Ayahs 2:130–134گذشتہ سے پیوستہ :
اللہ تعالیٰ نے پہلے بیت اللہ شریف کی بنیاد اور اس کی تعمیر کا ذکر فرمایا اور پھر اسی ضمن میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر تھا دعا میں سب سے پہلے عمل کی قبولیت اور پھر اطاعت اور فرمانبرداری کی توفیق طلب کی گئی تھی اس کے بعد دونوں باپ بیٹے کی اولاد میں سے امت مسلمہ کے قیام اور پھر ان میں سے ایک عظیم الشان رسول کی بعثت کی دعا تھی اور پھر ان فرائض کا ذکر تھا جو آخری رسول انجام دے گا ،
یہاں پر مرکزی نکتہ حضور خاتم النبیین ﷺ کی بعثت ہی ہے کیونکہ اہل کتاب آپ کی رسالت کا انکار کرتے تھے ، یہ مرکزی مضمون آگے دور تک جائے گا ابتداء میں حضرت خلیل (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر ہے اور پھر اس دعا کے مصداق کا بیان ہے تو جیسا کہ دعائے خلیل سے ظاہر ہے کہ وہ ذات والا صفات صرف حضرت محمد مصطفے ﷺ کی ہی ہو سکتی ہے آپ ہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں ، آپ کا خاندان قریش اسی نسل سے ہی چلا آرہا تھا ، انہیں میں اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کا قیام فرمایا اور دعا کے مطابق انہیں میں نبی آخر الزمان ﷺ کو مبعوث فرمایا ۔
(حضور ﷺ کی بعثت کے آثار)
آپ کی بعثت کے متعلق مسند احمد میں آتا ہے (1) (مسند احمد ص 27 ج 4 ، فتح الباری ص 394 ، ج 7) کہ کسی نے پوچھا حضور آپ کی ابتداء کیسے ہوئی ، آپ نے ارشاد فرمایا ” انا دعوۃ الی ابرھیم ورع یا امی وبشارۃ عیسیٰ “۔ یعنی میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا اپنی ماں کے خواب اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت کا مصداق ہوں یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اسی دعا کا ذکر ہے ، جو گذشتہ درس میں گذر چکی ہے (آیت) ” ربنا وابعث فیھم رسولا منھم “۔ یعنی اے اللہ ! ان میں انہیں میں سے ایک رسول مبعوث فرما۔
حضور ﷺ کی والدہ ماجدہ نے آپ کی پیدائش سے پہلے خواب دیکھا تھا (2) (مسند احمد ص 127 ج 4 ، فتح الباری ص 394 ، ج 7 ، طبقات ابن سعد ص 102 ج 1) کہ ان کے پہلو سے ایک ایسی روشنی نکلی ہے جس سے شام اور بصری کے محلات روشن ہوگئے ہیں یہاں تک کہ اونٹوں کی گردنیں نظر آ رہی ہیں اس حدیث کی ترجمانی مولانا الطاف حسین حالی (رح) نے اپنی طویل نظم مدروجزر اسلام میں خوب کی ہے ۔
ہوئی پہلوئے آمنہ سے ہویدا دعائے خلیل ونوید مسیحا :
جہاں تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت کا تعلق ہے قرآن پاک نے اس کو بھی واضح کردیا ہے ، آپ نے اپنی قوم سے مخاطب ہو کر فرمایا ہے کہ میں تمہاری طرف رسول مبعوث ہوا ہوں میں اپنے سے پہلی کتاب توراۃ کی تصدیق کرنے والا ہوں ، (آیت) ” ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد “۔ اور اپنے بعد آنے والے رسول کی بشارت دینے والا ہوں ، جن کا نام نامی اور اسم گرامی احمد ہوگا ، عبرانی اور سریانی زبان میں احمد کو فارقلیط کہا گیا ہے جس کا معنی دنیا بھر کا تعریف کیا ہوا۔
شاعری میں مولانا الطاف حسین حالی پانی پتی ، غالب کے شاگرد تھے اور علوم دینیہ میں حضرت مولانا شاہ اسحاق صاحب (رح) کے شاگرد تھے ، 1857 ء کی جنگ آزادی میں آپ زیر تعلیم تھے مگر اس ہنگامے کی وجہ سے اپنی تعلیم کو جاری نہ رکھ سکے ، آپ کا شمار قومی شاعروں میں ہوتا ہے آپ نے اسلام کے عروج وزوال کی داستان نہایت موثر انداز میں نظم کی صورت میں پیش کی ہے آج کل لوگ میلاد خوانی کرتے ہیں حضور ﷺ کی مدح کے نام پر کفریہ اور شرکیہ کلمات کہہ جاتے ہیں ، ایسی تمام نعمتوں کے مقابلے میں مولانا حالی (رح) کا یہ ایک ہی شعر کافی ہے ، حدیث کے مضمون کو ایک شعر میں کمال طریقے سے سمو کر حضور ﷺ کی تعریف کی ہے ۔
(آیت کا شان نزول)
تفسیر معالم التنزیل میں شان نزول اس طرح بیان کیا گیا ہے (1) (معالم التنزیل ص 52 ج 1 ، تفسیر ابو السعود ص 126 ، ج 1) کہ یہودی علماء میں سے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کو اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی آپ کے بھائی کے دو بیٹے بھی صاحب علم تھے ، آپ نے ان سے کہا کہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ توراۃ میں یہ بیان موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل ایک نبی مبعوث کرو گا ۔ جس کا نام احمد ہوگا ، اور جو شخص اس پر ایمان لائے گا ، ہدایت پا جائے گا اور جو اس کا انکار کرے گا وہ معلون ہوگا ، چناچہ ان دو بھائیوں میں سے ایک بھائی مسلمان ہوگیا اور دوسرا یہودیت پر قائم رہا آیات زیر درس میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔
(ملت ابراہیمی سے اعراض)
فرمایا (آیت) ” ومن یرغب عن ملۃ ابرھیم الا من سفہ نفسہ “۔ اور نہیں اعراض کرتا ملت ابراہیمی سے مگر وہ شخص جس نے اپنے نفس کو بیوقوف بنا لیا یعنی ایسا کام وہی کرسکتا ہے جو پرلے درجہ کا بیوقوف ہو ، اپنی عقل وخرد کو بروئے کار نہ لاتا ہو ، ورنہ عقلمند شخص جس کی اپنی کوئی رائے ہو وہ ملت ابراہیمی سے اعراض نہیں کرسکتا ۔
(دین ، ملت اور شریعت)
دین ، ملت اور شریعت تین مختلف چیزیں ہیں ، دین تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی مشترک میراث ہے ، قرآن پاک کے دوسرے مقام پر آتا ہے ” شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحا والذی اوحینا الیک وما وصینا بہ ابراہیم “۔ یعنی ہم نے آپ کی طرف وہی دین نازل کیا جو نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم کی طرف نازل کیا دین ایک بنیادی عقیدہ ہوتا ہے جو حضرت آدم (علیہ السلام) سے لیکر حضور خاتم النبیین ﷺ تک ایک ہی رہا ہے اس میں اولین چیز توحید ہے اس کے بعد فرشتوں ، کتابوں ، رسولوں اور قیامت پر ایمان ہے یہ ایسے بنیادی عقاید ہیں ، جن میں کسی زمانے میں کوئی تغیر وتبدل نہیں ہوا ۔
ملت میں موٹے موٹے اصول اور کلیات ہوتے ہیں مختلف انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی ملت میں بھی بہت حد تک اشتراک ہوتا ہے اور ملت کبھی منسوخ نہیں ہوتی ، بلکہ ہمیشہ قائم رہتی ہے ۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ بعض کلیات ہر ملت میں قائم رہے ہیں مثلا طہارت ، خدا کے سامنے عاجزی ، سماحت وفیاضی ، عدل و انصاف ، تہذیب نفس وغیرہ یہ ایسی چیزیں ہیں جو تمام عمل میں قدر مشترک رہی ہیں چناچہ ابراہیم (علیہ السلام) اور حضور ﷺ گویا ایک ہی ملت ہے ، اسے ملت اسلامیہ کہہ لیں ، یا ملت ابراہیمی ، مطلب ایک ہی ہے ، اور اس آخری دور میں حضور ﷺ کا اتباع ہی ملت ابراہیمی کا اتباع ہے جو شخص نبی آخری الزمان ﷺ کی ملت کا فرد نہیں ہے ، اس کی طرف سے ملت ابراہیمی سے تعلق کا دعوی باطل ہے ، ایسا شخص گمراہ ہوگا ، چناچہ اس وقت یہودی اور نصرانی دونوں ملعون گروہ ہیں ۔
ہر نبی کی شریعت مختلف ہوتی ہے ، شریعت میں مسائل کی جزئیات ہوتی ہیں ، جو مکان و زبان کی مناسبت سے بدلتی رہتی ہیں ، اسی لیے فرمایا (آیت) ” لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنھا جاء “۔ ہم نے ہر امت کے لیے جدا جدا شریعت بنائی ہے حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے (1) (تفسیر ابن کثیر ص 186۔ ج 1) ” نحن معشر الانبیآء اولاد علات دیننا واحد “۔ ہم انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام کا گروہ علاقی بھائی ہیں مگر ہمارا دین ایک ہی ہے ، علاتی بھائی وہ ہوتے ہیں جن کا باپ ایک ہو اور مائیں مختلف ہوں ، حضور ﷺ نے اس مثال سے یہ بات سمجھائی کہ دین ایک بنیادی چیز ہے جو کہ غیر تغیر پذیر ہے ، مگر شرائع یعنی جزیات مختلف زمانوں میں بدلتی رہتی ہیں ، جیسے حلال و حرام کے مسائل ہیں ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی شریعت میں دو سگی بہنیں بیک وقت ایک مرد کے نکاح میں آسکتی تھیں ، ہماری شریعت میں یہ ناجائز ہے ان کی شریعت میں اونٹ کا گوشت کھانا جائز نہیں تھا مگر ہماری شریعت میں جائز ہے مقصد یہ کہ شریعت ایک تغیر پذیر چیز ہے ملت کے بڑے بڑے اصول مشترک ہوتے ہیں اور دین بالکل غیر تغیر پذیر ہے یہ ہمیشہ قائم رہتا ہے ،۔
(حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مرتبہ ذیشان)
ملت ابراہیمی کے تذکرہ کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہاں پر تعریف بیان فرمائی ہے ، (آیت) ” ولقد اصطفینہ فی الدنیا “۔ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دنیا میں نبوت و رسالت اور امامت و پیشوائی کے لیے منتخب فرمایا ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا میں درجہ کمال تک پہنچایا اور آپ کو عزت اور شرف عطا کیا ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے منتخب شدہ برگزیدہ انسان تھے (آیت) ” وانہ فی الاخرۃ لمن الصلحین “۔ اور آخرت میں وہ نیکو کاروں میں شمار ہوں گے ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا اور آخرت ہر دو مقام میں بزرگی عطا فرمائی ، لہذا ان کے طریقے سے انحراف کرنے والا ملعون کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے ،
(حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی فرمانبرداری)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے نبوت و امامت جیسے منصب جلیلہ پر فائز ہونے کی وجہ یہ ہے کہ (آیت) ” اذ قال لہ ربہ اسلم “۔ جب ان کے رب نے ان سے کہا کہ فرمانبردار ہوجاؤ تو (آیت) ” قال اسلمت لرب العلمین “۔ انہوں نے کہا میں ہمہ تن جان ومال ، ظاہر و باطن میں رب العلمین “۔ کا فرمانبردار ہوں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنا ملت کا اولین اصول ہے ، امت کا یہ فرض ہے کہ ہر آنے والے نبی کا اتباع کرے فرمانبرداری کی یہی شان ہے ، ملت ابراہیمی میں جب بگاڑ پیدا ہوا تو یہودیت اور نصرانیت پیدا ہوئی اسی لیے ان دو گروہوں کی مذمت کی گئی ہے حقیقت میں ملت ابراہیمی ہی ملت اسلامیہ ہے جس پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کار بند تھے ، اور جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) بھی کار بند رہے ، حضور خاتم النبیین ﷺ کو بھی یہی ارشاد ہوا (آیت) ” ان اتبع ملۃ ابرھیم حنیف “۔ لہذا حضور ﷺ کا اتباع ہی حقیقت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کا اتباع ہے جو شخص پہلے نبی کی اطاعت کا دعویدار ہو اور آخری نبی کا انکار کرے ، وہ ملت ابراہیمی کا پیروکار کیسے ہو سکتا ہے بنی اسرائیل کو سمجھایا جا رہا ہے کہ وہ ہٹ دھرمی چھوڑ کر دین اسلام کو قبول کرلیں ۔
(حضرت ابراہیم اور یعقوب (علیہ السلام) کی وصیت)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو اسی ملت اسلامیہ پر کاربند رہنے کی وصیت کی ، (آیت) ” ووصی بھا ابرھیم بنیہ ویعقوب “۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے کتنے بیٹے تھے ، اس میں مختلف روایات ہیں (1) (تفسیر ابو السعود ص 137 ج 1۔ تفسیر عزیزی فارسی ص 491 پارہ 1 ، درمنثور ص 139۔ ج 1) بعض کہتے ہیں کہ چار (4) بیٹے تھے ، بعض نے سات (7) اور بعض نے چودہ (14) لکھے ہیں ، آپ کی متعدد بیویاں تھیں ، اور مدین ، مدائن ، اسماعیل اور اسحاق سب ابراہیم (علیہ السلام) کے فرزند تھے ، اسی طرح یعقوب (علیہ السلام) کے بھی بارہ بیٹے تھے ، تو ان دونوں جلیل القدر انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی (آیت) ” یبنی ان اللہ اصطفی لکم الدین “۔ اے بیٹو ! بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے دین اسلام کو منتخب فرمایا ، یہ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین ہے اسی پر کاربند رہنا ۔ (آیت) ” فلا تموتن الا وانتم مسلمون “۔ اور تمہاری موت صرف اسی حالت میں آنی چاہئے کہ تم فرمانبرداری کرنے والے ہو یعنی دین اسلام پر قائم ہو ، مقصد یہ تھا کہ موت ایک غیر اختیاری چیز ہے پتا نہیں کس وقت وارد ہوجائے ، لہذا تمہارا ہر لمحہ اطاعت خداوندی میں دین اسلام پر گذرنا چاہئے یعنی مرتے دم تک ملت اسلامیہ پر قائم ہو حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے (1) (جامع صغیر مع شرح فیض القدیر ص 226 ، ج 6 ، بحوالہ مسند احمد ومستدرک حاکم عن جابر ؓ) من مات علی شیء بعثہ اللہ علیہ “۔ جو شخص جس عقیدے پر مرے گا اسی پر قیامت کے دن اٹھایا جائے گا ، لہذا تمہاری موت دین حق پر آنی چاہئے ، تاکہ روز محشر یہی دین لے کر اٹھو۔
یہودیوں کے لٹر یچر میں اس وصیت کے ضمن میں حضرت اسحاق (علیہ السلام) کا بھی ذکر ہے کہ انہوں نے بھی اپنی اولاد کو ایسی ہی وصیت کی تھی ، جب ان کا وقت موعود آپہنچا تو انہوں نے اپنے دونوں بیٹوں کو بلا کر کہا کہ میں تم کو اس خدا کا واسطہ دیتا ہوں ، جس کی صفات الہیہ حلیم ، قیوم اور عزیز ہے اور جو آسمان و زمین کے درمیان ہر چیز کا خالق ہے تم اسی خدا کا خوف رکھنا اور اسی کی عبادت کرنا ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بھی وقت آخر اپنے بیٹوں کو پاس بلا کر کہا مجھے خدشہ ہے کہ تم میں سے کوئی بت پرستی اور شرک کی طرف میلان رکھتا ہے تو بیٹوں نے جواب دیا سن اے اسرائیل ! اے ہمارے باپ ! ہمارا خدا وہی ہے جو ” لم یزل “ ہے اور جس طرح ایک خدا تعالیٰ پر تیرا ایمان ہے ، اسی طرح ایک خدا پر ہمارا بھی ایمان ہے ، بہرحال یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کی وصیت کا ذکر تھا جو اس آیت میں بیان ہوا۔
اگلی آیت میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی وصیت کا بطور خاص ذکر فرمایا ، یہود ونصاری کو یاد دہانی کرائی جا رہی ہے کہ تمہار یہ دعوی باطل کہ تم ابراہیم (علیہ السلام) ، اسماعیل (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کو ماننے والے ہو انہوں نے یہودیت یا نصرانیت کی تعلیم نہیں دی تھی ان کی تعلیم تو واضح طور پر توحید پر مبنی تھی ، فرمایا اس واقعہ کو یاد کرو (آیت) ” ام کنتم شہدآء اذ حضر یعقوب الموت “۔ کیا تم اس وقت موجود تھے ، جب یعقوب (علیہ السلام) کے پاس موت آئی ۔ (آیت) ” اذ قال لبنیہ ما تعبدون من بعدی “ جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا ، تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے یہودیوں کی روایت میں یہ بھی موجود ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا مجھے شبہ ہے کہ تم میں کوئی شرک کی طرف میلان نہ رکھتا ہو تو بیٹوں نے بیک آواز جواب دیا ۔ (آیت) ” قالوا نعبد الھک ، ہم تیرے معبود کی عبادت کریں گے (آیت) ” والہ ابآئک “۔ اور تمہارے آباؤ اجداد (آیت) ” ابرھیم واسمعیل واسحق “۔ ابراہیم (علیہ السلام) ، اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) کے معبود کی عبادت کریں گے ، (آیت) ” الھاواحد “۔ سے جو ایک ہی معبود ہے ہم صرف اسی کی عبادت کریں گے ، (آیت) ” ونحن لہ مسلمون “۔ اور ہم صرف اسی کی فرمانبرداری کرنے والے ہیں یہ سب باتیں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے دم واپسین کے وقت کی ہیں ، جو اپنی اولاد کو دین توحید اور ملت ابراہیمی پر کاربند رہنے کی تلقین فرما رہے ہیں ۔
ظاہر ہے کہ ان تمام واقعات کے پیش نظر یہود ونصاری کے لیے ملت ابراہیمی سے انحراف کی کوئی گنجائش نہیں ، اگر ان میں ذرا بھی انصاف کا مادہ موجود ہو ، اور وہ تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں تو انہیں حضور ﷺ پر ایمان لانا ہوگا ، کیونکہ آپ ہی ملت ابراہیمی کے سچے پیروکار اور سچے جانشین ہیں ، اللہ تعالیٰ نے یہود ونصاری کے اس دعوے کی تردید فرمائی ہے کہ وہ ملت ابراہیمی پر ہیں ، آگے سورة آل عمران میں آئے گا کہ اے بنی اسرائیل ! اگر تمہارے دعوی یہ ہے کہ تم حضرت ابراہیم کے طریقے پر ہو تو نبی آخر الزمان ﷺ پر ایمان لانا پڑے گا ، آپ کے بغیر سب ادیان باطل ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف تمہاری جھوٹی نسبت کچھ مفید نہ ہوگی ۔
(ہر امت اپنے افعال کی ذمہ دار ہے)
ان جلیل القدر پیغمبروں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اسماعیل (علیہ السلام) اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کی توحید پر پختگی کے بعد فرمایا (آیت) ” تلک امۃ قد خلت “۔ یہ ایک جماعت تھی جو گذر گئی وہ دین توحید پر قائم رہی (آیت) ” لھا ما کسبت “۔ انہیں کے لیے ہے جو کچھ انہوں نے کمایا ، یعنی ان کے عقیدہ اور اعمال وافعال کا اجر ان کو ملے گا (آیت) ” ولکم ما کسبتم “ اور تمہارے لیے وہ ہوگا جو تم کماؤ گے اگر تم بھی ان کے طریقے پر چلتے ہوئے دین اسلام اور ملت ابراہیمی کا دامن تھام لو گے تو مراد کو پہنچو گے اور اگر اپنی ضد اور عناد پر قائم رہے ، تو ملت ابراہیمی سے خالی خولی نسبت کچھ کام نہ آئے گی اور تمہارے عقیدے اور اعمال کے مطابق ہی تمہیں بدلہ دیا جائے گا ، امام غزالی (رح) نے بڑی عمدہ مثال دی ہے ، کہتے ہیں کہ اگر بیٹا بھوکا یا پیاسا ہو اور باپ کھا پی لے ، تو بیٹے کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا ، اس کی بھوک اور پیاس رفع نہیں ہوگی ۔ جب تک وہ خود نہیں کھائے پئے گا ، اسی طرح یہود ونصاری کے آباؤاجداد کا دین اسلام پر قائم ہونا انہیں کچھ فائدہ نہیں دے گا جب تک یہ خود ہٹ دھرمی چھوڑ کر ملت ابراہیمی کو نہ اپنا لیں فرمایا (آیت) ” ولا تسئلون عما کانوا یعملون “۔ تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تمہارے آباؤ اجداد کا دین کیا تھا ، وہ کیا کرتے تھے ، بلکہ تمہیں خود ان کی صحیح معنوں میں پیروی کرنا ہوگا تمہارے اعمال کی باز پرس تمہیں سے ہوگی ۔
Ayahs 2:135–138گذشتہ سے پیوستہ :
یہود ونصاری اور مشرکین تینوں گروہ ملت ابراہیمی کے مخالف تھے خصوصا اہل کتاب یعنی یہودونصاری اپنی یہودیت اور نصرانیت کو ہی ملت ابراہیمی کے مخالف تھے ، خصوصا اہل کتاب یعنی یہود ونصاری اپنی یہودیت اور نصرانیت کو ہی ملت ابراہیمی خیال کرتے تھے ، اور دوسروں کو بھی یہی چیز اختیار کرنے کی دعوت دیتے تھے مدینہ طیبہ کے اطراف میں رہنے والے یہودیوں میں ایک بڑا عالم عبداللہ بن صوریا مشہور زمانہ تھا اس نے خود آنحضرت ﷺ کو دعوت دی کہ آپ یہودیت اختیار کرلیں ہدایت پا جائیں گے ، دلیل اس کی بھی یہی تھی کہ وہی اصل ابراہیمی طریقے پر قائم ہیں حالانکہ ان کا یہ دعوے غلط ہے حقیقت یہ ہے کہ یہودیت توراۃ کی بگڑی ہوئی شکل ہے اور نصرانیت انجیل کی مسخ شدہ صورت انہوں نے آسمانی کتابوں میں شرک کی آمیزش کرکے اپنے مذہب کو باطل کرلیا ، اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف خالی نسبت پر ہی اتراتے رہے ، لہذا اللہ تعالیٰ نے ان کے باطل عقائد کا رد فرمایا ہے ۔
(راہ ہدایت)
اہل کتاب کا باطل کی طرف دعوت دینے کا طریقہ یہ تھا کہ (آیت) ” وقالوا کونوا ھودا اونصری تھتدوا “۔ وہ کہتے تھے کہ یہودی یا نصرانی بن جاؤ ، ہدایت پاجاؤ گے اللہ تعالیٰ نے ان کی دعوت کو رد فرماتے ہوئے نبی (علیہ السلام) کو ارشاد فرمایا کہ اہل کتاب کی دعوت کے جواب میں (آیت) ” قل بل ملۃ ابرھیم حنیفا “۔ آپ ان کو کہہ دیں کہ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ہم تمہارا باطل مذہب اختیار کرلی ، اور اگر اس میں بگاڑ نہ بھی پیدا ہوا ہو تو بھی توراۃ اور انجیل تو منسوخ ہوچکی ہے آپ قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے جو کہ پہلی کتابوں کی ناسخ ہے لہذا اب توراۃ انجیل پر عمل نہیں کیا جاسکتا ، یہودیت کا باطل طریقہ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ایجاد ہوا موجودہ یہودیت ، ہرگز ان کا طریقہ نہیں ہے جسے اختیار کیا جاسکے ، اسی طرح موجودہ نصرانیت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دو سو سال بعد ایجاد ہوئی ہے موجودہ نصرانیت کا پیش کردہ عقیدہ تثلیث ہرگز حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم نہیں ہے لہذا یہ دونوں مذہب کسی صورت میں بھی قابل قبول نہیں ہیں ۔
الغرض ! اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ تمہارا طریقہ ابراہیمی نہیں ہے (آیت) ” بل ملۃ ابرھیم حنیفا “۔ ہم تو اصل ملت ابراہیمی کی پیروی کریں گے اس حقیقی ملت کو اختیار کرکے اس پر کاربند رہیں گے پہلی آیتوں میں گذر چکا ہے کہ صحیح ملت ابراہیمی ہی ملت اسلامیہ ہے (آیت) ” ومن یرغب عن ملۃ ابرھیم الا من سفہ نفسہ “۔ اور اس ملت سے انحراف تو کوئی بیوقوف ہی کرسکتا ہے اور ان کا طریقہ تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا طریقہ ہے اور اس آخری دور میں شریعت محمد ہی ملت ابراہیمی کی اصل جانشین ہے لہذا ہم تو اس ملت کا اتباع کریں گے جو حضرت ابراہیم حنیف (علیہ السلام) کی ملت ہے اور یہ اب شریعت محمدی کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے ۔
(لفظ حنیف کا معنی)
حنیف عربی زبان میں اس اونٹ کو کہتے ہیں جس کے پاؤں میں کجی ہو اور وہ چلتے وقت ایک طرف کو مائل ہوجاتا ہو ، اس کو احنف بھی کہتے ہیں لفظ حنیف اسی مادے سے ہے اور اس کا معنی ہے ہر طرف سے کٹ کر ایک طرف لگنے والا یعنی یکسو اور اصطلاحا حنیف اس شخص کو کہتے ہیں جو ہر طرف سے کٹ کر صرف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہو (آیت) ” حنفآء للہ غیر مشرکین بہ “۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق بھی یہی آتا ہے (آیت) ” وما کان من المشرکین “۔ آپ شرک کرنے والوں میں نہ تھے مگر جس یہودیت اور نصرانیت کی دعوت تم دے رہے ہو وہ تو شرک سے آلودہ ہے تم تو عقیدہ الوہیت کے قائل ہو جس میں تشبیہ پائی جاتی ہے لہذا ہم تمہارا مشرکانہ دین قبول نہیں کرسکتے بلکہ ہم تو ملت ابراہیمی کا اتباع کریں گے کیونکہ حضرت ابراہیم حنیف تھے اور شرک سے پاک تھے ۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اور بعض دوسرے مفسرین کرام فرماتے ہیں (1) (فتح الرحمان 56 ، مطبع ہاشمی ، الفوز اکبیر ص 3 ، تفسیر ابن کثیر ص 186 ، معالم التنزل ص 52 ج 1) کہ حنیف وہ شخص ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا قائل ہو ، حج کرنے والا ہو ، نماز میں بیت اللہ شریف کی طرف رخ کرنے والا ہو ، ختنہ کرنے والا ہو ، اور محرمات نکاح کو حرام سمجھتا ہو شاہ عبدالعزیز (رح) نے اپنی تفسیر میں ملت ابراہیمی کی چالیس خصوصیات بیان کی ہیں (2) (تفسیر عزیزی فارسی ص 451 پارہ 1) جو اسلام میں پائی جاتی ہیں یہاں پر حج کرے والے سے مراد ایسا شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو مانتا ہو ، بہرحال حضرت ابراہیم حنیف تھے ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ آپ فرما دیں کہ ہم تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کا اتباع کریں گے تمہاری خود ساختہ یہودیت اور نصرانیت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔
(ایمان باللہ)
فرمایا کہ آپ ان کو اصل ملت ابراہیمی کی تشریح بھی کردیں ، قولوا امنا باللہ “۔ یعنی یوں کہو کہ ہم ایمان لائے ہیں اللہ پر یعنی ہماری جڑ بنیاد ہی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ہے ہم اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے ، نہ ذات میں نہ صفات میں ، نہ حلال و حرام میں کسی چیز میں اس کا شریک نہیں بناتے ، برخلاف اس کے بنی اسرائیل نے حلال و حرام کا منصب پادریوں کے سپرد رکر رکھا ہے جسے پادری حلال کر دے وہ حلال ہے اور جس چیز کو پادری حرام قرار دے دے ، وہ حرام ہوجاتی ہے حالانکہ تحلیل وتحریم تو اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے یہ منصب اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ خاص ہے اور کسی کے پاس نہیں ہے ہاں جب نبی کسی چیز کی حلت و حرمت کا فتوی دیتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حلال و حرام کردہ حکم کے مطابق ایسا کرتا ہے خود اپنی مرضی سے کسی چیز کو حلال و حرام قرار نہیں دیتا ، یہودی چونکہ حلال و حرام کا اختیار اپنے احبار اور رہبان کو سونپتے ہیں اس لیے وہ تحلیل وتحریم میں شرک کے مرتکب ہوتے ہیں ۔
(کتابوں پر ایمان)
اہل ایمان کو خطاب ہو رہا ہے کہ ایمان باللہ کے بعد تمام کتب سماویہ پر ایمان لانے کا بھی اعلان کر دو (آیت) ” وما انزل الینا “۔ ہم اس کتاب پر ایمان لائے ہیں جو ہماری طرف نازل کی گئی یعنی قرآن پاک (آیت) ” وما انزل الی ابرھیم واسمعیل واسحق ویعقوب والاسباط “۔ اور جو کچھ نازل کیا گیا ابراہیم (علیہ السلام) ، اسماعیل (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اولاد پر مکمل آسمانی کتابیں تو چار ہیں ان کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) پر چھوٹے چھوٹے صحیفے بھی نازل فرمائے چناچہ قرآن کریم میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صحائف کا ذکر آتا ہے یہاں پر اسی صحائف کا ذکر ہے کہ جس طرح دیگر کتب سماویہ پر ایمان لانا ضروری ہے اسی طرح صحائف آسمانی پر ایمان لانا بھی ضروری ہے یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اس آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ـ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چار انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کے بعد سے چار انبیاء مبعوث فرمائے ۔ ہیں ان سب پر اور ان پر نازل ہونے والی چیز پر ایمان لانا اہل ایمان کا شیوہ ہے ۔
فرمایا ہمارا ان کتابوں پر بھی ایمان ہے (آیت) ” وما اوتی موسیٰ و عیسیٰ “۔ جو موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو عطا کی گئیں ، یعنی توراۃ اور انجیل (آیت) ” وما اوتی النبیون من ربھم “۔ اور اس چیز پر بھی ایمان لائے جو دیگر انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام کو ان کے رب کی طرف سے دی گئی غرضیکہ یہ ایک قاعدہ کلیہ آگیا کہ اللہ تعالیٰ نے نوع انسان پر جس وقت اور جو کچھ اپنے نبیوں کے ذریعے بھیجا ہے سب پر ایمان لانا لازم ہے ۔
ابن ابی حاتم ؓ کی روایت میں آتا ہے (1) (تفسیر ابن کثیر ص 187 ج 1 ، بحوالہ ابن ابی حاتم) کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جہاں تک ایمان لانے کا تعلق ہے تم زبور ، توراۃ اور انجیل پر ایمان رکھو مگر ” ولیعکم القرآن “۔ عمل کرنے کے لیے تمہارے لیے قرآن پاک کافی ہے یعنی سابقہ کتب پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآن پاک نے سابقہ کتب کے احکام کو منسوخ کردیا ہے اب قابل عمل احکام صرف قرآن پاک کے ہیں ۔
امام شافعی (رح) کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کل ایک سو چار (104) کتابیں نازل فرمائی ہیں ، ان میں چار تو یہ عظیم کتابیں ہیں یعنی زبور ، توراۃ ، انجیل اور قرآن کریم اور سو (100) چھوٹی کتابیں صحیفے ہیں جو حضرت آدم (علیہ السلام) ، شیث (علیہ السلام) ، ادریس (علیہ السلام) ، نوح ، (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) ، اور ان کی اولاد پر نازل ہوئے ، ایسے ہی صحیفوں کا ذکر حضرت یونس (علیہ السلام) ، حضرت ایوب (علیہ السلام) ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور دیگر کئی انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ بھی آتا ہے موجودہ مجموعہ کتب مقدمہ ہے جسے بائیبل کہتے ہیں ، اس میں 39 صحائف شامل ہیں ، ان کتابوں اور صحائف میں اگرچہ بہت کچھ تحریف وتنسیخ ہوچکی ہے تاہم یہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہیں اور ہمارا ان سب پر ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بذریعہ وحی انبیاء کرام پر نازل فرمائے ۔
ّ (رسولوں پر ایمان)
آگے اس بات کا اقرار ہے (آیت) ” لا نفرق بین احد منھم “۔ ہمارا ان تمام رسولوں پر مکمل ایمان ہے جن پر کتابیں اور صحیفے نازل ہوئے ، بلکہ ان انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر بھی ایمان ہے جن پر کوئی باقاعدہ کتاب نازل نہیں ہوئی اور ہم ان کے درمیان کوئی فرق روا نہیں رکھتے حقیقت یہ ہے کہ ایمان مکمل اسی صورت میں ہوتا ہے جب تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر بلا تفریق ایمان ہو کسی پر ایمان لانا اور کسی پر نہ لانا یہ تو کفر کے مترادف ہے بنی اسرائیل اسی وجہ سے گمراہ ہوئے کہ وہ بعض انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر تو ایمان لائے مگر نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفے ﷺ کا انکار کردیا ، دیکھو ! اہل اسلام تمام سابقہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) عیسیٰ (علیہ السلام) و دیگر سب پر ایمان رکھنے کے ساتھ نبی آخر الزمان ﷺ پر بھی ایمان لائے ہیں مگر یہود ونصاری آخری نبی کے منکر ہیں ، اس لیے یہ کافر ٹھہرے ہیں (آیت) ” لا نفرق بین احد منھم کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر یکساں ایمان ہے ہم کسی میں بھی تفریق نہیں رکھتے جو انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام جس قوم کی طرف اور جس زمانے میں بھی مبعوث ہوئے ، اگرچہ ہم انہیں جانتے نہیں مگر ان کی بعثت کے یکساں طور پر قائل ہیں ۔
ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اہل ایمان تمہارے برحق ہونے کی نشانی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام نبیوں اور اس کی تمام کتابوں کو برحق مانتے ہو ، اور ان میں کوئی تفریق روا نہیں رکھتے ، (آیت) ” ونحن لہ مسلمون “۔ اور ہم اسی اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے والے ہیں جس نے تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اور کتابیں نازل فرمائیں اور یہی ملت ابراہیمی کا اصول ہے ۔
(میعار حق)
اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو معیار حق قرار دیا اور فرمایا (آیت) ” فان امنوا بمثل ما امنتم بہ “۔ اگر یہ کفار ومشرکین اور یہود ونصاری بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لائے ہو (آیت) ” فقد اھتدوا “۔ تو یہ بھی ہدایت پا جائیں گے گویا نزول قرآن کے زمانہ میں تو حضور ﷺ کے اولین صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین معیار قرار پائے ، مگر بعد میں آنے والوں کے لیے بھی لازم ہے کہ وہ بھی انہیں کا طریقہ اختیار کریں ، وہ بھی اسی معیار پر پرکھے جائیں گے چونکہ اس زمانے کے یہود ونصاری صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے معیار پر پورے نہ اترے ، وہ اس طرح تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اور تمام کتابوں پر ایمان نہ لائے جس طرح حضور ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ایمان لائے تھے لہذا وہ مردود ہوئے آج بھی جو کوئی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے طریقے کے خلاف کرے گا یہ گمراہ ہوگا ، اسی لیے تو حضور ﷺ نے ناجی گروہ کے متعلق فرمایا (ترمذی ص 379) ” ما انا طیہ و اصحابی “۔ یعنی نجات یافتہ وہی لوگ ہیں جو میرے اور میرے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے طریقے پر ہوں گے باقی سب گمراہ ہوں گے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں سے آپ نے خلفائے راشدین المہدیین کا خاص طور پر ذکر فرمایا (1) (ترمذی 383) کیونکہ ان کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے تمام خطہ زمین پر دین کو استحکام بخشا ، واقعہ جنگ صفین تک کوئی طاقت ایسی نہ تھی جو مسلمانوں سے ٹکر لے سکے ، سب مغلوب ہوچکے تھے نہ صرف دلیل سے بلکہ سیاسی طور پر اسلام غالب آچکا تھا یہ تو حضرت علی ؓ اور امیر معاویہ ؓ کے مابین چپقلش کی وجہ سے حالات نے پلٹا کھایا ورنہ پچاس سال تک اسلام ہر طرح سے غالب رہا ۔
الغرض ! یہود ونصاری کو فرمایا کہ تمہارا دین اور تمہارا ایمان درست نہیں ہے ہدایت حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تم بھی دین حق پر اسی طرح ایمان لے آؤ جس طرح اہل ایمان لاتے ہیں اگر ایسا نہیں کرو گے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑے رہو گے تو ہدایت نہیں پا سکو گے ۔
(اہل ایمان کی کامیابی)
فرمایا اگر یہ مکمل ایمان لانے کی بجائے (آیت) ” وان تولوا “۔ اگر یہ روگردانی کریں گے (آیت) ” فانما ھم فی شقاق “۔ تو یہ محض ضد اور اختلاف میں پڑے ہوئے ہیں یہ نہ تو منصف مزاج ہیں اور نہ ہی حقیقت کے طلبگار ہیں آپ اپنا کام کرتے جائیں ، ان کی پرواہ نہ کریں ، (آیت) ” فسیکفیکھم اللہ “۔ ان کی طرف سے ہر شر و فساد کے جواب میں اللہ تعالیٰ آپ کی کفایت کرے گا ، آپ کو ان کی شرارتوں اور حیلہ سازیوں سے محفوظ رکھے گا ، اور جو لوگ آپ کے متبع ہیں ، وہ بھی مامون ہوں گے (آیت) ” ان شانئک ھو الابتر “۔ آپ کے دشمن ہی ذلیل و خوار ہوں گے آپ اور آپ کے ساتھی بالآخر کامیاب وکامران ہوں گے چناچہ اہل کتاب نے دیکھ لیا کہ تھوڑے ہی عرصہ میں اسلام پور کے عرب اور پھر آدھی دنیا تک پھیل گیا وہی اہل کتاب جو آپ کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کرتے تھے انہیں مدینہ طیبہ اور دیگر قلعوں سے نکلنا پڑا ۔
(ملوکیت کی خرابیاں)
صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے جو معیار قائم کیا تھا وہ بڑے اونچے درجے کا معیار تھا اور اس پر کار بند رہنا بھی آسان نہیں تھا ، چناچہ بعد میں آنے والے لوگ ان معیار کو قائم نہ رکھ سکے اور خلافت کی بجائے ملوکیت کا راستہ اختیار کرلیا ، خلافت راشدہ کے طریقے کو پس پشت ڈال دیا اور عیاشی وفحاشی والا طریقہ اختیار کرلیا ، نتیجہ یہ نکلا کہ بنی اسرائیل کی طرح یہ بھی ذلیل ہوئے یہ درست ہے کہ بعد میں کچھ اچھے لوگ بھی آئے اور اسلام کو وقتی طور پر تقویت بھی حاصل ہوئی ، مگر بحیثیت مجموعی بگاڑ پیدا ہوتا چلا گیا ، اور ملوکیت اور ڈکٹیٹر شپ آگئی اور ہر صاحب اقتدار اپنی من مانی کرنے لگا چوہدری افضل حق ” ہمارے قوم کے بڑے مدبر انسان ہوئے ہیں انہوں نے اپنی کتاب میں بڑے دکھ کے ساتھ ایک جملہ لکھا ہے کہتے ہیں کہ جب بنی امیہ کا دور آیا تو انہوں نے خلافت راشدہ کے نفیس فرش کی جگہ شہنشاہیت کا ٹاٹ بچھا دیا ، واقعہ بھی یہی ہے کہ جو معیار حق صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے قائم کیا تھا اس میں زوال آگیا ، اور امت میں اتفاق و اتحاد کا دامن تار تار ہوگیا ، جنگ احد میں اگرچہ شکست کا سامنا کرنا پڑا مگر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے (آیت) ” وامرھم شوری بینھم “۔ پر عمل کرکے نہ صرف اس شکست کو برداشت کیا بلکہ اپنے اتحاد کو اور مضبوط کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پھر کبھی ناکامی کا منہ نہ دیکھنا پڑا بلکہ تھوڑے ہی عرصہ میں اسلام عرب سے نکل کا دور دور تک پھیل گیا ۔
امام ابوبکر جصاص (رح) فرماتے ہیں (1) (احکام القرآن ص 41 ج 2) کہ جس معاملہ میں وحی کے ذریعہ راہنمائی نہ کی گئی ہو اس معاملے میں نبی کے لیے بھی واجب ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرے ، مگر ملوکیت کے راستے پر چل نکلنے والے صاحب اقتدار لوگوں کو اپنی من مانی کرنے کا کہاں حق پہنچتا ہے ایسے لوگ تو ابلیس کے راستے پر چلنے والے ہیں کابل مصر اور بخارا وغیرہ کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں وہاں کے ملوک نے کس قدر ظلم کیے ، اسلام کے صحیح طریقے کو چھوڑ کر باطل طریقے پر چل نکلے نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں پر صدیوں سے زوال چھایا ہوا ہے الغرض ! اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ اور اہل ایمان کو فرمایا کہ اگر کفار ومشرکین اور یہود ونصاری اپنی ضد پر اڑے رہیں ، تو آپ گھبرائیں نہیں اللہ تعالیٰ تمہارا حامی وناصر ہوگا ، ان کے مقابلے میں وہ تمہارے لیے کفایت کرے گا (آیت) ” وھو السمیع العلیم “۔ وہ سننے والا اور جاننے والا ہے وہ ہر ایک کی دعا کو سنتا اور ہر چیز کو جانتا ہے اس سے کچھ مخفی نہیں ۔
(صبغۃ اللہ)
فرمایا یہ آپ کی یہودیت اور نصرانیت کی طرف دعوت دیتے ہیں آپ انہیں فرما دیجئے کہ (آیت) ” صبغۃ اللہ “ ہم نے تو اللہ تعالیٰ کا رنگ اختیار کرلیا ہے تمہاری باطل یہودیت اور نصرانیت سے ہمارا کیا تعلق ؟ اور اللہ تعالیٰ کے رنگ سے مراد کوئی روائتی رنگ از قسم سرخ نیلا یا پیلا نہیں بلکہ توحید اور اخلاص کا رنگ ہے یہ وہ رنگ ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے سے انسان کے چہرے پر نمایاں ہوتا ہے یہ رنگ ان کے اقوال وافعال اور اعمال وکردار کی وجہ سے اور چمکتا ہے ہم نے یہ رنگ اختیار کیا ہے یہ یہودیت اور نصرانیت والا رنگ نہیں جو یکہ کپڑوں اور جسم پر لگا کر عیسائیت میں پختگی کا اظہار کرتے ہیں ۔
فرمایا (آیت) ” ومن احسن من اللہ صبغۃ “۔ اور اللہ کے رنگ سے اچھا کون سا رنگ ہوگا جو کہ توحید ، عبادت ، ریاضت ، دیانت اور ایمان کا رنگ ہے یہ ملت ابراہیمی کا رنگ ہے جو صرف اہل ایمان کو حاصل ہے جو اس ملت پر صحیح معنوں میں کاربند ہیں ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں جس نے ہمیں اپنے رنگ میں رنگ لیا (آیت) ” ونحن لہ عبدون “۔ اس لیے ہم اسی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے ہیں ہم کسی کو اس کی عبادت میں شریک نہیں کرتے ۔
Ayahs 2:139–141گذشتہ سے پیوستہ :
گذشتہ درس میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ یہود ونصاری مسلمانوں کو اپنے باطل مذہب کی طرف دعوت دیتے تھے کہ یہودی اور نصرانی ہوجاؤ تو ہدایت پا جاؤ گے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے کہلوایا کہ ہم تو ملت ابراہیمی کے پیروکار ہیں اور اسی پر کاربند رہیں گے ،
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حنیف تھے اور شرک کرنے والوں میں نہیں تھے اس کے بعد ملت اسلام اور ملت ابراہیم کا اہل اصول اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری بیان کیا گیا ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے فرمایا کہ تم اعلان کر دو کہ ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اس کی توحید اور اس کی کتاب کو مانتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف نازل کی ہے اور آل صحائف کو بھی مانتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، اسماعیل ، (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، اور یعقوب (علیہ السلام) ، اور ان کی اولاد کی طرف نازل فرمائے ہمارا اس شریعت اور دین پر بھی ایمان ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیا گیا ، خلاصہ یہ کہ تمام انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام کو جو چیز بھی عطا کی گی ، ہمارا اس پر ایمان ہے اور ہم تفریق بین الرسل نہیں کرتے کہ کسی کو مان لیا اور کسی کو نہ مانا ، بلکہ سب کو یکساں طور پر اللہ تعالیٰ کے رسول تسلیم کرتے ہیں اور تمام کتب سماویہ پر ایمان رکھتے ہیں البتہ عمل کے لیے صرف قرآن پاک کو کافی پاتے ہیں ۔
حضور ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین بھی اسی اصول پر عمل درآمد کرتے تھے چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر یہود ونصاری بھی اسی طرح ایمان لے آئیں ، جس طرح صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ایمان لائے ہیں تو ہو بھی ہدایت پاجائیں گے ، اگر مخالفت کریں تو یہ ان کی ضد اور ہٹ دھرمی ہے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو تسلی دی کہ اہل کتاب کے شر سے خائف نہ ہوں آپ کے لیے اللہ تعالیٰ کفایت کرے گا پھر فرمایا کہ یہودیت یا نصرانیت کا پکڑنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کا رنگ اختیار کرو ، اور وہ دین توحید اور ملت ابراہیمی والا رنگ ہے آخر میں اہل ایمان سے کہلوایا کہ ہم اسی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے ہیں جس کی وحدت کا اقرار کرچکے ہیں ۔
(اہل کتاب کے ساتھ جھگڑا)
آیت زیر درس میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے ساتھ مقاطعہ کی بنیاد رکھی ہے کیونکہ ان کے ساتھ مصالحت کا کوئی امکان باقی نہیں رہا ، پیغمبر اسلام ﷺ سے خطاب کیا قل آپ ان اہل کتاب سے کہہ دیں (آیت) ” اتحاجوننا فی اللہ “ کیا تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہم سے جھگڑا کرتے ہو کیا بنائے مخاصمت اللہ کی واحدانیت اس کا دین یا اس کی عبادت ہے بلکہ جھگڑے کی بنیاد یہ ہے کہ اہل کتاب اس زعم میں مبتلا تھے کہ اللہ تعالیٰ ان پر بڑا مہربان ہے اس کی تمام تر نوازشیں انہیں کے لیے ہیں لہذا آخری نبی بھی بنو اسحاق میں سے ہی آنا چاہئے تاکہ ان کے خاندان کی برتری قائم رہے اسی لیے وہ حضور خاتم النبیین ﷺ کی نبوت و رسالت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے ، حالانکہ گذشتہ آیات میں گذر چکا ہے کہ (آیت) ” واللہ یختص برحمتہ من یشآئ “۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے لیے خاص کرلیتا ہے کسی ایک فرد یا قوم نے ٹھیکہ نہیں لے رکھا ہے کہ خدا تعالیٰ کی رحمتیں صرف انہیں کے لیے ہیں اسی چیز کے متعلق اللہ تعالیٰ نے کہلوایا کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہم سے جھگڑا کرتے ہو (آیت) ” وھو ربنا وربکم “۔ حالانکہ وہی ہمارا رب ہے اور تمہارا رب بھی اس میں جھگڑا کی کون سی بات ہے اگر اس ن کے ایک زمانے میں کسی ایک خاندان کو برتری عطا کی ہے تو دوسرے زمانے میں دوسرے خاندان کو شرف بخشا ہے کیونکہ وہ ساری مخلوق کا رب ہے اس کی نظر میں سب برابر ہیں ، وہ سب کا مالک ہے ، لہذا تمہیں آپس میں مخاصمت نہیں پیدا کرنی چاہئے اور اگر تم نے ضرور جھگڑا ہی کرنا ہے تو (آیت) ” ولنا اعمالنا ولکم اعمالکم “۔ ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے یعنی ہم اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں اور تم اپنے اعمال کے ذمہ دار ہو ۔ (آیت) ” ونحن لہ مخلصون “۔ اور ہم تو صرف اسی خالق ومالک کی فرمانبرداری کرنے والے ہیں ۔
(اخلاص فی الدین)
اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری ہی ملت ابراہیم (علیہ السلام) کا بنیادی اصول ہے تم باطل نظریات کی طرف دعوت دیتے ہو یعنی یہودیت یا نصرانیت کو اختیار کیا جائے یہ ممکن نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت لا محدود ہے وہ جسے چاہے اپنی رحمت سے فیضیاب کرے کسی کو اعتراض کا کوئی حق نہیں بحمد اللہ ہم نے ایمان قبول کرکے اپنے اندر اخلاص پیدا کیا ہے اور صحیح معنوں میں ملت ابراہیمی میں شامل ہوتے ہیں حضور ﷺ کا فرمان ہے (1) (فیض القدیر ص 216 ج 1 بحوالہ مستدرک عن معاذ ؓ) ” اخلص فی دینک یکفیک قلیل من العمل “۔ یعنی اپنے دین میں اخلاص پیدا کرو ، تمہارا تھوڑا عمل بھی کفایت کر جائے گا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں صرف مخلص عمل ہی قابل قبول ہوتا ہے ریا کاری اور دکھاوے کا عمل ہمیشہ مردود ہوتا ہے اہل کتاب کے عقائد اخلاص سے خالی میں وہ ضدی اور عنادی ہیں لہذا ہماری ان سے مصالحت نہیں ہو سکتی مشرکین کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ، (آیت) ” لکم دینکم ولی دین “۔ یعنی تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور ہمارے لیے ہمارا دین ، اب صلح کی گنجائش نہیں یہاں بھی اہل کتاب کو فرمایا کہ تمہارے اعمال تمہارے ساتھ ہیں اور ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں گویا یہ ایک چیلنج ہے کہ آئندہ جہاد کرنا پڑے گا اس کے بغیر کوئی چارہ کار باقی نہیں رہ گیا ۔
(انبیائے سابقین کا عقیدہ)
اہل کتاب کا دعوی تھا کہ پہلے جتنے بھی انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام تشریف لائے ہیں وہ سب کے سب انہیں کے عقیدہ پر یہودی یا نصرانی تھے ، اس آیت میں اللہ تعالیٰ ان کے اس غلط دعوی کا جواب دے رہے ہیں (آیت) ” ام تقولون “ کیا تم یہ کہتے ہو (آیت) ” ان ابرھیم واسمعیل واسحق ویعقوب والاسباط کانوا ھودا او نصری “۔ کہ حضرت ابراہیم ، اسمعیل (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اولاد یہودی یا نصرانی تھے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ قل “ اے پیغمبر ﷺ آپ ان سے فرما دیں ، کہ اس دعوے کے متعلق (آیت) ” ء انتم اعلم ام اللہ “۔ کیا تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے کہ انبیائے سابقین کس طریقے پر تھے فرمایا یہ حضرات نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی بلکہ وہ تو حنیف تھے یعنی خالص اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنے والے تھے ، تمہاری یہ یہودیت یا نصرانیت تو توراۃ اور انجیل کے بگاڑ کا نتیجہ ہے اور انبیائے متعلقین سے صدیوں بعد کی پیداوار ہے ان کا ان باطل عقائد کے ساتھ کیا تعلق وہ تو خالص ملت اسلامیہ پر کار بند تھے اور اسی کی تبلیغ کرتے رہے خاص طور پر جد الانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق تو پہلے بھی کسی درس میں آچکا ہے (آیت) ” ماکان ابرھیم یھودیا ولا نصرانیا ولکن کان حنیفا مسلما وماکان من المشرکین “۔ یعنی آپ تو حنیف اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار تھے ، آپ مشرکین میں سے قطعا نہیں تھے لہذٓ ان کی نسبت یہودیت یا نصرانیت کی طرف کرنا نہایت ہی قبیح حرکت ہے ، بھلا اللہ تعالیٰ کے نبی یہودیت اور نصرانیت کا باطل طریقہ کیسے اپنا سکتے ہیں جو انکار نبوت ، عقیدہ تشبیہ ، اور تفریق بین الانبیاء والا طریقہ ہے ایسے باطل عقائد تمہیں مبارک ہوں ، انبیائے سابقین ان سے مبرا تھے ۔
(کتمان شہادت ظلم ہے)
آگے اہل کتاب کی ایک اور زیادتی کو بیان فرمایا (آیت) ” ومن اظلم ممن کتم شھادۃ عندہ من اللہ “۔ اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا ، جس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے گواہی موجود ہو اور وہ اسے چھپائے یہ گواہی کون سی تھی جسے بنی اسرائیل چھپاتے تھے یہ گواہی حضور ﷺ کی بعثت قرآن پاک کی حقانیت اور آخری امت کے بارے میں تھی آگے آئے گا کہ بنی اسرائیل ایسا جان بوجھ کر کرلیتے تھے (آیت) ” یعرفونہ کما یعرفون ابنآء ھم “۔ یہ لوگ حضور خاتم النبیین ﷺ کو اس طرح پہچانتے تھے جس طرح اپنے بیٹوں کو مگر تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے توراۃ میں حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے متعلق واضح پیشین گوئیاں موجود تھیں مگر یہ لوگ عناد اور حسد کی وجہ سے آپ کو آخری نبی تسلیم نہیں کرتے تھے گویا توراۃ نے جو گواہی پیش کی تھی اور جو خود ان کے پاس موجود تھی ، اسے چھپاتے تھے انہیں کے متعلق فرمایا کہ اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اپنے پاس موجود شہادت کو چھپا جائے ۔
شہادۃ کا چھپانا ویسے بھی گناہ ہے (آیت) ” ومن یک تمھا فانہ اثم قلبہ “۔ شہادت کو چھپانے والے کا دل گنہگار ہے بلکہ صحیح گواہی دینا تو ضروری ہوجاتا ہے خاص طور پر جب کہ وہ دین کے متعلق ہو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واقیموا الشھادۃ للہ “۔ اللہ تعالیٰ کے لیے شہادۃ کو قائم کرو ، اس کو چھپانے کی کوشش نہ کرو ورنہ ظالموں میں شمار ہو گے ،
اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی طرف سے کتمان شہادت کو سورة اعراف میں یوں بیان فرمایا (آیت) ” یجدونہ مکتوبا عندھم فی التورۃ والانجیل “۔ اس نبی امی کی پیش گوئیاں اور حال توراۃ اور انجیل میں ان کے پاس لکھا ہوا موجود ہے مگر یہ حق بات کو چھپا لیتے ہیں فرمایا کہ یہ لوگ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ کو ان کی قبیح حرکات کا علم نہیں بلکہ وہ تو ہر چیز کو جانتا ہے (آیت) ” وما اللہ بغافل عما تعملون “۔ وہ غافل نہیں ہے تمہاری تمام کاروائی کو جانتا ہے اور مناسب وقت پر تم سے مواخذہ کرے گا ۔
(جھوٹی نسبت مفید نہیں)
یہ آیت گذشتہ سے پیوستہ درس میں آچکی ہے یہاں اس کو دہرایا جا رہا ہے (آیت) ” تلک امۃ قد خلت لھا ما کسبت ولکم ما کسبتم “۔ یہ ایک امت تھی جو گذر چکی ، اس کے لیے وہی کچھ ہے جو اس امت نے کمایا اور تمہارے لیے وہ ہے جو تم نے کمایا (آیت) ” ولا تسئلون عما کانوا یعملون “۔ تم سے ان کے بارے میں سوال نہیں کیا جائیگا۔ کہ وہ کیا کرتے رہے بلکہ تم اپنے کردار کے ذمہ دار ہو ، وہ اپنے فعال کے ذمہ دار ہیں مطلب یہ کہ اے اہل کتاب اگرچہ تم اپنی نسبت انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی طرف کرتے ہو مگر تم ان کے عقیدے پر قائم نہیں رہ سکے ، لہذا تمہاری یہ جھوٹی نسبت کچھ فائدہ نہیں دے سکتی ، ان کے عقیدے اور اعمال بیشک درست تھے لیکن وہ تمہارے کسی کام نہیں آسکتے ، تمہیں اپنے افعال کی خود جوابدہی کرنا ہوگی ،
ملت ابراہیمی کا ایک اہم ترین اصول (آیت) ” ولا تزروا وازرۃ وز اخری “۔ ہے یعنی کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا حضور نبی کریم ﷺ کا فرمان مبارک بھی ہے (1) (شمائل مع ترمذی ص 571) ” لا یجنی علیک ولا تجنی علیہ “۔ باپ اور بیٹے کے متعلق فرمایا کہ باپ کا گناہ بیٹے کی گردن پر نہیں ہوگا اور نہ بیٹے کی زیادتی پر باپ کو پکڑا جائے گا ہر کوئی اپنے کام کا ذمہ دار ہے اسی لیے فرمایا انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی طرف محض نسبت کرلینا کچھ فائدہ نہیں دے گا جب تک ان کی پوری پوری اتباع نہیں کی جائے گی ۔
ّ (اہل اسلام کے لیے لمحہ فکریہ)
مفسرین کرام فرماتے ہیں (2) (تفسیر عزیزی فارسی ص 410 پارہ 1) کہ آیت ” تلک امۃ “۔ کا دہرایا جانا خاص مقصد کی بناء پر ہے صرف اہل کتاب کے لیے تو یہ آیت ایک دفعہ ہی کافی تھی ، اب جو دوسری دفعہ اس کا تکرار کیا گیا ہے تو اس سے مراد اہل اسلام کی تنبیہ ہے کہ اہل کتاب کی طرح وہ بھی خالی نسبت پر تکیہ کیا گیا ہے تو اس سے مراد اہل اسلام کی تنبیہ ہے کہ اہل کتاب کی طرح وہ بھی خالی نسبت پر تکیہ لگا کر نہ بیٹھے رہیں بلکہ وہ اپنے عقائد اور اعمال کو پاک کریں ، اللہ تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ کے احکام کی پابندی کریں تو ان کے لیے بھی راہ نجات کھل سکتی ہے اپنے اعمال کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں آج کل کے پیر زادوں ، امیر زادوں ، گدی نشینوں کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اپنے آپ کا محاسبہ کریں ، آباؤ اجداد کی خالی نسبت کسی کام نہیں آئیگی ، باپ نیک و صالح تھا تو اس کا عمل اس کے ساتھ ہے بیٹے کو اپنی جوابدہی خود کرنا ہوگی ، نسبت تو جب مفید ہوگی جب بزرگوں کے خصائص سے حصہ پایا ہو ۔
اماموں کے ساتھ نسبت کرنا بھی اسی قبیل سے ہے یہی حال مشائخ طریقت کا ہے اپنی نسبت بلند خانوادوں کی طرف کرتے ہیں مگر ان کی ایک خوبی بھی نہیں پائی جاتی آج چشتیہ اور قادریہ سلسلہ کی طرف نسبت کرنے والے کتنی لغویات میں ملوث ہیں کیا شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) کا یہی طریقہ تھا ، ان کی کتابیں موجود ہیں ، ان کے مواعظ اور دیگر تصنیفات ہیں ایک ایک لفظ سے ایمان اور حقیقت ٹپک رہی ہے کفر اور شرک اور بدعت میں ڈوبے ہوئے ہیں ان کے عرس منائے جا رہے ہیں ان کی قبروں پر چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں رسومات باطلہ کا دور دورہ ہے مگر نسبت ان کی طرف ہے ایسی نسبت کیا فائدہ دے گی ۔
چشتی اپنے آپ کو خواجہ معین الدین چشتی (رح) سے منسوب کرتے ہیں اس ملک میں خواجہ معین الدین چشتی (رح) خواجہ فرید الدین شکر گنج (رح) خواجہ نظام الدین اولیاء (رح) جیسے مشائخ کے ذریعے اسلام کی آبیاری ہوئی ان کے ذریعے برصیغر کے کتنے لوگوں کو ایمان کی دولت نصیب ہوئی ، کتنے لوگوں کا تعلق باللہ قائم ہوا ایسے بزرگوں کا اس خطہ ارضی پر کتنا احسان ہے مگر آج انہیں کے پیروکار چشتیہ خاندان کی طرف نسبت کرنے والے راگ ، رنگ اور گانے بجانے میں مشغول ہیں قوالی کا نام دے کر کتنی ہی رسوم باطلہ کو اپنایا جا رہا ہے مگر جیسا کہ بیان ہوچکا یہ کالی نسبت کام نہیں آئیگی جب تک ان بزرگوں کے نقش قدم پر نہ چلیں گے اسی چیز کو یہودیت سے تعبیر کیا گیا ہے اور اہل ایمان کو سمجھایا گیا ہے کہ وہ بھی یہودیوں کے راستے پر نہ چل نکلیں بلکہ اپنے اندر حقیقی ایمان پیدا کریں ۔
ہمارے ہاں امام ابوحنیفہ (رح) کی طرف نسبت کرکے حنفی کہلانے والے لوگوں کی اکثریت ہے مگر ان میں سے کتنے ہیں جو صحیح معنوں میں امام صاحب (رح) کے طریقے پر چل رہے ہیں محض حنفی کہلانے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا ، جب تک آپ کا اتباع نہ ہوگا ، اسی طرح امام شافعی (رح) کی طرف نسبت کرنے والے ہیں ، وہ بھی اپنے طریقہ پر قائم نہیں ہیں ، دل میں تعصب بھرا ہوا ہے لاکھ شافعی کہلائیں کچھ فائدہ نہیں ، اس قسم کی خالی نسبت تو وہی یہودیوں والی نسبت ہے ۔
بہرحال اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خبردار کیا ہے کہ ایمان لانے کے باوجود یہودیت کا راستہ اختیار نہ کریں اور صحیح معنوں میں ملت ابراہیمی اور شریعت محمدی پر قائم رہیں ، خود حضور اکرم ﷺ نے اپنے خاندان والوں کا نام لے لے کر فرمایا (1) (تفسیر ابن کثیر ص 350 ج 3 بحوالہ مسند احمد ومسلم ص 114 ج 1) اے بنی ہاشم ، اے بنی عبدالمطلب خبردار ! ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن لوگ اعمال لے کر آئیں اور تم محض خاندانی تعلق اور رشتہ داری لے کر آؤ ، اللہ تعالیٰ کے حضور میں تمہیں نہیں بچا سکوں گا ، آج اپنی فکر کرلو ” انقذوا انفسکم من النار “ اپنی جانوں کو دوزخ سے بچا لو ، اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ ایمان کو درست کرو ، اعمال صالحہ کی دولت حاصل کرو ، اس طرح تم کو آخرت میں درجات نصیب ہوں گے ۔
فرمایا یہ امت ہے جو گذر چکی جو کچھ اس امت نے کمایا وہ اس کے لیے ہے اور جو تم نے کمایا وہ تمہارے لیے ہے تم سے ان کے اعمال کے متعلق نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے ، بلکہ تمہاری باز پرس تمہارے اعمال کی وجہ سے ہوگی ، تم سے سوال ہوگا ، کہ تم نیکی اور توحید پر کاربند تھے یا نہیں تم شرک ، بدعات اور رسومات باطلہ سے بچ سکے یا نہیں تم توحید کی دعوت دیتے تھے یا شرکیہ افعال کی طرف بلاتے تھے تم نیکی اختیار کرتے تھے یا لڑائی جھگڑے میں مصروف رہے آج اپنا محاسبہ کرلو قیامت کے دن تمہارے کاموں کے متعلق تم سے پوچھا جائے گا ۔