Ayah 2:255ربطہ آیات
پہلے دو رکوع میں اللہ تعالیٰ نے نظام خلافت کا ذکر فرمایا ہے۔ بنی اسرائیل کا واقعہ بیان کرکے جہاد کا مسئلہ سمجھایا ہے اور پھر نظام اسلام کی نشاندہی کی ہے کہ امیر کیسا ہوناچاہئے۔ سپاہی اور لشکر کی صفات کیا ہوں جہاد ہی کے سلسلہ میں جان و مال کی قربانی کا خصوصی ذکر فرمایا ہے۔ پھر اس اعتراض کا جواب دیا ہے کہ جہاد کرنا نبیوں کا کام نہیں۔ فلسفہ جہاد بیان کیا ہے کہ اگر جہاد کا حکم نہ ہو ، تو فسادی لوگ زمین میں فساد برپا کریں گے۔ لہٰذا سوسائٹی کو درندہ صفت لوگوں سے محفوظ کرنے کے لیے جہاد ضروری ہے۔
اب اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان اور توحید کا مسئلہ بیان کیا ہے۔ اور اس کا ربطہ پہلی آیتوں کے ساتھ مختلف طریقوں سے ہے جہاد کے سلسلہ میں جان و مال کھپانے کا ذکر ہوچکا ہے۔ مگر ان دو چیزوں کی قربانی اسی وقت قبول ہوگی جب ایمان صحیح ہو اور انسان کا عقیدہ توحید پر ہو۔ اعمال کا دارومدار پر ہے۔ اگر عقیدہ درست نہیں ہوگا تو کوئی عمل قابل نہیں ۔ عقیدہ توحید کے بغیر پہاڑ جتنے اعمال بھی بےسود محض ہوں گے۔ ان کی حیثیت راکھ اور غبار سے زیادہ سے نہیں ہوگی۔ لہٰذا مسئلہ توحید کو مسئلہ جہاد کے ساتھ یہ ربط ہے۔
پیشتر ازیں بنی اسرائیل کے واقعہ کے ضمن میں نظام خلافت بھی سمجھادیا گیا ہے اور اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ اقتدار کا حقیقی مالک خلیفہ نہیں ہوتا جو اپنی من مانی کرتا پھرے ، بلکہ اقتدار کا مالک اللہ ہوتا ہے۔ خلیفہ تو اللہ کا بندہ ہوتا ہے جو نظام خلافت کو چلاتا ہے۔ اس سورة کے آخری حصہ میں بھی یہی بات سمجھائی گئی ہے کہ خلیفہ اقتدار کا مالک نہیں ہوتا بلکہ وہ تو امین ہوتا ہے اور دین اور شریعت کو جاری کرتا ہے اس کے ساتھ ایک جماعت ہوتی ہے جو نفاذِ شریعت میں اسکی مدد کرتی ہے اسے مجلس شوریٰ کو لیں یا کچھ اور۔ وہ بہرحال ” وامرھم شوریٰ بینھمـ“ کے تابع ہوتی ہے۔ تو گویا نظام خلافت کا صحیح طور پر قائم کرنا بھی عقیدہ توحید پر موقوف ہے لہٰذا اس لحاظ سے بھی آیت زیر درس کو سابقہ آیات کے ساتھ ربط ہے۔
آیت الکرسی کی فضیلت
یہ آیت ایک لمبی آیت ہے اور آیت الکرسی کہلاتی ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی کرسی کا ذکر ہے۔ وسع کرسیۃ السموت والارض حدیث شریف میں اس آیت پاک کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ حضرت ابی ابن کعب ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے ان سے پوچھا کہ قرآن پاک میں سب سے بڑی آیت کون سی ہے۔ تو حضرت ابی ابن کعب ؓ نے نہایت ادب سے عرض کیا اللہ و رسولہ اعلم یعنی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتا ہے۔ پھر حضور ﷺ نے پوچھا۔ اچھا یہ بتائو ، قرآن پاک میں بہتر آیت کون سی ہے۔ انہوں نے پھر عرض کیا۔ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتا ہے۔ پھر نبی کریم نے حضرت ابی ؓ سے سینہ پر ہاتھ مار کر وہی سوال کیا۔ تو انہوں نے جواب دیا حضور ! اعظم ایۃ فی القراٰن اللہ لا الہ ھو الحی القیوم یعنی قرآن پاک کی سب سے بڑی آیت یہ آیت الکرسی ہے تاہم اس آیت کا یہ اعزاز الفاظ یا کلمات کے اعتبار سے نہیں بلکہ فضیلت کے اعتبار سے اسے سب سے بڑی آیت ہونے کا شرف حاصل ہے۔
ایک دوسری روایت میں آتا ہے جو شخص فرض نماز کے بعد اخلاص کے ساتھ آیت الکرسی پڑھے گا۔ وہ اگلی نماز تک اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہوگا۔ حضور نبی کریم رئوف الرحیم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا۔ جو کوئی فرض نماز کے بعد اخلاص کے ساتھ آیت الکرسی پڑھیگا۔ موت کے سوا اس کے دخول جنت میں کوئی چیز مانع نہیں ہوگی۔ یعنی جنت میں داخلے کے لیے صرف موت ہی درمیان میں رکاوٹ ہے جونہی اس کی موت واقع ہوگی ، وہ شخص جنت میں داخل ہوجائیگا گویا یہ آیت کریمہ تلاوت کرنے والا جنت کا مستحق ہوگیا۔
ایک اور حدیث میں اس آیت اور سورة مومن کی چند ابتدائی آیات کی مزید فضیلت آئی ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی آیتیں ہیں مگر فضیلت کے لحاظ سے ان کو کمال درجہ حاصل ہے۔ حم تنزیل الکتب من اللہ العزیز العلیم غافر الذنب و قابل التوب شدید العقاب ذی الطول لا الہ الا ھو الیہ المصیر حضور نے فرمایا جو شخص آیت الکرسی اور سورة مومن یا غافر کی یہ تین آیتیں رات کے وقت تلاوت کریگا۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے صبح تک اس کی حفاظت ہوتی رہیگی۔ اور جو کوئی صبح کے وقت یہ آیتیں تلاوت کریگا۔ وہ رات تک اللہ کی امان میں ہوگا۔
ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ حضور نبی (علیہ السلام) نے فرمایا کہ سورة بقرہ میں ایک ایسی آیت ہے جو فضیلت کے لحاظ سے سب سے بڑی آیت ہے جس گھر میں یہ آیت پڑھی جاتی ہے۔ وہاں شیطان نہیں ٹھہر سکتا ۔ بلکہ وہاں سے بھا گ جاتا ہے۔ اس آیت کا اتنا عظیم اثر ہے ، صحیحین میں صدقہ الفطر کے اناج کی حفاظت والی حدیث آتی ہے کہ اس اناج کی حفاظت حضرت ابوہریرہ ؓ کے ذمہ تھی ، آپ رات کو پہرہ پر تھے کہ شیطان نے اس اناج میں سے کچھ لینا چاہا مگر صحابی رسول نے اسے پکڑ لیا ، مگر اس کی منت خوشاد کرنے پر چھوڑ دیا ۔ پھر دوسری رات آئی ، تو یہی واقعہ پیش آیا آپ نے شیطان کو دبوچ لیا ۔ اس نے وعدہ کیا کہ اس دفعہ چھوڑ دیا جائے پھر نہیں آئیگا آپ نے پھر اس کو چھوڑ دیا ، مگر وہ کم بخت تیسری رات پھر آ گیا ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے پھر اس کو پکڑ لیا اور فرمایا میں آ ج تجھے ہرگز نہیں چھوڑوں گا بلکہ حضور ﷺ کے پاس لے چلوں گا۔ شیطان نے پھر منت سماجت کی اور کہا کہ خدا کے لیے مجھے چھوڑ دو کہنے لگا کہ اگر تم آیت الکرسی پڑھ لیا کرو تو شیطان تمہارے قریب نہیں آسکے گا ، تمہاری حفاظت ہوگی ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے تیسری رات بھی شیطان کو چھوڑ دیا اور صبح کو سارا معاملہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کردیا ۔ آپ نے فرمایا اے ابوہریرہ ؓ شیطان ہے تو جھوٹا ، مگر بات اس نے ٹھیک کہی ہے۔ اگر کوئی شخص ایمان کے ساتھ اس آیت کی تلاوت کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسکا محافظ و نگہبان ہوگا۔ الغرض ! اس آیت پاک کو بہت بڑی فضلیت حال ہے ، لہٰذا ہر مسلمان کا سے ورد زبان بنا لینا چاہئے ، ہر نماز کے بعد اس کی تلاوت کی جائے ، صبح و شام کو اسے پڑھا جائے ، تو اللہ تعالیٰ ہر مصیبت سے مامون فرمائیگا اور آخرت میں جنت میں داخلے کی ضمانت ہوگی ، تا ہم مفسرین اور محدثین کرام فرماتے ہیں کہ ہر دعا اور ذکر کی قبولیت کے لیے بعض شرائط ہیں ، ہر دعا اور ہر ذکر محض پڑھ لینے سے درجہ قبولیت تک نہیں پہنچ جاتی ، قبولیت دعا کے لیے ضروری ہے کہ دعا گو فرائض سے خالی نہ ہو ، اللہ تعالیٰ نے اس پر نماز ، روزہ فرض کیا ہے ۔ تو ان کا تارک نہ ہو ، بلکہ انہیں پورا کرتا ہو اور پھر اس کا رزق بھی حلال ہو ، اس کا کھانا ، پینا اور پہننا حرام سے پاک ہو اور یہ بھی قبولیت کی شرط ہے کہ انسان حتیٰ الامکان امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل کرتا ہو ، ترمذی شریف کی حدیث ۔۔۔۔ میں آتا ہے ۔ ان اللہ لا یقبل دعاء من قلب غافل ۔ اللہ تعالیٰ غافل دل کی دعا قبول نہیں کرتا ، جب کوئی دعا کرے ، تو نہایت خشو ع و خضوع کے ساتھ دعا کرنی چاہئے ، خدا کی بارگاہ میں ایسی دعا قبول نہیں ، جو دل کی گہرائیوں سے نکلنے کی بجائے محض زبان کی حرکت تک محدود ہو۔
یہ آیت پاک پچاس الفاظ پر مشتمل ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے گیارہ دلائل موجود ہیں ۔ یہ آیت گویا مجموعہ دلائل ہے۔ اس آیت کی فضلیت ان معانی میں ہے کہ کسی چیز کا علم یا اس کا ذکر اس کے معلوم یا مذکور کے تابع ہوتا ہے ، یعنی جو درجہ اور فضلیت کسی مذکور معلوم کو حاصل ہوگا وہی اس کے علم یا ذکر کو حاصل ہوگا ، اب قرآن پاک میں تو تمام چیزوں کا ذکر ہے ، کہیں خود قرآن پاک کے متعلق آتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور یہ ہدایت ہے ، کہیں اللہ کے نبیوں کا ذکر ہے ۔ کہیں بڑے آدمیوں کا ذکر ہے ، کہیں فرعون و قارون کا واقعہ بیان ہوا ہے کہیں صالحین کا ذکر ہے ، کہیں احکام ہیں کہیں نواہی ہیں ۔ انسان کی تہذیب کا بیان ہے۔ اس کے نفس اور روح کی کیفیت کا ذکر ہے۔ اسی طرح قرآن میں خود خدا تعالیٰ کی ذات اور اسکی توحیدکا ذکر ہے ، کہیں اس کی صفات کمال اور کہیں صفات و جلال و جمال کا ذکر ہے ، تو یہ جو اللہ کا ذاتی ذکر ہے ، یہ تمام اذکار سے افضل ہے ، لہٰذا جن آیات اور جملوں میں ان چیزوں کا ذکر ہوگا ، وہ آیات باقی آیات سے افضل ہوگی ، اس لحاظ سے چونکہ آیت الکرسی میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اسکی صفات کا ذکر ہے ، لہٰذا یہ آیت پاک بھی باقی آیات سے افضل ہے۔
توحید باری تعالیٰ
اس عظیم آیت میں ارشاد ہوتا ہے ۔ اللہ لا الہ الا ھو اللہ وہی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، نہ کوئی چھوٹا نہ بڑا ، نہ عارضی نہ مستقل ، نہ باپ نہ بیٹا کوئی بھی معبود نہیں ۔ معبود وہی اور صرف وہی ہے ، جو کوئی اللہ کے علاوہ کسی اور کو بھی معبود مانتا ہے ، تو اس کا عقیدہ قطعا ً باطل ہوے۔ وہ تو ایسی ذات ہے ۔ الحی جو زندہ ہے ، اس کی حیات ابدی اور سرمدی ہے ، اس کے علاوہ جتنی بھی زندگیاں ہیں ، سب جزوی اور عارضی ہیں ، کسی کو دائمی حیات حاصل نہیں ۔ زندگی کا سر چشمہ خدا کی ذات وحدہٗ لا شریک ہے ، یہ اس کی مشیت ہے جس کو جتنی زندگی چاہے دے دے اور جب چاہے واپس لے لے ۔ وہ القیوم بھی ہے ، یعنی خود قائم ہے اور کائنات کے باقی چیزوں کو قائم رکھنے والا ہے وہ عالم بالا سے لے کر ذرہ ذرہ تک کا محافظ اور نگران ہے۔ وہی پیدا کرنے والا ہے وہی جتنا عرصہ چاہے قائم رکھنے والا ہے اور پھر وہی فنا کرنے والا بھی ہے لوگوں نے کئی قسم کے باطل عقیدے بنا رکھے ہیں ۔ عیسائیوں نے باپ ، بیٹا اور روح القدس کا نظریہ قائم کیا ہوا ہے۔ تین خدا ہیں ، کیا ایک خدا کافی نہیں ہے۔ ہندوئوں کے عقیدے کے مطابق پیدا کرنے والا برہما ہے۔ تھامنیوالا وشنو ہے اور فنا کرنے والا شوا جی مہارج ہے۔ ان کے بھی تین خدا ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے باطل نظریات کی تردید فرمائی ۔ اور یہ بات واضح کردی کہ الحی القیوم وہی ہے ، پیدا بھی وہی کرتا ہے۔ پرورش بھی وہی کرتا ہے قائم بھی وہی رکھتا ہے اور پھر فنا بھی وہی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ جتنے عقیدے ہیں سب باطل ہیں ۔
اور پھر اس مالک الملک کی ہر چیز پر نگرانی اور حفاظت بھی اس طور ہے کہ لا تاخذہ سنۃ ولا نوم نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ نیند ، اونگھ اور نیند تو غفلت کی علامت ہے اور اس کو آتی ہے جس کو تھکاوٹ ہوجائے اور آرام کی ضروررت ہو ، مگر اللہ کی ذات تو پاک ہے نہ وہ تھکتا ہے اور نہ اسے آرام کی ضرورت ہے۔ یہ تو ناتواں انسان ہے جو کچھ مشقت کرنے کے بعد تھک جاتا ہے اور پھر اسے آرام کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اللہ تعالیٰ نے اسکے لیے نیند جیسی نعمت تیار کی ہے۔ اللہ نے اس کو سباتا ً کہا ہے یعنی نیند انسان کے لیے آرام کا ذریعہ ہے ، تا کہ جب محنت کرنے کے بعد تھک ہار جائے تو کچھ دیر آرام کر کے پھر سے تازہ دم ہوجائے اور دوبارہ کام کاج اور عبادت میں مصروف ہوجائے۔ یہ تھکان ، کمزوری اور پھر آرام کی ضرورت اللہ تعالیٰ کی شان کے شایان نہیں ہے۔ وہ ان چیزوں سے پاک اور منزہ ہے ، بلکہ در حقیقت لہ ما فی السموات وما فی الارض زمین و آسمان کی ہر شے اسی کی پیدا کردہ ہے ۔ اسی کے قبضہ قدرت میں ہے ، اور اس کی مطیع ہے ، ہر چیز پر اس کا تصرف ہے اور اس میں اس کا کوئی شریک نہیں وہ ذات ہے جو یصرف الامر کیف یشاء جس طرح چاہے تصرف کرتا ہے ، کسی چیز کا گھٹانا ، بڑھانا ، بلندی ، پستی ، زندہ کرنا اور مارنا سب اس کے اختیار میں ہے ، ہر چیز پر اسی کا حکم چلتا ہے۔
مسئلہ شفاعت
فرمایا جب قادر مطلق وہذات ہے ۔ تو من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ کون ہے جو اس کے سامنے سفارش کرنے کا دم مار سکے بغیر اسکی اجازت کے ، مشرکوں کا عقیدہ یہ ہے کہ ان کے معبود ان کی سفارش کریں گے ، اللہ تعالیٰ خواہ راضی ہو یا ناراض یہ ہماری سفارش کر کے خدا کو ضرور ہی منا لیں گے ۔ یہودیوں اور نصرانیوں کا بھی اسی قسم کا عقیدہ ہے ، حالانکہ جبری اور قہری سفارش کا تو وجود ہی نہیں ہے۔ اس سے پہلے آیت میں آ چکا ہے کہ اس دن نہ خریدو فروخت ہوگی ، نہ دوستی کام آئیگی ولا شفاعۃ اور نہ کوئی سفارش ہوگی ۔ ہاں اللہ تعالیٰ کی اجازت کے ساتھ سفارش کر نیکی اجازت ہوگی ۔ اشرف المخلوقات میں سب سے افضل انسان حضور خاتم النبیین ﷺ ے فرمایا قیامت کے د رب الحکمین کے سامنے آئوں گا اور اللہ تعالیٰ کے حضور لمبا سجدہ کروں گا پھر حکم ہوگا یامحدم ارفع راسک ، اے محمد ! آپ اپنا سر اٹھائیں ۔ آپ بات کریں آپ کی بات سنی جائیگی ، آپ سفارش کریں ، آپ کی سفارش قبول کی جائے گی ۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ حضور ﷺ کا یہ سجدہ دس برس کے وقفہ کے برابر لمبا ہوگا ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ شفاعت کی اجازت دیں گے ، بغیر اجازت کے کوئی سفارش نہیں ہوگی اور اجازت بھی اس شخص کے لیے دی جائیگی جس کا عقیدہ توحید پر ہوگا اور اللہ تعالیٰ کو پسند ہوا ۔ ولا یرضی لعبادہ الکفر اللہ تعالیٰ کفر والے عقیدہ ، شرک والے عقیدہ کو پسند نہیں کرتا ، وہ کفر کرنے کی توفیق تو دے دیتا ہے ۔ کافر کی رسی تو دراز کردیتا ہے مگر ان سے ناراض ہوتا ہے ، کیونکہ اس کے نزدیک والکفرون ھم الظلمون۔ کافر لوگ ہی اصل ظالم ہیں ، نیز یہ کہ ان الشرک الظلم عظیم شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ لہٰذا قیامت کے دن سفارش دو شرطوں سے مشروط ہوگی اور مستحق سفارش کیا شخص ہوگا ، من لا یشرک باللہ شیئا ً جو اللہ کے ساتھ شرک کرنے والا نہ ہو اور پھر یہ کہ بغیر اجازت کے سفارش نہ ہوگی ۔ جب اجازت ہوگی تو انبیاء ملائکہ ، اولیاء ، شہدا اور مومن سفارش کریں گے صحیحین کی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ باربار سجدہ ریز ہوں گے اور اللہ تعالیٰ بار بار سفارش کی اجازت دیں گے ، یہ سفارش مختلف قسم کے لوگوں کے لیے ہوگی ۔ ایک دفعہ اجازت ہوگی کہ اس قسم کے لوگوں کے متعلق سفارش کریں ۔ آپ سفارش کر کے ان لوگوں کو دوزخ سے نکال لیں گے ، پھر سجدہ کریں گے پھر اجازت ہوگی ، اب ایسے لوگوں کی سفارش کریں ۔ آپ ان لوگوں کو بھی دوزخ سے نجات دلوائیں گے اور اس طرح آپ بار بار سجدہ کریں گے اور اللہ بار بار سفارش کی اجازت دیں گے ، دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حضور ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔
علم غیب خاصہ خداوندی ہے
جس طرح اللہ تعالیٰ مختار مطلق اور قادر مطلق ہے اور جس طرح وہ الٰہ بر حق ہے اسی طرح وہ علیم کل بھی ہے ، چناچہ یہ اس کی صفت خاصہ ہے۔ یعلم ما بین ایدیھم وما خلفھم وہ ماضی کو بھی جانتا ہے اور مستقل سے بھی واقف ہے ۔ اس دنیا کے تمام امور کا بھی مکمل طور پر عالم ہے اور آخرت کے جہا ن یعنی برزخ اور قیامت کے حال کے ذرہ ذرہ سے بھی واقف ہے۔ یہ ماضی حال ، مستقبل وغیرہ انسانوں کی نسبت سے ہے وگرنہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو کوئی چیز غائب ہیں وما یعزب عن ربک من مثقال ذرۃ تیرے رب سے کوئی ذرہ برابر چیز بھی غائب نہیں ، وہ ہر شے کو جانتا ہے۔ ولا یحیطون بشی من علمہ الا بما شاء مخلوق میں سے خواہ انسان جن یا فرشتے یا کوئی اور مخلوق ہو کوئی بھی خدا تعالیٰ کے علم کا احاطہ نہیں کرسکتا ، ہاں جس قدر اللہ تعالیٰ چاہے ، وہ کسی کو اتنا علم عطا کردیتا ہے ، خدا کا علم غیر محدود ہے اور غیر متناہی ہے ، اس کو کوئی حد نہیں مگر مخلوق کا علم محدود ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت خضر (علیہ السلام) کے متعلق بخاری شریف کی روایت موجود ہے کہ ایک چڑیا نے پانی میں چونچ ماری اور جتنا پانی لے سکتی تھی لے لیا ۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا ، اے موسیٰ ! تیرا اور میرا علم خدا تعالیٰ کے علم کے مقابلے میں اس چڑیا کی چونچ کی مانند ہے ، ہم نے تو اللہ تعالیٰ کے علم میں سے اتنا حصہ بھی حاصل نہیں کیا ، جتنا چڑیا اس چڑیا نے سمندر سے پانی لیا ہے ، تم کہتے ہو کہ میں بڑا عالم ہوں ۔ بھلا ہمارے علم اور اللہ تعالیٰ کے علم میں کیا نسبت ہے ، تا ہم یہ ایک مثال ہے وگرنہ اللہ کا علم اور مقدار رات تو اس سے بھی زیادہ وسیع ہیں ، حتیٰ کہ انسان اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ اب جو لوگ دوسروں کے متعلق گمان رکھتے ہیں کہ وہ بھی ہر چیز کو جانتے ہیں ان کو کیا کہا جائے ۔ بعض لوگ اولیاء اللہ اور بعض انبیاء کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ ہماری سب باتوں کو جانتے ہیں ۔ بھائی ! یہ شرکیہ عقیدہ ہے ، ہر چیز کا جاننے والا اللہ کے سوا کوئی نہیں ۔ ہاں الا بما شاء جس قدر اللہ بتلا دے ، اتنا ہی جانتے ہیں ، یہ معبود بر حق ہی جانتا ہے کہ کسی کو کیا دکھ اور کیا تکلیف ہے۔ دوسرا کوئی نہیں جانتا اور نہ اس کو رفع کرنے پر قادر ہے ، وہ جب تک چاہتا ہے کسی کو مشکل میں ڈالے رکھتا ہے اور جب چاہتا ہے ۔ مصیبت اور پریشانی کو دور کردیتا ہے۔ آج کی دنیا میں بیچارے فلسطینی کن حالات سے گزر رہے ہیں ۔ فلپائنی مسلمان کس مشکل میں گرفتار ہیں ۔ افغانوں پر کیا بیت رہی ہے۔ ہندوستان کا مسلمان کس قدر بےبس ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے جو مسلمانوں کے حالات کو درست فرمائے ، کون ہے ، جو ان کو مشکلات سے نکالے۔ ان کی کشتی کو گرداب سے نکالنا تو درکنا اللہ کے سوا کون ہے جو ان کے حال سے بھی واقف ہو۔ تمام انسانی برادری میں سے انبیاء علہیم السلام سب سے زیادہ جاننے والے ہوتے ہیں ۔ مگر ان کا علم بھی محدود ہوتا ہے ، وہ عالم الغیب نہیں ہوتے عالم الغیب و الشہادت صرف ذات خداوندی ہے۔ اسی کا علم ہر چیز پر محیط ہے ، واللہ بکل شی محیط اس کے علاوہ کسی اور کا علم ہر شے پر محیط نہیں ہے۔
عرش اور کرسی
وسع کرسیۃ السموات والازض اس کی کرسی آسمان و زمین سے وسیع ہے عرش اور کرسی کا ذکر قرآن پاک میں جگہ جگہ موجود ہے ، مگر اس کی کیفیت کو ہم نہیں جانتے ہمارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ ان اشیاء کی موجودگی پر ایمان لے آئیں ۔ عرش اور کرسی کا حجم کیا ہے ، ان کی ساخت کیا ہے ، یہ چیزیں ہمارے احاطہ علم میں نہیں آسکتیں ۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ ساتوں زمینیں اور آسمان کرسی کے مقابلے میں ایسے ہیں ۔ جیسے کسی بہت بڑے میدان میں کڑا سا ہو ۔ اسی طرح عرش کے مقابلے میں کرسی کی ایسی ہی نسبت ہے۔ عرض اتنا بڑا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عرش کو عرش عظیم فرمایا ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ کرسی سے مراد علم اور قدرت ہے جوہر چیز پر وسیع ہے ۔ الرحمن علی العرش استوی اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے ، کس کیفیت کے ساتھ ، جیسا اسکی شان کے لائق ہے ، یہ بات ہمارے فہم و فراست میں نہیں آسکتی اور نہ ہم اپنے ذہن سے اس کا تصور کرسکتے ہیں ، بس ان چیزوں پر ایمان لانا ہی کافی ہے۔ ولا یودہ حفظھما ان چیزوں کی حفاظت اللہ تعالیٰ کو تھکا نہیں دیتی انسان نو مسلسل کچھ عرصہ کام کر کے تھک ہار کر بیٹھ جاتا ہے اور پھر آرام چاہتا ہے مگر اللہ تعالیٰ تمام کائنات کی مسلسل نگرانی کے باوجود تھکتا نہیں ۔ وہ ازل سے لے کر ابد اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے کام میں مصروف ہے ، نہ وہ تھکتا ہے ، نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ نیند آتی ہے اور نہ کوئی چیز اس کے احاطہ قدرت سے باہر ہوتی ہے۔ وھو العلی اور وہ باعتبار ذات بہت بلند ہے ، وہ ہمارے تصور ، ہم اور خیال سے بلند تر ہے ، اس کے علاوہ وہ العظیم بھی ہے یعنی اس کی صفات بہت عظمت والی ہیں۔ وہ کمال عظمت کا مالک ہے ، وہ ذات کے لحاظ سے بلند ہے تو صفات کے لحاظ سے عظیم ہے۔ ہر شخص کو چاہئے کہ اس بلند مرتبہ آیت کو ورد زبا ن بنا لے تا کہ حضور ﷺ کے فرمان کے مطابق یہ آیت اس کے لیے بخشش و مغفرت کا ذریعہ بن جائے۔
Ayahs 2:256–257ربط آیات
گزشتہ درس میں آیت الکرسی کا ذکر تھا اور اس کی فضلیت بیان ہوئی تھی ، یہ آیت فضلیت کے اعتبار سے قرآن حکیم میں سب سے بڑی آیت ہے ، کیونکہ اس کا تعلق توحید باری تعالیٰ سے ہے۔ حضور ﷺ کا وعدہ ہے کہ جو شخص خلوص نیت کے ساتھ آیت الکرسی کی تلاوت کریگا ، اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں مقام عطا فرمائیں گے۔ آج کے درس میں اسی موضوع کو آگے چلایا گیا ہے کہ دین اسلام کی قبولیت اور پھر اس میں خلوص نیت انسان کا اپنا فعل ہے ۔ جس قسم کا عقیدہ اور عمل ہوگا اس کے مطابق جزا و سزا ہوگی ، دین میں زبردستی نہیں ہے ، بلکہ یہ انسان کا اپنا انتخاب ہے۔
دین میں جبر نہیں
فرمایا لا اکرہ فی الدین دین کے معاملہ میں جبر نہیں ہے کسی کو زبردستی دین میں داخل کر نیکی قطعا ً اجازت نہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قد تبین الرشد من الغنی ہدایت گمراہی سے بالکل واضح ہوچکی ہے۔ اب کوئی اشتباہ باقی نہیں رہا ، نیکی اور بدی کا امتیاز کھل کر سامنے آ گیا ہے لہٰذا جو شخص اپنی مرضی سے اسلام میں داخل ہونا چاہئے ، بلا جھجھک اسلام قبول کرلے اور جس کا دل نہیں مانتا وہ ایمان نہیں لاتا تو بیشک نہ لائے ، اسے زبردستی دین میں داخل نہیں کیا جائیگا۔ اس آیت کی تفسیر میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں ” جبر نیست برائے دین “ یعنی دین اسلام میں داخلے کے لیے کسی شخص پر جبر روا نہیں ہے ، تا ہم اسلام میں فی الجملہ جبر موجود ہے اور اس سے مراد وہ تمام احکام ہیں جن کے ذریعے کسی پر سختی کی جاتی ہے۔ مثلاً جہاد کا تعلق جبر سے ہے ، جبر کے بغیر جہاد نہیں ہو سکتا ۔ اسی طرح حدود کا قیام ہے کوئی مجرم خوشی سے سزا قبول نہیں کرتا ۔ اسے اس کے کردہ گناہ کی سزا جبراً دینا پڑتی ہے زانی کو سگ سار کیا جاتا ہے ، چور کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ شرابی کو کوڑے مارنے جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ جبر کی اقسام سے ہیں اور یہ جبر بالکل جائز اور ضروری ہے ۔ البتہ کسی غیر مسلم کو طاقت کے ذریعے اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے ، یہ اسلامی تعلیم کے منافی ہے ۔ اسی لیے فرمایا لا اکراہ فی الدین ۔ امیر المومنین حضرت عمرفاروق ؓ کے زمانے کا ایک واقعہ ہے۔ ایک عیسائی بڑھیا تھی ۔ امیر المومنین نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اس عورت کو کہو کہ اسلام قبول کرلے جب اس کو یہ پیغام ملا تو کہنے لگی ، میری عمر کا بیشتر حصہ عیسائی مذہب پر گزرا ہے عمر کے اس آخری حصہ میں میرا دل نہیں چاہتا کہ اس مذہب کو چھوڑ دوں جس پر زندگی گزاری ہے ، مجھے یہ بڑا دشوار نظر آتا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا اس بڑھیا کو اس کے حال پر چھوڑ دو کیونکہ دین میں جبر نہیں ہے۔ امام ابوبکر جصاص (رح) نے ” احکام القرآن “ اور حضرت شاہ ولی اللہ (رح) نے ازالۃ الخفاء میں یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ کا وثیق نامی رومی غلام تھا۔ مدت تک آپ کی خدمت کرتا رہا ، اس نے آخر عمر تک اسلام قبول نہ کیا ۔ حضرت عمر ؓ نے غلام کو بلا کر کہا کہ تو بڑا قابل آدمی ہے۔ خاص طور پر حساب کتاب میں بڑا ماہر تھا۔ فرمایا اگر اسلام میں جبر روا ہوتا تو میں تمہیں زبردستی مسلمان بنا لیتا ، مگر میں ایسا نہیں کرسکتا ۔ اگر تم مسلمان ہوجائے تو تمہاری قابلیت کی بناء پر کوئی اچھا عہدہ دیتا۔ اب میں یہی کرتا ہوں کہ تجھے آزاد کردیتا ہوں ، تم جہاں چاہو جاسکتے ہو۔ تاریخ آل عثمان کا یہ واقعہ مشہور ہے کہ ترکی کے سلطان سلیم خان کے زمانہ میں یہودی اور عیسائی بڑی سازشیں کرتے تھے ۔ خلیفۃ السلمین ان سے بڑے تنگ آئے اور آخر حکم جاری کردیا کہ جو بھی عیسائی اور یہودی ملے اسے زبردستی اسلام میں داخل کرلیا جائے ۔ جب یہ خبر اس زمانے کے شیخ الاسلام کو پہنچی ، تو وہ فوراً سلطان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ میں نے سنا ہے تم نے کوئی ایسا حکم جاری کیا ہے۔ سلطان نے اقرار کیا کہ ہاں میں نے ایسا سرکلر جاری کیا ہے کہ تمام عیسائی اور یہودیوں کو زبردستی مسلمان بنا لیا جائے۔ ان کے عبادت خانے موقوف کردیئے جائیں ، کیونکہ انہوں نے اپنی سازشوں کی وجہ سے سلطنت میں فتنہ برپا کر رکھا ہے ، شیخ الاسلام نے فرمایا اے خلیفہ ! آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ کا حکم ہے لا اکراہ فی الدین دین میں جبر نہیں ہے۔ آپ ایسا حکم جاری کرنے کے مجاز نہیں ہیں ، چناچہ خلیفہ نے فوری طور پر یہ حکم واپس لے لیا ۔ اور نگ زیب عالمگیر (رح) کے متعلق انگریزوں نے بڑا پراپیگنڈا کیا کہ ہندوئوں کو زبردستی مسلمان بناتا تھا ، مگر یہ جھوٹ کا پلندہ ہے۔ اور نگ زیب (رح) نے پچاس 50 سال تک ہندوستان پر حکومت کی ، اگر وہ واقعی زبردستی اسلام میں داخل کرتا ، تو کم از کم دہلی کے گردو نواح میں کوئی غیر مسلم باقی نہ رہتا ۔ مسلمانوں کی پوری تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ، کہیں بھی غیر مسلموں کے ساتھ جبر کا ثبوت نہیں ملتا ۔ اسلام ایک زندہ حقیقت ہے اور اس کا فروغ تبلیغ کے ذریعے ہوا ہے ، تلوار کے ذریعے نہیں ہوا ۔ برصغیر میں مسلمان آٹھ سو سال تک حکمران رہے ہیں ۔ مگر کسی کو جبراً مسلمان نہیں بنایا اسلام کے پاکیزہ اصولوں کی ترجمانی ضرور کی ہے۔ مسلمان بادشاہوں کے درباروں میں کتنے غیر مسلم روسا تھے مگر کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی ، کسی کو زبردستی دین میں داخل کیا جائے یہ تو اسلام کی تعلیم کے منافی ہے ، کیونکہ لا اکراہ فی الدین دین میں جبر نہیں ہے۔
شاون نزول
حضور ﷺ کے درد و مدینہ سے پہلے مدینہ طیبہ میں دو قسم کے لوگ تھے ایک تو یہودی تھے۔ جو پڑھے لکھے اور مالدار لوگ تھے ، دوسرے عرب تھے ، جو عام طور پر ان پڑھ اور غریب لوگ تھے۔ اسلام لانے کے بعدیہی لوگ انصار مدینہ کہلائے ، چونکہ یہ لوگ پسماندہ تھے ، اس لیے یہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کیلئے انہیں یہودیوں کے پاس چھوڑ دیتے تھے ، چناچہ اسلام آنے کے بعد جب یہودی قبائل بنو نضیر اور بنو قنیقاع کو مدینہ سے نکالا گیا تو اس وقت ایک انصاری ابو حصین کے دو بیٹے یہودیوں کی تحویل میں تھے اور انہوں نے یہودی مذہب اختیار کرلیا تھا۔ جب وہ مدینہ سے جانے لگے تو انصاری نے چاہا کہ اپنے بیٹوں کو زبردستی اسلام میں داخل کرکے انہیں اپنے پاس رکھ لے ۔ اس 1 ؎ موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ لا اکراہ فی الدین دین میں جبر نہیں ہے۔ لڑکے جو ان میں ہیں ، انہوں نے یہودیت اختیار کر رکھی ہے ، اب اگر وہ اپنی مرضی سے جا رہے ہیں تو مسلمانوں کو ان کے روکنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ ابو دائود اور دیگر کتب احادیث میں عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے جسے امام ابن کثیر (رح) نے بھی نقل کیا ہے اور جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قبل از اسلام انصار مدینہ کی عورتیں اولاد کی تمنا کرتیں تو یہ منت مانتیں کہ اگر اللہ انہیں لڑکا عطا کیا ۔ تو وہ اسے یہودی کردیں گی چناچہ وہ ایسا ہی کرتیں جس کی وجہ سے کئی بچے یہودیوں کی تحویل میں چلے گئے ۔ جب اسلام آیا تو اس وقت کچھ بچے بنو نضیر کی تحویل میں تھے جب انہیں مدینہ بدر کیا گیا تو وہ لڑکے بھی ان کے ساتھ جا رہے تھے۔ اس وقت انصار مدینہ کی خواہش ہوئی کہ اپنے بچے کو اسلام میں داخل کر کے یہودیوں کے ساتھ
1 ؎۔ قرطبی ص 280 ج 3 ( فیاض)
جانے سے روک لیں ، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی کہ کسی کو زبردستی مسلمان نہیں بنایا جاسکتا ، کیونکہ حق اور باطل واضح ہوچکے اب جس کا جی چاہے حق کو قبول کرلے ، اور جو چاہے باطل پر اڑا رہے۔
مضبوط کڑا
حق اور باطل کو واضح کرنے کے بعد فرمایا فمن یکفر بالط اغوت جس نے طاغوت کا انکار کیا ۔ ویومن باللہ اور اللہ پر ایمان لایا فقد استمسک بالعروۃ الوثقیٰ اس نے مضبوط کڑا پکڑ لیا ۔ لا انفصام لھا جو ٹوٹ نہیں سکتا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے اسلام کا دامن مضبوطی کے ساتھ تھام لیا ۔ اس کا ہاتھ گویا ایسا مضبوط جگہ پر پہنچ گیا ۔ جہاں پر وہ محفوظ ہوگیا ، اب اس کو کسی قسم کا خطرہ باقی ہیں رہا ، اور یہ ایسا مضبوط مقام ہے جو کمزور ہو کر ٹوٹ بھی نہیں سکتا بلکہ یہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا ۔ قرآن پاک میں طاغوت کا لفظ ( آٹھ مرتبہ) استعمال ہوا یہ لفظ طغیان اور طغوا کے مادہ سے ہے جسے سر کشی پر محمول کرتے ہیں ۔ عام طور پر اس کا ترجمہ شیطان کیا جاتا ہے ، مگر شاہ عبد القادر (رح) نے اس کا ترجمہ ” ہڑدنگا “ کیا ہے۔ اعبدو اللہ واجتنبوا الطاغوت یعنی اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت کی پرستش چھوڑ دو ، ہڑدنگا کا لفظ اس پر بولا جاتا ہے ، جو بزور سردار بن جائے اور لوگوں سے زبردستی اطاعت کرائے۔ چونکہ شیطا کا بھی یہی کام ہے ، لہٰذا اس پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ امام جعفر صادق (رح) نے بھی یہی تفسیر کی ہے۔ کل ما یشغلک عن الحق فھو طاغوتک جو کوئی چیز تمہیں حق سے مشغول کرنے والی ہے۔ وہ تمہارے لیے طاغوت ہے ، گویا حق سے ہٹانے والا شیطان ہو یا انسان ، مال ہو یا اولاد سب طاغوت کی تعریف میں آئیں گے۔ باطل راستے پر چلانے والے ماں باپ اور غلط طرف لے جانے والے پیر بھی زمرہ میں آتے ہیں ، غرضیکہ جو بھی کسی کو حق سے باز رکھنے کی کوشش کریگا ، وہ اس کے لیے طاغوت ہے۔ عروہ کا معنی کڑا اور وثقیٰ کا معی مضبوط ہے۔ حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ نے خواب میں دیکھا کہ وہ ایک اونچے ستون پر چڑھ گئے ۔ اس کے آخری سرے پر کڑا لگا ہوا تھا ، جسے آپ نے مضبوطی سے پکڑ لیا ، صبح اٹھنے اور حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر خواب بیان کیا ۔ آپ نے ارشاد فرمایا ، اس خواب کی تعبیر یہ ہے۔ انت تموت علی الاسلام تمہاری موت اسلام پر آئیگی۔ یعنی مرتے دم تک تم اسلام کا دامن پکڑے رکھو گے۔ لا انصام لھا کا یہی مطلب ہے کہ وہ مضبوط کڑا ہے ، جو ٹوٹ نہیں سکتا ۔ یہ کڑا ہاتھ سے چھوٹ تو سکتا ہے ، مثلاً آدمی گمراہ ہوجائے اور اسلام کا دامن چھوڑ دے ، مگر یہ حلقہ ٹوٹ نہیں سکتا اور اس کو تھامنے والا آدمی محفوظ ہوجاتا ہے۔ فرمایا واللہ سمیع علیم اللہ تعالیٰ ہر شے کو سنتا اور جانتا ہے ، وہ انسان کے ارادے تک سے واقف ہے کہ وہ کوئی کام نیک نیتی سے کر رہا ہے یا بد نیتی سے وہ ہر ایک کی پکار کو سنتا ہے۔
نور اور ظلمت
آگے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ملنے والے انعام کا تذکرہ فرمایا ہے جو شخص دین اسلام کے ساتھ وابستہ ہوگیا اور اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہوگیا ۔ اللہ ولی الذین امنوا اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا دوست ، رفیق ، کار ساز ، مدد گار یا ولی ہے۔ جو ایمان لائے ۔ لفظ ولی میں یہ سب معنی پائے جاتے ہیں جیسے فرمایا انت ولینا فی الدنیا والآخرۃ دنیا اور آخرت میں تو ہی ہمارا کار ساز ہے۔ جب اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھیں گے ، کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ ہماری پرستش کرو۔ تو وہ جواب دیں گے اے مولیٰ کریم انت ولینا تو ہی ہمارا کار ساز ہے۔ ہم لوگوں کو کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہماری پرستش کرو انہوں نے تو خواہ مخواہ شیطان کی بات مانی ہے ، بہر حال فرمایا ، اللہ تعالیٰ ہی مومنوں کا مدد گار ہے اور وہ ان کی مدد اس طریقہ سے کرتا ہے یخرجھم من الظلمت الی النور ان کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے۔ یہاں پر نور کو مفرد استعمال کیا ہے اور ظلمات جمع ہے ، مقصد یہ ہے کہ توحید اور ایمان تو ایک ہی چیز ہے ۔ جب کہ کفر اور شرک بہت سے ہیں ۔ کوئی ستاروں کو پوج رہا ہے ، کوئی انسانوں کی پرستش کرتا ہے ۔ کوئی جنات کو حاجت روا سمجھتا ہے اور کوئی بتوں کے آگے سجدہ ریز ہے۔ یہ سب ظلمت کی قسمیں ہیں ۔ الغرض کفر شرک کی ظلمت ہے کہیں گناہ اور نفاق کی ظلمت ہے اور کوئی شک کی ظلمت میں مبتلا ہے مگر ان سب کے مقابلے ایمان اور توحید واحد نظریہ ہے ، لہٰذا یہاں پر نور صیغہ واحد کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو کس طرح اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔ تو اس نے اپنے نبی بھیجے ہیں ۔ کتابیں بھیجی ہیں جن کے ذریعے اہل ایمان کے دلوں کو منور کرتا ہے ۔ دوسری جگہ فرمایا ۔ افمن شرح اللہ صدرہ للسلام اللہ تعالیٰ جس کے سینے کو اسلام کے لیے کھولدیتا ہے فھو علی نور من ربہ وہ اپنے رب کی طرف سے روشنی پر ہے۔ اور اس کے بر خلاف دوسرے لوگ اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں ۔ ان کے پاس کوئی واضح راستہ نہیں ہے۔ ایک اور مقام پر فرمایا ۔ ان تتقوا اللہ یجعل لکم فرقانا اگر اللہ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے ہر تاریکی میں راستہ پیدا کر دیگا ۔ تمہارے راستے کو روشن کر دیگا ، مشکلات کو حل کر دیگا اور تمہارے تمام امور میں آسانی پیدا کریگا ۔ ایک اور جگہ فرمایا کہ اہل ایمان دوسرے لوگوں کے درمیان روشنی میں چلے گا۔ جس نے ایمان کا راستہ نہیں پکڑا وہ اندھیروں میں بھٹک گیا ۔ اس کے لیے تمام معاملات میں اندھیرا ہی اندھیرا ہے ، مگر اہل ایمان ایسی روشنی سے منور ہے ۔ جو اسے برزخ میں بھی کام آئیگی اور اس کی قبر بھی روشن ہو جائیگی ۔ حضور ﷺ نے فرمایا نماز مومن کے لیے قبر میں روشنی پیدا کریگی ۔ اسی لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔
طاغوت کی دوستی
فرمایا والذین کفروا جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا اولیھم الطاغوت ان کے ساتھ طاغوت ہیں اور ان کا کام کیا ہے یخرجونھم من النورالی الظلمت وہ انہیں روشنی سے اندھیروں کی طرف نکالتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ جب شیاطین کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں ۔ تو کوئی انہیں کفر کی طرف لے جاتا ہے کوئی شرک کی طرف اور کوئی بدعت کی طرف اور کوئی ترغیب دلا کر معصیت کی طرف لے جاتا ہے ، ایسے لوگ بہر حال دین و ایمان کی روشنی سے نکل کر اندھیروں کی طرف ہی جاتے ہیں ۔ یہ تو پہلے واضح کیا جا چکا ہے کہ دین میں جبر نہیں اب ایمان اور کفر کا تقابلی جائزہ بھی پیش کردیا گیا ہے۔ فرمایا جو لوگ روشنی سے نکل کر اندھیرے کی طرف جائیں گے۔ ان کا انجام یہ ہے کہ اولایک اصحب النار یہی لوگ اہل دوزخ ہیں ۔ ھم فیھا خلدون یہ ہمیشہ ہمیشہ دوزخ کی آگ میں ہی جلتے رہیں گے۔ وہاں سے نکلنے کی کوئی امید نہ ہوگی کلما ارادوا ان یخرجوا منھا اعیدوافیھا جب کبھی وہاں سے نکلنا چاہیں گے واپس دھکیل دیے جائیں گے۔ ان کے مقابلے میں جو اہل ایمان ہیں ، وہ کامیاب ہوجائیں گے ، ان کا ٹھکانہ ہمیشہ کے لیے جنت ہوگا ، وہ دائمی عیش و راحت میں ہوں گے کیونکہ انہوں نے دین اسلام کے مضبوط کڑے کو پکڑ لیا اور پھر اس گرفت کو کمزور نہیں ہونے دیا ۔
Ayah 2:258ربط آیات
اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان اور کفار کا ذکر فرمایا تھا کہ اللہ ایمان والوں کا کار ساز ہے ، ان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور جنہوں نے کفر اختیار کر رکھا ہے۔ ان کے ساتھ طاغوت یا شیطان ہیں ، جو انہیں ایمان کی روشنی سے نکال کر کفر کے اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں ، گویا دو قسم کے گروہوں کا ذکر ہوا ۔ ایک اولیاء الرحمن یعنی وہ لوگ جن کا ولی اللہ تعالیٰ خود ہے۔ وہ رحمن کے دوست ہیں اور دوسرا گروہ اولیاء الشیطان کا ہے ، جنہوں نے طاغوت کو اپنا دوست بنا رکھا ہے۔ آج کے درس سے شروع ہونے والے رکوع میں اللہ جل جلالہٗ نے انہیں دو قسم کے گروہوں کے متعلق بات کی وضاحت کے لیے تین مثالیں بیان فرمائی ہیں ۔ ج میں مسئلہ توحید ، اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حیات بعد الموت کا مسئلہ اچھی طرح سے سمجھایا ہے۔ پہلی آیت میں اللہ نے اپنی قدرت اور ضعف کو سمجھایا ہے اور ساتھ توحید خالص کی وضاحت فرمائی ہے ۔ دوسری اور تیسری آیت میں مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کا مسئلہ بیان فرمایا ہے اور توحید کا ذکر کیا ہے اس طرح ان آیات کو پہلی آیات کے ساتھ ربط ہے۔
ابراہیم (علیہ السلام) اور نمرود میں مناظرہ
آج کے درس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس مناظرے کا ذکر ہے ، جو انہوں نے بادشاہ وقت نمرود کے ساتھ کیا تھا اور جس میں آپ نے توحید باری تعالیٰ کے متعلق دلائل دیئے تھے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ الم ترالی الذی حاج ابراہیم فی دربہ کیا آپ نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ان کے رب کے متعلق جھگڑا کیا ۔ الم ترا اس سے پہلے بنی اسرائیل کے واقعہ میں بھی آ چکا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ رویت دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک بصری اور دوسری قلبی یا علمی ، رویت بصری وہ ہے ، جسے آنکھوں سے دیکھا جائے اور پھر واقعہ بیان کیا جائے اور رویت علمی وہ ہے جو علم کے ذریعے حال ہو ، کسی واقعہ کو آنکھوں سے نہ دیکھا ہو ۔ ابراہیم (علیہ السلام) اور نمرود کا یہ واقعہ بھی حضور ﷺ کی بعثت سے تقریباً اڑھائی ہزار سال پہلے پیش آیا ۔ اس لیے رویت بصری کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، البتہ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کا مشاہدہ علم کے ذریعہ کرایا اور اس کو اس طرح یاد کرایا ۔ الم تر کیا آپ نے نہیں دیکھا یا آپ کو نہیں معلوم ، مطلب یہ کہ آپ کو اچھی طرح اس واقعہ کا علم ہے کہ کس طرح اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے متعلق ابراہیم (علیہ السلام) سے مکالم کیا اور وہ شخص کون تھا۔ ان اتہ اللہ الملک جسے اللہ تعالیٰ نے ملک یعنی حکومت عطا کی ہوئی تھی وہ وقت کا بادشاہ تھا۔
نمرود کا شجرہ نسب
اس شخص کے متعلق مختلف تفاسیر اور تاریخ کی کتابوں میں آتا ہے کہ اس کا نام نمرود 1 ؎ تھا۔ اس کے باپ کا نام کنعان بن کوش تھا ، لہٰذاوہ نمرود ابن کنعان کہلاتا تھا بعض اوقات اسے اپنے دادا کی طرف منسوب کر کے نمرود بن کوش بھی کہا جاتا ہے۔ بہر حال یہ شخص حضرت نوح (علیہ السلام) کے تین بیٹوں حام ، سام اور یافث میں حام کی نسل میں سے تھا اور اس کا پایہ تخت عراق میں بابل کے مقام پر تھا۔ اس زمانے میں یہ بڑا مشہورو معروف شہر تھا۔ جو موجودہ بغداد سے ستر یا سو میل کے فاصلے پر تھا اس شہر سے بہت سی تہذ میں وابستہ ہیں ۔ نمرود ، کلدانی خاندان کا بادشاہ تھا۔ اس خاندان نے چار سو سال تک حکومت کی تفسیری روایات میں آتا ہے کہ نسل کے اعتبار سے یہ شخص ٹھیک نہیں تھا ، تا ہم یہ وہ شخص ہے ، جس نے سب سے پہلے سر پر تاج شاہی رکھا۔ مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں کہ چار شخص ایسے گزرے ہیں جن کی پوری دنیا پر حکمرانی تھی ، ان میں سے دو مسلمان تھے اور دو کافر مسلمان میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور ذوالقرنین ہیں ۔ جن کا واقعہ سورة کہف میں ملتا ہے۔ کفار میں ایک نمرود اور دوسرا بخت نصر تھا۔ جس کا ذکر سورة بی اسرائیل میں آیا ہے۔ اس شخص نے بنی اسرائیل کو بالکل برباد اور ذلیل کردیا تھا۔
مناظرہ کب ہوا
اس بات میں اختلاف ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا نمرود کے ساتھ مناظرہ ان کے آگ میں ڈالے جانے سے پہلے ہوا یا اس کے بعد بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے آگ میں ڈالے جانے سے پہلے کا ہے جونہی ابراہیم (علیہ السلام) جوان ہوئے ۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی توحید کی تبلیغ شروع کردی ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اوائل عمر سے ہی رشد و ہدایت عطا کی تھی ۔ قرآن پاک میں موجود ہے ولقد اتینا ابراہیم رشدہ من قبل ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ابتداء سے ہی رشد و ہدایت دی ۔ آپ کے والد آذر سرکاری ملازم تھے ، اس کے علاوہ وہ اس بڑے بت خانے کے انچارج تھے ۔ جسے بادشاہ کے حکم سے قائم کیا گیا تھا۔ یہ مناظرہ اس وقت ہوا اس کے بعد آپ کو آگ میں ڈالا گیا ۔ بعض دوسرے مفسرین کی تحقیق یہ ہے کہ مذکورہ مناظرہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام)
1 ؎۔ تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 313 و قرطبی ص 283 ج 3 ۔ 2 ؎۔ تفسیر کبیر ص 23 ج 7 (فیاض)
کے آگ میں ڈالے جانے کے بعد ہوا ، ابراہیم (علیہ السلام) کے آگ سے زندہ بچ جانے کا معجزہ دیکھ کر بھی وہ آپ پر ایمان نہ لائے۔ فامن لہ لوط حضرت لوط (علیہ السلام) کے سوا کسی نے آپ کی تصدیق نہ کی ، البتہ گھر میں آپ کی بیوی سارہ تھی ۔ جسے ایمان کی دولت حاصل تھی ، ان ایام میں یہ مناظرہ ہوا ، آخر وہ وقت بھی آیا جب ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا وطن بابل بھی چھوڑناپڑا ۔ اس سفر میں آپ کے ہمراہ حضرت لوط (علیہ السلام) اور آپکی بیوی تھے۔ آپ عراق سے چل کر فلسطین پہنچے وہاں اپنے بھتیجے حضرت لوط (علیہ السلام) کو تبلیغی مشن پر بحر لوط کے کنارے متعین کیا ، پھر آپ مصر پہنچے۔ وہاں سے مکہ مکرمہ پہچ کر بیت اللہ شریف کی تعمیر کی اور اپنے فرزند اسماعیل کو وہاں چھوڑا ۔ آپ واپس فلسطین آگئے اور وہیں آپ کا انتقال ہوا آپ کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق (علیہ السلام) نے وہاں کے تبلیغی فرائض سنبھالے۔
مناظرے کا پس منظر
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور نمرود کے درمیا بحث و مباحثے کی نوبت کیوں پیش آئی ۔ اس کے متعلق مولانا شیخ الہند (رح) اور شاہ عبد القادر (رح) نے اپنی تفاسیر میں مختصر نوٹ لکھا ہے۔ فرماتے ہیں کہ اس سے پہلی آیت میں اہل ایمان اور اہل کفر کا تذکرہ تھا ۔ ان کے نور اور ظلمت کا بیان تھا اور اب اس آیت میں اسی سلسلہ میں بعض نظیریں پیش کی گئی ہیں اور اس پہلی نظیر میں نمرود اور حضرت ابراہیم کا ذکر ہے کہ جو کوئی شخص نمرود کے دربار میں جاتا تھا ۔ وہ سب سے پہلے اسے سجدہ کرتا تھا۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) دربار نمرود میں پہنچے تو آپ سے بھی سجدہ کرنے کی توقع کی گئی مگر آپ نے نمرود کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا ، جس پر مناظرے کی مذکورہ صورت پیش آئی ۔ نمرود کا واقعہ تاریخ کی تمام پرانی کتابوں میں ملتا ہے مگر محض تاریخی روایات پر انحصار نہیں کیا جاسکتا ، کیونکہ تاریخ میں ہر قسم کے واقعات بلا تحقیق نقل کردیے جاتے ہیں ۔ پرانے مؤرخین میں ابن خلدون کو اونچا مقام حاصل ہے ، یہ آٹھویں صدی ہجری میں ہوئے ہیں اور تاریخ کے امام تصور کیے جاتے ہیں ۔ انہوں نے تاریخ کا ایک ضخیم مقدمہ قلمبند کیا ہے جس میں تاریخ کے مختلف موضوعات پر حاصل بحث کی ہے۔ اس نے پوری دنیا کو تاریخ کا فلسفہ سکھا دیا ہے ۔ یورپ اور ایشیاء کے تمام مؤرخین ابن خلدون کے شاگرد ہیں ۔ خود قاضی بھی تھے مگر تاریخی روایات کی صحت کے متعلق ان پر بھی مکمل انحصار نہیں کیا جاسکتا ، طبری کی تاریخ میں بھی صحیح اور غلط ہر قسم کے واقعات ملتے ہیں ۔ تاریخ دان کسی واقعہ کی پوری تحقیق نہیں کرتے ۔ یہ تو محدثین کو شرف حاصل ہے کہ کسی واقعہ کو نقل کرنے سے پہلے راویوں کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ ہر غلط ملط واقعہ درج نہیں کیا جاتا ، البتہ امام ابن کثیر (رح) نے اس ضمن میں کافی پیش رفت کی ہے ۔ آپ کا زمانہ آٹھویں صدی ہجری ہے۔ امام ابن تیمیہ (رح) کے شاگردوں میں ہیں ۔ آپ نے واقعات کی جانچ پڑتال کی کوشش کی ہے۔ روایات پر صحیح یا غلط ہونے کے متعلق جرح بھی کی ہے۔ آپ کی تاریخ کی کتاب ” البدایہ والنہایہ “ سولہ جلدوں میں ہے۔ جس میں آدم (علیہ السلام) سے سے لیکر اپنے زمانے تک کے واقعات تفصیل کے ساتھ قلمبند کیے ہیں ۔ یہ سب سے زیادہ مستند تاریخ تسلیم کی جاتی ہے ، بہرحال انہوں نے واقعات کی صحت کا کسی حد تک خیال رکھا ہے۔ آپ نے قرآن پاک کی ” تفسیر ابن کثیر “ لکھی ہے۔ جو اعلیٰ درجے کی تفسیر تسلیم کی جاتی ہے۔ تاریخی روایات کی صحت کی جانچ پڑتال میں امام مسعود بغوی (رح) کا نام سر فہرست ہے۔ آپ امام رازی (رح) سے بھی پہلے پانچویں صدی میں ہوئے ہیں ۔ آپ کا وطن خراسان میں بغات ہے۔ آپ اعلیٰ پائے کے محدث تھے۔ آپ کی حدیث کی کتاب ” مصابیح “ کے نام سے موجود ہے۔ جو علم حدیث کی بلندپایہ کتاب ہے۔ جسے صاحب مشکوٰۃ نے مزید شرح کے ساتھ قلمبند کیا ہے۔ آپ مفسر قرآن بھی ہیں ۔ آپ کی تفسیر ” معالم التنزیل “ کے نام سے موجود ہے ، جو چار جلدوں میں ہے اور اس دور کی معتبر تفسیروں میں شمار ہوتی ہے ۔ بہر حال انہوں نے تاریخی واقعات میں صحت کا کسی قدر زیادہ التزام کیا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور نمرود کے واقعہ کے متعلق امام ابن کثیر (رح) اور امام بغوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ اس زمانے کا واقعہ ہے۔ جب کہ ملک میں قحط پڑگیا اور لوگ بھوکوں مرنے لگے ۔ اس وقت نمرود کے پاس غلے کا ذخیرہ موجود تھا ، لوگ اس کے پاس غلہ لینے کے لیے جاتے تھے ، اور دربار میں پہنچ کر سب سے پہلے سجدہ کرتے اور پھر اپنا مدعا بیان کرتے۔
اصل مناظرہ
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی نمرود کے دربار میں پہنچے ، مگر آپ نے اسے سجدہ نہ کیا ۔ اس نے وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا کہ میں اپنے رب کے سوا کسی دوسرے کو سجدہ نہیں کرتا ، نمرود نے کہا کہ رب تو میں ہوں لہٰذا مجھے سجدہ کرو۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا ۔ تم محض حاکم وقت ہو ، رب نہیں ہو ، رب وہذات ہے ، جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ تمہارے اختیار میں یہ چیز نہیں ہے۔ لہٰذا تم رب نہیں ہوسکتے ۔ اس آیت پاک میں یہی بات بیان کی گئی ہے۔ اذقال ابراھیم ربی الذی یحی ویمیت یعنی میرا رب ہے ۔ جو زندگی بخشتا ہے اور مارتا ہے نمرود فوراً بولا قال انا احی وامیت میں بھی زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں ، چناچہ اپنی طاقت کے مظاہرہ کے لیے اس نے دو قیدی منگوائے ۔ جو بےگناہ تھا اس کو قتل کروا دیا اور جو مجرم تھا اسے آزاد کردیا اور کہنے لگا ۔ دیکھو میں نے جس کو چاہا زندگی دے دی اور جسے چاہا موت کے حوالے کردیا ۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے محسوس کیا کہ یہ شخص عقل کا ایسا اندھا ہے کہ موت وحیات کے مفہوم کو نہیں سمجھ سکا ۔ یہ گناہ گار کو چھوڑ دینے اور بےگناہ کو قتل کردینے کو زندگی اور موت سمجھ رہا ہے ، حالانکہ زندگی کا مالک تو وہ ہے جو بےجان چیز میں جان ڈال دے اور جاندار کی جان اپنے اختیار سے قبض کرلے اور یہ صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے نمرود کو بیوقوف سمجھتے ہوئے اس نکتہ پر مزید بحث نہ کی۔ بلکہ ایک دوسری دلیل سے سمجھایا۔ قال ابراہیم فان اللہ یاتی بالشمس من المشرق میرا رب سورج کو مشرق سے نکالتا ہے۔ فات بھا من المغرب تو اسے مغرب سے نکال کر دکھا ۔ اب اس کے حواس درست ہوئے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے ایسا سوال کیا ہے جس کا اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ نتیجہ یہ ہوا فبھت الذی کفر نمرود حیران ہوگیا گویا اللہ نے اس کی مت مار دی وہ لا جواب ہوگیا ۔ چناچہ اس نے مزید بحث نہ کی ، وہ سمجھ گیا کہ اگر ابراہیم (علیہ السلام) سے مزید مناظرہ کیا تو بات بالکل بگڑ جائیگی اور وہ جھوٹا ثابت ہوجائے گا لہٰذا وہ خاموش ہوگیا ۔ مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں کہ اس مقام پر مزید بحث و تمحیص ہو سکتی تھی فرض کرو اگر نمرود سورج کے طلوع و غروب کے متعلق ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ جواب دیتا کہ سورج کو مشرق سے تو میں طلوع کرتا ہوں تم اپنے رب سے کہو کہ مغرب سے نکالے تو ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ یقینا ابراہیم (علیہ السلام) کو سچا کر دکھاتا اور سورج کو مغرب سے طلوع کردیتا ، مگر نمرود کو اپنی شکست کا یقین ہوگیا ، لہٰذا اس نے خاموشی اختیار کرنے میں یہ مصلحت جانی۔
غیر اللہ کو سجدہ
غیر اللہ کو سجدہ کرنے کا دور برصغیر پاک و ہند میں بھی پیش آیا تھا۔ مغل بادشاہ جہانگیر بھی اپنے آپ کو سجدہ کرواتا تھا حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ اس کے سامنے سجدہ کیا جائے ۔ مخلوق میں سے کسی کے لائق نہیں کہ اسے سجدہ کیا جائے۔ چناچہ جہانگیر کے زمانے میں حضرت مجدد الف ثانی (رح) نے سجدہ کی علی الاعلان مخالفت کی ۔ بہر حال یہ آپ کی کوشش کا نتیجہ تھا کہ جہانگیر جیسا اکھڑمزاج بادشاہ بھی اس فعل سے تائب ہوگیا اور اس کا عقیدہ درست ہوگیا البتہ اسکی بیوی رافضیہ تھی ۔ مگر وہ رافضیوں کا طرفدار نہیں بنا اور صحیح دین اسلام پر قائم رہا ۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ جہانگیر کے بعد شاہجان مزید دین کی طرف راغب ہوا اور پھر اور نگ زیب عالمگیر (رح) جیسا خوف خدا رکھنے والا بادشاہ بھی پیدا ہوا جس نے اگلی پچھلی ساری کسر نکال دی۔
ابراہیم (علیہ السلام) کا معجزہ
بہر حال جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نمرود کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا تو اس نے آپ کو غلہ دینے سے انکار کردیا ۔ اور آپ کو خالی واپس آنا پڑا ، واپسی پر دل میں خیال آیا کہ گھر والوں کو خالی لوٹنے کا کیا جواب دونگا ۔ آپ نے راستے میں اپنا تھیلہ ریت سے بھر لیا تا کہ گھر والوں کو معلوم ہو کہ خالی ہاتھ واپس نہیں آئے ۔ گھر پہنچ کر تھیلہ گھر میں رکھا اور خود سو گئے بیوی نے سمجھا کہ آٹا لے آئے ہیں چناچہ وہ اٹھی تا کہ تھیلے میں سے آٹا لیکرروٹی تیار رکے تھیلہ کو کھولا تو اس میں واقعی آٹا تھا کھانا تیار کرنے کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کو جگایا کہ کھانا کھا لیں آپ نے پوچھا روٹی کس چیز سے پکائی ہے۔ بیوی نے عرض کیا ، اس آٹے سے جو آپ لائے ہیں ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ اللہ تعالیٰ نے خاص مہربانی کی ہے اور ریت کا آٹا بن جانا ایک معجزہ ہے۔
امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفت کو سمجھنا بڑا مشکل کام ہے۔ وہ کمال قدرت کا مالک ہے ، اس کی صفت اس کے فعل سے سمجھ میں آتی ہے ، جب کوئی عجیب و غریب فعل سر زد ہوتا ہے ، تو پھر پتہ چلتا ہے کہ یہ کام صرف اللہ تعالیٰ کا ہے اور کوئی نہیں کرسکتا اور جب یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے تو پھر اس کی توحید کی پہچان ہوتی ہے کہ ایسی صفت کا مالک اور کمال قدرت اور کمال صفت کا مالک صرف اور صرف اللہ وحدہٗ لاشریک ہے۔ گویا اس سارے واقعہ سے یہ بات نکلی کہ موت وحیات کا مالک اور نظام شمسی کو چلانے والا فقط اللہ تعالیٰ ہے ۔ وہ چاہے تو بڑے سے بڑا سرکش کو لا جواب کر دے اور چاہے تو ریت کو غلہ میں تبدیل کر دے ، یہ سب اس کی کمال قدرت کے کرشمے ہیں جو اس کی وحدانیت پر دلالت کرتے ہیں۔
ظالم ہدایت سے محروم ہیں
فرمایا اللہ تعالیٰ کی صفات کی کھلی آنکھوں سے دیکھ کر بھی اگر کوئی شخص ایمان نہیں لاتا ، تو پھر وہ پرلے درجے کا ظالم ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے۔ واللہ لا یھدی القوم الظلمین اللہ تعالیٰ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا یعنی ان کی رہنمائی نہیں کرتا پہلی آیت میں بھی آ چکا ہے۔ والکفرون ھم الظلمون کہ کافر لوگ ہی ظالم ہیں جو اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان نہیں لاتے۔ وہ مشرک ہیں اور شرک کی حقیقت یہ ہے۔ ان الشرک لظلم عظیم شرک بہت بڑا ظلم ہے اور اس کے مرتکب ظالم لوگ ہیں ۔ جو لوگ شرک جیسے ظلم عظیم میں پھنس جاتے ہیں ، اللہ ان کو راہ راست کی طرف رہنمائی نہیں کرتا ۔ یہ اللہ کا عام قانون ہے کہ جب تک کوئی ظلم سے ثابت نہیں ہوگا ، اسے ہدایت نصیب نہیں ہو سکتی ۔ الغرض گزشتہ درس میں بیان ہونے والے اولیاء اللہ اور اولیاء الشیطن کی مثال اس درس میں آگئی ۔ نمرود طاغوت کا پرستار تھا اور ابراہیم (علیہ السلام) حق پر قائم تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے حق کو فتح نصیب فرمائی اور اپنی صفت کے ذریعے اپنی ذات کو پہچان کرائی۔