Ayahs 2:142–143تحویل قبلہ
اس سے پہلے ملت ابراہیمی اور خانہ کعبہ کی تعمیر کا ذکر ہوچکا ہے۔ یہ بیت اللہ شریف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کا قبلہ رہا۔ قیام مکہ کے دوران حضور ﷺ کا قبلہ بیت المقدس اور بیت اللہ دونوں ہی تھے بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ آپ دوران نماز بیت اللہ شریف کی طرف اس طرح رخ کرتے تھے کہ یہ رخ بیت المقدس کی طرف بھی ہوجاتا تھا۔ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں حضور ﷺ نے اللہ کے حکم سے سولہ یا سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کیا اور تمام مسلمان اسی طرف منہ کر کے نماز ادا کرتے رہے ، اس میں مصلحت تھی۔ بیت المقدس بھی سابقہ انبیاء کا قبلہ رہا ہے اور اسی طرح بہت سے انبیاء کا قبلہ بیت اللہ شریف بھی رہا ہے اور آخر کار اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبین (علیہ السلام) کے لئے خانہ کعبہ کو ہی قبلہ مقرر فرمایا ، جو تاقیام قیامت قائم رہے گا۔
ہجرت کے ابتدائی عرصہ میں بیت المقدس کو قبلہ مقرر کرنے کا ایک مقصد یہودیوں کی تالیف قلبی بھی تھا۔ تاکہ وہ مسلمانوں سے قریب تر ہو کر اسلام کی برکات سے فیضیاب ہوں اور اس طرح دین حق کو قبول کرلیں۔ مگر یہ لوگ انتہائی متعصب اور ضدی تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کی روا داری سے کچھ فائدہ اٹھایا بلکہ اپنی ہٹ دھرمی پر اڑے رہے۔ تاہم حضور ﷺ کی دلی خواہش یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ بیت اللہ شریف کو مسلمانوں کا قبلہ مقرر فرما دیں۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے آپ کی خواہش کو پذیرائی بخشی اور جیسا کہ اگلی آیات میں آئیگا ، بیت المقدس کی بجائے بیت اللہ کو قبلہ پکڑنے کا صریح حکم نازل فرما دیا۔
تحویل قبلہ پر پہلا اعتراض
اہل کتاب چونکہ ضدی ، عنادی او ہٹ دھرم تھے۔ اللہ رب العزت جانتے تھے۔ کہ مسلمانوں کے قبلہ کی تبدیلی پر یہ لوگ اعتراض کریں گے اور مسلمانوں کے خلاف پراپیگنڈا کریں گے لہٰذا انہوں نے تحویل قبلہ کے حکم کے ساتھ ہی اہل اسلام کو خبردار کردیا کہ یہ لوگ اس تبدیلی پر معترض ہوں گے۔ لہٰذا تم ان کے پراپیگنڈا سے متاثر ہو کرسکی قسم کے شک یا تردد میں مبتلا نہ ہونا۔ چنانچ اہل کتاب کے پہلے اعتراض کا تذکرہ اس انداز میں بیان فرمایا سیقول السفھآء من الناس عنقریب اہل کتاب کے بیوقوف لوگوں میں سے بعض یوں کہیں گے ماولھم عن قبلتھم التی کانوا علیھا مسلمانوں کو ان کے قبلہ سے کس چیز نے پھیر دیا ہے ، جس قبلہ پر وہ پہلے تھے ۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوا ، مسلمان ہجرت نبوی کے بعد سولہ یا سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے اور اس کے بعد بیت اللہ کے قبلہ مقرر ہونے کا حکم نازل ہوا تو یہودیوں نے اعتراض پیش کردیا کہ کیا اللہ تعالیٰ کو اس قبلہ کا پہلے علم نہ تھا۔ جو اب نیا حکم دے دیا پہلے قبلہ میں کیا خرابی تھی۔ وہ بھی سابقہ انبیاء کا قبلہ رہا ہے۔ اب اس کی تبدیلی کی کیا ضرورت پیش آئی۔
یہاں پر اہل کتاب کے لئے سفہاء کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو کہ سفیہ کی جمع ہے۔ جس کا معنی بیوقوف ہے۔ اس سے پہلے بیان ہوچکا ہے کہ جو کوئی ملت ابراہیمی سے اعراض کرتا ہے ، وہ بیوقوف ہے۔ ومن یرغب عن ملۃ ابرھیم الا من سفہ نفسہ “ ظاہر ہے کہ کوئی سلیم الفطرت آدمی ملت ابراہیمی سے انحراف نہیں کرسکتا۔ یہ یہود ، نصاریٰ ، اور مشرکین ہی ہیں ، جو ایسا کرتے ہیں ۔ لہٰذا بیوقوفوں میں داخل ہیں۔ جو دین فطرت اور دین توحید اسلام کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔
اس کا جواب
اہل کتاب کے اس اعتراض کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا قل للہ المشرق و المغرب اے پیغمبر (علیہ السلام) ! آپ فرما دیں کہ یاد رکھو ، مشرق و مغرب اللہ ہی کا ہے۔ یہ بات تو نہیں ہے کہ مشرق اللہ کا ہے اور مغرب کسی دوسرے کا لہٰذا ہر جہت اسی کی ہے تو پھ راسی کی اطاعت لازم ہے۔ وہ جس طرف کو منہ کرنے کا حکم دے ماننا پڑے گا۔ اس میں کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں پہنچتا۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرے گا ، اس کی خوشنودی کو پا لے گا اور جو اس کے کسی حکم پر معترض ہوگا ، اس کی تعمیل میں لیت و لعل کرے گا وہ ملعون اور مرد ود ٹھہرے گا اور پھر یہ بھی ہے کہ عبادت کے لئے کسی قبلہ یا جہت کا مقرر کرنا انسان کے محض جسمانی تقاضے کو پورا کرتا ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے روح کی توجہ تو ہمیشہ تجلی الٰہی کی طرف رہتی ہے ، اس کا بظاہر رخ کسی طرف بھی ہو ، اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ بیت المقدس یا بیت اللہ شریف کی جہت کا تقرر تو مسلمانوں کے اتفاق و اتحاد کی ایک علامت ہے کہ تمام عبادت گزاروں کا رخ ایک ہی جہت میں ہوتا ہے وگرنہ جس طرف بھی منہ کرلو ، عبادت اسی کی ہوگی۔ پہلے گزر چکا ہے ” فاینما تولوا فثم وجہ اللہ “ تم جدھر بھی رخ کرو گے ، اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی ادھر ہی پائو گے۔ اسی لئے یہ مسئلہ ہے کہ دوران سفر اگر قبلہ کا تعین نہ ہو سکے تو جس طرف بھی رخ کر کے نماز پڑھو گے۔ اللہ تعالیٰ قبول کرے گا۔ قبلہ معلوم ہوجانے کے بعد نماز کو لوٹانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ دونوں قبلوں میں صرف اس قدر فرق ہے کہ بیت المقدس اس لحاظ سے قومی قبلہ ہے کہ یہ خاص خاص پیغمبروں کا قبلہ رہا ہے اور بیت اللہ شریف بین الاقوامی قبلہ ہے کہ یہ تمام انبیاء بشمول حضور خاتم النبین ﷺ کا قبلہ ہے۔
مقام تحویل قبلہ
آگے تفصیل سے ذکر آئے گا۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ سلمہ کی مسجد میں ظہر یا عصر کی نماز ادا فرما رہے تھے کہ دوران نماز ہی قبلہ کی تبدیلی کا حکم نازل ہوا۔ آپ نے آدھی نماز بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھی اور بقیہ نصف بیت اللہ شریف کی جہت میں صحیح حدیث میں آتا ہے کہ نزول حکم پر جب حضور ﷺ نے پلٹ کر رخ پھیرلیا۔ تو تمام صحابہ کرام بھی پلٹ گئے ، کسی کو کچھ تردد نہیں ہوا۔
اگلے روز قبا کے لوگ اپنی مسجد میں فجر کی نماز ادا کر رہے تھے ان کا رخ حسب معمول بیت المقدس کی طرف تھا۔ اسی دوران میں کسی نے آ کر خبر دی کہ قبلہ کا حکم تو بدل چکا ہے تم ابھی تک بیت المقدس کی طرف رخ کئے ہوئے ہو۔ یہ سنتے ہی لوگوں نے نماز کی حالت میں اپنا رخ بیت اللہ شریف کی طرف پھیرلیا۔ کسی شخص نے حیل و حجت نہ کیا۔ یہ صرف اہل کتاب تھے۔ جو تحویل قبلہ پر اعتراض کر رہے تھے۔ ان کے یہ اعتراضات آگے دور تک چلے گئے ہیں ” الم تر الی الذین خرجوا من دیارھم “ تک یہ سلسلہ موقع بہ موقع ملتا ہے۔ یہود و نصاریٰ کا یہ شکوہ بار بار منظر عام پر آتا ہے۔ حالانکہ اگر مسلمانوں کی طرح وہ بھی ملت ابراہیمی پر قائم ہوتے تو اس قسم کے اعتراضات پیش کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے حکم کے آگے سرتسلیم خم کرلیتے۔
فرمایا مشرق و مغرب سب اللہ ہی کے ہیں۔ اس کے ہر حکم کی تعمیل ہونی چاہئے مگر بات یہ ہے کہ یھدی من یشآء الی صراط مستقیم وہ جسے چاہتا ہے۔ سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ اہل کتاب اپنی ضد کی وجہ سے اس ہدایت سے محروم رہے حالانکہ ان کی اپنی کتابوں میں بیت اللہ شریف کے افضل اور بین الاقوامی قبلہ ہونے کے احکام موجود تھے اور یہ پیش گوئی بھی پائی جاتی تھی کہ نبی آخر الزماں کا قبلہ بیت اللہ شریف یعنی خانہ کعبہ ہوگا۔
افضل امت اور اس کی گواہی
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس طرح ہم نے تمہارا قبلہ افضل بنایا ہے۔ اسی طرح ہم نے تمہیں (اے اہل اسلام) امت بھی افضل بنایا ہے۔ وکذلک جعلنکم امۃ و سطاً وسط کے لفظی معنی درمیان کے ہیں۔ یعنی تمہیں درمیانی امت بنایا اور ظاہر ہے کہ درمیان والی چیز ہی عدل و انصاف پر مبنی اور افراط وتفریط سے پاک ہوتی ہے۔ لہٰذا یہی چیز افضل ہوتی ہے ۔ گویا اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو وسطاً کا لقب دیکر اے افضیلت کے مقام پر فائز فرمایا ہے اور اس امت کے افضل ہونے کی غرض وغایت یہ ہے لتکونوا شھدآء علی الناس تاکہ تم دوسرے لوگوں پر گواہ بن جائو ویکون الرسول علیکم شھیداً اور رسول اکرم علیہ التحیتہ والسلام تم پر گواہی دینے والے بن جائیں۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ اس دوہری گواہی کا مظاہرہ قیامت والے دن میدان محشر میں ہوگا۔ حضرت عبداللہ مبارک اپنی کتاب الذھد میں حدیث لاتے ہیں جس سے مذکورہ گواہی کی تفصیلات معلوم ہوتی ہیں۔ بیان کرتے ہیں کہ قیامت کے روز جب سب لوگ اللہ تعالیٰ کے دربار میں پیش ہوں گے اور مقدمہ چلے گا تو سب سے پہلے رب العزت اسرافیل سے پوچھیں گے کیا تم نے میری امانت ادا کردی۔ اسرافیل (علیہ السلام) عرض کریں گے کہ ہاں باری تعالیٰ میں نے وہ امانت جبرائیل (علیہ السلام) کو پہنچا دی۔ پھر جبرائیل کو طلب کر کے پوچھا جائے گا کہ کیا اسرافیل نے میری امانت تم تک پہنچا دی۔ وہ اقرار کریں گے کہ ہاں اسرافیل (علیہ السلام) نے وہ امانت مجھ تک پہنچا دی۔ چناچہ اسرافیل کو چھوڑ دیا جائے گا۔ اور جبرائیل سے مزید سوال ہوگا کہ تم نے میری امانت کے ساتھ کیا کیا ، وہ عرض کریں گے کہ اے باری تعالیٰ ! میں نے تیری امانت تیرے رسولوں تک پہنچا دی۔ اب رسولوں کو طلب کر کے پوچھا جائے گا کیا جبرائیل نے میری امانت تم تک پہنچا دی تو رسول بھی عرض کریں گے ، ہاں مولا کریم ! جبرائیل (علیہ السلام) نے تیری امانت ہم تک پہنچا دی۔ اللہ تعالیٰ پوچھیں گے کہ تم نے اس امانت کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ رسول عرض کریں گے کہ ہم نے تیرا پیغام اپنی اپنی امتوں تک پہنچا دیا۔ پھر امتوں کو طلب کیا جائے گا اور پوچھا جائے گا کیا میرے نبیوں نے میری امانت تم تک پہنچائی ۔ فمنھم المصدق ومنھم المکذب پھر ان میں سے بعض امتیں تصدیق کریں گی کہ اے اللہ ! تیرے نبیوں نے تیری امانت ہم تک پہنچائی اور بعض امتیں انکار کریں گی کہ ہم تک وہ امانت نہیں پہنچی۔
انکار کرنے والی امتوں کے نبیوں سے کہا جائے گا کہ وہ اس بات پر گواہ پیش کریں کہ واقعی انہوں نے امانت اپنی امتوں تک پہنچا دی۔ تو انبیاء کرام اپنی گواہی کے لئے حضور خاتم النبین ﷺ کی امت کا نام پیش کریں گے۔ امت محمدیہ کو طلب کر کے پوچھا جائے گا تو وہ لوگ اس بات کی گواہی دیں گے کہ انبیائے کرام نے اپنی امانت اپنی اپنی امتوں تک پہنچا دی۔ وہ امتیں اس گواہی کا انکار کریں گی کہ مولا کریم۔ یہ لوگ ہمارے زمانہ میں نہیں تھے ، ہم ان کو بالکل نہیں پہنچانتے لہٰذا یہ ہمارے خلاف کیسے گواہی دے سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ پھر دریافت فرمائے گا کہ اے امت محمدیہ کے لوگو ! تم ان کی گواہی کیسے دیتے ہو جبکہ تم تو ان کے زمانے میں پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ تو لوگ عرض کرینگے یا اللہ ! تو نے ہماری طرف آخری رسول بھیجا اور کتاب نازل فرمائی۔ تیرے خاتم النبین (علیہ السلام) اور تیری کتاب نے بتایا ” ان قدا بلغوا رسلت ربھم “ کہ تمام انبیاء نے اللہ کا پیغام اپنی اپنی امتوں تک پہنچا دیا۔ لہٰذا ہم اس یقین کے ساتھ گواہی دیتے ہیں کہ واقعی تیرے انبیاء نے تیرا پیغام پہنچا دیا۔
اس کے بعد اپنی امت کے تزکیہ کے لئے اللہ تعالیٰ خاتم النبین ﷺ کو کھڑا کرے گا۔ آپ اپنی امت کا تزکیہ کریں گے کہ یہ لوگ صحیح گواہی دے رہے ہیں۔ اسی کے متعلق فرمایا جئنا من کل امۃ بشھید و جئنا بک علی ھولآء شھیداً یعنی ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور پھر ان سب پر آپ کو بطور گواہ پیش کیا جائے گا۔
تقرر قبلہ کی غایت
فرمایا وما جعلنا القبلۃ التی کنت علیھا اور نہیں بنایا ہم نے قبلہ جس پر پہلے آپ تھے یعنی بیت المقدس کو الا لنعلم مگر تاکہ ہم جان لیں۔ اللہ تعالیٰ کے لئے ہر چیز کا جاننا تو ازلی ہے یہاں نعلم سے مراد ہے۔ ظاہر کردیں من یتبع الرسول ممن ینقلب علی عقبیہ کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون اپنی ایڑیوں پر پھرتا ہے یعنی انکار کرتا ہے۔ وان کانت لکبیرۃ الا علی الذین ھدی اللہ اور بیشک یہ چیز بھاری ہے یعنی یہود و نصاریٰ پر اپنے قبلہ اول کو چھوڑنا بڑا دشوار ہے ، سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا ہے۔ ایسے لوگ ہی ملت ابراہیمی کے پابند ہیں اور یہی لوگ اللہ رب العلمین کی فرمانبرداری کو اختیار کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے لئے نئے حکم کی تعمیل بالکل دشوار نہیں ۔ وہ ہمیشہ تعمیل حکم میں پیش پیش رہتے ہیں پہلے گذر چکا ہے۔ ” اذ قال لہ ربہ اسلم قال اسلمت لرب العلمین “ یعنی جب ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے رب نے کہا کہ فرمانبردار ہو جائو تو انہوں نے کہا کہ میں رب العلمین کا فرمانبردار ہوگیا۔ جو ارشاد ہو اس کی تعمیل کے لئے بسر و چشم تیار ہوں ۔ اس قسم کے اصول پر چلنے والے لوگوں کے لئے تحویل قبلہ جیسی چیز کیسے بھاری ہو سکتی ہے۔ نماز کے متعلق پر بڑی بھاری ہے مگر ان لوگوں پر نہیں ، جن میں عاجزی اور خشیت الٰہی جیسی صفات موجود ہوا ، ان کے لئے تو نماز راحت کا ذریعہ ہے کیونکہ اس سے تعلق باللہ پیدا ہتا ہے۔ تو یہاں پر بھی فرمایا کہ تحویل قبلہ کا حکم اہل کتاب کے لئے سخت گراں ہے مگر ان لوگوں کے لئے نہیں ہے جنہیں اللہ نے ہدایت دے دی ہے۔
تحویل قبلہ پر دوسرا اعتراض
تحویل قبلہ سے متعلق اہل کتاب کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ جو لوگ بیت اللہ شریف کے قبلہ مقرر ہونے سے پہلے فوت ہوگئے ہیں۔ انہیں تو اس طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ وہ تو بیت المقدس کی طرف ہی منہ کرتے رہے۔ لہٰذا اس نئے حکم کی روشنی میں ایسے لوگوں کی نمازوں کی کیا حیثیت ہوگی۔ وہ مقبول ہوں گی یا نہیں۔ اس اعتراض کے جواب میں اللہ نے فرمایا وما کان اللہ لیضیع ایمانکم اللہ ایسے لوگوں کے ایمان ضائع کرنے والے نہیں ہیں۔ امام بخاری فرماتے ہیں کہ یہاں پر ایمان سے مراد نماز ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی نمازیں ضائع نہیں کریگا۔ جو لوگ تحویل قبلہ سے پہلے فوت ہوگئے ، ا ن پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ کیونکہ ان اللہ بالناس لرء وف رحیم اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں۔ سابقہ لوگوں نے جو نمازیں پڑھی ہیں۔ وہ اپنے اپنے انبیاء کے حکم کے مطابق صحیح طریقے سے ادا کی ہیں۔ لہٰذا ان کی نمازیں مقبول ہیں ان پر کوئی الزام نہیں ہے۔
اس قسم کا معاملہ شرابیوں کے متعلق سورة مائدہ میں آئے گا کہ جن لوگوں نے حرمت شراب سے پہلے شراب نوشی کی تھی اور وہ فوت ہوگئے ، ان کا کیا بنے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نیکی کرنے والوں پر کوئی الزام نہیں ہے۔ جس وقت ایک چیز حرام نہیں تھی ، اس وقت اس کے استعمال سے گناہ لازم نہیں آتا۔ ہاں جو شخص حرمت شراب کے حکم آجانے کے بعد اسے پئے گا ، وہ ضرور اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آجائے گا۔ اس مقام پر بھی اعتراض کا جواب یہی دیا کہ جن لوگوں نے تبدیلی قبلہ سے پہلے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھی ہیں۔ ان کی نمازیں بالکل درست اور اللہ کے ہاں قابل قبول ہیں۔ اللہ تعالیٰ کسی کا عمل ضائع نہیں کرتے وہ بڑے شفقت کرنے والے مہربان ہیں۔
Ayahs 2:144–147ربط آیات
بیت المقدس کی بجائے بیت اللہ شریف کو قبلہ مقرر کرنے کی ایک وجہ یہ بیان کی جا چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ امتحان لے کر ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ کون اللہ کے رسول کا اتباع کرتا ہے اور کون ہے جو تعصب اور عناد پر ٹھہرا رہتا ہے۔ چناچہ اہل کتاب اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے۔ کیونکہ وہ لوگ قتل انبیاء ، ضد اور عناد میں مبتلا تھے۔ انہوں نے اپنی کتابوں کو تبدیل کردیا تھا اور برائیوں میں منہمک ہوچکے تھے۔ وہ اگرچہ اپنی نسبت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف کرتے تھے۔ مگر عملی طور پر ان میں نسبت کا شائبہ تک نہ تھا۔
تحویل قبلہ کی دوسری وجہ
بیت اللہ شریف کو قبلہ مقرر کرنے کی دوسری وجہ اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی قدنری لقلب وجھک فی السمآء تحقیق ہم آپ کے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھتے ہیں۔ ہجرت مدینہ کے بعد اگرچہ حضور نبی کریم ﷺ بیت المقدس کی طرف ہی منہ کر کے نماز ادا فرماتے تھے۔ مگر آپ کی دلی خواہش یہ تھی کہ بیت اللہ شریف قبلہ مقرر ہوجائے۔ چناچہ تبدیلی قبلہ کے حکم کے لئے وحی کا انتظار کرتے تھے اور اپنا چہرہ مبارک آسمان کی طرف اٹھاتے تھے۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ کی عام عادت مبارکہ یہ تھی۔ نظرہ الی الارض اکثرمن نظرہ الی السمآء یعنی آپ کی نگاہ مبارک اکثر و بیشتر زمین کی طرف رہتی ہے۔ مگر انتظار وحی میں آپ اپنی نگاہ بار بار آسمان کی طرف اٹھاتے تھے۔
سابقہ کتب میں اس بات کی پیشین گوئی موجود تھی کہ نبی آخر الزمان کا قبلہ وہی ہوگا ، جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ تھا یعنی خانہ کعبہ ، نیز یہی جذبہ آپ کے قلب مبارک میں بھی ڈال دیا گیا تھا۔ لہٰذا آپ کی خواہش تھی کہ بیت اللہ شریف کی طرف منہ کرنے کا حکم نازل ہوجائے اور آخری نبی کی آخری امت کا قبلہ قومی کی بجائے بین الاقوامی مقرر ہوجائے مسلمانوں کو اسی قبلہ (بیت اللہ شریف) کی طرف منہ کرنے کا حکم ہو۔ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تعمیر کیا تھا ۔ لہٰذا آپ اسی شوق میں نگاہ مبارک بار بار آسمان کی طرف اٹھاتے تھے۔
تحویل قبلہ کا حکم
آخر اللہ تعالیٰ نے آپ کی خواہش کو شرف قبولیت بخشا اور تحویل قبلہ کا حکم نازل فرما دیا ۔ فلنولیک قبلۃ ترضھا اب ہم آپ کو اس قبلے کا والی بنا دیں گے ، جس کو آپ پسند کرتے ہیں۔ لہٰذا حکم ہوا۔ فول وجھک شطر المسجد الحرام آپ اپنا چہرہ انور مسجد حرام کی طرف پھیر دیں۔ وحیث ما کنتم قولوا وجوھکم شطرہ اور آپ لوگ جہاں بھی ہوں اپنے چہروں کو اسی کی طرف پھیریں۔
تاریخی روایتوں میں آتا ہے کہ حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) بنی سلمہ کے محلہ میں بشر ابن براء ابن معرور کے گھر میں تشریف فرما تھے۔ یہ جگہ مدینہ طیبہ سے چار میل کے فاصلہ پر ہے۔ نماز ظہر کا وقت ہوا تو حضور ﷺ بمع دیگر صحابہ محلہ کی مسجد میں نماز کے لئے تشریف لے گئے آپ نماز ادا فرما رہے تھے کہ اسی دوران میں یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی فول وجھک شطر المسجد الحرام آپ دو رکعت ادا فرما چکے تھے۔ نزول وحی پر فوراً آپ نے اپنا رخ مبارک بیت المقدس سے بیت اللہ شریف کی طرف پھیرلیا۔ آپ کی اقتداء میں مرد اور عورتیں نماز پڑھ رہے تھے جب آپ نے رخ تبدیل کیا تو تمام صحابہ نے بھی اپنی صفوں کو پلٹ دیا۔ اسی لئے نبی سلمہ کی اس مسجد کو مسجد قباہتیں یعنی دو قبلوں والی مسجد کہا جاتا ہے۔
جہت قبلہ
اس آیت کریمہ میں لفظ شطر تفصیل طلب ہے۔ اس میں ایک حکم تو یہ ہے کہ فول وجھک شطر المسجد الحرام یعنی آپ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرلیں دوسری بات یہ فرمائی وحیث ما کنتم فولوا وجوھکم شطرہ تم جہاں کہیں بھی ہو ، اس کی طرف منہ کرو۔ لفظ شطر مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کا ایک معنی …… ” نصف “ آتا ہے۔ جیسے حدیث شریف میں آتا ہے۔ اننی ارجوا ان تکونوا شطر اھل الجنۃ یعنی مجھے امید ہے کہ جنت میں جانے والے کل لوگوں میں نصب تعداد تمہاری ہوگی۔
شطر کا دوسرا معنی جزو بھی آتا ہے۔ جیسا کہ ان الفرائض شطر العلم یعنی فرائض اور وراثت علم کا جزو ہے۔ مگر اس آیت کریمہ میں شطر جہت کے معنی میں آیا ہے۔ اس سلسلے میں فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ نماز شروع کرتے وقت جس شخص کو کعبہ شریف نظر آ رہا ہو۔ اس عین کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم ہے اور جس کو کعبہ نظر نہ آتا ہو ، اسے عین کعبہ کی بجائے اس کی طرف یا اس کی جہت میں رخ کرنے کا حکم ہے۔
اس آیت میں عین کعبہ کی بجائے مسجد احلرام کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عین کعبہ کی طرف رخ کرنا قدرے مشکل ہے۔ لہٰذا پوری مسجد حرام کہ کر جہت کو وسعت دے دی گئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت میں آتا ہے کہ مسجد حرام میں نماز پڑھنے والوں کے لئے عین کعبہ جہت ہوگی۔ جو لوگ حدود حرم کے اندر رہنے والے ہیں۔ ان کے لئے مسجد احلرام جہت ہے اور جو لوگ حدود حرم سے باہر دور دراز کے رہنے والے ہیں۔ ان کے لئے پورا حرم جہت ہے۔ مقصد یہ کہ جوں جوں لوگ خانہ کعبہ سے دور ہوتے جائیں گے ان کے لئے جہت میں وسعت پیدا ہوتی جائے گی۔
ایک دوسری حدیث شریف میں آتا ہے ۔ مابین المشرق والمغرب قبلۃ یعنی مشرق و مغرب کے درمیان قبلہ ہے اور یہاں اس کو ہم یوں کہیں گے کہ شمال اور جنوب کے درمیان قبلہ ہے۔ مقصد یہ کہ اگر عین کعبہ کی طرف رخ کرنے ا حکم ہوتا تو یہ دشوار تھا۔ اور جہت عام ہے۔ حتی کہ جب تک کعبہ کی طرف بالکل پشت نہ ہوجائے۔ نماز درست ہے ۔ اس کے لئے زاویہ قائمہ ضروری نہیں ہے اگر زاویہ حادہ کے ساتھ رخ کر کے بھی نماز پڑھی جائے گی۔ تو وہ درست ہوگی۔ البتہ اگر آسانی کے ساتھ جہت کا تعین ہو سکے ، تو ضرور کرنا چاہئے۔
ایک زمانہ میں عنایت اللہ خاں مشرقی نے اپنی تحقیق کے مطابق عام مسجدوں کے رخ غلط بتائے تھے۔ وہ ایک ریاضی دان تھے۔ ان کے نزدیک صرف بادشاہی مسجد کا رخ درست تھا ، باقی سب غلط تھے ان کے بقول نمازیوں کا رخ عین قبلہ کی طرف نہ ہونے کی وجہ سے ان کی نمازیں باطل تھیں۔ ان کا یہ نظریہ غلط تھا کیونکہ قبلہ کا تعین اللہ تعالیٰ نے ریاضی کے اصولوں پر کرنے کا حکم نہیں دیا۔ بلکہ فطری اصول پر جہت کعبہ یا جہت مسجد حرام کا حکم ہے۔
اگر عین کعبہ یا عین مسجد حرام کی پابندی لازمی ہوتی تو واقعی یہ بڑا مشکل کام تھا بعض مقامات پر جمعہ اور عیدین کی نمازوں میں بڑی بڑی لمبی قطاریں بن جاتی ہیں ایسی صورت میں ہر نمازی کا رخ عین کعبہ یا عین مسجد حرام کی طرف ہونا ممکن ہی نہیں رہتا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے صرف جہت کا حکم دیا ہے۔
جس طرح بدن ، کپڑا اور مکان کی طہارت نماز کی شرائط میں سے ہے۔ اسی طرح استقبال قبلہ بھی نماز کے لئے بمنزلہ شرط کے ہے۔ اسی لئے حکم یہ ہے کہ نماز شروع کرتے وقت جہت قبلہ کا ہونا ضروری ہے۔ اگر ریل گاڑی یا جہاز پر بھی سفر کر رہا ہے ۔ تو قبلہ کا تعین کرسکتا ہے۔ تاہم اگر دوران نماز سواری پر ہو نیکی وجہ سے تعین قبلہ ممکن نہ ہو ، وہاں تحری کا حکم ہے۔ یعنی اپنی طرف سے استقبال قبلہ کی پوری کوشش کرے اور نماز شروع کرلے اور پھر اس طرح سے متعین کیا ہا رخ غلط بھی ہوگا ، تو نماز درست ہوگی۔ کیونکہ یہ نمازی کے اختیار سے باہر تھا اس کے متعلق آیت گزر چکی ہے۔ ” فاینما تولوا فثم وجہ اللہ ایک موقع پر رتا کے وقت صحابہ کرام سے یقین کے ساتھ تعین قبلہ نہ ہوسکا۔ ہر ایک نے اپنی اپنی کوشش اور سمجھ کے مطابق قبلہ کا تعین کیا۔ اگرچہ ان کے استقبال قبلہ میں ایک دوسرے سے اختلاف پایا جاتا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان سب کی نمازوں کو شرف قبولیت بخشا اور اس آیت کے ذریعے نماز کی درستگی کی تصدیق فرمائی۔
مخالفت برائے مخالفت
استقبال قبلہ کے بیان کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی ہٹ دھرمی کا ذکر کیا ہے کہ یہ لوگ اہل ایمان کی مخالفت محض مخالفت کی بناء پر کرتے ہیں۔ وگرنہ ان پر حق تو واضح ہوچکا ہے۔ فرمایا ، وان الذین اوتوا الکتب اور وہ لوگ جن کو کتاب دی گئی ہے۔ لیعلمون انہ الحق من ربھم وہ جانتے ہیں کہ یہ حق ہے ان کے رب کی طرف سے مگر دیدئہ دانستہ حق کی مخالفت کر رہے ہیں۔ انہیں علم ہے۔ کہ ان کی اپنی کتابوں کے مطابق بیت اللہ شریف کی جہت بالکل درست ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ نبی آخر الزمان کا قبلہ یہی ہے اس کے باوجود مخالفت پر کمربستہ ہیں۔
ام المئومنین حضرت صفیہ یہودی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ آپ کا باپ اور چچا یہودی عالم تھے اور خیبر میں رہتے تھے۔ جب حضور ﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہ دونوں بھائی آپ کو ملنے کے لئے آئے۔ آپ سے بالمشافہ گفتگو ہوئی ملاقات کے بعد جب واپس خیبر پہنچے تو دونوں بھائیوں نے حضور ﷺ کے متعلق آپس میں کچھ بات چیت کی جسے ام المومنین نے بھی سن لیا۔ آپ کے چچا نے آپ کے باپ سے پوچھا کہ سچ سچ بتائو کہ کیا یہ وہی نبی ہیں۔ جن کا ذکر ہماری کتابوں میں موجود ہے۔ صفیہ کے باپ نے تصدیق کی کہ ہاں یہ وہی نبی آخر الزمان ہیں۔ جن کی نشانیاں ہمارے پاس موجود ہیں۔ اس پر چچا نے کہا کہ اگر ایسا ہی ہے۔ تو پھر ہمیں ان پر ایمان لے آنا چاہئے۔ مگر باپ کہنے لگا کہ جب تک میری جان میں جان ہے میں اس کی مخالفت کرتا رہوں گا اور آپ کے پروگرام میں رکاوٹ بنا رہوں گا۔ مقصد یہ ہے کہ محض عناد کی وجہ سے حضور ﷺ اور اہل ایمان کے ساتھ مخالفت ان کا جزو ایمان بن چکی تھی۔ حضرت صفیہ کا باپ جنگ خیبر میں قتل ہوا۔ آپ لونڈی کی حیثیت میں آنحضرت ﷺ کے پاس پہنچیں۔ حضور ﷺ نے ان کو آزاد کردیا اور پھر ان سے نکاح کرلیا۔ یہ واقعہ خود حضرت صفیہ نے سنایا۔ الغرض اللہ تعالیٰ نے ان کی ضد اور عناد کا تذکرہ بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ لوگ حق کو چھپانے کی جتنی بھی کوشش کریں۔ مگر وما اللہ بغافل عما یعملون اللہ تعالٰ ان کے اعمال سے غافل نہیں بلکہ ان کی ایک ایک حرکت کو خوب جانتا ہے۔
فرمایا ، اے نبی کریم ﷺ ولئن اتیت الذین اوتوا الکتب بکل ایۃ اگر آپ اہل کتاب کے پاس ہر قسم کی نشانی بھی لے آئیں اور دلائل کے ساتھ ثابت کردیں کہ بیت اللہ شریف ہی صحیح قبلہ ہے۔ ماتبعوا قبلتک پھر بھی یہ لوگ آپ کے قبلہ کو تسلیم نہیں کریں گے۔ حالانکہ یہ چیز انجیل میں بھی موجود ہے کہ جب مسیح (علیہ السلام) آسمان کی طرف اٹھائے جا رہے تھے تو اس سے کچھ عرصہ پہلے آپ نے فرمایا تھا کہ بھائی ! میں تمہاری طرف اپنے خداوند کی جانب سے اس موعود کو بھیجتا ہوں ، جس کا وعدہ کیا گیا ہے ۔ مگر اے لوگو ! جب تک تمہیں عالم بالا سے قوت حاصل نہ ہوجائے تم یروشلم میں ہی ٹھہرنا یعنی تمہارا قبلہ یہی ہوگا اور پھر جب تمہیں قوت حاصل ہوجائے گی ، تو تمہارا قبلہ بھی تبدیل ہوجائے گا۔ اس کے باوجود یہودیوں نے بیت اللہ شریف کو قبلہ تسلیم نہ کیا۔
شاہجہان کے زمانے میں مولانا عبدالحکیم سیالکوٹی بہت بڑے عالم ہوئے ہیں۔ انہوں نے بیضاوی پر حاشیہ لکھا ہے۔ فرماتے ہیں کہ سابقہ کتب کی پیش گوئیاں بعض صریح لافاظ میں ہیں۔ اور بعض کنایۃ کی زبان میں ہیں۔ اس آیت میں کنایۃ بتایا گیا ہے کہ موعود سے مراد حضور خاتم النبین ﷺ کی ذات گرامی ہے اور انجیل کے الفاظ میں اس بات کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ جب حضور ﷺ کی بعثت ہوجائے اور انہیں قوت یعنی فتح اور غلبہ حاصل ہوجائے گا تو قبلہ بھی تبدیل ہوجائے گا اس کے بعد یروشلم قبلہ نہیں رہے گا۔ چناچہ قبلہ ہونے کی وجہ سے یروشلم یعنی بیت المقدس اب بھی محترم اور معزز ہے۔ مگر وہ قبلہ نہیں رہا۔ اس طرف رخ کر کے نماز ادا نہیں کرسکتے۔
استقبال قبلہ اور شعائر اسلامی
فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ نماز کی حالت میں نمازی کے سینے کا جہت قبلہ ہونا فرض ہے اور چہرے کا اس رخ پر ہونا سنت ہے۔ چناچہ اگر نماز کے دوران سینہ جہت قبلہ سے منحرف ہوگیا تو نماز باطل ہوجائے گی۔ چہرے کے منحرف ہونے سے نماز باطل نہیں ہوگی۔ بلکہ یہ محض مکروہ ہوگا۔ استقبال قبلہ سے متعلق ایک حدیث میں یوں ارشاد فرمایا کہ ملت ابراہیمی کو ماننے والوں میں سے من صلی صلوتنا واستقبل قبلتنا واکل زبیحتنا فذلک المومن یعنی جس نے ہمارے جیسی نماز پڑھی ہمارے قبلہ کی طرف رخ کیا اور ہمارا ذبیحہ کھایا ، تو وہ مئومن ہے۔ اگرچہ یہودی بھی بیت المقدس کی طرف رخ کرتے ہیں۔ مگر یہاں پر ہمارا قبلہ کہہ کر ان کے قبلہ کی نفی کردی۔ اسی طرح وہ ہماری طرح نماز نہیں پڑھتے اور مسلمانوں کا ذبیحہ بھی نہیں کھاتے لہٰذا وہ ملت اسلامیہ میں شامل نہیں گویا حضور ﷺ نے استقبال قبلہ کو شعائر اسلامی میں شامل کیا۔
سرسوتی کا اعتراض
دیانند سرسوتی آریہ سماجی ہندوئوں کا مشہور لیڈر گزرا ہے۔ اس نے مسلمانوں پر اعتراض کیا تھا۔ کہ یہ لوگ ہندوئوں کو توبت پرستی کا طعنہ دیتے ہیں۔ مگر خود ایک مکان کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں جو پتھروں سے تعمیر کیا ہوا ہے کیا یہ بت پرستی نہیں ہے ؟ اس کے جواب میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی نے دو حصوں پر مشتمل کتاب لکھی اس کے ایک حصہ میں سرسوتی کے اہل اسلام پر دس عام اعتراضات کے جوابات لکھے اور دوسرے حصے میں صرف قبلہ پر اعتراضات کا جواب دیا۔ ” قبلہ نما “ نامی یہ کتاب بڑی دقیق اور نہایت ہی عمدہ کتاب ہے۔ مولانا فرماتے ہیں کہ عجیب اعتراض ہے ۔ کجا ہمارا استقبال قبلہ اور کجا تمہاری بت پرستی تم تو بتوں کو نافع اور ضاد سمجھ کر ان کے سامنے سجدہ کرتے ہو ، ان کی پوجا کرتے ہو۔ مگر ہم تو خانہ کعبہ کا صرف استقبال کرتے ہیں۔ لفظ استقبال خود بتلا رہا ہے کہ خانہ کعبہ کی طرف صرف توجہ کرتے ہیں۔ اس کی پوجا ہرگز نہیں کرتے۔ لہٰذا تمہاری بت پرستی اور ہمارے استقبال میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ بت تمہارے مقصود ہیں مگر ہمارا صرف رخ قبلہ کی طرف ہوتا ہے۔ مقصود تو ذات خداوندی ہوتی ہے۔
پھر دیکھیے عبادت کے لئے نیت ضروری ہے۔ اس کے لئے بغیر عبادت قبول نہیں مگر استقبال قبلہ کے لئے نیت ضروری نہیں ہے۔ محض اس طرف رخ کرلینا ہی کافی ہے۔ مشرکین بتوں کی پوجا نیت اور ارادے سے کرتے ہیں لہٰذا محض استقبال قبلہ عبادت کے زمرے میں نہیں آتا۔ پھر یہ بھی ہے کہ اول سے آخر تک نماز کے کسی لفظ سے بھی تعظیم کعبہ کا اظہار نہیں ہوتا۔ یہاں تو ایک ایک لفظ سے اللہ تعالیٰ ہی کی حمد و ثنا اور تعظیم بیان ہوتی ہے۔ لہٰذا کعبہ شریف کی عبادت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ذرا اور آگے چلئے خانہ کعبہ کی دیواریں یا اس کے پتھر مسلمان کا مقصود و منشاء نہیں ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اگر کسی وقت کعبہ کی دیواریں منہدم بھی ہوجائیں۔ العیاذ باللہ تو پھر بھی مسلمان نماز پڑھتے وقت اسی طرف رخ کریں گے۔ گویا ان کے نزدیک اینٹوں اور پتھروں کی کوئی حیثیت نہیں ، بلکہ اس جگہ کو مرکز تجلیات الٰہی سمجھ کر اس طرف رخ کیا جاتا ہے۔ عبداللہ بن زبیر کے زمانے میں بیت اللہ شریف کی تعمیر نو کے سلسلے میں جب ساری دیواریں گرا کر اس جگہ پر قناتیں کھڑی کردی تھیں تو نماز کے وقت رخ اسی طرف ہی کیا جاتا تھا۔ لہٰذ ا معلوم ہوا کہ بیت اللہ شریف صرف جہت ہے ، وہ معبود نہیں ہے۔ برخلاف اس کے بت پرست ہراس طرکو رخ کر کے عبادت کریں گے۔ جس طرف بت رکھے ہوں گے کیونکہ بت ان کے معبود ہیں اور بتوں کی منتقلی پر ان کا رخ بھی اسی طرف منتقل ہوجائیگا۔
لفظ بیت اللہ سے خود بخود واضح ہے کہ اس سے مراد اللہ کا گھر ہے ، نہ کہ خود اللہ رب العزت اور یہ مکان یا جگہ اللہ تعالیٰ عنایات کا مرکز ہے ، یہ بذات خود معبود نہیں ہے۔ ایک اور بات بھی ہے کہ جب کوئی کسی مکان کی طرف جاتا ہے تو اس کا مقصود مٹی اور پتھر کا بنا ہوا مکان نہیں ہوتا ، بلکہ اس کا مقصود و مطلوب اس مکان کا مکین ہوتا ہے۔ لہٰذا استقبال قبلہ سے ہمارا مقصود اللہ تعالیٰ ہوتا ہے ، نہ کہ خانہ کعبہ اور یہ ایک بنیادی اصول ہے کہ مستحق عبادت وہ ذات ہو سکتی ہے ۔ جو خود بخود ہو اور جس چیز کا قیام و بقا دوسروں کا مرہون منت ہو ، وہ عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے۔ اس خانہ کعبہ کو تو فرشتوں نے بنایا۔ آدم (علیہ السلام) نے تعمیر کیا ، پھر ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاتھوں پایہ تکمیل کو پہنچا ، یہ کیونکر معبود ٹھہرا۔
مولانا نانوتوی نے آخری بات یہ فرمائی کہ یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ کسی چیز کا عکس یا تجلی اس چیز کا عین ہوتا ہے اور یہ تصویر یا تجلی اسی چیز کی سمجھی جائیگی جس کی وہ فی الواقع ہے تو بھائی ہم کعبہ کو معبود نہیں مانتے بلکہ تجلی گاہ معبود مانتے ہیں اور اس طرف رخ کر کے عبادت کرتے ہیں تو گویا عین معبود حقیقی یعنی خداوند تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔
خانہ کعبہ کے مرکز تجلیات ہونے کو ایک دوسرے طریقے سے سمجھے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تجلیات کی مثال ایسی ہے ، جیسے سورج کی تجلی جو پوری کائنات پر پڑی ہے اور کائنات کیا ہے۔ یہ زمین ہے اس کے اوپر کچھ فضا ہے اور پھر عدم ہے۔ یعنی آگے کچھ بھی نہیں۔ جب سورج کی تجلی عدم پر پڑتی ہے تو زمین یک طرف واپس پلٹتی ہے اور زمین پر بیت اللہ شریف مثل آئینہ کے ہے آپ دیکھتے ہیں کہ جب سورج کی شعائیں آئینہ پر پڑتی ہیں اور اس میں سورج کی چمک نظر آتی ہے۔ اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کی تجلیات خانہ کعبہ پر پڑتی ہیں تو اس میں آ کر ٹک جاتی ہیں اور اسے مرکز تجلیات بنا دیتی ہیں یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تجلیات کے اس مرکز خانہ کعبہ کو قبلہ مقرر کیا گیا ہے ۔ چناچہ خانہ کعبہ کی طرف رخ کرنے سے خشوع اور اخبات پیدا ہوتا ہے۔
ذرا غور فرمائیے ، جس طرح خداوند تعالیٰ جہت سے پاک ہے۔ اسی طرح روح جیسی لطیف چیز کو بھی جہت کی ضرورت نہیں۔ برخلاف اس کے جسم انسانی مادی چیز ہے اور مادی چیز کا رخ جس چیز کی طرف متعین کیا جائے گا وہ مادی ہوگی۔ لہٰذا مادی چیز ہونے کی بناء پر خانہ کعبہ کو قبلہ مقرر کیا گیا ہے کہ اس کے اندر ایک قسم کا جمائو اور استقرار ہوتا ہے۔ مقصد یہ کہ ہم اس تجلی الٰہی کی طرف رخ کرتے ہیں اور اس مالک الملک کی عبادت کرتے ہیں ، جس ذات کی تجلی خانہ کعبہ پر پڑ کر اس کی صفت بنتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ تجلی اسی مقام پر پڑ رہی ہے اور یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ پوری زمین کی ابتداء اسی مکہ مکرمہ کے مقام سے ہوئی تھی یہ جگہ ساری زمین کی ناف ہے۔ سب سے پہلے اسی مقام سے پانی کا ایک بلبلہ اٹھا تھا جو پھیل کر زمین جیسی بڑی چیز میں تبدیل ہوگیا۔ اسی وجہ سے اس جگہ کو مقسم بلاد بھی کہا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ تجلیات اسی مقام پر پڑتی ہیں۔ لہٰذا یہ ہمارا قبلہ ٹھہرایا گیا۔
مسلمانوں کے قبلہ سے متعلق اعتراضات کے جواب حضرت مولانا نوتوی کے علاوہ بعض دیگر علمائے کرام نے بھی دیئے ہیں۔ ان میں دہلی کے مولانا ابوالمنصور ہیں اور پھر مولانا رحمت اللہ کیرانوی ہیں۔ جو ہندوستان سے ہجرت کر کے مکہ معظمہ چلے گئے۔ وہاں انہوں نے مدرسہ صولتیہ کی بنیاد رکھی۔ جو گزشتہ ایک صدی سے دینی طلبہ کی آبیاری کے علاوہ حجاج کرام کی خدمات بھی سر انجام دے رہا ہے۔ آپ نے عیسائیت کے رد میں ایک مدلل کتاب لکھی جس پر تبصرہ کرتے ہوئے لندن کے سنڈے ٹائمز ، اخبار نے لکھا تھا کہ اگر دنیا میں اس کتاب کو پڑھا گیا تو عرصہ تک عیسائیت کی ترقی میں رکاوٹ پیدا ہوجائے گی۔
آریہ سماج اور تثلیث
آریہ سماج ہندوئوں کا ایک فرقہ ہے ۔ ہندوئوں کے 33 کروڑ دیوتا سمجھے جاتے ہیں۔ یہ لوگ بت پرستی کے خلاف اعتراضات کا جواب نہ دے سکے اور گھبرا گئے ظاہر ہے کہ بت پرستی فطرت کے خلاف ہے اس لئے یہ لوگ بحث و مباحثے میں مار کھا جاتے چناچہ انہوں نے تمام بتوں کا انکار کر کے تثلیث کا ایک نیا عقیدہ وضع کیا اور کہا کہ بت وغیرہ کچھ نہیں ، صرف تین چیزیں قدیم ہیں یعنی خدا ، مادہ اور روح ، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف خدا تعالیٰ کی ذات قدیم ہے۔ مادہ اور روح حادث ہیں یہ بدبخت بت پرستی کو ترک کرنے کے باوجود بھی مشرک ہی رہے۔ جس طرح نصاریٰ باپ ، بیٹا اور روح القدس کی تثلیث میں مبتلا ہوئے ، اسی طرح آریہ سماج بھی خدا ، مادہ اور روح کی تثلیث کے قائل ہوئے۔
استقبال قبلہ میں اختلاف
الغرض ! فرمایا اے نبی (علیہ السلام) ، اگر آپ ان کے پاس ہر طرح کی نشانی بھی لے آئیں ، تو اہل کتاب آپ کے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے۔ ان میں سے ہر ایک کا الگ الگ قبلہ ہے اور یہ آپس میں ایک دوسرے کے قبلہ کو بھی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ یہودیوں کا قبلہ بیت المقدس ہے اور نصاری صخرۃ پتھر کی طرف رخ کرتے ہیں اور ہر ایک اپنے اپنے قبلہ پر مگن ہے۔ یہ لوگ اس قدر تعصب میں مبتلا ہیں۔
فرمایا جس طرح یہ لوگ آپ کے قبلہ کا اتباع کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اسی طرح وما انت بتابع قبلتھم آپ بھی ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے نہیں ہیں۔ کیونکہ جب تک اللہ کا حکم تھا۔ آپ اس طرف رخ کرتے رہے جب خداوند تعالیٰ کا دوسرا حکم آ گیا۔ تو آپ نے اس کے سامنے سر تسلیم خم کرلیا۔ اور بیت اللہ شریف کی طرف رخ کرلیا اور ان کا اپنا حال بھی یہی ہے۔ وما بعضھم بتابع قبلۃ بعض وہ بھی بعض بعض کے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے ولئن اتبعت اھوآء ھم اور اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی من بعد ما جآء ک من العلم بعد اس کے کہ آپ کے پاس قطعی علم آ چکا ہے۔ انک اذا لمن الظلمین تو پھر آپ نا انصافوں میں سے ہوں گے دوسرے مقام پر شرک کے متعلق فرمایا لئن اشرکت لیبطن عملک ولتکونن من الخسرین۔ “ یعنی فرض کرو اگر آپ شرک سرزد ہوگیا تو آپ کے اعمال ضائع ہوجائیں گے آپ نقصان اٹھانیوالوں میں ہوجائیں گے۔
اس مقام پر فرمایا کہ اگر آپ نے لوگوں کو راضی کرنے کے لئے ان کی بات مان لی بعد اس کے کہ آپ کے پاس قطعی حکم آ چکا ہے تو پھر آپ کے لئے یہ بڑی ناانصافی کی بات ہوگی۔
امام رومی اور قبلہ
اس آیت کی روشنی میں کہ بعض لوگ بعض لوگ بعض لوگوں کے قبلہ کی پیروی نہیں کرتے۔ مولانا رومی نے اپنی مثنوی میں قبلہ سے متعلق بڑے نکات پیدا کئے ہیں۔
فرماتے ہیں : -
قبلہ شاہاں بود تاج و کمر ، قبلہ ارباب دنیا سیم و زر
بادشاہوں کا قبلہ تاج و تخت ہوتا ہے وہ ہمیشہ اس فکر میں رہتے ہیں کہ سنہری ٹپکا انہیں کے پاس رہے اور دنیا دار لوگوں کا قبلہ سونا چاندی یعنی مال و دولت ہوتا ہے۔
قبلہ صورت پرستاں آب و گل ، قبلہ معنی شناساں جان و دل
سورج پرستوں کا قبلہ پانی اور مٹی کا بنا ہوا پتلا ہوتا ہے اور وہ اسی بات پر فریضتہ ہوتے ہیں۔ مگر معانی سے واقف حال لوگوں کا قبلہ جان اور دل ہے ۔ وہ ہمیشہ ، جان ، دل ، روح اور قبر کی صفائی کے لئے کوشاں ہوتے ہیں۔
قبلہ زہاد محراب قبول ، قبلہ بدسیرتاں کار فضول
عابد و زاہد لوگوں کا قبلہ قبولیت کا محراب ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ اس فکر میں رہتے ہیں کہ کس طرح ان کی نیکیاں قبول ہوجائیں اور بدکردار لوگ فضول کاموں میں منہمک ہیں۔ ان کا قبلہ ویہ ہے۔
قبلہ تن پر وراں خواب و خورش ، قبلہ انساں بد انش پرورش
پیٹ کے پجاریوں کا قبلہ کھانے پینے اور سونے کے سوا کچھ نہیں۔ وہ اسی فکر میں رہتے ہیں۔ مگر انسان بحیثیت انسان عقل و دانش کی پرورش کرتے ہیں۔ وہ اسی تگ و دو میں رہتے ہیں۔
قبلہ عاشق وصال بےزوال ، قبلہ عارف جمال ذوالجلال
عاشق کا قبلہ وصل لازوال ہوتا ہے۔ یعنی وہ ایسی ملاقات کا خواہشمند ہوتا ہے جس کو کبھی زوال نہ آئے اور عارف لوگوں کا منتہائے مقصود حق تعالیٰ کا دیدار ہے وہ ہمیشہ وہاں تک کی رسائی کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔
قبلہ اصحاب منصب مال و جاہ ، قبلہ اہل سلوک اسباب راہ
منصب پر فائز لوگوں کا قبلہ مال و دولت اور عزت و عظمت ہوتا ہے جب کہ خدا تعالیٰ کے راستے پر چلنے والے لوگوں کا قبلہ اس راستے کے اسباب ہوتے ہیں جن کے ذریعے وہ مطلوبہ منزل حاصل کرتے ہیں۔
قبلہ حرص و امل باشد ہوا ، قبلہ قانع توکل بر خدا
حرص اور آرزو والے لوگوں کا قبلہ ان کی خواہش کی تکمیل ہوتا ہے اور قناعت کرنے والوں کا قبلہ اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور بھروسہ ہوتا ہے۔
کتمان حق
فرمایا الذین اتینھم الکتب جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے یعنی یہود و نصاریٰ ، یعرفونہ کما یعرفون ابنآء ھم وہ اس کو یعنی پیغمبر اسلام (علیہ السلام) یا قرآن پاک کو اسی طرح جانتے ہیں۔ جس طرح وہ اپنے بیٹوں کو جانتے ہیں۔ وان فریقاً منھم لیکتمون الحق اور بیشک ان میں ایک گروہ حق کو چھپاتا ہے۔ وھم یعلمن حالانکہ وہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہیں۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ پیغمبر اور کلام پاک کو بیٹوں کی طرح جاننے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح بیٹا گود میں ہونے کی وجہ سے اس پر شک نہیں گزرتا ، اسی طرح اہل کتاب حضور ﷺ کو اپنی ہی کتابوں میں موجود نشانیوں سے پہچانتے ہیں کہ یہ آخری نبی ہیں۔ مگر تسلیم نہیں کرتے۔ حضرت عمر اور حضرت عبداللہ بن سلام کا مقولہ ہے کہ مجھے اپنے بیٹے کے متعلق شک ہو سکتا ہے کہ شائد اس کی ماں نے خیانت کی ہو۔ مگر پیغمبر اسلام (علیہ السلام) کے بارے میں تردد نہیں ہو سکتا۔ فرمایا الحق من ربک یہ حق آپ کے رب کی طرف سے ہے۔ فلا تکونن من المسترین آپ شک اور تردد کرنے والوں میں نہ ہوں۔
Ayahs 2:148–150ربط آیات
تحویل قبلہ کا حکم نازل کرنے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے بتلا دیا کہ بیوقوف لوگ یعنی متعصب یہود و نصاریٰ یہ ضرور اعتراض کریں گے کہ تحویل قبلہ کی ضروتر کیوں محسوس ہوئی۔ مگر اے نبی کریم آپ ان کے اعتراضات کو خاطر لائیں نہ لائیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح کردیا کہ بیت المقدس کا استقبال عارضی حکم تھا اور کس خاص مصلحت کے تحت دیا گیا تھا مستقل قبلہ تو بیت اللہ شریف ہے جس کا حکم حضور نبی کریم (علیہ السلام) کی دلی خواہش کے پیش نظر دیا گیا۔ یہ تقرر کوئی نیا نہیں ہے ، بلکہ سابقہ کتب سماویہ میں موجود تھا۔ کہ آخری دور اور آخری نبی کا قبلہ وہی خانہ کعبہ ہوگا جو ابراہیم (علیہ السلام) لیہ السلام کا قبلہ ہے اور اس میں اہل کتاب کے لئے آزمائش کا سامان بھی تھا کہ ان میں سے کون ہے جو اللہ کے نازل کردہ احکام کی پیروی کر کے ابراہیمی قبلہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ لہٰذا حضور ﷺ کو تسلی بھی دی گئی کہ آپ ان کے بیہودہ اعتراضات کی پرواہ نہ کریں ۔ بلکہ آپ صراط مستقیم پر گامزن رہیں اور اس سلسلہ میں آپ کو کسی قسم کا شک یا تردد نہیں ہونا چاہئے۔
ہر امت کے لئے جہت مقرر ہے
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک اصولی بات بیان فرمائی ہے۔ ولکل وجھۃ ھومولیھا یعنی ہر امت کے لئے ایک جہت ہوتی ہے جس کی طرف وہ رخ کرتے ہیں۔ دنیا میں کوئی امت ایسی نہیں ہوگی جس کی جہت مقرر نہ ہو۔ اب یہ جہت صحیح بھی ہو سکتی ہے اور غلط بھی ہو سکتی ہے اور محرف بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم ہر امت کا قبلہ ضرور مقرر ہے۔ اور پھر آخری امت کے لئے اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ شریف کو قبلہ مقرر فرمایا۔ جب یہ ایک اصول موجود ہے تو پھر اہل کتاب کو مسلمانوں کے قبلہ پر معترض نہیں ہونا چاہئے۔ ایسا کرنا سخت ناانصافی کے مترادف ہے۔
جہت فروعی چیز ہے
یہاں پر اس بات کی وضاحت بھی کردی کہ استقبال قبلہ اللہ تعالیٰ کے احکام میں سے ایک حکم ہے اور فرعی حیثیت کا حامل ہے۔ یہ کوئی ایسا بنیادی مسئلہ نہیں ہے جس پر انسان بہت اصرار کرے لہٰذا اس قسم کی معمولی بات پر جھگڑنا انصاف پسند لوگوں کا کام نہیں ہے۔ اسی سورة میں آگے چل کر آئے گا کہ اصل مقصد تو عبادت الٰہی ہے۔ جہت کا تعین تو محض توجہ کے لئے ہوتا ہے ورگنہ مشرق و مغرب سب اللہ ہی کے لئے ہیں۔ جہت کی وجہ سے امت میں مرکز یت پیدا ہوجاتی ہے اور یہ عبادت کے لئے وسیلہ یا شرط ہے۔
بنیادی چیز نیکی ہے
فرمایا اصل اور بنیادی چیزی نیکی ہے۔ فاستبقوا الخیرات لہٰذا نیکیوں کی طرسبقت کرو۔ یعنی زیادہ سے زیادہ نیکیاں حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ اینماتکونوا تم جہاں بھی ہو گے ، یات بکم اللہ جمیعاً اللہ تعالیٰ تم سب کو اکٹھا کرلے گا اور پھر آخرت میں بھی سب کو اکٹھا کر کے سب کا محاسبہ کرے گا۔ یہ تو بعد کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بھی بیت اللہ شریف کو قبلہ مقرر کر کے سب کا رخ ادھر مقرر کردیا اور سب کو اس پر جمع کردیا۔ فرمایا آگے چل کر نیکی ہی تمہارے کام آئے گی۔ لہٰذا نیکی میں سبقت حاصل کرو۔ حضور ﷺ نے حضرت علی کو فرمایا ، اے علی ! تین چیزوں میں تاخیر نہ کرو۔ ” الصلوۃ اذا اتت “ یعنی نماز کا وقت ہوجائے تو تاخیر نہ کرو۔ ” والجنازۃ اذا حضرت اور جب جنازہ تیار ہوجائے تو جلد پڑھو ، تاخیر نہ کرو۔ ” ولایم اذا وجدت لھا کفواً “ اور جب بےنکاح (مرد یا عورت) کا ہمسر مل جائے تو نکاح میں تاخیر نہ کرو۔ یہ سب نیکی میں سبقت کرنیوالی باتیں ہیں۔
فرمایا جس طرح اللہ تعالیٰ نے دنیا میں سب کو ایک قبلہ پر اکٹھا کر دای ہے اسی طرح آخرت میں بھی سب کو جمع کر دے گا اور یہ اس کے لئے قطعاً محال نہیں کیونکہ ان اللہ علی کل شیء قدیر اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے احاطہ اختیار سے کوئی چیز باہر نہیں۔
استقبال قبلہ کے سہ گونہ احکام
اگلی دو آیات میں استقبال قبلہ کا تنی دفعہ حکم دیا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے ومن حیث خرجت فول جھک شطر المسجد الحرام اور آپ جس جگہ نکلیں ، اپنا رخ مسجد حرام کی طرف پھیر دیں۔
فرمایا۔ وانہ للحق من ربک اور بیشک یہ آپ کے رب کی طرف سے حق ہے وما اللہ بغافل عما تعملون اور اللہ تعالیٰ ان کاموں سے غافل نہیں ہے جو تم کرتے ہو۔ دوسری بار پھر ارشاد فرمایا ومن حیث خرجت فول وجھک شطر المسجد الحرام اور آپ جہاں کہیں بھی نکلیں ، اپنا رخ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں۔ اسی آیت میں پھر آگے فرمایا وحیث ماکنتم اور آپ لوگ جس مقام پر بھی ہوں فولوا وجوھکم شطرہ اپنے چہروں کو اسی کی طرف پھیر لیں۔
ایک ہی مقام پر تین بار استقبال قبلہ کا حکم دینے کی مختلف توجیہات ہیں۔ بعض فرماتے ہیں کہ استقبال قبلہ کا پہلا حکم ان لوگوں کے لئے ہے۔ جو حدود حرم کے اندر رہتے ہیں اور دوسرا حکم ان کے لئے ہے جو ملک عرب میں اقامت پذیر ہیں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ تیسرا حکم عرب کے علاوہ باقی ساری دنیا کے رہنے والوں کے لئے نازل ہوا ہے۔
بعض دوسرے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ پہلا حکم اس لئے دیا گیا کہ حضور نبی کریم ﷺ کی اپنی مرضی اور خواہش تھی کہ قبلہ ابراہیمی ہی ہمارا قبلہ مقرر وہ۔ لہٰذا یہ حکم دیا گیا۔ فرمایا دوسرا حکم اس واسطے دیا گیا کہ سابقہ حکم میں اس کی پیش گوئیاں موجود تھیں۔ اور ان کی تصدیق کے لئے یہ دوسرا حکم نازل کیا گیا۔ پھر تیسری دفعہ استقبال کا حکم اس لئے دیا کہ لوگوں کو الزام کا موقع نہ ملے کہ دیکھو ! مسلمان ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرتے ہیں۔ لہٰذا ہمارا دین سچا ہے ، اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ یہ عنادی اہل کتاب اس قسم کے اعتراض کریں گے۔ لہٰذا ان کو رفع کرنے کیلئے فرمایا لیلایکون للناس علیکم حجۃ تاکہ آپ پر لوگوں کا الزام یا کوئی حجت باقی نہ رہے۔ کبھی یہ نہ کہنے لگیں کہ جب قبلہ ہمارا تسلیم کرتے ہیں تو ہمارا باقی دین کیوں تسلیم نہیں کرتے۔
فرمایا اس اتمام حجت کے باوجود بعض لوگ حجت بازی سے باز نہیں آئیں گے۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایا الا الذین ظلموا منھم یہ ان اہل کتاب میں سے ظالم لوگ ہونگے جو اپنی بات پر اڑے رہیں گے اور تحویل قبلہ پر بیہودہ قسم کے اعتراض کرتے ہیں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے فرمایا کہ اہل کتاب تو صرف تحویل قبلہ پر ایک اعتراض کرینگے مگر مشرکین ہر دو صورتوں میں معترض ہونگے یعنی بیت المقدس کو قبلہ پکڑنے پر بھی اعتراض کرینگے اور اس کے بیت اللہ شریف کی طرف پلٹنے پر بھی معترض کے معترض رہیں گے۔
فرمایا اس قسم کے حجت بازوں کی آپ بالکل پرواہ نہ کریں۔ فلا تخشوھم آپ ان سے خوفزدہ نہ ہوں واخشونی بلکہ آپ مجھ سے ہی خوف کھائیں۔ یہ لوگ محض تعصب کی وجہ سے حق کو چھپاتے ہیں اور آپ پر طرح طرح کے اعتراض کرتے ہیں ان کے اعتراضات سے گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا خوف جانگزیں ہونا چاہئے۔ جب اللہ کا خوف پیدا ہوجائیگا تو باقی تمام خوف خودبخود ختم ہوجائیں گے۔
قبلہ تکمیل نعمت ہے
اللہ تعالیٰ نے قبلہ مقرر کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان فرمائی ولا تم نعمتی علیکم اور تاکہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کر دوں گویا بیت اللہ کا تقرر نعمت خداوندی کی تکمیل ہے۔ وہی بیت اللہ شریف جو تمام قبلوں سے افضل ہے۔ تجلی گاہ خداوندی اور پوری دنیا کے لئے مرکز ہدایت ہے وہاں پر کئے جانے والے عمل کا اجر وثواب لاکھ گناہ زیادہ ہے۔ اسی لئے یہ حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) اور آپ کے ماننے والوں کے لئے ایک عظیم نعمت ہے۔ اگلی آیتوں میں کتاب ، نہی اور عبادت خانے کا ذکر بھی آئے گا۔ تو یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے۔
اس کے علاوہ یہ بات بھی ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے بےمثال قبلہ مقرر کیا ہے۔ اسی طرح کتاب بھی بےمثال دی ہے اور دین بھی جامع اور کامل عطا کیا ہے گویا اللہ تعالیٰ نے ہر نعمت اس آخری امت کے لئے اٹھا رکھی ہے۔ منجملہ ان کے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی خلافت بخشی ہے۔ یہ بھی بہت بڑا انعام ہے۔ جو اولاد آدم کے علاوہ کسی اور مخلوق کو حاصل نہیں ہوا ۔ ” واذ قال ربک للملٓئکۃ انی جاعل فی الارض خلیفۃ “ خلافت نیابت الٰہی ہے۔ اس میں تقویٰ کا اظہار ضروری ہے اور عدل و انصاف قائم کرنا بہت بڑی بات ہے پھر یہ ہے کہ خلافت کے لئے قانون اور شریعت کی ضرورت ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے عطا کی۔ یہ خلافت اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بھی عطا کی ” یاد و دانا جعلنک خلیفۃ فی الارض “ مقصد یہی ہے کہ ولا تم نہعمتی علیکم تاکہ تم پر تکمیل نعمت ہوجائے۔ بیشک اللہ نے خلافت جیسی نعمت عطا کی یہ الگ بات ہے کہ دوسری قوموں کی طرح مسلمانوں نے بھی اپنی نالائقی کی وجہ سے اسے خراب کردیا اور ملوکیت میں مبتلا ہو کر برائیاں اختیار کرلیں۔ ظلم و زیادتی کے مرتکب ہوئے۔ تاہم اللہ نے اپنی نعمت مکمل کردی۔ یاں سای بات کی طرف اشارہ ہے۔
قبلہ ذریعہ ہدایت ہے
اللہ تعالیٰ نے تقرر قبلہ کی ایک اور وجہ یہ بیان فرمائی و لعلکم تھتدون اور تاکہ تم ہدایت پا جائو تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے تمام ہی سامان مہیا کردیئے ہیں۔ جیسا کہ دعا میں درخواست کی جاتی ہے۔ ” اھدنا الصراط المستقیم “ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا ” لعلکم تھتدون “ اسی طرح ابتدائے سورة میں فرمایا ” ذلک الکتب لاریب فیہ ھدی للمتقین “ یہ متقی لوگوں کے لئے ہدایت ہے۔ گویا کتاب اللہ بھی ذریعہ ہدایت ہے۔ یہ کتاب تقویٰ اور عدل و انصاف اختیار کرنیوالوں کی راہنمائی کرتی ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی ” واللہ لایھدی القوم الظلمین “ اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ ان کی راہنمائی راہ راست کی طرف نہیں کرتا وہ اندھیروں میں ہی بھٹکتے رہتے ہیں۔
الغرض ! جس طرح بعض دوسری چیزیں ذریعہ ہدایت ہیں۔ سای طرح قبلہ کو بھی ذیعہ ہدایت فرمایا ولعلکم تھتدون تاکہ تم ہدایت پا جائو۔ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے یہ سارے سامان مہیا فرما دیئے۔