2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعالم العرفان

Ayah 2:185

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ١ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ١٘ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:185 in the Quran reader

رمضان کا مہینہ وہ ہے جس کے اندر قرآن نازل کیا گیا ہے ۔ وہ قرآن جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت کی واضح اور روشن دلیلیں ہیں اور فیصلہ کرنے والی بات ہے ، پس تم میں سے جو شخص اس مہینہ میں حاضر ہوجائے پس اس کو اسکا روزہ رکھنا چاہئے اور جو شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو ، پس دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرنی ہے ۔ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ کرتا ہے اور تمہارے ساتھ دشواری کا ارادہ نہیں کرتا اور تا کہ تم گنتی پوری کرو اور تا کہ تم اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو ، جیسا کہ اس نے تمہیں ہدایت دی ہے اور تا کہ تم شکر گزار بن جائو

گزشتہ سے پیوسہ انسان کے متقی بننے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بہت سے اصول بیان فرمائے ہیں ۔ پہلا قانون قصاص کی پابندی ہے اور دوسرا اصول مال کے معاملہ میں عدم زیادتی ہے ، تا کہ کسی شخص کی حق تلفی نہ ہو ۔ تقویٰ کا تیسرا اصول مقررہ اوقات میں روزہ رکھنا ہے ، یہ سب ایسے افعال ہیں ، جن کی ادائیگی سے ایک مسلمان میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوتی ہے۔ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے روزہ کی فرضیت بیان فرمائی کہ ایمان والوں پر ایک ماہ کے روزے فرض کیے گئے ہیں ، یہ چند گنے ہوئے دن ہیں جو کہ پورے سال میں انتیس یا تیس دن ہیں اور جن میں روزہ رکھنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ ماہ رمضان کے روزوں کی فرضیت سے پہلے عاشورہ کا روزہ فرض تھا۔ یہ روزہ حضور نبی (علیہ السلام) نے بھی رکھا اور دوسرے لوگوں سے بھی رکھوایا گیا ، بلکہ بچے بھی یہ روزہ رکھتے تھے ، اس کے بعد جب رمضان کے روزوں کی فرضیت کا حکم نازل ہوا ، تو عاشورہ کے روزہ کی فرضیت ختم ہوگئی ۔ البتہ عاشورہ کے دو روزے رکھنے کی اب بھی بڑی فضلیت ہے اور یہ بڑے اجر وثواب کا باعث ہے ، یوم عرفہ کا روزہ بھی بڑے ثواب کا حامل ہے ، مگر فرض نہیں ہے اسی طرح ایام بیض یعنی ہر ماہ کے درمیانی تین روزے مستحب ہیں ۔ رمضان کے بعد شوال کے چھ روزے بہت بڑے اجر کا موجب ہیں ۔ حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ماہ رمضان کے روزے رکھے ، اور اس کے بعد چھ روزے شوال سے ملا لیے ، وہ شخص ایسا ہے ۔ جیسے پورے سال کا روزے دار ہوتا ہم فرضیت صرف رمضان کے روزوں کی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ایاما ً معدودات فرمایا ۔ ماہ رمضان اور قرآن پاک اب آیت زیر درس میں ماہ رمضان کے ان گنے چنے دنوں کی تفصیل بیان ہو رہی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ شھر رمضان الذی رمضان کا مہینہ وہ مبارک مہینہ ہے۔ انزل فیہ القرآن جس میں قرآن پاک نازل ہوا یہ بڑی برکتوں والا مہینہ ہے اور سب سے بڑی برکت یہ ہے کہ اس میں قرآن پاک کا نزول ہوا۔ نزول قرآن پاک کے سلسلہ میں مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں ۔ منجملہ ا ن کے لیے ہے کہ اس ماہ میں قرآن کریم کو نقل کر کے لوح محفوظ سے ۔۔۔۔۔ بیت العزت میں رکھا گیا جو کہ آسمان دنیا یعنی پہلے آسمان پر واقع ہے۔ امام جعفر صادق (رح) کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے دو نعمتیں سب سے بڑی ہیں ۔ ایک حضور ﷺ کا وجود مبارک اور دوسرا قرآن پاک ، کتابیں تو دنیا میں ہزاروں لاکھوں ہیں ، مگر قرآن حکیم کوئی اور ہی چیز ہے۔ ایں کتاب نیست ، چیزے دیگر است بہر حال یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے ۔ اس کا حکم دوسرے کلاموں جیسا نہیں ہے۔ لوگوں کا مقولہ ہے کلام الملوک ملوک الکلام بادشاہوں کا کلام ، کلاموں کا بادشاہ ہونا ہے مگر یہ کلام تو مالک الملک کا ہے ، جو کہ شہنشاہ مطلق ہے ، اس کا کلام کس قدر قدر و منزل کا حامل ہوگا ، لہٰذا یہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ کے انعامات میں سے بہت بڑا انعام ہے۔ انسان بڑا ہی ناشکرگزار ہے۔ جس نے قرآن پاک جیسی بڑی نعمت کی قدر نہیں کی ۔ جس قوم کے پاس یہ کلام ہو ، وہ بھی بھٹکتی پھرے تو کتنی افسوس کی بات ہے حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جس شخص کے اس قرآن پاک جیسی نعمت موجود ہو ، وہ اپنے آپ کو حقیر نہ سمجھے۔ خدا تعالیٰ کے ہاں وہ بڑی عزت والا ہے مگر افسوس کہ حامل قرآن نے اغراض فاسدہ اور غفلت کی وجہ سے اس کی کوئی قدر نہیں کی ، خود تو اس سے مستفید نہیں ہو رہے ہیں ۔ باقی دنیا کو بھی محروم رکھا ہوا ہے۔ مسلمانوں کے پاس اللہ تعالیٰ کی اتنی بڑی نعمت موجود ہے ، مگر پھر بھی یہ ناشکر گزار ہیں۔ مختلف مہینوں کی وجہ سے تسمیہ شہر کے معنی مہینہ کے ہیں اور اس کی جمع شھورآتی ہے ۔ رمضان کا معنی تپش ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ فرضیت روزوں کے زمانہ میں گرمی کے موسم میں رمضان کا مہینہ آیا تھا۔ اس واسطے اسے رمضان یعنی گرمی یا تپش والا مہینہ کہتے ہیں ۔ رجب سے مراد عزت والا یعنی معظم مہینہ ہے ۔ جمادی الاول اور جمادی الآخری سردی کے موسم کے مہینے تھے۔ جمد کا معنی منجمد ہونا یا جم جانا ہے ۔ اسی طرح شعبان کا معنی پراگندہ ہونا ہے۔ اس موسم میں قبائل ادھر ادھر پراگندہ ہوجاتے تھے۔ ذی قعدہ ، قعود یعنی بیٹھنے کے معنی میں آتا ہے۔ ذوالحج کا یہ نام اس لیے ہے کہ اس مہینہ میں حج ادا کیا جاتا ہے ۔ محرم سے مراد حرمت والا مہینہ ہے ۔ صفر سے مراد خالی مہینہ ہے اسی طریقہ سے ربیع بہار کو کہتے ہیں ۔ ربیع الاول اور آخر اسی مناسبت سے نام ہیں ۔ الغرض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ رمضان کو یہ نام تپش کی وجہ سے ملا ہے۔ جب ہر چیز گرم ہو کر پگھلنے لگتی ہے ، ہمیں پگھلانے کا معنی بھی پایا جاتا ہے۔ اسکی ایک توجیہہ یہ بھی کی جاتی ہے کہ روزے رکھنے سے مسلمان کو جسمانی طور پر تکلیف پہنچتی ہے ، جب وہ اس تکلیف کو برداشت کرتا ہے ، تو اس کے گناہ پگھلنے لگتے ہیں ۔ گویا یہ مہینہ گناہوں کو پگھلاے والا مہینہ ہے۔ مسئلہ خلق قرآن ایک زمانہ میں مسئلہ خلق قرآن پیدا ہوا تھا۔ بعض گمرا ہ لوگوں نے قرآن پاک کے کلام اللہ ہونے کا انکار کیا ۔ اس کے بجائے قرآن کو مخلوق کہا گیا اور یہ فتنہ دو تین صدیوں تک قائم رہا ، البتہ اور کئی قسم کے فتنے موجود ہیں ۔ اس زمانے میں اس مسئلہ کی وجہ سے اللہ والوں نے بڑی بڑی تکلیفیں برداشت کیں ، کئی علماء اسی مسئلہ کی وجہ سے سولی پر لٹک گئے۔ امام احمد بن حنبل (رح) نے چار حکومتوں کا زمانہ اسی ابتلاء میں گزارا ۔ ان پر مسلسل ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے ۔ ا سے قرآن پاک کے مخلوق ہونے کا فتویٰ حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ۔ مگر آپ نے ہمیشہ انکار کیا ۔ فرماتے تھے ۔ میرے پاس اللہ کی کتاب اور رسول اللہ کی سنت ہے تم کوئی اور چیز لے کر آئے ہوتا کہ میں اس کے مطابق بات کروں۔ آپ نے ہزار مصائب برداشت کیے مگر قرآن و سنت کے خلاف فتویٰ نہ دیا ۔ نزول قرآن قرآن پاک کے رمضان المبارک میں نزول کے متعلق حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ ، سعید بن جبیر (رح) اور امام حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کو ماہ رمضان کی ایک رات لیلۃ القدر میں لوح محفوظ سے بیت العزت میں اتارا ۔ اور پھر وہاں سے پورے تیئس برس ہیں تھوڑا تھوڑا کر کے حضور خاتم النبیین ﷺ پر نازل فرمایا ، نزول قرآن کی اس رات کے متعلق خود رب العزت نے فرمایا لیلۃ القدر خیر من الف شھر یہ تو ایک ہزار مہینوں سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ اگر یہ میسر آجائے تو اس ایک رات کی عبادت تراسی سال کی عبادت سے زیادہ افضل ہے۔ یہ بڑی فضلیت والی رات ہے۔ دیگر آسمانی کتابوں کی فضلیت کے متعلق بھی بہت سی روایات آئی ہیں ۔ مثلاً طبرانی شریف کی حدیث میں ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفے رمضان المبارک کی پہلی تاریخ کو نازل ہوئے ۔ تورات چھ رمضان کو اور انجیل 3 رمضان کو نازل ہوئی ۔ قرآن پاک چوبیس رمضان کو نازل ہوا ، یہ تفسیری روایات سے معلوم ہوا ہے ، بہر حال رمضان المبارک کو قرآن پاک کے ساتھ خصوصی تعلق ہے ، یہ وہ ماہ مبارک ہے جو میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت بڑی نعمت عطا فرمائی۔ تلاوت قرآن اس ماہ مبارک کو قرآن پاک کے ساتھ بطور یادگاہ خصوصی لگائو ہے۔ اسی لیے حکم ہے کہ اس مہینہ میں قرآن پاک کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کی جائے اگرچہ محض تلاوت منتہائے مقصود نہیں ، بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ اس سے نصیحت پکڑی جائے اس کے بتلائے ہوے اصولوں کی پیروی کی جائے اور اس کے احکام پر عمل کیا جائے۔ اسی لیے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ ” مقصد از نزول قرآں تلفظ نیست “ اگرچہ اس زمانہ میں محض تلاوت بھی غنیمت ہے ، کیونکہ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ قرآن پاک کا ایک ایک حرف پڑھنے سے دس دس نیکیاں حاصل ہوتی ہیں ۔ فرمایا جب کوئی شخص خلوص دل کے ساتھ تین حرف الم پڑھتا ہے۔ تو تیس نیکیوں کا مستحق ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ کے کلام کی اس قدر برکت ہے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی (رح) نے مکتوبات میں لکھا ہے کہ قرآن پاک کے علاوہ باقی جو بھی کلام یا اور اد ہیں ، انہیں بغیر سمجھ پڑھنے سے کوئی فائدہ نہیں ۔ صرف کلام پاک ہی ایک ایسا کلام ہے جسے سمجھ کر یا بےسمجھے ہر حالت میں پڑھنے سے فائدہ ہی فائدہ ہے۔ اس کے لیے صرف ایمان اور نیت صالحہ کی ضرورت ہے۔ قرآن ذریعہ ہدایت ہے قرآن کیا ہے ھدی للناس یہ لوگوں کے لیے ہدایت کا سامان ہے۔ یہ ایسی ہدایت ہے ، جو انسان کے لیے سب سے ضروری چیز ہے آپ نماز کی ہر رکعت میں پڑھتے ہیں ۔ اھدنا الصراط المستقیم اے اللہ ! ہم کو سیدھے راستے پر چلا اور ہمیں سیدھا راستہ دکھا ، تو سیدھا راستہ وہی ہے جو قرآن پاک دکھاتا ہے یعنی اس طرح اعتقاد رکھو ، اس طرح عمل کرو اس طرح کے اخلاق پیدا کرو اپنے معاشرتی اور معاشی مسائل کو اس طرح حل کرو ، قرآن پاک متن ہے ۔ حضور ﷺ کی حدیث اس کی شرح ہے یہ قرآن پاک کو کھول کر بیان کرتی ہے ، امام شافعی (رح) ، شاہ ولی اللہ (رح) اور مولانا رشید احمد گنگوہی (رح) فرماتے ہیں کہ ہر صحیح حدیث قرآن پاک کی شرح ہے۔ صحیح احادیث کے بغیر قرآن پاک کو سمجھنا ممکن نہیں پرویزی اور چکڑالوی محض اس لیے حدیث کا انکار کرتے ہیں کہ قرآن پاک کی من مانی تفسیریں کرسکیں ۔ اس طرح کرنا گمراہی کا دروازہ کھولنا ہے ، کیونکہ احادیث کے بغیر انسان قرآن کی منزل کو نہیں پا سکتا ۔ لہٰذا جب بھی دشواری پیش آئے قرآن پاک کی طرف رجوع کرو ۔ ھل من مدکر کون ہے جو اس سے نصیحت پکڑے۔ خود مفتی نہ بن بیٹھو بلکہ فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون اگر تمہیں خود علم نہیں تو اہل علم کے پاس جائو ، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے قسم اٹھا کر کہا کہ قسم ہے اس ذات پاک کی ، جس کا کوئی شریک نہیں ۔ حضور ﷺ کے بعد اپنے اس دور میں اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ فلاں شخص مجھ سے زیادہ قرآن کریم جاننے والا ہے ، تو میں سواری پر سوارہوکر اس کے پاس جائوں ، خواہ مجھے کتنا ہی لمبا سفر کرنا پڑے۔ صحابہ کرام ؓ نے ایک ایک حدیث کی خاطر دو دو ماہ کا سفر کیا ۔ ایک ایک مسئلہ معلوم کرنے کے لیے طویل سفر کی صعوبتیں برداشت کیں ، مگر اس مقصد سے ہٹ کر کوئی دوسرا مفاد حاصل نہیں کیا ۔ حتیٰ کہ وہاں سے کھانا تک نہیں کھایا۔ ناشتہ تک نہیں کیا اور حضور مقصد کے بعد فوراً واپس لو ٹ گئے۔ ڈر تھا کہ ایسا کرنے سے کہیں ہمارے اجر میں کمی نہ واقع ہوجائے ، وہ لوگ اتنے محتاط تھے ۔ خراسان سے حجاز یا حجاز سے خراسان تک ہزاروں میل کی مسافرت محض کسی آیت کی تشریح معلوم کرنے کے لیے طے کرتے تھے۔ مولانا ابو الکلام آزاد (رح) نے اپنی تفسیر ترجمان القرآن کو مولوی محمد دین قندھاری (رح) کے نام سے معنون کیا ہے۔ وجہ یہ تھی کہ مولوی صاحب نے قرآن پاک کی چند آیات کی تفسیر سمجھنے کے لیے قندھار سے رانچی تک کا سفر اختیار کیا ۔ انہوں نے مولانا کے پرچے ” الہلال “ میں بعض آیات کی تفسیر پڑھی ، تو کچھ شبہ پیدا ہوا جسے دور کرنے کے لیے آپ نے اتنا طویل سفر کیا ۔ مولانا ان دنوں رانچی میں نظر بند تھے ، اس شخص نے اپنا مسئلہ حل کرنے کے بعد مسجد میں نماز ادا کی اور چلتا بنا ، مولانا نے ہر چند کوشش کی کہ اس کی کچھ خاطر مدارت کی جائے ، اسے واپسی کے لیے کرایہ ہی فراہم کیا جائے مگر اس شخص کا کوئی پتہ نہ چلا ۔ مولانا اس کے تقویٰ سے اس قدر متائر ہوئے کہ اپنی تفسیر کو ان کے نام سے معنون کیا ۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآن پاک لوگوں کے لیے ذریعہ ہدایت ہے ، جو ہدایت اس سے مقصد حاصل کرسکتا ہے۔ واضح اور فیصلہ کن دلائل فرمایا قرآن پاک سامان ہدایت ہی نہیں ، بلکہ وبینت من الھدی والفرقان اس میں ہدایت کے واضح دلائل موجود ہیں اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن بات بھی ہے ، یہ کسی معاملہ کو ادھورا نہیں چھوڑتا ، بلکہ حق و باطل کے درمیان امتیاز کرنا ہے کہ یہ حق اور یہ باطل ہے لیھک من ھلک عن بینۃ تا کہ جسے ہلاک ہونے ہے وہ واضح بات کے بعد ہلاک ہو ویحییٰ من حی عن بینۃ اور جو زندہ ہے ، وہ واضح بات کے بعد زندہ رہے یعنی کسی انسان کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہنا چاہئے کہ اس حق و باطل کی پہچان نہیں ہوسکی۔ قرآن پاک ہر چیز کی خوب خوب وضاحت کرتا ہے گویا قران پاک ہدایت بھی ہے اور فرقان بھی ہے۔ اسی لیے حضور ﷺ نے فرمایا کہ رمضان المبارک میں تراویح ادا کی جائیں جن کے دوران قرآن پاک کی تلاوت ہو اور پورے رمضان میں ہر مسلمان کے کان سے کم ازکم ایک دفعہ قرآن پاک گزر جائے ، یہ خدا تعالیٰ کی ہدایت کا پروگرام ہے ، اسے ہر گھر میں پڑھا جاناچاہئے۔ اس کی اشاعت اور تعلیم عام ہو ، تا کہ کوئی نفس اس سے محروم نہ رہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے رمضان کے روزے فرض کیے اور میں نے تمہارے لیے تراویح کو سنت قراردیا اس میں قرآن پاک کی زیادہ سے زیادہ تلاوت ہونی چاہئے۔ روزہ لازم ہے فرمایا فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ جو کوئی تم میں سے ماہ رمضان المبارک کو پائے ، تو اسے روزہ رکھنا چاہئے ، گویا اس آیت کے ذریعے روزہ لازم قرار دے دیا گیا اور اس سے پہلے روزہ کے عوض میں فدیہ کی جو رعایت دی گئی تھی ، وہ ختم ہوگئی ، اب سوائے عذر شرعی ہر عاقل بالغ کے لیے روزہ ضروری ہوگیا ۔ عذر شرعی میں بیمار اور مسافر آتے ہیں ، اور شرعی سفر تین دن کی مسافت ہے جو کہ 48 میل بنتا ہے ، امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک کم از کم اس قدر سفر کرنا ہو تو روزہ قضا کرسکتا ہے۔ بعض علماء نے کم از کم مسافت 36 میل بتائی ہے ، البتہ ابو دائود شریف کی روایت میں یہ الفاظ آتے ہیں من کان لہ حمولۃ جس کے پاس سفر کے لیے سواری موجود ہو ، اس کے لیے بہتر ہے کہ سفر میں بھی روزہ رکھے اور اگر نہیں رکھ سکا ، تو بعد میں قضا بہر حال لازم ہے۔ روزے کی قضا فرمایا ومن کان مریضا ً او علی سفر فعدۃ من ایام اخر جو کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو ، تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرلے۔ سال میں 29 یا 30 دن کی گنتی پوری کرنا انسان کے اندر تقویٰ اور روحانیت پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اس کے بغیر تقویٰ کا ڈپلومہ نہیں ملے گا ۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کسی طالب علم کو سند اسی صورت میں ملتی ہے جب وہ امتحان میں پاس ہوجاتا ہے ، لہٰذا حصول تقویٰ کے لیے روزوں کی گنتی پوری کرنا لازم ہے ۔ خواہ یہ رمضان کے بعد ہی کرنی پڑے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص کے رمضان کے بعض روزے رہ جائیں اور وہ آئندہ رمضان تک ان کی قضا نہ کرسکے ، تو پھر ہر قضا روزہ کے ساتھ اسے دو مدغلہ بطور تاوان بھی ادا کرنا ہوگا ۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا فرمان ہے کہ تاوان ضروری نہیں ہے ۔ اسے روزوں کی قضا کرنی پڑے گی ، خواہ آئندہ رمضان کے بعد ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ آسانی چاہتا ہے فرمایا یرید اللہ بکم الیسر اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ کرتا ہے ، ولا یرید بکم العسر اسے تمہاری دشواری منظور نہیں ۔ اس نے تمہاری آسانی کی خاطر تمہیں سہولتیں اور رخصتیں بھی دی ہیں ۔ جیسا کہ حاملہ اور مرضعہ کو سہولت حاصل ہے ، مقصد یہ ہے کہ ولتکملوا العدۃ تا کہ تم گنتی پوری کرلو اور اس کے اثرات تمہارے اندر تقویٰ کی صورت میں ظاہر ہوں والتکبروا اللہ علی ما ھدلکم اور تا کہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو جیسا کہ اس نے تمہیں ہدایت دی ہے ، بعض فرماتے ہیں کہ اس سے وہ تکبیریں مراد ہیں ۔ جو رمضان المبارک کے اختتام پر نماز عید پر پڑھی جاتی ہیں۔ ولعلکم تشکرون اور تا کہ تم اللہ کا شکر یہ ادا کرسکو۔ ابو دائود شریف کی روایت میں ہے ، لکل شی زکوٰۃ ہر چیز کی زکوٰۃ ہوتی ہے وزکوۃ الجسد الصوم اور جسم کی زکوٰۃ روزہ رکھنے سے ادا ہوتی ہے ، اور اس طرح انسان اللہ کا شکر ادا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس نے اس فریضہ کو پورا کیا اور اس طرح تقویٰ اور روحانیت کو اپنایا اور اس سے فائدہ اٹھایا۔
Ayah 2:186

وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ١ؕ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ Open ayah 2:186 in the Quran reader

اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھتے ہیں ، پس میں قریب ہوں ۔ میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں ، جب وہ مجھ سے دعا کرتا ہے پس چاہئے کہ یہ لوگ یہ میرا حکم مانیں اور چاہئے کہ یہ مجھ پر یقین رکھیں ، تا کہ یہ ٹھیک راہ پا جائیں

شان نزول آیت زیر درس سے ما قبل اور ما بعد آیات روزہ سے متعلق ہیں ۔ پہلی آیات میں معذور لوگوں کو حاصل ہونے والی رعایت کا ذکر تھا اور بعد والی آیت میں روزے کے احکام ہیں ۔ اس درمیانی آیت میں اس دعا کا ذکر ہے ، جو بندہ اپنے رب کے حضور کرتا ہے گزشتہ آیت کے آخری حصہ میں اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرنے اور اس کا شکریہ ادا کرنے کا بیا ن تھا۔ اس ضمن میں بعض حضرات نے حضور نبی کریم ﷺ سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ کو کس طرح پکارنا چاہئے ، کیا وہ انسان کے قریب ہے یا بعید ، اگر قریب ہے تو اس کے ساتھ سر گوشی سے مناجات کریں اور اگر وہ دور ہے تو زور سے پکاریں ، اس سوال کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا واذا سالک عبادی عنی جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں ، فانی قریب تو میں ان کے بالکل قریب ہوں ۔ اجیب دعوۃ الداع اذا دعان میں دعا کرنے والے کو دعا کو سنتا ہوں ، جب وہ دعا کرتا ہے اور مجھے پکارتا ہے۔ رمضان اور قبولیت روحانیت کے لحاظ سے رمضان کا مہینہ ایسے ہی ہے۔ جیسے سال بھر کے موسموں میں موسم بہار ہوتا ہے۔ جب ہر چیز اپنے جوبن پر ہوتی ہے ، اسی طرح رمضان شریف میں دوسرے مہینوں کی نسبت نیکی کی قدر و قیمت اور وقعت کئی گنا بڑھ جاتی ہے ۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ نفل فرض کے برابر ہوجاتا ہے اور ایک فرض سترفرضوں کے اجر کے برابر ہوتا ہے ، ترمذی شریف میں امام زہری (رح) کا قول ہے فرماتے ہیں تسبیحۃ فی رمضان خیر من الف تسبیحۃ فیما سواہ رمضان المبارک میں اخلاص کے ساتھ کی گئی ایک تسبیح غیر رمضان کی ایک ہزار تسبیح سے بڑھ جاتی ہے ، گویا یہ مہینہ تکمیل روحانیت کے لیے موسم بہار کا درجے رکھتا ہے ، لہٰذا قبولیت دعا کے لیے بھی یہ مبارک مہینہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے ۔ دعا کی قبولیت میں زمان اور مکان کو خاص اہمیت حاصل ہے ، اس لحاظ سے رمضان کا مہینہ ایسا مبارک مہینہ ہے۔ جس میں دعا زیادہ قبول ہوتی ہے۔ زمان کے لحاظ سے حضور نے جوف اللیل الاخر یعنی رات کے آخری حصہ کا ذکر فرمایا کہ قبولیت دعا کا وقت ہوتا ہے جمعۃ المبارک کے متعلق بھی فرمایا کہ اس روز ایک ایسی گھڑی ہوتی ہے ، جس میں دعا ضرو ر قبول ہوجاتی ہے ۔ مکان کے لحاظ سے ایسے بہت سے مقامات ہیں جہاں کی گئی دعائیں لازمی قبول ہوتی ہیں جیسے مقامات مقدسہ منیٰ ، عرفات ، مزدلفہ ، صفا و مرہ ، بیت اللہ شریف ، ملتزم حطیم وغیرہ ۔ ایک حدیث میں یوں آتا ہے کہ جو شخص رمضان المبارک میں مانگتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کو ناکام نہیں لوٹاتا ، دعا ہمارے دین کا اہم حصہ ہے ، عبادتک ایک اہم اصول ہے۔ الدعا ھو العبادۃ دعا عبادت ہی ہے۔ یہ بہت بڑی چیز ہے ، قرآن پاک میں آتا ہے ان الذین یستکبرون عن عبادتی جو لوگ میرے سامنے دعا کرنے سے تکبر کرتے ہیں ، وہ ذلیل ہو کر دوزخ میں ہونگے ، مستدرک حاکم کی روایت میں یہ الفاظ آتے ہیں ۔ الدعا نور المومن سلاح المومن السموات والارض ، عماد الدین یعنی دعا مومن کا نور ہے ، مومن کا ہتھیار ہے۔ زمین و آسمان کا نور اور دین کا ستور ہے۔ آداب دعا اللہ تعالیٰ کا ذکر آہستہ آواز سے کرنا چاہئے یا بلند آواز سے اس کا بیا ن آ چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ میں بندے سے بالکل قریب ہوں ، ایک موقع پر سفر کی حالت تھی ، صحابہ کرام ؓ حضور ﷺ کے ہمرکاب تھے اور بلند آواز سے ذکر الٰہی یعنی تکبر و تہلیل میں مصروف تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا اربعوا علی انفسکم لوگو ! اپنی جانوں پر نرمی اختیار کرو۔ تم جس ذات کو پکار رہے ہو ، وہ بعید نہیں ہے۔ وہ تو قریب ہے ، لہٰذا بلند آواز سے چیخ و پکار نہ کرو۔ ترمذی شریف کی حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری سواری کی گردن سے بھی زیادہ قریب ہے اور قرآن کریم میں یہ بھی موجود ہے ونحن اقرب الیہ من حبل الورید ہم تو انسان کے رگ جاں سے بھی زیادہ قریب ہیں ، لہٰذا اسے آہستگی سے پکارو اور اس کے سامنے آہستہ اور خاموشی سے دعا کرو ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ادعوا ربکم تضرعا و خفیۃ اپنے رب کو عاجزی سے پوشیدہ اور گڑ گڑا کر پکارو۔ البتہ اونچی آواز سے دعا کرنا بھی جائز ہے ، لیکن بلند آواز اس جگہ پر ہوگی جہاں کسی کو تکلیف نہ پہنچتی ہو۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ آواز بلند کرنے سے اگر کسی کی نماز میں خلل ہوتا ہو یا تلاوت متاثر ہوتی ہو تو پھر بلند آواز سے دعا کرنا بھی مکرو ہ ہے ، لہٰذا آہستہ آواز سے پکارنا ہی بہتر ہے اگرچہ بآواز بلند بھی روا ہے حضرت زکریا (علیہ السلام) کے بیان میں خود قرآن پاک کا ارشاد ہے اذا ادی ربہ ندا خفیا جب کہ وہ چپکے چپکے اپنے رب کے سامنے دعا کر رہے تھے۔ حضور ﷺ کا ارشاد بھی ہے ۔ خیر الذکر ما یخفی بہتر ذکر وہ ہے جو مخفی ہو دوسری جگہ فرمایا خیر الذکر الخفی و خیر الرزق ما یکفی بہتر ین ذکر وہ ہے جو پوشیدہ ہو اور بہترین روزی وہ ہے جو کفایت کر جائے۔ غرضیکہ مخفی ذکر ہیں ایک تو دوسرے کی ایذا رسانی ہوتی اور دوسرے ریا کاری سے بچ جاتا ہے ، لوگ بلند آواز سے ذکر و اذکار کرتے ہیں اور درود شریف پڑھتے ہیں ، لائوڈ سپیکر کھول کر اہل محلہ بیماروں اور دیگر عبادت گزاروں کے لیے ایذا رسانی کا باعث بنتے ہیں۔ دوسروں کی عبادت میں خلل انداز ہوتے ہیں ، یہ اچھی علامت نہیں ہے ، وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نیک کام کر رہے ہیں ، حالانکہ اس سے دوسروں کو تکلیف ہو رہی ہے ، ایسی صورت میں آپ کی عبادت اللہ کی بارگاہ میں باعث گناہ ہو سکتی ہے۔ بہر حال ماہ رمضان سے متعلق دو آیات کے درمیان دعا کا ذکر اس لیے ہوا کہ اس ماہ مبارک میں دعا زیادہ مقبول ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کے میرے بندے جب بھی مجھے پکاریں ، میں قریب ہوں دعا کرنے والے کی دعا سنتا ہوں اور اسے قبول کرتا ہوں مگر دو شرائط کے ساتھ ایک یہ کہ دعا کرنے والا میرے حکم کو مانے اور دوسری یہ کہ وہ ایمان رکھتا ہو۔ خاندان شاہ ولی اللہ (رح) شاہ ولی اللہ (رح) دہلوی کا خاندان برصغیر پاک و ہند کا مشہور خاندان ہے ، اس خاندان کے علمی کارنامے ساری دنیا میں مشہور ہیں ۔ آپ کے والد بزرگوار مولانا شاہ عبد الرحیم (رح) بڑے پائے کے بزرگ تھے۔ آپ ان پانچ سو علماء کی مجلس کے رکن تھے جنہیں اور نگ زیب عالمگیر (رح) نے فتاویٰ عالمگیری مرتب کرنے کے لیے منتخب کیا تھا۔ یہ سارے علماء بادشاہ سے تنخواہ پاتے تھے ، مگر شاہ عبد الرحیم (رح) کو یہ چیز کھٹکتی تھی ، ان کا ضمیر تنخواہ لینا پسند نہیں کرتا تھا ، جب عالمگیر (رح) نے آپ کا نام اس مجلس سے خارج کردیا ، تو آپ نے اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے انہیں اس معاوضے سے بچا لیا جسے وہ پسند نہیں کرتے تھے اس کے بعد آپ نے مدرسہ قائم کر کے درس و تدریس کا کام شروع کردیا۔ آپ امام مجدد الف ثانی (رح) کے مریدوں کے مرید تھے۔ شاہ ولی اللہ (رح) بارہویں صدی کے مجدد تھے ۔ آپ نے دی اور علم کی تجوید کی آپ نے سب سے پہلے فارسی زبا ن میں فتح الرحمن فی ترجمۃ القرآن کے نام سے قرآن پاک کا ترجمہ لکھا ۔ اس وقت فارسی ہی دفتری زبان تھی ، لہٰذا اس زبان میں استفادہ کا زیادہ امکان تھا۔ اس وقت اردو زبان بھی ترقی کے ابتدائی مراحل میں تھی ۔ تا ہم آپ کے فرزند ارجمند شاہ رفیع الدین (رح) نے اردو زبان میں قرآن پاک کا سب سے پہلا ترجمہ کیا ، اگرچہ آج وہ زبان پرانی ہوچکی ہے ، تا ہم یہ لفظی ترجمہ کمال درجے کا ہے آپ نے قرآن پاک کی تفسیر و تشریح کا سلسلہ بھی شروع کیا ، اور آپ کے ایک شاگرد نے آپ کے ارشادات نوٹ کر کے سورة بقرہ کا حصہ شائع بھی کیا ۔ شاہ عبد العزیز (رح) کی تفسیر عزیزی بھی اپنی نوعیت کی بہترین تفاسیر میں سے ہے ، یہ تفسیر شاہ صاحب نے اپنے ہاتھ سے نہیں لکھی ، اپ تو نابینا ہوچکے تھے۔ اس لیے یہ خدمت آپ کے شاگردوں نے انجام دی ۔ آپ تو زبانی تفسیر بیان کرتے تھے ، ہفتہ میں ایک دن وعظ بھی کرتے تھے ، جس میں ہزاروں لوگ شریک ہو کر فیضاب ہوتے تھے ۔ بعض اوقات غیر مسلم بھی اس پاکیزہ مجلس میں شریک ہوتے اور ایمان کی دولت سے مالا مال ہو کر جاتے ، وعظ اتنا موثر ہوتا تھا کہ اپنا محاورہ درست کرنے کے لیے شاعر لوگ بھی مجلس وعظ میں بیٹھ جاتے ۔ اس زمانے میں مومن خان مومن بڑا مشہور شاعر ہوا ہے۔ صحیح العقیدہ آدمی تھا ، شاہ صاحب کی محفل میں شریک تھا ، کسی نے پوچھا آپ تو وعظ وغیرہ کے شائق نہیں ہیں ۔ آپ کیسے تشریف لائے تو وہ کہنے لگا کہ شاہ صاحب کی زبان کی شستگی حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوتا ہوں ، آپ کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ ہم لوگ محاورہ میں استعمال کر کے اپنی شاعری کو چمکاتے ہیں ۔ مولانا انور شاہ صاحب کشمیری (رح) فرماتے ہیں کہ اگر یہ تفسیر مکمل ہوجاتی تو کہا جاسکتا تھا کہ امت نے قرآن پاک کا حق ادا کردیا ہے ، غرضیکہ یہ تفسیر پر مغز ، با محاورہ اور حکمت آمیز تفسیر ہے ، یہ تفسیر پاک کے آخری دو پاروں اور دوسرے پارہ میں کتب علیکم الصیام تک ہے ۔ اس کے بعد شاہ صاحب وفات پا گئے اور یہ سلسلہ یہیں رک گیا ، بہر حال جتنا حصہ بھی میسر ہے ، حکیمانہ تفسیر کے لحاظ سے بہترین تفسیر ہے۔ شاہ عبد القادر (رح) نے بھی قرآن پاک کا اردو ترجمہ کیا۔ جس حضرت مولانا احمدلاہوری (رح) نے مزید سلیس کیا ہے۔ مولانا شیخ الہند (رح) کا ترجمہ جو میرے سامنے ہے ، وہ شاہ عبد القادر (رح) کے ترجمہ کی آسان صورت ہے۔ آپ نے ایڈورڈ روڈ دہلی کی اکبرمسجد میں بارہ سال تک اعتکاف کیا اور یہ ترجمہ لکھا جو بالکل با محاورہ اور سلیس ترین ہے ، تاج کمپنی اور دیگر اداروں نے اس کے بیشمار ایڈیشن شائع کیے۔ مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) ے بھی آج سے اسی برس قبل قرآن پاک کا ترجمہ اور تفسیر لکھی ۔ آپ نے ترجمہ قرآن کو زیادہ آسانی کرنے کی کوشش کی ۔ اپنی نوعیت کی یہ بھی کمال درجے کی کاوش ہے ، اس کے بعد اور بھی بہت سے خطرات نے قرآن پاک کے تراجم لکھے ہیں ۔ قرب خداوندی الغرض ! شاہ رفیع الدین (رح) تفسیر رفیقی ہے۔ فانی قریب کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ قرب خداوندی کی کئی ایک صورتیں ہیں۔ مثلاً خدا تعالیٰ با اعتبارذات قریب ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تمام موجودات میں کوئی ایک ذرہ بھی ایسا نہیں ، جس کا قیام اور بقا خدا تعالیٰ کے وجود کے بغیر حاصل ہو ۔ خدا تعالیٰ کی صفت قیومیت کی وجہ سے ہرچیز کو وجود حاصل ہوتا ہے ، لہٰذا اللہ تعالیٰ وجود اور ذات کے اعتبار سے قریب ہے۔ علم اور قدرت کے لحاظ سے بھی خدا تعالیٰ قریب ہے ، کیونکہ اس کے علم ، ارادے اور تاثیر کے بغیر کوئی چیز حاصل نہیں ہو سکتی ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ محبت اور حمایت کے اعتبار سے بھی قریب ہے۔ اللہ تعالیٰ تجلی کے اعتبار سے بھی قریب ہے ، جب انسان اللہ تعالیٰ کو اپنے دل میں یاد کرتا ہے ، تو ادھر سے تجلی پڑتی ہے اسی طرح عبدیت کے ربط کے اعتبار سے بھی خداوند تعالیٰ قریب ہے انبیاء (علیہ السلام) کو بارگاہ خداوندی کے ساتھ براہ راست رابطہ حاصل ہوتا ہے۔ یہ رابطہ وحی کی صورت میں ہوتا ہے ، عام لو گ بندگی کے ذریعے اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اسکی عبدیت کا اقرار کرتے ہیں کہ ہم تیرے محتاج بندے ہیں ، تو ان کو بھی قرب الٰہی حاصل ہوئی ہے ، یہ قرب کی مختلف صورتیں ہیں ۔ بعض چیزیں قرب خداوندی کے منافی ہوتی ہے ، مثلاً شہوات قرب الٰہی سے محروم کردیتی ہیں ، جو شخص خواہشات میں مبتلا ہوگیا ، وہ اللہ تعالیٰ سے دور ہوگیا ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے شریعت میں ایسے احکام مقرر فرمائے ہیں جنکی بجا آوری سے بندوں کو اللہ کا قرب ملتا رہتا ہے ، نماز ہی کرلے لیجئے ، یہ ایسی عبادت ہے جس کی ادائیگی سے دنیاوی خواہشات زائل ہو کر قرب خداوندی کا سبب بنتی ہے زکوٰۃ ا یادا کرنے سے مال کی محبت دل سے نکل جاتی ہے ، ایسا شخص مال خرچ کرنے پر دلیر ہوجاتا ہے ، جسکی وجہ سے اسے قرب خداوندی حاصل ہوتا ہے ، روزہ کے ذریعے انسان خوردو نوش کی خواہشات سے قابو پاتا ہے ، اور قرب الٰہی حاصل کرتا ہے حج کا فریضہ ادا کرنے سے انسان کی خوش پوشی کی خواہش کو دھچکا لگتا ہے ، کیونکہ احرام کی حالت میں ہر شاہ و گدا ایک ہی لباس میں ملبوس ہوتے ہیں ، یہ بھی قرب خداوندی کی نشانی ہے ، جہاد جیسی عبادت سے لذات اور تنعمات سب ختم ہوجاتے ہیں اور قرب الٰہی حاصل ہوجاتا ہے یہ قرب خداوندی کی مختلف شکلیں اور اس کے درمیان رکاوٹیں ہیں ۔ قبولیت دعا دعا کی قبولیت کے ضمن میں دو باتیں بڑی اہم ہیں ۔ ایک بات دعا کرنے کے متعلق ہے اور دوسری اس کے مبادی کے سلسلہ میں ہے ، پہلی چیز تو یہ ہے کہ دعا کی قبولیت رزق حلال کے ساتھ مشروط ہے ، حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ حلال رزق کھائو گے تو دعا قبول ہوگی ، دوسری چیز یہ ہے کہ دل کی پوری توجہ ساتھ ہونی چاہئے۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے ان اللہ لا یقبل دعاء من قلب لاہ غافل یعنی اللہ تعالیٰ اسی دعا کو قبول فرماتے ہیں کہ جو عاجزی کے ساتھ دل کی گہرائیوں اور پوری توجہ کے ساتھ کی گئی ہو ، جو غافل ہے لہو و لعب میں مشغول ہے ، اس کی دعا قبول نہیں کی جاتی ، نیز یہ بھی آتا ہے کہ دعا جب پورے یقین کے ساتھ کی جائے گی تو اللہ تعالیٰ ضرو ر قبول فرمائیں گے ۔ حضرت یحییٰ معاذ رازی (رح) بڑے پائے کے بزرگ ہوئے ہیں ، ایک موقع پر فرمایا کیف ادعوک وانا اثم یعنی پروردگار ! میں تجھ سے کیسے دعا کروں ، کیونکہ میں تو گناہ گار ہوں ، پھر جلدی سے فرمایا کیف لا ادعوک وانت کریم میں تیرے سامنے کس طرح نہ دعا کروں کیونکہ تو کریم ہے ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کریم ہے وہ حیا کرتا ہے ، جب اس کا بندہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھایا ہے تو اللہ تعالیٰ اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ بندے کے ہاتھ خالی لوٹا دے لہٰذا اس کی دعا قبول کرلیتا ہے اور حدیث شریف میں ایسی دعا سے پناہ مانگی گئی ہے جو قبول نہ ہو ۔ دعا کی قبولیت کا معنی بھی سمجھ لینا چاہئے ، قبولیت دعا صرف اسی چیز کا نام نہیں کہ انسان جو مانگے فوراً مل جائے بلکہ کسی چیز کا حاصل ہونا تو حکمت خداوندی کے مطابق ہوتا ہے اور بعض اوقات انسانی ذہن بالکل بچوں والی حرکات کر بیٹھتا ہے وہ اللہ سے ایسی چیز طلب کرتا ہے جو اس کی حکمت کے مطابق انسان کے لیے بہتر نہیں ہوتی ، لہٰذا اللہ تعالیٰ ایسی چیز اس کے مقدر میں نہیں کرتا ، انسان سمجھتا ہے کہ ا س کی دعا قبول نہیں حالانکہ اس چیز کا نہ ملنا اس کی خیر خواہی میں ہوتا ہے ، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی ناسمجھ بچہ اصرار کرے کہ آگ کا انگارہ اس کے ہاتھ میں پکڑا دیا جائے ، مگر کون عقل مند ہوگا جو بچے کی یہ خواہش پوری کریگا ، اسی طرح اللہ تعالیٰ انسان کی دعا قبول ضرو ر کرتا ہے مگر اپنی مصلحت کے مطابق ، حضور ﷺ نے قبولیت دعا کی تین صورتیں بیان فرمائی ہیں ۔ جب دعا مصلحت خداوندی کے مطابق ہوتی ہے ، تو وہ فوراً قبول کرلی جاتی ہے اور بندہ کو اسکی مطلوبہ چیز دے دی جاتی ہے ، دوسری صورت یہ ہے کہ مطلوبہ شے تو بندہ کو نہیں ملتی مگر اس دعا کی برکت سے بندہ پر نازل ہونے والی کوئی مصیبت ٹال دی جاتی ہے ، حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ جب بندہ کی دعا نکلتی ہے ، تو وہ آنے والی مصیبت کے ساتھ ٹکراتی ہے ، اور وہ اسے نیچے نہیں آنے دیتی حتیٰ کہ صور اسرافیل پھونکا جائے ۔ فرمایا دعا کی قبولیت کی تیسری صورت یہ ہے کہ اسے دعا کرنے والے کے لیے ذخیرہ آخرت بنا کر رکھ دیا جاتا ہے ، قیامت کے دن دعا گو کو پتہ چلے گا کہ دعائوں کے کتنے ذخیرہ اس کے لیے موجود ہیں ۔ اس دن بندہ خواہش کرے گا ، کاش کہ دنیا میں اس کی کوئی دعا قبول ہی نہ ہوتی اور وہ سب کو سب اس کے لیے آخرت کا ذخیرہ ہی بن جاتی ۔ فرمایا جب میرے بندے آپ سے میرے متعلق سوال کریں تو میں تو قریب ہوں میں ہر پکارنے والے کی پکار کو قبول کرتا ہوں ، جب وہ مجھ سے دعا کرتا ہے۔ فلیستجیبوالی پس چاہئے کہ وہ میرے حکم کی تعمیل کریں ۔ والیومنوا بی اور چاہئے کہ وہ مجھ پر یقین رکھیں مجھ پر ایمان کامل رکھیں لعلھم یرشیدون تا کہ راہ پائیں یعنی انہیں نیک راہ اس وقت نصب ہوگی جب وہ تعمیل حکم کریں گے اور ایمان لائیں گے۔
Ayah 2:187

اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمْ١ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ١ۚ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ١۪ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ١ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ١ۙ فِی الْمَسٰجِدِ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 2:187 in the Quran reader

حلال قرار دیا گیا ہے تمہارے لیے روزہ کی راتوں میں اپنی عورتوں کے ساتھ بےپردہ ہونا ، وہ تمہارے لیے بمنزلہ لباس کے ہیں ، اور تم ان کے لیے بمنزلہ لباس کے ہو ، اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم اپنی جانوں کے ساتھ خیانت کرتے تھے پس اللہ نے تمہارے اوپر رجوع فرمایا ہے مہربانی کے ساتھ اور تم کو صاف کردیا ہے۔ اب ملو عورتوں سے اور تلاش کرو وہ چیز جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے اور کھائو اور پیو یہاں تک کہ صاف ظاہر ہوجائے تمہارے لیے سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے فجر سے ، بھر پور کرو روزہ کی رات تک اور نہ ملو عورتوں سے اس حال میں کہ تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھنے والے ہو ، یہ اللہ کی قائم کردہ حدیں ہیں پس ان کے قریب نہ جائو ، اسی طریقے سے اللہ تعالیٰ اپنی آیتیں لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں تا کہ وہ متقی بن جائیں

گزشتہ سے پیوستہ حصول تقویٰ کے کئی ایک ذرائع ہیں ، منجملہ ان کے روزہ بھی ایک ہے ، اس سے پہلے روزے کی فرضیت اور اسکے لیے دنوں کے تعین کا بیان ہوچکا ہے اس کے بعد صدقہ نظر کا مسئلہ اور رمضان المبارک کی فضلیت کا بینا ہوا ، پھر قرآن کریم کے نزول کا ذکر اور رمضان کے مسائل کا تذکرہ ہوا اللہ تعالیٰ کی تکبیر بیان کرنے اور اس کا شکر ادا کرنے کا حکم ہوا ۔ شان نزول اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے روزے کے بعض دیگر مسائل بیان فرمائے ہیں ، فرضیت رمضان نے پہلے یہود و نصاریٰ چوبیس گھنٹے کا روزہ رکھتے تھے اور سحری نہیں کرتے تھے ، جب مسلمانوں پر رمضان کے روزے فرض ہوئے تو حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا فرق ما بیننا و بین اھل الکتب اکلۃ اسحر یعنی ہمارے رمضان اور اہل کتاب کے روزے میں سحری کھانے کا فرق ہے ، فرضیت رمضان کے ابتدائی عرصہ میں ہماری شریعت میں بھی یہ قانون تھا کہ رات کو نماز عشاء کے بعد یا ایک دفعہ سو جانے کے بعد کھانا پینا اور مباشرت منع تھی ۔ عشاء کی نماز یا سونے سے پہلے کھانا پینا اور مباشرت جائز تھی ۔ بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ کے ایک صحابی قیس بن صرمہ انصاری ؓ کاشت کار تھے ۔ دن بھر کی مشقت کے بعد گھر آئے تو بیوی سے کھانا طلب کیا ، عورت نے خود روزہ رکھا ہوا تھا ، گھر میں کھانا نہیں تھا۔ وہ اپنے پڑوس یا رشتہ داروں کے ہاں کھانا لینے چلی گئی ، واپس آئی تو شوہر نیند کے غلبہ کی وجہ سے سو گیا تھا ۔ اسے سخت افسوس ہوا کہ سونے کے بعد اٹھ کر اب کھانا کھانا جائز نہیں ، لہٰذا صحابی رسول کو اگلے دن کا روزہ بغیر کھائے پئے رکھنا پڑا ، دوپہر تک صحابی رسول پر غشی طاری ہوگئی ، سخت موسم اور مسلسل دو روز کے روزہ کی وجہ سے نڈھال ہوچکے تھے۔ بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد آیت نازل ہوئی ، جس میں آسانی پیدا کردی گئی اور رات کے وقت کھانا پینا اور عورت سے مباشرت جائز قرار دے دی گئی ۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ خود حضرت عمر ؓ کے ساتھ اس قسم کا واقعہ پیش آیا تھا کہ اپنی بیوی سے مباشرت کرلی اور حضور ﷺ کے سامنے اس غلطی کا اعتراف کیا ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے افسوس کا اظہار کیا اور فرمایا کہ ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا ۔ اس قسم کے واقعات پیش آنے پر اللہ تعالیٰ نے یہ پابندی دور کر کے اہل اسلام کے لیے آسانی پیدا کردی ۔ اب رات کے وقت اختتام سحری تک کے لیے یہ پابندی ہٹا لی گئی ، چناچہ ارشاد ہوتا ہے احل لکم لیلۃ الصیام الرفث الی نساء کم حلال قرار دیا گیا ہے۔ تمہارے لیے رمضان کی راتوں میں اپنی عورتوں کے ساتھ بےپردہ ہونا ، رفث کا معنی عریانی اور بےحجابی کی بات کرنا ہے اور مراد عورت سے ملنا ، اس سے مباشرت کرنا ہے۔ فلسفہ لباس آگے عورتوں کی بمنزلہ لباس قرار دیکر لباس کی حکمت اور فلسفہ بھی بیان کردیا ھن لباس لکم یہ عورتیں تمہارے لیے لباس کی مانند ہیں وانتم الباس لھن اور تم ان کے لیے بمنزلہ لباس کے ہو گویا ان دو جملوں میں پوری ازدواجی زندگی کا فلسفہ بیان کردیا ہے ، لباس انسان کے جسم کے ساتھ ملا ہوا ہوتا ہے۔ جس طرح انسانی جسم اور لباس کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا ۔ اسی طرح میاں بیو ی کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا ، لہٰذا تم اپنی عورتوں سے مستفید ہو سکتے ہو۔ لباس کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس سے انسان کو زینت حاصل ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر لباس کی حکمت اور فلسفہ خود بیان فرمایا ہے۔ وانزلنا علیکم لباسا ً یواری سوا تکم وریشا یعنی ہم نے تمہارے لیے لباس پیدا کیا ، اس کے دو فائدے ہیں ، ایک تو یہ ستر پوشی کرتا ہے ، جو فطری چیز ہے کہ اس کے بغیر انسان اور حیوان میں امتیاز باقی نہیں رہتا ، اور دوسرا یہ زینت کا باعث بھی ہے ۔ الناس باللباس لوگ لباس کے ساتھ ہی جچتے ہیں ، لباس کے بغیر کوئی زینت نہیں ، چونکہ عورت مرد کے لیے زیب وزینت کی بنیاد ہے اس لیے عورت کو لباس کے ساتھ مشابہت دی ، اس کے علاوہ ایک تیسرا اخلاقی پہلو بھی ہے ، عورت اس لحاظ سے لباس ہے ، کہ یہ انسان کے عیوب کو چھپانے کا ذریعہ بھی ہے ، انسان کو حیوان کے مقابلہ میں ایک تمدنی حیثیت حاصل ہے ۔ ایک مرد اور ایک عورت آپس میں نکاح کرنے کے بعد اپنے فطری جذبہ کو پورا کرتے ہیں ۔ اس لیے عورت اور مرد کو ایک دوسرے کے لباس سے تشبیہ دی گئی ہے۔ سابقہ لغزش کی معافی اللہ تعالیٰ نے اس قسم کی سابقہ لغزشوں کی کلیتا ً معافی دے دی ۔ فرمایا علم اللہ انکم کنتم تختانون انفسکم اللہ جانتا ہے کہ تم اپنی جانوں کے ساتھ خیانت کرتے تھے ۔ یعنی تم میں سے بعض لوگ سونے کے بعد یا بعد از نماز عشاء اپنی بیویوں کے پاس چلے جاتے تھے ، جو کہ ممنوع تھا۔ فتاب علیکم پس اللہ تعالیٰ نے مہربانی کے ساتھ تم پر رجوع فرمایا ہے ، تاب کا معنی توبہ بھی ہوتا ہے اور رجوع کرنا بھی ، جب بندہ کوئی غلطی کرتا ہے تو وہ برائی یا لغزش سے واپس پلٹ جاتا ہے اور جب ہی لفظ اللہ تعالیٰ کے لیے بولا جائے ، تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مہربانی کے ساتھ رجوع فرماتا ہے ، اس مقام پر بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری لغزش کو جانتے ہیں ، مگر انہوں نے کمال مہربانی سے تم پر رجوع فرمایا ہے وعفا عنکم اور تمہیں معاف کردیا ، نیز آئندہ کے لیے اجازت دے دی ہے فالئن باشروھن کہ اب تم عورتوں سے مل سکتے ہو یعنی ان سے مباشرت کرسکتے ہو۔ حصول اولاد یہ اجازت دینے کے بعد ایک جملے کا اضافہ کردیا وابتغوا ما کتب اللہ لکم جو کچھ اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے اسے تلاش کرو ، مقصد یہ کہ مباشرت سے مطلوب محض خواہش نفسانی کی تکمیل ہی نہیں بلکہ حصول اولاد ہے جو اللہ نے تمہاری مقدر میں کردی اور نکاح کا اصل مقصد بھی یہی ہے کہ نسل انسانی قائم رہے ، چونکہ متعہ میں نسل انسانی کی بقاء مقصود نہیں ہوتی اس لیے اس کی اجازت نہیں دی گئی ۔ مولانا محمد قاسم ناناتوی (رح) فرماتے ہیں کہ متعہ سے نسل انسانی منقطع ہوتی ہے ، کیونکہ متعہ کے ذریعہ پیدا ہونے والی مرد کی اولاد ہی تصور نہیں ہوتی نہ اس سے نسب ثابت ہوتا ہے اور نہ مولود کو وراثت میں حصہ ملتا ہے ، لہٰذا یہ غلط کام ہے نہ صرف انسانی حقوق تلف ہوتے ہیں بلکہ یہ تو انسانیت کی توہین ہے ، لہٰذا نکاح کا مقصد نسل انسانی کی بقاء ہونا چاہئے۔ تکمیل روزہ فرمایا وکلوا واشربورات کو کھائو پیو اسکی اجازت ہے ، اب کوئی پابندی باقی نہیں رہی سوائے اس کے کہ حتی یتبیسن لکم الخیط الا بیض من الخیط الاسود یہاں تک کہ صاف ظاہر ہوجائے دھاگہ سیاہ دھاگے سے بعض روایات میں آتا ہے بعض لوگوں کو اس معاملہ میں غلطی لگی اور انہوں نے دھاگا سے عام قسم کی ڈوری مراد لیا۔ عدی بن حاتم ؓ کا ذکر اس ضمن میں خاص طور پر آتا ہے ، انہوں نے اپنے پاس سفید و سیاہ رنگ کی دو رسیاں رکھ لیں تا کہ ان کی شناخت تک کھا پی سکیں ، جب اس بات کا ذکر حضور ﷺ سے کیا ، تو آپ مسکرائے ، اور فرمایا اذاوسادتک عریض تمہارا تکیہ تو بہت لمباچوڑا ہے کہ اس میں رات اور دن کو لپیٹ رکھا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جب اس قسم کی غلط فہمی پیدا ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اگلے الفاظ من الفجر اتار کر معاملہ کو بالکل واضح کردیا کہ دھاگے سے مراد عام ڈوری نہیں بلکہ اس سے مراد صبح کی سفیدی اور رات کی سیاہی ہے ، جب رات کی سیاہی ختم ہو کر صبح کی سفیدی ظاہر ہوجائے ، اس وقت تک تم کھا پی سکتے ہو اور اپنی بیویوں سے مباشرت بھی کرسکتے ہو ، گویا روزے کی ابتداء صبح صادق سے ہوگی ۔ ثم اتمر الصیام الی اللیل پھر رات تک روزے کو پورا کرو یعنی طلوع فجر سے لے کر رات کی آمد تک روزہ رکھو ، رات سے مراد مطلق غروب آفتاب ہے نہ کہ سرخی یا سفیدی کا زائل ہونا جو نہی سورج ڈوب گیا ، رات ہوگئی ، روزہ افطار کرلینا چاہئے ، مزید کسی چیز کا انتظار نہیں کرنا چاہئے۔ سحری کی برکات اس سے یہ بھی اخذ کیا گیا ہے کہ عام لوگ صوم و صال نہ کریں یعنی متواتر کئی کئی دن کا روزنہ نہ رکھیں بلکہ روزہ رکھتے وقت ہر روز سحری کھانا مستحب ہے ، اور بڑے اجر وثواب کا باعث ہے فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر بھوک نہ بھی ہو تو ایک دو لقمے ہی کھالینا چاہئے ۔ یا دو گھونٹ پانی ہی پی لینا چاہئے تا کہ سحری میں شمولیت حاصل ہوجائے ۔ اللہ تعالیٰ سحری کھانے والوں پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں کے لیے مسلسل دعائیں مانگتے ہیں ، سحری کھانے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اہل اسلام اور اہل کتاب کے روزے میں واضح تفریق پیدا ہوجاتی ہے ، لہٰذا سحری ضرور کھانی چاہئے ، یہ بڑی با برکت چیز ہے۔ صوم وصال صوم وصال حضور ﷺ کا معمول تھا ، آپ کئی کئی دن بغیر سحری کھائے اور افطار کئے روزہ رکھتے۔ جب صحابہ کرام ؓ نے بھی آپ کے اتباع میں صوم وصال شروع کردیا ، تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ مجھے تو اللہ تعالیٰ روحانی غذا دیتا ہے جسکی طاقت سے میں ایسا روزہ رکھ لیتا ہوں ، مگر تم میں اتنی قوت برداشت نہیں ہے۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ روحانی طاقت خاص خاص آدمیوں میں ہوتی ہے ۔ ایسے لوگ صوم وصال رکھ سکتے ہیں ۔ عام لوگوں کے بس کی یہ بات نہیں ہے ، چونکہ عام لوگ اتنی مشقت برداشت نہیں کرسکتے ، لہٰذا ان کے لیے صوم وصال مکروہ ہے ۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کا آخری روزہ چالیس دن کا تھا اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے روحانی طاقت سے نوازا تھا ، آپ بالائی منزل سے نیچے اتر کر مسجد میں با جماعت نماز ادا کرتے ، اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اتنے لمبے روزے کے باوجود ان کے فرائض میں کوئی کمی نہیں آئی تھی ، بعض دوسرے بزرگوں کے واقعات میں بھی صوم وصال کا ذکر ملتا ہے ، بہر حال یہ خاص لوگوں کا شیوہ ہے ، عام لوگوں کے لیے مکرو ہ ہے۔ اعتکاف فی المساجد فرمایا کہ اپنے گھروں میں تمہیں اجازت ہے کہ رمضان کی راتوں میں بیویوں سے مقاربت کرسکتے ہو ، مگر وہ تبارشروھن وانتھم عکفون فی المسجد جب تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھنے والے ہو ، تو پھر تم اپنی عورتوں سے نہیں مل سکتے۔ اگر عورت کو شہوت کے ساتھ ہاتھ لگانے سے بھی مادہ خارج ہوگیا تو اعتکاف باطل ہوجائے گا ، یہاں پر مساجد کے ذکر سے یہ مراد نہیں کہ گھروں میں اعتکاف کی حالت میں ایسا کرسکتے ہو بلکہ لا اعتکاف الا فی المسجد مسجد کے بغیر نو مرد کا اعتکاف ہوتا ہی نہیں ۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ مسجد بھی ایسی ہونی چاہئے جہاں پنجگانہ نماز با جماعت کا انتظام ہوتا کہ نماز کے لیے کسی دوسری جگہ نہ جانا پڑے ، البتہ اعتکاف کے لیے جامع مسجد کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ معتکف کو نماز جمعہ کے لیے دوسری مسجد میں جانے کی اجازت ہے ، ایسی صورت میں نماز جمعہ کے بعد اسے فوراً واپس اپنی اعتکاف والی جگہ میں آنا چاہئے۔ عورتوں کا اعتکاف عورتوں کے اعتکاف کے متعلق فقہائے کرام میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ امام مالک (رح) کا مسلک یہ ہے کہ مردوں کی طرح عورتیں بھی مسجد میں اعتکاف کریں مگر امام شافعی (رح) فرماتے ہیں ، چونکہ عورت اور غلام پر نماز با جماعت اور جمعہ فرض نہیں ہے۔ اس لیے وہ جہاں بھی اعتکاف بیٹھنا چاہیں ایسا کرسکتی ہیں ، ان کے لیے اپنے گھر میں اعتکاف بیٹھنا بھی روا ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور ان کے شاگرد ان امام ابو یوسف اور امام محمد (رح) اور امام زفر (رح) فرماتے ہیں کہ عورت کو اپنے گھر میں ایسی جگہ اعتکاف بیٹھنا چاہئے جو اس نے نماز کے لیے منتخب کر رکھی ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے حضور ﷺ کا ارشاد ہے لا تمنعوا اماء اللہ مساجد اللہ کی بندیوں کو مسجدوں میں جانے سے مت روکو وبیوتھن خیر لھن مگر ان کے گھر ان کے لیے زیادہ بہتر ہیں ۔ عورت کی گھر میں نماز مسجد کی نسبت زیادہ فضلیت رکھتی ہے لہٰذا عورت کو اعتکاف بھی گھر میں ہی بیٹھناچاہئے ، ہاں اگر مسجد پر امن ہو اور وہاں عورتوں کے اعتکاف بیٹھنے کا معقول انتظام ہو ، تو مسجد میں اعتکاف بیٹھ سکتی ہے حضور ﷺ کی ازواج مطہرات مسجد میں اعتکاف کیا کرتی تھیں ۔ حفاظت پر حدود شرعیہ یہ مسائل بیان کرنے کے بعد فرمایا تلک حدود اللہ یہ اللہ کی قائم کردہ حدیں ہیں ، فلا نقربوھا پس ان کے قریب مت جائو ، یعنی حدوں کو توڑنے کی کوشش مت کرو ، بلکہ مومن کی شان تو یہ ہے کہ وہ اللہ کی حدود کی حفاظت کرتا ہے۔ والحفظون لحدود اللہ ظاہر ہے کہ اگر ان حدود کو توڑو گے تو تقویٰ سے محروم ہو جائو گے ۔ ترقی رک جائے گی اور خرابیاں پیدا ہونے لگیں گی ، لہٰذا ان حدود کے قریب بھی نہ جائو ، ان کی نگرانی کرو ، اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ یہ قانون بتلا دیا ہے۔ فرمایا کذلک یبین اللہ ایتہ للناس اللہ تعالیٰ اسی طریقے سے اپنے احکام اور آیات لوگوں کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔ لعلھم یتقون تا کہ وہ بچ جائیں برائیوں سے کنارہ کش ہو کر متقی بن جائیں ، ابتداء میں روزے کا مقصد بھی یہی بتایا تھا۔ لعلکم تتقون تا کہ تم متقی بن جائو ، پھر مالی حقوق کے متعلق بھی فرمایا حفا ً علی المتقین اور یہاں بھی آخر میں تقویٰ ہی کو بنیاد بنایا لعلھم یتقون۔