2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعالم العرفان

Ayah 2:219

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ١ؕ قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ١٘ وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلِ الْعَفْوَ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَۙ Open ayah 2:219 in the Quran reader

لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں شراب اور جوئے کے بارے میں آپ کہہ دیجیے ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لئے کچھ فائدے بھی ہیں اور ان کا گناہ ان کے فائدے سے بہت بڑا ہے اور وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں آپ کہ دیجیے جو زائد ہو اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے آیات بیان کرتا ہے۔ تاکہ تم فکرو کرو

گزشتہ سے پیوستہ گزشتہ درس میں جہاد کی مشروعیت اور اس کی حکمت بیان کی گی تھی حرمت والے مہینوں میں لڑائی سے منع کیا گیا تھا۔ کفار کی خصلت بیان ہوئی کہ وہ مسلمانوں کو بہکا کر دین اسلام سے پھیرنے کی کوشش کرتے رہیں گے نیز فرمایا کہ جو شخص مرتد ہوگیا ، اس کی دنیا اور آخرت ہر دو برباد ہوگئیں۔ اس کے بعد ایمان ، ہجرت اور جہاد فی سبیل اللہ کی تعلیم دی گئی کہ ایسے ہی لوگ اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں۔ اور ان کی غلطیوں کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیں گے۔ اس سے پہلے درس میں مال خرچ کرنے کا قانون بیان ہوا تھا۔ اور انفاق کی اہمیت بیان ہوئی تھی۔ اس کا بیان آگے بھی آئے گا۔ گویا یہ حصول مال کے ذرائع اور خرچ کی مدات کا مفصل تذکرہ ہے۔ موضوع آیات اس آیت میں شراب اور جوئے کے فوائد و نقصانات اور ان کی حرمت کا بیان ہے۔ ارشاد ہوتا ہے یسئلونک عن الخمر والمیسر اے نبی (علیہ السلام) ! آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ ان کی کیا حیثیت ہے۔ جائز ہیں یا ناجائز ، حرام ہیں یا مباح ، ان میں فائدے ہے یا نقصان ۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ قل آپ کہہ دیجیے فیہآ اثم کبیر ومنافع للناس ان دونوں چیزوں میں بہت بڑا گناہ ہے تاہم لوگوں کے لئے بعض فوائد بھی ہیں۔ مگر ایک بات ہے۔ واثمھمآ اکبر من نفعھما ان کا گناہ ، ان کے فوائد سے بہت بڑا ہے۔ قمصد یہ کہ ان بری چیزوں سے پرہیز کرنا چاہئے۔ شراب نوشی خمر نشہ آور چیز کو کہتے ہیں۔ ماخامرالعقل جو کہ عقل کو ڈھانپ لے انسان کو بےعقل بنا دے۔ عام طور پر یہ لفظ شراب پر بولا جاتا ہے۔ کیونکہ نشہ آور اشیا میں شراب سرفہرست ہے۔ اس قبیح چیز کے متعلق دو حکم وارد ہوتے ہیں ، ایک اس کے ساتعمال پر پابندی اور دوسرے اس کے ذریعے حصول زر یعنی تجارت کی ممانعت اس کے نقصانات تو واضح ہیں کہ انسان کو بےخود بنا دیتی ہے۔ جس میں انسان گالی گلوچ بکتا ہے۔ فرائض سے محروم … رہ جتا ہے۔ ذہن مائوف ہوتا ہے اور پھر مال کا ضیاع بھی ہے۔ نشے کی حالت میں انسان قتل و زنا جیسے کبیرہ گناہوں میں ملوث ہو اتا ہے۔ شراب کے فوائد کے ضمن میں عربوں میں مشہور تھا کہ یہ انسانی ذہن کو جلا بخشتی ہے ، دل میں سرور پیدا ہوتا ہے۔ اور انسان میں فیاضی کی صفت پیدا ہوتی ہے۔ عرب لوگ شراب کو کرم کے لفظ سے تعبیر کرتے تھے حضور نے ایسے نام سے منع فرمایا اور ارشاد کیا کہ مومن کا دل تو کرم ہو سکتا ہے۔ شراب نہیں ہو سکتی۔ فرمایا ، اس ام الخبائث کو غب یا حبلہ کہو ، جن چیزوں سے یہ کشید کی جاتی ہے۔ عرب شراب نوشی کو شریفانہ فعل قرار دیتے تھے کہ اس کی وجہ سے فیاضی پیدا ہوتی ہے اور جو شخص شراب کی محفل میں شامل نہیں ہوتا تھا۔ اسے کم تر خیال کرتے تھے۔ غرضیکہ شراب اور جواء عام تھے۔ کوئی خال خال ہی ان سے بچتا تھا وگرنہ جس طرح اونٹ ، گھوڑا ، تلوار ، لڑائی عربوں کی گھٹی میں پڑے تھے اسی طرح شراب اور جوا بھی ان کا عام مشغلہ تھا۔ قمار بازی میسر ، جو ایا قمار بازی کو کہتے ہیں۔ اس کا مادہ یسر ہے اور یسر آسانی کو کہتے ہیں۔ قمار بازی کے ذریعے کوئی شخص بغیر محنت و مشقت ، صنعت و تجارت یا مزدوری و ملازمت دوسرے کے مال پر قبضہ کرلیتا۔ اس لئے اس کو میسر کہتے ہیں جوئے کی یہی خباثت ہے کہ اس میں ایک دوسرے کے حق تلفی ہوتی ہے جس شخص کا دائو چل گیا۔ اسے بغیر کچھ کئے کرائے مال حاصل ہوگیا اور دوسرا شخص بیٹھے بٹھائے بلاوجہ محروم ہوگیا پھر جس شخص کو مال مل جاتا ہے۔ وہ اس کی قدر نہیں کرتا اور اسے عیش و عشرت اور برائی کے کاموں میں صرف کردیتا ہے۔ جس کی وجہ سے معصیت کا شکار ہوتا ہے۔ دولت بھی ضائع کرتا ہے اور گنہگار بھی ہوتا ہے۔ عربوں میں باقی خبائث کی طرح جوئے کی وبا بھی عام تھی۔ وہ قمار بازی کو اچھا فعل سمجھتے تھے۔ خاص طور پر قحط کے زمانے میں جوئے میں شدت پیدا ہوجاتی تھی۔ اور قمار بازی سے حاصل کردہ مال غریبوں میں تقسیم کردیا جاتا تھا۔ نزول قرآن کے زمانہ میں قمار بازی اس قدر عروج پر تھی کہ خانہ کعبہ میں رکھے ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے مجسموں کے ہاتھوں میں جوئے کے تیر پکڑائے ہوئے تھے۔ جس سے یہ ثابت کرنا مقصود تھا کہ یہ جلیل القدر پیغمبر بھی جواء کھیلا کرتے تھے (العیاذ باللہ) بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ ان مجسموں کے قریب سے گزرے تو فرمایا ، ان لوگوں پر خدا کی لعنت ہو ، اللہ کے پاک بندوں کی نسبت کیسی ناپاک چیزوں کی طرف کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم اور اسماعیل (علیہا السلام) کو ایسے شنیع کام سے کیا سروکار۔ جوئے کے مختلف طریقے رائج تھے۔ قحط کے زمانے میں عموماً یہ طریقہ اختیار کرتے تھے کہ دس آدمی مل کر مساوی حصہ سے ایک اونٹ خرید لیتے تھے ان کے پاس دس تیر ہوتے تھے۔ جن پر ایک سے لے کر سات تک نمبر لکھے ہوتے تھے اور باقی تین تیر خلای ہوتے تھے۔ اب ان دس تیروں میں سے کسی ایک حصہ دار کے نام سے تیر نکالتے تھے۔ اور پھر جس نمبر والا تیر اس نام پر نکلتا تھا۔ اونٹ کے گوشت کے اتنے یہ حصے وہ اکیلا لے جاتا تھا۔ اس کے بعد حسب ضرورت دوسرا اور تیسرا تیر نکالا جاتا ، حتی کہ اونٹ کا سارا گوشت ختم ہوجاتا اور جو حصے دار باقی بچ جاتے وہ اپنے حصے سے محروم رہ جاتے۔ اسی طرح اگر ابتداء میں کسی کے نام خالی تیر نکل آتا ، تو وہ بھی اپنے حصے سے محروم رہ جاتا اور اگلے نمبر والا اپنا حصہ وصول کرتا علی ہذا القیاس ، جب ایک اونٹ کا گوشت تقسیم ہوجاتا تو محروم رہنے والے دعوت دیتے کہ ایک اور اونٹ خریدا جائے اور اس کے پھر اسی طرح حصے بخرے کر لئے جاتے۔ یہ گوشت چونکہ غرباء میں تقسیم کیا جاتا تھا۔ اس لئے اس قمار بازی کو بھی وہ لوگ باعث فضیلت سمجھتے۔ موجودہ زمانے میں گھڑ دوڑ لاٹری ، انعامی سکی میں وغیرہ سب جوئے کی مختلف اقسام ہیں۔ جو مختلف ناموں سے معاشرے میں پھیلی ہوئی ہیں۔ حالانکہ ہر قسم کی قمار بازی حرا م ہے۔ حرمت شراب کے مراحل شراب بیک حکم حرام نہیں ہوئی۔ بلکہ اس کی حرمت آہستہ آہستہ بتدریج ہوئی ہے۔ اس کے احکام مختلف مواقع پر نازل ہوتے رہے ، حتی کہ چوتھے مرحلہ پر اس کو قطعی حرام قار دے دیا گیا ابتداء اللہ تعالیٰ نے سورة نحل میں اشارتاً پھولوں کا ذکر کیا اور فرمایا ’ وتتخذون منہ سکراو رزقاً حسناً “ تم ان سے نشہ آور اشیا مثلاً شراب وغیرہ بناتے ہو اور اچھا رزق یعنی چٹنی ، اچار مربعے وغیرہ بھی بنا لیتے ہو۔ یہاں پر حلت و حرمت کا ذکر تو نہیں ہے۔ مگر نشہ آور اشیاء کو ” رزقاً حسناً “ (اچھی روزی) سے علیحدہ کر کے اسے کم تر قرار دیا۔ دوسرے نمبر پر اس درس والی آیت نازل ہوئی کہ آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق دریافت کرتے ہیں آپ کہہ دیں کہ ان میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لئے فوائد بھی ہیں۔ مگر ان کا گناہ ان کے فوائد سے بڑا ہے۔ یہاں پر حرمت شراب کا قطعی حکم نہیں ہے۔ بلکہ اس حقیقت کو واضح کردیا گیا ہے کہ فوائد کی نسبت اس کا نقصان بہت بڑا ہے۔ بو علی ابن سینا کے قول کے مطابق شراب میں نقصان اس کے فائدے سے ڈبل ہے۔ یعنی اس کے ذریعے فائدہ تو ایک حصہ ہوتا ہے ۔ مگر نقصان دو حصے کے برابر ہے۔ حرمت شراب سے متعلق تیسرے حکم کے پس منظر میں ایک واقعہ پیش ایک انصاری کے ہاں بعض صحابہ کرام کی دعوت تھی۔ ان میں حضرت سعد بھی تھے۔ جو عشرہ مبشرہ میں شامل تھے۔ صحابہ نے کھانا کھایا۔ چونکہ اس وقت تک شراب قطعی حرام نہیں ہوئی تھی ، لہٰذا اس کا دور بھی چلا۔ آپ س میں کسی موضوع پر گفتگو ہو رہی تھی ایک گروہ کا نظر یہ تھا کہ انصار زیادہ اچھے ہیں۔ دوسرا گروہ مہاجرین کے حق میں تھا۔ آپ س میں دوست اور رفیق تھے ، محض ایک دوسرے کی برتری کا ذکر ہو رہا تھا اتنے میں ایک نوجوان کو غصہ آیا ، اس نے طیش میں آ کر ایک جبڑا حضرت سعد کے سر پر دے مارا ، جس سے وہ زخمی ہوگئے۔ ترمذی شریف کی روایت میں ایک اور واقعہ کا ذکر بھی آتا ہے کہ ایک دعوت میں جلیل القدر صحابہ کرام موجود تھے۔ جن میں حضرت علی اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف بھی شامل تھے۔ چونکہ ابھی تک شربا قطعی حرام نہیں ہوئی تھی۔ اس لئے اکثر لوگ پیتے تھے ، مگر بعض نہیں بھی پیتے تھے۔ جیسے حضور ﷺ نے کبھی شراب نہیں پی۔ حضرت صدیق اکبر اور عثمان بھی اس کے قریب نہیں جاتے تھے ، ایسے اصحاب اسے وقار کے منافی سمجھتے تھے۔ اسے استعمال کرنے والوں میں حضرت علی ، حضرت عمر ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف وغیرہم تھے کہ ایک چیز مباح ہے لہٰذا استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ نماز کا وقت ہوگیا۔ لوگوں نے شراب پی رکھی تھی۔ ایک صحابی کو امامت کے لئے آگے کردیا گیا نشے کی حالت میں قرآن پاک غلط پڑھا۔ اسی طرح مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ صبح کی نماز کا وقت تھا۔ حضرت عثمان کے سالے حضرت ولید امامت کر ا رہے تھے۔ نشے کا زور تھا دو رکعت پڑھا کر کہنے لگے اور پڑھا دوں۔ ایسے ہی واقعات کے پیش نظر سورة نساء کی آیت نازل ہوئی۔ ” یایھا الذین امنوا لاتقربوا الصلوۃ وانتم سکری حتی تعلموا ماتقولون “ یعنی اے اہل ایمان نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جائو ، یہاں تک کہ تمہارے ہوش و حواس بحال ہوجائیں کہ تم کیا کر رہے ہو گویا تیسرے نمبر پر نشے کی حالت میں نماز سے روک دیا گیا۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمر کو اس معاملے میں اکثر تشویش رہتی تھی۔ اور وہ دعا کیا کرتے تھے۔ اللھم بین لنا فی الخمر بیاناً شافیاً یعنی اے مولا کریم ! اشارے کنایے سے تو شراب کی قباحت محسوس ہو رہی ہے ۔ مگر ہمارے لئے کوئی واضح حکم نازل فرما ، چناچہ اب چوتھے مرحلے میں سورة مائدہ کی یہ آیت نازل ہوئی ، جس میں شراب اور بعض دیگر اشیاء کو قطعی حرام قرار دیدیا گیا۔ ” انما الخصر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطن فاجتنبوہ لعلکم تفلحون “ اے ایمان والو ! بیشک شراب ، جوا ، تھان اور پانے شیطان کے ناپاک کام ہیں۔ ان سے بچ جائو تاکہ تم کامیاب ہو جائو۔ اس کے بعد شراب قطعی حرام ہوگئی تو یہ چار مراحل تھے جن کے ذریعے شراب کو بتدریج حرام قرار دیا گیا۔ حرمت شراب پر تاویلیں بعض نئی روشنی کے لوگ شراب کی حرمت کا انکار کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بعض دوسری حرام چیزوں کی طرح اس پر حرمت کا واضح حکم نہیں لگایا گیا۔ جیسے مردار ، خون وغیرہ کے متعلق فرمایا۔ ” حرمت علکیم المیتۃ والدم “ مگر اس آیت میں لفظ ” فاجتنبوہ “ آیا ہے۔ یعنی اس سے اجتناب کرو ، بچ جائو حالانکہ اگلی ہی آیت میں مزید وضاحت کردی گئی ہے کہ شیطان شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈالنا چاہتا ہے۔ فانتھو ا پس ان چیزوں سے باز آ جائو۔ لہٰذا یہ بھی قطعی حرمت کا حکم ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ شراب اور خمر دو مختلف چیزیں ہیں۔ شراب ہر پینے والی چیز پر بولا جاتا ہے۔ سورة ” ’ ھر “ میں موجود ہے۔ ” وسقھم ربھم شراباً طھوراً “ جنتیوں کو ان کا رب پاک شراب پلائے گا۔ مگر وہ نشہ سے خالی ہوگی اور خمر نشہ آور چیز کو کہتے ہیں اور وہ حرام ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے۔ کل مسکر خمر ہر نشہ آور چیز شراب کے زمرے میں آتی ہے۔ وکل مسکر حرام اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ اس لحاظ سے بھنگ ، چرس ، گانجا اور شراب کی تمام اقسام حرام ہیں۔ خواہ وہ معمولی درجہ کی ہوں یا اعلیٰ درجہ کی ، انگور سے کشیدہ کردہ ہوں یا کھجور سے شہد سے بنی ہوں یا گندم یا جو سے وہ بہرحال حرام ہیں۔ صاحب تفسیر روح المعانی علامہ سید محمود آلوسی بغدادی شاہ عبدالعزیز ہم عصر ہیں۔ انہوں نے تیس جلدوں میں قرآن پاک کی تفسیر لکھی ہے۔ وہ اپنے زمانے کا حال لکھتے ہیں کہ لوگوں نے عجیب روش اختیار کرلی۔ شراب کو مختلف ناموں سے پکار کر استعمال کر رہے ہیں حالانکہ اس کی اصلیت میں کوئی فرق نہیں۔ کسی نے عرق اکسیر نام رکھ لیا ہے اور کوئی اسے آب جو کہتا ہے۔ مگر نام بدلنے سے ایک حرام چیز حلال نہیں ہو سکتی۔ اس بات کو انگریزوں نے بھی تسلیم کیا ہے کہ حرمت شراب کے متعلق اگر کسی کو کامیابی نصیب ہوئی ہے۔ تو وہ صرف مذہب اسلام ہے۔ سرولیم میور ہندوستان میں صوبجات متحدہ کا گورنر رہا ہے۔ بڑا متعصب عیسائی پادری تھا اس نے دو جلدوں میں حضور ﷺ کی سوانح حیات لکھی ہے۔ جس کا نام ہے لائف آف محمد (Life of Muhammad) مسلمانوں کے خلاف تعصب کا اظہار کرتے ہوئے لکھتا ہے۔ کہ وہ دو چیزیں انسانیت کی دشمن ہیں۔ ایک محمد کی تلوار اور دوسرا محمد کا قرآن۔ مگر اس کو تسلیم کرنا پڑا کہ شراب کی حرمت کے متعلق اسلام کے سوا کوئی مذہب کامیاب نہیں ہوسکا۔ وہ کہتا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے لئے باعث فخر ہے کہ انہوں نے شراب جیسی قبیح چیز کو واضح طور پر حرام قرار دیا اور بڑی حد تک اس سے محفوظ رہے۔ حرام چیز کی تجارت بھی حرام ہے بہرحال سورة مائدہ کی مذکورہ آیت نازل ہونے پر شراب حرام ہوگئی اور صحابہ کرام نے کلی طور پر اس کو ترک کردیا۔ اس کے متعلق حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ لعن اللہ من شرب الخمر وامرھا الخ یعنی شراب پینے والا پلانے والا ، نچوڑنے والا ، بنانے والا ، اٹھا کر جانے والا۔ اس کو بیچنے والا اور اس کی کمائی کھانے والا سب لعنتی ہیں۔ پھر آپ نے فتح مکہ کے دن اعلان کیا کہ جس خداوند تعالیٰ نے شراب پینے سے منع فرمایا ہے۔ اسی خدا نے اس کی تجارت سے بھی منع کردیا ہے گویا ہر حرام شے کی تجارت بھی حرام ہے سود حرام ہے ، اس کی لین دین بھی حرام ہے۔ اسی طرح بتوں کی تجارت حرام ہے مردار کی چربی کا بھی یہی حکم ہے مگر اس زمانے میں سوائے سعودی عرب کے تمام اسلامی ممالک میں شراب استعمال ہوتی ہے۔ اس کی تجارت ہوتی ہے۔ لائسنس جاری ہوتے ہیں۔ جہاں کہیں پابندی کا نام سنتے ہیں۔ وہ بھی زبانی حکم تک ہے۔ عملی طور پر مختلف حیلوں بہانوں سے اس کے اسعتمال کی اجازت ہے۔ خرچ کی مقدار آگے خرچ کے متعلق سوال اور اس کا جواب ہے ویسئلونک ماذا ینفقون آپ سے سوال کرتے ہیں کہ کس قدر خرچ کریں۔ یہ سوال گزشتہ سے پیوستہ درس میں بھی آ چکا ہے۔ وہاں پر اس کا جواب دیا گیا تھا کہ فلاں فلاں مد پر خرچ کریں۔ مگر اس آیت کے جواب میں ہے۔ قل العفو آپ کہہ دیجیے جو اپنی ضرورت سے زائد ہے۔ وہ خچ کردیں۔ گویا اس سوال کا تعلق خرچ کی مقدار سے ہے۔ یہاں یہ ضمنی سوال پیدا ہوتا ہے کہ حاجت سے زائد سب کچھ خرچ کردینا فرض ، واجب وغیرہ کی کس مد میں آئے گا۔ تو اس کا جو با یہ ہے کہ خرچ جس مد کے لئے کیا جائے گا ، اس کا شمار اسی میں ہوگا ۔ مثلاً اگر زکواۃ ادا کی گئی ہے تو اس مد کا خرچ فرض ہوگا اگر صدقہ فطر ادا کیا ہے یا کسی اور واجب پر خرچ کیا ہوگا تو واجب شمار ہوگا۔ اسی طرح نفلی امور کا خرچ نفل شمار ہوگا۔ اگر کسی مباح کام میں خرچ کیا گیا ہے تو ایسا خرچ بھی مباح ہوگا ، اگر محض ثواب کی نیت ہے ، تو خرچ کنندہ کو ثواب حاصل ہوگا۔ برخلاف اس کے اگر کسی معصیت والے کام پر خرچ کردیا ہے ، تو ایسا خرچ حرام شمار ہوگا۔ اگر کسی مباح کام پر خرچ کیا ہے مگر ثواب کی نیت نہیں کی تو ایسا خرچ جائز تصور ہوگا۔ چونکہ اس آیت میں ضرورت سے زائد چیز خرچ کرنے کا حکم ہے۔ اس سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ فرض واجب کے متعلق نہیں کیونکہ زکوۃ وغیرہ کی مقدار تو مقرر ہے۔ مگر یہاں ہر زاید چیز کے خرچ کرنے کا حکم ہے تو اس سے مراد صدقہ خیرات اور دیگر نفلی اخراجات ہیں۔ بہرحال اس آیت سے ایک بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ اپنی ضرورت کو مقدم رکھتے ہوئے اس سے زائد مال کو خرچ کرو۔ اگر خود اپنے لئے ، اپنے بال بچوں کی جائز ضروریات موجود ہیں اور ان ضروریات کو پورا کرنے کے بعد کچھ نہیں بچتا ، تو مت خرچ کرو۔ پہلے اپنی ضروریات پوری کرو ، اپنی ضروریات کو پس پشت ڈال کر حق تلفی نہ کرو۔ اپنی ضروریات پوری کرو ، اپنی ضروریات کو پس پشت ڈال کر حق تلفی نہ کرو۔ ہاں بعض خاص شخصیات ہیں۔ جیسے حضرت صدیق اکبر جن میں صبر کا مادہ بدرجہ اتم موجود ہے تو ایسے شخص اللہ کی راہ میں سب کچھ قربان کرسکتے ہیں۔ مگر جو شخص صبر کے اس مرتبہ پر نہ ہو ، اسے اپنی ضروریات کو مقدم رکھ کرنا ہوگا۔ ذخیرہ اندوزی کی ممانعت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں کہ اس آیت سے یہ بات بھی اخذ ہوتی ہے کہ ذخیرہ اندوزی درست نہیں ہے مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے ۔ یا بن ادم ان تمسک شرئک اے آدم کے بیٹے ، اگر چیز کو روک رکھو گے تو یہ تمہارے لئے شر ہوگا اور اگر زائد حصہ کو خرچ کر دو گے ، تو یہ تمہارے لئے بہتر ہوگا۔ ولا تلام علی کفاف اور اگر آمد و خرچ برابر ہیں تو پھر زائد نہ خرچ کرنے پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص فرائض ادا نہیں کرتا تو وہ عند اللہ ماخوذ ہوگا اور اگر فرض کی ادائیگی کے بعد روک رکھا ہے تو ثواب سے محروم ہوگیا۔ اگر ضرورت سے زائد موجود ہے مگر خرچ نہیں کرتا ، تو بخل کا مادہ پیدا ہوگا ، ثواب سے محروم ہوگا اور شر بہرحال ہوگا۔ غور و فکر کی دعوت فرمایا کذلک یبین اللہ لکم الایت اس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے احکام بیان کرتا ہے۔ یہاں پر آیات سے مراد احکام ہیں لعلکم تتفکرون تاکہ تم غور و فکر کرو ، فی الدنیا والاخرۃ دنیا اور آخرت کے بارے میں۔ دنیا محل حوائج ہے۔ یہاں پر رہ کر انسان ضرورتوں اور حاجتوں پر درمادہ ہوتا ہے۔ اس کا بھی لحاظ رکھو۔ اور آخرت تو ثواب دائمی کا محل ہے اس کا بھی خیال رکھو۔ مقصد یہ ہے کہ دنیوی اور اخروی دونوں ضروریات کو ذہن میں رکھو۔ نہ یہاں محروم رہو اور نہ وہاں ، بلکہ ہر دو مقامات کے لئے لوازمات مہیا کرو۔ سورة بنی اسرائیل میں 1 ؎ آتا ہے کہ نہ ہاتھ کو زیادہ کھلا رکھو کہ خود محتاج ہو جائو اور نہ اتنا سکیڑ کر رکھو کہ بخیل شمار ہو۔ بلکہ اعتدال کی راہ اختیار کرو اپنی جائز ضروریات پوری کرو ، اور اس کے بعد مال کو روک کر نہ رکھو ، بلکہ غریبوں اور محتاجوں کو بھی ان کا حق ادا کرو۔ جائز ضروریات میں انسان کے بنیادی اخراجات ہیں ، جیسے کھانا ، پینا ، لباس ، صحت ، تعلیم ، رہائش وغیرہ ہیں۔ ان چیزوں پر خرچ کرنے پر کوئی پابندی نہیں۔ البتہ اگر ریڈیو ، ٹیلیویژن ، کھیل تماشہ کو بھی بنیادی ضروریات میں شمار کرلیا جائے ، تو پھر انسان کے پاس کبھی کچھ نہیں بچے گا۔ یہ سامان تعیش ہے اور اس کی کوئی حد نہیں۔ اس زمانہ میں مکانوں کی بلا ضرورت زیبائش ، ان میں قیمتی سے قیمتی فرنیچر ، پردے ، قالین ، فرج وغیرہ سب بلا ضروتر ہیں اور ان اشیاء پر خرچ کرنا بلا جواز اور محتاجوں کی حق تلفی کے مترادف ہے اور اگر اس دنیا میں سب کچھ اپنی ذات پر ہی خرچ کر جائو ، تو پھر آخرت میں محرومی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ اسی لئے فرمایا کہ دنیا و آخرت ہر دو مقامات کا خیال رکھو یہاں پر بھی جائز ضروریات سے محروم نہ رہو ، اور آخرت کے لئے بھی توشہ تیار کرو۔
Ayah 2:220

فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰى١ؕ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَیْرٌ١ؕ وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:220 in the Quran reader

دنیا اور آخرت کے بارے میں اور لوگ آپ سے یتیموں کے متعلق سوال کرتے ہیں ، آپ کہہ دیجئے ، انکی اصلاح کرنی ان کے حق میں بہتر ہے اور اگر تم ان کو اپنے ساتھ ملا لو ، تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور اللہ جانتا ہے خرابی پیدا کرنے والے کو سنوارنے والے سے اور اگر اللہ چاہتا ہے تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا ، بیشک اللہ کمال قوت کا مالک اور حکمت والا ہے

گزشتہ سے پیوستہ اس سے پہلی آیات میں شراب اور جوئے نیز خرچ کے متعلق سوالات اور ان کے جوابات تھے ، پورے قرآن پاک میں کل بارہ یا تیرہ مقامات ایسے ہیں ، جن میں اس قسم کے سوالات کا ذکر ہے ، یعنی لوگ آپ سے فلاں سوال کرتے ہیں ، اور ایسے لوگ بالمعموم اہل ایمان ہیں ، حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے صحابہ سے بہتر کوئی انسان نہیں ہے ، وہ لوگ حضور ﷺ سے بہت کم سوال کرتے تھے ، بکثرت سوال کرنے کی بجائے اصحاب اصحاب رسول آپ کی بات کو بات کو نہایت غور سے سنتے تھے اور پھر اس پر عمل شروع کردیتے تھے ، حضور ﷺ دین کی ضروری باتیں خود بخود بیان فرما کرتے تھے ، اس لیے اس قسم کے سوالات کی بہت کم ضرورت پڑتی تھی ۔ گزشتہ درس میں شراب کی حرمت کے مختلف مراحل کا تذکرہ ہوچکا ہے کہ یہ خبیث چیز کس طرح بتدریج حرام قرار دی گئی ۔ اس آیت میں تو شراب کے فوائد و نقصانات کا ذکر تھا ، اس کی قطعی حرمت سورة مائدہ والی آیت کے ذریعہ ہوئی ، اسی طرح جوئے کو بھی اسی آیت نے حرام قرار دیا ، سابقہ آیت میں دوسرا سوال اخراجات کے متعلق تھا کہ لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا چیز خرچ کریں ، اس کا جواب یہ تھا۔۔۔ کہ چونکہ دنیا دارالحوائج ہے اس لیے اپنی جائز ضروریات کو پیش نظر رکھ کر جو باقی بچ جائے ، وہ اللہ کی راہ میں خرچ کر دو ، اگر زاید مال کو روک رکھو گے تو شرکا کا باعث ہوگا ۔ ایک شخص کو کہیں سے سونے کا ایک ٹکڑا مل گیا ، حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کر کے عرض کیا کہ میں اسے صدقہ کرتا ہوں آپ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا اور سونے کو پھینک دیا ، آپ نے تنبیہ کے طور پر فرمایا کہ کوئی شخص ایسی حرکت کرتا ہے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے ، صدقہ کردیتا ہے اور پھر محتاج ہو کر بیٹھ جاتا ہے ، حالانکہ وہ صبر بھی نہیں کرسکتا ، مقصد یہ کہ اپنی ضروریات کو مقدم رکھ کر زاید مال خرچ کر دو گویا دنیا وآخرت ہر دو مقامات کو پیش نظررکھ کر خرچ کرو تا کہ تمہیں اس دنیا میں بھی تنگی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور آخرت کے لیے بھی سامان کرسکو۔ عاصم ابن ابی النجود (رح) کی روایت میں آتا ہے کہ مومن آدمی کو دونوں باتوں کی فکر ہوتی ہے۔ ھم المعاد وھم المعاش اس کو آخرت کی بھی فکر ہوتی ہے اور دنیا میں رزق حلال کی جستجو بھی۔ شان نزول آیت زیر درس میں یہ تیسرا سوال یتیموں کے متعلق اٹھایا گیا ہے ۔ ویسئلونک عن الیتمی اور یہ لوگ آپ سے یتیموں کے متعلق سوال کرتے ہیں دراصل یتیموں کے مال کی حفاظت کے متعلق قرآن پاک میں بہت سی آیات نازل ہوئیں ، عرب کے لوگ عام طور پر یتیموں کا مال غضب کر جاتے تھے ، ان کے متولی بن کر ان کا مال اپنے مال کے ساتھ ملا لیتے اور پھر حیلے بہانے سے ان کا مال ناجائز طور پر ہضم کر جاتے ، اللہ تعالیٰ نے تاکیدا ً کئی ایک احکام نازل فرمائے ۔ مثلا ً ولا تقربوا ما الیتیم الا بالتی ھی احسن یعنی سوائے احسن طریقہ کے یتیم کے مال کے قریب نہ جائو ، دوسری جگہ فرمایا ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما ً انما یاکلون فی بطونھم نارا یعنی جو لوگ ظلم کے ذریعے یتیموں کا مال کھاتے ہیں ، دراصل وہ اپنے پیٹوں میں آگ کھاتے ہیں ۔ ان آیات کے نزول پر صحابہ کرام ؓ یتیموں کے مال کے متعلق بڑے محتاط ہوگئے ، چناچہ انہوں نے ان کی آمدنی اور خرچ اپنے سے بالکل علیحدہ کردیا ۔ مقصد یہ تھا کہ ملا کر کھانے پینے سے کہیں یتیم کے مال کا کوئی لقمہ سہوا ًبھی ہمارے پیٹ میں نہ چلا جائے۔ جس کی وجہ سے قابل مواخذہ ٹھہریں ، ایسا کرنے سے دقت پیش آئی کہ بعض اوقات یتیم کا مال ضائع ہوجاتا تھا ، مثلاً یتیم کے لیے علیحدہ سالن روٹی وغیرہ پکائی گئی ہے۔ اس نے پورا کھانا نہیں کھایا اور وہ بچ گیا ہے ، تو یتیم کا بچا ہوا کھانا وعید خداوندی کے پیش نظر خود نہیں کھاتے تھے ، اس لیے وہ خراب ہو کر ضائع ہوجاتا تھا ، ایسی صورت میں صحابہ کرام ؓ یہ سوال کرنے پر مجبورہو گئے جو اس درس میں بیان ہوا ہے۔ یتیم کی سرپرستی یسئلونک عن الیتمی یہ لوگ آپ سے یتیموں کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ ان کا مال اپس میں ملا کر استعمال کیا جاسکتا ہے ، یا وہ بالکل الگ تھلگ رہنے دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا قل آپ کہ دیجیے اصلاح لھم خیر ان کے متعلق اصلاح کا کام ہی بہر حال بہتر ہے یعنی یتیموں کی بھلائی ہر حالت میں مقصود ہونی چاہئے ، اگر ان کا آمد و خرچ بالکل علیحدہ رکھنا ان کے لیے بہتر ہے ، تو ایسا کرلو اور اگر اپنے ساتھ ملا لینا ان کے حق میں جاتا ہے ، تو انہیں ساتھ ملانے کی بھی اجازت ہے ، اس میں سہولت یہ ہوگی کہ اگر کسی یتیم نے کسی ایک وقت میں مشترکہ کھانے میں سے کھانا استعمال کیا تو وہ اس کے سرپرست استعمال کرلیں گے اور اگلے دن یتیم اپنے سر پرست کا کھانا کھالے گا اور اس طرح یتیم کا مالک ضائع نہیں ہوگا ۔ اس ضمن میں مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ گلنے سڑنے والی یا خراب ہوجانے والی چیز کو یتیم کے مال کے ساتھ ملا لینا چاہئے ، تا کہ اس کا نقصان نہ ہو ، اور جس چیز کے خراب ہونے کا احتمال نہیں ، یتیم کی وہ چیز علیحدہ ہی رہنے دی جائے اسی لیے فرمایا کہ اگر کوئی چیز ملا لینے میں یتیم کی بہتری ہے۔ وان تخالطوھم یعنی اگر تم ان کو اپنے ساتھ ملا لو تو فاخوانکم تو وہ تمہارے بھائی ہیں ، انہیں ساتھ ملا لو یہاں پر بھائی سے مراد دینی بھائی ہیں ، یا دینی بھائیوں کی اولاد ہے ، لہٰذا ان سے دینی بھائیوں کا سلوک ہونا چاہئے اور اگر ایسی صورت ہو کہ یتیم تمہارا دینی بھائی نہیں ہے ، کسی غیر مسلم کا بیٹا ہے تو اس صورت میں بھی اس آیت کی رو سے اس کے ساتھ وہی معاملہ کرنا ہوگا ، جو اس کے حق میں بہتر ہے اور اس کے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو ایک مسلمان کے ساتھ ہوتا ہے۔ یتیموں سے متعلق اسلام کے اس زریں اصول کو غیر مسلم انگریزوں نے بھی سراہا ہے ایک انگریز مصنف ( باسورتھ سمتھ) لکھتا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ یتیموں پر خاص نظر شفقت رکھتے تھے ، کیونکہ آپ خود بھی یتیمی کے دور سے گزر چکے تھے ، اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو یاد دلایا الم یجدک یتیما ًفاویٰ کیا ہم نے آپ کو یتیم نہ پایا ، اور پھر ٹھکانا مہیا کیا ۔ فاما الیتم فلا تقھر لہٰذا یتیم کو ڈاٹنا بھی نہیں ، بلکہ فرمایا انکے حق میں اصلاح بہتر ہے ، اس سے مفسرین کرام نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ اگر یتیم کی تعلیم و تربیت کے لیے اس کو ڈانٹ بھی دیا جائے تو جائز ہے کیونکہ اس کی اصلاح کے لیے ہے ، البتہ یتیم کو مارنے یا دوسری ایذاپہنچانے سے نبی (علیہ السلام) نے سخت منع فرمایا ہے۔ آپ کا ارشاد ہے کہ جب یتیم روتا ہے تو خدا تعالیٰ کا عرش کا نپ جاتا ہے ، لہٰذا ان کو مارنا پیٹنا درست نہیں ، البتہ ان کی اصلاح کی خاطر ڈانٹ ڈپٹ جائز ہے۔ ایک امریکی مصنف رابرٹس نے اپنی کتاب ” سوشل لاز آف دی قرآن “ (Soctal Laws of the Quran) میں لکھ ہے کہ دیکھو حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات میں یتیموں کی پرورش ، ان کی نگرانی اور رعایت کا کس قدر خیال رکھا گیا ہے۔ یہ اسلامی تعلیمات کی برتری کا ثبوت ہے ، کمزوروں کی دا د رسی کی تاکید جس قدر اسلام نے کی ہے کسی اور مذہب نے نہیں کی ، اسلام نے یتیم ، مسکین ، مسافر ، بیوہ ، وغیرہ کے ساتھ جو سلوک اور ان کی خدمت کا زبردست حکم دیا ہے بلکہ اس سوسائٹی کو ملعون قرار دیا ہے جس سوسائٹی میں کمزور طبقوں پر ظلم و زیادتی کی جاتی ہو ۔ جو لوگ بےکسوں کی دستگیری کرتے ہیں ، وہ اللہ کی رحمت کو اپنی طرف کھینچنے والے ہوتے ہیں ۔ مفسد اور مصلح فرمایا یتیموں کی ہر حالت میں خیر خواہی چاہو اور اس مقصد کے حصول کے لیے انہیں الگ رکھو یا ساتھ ملا لو ، یہ تم پر منحصر ہے ، البتہ ایک بات یاد رکھو کہ تم جو بھی فیصلہ کرو گے ، اللہ تعالیٰ تمہاری نیتوں کو جانتا ہے کہ تم نے یہ فیصلہ نیک نیتی سے کیا ہے یا بد نیتی سے ، اس فیصلہ سے فساد مراد ہے یا اصلاح کا پہلو ۔ واللہ یعلمل المفسد من المصلح اللہ تعالیٰ فسادیوں اور اصلاح کنندگان سب کو اچھی طرح جانتا ہے ، اسے علم ہے کہ تم جو بھی یتیموں کے متعلق فیصلہ کرتے ہو ، وہ کس نیت کے ساتھ کرتے ہو ، حضور ﷺ کا فرمان ہے ۔ اے مولا کریم انک تعلم خائنہ الاعین وما تخفی الصدور تو آنکھوں کی خیانت کو بھی جانتا ہے اور دلوں کے پوشیدہ رازوں سے بھی واقف ہے۔ جو کوئی یتیموں کے متعلق بری نیت سے معاملہ کرے گا اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں ایسا شخص اللہ کے عذاب سے بچ نہیں سکتا ۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے یہ حکم تمہاری آسانی کے لیے دیا ہے کہ چاہو تو الگ رکھو یا چاہو تو ساتھ ملا لو ۔ ولو شاء اللہ لا عنتکم وگرنہ اللہ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا اور حکم دیتا کہ یتیموں کا خرچ لازما ً علیحدہ رکھو ، پھر تمہارے لیے معیار پر پورا اترنا مشکل ہوجاتا اب اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے آسانی پیدا فرما دی ہے کہ وہ ام کرو جس میں یتیموں کی بھلائی مقصود ہو ۔ ان اللہ عزیز حکیم بیشک اللہ تعالیٰ زبردست اور کمال قوت کا مالک ہے وہ حکیم ہے وہ انسانوں کی مصلحت کے مطابق حکم دیتا ہے ، اس کا کوئی حکم ایسا نہیں ہے ، جو انسانوں کی مصلحت کے خلاف ہو لہٰذا اس کے احکام کی پیروی کرتے ہوئے یتیموں کے ساتھ بہتر سلوک روا رکھو۔
Ayah 2:221

وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى یُؤْمِنَّ١ؕ وَ لَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْكُمْ١ۚ وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَتّٰى یُؤْمِنُوْا١ؕ وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلَى الْجَنَّةِ وَ الْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖ١ۚ وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:221 in the Quran reader

اور مشرک عورتوں کے ساتھ نکاح نہ کرو ، یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں البتہ ایک ایماندار لونڈی مشرک عورت سے بہتر ہے ، چاہے وہ تم کو کتنی اچھی معلوم ہو اور نہ نکاح کرو مسلمان عورتوں کا مشرکوں کے ساتھ ، یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں ، البتہ ایک ایماندار غلام مشرک سے بہتر ہے ، چاہے وہ تم کو اچھا معلوم ہو یہ لوگ (مشرک) دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بلاتا ہے ، جنت اور بخشش کی طرف اپنے حکم سے اور بیان کرتا ہے اپنے احکام لوگوں کے لیے ، تا کہ وہ نصیحت قبول کرلیں گے

ربط آیات گزشتہ آیت میں یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کا بیان تھا ، کہ ان کے ساتھ وہ معاملہ کرنا چاہئے ، جو ان کے حق میں بہتر ہو اور ان کی اصلاح مقصود ہو ، ان کو کھانے میں شریک کیا جاسکتا ہے ، البتہ اللہ تعالیٰ نے تنبیہ کے طور پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری نیتوں سے واقف ہے ، وہ جانتا ہے کہ یتیموں کے متعلق تمہا فیصلہ اصلاح پر مبنی ہے یا فساد پر ، بہر حال اللہ تعالیٰ نے یتیموں کو اپنے ساتھ ملانے کی اجازت دے کر تم پر مہربانی فرمائی ہے ورنہ تم مشقت میں پڑجاتے۔ مشرکین سے نکاح کی ممانعت اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نکاح جیسے اہم مسئلہ کی طرف توجہ دلائی ہے اور حکم دیا ہے۔ ولا تنکحوا المشرکت حتی یومن مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں ، نکاح محبت اور رافت کا معاملہ ہے اللہ تعالیٰ نے میاں اور بیوی کے درمیان شفقت و محبت کو پیدا فرمایا ہے اگرچہ نفسانی تقاضے بھی پورے ہوتے ہیں مگر اصل جو ہر الفت و محبت ہے ، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ ہم نے ان کے درمیان رافت و رحمت کے جذبے کو پیدا کیا لہٰذا اس پاکیزہ رشتے کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ میاں بیوی ہم عقیدہ وہم خیال ہوں ورنہ اس رشتہ کا قائم رکھنا ممکن نہیں ۔ اسی لیے فرمایا مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرو ، یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں اور پھر دلیل کے طور پر فرمایا ولامۃ مومنۃ خیر من مشرکۃ ایک مومنہ لونڈی مشرکہ آزاد عورت سے بہتر ہے۔ ولو اعجبتکم اگرچہ مشرکہ عورت تمہیں کتنی اچھی لگے۔ معاشرے میں لونڈی کی حیثیت آزاد عورت کی نسبت کم تر ہے ، مشرکہ اگرچہ آزاد ہو ، مالدار ہو ، حسن و جمال میں بھی خوب ہو ، اس کے باوجود ایک مومنہ لونڈی اللہ کے ہاں بہتر ہے ۔ اگرچہ اس کے پاس مال و دولت اور حسن بھی نہ ہو ۔ ظاہر ہے کہ جب مشرکہ کا دین الگ ہوگا ، عقیدہ غلط ہوگا ، تو میاں بیوی کی راہیں جدا جدا ہوں گی ، اور ان میں رافت و محبت کا وہ رشتہ قائم نہیں ہو سکے گا ، جو نکاح کی غرض وغایت ہے لہٰذا مومنوں کو منع فرمادیا کہ مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کریں ۔ آگے مومنہ عورتوں کے لیے حکم دیا جا رہا ہے۔ ولا تنکحوا المشرکین حتی یومنوا ان کے نکاح مشرک مردوں سے نہ کرو ، یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں ، جس طرح مومن مردوں سے مشرکہ عورتوں کا نکاح جائز نہیں ، اسی طرح مومن عورتوں کا مشرک مردوں سے نکاح درست نہیں ۔ آگے دلیل کے طور پر فرمایا ولعبد مومن خیر من مشرک ایک مومن غلام مشرک آزاد مردے سے بہتر ہے۔ ولو اعجبکم اگرچہ تمہیں مشرک بھلا معلوم ہو ، یعنی مالدار ہو ، صحت مند ہو اور شکل و صورت میں بھی پسندیدہ ہو ، مگر مشرک ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ نکاح جائز نہیں کیونکہ عقیدنے کی خرابی کی وجہ سے میاں بیوی کا نباہ ممک نہیں نیز قرآن پاک نے فیصلہ کردیا لہ انما الشرکون نجس بیشک مشرکین ناپاک ہیں کیونکہ انکا عقیدہ غلط ہے شرک کی غلاظت اس کے دل و دماغ میں سرایت کرچکی ہے ، جو کہ میاں بیوی کے مقدس رشتہ کے منافی ہے ، لہٰذا نکاح کے لیے ایمان دار مرد کو تلاش کرو ، جس کا عقیدہ درست ہو ، اگرچہ وہ کم تر حیثیت کا مالک ہو۔ مولانا شیخ الہند (رح) لکھتے ہیں اور احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ پہلی امتوں میں مومن مرد اور مشترکہ عورت یا مومنہ عورت اور مشرک مرد کا نکاح جائز تھا۔ نکاح کے معاملہ میں مسلم اور غیر مسلم میں کوئی امتیاز نہیں تھا ، جیسا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیویاں مشرکہ اور کافرہ تھیں ، خود قرآن پاک نے گواہی دی ہے کانتا تحت عبدین وہ دو نیک بندوں کے نکاح میں تھیں ، مگر ان کا عقیدہ فاسد تھا۔ اب شریعت محمدیہ میں اللہ تعالیٰ نے حکم ناز ل فرما دیا کہ نہ مومن مرد مشرکہ عورت سے نکاح کرے اور نہ مومنہ عورت مشرک مرد کے عقد میں جائے یہاں تک کہ مشرکین ایمان لے آئیں ، ایسی صوت میں نکاح جائز ہوگا۔ ارتداد ناقص نکا ح ہے یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ نکاح کے بعد اگر کوئی مرد یا عورت مشرک ہوجائے یا مرتد ہوجائے ، تو اس نکاح کی کیا حیثیت ہوگی جو بحیثیت مومن اور مومنہ عورت ہوا تھا اس کا جواب یہی ہے کہ نکاح ٹوٹ جائے گا اگر مرد مشرک ہوگیا ہے یا دہریہ ہوگیا ہے ، تو عورت اس کے مرتد ہونے کے وقت سے آزاد ہو جائیگی۔ البتہ نکاح ثانی کے لیے اسے عدت گزارنا ہوگی ، اگر عورت کو حیض آتے ہیں تو اسکی عدت تین حیض ہیں ، اگر حیض نہیں آتے تو تین ماہ عدت گزارے گی اور اگر حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے ، عدت پوری کرنے کے بعد نکاح کرسکتی ہے۔ شرک کیا ہے شرک کی تعریف میں شاہ عبد القادر دہلوی (رح) اور شیخ الہند مولانا محمود الحسن (رح) فرماتے ہیں شرک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم ، قدرت یا اسکی کسی خاص صفت میں کسی دوسرے کو شریک کیا جائے ، مثلاً اللہ تعالیٰ علم محیط کا مالک ہے وکان اللہ بکل شی محیطا ً یعنی اس کا علم ہر چیز کو گھیرنے والا ہے ، اب اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی ہستی کا علم بھی ہر شے پر محیط ہے۔ اور وہ ہر چیز کو جاتا ہے تو ایسا عقیدہ رکھنے والا مشرک ہوگیا کیونکہ کائنات کے ذرہ ذرہ عالم ہونا اللہ کی صفت مختصہ ہے ، اور اس میں غیر اللہ کی شرکت شرک ہے ، اس زمانہ میں یہ عام عقیدہ ہے کہ ہمارے پیر یا فلاں بزرگ یا پیغمبر (علیہ السلام) کو ذرہ ذرہ کا علم ہے ، یہی شرک ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ایک اور صفت خاصہ قادر مطلق ہونا ہے ، واللہ علی کل شی قدیر گویا اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے لہٰذا وہ چاہے کرسکتا ہے اب اگر یہی صفت کسی غیر اللہ میں ثابت کی جائے کہ فلاں بھی جو چاہے کرسکتا ہے تو ایسا اعتقاد رکھنے والا مشرک ہوگیا کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی خاص صفت اس کے علاوہ کسی دوسرے کے لیے ثابت کی ۔ اسی طرح واللہ علی کل شی شھید ہے ، ہر چیز اللہ کی نگرانی میں ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے ، اگر یہی صفت کسی دوسرے میں مانی جائے تو شرک کا ارتکاب ہوگیا ، کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دینا بھی اللہ تعالیٰ کی خصوصی صفات میں ہے ، اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ کے علاوہ کوئی اور ہستی بھی حلال و حرام کرنے کی مجاز ہے ، تو ایسا شخص بھی خدا تعالیٰ کی صفت مختصہ میں شرک کا مرتکب ہوا ۔ اس کی مثال اہل کتاب کی ہے ، قرآن پاک میں موجود ہے کہ اہل کتاب کے علماء جس چیز کو حلال قرار دیں وہ ان کے نزدیک حلال ہے اور جس کو حرام کہہ دیں اس کو حرام مان لیتے ہیں ، یہ بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے ، اسی طرح جو تعظیم خدا تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے ، جیسا سجدہ کرنا ، اگر ایسی ہی تعظیم یا سجدہ کسی غیر اللہ کے لیے کیا جائے ، تو شرک میں داخل ہوگا ، مولانا شیخ الہند (رح) فرماتے ہیں کہ علم یا قدرت یا کسی دیگر صفت خداوندی میں کسی غیر کو خدا کا مماثل سمجھنا ، خدا کے مثل کسی کی تعظیم کرنا ، یا کسی کو مختار سمجھ کر اس سے حاجت طلب کرنا ، ان تمام صورتوں میں ایسا عقیدہ رکھنے والا یا ایسا عمل کرنے والا مشرک تصور ہوگا ، زمانہ جاہلیت میں مشرکین ایسا ہی کرتے تھے ، مگر اللہ تعالیٰ نے شرک کے متعلق فیصلہ کردیا ۔ ان الشرک الظلم عظیم شرک بہت بڑا ظلم ہے ، جب تک مشرک سچے دل سے توبہ نہ کرے ، یہ گناہ معاف نہیں ہوگا ، اسی لیے میاں یا بیوی سے کوئی ایک بھی شرک کا مرتکب ہوگا تو ان کا نکاح ٹوٹ جائے گا ۔ اہل کتاب عورتوں سے نکاح جائز ہے البتہ ایک اور مسئلہ یہاں پر قابل بیان ہے ، بعض دوسری آیات سے ثابت ہے کہ یہود و نصاریٰ کی عورتوں سے مسلمان مرد کا نکاح درست ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت دی ہے۔ والمحصنت من الذین اوتوا الکتب من قبلکم اہل کتاب کی پاک دامن عورتوں سے مسلمان نکاح کرسکتا ہے ، جب کہ زوجین اپنے اپنے دین پر قائم رہیں ، اگرچہ یہ پسندیدہ کام نہیں ہے ، تا ہم اس کی اجازت دی گئی ہے۔ حضرت عثمان ؓ نے عیسائی عورت نائلہ تغلیہ سے نکاح کیا تھا بعد میں اللہ تعالیٰ نے اسے توفیق بخشی اور وہ اسلام لے آئی۔ حضرت حذیفہ ؓ نے ایک یہودی عورت سے نکاح کیا تھا۔ حضر ت عمر ؓ کو علم ہوا تو انہوں نے ناراضگی کا اظہار کیا ، حضرت حذیفہ ؓ نے پوچھا کیا یہ نکاح ناجائز ہے ، فرمایا ناجائز تو نہیں مگر خطرناک ضرور ہے۔ ہو سکتا ہے کہ تمہارے نکاح میں بد کار عورتیں آجائیں اور تمہارا اخلاق بگڑ جائے ، اور یہ بھی خطرہ کہ وہ تم پر اس قدر اثر انداز ہوں کہ تمہارے دین پر بگاڑ پیدا ہوجائے۔ نکاح میں پیار و محبت کو بڑا دخل ہے اور محبت میں آ کر انسان بہت کچھ کر بیٹھتا ہے ، لہٰذا حضرت عمر ؓ نے حکم دیا کہ اس بی بی کو جدا کر دو یہ پسندیدہ فعل نہیں ہے ، بہر حال یہود و نصاریٰ کی عورتوں سے نکاح جائز ہے ، بشرطیکہ وہ اپنے دین پر قائم رہیں ، اس سے مراد یہ ہے کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو مانتے ہیں اگرچہ وہ شرک بھی کرتے ہیں ، مگر ملحد اور دہریہ نہ ہوں ، جیسا کہ آج کل اکثر نصاریٰ ہیں ، عام طور پر تمام انگریزوں کو عیسائی سمجھا جاتا ہے حالانکہ ان میں بہت سے دہریہ ہوتے ہیں ، جو نہ کسی کتاب کو مانتے ہیں اور نہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ان کا ایمان ہے ، ایسی عورتوں سے نکاح جائز نہیں ۔ نکاح کی طرح اہل کتاب کے ذبیحہ کو بھی حلال قرار دیا گیا ہے ، بشرطیکہ وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کریں ، اگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یا عیسیٰ (علیہ السلام) کا نام لے کر دبح کریں گے۔ تو جانور حلال نہیں ہوگا ، حضرت مولانا شیخ الہند (رح) جب مالٹا میں نظر بند واسیر تھے تو وہ عیسائیوں کا ذبیحہ نہیں کھاتے تھے انہوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں زندہ جانورمہیا کیا جائے ، جسے وہ خود ذبح کریں گے آپ فرماتے تھے کہ ان کی پکی ہوئی روٹی تو کھا لیں گے مگر ان کا ذبیحہ نہیں کھائیں گے ، کیونکہ ہماری تحقیق کے مطابق یہ لوگ عیسائی نہیں ، بلکہ دہریہ ہیں ، بہر حال کافی تگ و دو کے بعد انگریزوں نے حضرت شیخ الہند کا مطالبہ تسلیم کرلیا ۔ الغرض اس آیت کا خلاصہ یہ ہوا کہ مسلمان مرد کا نکاح مشرک عورت سے درست نہیں تاوقتیکہ مسلمان نہ ہوجائے ، اور اس آزاد مشرکہ سے ایک لونڈی بہتر ہے گویا ایک ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان ، اعلیٰ سے اعلیٰ مشرک سے بہتر ہے ، حدیث شریف میں اتا ہے ۔ المومن القوی خیر طاقتور مسلمان بہتر ہے و فی کل خیر اور پھر ہر ایک میں بہتری ہے جو کافر اور مشرک میں نہیں ، یعنی کمزور مسلمان طاقتور مشرک سے بہتر ہے۔ مشرکین سے جس قدر محبت کی جائیگی ، اسی قدر کفرو شرک سے نفرت میں کمی واقع ہو جائیگی اور یہ چیز اصل دین کو ضائع کرنے کا سبب بنی سکتی ہے۔ دوزخ اور جنت کی طرف دعوت اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کی وجہ یہ ہے۔ اولئک یدعون الی النار کفار و مشرکین دوزخ کی دعوت دیتے ہیں ، یعنی ایسے کام کرتے ہیں ، جو دوزخ میں لے جانے کا سبب بنتے ہیں ، ان کی تحریف ، باطل رسومات شرک وغیرہ ایسے افعال ہیں جن کی وجہ سے دوزخ لازم ہوجاتا ہے ، البتہ واللہ یدعوا الی الجنۃ والمغفرۃ باذنہ اللہ تعالیٰ اپنے حکم سے جنت اور مغفرت کی طرف دعوت دیتے ہیں نیکی اور توحید کی طرف بلاتے ہیں ۔ اور اس طرف آ جائو اور شرکیہ افعال سے بچ جائو ۔ فرمایا و یبین ایتہ للناس اللہ تعالیٰ اپنے احکام لوگوں کے پاس کھول کر بیان کرتا ہے۔ لعلم یتذکرون تا کہ وہ نصیحت پکڑ لیں ، راہ راست پر آجائیں اور دوزخ کے عذاب سے بچ جائیں۔
Ayahs 2:222–223

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِ١ؕ قُلْ هُوَ اَذًى١ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ١ۙ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَ١ۚ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ Open ayah 2:222 in the Quran reader

اور لوگ آپ سے حیض کا حکم پوچھتے ہیں ، آپ کہہ دیجئے وہ گندگی ہے ، پس الگ رہو عورتوں سے حیض کے دوران اور ان کے قریب مت جائو ، یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائیں ، جب وہ خوب اچھی طرح پاک ہوجائیں ، پس جائو ان کے پاس جہاں سے اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے ، بیشک اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے توبہ کرنے والوں کو اور پسند کرتا ہے طہارت حاصل کرنے والوں کو

نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ١۪ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ١٘ وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:223 in the Quran reader

تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں ، تو جائو اپنی کھیتی میں جس طرح تم چاہتے ہو ، اور آگے بھیجو اپنے نفسوں کے لیے اور ڈرو اللہ تعالیٰ سے اور جان لو کہ بیشک تم اس سے ملنے والے ہو ، اور خوش خبری سنادے ایمان والوں کو

ربط آیات پچھلے رکوع میں مختلف مسائل کا ذکر تھا اور سوالات کے جوابات تھے ، خصوصاً شراب اور جوئے سے متعلق سوال کا جواب تھا ، پھر شراب اور جوئے کی قیامت کا ذکر ہوا ، پھر مال میں سے خرچ کرنے کے متعلق سوال آیا ۔ اس کے جواب میں بنیادی قانون سمجھایا گیا کہ اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کے بعد خرچ کرنا چاہئے ، پھر یتیموں کی اصلاح اور ان کے خرچ کو اپنے ساتھ ملانے کے بارے میں سوال کیا گیا ۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اجازت دی کہ یتیموں کے حق میں جو چیز بہتر ہو ، وہ ہونی چاہئے ، ان کی اصلاح اور ان کے مال کی حفاظت بہر صورت پیش نظر رہنی چاہئے ۔ یتیموں کا مال کھانا ، جوئے کی کمائی کھانا ، شراب کو استعمال کرنا یا اس کا کاروبار کرنا ، کسی کا حق ناجائز طور پرکھانا ، یہ سب چیزیں حرام ہیں ، اسی طرح مومن مرد کا مشرکہ عورت کے ساتھ اور مومنہ عورت کا مشرک مرد کے ساتھ نکاح حرام قرار دیا گیا ۔ ان تمام نا پاک افعال سے منع کیا گیا ہے۔ نکاح ہی کے ضمن میں عورتوں کے ایام ماہواری کا سوال پیدا ہوا ، جس کا جواب اس آیت زیر درس میں دیا گیا ہے۔ عورتوں کے خون مخصہ فقہائے کرام فرماتے ہیں الدماء المختصۃ بالنساء ثلاثۃ عورتوں کے مخصوص خون تین قسم ہیں ، ان میں سے پہلی قسم حیض کا خون ہے جو تندرست عورت کے رحم سے ہر ماہ چند د ن تک خارج ہوتا ہے ، اس کا اخراج لازمی ہے اگر کسی وجہ سے یہ خون بند ہوجائے ، تو عورت طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتی ہیں گویا یہ خون عورت کی تندرستی کی علامت ہے ، جب تک عورت بالغ نہیں ہوتی ، یہ خون شروع نہیں ہوتا ۔ شادی کے بعد جب حمل ٹھہرجاتا ہے تو یہی خون بچے کی خوراک بنتا ہے ، لہٰذا حمل کے دوران بھی خارج نہیں ہوتا ، اس کے بعد جب تک بچہ دودھ پیتا ہے ، عموماً یہ خون رکا رہتا ہے اور پھر جب عورت کبر سنی میں پہنچ جاتی ہے ، یعنی تقریباً پچاس سال کی عمر میں جا کر یہ خون ہمیشہ کے لیے بند ہوجاتا ہے ۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ حجۃ الوداع کے سفر میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ حضور نبی کریم ﷺ کے ہمراہ تھیں ، جب آپ کا قافلہ مکہ معظمہ کے قریب سرف کے مقام پر پہچا ، تو حضرت عائشہ ؓ کے ایام ماہواری شروع ہوگئے۔ ایام حج قریب تھے اور آپ کو خدشہ پیدا ہوا کہ اس حالت کی وجہ سے وہ حج سے محروم نہ ہوجائیں ، لہٰذا فرط غم سے رونے لگیں ۔ حضور ﷺ تشریف لائے ، تو فرمایا گھبرائو نہیں ھذا شی کتبہ اللہ علی نبات آدم یہ ایک فطری چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے لکھ دیا ہے۔ فرمایا حج کے ضیاع کا فکر نہ کرو ، تم احرام باندھ لو ، حج کے تمام ارکان ادا کرو ، سوائے اس کے کہ طواف کو موخر کر دو ، کیونکہ اس کے لیے مسجد الحرام میں جانا ضروری ہے اور وہاں ایسی حالت میں نہیں جا سکتیں۔ عورت کے خون مختص کی دوسری قسم نفاس ہے نہ زچگی کے دوران آتا ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد کم و بیش چالیس روز تک رہتا ہے ، اس کے بعد اسے نفاس نہیں شمار کیا جاتا ، عموماً یہ خون دس بیس دن یا مہینہ تک ختم ہوجاتا ہے۔ حیض اور نفاس کے خون کے احکام مشترکہ ہیں ، البتہ تیسری قسم کا خون استحاضہ کہلاتا ہے یہ بیماری کی وجہ سے آتا ہے ، عورت کے رحم میں کوئی باریک سی رگ پھٹنے سے خون رستا رہتا ہے ، اس کا حکم الگ ہے۔ مدت حیض حیض کی مدت کے متعق فقہائے کرام میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ امام ابوحنیفہ (رح) امام سفیان ثوری (رح) ، امام محمد (رح) اور امام ابو یوسف (رح) کہتے ہیں کہ حیض کی مدت کم سے کم تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے ، اگر تین دن سے کم خون آ کر ختم ہوگیا ، تو وہ حیض شمار نہیں ہوگا ، بلکہ کسی بیماری وغیرہ کا اثر ہوگا ، اسی طرح اگر دس دن سے زیادہ عرصہ تک خون آتا رہا ، تو وہ بھی حیض کے زمرہ میں نہیں آئے گا ، بلکہ استحاصہ ہوگا ، بر خلاف اس کے امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ حیض کی مدت ایک دن سے لے کر پندرہ دن تک ہے اور ان ایام حیض ہی کے احکام لا گو ہوں گے ۔ عورت نماز نہیں پڑھ سکے گی ۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے مسلک کے مطابق تین دن سے دس دن تک کی مدت کے علاوہ بھی اگر خون آتا ہے تو عورت کو غسل کر کے نماز پڑھنا ہوگی ۔ ہندو مذہب میں بھی حیض کی مدت پندرہ دن تک ہے ، البیرونی نے کتاب الہند میں لکھا ہے کہ ہندو لوگ بھی پندرہ دن تک حیض شمار کرتے ہیں۔ افراط و تفریط اس مسئلہ میں دیگر مذاہب میں افراط وتفریط پائی جاتی ہے۔ مثلاً عیسائی حیض کی حالت میں عورت سے جماع کرلیتے تھے ، بر خلاف اس کے یہودی ، مجوس اور ہندو مت والے حائضہ ہے اس قدر نفرت کرتے تھے کہ اسے گھر سے نکال دیتے نہ وہ کسی چیز کو ہاتھ لگا سکتی اور نہ کھانا پکا سکتی ، بلکہ یہودیوں کی خود ساختہ تورات میں موجود ہے کہ اگر حائضہ عورت کسی شخص کے کپڑے کو ہاتھ لگا دے تو وہ شخص چوبیس گھنٹے کے لیے ناپاک ہوجائے گا جو کوئی ایسی کپڑے کو دھوئے گا وہ بھی پورے دن کے لیے پلید ہوجائے گا ۔ سوال و جواب افراط وتفریط کے اس دور میں صحابہ کرام ؓ کو حیض کے متعلق احکام الٰہی کی ضرورت محسوس ہوئی ، چناچہ انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا ۔ اسی سوال کے متعلق فرمایا ویسئلونک عن المحیض اے پیغمبر (علیہ السلام) یہ لوگ آپ سے حیض کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ آیا ان ایام میں عورت کے قریب جانا چاہئے یا نہیں ۔ یا اس سے تعلق بالکل ہی قطع کرلینا چاہئے ، اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا قل یعنی اے نبی کریم ﷺ ! ان سے کہ دیں ھوا ذی یہ گندگی ہے ، اذی اس گندگی کو کہتے ہیں جو تکلیف دہ ہو یعنی یہ سخت ناپاکی کی حالت ہے۔ فاعتزلوا النساء فی المحیص لہٰذاحیض کی حالت میں عورت کے قریب نہ جائو ، مطلب یہ کہ ان ایام میں مباشرت کرنا حرام ہے۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص حیض کی حالت میں عورت سے جماع کرتا ہے اور اسے حلال بھی جانتا ہے تو وہ کافر ہوگیا ۔ کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کے قطعی حکم کو توڑ دیا ہے اور اگر نفسانی اور شیطانی غلبہ سے یہ کام کیا ہے ، تو گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا ہے ، چناچہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ ایسی غلطی کرنے والے کو توبہ کرنی چاہئے ، استغفار کرے اور ایک دینار یا نصف دینارصدقہ دے۔ طبی لحاظ سے بھی حیض کے دوران جمع کرنا میاں بیوی کے لیے مضر صحت ہے۔ یہ خون بعض اوقات بدبو دار بھی ہوتا ہے ، اس کی رنگت بھی ایسا اوقات سیاہی مائل یا مٹیالی ہوتی ہے ، لہٰذا اس حالت میں عورت سے پرہیز کرنا چاہئے ، البتہ یہودیوں کی طرح یہ بھی نہیں ہونا چاہئے کہ عورت کو بالکل ہی گھر سے الگ کردیا جائے کہ کسی چیز کو ہاتھ بھی نہ لگا سکے ، اسلام میں ایسا نہیں ہے حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس آیت میں عورتوں سے الگ رہنے کا مطلب یہ ہے کہ ان سے مباشرت نہ کرو۔ اس کے علاوہ عورتیں کھانا پکا سکتی ہیں ، تم ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا سکتے ہو ۔ ایک چارپائی پر لیٹ سکتے ہو ان سے دیگر خدمات لے سکتے ہو ، تا ہم ناف سے لیکر گھٹنے تک کے حصہ کو نہ ہاتھ لگا سکتے ہو اور نہ دیکھ سکتے ہو۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حیض کی حالت میں ام المومنین حضور ﷺ کا سر مبارک دھوڈالتی تھیں۔ الغرض ! اسلام نے اس معاملہ میں افراط وتفریط سے بچتے ہوئے ، بہتر اور درمیانہ راستہ اختیار کیا ہے۔ حائضہ کے احکام حیض والی عورت کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ اس حالت میں نماز نہیں پڑھ سکتی ، اس کے لیے حرام ہے۔ اسی طرح روزہ بھی نہیں رکھ سکتی ، اس کے لیے نماز کی قضا بھی نہیں ہے ، البتہ روزے کی قضا لازم ہے۔ حائضہ عورت کا مسجد میں داخلہ منع ہے اسی لیے طواف بھی نہیں کرسکتی ۔ قرآن کریم کو ہاتھ نہیں لگا سکتی کیو کہ ناپاک ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ حیض و نفاس والی عورت یا جابت والی عورت یا مرد قرآن کو نہ چھو سکتے ہیں اور نہ اس کی تلاوت کرسکتے ہیں ، البتہ درود شریف پڑھ سکتے ہیں ۔ دیگر وظائف استغفار بسم اللہ وغیرہ کا ورد کرسکتے ہیں ۔ فرمایا ولا تقربو ھن حتیٰ یطھرن ان کے قریب نہ جائو جب تک کہ وہ پاک نہ ہوجائیں ۔ فاذا تطھرن اور جب وہ اچھی طرح پاکیزگی حاصل کرلیں ، یہ مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی خوب طہارت حاصل کرلیں ، غسل جنابت کے سلسلہ میں بھی یہی صیغہ استعمال ہوا ہے ۔ فاطھروا یعنی خوب اچھی طرح غسل کیا جائے ، حتیٰ کہ بال برابرجگہ بھی خشک نہ رہے۔ حیض و نفاس سے طہارت کا مطلب بھی یہی ہے کہ خوب اچھی طرح غسل کیا جائے کیونکہ حیض نے فرمایا کہ ہر بال کے نیچے جناب ہوتی ہے ۔ لہٰذ ا خوب مل مل کر بڑے اہتمام سے غسل کرنا چاہئے۔ جب یہ چیز حاصل ہوجائے۔ فاتوھن من حیث امرکم اللہ پس جائو ان کے پاس جہاں سے اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے۔ یعنی جب عورتیں پاک صاف ہوجائیں تو پھر تم مباشرت کرسکتے ہیں۔ اس ضمن میں امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ کل مدت حیض یعنی دس دن گزرنے کے بعد اگر کوئی شخص عورت کے غسل کیے بغیر بغیر بھی مباشرت کرے تو کوئی حرج نہیں ، اور اگر ان دس ایام کے اندر خون بند ہوگیا تو پھر جب تک عورت غسل نہ کرے یا ایک نماز کا وقت نہ گزر جائے مباشرت جائز نہیں ہوگی۔ توبہ اور پاکیزگی فرمانا ان اللہ یحب التوابین بیشک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ، جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس سے معافی مانگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہوجاتے ہیں ۔ حضور ﷺ نے فرمایا کلکم خطاء ون تم سب کسی نہ کسی لحاظ سے خطا کار ہو ۔ چھوٹی موٹی غلطیاں ہوجاتی ہیں و خیر الخطائین التوابون اور بہترین خطا کار وہ ہیں جو توبہ کرلیتے ہیں ۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ عاجزی کرنے والوں ، استغفار کرنے والوں اور معافی مانگے والوں کو پسند کرتے ہیں ۔ فرمایا ویحب المتطھرین اور اللہ تعالیٰ پاکیزگی اور طہارت حاصل کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے یہاں پاکیزگی سے مراد ہر قسم کی پاکیزگی ہے ، جس میں جسم ، لباس ، خوراک ، مکان حتیٰ کہ عقیدہ نظریات کی پاکیزگی بھی مقصود ہے ، طہارت کا اصول ۔ اتنا اہم اصول ہے کہ شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ چار چیزیں تمام ادیان میں اٹل رہی ہیں اور ہمارے دین میں بھی ہیں ، نمبر ایک طہارت جس کا بیان آ چکا ہے دوسرے نمبر پر اخبات ہے جس کا مطلب خدا کے سامنے عاجزی کا اظہار ہے نماز ، روزہ ، حج اور ذکر و اذکار سب اخبات کا حصہ ہیں ۔ تیسری چیز سماحت ہے یعنی خسیس اور حقیر چیزوں سے بچ جانا ، منجملہ ان کے ہر قسم کا گناہ ، اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیاء ، کفر شرک ، حسد ، بغض ، لالچ وغیرہ ان چیزوں سے اعراض کرنا سماحت کہلاتا ہے اور آخری چیز ہے۔ عدالت پوری زندگی کے ہر مرحلہ پر عدل و انصاف کا دامن تھامے رہنا اور کسی سے ظلم و زیادتی نہ کرنا یہ تمام امتوں کے مشرکہ اصول ہیں ۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ پاکیزگی کے اصول میں عقیدہ کی پاکیزگی کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔ سورة مدثر میں آیا ہے والرجز فاھجر یعنی دل دماغ سے کفر و شرک اور بدعت کی گندگی کو نکال باہر کرو ، جب تک عقیدہ پاک نہیں ہوگا ، نماز روزہ ، حج ، زکوٰۃ کچھ کام نہ آئے گا ۔ لہٰذا اس طرف خصوصی توجہ دینی چاہئے ایک اور اہم طہارت مال کی طہارت ہے جس مال سے انسان خوراک کھاتا ہے ۔ لباس پہنتا ہے ، مکان بناتا ہے ، وہ مال بھی پاک ہونا چائے ۔ چوری ، ، خیانت ، رشوت اور بلیک کا مال اللہ تعالیٰ کا ہرگز پسند نہیں ۔ اسی طرح جس مال سے زکوٰۃ نہیں نکالی گئی وہ مال بھی پاک نہیں ہے۔ ایسے مال سے اللہ تعالیٰ صدقہ قبول نہیں کرتا ایسے شخص کی عبادت قبول نہیں کرتا ، ایسا شخص مر گیا تو اپنے پیچھے جہنم کے راستہ کا توشہ چھوڑ گیا ۔ عورت بمنزلہ کھیتی آگے ایک اور مسئلہ بیان فرمایا ۔ عورت کو کھیتی کے ساتھ تشبیہ دیتے ہوئے ارشاد ہوا ۔ نساء کم حرث لکم تمہاری عورتیں تمہارے لیے بمنزلہ کھیتی کے ہیں ۔ فاتوا حرثکم انی شئۃ پس جائو اپنی کھیتوں میں جس طرح چاہو۔ اس مقام پر عورت کو کھیتی کہ کر اللہ تعالیٰ نے یہ بات سمجھا دی کہ مرد کا نطفہ بمنزلہ تخم کے ہے اور اولاد بمنزلہ پیداوار کے ہیں ۔ جس طرح زمین میں بیج ڈالا جاتا ہے اور اس سے فصل پیدا ہوتی ہے ۔ اسی طرح مرد کا یہ قطہ اب عورت کے رحم میں جا کر بچے کی پیدائش کا سبب بنتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اولاد جبھی ہوگی جب نطفہ اصل مقام میں جائے گا ۔ لہٰذا دوسرے مقام میں مباشرت کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ اور اس کے متعلق سخت وعید آئی ہے۔ فرمایا من اتی امرۃ فی دبرھافقد کفر بما نزل علی محمد ﷺ یعنی جس شخص نے عورت کے ساتھ پیٹھ کے راستے مباشرت کی ، اس نے محمد کی شریعت کا انکار کردیا وہ باغی اور مجرم ٹھہرا۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ انی شئتم سے جماع کی کیفیت مراد ہے یعنی تم جس طرح بھی پسند کرو مثلاً لیٹ کر یا بیٹھ کر یا کروٹ کے بل یا پیچھے سے ہو کر مگر شرط یہ ہے کہ فی صمام واحد مقام ایک ہی ہو دوسرے مقام کے استعمال کی اجازت نہیں ، اللہ تعالیٰ نے یہاں پر کھیتی کا لفظ لا کر ان سب باتوں کی وضاحت فرما دی۔ نیک اولاد صدقہ جاریہ نیک اولاد صدقہ جاریہ فرمایا وقد موالا انفسکم اپنے نفسوں کے لیے کچھ آگے بھی بھیجو یعنی اگلے جہاں کے لیے بھی نیکی کا کچھ فکر کرو ، نیت صحیح ہونی چاہئے ۔ مباشرت سے مقصود محض شہوت رانی ہی نہ ہو ، اگرچہ یہ بھی روا ہے مگر اس کا اصل مقصداولاد کی پیدائش ہونا چاہئے ، اگر صالح اولاد ہوگی ، تو وہ تمہارے پیچھے صدقہ جاریہ ہوگی۔ حضور ﷺ نے فرمایا او ولد صالح یدعوالہ نیک اولاد ہوگی تو تمہارے لیے دعا کریگی جو تمہارے لیے ذخیرہ آخرت ہوگا ۔ وتقوا اللہ اور اللہ سے ڈرو ، کہیں اس کے قاون کی خلاف ورزی نہ کر بیٹھا ۔ اس نے طہارت اور مباشرت تک کے قانون واضح کردیے ہیں ، اب ان سے روگردانی نہ کرنا ، ایام حیض میں مباشرت سے نہ صرف اخلاق بگڑ جائے گا بلکہ طرح طرح کی بیماریاں بھی لا حق ہو سکتی ہیں واعلموا انکم ملقوہ اور یاد رکھو ، ایک نہ ایک دن تمہیں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنی ہے ، اس کے حضور پیش ہونا ہے ، وہ ایسا دن ہوگا یوم تاتی کل نفس تجادل عن نفسھا جب ہر شخص خود اپنے نفس سے سوال و جواب کریگا ، درمیان میں کوئی ترجمان نہیں ہوگا نہ کوئی دلیل ہوگا اور نہ کوئی ساتھی اپنی جو ابدی آپ ہی کرنا پڑیگی اور آخری جملہ فرمایا وبشر المومنین جو اہل ایمان ہیں ، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور قیامت کے دن پر یقین رکھتے ہیں ۔ پیغمبر پر ان کا ایمان ہے۔ احکام الٰہی پر یقین رکھتے ہیں ۔ اس کے قانون کی پابندی کرتے ہیں ۔ انہیں خوشخبری سنا دیں کہ اللہ کے نزدیک ان کے لیے فلاح و کامیابی کے درازے کھلے ہیں۔