Ayahs 2:236–237ربطہ آیات
گذشتہ دروس میں عدت کا مسئلہ بیان ہوچکا ہے اور یہ بھی کہ دوران عدت نکاح نہیں ہوسکتا۔ گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے دوران عدت عورت سے نکاح کا وعدہ لینے سے بھی منع فرمایا ہے۔ البتہ اشارے کنائیے سے بات کرنے کی اجازت دیدی۔ مقصد یہ کہ جس طرح عدت میں نکاح کرنا حرام ہے اسی طرح نکاح کا وعدہ لینا بھی حرام ہے۔ طلاق کے دوران اور اس کے بعد بچے کی رضاعت کا مسئلہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ طلاق کے وقت اگر دودھ پیتا بچہ ہو ، تو اس کی پرورش کا ذمہ دار کون ہوگا۔ اگر بچے کا باپ بھی نہیں ہے تو پھر اس کا بار کون اٹھائے گا۔ نیز یہ کہ دودھ کس عورت سے پلانا چاہئے یہ سب مسائل بیان ہوچکے ہیں۔
حق مہر لازمی ہے
آج کے درس میں حق مہر اور اس کی ادائیگی سے متعلقہ مسئلہ بیان ہوا ہے۔ حق مہر نکاح کے لوازم میں سے ہے سورة احزاب میں ہے قد علمنا مافرضنا علیھم فی ازواجھم ہم اس چیز کو جانتے ہیں جو ہم نے عورتوں کے متعلق مردوں پر ضروری قرار دی ہے۔ اس میں حق مہر اور عورت کے دیگر اخراجات ، روٹی ، کپڑا ، رہائش ، علاج وغیرہ سب خاوند کے ذمہ ہیں۔ سورة نساء میں ہے واحل لکم ماوراء ذلکم ان تبتغو ا باموالکم یعنی جن محرمات کا ذکر کیا گیا ہے ان کے علاوہ تم باقی عورتوں سے مال صرف کرکے نکاح کرسکتے ہو۔ مال خرچ کرنے کے متعلق مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ پہلے نمبر پر حق مہر آتا ہے۔ سب سے پہلے اس کا خرچہ ہے جو مرد ادا کریگا۔ پھر عورت کی باقی ضروریات پر اخراجات ہیں وہ بھی مرد کے ذمہ ہیں۔ سورة نساء میں ہی مزید وضاحت کے ساتھ حکم دیا گیا ہے۔ واٰتو النساء صدقتھن نحلۃً عورتوں کے حق مہر خوشی خوشی ادا کرو۔ اس میں پس و پیش نہ کرو۔ یہ اللہ تعالیٰ نے تم پر فرض کیا ہے۔ الغرض ! حق مہر نکاح کے لیے لازمی ہے۔
حضرت مولانا شاہ رفیع الدین (رح) کی تفسیر رفیعی میں ہے۔ کہ مہر نکاح کا لازم جزو ہے لہٰذا اس کے بغیر نکاح کیسے درست ہوسکتا ہے۔ مگر نکاح کرتے وقت مہر مقرر کرنا ضروری نہیں ہے اگر اس کا اجمالی تذکرہ بھی ہوجائے تو کافی ہے مثلاً صرف اتنا کہ دیاجائے کہ ہم بعد میں آپس میں طے کرلیں گے۔ اگر نکاح کرتے وقت مہر کا تقرر بھولے سے رہ گیا تو بھی نکاح درست ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص سرے سے حق مہر کا انکار ہی کردے تو نکاح نہیں ہوگا۔
خاندان حضرت شاہ ولی اللہ (رح)
ہندوستان میں خاندان شاہ ولی اللہ (رح) کی دینی خدمات ناقابل فراموش ہیں یہ آپ کا خاندان ہی ہے جس نے قرآن پاک کے علم کو مقامی زبان میں پھیلایا۔ خود شاہ ولی اللہ (رح) نے سب سے پہلے ” فتح الرحمن “ کے نام سے قرآن پاک کا فارسی ترجمہ کیا۔ اور اس کے ساتھ مختصر حاشیہ بھی تحریر کیا۔ اس کے علاوہ اس کا مقدمہ بھی لکھا۔ اصول تفسیر پر آپ کی کتاب ” الفوز الکبیر “ بےنظیر چیز ہے۔ قرآن پاک کو سمجھنے کے لیے راہنما کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور آج بھی تمام دینی مدارس اور یونیورسٹیوں میں ایم اے ( اسلامیات) کی جماعتوں کو پڑھائی جاتی ہے۔ فہم قرآن سے متعلق آپ نے نہایت بلند پایہ اصول مرتب کیے ہیں۔
آپ کے بڑے صاحبزادے حضرت شاہ عبدالعزیز (رح) نے قرآن پاک کے آخری دو پاروں اور سورة بقرہ کے نصف تک کی تفسیر فارسی زبان میں لکھی۔ آپ نابینا ہوگئے تھے اس لیے بولتے جاتے تھے اور آپ کے شاگردانِ رشید اس کو قلمبند کرتے تھے۔ اپنی وفات تک اس سے زیادہ تفسیر کا کام نہیں کرسکے۔ آپ ہفتہ میں ایک روز قرآن پاک کا درس بھی دیا کرتے تھے۔ یہ درس بھی لوگوں نے لکھے۔ آجکل طبع شدہ نسخے نہیں ملتے۔ تاہم قلمی نسخے کہیں موجود ہیں۔ واللہ اعلم
حضرت شاہ ولی اللہ (رح) کے دوسرے بیٹے شاہ رفیع الدین (رح) نے قرآن پاک کا سب سے پہلا اردو ترجمہ کیا۔ یہ تحت اللفظ ترجمہ ہے جو عام پڑھاجاتا ہے ۔ مختلف اشاعتی اداروں مثلاً تاج کمپنی ، انجمن حمایت اسلام وغیرہ نے اس ترجمہ کے بیشمار ایڈیشن شائع کیے ہیں۔ آپ قرآن پاک کا درس بھی دیا کرتے تھے۔ جس کو آپ کے شاگردان نوٹ کرلیا کرتے تھے۔ آپ کی وفات کے چالیس پچاس سال بعد یعنی آج سے سوا سو سال پہلے صرف سورة بقرہ والا حصہ شائع ہوا جو کہ تفسیر رفیعی کہلایا۔
آپ کے تیسرے بیٹے شاہ عبدالقادر (رح) نے قرآن پاک کا بامحاورہ اردو ترجمہ کیا ہے اس میں بعض مشکل الفاظ بھی آئے ہیں جو محاورۃً استعمال ہوئے ہیں۔ حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری (رح) فرمایا کرتے تھے کہ اسیری کے دوران میں شاہ عبدالقادر کا اردو ترجمہ پڑھ رہا تھا کہ اللہ الصمد کا ترجمہ نرا دھار نظر سے گزرا۔ چونکہ یہ ہندی زبان کا لفظ ہے ، اس لیے میں اسے سمجھ نہ سکا جیل میں موجود ایک بہت بڑے پنڈت سے میں نے اس لفظ کا معنی دریافت کیا تو وہ کہنے لگا تم کیوں پوچھتے ہو ، پہلے یہ بتلائو کہ یہ لفظ کہاں آیا ہے۔ میں نے کہا پہلے تم اس کا معنی بتائو۔ چناچہ اس پنڈت نے بتایا ۔ کہ نرادھار سنسکرت زبان کا لفظ ہے اور یہ اس ذات کے لیے بولاجاتا ہے جس کی طرف سب چیزیں محتاج ہوں اور وہ کسی کا محتاج نہ ہو۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ شاہ صاحب نے ایسے ایسے عجیب و غریب مگر بالکل صحیح الفاظ اپنے ترجمہ میں استعمال کیے ہیں۔ آپ نے دہلی کی کنگ ایڈورڈ روڈ پر واقع اکبری مسجد میں بارہ سال اعتکاف کیا تھا۔ بعد میں اس مسجد کو انگریزوں نے نیست و نابود کردیا۔ یہ ترجمہ آپ نے اسی اعتکاف کے دوران لکھا تھا ، ساتھ تھوڑا تھوڑا حاشیہ بھی ہے۔ اس ترجمہ کو شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن نے نسبتاً آسان زبان میں منتقل کیا ہے۔ اور یہ کام آپ نے مالٹا جیل میں اسیری کے زمانہ میں انجام دیا۔ شاہ صاحب کے زمانہ میں ا ُ ردو زبان ابھی ابتدائی مراحل سے گزر رہی تھی۔ اور اس میں بھی اتنا تسلسل نہیں تھا۔ دو سو سال کے عرصہ میں اردو زبان کافی ترقی کرچکی تھی۔ لہٰذا شیخ الہند نے شاہ صاحب کے اردو ترجمہ کو آسان بنادیا۔ اور آجکل اس کی اشاعت عام ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ (رح) کے سب سے چھوٹے اور چوتھے بیٹے شاہ عبدالغنی (رح) ہیں۔ آپ نے درس و تدریس کے ذریعے تو دین کی بہت خدمت کی ہے۔ مگر آپ کی کوئی مستقل کتاب نہیں ہے۔ البتہ آپ کے صاحبزادے شاہ اسماعیل شہید (رح) نے قلم اور تلوار دونوں سے جہاد کیا۔ آپ کی کتابیں بھی موجود ہیں اور آپ نے انگریزوں اور سکھوں کے خلاف عملی جہاد میں بھی حصہ لیا اور پھر بالا کوٹ کے مقام پر جام شہادت نوش فرمایا۔
اور نگ زیب عالمگیر (رح)
شاہ ولی اللہ (رح) 1703 ء میں پیدا ہوئے جب کہ اور نگ زیب عالمگیر (رح) 1707 میں وفات پا گئے۔ یہ اپنے خاندان کے واحد بادشاہ تھے جنہوں نے پچاس سال تک ہندوستان پر حکومت کی۔ کابل سے لیکر برما تک کا وسیع علاقہ انکی سلطنت میں شامل تھا۔ عالمگیر (رح) کے انچاس 49 سال تو لڑائیوں میں گزر گئے۔ انہیں صرف ایک سال امن وامان کا ملا۔ انہوں نے مغلیہ سلطنت کو مستحکم کرنے کی ازحد کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکے۔ آپ کی وفات کے بعد یکے بعد دیگرے کئی بادشاہ تخت نشیشن ہوئے ، حضرت شاہ ولی اللہ (رح) نے دس بادشاہوں کو مسند اقتدار پر آتے دیکھا مگر ان میں سے کوئی بھی لائق ثابت نہ ہوا۔ سلطنت کمزور ہوتی چلی گئی اور انگریزوں کو مداخلت کا موقع مل گیا اور آخر انہوں نے ہندوستان میں پائوں جما لیے۔
اور نگ زیب عالمگیر (رح) بڑے متدین آدمی تھے۔ مگر انگریزوں نے انہیں خوب بد نام کیا۔ انہوں نے عالمگیر (رح) کو ایک ظالم بادشاہ کی حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش کیا۔ اور یہاں تک مشہور کیا۔ کہ عالمگیر اس وقت تک ناشتہ نہیں کرنا تھا۔ جب تک ہزاروں ہندوئوں کو قتل نہیں کروا دیتا تھا۔ یہ بالکل جھوٹ ہے خدانخواستہ اگر ایسا ہوتا تو ہندوستان میں کوئی ہندو باقی نہ رہتا۔ آپ نے پچاس سال حکومت کی۔ اور ہندو وار السطنت دہلی میں بھی موجود تھے۔ آپ نے بعض سکھوں اور مرہٹوں کے ساتھ لڑائی کی۔ کیونکہ شورش پسند تھے مگر آپ نے کسی پر ظلم نہیں کیا۔ شریعت کا پابند سچا مسلمان تھا جہاں حق و انصاف کا تقاضا ہوا ، اپنے بھائی تک کو معاف نہیں کیا۔ آپ کے بھائی نے شہزادگی کے زمانہ میں ایک غریب شخص کے بچے کو ناحق قتل کردیا تھا۔ وہ شہزادہ ہونے کی وجہ سے گرفت میں نہ آسکا۔ جب عالمگیر (رح) کا دور آیا تو اس بچے کے باپ نے مقدمہ دائر کردیا اور داد رسی چاہی۔ باقاعدہ مقدمہ چلا۔ قتل کا ثبوت فراہم ہوا۔ اور پھر قصاص میں شہزادے کو سزائے موت ہوئی ۔ عالمگیر (رح) اس کردار کا آدمی تھا۔
حق مہر کا عدم تقرر
تو میں یہ عرض کر رہا تھا کہ نکاح کے لیے حق مہر لازمی ہے۔ البتہ بوقت نکاح اس کا تقرر ضروری نہیں ہے۔ یہ بعد میں بھی طے ہوسکتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں ایسی ہی صورت کا تذکرہ ہے۔ فرمایا لا جناح علیکم ان طلقتم النساء مالم تم سو ھن او تفرضو لھن فریضۃً تم پر کوئی گناہ نہیں ایسی صورت میں کہ تم طلاق دے دو عورتوں کو اس حالت میں کہ تم نے ان کو چھوا نہیں اور ان کا مہر بھی مقرر نہیں کیا۔ فرمایا بغیر مہر مقرر کیے نکاح بھی ہوگیا تھا اور اب طلاق بھی واقع ہوگئی۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم عورتوں کو ان کے حق سے بالکل محروم کرو۔ بلکہ ومتعوھن ان کو فائدہ پہنچائو۔ یعنی کچھ دے دلا دو مگر کس قدر فرمایا۔ علی الموسع قدرہ صاحب حیثیت پر اسکی حیثیت کے مطابق۔ اگر کوئی طاقت والا ہے تو وہ اس کے مطابق ادا کرے۔ وعلی المقتر قدرہ اور اگر کوئی مالی لحاظ سے کمزور ہے۔ تنگدست ہے تو وہ اپنی حیثیت کے مطابق مطلقہ کو ادا کرے۔ اس مقام پر فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ عورت کو کم از کم ایک جوڑا کپڑے دینا ضروری ہے۔ جس میں تین کپڑے شامل ہوں ایک بڑی چادر ، ایک دوپٹہ اور ایک کرتہ جو جسم کو ڈھانپ لیں۔ تاہم یہ ہے کہ مالدار اچھا قیمتی جوڑا لے دے اور غریب آدمی اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کردے یہ تو ایسی عورت کیلئے ہے جس کا مہر مقرر نہیں ہوسکا اور طلاق واقع ہوگئی۔ البتہ جن کے مہر مقرر ہوں ان کو حق مہر تو ادا ہوگا ، اس کے علاوہ کپڑے دینا بھی مستجب ہے اسی کو فرمایا متاعاً بالمعروف یہ متاع دستور کے مطابق دو ۔ مطلقہ عورت کا حق غصب نہ کرو۔ فرمایا حقاً علی المحسنین یہ چیز صاحب ایمان نیکو کاروں پر لازم ہے لہٰذا اس میں کوتاہی نہ کریں۔ بلکہ مطلقہ کو ضرور اس کا حق ادا کریں۔
مہر مثل
طلاق کے علاوہ ایک صورت بیوگی کی بھی ہے۔ اگر نکاح کرتے وقت مہر مقرر نہیں ہوا اور میاں بیوی کی خلوت بھی نہیں ہوئی اور خاوند مر گیا تو اب عورت کس چیز کی حقدار ہے۔ ایسی صورت میں عورت مہر مثل کی حقدار ہوگی ۔ شریعت میں مہر مثل سے مراد ایسا مہر ہے جو ایسی عورت کے خاندان کی دوسری عورتوں کا عام طور پر مقرر ہوتا ہے جب ایسی صورت پیش آجائے تو پھر دیکھاجائے کہ اس خاندان یا برادری میں اس حیثیت کی عورتوں کو کیا مہر مقرر ہوتا ہے۔
اس کے مطابق اس عورت کو بھی مہر ادا ہوگا۔ اس کے علاوہ یہ عورت خاوند کی وراثت کی بھی حق دار ہوگی۔ اور اسے چار ماہ دس دن کی مقررہ عدت بھی گزارنا ہوگی۔
نصف مہر
آج کے درس کی دوسری آیت کریمہ نصف مہر کے متعلق ہے۔ یہ کس حالت میں ادا کیا جاتا ہے فرمایا وان طلقتمو ھن من قبل ان تم سو ھن وقد فرضتم لھن فریضۃً اور اگر تم ایسی حالت میں عورتوں کو طلاق دو کہ ان کے قریب نہیں گئے۔ مگر نکاح کرتے وقت مہر مقرر کیا تھا۔ اور وہ طلاق ہونے سے قبل ادا نہیں ہوا۔ فنصف ما فرضتم پس نصف ہے جو تم نے مقرر کیا تھا یعنی اگر بغیر مقاربت کے طلاق ہوگئی ہے تو مقررہ مہر کا نصف ادا کرنا ہوگا۔ یہ تو کم از کم ہے کہ اتنا ضرور ادا کرو۔ البتہ سلف میں ایسے واقعات بھی ملتے ہیں کہ انہوں نے واجب الادا مہر سے زیادہ بھی دیا۔ مثلاً حضرت حسن بن علی بن ابی طالب کے متعلق آتا ہے کہ ان کے ساتھ ایسا معاملہ پیش آگیا۔ بغیر مجامعت کے عورت کو طلاق دے دی۔ تو ایک روایت کے مطابق انہوں نے دس ہزار درہم ادا کئے اور دوسری کے مطابق بیس 20 ہزار درہم کی رقم حق مہر کے طور پر ادا کی مقصد یہ تھا کہ جدا ہونے والی عورت کسی پریشانی میں مبتلا نہ ہو۔ لہٰذا اسے احسن طریقے سے رخصت کیا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل کردیا کہ اگر مہر مقرر نہ ہوا ہو اور طلاق واقع ہوگئی تو عورت کو کم از کم کپڑوں کا ایک جوڑا دے دو ۔ اور اگر مہر مقرر ہوا تھا۔ تو کم از کم اس کا نصف ادا کرو۔
معافی تقویٰ کی علامت ہے
الا ان یعفون البتہ ایک صورت میں ادائیگی مہر سے بچ سکتے ہو کہ وہ عورتیں خود مہر معاف کردیں۔ کہ ٹھیک ہے ہم نہیں لیتیں جائو معاف ہے یا دوسری صورت یہ ہے کہ او یعفو الذی بیدہ عقدۃ النکاح یا وہ شخص معاف کردے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے یعنی طلاق دینے والا مردہ معاف کردے۔ مردوں کا معاف کردینا بدیں معنی ہے کہ وہ نصف کی بجائے پورا حق مہر ادا کردیں۔ یا اگر پورا ادا کرچکے ہیں تو نصف واپس نہ لیں بیدہ عقدۃ النکاح سے اکثر مفسرین نے خاوند مراد لیا ہے جس کے ہاتھ میں طلاق کی گرہ ہے یعنی طلاق دینے کا حق صرف مرد کو ہے عورت تو زیادہ سے زیادہ عدالت سے خلع حاصل کرسکتی ہے مگر طلاق مرد کا ہی حق ہے۔ بعض نے اس سے مراد عورت کا ولی بھی لیا ہے۔ مگر
؎ 1 قرطبی 3 /202 ( فیاض)
راحج قول پہلا ہی ہے فرمایا اے مردو ! وان تعفو اگر تم معاف کرو اقرب للتقویٰ یہ بات تقویٰ سے قریب تر ہے لہٰذا اگر پرہیز گاری اختیار کرنا چاہتے ہیں تو معاف ہی کردیا کرو۔
فضیلت کی پاسداری
پہلے گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں کے قوام یعنی قوی بنایا ۔ نیز یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ للرجال علیھن زوجۃ مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ فضیلت حاصل ہے لہٰذا اسے مردو ! تمہاری اس فضیلت کا تقاضا ہے کہ ولا تنسئو بینکم تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ نے جو فضیلت رکھی ہے اس کو مت بھولو۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں عورتوں پر برتری عطا کی ہے تو اس برتری کا تقاضا ہے کہ تم عورتوں پر زیادہ احسان کرو۔ اور طلاق کی صورت میں آدھے کی بجائے پورا مہر ادا کرو ، اگر پورا ادا کرچکے ہو ، تو آدھا واپس نہ لو بلکہ معاف کردو۔ فرمایا ان اللہ بما تعملون بصیر بیشک تمہارے سب کام اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہیں۔ وہ تمہارے ہر خیر و شر کو دیکھ رہا ہے ۔ لہٰذا اس کے احکام کی پابندی کرو گے تو اس کے مقرب بن جائو گے۔ اگر خلاف ورزی کروگے تو پھر اس کی گرفت بھی زیادہ دور نہیں ہے۔
Ayahs 2:238–242ربطہ آیات
گذشتہ آیات میں طلاق ، عدت اور حق مہر کے مسائل ذکر ہوئے ہیں۔ اب درمیان میں د و آیتیں نماز کے متعلق ہیں۔ اور اس کے بعد پھر طلاق اور عدت کے مسائل ہیں بظاہر ایک ہی نوعیت کے مسائل کے درمیان نماز کی یہ آیتیں بےربطہ معلوم ہوتی ہیں مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔
حضرت شاہ عبدالقادر محدث دہلوی (رح) اور بعض دیگر بزرگ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ یہاں پر یہ بات سمجھاناچاہتا ہے کہ دیکھو ، نکاح ، طلاق ، عدت کے مسائل میں مشغول ہو کر کہیں نماز سے غافل نہ ہوجانا۔ نکاح طلاق کے مسائل ہی ایسے الجھے ہوئے ہیں کہ بعض اوقات گفتگو طول پکڑ جاتی ہے۔ ایسی صورت میں تمہاری نماز نہیں چھوٹنی چاہئے اس کا ہر حال میں خیال رکھو۔ اس طرح گویا نماز والی آیات دوسری آیات سے مربوط ہیں۔
حضرت مولانا عبیداللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ نماز کی آیات کو دیگر آیات سے اس طور ربط ہے۔ کہ گذشتہ اور آئندہ آیات میں نکاح ، طلاق ، عدت وغیرہ جیسے معاشرتی مسائل کا تذکرہ ہے اور یہ مسائل تدبیر منزل کے مسائل کہلاتے ہیں۔ درحقیقت ان مسائل پر عدل کی بنیاد قائم ہوتی ہے یعنی احکام کی پابندی کرو ، تقویٰ اختیار کرو۔ ظلم و زیادتی نہ کرو ، بچوں والی اور مطلقہ عورتوں کا حق ضائع نہ کرو۔ بیویوں کے حقوق ادا کرو اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے دو چیزوں کا حکم دیا ہے یعنی عدل اور احسان ان اللہ یامرو بالعدل والاحسان یعنی معاشرے میں عدل و انصاف کو قائم کرو اور احسان بھی کرو۔ تو یہ معاشرتی مسائل عدل کے تحت آتے ہیں جب کہ نماز کی ادائیگی احسان کی تعریف میں آتی ہے کہ نماز ادا کرنے سے انسان محسن بنتا ہے ، نیکو کاری اختیار کرتا ہے تو یہاں پر دونوں طرح کے مسائل کو اکٹھا بیان کیا گیا ہے تاکہ عدل و احسان کے تقاضے بیک جا پورے کیے جاسکیں۔ اس طرح یہ آیات آپس میں مربوط ہیں۔
صلوۃ وسطیٰ
عدل کے مسائل تو گذشتہ کئی درسوں میں آرہے ہیں اور آئندہ بھی آئیں گے۔ یہاں پر اللہ تعالیٰ نے احسان کا مسئلہ بیان فرمایا حافظو ا علی الصلوٰت والصلوٰۃ الوسطیٰ ساری نمازوں کی حفاظت کرو۔ اور خاص طور پر صلوٰۃ وسطیٰ کی۔ درمیانی نماز کے متعلق بہت سے اقوال ہیں کسی نے اسے فجر کی نماز بتایا ہے کسی نے ظہر کی کسی نے مغرب کی اور بعض نے عشاء کی ، مگر راحج قول یہ ہے کہ صلوٰۃ وسطیٰ سے مراد عصر کی نماز ہے۔ اور یہ نبی (علیہ السلام) سے ثابت ہے اس نماز کی اہمیت اس وجہ سے ہے کہ یہ نماز دورات کی ( مغرب اور عشائ) اور دو دن کی ( فجر اور ظہر) کے درمیان واقع ہے اور یہ وقت نسبتاً زیادہ مشغولیت کا ہوتا ہے۔ کاروبار کی وجہ سے اس نماز کے ضائع ہونے کے زیادہ مواقع ہوتے ہیں۔ اس لیے اس کی حفاظت کی زیادہ تاکید فرمائی گئی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ فجر کی نماز کے وقت اور پھر عصر کی نماز کے وقت ان فرشتوں کی ڈیوٹیاں تبدیل ہوتی ہیں۔ جو بندوں کے اعمال اللہ کی بارگاہ میں لے جاتے ہیں۔ لہٰذا یہ وقت بڑا اہم ہے ، ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے من فاتتہ صلوٰۃ العصر فکانما و تراھلہ ومالہ یعنی جس کی عصر کی نماز فوت ہوگئی گویا اس کا اہل اور مال سب کچھ ہلاک کردیا گیا۔ اسی لیے فرمایا کہ تمام نمازوں کی حفاظت کرو مگر خاص طور پر درمیانی نماز کی حفاظت کرو۔ وقومر اللہ قنتین اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کے ساتھ کھڑے ہوجائو۔ گویا نماز میں پوری توجہ اسی طرح لگا دو ۔ ادھر ادھر کا خیال دل میں نہ لائو۔ بلکہ یہ تصور کرو کہ تم احکم الحاکمین کے حضور دست بستہ کھڑے ہو ، لہٰذا پوری توجہ کے ساتھ نماز کو ادا کرو۔ ایسی ہی حالت کے متعلق حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ احسان اس بات کا نام ہے۔ ان تعبد اللہ کانک تراہ یعنی عبادت کے وقت تیری کیفیت یہ ہونی چاہئے گویا کہ تو اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔ جب اس کے حضور میں نماز کے لیے کھڑا ہے تو اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی رہا ہے۔ فرمایا اگر یہ کیفیت پیدا نہ ہوسکے۔ تو کم از کم اتنا تو ہے فانہ یرک کہ وہ تو تجھے بہرحال دیکھ رہا ہے۔ لہٰذا نماز کے لیینہایت مؤدب طریقے سے کھڑے ہو کہ تمہارے دل میں خشیت الٰہی ہو۔ اور تمہاری حرکات و سکنات سے عاجزی کا اظہار ہو۔
نمازِ خوف
فان خفتم فرجالاً اور کباناً پس اگر تم خوف کی حالت میں ہو پس پیدل یا سواری پر نماز ادا کرلو۔ خوف سے م راد دشمن کا خوف ہے جب دشمن کے ساتھ حالت جنگ ہو۔ اور میدان کا رزار میں نماز کا وقت آجائے تو جنگ سے فارغ ہونے تک نماز کو موخر نہ کرو۔ بلکہ اس وقت اگر تم پیدل چل رہے ہو یا سواری پر ہو اور دشمن کا ہر آن خطرہ ہے۔ تو سواری کے اوپر چلتے چلتے ہی نماز ادا کرلو۔ اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے وہ قبول کرنیوالا ہے۔ بغیر سواری کے پیدل امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک نماز درست نہیں ہے۔
عین جنگ کی حالت میں مجاہدین کے دو گروپ بنا کر نماز کی ادائیگی کا ذکر آتا ہے۔ ایک گروپ دشمن سے لڑتا رہے اور دوسرا نماز کرلے۔ پھر دوسرا دشمن کے مقابلے پر ہو اور پہلا نماز ادا کرلے۔ اور اگر مجاہدین ایک ہی امام کے پیچھے نمازپڑھنا چاہیں جیسا کہ حضور ﷺ کے زمانہ میں صحابہ کرام ؓ کی خواہش ہوتی تھی تو پھر دونوں گروپ آدھی آدھی نماز امام کے ساتھ پڑھیں گے اور باقی آدھی آدھی خود پوری کریں گے۔ اگر د و رکعت نماز ادا کرنا ہے تو ایک گروپ امام کے پیچھے کھڑا ہوگا اور دوسرا دشمن کے مقابلے میں رہے گا۔ جب امام کے ساتھ ایک رفعت مکمل ہوجائے گی تو پہلا گروپ پیچھے ہٹ کر مورچے سنبھال لے گا اور حفاظت پر مامور دوسرا گروپ امام کے ساتھ دوسری رکعت میں شامل ہوجائے گا۔ اس طرح دونوں گروپ ایک ایک رکعت امام کے ساتھ ادا کریں گے اور دوسری رکعت خود پوری کریں گے۔ اگر نماز چار رکعت والی ہے تو ہر گروپ دو دو رکعت امام کے ساتھ پڑھے گا۔ اور باقی دو دو رکعت خود مکمل کرلے گا یہ اسی صورت میں ہے کہ مجاہدین کسی خاص نیک آدمی کے ساتھ جماعت میں شامل ہوناچا ہیں۔ ورنہ ہر گروپ اپنی اپنی پوری نماز بیک وقت ادا کرے گا۔
حضور ﷺ نے سفر اور اقامت ہر دو حالتوں میں چھ یا دس دفعہ صحابہ کرام ؓ کو صلوٰۃ الخوف پڑھائی۔ آپ نے سفر کی حالت میں دو رکعت اور اقامت کی حالت میں چار رکعت نماز پڑھائی۔
فرمایا فاذا امنتم جب تم امن کی حالت میں ہو۔ خوف دور ہوجائے۔ فاذکرو اللہ کما علمکم تو اللہ کو اس طرح یاد کرو جس طرح اس نے تمہیں تعلیم دی ہے۔ یعنی رکوع ، سجود ، قعدہ وغیرہ جو بھی شرائط ہیں۔ فرائض ، واجبات ، سنن اور مستجات ہیں سب کی رعایت رکھو۔ اللہ نے تمہیں ایسی تعلیم دی ہے مالم تکونو تعلمون جو تم نہیں جانتے تھے یہ بھی اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی ہے کہ اس نے اپنی عبادت کا وہ طریقہ بھی بتلا دیا ہے جسے وہ پسند کرتا ہے پس اس طریقے کے مطابق اللہ کا ذکر کرو۔
بیوائوں پر احسان
نماز کے تذکرے کے بعد اب پھر عورتوں کے مسائل کا بیان ہے فرمایا والذین یتوفون منکم و یذرون ازواجاً تم میں سے جو لوگ وفات دئیے جاتے ہیں اور اپنے پیچھے بیویاں چھوڑ جاتے ہیں وصیۃً لازواجھم وہ اپنی بیویوں کے حق میں وصیت کر جائیں متاعاً الی الحول غیر اخراجٍ کہ وہ ایک سال تک فائدہ اٹھائیں بغیر گھر سے نکالنے کے فان خرجن اور اگر وہ خود بخود نکل جائیں فلا جناح علیکم تو تم پر کوئی گناہ نہیں فی ما فعلن فی انفسھن من معروفٍ کہ جو کچھ وہ اپنے معاملہ میں دستور کے مطابق کرنا چا ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ مردوں پر یہ لازم ہے کہ عورتوں کیلئے وصیت کریں کہ کم از کم ایک سال تک ان کے گھر میں معمول کے مطابق بیٹھی رہیں۔ ان کے تمام اخرجات بھی پوری کیے جائیں۔ ہاں اگر عورتیں خود اپنے متعلق کوئی دوسرا فیصلہ کرلیں۔ یعنی دوسرا نکاح کرنا چا ہیں تو پھر وہ اپنی مرضی کی مالک ہیں تم پر اس کا کچھ گناہ نہیں۔ انہیں اپنا فیصلہ خود کرنے دیں۔ اس میں رکاوٹ بھی نہ بنیں۔
بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ایک سال کی وصیت کا قانون اس وقت تک تھا جب تک بیوائوں کے لیے چار ماہ دس دن تک کی عدت مقرر نہیں ہوئی تھی اس وقت عورتیں سال بھر خاوند کے گھر رہ سکتیں تھیں۔ پھر جب اللہ نے عدت کی آیات نازل فرمائیں تو یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ بعض دوسرے مفسرین کرام کا قول ہے کہ کوئی بھی حکم منسوخ نہیں ہے بلکہ اصل عدت تو چار ماہ د س دن ہی ہے مگر یہ ایک سال کی وصیت عورت کے ساتھ مزید احسان ہے کہ اسے عدت کے فوراً بعد گھر سے نہ نکال دیاجائے۔ بعض اوقات عورت کے ماں باپ بھی نہیں ہوتے جن کے پاس چلی جائے اور نکاح ثانی کا بھی فوری بندوبست ن ہیں ہوسکتا۔ لہٰذا ایک سال تک انہیں گھر سے نہیں نکالنا چاہئے بلکہ جہاں تک ہوسکے ان کے ساتھ احسان کا برتائو ہوناچاہئے۔ کیونکہ وہ بیوہ ہوچکی ہے وہ پہلے ہی غم واندوہ سے نڈھال ہے اس کے ساتھ مزید سختی نہایت ہی ناپسندیدہ فعل ہوگا۔
بعض فرماتے ہیں کہ ایک سال ٹھہرنے کی رعایت کو اس وقت تک حاصل تھی جس وقت تک وراثت کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے۔ پھر سورة نساء میں مذکور تمام رشتے داروں کے حصے مقرر کردئیے گئے۔ اگر خاوند مر جائے تو بیوی کا حصہ بھی مقرر ہوا یعنی اگر اولاد موجود ہے تو کل وراثت کا آٹھواں حصہ اور اگر اولاد نہیں ہے تو چوتھا حصہ مقرر ہوا۔ لہٰذا اب سال بھر کی رعایت کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ عورت کو وراثت میں حصہ مل گیا ہے۔ فرمایا واللہ عزیز حکیم یہ احکام خداوند تعالیٰ نازل کر رہا ہے جو کمال قوت کا مالک ہے اور حکمت والا ہے نہ کوئی کام اس کی قدرت سے باہر ہے اور نہ ہی کوئی کام حکمت سے خالی ہے اس لیے ان احکام پر پورا پورا عمل کرنا چاہئے۔
مطلقہ کے حقوق
فرمایا وللمطلقت متاع بالمعروف مطلقہ عورتوں کو فائدہ پہنچانا ہے دستور کے مطابق۔ یعنی طلاق کی مختلف صورتوں کی نسبت سے ان کے حقوق ادا کرو۔ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ ایسی عورت جسے مقاربت سے پہلے طلاق ہوگئی اور اس کا مہر بھی مقرر نہیں ہوا ، اس کو اپنی مالی حیثیت کے مطابق ایک جوڑا کپڑے دو ، جس میں ایک قمیص ، ایک دوپٹہ اور ایک بڑی چادر ہو۔ یا ایک دوپٹہ اور دو چادریں ہوں۔ یہ واجب ہے۔ ایسی عورت جس کا مہر مقرر ہوچکا ہے مگر بغیر مقاربت کے طلاق ہوگئی۔ اس کو نصف مہر ملیگا۔ یہاں پر جن عورتوں کا ذکر ہے وہ عام طلاق یافتہ ہیں۔ جو مہر مثل یا پورے مہر کی حقدار ہیں فرمایا کہ ان کو بھی کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچائو۔ یہ مستحب ہے ان کو کچھ دے دلا کر رخصت کرو۔ وہ طلاق کے غم میں مغموم ہیں ان کی دل جوئی ہونی چاہئے ان کے لیے بھی ایک جوڑا کپڑے تو ضرور ہونے چاہئیں۔ حقاً علی المتقین یہ بات متقیوں پر لازم ہے۔
فرمایا کذلک یبین اللہ لکم اٰیتہِ اللہ تعالیٰ اسی طرح تمہارے لیے احکام بیان کرتا ہے۔ آیت کے مختلف معانی آتے ہیں مثلاً دلیل ، معجزہ ، نشانی وغیرہ تاہم یہاں پر آیت سے مراد اس کے احکام ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ تمہارے لیے نازل کرتا ہے لعلکم تعقلون تاکہ تم انہیں اچھی طرح سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہوجائو۔ اگر احکام پر چلتے رہو گے تو سعادت مندی کی منزل پالوگے۔
Ayahs 2:243–245ربطہ آیات
ولیس البر بان تانو البیوت من ظھورھا سے لے کر اللہ تعالیٰ نے بہت سے احکام بیان فرماتے ہیں جن کا تعلق بر یعنی نیکی کے ساتھ ہے۔ ان میں نکاح ، طلاق ، عدت اور ان کے متعلقات بیان ہوئے ہیں۔ حلت اور حرمت کا مسئلہ بھی آیا ہے۔ اس کے علاوہ عبادات ، معاملات اور اخلاق سے متعلق مسائل کا بیان ہوا ہے۔ اب یہاں سے جہاد بالمال اور جہاد بالنفس کا تذکرہ شروع ہورہا ہے۔ پہلی آیت مسئلہ جہاد فی سبیل اللہ میں تمہید کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے بعد حاکم کے انتخاب اور اس کے تحت جہاد میں حصہ لینے کا تذکرہ ہے کسی پہلی امت کا واقعہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ وہ لوگ جہاد سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے راستے میں ان پر موت طاری کردی۔ پھر انہیں عجیب و غریب طریقہ سے دوبارہ زندگی نصیب ہوئی۔
اسلوبِ خطاب
اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا الم تر کیا تو نے نہیں دیکھا اے مخاطب۔ تر کا لفظ رویت سے مشتق ہے جس کے معنی دیکھنے کے ہیں مگر رویت بھی دو قسم کی ہے۔ ایک رویت بصری یعنی اس ظاہری آنکھ سے دیکھنا اور دوسری قسم ہے روایت قلبی یعنی علم کے ذریعے کسی چیز کو جان لینا۔ جیسے کسی کو کہاجائے الم تعلم کیا تو نہیں جانتا۔ تجھے یہ بات معلوم نہیں۔ دوسرے لفظوں میں تجھے یہ بات ضرورمعلوم ہے چناچہ موقع محل کے مطابق بعض اوقات رویت کے معنی آنکھ سے دیکھنا ہوتا ہے اور بعض اوقات علم سے جاننا۔ مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں کہ یہاں پر الم تر سے مراد علم کے ذریعے جاننا ہے ، نہ کہ ظاہری آنکھ سے ظاہر ہے کہ اب جو واقعہ بیان ہورہا ہے۔ وہ پہلی امتوں سے تعلق رکھتا ہے۔ لہٰذا اس زمانہ میں اس واقعہ کو آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں۔ البتہ بعد میں اس کا علم ہوا ہے۔ یہ واقعہ حضور ﷺ کے زمانہ یعنی نزول قرآن سے بھی پہلے کا ہے اس لیے اس وقت بھی یہ رویت بصری نہیں تھی۔ بلکہ رویت قلبی یا رویت علمی تھی۔ اس طرح کا اسلوب بیان بعض دوسری آیات میں بھی ملتا ہے۔ جیسے الم ترا الی الذی حاج ابرھم فی ربہ کیا تو نے اس شخص کی طرف نہیں دیکھا جس نے ابراہیم (علیہ السلام) سے اس کے رب کے متعلق جھگڑا کیا۔ سورة فیل میں فرمایا الم تر کیف فعل ربک باصحب الفیل کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یہ واقعات خود حضور ﷺ کے زمانے سے بہت پہلے کے ہیں۔ مگر لفظ الم تر ہی لایا گیا ہے مقصد یہ ہے کہ ہم نے علم کے ذریعے آپ کو بتا دیا ہے کہ فلاں فلاں واقعہ ایسے ایسے پیش آیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا تو آخر میں فرمایا ” ذلک من انسباء الغیب توحیہ الیک وما کنت لدیھم “ یعنی یہ غیب کی خبریں ہیں۔ جو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں۔ آپ اس وقت ان کے پاس نہ تھے۔ گویا یہ بات آپ کو بذریعہ علم معلوم ہوئی۔
جہاد سے فرار اور موت
الغرض ! فرمایا الم ترا کیا آپ نے نہیں جانا ان لوگوں کا حال الی الذین خرجو من دیارھم جو اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے وھم الوف اور وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے۔ کس وجہ سے بھاگ کھڑے ہوئے حذر الموت موت سے ڈر کر۔ اب سوال یہ ہے کہ انہیں موت کیوں نظر آرہی تھی۔ اس ضمن میں مفسرین کے مختلف اقوام ہیں۔ تورات کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ بنی اسرائیل سے تھے۔ اور انہیں ایک دوسری فلتی نامی قوم سے جہا د کا حکم ہوا تھا۔ مگر یہ لوگ جہا د پر آمادہ ہونے کی بجائے جان بچانے کے لیے بھاگ کھڑے ہوئے تاکہ دوسری جگہ چلے جائیں گے تو موت سے بچ جائیں گے۔ بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ ان لوگوں میں طاعون کی وبا پھیل گئی تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے علاقے سے بھاگ کر پہاڑوں کے دروں میں پناہ گزین ہوگئے۔ ان کا خیال تھا کہ یہاں کی آب و ہوا نسبتاً بہتر ہے اور اس پر فضا ماحول میں وہ طاعون سے بچ جائیں گے۔ جہاں تک ان کی تعداد کا تعلق ہے ، مستدرک حاکم کی روایت اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے کہ وہلوگ چار ہزار کی تعداد میں تھے۔ بعض روایتوں میں ستر ہزار تک کی تعداد کا ذکر آتا ہے۔ مگر ابن عباس ؓ کی روایت زیادہ قوی ہے۔
حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے جس علاقہ میں طاعون پھیل جائے وہاں سے بھاگنے کی کوشش نہ کرو۔ کیونکہ ہوسکتا ہے ۔ بھاگنے والے اپنے ساتھ وبائی اثرات لے جائیں اور اگلے علاقے میں وبا پھوٹ پڑے۔ نیز وبائی مرض سے باہر رہنے والے لوگوں کو فرمایا کہ وہ متاثر مقام پر جانے کی کوشش نہ کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ بھی مرض میں مبتلا ہوجائیں۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کی روایت میں بھی آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ وبائی مرض والے خطہ سے باہر نہ نکلو اور نہ وہاں جانے کی کوشش کرو۔ بہرحال یہ احتیاطی تدابیر ہیں مگر جس کی موت لکھی جا چکی ہے وہ رک نہیں سکتی ۔ ک وہ جہاں بھی ہوگا اس پر موت طاری ہوجائیگی اور پھر یہی حال ان بھاگنے والوں کا ہوا۔ فقال لھم اللہ موتوا اللہ تعالیٰ نے اي سے کہا مر جائو۔ وہ جس وجہ سے بھی بھاگ کر پہاڑوں میں پہنچے اللہ نے ان پر وہیں موت طاری کردی اور ان کا اپنے گھروں سے بھاگ نکلنا کچھ کام نہ آیا۔
دوبارہ زندگی
ان لوگوں کی دوبارہ زندگی کے متعلق کئی ایک روایتیں ہیں بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ ان زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی بنی حزقیل (علیہ السلام) موجود تھے جن پہاڑی دروں میں یہ لوگ پناہ گزین ہوئے وہاں حزقیل (علیہ السلام) کبھی کبھی عبادت کے لیے آتے تھے ان لوگوں کی موت کے بعد جب اللہ کے نبی حسب معمول عبادت کیلئے گئے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان دروں میں ہر طرف لاشیں بکھری پڑی ہیں انہیں علم نہیں تھا کہ کونسا واقعہ پیش آیا ہے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کردی۔ ثم احیاھم پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ کردیا۔
اس مقام پر یہ بات ذہن میں رہے کہ یہ دوبارہ زندگی ایک غیر معمولی واقعہ تھا اور معجزانہ طورپرعطا ہوئی وگرنہ موت کے بعد دوبارہ میل ملاپ کی زندگی تو قیامت کو ہی ملیگی تاہم اس قسم کے غیر معمولی واقعات کچھ اور بھی ملتے ہیں۔ جیسے اسی سورة بقرہ میں عامیل کا واقعہ ہے جسے اس کے عزیزوں نے قتل کردیا تھا۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی معرفت اللہ تعالیٰ نے ورثائے مقتول کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا اور گوشت کا ٹکڑا مردے کو لگانے سے وہ زندہ ہوگیا۔
رہا یہ سوال کہ یہ لوگ کتنا عرصہ موت کی آغوش میں رہنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوئے۔ اس بات میں بھی مختلف اقوال ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ ان کی موت کے آٹھ دن بعد حضرت حزقیل (علیہ السلام) آئے تو انکی دعا سے ان لوگوں کو دوبارہ زندگی ملی۔ بعض دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو مرے ہوئے کافی عرصہ گزر چکا تھا۔ اور ان کے جسم گل سڑ چکے تھے صرف ہڈیا باقی رہ گئی تھیں۔ جب کہ اللہ نے انہیں زندہ کیا۔
اسی آیت کریمہ کی تفسیر میں اما ابوبکر حصاص (رح) فرماتے ہیں کہ عذاب قبر کا انکار کرنے والے باطل پر ہیں۔ جس طرح اس قوم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے موت کے بعد پھر زندہ کردیا تھا۔ اسی طرح ہر مرنے والے کو برزخی زندگی عطا کرتا ہے۔ نیکو کاروں پر انعامات ہوتے ہیں اور گنہگار سزا کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ بعض دوسری آیات اور احادیث مبارکہ میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ برزخ میں بھی لوگوں کو سزاو جزا بھگتنا پڑتی ہے اگرچہ حقیقیجزا وسزا تو قیامت کو ہی ہوگی تاہم قبر میں بھی سکون و راحت یا سزا و عذاب ہوتا ہے۔
الغرض ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا ثم احیا ھم پھر اللہ نے انہیں دوبارہ زندہ کیا۔ بائبل کی روائتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ موت و زندگی کے ان مراحل سے گزرنے کے بعد وہ حقیقت حال کو سمجھ گئے۔ اللہ سے معافی مانگی ، جہاد میں حصہ لیا۔ فلسطینیوں کے خلاف جواں مردی کے جوہر دکھائے اور آخر ان کو فتح حاصل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے غلبہ عطا کیا۔
جہاد سے گریز حرام ہے
موت وحیات قبضہ قدرت میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی کی جتنی زندگی مقررک ی ہے اس سے پہلے انسان کی موت واقع نہیں ہوسکتی اور نہ اس سے زیادہ زندگی حاصل ہوسکتی ہے۔ لہٰذا اس خوف سے جہاد سے گریز کرنا کہ موت آجائیگی ، یہ حرام ہے حضور کا فرمان ہے لن تموت نفس حتیٰ تستکمل رزقھا جب تک انسان اپنی روزی پوری نہیں کرلیتا ، اس کی موت نہیں آتی۔ لہٰذا حرام روزی تلاش نہیں کرنی چاہئے۔ اسی لیے فرمایا فاتقوا اللہ واجملوا اللہ سے ڈرو اور اچھے راستے پرچلو۔ چاہے کتنے بڑے حادثات پیش آجائیں موت قبل از وقت نہیں آسکتی۔ کیونکہ اس کے لیے وقت متعین ہے۔ انسان کو اپنا فرض ادا کرتے رہناچاہئے خواہ جہاد میں سر دھڑ کی بازی لگانا پڑے جب تک اللہ کو منظور ہے اسے موت نہیں آسکتی۔ نہ دشمن اس کا کچھ بگاڑ سکتا ہے۔
حضرت خالد بن ولید ؓ کی موت بستر پر واقع ہوئی ، حالانکہ آپ نے زندگی میں جی بھر کر جہاد کیا۔ بڑی بڑی جنگوں میں لشکر کی کمانڈ کی۔ آپ کہا کرتے تھے ، خدا تعالیٰ بزدل کی آنکھ کو ٹھنڈا نہ کرے ، میرے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں ، جس پر تیر ، تلوار یا نیزے کا زخم نہ ہو آرزو تھی کہ میدان جہاد میں شہادت نصیب ہو ، مگر افسوس کہ آج بستر پر موت آرہی ہے بخاری شریف میں روایت میں ہے کہ حضرت زبیر ؓ کی ساری زندگی بھی جہاد میں گزری ، ان کے جسم کا کوئی حصہ بھی زخموں سے خالی نہ تھا۔ حتیٰ کہ اعضاء مستورہ پر بھی نیزے کا زخم تھا ، مگر ان کو بھی میدان جہاد میں شہادت کی موت نہ مل سکی۔ لہٰذا انسان کا فرض ہے کہ موت کے خوف کو دل سے نکال دے اور فریضہ جہاد کو انجام دیتا رہے۔
فرمایا ان اللہ لذو فضل علی الناس اللہ تعالیٰ بڑا فضل کرنیوالا ہے ولکن اکثر الناس لا یشکرون مگر اکثر لوگ اس کا شکر ادا نہیں کرتے۔ یعنی اس کی قدرت پر یقین نہیں رکھتے۔
الغرض ! اللہ تعالیٰ نے یہ واقعہ بیان کرکے موت وحیات کی حقیقت کو سمجھا دیا۔ مسند احمد کی روایت میں آتا ہے کہ شیطان لوگوں کو بہکانے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر کوئی مال خرچ کرنا چا ہے تو شیطان کہتا ہے دیکھنا تمہارے پاس کچھ نہیں بچے گا۔ اور اگر کوئی جہاد میں شرکت کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے کان میں کہتا ہے سوچ سمجھ لو ، تمہارے بچے یتیم ہوجائیں گے۔ حالانکہ موت وحیات ایک اٹل حقیقت ہے ۔ انسان کو لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ فریضہ کو انجام دیتا رہے اور موت کو خاطر میں نہ لائے۔
جہاد کا حکم
جہاد کے اس تمہیدی طور پر ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جان و مال کے ذریعے جہاد کا صریح حکم دیا ۔ وقاتلو فی سبیل اللہ اور اللہ کے راستے میں جہاد کرو۔ اس کے دین کی سربلندی کے لیے دشمن کے سامنے سینہ سپر ہوجائو کیونکہ موت وحیات تو اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ وقت متعین سے پہلے نہ موت آسکتی ہے اور نہ وقت معین کے بعد زندگی باقی رہ سکتی ہے۔ واعلمو ا ان اللہ سمیع علیم اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ ہر بات کو سنتا ہے۔ ہر پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہے اور ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ کوئی شے اس کے احاطہ علم سے باہر نہیں ، لہٰذا اپنی جان کو اللہ کی راہ میں پیش کرو۔ اس کا حکم ہے جاھدو ا باموالکم وانفسکم فی سبی اللہ اپنی جانوں کے ساتھ جہا د کرو۔ اگر اس مالک المک نے جان کی قربانی قبول کرلی۔ تو اس سے اچھا سودا کیا ہوسکتا ہے۔ اس کا تو اعلان ہے ان اللہ اشتریٰ من المومنین انفسھم واموالھم بان لھم الجنۃ اس نے تو مونوں کے جان و مال جنت کے بدلے خرید رکھے ہیں۔
جہاد بالمال
جہاد بالمال کے متعلق فرمایا من ذی الذی یقرض اللہ قرضاً حسناً کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض دیتا ہے۔ قرض حسن۔ اللہ کو قرض دینا یہ ہے کہ اس کے راستے میں مال کے ذریعے جہاد کیا جائے اس کو قرض حسن اس لیے کہا گیا ہے کہ انسان کو یقین کامل ہوجائے کہ جہا د میں لگائی ہوئی اسکی رقم ضائع نہیں جائے گی۔ اس کا بدلہ اسے بڑھا چڑھا کر مل جائے گا فیضعفہ لہ اضعافاً کثیرۃً اس قرض حسن کو اللہ تعالیٰ دگنا بلکہ کئی گنا کردے گا۔ بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے کہ اللہ کی راہ میں خلوص کے ساتھ دیا ہوا کھجور کا ایک دانہ ، اُحد کے پہاڑ کے برابر بڑھ کر واپس ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس کے اجر وثواب کو اس قدر بڑھا دیں گے جو شخص فی سبیل اللہ ایک پیسہ خرچ کریگا ، اس کو کم از کم دس گنا تو ضررو ملیگا کہ یہ قطعی قانون ہے من جاء بالحسنۃ فلہ عشرا مثا لھا البتہ جہاد میں خرچ ہونے والے مال کے بدلے کی کم از کم مقدار سات سو گنا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کی کوہان کی بلندی جہاد میں مضمر ہے۔
جہاد کی اہمیت
جہاد بالمال اور جہاد بالنفس دونوں بڑی اہم حیثیت کے حامل ہیں۔ اگر جہاد سے گریز ہوگا تو نہ عزت ہوگی اور نہ دین کا غلبہ باقی رہے گا۔ بےدین اور کافر طاقتیں غالب آجائیگی ، حضور ﷺ کے ارشاد سے اور قرآن کریم کے مطابق جہاد سے گریز کرنے والے فاسق ہوجاتے ہیں یا منافق ہوجاتے ہیں۔ ابو دائود شریف کی روایت میں ہے کہ اگر تم جہاد کو ترک کرکے تجارت ، کھیتی باڑی یا دوسرے کاموں میں منہمک ہوگئے یسلط اللہ علیکم الذلۃ تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت مسلط کریدگا۔ حتی ترجعوا الیٰ دینکم اور جب تک دین کی طرف واپس نہیں آئو گے۔ اللہ تعالیٰ تم سے ذلت کو دور نہیں کریں گے۔ جب تک مسلمانوں میں جذبہ جہاد موجود تھا ان کو عزت اور غلبہ حاصل تھا۔ جب جذبہ جہاد میں سستی واقع ہوئی تو نہ عزت رہی نہ غلبہ غیر اقوام کی ملی بھگت سے مسلمان آپس میں جنگ وجدال میں مصروف ہیں۔ یہ انگریزی تہذیب کا اثر ہے کہ ہم اپنے اکابرین کو بھول کر غیر اقوام کے گن گا رہے ہیں۔ دنیا میں چالیس سے زیادہ اسلامی سلطنتیں ہونے کے باوجود ان پر سپر پاور کا غلبہ ہے۔ اس قسم کے تجربات گذشتہ تاریخ میں بھی ملتے ہیں۔ جب عیسائیوں نے سپین ( اندلس) پر قبضہ کیا تو وہاں مسلمانوں کی آبادی د و کروڑ کے قریب تھی مگر بعد میں وہاں صرف گیارہ ہزار باقی رہ گئے ، کچھ مارے گئے ، کچھ جبراً عیسائی بنا لیے گئے۔ یہ مسلمانوں کی آپس کی نااتفاقی ہے کہ ہر جگہ ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ ایران اور عراق کئی سالوں سے دست و گریباں ہیں۔ دونوں اسلامی ملکوں کی طاقت کمزور ہورہی ہے۔ کوئی تعجب نہیں کہ کسی غیر مسلم قوم کو موقع مل جائے ۔ اور یہ دونوں ان کے قبضہ میں چلے جائیں۔ روس اور امریکہ ہمیشہ ایسے موقعوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ افغانستان میں کیا ہوا۔ یکے بعد دیگرے کتنے سربراہ قتل ہوئے ، ملک کمزور ہوگیا۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ روس بزور شمشیر قبضہ کیے بیٹھا ہے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار
قرض حسن
اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے متعلق ان دروس میں کئی دفعہ بیان آچکا ہے یہاں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اتفاق فی سبیل اللہ کو قرض حسن سے تعبیر فرمایا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اس کو قرض دینے کے مترادف ہے جو وہ کئی گنا بڑھا کردیگا۔ اس سے پہلے اس ضمن میں آچکا ہے ولا تلقوا بایدیکم الی التھکۃ مال کو روک کر اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈلو۔ حضرت شیخ الہند (رح) فرماتے ہیں کہ قرض حسن وہ قرض ہے جسکی واپسی کا تقاضا نہ کیا جائے۔ مقروض پر احسان نہ جتایاجائے اس کو حقیر نہ سمجھا جائے اور اس سے بدلہ نہ لیاجائے۔ اللہ تعالیٰ کو قرض دینے سے مراد جہاد میں خرچ ہے۔ یا غریبوں ، محتاجوں کی اعانت ہے۔ اس کا بدلہ قطعی طور پر آخرت میں کئی گنا بڑھا چڑھا کردیاجائیگا۔ ایک شخص نے جہاد کے لیے ایک اونٹنی پیش کی۔ جس کے ساتھ مہارتھی اور اس پر پالان کسا ہوا تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا ، بہت اچھا کام ہے۔ قیامت کے روز اسے ایسی سات سو اونٹنیاں ملیں گی۔
قبض و بسط
بظاہر خرچ کرنے سے مال کم ہوجاتا ہے۔ مگر انسان کو جان لیناچاہئے واللہ یقبض ویبصط قبض وبصط تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جس کا چاہتا ہے مال قبض کرلیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے بڑھادیتا ہے یہ اختیار اس نے اپنے پاس رکھا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ کس کو کتنا مال دیتا ہے۔ چناچہ وہ اس کے مطابق رزق میں کمی اور زیادتی کرتا ہے لہٰذا انسان کا یہ وہم کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے اس کا مال کم ہوجائیگا کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔ انسان بڑا ناشکر گزار ہے جب اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے تو اسے زور بازو کا نتیجہ کہتا ہے اور جب وہ کم کردیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو گالیاں دینا شروع کردیتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ تنگی کے لیے میں ہی رہ گیا تھا۔ خدا پر شکوہ کرتا ہے مگر اپنے کرتوت کو نہیں دیکھتا۔ کہ میرے افعال کیسے ہیں فرمایا یہ بات یہیں ختم ہونے والی نہیں ہے والیہ ترجعون تم سب کو اسی مالک الملک کی طرف لوٹ کر جانا ہے لہٰذا جہاد بالنفس اور جہاد بالمال ہر دو طریقوں سے اللہ کو راضی کرو۔