Ayahs 2:172–173اکل حلال
گزشتہ آیات میں ” یا یھا الناس کہ کر پوری نوع انسانی کو خطاب کیا گیا تھا اب ان آیات میں خاص طور پر مومنوں سے خطاب ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ یایھا الذین امنوا کلوا من طیبت مارزقنکم اے ایمان والو۔ پاک چیزکھائو ، جو ہم نے تمہیں روزی دی ہے۔ حدیث شرفی میں آتا ہے کہ اکل حلال کا یہ وہی حکم اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو دیا ہے۔ جو اس نے اپنے نبیوں اور رسولوں کو دیا ہے۔ یعنی یایھا الرسل کالوا من الطیبت واعملوا صالحاً “ یعنی اے رسولوں کی جماعت پاک چیزیں کھائو اور نیک اعمال کرو۔ غرضیکہ تمام انبیاء اور اہل ایمان کو ناپاک چیزوں کے کھانے سے منع فرمایا ہے ۔ کیونکہ ایسی چیزیں کھانے سے انسان میں خرابی پیدا ہوتی ہے۔ پاک اشیاء کا کھانا اور نا پاک چیزوں سے پرہیز ایک ایسا عمل ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے اسے پیغمبر اسلام ﷺ کی صفت کے طور پر بیان فرمایا ہے وہ ایسا رسول ہے ہے کہ ” یحل لھم الطیبت ویحرم علیھم الخبآئث “ لوگوں کے لئے پاکیزہ چیزوں کو حلال اور خبیث اور ناپاک چیزوں کو حرام ٹھہراتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو خبیث قرار دیا ہے۔ ان کے استعمال سے یا تو جسمانی طور پر خرابی پیدا ہوگی یا روحانی طور پر پاک چیز وہ ہے جس میں کوئی خباثت نہ ہو ، خباثت ظاہری بھی ہوتی ہے اور باطنی بھی ہوتی ہے۔ ظاہری خباثت تو یہ ہے کہ کوئی چیز ظاہری طور پر گندی ہو اور باطنی زندگی میں مال حرام از قسم چوری اور خیانت وغیرہ آتا ہے۔ اسی طرح روحانی گندگی یہ ہے کہ اس میں کسی غیر کا حق شامل ہو۔ علامہ اقبال مرحوم نے بھی کہا ہے کہ اکل حلال اور صدق مقال دین کی گروہ اور راز ہے۔ مسلم شریف کی حدیث میں آتا ہے کہ ایک آدمی لمبا سفر کرتا ہے ۔ جسم اور لباس گرد آلود ہے ، بڑی تکلیفپاتا ہے وہ دعا کرتا ہے یا رب یا رب اے مولا کریم ! میری دعا قبول کرلے مگر حضور فرماتے ہیں فانی یستجاب لہ ، اس کی دعا کیسے قبول ہوگی جب کہ مطمعہ حرام و مشربہ حرام جب کہ اس کا کھانا پینا حرام ہے۔ وغذی بحرام حرام غذا سے پرورش پاتا ہے۔ مقصد یہ کہ دعا کی قبولیت کے لئے اکل حلال بمنزلہ شرط کے ہے اسی طرح عبادت کی قبولیت کے لئے بھی لازم ہے کہ عابد حلال اور طیب چیزیں استعمال کرے۔
شکر الٰہی
فرمایا اللہ کی عطا کردہ روزی میں سے پاکیزہ چیزیں کھائو واشکرو اللہ اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو ، ان کنتم ایاہ تعبدون “ اگر تم خلاص اسی کے عبادت گذار ہو شکر ادا کرنے کے کئی طریقے ہیں مثلاً زبان سے شکر ادا کرنا یہ ہے کہ اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے۔ اعضا کا شکر یہ ہے کہ ایسے اعمال انجام دیئے جائیں۔ جن سے اللہ تعالیٰ کی تعظیم کا اظہار ہو۔ اور دل سے شکر ادا کرنا یہ ہے کہ دل میں یہ اعتقاد رکھے کہ مستحق تعظیم صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس کے ساتھ اس کا کوئی شریک نہیں ہے ایک حدیث فاسری میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جنوں اور انسانوں کی ایک حالت یہ بھی ہے کہ اخلق ویعبد غیری پیدا میں کرتا ہوں اور عبادت دوسروں کی کرتے ہیں۔ ان کے نام کی نذر و نیاز دیتے ہیں۔ اسی طرح فرمایا ارزق ویشکر غیری رزق میں دیتا ہوں ، روزی میں پہنچاتا ہوں مگر شکر دوسروں کا ادا کرتے ہیں۔ اس مضمون کو امام رازی اور بعض دیگر مفسرین نے بھی نقل کیا ہے۔
محرمات اربعہ
اکل حلال کا قانون بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر محرمات اربعہ یعنی چار حرام چیزوں کا تذکرہ کیا۔ جن کا استعمال انسان کے لئے قطعاً جائز نہیں۔ فرمایا انما حرم علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر ومآ اھل بہ لغیر اللہ بیشک تم پر حرام ہے ، مردار ، خون ، خنزیر کا گوشت اور وہ چیز جس پر اللہ کے سوا کسی غیر کا نام پکارا گیا ہو۔
مردار
محرمات میں پہلا نمبر مردار کا ہے۔ اس سے وہ جانور مراد ہے جو حلال ہو اور ذبح کرنے کے قابل ہو ، مگر بغیر ذبح کئے مر جائے ۔ ایسا جانور حرام کی فہرست میں آجائے گا۔ اس کا کھانا قطعاً ناجائز ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے سورة مائدہ میں اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے۔ وہاں پر بھی مذکورہ بالا چار محرمات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ محرمات میں مردار کی یہ صورتیں بھی شامل ہیں ” والمنخنقۃ والموقودۃ والمتردیۃ والنطیحۃ ومآ اکل السبع الا ماذکیتم وما ذبح علی النصب وان تستقسموا بالازلام “ یعنی وہ حلال جانور جو گلا گھٹ کر یا چوٹ کھا کر یا بلندی سے گر کر یا ٹکر کھا کر مرا ہو یا جسے کسی درندے نے پھاڑا ہو۔ سوائے اس کے کہ جسے تم نے زندہ پا کر ذبح کرلیا۔ یا جو کسی تھان پر ذبح کیا گیا ہو ، یا یہ کہ پانسوں کے ذریعے اپنی قسمت معلوم کرو۔ ایسی چیزوں کا کھانا مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے۔ مردار کے حرام ہونے میں حکمت یہ ہے کہ اس کے گوشت کھانے سے انسان میں سستی اور کاہلی پیدا ہوجاتی ہے۔ کسی عبادت اور نیکی کے کام میں نشاط حاصل نہیں ہوتی۔
خون
یہاں پر جس خون کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ وہ بہتا ہوا خون ہے۔ جو رگوں میں چلتا ہے اور ذبح کرتے وقت بہ جاتا ہے۔ سورة انعام میں اسے دما مسفوحاً یعنی بہایا ہوا خون کہا گیا ہے۔ یہ قطعی حرام ہے اور اس کا استعمال جائز نہیں۔ البتہ رگوں کا خون بہ جانے کے بعد جو خون گوشت میں رہ جاتا ہے ، وہ حرام نہیں ہے اگر گوشت بغیر دھوئے بھی پکا کر کھالیا جائے تو وہ پاک ہے۔ تاہم نظامت کا تقاضا ہے کہ اسے دھو لیا جائے ، مگر اس کی حلت میں کوئی شبہ نہیں۔ البتہ جس جانور کو شرعی طریقہ سے ذبح کرنا ممکن نہ ہو ، اس کو ذبح کرنا شرط نہیں ہے۔ بلکہ اسے اللہ کا نام لے کر زخمی کردینا ہی کافی ہے۔ بھاگ جانے والے جانور کو اگر تیر چلاتے وقت یا نیزہ بھالا وغیرہ مارتے وقت اللہ کا نام سے لیا جائے تو وہ جانور حلال ہوگا ، خواہ اسے زخم جسم کے کسی بھی حصہ پر آیا ہو۔
حضرت مولانا شیخ الہند لکھتے ہیں کہ مردار وہ جانور ہے جو خود بخود مر جائے ، یعنی جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے۔ سورة انعام میں موجود ہے ولاتاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ اس کو مت کھائو۔ ہاں جس جانور کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا جائے گا ، تو ایسے گوشت کا کھانا جائز نہیں ہوگا۔ حدیث شریف میں آتا ہے۔ ما ابین من الحی فھو میتۃ زندہ جانور کا کوئی حصہ علیحدہ کردیا جاوے تو وہ مردار ہی تصور ہوگا۔ اسی طرح لکڑی ، غلیل یا بندوق سے مارا جائے اور ذبح نہ کیا جائے تو وہ مردار ہوگا ایک موقع پر مولانا مودوید صاحب نے فتویٰ دیا تھا کہ بندوق کا شکار بغیر ذبح کئے ہوئے جائز ہے ، حالانکہ تمام فقہائے کرام اس کے خلاف فتویٰ دیتے ہیں تاہم بعد میں انہوں نے رجوع کرلیا۔ صحیحین اور نسائی شریف کی روایت کے مطابق صرف وہ جانور بغیر ذبح کے حلال ہے۔ جو تیر کے نوکدار حصہ سے زخمی ہوا ہو۔ اگر ویسے ہی تیر کی چوٹ سے مر جائے تو ایسا جانور موقوذہ شمار ہوگا اور حلال نہیں ہوگا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی عام چوٹ از قسم لکڑی پتھر وغیرہ کے لگنے سے موت واقع ہوجائے۔ بندوق کی گولی بھی ٹھوس ہوتی ہے۔ نوکدار چیز نہیں ہوتی ، اس لئے بندوق کے ساتھ شکار کیا ہوا جانور بغیر ذبح کئے حلال نہیں ہوتا۔
لم یذکر اسم اللہ علیہ میں وہ جانور آئے گا جس پر بوقت ذبح قصداً اللہ کا نام نہ لیا جائے۔ ہاں اگر ذبح کرتے وقت بسم اللہ اللہ اکبر کہنا بھول جائے۔ تو وہ مردار نہیں ہوگا اس کا کھانا جائز ہوگا۔ اگر قصداً تکبیر کو ترک کیا ہے ۔ تو ایسا جانور مردار تصور ہوگا۔ البتہ حدیث شریف کے مطابق وہ جانور اس حرمت سے مستثنیٰ ہیں اور ان کا کھانا جائز ہے۔ فرمایا احلت لنا میستتان ہمارے لئے دو مردار حلال ہیں السمک والجرار یعنی مچھلی اور ٹڈی ان کا شکار کر کے بغیر ذبح کئے کھا جاسکتا ہے۔ حضور نے انہیں جائز قرار دیا ہے۔
خون کی ایک قسم بستہ یعنی جما ہوا خون ہے۔ اسے شریعت نے حلال قرار دیا ہے۔ فرمایا حلت لنا دمان ہمارے لئے دو خون حلال ہیں الکبد و الطحال یعنی جگر اور تلی یہ دونوں اعضاء منجمند خون ہیں مگر حلال ہیں۔
دم مسفوح یعنی رگوں سے نکلنے والے خون کی حرمت کی حکمت یہ ہے کہ اسے استعمال کرنے والے آدمی میں درندگی کا مادہ پیدا ہوجاتا ہے۔ شیر ، ریچھ وغیرہ جو شکار کا خون پی جاتے ہیں۔…… اس لئے ان میں درندگی کی صفات پائی جاتی ہیں۔ اگر کوئی انسان بھی ایسا ہی خون استعمال کرے گا۔ تو اس میں بھی ایسی خصلتیں پیدا ہوجائیں گی۔ لہٰذا دم مسفوح کو شریعت نے حرام قرار دیا ہے۔
حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ ہر چیز کا خاصہ ہوتا ہے جو شخص سورج نکلنے تک سوتا رہے گا وہ دن بھر خبیث النفس اور کسلان یعنی سست رہے گا۔ محمد ثین کرام فرماتے ہیں کہ ایسا شخص نیکی کے کاموں میں بیحد سست ہوگا۔ مگر برائی کے کاموں میں بڑا چست ہوگا۔ یہ زیادہ سونے کا خاص ہے۔ فرمایا اسی طرح مردار کھانے کا خاصہ یہ ہے کہ ایسے شخص کو اچھائی کے کاموں میں نشاط نہیں ہوگی۔
حلال و حرام جانوروں کی حکمت شاہ ولی اللہ یوں بیان کرتے ہیں کہ بھیمۃ الانعام میں سے جو مویشی اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لئے حلال قرار دیئے ہیں ، وہ انسان کے ساتھ بڑی مناسبت رکھتے ہیں ، انسان کے قریب رہتے ہیں ، اس کی خدمت کرتے ہیں ، لہٰذا ان کا گوشت اور دودھ بھی انسانی طبیعت کے موافق ہے۔ جیسے بکری ، گائے بھینس اونٹ وغیرہ ان کا گوشت کھانے اور دودھ پینے سے انسان میں اچھی خصلت پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح جن جانوروں کو حرام قرار دیا ہے۔ مثلاً شیر ریچھ کتا ، بندر وغیرہ انسان سے مناسبت نہیں رکھتے ، لہٰذا ان کا گوشت کھانے سے ان جیسی خصلتیں پیدا ہوں گی۔ بلی اور کتے … کا گوشت کھانے سے انسان میں ویسی ہی صفات پیدا ہوجائیں گی۔ لہٰذا شریعت نے ان سے منع فرمایا۔
خنزیر کا گوشت
فرما یا دیگر حرام جانوروں ک طرح ولحم الخنزیر خنزیر کا گوشت بھی قطعی حرام ہے یہاں پر ذکر صرف گوشت کا کیا ہے ۔ مگر مراد یہ ہے کہ جب اس کا گوشت حرام ہے تو اس کی ہر چیز کا استعمال حرام ہے اس کی ہڈیاں ، بال ، چربی ، لعاب وغیرہ ، سورة انعام میں خنزیر کے متعلق آتا ہے۔ ” انہ رجس “ یہ بالکل ناپاک ہے۔ اس کا استعمال بالکل حرام ہے حدیث شریف میں آتا ہے کہ قرب قیامت جب مسیح (علیہ السلام) کا ظہور ہوگا تو آپ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے۔ ان دونوں کاموں سے عیسائیوں کی تذلیل مقصود ہے۔ مسیح (علیہ السلام) صلیب کو توڑ کر یہ ثابت کردیں گے کہ ان کے نام نہاد پیروکاروں کا یہ عقیدہ باطل تھا کہ انہوں نے مسیح (علیہ السلام) کو سولی پر لٹکا دیا ہے۔ اسی طرح عیسائی خنزیر کا گوشت بڑے شوق سے کھاتے ہیں ، خنزیر کو قتل کرنے کا مقصد بھی عیسائیوں کی اس بات پر تذلیل ہے۔ کہ وہ خنزیر کے گوشت کو بکری کی طرح حلال سمجھ کر کھاتے رہے۔
امام شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ خنزیر کی حرمت کی وجہ یہ ہے کہ اس جانور میں ایسی خصلتیں پائی جاتی ہیں جو انسانی فطرت کے خلاف ہیں۔ اولاً یہ گندگی کھانے والا جانور ہے اور حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جلالہ جانور یعنی گندگی کھانے والا جانور کا کھانا مکروہ تحریمی ہے۔ حتیٰ کہ اگر حلال جانور مثلاً گائے ، بھینس ، اونٹ ، بکری وغیرہ بھی گندگی کھانے لگ جائے تو اسے باندھ کر دس 1 ؎ دن تک گھاس کھلائو ورنہ اس کا دودھ اور گوشت مکروہ ہوگا۔ بعض اوقات گندگی کھانے کی وجہ سے جانور میں طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں اور اس کی وجہ سے جانور کا ذوق بھی بگڑ جاتا ہے۔ چونکہ خنزیر گندگی کھاتا ہے۔ لہٰذا اس کا اثر اس کے گوشت بلکہ ہر عضو میں سرایت کرجاتا ہے اس واسطے اس کا کھانا قطعی حرام ہے۔
خنزیر میں ایک اور قبیح خصلت بھی پائی جاتی ہے۔ جو کسی اور جانور میں نہیں ملتی یہ اس قدر بےغیرت جانور ہے کہ اس کے متعدد نر بیک وقت ایک مادہ سے ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی اور جانور نہیں ہے۔ جو دوسرے نر کی موجودگی میں مادہ سے جفتی کرے ۔ اگر کوئی دوسرا موجود ہوگا تو جب تک اسے بھگا نہیں دے گا ، نفسانی خواہش پوری نہیں کرے گا۔ مگر خنزیر ہی ایک ایسا جانور ہے۔ جس کو دوسرے نر جانور کی موجودگی قطعاً ناگوار نہیں گذرتی اور یہ بےغیرتی کی انتہا ہے۔ چناچہ اس جانور کا گوشت کھانے والی اقوام میں بھی اس خصلت کا پیدا ہوجانا لازمی امر ہے۔ انگریز اور سکھ خنزیر کا گوشت کھاتے ہیں ، دیکھ لیجیے دونوں قومیں اس قسم کی بےغیرتی کا شکار ہیں یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خنزیر کے گوشت کو حرام قرار دیا ہے۔
اگرچہ خنزیر کی ہر چیز حرام ہے۔ تاہم اس مقام پر صرف گوشت کی حرمت دو وجوہ کی بناء پر بیان کی گئی ہے۔ پہلی وجہ تو یہ ہے چونکہ یہاں پر ذکر کھانے کا ہو را ہے کہ اے مومنو ! حلال اور پاکیزہ چیزیں کھائو ، تو کھانے کی مناسبت سے گوشت کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس جانور کی باقی اشیاء یعنی ہڈیاں ، چمڑا ، چربی
1 ؎ مرغی تین دن بکری چار دن اونٹ گائے دس دن (در مختار ص 528/ج 4) (فیاض)
وغیرہ حرام تو ہیں مگر یہ کھانے کے کام نہیں آتیں بلکہ بعض دوسرے طریقوں سے انسانی استعمال میں آتی ہیں۔ گوشت کے ذکر کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اس کا گوشت ہر حالت میں حرام ہے۔ خواہ وہ شرعی طریقہ سے ذبح کیا گیا ہو یا نہ کیا گیا ہو۔ حلال جانور کی حرمت اس وقت ثابت ہوتی ہے۔ جب کہ وہ خود مر گیا ہو یا شرعی طریقہ سے ذبح نہ کیا گیا وہ مگر خنزیر کی حرمت ہر صورت میں قائم رہے گی خواہ اسے شرعی طریقہ پر ہی کیوں نہ ذبح کیا گیا ہو جس طرح باقاعدہ ذبح کرنے سے کتے کا گوشت جائز نہیں ہوجاتا ، اسی طرح خنزیر کا گوشت بھی حلال نہیں خود اسے شرعی طریقہ سے ہی کیوں نہ ذبح کیا گیا ہو۔ اس کا گوشت ہر صورت میں حرام ہی رہے گا۔ اسی لئے اسے نجس العین کہتے ہیں۔
امام ابوحنیفہ کا فتویٰ ہے کہ ہر جانور کی کھال رنگ دینے کے بعد پاک ہوجاتی ہے خواہ وہ جانور حلال مگر مردار ہو یا جانور ہی سرے سے حرام ہو ، سوائے خنزیر کی کھال کے یہ دباغت سے بھی پاک نہیں ہوتی۔ رہی انسان کی کھال ، تو وہ احتراماً استعمال میں نہیں لائی جاتی مگر دباغت سے وہ بھی پاک ہوجاتی ہے۔ غرضیکہ خنزیر ایسا جانور ہے ۔ جس کی کوئی چیز بھی کسی حالت میں بھی قابل استعمال نہیں ہوتی۔ انسانی اخلاق پر اس کی غذا کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ انسان جس قسم کی غذا استعمال کرے گا۔ اس کے اخلاف کی تعمیر اس کے مطابق ہوگی۔ اگر کوئی شخص خنزیر یا کوئی دوسری حرام چیز استعمال کرتا ہے۔ تو اس کا اثر اسکے اخلاقیات یعنی طہارت ، اخبات ، سماحت اور عدالت پر پڑے گا اور وہ شخص اپنے مقام کو قائم نہیں رکھ سکے گا۔ اسی لئے اللہ نے حلت و حرمت کا قانون نافذ کر کے انسانی اخلاقیات کی تعمیر کی ہے۔
(آیت 172- 173)
ترجمہ ، - اے ایمان والو ! وہ پاکیزہ چیزیں کھائو ، جو ہم نے تمہیں روزی دی ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم خاص اسی کی عبادت کرنے والے ہو (a) بیشک اللہ تعالیٰ نے تم پر حرام کیا ہے مردار خون خنزیر کا گوشت اور وہ چیز جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو۔ پھر جو شخص مجبور ہوگیا اس حال میں کہ وہ نافرمانی کرنے والا نہیں ہے اور نہ زیادتی کرنے والا ، پس اس پر کچھ گناہ نہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ بخشش کرنیوالا مہربان ہے۔ (a)
گزشتہ سے پیوستہ
گزشتہ درس میں حلال و حرام کی بحث آ چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکیزہ چیزوں کو حلال قرار دیا ہے اور انہیں کھانے کی اجازت دی ہے اور حرام چیزوں سے منع فرمایا۔ حلال اشیاء کی تفصیل قدرے بیان ہوچکی ہے۔ اسی سلسلے میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے الطیب ما اکل الرجل من کسبہ پاکیزہ چیز وہ ہے ۔ جو انسان اپنے ہاتھ سے کما کر کھاتا ہے۔ یعنی جو چیز محنت کر کے حاصل کی جائے۔ وہ پاکیزہ ہے۔ انسان کی اولاد کے متعلق فرمایا وانہ من کسبہ یعنی اولاد بھی انسان کی کمائی کا ایک حصہ ہے۔ لہٰذا ماں باپ کے لئے اولاد کی کمائی سے کھانا بالکل درست اور جائز ہے ۔
حرام اشیاء میں سے مردار ، خون اور خنزیر کے گوشت کا ذکر ہوچکا ہے اور ان کی وضاحت بھی گزشتہ درس میں ہوچکی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا گیا ، حضور ! سمندری سفر کے دوران ہمارے پاس میٹھے پانی کا وافر ذخیرہ نہیں ہوتا۔ اگر ہم وضو بھی میٹھے پانی سے کریں تو پینے کے لئے پانی کی مقدار بہت کم رہ جاتی ہے ان حالات میں کیا ہم سمندر کے کڑوے پانی سے وضو کرسکتے ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔ امام اعظم نے اس مردار سے مراد ہر قسم کی مچھلی لی ہے ، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی یا سانپ کی مانند ہو۔ امام صاحب کے نزدیک مچھلی کے علاوہ دیگر سمندری جانور حلال نہیں ہیں۔ تاہم دیگر آئمہ کرام باقی سمندری جانوروں کو بھی حلال قرار دیتے ہیں۔
خون کے متعلق بھی سابقہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ اس سے مراد دم مستفوح یعنی بہتا ہوا خون ہے ، جو بوقت ذبح جانوروں کی رگوں سے نکلتا ہے۔ اس کے علاوہ روبستہ خون یعنی جگر اور تلی حلال ہیں۔ انسانی جسم میں جگر خون تیار کرنے والی فیکٹری ہے اور تلی خون ذخیرہ کرنے کا ایک آلہ ہے۔ اس میں بیک وقت سات سو مکعب ملی میٹر خون جمع رہتا ہے جب کبھی کسی حادثہ میں انسانی جسم سے خون ضائع ہوجاتا ہے تو اس کمی کو پورا کرنے کے لئے تلی کا محفوظ خون حرکت میں آجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم میں اس قسم کا خود کار انتظام پیدا کردیا ہے۔ خون کی کمی تلی کے اس ذخیرہ سے پوری ہوجاتی ہے۔
مسئلہ انتقال خون
موجودہ زمانے میں انتقال خون (Blood Transfusion) یعنی جب کسی شخص کا خون بہت زیادہ مقدار میں بہ جائے تو اس کے جسم میں دوسرے شخص کا خون داخل کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ دراصل واضح مسئلہ ی ہے کہ کسی انسان کے کسی بھی عضو کو کسی دوسری جگہ استعمال کرنا احترام انسانیت کے خلاہے۔ لہٰذا کسی فوت شدہ آدمی کی آنکھ یا کوئی اور عضو عطیہ میں دنیا اور پھر اسے دوسرے انسانی جسم کے لئے استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔ حتی کہ ایک عورت کے بال بھی دوسری عورت اپنی زیب وزینت کے لئے استعمال کرسکتی ہیں۔ مگر کسی دوسرے انسان کے بال استعمال کرنا حرام ہے۔ قرآن پاک کا حکم ہے ولقد کر منا بنی ادم ہم نے انسان کو باقی تمام مخلوق پر عزت بخشی ہے۔ لہٰذا انسان کے کسی عضو کو دوائی کے طور پر بھی استعمال کرنا درست نہیں ہے۔
انسان کا خون اگرچہ اعضا کی مانند تو نہیں ہے۔ مگر اعضا کی طرح محترم ضرور ہے لہٰذا اس کا استعمال بھی دوسرے اعضا کے اسعتمال کی طرح ناجائز ہے۔ اور عام حالات میں ایک شخص کا خون دوسرے کے جسم میں منتقل کرنا درست نہیں ہے۔ ہاں ایک اضطراری حالت ایسی ہے ۔ جس میں وقتی طور پر حرام چیز بھی جائز ہوجاتی ہے۔ اس کا ذکر آیت کے اگلے حصے میں آ رہا ہے۔ چونکہ انسانی اور حیوانی جسم و روح کا تعلق خون کے واسطہ سے قائم رہتا ہے۔ اس لئے جب جسم میں خون کی مقدار اس قدر کم ہوجائے کہ جان بچانا مشکل نظر آئے تو ایسی مجبوری کی حالت میں انتقال خون کی اجازت ہوگی۔ اور وہ بھی اس مقدار تک کہ اس سے کم پر جان کو خطرہ ہو ۔ بلا وجہ کئی کئی بوتل خون لگائے جانا جائز نہیں ہوگا۔ لہٰذا اس معاملہ میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔ انتقال خون دوائی سے بڑھ کر خوراک کی حد میں داخل نہیں ہونا چاہئے۔
خنزیر کی حرمت کا بیان بھی گزشتہ درس میں آ چکا ہے۔ یہ جانور پچھلی ساری امتوں میں حرام رہا ہے ۔ مگر کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ عیسائیوں نے اسے بھیڑ بکری کی طرح استعمال کیا حالانکہ تورات کے سفر الاحبار میں صاف موجود ہے کہ خنزیر نہ تو جگالی کرتا ہے اور نہ ہی اس کا پائو پھٹا ہوا ہے لہٰذا یہ قطعی حرام ہے۔ سفر استثناء میں بھی خنزیر کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
غیر اللہ کے نام پر
محرمات اربعہ میں سے پہلے تین کا بیان گزشتہ دسر میں ہوچکا ہے۔ اب یہاں پر چوتھے حرام کا بیان آئے گا اور وہ ہے وما اھل بہ لغیر اللہ یعنی تمہارے لئے وہ چیز بھی حرام ہے جس پر اللہ کے سوا غیر کا نام پکارا جائے۔ یعنی ایسا جانور یا کوئی دوسری چیز جسے غیر اللہ کے قرب اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے نامزد کیا جائے ایسی چیز میں مردار سے بھی زیادہ خباثت سرایت کر جاتی ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حرام قرار دیا ہے۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اجمع العلماء اس بات پر علماء کا اتفاق ہے کہ لو قصد بذبحھا التقرب الی غیر اللہ جو شخص غیر اللہ کے تقریب اور خوشنودی کے لئے جانور ذبح کرے مارمرتداً وہ مرتد ہوجائے گا۔ اور اس کا مذبوح بھی مردار کی طرح حرام ہوگا۔ مثلاً کسی بات لات ، عزیٰ کے نام پر ذبح کیا ہے یا فرشتوں جنوں ، انبیائ ، بزرگ ، پیر ، فقیر کے نام پر ذبح کیا ہے ، سب حرام ہوگا۔ اس میں مجوسی بھی شامل ہیں کیونکہ وہ بھی آگ کے نام پر تقریب حاصل کرتے ہیں۔
ذبح کے بارے میں مسلم شریف کی روایت موجود ہے۔ لعن اللہ من ذبح لغیر اللہ جو اللہ کے سوا کسی غیر کے نام پر ذبح کرتا ہے۔ اس پر اللہ کی لعنت ہے۔ فقہائے کرام نے یہ مسئلہ بیان کیا ہے کہ اگر کوئی شخص حاکم کی آمد پر اس کی تعظیم کے طور پر جانرو ذبح کرے گا ، تو وما اھل بہ لغیر اللہ میں داخل ہو کر حرام ہوجائے گا۔ ایسی وصرت میں اگر بوقت ذبح بسم اللہ اللہ اکبر بھی کہ دیا۔ تو و ہ حلال نہیں ہوگا ، بلکہ مردار ہی رہے گا ، وجہ یہی ہے کہ اس نے ایک جاندار کی جان حاکم کے تقرب اور اس کی خوشنودی کے لئے لی ہے۔ حالانکہ جان کا لینا صرف اللہ ہی کے نام پر ہو سکتا ہے۔ اور اگر جانور ذبح کرنے سے مقصود مہمان کی ضیافت کرنا ہو ، تو پھر یہ جائز ہے۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ تقرب اور ضیافت میں تفریق کرنا آسان ہے۔ کسی شخص سے کہ اجائے کہ بھائی یہ جانور مت ذبح کرو بلکہ اس کی بجائے اتنی ہی مقدار میں گوشت لے کر پکالو اور مہمان کی مہمان نوازی کرلو۔ اور اگر وہ شخص مان جائے تو یہ ضیافت ہوگی اور اگر وہ کہے کہ میں تو جانور ہی ذبح کروں گا ، تو اس کی نیت ضیافت کی نہ ہوگی بلکہ تقرب کی ہوگی اور یہی چیز حرام ہے ۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ذبح کرتے وقت جو بسم اللہ اللہ اکبر کہا جاتا ہے اس میں اللہ اکبر کی بالکل وہ یحیثیت ہے ، جو نماز شروع کرتے وقت اللہ اکبر کی ہے اگر نماز میں ریکاری کا مادہ ہوگا ، تو وہ نماز حرام ہوگی ، اسی طرح بوقت ذبح اگر نیت تقرب غیر اللہ کی ہوگی ، تو وہ ذبیح بھی مردار کی طرح حرام ہوگا۔ ہاں اگر نفلی نماز تقر الی اللہ کے لئے ادا کرے اور اس کا ثواب کسی دوسرے کو ایصال کرے تو جائز ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص ذبح تقرب الی اللہ کے لئے کرے اور اس کا ثواب کسی دوسرے کو پہنچا دے ، تو اس کی ممانعت نہیں۔
ما اھل بہ لغیر اللہ کا مسئلہ بڑا ہم مسئلہ ہے۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اور مولانا نانوتوی نے اس کو وضاحت سے بیان فرمایا ہے اس سلسلہ میں مولانا نانوتی کا ایک مکتوب بھی موجود ہے۔ فرماتے ہیں کہ ذبیح کے حلال ہونے کی علت وہ نیت ہے جو خلاص اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے ہو ، اور اس کے حرام ہونے کی علت وہ نیت ہے ، جو غیر اللہ کی رضا کے لئے ہو۔ زمانہ جاہلیت کے مشرک نیت سے بھی غیر اللہ کے نام پر ذبح کرتے تھے اور ذبح کرتے وقت نام بھی غیر اللہ کا لیتے تھے۔ مومنوں کا شیوہ یہ ہے کہ وہ نیت سے بھی تقریب الٰہی چاہتے ہیں اور بوقت ذبح بھی اللہ اکبر کہتے ہیں۔ البتہ اس دور میں مبدعین کا ایک تیسرا گروہ پیدا ہوا ہے۔ جو ذبح کرتے وقت تو اللہ ہی کا نام لیتے ہیں مگر نیت غیر اللہ کی خوشنودی کی ہوتی ہے۔ یہ شرک اور نفاق ہے۔ داتا صاحب کی نیاز کے طور پر ذبح کئے گئے جانور پر اگر اللہ اکبر بھی کہ دیا جائے گا ، تو وہ حلال نہیں ہوگا کیونکہ یہاں پر نیت میں فتور ہے یہ تو بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص خنزیر کو بسم اللہ ، اللہ اکبر کہہ کر ذبح کرے ، یا یہی عمل کتے پر دہرائے ، تو وہ حرام ہی رہیگا ہاں کوئی شخص غیر اللہ کی نیاز سے توبہ کرلے اور پھر اللہ اکبر کہہ کر ذبح کرے ، تو جانور حلال ہوگا۔ کیونکہ عمل کا دار و مدار نیت پر ہوتا ہے۔
اھل کا مفہوم
بعض لوگ کہتے ہیں کہ اھل نعیر اللہ کا مطلب یہ ہے کہ بوقت ذبح غیر اللہ کا نام لیا جائے ، تو وہ چیز حرام ہوجاتی ہے اور اگر بوقت ذبح اللہ کا نام لیا جائے تو ذبیح حلال ہے۔ یہ غلطی ہے۔ اہلال کا معنی آواز کو بلند کرنا یا شہرت دینا ہے اسی لئے چاند نظر آجانے کو اہلال کہتے ہیں۔
اب اگر کسی جانور یا چیز کے متعلق شہرت دی جائے کہ یہ چیز پیران پیر یا فرشتوں یا پیغمبر کی نیاز ہے تو یہ اھل لغیر اللہ میں داخل ہو کر شرک کا ارتکاب ہوا اور چیز حرام ہوگئی۔
تابعین کے زمانہ میں ایک مسئلہ پیدا ہوا تھا ، جسے امام قرطبی نے نقل کیا ہے مسئلہ یہ تھا کہ بچوں نے کھیل کھیل میں گڑیا اور گڈے کی شادی طے کی اور اس خوشی میں اونٹ ذبح کیا ، تو اس اونٹ کا کیا حکم ہے ، وہ جائز ہوگا یا ناجائز ، امام حسن صری فرماتے ہیں کہ یہ ناجائز ہے کیونکہ یاونٹ گڑیا گڈے کے مجسمے کے نام پر ذبح کیا گیا ہے جو بت کی مثال ہے۔ ہاں اگر یہی ذبح کسی مرد و عورت کے اصل نکاح کے لئے ہوتا تو درست تھا۔
اسی طرح حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے دور میں طعام متبارربین کا مسئلہ پیدا ہوا ۔ دو سرداروں میں اس بات پر مقابلہ ہوگیا کہ ان میں سے کن مہمان نواز ہے ، ایک سردار نے مہمانوں کے لئے دس اونٹ ذبح کئے تو دوسرے نے بیس کردیئے۔ پہلے نے سو اونٹ ذبح کئے تو دوسرے نے چار سو ذبح کردیئے اسی طرح ایک سردار نے مہمان نواز کے لئے دس من آٹا گوندھا تو دوسرے نے بیس من گوندھ دیا۔ پھر پہلے نے حوض بھر آٹا گوندھا تو دوسرے نے اتنی زیادہ مقدار میں آٹا گوندھا کہ جب اس میں گھڑوا دوڑایا گیا تو وہ پھنس گیا۔ حضرت علی کی خدمت میں مسئلہ پیش ہوا کہ آیا اس قسم کا کھانا جائز ہے یا نہیں ، تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سب کچھ ریا کاری کی بناء پر ہوا ہے۔ لہٰذا ایسا کھانا حرام ہے اس میں اللہ تعالیٰ کا تقرب مطلوب نہیں بلکہ غیر اللہ کی خوشنودی مقصود ہے۔
بعض لوگ مکان بناتے وقت اس کی بنیادوں میں جانور کا خون ڈالتے ہیں اس ذبیح سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ جنات کے شر سے محفوظ رہیں۔ یہ بھی شرک ہے۔ ہاں اگر اللہ تعالیٰ کی نیاز کے طور پر جانور ذبح کر کے فقراء کو کھلایا جائے تو درست ہے۔
حالت اضطرار
چار محرکات کو بیان فرمایا کہ یہ سب انسان کے لئے حرام ہیں البتہ ایک صورت ایسی بھی ہے کہ یہ حرام مباں ہوجاتے ہیں فمن اضطر غیر باغ ولا عادفلا اثم علیہ جو کوئی اضطراری حالت میں ہو ، مثلاً بھوک سے مر رہا ہے اور صرف محرمات میں سے کوئی چیز میسر ہے تو ایسی صورت میں جان بچانے کی خاطر ان اشیاء کا کھانا درست ہوگا۔ فرمایا یہ اس حد تک ہی جائز ہے کہ نہ تو بغاوت پر اتر آیا ہے اور نہ ہی ضرورت سے زیادہ استعمال کرنے والا ہے۔ امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ باغ سے مراد یہ ہے کہ اضطراری حالت میں مباح چیز ہے نہ لذت طلب کرے اور نہ اس کو حلال سمجھے اور تعدی سے مراد یہ ہے کہ ایسی کوئی چیز کم از کم مقدار میں استعمال کرے جس سے اس کی بھوک دور ہو سکتی ہو اور ضرورت سے زیادہ کھائے گا ، تو عاد میں داخل ہوجائے گا۔ بعض دوسرے آئمہ فرماتے ہیں کہ باغ سے مراد بغاوت کرنے والا ہے اور عاد سے مراد معصیت کرنے والا ہے مثلاً ایک شخص چوری کی نیت سے جا رہا ہے اور اس پر اضطراری حالت وارد ہوگئی تو ایسے شخص کے لئے مباح نہیں ہوگا۔ وہ گناہ میں مبتلا ہے۔ اور ایسی حالت میں اگر اس کی موت بھی واقع ہوجائے تو کوئی پروا نہیں۔ بہرحال فقہائے کرام نے فرمایا ہے کہ اضطرار تین حالتوں میں ثابت ہوتا ہے ۔ اگر ان میں سے کوئی حالت وارد ہوجائے ، تو حرام کا کھانا مباح ہوجائیگا اور جان بچانے کی حد تک جائز ہوگا۔ شدید بھوک لگ رہی ہو یا سخت بیماری ہو اور حرام کردہ چیز استعمال کرنے کے علاوہ کوئی اور صورت باقی نہ ہو۔ تیسری حالت اضطرار یہ ہے کہ کوئی غالب مغلوب کو ایسی چیز کھانے پر مجبور کر دے اور عدم تعمیل کی صورت میں جا نکا خطرہ ہو ، تو ایسی حالت میں بھی حرام چیز مباح ہوگی۔ فرمایا مجبوری کی حالت میں حرام کو استعمال کرنے پر کوئی مئواخذہ نہیں ان اللہ غفور الرحیم بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے وہ کسی مخلوق پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔
ایک شبہ اور اس کا ازالہ
اس آیت میں صرف چار چیزوں کو حرام قرار دیا گیا ہے یعنی مردار ، خون ، خنزیر کا گوشت اور غیر اللہ کے نام پر نامزد کی ہوئی چیز ، حالانکہ ان کے علاوہ بھی بہت سے جانور مثلاً کتا ، بلی ، ریچھ ، بندر ، لنگور ، گدھا ، کوا ، چھپکلی ، کیڑے مکوڑے وغیرہ حرام ہیں۔ شاہ رفیع الدین فرماتے ہیں کہ صرف چار چیزوں کی حرمت بیان کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان چار کے علاوہ باقی تمام چیزیں حلال ہیں۔ بلکہ بات یہ ہے کہ یہاں صرف ان چزیوں کا نام لیا گیا ہے ، جو عام طور پر استعمال میں آتی ہیں اور مقصودیہ ہے کہ ان چیزوں کو کبھی حلال نہ جاننا ، یہ قطعی حرام ہیں ۔ البتہ اس کے علاوہ بہت سی دوسری چیزیں بھی حرام ہیں جن کا ذکر قرآن پاک کے دوسرے مقامات پر آتا ہے۔ حدیث پاک میں بھی بعض اشیاء کی حرمت بیان ہوئی ہے۔ لہٰذا ان چار کے علاوہ باقی سب چیزوں کو حلال سمجھنا درست نہیں۔
صرف چار چیزوں کی حرمت بیان کرنے کی ایک دوسری وجہ یہ ہے کہ مشرک لوگ چار حلال چیزوں کو حرام سمجھتے تھے۔ ان کا ذکر سورة مائدہ میں موجود ہے کہ وہ لوگ بحیرہ ، سائبہ ، وصیہ اور حام کو حرام سمجھتے تھے ، مگر اللہ نے فرمایا کہ ہم نے تو ان چیزوں کو حرام نہیں کیا ، تم نے ان کی حرمت کس شریعت سے نکالی ہے۔ ان چار حلال چیزوں کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ چار چیزیں قطعی حرام ہیں۔
Ayahs 2:174–176گزشتہ سے پیوستہ
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے طیبات اور محرمات کا قانون بیان کیا ہے مشرکین کا رد کیا ہے اور توحید کے دلائل بیان فرمائے ہیں۔ مزید برآں اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرر کردہ قانون کی پابندی کا حکم دیا ہے اس سے پہلے …ملت ابراہیمی کے اہم اصول ذکر ، شکر ، صبر نماز ، توحید پر یقین اور شعائر اللہ کی تعظیم کا بیان بھی آ چکا ہے ، ذرائع معاش کا بھی تذکرہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح زمین و آسمان کے درمیان مختلف ذرائع معاش پیدا فرمائے ہیں اور انہیں اللہ تعالیٰ نے توحید پر بطور دلیل پیش کیا ہے اور گزشتہ دو درسوں میں حلال و حرام پر بھی کافی گفتگو ہوچکی ہے۔
ان الذین یکتمون ما انزلنا الخ یعنی ہماری نازل کردہ واضح باتوں کو چھپانے والے لعنت کے مستحق ہیں۔
کتمان حق پر حقیر مفاد
آیات زیر درس میں کتمان حق کا دوبارہ بیان آ رہا ہے اور پھر اس سے حاصل ہونے والے حقیر مفاد کا تذکرہ ہے۔ ارشاد ربانی ہے۔ ان الذین یکتمون ما انزل اللہ من الکتب بیشک وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب میں نازل کردہ احکام کو چھپاتے ہیں ۔ ویشترون بہ ثمنا قلیلاً اور اس کے بدلے دنیا کا حقیر مال قبول کرتے ہیں۔ اولئک ما یکلون فی بطونھم الا النار ایسے لوگ اپنے پیٹوں میں آگ کے سوا کچھ نہیں بھرتے۔
یہود و نصاریٰ کی طرف سے کتمان حق کے متعلق پہلے پارہ میں بھی بیان ہوچکا ہے وہ دنیا کے حقیر مفاد کی خاطر خدا تعالیٰ کے احکام پہلے پارہ میں بھی بیان ہوچکا ہے وہ دنیا کے حقیر مفاد کی خاطر خدا تعالیٰ کے احکام کو چھپاتے رہے کتمان حق ایک ایسا سنگین جرم ہے ، جس کو اللہ تعالیٰ بتکرار بیان فرما رہے ہیں۔ اس مسئلہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ یہ بیماری اہل کتاب تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہی بیماری مسلمانوں میں بھی سرایت کرچکی ہے۔ معمولی دنیوی نفع کی خاطر عاقبت کو برباد کرلینے میں اب مسلمان بھی شریک ہوچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب مقدس میں عقائد حقہ کو وضاحت کے ساتھ بیان کردیا ہے۔ دوسرے مقام پر آتا ہے۔ نزلنا علیک الکتب تبیاناً لکل شیء “ یعنی ہم نے ایسی کتاب نازل فرمائی ہے جو ہر چیز کو وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہے حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ اہم باتیں ہیں۔ جن کی اکثر ضرورت رہتی ہے اور پھر ان باتوں کی تفصیل اور تشریح اللہ تعالیٰ نے نبی (علیہ السلام) کے سپرد فرمائی۔ لتبین للناس مانزل الیھم میں یہ حکم موجود ہے۔
شاہ رفیع الدین اور بعض دیگر مفسرین فرماتے ہیں کہ پہلے پارے میں کتمان حق کا جو بیان ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اہل کتاب حضو رنبی (علیہ السلام) کی بعثت کے متعلق جو پیشین گوئیاں موجود تھیں انہیں چھپاتے تھے اور اس مقام پر کتمان حق کا مطلب یہ ہے کہ یہ لو گ اللہ تعالیٰ کے احکام بابت حلال و حرام وغیرہ کو چھپاتے تھے۔ کتمان حق بلاشبہ کفر ہے۔ اسی لئے مولانا عبید اللہ سندھی فرماتے ہیں کہ ہر مسلمان مرد و زن کے لئے تعلیم جبری ہونی چاہئے ، تاکہ وہ حقوق و فرائض اور حلال و حرام کو پہچان سکیں۔ اسی لئے فقہائے کرام نے فرمایا ہے کہ ضروریات دین کا سیکھنا فرض کا درجہ رکھتا ہے۔ اگر مسلمان اس فرض کو پورا نہیں کریں گے تو جہالت کی بنا پر کتمان کے مرتکب سمجھے جائیں گے۔
علم قرآن کی اشاعت
حضرت مولانا سندھی فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کا علم ہونے کے باوجود دوسرے لوگوں تک نہ پہنچانا ایسا ہے۔ جیسے کسی جنگل بیابان میں پانی کا چشمہ یا کنواں ہو ، اور کوئی شخص اس پر زبردستی قابض ہوجائے۔ لوگ پیاس بجھانے کے لئے چشمے پر جاتے ہیں ، تو ایسی صورت میں کتنا بڑا مجرم سمجھا جائے گا ، اسی طرح قرآن پاک کا عالم اگر دوسرے لوگوں کی آبیاری نہیں کرتا تو وہ غاصب ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس کچھ لوگوں نے شکایت کی کہ ہم فلاں بستی میں گئے ، وہاں پر پانی موجود تھا ، مگر ان لوگوں نے ہمیں پینے کے لئے پانی نہ دیا ، جس کی وجہ سے ہمیں بڑی تکلیف اٹھانا پڑی۔ تو حضور ﷺ کے صحابی نے فرمایا ھلاً وضعم فیہم السیف تم نے میانوں سے تلواریں کیوں نہ نکال لیں۔ یہ تو بڑا جرم ہے کہ لوگ پانی کے بغیر مر رہے ہیں اور کوئی شخص پانی سے روکتا ہے۔ الغرضی کہ ! قرآن پاک کا علم دوسروں تک پہنچانا بہت بڑا جرم ہے۔ آج دنیا قرآن تعلیم کے بغیر ہلاک ہو رہی ہے۔ مگر ہمارے علماء اسے عام کرنے کی بجائے اسے چھپا رہے ہیں اور اس کے بدلے میں بدعات جاری کر رہے ہیں۔ سائل سے پیسے لے کر غلط ملط فتوے جاری کر رہے ہیں ، کہیں نذرانہ اور شکرانہ وصول کیا جا رہا ہے کہیں رسومات باطلہ کو رواج دیا جا رہا ہے۔ مردوں کو بخشوانے کی فیس وصول کی جاتی ہے۔ تبرکات کے ہم پر لوٹا جا رہا ہے۔ کہیں بہشتی دروازہ بنا دیا ہے کہ یہاں سے گذرنے والا سیدھا جنت میں جائیگا ، کہیں قبور پرستی ہو رہی ہے۔ چڑھاوے چڑھائے جاتے اور وصول کئے جاتے ہیں۔ کہیں گیارہویں منائی جا رہی ہے ، کہیں عرس ہو رہا ہے اور کہیں میلاد منایا جا رہا ہے۔ کہیں تیسرے اور دسویں کا ختم اور کہیں چالیسیویں کا ختم ہے۔ لوٹنے کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو جاری ہے دین کے ابتدائی اصول کہاں کھو گئے۔ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا درس کون دیگا ، مقام رسالت کو کون بیان کریگا ، حلال حرام کی تمیز کون بتائے گا ، علماء نے ان بنیادی چیزوں کو چھپا لیا ہے اور خرافات کی تعلیم ہو رہی ہے۔ یہ کتمان حق نہیں تو اور کیا ہے۔
اسی لئے فرمایا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ چیزوں کو چھپاتے ہیں۔ اور اس سے حقیر مفاد حاصل کرتے ہیں ، ان کی حالت یہ ہے کہ مایاکلون فی بطونھم الا النار وہ لوگ اپنے پیٹوں میں آگ کے سوا کچھ نہیں بھرتے حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) کا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص سونے چاندی کے برتن میں پانی پیتا ہے۔ وہ اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ ڈال رہا ہے۔ مسلم شریف کے الفاظ ہیں انما یجرجر فی بطنہ نارجھنم ۔ اسی طرح یتیموں کا مال ناحق کھانے والوں کے متعلق (انما یجرجر فی بطنہ نارجھنم) اسی طرح یتیموں کا مال ناحق کھانے والوں کے متعلق فرمایا کہ وہ بھی اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ ڈال رہے ہیں۔ لہٰذا باطل رسوم کے ذریعہ لوگوں کا مال کھانا ، شرک اور بد عات کا اجر اء یہ سب پیٹ میں آگ بھرنے والی بات ہے۔
اللہ تعالیٰ کی ناراضگی
فرمایا ایسے لوگوں پر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نے سخت ناراض ہونگے ان کی طرف مہربانی کے ساتھ توجہ کرنا تو درکنار ولا یکلمھم اللہ یوم القیمۃ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ کلام کرنا بھی پسند نہیں کریں گے ، بلکہ ان کی طرف غیظ و غضب کی نگاہ سے دیکھیں گے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ولا یزکھم ، اللہ ان کا تزکیہ بھی نہیں کرگے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ ان الموحدین یایخلدون فیھا خدا کی وحدانیت پر ایمان رکھنے والے دوزخ میں ہمیشہ نہیں رہیں گے۔
گنہگار ہونے کی صورت میں دوزخ میں جائیں گے۔ مگر تزکیہ کے لئے ، جب اپنے گناہوں کی سزا بھگت لیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ ان کو پاک کردیں گے اور وہ دوزخ سے نکال لیے جائیں گے۔ مگر یہاں پر کتمان حق کرنے والوں کے متعلق فرمایا کہ اللہ تعالیٰ انہیں کبھی پاک نہیں کریگا ، بلکہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دوزخ میں رہیں گے ولھم عذاب الیم اور وہاں ان کے لئے دد ناک عذاب ہوگا۔
خسارے کا سودا
فرمایا اولئک الذین اشتروا الضللۃ بالھدی والعذاب بالمغفرۃ یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی اور مغفرت کے بدلے عذاب خرید یا ہے۔ اگر یہ لوگ حق کو چھپانے کی بجائے اسے ظاہر کرتے۔ خود بھی حق پر عمل کرتے اور ان کی دیکھا دیکھی دوسرے بھی عمل پیرا ہوتے۔ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کے شامل حال ہوتی ، ان کو گناہوں کی معافی ملتی اور یہ قیامت کے دن سرخرو ہوتے ۔ مگر یہ لوگ تو خود دوزخ کو اختیار کر رہے ہیں۔ فما اصبرھم علی النار یہ دوزخ کی آگ پر کس قدر صبر کرنے اولے ہیں۔ ان کا بڑا حوصلہ ہے جو دوزخ میں داخل ہوں گے۔
ذلک بان اللہ نزل الکتب بالحق یہ اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے کتاب حق کے ساتھ نازل فرمائی ہے مگر ان لوگوں نے اسے چھپا لیا ہے۔ حق کو ظاہر نہیں ہونے دیا۔ وان الذین اختلفوا فی الکتب۔ اور جنہوں نے کتاب میں اختلاف کیا۔ یعنی اپنی مرضی کا مطلب بیان کیا ، جیسا کہ یہودیوں کا شیوہ ہے کہ وہ مطلب بھی غلط بیان کرتے ہیں اور تشریح بھی غلط کرتے ہیں ۔ تو ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا لفی شقاق بعید وہ ضد میں دور جا پڑے ہیں ایسے لوگوں کے راہ راست پر آنے کی کوئی توقع باقی نہیں رہی ، وہ سزا کے مستحق ہیں۔ یہ حکم تاکیداً دوبارہ فرمایا۔ اس کے قوانین آگے بھی آئیں گے۔
Ayah 2:177گندزشتہ سے پیوستہ
بنی اسرائیل کی خرابیاں بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر کیا تھا اور ساتھ خانہ کعبہ کی تعمیر کا بیان تھا اور اس کو قبلہ مقرر کئے جانے کی وجہ بیان فرمائی تھی۔ اس پر اہل کتاب کے اعتراض کا بھی ذکر ہوا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ملت ابراہیمی کے اہم ترین اصول بیان فرمائے جن پر ہر شخص کا کار بند ہونا ضروری ہے۔ ان میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ، لشکر ، صبر اور تعظیم شعائر اللہ شامل ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے توحید کا ذکر فرمایا ، اور مشرکین کا رد فرمایا ، حلال و حرام کا قانون بیان فرمایا پہلے پوری نسل انسانی کو تلقین فرمائی ، اس کے بعد اہل ایمان کو خصوصی طور پر حلال و حرام کے قوانین اور محرمات کی تفصیل بیانفرمائی اور پھر اللہ جل جلالہ نے اس بات کا بھی تذکرہ کیا کہ اہل کتاب نے تحویل قبلہ کی سخت مخالفت کی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس سے بیت اللہ شریف کی طرف رخ کرنے کا کیوں حکم دیا۔ یہ سب باتیں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے ذریعے بتلا دیں۔
استقبال فکر فروعی مسئلہ ہے
اہل کتاب نے تحویل قبلہ کے خلاف سخت پراپیگنڈا کیا۔ وہ کہتے تھے کہ بیت المقدس کی طرف رخ کرنا ہی اصل نیکی ہے اور اگر اس طرح رخ نہ کیا جائے تو کوئی نیکی اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق جب مسلمانوں نے قبلہ تبدیل کرلیا تو ان کی ساری نیکیاں ضائع ہوگئیں اہل کتاب نے قبلہ کو اس قدر اہمیت دی۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر اہل کتاب کے اس زعم کی تردید فرمائی ہے اور واضح کیا ہے کہ استقبال قبلہ کوئی بنیادی مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ تو ایک فروعی مسئلہ ہے ۔ جسے اہل کتاب ضرورت سے زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ جب تک اللہ تعالیٰ کا حکم بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کا تھا ، ادھر کرتے رہے اور جب اس نے پسند فرمایا تو رخ بیت اللہ شریف کی طرف ہوگیا۔ اس میں ایسی اچنبھے کی کون سی بات ہے۔
نیکی کیا ہے
اس آیت پاک میں اسی چیز کو واضح کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے لیس البر ان تولوا وجوھھم قبل المشرق و المغرب نیکی صرف یہ نہیں کہ مشرق یا مغرب کی طرف رخ کرلیا جائے۔ ولکن البرمن امن بلکہ اصل نیکی اسی کی ہے جو ایمان لایا اللہ پر قیامت پر فرشتوں پر ، کتابوں پر اور نبیوں پر اور آگے نیکی کی دوسری باتیں بھی بیان کی ہیں۔ مفسر قرآن امام بیضاوی فرماتے ہیں کہ یہ آیت قرآن پاک کی جامع ترین آیت ہے کیونکہ اس ایک آیت میں کئی ایک مسائل آگئے ہیں۔ دینی مسائل کا زیادہ تر تعلق اصلاح عقیدہ ، اخلاق یا تہذیب نفس سے ہے اور یہ سارے مسائل اس آیت میں موجود ہیں۔ گویا آیت تمام دینی مسائل کا خلاصہ ہے۔ ان میں سب سے اہم مسئلہ ایمانیات کا ہے۔ جب تک عقیدہ درست نہیں ہوگا ، کوئی عمل مقبول نہیں۔ یہود نصاریٰ اور عرب کے مشرکین صحیح اعتقاد سے محروم ہیں ان کا عقیدہ مشرکانہ ہونے کا بناء پر باطل ہے۔ لہٰذا یہ سب نیکی سے یکسر محروم ہیں ، مگر قبلہ کے مسئلہ پر جھگڑا کرتے ہیں۔
ایمان باللہ
تو فرمانی کی یہ ہے کہ من امن باللہ یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، اس کی ذات اور اس کی صفات پر ایمان لانا نیکی ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان ضروری ہے اسی طرح اس کی صفات کو ماننا بھی لازمی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کا انکار بھی اسی طرح کفر ہے جس طرح اس کی ذات کا انکار دہریت ہے۔ مثلاً مقدر کرنا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ لہٰذا تقدیر پر ایمان لانا ضروری ہوا۔ اس کے بغیر انسان مومن نہیں ہو سکتا۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر اللہ تعالیٰ کی راہ میں سونا خرچ کرتا ہے۔ مگر تقدیر پر ایمان نہیں لاتا تو اس کی اتنی بڑی خیرات بھی مقبول نہیں۔
ایمان بالاآخرت
ایمان ابلہ کے بعد فرمایا ، نیکی اس شخص کی ہے جو ایمان لایا والیوم الاخر آخرت کے دن پر قیامت کے دن پر ایمان لانا جزو ایمان ہے۔ اس کے بغیر انسان دہریہ یا کافر ہوگا۔ امام بیضاوی فرماتے ہیں کہ ایمان بالآخرت میں وہ تمام چیزیں آجاتی ہیں ، جن کا ذکر قرآن پاک میں موجود ہے۔ یا جنہیں حضور نبی کریم رئوف الرحیم ﷺ نے بیان فرمایا ہے۔ موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنا ، حساب کتاب کا منعقد ہونا ، نیکی بدی کا امتیاز ، پل صراط سے گزرنا ، دوزخ ، جنت وغیرہ یہ سب چیزیں ایمان بالآخرت میں داخل ہیں۔ لہٰذا نیکی اس شخص کی ہے جو ان سب چیزوں پر ایمان لایا۔
ایمان بالملائکہ
ایمان بالملائکہ یعنی فرشتوں پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ والملٓئکۃ یہ اللہ تعالیٰ کی نورانی مخلوق ہے ، جسے اللہ جل شانہ ، نے زمین میں آسمان اور اس کائنات کی تخلیق سے لاکھوں سے سال پہلے پیدا فرمایا اور یہ بھی نوع انسانی کی مصلحت کی خاصر اہتمام فرمایا۔ فرشتوں کی آگے دو قسمیں ہیں۔
پہلی قسم ملاء اعلیٰ والے فرشتوں کی ہے ، جو خطیرۃ القدس میں ہیں اور دوسرے ملاء سافل والے ہیں ، جو ملاء اعلیٰ والوں کے معاون ہیں یہ تمام فرشتے اللہ تعالیٰ کا حکم بجالانے پر مستعد رہتے ہیں اور کائنات تک فیضان پہنچانے کا ذریعہ ہوتے ہیں چناچہ ایمان بالملائکہ بھی ایمان کا ایک حصہ ہے۔
ایمان بالکتاب
ایمان کے چوتھے جزو کے طور پر فرمایا والکتب یعنی کتاب پر ایمان لانا بھی مکمل ایمان کا ایک حصہ ہے۔ یہاں کتاب سے مراد جنس کتاب ہے اور مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی بھی کتابیں ناز لفرمائی ہیں ، سب پر ایمان لانا ضروری ہے ” امنت بصآء انزل اللہ من کتب “ یعنی اللہ تعالیٰ نے نوع انسانی کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے جو کتاب بھی اتاری ہے۔ اس پر میرا ایمان ہے کہ وہ برحق ہے اور پھر کتب سماویہ کے سلسلہ کی آخری کتاب قرآن حکیم پر تفصیلی ایمان لانا ضروری ہے۔ پہلی کتابوں پر صرف ایمان لانا ضروری ہے ، ان پر عمل کرنا ضروری نہیں کیونکہ ان میں سے بعض احکام منسوخ ہوچکے ۔ البتہ آخری کتاب قرآن پاک پر ایمان بھی ضروری اور اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ اس کے احکام قیامت تک کے لئے نافذ العمل ہیں۔ والنبین اور اللہ تعالیٰ کے سب نبیوں پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔
ایمان بالانبیاء
دیگر اجزائے ایمان کی طرح انبیاء (علیہم السلام) پر ایمان لانا بھی ضروری ہے حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضور خاتم النبین ﷺ تک جتنے بھی رسول اور نبی مبعوث ہوئے ہیں ، سب پر ایمان لانا ضروری ہے اس لحاظ سے ” لانفرق بین احدمن رسلہ “ ہم کسی رسول میں فرق نہیں کرتے۔
الغرض ایمان کی تمام جزیات کا زبان سے اقرار کرنا اور دل سے تصدیق کرنا لازم ہے۔ ان میں سے کسی چیز کا انکار یا کسی چیز میں شک کرنا گمراہی کے مترادف ہے۔ اس کے بعد نیکی کے باقی اجزاء کا بیان ہے ، جن کا تعلق تہذیب نفس سے ہے یا مال کے ساتھ ہے یا انسان کے بدن سے ہے۔
انفاق فی سبیل اللہ
فرمایا کے لحاظ سے نیکی یہ ہے کہ واتی المال علی حبہ کوئی شخص مال کے ساتھ محبت ہونے کے باوجود اسے خرچ رکے۔ انسان کی مال کے ساتھ محبت ایک فطری امر ہے۔ دوسرے مقام پر خود قرآن پاک نے بیان کیا ” انہ لحب الخیر لشدید “ انسان مال کی محبت میں سخت ہوتا ہے مگر اس کے باوجود اگر مال صرف کرتا ہے۔ تو یہ نیکی کا کام ہے۔ اس سے انسانی ہمدردی اور اجتماعیت کا سبق ملتا ہے علی حبہ کا دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت کی بناء پر اس کی رضا کے لئے مال خرچ کرتا ہے۔ تو یہ بہت بڑی نیکی ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ مال کو کس جگہ خرچ کرنا ہے۔ تو فرمایا ذوی القربی اپنے قربات داروں پر خرچ کرتا ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ کی یہ اولین مد ہے اپنے عزیزوں پر خرچ کرنے پر دوہراً اجر ملتا ہے۔ ایک اجر صلہ رحمی کا حاصل ہوتا ہے اور دوسرا صدقہ کا قربات اور اگر چہ دشمن ہی کیوں نہ ہو۔ اگر وہ مستحق ہے تو اس پر خرچ کرنا باعث اجر وثواب ہے
خرچ کی دوسری مد کے متعلق فرمایا والیتمی والمسکین یتیموں اور مسکینوں کی حاجت براری بھی نیکی ہے نابالغ کی حالت میں مود اور باپ فوت ہوگیا ہے۔ کمانے الا کوئی نما رہا۔ یتیم ہوگیا ہے اس کے سرپرستی ضروری ہے۔ اس پر مال خرچ کرنا چاہئے اور مسکین وہ ہے ۔ جو محنت مزدوری کرتا ہے ۔ مگر کوشش کے باوجود اس کی بنیاد ضروریات پوری نہیں ہوتی ، وہ بھی مستحق ہے ایسے شخص کی اما امانت یقینا نیکی کا کام ہے۔ فرمایا رابن السبیل اور وہ مسافر بھی امداد کے مستحق ہیں جو دوران سفر محتاج ہ جائیں ، زاد راہ ختم ہوگیا ہے ، یا چوری ہوگئی ہے یا کسی تکلیف میں مبتلا ہوگیا ہے۔ تو ایسے شخص پر خرچ کرنا بھی نیکی ہے۔ خرچ کرنے والا ثواب کا مستحق ہوگا۔ فرمایا والسآئلین محتاج بھی اعانت کے مستحق ہیں۔ ان پر مال خرچ کرنا بھی نیکی کا کام ہے ۔ سائل کے لفظی معنی مانگنے والے کے ہیں۔ مگر مراد محتاج ہیں۔ کیونکہ سوال برائے سوال درست نہیں ہے۔ جب تک کہ سائل واقعی مستحق نہ ہو۔ بلا ضرورت سوال کرنے سے منع فرمایا گیا ہے اور پیشہ ورانہ گداگری کو حرام ٹھہرایا گیا ہے۔ شرعی سائل وہ ہے جو لحاظ سے محتاج ہو اور اس کے لئے سوال کرنے کے بغیر کوئی چارہ کار باقی رہے ایسے شخص کو سوال کرنا جائز ہوگا اور اس سوال کو پورا کرنا نیکی کا کام ہوگا۔
انفاق کی ایک اور مدو فی الرقاب یعنی گردنوں کا آزاد کرنا ہے اس کا عمومی مفہوم غلاموں کی آزادی ہے۔ غلام خرید کر آزاد کردیا جائے یا کسی مکاتب کار زرمکاتبت ادا کر کے اسے آزادی دلائی جائے۔ اس کی ایک اور صورت یہ بھی ہے کہ کسی مقرو ض کا قرض معاف کرکے یا اس کا قرض ادا کر کے اس کی گردن چھڑائی جائے۔ اس آیت پاک کے مطابق ایسا کرنا بھی نیکی ہے اور باعث اجر وثواب ہے۔ فرمانی کی …د صرف مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرلینا ہی نہیں چاہئے بلکہ اصل نیکی ایمان اور اور انفاق فی سبیل اللہ ہے۔
نماز و زکواۃ
پھر فرمایا کہ نیکی اس شخص کی ہے جس نے و امام الصلوۃ والی الزکوۃ نذ نماز قائم کی اور زکواۃ ادا کی۔ نماز کے ذرائع کے فیصلے انسان کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ درست ہوتا ہے اور اس کی وجہ خطیرۃ القدس کی طرف ہوجاتی ہے۔ گویا فوز و فلاح کا اہم ترین ذریعہ نماز ہے جو کہ بدنی عبادت ہے اور بہت بڑی نیکی کی بات ہے۔
زکواۃ مالی عبادت ہے اور یہ فرائض میں شامل ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ ان فی المال حقا سوی الزکوۃ یعنی مال میں زکواۃ کے علاوہ بھی حق ہے۔ صرف زکواۃ کے ادا کردینے سے مال کا مکمل حق ادا نہیں ہوجاتا ، یہ تو فرض ہے اور صاحب نصاب ہر سال ادا کرتا ہے جب کوئی شخص نصاب کو نہیں پنچ پاتا تو زکواۃ فرض نہیں رہتی۔ البتہ سال کے دیگر حقوق باقی رہتے ہیں جیسے فرمایا۔ وفی امرالھم خود للسآئل والحروم یعنی اس میں سائل محتاج کا بھی حق ہے۔ اس میں اہل و عیال اور قرابت داروں کا حق باقی رہتے ہیں جیسے فرمایا ۔ وفی امرالم حق للسآئل والمحروم “ یعنی اس میں سائل اور محتاج کا بھی حق ہے۔ اس میں اہل و عیال اور قرابت داروں کا حق ہے۔
ولدین کا حق ہے
اللہ تعالیٰ نے نماز اور زکواۃ کو اکٹھا بیان فرمایا ہے۔ ایک بدنی عبادت ہے اور دوسری مالی عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بتیس 32 میں اقیموالصلوۃ والزالزکواۃ کا اکٹھا ذکر فرمایا ہے۔ یہ اتنے اہم فرائض ہیں ۔ جن کے ذریعے ایک طرف اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم ہوتا ہے اور دوسری طرف مخلوق خدا کے ساتھ روابط بڑھتے ہیں۔ لہٰذا ان دونوں امور کو نیکی میں شامل فرمایا کہ نیکی اس شخص کی ہے جو نماز پڑھتا ہے اور زکواۃ ادا کرتا ہے۔
ایفائے عہد
نیکی کی ایک اور قسم ہے والموفون بعھدھم اذا عھدوا یعنی نیکی ان لوگوں کی ہے کہ جب وہ وعدہ کرتے ہیں تو اسے پورا کرتے ہیں۔ ایفائے عہد حسن اخلاق اور حسن معاشرت کا ایک بنیادی اصول ہے اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا۔ ” ارفوا بالعقود “ اپنے عہد کو پورا کیا کرو۔ نیز ترہیب کے انداز میں فرمایا او قراء بالعہد لوگو ! اپنے وعدہ کا پاس کیا کرو۔ ” ان العھد کان مسئولاً “ قیامت ک دن اس کی باز پرس ہوگی۔ وعدہ خواہ اللہ تعالیٰ سے ہو یا اس کی مخلوق سے ، اس کی وفا لازم ہے۔ جب کوئی شخص کلمہ طیبہ پڑھتا ہے لا الہ الا اللہ تو اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرتا ہے کہ تیرے احکام کی تکمیل کروں گا۔ مگر پھر جب اس وعدے کو پورا نہیں کرتا تو اس میں نفاق کی علامت پائی جاتی ہے۔ اسی طرح کسی مخلوق سے وعدہ خلافی بھی نفاق کی علامت ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نیکی ان لوگوں کی ہے جو اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہیں۔
صبر کی عظمت
اس کے بعد فرمایا نیکی میں وہ لوگ بھی شامل ہیں والصبرین فی الباسآء والضرآء جو سختی اور تکلیف میں صبر کرتے ہیں۔ باسآء اس تکلیف کو کہتے ہیں جو انسان پر باہر سے وارد ہو۔ مثلاً کوئی مالی یا جانی نقصان ہوجائے ، زلزلہ یا طوفان آجائے اور ضرا وہ تکلیف ہے جو انسانی جسم کے اندر پیدا ہو ، جیسے بیمار ہوگیا پھوڑانکلا جسم کے کسی حصے میں درد ہونے لگا ، وغیرہ وغیرہ۔ الغرض فرمایا کہ نیکی ان لوگوں کی ہے جو اندرونی یا بیرونی پر پریشانی میں مبتلا ہو کر صبر کرتے ہیں رحین الباس اور وہ لوگ بھی نیکی والے ہیں کہ میدان جہاد میں پہنچنے والی تکلیف و بخوشی برداشت کرتے ہیں حتی کہ اپنی جان تک کی بازی لگا دیتے ہیں مگر صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے صبر کی یہ تین مختلف صورتیں یہاں بیان کی ہیں اور صبر ویسے بھی ہمارے دین کا بنیادی اصول ہے۔ پہلے گزر چکا ہے۔ استعینوا بالصبر والصلوۃ “ یعنی صبر اور نماز کے ساتھ امداد حاصل کرو۔ تو یہاں پر صبر کا بیان بھی آ گیا۔
سچے لوگ
فرمایا جن لوگوں میں مذکورہ اوصاف پائے جائیں ، نیکی ان لوگوں کی ہے۔ اولئک الذین صدقوا یہی سچے لوگ ہیں۔ وہ ایمان کی دولت سے مالا مال ہیں۔ راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں۔ نماز قائم کرتے ہیں …د اور زکواۃ ادا کرتے ہیں ایفائے عہد ان کا شیوہ ہے اور صبر کا دامن نہیں چھوڑتے ۔ فرمایا اصل نیکی کے کام تو یہ ہیں ۔ مگر یہود و نصاری نے قبلہ کے مسئلہ کو جھگڑے کا سبب بنا رکھا ہے اصل نیکی کے کام کرنے والے ہی فائز المرام ہوں گے۔ ان کی نیکی کی وجہ سے ان کے بیگانے بھی اپنے بن جائیں۔ اور اگر ان کا عقیدہ درست نہیں ہے۔ مال کی محبت میں مبتلا ہیں۔ حلال و حرام کی تمیز سے عاری ہیں تو وہ سچے کیسے ہو سکتے ہیں۔ رشوت اور سود خوار کیسے سچا ہو سکتا ہے۔ وہ تو ذرائع آمدن میں حلال و حرام کی تمیز نہیں کرتا۔ قرابت داروں ، محتاجوں اور غریبوں کے حقوق ادا نہیں کرتا۔ وہ نیکی کے راستے پر گامزن نہیں ہے۔
متقی لوگ
واولئک ھم المتقون اور یہی لوگ متقی ہیں جو کفر اور شرک سے پاک ہیں معاصی سے بچتے ہیں۔ سورة بقرہ کی ابتدائی آیات میں گزر چکا ہے کہ یہ کتاب ھدی للمتقین یعنی تقویٰ پکڑنے والوں کے لئے ہدایت ہے اور متعین وہی لوگ ہیں جو مذکورہ صفات کے حامل ہیں اور لمبے چوڑے دعوے کر کے چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑا نہیں شروع کردیتے ہیں۔ جن لوگوں کا نہ اخلاق اچھا ہے اور نہ وہ تہذیب نفس کے حامل ہیں مال کی محبت میں حد سے بڑھے ہوئے ہیں ان کا تعلق باللہ درست نہیں ہے حقوق و فرائض ادا نہیں کرتے وہ متقی کیسے بن سکتے ہیں۔