2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 2:250–251

وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ Open ayah 2:250 in the Quran reader

اور جب جالوس اور اس کے لشکر کے سامنے ہوئے تو کہنے لگے اے ہمارے پروردگار ! ہمارے اوپر صبر ڈال دے اور ہمارے قدموں کو ثابت رکھ۔ اور کافر قوم کے مقابلے میں ہماری مدد فرما

فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۙ۫ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:251 in the Quran reader

پس اہل ایمان نے اُن ( کافروں) کو شکست دی اللہ کے حکم سے اور قتل کیا حضرت دائود (علیہ السلام) نے جالوت کو اور اللہ تعالیٰ نے دائود کو سلطنت اور حکمت دی۔ اور جو چاہا سکھایا اور اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بعض کے سامنے دفع نہ کرتا تو زمین خراب ہوجاتی ، مگر اللہ تعالیٰ جہان والوں پر فضل کرنے والا ہے

ربطہ آیات گذشتہ درس میں طالوت کے لشکر کی روانگی کا تذکرہ تھا کہ جب وہ دشمن کی طرف چلے تو راستے میں طالوت نے اپنی فوج کو آزمایا کہ یہ لوگ کس حد تک تکالیف برداشت کرسکتے ہیں۔ راستے میں نہر پڑتی ہے اللہ کے حکم سے طالوت نے اپنے سپاہیوں کو اس نہر سے پانی پینے سے منع کردیا۔ اور پیاس برداشت کر نیکی تلقین کی۔ ہاں البتہ سخت شدت کی صورت میں چلو بھر پانی پی لینے کی اجازت دی مگر لشکر کی اکثریت پیاس برداشت نہ کرسکی اور انہوں نے خوب سیر ہو کر پانی پیا جسکی وجہ سے ان میں سستی اور کاہلی پیدا ہوگئی اور وہ آگے سفر کرنے کے قابل نہ رہے لہٰذا تھک ہار کر وہیں بیٹھ گئے۔ طالوت صرف 313 سپاہیوں کا لشکر لے کر نہر سے پار ہوئے۔ اب فوج تین گروہوں میں تقسیم ہوچکی ہے جنہوں نے خوب پانی پیا وہ ناقص الایمان لوگ تھے اور وہ ادھر رہ گئے جو نہر سے پار گئے ان میں بھی دو طرح کے آدمی تھے جنہوں نے چلو بھر پانی پیا تھا وہ کامل الایمان تھے مگر 313 کے مقابلے میں دشمن کی کثیر تعداد دیکھ کر خوفزدہ ہوگئے اور کہنے لگے کہ ہم جالوت کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے تیسرا گروہ جس نے بالکل پانی نہیں پیا تھا وہ اکمل الایمان لوگ تھے جنہوں نے دوسروں کو تسلی دی کہ تعداد کی کثرت اور قلت سے مت گھبرائو۔ دنیا میں کتنے ہی واقعات پیش آچکے ہیں جن میں قلت نے اکثریت کو شکست دی۔ فتح و شکست اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے لہٰذا تم صبرو استقامت پر قائم رہ کر جہاد کرو اللہ تعالیٰ فتح دیگا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ صابروں کے ساتھ ہونا ہے اب آیات زیر درس میں دونوں لشکروں میں جنگ کا حال بیان ہورہا ہے کہ کس طرح بنی اسرائیل نے میدان جنگ میں پہنچ کر اللہ تعالیٰ سے کامیابی کی دعا کی اور پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح سے نوازا۔ میدان جنگ میں دعا گذشتہ درس میں اسلامی سپاہ کے اوصاف بیان ہوچکے ہیں کہ ان کے اندر حرص کا مادہ نہیں ہوناچاہئے نیز یہ لوگ صبر و استقلال کے پیکر اور اچھے اخلاق کے حامل ہونے چاہئیں اور ان کا آخری وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور کامیابی کے لئے دست بدعا رہتے ہیں۔ آج کے درس میں سب سے پہلے اسی دعا کا ذکر ہے ارشاد ہوتا ہے۔ ولما برزوا لجالوت و جنودہ جب بنی اسرائیل جالوت کے لشکر کے سامنے ہوئے قالوا تو انہوں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیے اور کہنے لگے ، ربنا افرغ علینا صبراً اے ہمارے پروردگا ! ہم پر صبر ڈال دے وثبت اقدامنا اور ہمارے قدموں کو ثابت رکھ وانصر نا علی القوم الکفرین اور کافروں کے مقابلے میں ہماری مددفرما۔ دعا ایک ایسی اعلیٰ وارفع چیز ہے جس کے ذریعے انسان اپنے رب کے ساتھ تعلق قائم کرتا ہے۔ خاص طور پر میدان جنگ میں غیر مسلم قوتیں اپنی طاقت کے غرور میں شراب پی کر اور گانے گاتے ہوئے جنگ کا ابتداء کرتے ہیں۔ جب کہ ایمان والے جنگ شروع کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑا کر فتح کی دعائیں کرتے ہیں کیونکہ دعا ایسی چیز ہے جو ساری عبادت کا نچوڑ ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا الدعاء مح العبادۃ یعنی دعا عبادت کا مغز ہے ۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضور ﷺ نے تمام غزوات میں میدان جنگ میں پہنچ کر دعائیں کی ہیں جنگ بدر کے متعلق بخاری ، مسلم نسائی اور حدیث کی دوسری کتب میں مذکور ہے کہ حضور ﷺ نے کس قدر گڑا گڑا کر دعا فرمائی۔ آپ رات بھر عاجزی و انکساری کے ساتھ دعا مانگتے رہے حتیٰ کہ آپ کی چادر مبارک بھی کندھے سے سرک گئی۔ آپ فرما رہے تھے اللھم ان تھلک ھذہ العصباۃ لا تعبد فی الارض اے مولا کریم ! میں نے یہ مٹھی بھر اہل ایمان تیرے نام پر جنگ میں دھکیل دئیے۔ اگر یہ ہلاک ہگوئے تو روئے زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں رہے گا۔ آپ نے ایمان والوں کو حکم دیا کہ وہ جب بھی دشمن کے مقابلے میں نکلیں تو اس طرح دعا کریں اللھم منزل الکتب و مجری السحاب اے کتاب نازل کرنے والے اور بادلوں کو چلانے والے اللہ ! اھزم الاحزاب لشکر کفار کو شکست دے اور ہم کو فتح سے سرفراز فرما۔ حضور نے ایسی جامع دعا سکھائی کہ پہلے لفظ میں ہی اسکی حقیقت کو واضح فرما دیا۔ اللھم منزل الکتب یعنی اے اللہ ! جس نے کتاب نازل فرمائی ہے مقصد یہ ہے کہ ہم یہ جنگ اس لیے کر رہے ہیں کہ اس پروگرام پر عمل درآمد کرسکیں جو تو نے کتاب اتار کر ہمیں دیا ہے اس جنگ سے ہماری کوئی ذاتی اغراض وابستہ نہیں ہیں۔ بلکہ تیری کتاب کے احکام لوگوں تک پہنچانے مقصود ہیں اور اس راستے میں جو رکاوٹ آئے اس کو دور کرنا مقصود ہے۔ ہمارا مقصد ہوس ملک گیری نہیں ہم مال غنیمت کے لیے نہیں آئے اور نہ لوگوں کو غلام بنانے کی خاطر آئے ہیں بلکہ ہم نے اعلائے کلمۃ الحق کے لیے اپنی جانوں کو اپنی ہتھیلیوں پر رکھا ہے۔ اللھم امن روعاتنا واسترعوراتنا اے اللہ ! ہمارے خطروں کو ٹال دے اور ہمارے عیوب پر پردہ ڈال۔ غرضیکہ حضور ﷺ نے میدان جنگ کے لیے خود دعائیں کی ہیں اور صحابہ ؓ کو سکھائی ہیں حضرت علی ؓ نے دیکھا کہ بدر کے میدان میں سجدے کی حالت میں حضور ﷺ بھی نہایت عاجزی کے ساتھ یا حی یا قیوم کہہ رہے ہیں ۔ اے اللہ ! ہم تیری رضا کی خاطر آئے ہیں۔ ہماری زندگی اور موت تیرے ہاتھ میں ہے۔ کافروں کے مقابلے میں ہمارا غلبہ تیری مشیت پر منحصر ہے۔ یہ دیکھ کر حضرت علی ؓ چلے گئے۔ میدان جنگ کا چکر لگا کر واپس آئے تو دیکھا کہ حضور ﷺ اسی طرح سجدہ میں پڑے ہوئے ہیں اور اللہ کے حضور دعائیں کر رہے ہیں۔ الغرض ! طالوت مٹھی بھر ساتھیوں کے ساتھ میدان میں اترا۔ اللہ کے نبی سموئیل (علیہ السلام) بھی ان کے ہمراہ تھے۔ جالوت کا کثیر لشکر دیکھ کر دل دہل گیا۔ اس وقت گڑ گڑا کر دعا کی ربنا اے ہمارے پروردگا ! دعا کے ابتداء میں خدا تعالیٰ کی صفت ربوبیت کو مقدم رکھا۔ کیونکہ پالنا اور درجہ کمال تک پہنچانا صفت ربوبیت کا کرشمہ ہے۔ ربنا کے لفظ کے ساتھ اپنی عاجزی اور انکساری کا اظہار کیا جیسا کہ اکثر دعائوں کی ابتداء میں یہ لفظ آتا ہے جیسے ربنا اتنا فی الدنیا جیسے ربنا ھب لنا یا ربنا اغفرلنا وغیرہ یہاں پر یہ دعا کی ربنا افرغ علینا صبراً اے اللہ ! ہم پر صبر ڈال دے یا صبر انڈیل دے۔ ہم میں صبر کا مادہ پیدا ہوجائے وثبت اقدامنا اور ہمیں ثابت قدم رکھ۔ ہمارے پائے استقلال میں لغزش نہ آنے پائے اور ہم دلجمعی کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کرسکیں۔ یہ ایسا موقع تھا کہ دشمن کی قوت کو دیکھ کر اہل ایمان کو سخت پریشانی لاحق تھی حتیٰ کہ بلغت القلوب الحتجر ان کے دل اچھل کر گلے تک آگئے تھے ، کا منظر تھا قو اس حالت میں وہ رب العزت سے دعا کر رہے تھے کہ مولا کریم ! ہمیں دشمن کے مقابلے میں صبر کی دولت عطا کر اور ہمارے قدموں کو ثابت رکھ اور پھر آخری بات یہ کہ وانصرنا علی القوم الکفرین کافروں کے خلاف ہماری مدد فرما اور ان پر غلبہ عطا فرما۔ کفار کے پروگرام کے داعی ہیں۔ اور اہل ایمان حق کا کلمہ بلند کرنا چاہتے ہیں۔ نیکی ، اطاعت اور تیری رضا کا پروگرام نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا ان کی نصرت فرما۔ جب جالوت نے دیکھا کہ مقابلے میں معمولی سا لشکر ہے تو کہنے لگا میری ساری فوج کو لڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لشکر کے لیے تو میں اکیلا ہی کافی ہوں۔ اس زمانے میں جنگ کا طریقہ یہ تھا کہ ابتداء میں دونوں طرفوں سے ایک ایک آدمی نکلتا اور مقابلہ کرتا۔ پھر دونوں اطراف سے ایک ایک اور سپاہی نکلتا ہے۔ حتیٰ کہ عام جنگ شروع ہوجاتی۔ حضور ﷺ کے زمانہ میں جنگ بدر میں بھی ایسا ہی ہوا تھا جب کفار مکہ نے مقابلے کے لیے مسلمانوں کو للکارا تو مسلمانوں کی طرف سے انصار مدینہ میں سے کچھ جانباز نکلے مگر کفار نے کہا۔ کہ یہ تو مدینہ کے کاشتکار ہیں۔ ہمارے مقابلے کے لیے ہمارے ہم پلہ لو گ آئیں۔ چناچہ حضور ﷺ نے حضر ت علی ؓ حضرت حمزہ ؓ اور حضرت عبیدہ ؓ کو میدان میں آنے کا حکم دیا۔ چناچہ ادھر سے حضرت عبیدہ ؓ شہید ہوئے اور کفار کے تین جوان جہنم واصل ہوئے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کا کارنامہ اہل اسلام کے لشکر میں حضرت دائود (علیہ السلام) کے والد ایساع یا یسی بن عویبد بھی شامل تھے۔ ان کے چھ بیٹے تھے جن میں دائود (علیہ السلام) سب سے کم سن تھے کہتے ہیں کہ آپ کم سنی کے باعث جنگ میں شرکت کے لیے نہیں آئے بلکہ اپنے بڑے بھائیوں کو سامان پہنچانے کے لیے وہاں پہنچے تھے ، اُدھر اللہ کے نبی کو حکم ہوا کہ جالوت کے مقابلے میں دائو د کو نکالو۔ آپ نے ان کے باپ کو بمع چھ بیٹوں کے طلب کیا۔ اور بمطابق حکم الٰہی دائود (علیہ السلام) سے پوچھا کیا وہ جالوت کا مقابلہ کریں گے انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ چناچہ اللہ کے نبی نے آپ کو جالوت کے مقابلہ کے لیے نکالا۔ آپ نے تلوار ، تیر یا نیزہ استعمال کرنے کی بجائے دشمن پر پتھر پھینکنے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ آپ کم سن تھے مگر بڑے ذہین اور پتھر چلانے میں بڑے ماہر تھے۔ چناچہ آپ نے اپنے تھیلے سے ایک پتھر نکالا اسے فلاخن میں ڈالا اور زور سے گھما کر جالوت کو دے مارا جالوت سر تا پا لوہے میں غرق تھا ، صرف اس کا ماتھا کھلا تھا۔ پتھر وہیں پر جا کر لگا۔ اور سر کے پار نکل گیا۔ آپ نے دوسرا اور تیسرا پتھر چلایا تو جالوت زمین پر گر گیا۔ آخر دائود (علیہ السلام) نے اس کے اوپر پہنچ کر اس کا کام تمام کردیا۔ جب لشکر نے دیکھا کہ ان کا سردار مارا گیا ہے تو اس کی جگہ دوسرے نے لینے کی کوشش کی ، مگر وہ بھی کیفر کردار کو پہنچا۔ آخر دشمن کے لشکر میں بھگدڑ مچ گئی ۔ اہل ایمان نے ان کا تعاقب کرکے انہیں مکمل شکست سے ہمکنار کردیا۔ اسی واقعہ کے متعلق یہاں ارشاد ہوا ہے فھزموھم باذن اللہ اسرائیلیوں نے فلسطینیوں کو اللہ کے حکم سے شکست دیدی وقتل دائود جالوت اور حضرت دائود (علیہ السلام) نے سالار لشکر جالوت کو قتل کردیا۔ مناقب حضرت دائود (علیہ السلام) تفسیری روایت میں آتا ہے کہ جب حضرت دائود (علیہ السلام) اپنے باپ اور بھائیوں کے پاس میدان جنگ کی طرف آرہے تھے تو راستے میں درختوں کے پتوں سے آواز آئی۔ اے دائود ! تمہارے قریب یہ پتھر ہیں انہیں اٹھالو ، تمہارے کام آئینگے چناچہ آپ نے ان میں سے تین پتھر اٹھا کر تھیلے میں ڈال لیے اور پھر یہی پتھر آپ نے جالوت پر چلائے جس سے وہ ہلاک ہوگیا۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ آپ ایک دن رو زہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے۔ آپ اتنے بہادر تھے کہ دشمن کے مقابلے میں کبھی پشت نہیں پھیری۔ آپ بچپن میں بکریاں چراتے تھے۔ جب کبھی کوئی بھیڑیا یا شیر بکریوں پر حملہ کرتا تو آپ اس کے جبڑے پھاڑ دیتے۔ اللہ نے اتنی طاقت عطا کی تھی۔ اگرچہ قد میں آپ چھوٹے تھے مگر جس میں قوت بلا کی تھی۔ آپ نہایت خوش الحان تھے۔ جب آپ تلاوت کرتے تو پرندے بھی آپ کی آواز سننے کے لیے ٹھہر جاتے ، ان کا لحن دائودی بھی محاورتاً استعمال ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے لوہے کو آپ کے ہاتھ پر موم کردیا تھا۔ جدھر چاہتے موڑ لیتے۔ چناچہ آپ لوہے کی زرہیں بھی بناتے تھے۔ عبادت کا یہ حال تھا کہ آپ کو عبدالبشر کہا گیا ہے۔ یعنی آپ اپنے زمانے میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھے۔ واٰتہ اللہ الملک اور اللہ تعالیٰ نے دائود (علیہ السلام) کو حکومت بھی عطا کی ، تفسیری روایات میں آتا ہے کہ طالوت کے بعد آپ ان کے جانشین ہوئے آپ کو خلیفہ اللہ کہا جاتا ہے۔ یا دائود انا جعلنک خلیفۃً فی الارض اے دائود ! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ مقرر کیا۔ بائیبل کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی بہادری سے متاثر ہو کر طالوت نے اپنی بیٹی کا نکاح حضرت دائود سے کردیا تھا۔ حکومت کے علاوہ فرمایا والحکمۃ اللہ تعالیٰ نے دائود (علیہ السلام) کو حکمت بھی عطا کی۔ عام طور پر حکمت سے مراد غایت درجہ کی عقلمندی اور معاملہ فہمی ہوتا ہے تاہم بعض فرماتے ہیں کہ یہاں پر حکمت سے مراد نبوت ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت سے بھی سرفراز فرمایا۔ اس سے پہلے ا سرائیلیوں میں حکومت اور نبوت و مختلف شخصیتوں کے پاس ہوتی تھی جیسے نبی سموئیل (علیہ السلام) تھے اور حکومت طالوت کے پاس تھی مگر یہ دونوں چیزیں دائود (علیہ السلام) پر آکر اکٹھی ہوگئیں۔ طالوت کے بعد آپ کو خلافت ملی اور حضرت سموئیل کے بعد آپ نبوت پر بھی سرفراز ہوئے۔ ایک اور خصوصیت جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کی ، وہ ہے وعلمہ مما یشاء اللہ تعالیٰ نے جو چاہا حضرت دائود (علیہ السلام) کو سکھا دیا۔ دائود (علیہ السلام) کا ذکر قرآن پاک میں سولہ 16 مقامات پر آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مختلف فنون اور علوم سے نوازا۔ پرندوں کو بولیوں کے علم کا تذکرہ تو سورة نمل میں موجود ہے ” علمنا منطق الطیر “ ہمیں اڑتے جانوروں کی بولی سکھائی گئی۔ حضرت دائود (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے جملہ علم کے متعلق فرمایا ولقد اتینا دائود و سلیمن علماً ہم نے دائود اور سلیمان (علیہا السلام) کو عطم عطا کیا۔ آپ کے بعد آپ کے بیٹے سلیمان (علیہ السلام) بھی نبی ہوئے اور خلیفہ ہوئے۔ یہ دور بنی اسرائیل کا سنہری دور تھا۔ خلافت اور نبوت ایک جگہ پر جمع تھیں۔ ا من اور خوشحالی کا زمانہ تھا۔ اچھائی کو غلبہ حاصل تھا اور برائی دم توڑ چکی تھی۔ فلسفہ جہاد آیت کے اگلے حصے میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کا فلسفہ بھی بیان فرمادیا۔ ولولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعضٍ لفسدت الارض اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بعض دوسروں کے ذریعے نہ ہٹاتے تو زمین میں فساد برپا رہتا یعنی جب کسی گروہ نے خدا کی زمین پر بد امین پھیلانے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلے میں دوسری جماعت کو بھیج کو مفسدین کا خاتمہ کردیا۔ یہاں بھی ایسا ہی ہوا جب قوم عمالقہ کی زیادتیاں حد سے بڑھ گئیں تو اللہ تعالیٰ نے طالوت کے ذریعے ان کا قلع قمع کردیا۔ اسی لیے دشمن کے ساتھ جہاد کا حکم دیا حتیٰ لا تکون فتنۃ یہاں تک کہ فتنہ و فساد بالکل ختم ہوجائے کفر و شرک کی ناپاکی دور ہوجائے ، اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہونے لگے اور اسلام کے راستے میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے۔ یہی وہ مشن ہے جسے جمال الدین افغانی (رح) لے کر اٹھے۔ اور اپنی پوری زندگی اس کام کے لیے وقت کردی۔ آپ نے مسلمانوں کو ذہن نشین کرایا کہ عیسائی اور یہودی انگریز اسلام کی دشمن طاقتیں ہیں۔ وہ اسلام کی شمع کو بجھانا چاہتی ہیں لہٰذا اہل اسلام کو اس بات کا نوٹس لیناچاہئے اور اپنا دفاع کرنا چاہئے۔ شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ پہلے مرحلے میں دفاعی جہاد (DEFENSIVE) فرض ہے اگر جہاد سے روگردانی کی گئی تودرندہ صفت طاقتیں دنیا میں چھائی رہینگی۔ اور کسی کی جان عزت و آبرو محفوظ نہ ہوگی ، بزدلی دکھانا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ بہرحال فرمایا کہ یہ سنت اللہ ہے کہ وہ کسی برائی کو ختم کرنے کے لیے اس سے بڑھ کر وسائل پیدا کردیتا ہے۔ دنیا میں کتنے فرعون ، ہامان اور نمرود پیدا ہوئے مگر آخر ختم ہوگئے۔ کبھی جرمنی کا طوطی بولتا تھا۔ اب امریکہ اور روس سپر پاورز ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے پروگرام کے مطابق اول بدل کرتا رہتا ہے۔ فرمایا حقیقت یہ ہے کہ ولکن اللہ ذوفضلٍ علی العٰلمین اللہ تعالیٰ اہل جہان پر فضل کرنیوالا ہے جب وہ کسی ظالم کی بیخ کنی کرتا ہے تو یہ صحیح معنوں میں دنیا والوں پر اس کا فضل ہوتا ہے انہیں ظلم سے نجات مل جاتی ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) کے مشن میں یہ بات بھی داخل ہے کہ دنیا میں ظلم کو ختم کریں ۔ حق و انصاف کا نظام قائم کریں عقیدہ توحید کو پختہ کریں چناچہ ظلم کو مٹانے کے لیے جہاد کی ضرورت ہے۔ جہاد کی مشروعیت اگلی آیات اور کئی دوسرے مقامات پر آئیگی۔
Ayahs 2:252–253

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 2:252 in the Quran reader

یہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں جو ہم آپ کو حق کے ساتھ سناتے ہیں اور بیشک آپ اللہ تعالیٰ کے رسولوں میں سے ہیں

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ۠ Open ayah 2:253 in the Quran reader

یہ سب رسول ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے۔ بعض ان میں سے وہ ہیں کہ جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اور بعض کے درجات بہت بلند کیے اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم ( علیہ السلام) کو واضح نشانیاں دیں اور ہم نے اس کی روح القدس کے ساتھ تائید کی اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو نہ لڑتے وہ لوگ جو ان نبیوں کے بعد آئے۔ بعد اس کے کہ ان کے پاس واضح باتیں آچکی تھیں لیکن انہوں نے اختلاف کیا اور بعض ان میں سے ایمان لائے ۔ اور ان میں سے بعض نے کفر اختیار کیا اور اگر اللہ چاہتا تو وہ نہ لڑتے لیکن اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے

ربطہ آیات بنی اسرائیل کے واقعات بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبین ﷺ کی نبوت کا بطور خاص اور پھر تمام انبیاء کی نبوت کا تذکرہ کیا ہے۔ اس سے پہلی آیت میں جہاد کی حکمت بیان فرمائی تھی۔ اور معترضین کے اعتراض کا ردّ تھا۔ اور واضح کیا تھا کہ اگر جہاد فرض نہ کیا جاتا تو مفسدین زمین میں فساد برپا کرکے اس کو خراب کردیتے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت فرمائی اور بد امنی کے خاتمے کے لیے جہاد کا حکم دیا تمام انبیاء اپنے اپنے دور میں جہاد کرتے آئے ہیں۔ اسی ضمن میں طالوت کا ذکر کیا جو کہ سموئیل نبی کے زمانے میں ہوا ہے۔ آپ کے نام پر بائیبل میں د و صحیفے بھی موجود ہیں۔ آپ خود بھی جہاد میں شریک ہوئے۔ بعثت انبیاء کا مقصد حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت کا مقصد لوگوں کو ایمان اور توحید کا راستہ بتانا ، اور ان کے عقائد اور اعمال کی اصلاح کرنا ہے اس کے علاوہ رسومات باطلہ کو مٹانا اور رفع تظالم بین الناس یعنی لوگوں کے درمیان ظلم و زیادتی کو فرو کرنا ہے۔ اور ان مقاصد کے حصول کے لیے جہاد لازمی ہے۔ اس کے بغیر کامیابی نہیں ہوسکتی۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ معاشرہ میں ظلم و زیادتی برپا کرنے والے لوگوں کی مثال ایسی ہے جیسے جسم میں پھوڑا ہوتا ہے جب تک اس پھوڑے کو کاٹ نہیں دیا جاتا جسم تندرست نہیں ہوسکتا ، اسی طرح جب تک فسادی لوگوں کو جڑ سے نہیں اکھاڑ دیا جاتا معاشرے میں امن وامان قائم نہیں ہوسکتا۔ اسی آپریشن کا نام جہاد ہے۔ تصدیق رسالت اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی نبوت و رسالت کی تصدیق فرمائی ہے۔ بنی اسرائیل کا واقعہ بیا ن کیا کہ وہ ہزاروں کی تعداد میں موت سے ڈر کر بھاگ کھڑے ہوئے مگر اللہ نے انہیں راستے ہی میں موت سے ہمکنار کردیا پھر اللہ کے نبی نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ زندگی دی۔ ان کی اپنی فرمائش پر اللہ تعالیٰ نے طالوت کو ان کا امیر مقرر کیا۔ اور اس کی سرکردگی میں جہاد کا حکم دیا ۔ پھر راستے میں لشکر کی آزمائش ہوئی۔ اور ان میں سے بہت تھوڑے اس آزمائش میں پورے اترے اکثریت نے بےصبری کا اظہار کیا اور جہاد سے محروم رہے۔ جانثاروں کی ایک قلیل تعدادکو اللہ نے فتح سے ہمکنار کیا۔ اس موقع پر اللہ نے دعا کا فلسفہ سکھایا اور پھر میدان جنگ میں دشمن کا سردار حضر ت دائود (علیہ السلام) کے پتھر سے ہلاک ہوا۔ طالوت کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود (علیہ السلام) کو خلیفہ بنایا۔ یہ تمام واقعات ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی نشانیاں قرار دیا۔ تلک اٰیت اللہ نتلوھا علیک بالحق یہ اللہ کی نشانیاں ہیں اللہ کی آیتیں ہیں۔ جنہیں ہم آپ کو حق کے ساتھ سناتے ہیں۔ وحی الٰہی کے ذریعے لاتے ہیں۔ وگرنہ آپ نے کوئی تاریخ نہیں پ ڑھی اور نہ کسی تاریخ میں ایسے واقعات موجود تھے۔ یہ آپ کی نبوت و رسالت کی نشانی ہے کہ آپ کے علم میں ایسے ایسے واقعات رہے ہیں۔ اور پھر یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر منحصر ہے کہ وہ جونسے واقعات چاہے آپ کو بتلا دے۔ اور جو نہ چاہے ، نہ بتلائے ، دوسری جگہ فرمایا ” لو شاء اللہ ماتلوتہ لیسکم “ اور اگر اللہ چاہتا تو یہ واقعات آپ کو نہ سناتا یہ چیزیں آپ کی نبوت کی دلیل ہیں فرمایا ” فقد لبثت فیکم عمراً من قبلہ افلا تعقلون “ میں نے تم میں عمر کا ایک حصہ گزارا ہے اس سے پہلے میں نے کبھی ایسی باتیں نہیں بتائی تھیں۔ جب اللہ کی وحی نازل ہونے لگی۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے واقعات کا انکشاف ہوا۔ تو میں نے یہ آیتیں تمہیں بھی پڑھ کر سنادی ہیں۔ پہلی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نبوت و رسالت کے مرتبہ پر فائز کیا ہے فرمای وانک لمن المرسلین یقینا آپ اللہ کے نبیوں میں سے ہیں۔ بلکہ سلسلہ انبیاء کی آخری کڑی ہیں آپ کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ آپ خاتم النبین ہیں۔ انبیاء کی ایک دوسرے پر فضیلت اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں کا اجمالاً ذکر فرمایا تلک الرسل یہ اللہ کے ایسے رسول ہیں اس سے پہلے بہت سے انبیاء کا ذکر آچکا ہے۔ گذشتہ آیات میں حضرت سموئیل (علیہ السلام) کا ذکر آیا ہے۔ ” قال لھم نبیھم “ ان کے نبی نے ان سے کہا۔ اگرچہ یہاں پر نبی کا نام نہیں لیا گیا۔ تاہم اس سے مراد سموئیل نبی ہیں۔ دائود (علیہ السلام) کا ذکر آچکا ہے۔ اس سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بیان آچکا ہے۔ فرمایا یہ تما ام اللہ کے رسول ہیں۔ ان سب پر ایمان لانا ضروری ہے کسی ایک نبی کا انکار ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کے انکار کے برابر ہے۔ لا نفرق بین احدٍ منھم جہاں تک منصب نبوت و رسالت کا تعلق ہے ہم ان میں کوئی فرق نہیں رکھتے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ہیں اور معصوم ہیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں گناہ سے پاک رکھتا ہے البتہ باعتبار فضائل اور خصوصیات فضلن بعضھم علی بعضٍ اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے۔ یہاں پر ایک… کا ازالہ ضروری ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے لا تفضلوا بین الانبیاء یعنی نبیوں کے درمیان تفاضل نہ کرو۔ یا مجھے بھی باقی نبیوں کے درمیان فضیلت نہ دو ۔ یا یہ کو یونس ابن متیٰ کے مقابلہ میں کسی کو فضیلت نہ دو ۔ اس کے متعلق محدیثن کرام فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس معاملہ میں اپنی عقل سے بات نہ کرو۔ کہ بعض کو بعض پر فضیلت دینے لگو اور بعض کی توہین کرنے لگو ، ایسا نہ کرو ، کیونکہ ایسا کرنے سے کفر لازم آجاتا ہے۔ فضیلت کا جو ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمادیا ہے۔ اسی پر کاربند رہو۔ چناچہ اس امر میں اجماع اور اتفاق ہے کہ حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء پر فضیلت دی ہے۔ آپ کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت نوح (علیہ السلام) کے درجات ہیں خصوصاً حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی امامت عامہ کا ذکر خود قرآن میں موجود ہے انی جاعلک للناس اماماً یعنی میں تم کو تمام لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔ اس مقام پر فضاء انبیاء کے متعلق ارشاد ہے منھم من کلم اللہ ان میں سے بعض ایسے ہیں جن کے ساتھ اللہ نے کلام کیا۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا۔ وکلم اللہ موسیٰ تکلیماً اور کوہ طور پر اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے بالمشافہ کلام فرمایا۔ معراج کے واقعہ میں آتا ہے کہ حضور ابوذر غفدی ؓ نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ اول النبین یعنی سب سے پہلے نبی کون ہے آپ نے فرمایا آدم علیہ السلام۔ پھر عرض کیا ہے حضور ! کیا وہ نبی ہیں ۔ فرمایا ، ہاں وہ نبی مکلم اللہ تعالیٰ نے ان سے بالمشافہ کلام کیا۔ آپ سب سے پہلے نبی ہیں اور سب سے آخری نبی حضور خاتم النبین علیہ التحیۃ والسلام ہیں ۔ فرمایا ورفع بعضھم درجتٍ اور بعض کے درجات بلند کیے۔ اس آیت میں بعض کے درجات سے مراد حضور ﷺ ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے درجات سب نبیوں سے زیادہ بلند کئے ہیں۔ اللہ نے آپ کو مقام محمود پر سرفراز فرمایا ہے۔ جس کا مظاہرہ قیامت کے روز ہوگا۔ آپ کو شفاعت کبریٰ عطا ہوئی ہے آپ کو وسیلہ عطا ہوا ہے آپکی امت کو اکثریت حاصل ہے آپکی امت تمام امتوں سے افضل ہے آپ کو کتاب بھی سب سے افضل دی گئی ہے اور آپکو اللہ نے بیشمار معجزات عطا کئے ہیں غرضیکہ آپکے درجات بہت بلند فرماتے ہیں۔ اسی لیے فرمایا کہ بعض کے درجات بلند کیے ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات فرمایا واٰتینا عیسیٰ ابن مریم البینت اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو واضح نشانیاں عطا کیں۔ قرآن میں اسکی وضاحت موجود ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات میں مردوں کو زندہ کرنا ، کوڑھیوں کو تندرست کرنا ، اللہ کے حکم سے غیب کی خبریں دینا۔ گھر سے کھا کر آنے والے کو بتا دینا کہ کیا کھایا ہے وغیرہ شامل ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا جہاں بھی قرآن میں ذکر آتا ہے۔ عیسیٰ ابن مریم کے نام سے آتا ہے۔ جس سے یہ بتانا مقصود ہے۔ کہ آپ کا باپ کوئی نہ تھا۔ اللہ نے انہیں بغیر باپ کے پیدا کیا۔ قیامت کے روز بھی آپ کو یا عیسیٰ ابن مریم کے لقب سے پکاراجائے گا اور پھر پوچھاجائے گا کہ کیا آپ نے لوگوں کو کہا تھا کہ مجھے معبود بنالو۔ آپ جواب دیں گے۔ سبحانک اے اللہ تو پاک ہے۔ میں ایسی بات کس طرح کہہ سکتا ہوں جس کا مجھے حق نہیں۔ میں نے تو انہیں وہی کچھ کہاجس کا تو نے مجھے حکم دیا۔ گویا عیسیٰ (علیہ السلام) کی الوہیت کا ردّ کیا گیا ہے۔ اور ایسا عقیدہ رکھنے والوں کی سرزنش کی گئی ہے۔ مگر کیا کیا جائے کہ سرسید اور پرویز جیسے لوگ بھی موجود ہیں۔ جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا باپ بھی ثابت کرتے ہیں۔ یہ بات قرآن پاک کی تعلیم کے قطعاً خلاف ہے اور ملحدانہ عقیدہ ہے اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو واضح نشانیاں دیں۔ روح القدس سے تائید حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق ہی فرمایا وایدنہ بروح القدس ہم نے روح القدس کے ساتھ ان کی تائید فرمائی۔ روح القدس کا معنی عام طور پر جرائیل (علیہ السلام) کیا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جدھر بھی جاتے تھے۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی تائید ان کے شامل حال ہوتی تھی ۔ حضور ﷺ نے یہی بات حضرت حسان ؓ کو کہی تھی۔ فرمایا۔ اے حسان ! تم مشرکین کو اشعار کے ذریعے جواب دو ۔ تمہیں جبرئیل کی تائید حاصل ہوگی۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) کے نزدیک القدس کا معنی کچھ اور ہے وہ فرماتے ہیں کہ کائنات کی ہر چیز مشیت الٰہی کی تابع ہے۔ اور ملاء اعلیٰ کی تمام بزرگ ہستیوں کی توجہ جس طرح ایک طرف لگی رہتی ہے۔ اس کو تائید روح القدس کہا جاتا ہے اور پھر خطیرۃ القدس جیسے پاک مقام سے جو شعائیں ان بزرگوں ہستیوں پر پڑتی ہیں یہ بھی روح القدس کی تائید ہوتی ہے۔ انسان اپنے … کا خودذمہ دار ہے فرمایا ولو شاء اللہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا ما اقتل الذین من بعد ھم من بعد ما جاء تھم البینت تو نبیوں کے بعد آنے والے لوگ واضح نشانیاں آجانے کے بعد نہ لڑتے۔ یعنی اگر مشیت الٰہی چاہتی تو سب لوگوں کو ہدایت دے دیتی اور وہ ایک دوسرے سے لڑائی جھگڑا نہ کرتے۔ دوسری جگہ فرمایا ولو شاء لھداکم اجمعین۔ اگر اللہ چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت دے دیتا۔ ولا یزالون مختلفین مگر لوگ اختلاف کرتے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں کسی کام پر مجبور نہیں کیا۔ بلکہ خیروشر کے دونوں راستے دکھا کر انسان کو اپنے ارادے کے مطابق عمل کرنے کا اختیار دے دیا۔ ” فمن شاء فلیومن ومن شاء فلیکفر “ جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی کے ارادے کو سلب نہیں کیا۔ اگر ایسا ہوتا تو انسان کی فضیلت باقی نہ رہتی۔ اس کا امتحان نہ ہوپاتا اور وہ بےجان چیزوں کی طرح مجبور محض قرار پاتا۔ چناچہ ان لوگوں نے نیکی کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے ولکن اختلفو ا انہوں نے اختلاف کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا فمنھم من امن ومنھم من کفر کہ ان میں کچھ لوگ ایمان لے آئے۔ اور کچھ دوسروں نے انکار کردیا۔ اور کفر کا راستہ اختیار کیا جب اختلاف پیدا ہوگا تو پھر لڑائی بھی ہوگی اہل ایمان اور کفار ایک جگہ اکٹھے نہیں ہوسکتے۔ ان میں سے ہر گروہ اپنا پروگرام نافذ کرنا چاہے گا۔ لہٰذا ان کے درمیان ضرور ٹکر ہوگی اور یہی جہاد ہے جو اہل اسلام پر فرض کیا گیا ہے کیونکہ جہاد کے بغیر فتنہ و فساد کا قلع قمع نہیں ہوسکتا پچھلے درس میں آچکا ہے کہ جہاد کے ذریعے شر و فساد کو مٹانا مقصود ہے اسی چیز کے متعلق فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ بعض کو بعض کے ذریعے نہ مٹاتا تو زمین میں فساد برپا رہتا۔ لہٰذا جہاد لازم قرار دیا۔ اور بتادیا کہ جہاد کو ترک کردو گے تو یسلط اللہ ذلۃً علیکم ( ابو دائود) اللہ تعالیٰ تم پر ذلت مسلط کردے گا اور یہ ذلت ختم نہ ہوگی۔ حتیٰ ترجعوا الیٰ دینکم جب تک تم اپنے دین کی طرف پلٹ کر نہ جائو گے۔ فرمایا ولو شاء اللہ ما اقتلوا اگر اللہ چاہتا تو یہ لوگ آپس میں نہ لڑتے سب ایک ہی راستے پر ہوتے اور ان میں کوئی اختلاف رونما نہ ہوتا مگر حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو عقل اور قوت عطا کی ہے۔ اسے اشرف المخلوقات بنایا ہے اور پھر اسے اختیار دیا ہے کہ وہ اپنے ارادے سے جونسا راستہ چاہے اختیار کرے۔ ” انا ھدینہ السبیل اما شاکراً وماً کفوراً “ یہ اپنے ارادے کا خود ذمہ دار ہے جو راستہ اختیار کرے گا اس کے مطابق سزا و جزا کا مستحق ہوگا۔ اگر صحیح راستہ اختیار کرے گا تو اللہ تعالیٰ راضی ہوجائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ ایمان پر راضی ہوتا ہے کفر پر راضی نہیں ہوتا اہل ایمان کو نجات دے گا اور ان کو فلاح حاصل ہوگی۔ فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہے کہ وہ چاہتا تو یہ لوگ اختلاف کا شکار نہ ہوتے ولکن اللہ یفعل ما یرید مگر اللہ تعالیٰ وہ کچھ کرتا ہے جو اس کا اپنا ارادہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ انسان کا امتحان لینا چاہتا ہے۔ اور اپنے بندوں کو آزما کر اس کے مطابق جزا یا سزا دے گا۔ اس کا منشاء یہ ہے کہ لوگ ایمان کا راستہ اختیار کریں اور جو لوگ کفر کے راستے پر چل نکلیں ان کے شر و فساد کو مٹانے کے لیے ایمان والے جہاد کریں تاکہ اسلام کو غلبہ حاصل ہو اور اللہ کا دین اختیار کرنے میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے۔
Ayah 2:254

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:254 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اس میں سے خرچ کرو جو ہم نے تم کو رزق دیا ہے اس سے پیشتر کہ وہ دن آجائے جس میں خریدو فروخت نہیں ہگی۔ اور نہ دوستی ہوگی۔ اور نہ سفارش ہوگی اور جو لوگ کفر کرنے والے ہیں وہی بڑے ظالم ہیں۔

گذشتہ درس میں نبوت اور رسالت کا ذکر تھا۔ اس سے پہلے جہاد کا تذکرہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جہاد کی حکمت بھی واضح فرمائی ہے۔ اس آیت میں اتفاق فی سبیل اللہ کا بیان ہے اس کا تعلق اس آیت کے ساتھ ہے۔ جس میں بنی اسرائیل کا ذکر ہے کہ ان کا ایک گروہ موت کے ڈر سے بھاگ کھڑا ہوا۔ پھر اللہ نے انہیں راستہ میں موت دیدی پھر اپنے خاص فضل سے انہیں دوبارہ زندگی عطا کی۔ وہاں پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا قاتلوا فی سبیل اللہ اللہ کے راستے میں دشمنانِ خدا اور دشمنان دین ہے ٹکراجائو۔ اور پھر درمیان میں یہ بھی فرمایا ” من ذالذی یقرض اللہ قرضاً حسناً “ کون ہے جو اللہ کو قرض حسنا دے۔ اور اللہ اسے بڑھا چڑھا کر عطا کریگا یہ مال خرچ کر نیکی ترغیب ہوگئی۔ جان و مال کی قربانی مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں کہ سورة بقرہ سب سے لمبی سورة ہے۔ اور اس میں مختلف الانواع مسائل ذکر ہوئے ہیں۔ اس سورة میں عبادات ، معجزات اور معاملات کا بیان ہے۔ خصوصاً معاملات کی بہت سی تفصیلات ہیں۔ عائلی قوانین یعنی نکاح و طلاق کے مسائل بیان ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ احکام کی تعمیل نفس پر شاق گزرتی ہے انسان کا نفس اور اس کی سوچ بوجھل ہوجاتی ہے۔ خصوصاً جان و مال کی قربانی پیش کرتے وقت بڑی دشواری پیش آتی ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس قربانی کے لیے خاص تاکید فرمائی ہے اور اکثر لوگ جان و مال کی وجہ سے ہی معصیت میں مبتلا ہوتے ہیں۔ محبت کسی نفس کی ہو یا مال کی ، یہ انسان کو قانون کی خلاف ورزی پر ابھارتی ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ایک موقع پر جان کو کھپانے کا حکم دیا ہے اور دوسری جگہ مال خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے۔ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو جان کو لگا دینا نسبتاً آسان سمجھتے ہیں۔ مگر مال کے خرچ کرنے میں بخیل واقع ہوتے ہیں یہ ایک روحانی بیماری ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے ایّ دائود من البخل بخل سے بڑی بیماری کون سی ہے۔ کسی نے خوب کہا ہے…؎ گر جان طلبی مذائقہ نیست گر زر طلبی سخن دریں جاست یعنی اگر جان کا مطالبہ ہے تو اس میں کوئی مذائقہ نہیں جان حاضر ہے اور اگر مال چاہتے ہیں تو یہ بات نہیں بن سکے گی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مال خرچ کرنے کے متعلق خصوصی احکام دیے ہیں۔ مال پر بہت سی عبادت موقوف ہیں اگر مال خرچ نہیں کیا جائے گا تو جہاد بھی نہیں ہوسکتا۔ زکوۃ ادا نہیں ہوتی ، حج نہیں ہوسکتا۔ چناچہ اگلے رکوع میں انفاق فی سبیل اللہ کا تذکرہ بالتفصیل آئے گا۔ انفاق فی سبیل اللہ چناچہ یہاں پر بھی ارشاد ہوتا ہے یایھا الذین اٰمنو اے ایمان والو انفقوا مما رزقنکم خرچ کرو اس میں سے جو ہم نے تم کو عطا کیا ہے۔ مراد اللہ کے راستے میں خرچ کرنا ہے۔ یہاں پر رزقنکم خصوصاً توجہ طلب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جو کچھ تمہارے پاس ہے یہ ہمارا عطا کردہ ہے ہم نے ہی اسباب و وسائل مہیا کیے تو تمہارے پاس مال آیا وگرنہ انسان اگر اپنی ذاتی کاوش کی بنا پر کچھ حاصل کرنا چاہتا ، تو اسے کچھ نہ ملتا۔ یہ مال ہم نے ہی تمہیں دیا ہے جس سے خرچ کرنے کا حکم دے رہے ہیں لہٰذا اس میں کسی قسم کی حیل و حجت نہیں ہونی چاہئے۔ اسی موضوع کو سورة نور میں بھی بیان فرمایا۔ جہاں غلاموں کو آزاد کرنے کی ترغیب دی گئی ہے وہاں فرمایا واٰتو ھم من مال اللہ الذی اٰتکم اللہ کے دئیے ہوئے مال میں سے ان کو دو ، تاکہ وہ مکاتبت کرکے اپنی جان چھڑا سکیں۔ یہاں پر یہ نظریہ واضح کردیا گیا کہ ایماندار اپنے مال کو اپنی ذاتی چیز نہیں سمجھتا بلکہ اللہ کا انعام سمجھتا ہے جو اس نے مہربانی فرما کر عطا کیا۔ کبھی کوئی اسباب پیدا کردئیے۔ کہیں مزدوری مل گئی۔ نوکری میسر آگئی۔ کاروبار میں برکت ڈال دی۔ وراثت سے حصہ مل گیا کوئی تحفہ مل گیا یہ سب مالک الملک کے پیدا کردہ اسباب ہیں۔ اس لیے انسان کو جو بھی مال میسر آتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی جانب سے ملتا ہے لہٰذا اس کے راستے میں خیرات ، صدقات ، زکوۃ وغیرہ پر خرچ کرنا کوئی اپنا ذاتی کارنامہ نہیں سمجھناچاہئے۔ بلکہ اس توفیق پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس کا دیا ہوا مال اس کے حکم کے مطابق خرچ ہوا۔ اب سوال یہ ہے کہ جو مال خرچ کیا جارہا ہے وہ آیا کہاں سے ہے۔ کمائی حلال کی ہے یا حرام کی۔ ناجائز طریقے سے مال حاصل کر نیکی کی بھی سخت وعید ہے ” ولا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل “ ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے مت کھائو۔ واجملوا فی الطلب طلب کرنے میں اچھا طریقہ اختیار کرو۔ حرام کی کمائی سے اجتناب کرو۔ حرام کی کمائی کھانے والے کی نہ عبادت قبول ہوتی ہے اور نہ صدقہ کسی کام آتا ہے۔ اور یہی چیز مرنے کے بعد جہنم کا توشہ بنے گی۔ خرچ میں اعتدال کی راہ اب خرچ کرنے کے متعلق بھی اصول وقواعد ہیں۔ ہر شخص کو من مانی کرنے کی اجازت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ فرمایا ولا تسرفو اسراف نہ کرو ولا تبذر فضول خرچی سے بچ جائو۔ اللہ کے دئیے ہوئے انعام کو صحیح طریقے سے خرچ کرو ہمارے دئیے ہوئے مال میں سے اپنی جائز ضرورتیں بھی پوری کرو۔ اور پھر حقوق و فرائض اور واجبات کا خیال بھی رکھو۔ جہاد کے لیے خرچ کرو۔ اقامت دین اور تبلیغ دین پر خرچ کرو۔ غرباء و مساکین کی اعانت کرو۔ مقروض کا قرضہ ادا کردو۔ تاہم اپنی ذاتی ضرورتیں مقدم ہیں۔ ان کو پہلے پورا کرو۔ یہ بات مستحسن نہیں کہ آدمی سارا مال خرچ کردے اور خود محتاج ہو کر بیٹھ جائے۔ اس کے لیے تو صدیق اکبر ؓ جیسا صبر درکار ہے۔ ایک صحابی کو کچھ سونا حاصل ہوا لا کر حضور ﷺ کے سامنے پیش کردیا کہ اے اللہ کے رسول میں یہ مال صدقہ کرتا ہوں ، آپ نے فرمایا ایسا مت کرو پہلے اپنی ضروریات پورا کرو۔ اس کے بعد صدقہ کرو۔ خود محتاج ہو کر بیٹھ جائو گے تو پھر شکوہ کروگے۔ خاص طور پر جب کہ برداشت کا مادہ بھی نہ ہو۔ لہٰذا ہر کام میں اعتدال کی راہ اختیار کرو۔ پورے کا پورا مال خرچ نہ کردو۔ بلکہ اپنی جائز ضروریات کیلئے بھی رکھ لو۔ روز قیامت خریدو فروخت نہ ہوگی فرمایا اللہ کے راستے میں خرچ کرو من قبل ان یاتی یوم لابیع فیہ پیشتر اس کے کہ وہ دن آجائے جب کوئی خریدو فروخت نہیں ہوسکے گی۔ اس سے مراد قیامت کا دن ہے اس دن اگر کوئی شخص کوئی قیمتی سے قیمتی چیز دیکر بھی ایمان یا کوئی نیکی خریدنا چاہے گا تو یہ ممکن ہوگا۔ اول تو کسی کے پاس دنیا کا مال و دولت ہوگا ہی نہیں جس سے کوئی چیز خریدی جاسکے۔ دوسرے وہاں کوئی بازار نہیں لگے گا جہاں خریدو فروخت ہوسکے۔ یہ دنیا عمل کی دنیا ہے۔ یہاں پر انسان اچھے اعمال کے ذریعے ، عبادات کے ذریعے ، مال خرچ کرکے آخرت کا توشہ خرید سکتا ہے مگر وہاں قیامت کے دن ایسی کوئی گنجائش نہ ہوگی۔ کہ کوئی شخص اپنے اعمال کی کمی کو خریدو فروخت کے ذریعے پورا کرسکے۔ وہاں خریدو فروخت قطعاً ناممکن ہوگی ۔ وہاں پر نیکی حاصل کر نیکی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ اس دارالعمل میں انسان والبقیت الصلحت خیر عند ربک کے مصداق آخرت کے لیے ذخیرہ بنا سکتا ہے۔ وہ تو دارالجزا ہوگا۔ قیامت کے دن تو کردہ اعمال کا بدلہ ملیگا۔ وہاں نئے سرے سے عمل کر نیکی اجازت نہیں ہوگی۔ نہ وہاں خریدو فروخت ہوگی۔ دوستی کام نہ آئے گی فرمایا ولا خلۃ وہاں پر عام دوستی بھی کام نہیں آئے گی۔ جس طرح اس دنیا میں اقربا پروری اور تعلقات کام آتے ہیں وہاں پر ایسا نہیں ہوگا۔ وہاں تو لوگ ایک دوسرے کے دشمن ہونگے الاخلاء یومذ بعضھم لبعضٍ عدو مگر دوستی وہ کام آئیگی جس کی بنیاد نیکی اور تقویٰ پر ہوگی ” الا المتقین “ اہل ایمان کی دوستی وہاں پر قائم رہے گی۔ مگر فاسق و فاجر اور لہو و لعب والی دوستیاں ختم ہوجائیں گی۔ ہر ایسا دوست دوسرے سے نفرت کریگا۔ عام سفارش نہیں ہوگی فرمایا جس طرح خریدو فروخت اور عام دوستی نہیں ہوگی۔ قیامت کے دن ولا شفاعۃ عام سفارش بھی نہیں چلے گی۔ اس دنیا کا دستور ہے کہ بڑے لوگ سفارش کے ذریعے بڑے بڑے مجرموں کو چھڑا لیتے ہیں۔ مگر قیامت کے دن ایسا نہیں ہوگا۔ وہاں سفارش ہوگی مگر اس شخص کے لیے جس کے لیے اللہ تعالیٰ اجازت مرحمت فرمائیں گے آگے آیۃ الکرسی آرہی ہے۔ جسے اعظم آیتہ فی القرآن کہا گیا ہے۔ اس میں مسئلہ سفارش کو واضح کیا گیا ہے۔ مشرک لوگ جو سمجھتے ہیں کہ ہمارے معبود ہماری سفارش کرکے ہمیں چھڑا لیں گے اور ہمیں درجات بھی دلائیں گے۔ اس قسم کی سفارش قطعاً باطل ہے کیونکہ وہاں پر شفاعت مشروط ہوگی ۔ دوسرے مقام پر آتا ہے لا یتکلمون الا من اذن لہ الرحمن وقال صواباً اس دن تو کوئی کلام بھی نہ کرسکے گا سوائے اس کے کہ جسے اللہ تعالیٰ اجازت دیں گے۔ اور وہ بھی اس شرط پر کہ اس کی بات ٹھیک ٹھیک ہو۔ غلط بات کر نیکی تو اجازت ہی نہیں ہوگی۔ حضور ﷺ نے فرمایا میری شفاعت اس شخص تک پہنچے گی لمن لا یشرک باللہ شیئاً جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک میں ملوث نہ ہوا ہو۔ مشرک یادہریہ یا کسی اور بد عقیدہ کے لیے سفارش کی کوئی گنجائش نہ ہوگی۔ اسی لیے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو ، جہاد فی سبیل اللہ میں حصہ لو۔ آج یہ موقع ہے۔ یہ عمل کی دنیا ہے اس میں جو کچھ کرسکتے ہو کرلو۔ کل کو دارالجزا میں جاکر یہ موقع ہاتھ نہیں آئے گا۔ وہاں تو بدلہ دیاجائے گا۔ اس روز نہ کوئی شخص نیکی خرید سکے گا۔ نہ کوئی دوستی کام آئیگی اور نہ کوئی سفارش کام آئے گی یہ سب کچھ بتلا دیا۔ مزید شرائط اگلی آیت میں آئینگی۔ کفار ہی ظالم ہیں فرمایا والکفرون ھم الظلمون کفر کرنے والے ہی سب سے بڑے ظالم ہیں انہوں نے اللہ کے احکام ، اسکی کتاب اور اس کے انبیاء کا انکار کیا یہ انسان کے بدبخت ہونے کی واضح نشانی ہے۔ مشرک کے بارے میں واضح حکم ہے ان الشرک لظلم عظیم شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ اس سے بچ جائو۔ اگر شرک جیسے ظلم سے باز نہیں آئو گے تو پھر اللہ نے جہاد کا حکم بھی دیا ہے اس کے ذریعے کفر و شرک کی بیخ کنی کی جائے گی۔ اور اس کام کے لیے جہاں جان کی قربانی دینی پڑتی ہے وہاں مال بھی لگانا پڑتا ہے۔ اور یہی انفاق فی سبیل اللہ ہے۔ آگے دو رکوع کے دوران انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر مزید تفصیل کے ساتھ آئے گا۔