Ayahs 2:178–179اسلام کا فوجداری قانون
گزشتہ آیت میں نیکی کی تعریف بیان کی گئی تھی کہ نیکی کیا ہے اور کیا نہیں ہے نیکی والے لوگوں کے متعلق کہا گیا تھا کہ یہی لوگ سچے اور متقی ہیں۔ اب ان آیات میں بعض تقویٰ والی باتوں کا ذکر ہے اور ان میں سے ایک مقتولوں کے معاملہ میں مساوات ہے اور دوسرا مال کا قانون ہی اور پھر اس کے بعد روزہ کا قانون بھی بیان ہوگا۔ ان سب کا تعلق تقویٰ سے ہے آیات زیر درس میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کا فوجداری قانون بیان فرمایا ہے ۔ جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ انسانی جان ایک محترم چیز ہے اور سا کی حفاظت ضروی ہے اور اگر خدانخواستہ کوئی جان تلف ہوجائے تو اس کے لئے قصاص کا قانون بتلایا گیا ہے۔ جس کا اجراء اور پھر اس کی پابندی لازم ہے۔ اگر قصاص نہ ہو سکے ، تو پھر خون بہا کا مسئلہ آئیگا جسے دیت کہا جاتا ہے۔ اس مالی معاوضہ کی ادائیگی بھی ضرور ی ہے۔
اسلام کا قانون بمطابق قانون جاہلیت
زمانہ جاہلیت میں قصاص کے معاملہ میں عدم مساوات اور ناانصافی پائی جاتی تھی۔ ادنیٰ اور اعلیٰ خاندان کے مقتول کا قصاص بھی مختلف تھا۔ اگر کوئی کمزور اور ادنیٰ خاندان کا آدمی اعلیٰ خاندان کے کسی فرد کو قتل کردیتا تو مقتول کے ورثاء دوہرا قصاص طلب کرتے ایک مقتول کے بدلے میں دو افراد قتل کرتے یا عورت کے بدلے میں مرد کا قصاص لیتے یا غلام کے بدلے آزاد کو قتل کرتے حضرت مولانا شیخ الہند نے اس مقام پر بڑی اچھی تقریر لکھی ہے فرماتے ہیں زمانہ جاہلیت میں یہود اور اہل عرب کا دستور تھا کہ عورت کے بدلے میں مرد کو ، غلام کے بدلے میں آزاد کو اور ایک آزاد کے قصاص میں دو کو قتل کیا جاتا ۔ یہ زیادتی اور ظلم تھا۔ جو زبردست زیردستوں پر روا رکھتے تھے۔ جب اسلام آیا تو اس نے اونچ ، نیچ ، شریف ار رذیل ، غلام کے درمیان حائل دیوار کو گرا دیا اور قصاص کے معاملہ میں مساوات کا درس دیا ، اسلام نے عالم اور جاہل ، بچے جوان اور بوڑھے تندرست اور بیمار صحیح الاعضا اور لنگڑے ، اپاہج اور اندھے کے امتیاز کو یکسر ختم کردیا اور سب میں مساوات قائم کردی۔ اسلام نے انہیں بتلایا کہ قصاص کا معنی ہی برابری ہے۔ لہٰذا قصاص کے معاملہ میں کسی انسان سے امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جائے گا ، بلکہ سب کے ساتھ یکساں سلوک ہوگا۔ یہ قانون قانون قصاص کہلاتا ہے۔
ارشاد ہوتا ہے۔ یایھا الذین امنوا کتب علیکم القصاص فی القتلی اے اہل ایمان ! تمہارے اوپر مقتولوں کے معاملہ میں قصاص یعنی برابری کو فرض کیا گیا ہے۔ قصاص کا معنی ہی برابری ہے اور قتلی مقتول کی جمع ہے مطلب یہ کہ ایک آزاد مقتول کے بدلے میں ایک ہی آزاد کو قتل کیا جائے گا۔ ایک کے بدلے میں دو کو تختہ مشق نہیں بنایا جائے گا۔ اسی طرح غلام کے عوض میں غلام کو ، عورت کے بدلے میں عورت کو مرد کے بدلے میں مرد ہی قتل ہوگا۔ قصاص کے معاملہ میں کسی قسم کی عدم مساوات روا نہیں رکھی جائے گی۔ قرآن پاک کے الفاظ میں الحر بالحروالعبد بالعبد والانثی بالانثی فرمایا گیا ہے۔
قتل کی تین اقسام
حدیث اور فقہ کی کتب میں قتل کی تفصیلات موجود ہیں۔ قتل کی تین قسمیں ہیں ، یعنی قتل عمد ، شبہ عمد ، قتل خطا ، قتل عمدیہ ہے کہ کوئی شخص دوسرے کو آلہ قتل کی ساتھ ارادتاً مار ڈالے۔ مثلاً بندوق یا پستول سے فائر کر دے ، چھرا یا نیزہ مار دے یا کوئی اور ایسا آلہ استعمال کرے جو عام طور پر قتل کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ قتل کی یہ واحد صورت ہے جس میں قصاص ہے۔ باقی دو صورتوں یعنی قتل شبہ عمد اور قتل خطا میں خون بہا ہے۔ قصاص نہیں۔ پھر قصاص میں بھی بعض استثناء ہیں۔ مثلاً باپ اپنے بیٹے یا بیٹی کو قتل کر دے تو قصاص نہیں لیا جائے گا۔ بلکہ معاوضہ اور تعزیر ہوگی جس میں سزائے قید بھی ہو سکتی ہے اس طرح اگر ماں اپنے بیٹے بیٹی کو یا پوتے پوتی کو یا نواسے نواسی کو ہلاک کر دے تو بھی قصاص نہیں ہوگا۔ برخلاف اس کے اگر بیٹا باپ کو قتل کر دے تو اسے قصاص میں قتل کیا جائے گا۔
قتل شبہ عمدیہ ہے کہ کوئی شخص قتل توارادتاً کرتا ہے ۔ مگر ایسے آلے کے ساتھ جو عام طور پر قتل کے لئے استعمال نہیں ہوتا۔ مثلاً لاٹھی ، پتھر یا کوئی اور ایسی چیز مادی جس سے قتل واقع ہوگیا۔ تو ایسی صورت میں قاتل سے قصاص نہیں لیا جائے گا ، بلکہ اس کے عوض خون بہا یا دیت ہوگی۔
قتل کی تیسری صورت قتل خطا ہے۔ جس میں ارادہ قتل نہیں ہوتا بلکہ قاتل کی سہو سے کوئی شخص قتل ہوجاتا ہے۔ مثلاً شکاری نے شکار کو نشانہ بنایا مگر وہ کسی آدمی کو لگ گیا اور اس سے قتل واقع ہوگیا۔ یہ قتل خطا ہے اور اس کا مفصل بیان آگے قرآن پاک میں آئے گا۔
سزائے قتل
قتل کی تین اقسام میں سے پہلی قسم یعنی قتل عمد میں قصاص یعنی جان کا بدلہ جان ہے اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو قتل کرے گا ، تو اس کے بدلے میں وہ بھی قتل کیا جائے گا۔ باقی دو صورتوں یعنی قتل شبہ عمد اور قتل خطا میں دیت ہے قصاص نہیں۔ اب قصاص لینے میں بھی بعض پابندیاں ہیں۔ مثال کے طور پر مقتول کے چار وارث ہیں اور قصاص لینا ان کا حق ہے نہ کہ حکومت کا کام تو صرف حق دلانا ہے۔ اس کے لئے اتنظام کرنا ہے۔ اصل حق تو ورثا کا حق ہے۔ جو کہ حکومت دلائیگی فرمایا فقد جعلنا لولیہ سلطناً ہم نے مقتول کے دلی کے لئے حق رکھا ہے برخلاف اس کے انگریزی قانون میں مستغیب حکومت ہوتی ہے۔ اور پھر جرمانہ کی رقم بھی اپنے خزانہ میں داخل کرتی ہے۔ اسلامی قانون میں معاوضہ حاصل کرنے کا حق صرف وارثوں کو پہنچتا ہے۔
اسلامی قانون قتل میں یہ ایک اہم شق ہے کہ قصاص صرف اسی صورت میں لیا جائے گا ، جب کہ تمام وارثان مقتول اس پر رضا مند ہوں۔ چار بیٹیوں میں سے اگر ایک نے بھی قصاص سے دست برداری اختیار کی ، تو قصاص ساقط ہوجائے گا اور قاتل کو دیت ادا کرنا ہوگی اور اگر مقتول کے وارث نہ قصاص لیں اور نہ دیت طلب کریں بلکہ بالکل ہی معاف کردیں تو بات ختم ہوگئی۔ اس کی جزاء انہیں آخرت میں ملے گی اور اگر وارثان قصاص کی بجائے خون بہا لینا چاہیں تو قتل عمد کی صورت میں قاتل کو پورا معاوضہ ادا کرنا ہوگا۔ اس کی برادری پر کوئی تاوان نہیں ہوگا۔ البتہ قتل شبہ عمد اور قتل خطا میں جب دیت ادا کرنا ہوگی ، تو قاتل کی ساری برادری کی ذمہ داری ہوگی۔ اگر کسی سرکاری ملازم سے ایسا فعل سر زد ہوگیا ہے۔ تو اس کے معاوضہ کی ادائیگی اس کے دفتر والے یا محکمہ والے کریں گے۔ اسے دیت علی العاقلہ کہتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ دیت عاقلہ پر ہوتی ہے اور یہ تین سال کے اندر اندر قسطوں میں واجب الادا ہوتی ہے۔ اس میں سارے متعلقین شریک ہوتے ہیں اور ہر شخص اپنے حصے کی قسط ادا کرنیکا پابند ہوتا ہے۔ قاتل کی برادری کو تاوان ڈالنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے متعلقین کی تربیت اس طرح کریں کہ اس طرح کے ناخوشگوار واقعات پیدا ہونے کی نوبت ہی نہ آئے۔
معافی کی صورت
فرمایا قصاص کا قانون تو یہی ہے البتہ فمن عفی لہ من اخیہ شئی جو کوئی اپنے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کردیا گیا۔ مقتول کے ورثاء خیال کریں کہ قاتل بھی ہمارا دینی بھائی ہے۔ اس کی وجہ سے قتل تو ہوگیا ۔ مگر برادرانہ تعلقات ختم نہیں ہونے چاہئیں۔ لہٰذا اگر ورثا میں سے کسی ایک نے بھی معاف کردیا تو مقتول پر قصاص ساقط ہوجائے گا۔ اور اس کے بدلے میں کیا ہوگا فاتباع بالمعروف پھر مالی معاوضہ ہے دستور کے مطابق کہ لائو بھائی معاوضہ ادا کرنا ہی ہے۔ تو لڑ جھگڑ کر نہیں بلکہ نیکی اور بھلائی کے ساتھ دستور کے مطابق ادا کرنا چاہئے اور اس کا پیچھا کرنا چاہئے کہ صحیح طریقے سے ادا ہوجائے۔ اس میں کوئی مزید خرابی پیدا نہ ہونے پائے۔ اس طریقہ سے شریعت نے جانوں کی حفاظت کا قانون مقرر فرمایا ہے۔
فرمایا ذلک تخفیف من ربکم و رحمۃ یعنی اس میں تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے۔ مطلب یہ کہ پہلی امتوں میں قتل کا بدلہ صرف قتل تھا دیت کا قانون موجود نہیں تھا۔ مگر نبی آخر الزمان (علیہ السلام) کی امت کے لئے اللہ تعالیٰ نے خاص مہربانی فرمائی۔ اور قاتل کی سزا میں تخفیف کر کے قصاص کے ساتھ ساتھ دیت کا قانون بھی نازل فرمایا۔ چناچہ شریعت محمدیہ میں تین صورتیں مقرر کی گئی ہیں ، مقتول کے ورثاء قصاص طلب کرلیں یا مالی معاوضہ قبول کرلیں یا بالکل ہی معاف کردیں ، یہ ان کی صوابدید پر منحصر ہے۔ بہرحال یہ تخفیف اور اللہ کی مہربانی ہے۔
دیت
حضور نبی کریم ﷺ نے دیت کی مقدار ایک سو اونٹ مقرر فرمائی ہے اگر اونٹوں کا تبادلہ نہ ہو سکے تو پھر دس ہزار درہم جو چاندی کا سکہ ہے یا ایک ہزار دینار جو سونے کا سکہ ہے ، اس کا بدل ہوگا۔ اس سے زیادہ کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ اگر یقین اجناس یا کپڑے کے لین دین پر رضا مند ہوجائیں تو مقررہ مقدار سے زیادہ بھی لے سکتا ہے۔ یہ خون بہا کا قانن ہے اور اس کے بعد فمن اعتدی بعد ذلک جو کوئی زیادتی کا مرتکب ہو۔ یعنی مالی معاوضہ طے کر کے وہ بھی لے لیا۔ اور پھر بعد میں قتل بھی کردیا ، تو ایسی صورت میں فلہ عذاب الیم تو ایسا کرنے والا درد ناک عذاب کا مستحق ہوگا۔ اس سے مراد تو آخرت کا عذاب ہے۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس قسم کی زیادتی کرنے والے کے لئے کوئی معافی نہیں ہوگی۔ بلکہ اس سے قصاص ہی لیا جائے گا اس دنیا میں بھی اسے سزا ملے گی اور اگلے جہان میں بھی وہ عذاب میں مبتلا ہوگا۔
قصاص میں زندگی ہے
یہاں پر اللہ تعالیٰ نے قصاص کا فلسفہ بھی بیان فرمایا ولکم فی القصاص حیوۃ یا ولی الالباب یعنی اے صاحب عقل و خرد قصاص میں تمہارے لئے زندگی کا راز پوشیدہ ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ ایک آدمی قتل ہوگیا اور جب قصاص میں قاتل کو بھی قتل کردیا گیا تو ایک اور جان ضائع ہوگئی حالانکہ اللہ تعالیٰ اسے زندگی سے تعبیر فرماتے ہیں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ قصاص کی عدم موجدگی میں لوگ بلاخوف و خطر قتل کے مرتکب ہوں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں۔ چھوٹی موٹی سزا بھگت لیں گے ، جان تو بچ ہی جائے گی۔ برخلاف اس کے جب قصاص کا قانون موجود ہوگا اور لوگوں کو علم ہوگا کہ قتل کے بدلے میں قاتل بھی قتل کیا جائے گا ، تو وہ قتل جیسا بڑا جرم کرتے وقت سو دفعہ سوچے گا اور ایسے اقدام سے باز آجائے گا۔ انگریز کے بنائے ہوئے قانون میں یہی خامی ہے۔ ہر روز کتنے قتل ہو رہے ہیں۔ مگر چونکہ قاتل کو قرار واقعی سزا نہیں ملتی ، ایک قتل کے بعد اسے مزید شہ ملتی ہے اور وہ بلا خوف و خطر وارداتیں کرتا چلا جاتا ہے۔ چوری کا بھی یہی حال ہے اگر لوگ کو حد جاری ہونے کا یقین ہو تو پھر چوری کرنا اتنا آسان نہ ہو۔ سعودی عرب میں جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں۔ وجہ یہی ہے کہ واں حدود اللہ جاری ہیں۔ قاتل اور چور بلا دھڑک جرم نہیں کرسکتے جب سے خاندان ابن سعود نے حدود نافذ کیں ہیں ، چوری کی کتنی سزائیں ہوئی ہیں۔ گزشتہ پچاس سال میں ایک سو لوگوں کے ہاتھ بھی نہیں کٹے ہوں گے۔ سزا کی دہشت ہی ایسی ہے کہ سر عام سونا پڑا ہو یا ریال کی بوری رکھی ہو ، کوئی ہاتھ تک نہیں لگائے گا۔ یہ اسلامی قانون پر عملدرآمد کی برکت ہے۔ سای طرح اگر زنا کی حد سنگساری ہوگی اور مجرم کو سر عام سزا دی جائیگی ، وہاں یہ جرم کیسے ہوگا۔ برخلاف اس کے جہاں ایسی عبرتناک سزائیں نہیں ہیں۔ وہاں جرائم میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے لوگو ! تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے۔ چند ایک کو قصاص میں قتل کرنے سے عام لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔
عربی ادب کی کتاب ” حماسہ “ میں صحابہ کرام کے زمانے کا ایک واقعہ ملتا ہے کہ کوئی شخص قتل ہوگیا قاتل با اثر آدمی تھا۔ اس کے بہت سے سفارشی تھے۔ حضرت سعید بن العاص بھی انہیں میں شامل تھے لوگوں نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح مقتول کا بیٹا قصاص کی بجائے دیت لینے پر راضی ہوجائے حتیٰ کہ سات گنا دیت تک کی پیشکش کی گئی۔ مگر بیٹا یہی کہتا رہا کہ میں تو قصاص لئے بغیر نہ چھوڑوں گا۔ ظاہر ہے کہ جب قصاص کا قانون جاری ہوگا تو پھر سا جرم کا ارتکاب کوئی اکا دکا ہی کرے گا۔ اکثر لوگوں کی جان محفوظ ہوجائے گی۔ اسی لئے قصاص کو زندگی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ فرمایا قانون اس لئے جاری کیا گیا ہے۔ لعلکم تتقون تاکہ تم متقی بن جائو اور ایسے گھنائونے جرم کا ارتکاب نہ کرو گویا اس قانون کا اجر حصول تقویٰ کا ایک ذریعہ ہے۔
Ayahs 2:180–182حفاظت جان کا قانون
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ قصاص کا قانون تقویٰ کا ایک جزو ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ قانون جاری فرما کر انسانی جانوں کی حفاظت نے یہ قانون نافذ کردیا کہ اگر عدل و انصاف کا دامن تھامے رکھو گے ، تو جانیں محفوظ ہوجائیں گی اور تم کو صحیح زندگی نصیب ہوگی۔ اس کے ساتھ قانون دیت بھی حفاظت جان ہی کا ایک حصہ ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے انسانی جان کو بڑی اہمیت دی ہے اور اس کی حفاظت کے لئے قوانین نافذ کئے ہیں۔ حضور نبی اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ قتل ناحق اکبر الکبائر میں سے ہے۔ یعنی سات بڑے گناہوں میں سے پہلا نمبر شرک کا ہے اور دوسرا قتل ناحق کا ہے۔ قتل النفس التی حرم اللہ حضرت عثمان کی روایت میں آتا ہے کہ ایک تو جہاد میں جان کا اتلاف ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ صرف تین صورتوں میں جان کو تلف کیا جاسکتا ہے۔ اگر ان تین صورتوں کے علاوہ کسی کی جان لے گا ، تو کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوگا۔ پہلی صور تقصاص کی ہے۔ کسی شخص کو قتل کے بدلے میں قتل کیا جائے ، تو وہ جائز ہوگا۔ دوسرا قتل اس مرد یا عورت کا جائز ہے۔ جسے زنا کے جرم میں سنگسار کیا گیا ہو اور تیسرا قتل اس شخص کا جائزہ ہے۔ جو دین اسلام چھوڑ کر مرتد ہوجائے۔ الغرض گزشتہ درس میں حفاظت جان کا قانون بیان کیا گیا تھا۔
اسلام کا ضابطہ دیوانی
ضابطہ فوجداری کی طرح اسلام نے ضابطہ دیوانی یعنی مال کا قانون بھی عطا کیا ہے جس کی تفصیلات قرآن و سنت میں موجود ہیں اس سے پہلے قصاص یعنی فوجداری قانون کا بیا ن آ چکا ہے۔ دیوانی قانون کی بنیاد کے متعلق قرآن پاک میں جگہ جگہ آیا ہے۔ لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل “ ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے مت کھائو۔ خبردار کسی حرام یا مشکوک ذریعے سے مال مت حاصل کرو۔ اگر ایسا کرو گے تو کمال سے محروم ہو جائو گے اور جب مال جائز طریقے سے حاصل کرلو ، تو اس کو غلط اور ناجائز امور پر خرچ نہ کرو۔ اگر بیجا تصرف کرو گے تو ظالم اور گنہگار بن جائو گے۔ الغرض مالی امور کے متعلق بھی اسلام نے پورا ضابطہ عطا کیا ہے فوجداری قانون میں انسانی جان کے تحفظ کی ضمانت تھی ، اس دیوانی قانون میں مال کے تحفظ کے اصول بتلائے ہیں اور دونوں قوانین کا تعلق تقویٰ سے ہے۔
اسلامی قانون حکمت پر مبنی ہے
امام شاطبی کا تعلق اندلس سے ہے۔ آپ مالکی مسلک کے بہت بڑے امام گزرے ہیں۔ آپ نے ” موافقات “ نامی کتاب بھی لکھی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اسلام کا سارا قانون حکمت پر مبنی ہے۔ اس کی کوئی شق حکمت سے خالی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس قانون میں بڑی بڑی باریکیاں اور حکیمانہ مصلحتیں رکھی ہیں ۔ حضرت شاہ ولی اللہ محمد ث دہلوی فرماتے ہیں کہ قرآن پاک کی ایک ایک آیت میں اس قدر حکمتیں ، مصلحتیں اور باریکیاں موجود ہیں کہ دنیا کے تمام انسان مل کر سوچیں ، تو اس کے برابر نہیں سوچ سکتے۔ آپ ” فیوض الحرمین “ میں لکھتے ہیں کہ بعض اوقات جب میں بعض آیات پر غور کرتا ہوں تو ان کی تہ میں مجھ پر بجز بیکراں جیسے وسیع انکشافات ہوتے ہیں۔ جو عام انسانوں کی سوچ و بچار سے باہر ہوتے ہیں۔
تحفظ نفس
اسلام نے جہاں دیگر تحفظات دیئے ہیں ، وہاں تحفظ نفس کی بھی ضمانت دی ہے۔ نسب بالکل محفوظ ہونا چاہئے۔ اس میں … خلط ملط نہیں ہونا چاہئے۔ برخلاف اس کے غیر اقوام میں تحفظ نسب کی کوئی گارنٹی نہیں ۔ ڈاکٹر اسپنسر گزشتہ صدی کا بہت بڑا فلاسفہ ہوا ہے۔ اب تو یورپ کی آبادی بہت زیادہ ہے۔ اس وقت صرف چالیس پینتالیس لاکھ تھی وہ کہتا ہے کہ یورپی قانون پر لعنت ہو کہ پینتالیس لاکھ میں سے یقین کے ساتھ پینتالیس آدمی بھی حلال کے نہیں نکالے جاسکتے ، یہاں کا قانون ایسا گندہ ہے مگر اسلام نسب کی حفاظت کرتا ہے قرآن و سنت میں اس کے متعلق بہت سے قانون موجود ہیں۔
اسی طرح دین کی حفاظت کا قانون بھی اسلام میں موجود ہے۔ اگلی آیات آ رہی ہیں ، نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ وغیرہ دین کی حفاظت کے ہی قوانین تو ہیں۔ امام شاطبی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عقل کے تحفظ کا قانون بھی عطا کیا۔ شراب جیسی قبیح چیز کو حرام قرار دیکر اسلام نے عقل کی حفاظت کا اتنظام کردیا ہے۔ شراب ایسی نشہ آور چیز سے عقل و خرد کیسے قائم رہ سکتی ہے۔
الغرض ! اسلام نے تو بہترین حکیمانہ قوانین عطا کئے ہیں۔ مگر یہ خود ہماری نالائقی ہے کہ ہم ان سے مستفید نہیں ہونا چاہتے۔ ان سنہری اصولوں کو چھوڑ کر ہم غیروں کے گندے قوانین تلاش کر رہے ہیں۔ کبھی امریکہ کی طرف جاتے ہیں ، کبھی یورپ کی طرف دیکھتے ہیں ، کبھی ایشیا کا رخ کرتے ہیں کہ کہیں سے اچھا دستور مل جائے کوئی اچھا فوجی نظام حاصل ہوجائے یا کوئی اقتصادی نظام ہی میسر آجائے۔ مگر وہاں پر لعنت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ قرآن و سنت جیسے اعلیٰ وارفع قوانین کہیں سے نہیں ملیں گے۔
مولانا عبید اللہ سندھی فرماتے ہیں کہ اس دور میں اسلامی تحریک کے خلاف سب سے بڑھ کر روسی ذہن کام کر رہا ہے اس وقت اسلام کی مخالفت میں سب سے زیادہ اشتراکی نظام کار فرما ہے۔ مگر ایک وقت آئے گا جب یہ نظام بھی مجبور ہو کر قرآنی قوانین کے ساتھ ہتھیا رڈال دیگا۔ ان کے پاس محض دعوے ہے ، عملی طور پر کچھ نہیں اس لئے بالآخر انہیں اسلام کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑیں گے۔
تحفظ مال
اسلام نے مال کا مکمل تحفظ عطا کیا ہے۔ اگر کسی جگہ کوئی خرابی موجود ہے تو اسے درست کرنے کا قانون بھی موجود ہے۔ اسلام نے مال کو ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ البتہ اسے احسن طریقے سے خرچ کرنے کے اصول بتلائے ہیں اس کے متعلق مختلف قوانین گزر چکے ہیں۔ ” والی المال علی حبہ “ یعنی مال کی محبت کے باوجود اسے خرچ کرو زکواۃ کا مکمل قانون موجود ہے۔ اس کے علاوہ بھی ” ومما رزقنھم ینفقون “ ہمارے دیئے ہوئے مال سے خرچ کرو۔ اس سلسلے میں مکاتب غلاموں کی آزادی کا قانون دیا ہے۔ سورة نور میں آتا ہے ” واتوھم من مال اللہ الذی اتاکم “ یہ مال اللہ کا دیا ہا ہے اس نے ایسے ذرائع پیدا کردیئے ہیں۔ کہ تمہیں مال پہنچتا رہتا ہے۔ محنت کوئی کرتا ہے۔ مگر تمہیں وراثت میں سے بیٹھے بٹھائے مل جاتا ہے۔ اسے اللہ کے راستے میں خرچ کرو۔ ہر انسان فطری طور پر آزاد ہے اسے غلامی کے پھندے سے چھڑائو ۔ ان پر اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے خرچ کرو۔ یہ نہ سمجھو کہ اس مال کے حقیقی مالک تم ہو۔ اصلی مالک تو اللہ تعالیٰ ہے جس نے تم پر مہربانی کی اور ایسے وسائل تمہارے سپرد کئے جن کے ذریعے مال تم تک پہنچتا ہے۔ پھر اس میں تصرف بھی وہ کرو جس کی
اجازت اللہ تعالیٰ نے دی ہے ، اگر اس کی مرضی کے خلاف خرچ کرو گے ، تو جہنم رسید ہو گے۔
قانون وصیت
ان آیات میں وصیت کا قانون بیا ن کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ۔ کتب علیکم اذا حضر احد کم الموت ان ترک خیر الوصیۃ للوالدین ولا قربین بالمعروف یعنی جب کسی کی موت کا وقت قریب ہو اور وہ مال چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہو رہا ہے ۔ تو اس پر لازم ہے کہ وہ والدین اور قربت داروں کے حق میں وصیت کر جائے اور یہ وصیت ہو بھی بالمعروف یعنی دستور کے موافق ، فرمایا ایسا کرنا حقا ً علی المتقین یعنی متقیوں کے لیے ضروری ہے۔ وصیت کا مکمل قانون قرآن پاک کے مختلف مقامات پر موجود ہے۔ یہ آیات اس قانون کی ابتدائی آیات ہیں ، جنہیں سورة نساء کی آیات نے منسوخ کردیا ، جب تک اللہ تعالیٰ نے ورثاء کے حصے مقرر نہیں کیے تھے ، آیات زیر درس کے ذریعے وارثوں کے لیے وصیت کا حکم دیا گیا تھا تا کہ انہیں بھی میت کے ترکہ میں سے حصہ مل سکے۔ مگر سورة نساء کی آیات نازل ہونے سے ورثاء کے حصے مقرر ہوگئے اس لیے ان کے لیے وصیت کا قانون منسوخ ہوگیا ۔ اب ورثاء کے لیے وصیت نہیں ہے ، البتہ غیر ورثاء کے لیے ایک تہائی مال تک وصیت کرسکتا ہے۔ حضور ﷺ نے ورثا یعنی ماں باپ ، بیوی ، خاوند ، اولاد وغیرہ کے متعلق فرمایا۔ ان اللہ اعطی کل ذی حق حقہ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے ۔ اب لا وصیۃ لوارث کسی وارث کے لیے وصیت روا نہیں ہے ، انہیں وراثت سے مقرر حصہ خود بخود مل جائے گا ۔ بعض علمائے کرام فرماتے ہیں کہ ورثاء کے لیے وصیت والی یہ آیت منسوخ نہیں ہے ، بلکہ بعض اوقات ایسے حالات پیدا ہوجاتے ہیں کہ والدین کے لیے وصیت کرنا بھی ضروی ہوجاتا ہے۔
مولانا عبد اللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ خود ان کے ساتھ ایسا معاملہ پیش آیا کہ انہیں ماں کے حق میں وصیت کرنے کا خیال پیدا ہوا اور انہوں نے محسوس کیا کہ واقعی یہ آیت منسوخ نہیں ہے بلکہ بعض اوقات ورثاء کے لیے بھی وصیت ضروری ہوجاتی ہے آپ خود نو مسلم تھے۔ آپ کی والدہ آخر تک اپنے مذہب پر قائم رہی ۔ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں بیمار ہوگیا ، مجھے خیال آیا کہ موت کی صورت میں میری کو میرے ترکہ سے کوئی حصہ نہیں ملے گا ، کیونکہ وہ غیر مسلمہ تھی اور مومن اور کافر کے درمیان وراثت نہیں چلتی ، تو اس وقت میری سمجھ میں یہ بات آئی کہ بات کے حق میں وصیت کر دوں بہر حال یہ اسی صورت میں ہوتا جب کہ ماں غیر مسلمہ ہونے کی وجہ سے وراثت کا حق دار نہ تھی ، کیونکہ لا یرث المسلم المکافر ولا الکافر المسلم نہ کافر مسلمان کا وارث ہے اور نہ مسلمان کا وارث ہے ، ایسی صورت میں وصیت ہی کے ذریعے ترکہ تقسیم ہو سکتا ہے۔
انبیاء کی وصیت
قرآن پاک میں وصیت کا قانون کئی جگہ بیان ہوا ہے ، جہاں بھی ورثاء کے حصص کا بیا ن آتا ہے۔ تو ارشاد ہوتا ہے کہ فلاں فلاں رشتہ دار کے لیے اتنا حصہ مقرر کیا گیا ہے۔ مگر من بعد وصیۃ توصو بھا او دین یہ ترکہ وصیت شدہ مال اور قرضہ نکال کر باقی تقسیم ہوگا ، منجملہ وصیت کی دیگر اقسام کے انبیاء (علیہم السلام) کی بھی وصیت ہوتی ہے ، مگر وہ مال کے متعلق نہیں ہوتی ۔ پوچھے والے صحابہ کرام ؓ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا حضور ﷺ نے کوئی وصیت کی ہے ، صحابی جواب دیتے ہیں کہ آپ نے مال سے متعلق کوئی وصیت نہیں فرمائی کیونکہ آپ کا ارشاد ہے ما ترکنا صدقۃ یعنی نبی جو چیز چھوڑ جاتے ہیں ۔ اس کے متعلق وصیت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ان کا ترکہ صدقہ ہوتا ہے ، اسے ورثاء میں تقسیم نہیں کیا جاتا۔ فرمایا البتہ نبی (علیہ السلام) نے وصیت ضرو ر فرمائی ہے اور وہ قرآن پاک پر عمل کرنے کی غلاموں کے متعلق حسن سلوک کی وصیت کی ہے ، نماز پر مداومت اور شرک سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے ، آپ نے ارشاد فرمایا لعن اللہ الیھود والنصری یہودو نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو ۔ انہوں نے انبیاء کی قبور کو سجدہ گاہ بنا لیا آپ ﷺ نے امت کو تعلیم دی کہ تم میری قبر کے ساتھ وہ سلوک نہ کرنا جو یہود و نصاری نے اپنے انبیاء کی قبور کے ساتھ کیا ، مگر آج کل قبروں کے ساتھ جو کچھ معاملہ ہو رہا ہے ، وہ ہمارے سامنے ہے۔ بیرون ملک سے آنے والا سربراہ مملکت سب سے پہلے جناح صاحب کی قبر پر چادر چڑھاتا ہے ، حضرت علی ہجویری (رح) کی قبر کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے ، کوئی ریشمی چادر چڑھا رہا ہے ، کوئی پھولوں کی چادر لے کر آیا ہے ، کوئی پکی پکائی دیگ پیش کر رہا ہے ، کوئی بکرا ، چھترا نذر کر رہا ہے ، کوئی سجدہ کر رہا ہے ، کوئی حاجت روائی کا طالب ہے ، کوئی مشکل کشائی کے لیے دعائیں کر رہا ہے ، یہ سب شرکیہ امور ہیں ۔ حضور ﷺ نے امت کو ڈرایا یحذر مما صنعوا ایسے کام مت کرنا ، مگر ہم الٹے چل رہے ہیں ۔
وصیت کی اقسام
وصیت کے کئی ایک قسمیں ہیں ، منجملہ ان کے مباح یا مستحب وصیت کا ذکر حدیث میں آتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ روایت کرتے ہیں ۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس کے متعلق وہ وصیت کرنا چاہتا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ دو راتیں بھی نہ گزارے مگر وصیت اس کے سرہانے کے نیچے لکھی ہوئی موجود ہونی چاہئے۔ حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جب سے میں نے حضور ﷺ کی زبان مبارک سے یہ بات سنی ہے۔ اس وقت سے میں نے وصیت لکھ کر سرہانے کے نیچے رکھ لی ہے۔ وصیت کی یہ مستحب قسم ہے۔ بعض اوقات وصیت فرض ہوجاتی ہے ۔ کسی شخص کو یقین ہے کہ اسکی زندگی کے آخری ایام آپہنچے ہیں اور اب اس کے بچنے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔ نیز اس کے ذمے ایک دو سال کی زکوٰۃ واجب الادا ہے تو ایسی صورت میں اس کے لیے وصیت کرنا فرض ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے مال سے زکوٰۃ کی ادائیگی کی وصیت کر جائے ، وگرنہ عدم ادائیگی کی صورت میں فرض کا تارک ہو کر گناہ گاروں کی صف میں کھڑا ہوگا ، اسی طرح کسی کی امامنت موجود ہے۔ یا کسی کا قرض ادا کرا ہے تو اس کے لیے لازم ہے کہ مرنے سے پہلے وصیت کر جائے کہ فلاں فلاں چیز کی ادائیگی کردینا اگر ایسا نہیں کرے گا تو اس کا مال تو ورثاء ہضم کر جائیں گے اور وہ خود دوسروں کا مقروض رہ جائے گا ۔ اسی لیے اسلام نے مرنے والے کے متعلق یہ قاون وضع کردیا کہ سب سے پہلے مرنے والے کے مال میں سے اس کے کفن دفن کا انتظام کیا جائے۔ یہ بنیادی ضروریات میں داخل ہے اس کے بعد اگر مرنے والے کے ذمہ قرضہ ہے۔ تو وہ ادا کیا جائے ، پھر اگر کوئی وصیت ہے تو کل مال کے ایک تہائی تک اسے پورا کیا جائے۔ اس کے بعد بقیہ مال ورثاء میں تقسیم کردیا جائے مگر کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ لوگ ان ضروری امور کی طرف تو توجہ نہیں کرتے ، اس کی بجائے مردے کے قل ، تیجہ ، ساتواں ، دسواں اور چالیسیواں کے چکر میں پڑ کر مرنے والے کا مال ضائع کرتے ہیں ، جو کہ بالکل ناجائز ہے اور اگر مرنے والے کے مال کی بجائے لواحقین اپنے مال سے خرچ کرتے ہیں ، تو بھی محض رسومات کی خاطر ایسا کرنا فضو ہوگا کیونکہ شریعت میں اس کا کوئی ثبوت نہیں اور اگر خدانخواستہ ایسی رسومات پر یتیموں کا مال صرف ہو رہا ہے تو یہ قطعا ً حرام ہے۔ کھانے والے حرام کھا رہے ہیں اس سے بچنا چاہئے اور جن چیزوں کا شریعت نے حکم دیا ہے انہیں پورا کرنا چاہئے۔ وصیت کی ایک قسم ناجائز بھی ہے ، اگر مرنے والا کسی ناجائز کام کی وصیت کرتا ہے تو ایسی وصیت ا جائز ہی کہلائے گی مثلاً کوئی شخص وصیت کر جائے کہ میرے مال میں فلاں قبر پر چادر چڑھا دینا یا فلاں مزار پر بکرا چڑھا دینا وغیرہ وغیرہ ناجائز وصیت ہوگی ، اور ایسی وصیت پر عمل کرنا روا نہیں ہے۔ بہر حال حضور ﷺ نے فرمایا کہ کار خیر کے لیے ایک تہائی مال تک وصیت کرنے کی اجازت ہے ، تا کہ مرنے والے کو آخرت میں اس کا حصہ ملتا رہے مثلاً مسجد تعمیر کرا دے ، مدرسہ بنوا دے ، غیر وارث ، رشتہ داروں اور مستحقین میں تقسیم کر نیکی وصیت کر جائے تو یہ جائز اور درست ہے ، اور کوئی شخص ایک تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کر جائے تو یہ ورثاء کی اجازت پر موقوف ہوگا اگر و ہ سب راضی ہوجائیں تو وصیت پر عمل ہوگا ورنہ صرف ایک تہائی پر عمل کرنا ہوگا اگرچہ اس کے لیے بھی والثلث کثیر کے الفاظ آتے ہیں مگر اس حد تک جائز ہے ، حضرت سعد ؓ نے عرض کیا تھا کہ میرے پاس بہت سا مال ہے اور حق دار صرف ایک ہی بیٹی ہے۔ حضور ! اگر اجازت دیں تو میں سارا مال صدقہ کر جائوں۔ آپ نے فرمایا نہیں ، پھر عرض کیا آدھا مال دے دوں ، فرمایا نہیں انہوں نے تیسری دفعہ پوچھا کیا دو تہائی مال کی وصیت کر دوں ، فرمایا نہیں انہوں نے تیسری دفعہ پوچھا کیا دو تہائی مال کی وصیت کر دوں آپ نے پھر بھی اجازت نہ دی جب آپ نے ایک تہائی مال کی اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا کہ اگرچہ یہ بھی زیادہ ہے ، مگر اس کی اجازت ہے ، مقصد یہ کہ وارثوں کو ترکہ سے زیادہ سے زیادہ حصہ ملنا چاہئے۔
وصیت میں تبدیلی گناہ ہے
فرمایا فمن بدلہ بعد ما سمعہ جس شخص نے اس وصیت کو تبدیل کیا اسے سننے کے لیے فانما اثمہ علی الذین یبدلونہ تو اس کا گناہ ان لوگوں پر ہے ، جو اس کو تبدیل کرتے ہیں ۔ مطلب یہ کہ اگر کوئی شخصیت وصیت کر کے فوت ہوجائے اور اس وصیت کو سننے والے یا جاننے والے اس پر عمل درآمد کرنے کی بجائے اسے تبدیل کرنے کی کوشش کریں ، تو اس کا وبال وصیت میں تحریف کرنے والوں پر ہوگا ، کیونکہ وصیت کرنے والا تو اپنا فرض ادا کر گیا ، اب اس پر عملدرآمد کے وقت کمی بیشی کرنے والے گناہ گار ہوں گے۔ ان اللہ سمیع علیم بیشک اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ وصیت میں تبدیلی کی کئی ایک صورتیں ہو سکتی ہیں ، مثلاً مرنے والا کسی ایسے شخص کو کوئی حصہ دے گیا ، جسے وارث پسند نہیں کرتے یا کسی کے کم حصے کو زیادہ یا زیادہ کو کم کرنا چاہتے ہیں اور اس طرح اپنی طرف سے ردو بدل کرتے ہیں ۔ تو وہ لوگ گناہ گارہوں گے ، کیونکہ جائز وصیت پر عمل نہیں کیا ، وارثان کے حصص کی تقسیم وصیت اور قرضہ کی ادائیگی کے بعد ہوتی ہے۔ جیسا کہ قرآن پاک نے بار بار تصریح کی ہے ۔ اسی طرح اگر کوئی وصیت کرنے والا وصیت صحیح طریقے سے نہیں کرتا ۔ کسی کو حق سے زیادہ دے دیتا ہے اور کسی کو پورا حق بھی نہیں دیتا اور اس طرح پسماندگان میں تنازعہ پیدا ہوجاتا ہے ، تو اس نازک صورت حال کو دیکھتے ہوئے۔ فمن خاف من موص جنفا ً اواثما ً جو شخص ڈر گیا ۔ وصیت کرنے والے کے ایک طرف جھک جانے سے یا کسی گناہ کے ارتکاب سے فاصلح بینھم پس اس شخص نے فریقین میں صلح کرا دی فلا اثم علیہ تو ایسے شخص پر کوئی گناہ نہیں ۔ بعض اوقات کوئی بیٹا نافرمان ہوتا ہے اور وصیت کرنے والا اسے جائیداد سے محروم کرتا ہے ، تو یہ بات غلط ہے اور کبیرہ گناہ ہے ۔ وارث بننا ایک غیر اختیاری چیز ہے اور جو حصہ اللہ نے ورثاء کو دیا ہے ، وہ نیکی بدی یا فرمانبرداری اور نافرمانی پر موقوف نہیں ہے۔ اس کا اچھا یا برا صلہ کسی اور طریقے سے دیا جاسکتا ہے۔ مگر وارثت سے محروم نہیں کیا جاسکتا ، کیونکہ یہ حق اسے اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے ، ایسی ہی صورت میں فرمایا کہ اگر کوئی شخص درمیان میں آ کر صلح کرا دے ، تو یہ اچھی بات ہے اس سے دونوں کو فائدہ ہوگا ، وارثان کو ان کا جائز حصہ مل جائیگا اور وصیت کرنے والا بھی سرخرو ہوگا ۔ ایسی صورت میں اگر کوئی چھوٹی موٹی لغزش ہوگی ہے تو اللہ تعالیٰ معاف فرمائے گا ، کیونکہ ان اللہ غفور رحیم بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔
Ayahs 2:183–184گزشتہ سے پیوست
اس سے پیشتر اللہ تعالیٰ نے نفس انسانی کی حفاظت کا قانون بیان فرمایا ، پھر مال کی حفاظت کا قانون بتلایا اور فرمایا کہ بیجا تصرف سے منع فرمایا ، حق تلفی کو ناجائز قرار دیا اور بتایا کہ یہ بات تقویٰ کے خلاف ہے۔ ایمانیات کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسلام کا قانون فوجداری بیان فرمایا اور قصاص اور دیت کا تذکرہ کیا اور فرمایا یہ اصول بیان کرنے کا مقصد ہے کہ تم اس پر عمل پیرا ہو کر تقویٰ حاصل کرو۔
فرضیت روزہ
آیات زیر درس میں ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن روزہ کا بیان ہے۔ جس طرح اس سے پہلے اصولوں کو تقویٰ کے حصول کا ذریعہ قرار دیا گیا ۔ اسی طرح روزہ رکھنے کی غرض وغایت بھی تحصیل تقویٰ ہی بیان کی گئی ہے۔ ارشاد ربانی ہے یا ایھا الذین امنوا اے اہل ایمان کتب علیکم الصیام تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں۔ کما کتب علی الذین من قبلکم جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے اور مقصد یہی ہے لعلکم تتقون تا کہ تم پرہیز گاری اختیار کرلو۔ کتب کا لفظ فرضیت کے لیے آتا ہے ، جیسے اس سے پہلے قصاص کے متعلق آیا تھا کتب علیکم القصاص یعنی تم پر قصاص فرض کیا گیا اسی طرح وصیت کے متعلق آ چکا ہے کتب علیکم اذا حضر احد کم الموت ان ترک خیر ا الوصیۃ اگر ما چھوڑا ہے ، تو تم پر وصیت کرنا لازم ہے ، اسی طرح یہاں پر روزوں کے متعلق کتب علیکم الصیام یعنی تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں ۔
روزہ کا مفہوم
روزہ کے لفظی معنی رک جانے کے ہیں ، عربی زبان میں اس کے لیے امساک کا لفظ بھی آتا ہے ، تا ہم لفظ بھی رک جانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے مثال کے طور پر عرب کہتے ہیں ۔
خیل صیام و خیل غیر صائمۃ
تحت العجاج وخیل تعلک اللجما
کچھ گھوڑے رکے ہوئے ہیں یعنی خاموش ہیں کچھ حرکت کر رہے ہیں اور کچھ گرد و غبار کے نیچے لگام چپا رہے ہیں ۔ شریعت میں روزہ کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے۔ الامساک عن الاکل والشرب والجماع من طلوع الفجر الی غروب الشمس طلوح فجر سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور خواہشات نفسانی سے اپنے آپ کو روکے رکھنے کا نام روزہ ہے۔ روزہ نہار شرعی کے اندر ہوتا ہے اور شرعی دن سے مراد پوپھوٹنے لے کر سورج غروب ہونے تک کا وقت ہے۔ اس دوران کھانے پینے
1 ؎۔ احکام القرآن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور نفسانی خواہشات سے باز رہنا اس نیت کے ساتھ کہ میرا روزہ ہے ، یہی صوم ہے اور اسلام کے ارکان میں سے تیسرا رکن ہے ۔ ارکان اسلام میں توحید و رسالت پر عقیدہ کے بعد نماز ، پھر زکوٰۃ اور پھر روزہ کا نمبر ہے۔ چوتھا نمبر حج کا ہے اسی ترتیب سے پانچواں رکن جہاد ہے اور اس کا ذکر بھی بعد میں آ رہا ہے ان تمام ارکان کا تذکرہ سورة بقرہ میں اسی ترتیب سے آ رہا ہے حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے علیکم بالصوم فانہ لا عدل لہ روزہ کو لازم پکڑو کیونکہ روزی جیسی کوئی اور عبادت نہیں۔
سابقہ امتوں کے روزے
الغرض ! فرمایا اے ایمان والو ! یہ روزے صرف تم پر ہی نہیں فرض کیے گئے بلکہ تم سے پہلے گزرنے والے لوگوں پر بھی اسی طرح فرض تھے ، البتہ ان روزوں کی مقدار اور تعداد مختلف امتوں کے لیے مختلف رہی ہے ، چناچہ مشہور ہے کہ حضر ت آدم (علیہ السلام) ایام بیض یعنی ہر ماہ کی تیرہ چودہ پندرہ تاریخ کا روزہ رکھتے تھے ، اور یہ روزے امت محمدیہ کے لیے مستحب کا درجہ رکھتے ہیں حالانکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے لیے فرض تھے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی امت کے لوگ بڑے سخت مزاج اور اکھڑ تھے ان میں بہیمیت کا عنصر زیادہ مقدار میں پایا جاتا تھا ، اسے کم کرنے کے لیے اس امت کو سارا سال روزے رکھنے کا حکم تھا حضر ہ دائود (علیہ السلام) ایک دن روزہ رکھتے تھے اور دوسرے دن افطار کرتے تھے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دو دن روزہ رکھتے تھے اور تیسرے دن افطار کرتے تھے اس امت آخر الزمان کے لیے اللہ تعالیٰ نے سال بھر میں ایک ماہ کے روزہ فرض کیے ، ان کے متعلق فرمایا ایاما ً معدودت یہ گنتی کے چند دن ہیں ۔ یعنی تین سو ساٹھ دن میں سے انتیس یا تیس دن کے روزے فرض قراردیئے گئے ہیں ۔
روزہ باطنی عبادت ہے
امام طحاوی (رح) اپنی کتاب مشکل الاثار میں فرماتے ہیں کہ ہر عبادت میں ریا کا امکان ہے ، صرف روزہ ہی ایک ایسی عبادت ہے جس میں ریا کاری کا کوئی مسلہ نہیں ، یہ باطنی عبادت ہے اور اس کا تعلق ایک طرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے اور دوسری طرف بندہ کے ساتھ نماز ، زکوٰۃ ، حج وغیر ایسی عبادات ہیں ۔ جنہیں دوسرے لوگ دیکھ سکتے ہیں ، انہیں محسوس کرسکتے ہیں اور زکوٰۃ سے مستفید بھی ہو سکتے ہیں ، مگر روزہ کے ساتھ ایسا معاملہ پیش نہیں آسکتا ، اس کا تعلق صرف روزہ دار کی ذات سے ہوتا ہے ۔ دوسرا شخص نہ اسے دیکھ سکتا ہے اور نہ محسوس کرسکتا ہے ، اگر کوئی شخص عام لوگوں کے سامنے تو نہیں کھاتا پیتا مگر در پردہ ایسا کرلیتا ہے ، تو اس کا روزہ کہاں ہوگا ؟ وہ لاکھ اعلان کرتا پھرے کہ میں روزہ دار ہوں مگر اس کی حقیقت کو وہ خود جاتا ہے۔ یا رب العزت جانتا ہے کہ وہ روزے دار ہے یا نہیں ، اس کا تعلق براہ راست اللہ تعالیٰ سے ہے ، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہر عبادت کا بدلہ دیا جائے گا ، مگر روزہ ایک ایسی عبادت ہے ، جسکی جزا میں خاص طور پر خود عطا کروں گا ، حدیث قدسی کے الفاظ ہیں ۔ الصوم لی وانااجزی بہ روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اسکی جزا دوں گا ۔
روزہ کی جسمانی فوائد
روزہ کے روحانی فوائد کے ساتھ ساتھ اس کے جسمانی فوائد بھی ہیں ۔ صوموا تصحوا روزہ رکھو تا کہ تمہیں صحت نصیب ہو۔ یورپ کے بہت سے نامور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اسلام نے فاقہ کا جو طریقہ روزہ کی صورت میں مقرر کیا ہے ، اس سے بہتر حفظان صحت کا کوئی اصول نہیں مختلف بیماریوں کے حملہ کی صورت میں بھی روزہ صحت مندی کا سبب بنتا ہے ، مثلاً اگر کوئی شخص بلغمی مادہ کی زیادتی کا مریض ہو تو روزہ رکھنے سے بالکل تندرست ہوجائے گا۔ فاقہ کرنے سے بلغمی اور کئی دوسری رطوبتیں خشک ہوجاتی ہیں اور آدمی صحت یاب ہوجاتا ہے اسی لیے فرمایا کہ روزہ رکھو ، صحت نصیب ہوگی اور سفر کرو غنیمت حاصل ہوگی ۔ بسا اوقات اقامت میں آدمی کامیاب نہیں ہوتا مگر سفر کرنے سے اللہ تعالیٰ ایسے وسائل پیدا کردیتا ہے ، جو اس کی کامیابی کا سبب بن جاتے ہیں ، اور انسان تنگی سے نکل کر فراخی میں داخل ہوجاتا ہے۔
روزہ اور قانون کی پابندی
فرضیت روزہ کے لیے خطاب اہل ایمان سے ہوا ہے ۔ یایھا الذین امنوا گویا روزہ ایمان کا تقاضا بھی ہے جو شخص ایماندار ہونے کا دعویدر ہے ، اسے روزے کی فرضیت پر ایمان لانا ہوگا ، ورنہ وہ اہل ایمان ہونے کا تقاضا پورا نہیں کرتا ۔ علمائے کرام فرماتے ہیں روزہ کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ یہ قانون کی پابندی سکھاتا ہے روزہ کے ذریعے انسان ایک مقررہ وقت کے لیے حلال اکل و شراب سے بھی رک جاتا ہے ، مقصد اس کا یہ ہے کہ انسان قانون کا پابند ہوجائے ، جب وہ قانون کی پابندی کے ذریعے حلال چیزوں سے رک سکتا ہے ، تو وہ حرام چیزوں سے بھی رک جائے گا ، کھانے پینے اور نفسانی خواہش کی تکمیل سے انسان کا نفس مزید پھلتا پھولتا ہے۔ اسے کمزور کرنے کے لیے اسلام نے روزہ کا قانون نافذ کیا ، تا کہ نفس انسانی کو فاقہ کے ذریعے کمزور کیا جاسکے۔ لعلکم تتقون کا یہی مطلب ہے کہ انسان میں تقویٰ جیسی اچھی خصلت پیدا ہوجائے ۔ حضرت مولانا شیخ الہند (رح) فرماتے ہیں کہ رونے کے ذریعے جب نفس کو مرغوبات سے روکنے کی عادت پڑ جائیگی ، تو پھر اسے شرعا ً حرام چیزوں سے روکنا آسان ہوجائے گا ، جب روزہ کی وجہ سے قوت نفس اور شہوت میں ضعیف آئیگا ، تو تم متقی بن جائو گے ، روزہ میں یہ بہت بڑی حکمت پوشیدہ ہے کہ اس سے سرکش نفس کی اصلاح ہوتی ہے اور شریعت کے احکام پر پابندی ہونے لگتی ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں تو چالیس روزے رکھنے کا ذکر آتا ہے اور نصاری پر ایک ماہ کے روزے فرض تھے ، مگر انہوں نے اس حکم میں تبدیلی کرلی ۔ طبرانی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ عیسائیوں کا کوئی بادشاہ بیمار ہوگیا ، گرمی کے روزے تھے ، اس نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے تندرستی دی ، تو ہم تیس کی بجائے چالیس روزے رکھیں گے ، اسی طرح ایک اور بادشاہ بیمارہ وا تو اس نے کہا کہ تندرست ہو کر مزید سات روزے رکھوں گا ۔ اس طرح انہوں نے روزوں کی تعداد سینتالیس تک پہنچا دی ، اس کے بعد عیسائی علماء کا اجتماع ہوا اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ سینتالیس کی بجائے پورے پچاس روزے مقرر کردینے چاہئیں ، البتہ موسم گرما کی بجائے موسم بہار میں رکھ لیا کریں گے ، تو اس طرح انہوں نے اپنی مرضی سے روزوں کی تعداد موسم میں تغیر و تبدل کردیا۔ مولاناشیخ الہند (رح) فرماتے ہیں کہ لعلکم تتقون میں یہ اشارہ بھی پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقررہ کردہ روزوں میں تبدیلی نہ کرنا بلکہ ہر سال ماہ رمضان المبارک کے روزے رکھنا خواہ وہ گرمی میں آئیں یا سردی میں ، بہار میں آئیں یا خزاں میں چناچہ قمری سال کے مطابق رمضا ن المبارک مختلف موسموں میں آتا رہتا ہے۔ متقی بننے کا مقصد یہ ہے کہ انسانی نفس اس کے تابع ہوجائے اور احکام شریعت پر عمل آسان ہوجائے ۔ فرمایا ایاما ً معدودت یہ گنتی کے دن ہیں یعنی پورے سال میں انتیس یا تیس دن کے روزے ہیں ، ان کو احکام الٰہی جانتے ہوئے خوشی خوشی سے پورا کرو اور اپنے اندر تقویٰ جیسی عظیم خصلت پیدا کرو۔
مریض اور مسافر کا روزہ
فرمایا ماہ رمضان المبارک میں روزے رکھنے کا حکم تندرست اور مقیم کے لیے ہے ، جیسے رزہ رکھنے میں غیر معمولی مشقت نہ برداشت کرنی پڑے ، البتہ ایسے لوگوں کے لیے روزے موخر بھی کیے جاسکتے ہیں ۔ جو مقررہ ماہ میں روزہ رکھنے سے بیمار ہو ۔ او علی سفر یا مسافر ہو فعدۃ من ایام اخر تو یہ گنتی دوسرے دنوں میں پوری کرے ، مثال کے طور پر کسی شخص کو بخارآتا ہے ظاہ ہے کہ اس حالت میں خاص طور پر گرمی کے موسم میں و ہ زیادہ دیر تک بھوک پیاس برداشت نہیں کرسکتا اگر روزہ رکھنے کی کوشش کرے گا تو بیماری میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے تو ایسی صورت میں اسے اجازت ہے کہ روزہ نہ رکھے ، بلکہ رمضان کے بعد چھوٹ جانے والے روزوں کے بدلے روزے رکھ لے۔ اسی طرح مسافر بھی روزے موخر کر نیکی اجازت ہے ، سفر آرام و سکون کا ہو یا مشقت طلب ، ہوائی جہاز کا ہو یا بحری جہاز کا ، ریل گاڑی کا ہو یا بس کا ، کسی جانور کی سواری ہو یا پیدل سفرکررہا ہے ، اگر اس کا جی نہیں چاہتا تو اسے اجازت ہے کہ روزہ قضا کرے ۔ اس پر کوئی خرج نہیں ، رمضان کے بعد روزے رکھ سکتا ہے تا ہم یہ گنتی پوری کرنے پڑے گی ۔ اس سے بچ نہیں سکتا یہ ایک قسم کا نصاب ہے جسے ہر حالت میں مکمل کرنا ہوگا ، اس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی طالب علم کسی امتحان میں شریک ہوتا ہے۔ مگر کسی ایک یا دو پرچے میں ناکام ہوجاتا ہے یا سرے سے وہ پرچے دیتا ہی نہیں ، تو اسے وہ نصاب سپلیمنٹری امتحان کی صورت میں پورا کرنا ہوتا ہے ، اس کے بغیر اسے ڈگری نہیں مل سکتی ، اسی طرح جب تک چھوڑے ہوئے روزے پورے ہیں کرے گا اس فرض سے عہد بر آ نہیں ہو سکتا ، اسے تقویٰ کی سند نہیں مل سکتی۔
روزہ کے بدلے فدیہ
فرمایا و علی الذین یطیقونہ فدیۃ طعام مسکین اور جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہیں۔ ان پر ایک مسکین کا کھانا فدیہ ہے۔ مفسرین کرام نے اس حصہ آیت کی مختلف تفاسیر کی ہیں ۔ امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حکم روزہ کا حکم آنے کے بعد ابتدائی ایک دو سال کے لیے تھا جب کہ لوگ اس مشقت سے ابھی مانوس نہیں ہوئے تھے۔ اس زمانے میں اجازت تھی کہ جو کوئی روزہ نہ رکھے اور وہ اس قابل ہو کہ ایک روزہ کے بدلے ایک مسکین کو دن رات کا کھانا کھلائے تو وہ ایسا کرسکتا تھا جس سے اس کا روزہ ادا ہوجاتا تھا ، اس کے بعد جب اگلی آیت نازل ہوئی تو مریض اور مسافر کے سوا روزہ رکھنا لازم قرار دے دیا گیا اور اس کے ساتھ اسکے فوائد بھی سمجھا دیئے گئے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں ۔ اس آیت یطیقونہ سے پہلے لفظ لا محذوف ہے اور مراد یہ ہے کہ فدیہ ادا کرنے کی رعایت ان لوگوں کے لیے ہے۔ لا یطیقونہ جو رزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ بعض فرماتے ہیں کہ اس ضمن میں دو قسم کے لوگ آتے ہیں ، اولاً وہ لوگ جو بہت بوڑھے ہوگئے ہوں ۔ شیخ فانی یا عجوزہ فانیہ یعنی بہت بوڑھا مرد ہے ، یا بہت بوڑھی عورت ہے دو چارگھٹے بھی بغیر کھائے پئے نہیں رہ سکتے تو ایسے لوگوں کے لیے حکم ہے کہ اگر وہ مالدار ہیں تو روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں۔ ثانیاً ، ایسے بیمار لوگ جو لمبی بیماری میں مبتلا ہیں ، تندرست ہونے کی چنداں امید نہیں کہ تندرست ہو کر روزہ قضا کرلیں گے ، تو ایسے لوگ بھی روزہ کے بدلے میں اس کا فدیہ ادا کرسکتے ہیں ۔ البتہ اگر بعد میں تندرست ہوجائیں ، تو انہیں روزہ رکھنا ہوگا ، اس کے بغیر ان کی فرضیت ادا نہیں ہوگی ، البتہ ادا شدہ فدیہ کا انہیں علیحدہ ثواب حاصل ہوگا ، اسی طرح حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی یہ رعایت حاصل ہے کہ وہ روزہ کے بدلے میں فدیہ ادا کر دے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اس حالت میں روزہ نہ رکھے جب کہ پیٹ میں بچہ ہے یا دودھ پینے والے بچے کی زندگی خطرہ میں ہے ، تا ہم مصنف عبد الرزاق میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا فتویٰ موجود ہے کہ ایسی عورتوں کو روزہ معاف ہیں ہوگا۔ جب ان کی علت دور ہوجائے ، تو روزہ قضا کرنا ہوگا ۔ بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں یطیقونہ لفظ اطاقۃ سے ہے اور یہ باب افعال سے ہے ، اس کا معنی ہے جو لوگ روزے کی طاقت نہیں رکھتے۔ یعنی روزے سے مانوس نہیں ہیں ، اس کے عادی نہیں ہیں ، وہ روزے کے بدلے فدیہ دے سکتے ہیں ۔ حضرت شاہ ولی اللہ (رح) نے اس کی دوسری تفسیر یہ بیان فرمائی ہے کہ یہاں پر فدیہ سے مراد صدقہ فطر ہے۔ جو صاحب استطاعت پر واجب ہے اور یہ روزوں کا کفارہ بنتا ہے اس میں اور بھی کئی ایک مصلحتیں ہیں ، بہر حال اسے صدقہ فطر پر محمول کیا گیا ہے ، جسکی مقدار ایک مسکین کا دو وقت کا کھانا ہے یا ہر روزہ کے بدلے دو سیر گندم یا اس کی قیمت ادا کرے ، گندم کی بجائے اگر باجرہ وغیرہ ہے تو ایک صاع یعنی چار سیر ادا کرنا ہوگا اور گندم ہے تو نصف صاع یعنی دو سیر۔
روزہ رکھناہی بہتر ہے
فرمایا فمن تطوع خیر ا فھو خیر لہ اور جو کوئی خوشی سے نیکی کریگا ، تو یہ اس کے لیے بہتر ہے ۔ یعنی اگر شرعی عذر کے باوجود روزہ رکھتا ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے اور روزہ رکھنے والے کے لیے بہتر ہے۔ وان تصوموا خیر لکم یعنی اگر تم روزہ رکھتے ہو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے ان کنتم تعلمون اگر تم سمجھ رکھتے ہو۔ روزہ رکھنے میں بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں ، اسکے ذریعے نفس کی اصلاح ہوتی ہے ، قانون کی پابندی کرنے کی عادت پڑتی ہے۔ جس کی وجہ سے شریعت کے جملہ احکام کی تعمیل آسان ہوتی ہے اور انسان کے لیے بلندی درجات کا ذریعہ پیدا ہوتا ہے ۔ اسی لیے فرمایا کہ اگر تم سمجھ بوجھ رکھتے ہو ، تو تمہارے لیے روزہ چھوڑنے کی بجائے روزہ رکھنا ہی بہتر اور افضل ہے۔