Ayah 2:188گزشتہ سے پیوستہ
اس سے پہلے اعتکاف کا مسئلہ بیان ہوچکا ہے کہ اعتکاف کی حالت میں عورتوں سے مقاربت جائز نہیں ، حدود اللہ کی حفاظت کا مسئلہ بھی بیان ہوا ۔ تا کہ انسان کے اندر تقویٰ کی روح پیدا ہوجائے ، روزہ کی مدت کا تذکرہ بھی آ گیا کہ روزہ طلوع فجر سے لے کر غروب شمس تک کے لیے ہے ، رات کو کھانے پینے اور عورتوں سے ملنے کی اجازت دے دی ۔ الغرض اس پورے رکوع میں روزہ ہی کا بیان ہے ، جس میں صدقہ فطر ، نزول قرآن دعا ، سحری کھانے اور اعتکاف کے مسائل شامل ہیں ۔
ربط آیات
اس رکوع کے بعد اگلے رکوع میں حج کا ذکرہ ہے۔ یسئلونک عن الاھلۃ سے شروع کر کے مناسک حج کی ترتیب بیان کی گئی ہے ۔ اس کے بعد جہاد کا مسئلہ ہے۔ مفسرین کرام کے لیے اشکال پیدا ہوا ہے کہ درمیان میں مال کا تذکرہ کیونکر آ گیا ہے ، جب کہ ایک طرف روزے کا بیان ہے اور دوسری طرف جہاد کا مسئلہ ہے ، بظاہر یہ مضامین آپس میں غیر مربوط معلوم ہوتے ہیں ، مگر حقیقت میں سابقہ مضمون کے ساتھ اس کا گہرا ربط ہے۔ حضرت مولانا شیخ الہند (رح) نے اس کی تشریح یوں بیان کی ہے کہ روزے مقصود طہارت نفس اور طہارت بدن ہے ، اب اس آیت میں مالی تذکرے سے مراد مال کی طہارت ہے ۔ اس وقت تک مسلمان کا تزکیہ نہیں ہو سکتا جب تک روح و جسم کے علاوہ اس کا مال بھی پاک نہ ہو ، اس آیت میں حرام مال کھانے سے منع کیا گیا ہے اور اس میں یہ لطیف نکتہ پوشیدہ ہے کہ روزہ کی حالت میں تو حلال چیز بھی اتنے وقت کے لیے حرام ہوجاتی ہے ، مگر حرام مال تو مدت العمر یعنی ہمیشہ کے لیے حرام ہے ، گویا ایک مسلمان حرام مال کی طرف سے ساری عمر کے لیے روزے دار ہے ، وہ اس کے قریب کیسے جاسکتا ہے ، چناچہ آیت زیر درس کو مسائل روزے کے ساتھ نہ مناسبت ہے۔
شیخ الہند (رح) کا ترجمہ قرآن
شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن (رح) کو عالم اسلام میں اعلیٰ مقام حاصل ہے ، یہ میرے سامنے آپ ہی کا ترجمہ قرآن پاک ہے۔ آپ حضرات کے پاس جو ترجمہ ہے ، یہ حضرت مولانا احمد علی صاحب لاہوری (رح) کا ہے ، یہ دونوں تراجم دراصل شاہ عبد القادر (رح) کے ترجمہ کی آسان صورت ہے جو ان حضرات کے ہاتھوں انجام پائی ۔ برصغیر میں سب سے پہلا بامحاورہ اردو ترجمہ شاہ عبد القادر (رح) کا ہی ہے ، تا ہم اس میں آج سے اڑھائی سو سال پرانی اردو استعمال کی گئی تھی اور اس میں ہندی اور بعض دوسری زبانوں کے الفاظ بھی پائے جاتے ہیں جو آجکل کی اردو میں استعمال نہیں ہوت ، مثال کے طور پر شاہ صاحب نے اللہ الصمد کا ترجمہ نرادھار کیا ہے جو کہ خالص ہندی یا سنسکرت زبان کا لفظ ہے ۔ اسی طرح واجتنبوا الطاغوت میں طاغوت کا ترجمہ ہڑونگا کیا ہے۔
مولانا سید عزیر گل
مولانا شیخ الہند (رح) نے یہ ترجمہ مالٹا کی جیل میں قید کے دوران کیا تھا ، آپ اور آپ کے پانچ ساتھیوں پر بغاوت کا مقدمہ چلا تھا ، اگرچہ آپ سزائے موت سے بچ گئے تا ہم قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں ۔ آپ نے اس تنہائی سے یہ فائدہ اٹھایا کہ قرآن پاک کا ترجمہ آسان اردو میں پیش کردیا ۔ آپ کے پانچ ساتھیوں میں سے اس وقت صرف حضرت مولانا سید عزیر گل فاضل دیوبند زندہ ہیں ۔ مولانا شیخ الہند (رح) کی نواسی آپ کے نکاح میں تھی ۔ اس کے علاوہ سندھ کے انگریز کمشنر کی بیٹی مسلمان ہو کر آپ کے نکاح میں آئی اور تیس سال کی وفات کے بعد فوت ہوئی ۔ مولانا عزیز گل ایک تاریخی انسان ہیں ۔ سخا کوٹ ایجنسی میں ان کی اپنی زمین ہے ، وہیں آپ کی رہائش ہے ، کافی بوڑھے ہوچکے ہیں ، تا ہم اپنے زمانے میں بڑے بہاد اور دلیر آدمی تھے۔
مولانا وحید احمد (رح)
مولانا شیخ الہند (رح) کے ساتھیوں میں مولانا سید حسین احمد مدنی (رح) کے بھتیجے مولانا وحید احمد مدنی (رح) بھی تھے۔ آپ کے ایک شاگرد مولا ان حکیم سید نصرت حسین صاحب (رح) بھی آپ کے ساتھ مالٹا میں قید رہے ، اور وہیں فوت ہوئے ، انگریزوں نے ان کے ساتھ بڑے ظلم کیے ، ان کی وفات کے بعد مولانا شیخ الہند (رح) نے بڑی کوشش کی کہ حکیم صاحب کو دفن کرنے سے پہلے منسون طریقے سے غسل دیا جاسکے ، مگر انگریزوں نے اسکی اجازت نہ دی اور کہا کہ ان کی طرف سے دیا گیا غسل کافی ہے ، بہر حال آپ نے تیمم کرا کے جنازہ پڑھا ، اور ان کو دفن کیا ۔ حضرت شیخ الہند (رح) انگریز کے سخت مخالف تھے ، اگر کوئی انگریز کے متعلق مسئلہ دریافت کرتاتو فرماتے بھئی کسی اور عالم سے پوچھ لو ، شاید میں مبالغہ کر جائوں کیونکہ مجھے انگریزوں سے سخت نفرت ہے ، آپ خوب سمجھتے تھے کہ انگریز نے اسلام کو کس قدر نقصان پہنچایا ہے۔ ترکوں کی سلطنت کو انگریز نے ہی درہم برہم کیا ، مولویوں کی قلم اور زبان سے ترکوں کی خلافت پر کفر کا فتویٰ لگوایا ، اور انہیں بدنام کیا ۔
انگریز کی چال بازی
شخصی طور پر انگریز بڑی با اخلاق قوم ہے۔ آپ ان سے تجارت کریں ، کوئی اور لین دین کا معاملہ ہو ، بڑے اچھے طریقے سے پیش آئیں گے ، اسی لیے انگریز بڑا چال باز ہے ، گزشتہ زمانے میں تجربہ کار لوگوں میں یہ محاورہ مستعمل تھا کہ اگر جرمن ختم ہوجائے ، تو دنیا سے مشینری ختم ہوجائے ، کیونکہ جرمنی لوگ مشینی ذہن کے لوگ ہیں ، انہوں نے بڑی مشینری ایجاد کی ہے۔ حتیٰ کہ سلائی مشین بھی انہی کی ایجاد ہے ، تو یہ محاورہ استعمال کیا جاتا تھا۔ اگر دنیا سے انگریز قوم ختم ہوجائے تو چال بازی ختم ہوجائے ، اس قوم نے بڑی مادی ترقی کی ہے اور بڑے لمبے عرصہ تک دنیا میں حکومت کی ہے۔ اس کا ستارہ چھ سو سال تک بام عروج پر رہا ، امریکہ اور روس تو انگریز کے بچے ہیں ، جس طرح کسی زمانے میں رومیوں کا دنیا میں رعب و داب تھا ، اسی طرح ماضی قریب میں انگریز کو عروج حاصل تھا ، ان میں بڑے بڑے فلاسفر ، سائنس دان انجینئر اور قانون دان پیدا ہوئے ہیں ، تا ہم عیسائی ہونے کے ناطے اسلام کا ہمیشہ دشمن رہا ہے۔
شیخ سعدی (رح)
شیخ سعدی (رح) کا زمانہ ساتویں صدی ہجری ہے ، آپ کی گلستان پڑھیے ، معلوم ہوتا ہے کہ انگریز نے شیخ صاحب کو بھی قید کر ڈالا تھا ، آپ کے ساتھ یہودی قیدی تھے ، کہتے ہیں کہ میں خندق کی تعمیر کے سلسلے میں گارہ اٹھا اٹھا کر لا رہا تھا۔ حلب کا کوئی رئیس آپ کا واقف تھا۔ ادھر سے گزرا تو آپ کو پہچان لیا ، پوچھ کیا بات ہے شیخ سعدی (رح) نے کہا کہ میں تو لوگوں سے تنگ آ کر باہر جنگل میں نکل گیا تھا تاکہ یکسوئی سے اللہ اللہ کرسکوں ، مگر شومئی قسمت کہ قید فرنگ میں مبتلا ہوگیا اس رئیس نے انگریز کو فدیہ دے کر شیخ صاحب کو رہائی دلادی۔
شیخ صاحب اپنے زمانے کے بہت بڑے شاعر تھے ، فارسی کی غزل گوئی میں آپ کی مثال نہیں ملتی ، آپ کی کتابیں گلستان اور بوستان بڑی مقبول ہوئیں ۔ یہ ابتدائی جماعتوں کو اسی زمانے سے پڑھائی جا رہی ہیں ، آپ نے پاکیزہ زبان استعمال کر کے نصیحت آموز باتیں کی ہیں ، جن میں مزاج کا رنگ بھی پایا جاتا ہے ، بعض لوگوں نے اس بات پر اعتراض کیا کہ آپ نے کتاب میں ہنسی مذاق کو بھی جگہ دے دی ہے تو آپ نے اس کے جواب میں کہا کہ میں نے اس میں ظرافت اور خوش طبعی کو اس لیے جگہ دی ہے تا کہ لوگ اسے آسانی سے قبول کرلیں ، بعض اوقات کڑوی گولی چین میں بند کر کے کھلانی پڑتی ہے ، تا کہ اس سے مریض کو شفاء ہو ، اسی اصول کے تحت میں نے نصیحت آموز باتیں ہنسی مذاق کے خول میں بند کرکے دی ہیں ، تا کہ یہ لوگوں کے ذہن میں اتر سکیں ۔ گلستان کے بارے میں انگریزوں کا مقولہ ہے کہ یہ کسی ایک شخص کی تحریر معلوم نہیں ہوتی بلکہ یہ کسی کمیٹی یا کمیشن کا کام ہے ، اس میں اتنے تجربات اور نصیحتیں ہیں ، جو ایک آدمی کا کام معلوم نہیں ہوتا ۔ بہر حال شیخ سعدی (رح) کی قید و بند سے واضح ہوتا ہے کہ ساتویں صدی ہجری میں بھی انگریز مسلمانوں کا جانی دشمن تھا ۔ اس زمانے میں مسلمانوں کی چھوٹی چھوٹی سلطنتیں تھیں مگر وہ بام عروج پر تھے۔ فرانس اور برطانیہ تو اس وقت بالکل غیر متمدن تھے انہیں تو کپڑے پہننے کا سلیقہ بھی نہیں آتا تھا۔ پشت پر چمڑا باندھتے تھے ، انگریز اس وقت بالکل پسماندہ تھا ۔ انہیں مسلمانوں کی وجہ سے ترقی نصیب ہوئی ۔ اندلس میں بھی مسلمانوں کا طوطی بولتا تھا ، انگریز تو چودھویں صدی میں جا کر متمدن ہوئے ہیں انہوں نے سائنس میں ترقی کی اور پھر انہیں غلبہ حاصل ہوا ۔
ترک سلطنت
اس زمانے میں مسلمانوں کی ترک سلطنت کو بڑا عروج حاصل تھا ترکوں نے چار سو سال تک عیسائی سلطنتوں کے ساتھ ٹکر لی ۔ انگریز ، جرمن ، فرانسیسی ، روسی سب اسلام کے ازلی دشمن تھے۔ ترکوں نے ہر ایک کے ساتھ خوب معرکے سرکیے بڑے بہادر لوگ تھے ۔ حنفی مسلک کے راسخ العقیدہ مسلمان تھے ۔ علم کی طرف سے زیادہ تر تشنہ ہی رہے۔ مگر اسلام کا جذبہ بدرجہ اتم موجود تھا ، تا ہم کمال اتاترک جس کا آج کل ڈے منایا جا رہا ہے۔ اس نے اسلام کو نقصان بھی پہنچایا ہے۔ اس نے خلافت کو ختم کردیا جو مسلمانوں کے زوال کا باعث بنا ، مگر اس نے ترکی کو بڑی طاقتوں سے الگ کر کے اسے سازشوں سے بچا لیا ، اس نے عربی زبان کو ملک سے بالکل نکال باہر کیا حتیٰ کہ عربی اذان بھی بندکروا دی ۔ اس نے غلطیاں بھی بہت کی ہیں مگر ترکی حکومت کا زوال عربوں کی وجہ سے آیا ۔ یہ غدار نکلے ، انگریزوں کے ساتھ مل کر ان کے آلہ کار بن گئے۔ اردن کے موجودہ فرمانروا کا داد شریف حسین سید ہونے کے باوجود انگریزوں کا پٹھو تھا ، اس نے ترکوں کو بہت نقصان پہنچایا انگریز نے ان کو وفاداری کی بناء پر چھوٹی چھوٹی ریاستیں دے دیں ۔ ایک کو عراق میں جگہ دے دی ، ایک کو اردن میں ایک پروردہ کو فلسطین میں بٹھا دیا پھر اس نے شاہ مسعود (رح) کے ساتھ ساز باز کی ۔ اس کی پوزیشن بدوئوں والی تھی ، یہ مستقل مزاج رہا ، تاہم انگریز کے ماتحت ہی رہا ۔ اب امریکہ زیر اثر ہے ، اسی کی پالیسی پر گامزن ہے ۔
سپر پاورز
جب انگریز زوال پذیر ہوا ، تو امریکہ کو عروج حاصل ہونے لگا ۔ دنیا میں اس کی اجارہ داری قائم ہوگئی ، دوسری طرف روس نے غلبہ حاصل کرلیا ، اب یہ دو طاقتیں دنیا کی متحارب قومتیں ہیں ۔ یہ آپس کی سرد جنگ میں مبتلا ہیں ۔ دنیا کے باقی ممالک دونوں میں سے کسی نہ کسی گروپ میں شامل ہو کر ان کے دست نگر ہیں ۔ اب یہ سپر طاقتیں سازشوں میں مصروف ہیں ۔ ان کی نگاہیں مشرق وسطیٰ اور اسلامی ممالک پر ہیں کہ ان کو کس طرح تقسیم کیا جائے ، امریکہ کا ہر آنے والا صدر سابقہ پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے اسرائیل کی پشت پناہی کرتا ہے اور اسرائیل مشرق وسطیٰ میں ناسور کی صورت اختیار کر گیا ہے ، یہ امریکہ برطانیہ اور فرانس کا مشترکہ پردردہ ہے ، جس کی وساطت سے مسلمانوں کو ذلیل ورسوا کیا جا رہا ہے۔
ہدیہ اور گلستان
حضرت مولانا انور شاہ کشمیری (رح) ہمارے اس آخری دور کے بہت بڑے محدث ہوئے ہیں ۔ ان کے متعلق علامہ اقبال (رح) نے کہا تھا کہ آپ ہمارے دور کے جید ترین محدث ہیں جنکی مثال نہیں ملتی ، اللہ تعالیٰ نے ایسا کمال درجے کا حافظہ دیا تھا کہ جب کوئی کتاب ایک دفعہ دیکھ لی تو پوری زندگی یاد رہی ، بھولتے نہیں تھے۔ بخاری شریف پوری کی پوری یاد تھی ، آپ فرمایا کرتے تھے ، کہ اگر کوئی کتاب دنیا سے ناپسند ہوجائے تو میں اسے دوبارہ لکھ سکتا ہوں ، مگر دو کتابیں ایسی ہیں جن کو دوبارہ لکھنے پر ہیں قادر نہیں ہو ، ان میں سے ایک ہدایہ ہے اور دوسری شیخ سعدی (رح) کی گلستان ہے اس کے آٹھ باب ہیں اور تین سو صفحات پر مشتمل ہے ، ہدایہ فقہ کی بلند پایہ کتاب ہے ، صاحب ہدایہ نے اسے اسی مضمون سے مختصر کر کے چار جلدوں میں محفوظ کردیا ہے ، امام محمد (رح) کی جامع صغیر اور ابو الحسن (رح) کی قدوری ہدایہ کی اصل ہیں ، یہ بہت اچھی شرح ہے انسان کا کوئی کام حتمی نہیں ہوتا ، غلطیاں ہوجاتی ہیں ۔ سہو سے پاک تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ بہر حال صاحب ہدایہ نے یہ گراں قدر خدمت انجام دی ہے اور علامہ انور شاہ صاحب کشمیری (رح) نے شیخ سعدی (رح) کی گلستان کو اس کا ہم پلہ قرار دیا ہے۔
زوال کے اسباب
مولانا شیخ الہند (رح) فرمایا کرتے تھے کہ وسیع مطالعہ کے بعد میں اس نتیجہ یر پہنچا ہوں کہ مسلمانوں کے زوال کے دو اسباب ہیں ، قرآن سے دوری اور فرقہ بندی اسی لیے شاہ ولی اللہ دہلوی (رح) ، ان کے خاندان اور حضرات شیخ الہند (رح) نے قرآن پاک کی تعلیم دینے میں زندگیاں کھپا دیں ۔ مولانا عبید اللہ سندھی (رح) نے حضرت لاہوری (رح) کو قرآن پاک کی تعلیم سے آراستہ کر کے فرمایا تھا ، احمد علی اپنی پوری زندگی قرآن کی تعلیم کے لیے وقف کر دو ، اور پھر آپ نے اس نصیحت پر پورا پورا عمل کیا ۔ ساری عمر لوگوں کو قرآن پاک پڑھاتے رہے ، چالیس برس میں آپ نے پانچ ہزار علماء کو قرآن کی تعلیم دی ۔ آپ دوسری کتابیں عا م طور پر نہیں پڑھاتے تھے ، کبھی کبھی مشکوٰۃ شریف یا حجۃ اللہ البالغہ کا درس دے دیتے تھے۔ مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) نے بھی قرآن کریم کا ترجمہ اور تفسیر لکھی ہے اور یہ بھی کمال درجے کا مفصل ترجمہ ہے ، آپ سمجھتے تھے کہ لوگ قرآن سے دور ہوگئے ۔ میں انہیں قریب کرنے کی کوشش میں آپ نے یہ ترجمہ اور تفسیر لکھی۔
فرقہ بندی کی لعنت
حضرت شیخ الہند (رح) فرقہ بندی کو بہت بڑی لعنت سمجھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ پارٹی بازی مسلمانوں کی ترقی کے راستے میں رکاوٹ ہے اور اگر اسے دور نہ کیا گیا تو مسلمان تباہ ہوجائیں گے ۔ وہ ہمیشہ اتفاق و اتفاق اتحاد کی دعوت دیتے تھے ، انہوں نے علی گڑھ والوں کو قریب کرنے کی کوشش بھی کی ۔ آپ نے مولانا شوکت علی (رح) اور مولانا محمد علی (رح) جوہر کو قریب کیا اور پھر علی گڑھ پارٹی کو ساتھ ملایا تا کہ سب مل کر مسلمان قوم کی خدمت کرسکیں اور اس سلسلہ میں متحدہ پروگرام پر عمل پیرا ہو سکیں ۔ حضرت مولانا محمود حسن ؓ کو شیخ الہند کا خطاب مولانا محمد علی جوہر (رح) نے ہی دیا تھا جسے برصغیر کے تمام لوگوں نے تسلیم کیا ۔ واقعہ بھی یہ ہے کہ مولانا محمود الحسن نہایت نیک ، متدین اور صالح آدمی تھے ، خاموش رہ کر بڑے بڑے کام کرتے تھے۔ ہندوستان میں انگریز کی جڑوں کو انہوں نے ہی کھوکھلا کیا ۔ اپنے شاگردوں اور مریدوں کے ذریعے دور دور تک جانے پہچانے جاتے تھے ، حتیٰ کہ غالب پاشا اور انور شاہ بھی سمجھتے تھے۔ کہ آپ مسلمانوں کے بہت بڑے لیڈر اور ہمدرد ہیں ، ہمیشہ آپ سے رابطہ رکھتے تھے۔
تحریک ریشمی رومال
1915 ء میں ریشمی رومال کی تحریک چلی ، یہ سکیم بھی حضرت شیخ الہندی (رح) کی تھی ، آپ کی کوشش یہ تھی کہ کسی طرح انگریز کو ہندوستان سے نکال باہر کیا جائے ، اس وقت برصغیر کی آبادی چالیس کروڑ تھی ، مگر پانچ چھ لاکھ انگریز حکومت کر رہے تھے کیونکہ طاقت ان کے ہاتھ میں تھی ، مگر مسلمانوں کی غداری کی وجہ سے یہ تحریک بھی کامیاب نہ ہوسکی ، اس کا راز قبل از وقت فاش ہوگیا تھا ، مقصد یہ کہ برصغیر کی آزادی کے سلسلے میں علماء کی جدوجہد تو پرانی ہے۔ اس وقت ہندوئوں کو تو خواب بھی نہیں آیا تھا کہ انگریزوں کو یہاں سے نکالنا ہے اور مسلم لیگ بعد کی پیداوار ہے ، اس زمانے میں اس کی بھی کوئی حیثیت نہیں تھی ، اس میں نواب قسم کے لوگ شامل تھے۔ آخر میں جب لوگ انگریز اور ہندوئوں سے تھک چکے تھے تو مسلمان مسٹر جناح کی قیادت میں یکجا ہوگئے اور بات بن گئی ، ان کی جدوجہد تو صرف پانچ سات سال کی ہے ، جب کہ علمائے کرام کی تحریک حریت ڈیڑھ صدی پر محیط ہے۔
تزکیہ مال
بہر حال بات حضرت شیخ الہند (رح) کے ترجمہ قرآن کی ہو رہی تھی ۔ آپ نے سورة بقرہ اور سورة نساء کا حاشیہ بھی لکھا ۔ باقی حاشیہ آپ کے شاگرد و رشید مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) کا ہے ۔ تو مولانا محمود الحسن (رح) نے مختصر الفاظ میں بہت بڑی بات سمجھا دی کہ اس آیت میں طہارت مال کا بیان ہے ، جب کہ اس سے پہلی آیات میں روزہ کا بیان تھا جس سے مقصود لعلکم تتقون یعنی نفس اور جسم کی طہارت تھا۔ ظاہر ہے کہ ایک مسلمان کا اس وقت تک مکمل تزکیہ نہیں ہو سکتا جب تک اس کا مال بھی پاک نہ ہو ، تو اس آیت زیر درس میں مال کی پاکیزگی کا قانون بیان کیا گیا ہے کہ ایک مسلمان کو حلال اور پاکیزہ مال کھانے اور حلال بیوی سے متمتع ہونے سے صرف روزے کے دوران منع کیا گیا ہے ، مگر حرام سے اسے ہمیشہ کے لیے منع کردیا گیا ہے ، وہ ساری عمر ایسے مال کے کیسے قریب جاسکتا ہے ، یہ تو شرکت کے اصول کے منافی ہے۔
اکل حرام
ارشاد ہوتا ہے ولا تاکلوا امرالکم بینکم بالباطل ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے مت کھائو ۔ حضور ﷺ کا ارشاد پاک ہے۔ لا یحل مال امرا الا بطیب نفسہ کسی مسلمان کا مال اس کی رضا مندی کے بغیر حلال نہیں ۔ دوسرے مقام پر بھی آتا ہے ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھائو ۔ الا ان تکون تجارۃ سوائے اس کے کہ تجارت ہو کہ اس طریقے سے منافع کھانا جائز ہے منافع پھر دوسرے کے لیے فائدہ ہی ہوتا ۔ اس کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ مگر ناجائز اور باطل چیز کسی وقت بھی مسلمان کے لیے جائز نہیں ۔ ناجائز مال خواہ چوری کے ذریعے حاصل ہو یا خیانت یا دھوکہ یا رشوت کے ذریعے یہ کسی صورت میں بھی جائز نہیں ۔
رشوت
مولانا عبید اللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ رشوت سلطنتوں کو تباہ و برباد کرنے والی لعنت ہے ، اس لعنت سے کوئی بھی محفوظ نہیں امریکہ ہو یا برطانیہ اور آپ کے ملک توصف اول میں ہے۔ اس کے بغیر کوئی جائز کام نہیں کرایا جاسکتا ، آپ رشوت دیے بغیر ریلوے سے سامان نہیں چھڑا سکتے ، اس کے بغیر ڈاک خانے والے بات نہیں سنتے پولیس میں رپٹ نہیں لکھائی جاسکتی ۔ محکمہ اوقاف مقدس محکمہ سمجھاجاتا ہے ، یہ بھی اس لعنت میں گرفتارہوچکا ہے ۔ انسانیت کی دو بڑی دشمن طاقتیں رشوت اور سود ہیں ، اسلام نے ان دونوں چیزوں کو قطعی حرام قرار دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے مت کھائو ۔
غاصبانہ قبضہ
اکل حرام کی ایک اور صورت غاصبانہ قبضہ بھی ہے ، جیسا کہ پیپلز پارٹی کے زمانہ میں زمین اور کارخانے چھینے گئے پچیس سال میں واجب الادا قیمتیں لگائی گئیں اور اصل مالکوں کو بےدخل کردیا گیا ، اس سے تو بھارت والے اچھے رہے جنہوں نے چھینا بیشک مگر طریقے سے یکدم کسی کی زمین یا کارخانہ چھین لینا ظالمانہ طریقہ ہے اس کا درست طریقہ یہ تھا ، کہ کوئی کمیشن بٹھایا جاتا جو تحقیقات کے بعد فیصلہ کرتا کہ کون سی جائیداد جائز ذرائع سے حاصل کردہ ہے اور کون سی ناجائز ذرائع سے اگر کسی نے ناجائز طریقے سے جاگیر حاصل کر رکھی ہے ، تو پھر وہ معاوضے کا قطعا ً حقدار نہیں ، وہ حق دار کو ملنی چاہئے اور اگر کوئی جائیداد وارثت میں ملی ہے یا جائز ذرائع سے خریدی گئی ہے ، تو پھر اس کا پورا پورا معاوضہ ملنا چاہئے۔ وہ بھی اس صورت میں کہ اسلامی ریاست اس جائیداد کو حاصل کرنا ضروری سمجھتی ہے ، کسی جائیداد پر زبردستی قبضہ ، جواء یا ناجائز بیع کے ذریعے حصول جائیدادک بالکل درست نہیں یہ حرام ہے۔
آگے فرمایا تدلوابھا الی الحکام اور ایسے مال کو حاکموں تک نہ پہنچائو ۔ مقصد یہ کہ کوئی جائیدا د یا کوئی مال ناجائز طریقے سے حاصل کرنے کے لیے حکام وقت کی امداد حاصل نہ کرو ، نہ ان کو رشوت پیش کرو اور نہ ان کے پاس سفارش لیکر جائو ، اب تو حکام کے علاوہ یہ سلسلہ ان کی بیگمات تک وسیع ہوگیا ہے۔ مٹھائی اور فروٹ کی ٹوکریاں پیش کی جاتی ہیں ۔ کپڑے اور زیورات کے تحائف دیے جاتے ہیں ، تا کہ کسی دوسرے کے مال پر غاصبانہ قبضہ کیا جاسکے یہ سب حرام ہے اس سے منع کیا گیا ہے۔ مال حاصل کرنے کے لیے جھوٹا دعویٰ دائر کرنا یا کسی ایسے معاملہ میں جھوٹی گواہی دینا بھی اسی قبیل سے ہے ، اور حرام کھانے کے مترادف ہے ، اسی لیے فرمایا کہ لتاکلوا فریقا من اموال الناس بالا ثم حکام کے پاس اس غرض سے مت جائو کہ لوگوں کا مال غلط طریقے سے کھا جائو ۔ وانتم تعلمون حالانکہ تم جائز اور ناجائز کو اچھے طرح جانتے بھی ہو ، پھر غلط کام کرتے ہو ، یہ قطعاً حرام ہے اس سے بچو۔
Ayah 2:189ربط آیات
قبل ازیں اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزوں کے احکام بیان فرمائے ۔ اور اس کے بعد مال کے متعلق مسئل بیان ہوئے۔ اب اس آیت میں نئے چاند کے متعلق سوال اور اس کا جواب دیا گیا ہے۔ بظاہر یہ دو مختلف چیزیں معلوم ہوتی ہیں مگر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ چاند کے گھٹنے بڑھنے کا رمضان کے ساتھ گہرا تعلق ہے ، کیونکہ نیا چاند نکلنے پر ہی روزہ شروع کیا جاتا ہے اور اگلا چاند نظر آنے پر ماہ رمضان ختم ہوجاتا ہے ، حدیث شریف میں آتا ہے ۔ افطروالرئیتہ وصوموالرء یتہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور دیکھو اور دیکھ کر افطار کرو ، اس لیے دونوں مسائل کو یکے بعد دیگرے بیان کیا گیا ہے کہ ان دونوں میں باہمی ربط ہے۔
شان نزول
دراصل یہ آیت ایک سوال کا جواب ہے ، جو حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا ، اس کرہ ارض کے لیے روشنی کی دوہی ذرائع ہیں یعنی سورج اور چاند ، اب سورج ہمیشہ ایک ہی ہیئت میں رہتا ہے ، اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوتی بر خلاف اس کے چاند ہمیشہ گھٹتا بڑھتا رہتا ہے ، اسی وجہ سے لوگوں نے سوال کیا تھا ، یسئلونک عن الاھلۃ لوگ آپ سے نئے چاند کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ یہ کیا چیز ہے ، تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے نبی ﷺ قل آپ کہہ دیجئے یعنی ان کے سوال کا جواب یہ دیجئے ھی مواقیت للناس والحج یہ اوقات ہیں لوگوں کے لیے اور حج کے لیے ۔ اس مسئلہ پر امام بیضاوی (رح) نے اپنی تفسیر میں بحث کی ہے۔ بیضاء ایران کے ایک مقام کا نام ہے ، جس سے نسبت کی بناء پر آپ کو بیضاوی کہا جاتا ہے۔۔۔۔ آپ بہت بڑے فاضل اور صالح بزرگ ہوئے ہیں ، آپ کی تفسیر بیضاوی عربی کی مشکل تفاسیر میں شمارہوتی ہے۔ علم اصول میں بھی آپ کی ایک کتاب موجود ہے ، تا ہم تفسیر میں آپ کا مقام بہت بلند ہے ، آپ نے اپنی تفسیر میں صرف ، نحو ، علم کلام اور علم قرأت غرضیکہ تمام علوم کو روشنی میں قرآن کریم کا مقصد اور منشاء بیان کیا ہے۔۔۔ آپ قاضی کے عہدے پر فائز تھے ، مگر اپنے پیر و مرشد شیخ محمد کتابی (رح) کے حکم پر عہدہ چھوڑ دیا تھا اور تحصیل علم میں لگ گئے ، ان کے کہنے پر ہی آپ نے قرآن پاک کی تفسیر کی ، اس کو تحریری صورت میں پیش کیا اور پھر لوگوں کو اسکی تعلیم بھی دی ، یہ زمانہ مسلمانوں کے عروج کا زمانہ تھا اور علم ترقی کے منازل طے کر رہا تھا۔
سوال و جواب میں اختلاف
امام صاحب فرماتے ہیں کہ سوال تو یہ تھا کہ چاند کیوں گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔ جب کہ سورج کی جسامت میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوتی ۔ اس میں کون سی حکمت کار فرما ہے ، مگر جواب یہ دیا گیا کہ یہ لوگوں کے لیے اور حج کے لیے اوقات کا نتظام ہے مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں کہو اس قسم کا جواب علیٰ طریق اسلوب حکیم کہلاتا ہے اور حکم جو ہوتا ہے ۔ وہ موقع اور ضرورت کے مطابق ہوتا ہے ، اس کی مثال حدیث شریف میں موجود ہے کہ یہودیوں نے حضور نبی کریم ﷺ سے نو نشانیوں کے متعلق دریافت کیا تھا تو آپ نے نو نشانیاں بتانے کی بجائے احکام عشرہ بیان فرمادیئے ، مقید یہ تھا کہ مسئولہ نو نشانیاں معلوم کرلینے سے تمہیں کچھ فائدہ نہیں ہوگا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے فلاں فلاں معجزہ فلاں فلاں نشانیاں عطا کی تھیں ، بلکہ تمہارا فائدہ اس بات میں ہے کہ تمہیں احکام شریعت معلوم ہوجائیں جن پر تم عمل کرسکو ، لہٰذا نو نشانیوں کی بجائے حضور ﷺ نے یہودیوں کو ان کے دس احکام بتا دیئے۔۔۔ بعض چیزیں غامض ہوتی ہیں ان کے پیچھے پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں تم وہ بات معلوم کر نیکی کوشش کرو جس میں تمہارا فائدہ ہے۔ یہ چاند کا مسئلہ بھی ایسا ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سوال کے جواب میں چاند کے گھٹنے بڑھنے کی حکمت بیان نہیں فرمائی ، بلکہ اس کے فوائد بتا دیے کہ اس عمل سے اوقات متعین ہوتے ہیں اور دن مہینہ و سال کا حساب ہوتا ہے۔ سورج سے اس قسم کا حساب رکھنا ایک عام سمجھ سوجھ کے انسان سے مشکل ہے کیونکہ وہ تو ہمیشہ ایک ہی حالت میں رہتا ہے ، اگرچہ اس کی وجہ سے موسموں میں تغیر و تبدل آتا ہے ، کبھی گرمی ہے ، کبھی سردی ہے ۔ بہار اور خزاں کے موسم آتے ہیں مگر سورج کی بظاہر شکل و صورت اور حجم میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ اسی لیے فرمایا کہ تم چاند کی کمی کی حکمت کے چکر میں نہ پڑو ، اس کا تعلق تو علم ریاضی سے ہے ، جو اس علم کو حاصل کرے گا ، اسے چاند کے گھٹنے بڑھنے کی حکمت معلوم ہوجائے گی کہ کس طرح سورج اور چاند کے درمیان کرہ ارض حائل ہو کر اس کا سبب بنتا ہے ، تم اس کا فائدہ معلوم کرنے کی کوشش کرو کہ چاند کے گھنٹے بڑھنے میں لوگوں کو کیا فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
چاند کی مختلف صورتیں
ہلال پہلے دن کے چاند کو کہتے ہیں جب وہ حجم میں سب سے چھوٹا ہوتا ہے ، عربی لغت میں ہلال سے مراد آواز بلند کرنا ہے ، جب پہلے دن چاند نظر آتا ہے ، تو لوگ اسے دیکھ کر شوق سے آواز بلند کرتے ہیں کہ وہ چاند نظر آ گیا ، اس لیے اسے ہلال کہتے ہیں ۔ وما اھل بہ لغیر اللہ میں بھی بیان ہوچکا ہے کہ جب کسی چیز کی نامزدگی غیر اللہ کے نام پر ہوتی ہے ، تو اسمیں بھی آواز بلند ہوتی ہے کہ یہ چیز فلاں بزرگ کے نام کی ہے ، لہٰذا یہ شرک میں داخل ہوجاتا ہے۔ عرض یہ کررہا تھا کہ پہلے دن کا چاند ہلال کہلاتا ہے اور پھر جب بڑھنے لگتا ہے تو اس کا نام قمر ہوجاتا ہے اور پھر جب چودھویں تاریخ کو بالکل پورا ہوجاتا ہے تو اسے بدر کہتے ہیں اور آخر میں جب ڈوب جاتا ہے ، تو اسے محاق کہتے ہیں۔ اس کے بعد دو ایک دن نظر نہیں آتا اور آخر پھر سے نیا چاند بن کر سامنے آتا ہے جس کا مطلب یہ کہ گزشتہ مہینہ ختم ہوا اور نئے مہینہ کی پہلی تاریخ ہوگئی ، اس طرح ایک مکمل سال پورے بارہ ماہ میں پورا ہوتا ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے سورة توبہ میں بیان فرمایا ہے۔ ان عدۃ الشھور عند اللہ اثناء عشر شھر یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک سال بھر کے مہینوں کی تعداد بارہ ہے ، گویا جب اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان چاند ، سورج غرضیکہ پورا نظام شمسی قائم کیا تو مہینوں کی تعداد بارہ مقرر فرمائی۔
حرمت والے مہینے
پھر فرمایا کہ ان بارہ مہینوں میں منھا اربعۃ حرم چار مہینے حرمت والے ہیں ۔ ان مہینوں میں کوئی گناہ کرنا دوسرے مہینوں کی نسبت زیادہ بڑا جرم ہے۔ ان مہینوں میں لڑائی کی ابتداء نہیں کرنی چاہئے ، کیونکہ یہ چار ماہ اللہ کے ہاں بڑے با عزت مہینے ہیں ، اگر غیر مسلم خود مسلمانوں سے جنگ کا آغاز کریں تو پھر انہیں بھی اجازت ہے کہ اپنا دفاع کریں ایسی صورت میں ان پر کوئی گناہ لازم نہیں آئے گا ۔ ان چار مہینوں میں ذی قعدہ ، ذی الحج اور محرم اکٹھے ہیں اور رجب کا مہینہ ذرا الگ ہے ، یہ چار مہینے حرمت والے ہیں۔
اوقات کا تعین
الغرض ! فرمایا کہ چاند کی حقیقت یہ ہے کہ اس سے مختلف امور کی ادائیگی کے لیے اور خاص طور پر حج کے لیے اوقات کا تعین ہوتا ہے ، انسان کوئی مزدوری کرتا ہے ، کسی چیز کے کرایہ کا معاملہ طے کرتا ہے ، تو ظاہر ہے کہ اس کے لیے اوقات کا تعین ہوگا ۔ اسی طرح عبادت کو لے لیں ، نماز کی ادائیگی کے لیے اوقات مقرر ہیں ۔ زکوٰۃ ادا کرنی ہو ، تو سال کا تعین کرنا ہوگا ، روزہ کے لیے چاند کے اوقات کی ضروت پڑیگی کہ اس کی ابتداء اور انتہاء چاند کے نکلنے پر ہی منحصر ہے اور پھر ارکان اسلام میں سے حج چوتھا رکن ہے ۔ یہ بھی مقررہ مہینہ کے مقررہ ایام میں ہی ادا کیا جاتا ہے حتیٰ کہ عورت کی عدت کے تعین کے لیے بھی چاند کا حساب ہی لینا پڑتا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ چاند کے گھنٹے بڑھنے میں تمہارے لیے بہت سے فوائد ہیں۔
چاند کی تقویم
امام رازی (رح) کی طرح امام ابوبکر جصاص رازی (رح) بھی بڑے پائے کے عالم اور مفسر قرآن ہوئے ہیں ۔ آپ کا زمانہ چوتھی صدی 400ھ ہے ۔ آپ امام ابوحنیفہ (رح) کے پیروکاروں میں سے تھے۔ انہوں نے احکام القرآن کے نام سے تفسیر لکھی ہے ، تو یہ دونوں امام فرماتے ہیں مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ تقویم چاند کے حساب سے رکھیں اگر مسلمان اس حساب کو ترک کریں گے تو گناہ گار ہوں گے ، بیشک سورج کی تقویم بھی رکھیں ، اس میں ممانعت نہیں ہے ، مگر چاند کے حساب کو بھی ضرور اپنے روز مرہ کے امور میں جاری رکھیں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے چاند کے حساب رکھنے کا حکم دیا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اھلۃ سے مراد مہینہ لیتے ہیں ، اور اس آیت کا معنی یوں کرتے ہیں کہ لوگ آپ سے مہینوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ ان کا حساب چاند سے رکھا جائے گا یا سورج سے ، تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ چاند کے ذریعے حساب رکھنا مقدم ، بہتر اور فطری ہے ، چاند کے حساب سے ماہ وسال کا تعین تو ان پڑھ دیہاتی بھی کرسکتا ہے ، جب کہ سورج کی تقویم کو یاد رکھنا مشکل کام ہے ، سورج تو ہر ورز یکساں طلوع ۔۔۔۔ اور غروب ہوتا ہے ، مہینہ کی ابتداء اور انتہاء کا تعین ایک آدمی کے لیے مشکل ہے مگر چاند کا حساب بالکل واضح ہے ، جن دن نیا چاند نکلے گا تو مہینہ کی ابتداء ہوجائے گی ، لہٰذا چاند کی تقویم آسان ہے۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ عبادات کے معاملہ میں چاند کی جنتری کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ سورة بقرہ جامع سورة ہے ۔ اس میں تمام عبادات کا ذکر آ گیا ہے یعنی اصلاح عقیدہ کے بعد نماز کا بیان آیا ، پھر زکوٰۃ کا بیان ہوا ، اس کے بعد روزہ کے احکام آئے اور اس اس آیت میں حج کا بیان بھی آ گیا ہے ، تو گویا تمام عبادت کا تعلق قمری تقویم سے ہے ، اور ایک مسلمان کے لیے اس کے بغیر چارہ نہیں ۔
حج کے لیے جلدی
اس آیت میں حج کا اشارتا ًذکر کیا ہے ، آگے تفصیل آئے گی ، الحج اشھرمعلومت یعنی حج کے مہینے معلوم ہیں اور ان کا تعین بلا شبہ چاند سے ہی ہوتا ہے ، حج ایک فرض عبادت ہے ، ہر صاحب استطاعت پر عمر بھر میں ایک دفعہ حج کرنا فرض ہے ، اس کے علاوہ جتنی دفعہ حج کرے گا ، اجر وثواب کا مستحق ہوگا ۔ نماز ہر روز پانچ دفعہ ادا کرنی ہوتی ہے ، زکوٰۃ سال میں ایک دفعہ فرض ہے اور روزے بارہ مہینوں میں ایک ماہ کے فرض ہیں ، ارکان اسلام میں سے حج کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اس میں مالی اخراجات کے علاوہ جسمانی مشقت بھی برداشت کرنا پڑتی ہے ، لہٰذا جب کوئی مسلمان صاحب استطاعت ہوجائے ۔ اللہ تعالیٰ اس کو حج کرنے کی توفیق عطا فرمادے تو پھر اسے چاہئے کہ دیر نہ کرے بلکہ فوری طور پر ادائیگی کی کوشش کرے فانہ لا یدری کیونکہ اسے علم نہیں کہ آگے کس قسم کے حالات پیش آنے والے ہیں ، لہٰذا اسے اس فرض سے جلد سبکدوش ہوجانا چاہئے ، کوئی حادثہ پیش آسکتا ہے ، انسان بیمارہو سکتا ہے ۔ مال ضائع ہونے کا احتمال ہوتا ہے ، لہٰذا انسان کو حج کے معاملہ میں دیر نہیں کرنی چاہئے بلکہ اولین فرصت میں سفر حج پر روانہ ہوجانا چاہئے اور پھر اس فرض کی ادائیگی میں سستی کرنے والوں کے لیے وعید بھی بڑی سخت آئی ہے حضور ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص پر حج فرض ہوگیا اور اس کی ادائیگی میں کوئی امر مانع نہیں ہے اور وہ اس کے لیے کوشش نہیں کرتا تو ایسا شخص یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کرہ میں اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اسلام کا پانچواں رکن جہاد ہے ، یہ حج سے بھی زیادہ مشکل کام ہے ، اس میں جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلنا پڑتا ہے اور اس کے ساتھ مال بھی خرچ کرنا ہوتا ہے کیونکہ اس میں یہ دونوں عمل شامل ہیں۔ وجاھد وابا موالکم وانفسکم یعنی مال اور جان دونوں چیزوں کے ساتھ جہاد کرو۔
رسومات باطلہ
حج کا ذکر آیا تو اس میں بعض رسومات باطلہ کا رد بھی پایا جاتا ہے ، زمانہ جاہلیت میں عربوں کا یہ دستور تھا کہ جب کسی سفر پر نکلتے ، خواہ وہ حج کا سفر ہی کیوں نہ ہوں ، اور گھر میں کوئی چیز بھول جاتے تو پھر واپس آ کر مکان کے دروازے سے داخل نہیں ہوتے تھے ، بلکہ اس کے پیچھے سے آتے تھے ، خواہ انہیں دیوار توڑنی پڑے یا پھلانگنی پڑے ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسی چیز سے منع فرمایا ہے۔ ارشاد ہوا ولیس البر اور یہ کوئی نیک نہیں ہے بان تاتوا البیوت من ظھہورھا کہ تم اپنے گھروں میں پشت کی طرف سے آئو ، بلکہ اگر واپس آنے کی ضرورت پیش آ ہی جائے تو واتوالبیوت من ابوابھا تو دروازے کے راستے سے اندر داخل ہونا چاہئے ، فرمایا یہ کون سی نیکی ہے کہ تم دیوار پھلانگتے پھرو ، ولکن البر من اتقی بلکہ نیکی تو اس شخص کی ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈر گیا ہے اپنے اندر خوف خدا پیدا کر کے اس کے احکام کی پیروی کرو ، یہی اصل نیکی ہے ، جاہلیت کی رسوم باطلہ کو ترک کر دو ، مفسرین کرام (رح) فرماتے ہیں کہ یہاں پر رسومات باطلہ کی تردید کر کے اللہ تعالیٰ نے ایک بڑا اصول بیان فرما دیا ہے کہ اصل نیکی تو تقویٰ ہے ، جب تقویٰ پیدا ہوجائے تو تمام معاملات درست ہوجائیں گے ، رسومات باطلہ خود بخود ختم ہوجائیں گے شرک بدعت اور دیگر رسوم پر عمل کرنے سے نیکی نہیں آسکتی ۔ نیکی تو تقویٰ کو اختیار کرنے سے آئیگی ، لہٰذا اس کے لیے کوشش کرو۔
صراط مستقیم
حصول نیکی کے متعلق ایک مسلمہ اصول یہ ہے کہ شریعت کے اصول پر چل کر ہی آدمی کامیاب ہو سکتا ہے ۔ صراط مستقیم وہی ہے جو شریعت نے قائم کیا ہے ، اگر اس راستہ کو اختیار نہیں کرو گے تو فلاح نصیب نہیں ہو سکتی ۔ کام کوئی بھی ہو ، خواہ اس کا تعلق عبادات سے ہو یا معاملات سے ، ٹرسٹ سے ہو یا نظام حکومت سے ، ہر صورت میں کامیابی کا راز صراط مستقیم پر چلنے میں مضمر ہے ، تاریخ شاہد ہے کہ مسلمان اس اہم قانون کی خلاف ورزی کر کے ناکام ہوئے۔ انفرادی حیثیت سے لے کر نظام حکومت تک سب کی درستگی قرآن و سنت کا راستہ اختیار کرنے پر منحصر ہے۔ اسلام کے نفاذ کے لیے جب تک اسلام کا بتایا ہوا طریقہ اختیار نہیں کیا جائے گا ، کامیابی نہیں ہو سکتی ۔ پورے نظام حکومت کی تبدیلی محض بیورو کریسی کے ذریعے ممکن نہیں ہے ، یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے اسلام کا بتایا ہوا صراط مستقیم اختیار کرنا پڑے گا ۔ فرمایا نیکی یہ ہے کہ تقویٰ اختیار کیا جائے۔ واتقوا للہ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو ، تقویٰ کا قانون قرآن پاک میں بار بار بیان ہوا ہے۔ کہیں فرمایا ھدی للمتقین یعنی یہ ہدایت متقین کے لیے ہے۔ اگر یہ تقویٰ اختیار کرو گے تو فوز و فلاح کے درواے کھلیں گے ۔ لعلکم تفلحون تا کہ تم فلاح پا جائو ، کامیاب ہو جائو۔
Ayahs 2:190–193جہاد کی قسمیں
اسلام کے پہلے چار ارکان کا بیان سابقہ دروس میں آ چکا ہے ، اب یہاں سے جہاں کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ لفظ جہاد ایک عام لفظ ہے اور یہ وسیع تر معانی میں استعمال ہوتا ہے ، اور قتال خاص ہے ، جس سے مراد جنگ ہے ، جہاد ظاہری اور باطنی طاقت کو دشمن کے مقابلے میں بقائے امن اور اقامت دین کے لیے خرچ کرنے کا نام ہے۔ حضور ﷺ نے جہاد کی کئی شکلیں بیان فرمائی ہیں ۔ فرمایا یا جاھد والمشرکین باموالکم وانفسکم والسنتکم یعنی مشرکوں کے خلاف اپنے مال جان اور زبان کے ساتھ جہاد کرو ، یہ صحیح حدیث مسند احمد اور بو دائود شریف میں موجود ہے ، جان و مال کے ساتھ جہاد کی صورت تو واضح ہے کہ کلمہ توحید بلند کرنے کے لیے انسان مال خرچ کر کے دو ر دراز کے سفر کی صعوبتیں برداشت کرتا ہے ، تیر و تلوار اٹھاتا ہے اور پھر اپنی جان تک کا نذرانہ پیش کردیتا ہے ، البتہ زبان کے ساتھ جہاد سے مراد اللہ تعالیٰ کے دین کی تبلیغ اور لوگوں کے شکوک و شبہات کو دور کرنا ہے ، تصنیف و تالیف کی ہے ، دین کی کوئی کتاب لکھی ہے رسالہ ترتیب دیا ہے ، بحث و مناظرہ کہا ہے ، یہ سب چیزیں جہاد باللسان کا حصہ ہیں ۔ حضور ﷺ کا مبارک فرمان ہے یوزن مداد العلماء بدم الشھداء یوم القیامۃ یعنی دینی تصنیف و تالیف کا کام کرنے والے علماء کی سیاہی کا وزن قیامت کے روز شہیدوں کے خون کے ساتھ کیا جائے گا ، یعنی اللہ کے راستے میں خرچ ہونے والی سیاہی شہداء کے خون کے برابر مرتبہ رکھتی ہے۔ یہ اتنا بڑا کام ہے اور شہید کے متعلق حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ یغفرباول القطرۃ یعنی شہید اپنے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے معاف کردیا جاتا ہے۔ بخش دیا جاتا ہے ، اس کے تمام حقوق اللہ معاف ہوجاتے ہیں ، البتہ حقوق العباد کا بار اس کے سر پر باقی رہتا ہے ، کسی کے ساتھ لین دین کیا ہو ، کسی کی ایذا رسانی کی ہو ، دل دکھایا ہو ، اس کا معاملہ فریق ثانی کے ساتھ ہے ، اس لیے ایسے حق کی معافی متعلقہ حقدار کے ذریعہ ہی ممکن ہوست کی ہے۔ اللہ کی راہ میں شہید ہونے والے کو اور بھی کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں ، وہ قبر کی آزمائش سے مامون ہوجاتا ہے ، اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ اس کی سفارش بھی قبول فرماتے ہیں ، اور اس کو بہت اعلیٰ مقام حاصل ہوتا ہے ، یہ جہاد بالسیف ہے جس کی تعریف میں خود اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں فیقتلون ویقتلون یعنی کبھی مومن کافر کو مار ڈالتا ہے اور کبھی خود شہید ہوجاتا ہے۔
جہاد پر اعتراض
مسلمانوں کے مسئلہ جہاد پر بعض بےدین قسم کے لوگوں خصوصاً عیسائیوں نے اعتراض کیا ہے کہ لوگوں کو تلوار کے ذریعے مرعوب کر کے دین میں داخل کرنا کہاں کا انصاف ہے ، تا ہم اگر تعصب کی عینک اتار کر دیکھا جائے تو محسوس ہوگا کہ جہاد کا حکم فطرت کے عین مطابق ہے ، بلکہ بعض اوقات یہ لازم ہوجاتا ہے جب دنیا میں فتنہ و فساد کا بازار گرم ہوجائے ، کسی کی جان و مال محفوظ نہ رہے تو پھر ایسے لوگوں کے خلاف جہاد فرض ہوجاتا ہے۔ اگر دنیا کے متمدن لوگ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ عوام کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت ہونی چاہئے۔ تو پھر انہیں فلسفہ جہاد کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا ، کیونکہ اس کے بغیر ظلم و ستم کی بیخ کنی ممکن ہی نہیں۔
اقدامی اور دفاعی جہاد
جہاد دو قسم کا ہے اقدامی یعنی جارحانہ اور دفاعی یعنی مدافعانہ مسلمان کے لیے عام حکم یہی ہے کہ وہ جنگ میں پہل نہ کرے بلکہ اگر دشمن حملہ آور ہوجائے تو اپنا دفاع کرے ، مگر بعض اوقات اقدامی جہاد بھی ضروری ہوجاتا ہے۔ شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ بعض نفوس شر پسند ہوتے ہیں ، وہ ہمیشہ دوسروں کے مال و جان کے نقصان کی تاک میں رہتے ہیں اور معاشرے کے امن وامان کو تباہ کرتے رہتے ہیں ، بنی نوع انسان کے امن کی خاطر لوگوں کے جان و مال اور عزت و ناموس کی خاطر بعض اوقات جہاد میں جارحانہ انداز بھی اختیار کرنا پڑتا ہے تا کہ اس شر و فساد کا قلع قم کیا جاسکے جس نے معاشرے کے امن وامان کو تہہ وبالا کر رکھا ہے۔ شاہ صاحب (رح) نے حجۃ اللہ البالغہ میں ایسے شخص کی مثال خطرناک پھوڑے سے ہی کی ہے جس طرح انسانی جسم کی حفاظت کے لیے جسم کے گلے سڑے حصے کو کاٹ دینا ہی بہتر ہے یا جس طرح کسی پھوڑے کا آپریشن کردینا مریض کی صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے ، اسی طرح پورے معاشرہ کی حفاظت کی خاطر کسی ناپسند یدہ عنصر کے خلاف قتال بھی ضروری ہوجاتا ہے اور ایسے شخص کو معاشرے سے کاٹ پھینکنا ہی معاشرے کے وسیع تر مفاد میں ہوتا ہے ، لہٰذا اسلام نے دونوں قسم کے جہاد کی اجازت دی ہے ، مسلمان دفاعی جنگ بھی لڑ سکتا ہے اور بوقت ضرورت حملے میں پہل بھی کرسکتا ہے۔
قتال کا حکم
اسلام کے تیرہ سالہ ابتدائی مکی دور میں اہل ایمان نے کفار کے ہاتھوں بڑی سے بڑی تکلیف برداشت کی ، مگر ہاتھ نہیں اٹھایا ، کیونکہ اللہ کا حکم تھا کفوا ایدیکم اپنے ہاتھ روکے رکھو۔ نماز قائم کرو او جماعتی تنظیم کرو ، پھر جب مدنی دور میں اسلام طاقتور ہوگیا ، تو اللہ تعالیٰ نے جہاد کی اجازت دے دی اذن للذین یقتلون کہ وہ بھی دشمن کے سامنے ڈٹ جائیں ، اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے چناچہ اس کے بعد جہاد بالسیف کے ابتدائی اور اللہ نے واضح حکم دے دیا ۔ وقاتلوا سبیل اللہ الذین یقتلونکم یعنی اللہ کے راستے میں ان لوگوں سے لڑو ، جو تم سے لڑتے ہیں۔
کفار کی طرف سے پہل
ظاہر ہے کہ یہ دفاعی جنگ کا حکم ہے ، ان کی طرف سے پہل ہوگی ، تو ان کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم ہوا اور ابتداء میں ایسا ہی ہوا ، پہل کفار کی طرف سے ہی ہوئی ۔ مشرکین نے تیرہ سال تک اہل ایمان کو مکہ میں ستایا ، پھر ہجرت پر مجبور کیا ۔ بہت سی جانوں کو تلف کیا حتیٰ کہ پیغمبر خدا ﷺ کے قتل کے در پے ہوئے ۔ ہجرت کے بعد بھی کفار نے مسلمانوں کا پیچھا کیا ، جنگ بدر ، جنگ احد اور جنگ احزاب ویرہ اس بات کے واضح شواہد ہیں ۔ الرڈ ہیڈلے پہلی جنگ عظیم کے زمانہ میں لنڈن میں ہوا ہے۔ عیسائی مذہب رکھتا تھا ، بعد میں اسلام کی دولت سے مشرف ہوا ، بنیادی طور پر بیرسٹر تھا ، پھر دین کا علم بھی حاصل کیا ، اس نے کہا تھا کہ غیر مسلم اقوام مسلمانوں کے مسئلہ جہاد کی وجہ سے انہیں بد نام کر رہی ہیں ، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جنگ کی ابتداء مسلمان نہیں کرتے بلکہ وہ تو اپنا دفاع کرتے ہیں ، وہ اپنے دعویٰ کو جغرافیائی طور پر ثابت کرتا ہے کہ دیکھو مسلمان کے ساتھ دیکھو مسلمانوں کے ساتھ پہلی تین جنگیں کہاں لڑی گئیں ، پہلی جنگ بدر کے مقام پر ہوئی جو مکہ سے سینکڑوں میل دور ہے ، جب کہ مدینہ سے قریب ہے ، پھر دوسری جنگ احد کے میدان میں ہوئی ، وہ بالکل ہی مدینہ کے مضافات کا واقعہ ہے۔ کفار نے اتنی دور سے مدینہ پر چڑھائی کی اور تیسری بڑی لڑائی جنگ خندق ہے ۔ اس میں بھی کفارتین سو میل کا سفر طے کر کے حملہ آور ہوئے مگر اہل اسلا م نے مدینہ کے اندر رہ کر اپنا دفاع کیا ، لہٰذا مسلمانوں پر یہ الزام لگانا قطعا ً ناروا ہے کہ ان کا دین تلوار کے ذریعے پھیلا۔
زیادتی کی ممانعت
فرمایا جو تم سے لڑتے ہیں ، تمہیں بھی ان سے لڑنے کی اجازت ہے ۔ ولا تعتدوا مگر زیادتی نہ کرو ، زیادتی نہ کرنے کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جو کوئی تم سے لڑائی نہیں کرتا ، تم اس سے مٹ لڑو اور بےگناہوں کو قتل نہ کرو ۔ مقصد یہ کہ تم سے تو لڑنے کے لیے میدان جنگ میں نوجوان آئے ہیں ، تم ان کو ما رو مگر ان کے بچوں ، ان کے بوڑھوں اور ان کی عورتوں پر ہاتھ نہ اٹھائو ۔ ایک جنگ کے دوران حضور ﷺ نے دیکھا کہ ایک عورت مری پڑی ہے۔ آپ بہت ناراض ہوئے اور نھی عن قتل النساء والصبیان عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا کہ یہ زیادتی ہ۔ اسی طرح کوئی بہت بوڑھا ہے۔ معذور ہے ، ہتھیار بھی نہیں اٹھا سکتا ، یا اصحاب الصوامع میں سے ہے۔ کہ کٹیا میں بیٹھا رہتا ہے۔ دنیا سے کنارہ کش ہو کر عبادت میں مصروف رہتا ہے ، ایسے شخص پر ہتھیار اٹھانا تعدی کی بات ہے ، ایسا نہیں کرنا چاہئے۔
خلفائے راشدین نے بھی اپنے اپنے عہد میں حکم دیا اغزوا فی سبیل اللہ اللہ کے راستے میں جہاد کرو ، مگر کسی بوڑھے کو قتل نہ کرنا ، کسی بچے پر ہاتھ نہ اٹھانا ، کسی عورت کو تکلیف نہ پہنچانا اور جو لوگ دنیا سے الگ تھلگ گرجا یا کٹیا میں جا گزیں ہوگئے ہیں ان کو بھی قتل نہ کرنا جو کوئی تمہارے مقابلے پر لڑنے کے لیے آتا ہے اس سے لڑائی کرو ، اور اس کو قتل کرو ، بےگناہ پر زیادتی مت کرو ، حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے تو یہاں تک وصیت فرمائی تھی کہ کسی پھل دار درخت کو نہ کاٹنا ، سوائے اس کے کسی خاص ضرورت کے تحت ہو ، محض غنیم کو نقصان پہنچانے کے لئے ایسا کرنا درست نہیں۔
جہاد کا مقصد
مفسرین کرام نے ولا تعتدوا کا ایک اور مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جہاد صرف دین کی خاطر کرو ، اس کے علاوہ جہاد کا اور کوئی مقصد نہیں ہونا چاہئے ، اگر کوئی شخص شہرت حاصل کرنے کے لیے ، بہادری دکھانے کے لیے یا مال و دولت اکٹھا کرنے کے لیے جہاد میں شریک ہوتا ہے تو یہ زیادتی ہوگی ۔ اسی لیے فرمایا زیادتی نہ کرو ، بلکہ خالص دین کی سر بلندی کے لیے جہاد میں حصہ لو ۔ گویا اسلام کا جہاد اتنا پاکیزہ ہے کہ دین کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے اسکی اجازت ہی نہیں دی گئی۔ اب اسلام کے جہاد پر اعتراض کرنے والے نام نہاد متمدن لوگوں کا حال ملاحظہ فرمائیں۔ دنیا کی خاطر لڑی جانے والی جنگ میں ہزاروں لاکھوں بےگناہ جانوں کو قتل کردیتے ہیں۔ ہسپتالوں پر بمباری کر کے مریضوں تک کی پرواہ نہیں کرتے ۔ دوسری جنگ عظیم میں چھ کروڑ کے قریب انسان لقمہ اجل بن گئے ۔ پہلی جنگ عظیم میں دو کروڑ کے لگ بھگ جانیں تلف ہوجائیں ۔ اندھا دھند بمباری سے کھیت تباہ ہوگئے ، جانور ہلاک ہوئے ، عورتیں اور بچے بھی اس ہلاکت کا شکار ہوئے ، آخر یہ کون سی تہذیب اور کونسا تمدن ہے۔ ان اللہ لا یحب المعتدین بیشک اللہ تعالیٰ زیادتی کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔
جہاد کے اصول
اللہ تعالیٰ نے جہاد کے بھی کچھ اصول مقرر فرمائے ہیں ، جن کے تحت ہی جنگ لڑی جاسکتی ہے۔ فرمایا واقتلوھم حیث تقفتموھم یعنی جن لوگوں سے تمہیں جہاد کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ان سے جنگ کرو ، جہاں بھی انہیں پاوء ۔ واخر جو ھم من حیث اخرجوکم اور تم بھی انہیں اس جگہ سے نکالو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا۔ مشرکین نے تمہیں مکہ سے نکلنے پر مجبور کیا تھا ، اب یہ بھی اسی سلوک کے مستحق ہیں اور یاد رکھو والفتنۃ اشد من القتل فتنہ تو قتل سے بھی زیادہ سخت ہے فتنہ سے مراد کفر و شرک کا غلبہ ، بد نظمی ، ظلم و زیادتی ہے ، اگر یہ لوگ ان وجوہات کی بناء پر ایمان کے راستے میں رکاوٹ بن جائیں تو یہ قتل سے بھی زیادہ سنگین جرم ہے۔ البتہ ایک اصول یاد رکھو ولا تقتلوھم عند المسجد الحرام انہیں مسجد الحرام کے پاس قتل نہ کرو یہ حرم پاک کے تقدس کا تقاضا ہے۔ حتی یقتلو کم فیہ یہاں تک کہ وہ خود تم سے مسجد حرام میں جنگ کریں ۔ فان قتلوکم اگر وہ تم سے لڑائی کریں۔ فاقتلوھم تو تم بھی ان سے جہاد کرو ، مقصد یہ کہ مسجد حرام کی حرمت و عظمت کا تقاضا ہے کہ تمہاری طرف سے پہل نہ ہو ، اور اگر وہ باز نہ آئیں تو پھر تمہیں بھی دفاع کی اجازت ہے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا ہے اس خطے کو محترم بنایا ہے ، حتیٰ کہ یہاں کے درخت کاٹنا بھی جائز نہیں ، خود رو گھاس نہیں کاٹی جاسکتی کسی جانور کو ایذا نہیں پہنچائی جاسکتی ، شکار نہیں کیا جاسکتا بلکہ شکار کو چھیڑنا بھی جائز نہیں ۔ یہاں پر لڑائی تو بالکل ہی حرام ہے۔ یہاں تک کہ کوئی دوسرا تم پر حملہ آور ہو ۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ فتح مکہ کے دن اللہ تعالیٰ نے دن کے کچھ حصہ کے لیے میرے واسطے حر م میں لڑائی کو حلال قرار دیا تھا اور وہ بھی اس صورت میں کہ مشرک آمادہ جنگ ہوں اس کے بعد قیامت تک کے لیے اس خطرپاک پر لڑائی کو حرام کردیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے من دخلہ کان امنا یعنی جو کوئی حرم میں داخل ہوگیا اسے امن مل گیا ۔ الغرض فرمایا کہ مسجد حرا م کے پاس اگر مشرک لڑائی کی ابتدائی کریں تو تمہیں بھی جواب دینے کی اجازت ہے ، تم بھی انہیں قتل کرو کذلک جزاء الکفرین کفار کا یہی بدلہ ہے۔ فان انتھوا اور اگر وہ لڑائی سے باز آجائیں اور صلح کرلیں ، تو لڑائی کو طول دینے کی ضرورت نہیں اور اگر وہ ایمان قبول کرلیں تو معاملہ بالکل ہی صاف ہوگیا ۔ فان اللہ غفور رحیم اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے ، ان کے تمام سابقہ گناہ معاف ہوجائیں گے۔
فتنہ و فساد کی بیخ کنی
اب آگے جہاد کی حکمت بھی بیان فرما دی ہے۔ وقاتلوھم حتی لا تکون فتنہ ان کے ساتھ جنگ کرو حتیٰ کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے۔ جہاد کی اصل غرض وغایت بھی یہ ہے کہ دنیا سے فتنہ و فساد و جنگ وجدل بد امنی اور بد نظمی اور کفر و شرک کا قلع قمع کردیا جائے تا کہ غلبہ اسلام کے راستے میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ ہو سکے۔ ویکون الدین للہ اور اطاعت صرف اللہ ہی کیلئے باقی رہے یعنی جو کوئی دین اسلام میں داخل ہونا چاہئے اسے کوئی شخص روکنے والا نہ ہو اور وہ بلا خوف و خطر دین ھنیف کو اختیار کرسکے ۔ فرمایا فان انتھوا اگر یہ لوگ اس قسم کی فتنہ انگریز سے باز آجائیں دین کے راستہ میں رکاوٹ نہ بنیں ، زیادتی نہ کریں فلا عدوان الا علی الظلمین تو ان پر کوئی زیادتی نہیں ہے ، البتہ جو ظالم ہوگا ، اس کے خلاف جہاد کیا جائے گا تا کہ دنیا میں عدل و انصاف کو قائم کیا جاسکے اور فتنہ و فساد کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کیا جاسکے ۔ اللہ تعالیٰ نے جہاد کے احکام بھی بیان فرما دیے فریضہ حج کے بعد اسلام کا یہ ایک اہم رکن ہے۔