Ayahs 2:194–195گزشتہ سے پیوستہ
اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے جہاد اور قتال کا حکم دیا تھا ، اور اس کی وجہ یہ بھی بیان فرمائی کہ مشرکین کے برپا کردہ فتنہ و فساد کو فرد کرنے اور ظلم و زیادتی کو ختم کرنے کے لیے جہاد ضروری قرار دیا گیا ہے ، یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ عام طور پر جہاد اپنے دفاع کے لیے کیا جائے ، البتہ اگر اغیار کے ظلم و ستم کی بناء پر مخلوق خدا کی جان و مال اور عزت و ناموس خطرے میں ہو تو جنگ میں پہل بھی کی جاسکتی ہے حرمت والے چار مہینوں کا ذکر بھی اجمالا ً آ چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تخلیق ارض و سماکے وقت سے ہی بارہ مہینوں کی تقویم مقرر کر رکھی ہے ۔ جس میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں ۔ ملت ابراہیمی میں یہ امر مسلم ہے کہ ان چار مہینوں میں مشرک بھی لڑائی نہیں کرتے تھے بلکہ عام راہزن بھی کسی مال نہیں لوٹتے تھے اور تجارتی قافلے پرامن گزر جاتے تھے ، ان مہینوں کا اس قدر احترام کیا جاتا تھا یہ چار مہینے رجب ، ذی قعدہ ، ذی الحج اور محرم ہیں ۔
حدیبیہ کا واقعہ
انہی محترم مہینوں میں سے ذی قعدہ 6ھ میں حضور نبی کریم ﷺ نے عمرہ کا ارادہ فرمایا ، اس سفر میں چودہ سو کے قریب صحابہ ؓ آپ کے ہم سفر تھے ، جب مکہ کے نزدیک حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو مشرکین مکہ نے شہر میں داخل ہونے سے روک دیا ، حالانکہ ہدی کے جانور صحابہ ؓ کے ہمراہ تھے ، جس کا مطلب یہ تھا کہ یہ قافلہ عمر ہ کے ارادہ سے آیا ہے ، نہ کہ جنگ وجدال کی نیت سے ، حرمت والا مہینہ تھا۔ صحابہ ؓ نے احرام باندھے ہوئے تھے ، مگر مشرکین نے آپ کو عمرہ ادا کرنے سے روک دیا ، آخر گفت و شنید ہوئی ، جس کے نتیجہ میں صلح کا معاہدہ لکھا گیا کہ اس سال مسلمان عمرہ ادا نہیں کریں گے ، بلکہ آئندہ سال انہیں اجازت ہوگی ، مگر تین دن سے زیادہ مکہ میں قیام نہیں کریں گے ۔ صحابہ ؓ اس معاہدہ کے حق میں نہ تھے ، انہوں نے عرض کی کہ حضور کیا نعوذ باللہ آپ کا خواب غلط ہوگیا ہے۔ آپ نے تو دیکھا تھا کہ ہم عمرہ ادا کر رہے ہیں حجامت بنوا رہے ہیں ، مگر ہماری یہ حسرت تو پوری نہ ہوسکی ۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میرے صحابہ ! فکر نہ کرو ، خواب بالکل سچا تھا ہم ضرو ر عمرہ کریں گے کیونکہ خواب میں تو واضح نہیں تھا۔ کہ ضرور اسی سال کریں گے ، عمرہ آئندہ سال بھی ہو سکتا ہے ، چناچہ ایسا ہی ہوا ۔ حضور ﷺ اپنے صحابہ کے ہمراہ اگلے سال یعنی 7ھ میں تشریف لائے اور عمرہ کیا ، آپ کا یہ عمرہ عمرۃ القضاء کہ لایا کیونکہ پہلے سال احرام باندھ کر اس فرض سے سبکدوش نہیں ہو سکے تھے اور بغیر عمرہ کیے احرام کھول دیے تھے۔
جنگ کی اجازت
7ھ میں جب حضور ﷺ عمرہ کے لیے دوبارہ تشریف لائے ، تو اس وقت بھی کفار مکہ کے بد عہدی کرنے اور عمرہ سے روک دینے کا امکان تھا ، مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ گزشتہ سال مشرکین نے محترم مہینوں کا ادب نہ کیا تو در گزر سے کام لیا گیا ، اب اگر ایسا کریں تو تمہیں لڑائی کی اجازت ہے ، ان سے پورا پورا مقابلہ کیا جائے اور انہیں ترکی بہ ترکی جواب دیا جائے گا ۔ اس سال پھر ذی قعدہ کا حرمت والا مہینہ تھا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر اب انہوں نے اس مہینہ کا احترام نہ کیا اور آمادہ ہوئے تو تم پر بھی ایسا کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔
ادلے کا بدلہ
فرمایا الشھر الحرام بالشھر الحرام حرمت والا مہینہ حرمت والے مہینے کے مقابلہ ہے۔ والحرمت قصاص اور تمام ادب والی چیزوں کا بدلہ ہے ، حرمت والی چیزوں میں بیت اللہ شریف ، مسجد الحرام تمام مساجد اور حرم کا پورا خطہ شامل ہے ، لہٰذا ان تمام چیزوں کا احترام کرنا چاہئے ، ان میں جنگ وجدال اور فتنہ و فساد برپا نہیں ہونا چاہئے۔ مسلمان کو بہر حال ان کا احترام کرتے ہیں ، البتہ اگر مشرکین ان کے ادب کو ملحوظ نہ رکھیں اور لڑائی پر آمادہ ہوں تو پھر مسلمانوں کو بھی اجازت ہے کہ ان کا بدلہ چکائیں ۔ مطلب یہ کہ فمن اعتدی علیکم جو کوئی تم پر زیادتی کرے ، فاعتدوا علیہ بمثل ما اعتدی علیکم تو تم بھی اس پر اسی طرح زیادتی کرو ، جس طرح اس نے تم پر کی ہے۔ یہی قانون اللہ تعالیٰ نے سورة نحل میں بھی بیان فرمایا ہے ، اگر ان کی تعدی کے عوض میں معاف کر دو ، تو تمہیں بڑا اجر ملے گا ۔ اور اگر بدلہ لینا ہے ، تو پھر انہیں اسی قدر ایذا پہنچائو ، جس قدر انہوں نے تمہیں پہنچائی ہے ، ان سے زیادتی نہ کرو۔
خوف خدا
وتقوا اللہ اور اللہ سے ڈرتے ہو ، کہ اس کے قانون کے خلاف ورزی نہ ہونے پائے ، اور اگر تم خوف خدا کو دل میں جگہ دو گے تو پھر تمہیں خوشخبری ہو کہ واعلموا ان اللہ مع المتقین اور جان لو کہ بیشک اللہ تعالیٰ متقیوں کے ساتھ ہے ، یعنی اس کی رضا اور خوشنودی بھی ایسے ہی لوگوں کے حق میں ہوتی ہے ، نہ کہ کافروں اور ظالموں کے ساتھ ، بہر حال مسلمانوں کو حکم دیا کہ لڑائی میں تم ابتداء نہ کرو اور حرمت والے مہینوں کا پورا پورا احترام کرو ، البتہ اگر مشرکین اس بات کی پروا نہیں کرتے تو پھر تمہیں بھی اپنا دفاع کر نیکی اجازت ہے ، مگر وہ بھی اس حد تک جس حد تکمدقمبال جائیں ، زیادتی نہیں کرنا۔ یہ مسلمان کے لئے دائمی قانون ہے۔ برخلفا اس کے کفار و مشرکین نے ہمیشہ عہد کو توڑا یہودیوں اور عیسائیوں نے اللہ کے قانون کی پروا نہ کی اور ذلیل و خوار ہوئے۔ انہوں نے اللہ کا خوف نہ کھایا۔ میدان جنگ کے علاوہ عورتوں اور بچوں کو تہ تیغ کیا۔ بوڑھوں پر ہاتھ اٹھایا۔ آج کی دنیا میں بھی امریکہ ہو یا برطانیہ روس ہو یا فرانس جب آتش انتقام بھڑکتی ہے۔ تو شہروں پر بمباری کرنے سے نہیں ہچکچانے کتنے شہری ہیں جو لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ کتنے بیمار ہیں جو جانبر نہیں ہو سکتے۔ آج کی دنیا کے یہ نام نہاد متمدن لوگ جب درنگدی پر اتر آتے ہیں۔ تو پھر تمام انسانی قدروں کو روند ڈالتے ہیں۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے کہ یہ لوگ خوف خدا سے عاری ہیں۔
اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالنا
جہاد جیسے اہم فریضہ کی ادائیگی کے لئے اخراجات کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ مال و دولت کے بغیر جہاد کا کوئی تصور نہیں ، اس لئے یہاں پر حکم ہوا۔ وانفقوا فی سبیل اللہ اور اللہ کے راستے میں خرچ کرو ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ اس آیت کو سمجھنے میں بعض صحابہ کو اشتباہ ہوا تھا اور حضرت ابوایوب انصاری نے اس عقدہ کو حل کیا تھا۔ یہ وہی جلیل القدر صحابی ہیں۔ جنہیں مدینہ طیبہ میں حضو ر (علیہ السلام) کی میزبانی کا شرف اولین حاصل ہوا تھا۔ یہ جہاں پر بیٹھ جائے گی۔ اسی کے ہاں میرا قیام ہوگا۔ چناچہ یہ سعادت حضرت ابو ایوب انصاری کے حصہ میں آئی اور وہ آپ کا جاوہ اٹھا کر اپنے گھر لے گئے۔ جب تک مسجد نبوی اور آپ کا حجرہ تیار نہ ہوگیا ، آپ اسی صحابی کے ہاں مقیم رہے۔ حضرت ابو ایوب استنبول کے جہاد میں شریک ہوئے ۔ وہیں آپ کی وفات ہوئی اور استنبول کی دیوار کے قریب دفن ہوئے۔ حضور ﷺ نے اس جہاد کی پیش گوئی فرما دی تھی۔ کہ آخری زمانہ میں مسلمان استنبول جو ترکی کا دارالخلافہ ہے۔ کو فتح کریں گے ، پرانے زمانے میں اسے قسطنطنیہ کہتے تھے۔ پھر جب دجال کا زمانہ قریب آئے گا تو اس علاقہ پر عیسائیوں کا قبضہ ہوجائے گا۔ اس کے بعد پھر مسلمان غالب آجائیں گے۔
الغرض اس جہاد کی کمان مشہور سپہ سالار خالد بن ولید کے بھائی عبدالرحمٰن بن ولید کر رہے تھے۔ میدان جنگ کا نقشہ کچھ یوں تھا کہ سامنے دشمن تھا۔ اور مسلمانوں کے پیچھے دیوار تھی ، گویا مسلمان گھرے ہوئے تھے۔ ایک مسلمان جذبہ جہاد میں کفار کی صفوں میں گھس گیا ، بڑے زور شور سے حملہ کیا۔ بالکل اسی طرح جس طرح یرموک کی لڑا ئی میں حضرت زبیر لاکھ سوا لاکھ کفار کی صفوں پر تن تنہا حملہ آور ہوئے تھے۔ اسی طرح یہ گھوڑا سوار صحابی دشمن کی صفوں کو چیرتے ہوئے دوسری طرف نکل گئے اور پھر ادھر سے حملہ آور ہو کر واپس آئے۔ اس موقع پر ایک شخص نے یہ آیت پڑھی ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ یعنی اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو تن تنہا اتنے بڑے لشکر میں گھس جانا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
حضرت ابو ایوب انصاری واں موجود تھے ، کہنے لگے بھئی اس کا یہ مطلب نہیں جو تم سمجھ رہے ہو۔ یہ آیت تو ہمارے یعنی انصار مدینہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جاد کو ترک کر کے اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ یعنی اگر تم نے جہاد سے منہ موڑ لیا۔ تو من حیث القوم زندہ نہیں رہ سکو گے۔ فرماتے ہیں کہ اسلام کے ابتدائی دور میں ہم نے مہاجرین کی میزبانی کی ، پھر سالام کی خاطر جنگیں بھی لڑیں ، پھر جب دین کو کافی حد تک غلبہ حاصل ہوگیا۔ تو ہم انصار نے خیال کیا کہ ہم مالی لحاظ سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں لہٰذا اب ہمیں اپنے کاروبار اور زمینوں کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے بات سمجھا دی کہ کاروبار میں مصروف ہو کر جہاد اور انفاق فی سبیل اللہ کو ترک نہ کر بیٹھنا۔ اگر ایسا کیا تو ذلیل و خوار ہو جائو گے ، ہلاکت میں پڑ جائو گے۔ لہٰذا جہاد کے لئے ہر آن اور ہر لمحہ کمر بستہ رہو۔ مطلب یہ ہے کہ دشمن کی صفوں میں گھس جانا ہلاکت کا باعث نہیں بلکہ جہاد سے رو گردانی کرنا ہلاکت کو دعوت دینا ہے۔ اگر جہاد ترک کر دوں۔ آرام طلب بن جائو گے ، تو دشمن تم پر غالب آ کر تمہیں ہلاکت میں ڈال دے گا۔
فقہ حنفی
امام ابوحنیفہ اور آپ کے جلیل القدر شاگردوں نے بھی اس مسئلہ پر بحث کی ہے امام صاحب تابعین میں سے ہیں۔ آپ کی ملاقات آٹھ اصحاب رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے۔ آپ کے علاوہ باقی تین آئمہ یعنی امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد میں سے کسی کو تابعی ہونے کا شرف حاصل نہیں ہوا۔ پیشہ کے لحاظ سے امام ابوحینفہ تاجر تھے آپ کے کارخانہ میں کپڑا تیار ہوتا تھا ، جس کی آپ وسیع پیمانے پر تجارت کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے مال بھی دیا تھا اور پھر اسے خرچ کرنے کا حوصلہ بھی عطا فرمایا تھا خصوصاً غریب طلباء کی اس طرح مدد کرتے تھے کہ کسی کو پتہ بھی نہ چلتا تھا۔ آپ کے شاگردوں کی تعداد شمار سے باہر ہے ، جن میں بڑے قابل لوگ ہوئے ہیں۔ خصوصاً امام ابو یوسف علم حدیث میں بڑی دسترس رکھتے تھے اور امام محمد …لغت دانی کے لحاظ سے بےمثال تھے ۔ آپ امام شافعی کے استاد تھے امام احمد کا قول ہے کہ جس مسئلہ پر امام ابوحنیفہ امام یوسف اور امام محمد جمع ہوجائیں ، تو پھر مخالفت نہیں ہو سکتی۔ ان تینوں کا اجماع گویا فقہ ، حدیث اور زبان کا اجماع ہے۔ دنیا میں فقہ حنفی کی اس قدر پذیرائی اما م صاحب کے قابل شاگردوں کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے۔ امام ابو یوسف اپنے دور میں ساٹھ لاکھ مربع میل پر محیط سلطنت خلافت کے چیف جسٹس تھے اس وقت اسلامی مملکت ایک طرف خراسان تک اور دوسری طرف افریقہ تک پھیلی ہوئی تھی۔ امام لیث ابن سعد ، امام مالک کی طرح بڑے امام تھے مگر ان کے شاگردوں میں کوئی قابل ذکر ہستی نظر نہیں آتی۔ امام شافعی کے شاگرد بڑے قابل تھے ، لہٰذا ان کا مسلک دور دور تک پھیلا۔ امام احمد کے شاگردوں نے بڑی محنت کی جس کی وجہ سے آپ کا مسلک بھی پھیلا۔
قانون صلح و جنگ
امام محمد نے سیر کبیر اور سیر صغیر دو مشہور کتابیں لکھی ہیں ان میں سیر کبیر اسلام کے قانون صلح و جنگ کے متعلق ہے۔ اسلام کے اس قانون کو سمجھنے کے لئے اس سے بڑھ کر اور کوئی کتاب نہیں۔ اس میں احادیث رسول مقبول ﷺ آثار صحابہ کر اور خلفائے راشدین کے فیصلوں کی روشنی میں مسائل صلح و جنگ کو حل کیا گیا ہے۔ ان کے سامنے بھی یہ مسئلہ پیش ہوا کہ اگر کفار کی کثیر تعداد سامنے موجود ہو ، تو اس کے ساتھ ایک تنہا مسلمان کو جنگ کرنا کس حد تک درست ہے۔ جب کہ اس کی جان تلف ہوجانے کا غالب گمان ہو۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ اگر ایسا کرنے سے دشمن کو نقصان پہنچ سکتا ہو ، جس کا بحیثیت مجموعی مسلمانوں کو فائدہ ہو ، تو اس قسم کی قربانی پیش کرنا روا ہے اور اگر ایسا کرنے سے نہ کفار کو نقصان پہنچ سکتا ہو ، اور نہ ہی اسلام کو فائدہ ہو ، تو پھر محض جان کا ضیاع ہے۔ ایسا نہیں کرنا چاہئے۔
انفاق فی سبیل اللہ
یہاں پر مطلق حکم ہے۔ وانفقوا فی سبیل اللہ یعنی اللہ کے راستے میں خرچ کرو۔ اللہ کا راستہ کون سا ہے۔ قرآن پاک میں اس کی مختلف مدات بیان کی گئی ہیں۔ ” مما رزقنھم ینفقون “ میں بھی یہی بات ہے خرچ کریں مگر کہاں تو اس کی تشریح پہلے آ چکی ہے۔ سب سے پہلے زکوۃ ادا کرو ، پھر حج وعمرہ کا خرچہ ہے۔ غرباء و مساکین پر خرچ کرو۔ اس کے بعد دفاع کا ہے اور اسی مد میں جہاد فی سبیل اللہ بھی آتا ہے۔ اور پھر اللہ کے راستے کی آگے کئی شاخیں ہیں۔ جیسے دین کی تعلیم کا شعبہ ہے تصنیف و تالیف کی مد ہے ، مجاہدین کی اعانت ہے۔ ان سب امور پر خرچ کرنے کا حکم ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے ، محض زکوۃ ادا کردینے سے سارے مالی حقوق ادا نہیں ہوجاتے بلکہ ان فی المال حقاً سوی الزکوۃ حضور ﷺ نے فرمایا زکواۃ کے علاوہ بھی ماحول میں حق باقی ہے۔ زکواۃ فرض ہے۔ اس کے بعد صدقہ فطر واجب ہے۔ قربانی بھی واجب ہے۔ اسی طرح اعزہ و اقارب پر خرچ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے اخراجات سنت اور مستحب ہیں۔
ان سب میں خرچ کرنا چاہئے اور سب سے بڑھ کر جہاد کی مد ہے اگر اہل اسلام اس مد میں خرچ نہیں کریں گے تو دشمن غلبہ پا جائے گا اور مسلمان ذلیل و خوار ہوں گے اور پھر نہ صرف مال ضائع ہوگا بلکہ جانیں بھی تلف ہوگی۔ آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں۔
تاتاریوں کے حملوں کے بعد مسلمانوں کے قدم نہیں جم سکے۔ وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں قربانی کا جذبہ باقی نہیں رہا۔ غیر مسلم اقوام زیادہ خرچ کرتی ہیں۔ اسلحہ سازی اور دوسری ٹیکنالوجی پر جو کچھ امریکہ اور روس خرچ کر رہے ہیں۔ اس کی مثال کہاں ملے گی۔
فضول خرچی
حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائپوری کی ایک مجلس میں یہ خبر موضوع بحث بنی کہ سجدے کی کسی امیر نے فرانس سے تین لاکھ ریال میں بنابنایا حمام منگوایا ہے۔ آپ نے بڑے افسوس سے فرمایا ، یہ مسلمانوں کی بدبختی ہے کہ حمام پر اتنا خرچ کردیا ہے۔ اگر اس رقم سے کوئی فیکٹری لگاتے تو ملک و قوم کا فائدہ ہوتا ہے۔ حمام تو محض نمود و نمائش اور عیاشی کا سامان ہے۔ اس سے قوم کو کیا فائدہ پہنچا۔ اس زمانے کی بڑی بڑی عمارتیں اور ان میں تعیش کا سامان مسلمانوں کے کون سے کردار کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ بڑی بڑی قیمتی کاریں درآمد ہو رہی ہیں ، غیر ملکی عورتوں سے شادیاں ہو رہی ہیں لاکھوں روپیہ ننگ و ناموس کے نام پر برباد کیا جا رہا ہے۔ مگر کیا مسلمان دنیا میں باعزت زندگی بسر کر رہا ہے۔ نہیں بلکہ بڑی طاقتوں کا دست نگر بن کر رہ گیا ہے۔ دنیا کے مختلف گوشوں میں انگریز نے کس قدر ذلیل کیا ہے۔ روس اور امریکہ کیا کچھ کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کے پاس افرادی قوت ہے۔ بیشمار وسائل مہیا ہیں مگر سب عیاشی کی نذر ہو رہے ہیں۔ انفاق فی سبیل اللہ کو ترک کردیا گیا ہے۔ ایک فیصد بھی صاحب ثروت آپ کو نہیں ملیں گے جو اپنے مال کا معقول حصہ دین کی حفاظت اور اس کی بقا کے لئے خرچ کر رہے ہوں۔
انگریزوں کی آمد سے پہلے ہندوستان میں نواب نجیب الدولہ تھے اپنے دور میں پانچ سو علماء کا وظیفہ مقرر کر رکھا تھا۔ یہ وظیفہ پانچ روپے سے لیکر پانچ سو روپے تک تھا۔ اس وقت کے پانچ سو روپے آج کے پانچ ہزار سے زیادہ حیثیت رکھتے تھے۔ یہ وظیفہ محض علم دین کی تحصیل کے لئے دیا گیا تھا اور وہ لوگ نواب کی کسی پالیسی کے پابند نہیں تھے۔ جیسا کہ آج کل بیورو کریسی کا شیوہ ہے کہ کسی کو چند ٹکے دیکر اس کا دین ایمان تک خرید لیا۔ ایسا نہیں تھا۔
آج مسلمان تبلیغ دین کے لئے کتنی رقم خرچ کر رہے ہیں۔ عیسائیت کا راستہ بند کرنے کے لئے کیا تدبیریں اختیار کی جا رہی ہیں۔ امریکہ اور بطانیہ عیسائیت کی تبلیغ کے لئے اربوں روپیہ خرچ کر رہا ہے۔ کہیں سکول کے نام پر ، کہیں کسی ہسپتال کی آڑ میں اور کہیں کسی اور رفاہی ادارہ کی صورت میں کیا کچھ ہو رہا ہے۔ مگر سچے دین کا داعی مسلمان ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ خدا کا فرمان ہے خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ مگر ہم پر کوئی اثر نہیں۔ ایسی صورت حال میں دشمن غلبہ حاصل نہیں کرے گا ، تو اور کیا ہوگا۔
احسان کرو
فرمایا ، واحسنوا یعنی مستحقین کے ساتھ احسان کرو۔ قربات داروں غریبوں مسکینوں ، بیوائوں کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ ان اللہ یحب المحسنین بیشک اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اگر اللہ کی رضا چاہتے ہو تو اللہ کے راستے میں خرچ کر کے احسان جیسے اہم اصول پر عمل کرو۔ وگرنہ اللہ تعالیٰ ظلم و زیادتی کرنے والوں ، کفر و شرک اور بدعات کے مرتکبین کو کبھی پسند نہیں فرماتا۔
Ayah 2:196گزشتہ سے پیوستہ
اس سے پہلے نئے چاند کے متعلق ذکر آچکا ہے کہ چاند اوقات اور خاص طور پر حج کے اوقات معلوم کرنے کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا قمری مہینے کی تقویم ضروری ہے۔ حج اور اس کے ساتھ جہاد کا بیان بھی آ گیا ہے۔ قتال فی سبیل اللہ کی غرض وغایت بھی آگئی ہے کہ اس سے مقصود فتنہ و فساد ک بیخ کنی ہے۔ جہاد ہی کے ضمن میں انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر بھی آ چکا ہے۔ اس کے بغیر جہاد کی تکمیل ممکن نہیں اور اگر جہاد کا جذبہ ختم ہوجائے گا تو دشمن غالب آجائے گا۔ حرمت والے مہینوں کا بیان بھی آ چکا ہے کہ یہ کون کونسے مہینے ہیں اور پھر ان میں قتال کے کیا احکام ہیں۔ مسلمانوں کو ان مہینوں کا پورا پورا احترام کرنے کا حکم دیا گیا ، تاہم اگر کفار لڑائی سے یباز نہ آئیں ، تو پھر مسلمانوں کو بھی اس کا جواب دینے کی اجازت دی گئی ہے۔
حج اور عمرہ
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حج اور عمرہ کو پورا کرنے کا حکم دیا ہے اور اس سفر کے دوران اگر احصار پیدا ہوجائے یعنی رکاوٹ کھڑی ہوجائے اور کوئی شخص حج وعمرہ کی تکمیل نہ کرسکے ، تو اسے کیا کرنا چاہئے ، یہ مسائل بیان ہوئے ہیں ۔
حج اور عمرہ کے ارکان ملتے جلتے ہیں ، تاہم ان کی ادائیگی کے اوقات مختلف ہیں۔ عمرہ کو حج اصغر بھی کہتے ہیں اور یہ سال بھر کے تمام ایام میں سوائے ایام حج کے ادا کیا جاسکتا ہے۔ حج مخصوص ایام یعنی ذی الحجہ کی آٹھویں تا تیرہویں تاریخ کو ہی ادا کیا جاسکتا ہے۔ ان ایام کے علاوہ کسی اور تاریخ پر حج ادا نہیں ہو سکتا۔ حج عمر بھر میں صاحب استطاعت کے لئے ایک دفعہ فرض ہے ، البتہ عمرہ سنت ہے ہاں اگر ایک دفعہ اس کی نیت کرے تو پھر واجب ہوجاتا ہے۔ یعنی اگر عمرہ کا احرام باندھ لیا ہے ، تو پھر لازماً اس کو پورا کرنا پڑے گا۔ اگر سفر کے دوران کوئی رکاوٹ پڑجائے اور انسان عمرہ مکمل نہ کرسکے۔ تو اسے بہرحال قضا کرنا ہوگا اب اس کو ترک نہیں کیا جاسکتا۔ خود حضور ﷺ کا عمل موجود ہے۔ آپ نے صحابہ کرام کے ہمراہ 6 ھ میں عمرہ کا سفر اختیار کیا مگر حدیبیہ کے مقام پر کفار نے روک دیا اور بغیر عمرہ ادا کئے واپس جانا پڑا۔ آپ نے اگلے سال یعنی 7 ھ میں اس کو قضاء کیا۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے حج اور عمرہ کا اکٹھا حکم دیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ جہاد کا حکم بھی ہے۔ حج کے بعد جو زیادہ مشقت طلب عبادت ہے ، وہ جہاد ہے۔ اس میں مالی اور جان دونوں کی بازی لگانا پڑتی ہے چونکہ حج میں بھی مال و جان دونوں چیزوں کا حصہ ہے۔ اس لئے حضور ﷺ نے عورتوں سے فرمایا تھا جھاد کن الحج تمہارا جہاد حج ہے۔ یعنی تم پر جہاد فرض نہیں ہے ، تمہارے لئے حج ہی کافی ہے کیونکہ اس میں بھی جہاد کی طرح مال و جان کی ضرورت ہوتی ہے۔
ارشاد ہوتا ہے ، واتموا الحج والعمس للہ حج اور عمرہ کو اللہ کی رضا کی خاطر پورا کرلو ، یہ واجب ہے حج کا لفظی معنی قصد کرنے کا ہے اور مراد اس سے مخصوص ایام میں افعال مخصوصہ کا وقت ہے جو کہ بیت اللہ شریف اور اس کے مضافات میں خالص نیت کے ساتھ کیا جاتا ہے عمرہ کی معنی فقط زیارت ہے اور یہ حج کے مخصوص ایام کے علاوہ پورے سال میں کسی وقت بھی دکھایا ہے۔
للہ کا مفہوم
اللہ کا عام فہم معنی اللہ کی رضا کے لئے ہے جس طرح دیگر عبادات نماز ، زکواۃ رزہ غیرہ پورا کرو ، تاہم اس مقام پر ایک خاص نکتہ ہے کہ حج وعمرہ جیسی مشقت طلب اور صبر آزما عبادت صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لئے ہونی چاہئے اس میں غرور وتکبر اور فخر اور تفاخر کا شائبہ تک نہیں ہونا چاہئے حج پر روانہ ہوتے وقت بینڈ باجے کا استعمال اور گلے میں ہارون کے ذریعے تشہیر تفاخر کی نشانی ہے۔ عام طور پر تو عزیز و اقارب ہی حاجی خود اپنے گلے میں ہار ڈال کر اپنی حیثیت کو نمایاں کرتا ہے حج سے واپسی پر بھی یہی کچھ ہوتا ہے حاجی کو ہارون اور اب خاص طور پر کرنسی نوٹوں کے ہارون سے لاوا جاتا ہے۔ اگر ہار پہنانے والا کوئی نہیں پہنچا تو اپنے پاس سے ہار نکال کر گلے میں ڈال لیا جاتا ہے کہ حاجی کی پہچان ہو یہ سب فخریہ چیزیں ہیں۔ ان کی وجہ سے رضا خالص اللہ کی نہیں رہتی بلکہ اس فعل میں دوسرے لوگوں کی رضا کو بھی شامل کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ اور یہی چیز لفظ للہ کے مفہوم کے خلاف ہے۔
احصار کے مسائل
فرمایا حج اور عمرہ کو اللہ کی رضا کے لئے پورا کرو نان احضرتم پھر اگر تم روک دیئے گئے یعنی تم نے احرام باندھ کر حج یا عمرہ کا سفرو شروع کردیا اور راستے میں رکاوٹ پیدا ہوگئی تو اسے اعصار کہتے ہیں۔ احصار کی تعریف کے متعلق فہائے کرام میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ امام شافعی کے نزدیک شرعی احصار صرف ایسی صورت میں شمار ہوتا ہے۔ جب حج وعمرہ کی ادائیگی میں رکاوٹ بن جائے۔ اس کی مثال 6 ھ میں حضور ﷺ اور صحابہ کا واقعہ ہے۔ جب ان کو حدیبیہ کے مقام پر روک دیا گیا اور آپ بغیر عمرہ کئے مدینہ طیبہ کو لوٹ گئے۔ امام ابوحنیفہ کے مسلک کے مطابق دشمن کی رکاوٹ کے علاوہ بیماری یا حادثہ بھی احصار کا سبب بن سکتا ہے۔ کوئی ایسی بیماری لاحق ہوگئی ہے جس کی وجہ سے عازم حج سفر نہیں کرسکتا یا کوئی ایسا حادثہ پیش آ گیا ہے ، سخت زخمی ہوگیا ہے ، ٹانگ زخمی ہوگئی ہے کہ چلنے پھرنے سے معذور ہوگیا ہے۔ کسی درندے نے راستہ روک رکھا ہے۔ سیلاب آ گیا ہے یا کسی اور وجہ سے راستہ رک گیا ہے۔ یہ بھی شرعی احصار کی تعریف میں آئے گا۔
اس قسم کی صورت حال کے متعلق ارشاد فرمایا فما استیسر من الھدی جو میسر ہو قربانی کر دو ۔ احرام باندھ کر حج وعمرہ سے محروم رہنے کی صورت میں قربانی واجب ہوجاتی ہے۔ ایک بکری یا گائے یا اونٹ جو بھی میسر ہو ، قربانی کر دے اور احرام کھول دے۔ یہ قربانی کس مقام پر رکے ، اس مسئلہ میں بھی اختلاف ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ جس مقام پر کوئی رک جائے ، وہیں قربانی کر کے احرام سے باہر آجائے ۔ البتہ امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ قربانی حرم کی حدود میں ہونی چاہئے اور اس کا طریق کار یہ ہو سکتا ہے کہ کسی دوسرے شخص کے ہاتھ قربانی بھیج دی جائے اور اس سے طے کرلیا جائے کہ فلاں دن فلاں وقت پر قربانی حدود حرم میں کردینا پھر جب ظن غالب ہوجائے کہ طے شدہ پروگرام کے مطابق قربانی ہوچکی ہے تو احرام کھول دے۔
اسی بات کے متعلق فرمایا ولا تخلقوا رئوسکم حتی یبلغ الھدی محلہ اور اس وقت تک سر نہ منڈائو جب تک قربانی اپنے ٹھکانے پر نہ پہنچ جائے اور ٹھکانہ اس کا حدود حرم ہے ۔ جیسا کہ ” ثم محلھا الی البیت العتیق “ یعنی قربانی کا محل بیت عتیق ہے سرمنڈانے کا مطلب یہ ہے کہ اب احرام کھول سکتا ہے۔ کیونکہ اس کی ترتیب ہی یہ ہے کہ پہلے قربانی کرے ، پھر سر منڈائے اور پھر احرام کھول دے۔
بعض دوسرے حضرات کہتے ہیں کہ قربانی کا محل وہی جگہ ہے۔ جہاں رکاوٹ واقع ہوئی ہے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ 6 ھ میں جب آپ اور صحابہ حدیبیہ کے مقام پر روک دیئے گئے تھے ، تو آپ نے وہیں قربانی کر کے احرام کھول دیا تھا اور واپس مدینہ طیبہ روانہ ہوگئے۔ جدہ سے مکہ جاتے ہوئے حدیبیہ مکہ سے 22 کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے اسے آج کل شمیسیہ کہتے ہیں۔ یہ حد حرم ہے۔ نشان کے طور پر وہاں سفید مینار بنا دیئے گئے ہیں۔
امام صاحب فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی قربانی حدود حرم کے اندر تھی کیونکہ آپ حد حرم پر ٹھہرے ہوئے تھے اور آپ نے حد کے اندر قربانی کی تھی لہٰذا قربانی کے ٹھکانا سے مراد حد حرم ہے۔ بہرحال حج یا عمرہ نامکمل چھوڑنے کی صورت میں اس کی ادائیگی واجب ہوجاتی ہے اور اس کی قضا لازمی دینا ہوگی۔
احرام کی جنایات
جب کوئی حج یا عمرہ کا احرام باندھ لیتا ہے تو اس پر بعض پابندیاں عائد ہوجاتی ہیں۔ مثلاً سلا ہوا لباس نہیں پہن سکتا خوشبو نہیں لگا سکتا ، بال اور ناخن نہیں کاٹ سکتا۔ بیوی کے پاس نہیں جاسکتا وغیرہ وغیرہ اور اگر مجبوراً کسی پابندی کو توڑنا پڑے۔ تو پھر اس کے عوض میں فدیہ دینا پڑتا ہے۔ یہاں پر اسی مسئلہ کو بیان کیا گیا ہے۔ فمن کان منکم مریضاً تم میں سے جو کوئی بیمار ہو۔ اوبہ اذی من راسہ یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو ففدیۃ من صایم اوصدقۃ اونسک پس فدیہ ہے روزے سے یا صدقہ ہے یا قربانی ہے۔ یعنی عذر کے ساتھ احرام کی پابندی توڑنے کی صورت میں ان تین جزائوں میں سے کوئی ایک ادا کرنی ہوگی۔ تین روزے رکھے یا صدقہ میں تین صاع گندم ادا کرے یا کم از کم ایک بھیڑ یا بکری ذبح کرے۔ صدقہ کی صورت میں چھ مساکین کو نصف صاع گندم فی کس ادا کرنا ہوگا۔
حضرت کعب بن عجرہ نے احرام باندھا ہوا تھا۔ ہانڈی پکانے کے لئے آگ جلا رہے تھے اور آپ کے سر سے جوئیں نیچے گر رہی تھیں۔ حضور ﷺ کا گزر ہوا تو فرمایا تمہارے سر کے جانور تمہیں بہت ستاتے ہیں ؟ عرض کیا حضور ! واقعی بہت ستاتے ہیں۔ مگر میں نے احرام باندھا ہوا ہے ، کیا کرسکتا ہوں حکم ہوا اگر سر منڈوانا ہے تو ایک بھیڑ یا بکری کا دم دیدے یا چھ مساکین کو صدقہ دیدے یا تین دن کے روزے رکھ لے ، اس جنایت کی تلافی ہوجائے۔
حج کی اقسام
حج کی تین قسمیں ہیں یعنی افراد قرآن اور تمتع افراد حج یہ ہے کہ میقات سے صرف حج کا احرام باندھے اور حج کر کے احرام کھول دے۔ اس میں عمرہ شامل نہیں ہوتا۔ دوسری صورت قرآن ہے کہ کوئی شخص میقات سے عمرہ اور حج کا مشترکہ احرام باندھے ۔ عمرہ ادا کرنے کے بعد احرام نہ کھولے بلکہ اسی احرام سے ایام حج میں حج کرنے کے بعد یعنی دس تاریخ کو احرام کھول دے۔ حضور نبی کریم (علیہ السلام) نے حجتہ الوداع کے موقع پر یہی طریقہ اختیار کیا تھا۔ امام ابن قیم فرماتے ہیں کہ صحیح بات یہی ہے کہ حضور ﷺ نے قرآن کیا تھا کیونکہ احادیث میں واضح طور پر آتا ہے کہ آپ تلبیہ میں کہتے تھے لبیک بججۃ و عمرۃ اسی لئے امام ابوحنیفہ قرآن کو افضل قرار دیتے ہیں۔
تمتع اور قربانی
حج کی تیسری قسم تمتع ہے اور عام طور پر یہی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ یعنی حج کے مہینوں میں ایک ہی سفر میں عمرہ اور حج کا علیحدہ علیحدہ احرام باندھا جاتا ہے۔ میقات سے عمرہ کا احرام باندھا ، مکہ مکرمہ پہنچ کر عمرہ کیا اور احرام کھول دیا پھر آٹھ ذی الحج کو حج کا احرام باندھا اور دس تاریخ کو قربانی کرنے اور حجامت بنوانے کے بعد کھول دیا اور حج کے باقی ارکان پورے کر لئے۔ ایسی صورت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے بعض احکام ارشاد فرمائے ہیں۔ فاذا امنم پس جب تم امن کی حالت میں ہو یعنی حج وعمرہ کی ادائیگی میں کوئی امر مانع نہ ہو اور ایک ہی سفر میں فمن تمتع بالعمرۃ الی الحج جس شخص نے فائدہ اٹھایا عمرہ کا حج کے ساتھ یعنی عمرہ اور حج دونوں ایک ساتھ کئے اور یہی صورت قرآن میں پیش آتی ہے کہ کوئی شخص ایک ہی سفر میں حج وعمرہ دونوں سے فارغ ہونا چاہتا ہے تو فرمایا فما استیسر من الھدی پس جو میسر ہو قربانی دی جائے۔
یہ قربانی دراصل دم ہے اس نقصان کا جو اسے حج وعمرہ ایک سفر میں پورا کرنے کی وجہ سے اٹھانا پڑا۔ اگر حج اور عمرہ کے لئے علیحدہ علیحدہ سفر اختیار کرتا ، تو وقت بھی زیادہ دینا پڑتا ، خرچ بھی دوگنا ہوتا اور محنت بھی زیادہ کرنی پڑتی اور ظاہر ہے کہ ان کا ثواب بھی زیادہ ہوتا۔ اب ان چیزوں کی بچت کرنے سے اس کے ثواب میں جو کمی واقع ہوئی یہ قربانی اس کا نعم البدل ہے۔ اسی لئے امام شافعی فرماتے ہیں کہ یہ قربانی عام قربانی کے حکم میں نہیں آتی ہے۔ بلکہ یہ تو جزاء ہے لہٰذا قربانی دینے والا اسے خود استعمال نہیں کرسکتا بلکہ ساری کی ساری صدقہ کرنی ہوگی حالانکہ عام قربانی میں سے ہر امیر غریب خود بھی کھا سکتا ہے۔ برخلاف اس کے امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ یہ دم شکر کا دم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ہی سفر میں دو نعمتیں عطا کی ہیں یعنی عمرہ اور حج دونوں ادا کئے ہیں لہٰذا اس کا حکم عام قربانی کا ہے اور اس میں خود بھی کھا سکتا ہے اور دوسروں کو بھی دے سکتا ہے۔ البتہ ایسی قربانی کو حدود حرم کے اندر ذبح کرنا ضروری ہے۔
قربانی کا بدل
بعض صورتیں ایسی بھی پیش آسکتی ہیں کہ انسان قربانی کرنے کی پوزیشن میں نہ ہو۔ ایسے ہی حالات کے متعلق فرمایا فمن لم یجہ جو کوئی قربانی نہ پائے فصیام ثلاثہ ایام فی الحج تو وہ ایام حج میں تنی روزے رکھے وسبعۃ اذا رجعتم اور سات اس وقت جب تم واپس لوٹ جائو تلک عشرۃ کاملۃ یہ پورے دس ہوگئے۔ یعنی جو شخص حج قرآن یا حج تمتع ادا کرے اور قربانی کرنے کے لئے اس کے پاس مال نہ ہو یا جانور نہ مل سکے ، تو اس قربانی کا نعم البدل دس روزے ہیں۔ تین روزے تو واضح ہیں کہ ایام حج میں رکھے جائیں گے یعنی ذی الحج کی سات ، آٹھ اور نو کو رکھے جائیں کیونکہ دس تاریخ کو روزہ رکھنا منع ہے۔ البتہ سات روزوں کے متعلق اختلاف ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ واپس لوٹنے سے مراد حاجی کا اپنے وطن پہنچنا ہے اور یہ روزے اگر قیام ہو تو حرم میں رکھے جاسکتے ہیں۔ یا راستے میں یا گھر واپس آ کر ہر طرح درست ہے۔ دس روزے پورے کرنے سے قربانی کی تلافی ہوجائے گی۔ اور حاجی کا قرآن یا تمتع درست ہوجائے گا۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں ایام حج میں تین روزے لازمی ہیں۔ اگر یہ چھوٹ گئے تو پھر باقی سات رکھنے کی ضرورت نہیں۔ اسے بہرحال دم دینا پڑے گا۔
تمتع کی شرط
فرمایا حج تمتع اور قربانی کے مسائل کے متعلق شرط یہ ہے ذلک لمن لم یکن اھلہ حاضری المسجد الحرام کہ تمتع کرنے والے کا گھر بار مسجد حرام کے پاس نہ ہو۔ یعنی حج تمتع اس شخص کے لئے روا ہے جو حدود حرم کا رہنے اولا نہ ہو بلکہ آفاقی ہو۔ حدود حرم کے رہنے والے اور محلی تو جب چاہیں عمرہ کرسکتے ہیں۔ حدود حرم سے باہر جا کر احرام باندھیں اور مکہ مکرمہ آ کر عمرہ کے ارکان پورے کرلیں۔ حج کے لئے بھی یہ لوگ آٹھ ذی الحج کو احرام باندھ کر با آسانی حج کرسکتے ہیں۔ مگر دقت طلب مسئلہ تو بیرونی لوگوں کے لئے ہے ان کے لئے عمرہ اور حج کے لئے علیحدہ علیحدہ سفر اختیار کرنا مشکل ہوتا ہے۔ لہٰذا حج قرآن اور تمتع کی اجازت صرف ایسے ہی آفاقی لوگوں کو حاصل ہے۔
احکام کی پابندی
فرمایا واتقوا اللہ ان احاکم کی پابندی کے لئے اللہ سے ڈرتے رہو کہیں خلاف ورزی نہ ہوجائے۔ بعض اوقات انسان باریک احکام کو نظر انداز کر جاتے ہیں ، ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ بلکہ واعلموا اس بات کو اچھے طریقے سے سمجھ لنیا چاہئے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے قانون کو توڑے گا۔ تو ان اللہ شدید العقاب اللہ تعالیٰ سزا دینے میں بڑا سخت ہے۔ لہٰذا اس کے احکام کی تعمیل کرو۔ تاکہ اس کی خوشنودی حاصل ہو اور تم عذاب سے بچ جائو۔
Ayah 2:197ربط آیات
اس سے پہلے جہاد او حج کا مشترکہ حکم بیان ہوا پھر احصار کا مسئلہ بیان ہوا کہ حج یا عمرہ کا احرام باندھنے کے بعد اگر کوئی رکاوٹ پیدا ہوجائے یعنی بیماری لاحق ہوجائے یا دشمن کی وجہ سے راستہ غیر محفوظ ہوجائے تو اس صورت میں کیا کرنا چاہئے۔ اس ضمن میں احصار کا مسئلہ بیان ہوا۔ اس کے بعد تمتع اور قرآن کا بیان آیا کہ جسے حج اور عمرہ نصیب ہوجائے یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ ایسے شخص کو دم یعنی قربانی دینا ہوگی۔ اگر قربانی کی استطاعت نہیں ہے۔ تو دس روزے رکھے یہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا ایک طریقہ ہے۔
ان آیات میں بھی حج کے مختلف احکام بیان ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ مشرکین کی اس تحریف کا رد ہے جو انہوں نے حج سے متعلق زمانہ جاہلیت میں پیدا کرلی تھی۔
حج کے مہینے
ارشاد ہوتا ہے الحج اشھر معلومت ، شہر شہر کی جمع ہے مطلب یہ کہ حج کے مہینے معلوم ہیں کہ یہ شوال ، ذی قعدہ اور ذی الحج کے پہلے دس دن ہیں ایسے ذی الحج کا پورا مہینہ مجازاً حج کا مہینہ ہی شمار ہوتا ہے۔ اس کا معنی یہ ہوا کہ حج کا احرام ان مہینوں میں باندھا جاسکتا ہے شوال سے پہلے حج کا احرام نہیں باندھا جاسکتا۔ اس مسئلہ میں فقہائے کرام کا اختلاف ہے کہ اگر ماہ رمضان یا اس سے پہلے احرام باندھ کر حج کیا جائے تو حج ادا ہوگا یا نہیں۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ ایسے شخص کا حج نہیں ہوگا۔ البتہ امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ حج کے مہینوں سے قبل احرام باندھ کر اگر کوئی شخص احرام کی پوری طرح حفاظت کرتا ہے تو اس کا حج تو ہوجائے گا ۔ مگر اس میں کراہت پائی جاتی ہے۔ لہٰذا حج کا احرام شوال سے پہلے نہیں باندھنا چاہئے یہ مکروہ ہوگا۔
احرام کی پابندیاں
حج یا عمرہ کا احرام باندھنے کے بعد محرم پر بعض پابندیاں عائد ہوجاتی ہیں۔ جس طرح کوئی تکبر تحریمہ کہہ کر نماز میں داخل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ایک عازم حج یا عمرہ کا احرام باندھ کر نیت کرتا ہے اور تلبیہ پکارتا ہے تو وہ عملاً حج یا عمرہ میں داخل ہوجاتا ہے اور اس پر احرام کی پابندیاں عائد ہوجاتی ہیں۔ یہاں پر اسی چیز کو بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ فمن فرض فیھن الحج یعنی جس شخص نے ان مہینوں میں حج کو اپنے اوپر لازم کرلیا۔ یہاں پر فرض کا معنی لازم کرنا ہے یعنی احرام باندھ کر نیت کرلی اور تلبیہ پکارنا شروع کردیا۔ لبیک اللھم لبیک تو بعض چیزیں جو پہلے مباح تھیں وہ اب ممنوع ہوگئیں۔ جس طرح کوئی شخص روزہ کی حالت میں بیوی کے قریب نہیں جاسکتا اسی طرح حضور نے فرمایا کہ احرام کی حالت میں بھی بیوی کے پاس نہیں جاسکتا۔ مثلاً اگر کوئی شخص احرام باندھ کر وقوف عرفہ سے پہلے اپنی بیوی سے مقاربت کرلے تو اس کا حج فاسد ہوجائیگا اور آئندہ سال قضا دینا ہوگی اور اس کے علاوہ ایک سالم اونٹ یا سالم گائے بطور دم قربان کرنا ہوگی۔ اسی طرح احرام کی حالت میں کوئی مرد سلا ہوا کپڑا حتی کہ موزہ تک نہیں پہن سکتا۔ خوشبو نہیں لگا سکتا۔ سر اور منہ کو ڈھانپ نہیں سکتا۔ عورتیں سلے ہوئے کپڑے پہن سکتی ہیں مگر خوشبو نہیں لگا سکتیں۔ سر کو ڈھانپ لیں گی مگر چہرہ کھلا رہے گا اس پر کپڑا نہیں آا چاہئے۔ اگر کوئی عورت پردہ کرنا چاہے تو چہرہ پر کوئی لکڑی وغیرہ رکھ کر اوپر نقال ڈال سکتی ہے۔ جس سے کپڑا چہرہ کو نہ لگے۔ احرام کی حالت میں شکار کرنا بھی منع ہے اس کے متعلق واضح حکم ہے۔ ” حرم علیکم صید البر مادمتم حرماً جب تک تم احرام میں ہو۔ خشکی کا شکار نہیں کرسکتے بلکہ کسی جانور کو ذبح بھی نہیں کرسکتے۔ اگر کرو گے تو وہ حلال نہیں ہوگا۔ لہٰذا اس کو کوئی دوسرا شخص بھی نہیں کھا سکتا گویا یہ سب چیزیں احرام کی حالت میں ممنوع ہیں۔
بے حجابی
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، جب تم میں سے کوئی اپنے اوپر حج کو لازم کرے ، تو فلارفث حج میں رفث نہیں ہے۔ لفظ رفث عام ہے۔ اس کا اطلاق معمولی بےپردگی سے لے کر مباشرت تک ہوتا ہے۔ عورت کے ساتھ بوس و کنار شہوانی باتیں اور مباشرت سب رفث میں آجاتا ہے غیر عورت کے ساتھ تو یہ چیزیں ہر وقت حرام ہیں۔ مگر احرام کی حالت میں یہ افعال اپنی بیوی کے ساتھ بھی جائز نہیں رہتے۔
نافرمانی
ولافسوق احرام کی حالت میں فسق بھی جائز نہیں۔ اس سے مراد اطاعت سے باہر نکل جانا یا نافرمانی ہے۔ اگرچہ یہ چیزیں عام حالت میں بھی منع ہیں مگر جب کوئی حج یا عمرہ کی نیت سے احرام باندھ لیتا ہے تو ان کی ممانعت میں شدت پیدا ہوجاتی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے حرم کے اندر کوئی گناہ کرنا عام جگہ کی نسبت زیادہ جرم ہے۔ یا جس طرح حرمت کے مہینوں میں کسی گناہ کا ارتکاب دیگر مہینوں کی نسبت زیادہ باعث وبال ہے۔ الغرض احرام کی حالت میں نافرمانی کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ فسق کا لفظ نفاق اور اعتقاد پر بھی بولا جاتا ہے۔ عمل پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ کافروں ، منافقوں اور عام گناہگار مومنوں کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ مقصد یہ کہ احرام کی حال تمہیں کسی قسم کے گناہ کی بات نہیں ہونی چاہئے۔ ہر طرح کے گناہ سے اجتناب کرنا چاہئے۔
لڑائی جھگڑا
تیسری چیز فرمایا ولا دال فی الحج سفر حج کے دوران لڑائی جھگڑا ابھی نہیں ہونا چاہئے۔ یہ چیزیں ویسے ہی بری ہیں۔ حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ اپنے بھائی کے ساتھ جھگڑا مت کرو۔ تاہم احرام کی حالت میں لڑائی جھگڑے کی قباحت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ چیز حالت احرام کے منافی ہے۔ لہٰذا حج کے دوران اس قسم کی کوئی حرکت نہیں ہونی چاہئے۔
سخت تنبیہ
یہ بات قابل غور ہے کہ اس مقام پر تینوں ممنوعات یعنی رفث ، فسوق اور جدال کو بطور اسم استعمال کیا گیا ہے۔ حالانکہ چاہئے تو یہ تھا کہ ان کو فعل کے طور پر لایا جاتا فلا ترفثوا ولا تفسقوا ولا تجادلوا یعنی بےپردگی کی بات نہ کرو۔ نافرمانی نہ کرو اور لڑائی جھ گڑا نہ کرو۔ مگر ایسا نہیں کہا گیا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ان افعال کو اسما میں بدلنے میں حکمت یہ ہے کہ اسم میں فعل کی نسبت زیادہ تاکید پائی جاتی ہے اور پھر ان اسما کو نفی کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اس معاملہ میں سخت احتیاط سے کام لیا جائے۔ ظاہر ہے کہ حج کے سفر میں اجنبی لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے اور ہر ہر مقام یعنی منیٰ مزدلفہ عرفات اور حرم شریف میں زبردست رش ہوتا ہے۔ خصوصاً بیت اللہ شریف میں مرد اور عورتیں اکٹھے طواف کرتے ہیں جس کی وجہ سے بعض اوقات ناخوشگوار حالات کا پیدا ہوجانا بعید از قیاس نہیں ہوتا تو فرمایا کہ اس قسم کے غیر معمولی حالات میں بےپردگی ، نافرمانی یا جھگڑے کا شائبہ تک بھی نہیں ہونا چاہئے۔ حج کے عظیم اور مقدس ارکان کی ادائیگی کے دوران ان بری باتوں کا تصور تک پیدا نہیں ہونا چاہئے۔ اسم کو نفی میں لا کر گویا تاکید پیدا کی گئی ہے کہ ان باتوں کے قریب بھی نہ جائو۔ تاکہ تمہارے حج میں کوئی نقص واقع نہ ہوجائے۔
حج مبرور
حضرت ابوبکر کا اونٹ گم ہوگیا۔ آپ اپنے نوکر پر سخت خفا ہوئے کہ اس کی غفلت کی وجہ سے اونٹ گم ہوا۔ حتی کہ اسے مارنا شروع کردیا۔ احرام کی حالت تھی۔ حضور ﷺ نے دیکھا تو فرمایا کہ اس احرام الے آدمی کا حال دیکھو کہ اس حال میں بھی نوکر کو مار رہا ہے۔ مقصد یہ تھا کہ احرام کی حالت میں لڑائی جھگڑا ، مار کٹائی گالی گلوچ کا تو امکان تک نہیں ہونا چاہئے۔ لارفث لافسوق اور لاجدال کا یہی معنی ہے۔ حضور علیہ التحیتہ والسلام کا فرمان ہے۔ من حج جس شخص نے حج کیا فلم یرفث ولم یفسق اور اس نے دوران حج نہ بےحجابی کی بات کی اور نہ نافرمانی کی ، تو اس کی حالت ایسی ہے رجع یقوم ولدتہ امہ گویا آج ہی ماں نے اسے جنا ہے۔ جس طرح نوزائیدہ بچہ گنا ہ سے پاک ہوجاتا ہے۔ اسی حج کو حج مبرور کہا جاتا ہے۔ خود حضور ﷺ نے حج مبرور کی دعا کی اللھم اجعلہ حجاً مبروراً و ذنباً مغفوراً اے اللہ میرے حج کو حج مبرور بنا دے اور میری غلطیوں کو معاف فرما دے ایسا حج نصیب فرما جس میں نہ کوئی گناہ کی بات ہو اور نہ ساتھیوں سے کوئی جھگڑا واقع ہو۔
شیخ سعدی نے اپنی کتاب گلستان میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ حاجیوں کا قافلہ جا رہا تھا اور اس میں شامل لوگ آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ کہ ہم فلاں جگہ خوب لڑے۔ گویا انہوں نے داد فسق دیا تو کسی شریف آدمی نے کہا ” ازمن بگو حاجی مردم گزارئے را ، حاجی تونیستی شتراست ، یعنی میری طرف سے آدمیوں کو کاٹنے والے حاجی سے کہ دیں کہ تو تو حاجی نہیں ہو سکتا ، البتہ تیرا اونٹ حاجی ہو سکتا ہے جس پر تو سوار ہے۔ تیرے اندر حاجیوں والی کوئی خصلت نہیں کیونکہ تو نے فسق دجدال کا ارتکاب کیا ہے۔ اسی لیء اللہ تعالیٰ نے سخت تنبیہ کے انداز میں فرمایا کہ حج کے دوران بےپردگی گناہ اور جھگڑا قطعاً نہیں ہونا چاہئے۔ اس میں بڑے احتیاط کی ضرورت ہے۔ کہیں حج میں نقص نہ واقع ہوجائے۔
وما تفعلوا من خیر یعلمہ اللہ اور تم جو بھی نیکی کا کام کرو گے اللہ تعالیٰ اسے جانتے ہیں۔ یہاں اس بات کی ترغیب دی گئی ہے کہ حج کے دوران ہمیشہ نیکی اور بھلائی کی طرف راغب رہو۔ حاجی اللہ کا مہمان ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی مہمان نوازی کرتے ہوئے اس کی دعا قبول کرتا ہے اور پھر جن جن مقامات پر حاجی جاتا ہے۔ وہ قبولیت کے مقامات ہیں۔ زمانہ یعنی حج کے مہینے بھی قبولیت کے مہینے ہیں۔ لہٰذا حاجی کو چاہئے کہ وہ ہر وقت نیکی میں مصروف رہے بلکہ ارادے تک کو جانتا ہے۔
زاد راہ
آیت کے اگلے حصے میں زمانہ جاہلیت کی ایک باطل رسم کی تردید کی گئی ہے امام جلال الدین سیوطی اور بعض دوسرے مفسرین کرام نے لکا ہے۔ یمنی لوگوں کا حال یہ تھا کہ حج کا موسم آتا تو بےسروسامانی کی حالت میں چل دیتے۔ نہ کوئی سامان لیتے نہ روپیہ پیسہ ، بس ایک چادر کندھے پر ڈالی اور حج کے لئے روانہ ہوگئے کہتے تھے ہم متوکل علی اللہ ہیں اس کے راستے پر نکلے ہیں ، وہ خود مدد کرے گا اور پھر حالت یہ ہوتی کہ راستے میں بھیک مانگنا شروع کردیتے اور اس طرح زاد راہ کے بغیر کسمپرسی کی حالت میں حج کا سفر کرتے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرضیت حج کے لئے پہلی شرط ہی استطاعت کی لگائی ہے۔ ” من استطاع الیہ سبیلاً “ یعنی حج کے سفر پر وہ شخص روانہ ہو ، جو اس کی استطاعت رکھتا ہو۔ اگر کسی کے پاس سفر کے اخراجات نہیں ہیں تو اس پر حج فرض نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس سے باز رس نہیں ہوگی کہ تم نے حج کیوں نہیں کیا البتہ شوق ایک الگ چیز ہے ، جو کہ ہر اہل ایمان کے دل میں موجزن ہوتا ہے ۔ مگر بغیر توفیق کے حج فرض نہیں ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح نصاب کے بغیر زکوۃ فرض نہیں۔ جسکے پاس نصاب کے برابر ملا نہیں ہے۔ وہ تنگ ہو کر زکواۃ ادا نہ کرے بلکہ دوسرے احکام پر عمل کرتا رہے۔ حج کے متعلق بھی یہی حکم ہے۔ اگر توفیق نہیں ہے۔ تو کوئی حرج نہیں۔ دوسرے احکام بجا لائو۔ نما ز روزے کی پابندی رکھو ، والدین اور قربات داروں کے حقوق ادا کرو جن کے متعلق بازپرس ہوگی ۔
اسی لئے فرمایا و تزو دوا زاد راہ لے لیا کرو۔ توشہ بنا کر حج کا سفر اختیار کرو آدمی کو چاہئے کہ وہ برائی اور سوال سے بچے توشہ بنانا اور اس کے لئے جائز ذرائع آدمی کو چاہئے کہ وہ برائی اور سوال سے بچے توشہ بنانا اور اس کے لئے جائز ذرائع اختیار کرنا بالکل درست ہے۔ اسباب کو ترک کرنا درست نہیں۔ البتہ ان ذرائع اور اسباب پر بھروسہ رکھنا تو کل کے خلاف ہے۔ بھروسہ صرف اللہ کی ذات پر ہونا چاہئے۔ وہی ان اسباب میں تاثیر پیدا کرنے والا ہے۔ بیماری کی صورت میں علاج کرنا درست ہے۔ مگر ڈاکٹر پر بھروسہ کرنا جائز نہیں۔ کیونکہ شفا تو من جانب اللہ ہے۔ اگر اللہ چاہے گا تو دوائی میں تاثیر پیدا کر دے گا اور مریض صحت یاب ہوجائے گا ، ورنہ لاکھوں دوائیں استعمال کریں کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ اللہ چاہے تو پانی میں پاس بجھانے کی تاثیر پیدا کر دے اور اگر وہ نہ چاہے تو پوری نہر کا پانی پی کر بھی استفسار کے مریض کی پیاس نہ بجھے۔ یہ اس کے قبضہ قدرت میں ہے معلوم ہوا کہ اسباب پر کنٹرول ذات خداوندی کا ہے مگر اسباب کو ترک کرنا روا نہیں ہے۔ لہٰذا حج کا ارادہ کیا ہے۔ تو سواری کا انتظام کرو ، سامان ساتھ لو اخراجات کے لئے روپیہ پیسہ لے لو اور پھر توکل بر خدا روانہ ہو جائو۔ بغیر زاد راہ سفر پر نکلنا تو ویسے ہی عزت نفس اور شرافت کے خلاف ہے۔ اس میں قباحتیں پیدا ہوتی ہیں انسان دوسروں پر بوجھ بنتا ہے کہ بالکل جائز نہیں لہٰذا فرمایا کہ زاد راہ لے لیا کرو۔
گداگری حرام ہے
جو شخص خالی ہاتھ سفر پر روانہ ہوگا ، ظاہر ہے کہ اسے ضروریات زندگی کے لئے ہاتھ پھیلانا پڑے گا۔ حالانکہ گداگری اسلام میں حرام ہے اس میں شک نہیں کہ آج آدھی دنیا کے مسلمان دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلا رہے ہیں۔ مگر یہ گداگری بہرحال حرام ہے شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ چوری ، ڈاکہ وغیرہ کی طرح گداگری بھی ایک مضر پیشہ ہے اور حرام ہے۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی آدمی کو سوال کرنا روا نہیں ، سوائے خاص پریشانی کی حال تھیں۔ آپ نے چند آدمیوں کو کچھ وقت کے لئے سوال کر نیکی اجازت دی مگر اس وقت تک جب تک ان کی حالت درست ہوجائے۔ ہمارے ہاں تو لوگ ساری ساری عمر گداگری کو پیشہ بنائے رکھتے ہیں جو کہ عزت نفس کے خلاف ہے حضور ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روزگداگر اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہوگا تو اس کے چہرے پر گوشت ہی نہیں ہوگا۔ عجیب شکل و صورت لے کر دیار رب العزت میں پیش ہوگا۔ وجہ یہ کہ دنیا کی زندگی میں مانگتا پھرتا تھا۔
تقویٰ بہترین زادہ راہ ہے
فرمایا توشہ لے لیا کرو فان خیرالزاد التقوی کیونکہ بہترین زاد راہ تقویٰ ہے۔ پرہیز گاری اختیار کرو۔ کیونکہ اگر یہ منزل حاصل ہوگئی۔ تو پھر سوال نہیں کرو گے۔ سوال کرنا ، بھیک مانگنا تقویٰ کی روح کے منافی ہے۔
واتقون یاولی الالباب یعنی اگر تم صاحب عقل و شعور ہو تو مجھ سے ڈرتے رہو اور میری نافرمانی کے قریب بھی نہ جائو۔ بلکہ صحیح راستہ اختیار کرو پہلے بھی گزر چکا ہے واتوا البیوت من ابوابھا اپنے گھروں میں دروازوں کی طرف سے آئو۔ سیدھا راستہ پکڑو گے تو منزل مقصود تک پہنچ جائو گے ورنہ راستے میں بھٹکتے رہو گے۔ فلاح نصیب نہیں ہوگی۔ مقصد یہ کہ حج کرنا ہے تو صحیح طریقہ اختیار کرو۔ رقم جمع کرو ، سواری کا انتظام کرو اگر یہ نہیں کرسکتے تو پھر صدقہ و خیرات اور زکواۃ کے مال سے حج کرنا کہاں کا تقویٰ ہے اللہ تعالیٰ نے ایسے کام کی تردید فرمائی ہے۔
زمانہ جاہلیت میں لوگ حج کے موقع پر خریدو فروخت بھی کرتے تھے جب اسلام کا دور آیا تو بعض مسلمانوں کو تردد پیدا ہوا کہ تجارت کرنے سے ہماری عبادت میں فرق نہ آجائے۔ چناچہ وہ لین دین سے اجتناب کی سوچنے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلاً من ربکم اس بات میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔ تجارت اور لین دین کا تبادلہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس سے رزق حلال میسر آتا ہے۔ لہذا حج کے دوران خریدو فروخت جائز ہے البتہ اس بات کا خیال رہے کہ حج پر روانہ ہوتے وقت نیت صرف حج کی ہو تجارت کی نہیں ہونی چاہئے۔ وہاں جا کر ضروریات کی اشیاء خرید لے تو منع نہیں اور اگر نیت ہی خریدو فروخت کی ہو تو پھر ایسا کرنا جائز نہیں۔ بعض لوگ جاتے ہی سامان خریدنے کے لئے ہیں۔ بعض سیر و تفریح کی غرض سے جاتے ہیں بعض لوگوں سے سنا کہ بھائی اس سال لندن جانا ہے۔ یا اس سال حجاز کی سیر کرنی ہے۔ یہ باطل نظریات ہیں۔ جب نیت ہی سامان خریدنے کی ہے ، تو پھر سونا بھی خریدیں گے اور کسٹم سے بچنے کے لئے طرح طرح کے حیلے بہانے بھی بنائیں گے اور اس طرح گناہ پر گناہ کے مرتکب ہوں گے۔ اگر حج کرنا ہے تو نیت خالص حج کی ہونی چاہئے اس کے باوجود اگر ضرورت کی چیزیں خرید لی ہیں تو کوئی ممانعت نہیں۔
اس ضمن میں قرآن پاک نے دو اصطلاحیں پیش کی ہیں۔ ایک اصطلاح ” رضوان “ ہے۔ جس سے مراد امور آخرت کی طلب ہے۔ اور دوسری اصطلاح ” فضل “ ہے جس سے مقصود رزق حلال ہے۔ یہ دونوں چیزیں جائز ہیں۔