Ayahs 2:87–90کتاب اور رسول : اس سے پہلے بنی اسرائیل کے مختلف عہدوں کا ذکر ہوچکا ہے۔ جن کی پابندی کرنے سے یہ قوم قاصر رہی۔ اب بعض دوسرے انعامات کا تذکرہ ہو رہا ہے جو بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ نے کیے اللہ تعالیٰ ارشاد فرما رہے ہیں کہ منجملہ ان انعامات کے ایک یہ بھی تھا کہ “ ولقد اتینا موسیٰ الکتب ” یعنی بیشک ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب توراۃ عطا فرمائی ۔ تاکہ بنی اسرائیل اس کے ذریعے ہدایت اور راہنمائی حاصل کرسکیں۔ اور پھر یہ کہ صرف کتاب پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ کتاب میں مذکور احکام کی یاد دہانی کے لیے “ وقفینا من بعدہ بالرسول ” اور موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد پے در پے رسول بھیجے جو توراۃ کی تعلیم کی تبلیغ کرتے تھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغمبر کا مبعوث ہونا بنی نوع انسان پر اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی اور شفقت ہے ۔ انبیاء (علیہم السلام) لوگوں کی مشکلات کا حل پیش کرتے ہیں اور ان کی راہنمائی فرماتے ہیں ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اللہ تعالیٰ نے جس قدر پیغمبر بھیجے ان میں سے بعض کا نام بھی قرآن پاک نے ذکر کیا ہے۔ جیسے حضرت داؤد (علیہ السلام) ، سلیمان (علیہ السلام) ، یونس (علیہ السلام) ، زکریا (علیہ السلام) ، یحییٰ (علیہ السلام) اور پھر بنی اسرائیل کے آخری رسول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اسی طرح توراۃ اور یہودیوں کی دیگر کتب میں بھی بہت سے انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر ملتا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی ص 315 پارہ 1) کہ مجموعی طور پر تقریبا چار ہزار پیغمبر بنی اسرائیل میں مبعوث ہوئے۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور معجزات : اللہ تعالیٰ نے سلسلہ بنی اسرائیل کے آخر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ آپ صاحب کتاب اور اللہ تعالیٰ کے عظیم المرتبت رسول ہیں۔ ثنانچہ آپ کے متعلق ارشاد ہوتا ہے “ واتینا عیسیٰ ابن مریم البینت ” اور ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو واضح نشانیاں عطا کیں۔ اور ان سے مراد وہ معجزات ہیں ، جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کئے اور جو قرآن پاک میں مذکور ہیں۔ مثلاً مردوں کو زندہ کرنا۔ کوڑھی کو تندرست کردینا۔ اور مٹی کا پرندہ بنا کر اس میں پھونک مارنا اور اسے ہوا میں اڑا دینا۔ وغیرہ وغیرہ۔ بینات سے احکام اور دلائل بھی مراد لیا جاتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو احکام بھی دیے تھے اور دلائل بھی دیے تھے۔
عیسیٰ عبرانی زبان کا لفظ ہے ، عیسیٰ ، یسوع یا ایسوع کا معنی مبارک ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا نام مریم ؓ تھا۔ آپ کی نانی نے نذر مانی تھی۔ کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے بیٹا عطا کریگا۔ تو وہ اسے بیت المقدس کی خدمت کے لیے وقف کردیگی۔ مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت کہ اس نے بیٹے کی بجائے بیٹی عطا کی۔ آپ کی پریشانی لاحق ہوئی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے تمہیں بیٹی عطا کی ہے۔ ہم نے اسے بہت برگزیدہ اور پاکیزہ بنایا ہے۔ بیٹا اس کی برابری نہیں کرسکتا۔ حضرت مریم ؓ کی فضیلت اللہ تعالیٰ نے خود قرآن پاک میں بیان فرمائی ہے۔ “ یمریم ان اللہ اصطفک وطھرک واصطفک علی نسآء العلمین ” یعنی اے مریم ! اللہ نے تجھے برگزیدہ کیا۔ اور پاکیزگی عطا کی اور تمام دنیا کی عورتوں پر تجھے برتری عطا کی۔ یہ بات قابل غور ہے کہ قرآن پاک میں جہاں بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ہوگا۔ عموماً عیسیٰ ابن مریم کا نام ہوگا۔ آگے سورة مائدہ میں آئے گا کہ آپ کے حواری بھی آپ کو عیسیٰ ابن مریم کے نام سے جانتے تھے۔ اور اسی نام سے خطاب کرتے تھے۔ وہ ابن اللہ کے نام سے یاد نہیں کرتے۔ نہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خود خدا تصور کرتے تھے ، بلکہ یہ غلط عقیدہ تو بعد میں ایک عیسائی پادری پولس کا پیدا کردہ ہے۔ کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) خود خدا ، خدا کے بیٹے یا تینوں میں سے تیسرے ہیں۔ یہ بالکل کفریہ عقیدہ ہے۔
روح القدس : فرمایا ہم نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو واضح نشانیاں عنایت کیں۔ اور اس کے ساتھ “ وایدنہ بروح القدس ” اس کی تائید ہم نے پاک روح سے کی۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 22 معالم التنزیل ج 1 ص 38) کہ روح القدس سے مراد جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ یعنی ہم نے جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی مدد کی۔ اس بات کی تائید قرآن پاک کے دوسرے مقام پر بھی ہوتی ہے۔ نزول قرآن کے متعلق ارشاد ہے “ نزل بہ الروح الامین علی قلبک لتکون من المنذرین ” اس قرآن پاک کو روح الامین یعنی جبرائیل (علیہ السلام) نے آپ کے قلب مبارک پر نازل کیا۔ حدیث شریف میں آتا ہے (1 ۔ مسلم ج 1 ص 300) کہ حضور ﷺ اپنے شاعر حسان بن ثابت ؓ کو حکم فرماتے تو وہ مشرکین کو شعروں میں جواب دیتے اور فرماتے روح الامین کی تائید تمہارے ساتھ ہوگی۔ تم ان کافروں کو جواب دو تو یہاں بھی روح الامین سے مراد جبرائیل (علیہ السلام) ہی ہیں۔
بعض مفسرین فرماتے (2 ۔ تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 112 ، معالم التنزیل ج 1 ص 38) کہ روح القدس سے مراد اسم اعظم ہے یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے۔ جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے سے انسان کی دعا قبول ہوجاتی ہے اور اسی اسم اعظم کی برکت سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر معجزے کا اظہار ہوتا تھا۔ جب آپ مردے کو زندہ کرتے تھے۔ یا مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتے تھے تو یہ اسم اعظم کی برکت سے ہوتا تھا۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں (3 ۔ حجۃ اللہ البالغہ ج 1 ص 16) کہ روح القدس ملاء الاعلیٰ کے فرشتوں کی مسلسل توحید کا نام ہے۔ ان کی حکمت کے مطابق ملاء الاعلیٰ کے فرشتوں کا خطیرۃ القدس جیسے پاک مقام پر توجہ کرنا روح القدس کہلاتا ہے۔
انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ سلوک : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تذکرے کے بعد بنی اسرائیل کے اپنے پیغمبروں کے ساتھ عام طرز عمل کا ذکر کیا۔ کہ اے بنی اسرائیل ! “ افکلما جآء کم رسول بما لا تھوی انفسکم ” جب بھی تمہارے پاس کوئی رسول ایسی چیز لے کر آئے جسے تمہارے نفس پسند نہیں کرتے تھے “ استکبرتم ” تو تم نے تکبر کیا ۔ تکبر کی بیماری اسرائیلیوں میں ہمیشہ موجود رہی ہے۔ احکام کی نافرمانی تکبر اور سرکشی کی وجہ سے ہی ہوتی ہے۔ فرمایا اے بنی اسرائیل ! تم نے اسی تکبر کی وجہ سے “ ففریقا کذبتم ” انبیاء (علیہم السلام) کے ایک گروہ کو تم نے جھٹلایا “ وفریقا تقتلون ” اور ایک گروہ کو قتل کیا۔ قرآن پاک میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کا تذکرہ موجود ہے۔ حدیث شریف میں تو ایسے سینکڑوں نبیوں کا ذکر آتا ہے۔ جنہیں اسرائیلیوں نے قتل کیا۔ کیونکہ وہ ان کی مرضی کے خلاف اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچاتے تھے۔ جو بنی اسرائیل کے موافق نہیں تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک لوگ نفسانی خواہشات کی اتباع اور خدائی قانون کی خلاف ورزی کرتے رہیں گے انہیں فلاح نصیب نہیں ہوسکتی۔ الغرض ! اسرائیلیوں میں یہ دو بیماریاں یعنی اتباع خواہشات اور تکبر پائی جاتی تھیں۔ جن کی وجہ سے انہوں نے بعض نبیوں کو جھٹلایا اور بعض کو قتل کردیا۔
یہودیوں کا زعم باطل : یہودیوں کو ایک اور غلط زعم تھا۔ کہ وہ صاحب علم ہیں۔ ان پر کسی بیرونی تبلیغ کا اثر نہیں ہو سکتا۔ قرآن پاک کے الفاظ میں ان کا دعوےٰ تھا “ وقالوا قلوبنا غلف ” کہ ہمارے دل غلافوں میں بند ہیں۔ یہ ان کی خود ستائشی تھی کہ صاحب کتاب ہونے کی وجہ سے وہ ہر قسم کے اثرات سے محفوظ ہیں۔ لہٰذا وہ اپنے دین پر پختہ ہیں۔ اس میں کوئی بگاڑ پیدا نہیں کرسکتا۔ مقصد یہ کہ جس طرح غلاف میں بند کوئی چیز بیرونی اثرات اور تغیر و تبدل سے محفوظ ہوتی ہے۔ اسی طرح ان کے دل بھی غلاف میں بند ہیں۔ اور ان کے اختیار کردہ دین میں کسی قسم کا بگاڑ پیدا نہیں کیا جاسکتا ان کا یہ نظریہ واقعی بلند پایہ تھا۔ بشرطیکہ ان کے پاس صحیح علم ہوتا ، ان کے عقائد درست ہوتے اور وہ اپنے صحیح دین کو محفوظ کرسکتے۔ مگر حقیقت اس کے برخلاف تھی وہ تو خود اپنا دین بگاڑ چکے تھے۔ غلط عقائد اختیار کرچکے تھے اور پھر ان پر اصرار کرتے تھے۔ جب بھی ان کے پاس حق بات لے کر انبیاء (علیہم السلام) آتے۔ وہ انہیں جھٹلا دیتے یا قتل کردیتے۔
یہود پر اللہ تعالیٰ کی لعنت : اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہودیوں کا یہ دعویٰ کہ ان کے دل محفوظ ہیں۔ درست نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے “ بل لعنھم اللہ بکفرھم ” ان کے کفر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی ہے۔ اور انہیں اپنی رحمت سے دور کردیا ہے۔ ان کے قلب معکوس ہوچکے ہیں ۔ اور فہم الٹ گئے ہیں۔ یہ حق بات کو سمجھ نہیں سکتے۔ یہی وجہ ہے “ فقلیلا ما یؤمنون ” ان کی بہت قلیل تعداد ایمان لائی ہے۔ سورة مائدہ میں اسی چیز کو فرمایا “ وان اکثرکم فسقون ” یعنی تم میں سے اکثر فاسق ہی ہیں۔ اگرچہ سارے کے سارے نافرمان نہیں تھے۔ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔ “ لیسوا سوآء ” مگر اکثریت ملعون ہی تھی۔ ایمان کی دولت چند لوگوں کے پاس ہی ہوتی تھی۔
یہود اور نزول قرآن : یہ تذکرہ تو یہود کی اپنی کتاب توراۃ کا تھا کہ انہوں نے اس کے احکام کی کس حد تک پابندی کی ۔ اب اس بات کا بیان ہے کہ جب قرآن پاک کا نزول ہوا تو اس کے ساتھ ۔۔ لوگوں نے کیا رویہ اختیار کیا۔ ارشاد ہوتا ہے۔ “ ولما جآءھم کتب من عند اللہ ” جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے پاس وہ کتاب آگئی۔ “ مصدق لما معھم ” جو ان کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔ جو ان کے پاس موجود ہیں۔ مصدق کتاب سے مراد قرآن پاک ہے۔ اور سابقہ کتب میں زبور ، توراۃ ، انجیل اور دیگر صحائف کا ویہ ہیں۔ یعنی جب قرآن پاک نازل ہوا “ کفروا بہ ” تو بنی اسرائیل نے اس کا بھی انکار کردیا ۔ حالانکہ قرآن پاک ان کے پاس موجود سابقہ کتابوں کی تصدیق کر رہا ہے۔
لفظ “ کفروا بہ ” بعد میں آتا ہے۔ آیت کے درمیانی حصہ میں یہودیوں کی ایک اور بات کا ذکر ہے۔ “ وکانو من قبل یستفتحون علی الذین کفروا ” یعنی نزول قرآن سے پہلے وہ کفار پر فتح مانگتے تھے۔ مفسرین کرام (1 ۔ طبری ج 1 ص 411 ، 412) نے “ یستفتحون ” کے دو معنی کیے ہیں۔ فتح کے معنے کھولنے کے ہوتے ہیں ۔ تو اس لحاظ سے معنی یہ ہے کہ بنی اسرائیل کفار پر اس بات کو کھولتے تھے۔ یعنی بیان کرتے تھے ۔ کہ آخری نبی اور اللہ تعالیٰ کی کتاب آنے والی ہے۔ اس پر ایمان لانا۔ سورة اعراف میں موجود ہے “ الذی یجدونہ مکتوبا عندھم فی التورۃ والانجیل ” یعنی وہ اپنی کتابوں توراۃ اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے تھے کہ آخری نبی آنے والا ہے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے صحیفہ میں بھی بشارت ہے۔ کہ میں امیوں میں امی نبی بھیجوں گا
“ یستفتحون ” کا دوسرا معنی فتح یا کامیابی ہے مفسرین کرام بیان کرتے ہیں (2 ۔ تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 124) کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے کافروں کے مقابلے میں فتح و کامرانی طلب کیا کرتے تھے۔ کہتے تھے یا اللہ ہمیں اس آنے والے نبی کی برکت سے کافروں کے مقابلے میں فتح نصیب فرما ۔ تاکہ جب وہ نبی آئے تو ہم اس کی اتباع کرسکیں۔ گویا نبی آخر الزماں کے توسل سے
مانگتے تھے۔
نظریہ توسل : نظریہ توسل ہمارے مذہب میں بھی روا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کسی مقرب بندے کی برکت سے یا اس کے طفیل سے کوئی دعا مانگی جائے اس میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ مانگتا تو اللہ تعالیٰ ہی سے ہے۔ صاحب وسیلہ اللہ تعالیٰ کا نیک بندہ ہے اس نے ہمیں راہ راست کی تعلیم دی ہے ہمیں اس سے محبت ہے۔ لہٰذا اس کے طفیل یا اس کی برکت سے خدا تعالیٰ ہماری دعا قبول کرے ہاں شرک اس وقت ہوگا۔ جب اس کے توسل کی بجائے خود اسی سے مانگنے لگے یا اس کو مشرکوں کی طرح ثیفع سمجھے یا اس کو مختارِ مطلق سمجھے۔ کہ اسے دعا کے قبول کرنے یا کرانے کا اختیار حاصل ہے ۔
بہرحال پہلے تو یہ لوگ اس قسم کی دعائیں مانگتے تھے۔ اور وعدہ کرتے تھے کہ آنے والے نبی پر ایمان لائیں گے۔ “ فلما جآءھم ” پس جب وہ چیز آگئی ، جس کے وہ منتظر تھے۔ “ ماعرفوا ” اور اسے انہوں نے پہچان بھی لیا۔ “ کفروا بہ ” اس کے باوجود اس کا انکار کردیا ان کی اس ہٹ دھرمی اور کفر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا “ فلعنۃ اللہ علی الکفرین ” ایسے منکرین پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔
نبی آخر الزمان ﷺ سے حسد : اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان ظالموں نے ایسی بری حرکات کرکے کیا کمایا۔ “ بئسما اشتروا بہ انفسھم ” انہوں نے نہایت ہی بری چیز کے بدلے اپنی جانوں کو بیچا وہ کون سی چیز ہے جو انہوں نے جان کے بدلے خریدی “ ان یکفروا بما انزل اللہ ” وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب ، شریعت اور روحی کا انکار کردیا۔ اور یہ محض اس لیے “ بغیا ” شرارت کرتے ہوئے۔ کہ نبی آخر الزمان دوسری قوم میں کیوں آگیا۔ وہ تو ہماری قوم بنی اسرائیل میں آنا چاہئے تھا۔ وہ بنو اسمعیل میں کیسے آگیا۔ چناچہ قرآن پاک نے جگہ جگہ بیان کیا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے کہاں کہا ہے کہ آخری نبی ضرور بنی اسرائیل میں آئے گا۔ فرمایا حقیقت یہ ہے “ ان ینزول اللہ من فضلہ علی من یشآء من عبادہ ” اللہ تعالیٰ اپنا فضل اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے ۔ اتار دیتا ہے۔ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ نے ہزاروں نبی بھیجے ۔ مگر نبی آخر الزمان کی بعثت بنی اسماعیل میں مقدر ہوچکی تھی۔ اس لیے وہ وہیں تشریف لائے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے آخری نبی کا کوئی وعدہ نہیں کر رکھا تھا اب جب کہ آخری نبی آگئے ہیں تو بنی اسرائیل کا فرض تھا کہ وہ اسے اپنے لیے باعث فخر سمجھتے ہوئے۔ اس پر ایمان لاتے اور ان کا اتباع کرتے۔ اس کے برخلاف انہوں نے سرکشی کا راستہ اختیار کیا اور اپنے خاندانی تفوق کا دم بھرنے لگے ، جو ان کے لئے مناسب نہ تھا۔
غضب پر غضب : بنی اسرائیل کی سرکشی کا نتیجہ یہ ہوا کہ “ فبآء وبغضب علی غضب ” وہ غضب پر غضب لے کر لوٹے۔ ان کا پہلا غضب تو یہ تھا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا انکار کیا۔ بادشاہ نے انہیں سولی پر لٹکانے کا حکم دیا ۔ منہ پر تھوکا اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کو معاذ اللہ دجال کہا انہیں ایذا پہنچائی ۔ کتب سماویہ میں تحریف کا ارتکاب کیا۔ اور حیلے بہانوں سے خدائی احکام کو ٹالا۔ اور پھر اس غضب پر دوسرا غضب یہ تھا کہ جب نبی آخر الزمان (علیہ السلام) تشریف لائے اور آخری کتاب نازل ہوئی تو ان کا انکار کردیا۔ گویا غضب پر غضب ہوگیا۔ اسی لیے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا (1 ۔ ترمذی ص 420) “ الیھود مغضوب والنصری ضلال ” یعنی یہود مغضوب علیہ ہیں اور نصاریٰ گمراہ۔
مضغوب اسے کہتے ہیں جو دیدہ دانستہ احکام کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ آج کا مسلمان بھی جانتا ہے۔ کہ شریعت برحق
ہے۔ مگر اس پر عمل نہیں کرتا۔ یہی خرابی بنی اسرائیل میں بھی پائی جاتی تھی۔ وہ پہچانتے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ اور یہ آخری نبی اور آخری کتاب ہے۔ مگر ایمان نہیں لائے۔ علاوہ ازیں ضلال وہ ہے۔ جس کے فہم میں خرابی آجائے۔ اور وہ بھٹک جائے۔ نصاریٰ ضلال ہیں۔ یہ غلطی کرنے والے ہیں۔ فرمایا “ وللکفرین عذاب مھین ” یاد رکھو ! انکار کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں دردناک عذاب تیار ہے۔ اگر اس عذاب سے بچنا ہے تو آج بھی راہ راست پر آجاؤ۔ ورنہ وہ تو تمہارے مقدر میں ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہودیوں کے حالات منکشف کرکے مسلمانوں کو بھی تنبیہ کر رہے ہیں۔ کہ تم بھی یہودیوں کی روش اختیار نہ کرلینا ۔ بلکہ ان کی خرابیوں کا ذکر سن کر اپنی اصلاح کرلیتا۔
Ayahs 2:91–96گزشتہ سے پیوستہ : یہودیوں کی قباحتیں اور ان کی سزائیں بیان ہو رہی ہیں۔ اس سے پہلی آیات میں یہودیوں کی برائیوں اور ان کے کفر پر اصرار کا ذکر تھا۔ یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ خاتم النبین ﷺ کی آمد سے پہلے یہودی ان کے منتظر تھے۔ کہ جب وہ نبی آخر الزمان آئے گا تو اس کا ساتھ دیں گے۔ یہودی لوگ آپ کی برکت سے مشرکین پر غلبہ حاصل کرنے کی تمنا بھی کرتے تھے۔ اور اس کے لیے دعائیں بھی کرتے تھے۔ مگر جب وہ رسول آگیا جس کا انتظار تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب بھی آگئی اور ان لوگوں نے پہچان بھی لیا تو پھر انکار کردیا۔ اللہ تعالیٰ کے دوہرے غضب میں مبتلا ہوئے۔
دعوت ایمان : ان آیات میں بھی یہودیوں کی ہٹ دھرمی کا ذکر ہے البتہ یہاں ان کو قرآن پاک اور ایمان کی دعوت دی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے “ واذا قیل لھم امنوا بما انزل اللہ ” جب انہیں کہا جاتا ہے کہ اس چیز پر ایمان لاؤ۔ جو اللہ تعالیٰ نے نازل کی ہے۔ یعنی قرآن پاک کو اللہ تعالیٰ کی فرستادہ کتاب تسلیم کرلو۔ “ قالوا نؤمن بما انزل علینا ” ان کا جواب یہ ہوتا ہت کہ ہم تو اس چیز پر ایمان رکھتے ہیں جو ہماری طرف نازل کی گئی ہے۔ یعنی توراۃ کہتے ہیں۔ کہ ہم تو صرف توراۃ کو مانتے ہیں “ ویکفرون بما ورآءہ ” اور اس کے علاوہ ہر چیز کا انکار کردیتے ہیں۔ حالانکہ “ وھو الحق ” قرآن پاک برحق ہے۔ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ ہے اور “ مصدقا لما معہم ” جو کچھ ان کے پاس ہے۔ یعنی توراۃ اس کی تصدیق کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کا توراۃ پر ایمان لانے کا دعویٰ بھی جھوٹا ہے اگر ان بدبختوں کا توراۃ پر ایمان ہوتا تو یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر بھی ایمان لاتے۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ لہٰذا یہ اپنے دعویٰ میں جھوٹے ہیں۔
یہ ایک اصولی بات ہے کہ جب تک کوئی فرد یا قوم اللہ تعالیٰ کی نازل کرہ تمام کتابوں پر ایمان نہیں لائے گی ، وہ مومن نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ تمام کتب سماویہ کی بنیادی تعلیم تو ایک ہی ہے یعنی ایمانیات اور عبادات کے معاملہ میں تمام کتابیں مساوی ہیں “ شرع لکم من الدین ماوصی بہ نوحا ” یعنی تمہارے لیے بھی وہی دین مقرر کیا گیا ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد آنے والے نبیوں کے لیے مقرر کیا گیا تھا ہاں البتہ مختلف زمان و مکان کے لحاظ سے شریعت میں تھوڑا بہت فرق ضرور ہے۔ جیسے فرمایا “ لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنھاجا ”۔
قتل انبیاء (علیہم السلام) : اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے جھوٹے ہونے کی ایک اور دلیل بیان فرمائی ہے۔ ان سے پوچھئے کہ اگر توراۃ پر ایمان ہے “ قل فلم تقتلون انبیآء اللہ من قبل ان کنتم مؤمنین ” تو تم نے اس سے پہلے اللہ کے نبیوں کو کیوں قتل کیا ہے۔ قتل انبیاء (علیہم السلام) تمہاری کون سی کتاب جائز قرار دیتی ہے۔ یہ تو صریحا کفر سے لطف کی بات یہ ہے کہ بعد میں آنے والے بنی اسرائیلی قاملان انبیاء اپنے آباؤ اجداد پر فخر کرتے تھے اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو تو پھر ایسا کیوں ہے ؟ ظاہر ہے کہ اپنے بڑوں گے جرم میں بھی شریک ہو۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ نزول قرآن کے وقت یہودی بھی اپنے آباؤ اجداد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حضور نبی کریم ﷺ کے قتل کے درپے تھے۔ اس سلسلہ میں مدینہ کے یہودیوں نے کتنی سازشیں کیں۔ حتیٰ کہ حضور ﷺ کو زہر بھی دیا گیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اچھا تمہارا دعویٰ ہے کہ توراۃ پر تمہارا ایمان ہے۔ تو پھر یہ بتاؤ کہ قتل انبیاء (علیہم السلام) توراۃ میں کہاں لکھا ہے۔ تمہارا دعویٰ ایمان باطل ہے۔ اگر تم ایمان والے ہو تو قتل انبیاء (علیہم السلام) میں کیوں ملوث ہوتے ہیں۔
گوسالہ پرستی : فرمایا ےتمہارا یہ دعویٰ درست نہیں کہ تم توراۃ پر ایمان رکھتے ہو اس کا ثبوت یہ ہے کہ “ ولقد جآء کم موسیٰ بالبینت ” جب موسیٰ (علیہ السلام) واضح نشانیاں یعنی معجزات لے کر آئے تو تم نے ان پر ایمان لائے کی بجائے۔ “ ثم اتخذتم العجل من بعدہ ” تم نے بچھڑے کو معبود بنا لیا۔ یہ صریحا شرک تھا جو تمام آسمانی کتابوں کے مطابق گناہ کبیرہ قرار دیا گیا ہے۔ “ وانتم ظلمون ” اور تم یا تمہارے آباؤ اجداد ظلم کرنے والے تھے۔
دیکھو ! تم نے بار بار عہدو پیمان کو توڑا ۔ از خود شریعت کا مطالبہ کیا اور پھر جب وہ قانون تمہارے پاس آگیا۔ تو حیلے بہانے سے اسے ٹالنا چاہا۔ اور کہہ دیا کہ اس پر عمل ممکن نہیں۔ اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔ “ واذا میثاقکم ” اور جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا “ ورفعنا فوقکم الطور ” اور تمہارے سروں پر کوہ طور کو معلق کردیا۔ اور حکم دیا “ خذوا ما اتینکم بقوۃ واسمعوا ” جو کچھ ہم عطا کر رہے ہیں اسے مضبوطی سے تھام لو اور سنو یعنی اس پر کما حقہ ، عمل کرو۔ مگر تم نے الٹا ہی جواب دیا “ قالوا سمعنا وعصینا ” بظاہر تو عمل کا وعدہ کیا۔ مگر باطن میں کہا۔ کہ ہم نے سن لیا مگر ہم نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ یعنی زبان سے اقرار تو کرتے ہیں۔ مگر ہم سے اس پر عمل نہیں ہوسکتا اس کی محبت گھر کرچکی تھی یہ ان کے کفر کی وجہ سے تھا۔ کہ وہ شرک میں مبتلا ہوچکے تھے۔ لہٰذا انکا یہ دعویٰ کہ توراۃ کو مانتے ہیں ، غلط ہے۔
فرمایا “ قل ” اے پیغمبر ﷺ آپ فرما دیجئے “ بئسما یامرکم بہ ایمانکم ” وہ بہت ہی بری چیز ہے۔ جس کے لئے تمہارا ایمان تمہیں حکم دیتا ہے۔ “ ان کنتم مؤمنین ” اگر تم واقعی مومن ہو۔ اور پھر گوسالہ پرستی بھی کرتے ہو۔ یہ تو بہت ہی بری بات ہے۔ ظاہر ہے کہ خالص ایمان کبھی قتل انبیاء (علیہم السلام) کا حکم نہیں کرسکتا اور نہ ہی بچھڑے کی پرستش پر آمادہ کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ توراۃ پر تمہارا ایمان ہی نہیں ہے۔ ورنہ اس قسم کی بری حرکات کے مرتکب نہ ہوتے۔
موت کی آرزو : پہلے آیت گزر چکی ہے۔ اور آگے بھی آئے گی۔ یہود و نصاریٰ دونوں اس زعم باطل میں مبتلا تھے کہ جنت صرف انہیں کے لیے مخصوص ہوچکی ہے۔ کوئی دوسری قوم اس میں داخل نہیں ہوگی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ “ لن یدخل الجنۃ الا من کان ھودا اور نصری ” اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا “ قل ان کانت لکم الدار الاخرۃ عند اللہ خالصۃ من دون الناس ” اے نبی (علیہ السلام) ! آپ ان کو فرما دیں ۔ کہ اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک آخرت کا گھر محض تمہارے ہی لیے ہے۔ تمہارا یہ یقین ہے کہ تم ضرور جنت میں جاؤ گے۔ “ فتمنوا الموت ان کنتم صدقین ” تو پھر ذرا موت کی تمنا تو کرو۔ تمہاری سچائی کا پتا چل جائے گا۔ ظاہر ہے جسے آخرت میں اپنی کامیابی کا یقین ہوگا۔ وہ تو چاہے گا کہ کب موت آئے اور کب وہ دائمی آرام و راحت سے مستفید ہو۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ کہ سب ان کے زبانی دعوے ہیں۔ کہ ہم جنتی ہیں۔ جنت میں پہنچنے کے لیے جس ذریعہ یعنی موت کی ضرورت ہے۔ اس کی کبھی تمنا نہیں کریں گے۔ “ ولن یتمنوہ ابدا ” کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہاں پر وہ کس قسم کی کرتوتیں کر رہے ہیں۔ “ بما قدمت ایدیھم ” ان کے ہاتھوں نے آگے کیا بھیجا ہے۔ اگر اپنی کامیابی پر انہیں یقین ہوتا تو ضرور موت کی تمنا کرتے۔ مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ “ واللہ علیم بالظلمین ” اللہ تعالیٰ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ کہ یہ کیا ظاہر کر رہے ہیں۔ اور ان کے باطن میں کیا پوشیدہ ہے۔
حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے (1 ۔ تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 127 ، تفسیر طبری ج 1 ص 424 ، معالم التنزیل ج 1 ص 29) کہ اگر یہ لوگ قرآن پاک کا چیلنج قبول کرکے جھوٹ موٹ بھی موت کی تمنا کر بیٹھتے تو ہلاک ہوجاتے ۔ اس لیے انہوں نے ایسا نہیں کیا ۔ قرآن پاک اور نبی آخر الزمان ﷺ کی صداقت کا یہ بہت بڑا ثبوت ہے کہ یہودیوں نے قرآن پاک کا چیلنج قبول نہ کیا۔ وہ لوگ تو موت سے سخت خوفزدہ تھے ۔ وہ اس کی تمنا کیسے کرسکتے تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا (1 ۔ تفسیر طبری ج 1 ص 423 ، ابن کثیر ج 1 ص 127) کہ نصرانیوں کا ایک گروہ بھی مباہلے کے لیے آیا تھا اگر وہ بھی مقابلے میں آجاتا اور مباہلہ کر بیٹھتا ، تو وہ خود اور ان کے گھر بار سب ہلاک ہوجاتے۔
طویل العمری کی خواہش : اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہودی موت کی تمنا کبھی نہیں کریں گے۔ بلکہ یہ طویل العمری کے خواہش مند ہیں۔ “ والتجدنھم احراص الناس علی حیوۃ ” البتہ آپ انہیں زندگی پر لوگوں سے زیادہ حریص پائیں گے “ ومن الذین اشرکوا ”
ان لوگوں سے بھی زیادہ حریص جو مشرک ہیں۔ مشرک کے نذدیک آخرت کا کوئی تصور نہیں۔ لہٰذا ان کا زندگی پر حرص کرنا تو واضح ہے۔ مگر یہ یہودی آخرت کو مانتے ہوئے بھی دنیوی زندگی کی خواہش کرتے ہیں۔ اور موت سے ڈرتے ہیں۔ حالانکہ جو لوگ صاحب ایمان ہیں وہ موت سے خوفزدہ نہیں ہوتے۔ صحابہ کرام ؓ کے حالات ہمارے سامنے ہیں۔ وہ تو موت کو ابدی راحتوں کا ایک ذریعہ سمجھتے تھے۔ اور ہر وقت موت کے انتظار میں رہتے تھے۔ کہ کب اس پل کو عبور کرکے جنت کی وادیوں میں پہنچ جائیں۔ حضرت حذیفہ ؓ جب مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو کہتے تھے (2 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 343) “ جآء حبیب علیٰ فاقنا ” ضرورت اور حاجت کے وقت آنے والی چیز یعنی موت آگئی ہے “ لا افلح لیوم من ندم ” آج جو نادم ہوگا۔ اسے کبھی فلاح نصیب نہیں ہوگی۔ گویا ہم موت سے ڈرتے نہیں بلکہ اس سے محبت کرتے ہیں۔ کہ یہ تقرب الی اللہ کا ذریعہ ہے۔ اس کے بغیر خدا تعالیٰ سے ملاقات نہیں ہوسکتی۔
جنگ ۔۔۔ میں حضرت علی ؓ چغہ پہنے ہوئے تھے۔ تیروں کی بارش ہو رہی تھی۔ حضرت حسن ؓ نے کہا۔ اے ابا جان ! یہ لباس جو آپ نے پہن رکھا ہے۔ یہ جنگی لباس تو نہیں ہے۔ فرمانے لگے (3 ۔ تفسیر عزیزی پارہ 1 ص 343) بیٹے ! مجھے اس چیز کا خوف نہیں ہے۔ کہ موت مجھ پر یا میں موت پر گروں۔ ہمیں تو شہادت کی تمنا ہے۔ موت ہمیں خوفزدہ نہیں کرسکتی۔ حضرت عمار ؓ بھی ایسا ہی کہتے تھے “ غدا نلقی الاحبۃ محمدا وحزبہ ” کل یقیناً ہم اپنے دوستوں سے ملیں گے ہم حضرت محمد ﷺ اور ان کے گروہ سے ملنے والے ہیں۔ ہمیں موت کا ڈر نہیں۔ ظاہری طور پر موت بڑی خوفناک چیز ہے۔ مگر مومن اپنے ایمان اور عقل سے سمجھتا ہے کہ یہ یقینی ہے۔ ڈر والی شئے نہیں ، بلکہ خدا تعالیٰ تک پہنچنے کا ذریعہ ہے جب انسان کو اللہ تعالیٰ کے ہاں ابدی نعمتیں حاصل ہوں گی۔ تو اسے معلوم ہوگا کہ دنیا کی زندگی کتنی حقیر چیز ہے۔
موت وحیات کی طلب : ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ اگر دنیا میں کوئی تکلیف پیش آجائے تو اس سے دل برداشتہ ہو کر موت کی تمنا نہیں کرنی چاہئے۔ اس سے منع کیا گیا ہے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا (1 ۔ مسلم ج 2 ص 342) “ لایتمنین احدکم الموت لضرنزل بہ ” کوئی شخص محض تکلیف کی وجہ سے موت کا طالب نہ ہو۔ بلکہ یوں دعا کرے۔ “ اللھم احیینی ما انت الحیوۃ خیرانی ” اے اللہ ! جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہو تو مجھے زندہ رکھ “ وامتنی ما کانت الموت خیرا لی ” اور جب میرے لیے موت بہتر ہو۔ تو وہ دے دے۔
فرمایا “ یودا حدھم ” ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک خواہش کرتا ہے۔ “ لو یعمر الف سنۃ ” کہ اس کی عمر ہزار سال ہوجائے۔ فرمایا اگر ان کی یہ خواہش پوری بھی ہوجائے۔ یعنی انہیں ہزار سالہ زندگی میسر آجائے۔ اس کے باوجود “ وما ھو بمزحزحہ من العذاب ان یعمر ” اتنی لمبی عمر بھی انہیں عذاب سے نہیں بچا سکتی۔ وہ بالآخر خدا تعالیٰ کی گرفت میں آئیں گے۔ کیونکہ یہ ضدی اور عنادی لوگ ہیں یہ لوگ کفر میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے قباحتیں اور شرور اکٹھے کر رکھے ہیں۔ اور اپنی روحانیت تباہ کرلی ہے۔ “ واللہ بصیر بما یعملون ” جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں سب کچھ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہے۔ وہ ان کے عقائد اور اعمال اچھی طرح جانتا ہے۔ یہ لوگ کسی طرح بھی اس کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔
Ayahs 2:97–101شان نزول : یہودیوں کی خرابیوں کا تذکرہ تسلسل کے ساتھ چل رہا ہے۔ آیات زیر درس کے شان نزول کے متعلق مفسرین کرام فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 349 ، تفسیر طبری ج 1 ص 431 ، ابن کثیر ج 1 ص 129) کہ حضرت نبی (علیہ السلام) کی ہجرت مدینہ کے وقت مدینہ کے گردو نواح میں بہت سے یہودی آباد تھے۔ یہودی علماء میں سے صرف ایک عالم حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ ایمان لائے باقی سب محروم ہی رہے ان میں سے ابن صوریا یک چشم تھا ۔ وہ بعض دوسرے یہودیوں کے ہمراہ حضور نبی کریم ﷺ کا امتحان لینے کے لیے آیا۔ اور آپ سے مختلف سوال کیے۔ اس نے کہا آخری نبی کے خواب سے متعلق ہماری کتابوں میں بعض نشانیاں موجود ہیں۔ آپ اپنے خواب کی کیفیت بیان فرمائیں۔ آپ نے اس کے جواب میں فرمایا “ ان عینی تنامان ولا ینام قلبی ” یعنی میری آنکھیں تو بیشک سوتی ہیں۔ مگر دل کبھی نہیں سوتا۔ اس کی اس نے تصدیق کی کہ آپ ٹھیک فرماتے ہیں۔ ہماری کتابوں میں بھی نبی آخر الزمان کی یہی نشانی بتائی گئی ہے۔
اس شخص نے دوسرا سوال کیا۔ کہ رحم مادر میں جنس کی تفریق کیسے ہوتی ہے۔ یعنی بچے اور بچی کی پیدائش میں کون سے عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ مرد کا مادہ منویہ سفید رنگ کا ہوتا ہے۔ اور عورت کے رحم کی رطوبت زردرنگ کی ہوتی ہے۔ فرمایا مباشرت کے وقت جس مادہ کا غلبہ ہوجاتا ہے۔ بچے کی شکل و صورت اس کے موافق ہوتی ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ غلبے سے کیا مراد ہے۔ مقدار میں غلبہ ہوتا ہے۔ یا خروج میں سبقت ہوتی ہے یا کسی صفت میں غلبہ ہوتا ہے یہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ تاہم حضور ﷺ نے ہی بتایا کہ مرد اور عورت میں سے جس کے مادہ میں غلبہ ہوتا ہے۔ وہ مشابہت میں بچے کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ یہودیوں نے کہا کہ یہ بھی آپ نے درست جواب دیا۔ ہماری کتابوں میں بھی ایسا ہی لکھا ہے۔
حضور ﷺ نے ان یہودیوں سے فرمایا کہ جب تم میرے جوابات سے مطمئن ہو تو پھر ایمان کیوں نہیں لاتے۔ کہنے لگے ہم ایک اور سوال پوچھیں گے ۔ حضرت ! یہ فرمائیے۔ کہ جو لوگ بہشت میں داخل ہوں گے انہیں سب سے پہلئ کونسی خوراک پیش کی جائیگی۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ۔ کہ جنتیوں کی اولین خوراک مچھلی کے جگر کا زائد حصہ ہوگا۔ اور پھر دوسرے نمبر پر ان کو بیل کا گوشت پیش کیا جائے گا۔ جو جنت کے اطراف میں چرتا ہے یہودیوں نے کہا کہ یہ بھی آپ
نے درست فرمایا ہے۔
اب حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب تم نے آخری نبی کی تمام علامتیں پہچان لی ہیں تو پھر ایمان کیوں نہیں لاتے۔ انہوں نے کہا کہ اچھا ایک بات اور بتائیے۔ کہ آپ کے پاس وحی کون لاتا ہے۔ آپ نے فرمایا ، مجھ پر جبریل (علیہ السلام) وحی لاتے ہیں۔ وہ کہنے لگے جبرائیل تو ہمارا دشمن ہے۔ اگر وہ وحی لاتا ہے تو ہم اس کو نہیں مانتے۔ ہاں اگر میکائیل (علیہ السلام) وحی لاتا تو ہم مان لیتے۔ کہنے لگے جبرائیل کو دو وجوہات کی بنا پر ہم تسلیم نہیں کرتے ۔ اول یہ کہ یہ قوموں پر عذاب لاتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس نے ہمارے دشمن بخت نصر کی حمایت کی تھی۔ اس کی تفصیل انہوں نے یوں بیان کی۔ کہ ہمارے پیغمبروں نے ہمیں بتایا تھا۔ کہ بخت نصر نامی بادشاہ تمہیں تباہ و برباد کرے گا۔ لہٰذا اسے بچپن میں ہی قتل کردینا۔ پیغمبروں نے اس کی نشانیاں بتائیں اور یہ بھی بتایا کہ وہ اوائل عمر میں فلاں جگہ پر ملے گا۔ اور فلاں کام کرتا ہوگا۔ چناچہ ہمارے سرداروں نے بخت نصر کی تلاش میں چاروں طرف آدمی بھیج دے۔ اور انہوں نے شہر بابل میں انہی نشانیوں کے ساتھ بخت نصر کو تلاش کرلیا۔ جب اسے ہلاک کرنے لگے تو جبرائیل (علیہ السلام) سامنے آکھڑے ہوئے اور کہنے لگے تم اس کو کیوں مارتے ہو۔ ہم نے کہا کہ یہ ہمارا قاتل ہے۔ اور ہماری تباہی کا باعث بنے گا۔ تو جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا کہ اگر یہ واقعی قاتل ہے۔ تو تم اسے ہلاک نہیں کر سکوگے۔ اور اگر یہ تمہارا قاتل نہیں ہے تو خواہ مخواہ خون ناحق کے مرتکب ہوتے ہو۔ اس طرح جبرائیل (علیہ السلام) نے بخت نصر کو ہلاک ہونے سے بچا لیا۔ وہی بخت نصر جب بڑا ہوا تو اس نے شام اور فلسطین کے علاقوں میں بڑی تباہی مچائی اور بہت المقدس کو گرا دیا۔ توراۃ کو جلایا یہودیوں کو قتل کیا اور ان کو غلام اور لونڈیاں بنایا۔ چناچہ یہ لوگ سو سال تک غلامی میں مبتلا رہے اور بڑی ذلت و رسوائی اٹھائی۔
یہودیوں نے کہا کہ جبرائیل (علیہ السلام) پر ہمارا اور اعتراض یہ ہے کہ یہ آپ کے پاس ہماری چغلیاں کھاتا ہے۔ ہماری ساری باتیں آپ کو بتا دیتا ہے۔ لہٰذا اس کے ذریعے نازل ہونے والی وحی کو ہم ماننے کے لیے تیار نہیں۔ یہودیوں کے ان اعتراضات کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں اور ان کی گندی ذہنیت کا رد فرمایا۔ اور بتایا کہ جبرائیل (علیہ السلام) تو اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے ہیں۔ وہ ہر کام اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتے ہیں۔ لہٰذا انکے ساتھ دشمنی رکھنا کفر کے مترادف ہے۔
جبر ، میک ، سراف ان تینوں لفظوں کا معنی عبد ، بندہ یا مرد خدا ہے ۔ اور ایل عبرانی زبان میں اللہ تعالیٰ کا نام ہے۔ گویا دونوں لفظ مل کر عبد اللہ کا معنی دیتے ہیں۔ اس طرح جبرائیل ، میکائیل اور اسرافیل کا معنی اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوا (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 354 ، تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 230) ان میں عزرائیل کا نام شامل نہیں ہے۔ بعض کتابوں میں مذکور ہے کہ عزرائیل ملک الموت کا لقب ہے۔
الغرض ! جب یہودیوں نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو اپنا دشمن قرار دیا تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا “ قل من کان عدوا لجبریل ” کہ کہہ دیجئے جو کوئی جبرائیل (علیہ السلام) کا دشمن ہے۔ “ فانہ نزلہ علی قلبک باذن اللہ ” اس نے تو قرآن پاک آپ کے قلب مبارک پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اتارا ہے۔ اس کے ساتھ کسی کی دشمنی کا کیا جواز ہے۔
نزول وحی کی مختلف صورتیں : نزول وحی کی مختلف صورتیں ہیں ۔ عام صورت تو یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل
علیہ السلام حضور نبی کریم ﷺ کے قلب مبارک پر نازل کرتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی لاتے تھے۔ تو حضور ﷺ کے قلب کے ساتھ رابطہ قائم ہوجاتا تھا۔ بالکل اسی طرح جس طرح آج کل ٹیلیفون کا کنکشن مل جاتا ہے یہ خاص قسم کی رو ہوتی تھی جس کے فدیعے پیغمبر (علیہ السلام) اپنے کانوں سے اللہ تعالیٰ کا کلام سنتے تھے۔ اور اسے خوب سمجھتے تھے اور اس کے الفاظ کو جانتے تھے۔ اور بعض اوقات ایسا ہوتا تھا کہ کوئی بات آنحضرت ﷺ کو بذریعہ خواب بتا دی جاتی تھی یا بعض دفعہ فرشتہ کسی شکل میں متشکل ہو کر آتا تھا۔ اور کلام الٰہی پیش کرتا تھا تاہم عام طور پر پہلی صورت میں یعنی قلب مبارک سے رابطہ قائم ہوتا تھا۔ ایک دفعہ حضور ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) سے فرمایا (1 ۔ بخاری ج 2 ص 691) کہ ہم آپ کی آمد کے منتظر رہتے ہیں۔ آپ کثرت سے کیوں نہیں آتے تو جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا “ ما نتنزل الا بامر ربک ” ہم تو صرف آپ کے رب کے حکم سے نازل ہوتے ہیں ۔ جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے ہم حاضر ہوجاتے ہیں ہم اپنی مرضی سے نہیں آسکتے۔
مقرب فرشتے : حدیث شریف میں آتا ہے (2 ۔ زجاجۃ المصابیح ج 1 ص 207 ، مشکوۃ ص 71 تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 359) کہ ایک دفعہ جبرائیل (علیہ السلام) حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کو بتایا کہ اب کی دفعہ میں اللہ تعالیٰ کے بہت ہی قریب پہنچ گیا۔ آپ نے دریافت کیا کہ جبرائیل یہ تو بتاؤ کہ تم اللہ تعالیٰ کے کس قدر قریب پہنچ گئے عرض کیا۔ کہ میرے اور اللہ کے درمیان صرف ستر ہزار پردوں کا حجاب رہ گیا۔ اللہ تعالیٰ کے اتنا قریب پہنچ گیا اسی لیے ان کو اللہ تعالیٰ کے مقربین فرشتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے (3 ۔ تفسیر عزیزی پارہ 1 ص 359) کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبرائیل (علیہ السلام) کو ہر روز اجازت ہوتی ہے کہ جنت کی نہر کوثر میں غوطہ لگائیں۔ چناچہ جبرائیل (علیہ السلام) ہر روز ایسا ہی کرتے ہیں جس کی وجہ سے غیر محدود روحانیت حاصل ہوتی ہے۔ آپ کے مختلف القاب میں ناموس اعظم ، روح اعظم ، روح القدس اور روح الامین وغیرہ شامل ہیں۔ جبرائیل (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے سب سے مقرب فرشتے ہیں۔ تمام انبیاء (علیہم السلام) پر وحی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے توسط سے ہی آتی رہی ہے۔
میکائل (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے دوسری تکوینی امور کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ جیسے نبی نوع انسان کی روزی رسانی اور بارش کا نزول وغیرہ اسی طرح حضرت اسرافیل (علیہ السلام) عالم کے فنا کے لیے بگل بجانے کی تیاری کر رہے ہیں اور عزرائیل (علیہ السلام) جن کا لقب ملک الموت ہے وہ جانداروں کی روح قبض کرنے پر مامور ہیں “ قل یتوفکم ملک الموت الذی وکل بکم ” اسی بات کی طرف اشارہ ہے شاہ رفیع الدین محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں (4 ۔ مجموعہ رسائل حضرت اہ رفیع الدین ص 31) کہ حدیث میں جن چار حاملین عرش فرشتوں کا ذکر ہے۔ وہ یہی فرشتے ہیں۔ قیامت کے دن عر الٰہی کو تھامنے والے آٹھ فرشتے ہوں گے۔ ان چار کے ساتھ چار اور معاون ہوجائیں گے۔
حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے دشمنی : الغرض فرمایا اے بنی اسرائیل ، جبرائیل (علیہ السلام) کے ساتھ تمہاری دشمنی بلاوجہ ہے۔ “ قل من کان عدو الجبریل ” آپ فرما دیجئے جو جبرائیل (علیہ السلام) کا دشمن ہے ۔ “ فانہ نزلہ علی قلبک باذن اللہ ” اس نے تو یہ کلام الہی تمہارے قلب مبارک پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے نازل کیا ہے۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کا حکم بجالاتا ہے۔ خواہ وہ چیز تمہاری موافقت میں جائے یا مخالفت میں جائے۔ اور پھر یہ کلام بھی ایسا ہے۔ جو قطعا تمہاری مخالفت نہیں کرتا۔ بلکہ یہ تو “ مصدقالما بین یدیہ ” اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور اس لحاظ سے یہ سابقہ کتب کی تعلیمات کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔ دوسرے مقام پر “ مھیمنا ” کا لفظ آتا ہے۔ قرآن پاک سابقہ کتب کا محافظ ہے۔ ان کا نچوڑ اس آخری کتاب میں آگیا ہے۔ اسی طرح پہلی کتابوں میں جو ملاوٹ ہوچکی ہے۔ ان کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ لہٰذا ایسی پاک کتاب کا انکار اور اس کے لانے والے سے دشمنی رکھنا کیسے جائز ہے۔ بلکہ یہ تو نہایت ہی قبیح فعل ہے۔ یہ تو ایسی عظیم الشان کتاب لاتا ہے۔ جس کے لیے نوع انسان ہمیشہ دعاگو رہی ہے۔ کہ “ اھدنا الصراط المستقیم ” اے اللہ ! ہم کو راہ راست دکھا دے اور اس پر چلا دے۔
اہل ایمان کے لیے بشارت : فرمایا کلام ایسا ہے جو کہ “ وھدی وبری للمؤمنین ” ہے اس کے ذریعے اللہ نوع انسان کو ہدایت بخشتا ہے۔ اور پھر اس ہدایت کی روشنی میں جو لوگ ایمان قبول کرلیتے ہیں۔ ان کے لیے دائمی کامیابی کی بشارت بھی سناتا ہے۔ قرآن پاک میں جگہ جگہ موجود ہے ۔ “ بشر الذین امنوا وعملوا الصلحت ” اہل ایمان اور اعمال صالحہ کرنے والوں کو خوشخبری دے دیں۔ کن کن نعمتوں کی خوشخبری اس کا ذکر قرآن پاک نے بار بار کیا ہے۔ کہیں فرمایا “ ان لھم جنت تجری من تحتھا الانھر ” ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں رواں دواں ہوں گی۔ کہیں فرمایا “ فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر ” وہ اللہ رب العزت کی بیٹھک یعنی اس کے حضور میں بیٹھے ہوں گے ، دوسری جگہ بشارت اس طرح ہے۔ “ فان تطیعوا یؤتکم اللہ اجرا حسنا ” اگر اطاعت کروگے تو اللہ تعالیٰ بہترین اجر عطا فرمائیں گے۔ بہرحال اہل ایمان کو اصلاح اور کامیابی کی بشارت سنائی گئی ہے۔ اب بتاؤ ایسا پاک کلام لانے والے جبرائیل (علیہ السلام) سے دشمنی کا کیا معنی ہے۔
فرشتوں سے دشمنی اللہ تعالیٰ سے دشمنی ہے : فرمایا “ من کان عدوا للہ وملکئکۃ ورسلہ وجبریل ومیکل فان اللہ عدو للکفرین ” یعنی اے اللہ تعالیٰ کے فرشتوں جبرائیل ، میکائل وغیرہ سے دشمنی رکھنا تو خود اللہ تعالیٰ سے دشمنی ہے۔ گویا یہ لوگ فرشتوں کے دشمن نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے دشمن ہیں فرمایا اگر ایسی بات ہے تو پھر سن لو “ فان اللہ عدو للکفرین ” اللہ تعالیٰ بھی کافروں کا دشمن ہے۔ ظاہر ہے کہ ملائکہ یا انبیاء (علیہم السلام) تو عالم بالا یعنی خطیرۃ القدس کے ترجمان ہیں۔ ان کے ساتھ دشمنی بڑی مہنگی پڑے گی۔ کیونکہ یہ خدا تعالیٰ سے دشمنی کے مترادف ہے۔
لفظ ملائکہ ملو کہ یا الو کہ سے مشتق ہے۔ اور ملوک عربی میں پیغام کو کہتے ہیں۔ اس کا ثبوت عرب کے قدیم شاعر عدی بن زید عبادی کے کلام سے ملتا ہے۔ اسے نعمان شاہ عراق نے کسی بات پر خفا ہو کر قید میں ڈال دیا بادشاہ اس کا رشتہ دار بھی تھا۔ بہرحال اس نے اپنے شعروں میں نعمان کو پیغام بھیجا تھا۔
؎ ابلغ النعمان عنی مالکا انہ قد طال حبسی وابتغاری
نعمان کو میرا پیغام پہنچا دو ۔ اس نے بلاوجہ مجھے لمبی قید میں ڈال رکھا ہے۔ میں اس کے حکم کا منتظر ہوں کہ کب رہائی ملتی ہے۔ یہ کافی لمبا قصیدہ ہے۔ عرب کے ایک شاعر کے کلام میں بھی ایسا ہی ملتا ہے۔ یہ عربوں میں بہت مشہور تھا۔ اور اسے عربوں کا باحا کہا جاتا تھا۔ اس کی زبان سے نکلا ہوا شعر بہت شہرت حاصل کرتا تھا۔ اور پورے عرب میں فوراً پھیل جاتا تھا۔ اس نے حضور ﷺ کا زمانہ پایا ہے۔ وہ شخص ایمان لانے کے لئے حضور ﷺ کی خدمت میں آرہا تھا کہ کفار نے سازش کے ذریعے اسے راستے میں ہی روک لیا۔ وہ اپنے گاؤں میں بھی واپس نہ پہنچ سکا۔ بلکہ دوران سفر ہی اونٹ سے گر کر ہلاک ہوگیا۔ وہ بھی کہتا ہے۔
؎ ابلغ یزید بنی شیبان مالکۃ ابا ثبیب اما تنفک تاتکل
یزید بن شیبان سردار قبیلہ تک میرا یہ پیغام پہنچا دو کہ اے ابو ثبیب کیا تو ہمیشہ غلط بیانی ہی کرتا رہے گا۔ مطلب یہ کہ مالکا یا ملو کہ یا الو کہ کا معنی پیغام ہے۔ اور ملائکہ بھی اسی سے مشتق ہے جس کا معنی پیغام لانے والے کے ہیں۔
مقربین کا عنادی لعنتی ہے : الغرض ! جو کوئی اللہ تعالیٰ کے فرشتوں اور اس کے رسولوں سے دشمنی رکھتا ہے وہ گویا اللہ تعالیٰ سے دشمنی مول لیتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ کے مقربین سے عناد رکھنے والا لعنتی ہے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں (1 ۔ حجۃ اللہ البالغہ ج 1 ص 56) کہ مقربین الٰہی اور صالحین سے عداوت رکھنے والا شخص ہمیشہ نجاست میں مبتلا رہتا ہے۔ گویا وہ ہمیشہ خیانت کی سی حالت میں ہے اور یہ چیز موجب لعنت ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم (علیہ السلام) کی زبان مبارک سے کہلوایا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (2 ۔ مستدرک حاکم ج 4 ص 228) “ من عادی لی ولیا ” جو میرے کسی ولی یا دوست سے دشمنی رکھتا ہے۔ اسے میرا چیلنج ہے کہ وہ میرے ساتھ جنگ کے لیے تیار ہوجائے۔ ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ کون جنگ کرسکتا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ ایسا شخص ملعون ہے۔
واضح نشانیاں : جس وقت حضور ﷺ مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو اس زمانے میں مدینے کے قرب و جوار میں یہودیوں کے دس بڑے عالم تھے حضور ﷺ نے فرمایا (3 ۔ بخاری ج 1 ص 562 ، مسلم) کہ اگر یہ عالم ایمان لے آئیں تو کوئی یہودی باقی نہ رہے۔ سب ایمان لے آئیں۔ ان میں سے صرف عبد اللہ بن سلام ؓ ایمان کی دولت سے مشرف ہوئے۔ باقی سب بےایمان ہی رہے۔ انہی میں ایک عالم ابن صوریا تھا۔ اس نے حضور ﷺ سے کہا کہ آپ آخر الزمان ہونے کے دعویدار ہیں۔ اس دعوے کے ثبوت میں آپ ہمیں کوئی واضح نشانی بتائیں جسے ہم پہچانتے ہوں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا “ ولقد انزلنا الیک ایت بینت ” یعنی ہم نے آپ کی طرف واضح نشانیاں نازل کی ہیں جس شخص میں ذرہ بھر بھی انصاف ہوگا۔ وہ ان نشانیوں کا انکار نہیں کرسکے گا فرمایا “ وما یکفر منھا الا الفسقون ” ان کھلی نشانیوں کا انکار صرف نافرمان لوگ ہی کریں گے۔
کتاب اللہ سے روگردانی : فرمایا ان کمبختوں کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے کہ “ اوکلھا عھدوا عھدا ” ان میں سے جب بھی کسی نے کوئی عہد کیا “ نبذہ فریق منھم ” ان میں سے ایک فریق نے اس عہد کو توڑ دیا اس کی وجہ یہ ہے کہ “ بل اکثرھم لا یؤمنون ” ان کی اکثریت ایمان لانے سے قاصر رہی ہے۔ حتیٰ کہ “ ولما جآءھم رسول من عند اللہ ” جب ان کے پاس رسول اعظم ، خاتم النبین ﷺ تشریف لے آئے۔ “ مصدق لما معھم ” جو اس چیز کی تصدیق کرنے والے ہیں جو ان کے پاس ہے یعنی زبور ، توراۃ ، انجیل۔ دیگر تمام صحف سماویہ۔ شرائع الٰہیہ وغیرہ۔ تو پھر یہ ہوا کہ “ نبذ فریق من الذین اوتوا الکتب ” اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے پھینک دیا۔ “ کتب اللہ ” اللہ کی کتاب کو “ ورآء ظھہورھم ” پس پشت یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب توراۃ سے روگردانی اختیار کرلی۔ اگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو کسی درجے میں بھی تسلیم کرتے تو خاتم النبین ﷺ کی تصدیق کرتے اور قرآن پاک کو بھی مان لیتے۔ مگر انہوں نے کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دیا یعنی اس میں تحریف کے مرتکب ہوئے۔ اس کے الفاظ کو تبدیل کردیا۔ یا الفاظ کے معنی الٹ دے اور یہ سب کچھ انہوں نے اس طرح کیا “ کانھم لا یعلمون ” گویا وہ جانتے ہیں نہیں کہ کتاب اللہ میں کیا پیش گوئیاں ہیں۔ اور کون سی علامتیں بتائی گئی ہیں۔ جن کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب اور آکری رسول (علیہ السلام) کی پہچان ہو سکتی ہے۔ اگر ان میں کوئی بھی منصف مزاج آدمی ہوتا ! تو وہ دونوں چیزوں کو بلاشک وشبہ پہچان لیتے۔ اس کے بعد یہودیوں کے سحر وغیرہ کا ذکر آئیگا۔