی ، باجرہ اور دالیں وغیرہ شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ ہر قسم کا پھل اور سبزیاں بھی زرعی پیداوار ہیں ۔ اب رہا یہ سوال کہ کتنا خرچ کیا جائے۔ تو سب سے پہلے جو کچھ قرض ہے ، وہ ادا ہونا چاہئے ، جس طرح تجارت وغیرہ کے مال میں کل مال کا چالیسواں حصہ زکوٰۃ فرض ہے۔ اس طرح زرعی پیدوار سے عشر یعنی دسواں حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا فرض ہے۔ البتہ اس مد کے دو حصے ہیں ۔ بارانی زمین یعنی جو زمین مالک کی مشقت کے بغیر سیراب ہوتی ہے ۔ اس میں سے دسواں حصہ اور جو نہری یا چاہی زمین ہے۔ جسے مالک خود محنت کر کے پانی بہم پہنچاتا ہے ، اس میں سے بیسواں حصہ نکالنا فرض ہے البتہ بعض خود رو چیزوں جیسے گھاس ، لکڑیاں اور کا نے ، ان تین چیزوں پر عشر نہیں ہے۔ یہ معاف ہیں اگر یہ چیزیں خود کاشت کی جائیں ۔ چارے کے لیے گھاس وغیرہ خو د بوئی جائے ، لکڑی کے لیے درخت لگائیں یا کا نے کی کاشت کی جائے ، تو پھر ان پر عشر ادا کرنا ہوگا ، امام ابوحنیفہ (رح) کا یہی فتویٰ ہے ۔ عشر کی ادائیگی تو فرض ہے ۔ یہ تو لازمی ہے اس کے علاوہ اگر کوئی مزید خرچ کرے گا تو وہ نوافل میں شمار ہوگا اور موجب اجر وثواب ہوگا ۔ یہاں پر ایک شبہ کا ازالہ ضروری ہے۔ حضور ﷺ کی حدیث ہے۔ لیس فی الخضروات صدقۃ یعنی سبزیوں میں صدقہ نہیں ہے ، حالانکہ یہ بھی زرعی پیدوار ہے اور زمین ہی سے نکلتی ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سبزیوں پر عشر بالکل معاف ہے ، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سبزیوں کا عشر کاری خزانے میں جمع کرانے کی ضرورت نہیں مالک خود اپنی صوابدید کے مطابق مستحقین میں تقسیم کر دے ۔ اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ سبزیاں جلد خراب ہوجانے والی چیز ہے سرکاری انتظام میں پہنچتے پہنچتے اور پھر تقسیم ہونے تک اس کے ضائع ہوجانے کا خدشہ ہے ۔ اس لیے سبزی عشر یعنی دسواں یا بیسواں حصہ مالک کو خود تقسیم کردینا چاہئے ۔ مثال کے طور پر اگر سبزی کے دس گٹھے حاصل ہوئے ہیں ۔ تو ان میں سے ایک اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے دے ، یا اگر زمین چاہی یا نہری ہے۔ تو بیس گٹھوں میں سے ایک اد ا کرے ۔ علی ہذا القیاس یہی مسلک قرآن و سنت سے موافقت رکھتا ہے۔ زرعی پیداوار کے نصاب کے متعلق فقہائے کرام میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض فرماتے کہ دو سو درہم سے کم مالیت کی زرعی پیداوار پر عشر ہیں ہے کیونکہ یہ حدیث سے ثابت ہے کہ پانچ وسق سے کم اناج پر عشر نہیں اور پانچ وسق دو سو درہم کا بنتا ہے مگر امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث تجارتی مال سے متعلق ہے ۔ جس شخص کے پاس تجارت کی غرض سے پانچ وسق سے کم اناج ہے وہ زکوٰۃ نہ دے کیونکہ یہ نصاب کو نہیں پہنچتا ۔ البتہ زرعی پیدوار کے متعلق فرماتے ہیں کہ زرعی پیدوار قلیل ہو یا کثیر اس پر عشر ضروری ہے کیونکہ اس کے متعلق حدیث میں واضح الفاظ آئے ہیں ۔ زمین کے مالک کو زرعی پیداوار کی کم سے کم مقدار پر بھی عشر ادا کرنا ہوگا ۔ البتہ یہ سوال باقی رہتا ہے کہ عشر کون ادا کرے ، مالک اراضی یا کاشتکار یا دونوں ۔ بعض فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ عشر کی ادائیگی کا شتکار پر لازم آتی ہے ۔ مالک اراضی پر نہیں ، تا ہم راحج قول یہ ہے کہ عشر کی ادائیگی کے حصہ رسدی دونوں ذمہ دار ہیں ۔ انہیں چاہیے کہ کل پیداوار سے پہلے عشر نکالیں اور باقی اناج وغیرہ آپس میں تقسیم کریں۔ مع دنیات سے خرچ زمین کی پیداوارکا ایک اور ذریعہ مع دنیات ہیں ۔ عام زمین میں اور پہاڑوں میں کانیں پائی جاتی ہیں جن سے تانبہ ، نمک ، کوئلہ ، لوہا ، سونا ، چاندی ، تیل وغیرہ نکلتا ہے ۔ ان تمام چیزوں کی زکوٰۃ خمس یعنی کل آمدنی کا پانچواں حصہ ہے۔ چونکہ ان اشیاء کی پیداوار کے لئے عموماً محنت کی ضروت نہیں ہوتی ، نہ بیج نہ پانی نہ نہلائی وغیرہ اس لیے اس کی کل آمدنی کا پانچواں یعنی بیس فیصد ادا کرنا ضروری ہے۔ البتہ ایک مسئلہ فقہائے کرام کے درمیان مختلف فیہ ہے کہ ان کانوں کا مالک کون ہے ۔ اما م ابوحنیفہ (رح) ، امام شافعی (رح) اور امام احمد (رح) فرماتے ہیں کہ کانوں کا مالک وہ شخص ہے جس کی اراضی سے مع دنیات برآمد ہو ۔ لہٰذا خمس بھی وہی ادا کرے گا ۔ اگر یہ مع دنیات کسی عام جنگل ، صحرا یا سمندر سے نکلیں تو ان کی مالک حکومت ہوگی البتہ امام مالک (رح) کا مسلک یہ ہے کہ کان خواہ کہیں بھی نکلے ، اس کی مالک حکومت ہے ۔ امام مالک صاحب (رح) انفرادی ملکیت کو تسلیم نہیں کرتے۔ خبیث مال قابل قبو ل نہیں بہر حال فرمایا کہ اگر کمائی تمہاری ذاتی محنت و مشقت کی ہے تو پھر اس میں سے حلال اور طیب چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور جو زمین کی پیداوار ہے اس میں سے بھی اچھی چیز خرچ کرو ، ولا تیموا الخبیث منہ تنفقون اور ردی یا کم تر چیز کو خرچ کرنے کا ارادہ نہ کرو ۔ خبیث سے مراد ردی یا گھٹیا چیز ہے اور اس کا اطلاق نا پاک چیز پر بھی ہوتا ہے۔ اللہ کی راہ میں صاف ستھری چیز دینی چاہئے کیونکہ ولستم با خذیہ گھٹیا چیز جب تم خود لینے کے لیے تیار نہیں ہو تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایسی چیز کیوں دیتے ہو ۔ گھٹیا چیز قبول کرنے کی ایک صورت ہے کہ الا ان تغمضوا فیہ تم خود چشم پوشی کرلو ، مگر یہ تم کرنے کے لیے تیار نہیں ہو ، لہٰذا اللہ کی راہ میں بھی اچھی سے اچھی خرچ کرو ۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ لن تنالو البر حتی تنفقوا مما تحبون تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز خرچ نہ کرو۔ ظاہر ہے کہ ہر شخص کے لیے اچھی ، صاف ستھری اور بہتر چیز ہی پسندید ہوتی ہے ، لہٰذا بہتر چیز ہی فی سبیل اللہ بھی ادا کرو۔ پاکیزہ چیز کے سلسلہ میں ترمذی شریف کی حدیث ہے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا لا تقبل صلوۃ بغیر طھور ولا صدقۃ من غلول یعنی طہارت کے بغیر اللہ تعالیٰ نماز قبول نہیں کرتا اور خیانت کے مال سے صدقہ قبول نہیں کرتا لہٰذا جس مال کی زکوٰۃ ، صدقات ، خیرات وغیرہ دی جا رہی ہے۔ اس کا حلال اور طیب ہونا بھی ضروری ہے واعلموا اچھے سے جان لو ان اللہ غنی حمید کہ اللہ تعالیٰ ۔۔۔ بےپروا ۔۔۔۔ اور بےنیاز ہے ، اس کو تمہارے صدقات و خیرات کی کوئی ضرورت نہیں یہ تو تمہارے اپنے ہی فائدے کے لیے ہے تا کہ تم اس سے آخرت میں مستفید ہو سکو ، یہ دنیا میں قوم کے غرباء و مساکین کی اعانت کا ایک ذریعہ ہے نیز تمہارے اپنے اخلاق بھی اس کی وجہ سے عالی ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ تم پر راضی ہوں گے ، اللہ تعالیٰ حمید یعنی تمام خوبیوں کا مالک خود ہے تم اچھا کام کرو یا برا کرو ، وہ بےنیاز ہے۔ تمہارے اچھے اعمال نہ اس کی خدائی میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ تمہارے برے اعمال اسکی خدائی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہے تو اس کی راہ میں خرچ کرو ، اور اس کا شکریہ ادا کرو کہ اس نے تمہیں انعام سے نوازا ہے۔ شیطان کا بہکاوا فرمایا ، دیکھنا اس معاملے میں شیطان کے بہکاوے میں نہ آجانا ۔ شیطان کی یہ ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ طرح طرح کے وسوسے ڈال کر انسان کو نیک عمل سے روکنے کی کوشش کرتا ہے ، چناچہ انفاق فی سبیل اللہ کے سلسلے میں الشیطن یعد کم الفقر شیطان تمہیں فقر سے ڈراتا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ شیطان انسان پر اس طرح حملہ آورہوتا ہے کہ اگر مال تھوڑا ہے تو وہ بہکاتا ہے کہ اگر یہ مال صدقات میں دے دیا تو پھر تمہارے پاس کچھ نہیں بچے گا ۔ تم مفلس ہو کر دوسروں کے محتاج ہو جائو گے۔ جب اس قسم کا خیال آئے تو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ شیطانی وسوسہ ہے ۔ اگر مال قلیل بھی ہے تو اس میں سے کچھ نہ کچھ دے دو ، اللہ تعالیٰ بقیہ مال میں برکت دیگا۔ فرمایا وما انفقتم من شی فھو یخلفہ اگر خرچ کروگے تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ کسی دوسرے ذریعے مال دے دیگا ، لہٰذا بخل نہیں کرنا چاہئے ، بلکہ فراخدلی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کو وافر مال دیا ہے ۔ تو پھر شیطان دوسرے طریقے سے حملہ کرتا ہے ویامر کم بالفحشاوہ تمہیں بےحیائی کا حکم دیتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مالدار آدمی کو فحاشی کے کاموں کی طرف لگا دیتا ہے کہ فکر نہ کرو تمہارے پاس بہت مال ہے ۔ خوب عیش و عشرت کی زندگی بس کرو۔ دنیا میں بار بار نہیں آنا لہٰذا کھائو پیو ، عیش کرو یا پھر اس کا مال کھیل تماشے اور فضول رسم و رواج میں خرچ کراتا ہے۔ کہیں دھوم دھام سے شادی ہو رہی ہے۔ سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ باجے بجائے جا رہے ہیں ، چراغاں کیا جا رہا ہے کہیں عرس منائے جا رہے ہیں اور لاکھوں روپیہ ان فضول رسم و رواج پر ضائع کیا جا رہا ہے یہ سب شیطان کے بہکاوے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ فرمایا اس کے بر خلاف اللہ تعالیٰ تمہیں ابدی نعمتوں سے نوازنا چاہتا ہے۔ واللہ یعدکم مغفرۃ منہ وفضلا ً اللہ تعالیٰ تم سے مغفرت اور فضل کا وعدہ کرتا ہے ، اگر اس کے حکم کے مطابق اس کے راستے میں خرچ کرو گے ۔ تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف فرمادے گا ۔ دنیا میں بھی برکت عطا کرے گا اور آخرت میں اپنے فضل سے جنت میں داخل کر دے گا یہ اس کا وعدہ ہے ، لہٰذا شیطان کے بہکاوے میں نہ آنا اللہ تعالیٰ کے وعدے پر یقین کرے کے اس کے احکام کی بجا آوری کرو اور دائمی فلاح پا جائو ۔ واللہ واسع علیم اللہ تعالیٰ بڑا ہی وسعت والا ہے۔ اس کے خزانے بہت وسیع ہیں وہ اپنے بندوں کو مایوس نہیں لوٹاتا بلکہ انہیں دگنا چوگنا عطا کرتا ہے۔ وہ ہر چیز کو جاننے والا بھی ہے۔ وہ علیم بذات الصدور بھی ہے۔ تمہاری نیتوں تک سے واقف ہے۔ جس قدر اخلاص تمہارے دلوں میں موجود ہوگا اللہ تعالیٰ اس کے مطابق بڑھا چڑھا کر تمہیں عطا کریں گے۔
Ayahs 2:269–270

یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 2:269 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ جس کو چاہے حکمت عنایت فرماتا ہے اور جس کو حکمت دی گئی ، اسے بہت زیادہ بھلائی عطا کی گئی ، اور نہیں نصیحت قبول کرتے مگر وہ لوگ جو عقل والے ہیں

وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 2:270 in the Quran reader

اور تم جو بھی خرچ کرو صدقہ خیرات یا کوئی نذر مانو نذر ماننا تو بیشک اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے اور ظلم کرنے والوں کے لیے کوئی مدد گار نہیں

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے صدقہ و خیرات کی قبولیت سے متعلق چار شرائط کا ذکر فرمایا ہے جن میں خیرات دیکر احسان نہ جتلانا ، ایذا نہ پہنچانا ، ریا کاری سے اجتناب اور پاکیزگی مال شامل ہیں ۔ باقی شرائط کا ذکر اگلے دروس میں آئے گا ۔ یہاں درمیان میں اللہ تعالیٰ نے حکمت کی تشریح بیان کی ہے اور اسے خیر کثیر سے تعبیر کیا ہے۔ اس میں نذر ماننے کے متعلق بیان بھی ہے کہ یہ کس حد تک جائز ہے۔ حکمت کا مفہوم ارشاد ربانی ہے ۔ یوتی الحکمۃ من یشاء اللہ تعالیٰ جسے چاہے حکمت عطا کرتا ہے ، حکمت کا مادہ احکام سے نکلا ہے ، جو پختگی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ، لہٰذا حکمت سے مراد وہ چیز ہے جو پختہ ہو اور پھر صدقہ کے ساتھ اس کے مختلف اثرات پیدا ہوتے ہیں۔ حکمت کا عام معنی فہم اور سمجھ کیا جاتا ہے بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں العلم النافع المودی الی العمل یعنی حکمت ایسے علم کو کہا جاتا ہے ،۔ جو مفید ہو اور انسان کو عمل تک پہنچائے۔ امام مالک (رح) حکمت کا معنی سنت کرتے ہیں ۔ حکیم خدا تعالیٰ کی صفت بھی ہے اور قرآن کریم کو بھی حکمت کہا گیا ہے اور حضور ﷺ کی سنت مبارکہ کو بھی حکمت کا نام دیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ باقی سمجھ یا دانائی کی باتیں بھی حکمت میں شمار ہوتی ہیں۔ حضرت لقمان (رح) کے نام پر قرآن پاک میں سورة موجود ہے ۔ آپ نبی نہیں تھے ، بلکہ حکیم تھے عربی میں حکیم اس شخص کو کہتے ہیں من اتقن العلم والعمل جو علم اور عمل دونوں ۔۔۔ میں پختہ ہو ۔ علاج معالجہ کرنے والے کو عربی زبان میں حکیم نہیں بلکہ طبیب کہتے ہیں ۔ بہر حال حکمت کا اعلیٰ ترین درجہ انبیاء (علیہم السلام) کو حاصل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ عام مخلوق میں سے اللہ تعالیٰ جس کو چاہے حکمت و دانائی میں حصہ عطا کرتا ہے۔ بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کی سمجھ بہت بڑی حکمت ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ عطا کر دے۔ حضرت علی ؓ کی روایت میں آتا ہے ۔ حضور ﷺ نے ہمیں عام مسلمانوں سے الگ کوئی خاص چیز نہیں دی ۔ او فھما اوتیہ رجل ہاں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی سمجھ دے دی ہو ، تو اس سے انکار نہیں کرتے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت ہے اور خاص طور پر پورے دین کا فہم اور سمجھ حکمت ہے ترمذی شریف کی روایت میں حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے منافق کو دو چیزوں سے محروم رکھا ہے ، ایک اچھا اخلاق اور دوسرے دین کی سمجھ ۔ بخاری شریف کی روایت میں حضور کا فرمان ہے من یرد اللہ بہ خیرا یفقھہ فی الدین اللہ تعالیٰ جس کے بارے میں بہتری کا ارادہ فرماتا ہے۔ اسے دین میں سمجھ عطا کرتا ہے ، پھر جب اس سمجھ کے مطابق عمل کرتا ہے ، تو ایسا شخص ہی حکیم کہلاتا ہے۔ اس زمانہ میں حکیم کے ہم معنی الفاظ دانشور ، علامہ یا ڈاکٹر ( پی ایچ ڈی) وغیرہ استعمال کیے جاتے ہیں ، مگر یہ استعمال درست ہیں ہے ۔ حکیم کے لیے ضروری ہے کہ علم کی پختگی کے ساتھ اس پر عمل بھی ہو ۔ موجودہ دور میں بیشک بڑی بڑی ڈگریاں تو حاصل کرلی جاتی ہیں ، مگر وہ عمل کہاں ہے جو حکمت کی اصل روح ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے۔ راس الحکمۃ مخافۃ اللہ حکمت کی جڑ اور بنیاد خوف الٰہی ہے ۔ حکیم وہی ہو سکتا ہے ۔ جس کے دل میں خوف خدا ہو ، وگرنہ محض علم حاصل کرنے سے کوئی شخص حکیم نہیں ہو سکتا ۔ انفاق پر حکمت کا اثر گزشتہ درس میں گزر چکا ہے کہ شیطان تمہیں فقر سے ڈراتا اور بےحیائی کا حکم دیتا ہے۔ شیطان انسان کو یہ پٹی پڑھاتا ہے کہ دیکھو اپنے مال کو خرچ نہ کرنا ، اگر خرچ کردیا تو تم مفلس ہو جائو گے ۔ تمہارے بیوی بچے بھوکوں مر جائیں گے ، تمہارا بڑھاپے کا سہارا ختم ہوجائے گا ، وغیرہ وغیرہ ۔ اس شیطای وسوسے سے وہی شخص بچ سکتا ہے جسے قرآن پاک کا فہم ہوگا ۔ فہم قرآنی والا شخص ہی سوچے گا کہ انفاق فی سبیل اللہ اسے مال کم نہیں ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ اس میں مزید برکت دینگے ، اسی چیز کا نام حکمت ہے اسی طرح گویا حکمت انفاق سبیل اللہ پر اثر انداز نہیں ہوگا۔ حکمت منبع حسات ہے فرمایا اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے۔ ہر آدمی حکمت حاصل نہیں کرسکتا ، البتہ جس شخص میں جس قدر حکمت کے حصول کی استعداد ہوتی ہے۔ اسکے مطابق وہ اپنا حصہ وصول کرلیتا ہے اور پھر اس کا نتیجہ یہ کلتا ہے ومن یوت الحکمۃ فقد اوتی خیرا کثیرا ً جسے حکمت عطا کردی گئی ، اسے خیر کثیر سے نوازا گیا ۔ گویا حکمت یعنی فہم قرآن یا فہم دین تمام خوبیوں کا منبع ہے اور فہم علم کے ذریعے حاصل ہوتا ہے اور علم کی روشنی دینی مدارس میں پھیلا رہے ہیں ۔ برصغیر میں دارالعلوم دیو بند تقریباً سوا سو سال سے مصروف کار ہے۔ اس نے ایک صدی کے عرصہ میں چالیس ہزار علماء تیار کیے ہیں ، جو صحیح معنوں میں دین کا فہم رکھنے والے لوگ ہیں ۔ انہوں نے دنیا کے کونے کونے میں علم دین کی شمع روشن کی ہے۔ حضرت علی ؓ اپنے بیٹوں کو نصیحت فرما رہے تھے ، انہوں نے شکوے کے طور پر فرمایا بہت سے آدمی شکل و صورت میں انسان نظر آتے ہیں مگر حقیقت میں وہ جانوروں جیسے ہیں ۔ جب مال میں کمی واقع ہوتی ہے تو فوراً سمجھ جاتے ہیں مگر دین سارے کا سارا دین بھی برباد ہوجائے تو انہیں کچھ پروا نہیں ۔ حضرت شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ عقل دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک عقل وہ ہے جو ماہر معاشیات ہے۔ معاش میں ذرہ بھرکمی بیشی آئے تو فوراً سمجھ جاتے ہیں ، مگر دین کے معاملے میں بڑے سے بڑا نقصان بھی انہیں اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکتا۔ دنیا کے بڑے بڑے فلاسفروں ، بیرسٹروں اور دانش وروں میں یہی خرابی پائی جاتی ہے کہ ان کی عقل معاش تو اعلیٰ درجے کا ہے مگر وہ معاد کے معاملے میں بالکل کورے ہیں۔ حقیقت میں کامل شخص وہ ہے جو قیامت اور اپنی باز گشت کے مقام کو سمجھتا ہے ۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے صدقات و خیرات کے ضمن میں یہ آیات نازل فرمائیں۔ گفت حکمت ر خدا خیر کثیر ہر کجا ایں خیر را بینی بگیر اللہ تعالیٰ نے حکمت کو خیر کثیر فرمایا ہے ، یہ جس جگہ بھی ملے اس کو اختیار کرلو ، ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے۔ کلمۃ الحکمۃ ضالۃ المون حکمت کی بات مومن کی گم شدہ چیز ہے۔ اسے جہاں پاتا ہے ، حاصل کرلیتا ہے۔ حکمت ہی ایسی چیز ہے جو مومن کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے ۔ لہٰذا مومن ہمیشہ اس کا متلاشی رہتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے کسی اعلیٰ عہدہ منصب یا کسی دوسری قیمتی یا قیمتی چیز کو خیر کثیر سے تعبیر نہیں کیا ، مگر یہ لقب صرف حکمت کو عطا ہوا ، کیونکہ حکمت تمام خوبیوں کا منبع ہے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ حکمت کی انتہاء یہ ہے کہ انسان افضل الاشیا کو افضل العلوم سے معلوم کرے۔ افضل الاشیاء خدا تعالیٰ کی ذات ، وحدانیت اور اس کی صفات ہیں ، لہٰذا جو شخص علم کے ذریعے اس راز کو پا لے گا ، وہی صاحب حکمت ہوگا اور پھر علم بھی محض زبانی کلامی نہ ہو ، بلکہ اس میں دل کی حضوری اور عقل کا کمال شامل ہو ، لہٰذا جسے حکمت عطا کی گئی اسے گویا بہت بہتری دے دی گئی اور یہی چیز منبع صفات اور ہر چیز کی جڑ اور بنیاد ہے۔ فرمایا وما یذکر الا اولوالالباب یاد رکھو نصیحت قبول نہیں کرتے۔ مگر وہ جو عقل والے ہیں اور پھر عقل کو صحیح طور پر استعمال بھی کریں۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے الصم البکم الذین لا یعقلون وہ لوگ بہرے اور گونگے ہیں ۔ جو عقل کو درست طریقے سے استعمال نہیں کرتے کافروں کی مثال اللہ نے بیان فرمائی کہ وہ جانوروں سے بھی مدبر ہیں ۔ اولئک کالا نعام بل ھم اضل کیونکہ جانور بھی بعض باتیں سمجھتے ہیں ، مگر جو لوگ جانوروں سے بھی بدتر ہیں ، وہ کچھ بھی نہیں سمجھتے ۔ فرمایا نصیحت کو بھی وہی شخص قبول کرتا ہے ، جس کے اندر دانائی اور عقل ہوگی ، دوسرے شخص کو نصیحت سے کچھ فائدہ نہیں پہنچتا۔ مسئلہ نذر انفاق فی سبیل اللہ ہی کے ضمن میں یہاں پر نذر کا مسئلہ بیان ہو رہا ہے۔ وما انفتسم من نفقۃ اور تم جو بھی خرچ کرو کوئی خرچہ ہو مطلب صدقہ و خیرات ہی ہے۔ او نذرتم من نذر یا کوئی نذر مانو فان اللہ یعلمہ اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے۔ یہاں پر نذر کو صدقہ کے مقابلہ میں ذکر کیا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ صدقہ و خیرات تو بلا شبہ حسنات میں سے ہے۔ مگر نذر جائز ہونے کے باوجود خطرے سے خالی نہیں ، چناچہ حدیث شریف میں آیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نذر نہ مانا کرو ، کیونکہ یہ آدمی کو تقدیر سے نہیں بچا سکتی ۔ حدیث کے الفاظ ہیں لا یغنی نذر عن قدر جو کچھ تقدیر میں ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ نذرز بخیل لوگ مانتے ہیں ، وگرنہ فیاض آدمی شرط نہیں لگاتے۔ وہ تو غیر مشروط طور پر اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں۔ گویا نذر ماننا مشروط عبادت ہے کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو میں اتنے نوافل ادا کرونگا یا روزے رکھوں گا یا اتنا صدقہ خیرات کروں گا وغیرہ وغیرہ ۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرط ۔۔۔ باندھنے والی بات ہے اور پھر یہ ہے کہ جب وہ کام ہوجائے تو نذر کا پورا کرنا ضروری ہوجاتا ہے بشرطیکہ وہ نذر جائز ہو اور اگر نذر کو پورا نہ کیا تو انسان گناہ گار ہوتا ہے۔ نذر معصیت حضورعلیہ السلام کا فرمان ہے لا نذر فی معصیۃ اللہ گناہ کے کام میں نذر ماننا جائز نہیں اور اگر ایسا کر ہی لیا ہے تو پھر اس کا پورا کرنا درست نہیں بلکہ اس کو توڑ کر نذر کا کفارہ ادا کردینا چاہئے۔ فقہ کا مسئلہ ہے النذر عبادۃ منت بمنزلہ عبادت ہے اور عبادت بدنی بھی ہو سکتی ہے اور مالی بھی ، بدنی عبادت کی مثال نوافل یا روزے ہیں اور مالی عبادت میں صدقہ خیرات یا جانور ذبح کرنا ہے اسی لیے فرمایا کہ گناہ کے کام کے لیے یہ عبادت جائز نہیں ہے اور اگر نذ ر غیر اللہ کے تقرب کے لیے مانی جائے تو یہ شرک بن جاتا ہے۔ جیسا کہ ہماری فقہ کی کتابوں عالمگیری اور شامی وغیر ہ میں موجود ہے فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ جو لوگ قبروں کا غلاف پکڑتے ہیں اور نذر مانتے ہیں کہ اے بزرگ ! اگر میرافلاں کام ہوگیا تو تمہارے دربار فلاں نذرانہ پیش کروں گا ، فرمایا ایسی چیز بالا جماع باطل اور حرام ہے کیونکہ نذر عبادت ہے اور عبادت صرف اللہ ہی کی ہو سکتی ہے۔ ہاں اگر ایسی منت مانے کہ اگر فلاں کام ہوگیا تو اسی بزرگ کو ایصال ثواب کے لیے محتاجوں کی یہ خدمت کروں گا تو وہ الگ بات ہے اور اگر بزرگ کو ہی حاجت روا سمجھ لیا تو کفر شرک میں مبتلا ہوگیا ۔ اسی لیے امام مالک (رح) اور امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ معصیت کی نذر سرے سے نذر ہوتی ہی نہیں ۔ جیسے کوئی کہے کہ فلاں کام ہونے پر دس آدمیوں کو شراب پلائوں گا ۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ مزاروں پر تیل چڑھانا ، موم بتیاں جلانا ، چادریں چڑھانا ، بکرے چڑھانا یہ سب باطل اور ناجائز منت میں شامل ہیں اور اگر ایسا کرنے سے مراد بزرگ کی قربت حاصل کرنا ہے ۔ تو پھر بھی شرک میں داخل ہے اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ خدا کے علاوہ یہ بھی ہماری حاجات پوری کرتے ہیں تو بھی کفر ہے اور اگر محض مجاوروں کو کھلانا مقصود ہے تو یہ تخصیص بھی غلط ہے۔ اپنے گلی محلے ، گائوں شہر کے غرباء و مساکین کو کھلائو ، ان کی جائز ضروریات کا خیال رکھو۔ مزاروں پر تو عموماً اوباش قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔ اگر نیت درست بھی ہو ، تو بھی ایسے لوگوں کو کھلانا جائز نہیں ۔ کیونکہ وہ ” محتاج نہیں بلکہ پیشہ ور گدا گر ہیں ، مزاروں پر موجود انتظامی عملہ بھی کھانے پینے میں شریک ہوتا ہے ۔ حالانکہ وہ بھی اس کے حق دار نہیں ہوتے اگر صاحب نصاب ہے تو منت کا مال تو خود منت ماننے والا بھی نہیں کھا سکتا ۔ جس طرح زکوٰۃ کے حق دار صرف اس کے مستحقین ہیں ۔ اسی طرح نذر کا مال بھی غرباء و مساکین کا حق ہے ، لہٰذا نذر کا مال قبروں کے مجاوروں اور دیگر لواحقین کو کھانا کسی طور پر جائز نہیں۔ تا ہم امام ابوحنیفہ (رح) اور امام احمد (رح) فرماتے ہیں کہ معصیت کی نذر بطور نذر تو ہوجاتی ہے۔ مگر اس کو توڑنا ضروی ہے ۔ حدیث شریف کے الفاظ ہیں کفارتہ کفارۃ الیمین اس قسم کی نذر کو توڑ کر اس کا کفارہ ادا کردو مگر معصیت کی نذر کو پوا نہ کرو نذر کا کفارہ بھی وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے یعنی دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا کپڑے پہنانا ، ایک غلام آزاد کرنا ، یا تین روزے رکھنا ، ہاں اگر نذر جائز ہے تو اس کو پورا کرنا چاہئے ، جیسے مسجد میں چٹائیاں بچھا دے ، طالب علموں کو کھانا کھلا دے ، ان کی کتب کا بندوست کر دے وغیرہ وغیرہ۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم جو بھی نذر مانو فان اللہ یعلمہ تو اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے کہ تم نے کس نیت کے ساتھ منت مانی ہے نذر جائز ہے یا ناجائز ، تم لوگوں کو دھوکا دے سکتے ہو کہ فلاں کام فلاں نیت سے کیا ہے ، مگر اللہ تعالیٰ تو تمہارے دلوں کے رازوں سے واقف ہے ، وہ تمہاری ظاہر اور پوشیدہ سب باتوں کو جانتا ہے۔ ظالم بےیارو مدد گار ہونگے وما للظلمین من انصار ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں ہوگا ، شرک سب سے بڑا ظلم ہے ، لہٰذا جو کوئی شرک کا ارتکاب کرتا ہے۔ کفر کرتا ہے ، غیر اللہ کی منت مانتا ہے۔ مستحقین کو نظر انداز کرتا ہے کسی قسم کی زیادتی کرتا ہے ، حق تلفی کا مرتکب ہوتا ہے۔ غرضیکہ جو بھی کوئی بڑے سے بڑا یا چھوٹے سے چھوٹا ظلم کریگا ، وہ مدد کے قابل نہیں ہے ، اس کا کوئی مدد گار نہیں ہوگا ، جو شخص نماز نہیں پڑھتا ، جنابت کی حالت میں غسل نہیں کرتا روزنہ نہیں رکھتا گویا اپنے آپ پر ظلم کر رہا ہے۔ استطاعت کے باوجود حج نہ کرنا ، فرائض کو ترک کرنا ، کسی کو تنگ کرنا یہ سب ظلم میں شمار ہوتا ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے الظلم ظلمات یوم القیامۃ قیامت کے روز اس دنیا میں کیا ہوا ظلم اندھیروں کی صورت میں سامنے آئے گا اس لیے فرمایا اسدن ظلم کرنے والوں کا کوئی یارو مد دگار نہیں ہوگا ظالم اپنے ظلم کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہوں گے مگر ان کی خلاصی کے لیے کوئی مدد نہیں پہنچے گی ، لہٰذا انسان کو چاہئے کہ نہ عبادت میں ظلم کا ارتکاب کرے ، نہ معاملات میں اور نہ حقوق میں غرض کسی چیز میں ظلم نہیں کرنا چاہئے۔
Ayahs 2:271–272

اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَ١ۚ وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ یُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:271 in the Quran reader

اگر تم صدقات کو ظاہر کرو ، تو یہ اچھی بات ہے ، اور اگر ان کو چھپائو اور ( پوشیدہ طور پر) فقرا کو دے دو ، تو یہ تمہارے لیے بہت بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ تم سے برائیاں دور کرے گا ، اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو ، اس کی خبر رکھتا ہے

لَیْسَ عَلَیْكَ هُدٰىهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:272 in the Quran reader

آپ کے ذمے نہیں ہے ان لوگوں کو راہ راست پر لانا ، مگر اللہ راہ راست پر لاتا ہے جس کو چاہے ، اور جو کچھ اپنے مال سے خرچ کرتے ہو ، وہ تمہارے نفسوں کے لیے ہے اور تم نہیں خرچ کرتے مگر اللہ کی رضا کے لیے اور جو کچھ بھی تم مال سے خر چ کرو گے تم کو اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور تم پر ظلم نہیں کیا جائیگا

ربط آیات اس سے پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں صدقات و خیرات کے متعلق سات اصول بیان کیے ہیں ، جن میں سے چار کا ذکر گزشتہ آیات میں آ چکا ہے۔ آج کے درس میں پانچویں بات کا بیان ہے کہ صدقات و خیرات ظاہری طور پر بھی ادا کیا جاسکتا ہے اور باطنی پوشیدہ طور پر بھی ، تا ہم خفیہ طور پر دنیا زیادہ بہتر ہے۔ اس کے بعد چھٹی بات کا ذکر ہے کہ صدقہ و خیرات غیر مسلم کو بھی دیا جاسکتا ہے۔ ساتویں بات کا ذکر آئندہ درس میں آئے گا ۔ ابدایا اخفا مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ صدقہ خیرات سے متعلق سب سے اہم چیز دینے والے کی نیت ہے اگر خدا نخواستہ نیت میں فتور آ گیا ہے کسی کو احسان جتلانے یا ایذا پہنچانے کے لیے یاریا کاری کے طور پر دیا تو صدقہ باطل ہوجائے گا تا ہم نیک نیتی کے ساتھ ظاہراً یا باطنا ً دونوں طرح دینا جائز ہے ، البتہ اس کی افضلیت کے متعلق فقہائے کرام میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ رئیس المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ فرض صدقات یعنی زکوٰۃ اور عشر کو ظاہر کر کے دینا چاہئے اور نفلی صدقات کو پوشیدہ طور پر دینا بہتر ہے ۔ بر خلاف اس کے امام حسن بصری (رح) ، امام رازی (رح) ، مولانا شاہ اشرفعلی تھانوی (رح) اور بعض دیگر مفسرین فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صدقات کو پوشیدہ طور پر ادائیگی کو افضل فرمایا ہے ۔ خواہ وہ صدقہ فرض ہو یا نفلی مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ افضلیت اس بناء پر ہے کہ خفیہ دینے سے ایک تو ریا کا امکان باقی نہیں رہتا دوسرے لینے والے کی عزت نفس مجروح نہیں ہوتی ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے بہتر قرار دیا ہے۔ بعض اوقات کسی شخص کے مال کو ظاہر نہ کرنے میں بھی مصلحت ہوتی ہے اگر زکوٰۃ ظاہر کر کے دی جائے تو کل مال کا علم ہوجاتا ہے ، لہٰذا اس لحاظ سے خفیہ دنیا بہتر ہے۔ البتہ ظاہر کر کے دینے میں ایک مصلحت بھی ہے کہ دیکھنے والے کو بھی شوق پیدا ہو کہ وہ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرے ، اگر اس نیت سے کھلے طور پر صدقہ خیرات کرے تو یہ مناسب ہوگا ۔ بایں ہمہ اکثر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں خفیہ طور پر خرچ کرنا افضل ہے۔ اس کی تصدیق صحیحین کی روایت سے بھی ہوتی ہے ، جن سات آدمیوں کے متعلق حضور ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ان کو رب العزت کے عرش کے نیچے جگہ ملے گی ۔ ان میں سے ایک آدمی وہ ہے تصدق بیمینہ حتی لا تعلم شمالہ کہ دائیں ہاتھ سے صدقہ کرتا ہے مگر بائیں ہاتھ کو خبر نہیں ہوتی ، اس قدر خفیہ طور پر خرچ کرتا ہے۔ الغرض فرمایا ان تبدوا الصدقت فنعما ھی اگر تم صدقات کو ظاہر کرو تو یہ اچھی بات ہے کہ اس میں اقتداء کا پہلو نکلتا ہے کہ اس کو دیکھ کر دوسرا بھی انفاق فی سبیل اللہ کے لیے تیار ہوجائے اور اگر زکوٰۃ ادا نہیں کرتا تو کرنے لگ جائے ۔ اس کے علاوہ ایسا شخص لوگوں کو طعن وتشنیع سے بھی بچ جائیگا ۔ جب وہ لوگوں کے سامنے صدقہ خیرات کریگا تو کنجوس کہلوانے سے بچ جائے گا ۔ وان تخفوھا وتوتوھا الفقراء اور اگر تم اسے چھپائو اور فقراء کو دے دو ۔ فھو خیر لکم تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے کہ اس سے نہ تو ریا کاری لازم آئے گی اور نہ لینے والے کی عزت نفس مجروح ہوگی ۔ پھر صدقہ و خیرات کی حکمت بھی اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ۔ ویکفر عنکم من سیاتکم اس وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہاری کچھ برائیاں تم سے دور کردیگا ، تمہارے بعض گناہ معاف کر دیگا کیونکہ سارے گناہ صدقہ سے معاف نہیں ہوتے حدیث شریف میں آتا ہے ان الصدقۃ لتطفی غضب الرب صدقہ و خیرات اللہ تعالیٰ کے غصہ کو ٹھنڈا کرتے ہیں ۔ جب کوئی انسان گناہ کا مرتکب ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے غصہ کو ٹھنڈا کرتے ہیں ۔ جب کوئی انسان گناہ کا مرتکب ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوجاتا ہے۔ احسان جتلانے والے کے متعلق آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے غضب کی یہ حالت ہوتی ہے کہ قیامت کے دن اللہ ایسے شخص کو نظرشفقت سے نہیں دیکھے گا اور عذاب الیم میں ڈالے گا ، مگر صدقہ و خیرات اللہ تعالیٰ کے غیظ و غضب کو ٹھنڈاکر دیتے ہیں ۔ مسند احمد میں نبی (علیہ السلام) کا یہ فرمان بھی موجود ہے۔ ان الصدقۃ ظل المومن یوم القیمۃ قیامت کے دن صدقہ مومن کے حق میں بمنزلہ سایہ کے ہوگا ، جب میدان محشر میں انتہا درجے کی تپش ہوگی اس وقت صدقہ اپنے دینے والے کے سر پر سایہ کریگا ۔ صدقہ و خیرات کی اس قدر فضلیت ہے اور اس کی اس قدر برکات ہیں ، واللہ بما تعملون خبیر اللہ تعالیٰ کو تمہارے اعمال کی خبر ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم جو کچھ کر رہے ہو ، اس کے پیچھے کیا نیت کار فرما ہے ، پھر جیسی نیت ہوگی ۔ اس کے مطابق اللہ تعالیٰ بدلہ عطا کرے گا ، بہر حال صدقہ سے متعلق یہ پانچویں بات بھی آگئی۔ غیر مسلم کے لیے صدقہ یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صدقہ خیرات غیر مسلم کو دیا جاسکتا ہے یا نہیں ۔ یہ اس ضمن میں چھٹی بات ہے۔ اس کے متعلق عرض ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور میں حضور ﷺ نے صرف مسلمانوں کو صدقہ خیرات دینے کا حکم دیا تھا۔ حدیث شریف میں مختلف الفاظ آتے ہیں ، مثلاً آپ نے فرمایا تصدقوا علی اھل دینکم یعنی صرف اہل دین مسلمانوں پر صدقہ کیا کرو ۔ آپ کا یہ بھی ارشاد ہے لا تصدقوا الا علی اھل الاسلام یعنی اہل سلام کے سوا دوسروں ( غیر مسلموں) پر صدقہ نہ کیا ۔ اس لیے آپ کے صحابہ کرام ؓ غیر مسلموں کو صدقہ دینے سے گریز کرتے تھے۔ پھر جب 6؁ھ میں کفار مکہ سے صلح کا معاہدہ ہوگیا ۔ تو مکہ اور مدینے والے ایک دوسرے کے ہاں آنے جانے لگے ، اس دوران میں حضرت آسمائ ؓ 1 ؎ نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ حضور ! میری ماں آئی ہے۔ وھی مشرکۃ اور وہ مشرکہ ہے تو کیا ایسی حالت میں میں اسے صلہ رحمی کروں ۔ وہ محتاج بھی ہے۔ کہا میں اس کو کچھ صدقہ و خیرات دے سکتی ہوں ۔ آپ نے فرمایا ، ہاں اجازت ہے ، تو گویا اللہ کے رسول نے غیر مسلموں کو صدقہ خیرات دینے کی اجازت دے دی ، لہٰذاثابت ہوا کہ صدقہ کا مال غیر مسلموں کو دیا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر بھی اجر عطا کرے گا ، یاد رہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی بیوی ام رومان ؓ تو شروع ہی سے اسلام لے آئی تھیں مگر آپ کی دوسری بیوی یعنی اسماء ؓ کی والدہ نتیلہ بنت عبد العزیٰ اسلام نہیں لائی تھیں ۔ البتہ زکوٰۃ اور عشر غیر مسلموں کو نہیں دیا جاسکتا ، کیونکہ یہ فرض ہے اور اس کے متعلق بخاری اور مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ جب حضور ﷺ نے حضرت معاذ ؓ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا ، تو دیگر احکامات کے ساتھ زکوٰۃ کا حکم بھی دیا اور واضح کیا توخذ من اغنیا ئھم فترد علی فقرائھم 1 ؎۔ تفسیر کبیر ص 82 ج 7 ( فیاض) یعنی زکوٰۃ مسلمانوں کے اعتبار سے وصول کی جائیگی اور انہیں کے فقراء میں تقسیم کی جائے گی ۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ زکوٰۃ و عشر کسی غیر مسلم کو نہیں دیا جاسکتا ، یہ ناجائز اور حرام ہے۔ ہاں نفل صدقہ ، صدقہ فطر کفارہ کا صدقہ جیسے نذر ، قسم یا ظہار کا کفارہ ہے ، وہ بھی غیر مسلم کو دیا جاسکتا ہے بشرطیکہ وہ محتاج ہو۔ حربی غیر مسلم محروم ہے یہاں پر اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ صدقہ وغیرہ ذمی غیر مسلم کو تو دیا جاسکتا ہے ۔ مگر حربی کافر ، مشرک وغیرہ کو دینا جائز نہیں ۔ یعنی ایسے غیر مسلم جو اہل اسلام کے ساتھ برسر پیکار ہوں ، وہ اگر محتاج بھی ہوں تو وہ صدقہ کے حق دار نہیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے سورة ممتحنہ میں اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے ۔ لَا یَنْہٰکُمُ اللہ ُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْہُمْ یعنی جو لوگ تم سے لڑائی نہیں کرتے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالتے ان کے ساتھ نیکی اور احسان کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہیں منع نہیں کرتے ، البتہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے ساتھ دوستی کرنے سے منع فرماتے ہیں ، جو تم سے لڑائی لڑیں اور تمہیں گھروں سے نکال دیں اور جو کوئی ایسے لوگوں سے راہ و رسم بڑھائے گا تو ان کا شما ر ظالموں میں ہوگا ۔ ہدایت دہندہ صرف اللہ ہے جہاں تک کفار کو راہ راست پر لانے کا تعلق ہے تو یہ صرف اور صرف منشائے ایزدی پر منحصر ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے ، اے پیغمبر (علیہ السلام) لیس علیک ھدھم ایسے لوگوں کو ہدایت دینا آپ کے ذمے نہیں ہے ، ولکن اللہ یھدی من یشاء بلکہ جسے اللہ تعالیٰ چاہے ہدایت دیدے ، یہ سراسر اللہ جل شانہٗ کے اختیار میں ہے۔ حضور ﷺ کے چچا ابو طالب نے آپ کی بڑی خدمت کی ، ہر مشکل وقت میں آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے ، مگر حضور کی انتہائی خواہش کے باوجود ابو طالب کو ایمان نصیب نہ ہوا ، اور وہ کفر کی حالت میں مرا ۔ حضور ﷺ کو اس بات کو بڑا افسوس تھا ، مگر اس معاملہ میں آپ بھی مجبور تھے کہ ہدایت تو صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ ابو طالب کے فرزند حضرت علی ؓ کم سنی میں ایمان سے مشرف ہوجاتے ہیں ۔ حضور ﷺ کے داماد ، جلیل القدر صحابہ اور خلفائے راشدین ؓ میں سے ہیں ، مگر باپ کو کلمہ نصیب نہیں ہوا ۔ کیونکہ ولکن اللہ یھدی من یشاء دوسرے مقام پر یوں آتا ہے۔ افانت تکرہ الناس حتی یکونوا مومنین کیا آپ لوگوں کو مجبور کردیں گے کہ وہ ضرور ہی ایمان لے آئیں ، بلکہ فانما علیک البلاغ وعلینا الحساب آپ کے ذمے دین کو پہنچانا ہے ۔ آپ سے یہ نہیں پوچھا جائیگا کہ یہ لوگ کیوں ایمان نہیں لائے ، حساب تو ہمارے ذمے ہے۔ پورا پورا بدلہ فرمایا وما تنفقوا من خیر فلا نفسکم اور تم جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہو ، یہ تمہارے اپنے ہی فائدے کے لیے ہے ، اللہ تعالیٰ کو تمہارے مالوں کی ضرورت نہیں ہے ، وہ تمہیں اجر عطا کریگا اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں بنی نوع انسان کے لیے ہمدردی پیدا کرنا چاہتا ہے اور تمہیں اجر وثواب سے نوازنا چاہتا ہے۔ وما تنفقون الا ابتغاء وجہ اللہ اور تم نہیں خرچ کرتے مگر محض رضا الٰہی کے لیے ، اسمیں کوئی دیگر مقصد نہیں ہے ، اگر کوئی دوسرا مقصد ہوگا ، مثلاً کوئی اپنا مفاد وابستہ ہو ، ریا کاری پائی جائے یا کسی کو ایذا دینا مقصود ہو تو ایسی صورت میں صدقہ ضائعہو جائے گا ۔ لہٰذا محض اللہ کی رضا کے لیے صدقہ و خیرات کرنا چاہئے ، اس کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنا چاہئے ، محتاجوں کی حاجت براری کرنی چاہئے ، یہ سب رضا الٰہی کے ذرائع ہیں ۔ وما تنفقوا من خیر اور تم جو بھی خرچ کرو گے ، نیکی کرو گے ، کسی کے ساتھ بھلائی کرو گے ۔ یوف الیکم اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔ ایسی بات نہیں ہے کہ مسلمان محتاج کو دینے سے پورا اجر ملے اور کافر کو دینے سے کم ملے ، بلکہ پورا بدلہ دیا جائیگا ۔ اس بات میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہونا چاہئے خالص نیت کے ساتھ جو بھی خرچ کیا جائیگا ۔ اللہ تعالیٰ اس کے عوض میں بڑھا چڑھا کردیں گے ، البتہ فضلیت اس بات میں ہے کہ محتاجوں میں سے بہتر محتاج کو دیا جائے ۔ مثلاً ایک نمازی ہے اور دوسرا بےنماز ہے تو نمازی کو دینا زیادہ اجر وثواب کا موجب ہے ، مگر جہاں مجبوری کا معاملہ ہو ، وہاں کم تر آدمی کو بھی دینا چاہئے ، اگر کوئی بےنمازی بھوکا مر رہا ہے تو اسے پہلے دینا چاہئے ، اللہ تعالیٰ ہر نیکی کا پورا پورا بدلہ دے گا ۔ وانتم لا تظلمون اور کسی شخص پر ذرہ بھر زیادتی نہیں کی جائیگی ، اللہ تعالیٰ کسی کی حق تلفی نہیں کرتا ۔ کسی کی نیکی کو ضائع نہیں کرتا ، یہ تو اس کے قانون کے خلاف ہے کہ کسی ادنیٰ یا ادنیٰ نیکی کو بھی نظر اندازکر دے۔