2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعالم العرفان

Ayah 2:62

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى وَ الصّٰبِئِیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١۪ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:62 in the Quran reader

جو لوگ مسلمان ہوئے اور وہ لوگ جو یہودی ہوئے اور جو نصرانی ہوئے اور صابی ، جو شخص بھی ایمان لایا اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر اور اچھی کام کیے ۔ پس ان کے لیے ان کا اجر ہے۔ ان کے رب کے پاس اور ان پر کچھ خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

قانون نجات : اس سے پہلی آیات میں بنی اسرائیل کی نافرمانیوں ، فساد فی الارض ، اس کے نتیجے میں ان پر مسلط کی جانے والی ذلے اور مسکنت کا ذکر تھا۔ آیت زیر درس کے بعد بنی اسرائیل کی یکے بعد دیگرے خرابیوں کا ذکر ہوگا۔ اس درمیانی آیت میں اللہ تعالیٰ نے وہ قانون بتلا دیا ہے جس کی پابندی اختیار کرکے اور جس پر عمل پیرا ہو کر انسان کو نجات حاصل ہوسکتی ہے۔ تہ قانون کسی خاص فرقے یا گروہ کے لیے نجات مختص نہیں کرتا ۔ بلکہ جو بھی شخص اس میں دیے گئے اصول کی پابندی کرے گا۔ وہ نجات پا جائے گا ۔ خواہ وہ کسی خاندان کسی نسل یا کسی فرقے سے تعلق رکھتا ہو۔ یہ دراصل بنی اسرائیل کے نسبی تفاخر اور مذہبی فوقیت کی تردید ہے۔ جس میں وہ مبتلا تھے۔ اور اسی نام نہاد برتری کی وجہ سے اپنے آپ کو نجات یافتہ سمجھتے تھے۔ مذہب عالم : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے چار گروہوں یعنی مؤمنین ، یہود ، نصاریٰ اور صائبین کا ذکر فرمایا ہے۔ البتہ سورة حج میں پانچویں گروہ مجوسیوں کا ذکر بھی آیا ہے۔ نزول قرآن کے وقت جو فرقے پائے جاتے تھے۔ ان میں مشرکین ۔ یہود ، نصاریٰ اور صابی ہیں۔ حضرت مولانا شیخ الہند (رح) اپنی تفسیر کے حاشیہ پر لکھتے ہیں (1 ۔ قرآن مجید مترجم ص 13 مطبوعہ دار التصنیف کراچی) کہ یہود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت کو اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی امت کو کہتے ہیں البتہ صابی ایک ایسا فرقہ ہے جس نے مختلف ادیان سے بعض ایسی چیزوں کو اختیار کرلیا ہے۔ جنہیں وہ اچھا سمجھتے تھے۔ اس فرقہ کے پیروکار حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مانتے ہیں۔ فرشتوں کی پرستش کرتے ہیں۔ زبور پڑھتے اور کعبے کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ لوگ بہت سی جائز باتوں میں اختلاف بھی کرتے ہیں۔ اہل ایمان : اس آیت میں جن مذاہب کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ ان میں سرفہرست اہل ایمان ہیں ۔ ارشاد ہوتا ہے۔ “ ان الذین امنوا ” بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے یعنی مسلمان ہوئے صرف “ امنوا ” میں وہ تمام لوگ آجاتے ہیں جو بظاہر ایمان لے آئے۔ اور ان میں منافقین بھی شامل ہیں کیونکہ بظاہر تو وہ بھی کلمہ پڑھتے تھے۔ مسلمانوں کے ساتھ نمازیں بھی ادا کرتے تھے۔ نبی (علیہ السلام) کی مجلس میں بھی بیٹھتے تھے۔ اور پھر آپ کی اطاعت کا دعویٰ بھی کرتے تھے مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ “ امنوا ” کی فہرست میں داخل نہیں ہوسکتے۔ یہاں “ امنوا ” سے مراد وہ اہل ایمان ہیں۔ جو صحیح معنوں میں اللہ تعالیٰ پر اس کے رسولوں پر ، اس کی کتابوں پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس کظاب کے مصداق ایسے ہی لوگ ہیں۔ محض زبانی دعوے ایمان سے نجات ممکن نہیں ہے۔ ھادوا کا مفہوم : دوسرے نمبر پر فرمایا ۔ “ والذین ھادوا ” اور وہ لوگ جو یہودی ہوئے۔ یہاں پر مطلقاً یہودی نہیں فرمایا۔ بلکہ فرمایا جو یہودی ہوئے۔ اس میں امتیاز یہ ہے کہ یہود ایک نسلی مذہب ہے ۔ یہ تبلیغی مذہب نہیں ہے۔ یہودی وہ ہیں۔ جو نسلی طور پر بنی اسرائیل ہیں۔ اور یہودی ہونے سے مراد وہ لوگ بھی ہیں جو اگرچہ نسلی طور پر یہودی نہیں ہیں۔ مگر انہوں نے یہودی مذہب قبول کرلیا۔ نزول قرآن کے وقت مدینہ کے گردونواح میں بنی طی وغیرہ ایسے قبائل تھے۔ جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دور یا اس سے بھی پہلے جب بڑے بڑے حوادثات پیش آئے۔ تو یہ لوگ اپنے اس وطن سے ہجرت کرکے یہاں آباد ہوگئے تھے۔ یہاں پر ان کے قلعے اور آبادیاں تھیں یہ لوگ صاحب علم کہلاتے تھے۔ یہ لوگ اصل یہودی تھے۔ مگر بعض لوگ ایسے بھی تھے۔ جو اصلاً عربی النسل تھے۔ مگر یہودیوں سے متاثر ہو کر اس مذہب میں داخل ہوگئے تھے۔ انہیں کے متعلق کہا گیا ہے کہ جو یہودی ہوئے۔ یہودی کی وجہ تسمیہ : یہودیوں کو یہود کہنے کی دو وجوہات بیان کی جاتی ہیں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 102) کہ پہلی وجہ یہ ہے کہ یہ نام حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے چوتھے بیٹے یہودا کے نام پر ہے۔ اس نام کی دوسری توجیہہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ سورة اعراف میں آتا ہے “ انا ھدنا الیک ھاد ”۔ ھوداکا معنی ہوتا ہے رجوع کرنا ۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) کا دعائیہ کلمہ ہے۔ جب بنی اسرائیل نے سخت گستاخی کی اور کہا کہ ہم ہرگز اس کتاب کو نہیں مانیں گے۔ جب تک اللہ تعالیٰ خود ہم سے ہم کلام ہو کر اس کتاب کی تصدیق نہ کرے۔ تو موسیٰ (علیہ السلام) قوم کے ستر آدمیوں کو ساتھ لے کر کوہ طور پر گئے۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے ان کا مطالبہ پورا کردیا مگر یہ پھر بھی ایمان نہ لائے۔ تو اللہ تعالیٰ کا قہر بجلی کی صورت میں نازل ہوا۔ اور وہ ستر آدمی ہلاک ہوگئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) سخت رنجیدہ خاطر ہوئے۔ کہ مولا کریم ! میں قوم کو جا کر کیا بتاؤں گا۔ وہ کہیں گے کہ ہمارے آدمی وہاں لے جا کر مروا دیے۔ اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) نے نہایت عاجزی کے ساتھ دعا کی تھی ۔ اور عرض کیا تھا۔ “ انا ھدنا الیک ” اے مولا کریم ! ہم تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا تھا۔ تو بعض فرماتے ہیں (2 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 268 ، ابن کثیر ج 1 ص 103) کہ یہودیوں کو یہود کا لقب اس ھدنا کے مادے سے دیا گیا تھا۔ یہودی عقائد : اس وقت پوری دنیا میں یہودیوں کی تعداد دو کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ برخلاف اس کے نصاری کم و بیش دو ارب کی تعداد میں ہیں۔ یہودی اپنے آپ کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت پر کاربند کہتے ہیں۔ مگر ان میں ابتدائے زمانہ ہی میں بہت سی خرابیاں پیدا ہوگئیں۔ ان میں سرکشی کا مادہ وافر مقدار میں موجود تھا۔ بعد میں یہ عادی مجرم بن گئے۔ عصیان ان کی سرشت میں داخل ہوگیا۔ اور یہ لوگ حقوق العباد کو ضائع کرنے لگے۔ حتیٰ کہ انبیاء (علیہم السلام) کو قتل کیا۔ یہ لوگ اپنے آباؤ اجداد کے شنیع افعال پر نادم ہونے کی بجائے۔ ان پر فخر کرتے تھے ۔ کہ وہ بہت اچھا کام کرتے رہے ہیں۔ ان کے عقائد اعمال اور اخلاق میں بیشمار قبائح پیدا ہوچکے تھے۔ اور آج تک موجود ہیں۔ یہودیوں کا ایک عقیدہ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جسمانی صورت کے معتقد ہیں۔ اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ کو جسمانیت سے مبرا سمجھتے ہیں۔ مگر کہتے ہیں کہ اس کا تعلق جسم کے ساتھ بھی ہے۔ اس جسم کو وہ مثالی اور نورانی مانتے ہیں ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی جسمانیت شعاع کی طرح ہے۔ جو پھیل جاتی ہے۔ اور سکڑ جاتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے رؤیت الٰہی کا مطالبہ پیش کردیا۔ “ لن نؤمن لک حتی نری اللہ جھرۃ ” ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کو ظاہری طور پر نہ دیکھ لیں۔ اسکے علاوہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر گریہ ، ہنسی ، حزن اور غم کا بھی اطلاق کرتے ہیں ۔ یہودی انبیاء (علیہم السلام) کے بارے میں بھی بڑی بدگمانی رکھتے ہیں۔ بلکہ ان پر تہمتیں لگاتے ہیں۔ توارۃ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے انبیاء (علیہم السلام) پر کیا کیا بہتان باندھے انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تہمت لگائی کہ آپ ہارون (علیہ السلام) سے حسد کرتے تھے اس لیے آپ نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کو قتل کیا (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 268) (العیاذ باللہ) حالانکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو حضرت ہارون (علیہ السلام) کے بارے میں سفارشی تھے۔ کہ “ واشر کہ فی امری (22) کی نسبحک کثیرا ” اے پروردگار ! میرے بھائی کو میرے ساتھ تبلیغ میں شریک فرما۔ آپ نے یہی تو دعا کی تھی۔ “ ھو افصح منی لسانا ”۔ وہ مجھ سے زبان میں زیادہ فصیح ہے۔ اے اللہ میری زبان میں لکنت ہے “ ردا یصدقنی ” اسے میرا معاون بنا دے جو میری تصدیق کرے۔ کہیں فرمایا اسے میرا وزیر بنا دے۔ ہم مل کر تیرے دین کی تبلیغ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا “ اوتیت سؤلک یموسی ” اے موسیٰ تیرا سوال پورا کردیا گیا ہے۔ اصل بات تو یہ ہے مگر یہ بدبخت یہودی کہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ہارون (علیہ السلام) کو قتل کردیا تھا۔ یہودیوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو نبی نہیں مانتے بلکہ ولی مانتے ہیں ان کا عقیدہ ہے کہ نبی تو محض ایلچی ہوتا ہے۔ مگر ولی نبی سے زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ اس میں تقرب الی اللہ کا مادہ زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ عقیدہ بالکل باطل ہے۔ ان بدبختوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ سونے کا بچھڑا خود حضرت ہارون (علیہ السلام) نے بنایا تھا یا انہوں نے بنانے کا مشورہ دیا تھا (العیاذ باللہ) اسی طرح انہوں نے حضرت داؤد (علیہ السلام) پر یہ تہمت لگائی۔ کہ انہوں نے اپنے کمانڈر انچیف اور یا کو قتل کردیا اور اس کی بیوی کو گھر میں رکھا (العیاذ باللہ) انہیں لوگوں نے سحر کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف منسوب کیا۔ کہ یہ جادو گر اور طلسمات کا ماہر ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کے نبیوں کے بارے میں بہت بڑا جھوٹ ہے۔ یہودی یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت دائمی ہے۔ جو کبھی منسوخ نہیں ہوگی۔ یہ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھی منکر ہیں جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دنیا میں تشریف لائے تو انہوں نے سخت مخالفت کی۔ اور ان کو دجال تک کہا۔ ان بدبختوں نے ان کے منہ پر تھوکا اور انہیں سولی پر لٹکانے کی کوشش کی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ پر زنا کی تہمت انہی ظالموں نے لگائی (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 268) (العیاذ باللہ) یہودیوں کی بد اخلاقی ، بد عقیدگی اور ان کی بری خصلتوں کی تفصیلات قرآن پاک میں موجود ہیں۔ بعض چیزیں تفاسیر میں ملتی ہیں۔ اور بعض تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہیں۔ نصاریٰ کی وجہ تسمیہ : مؤمنین اور یہود کے تذکرہ کے بعد تیسرے گروہ کے متعلق فرمایا “ والنصری ” اور نصرانی جو اپنے آپ کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ لفظ نصاریٰ ، نصرانی کی جمع ہے۔ اور نصرت کے معنی مدد کرنے کے ہوتے ہیں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں (2 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 268 ، تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 103) کہ یہ لوگ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اذیت پہنچاتے تو آپ لوگوں کو مخاطب کرکے فرماتے ۔ “ من انصاری الی اللہ ” اللہ تعالیٰ کے راستے میں کون میرا مددگار ثابت ہوگا۔ “ قال الحواریون نحن انصار اللہ ” تو حواریوں نے کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے راستے میں مدد کے لئے تیار ہیں چناچہ اسی لفظ سے ان کو نصاریٰ کا نام دیا گیا ۔ یعنی نصرت کرنے والے۔ مدد کرنے والے بعض دوسرے مفسرین کرام فرماتے ہیں (3 ۔ معالم التنزیل ج 1 ص 30 ، درمنثور ج 1 ص 75) کہ جس بستی میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) رہتے تھے۔ اس بستی کا نام ناصرہ تھا۔ چناچہ اس بستی کی نسبت سے اس گروہ کو نصرانی کے لقب سے ملقب کیا گیا ہے بالکل اسی طرح جس طرح مدینہ کی نسبت کرکے مدنی کہا جاتا ہے۔ یا کسی کو مکی یا شامی وغیرہ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ واللہ اعلم ۔ نصاری کے عقائد باطلہ : نصاری بھی عجیب و غریب عقائد رکھتے تھے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق ان کا عقیدہ بالکل بگڑ چکا ہے۔ آج کل کے مسیحی پولس نامی ایک شخص کے بگاڑے ہوئے ہیں۔ یہ شخص مسیحیت کا مبلغ تھا۔ اس نے دین مسیحی کا بالکل حلیہ بگاڑ دیا۔ پولس نے بھی عیسائیت کو اس طرح خراب کیا۔ جس طرح عمرو بن نحی نے دین ابراہیم کو بگاڑ دیا تھا۔ عرب اقوام تقریباً دو ہزار سال تک حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کے مذہب پر قائم رہے۔ اتنے عرصہ تک یہ توحید پرست رہے مگر حضور ﷺ کی بعثت سے تقریباً ساڑھے چار سو سال قبل اس شخص نے عربوں میں بت پرستی کا طریقہ ایجاد کیا۔ نتیجہ یہ ہوا۔ کہ نزول قرآن کے وقت سارا عرب شرک میں غرق ہوچکا تھا۔ حتیٰ کہ خانہ کعبہ کے اندر تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے۔ پولس نے مسیحیت کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بندہ اور رسول ماننے والے لوگ آہستہ آہستہ ختم ہوگئے۔ اور ثلیث کا مسئلہ ان میں رواج پا گیا۔ آگے سورة مائدہ میں آرہا ہے کہ انہوں نے “ ان اللہ ثالث ثلثۃ ” کا عقیدہ بنا لیا۔ اور اس طرح گمراہی میں مبتلا ہوگئے۔ اس وقت انہوں نے چار گروہ بنا لیے۔ مگر اس وقت کے کیتھولک اور پروٹسٹنٹ دونوں گروہ مشرک ہیں۔ دونوں میں سے کوئی بھی توحید پر قائم نہیں رہا۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا ۔ یا خدا کا بیٹا یا تیسرا خدا یا ابن اللہ کہا انہوں نے یہ عقیدہ بھی قائم کرلیا۔ کہ خدا عیسیٰ (علیہ السلام) میں حلول کر گیا ہے۔ یہودیوں نے بھی یہی کہا تھا۔ کہ خدا بچھڑے میں حلول کر گیا ہے۔ اس طرح کا باطل عقیدہ عیسائیوں نے وضع کرلیا ۔ سید علی ہجویری صاحب ، کشف المحجوب میں لکھتے ہیں (1 ۔ کشف المحجوب فارسی ص 183 ، مطبوعہ دائرۃ المعارف پنجاب یونیورسٹی لاہور) کہ صوفیائے کرام کے بارہ فرقے ہیں۔ ان میں سے دو فرقے مردود ہیں۔ اور باقی دس فرقے مقبول ہیں۔ دو مردود فرقے یہی حلول والے فرقے ہیں۔ “ وحدت الوجود ” کا عقیدہ بھی انہی لوگوں کا ہے جو کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ بندے کے اندر داخل ہوگیا ہے (العیاذ باللہ) تو ہر حال یہ لوگ بھی اسی قسم کی بدعقیدگی کا شکار ہوچکے ہیں “ والصابئین اور صابی صابی کون ہیں ؟ مفسرین کرام فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 269 ، تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 104) کہ صابی کا عام فہم معنی بےدین ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص ایک دین چھوڑ کر دوسرے دین میں داخل ہوجائے تو اسے صابی کہتے ہیں۔ اسی بنا پر عرب کے مشرکین حضور ﷺ کو صابی کہتے تھے۔ یعنی انہوں نے پرانا دین چھوڑ کر نیا دین اختیار کرلیا ہے تاہم اس مقام پر جس صابی فرقہ کا تذکرہ ہے۔ مفسرین نے اس کی بہت سی تفصیلات بیان کی ہیں۔ شاہ عبد العزیزی محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں (2 ۔ تفسیر عزیزی پارہ 1 ص 269) کہ اس فرقہ کے پیروکاروں کا عقیدہ ہے کہ نیک بختی اور سعادت حاصل کرنے کے لیے انسان کسی نبی کا محتاج نہیں ہے۔ بلکہ اگر وہ روحانیت اور فرشتوں کے ساتھ رابطہ قائم کرے تو اس کے لیئے یہی کافی ہے۔ انہیں سے انسان فیض حاصل کرسکتا ہے۔ یہ لوگ مختلف قسم کے ہیکل بناتے ہیں۔ مثلاً آفتاب ، ماہتاب ، ستاروں اور ملائکہ کے نام کے ہیکل بنائے جاتے ہیں۔ جس طرح ہم لوگ قبلہ کی طرف منہ کر کے سجدہ کرتے ہیں۔ یہ لوگ ستاروں کو مسجود بناتے ہیں۔ اور انہیں قبلہ تصور کرتے ہیں۔ صابیوں کے عقائد : اس فرقہ کے متعلق یہ بھی لکھا ہے کہ یہ تین نمازیں پڑھتے تھے۔ اس زمانہ میں صابیوں کے جانشین پرویزی اور چکڑالوی ہیں۔ چکڑالوی بھی تین نمازوں کے قائل ہیں ان کے بعض لوگ دو نمازیں پڑھتے ہیں اور بعض صرف ایک۔ یہ سب گمراہ فرقے ہیں اسی طرح پرویز کا عقیدہ یہ ہے کہ موجودہ نماز کی کوئی حقیقت نہیں۔ صحیح نماز وہ ہوگی جو حکومت مقرر کریگی۔ صابیوں کی اور بھی بہت سی تفصیلات ملتی ہیں۔ مثلاً ان کا عقیدہ ہے کہ مردے کو کوئی شخص ہاتھ لگا دے۔ تو اس کے لیے غسل ضروری ہوجاتا ہے یہ لوگ گدھے اور کتے کے گوشت کو تو نہیں کھاتے مگر اس کے ساتھ ساتھ اونٹ اور پنجے دار جانور کے گوشت کو بھی یہودیوں کی طرح حرام سمجھتے ہیں۔ یہ پیاز اور باقلی کو بھی حرام سمجھتے ہیں۔ مار ماہی ، یا مار مچھلی یعنی سانپ کی مانند مچھلی بھی ان کے ہاں حرام ہے۔ یہ لوگ شراب کو حلال اور جائز سمجھتے ہیں۔ مگر نشے کو حرام گردانتے ہیں۔ طلاق کے متعلق ان کا شرعی مسئلہ یہ ہے کہ حاکم وقت کی اجازت کے بغیر طلاق واقع نہیں ہوتی۔ ان کے ہاں ایک سے زیادہ نکاح بھی جائز نہیں۔ کہتے ہیں کہ ایک وقت میں صرف ایک عورت سے ہی نکاح ہو سکتا ہے۔ شاہ عبد العزیز (رح) نے صابیوں کے مختلف ہیکلوں کی شکل و صورت کا بھی تذکرہ کیا ہے مثلاً وہ فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی ص 269 پارہ 1) کہ یہ لوگ ملت اولیٰ (First Cause) یعنی تخلیق پر بھی ہیکل بناتے ہیں۔ عقل کا ہیکل الگ ہوتا ہے۔ سیاست کا الگ۔ اسی طرح صورت کا ہیکل بناتے ہیں اور پھر نفس کا ہیکل گول شکل کا بناتے ہیں۔ زحل سیارے کا ہیکل مسدس شکل کا ہوتا ہے۔ اور مشتری کا ہیکل مثلث کا۔ آفتاب کا ہیکل مربع شکل کا ہوتا ہے۔ اور مہتاب کا ہیکل مثمن یعنی آٹھ پہلو کا ہوتا ہے۔ یہ لوگ قیامت کا بالکل انکار کرتے ہیں۔ اس کی بنائے ان کا عقیدہ یہ ہے کہ چھتیس ہزار چار سو پچیس سال کا ایک دور ہوتا ہے جب ایک دور ختم ہوجاتا ہے تو پھر ہر ذی روح کا ایک ایک جوڑا پیدا ہوتا ہے۔ مثلاً انسان ، چرند ، پرند ، کیڑے مکوڑے وغیرہ ہر ایک کا ایک جوڑا پیدا ہوتا ہے۔ جس سے آئندہ نسل چلتی ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ موجودہ دور جب تک موجود ہے یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا۔ اس کے بعد یہ تناسخ کی شکل میں تبدیل ہوجائے گا۔ اور پھر دوسرا دور شروع ہوجائے گا۔ علی ہذا القیاس ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے میں کلدانیوں کی ایک بہت بڑی تہذیب گندی ہے اس کا مرکز بابل شہر تھا۔ جو کہ ہم و بیش ایک سو میل کے رقبے میں پھیلا ہوا تھا۔ یہ شہر بغداد سے قریباً ستر یا سو میل دور تھا۔ اس سے پہلے آشوریوں کی تہذیب کا دور دورہ تھا۔ وہ ختم ہوئی ہو تو کلدانی تہذیب کو عروج حاصل ہوا۔ انہیں کے مقابلے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بھیجا تھا۔ آپ وہاں تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ مگر مجبور ہو کر وہاں سے ہجرت کی اور شام و فلسطین کو مرکز بنایا۔ پھر خانہ کعبہ کی تعمیر کے لیے مکر مکرمہ آئے۔ تو صابیوں کی طرح یہ کلدانی بھی ستاروں اور روحیانیت کے قائل تھے۔ اور ان کا قبلہ بنا کر ان کی طرف سجدہ کرتے تھے ۔ حنیفی بمقابلہ صابی : حضرت مولانا عبید اللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں (1 ) کہ دنیا میں دو قسم کے مذاہب ہیں۔ ایک حنیفی اور دوسرا صابی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تک صابی دور تھا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد دور حنیفیت شروع ہوچکا ہے اب حنیفیت کی آگے تین شاخیں ہیں۔ یعنی مسلمان یہود اور نصاری۔ ان میں سے صرف مسلمان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین (ملت) پر قائم ہیں ۔ باقی دونوں گروہ اصل دین سے ہٹ چکے ہیں۔ دور ابراہیمی سے پہلے جو صابی گروہ تھا۔ وہ اب بھی موجود ہے۔ آگے اس کی بھی تین شاخیں ہیں۔ یعنی مجوس ، برہمن اور بدھ ، مجوسیوں کو زیادہ تر عروج ایران میں ہوا۔ وہاں ان کی تاریخی حیثیت مسلم ہے۔ تاریخ کی ایک مشہور کتاب ایران بعہد ساسانیاں میں موجود ہے۔ کہ مجوس کی بھی دو قومیتیں ہیں ایک کا نام ایرج ہے۔ اور دوسری کا طور۔ قدیم زمانے میں ایران کے بادشاہ فرید ون کے دو بیٹے ایرج اور طور تھے۔ انہیں کے نام پر مجوس کی دو شاخیں پھیل گئیں ۔ مجوسی بھی دراصل اہل کتاب تھے۔ مگر ہندوؤں کی طرح انہوں نے بھی مذہب کو بگاڑ دیا۔ حضرت علی ؓ کی روایت میں آتا ہے (2 ۔ تحفۃ الاحوزی ج 2 ص 393 ، بحوالہ مصنف عبد الرزاق) کہ مجوسیوں کے کسی بادشاہ نے اپنی بہن کے ساتھ زنا کیا۔ اور پھر اسے جائز قرار دینے کے لیے وقت کے علماء کو ساتھ ملایا۔ خود غرض مفتیوں اور عالموں نے بادشاہ کے حق میں فتویٰ دے دیا کہ ایسا کرنے میں کوئی قباحت نہیں کیونکہ آدم (علیہ السلام) کی شریعت میں بھی تو بہن کے ساتھ نکاح جائز تھا۔ گویا مجوسیت میں اس قسم کی بےحیائی بھی روا تھی حتی کہ ماں کے ساتھ نکاح بھی جائز سمجھتے ہیں مجوسیوں کی دوسری شاخ برہمن ہے۔ جو ہندوستان میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اور تیسرے بدھ ہیں جو چین اور جاپان میں آباد ہیں۔ یہ سب کی سب صابی امتیں ہیں۔ ایمان باللہ : ان چار گروہوں یعنی اہل ایمان ، یہود ، نصاریٰ اور صابی کا تذکرہ کرکے اب وہ اصول بتائے جا رہے ہیں ۔ جن پر عمل پیرا ہو کر نجات حاصل ہو سکتی ہے تو فرمایا ان چاروں گروہوں میں سے “ من امن باللہ ” جو شخص بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا۔ یعنی کوئی شخص کسی بھی گروہ سے تعلق رکھتا ہو۔ کتنا بڑا کافر اور مجرم ہو۔ بدترین قسم کا ظالم ہو۔ اگر اس نے صدق دل سے توبہ کرلی۔ اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایمان لے آیا۔ تو اس کی توبہ قبول ہوجائے گی۔ اور وہ نجات حاصل کرلے گا۔ ایمان میں صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان لانا کافی نہیں۔ بلکہ اس کی صفات۔ اس کی تقدیر وحدانیت۔ اس کے انبیاء (علیہم السلام) اور اس کے فرشتوں پر بھی ایمان لانا ضروری ہے۔ اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں (1 ۔ حجۃ اللہ البالغۃ ) کہ جو شخص یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ خدا نبی نہیں بھیجتا یا حکم جاری نہیں کرتا تو وہ کافر ہوجاتا ہے۔ ایسا شخص اگر بغیر توبہ کے مرگیا ، تو وہ جہنمی ہے۔ نبی بھیجنا ، حکم جاری کرنا ، شریعت دینا یہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کا انکار بھی دوسرے معنوں میں اللہ تعالیٰ کی صفت کا انکار ہے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیض پہنچانے والی مخلوق ہے۔ یہ لطیف اجسام والی نورانی ، پاک اور منزہ مخلوق ہے۔ ان پر ایمان لانا بھی ضروری ہے ایمان بالاخرۃ : فرمایا ایمان حاصل کرنے کا دوسرا قانون ایمان بالاخرۃ ہے۔ “ والیوم الاخر ” یہ وہی دن ہے جو اس جہان کا آخری دن (Last Day of the World) ہوگا پچاس ہزار سال کے اس دن میں تمام انسانوں کا حساب کتاب ہوگا۔ اور اس کے بعد دوسرا دور شروع ہوجائے گا۔ گویا قیامت کے دن کو ماننا بھی اتنا ہی لازم ہے ۔ جتنا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا۔ جو شخص روز جزا کا انکار کرے گا۔ وہ بھی کفر میں داخل ہوجائے گا۔ اعمال صالحہ : ایمان باللہ اور ایمان بالاخرۃ کے بعد تیسرا قانون “ وعمل صالحا ” ہے ۔ یعنی نجات کا حق دار وہ شخص ہوگا۔ جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ اعمال صالحہ بھی انجام دیتا ہو۔ مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی فرماتے ہیں کہ بنیادی طور پر اعمال صالحہ نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج ہیں۔ فقہائے کرام البتہ جہاد کو بھی بنیادی اعمال میں شمار کرتے ہیں۔ تو جو لوگ ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کے ساتھ ان بنیادی اعمال کو بھی انجام دیں گے۔ ان کے متعلق فرمایا “ فلہم اجرھم عند ربھم ” ان کو ان کے رب کے پاس بدلہ ملے گا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا “ ولا خوف علیہم ولاھم یحزنون ” ان پر مستقبل میں کوئی خوف نہیں ہوگا۔ اور نہ وہ سابقہ اعمال پر غمگین ہوں گے۔ جیسا کہ روایات میں آتا ہے۔ کہ قیامت کے دن سب لوگ خوفزدہ ہوں گے۔ مگر یہ طبعی اور عارضی ہوگا۔ بالآخر وہ ہر قسم کے خوف سے بچ جائیں گے۔ بعض اوقات دنیا میں بھی بعض نیک لوگوں کو مصائب برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ اور وہ حلال و حزن سے دو چار ہوتے ہیں مگر یہ عارضی چیز ہے۔ نتیجے کے اعتبار سے ایسے لوگوں کو خوف نہیں ہوگا۔ حتیٰ کہ حشر والے دن کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا “ لایحزنھم الفزع الاکبر ” بڑے دن کی گھبراہٹ بھی انہیں خوفزدہ نہیں کرے گی ۔ اللہ ان کے دل کو سکون کی دولت سے مالا مال کرے گا۔ “ وتتلقھم الملئکۃ ” فرشتے ملاقات کریں گے تو انہیں تسلی دیں گے۔ کہ گھبراؤ مت اب تمہارے لیے امن ہی امن ہے۔ اور آئندہ بھی کوئی خوف نہیں ہوگا۔ کہ ہم سے کسی وقت کوئی نعمت چھن جائے گی۔ یا کوئی تکلیف پہنچے گی۔ وہ لوگ دنیا میں انجام دیے گئے اپنے کسی عمل پر بھی غمگین نہیں ہوں گے۔ الغرض ! اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نجات کا یہ قانون سمجھا دیا کہ نجات کسی خاص فرقہ گروہ کے لیے مختص نہیں ہے۔ ایمان کا دعویدار ہو یا یہودیت کا۔ کوئی عیسائی مذہب رکھتا ہے یا صابی۔ نجات کے لیے واحد قانون یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے۔ آخرت کے دن پر ایمان لائے ۔ اللہ تعالیٰ کے نبیوں ، کتابوں اور فرشتوں پر ایمان لائے اور عمل صالحہ انجام دے۔ اس کے بغیر نجات نہیں ہے۔ ہر گروہ اپنے ہی فرقے کو افضل اور حق پر سمجھتا ہے۔ مگر نجات کا دارومدار اسی قانون پر ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے بتلا دیا۔ آگے قانون کی مزید تشریح آرہی ہے۔
Ayahs 2:63–64

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:63 in the Quran reader

اور اس واقعہ کو یاد کرو جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا اور ہم نے تمہارے اوپر طور کو بلند کیا۔ جو کچھ ہم نے دیا ہے اسے مضبوطی سے پکڑو۔ اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم متقی بن جاؤ

ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ۚ فَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 2:64 in the Quran reader

پھر تم اس کے بعد پھرگئے۔ پس اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم نقصان اٹھانے والوں میں ہوجاتے

بنی اسرائیل کا عہد : ان آیات میں بھی بنی اسرائیل کی خرابیوں کا ہی ذکر ہے اس سے پچھلی آیت میں قانون نجات کی تفصیل بیان کی گئی تھی۔ کہ نجات کسی خاص فرقہ کے لیے مخصوص نہیں ہے۔ بلکہ اس کا دارومدار ایمان باللہ ، ایمان بالآخرۃ اور اعمال صالحہ پر ہے۔ آیات زیر درس میں بنی اسرائیل کی توجہ اس واقعہ کی طرف دلائی جا رہی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ جو کتاب میں تمہیں دے رہا ہوں اس کے احکام کی پابندی کروگے۔ مگر وہ کہنے لگے کہ یہ احکام تو بڑے مشکل ہیں ہم سے عمل نہیں ہو سکے گا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ڈرانے کے لیے ان کے سروں پر کوہ طور کو کھڑا کردیا۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے “ واذا اخذنا میثاقکم ” اس واقعہ کو یاد کرو جب ہم نے تم سے پختہ عہد کیا ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 271) کہ جب بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات حاصل ہوگئی۔ فرعون اور اس کے تمام لشکر ہلاک ہوگئے۔ تو بنی اسرائیل نے خود ہی موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمائش کی کہ ہمارے لیے کوئی شریعت مقرر کرو۔ جس کی ہم پابندی کریں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ان کو تورات عطا فرمائی ۔ مگر وہ طرح طرح کے حیلے بہانوں سے اس کے احکام کو ٹالنے کی کوشش کرنے لگے۔ اور تو انہوں نے تورات کے منزل من اللہ ہونے پر شک و شبہ کا اظہار کیا۔ اور اعتراض یہ کیا کہ ہم اس کتاب پر ایمان لانے کیلئے تیار نہیں جب تک خود اللہ تعالیٰ اس کی تصدیق نہ کرے۔ کہ یہ اس کی عطا کردہ کتاب ہے۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) ستر آدمیوں کو لے کر کوہ طور پر گئے۔ ان لوگوں نے اپنے کانوں سے اللہ تعالیٰ کا کلام سنا ۔ مگر اس کے باوجود گستاخی کی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں سزا دی۔ بجلی آئی اور سب کو خاکستر کرگئی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے پھر انہیں زندگی عطا کی۔ مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں (1 ۔ قصص القرآن ج 1 ص 472 ، 474) کہ یہ سب کچھ ہونے کے باوجود طور سے واپس آنے والے لوگوں نے اپنی قوم سے کہا۔ کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہم سے ہمکلام ہوا ہے۔ اور اس نے کہا ہے کہ یہ کتاب میں نے ہی دی ہے۔ مگر اس کے تمام احکام پر عمل کرنا ضروری نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ جس قدر ممکن ہو ۔ اس پر عمل کرلینا اور باقی کو چھوڑ دینا۔ چناچہ انہوں نے خود ہی فیصلہ کرلیا کہ توراۃ کے جملہ احکام تو بہت مشکل ہیں۔ لہذا ہمیں ساری توراۃ پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں۔ اور انہوں نے صریح احکام کی خلاف ورزی شروع کردی۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے اس کتاب پر عمل کرنے کا پختہ عہد کرلیا تھا۔ چناچہ اسی کو فرمایا گیا ہے ۔ “ واذاخذنا میثاقکم ” ا۔ تفاع طور : فرمایا “ ورفعنا فوقکم الطور ” اور ہم نے تمہارے اوپر طور کو بلند کیا ۔ جیسا کہ الفاظ سے ظاہر ہے۔ مطلب واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے طور پہاڑ کو اٹھا کر ان کے سروں پر سائے کی طرح کھڑا کردیا تھا یہ اتنی خوفناک صورت حال تھی کہ پہاڑ کسی وقت بھی ان پر گر کر ان کو چکنا چور کرسکتا تھا۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے پوچھا کہ تم تورات کے احکام پر عمل کرو گے یا نہیں۔ تو انہوں نے عہد کیا کہ مولا کریم ! ہم سے یہ مصیبت ٹال دے۔ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ تیرے احکام پر عمل پیرا ہوں گے۔ معجزات کے بعد منکرین “ رفعنا ” کی مختلف تاویلیں کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں۔ کہ پہاڑ کو بنی اسرائیل کے سروں پر معلق نہیں کیا گیا تھا۔ بلکہ بنی اسرائیل کو پہاڑ کے دامن میں اس طرح کھڑا کیا گیا تھا کہ پہاڑ کا کچھ حصہ ان پر جھکا ہوا تھا یہ ان کی غلط فہمی ہے سورة اعراف میں “ نتقنا ” کا واضح لفظ آتا ہے جس کا مطلب اکھاڑ کر کھڑا کردینا ہے اور معجزانہ طور پر ایسا ہوجانا کونسی بعید بات ہے ، جو اللہ تعالیٰ پتھر سے پانی نکال سکتا ہے سمندر کو پھاڑ کر اس میں بارہ راستے بنا سکتا ہے۔ من اور سلویٰ نازل کرسکتا ہے وہ اگر کسی پہاڑ کو اٹھا کر سروں پر معلق کر دے تو کون سی بڑی بات ہے۔ بلکہ تورات میں تو یہ تفصیل بھی آتی ہے کہ نہ صرف پہاڑ معلق ہوگیا تھا۔ بلکہ ساتھ دھواں اٹھ رہا تھا۔ اور آگ کے شعلے سامنے نظر آرہے تھے الغرض ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے وہ عہد لیا۔ جس کا تذکرہ اس آیت میں آیا ہے۔ لغوی طور پر طور ایسے پہاڑ پر بولا جاتا ہے جو سرسبز ہو ۔ یعنی اس پر بکثرت درخت پائے جائیں۔ خشک پہاڑ کے لیے طور کا لفظ استعمال نہیں ہوتا۔ یہاں پر جس پہاڑ کا ذکر ہے یہ وہی طور ہے۔ جو صحرائے سینا کے اطراف میں واقع ہے۔ اور اس کی ایک چوٹی پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ سے شرفِ تکلم حاصل ہوا تھا۔ اسی پہاڑ پر آپ کو توراۃ ملی تھی۔ دین میں جبر نہیں : بنی اسرائیل کے سروں پر طور معلق کرکے عہد لینے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ تو جبری عہد ہوگیا۔ جو کہ ٹھیک نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے “ لا اکراہ فی الدین ” یعنی دین میں جبر نہیں ہے۔ مگر یہاں پر جبراً عہد کرایا گیا۔ مفسرین کرام (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ نمبر 1 ص 276) اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ بیشک دین میں جبر نہیں۔ مگر اس سے مراد یہ ہے کہ کسی کو کوئی دین اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ خواہ اس کا دل مانے یا نہ مانے۔ کم از کم اسلام میں تو ایسا نہیں ہے۔ اسلام تو یہ چاہتا ہے کہ تبلیغ کی جائے۔ اسلام کی خوبیاں بیان کی جائیں۔ اس کے معتقل اگر کوئی غلط فہمیاں ہیں تو انہیں دور کیا جائے۔ دوسروں کے ساتھ ہمدردی کی جائے۔ اور اسے اسلام کی دعوت دی جائے۔ اسلام کی پوری تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ مسلمانوں نے کسی بھی زمانے میں کسی پر جبر نہیں کیا نہ کسی کو زبردستی مسلمان بنایا۔ البتہ کیمونسٹوں اور عیسائیوں کی تاریخ واضح ہے کہ انہوں نے کیسے کیسے ظلم کئے۔ مسلمانوں کو زبردستی عیسائی بنایا گیا۔ اور بعض کو تہ تیغ کیا گیا۔ کسی غیر مسلم کو اسلام میں داخل کرنے کے لیے قطعا جبرروا نہیں۔ البتہ فی الجملہ اسلام میں جبر ہے۔ جو قانون شکنی کا مرتکب ہوگا۔ اس پر جبر بھی ہوگا۔ بنی اسرائیل پر پہاڑ معلق کرنے کا مقصد بھی یہی تھا۔ کہ جو عہد کیا تھا اس کی پابندی کرو۔ ورنہ یہ پہاڑ تمہارے اوپر گراد یا جائے گا۔ تو راۃ میں تو یہ الفاظ آتے ہیں ۔ کہ اگر تم نے عہد کی پابندی نہ کی تو تمہارا مدفن یہیں بنے گا اگر قانون کی پابندی کے لیے جبر کو جبر فی الدین سمجھ لیا جائے تو سارا معاملہ ہی درہم برہم ہوجائے گا۔ حدود اور تعزیرات کا سلسلہ بند کرنا پڑے گا۔ جب کسی ملزم کو سزا دیجائے گی تو وہ جبر جبر کی دہائی دینے لگے گا۔ کہ اس پر زیادتی ہو رہی ہے۔ اسے جبراً کوڑے لگائے جا رہے ہیں یا سے جبراً قید میں ڈالا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ اس پر جبر نہیں ہوگا بلکہ قانون کی خلاف ورزی پر تعزیر ہوگی۔ الغرض ! اسلام میں داخل کرنے کے لیے کسی پر جبر نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ قانون کی پابندی کرانے کے لیے جبراً سزا دی جاسکتی ہے۔ مسلمانوں کے انحطاط کے زمانہ میں سلطان سلیم ترکی (رح) نے عیسائیوں کی سازشوں سے تنگ آکر حکم دے دیا کہ ترکی کی عملداری میں تمام عیسائیوں کو جبراً مسلمان بنا لیا جائے۔ اس زمانے کے شیخ الاسلام کو اس حکم کی خبر ملی تو فوراً سلطان کے پاس پہنچے اور اس سے اس حکم کے متعلق دریافت کیا۔ سلطان نے تسلیم کیا۔ کہ اس نے عیسائیوں کی سازشوں سے تنگ آکر یہ حکم صادر کیا ہے۔ تو شیخ السلام نے دوٹوک الفاظ میں سلطان سے کہا۔ کہ آپ کا یہ حکم اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے “ لا اکراہ فی الدین ” کہ دین میں جبر نہیں ہے۔ مگر آپ غیر مسلموں پر جبر کر رہے ہیں۔ کہ وہ اسلام میں داخل ہوں۔ سلطان بات کو سمجھ گیا اور اپنا حکم واپس لے لیا۔ یہ تاریخی واقعہ ساری دنیا کو معلوم ہے۔ استمسان بالکتاب : جب اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا۔ اور انہوں نے اس کی پابندی کا اقرار کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا “ خذواما اتینکم بقوۃ ” جو کچھ ہم نے دیا ہے اسے مضبوطی سے پکڑ لو۔ استمساک بالکتاب کا مطلب یہ ہے کہ اسے تسلیم کرو ۔ اس پر ایمان لاؤ۔ اور پھر اسی کے مطابق عمل کرو۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 272) کہ پوری کوشش اور جانفشانی کے ساتھ اس کا پڑھنا پڑھانا ، سیکھنا سکھانا اس میں مندرج قوانین کی پابندی کرنا انسان کی ترقی اور خطیرۃ القدس کا ممبر بننے اور علیین تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے۔ غرض کتاب کو مضبوطی سے پکڑنے کا مطلب مضبوط ہاتھوں سے پکڑنا نہیں۔ بلکہ اس کے قوانین پر سخٹی کے ساتھ عملدرآمد کرنا ہے۔ محض خالی خولی وعدوں سے کام نہیں بنے گا۔ قوانین کی پابندی : استمساک بالکتاب کے بعد دوسرے نمبر پر فرمایا “ واذکروا ما فیہ ” اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد کرو۔ یعنی اس کو پڑھتے پڑھاتے رہو۔ یہ قرآن پاک قانون خداوندی ہے۔ سنت رسول اس کی شرح ہے۔ مگر آج کتنے لوگ ہیں۔ جو قرآن و سنت سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔ اس آیت میں بنی اسرائیل کو خطاب کرکے بات ہمیں سمجھائی جا رہی ہے کہ جو کچھ قرآن پاک میں قانون نازل ہوا ہے۔ اسے یاد کرو۔ اس کو خود پڑھو اور دوسروں کو پڑھاؤ۔ اس کی تشہیر کرو۔ تاکہ قانون کی تفصیلات عوام الناس تک پہنچ سکیں۔ جس طرح ایک عام دنیوی حکومت کے قانون کی تشہیر ضروری سمجھی جاتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے قانون قرآن پاک کو عام کرنا بھی ہمارے فرائض میں داخل ہے۔ شاہ عبد العزیز (رح) فرماتے ہیں (1 ) کہ حاکم وقت کو اپنی رعایا پر اس طرح مہربان ہونا چاہئے جیسے کوئی باپ اپنی اولاد پر ہوتا ہے۔ ایک باپ کی یہ انتہائی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی اچھی تربیت کرے۔ ہر شریف النفس باپ ایسا ہی چاہے گا۔ بلکہ باپ تو یہ پسند کرے گا۔ کہ اس کا بیٹا اس سے زیادہ ترقی کرے۔ اسی طرح حاکم کو بھی اپنی رعایا کی تربیت اولاد کی طرح کرنی چاہئے۔ اور اپنے قانون کی خوب تشہیر کرنی چاہئے۔ تاکہ رعایا کا کوئی فرد اس سے ناواقف نہ رہے۔ اور قانون پر عمل پیرا ہوجائے۔ اب اگر حاکم خود اپنے قانون کی پابندی کرے گا۔ تو رعایا بھی اس پر کاربند ہوگی۔ اور اگر وہ خود پابندی نہیں کرتا تو وہ دوسروں سے کیسے پابندی کروائے گا۔ جس شخص خود فاسق و فاجر اور بدکار ہے وہ دوسروں کو نیکی اور بھلائی کا کیا درس دے گا۔ جو خود جواء کھیلتا ہے۔ وہ دوسرے جو اریوں کو کیسے سزا دے گا۔ شرابی حاکم شرابیوں سے کیسے نپٹے گا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ حاکم پہلے خود قانون کی پابندی کرے اور پھر دوسروں سے سختی کے ساتھ پابندی کروائے۔ اس کے بعد جو کوئی قانون شکنی کرے اسے سخت ترین سزا دے۔ فرمایا “ واذکروا ما فیہ ” اس میں جو کچھ لکھا ہوا ہے اسے یاد کرو۔ اور اس کے پڑھانے کے لیے وسائل بھی مہیا کرو۔ مدرسے قائم کرو۔ معلم مقرر کرو تاکہ ہر خاص و عام اس کی تعلیمات سے مستفید ہوں۔ اسے علم ہونا چاہئے۔ کہ ہمارا قانون بہترین قانون ہے۔ اس دستور سے بڑھ کر دنیا میں کوئی دستور نہیں۔ حضرت مولانا عبید اللہ سندھی (رح) نے اپنی ڈائری میں لکھا ہے کہ میں تمام شریف ہندوؤں اور دوسرے غیر مسلموں کو چیلنج کرتا ہوں کہ اگر وہ پوری نیک نیتی کے ساتھ غور کرینگے تو اسلام سے بہتر کوئی قانون نہیں پائیں گے۔ لہٰذا میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ جس طرح میں نے اس دستور کو قبول کرلیا ہے۔ آؤ تم بھی اسے گلے لگالو۔ اور فلاح پا جاؤ۔ کہ اس سے بڑھ کر کوئی ضابطہ حیات نہیں ہے۔ “ واذکروا ما فیہ ” کا یہی مطلب ہے۔ وہ کون سے جرائم ہیں۔ جو اس دنیا میں نہیں ہو رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے “ ولا تقربوا لزنی ” کہ زنا کے قریب تک نہ جاؤ۔ مگر آج آپ کے سامنے کیا کیا واقعات پیش ہو رہے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی بچیوں کے ساتھ زنا بالجبر اور پھر انہیں ہلاک کردینا ایک عام معمول بن چکا ہے جس سر زمین پر اس قسم کے واقعات پیش آتے ہوں۔ وہاں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کیسے نازل ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کا غضب ہی آسکتا ہے۔ 1917 ء میں روس میں کیا ہوا۔ پونے دو کروڑ انسانوں کو ہلاک کردیا گیا۔ بڑے بڑے مالداروں کو ٹانگوں سے باندھ کر کئی کئی میل تک گھسیٹا گیا۔ ان کا جرم یہ تھا کہ وہ سرمایہ داروں کی طرفداری کرتے تھے۔ یہ لوگ انسانیت کے دشمن تھے۔ جس معاشرے میں اس قسم کے ظلم ہوتے ہوں اور ان کے انسداد کا کوئی بندوبست نہ ہو۔ اس سے کیا نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے۔ یہ سب کچھ عنقریب دنیا کے سامنے آجائے گا۔ فرمایا جو کچھ اس کتاب میں موجود ہے اسے یاد کرو۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا “ لعلکم تتقون ” کہ تم متقی بن جاؤ گے۔ اگر انسان کا عقیدہ صحیح ہو۔ قرآن پاک کو پڑھتا پڑھاتا رہے فریضہ تبلیغ انجام دیتا رہے۔ تو متقیوں کی فہرست میں شامل ہوجائے گا۔ اور تقویٰ ایک ایسی چیز ہے۔ کس کو اختیار کرنے سے شریعت کے احکام کی تعمیل انسان کے لیے آسان ہوجاتی ہے۔ اسی لیے قرآن پاک کو “ ھدی للمتقین ” کے لقب سے ملقب کیا گیا ہے۔ بنی اسرائیل کی عہد شکنی : فرمایا اے بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ سے پختہ عہد کرنے کے بعد “ ثم تولیتم من بعد ذلک ” تم اس کے بعد اس عہد سے پھرگئے اسے پورا نہ کیا اللہ تعالیٰ نے پھر بھی تم پر مہربانی کی اور تمہیں موقع دیتا رہا کہ تم اپنے عہد کی پاسداری کرسکو۔ حتیٰ کہ یہ آخری موقع بھی دیا ۔ کہ اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآں پاک بھی نازل ہوچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا آخری نبی (علیہ السلام) بھی آچکا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ ایفائے عہد کرتے ہوئے “ وامنوا بما انزلت مصدقا لما معکم ” اس چیز پر ایمان لے آؤ جو میں نے نازل کی ہے یعنی قرآن پاک جو کہ اسی چیز کی تصدیق کرتا ہے جو پہلے سے تمہارے پاس ہے۔ یعنی توراۃ اور دیگر کتب سماویہ۔ لہٰذا اب بھی موقع ہے کہ ایمان لے آؤ “ ولا تکونوا اول کافر بہ ” اور اس کے ساتھ اولین کفر کرنے والے نہ بنو۔ اگر ایسا کروگے تو آنے والی نسلیں بھی تمہارے ہی نقش قدم پر چل کر راہ راست سے بھٹکی رہیں گی۔ فرمایا اس کے باوجود “ فلولا فضل اللہ علیکم ورحمتہ ” اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی “ ولکنتہ من الخسرین ” تو تم نقصان اٹھانے والوں میں ہوتے فوراً ہلاک ہوجاتے اور تمہیں دوبارہ موقع بھی نہ ملتا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ وہ تمہیں بار بار موقع دے رہا ہے۔ کہ اب بھی سمجھ جاؤ اور راہ راست پر آجاؤ۔ ورنہ اگر اللہ تعالیٰ تمہاری کوتاہیوں اور غلطیوں کی طرف دیکھے تو فوراً ہلاک کر دے اور توبہ کا موقع بھی نہ مل سکے ۔