2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعالم العرفان

Ayah 2:74

ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِیَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً١ؕ وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْهُ الْمَآءُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَهْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:74 in the Quran reader

پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے۔ پس وہ پتھروں کی طرح ہیں۔ بلکہ ان سے بھی زیادہ سخت ہیں اور بیشک بعض پتھروں میں سے البتہ وہ ہیں کہ جن سے نہریں جاری ہوجاتی ہیں اور بیشک ان پتھروں میں سے بعض ایسے ہیں جو پھٹ جاتے ، ان سے پانی نکلتا ہے اور بیشک ان پتھروں میں سے بعض ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے خوف سے نیچے گر پڑتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ ان کاموں سے غافل نہیں ہے جو تم کرتے ہو

قساوت قلبی : بنی اسرائیل کی بہت سی برائیوں کا ذکر گزشتہ آیات میں آچکا ہے۔ اور بعض کا ذکر آگے بھی آئے گا۔ آیت زیر درس میں اللہ تعالیٰ نے ان تمام تر برائیوں کا نتیجہ بیان فرمایا ہے۔ بنی اسرائیل کی طرف سے کتمان حق ، بچھڑے کی پرستش ، قانون کی خلاف ورزی ، قتل انبیاء (علیہم السلام) وغیرہ یہ تمام ایسی بیماریاں تھیں جن کا نتیجہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل کے دل سخت ہوگئے۔ سورة مائدہ میں بنی اسرائیل کی قساوت قلبی کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے “ فبما نقضھم میثاقھم لعنھم وجعلنا قلوبھم قسیۃ ” یعنی بنی اسرائیل کے عہد و پیمان توڑنے کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت بھیجی اور ان کے دلوں کو سخت کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ لوگ اس قسم کے کام کرتے تھے کہ “ یحرفون الکلم عن موضعۃ ” اللہ تعالیٰ کے کلام کو اپنے مقام سے تبدیل کردیتے ۔ گویا آسمانی کتاب میں تحریف کے مرتکب ہوتے تھے۔ جس کی وجہ سے قساوت قلبی جیسی لعنت میں گرفتار ہوگئے بلکہ ان کے فہم بھی الٹ گئے۔ ان میں ضعف ہمت کی بیماری بھی پیدا ہوگئی۔ جس کی وجہ سے وہ جہاد کے لئے بھی آمادہ نہ ہوئے۔ بلکہ کہنے لگے کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! آپ اور آپ کا خدا جاکر جہاد کریں۔ ہم تو یہیں بیٹھیں گے۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے “ لاتکثر الکلام بغیر ذکر اللہ ” یعنی اللہ تعالیٰ کے ذکر کے علاوہ زیادہ کلام نہ کرو۔ کیونکہ فضول باتیں کرنے کی وجہ سے انسان میں قسادت قلبی پیدا ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے بعید ترین وہ شخص ہے جس کا دل سخت ہو۔ خدا تعالیٰ سے دوری مسافت کے اعتبار سے نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اور اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے درمیان پردے پڑجائیں۔ انسان اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہوجائے۔ اسی لیے فرمایا کہ ذکر الٰہی کے علاوہ کثرت کلام سے اجتناب کرو۔ مسند احمد اور ترمذی شریف کی روایت میں ہے (2 ۔ مسند احمد ج 2 ص 287 ، ترمذی) کہ ایک شخص نے عرض کیا ، حضور ! میں اپنے دل میں سختی محسوس کرتا ہوں۔ اسکا علاج بتائیے۔ آپ نے ارشاد فرمایا یتیم کے سر پر ہاتھ رکھو۔ غریبوں اور مسکینوں کی پرورش کرو ، انسانوں کے ساتھ ہمدردی سے پیش آؤ۔ اللہ تعالیٰ تمہاری قسادت قلبی دور فرمائیں گے۔ ایک دوسری حدیث میں حضور ﷺ کا ارشاد گرامی (3 ۔ تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 114 بحوالہ بزار مرفوعا) ہے کہ قسادت قلبی چار چیزوں سے ظاہر ہوتی ہے۔ اور جمود العین یعنی اس کی آنکھیں منجمد ہو کر وہ جائیں۔ ان سے خشیت الٰہی کی وجہ سے کبھی آنسو نہ نکلیں۔ ثانیاً قسادۃ القلب یعنی اس کا دل سخت ہوجائے جو نرم نہ ہو۔ ثالثاً طول الامل لمبی مید۔ رابعاً ۔ حرص علی الدنیا یعنی اس کے دل میں دنیا کی محبت حد سے زیادہ ہو۔ پتھروں سے زیادہ سخت دل : بنی اسرائیل اس قسادت قلبی کا شکار ہوچکے تھے ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مخاطب کرکے فرمایا “ ثم قست قلوبکم من بعد ذلک ” پھر اسکے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے۔ حالانکہ تم خدا تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں یعنی اس کی طرف سے معجزات دیکھ چکے تھے اس کے باوجود تمہارے دلوں میں نرمی پیدا نہ ہوسکی۔ بلکہ وہ تو ایسے ہوگئے جیسے پتھر ہوتے ہیں۔ “ فھی کا لحجارۃ او اشد قسوۃ ” بلکہ پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہوگئے لفظ “ او ” دو معنوں میں استعمال ہو سکتا ہے۔ اگر اسکا معنی بل (بلکہ) کیا جائے تو مطلب ہوگا۔ تمہارے دل پتھروں کی طرح سخت ہوگئے۔ بلکہ ان سے بھی زیادہ سخت ہوگئے۔ اور یہ تنویع کے لیے بھی ہو سکتا ہے ۔ یعنی تمہارے دل پتھروں کی طرح سخت ہوگئے۔ ب دیکھئے۔ لوہا پتھروں سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ سورة بنی اسرائیل میں ہے “ کونوا حجارۃ او حدیدا ” یعنی پتھر یا لوہا ہوجاؤ۔ کیا تمہارے خیال میں اس سے زیادہ سخت چیز بھی کوئی ہے وہاں پر بھی قسادت قلبی کو پتھروں اور لوہے سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ مطلب یہ کہ بنی اسرائیل کے دل پتھروں کی طرح سخت ہوچکے تھے۔ یا پتھروں سے بھی زیادہ قسادت ان میں پیدا ہوچکی تھی۔ پتھروں کے فوائد : بنی اسرائیل کی قسادت کو مزید اس مثال سے بیان فرمایا کہ دیکھو “ وان من الحجارۃ لما یتفجر منہ الانھر ” یعنی بعض پتھر ایسے ہیں کہ ان میں سے نہریں پھوٹتی ہیں۔ جن سے مخلوق خدا سیراب ہوتی ہے “ وان منھا لما یشقق ” اور بعض پتھر ایسے ہیں جو پھٹ جاتے ہیں “ فیخرج منہ المآء ” اور ان سے پانی بہ نکلتا ہے جو کہ انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ “ وان منھا لما یھبط من خشیۃ اللہ۔ اور بعض ایسے پتھر بھی ہیں جو خوف خدا سے نیچے گر پڑتے ہیں۔ مگر یہ بنی اسرائیل ایسی بدبخت قوم ہے کہ ان میں پتھروں والی خصوصیات بھی نہیں پائی جاتیں۔ پتھر بلاشبہ سخت ہیں۔ مگر پھر بھی ان سے مخلوق خدا فائدہ حاصل کرتی ہے۔ مگر یہ قوم پتھروں سے بھی گئ گزری ہے۔ جن سے کچھ حاصل نہیں۔ سجدہ تقرب الی اللہ کی علامت ہے : مفسرین کرام فرماتے ہیں (1 ۔ معالم التنزیل ج 1 ص 34 ، تفسیر مدارک ج 1 ص 57 ، تفسیر عزیزی فارس پارہ نمبر ص 294) کہ پتھروں کا بلندی سے پستی کی جانب گرپڑنا خشیت الٰہی کی بناء پر ہوتا ہے۔ اور در حقیقت یہ پتھر کا اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ہوتا ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور نیاز مندی کی انتہائی شکل سجدہ ہے۔ اور یہ بہت بڑی حقیقت ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کا اتصال پیدا ہوتا ہے۔ اسی لیے قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے۔ “ واسجدواقترب ” یعنی سجدہ کرو اور قرب خداوندی حاصل کرو حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے (2 ۔ مسلم ج 1 ص 191 ، ابو داؤد ج 1 ص 127 ، نسائی ج 1 ص 170) “ اقرب ما یکون العبد من ربہ فھو ساجد ” یعنی جن حالتوں میں اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ قرب حاصل ہوتا ہے۔ ان میں حالت سجدہ سب سے اولیٰ ہے۔ اس حالت میں جس قدر عجزو انکساری ہوگی اسی قدر اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوگا۔ اسی چیز کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اتصال سے تعبیر کیا گیا ہے اور اسی اتصال کی بدولت انسان کی حالت درست رہ سکتی ہے۔ حاصل کلام یہ کہ جو شخص پتھروں جیسے اوصاف کا حامل بھی نہیں ہے۔ یعنی نہ تو اس سے مخلوق کو عام فائدہ پہنچتا ہے ۔ نہ وہ شخص محدود پیمانہ پر مفید ہے۔ اور نہ ہی اس کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اتصال ہے۔ تو پھر ایسا انسان بلاشبہ بدبخت اور شقی ہے۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ انہیں قدرت خداوندی کی نشانیاں نظر آتی ہیں۔ بلکہ جو ان کے ساتھ چلنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ وہ بھی اس نعمت سے محروم نہیں رہتے۔ اور پھر ان کی وجہ سے بڑی بڑی باتوں کا ظہور ہوتا ہے۔ بعض اکابر دین : ہمارے بعض ایسے اکابر قریبی زمانہ مٰں ہوئے ہیں جو یقیناً مقربین الٰہی میں سے ہیں۔ سید احمد شہید بریلوی (رح) سادات کے خاندان میں سے حسنی تھے۔ وطن مالوف رائے بریلی تھا۔ دہلی میں حضرت شاہ عبد العزیزی محدث دہلوی (رح) کی خدمت میں حاضر ہوئے بیعت کی اور علم حاصل کیا۔ شاہ صاحب (رح) نے مزید تربیت کے لیے اپنے برادرِ خورد شاہ عبد القادر (رح) کے سپرد کردیا۔ انہوں نے تین سال تک سید احمد شہید بریلوی (رح) کی تربیت کی۔ یہ وہی شاہ عبد القادر (رح) ہیں جنہوں نے سب سے پہلے قرآن پاک کا اردو ترجمہ کیا۔ صاحب کشف بزرگ تھے ہر وقت عبادت میں مشغول رہتے۔ شاہ عبد العزیز (رح) کی عمیق نظروں نے جانچ لیا کہ سید احمد شہید بریلوی عظیم صالحیت کے مالک ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ ایسے ہی لوگوں سے بہت اہم کام لے لیتا ہے۔ چناچہ تین سالہ تربیت مکمل کرلینے کے بعد شاہ صاحب نے سید احمد شہید (رح) کو ٹونک جاکر فوجی تربیت حاصل کرنے کا حکم دیا۔ لہٰذا آپ نے چھ سال تک فوجی تربیت بھی حاصل کی۔ گویا سید احمد شہید (رح) ، شاہ عبد العزیزی (رح) کے تربیت یافتہ اور ان کے مجاز تھے ۔ خود شاہ عبد العزیزی (رح) برصغیر میں اپنے باپ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) کے بعد بہت بڑے عالم اور فقیہہ تھے۔ آپ محدث اور مفسر قرآن تھے۔ آپ کے داماد مولانا عبد الحی رحمی اللہ علیہ بھی بڑے پائے کے بزرگ تھے۔ آپ سید صاحب (رح) سے زیادہ عالم تھے۔ شاہ اسماعیل شہید (رح) ، شاہ عبد الغنی (رح) کے بیٹے اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) کے پوتے تھے قرآن پاک کے علاوہ تیس ہزار حدیثیں زبانی یاد تھیں۔ صبح کی نماز پڑھ کر قرآن پاک کی تلاوت شروع کرتے اور سورج نکلنے تک ختم کرلیتے ادھر عصر کے بعد شروع کرتے تو مغرب کی اذان کے ساتھ ختم کرلیتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قدر انعام فرمایا تھا۔ ایک مرتبہ آپ کے ہاتھ میں شیخ عبد الحق محدث کا وہ رسالہ آگیا۔ جس میں نماز کی ترکیب لکھی ہوئی تھی۔ چناچہ اس طریقہ کے مطابق ہی نماز پڑھنے کی کوشش کرتے تھے آپ کی خواہش تھی کہ رات کے وقت دو رکعت ایسی نماز پڑھنے کی توفیق میسر آجائے جس کے دوران کوئی وسوسہ نہ آئے۔ ایسی کوشش میں رات بھی میں سو رکعات نماز ادا کی۔ مگر مقصد حاصل نہ ہوا۔ اس بات کا ذکر آپ نے سید احمد شہید بریلوی (رح) سے کیا۔ کہ شیخ عبد الحق محدث (رح) کے رسالہ میں مذکور طریقے سے نماز پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مگر کامیابی نہیں ہو رہی ہے۔ سید صاحب (رح) نے فرمایا کہ محض کتاب میں طریقہ پڑھ کر مقصد حاصل نہیں ہوگا۔ آؤ میرے ساتھ دو رکعت نماز ادا کرلو۔ چناچہ جب سید صاحب (رح) کے اقتداء میں نماز پڑھی تو اللہ تعالیٰ نے حضور قلب عطا کیا۔ اور مطلوبہ کیفیت حاصل ہوگئی۔ اس واقعہ کا ذکر آپ نے حضرت مولانا عبد الحی (رح) کے پاس بھی کیا۔ کہ حضور قلب کے لیے انہوں نے کتنی کوشش کی مگر یہ چیز سید احمد شہید (رح) کے ساتھ نماز پڑھنے سے حاصل ہوئی۔ یہ سن کر مولانا عبد الحی (رح) کو بھی اشتیاق پیدا ہوا سید صاحب (رح) سے عرض کیا تو انہوں نے انہیں بھی اپنے پیچھے نماز پڑھائی۔ تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی وہی کیفیت عطا کردی یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں صاحب یعنی شاہ اسماعیل شہید (رح) اور مولانای عبد الحی (رح) ہمیشہ سید احمد بریلوی (رح) کے ہمراہ رہے۔ شاہ اسمعیل کو تو اللہ تعالیٰ نے شہادت کا مرتبہ عطا کیا۔ مگر مولانا عبد الحی (رح) اسی سفر کے اور ان سرحد کے علاقہ پنج تار میں جا کر بیمار ہوئے اور وہیں پر داعی کو لبیک کہا۔ بالا کوٹ کی تاریخی جنگ میں شاہ اسمعیل شہید (رح) فوج کے سالار تھے اور مولانا عبد الحی (رح) ، سید احمد شہید (رح) کے لشکر میں عہدہ قضا پر فائز تھے۔ اس اسلامی فوج کے امیر سید احمد شہید برہلوی (رح) تھے۔ سرحد میں ان کی قائم کردہ اسلامی حکومت تین سال تک چلی۔ اس کے بعد مسلمانوں کی نالائقی کی وجہ سے آگے نہ چل سکی۔ اسی دوران مولانا عبد الحی (رح) بیمار ہوگئے جب ان کی زندگی کی امید باقی نہ رہی تو سید صاحب (رح) نے پوچھا کوئی خواہش ہو تو بتائیں کہنے لگے خواہش تو شہادت کی موت کی تھی۔ جو پوری نہیں ہوسکی۔ اب چاہتا ہوں کہ اس آخری وقت میں آپ کا قدم میرے سینے پر ہو۔ سید صاحب (رح) نے ان کی خواہش کو پورا کیا۔ اور آپ نے اس کے بعد اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کردی۔ مسلمانوں کی ناکامی کی وجہ : مسلمانوں کی ناکامی کی بڑی وجہ ان کی اپنی غداری ہے۔ یہ غداری ابن علقمی کے دور کے بعد ساتویں صدی میں شروع ہوئی۔ اسی وجہ سے سلطنتیں تباہ ہوئیں۔ اور مسلمان روبہ زوال ہی ہے پھر یہ اپنے قدموں پر جم نہ سکے۔ تو بہرحال میں عرض یہ کر رہا تھا کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا اتصال نصیب ہوتا ہے۔ حقیقی معنوں میں وہی کامیاب ہوتے ہیں۔ اور جن لوگوں میں پتھروں والی تین صفات بھی نہیں پائی جاتیں وہ بدبخت اور شقی ہوتے ہیں۔ ان کے دل سخت ہوجاتے ہیں۔ بلکہ پتھروں سے بھی زیادہ سخت ۔ بنی اسرائیل کی مثال واضح ہے۔ یہ پتھروں سے بھی گئے گزرے ہیں۔ ان کا وجود غیر مفید بلکہ بنی انسان کے لیے مضر ہے گویا یہ سارا اسرائیلیوں کی خرابیوں کا ذکر ہے۔ فرمایا “ وما اللہ بغافل عما تعملون ” یاد رکھو اللہ تعالیٰ تمہارے کسی فعل سے غافل نہیں ہے۔ تمہاری تمام کرتوتیں اس کی نگاہ میں ہیں۔ ایک وقت آنے والا ہے۔ جب اللہ جل شانہ تمہارے اعمال کا انجام تمہارے سامنے رکھ دے گا۔ یہ سارا بنی اسرائیل کو خطاب ہے۔ کہ اب بھی سمجھ جاؤ اور راہ راست پر آجاؤ۔ تو اچھے انجام کو پہنچ جاؤ گے۔ ورنہ تم اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔
Ayahs 2:75–79

اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَ قَدْ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:75 in the Quran reader

(اے اہل ایمان) کیا تم توقع رکھتے ہو کہ (اہل کتاب) ایمان لائیں گے تمہاری بات پر۔ حالانکہ ان میں سے ایک گروہ ایسا تھا جو اللہ کا کلام سنتے تھے پھر اس کو بدل ڈالتے تھے۔ بعد اس کے کہ کہ انہوں نے اسے سمجھ لیا تھا۔ اور وہ جانتے بھی ہیں

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ قَالُوْۤا اَتُحَدِّثُوْنَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ لِیُحَآجُّوْكُمْ بِهٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:76 in the Quran reader

اور جب وہ اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم بھی ایمان لائے اور جب الگ ہوتے ہیں ۔ ان میں سے بعض ، بعض کے پاس ، تو کہتے ہیں کیا تم ان (مسلمانوں) کے پاس ایسی چیزیں بیان کرتے ہو جو اللہ نے تم پر ظاہر کی ہیں۔ تاکہ وہ ان کے ذریعے تمہارے ساتھ تمہارے رب کے ہاں جھگڑا کریں۔ کیا تم سمجھتے نہیں

اَوَ لَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 2:77 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اس بات کو نہیں جانتے کہ بیشک اللہ تعالیٰ جانتا ہے جس چیز کو یہ چھپاتے ہیں اور جس کو ظاہر کرتے ہیں

وَ مِنْهُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 2:78 in the Quran reader

اور ان میں سے بعض ان پڑھ ہیں ، جو نہیں جانتے کتاب کو مگر چند چھوٹی آرزوئیں۔ اور نہیں ہیں وہ مگر گمان کرتے

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَیْدِیْهِمْ١ۗ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِیَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَوَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَیْدِیْهِمْ وَ وَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 2:79 in the Quran reader

پس ہلاکت ہے ایسے لوگوں کے لیے جو لکھتے ہیں کتاب کو اپنے ہاتھوں سے ، پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ تاکہ خریدیں اس کے ذریعے تھوڑی قیمت۔ پس ہلاکت ہے ان کے لیے جو لکھا ہے۔ ان کے ہاتھوں نے ، اور ہلاکت ہے ان کے لیے جو کمایا ہے انہوں نے

ربط آیات : گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل کی بہت سی برائیوں کا تذکرہ ہوچکا ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بہت سی نشانیاں دیکھنے کے بعد بنی اسرائیل کے دل سخت ہوگئے بلکہ پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہوگئے۔ فرمایا بعض پتھر بھی مفید ہوتے ہیں۔ مگر یہ قوم تو ان پتھروں سے بھی بدتر ہے یہ اللہ تعالیٰ کے احکام سے غافل ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ ان کے اعمال سے غافل نہیں ہے۔ ان کے سب کام اس کے علم میں ہیں۔ آیات زیر درس میں بھی یہودیوں کی بعض دوسری خرابیوں کا ذکر ہے۔ مگر یہاں روئے سخن مسلمانوں کی طرف ہے۔ یہود کی طرف سے نا امیدی : ارشاد ہوتا ہے “ افتطمعون ان یؤمنوا لکم ” یعنی اے اہل ایمان ! کیا تم توقع کرتے ہو کہ یہود تمہارے کہنے پر ایمان لے آئیں گے فرمایا ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ یہ بڑی بدبخت قوم ہے۔ یہ تمہاری بات کی ہرگز تصدیق نہیں کریں گے۔ یہ لوگ دین اسلام کو قبول کرنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوں گے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کو یہ بات سمجھا دی کہ گمان مت کرو یہ تمہارے ساتھ شریک ہوجائیں گے۔ کیونکہ شرکت دو وجوہ کی بنا پر ہو سکتی ہے۔ یا تو کوئی شخص دوسرے کا مقتدار بن کر ساتھ چلے یا اس کا تابع ہوجائے۔ جب تک ان دو میں سے کوئی ایک چیز شامل نہ ہو ۔ مل کر چلنا محال ہوتا ہے۔ مگر حقیقت حال یہ ہے کہ یہودیوں میں نہ مقتدا بننے کی اہلیت ہے اور نہ تابع بننے کی صلاحیت یہ لوگ مقتدا اس لیے نہیں بن سکتے کہ ان کی فکر خراب ہوچکی ہے۔ ذہنیت بگڑ چکی ہے۔ ان کا دین تبدیل ہوچکا ہے اسی طرح تابع وہ شخص ہو سکتا ہے جو صنعت مزاج اور بےلوث ہو۔ مگر یہودی ان تمام صلاحیتوں سے محروم ہیں اس لیے ان کی شرکت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اے ایمان والو ! تم ان کے پیچھے نہ پڑو۔ بلکہ ان کی راہ راست پر لانے کی اگر کوئی امید تمہارے دل میں ابھی تک موجود ہے ۔ تو اسے منقطع کر دو ۔ یہ لوگ انتہائی درجے کے متعصب ، ضدی اور عنادی ہیں۔ حیلہ ساز اور فریب ودہندہ لوگ ہیں۔ دنیا کی خاطر دین کو بگاڑ دینا ان کا عام مشغلہ ہے لہٰذا ان سے کسی بھی بھلائی کی توقع نہ رکھو۔ احکام میں تحریف : فرمایا ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ “ وقد کان فریق منھم یسمعون کلام اللہ ” ان میں سے بعض لوگ اللہ تعالیٰ کا کلام سنتے تھے۔ “ ثم یحرفونہ من بعد ما عقلوہ ” پھر اسے سمجھنے کے باوجود بدل دیتے تھے۔ “ وھم یعلمون ” اور وہ جانتے بھی تھے کہ کیا کرتوت کر رہے ہیں۔ گویا وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب توراۃ میں جان بوجھ کر تحریف کرتے تھے۔ بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں (1 ۔ معالم التنزیل ج 1 ص 35 ، مظہری ج 1 ص 86 ، تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 299) کہ یہاں پر تحریف سے اس واقعہ کی طرف اشارہ کرنا مراد ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ستر آدمیوں کو ساتھ لے کر کوہ طور پر گئے تھے۔ تاکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کا کلام سن لیں۔ کہ یہ کتاب واقعی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا کی۔ مگر ان لوگوں نے تحریف یہ کی کہ کہا بیشک یہ کتاب اللہ تعالیٰ نے دی ہے۔ مگر اس کے احکام پر سختی سے عمل کرنے کا حکم نہیں دیا۔ بلکہ کہا ہے کہ جس قدر آسانی سے عمل ہو سکے کرلینا۔ باقی کو چھوڑ دینا۔ اللہ تعالیٰ نے ان ستر آدمیوں کو بجلی کے ذریعے خاکستر کردیا تھا۔ مگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے انہیں پھر زندگی عطا کی۔ مقصد یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے ان لوگوں نے دیدہ دانستہ تحریف کی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو بدل دیا۔ حضور بنی کریم ﷺ کے زمانے کے اہل کتاب خصوصاً یہود کی تحریف کی بھی واضح مثالیں موجود ہیں۔ آگے آئے گا کہ یہود کا وطیرہ یہ تھا۔ کہ “ یعلمون انہ الحق ” وہ جانتے تھے کہ نبی آخر الزمان کا دین سچا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے جو پیش گوئیاں حضور ﷺ کے متعلق توراۃ میں بیان کی ہیں۔ وہ سب کی سب آپ پر پورا اترتی ہیں۔ مگر اس کے باوجود لوگوں کو صحیح بات بتانے کے لیے تیار نہ تھے۔ بلکہ توراۃ میں حضور ﷺ کے متعلق بیان کردہ نشانیوں کو چھپاتے تھے۔ اور لوگوں کو الٹی سیدھی باتیں بتا کر آپ پر ایمان لانے سے روکتے تھے۔ سورة مائدہ میں آئے گا۔ کہ ان لوگوں نے توراۃ کے احکام میں بھی تحریف کی ۔ توراۃ میں رجم کا حکم موجود تھا ۔ کہ شادی شدہ زانی کو سنگسار کیا جائے۔ مگر یہودیوں نے یہ حکم چھپا لیا توراۃ میں حضور ﷺ کا حلیہ مبارکہ موجود تھا۔ کہ آپ خوش شکل ہوں گے۔ آپ کے بال گھنگریالے اور آنکھیں سیاہ ہوں گئ قد درمیانہ اور رنگ گندمی ہوگا۔ مگر جب حضور ﷺ دنیا میں تشریف لے آئے اور آپ نے اپنی نبوت کا اعلان فرما دیا۔ تو یہودیوں نے توراۃ میں آپ کے بیان کردہ حلیے کو بدل دیا۔ اور لوگوں سے یہ کہنے لگے کہ نبی آخر الزمان (علیہ السلام) لمبے قد والے ہوں گے آپ کی آنکھیں نیلی ہوں گی اور بال سیدھے ہوں گے۔ اس طرح انہوں نے لوگوں کو آپ پر ایمان لانے سے روکنے کی کوشش کی۔ یہود کی ہٹ دھرمی : الغرض ! اہل ایمان کو سمجھایا جا رہا ہے کہ یہود سے یہ توقع نہ رکھو۔ کہ تمہاری تبلیغ سے یہ لوگ ایمان لے آئیں گے۔ یہ تو سخت قسم کے ہٹ دھرم لوگ ہیں ۔ جانتے بوجھتے ہوئے بھی یہ راہ راست سے دور ہی رہیں گے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا (1 ۔ بخاری ج 1 ص 562) کہ اس وقت یہودیوں کے دس بڑے عالم موجود ہیں۔ اگر یہ دس آدمی ایمان قبول کرلیں تو کوئی بھی یہودی باقی نہیں رہے گا۔ سب ایمان لے آئیں گے۔ مگر یہ عالم اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے۔ ان سے صرف ایک آدمی نے ایمان قبول کیا ۔ باقی سب اپنی ضد پر اڑے رہے ۔ نصاریٰ کا بھی یہی حال ہے حضور ﷺ کو چودہ سو سال گزر چکے ہیں۔ مگر انہوں نے آج تک انہیں تسلیم نہیں کیا۔ آپ کا ارشاد ہے (2 ۔ بخاری ج 1 ص 490 ، مسلم ج 1 ص 87) کہ نصاریٰ اسی طرح دنیا میں موجود رہیں گے۔ حتیٰ کہ جب مسیح (علیہ السلام) قرب قیامت میں نازل ہوں تو اس وقت ان کی سرکوبی ہوگی۔ اور پھر یہ دنیا سے ختم ہوجائیں گے۔ یہود کے ساتھ موافقت اور ان کی مخالفت : ابتدائے زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے یہود کے ساتھ موافقت کرنے کا حکم دیا۔ تاکہ انہیں ترغیب ہو اور یہ اسلام میں داخل ہوجائیں۔ چناچہ حدیث شریف میں اس قسم کے احکام ملتے ہیں۔ آگے دوسرے پارے میں قرآن پاک میں بھی آئے گا۔ کہ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم یہودیوں کی ترغیب کے لیے ہی تھا۔ خود حضور ﷺ نے سر کے بالوں کے بنانے میں اہل کتاب کا طریقہ اختیار کیا۔ اس زمانے میں مشرکین سر میں میں مانگ نکالا کرتے تھے۔ مگر یہود مانگ نہیں نکالتے تھے بلکہ ویسے ہی بالوں کو پیچھے کی طرف ڈال دیتے تھے۔ حضور ﷺ نے یہود سے موافقت کی خاطر ان کا طریقہ اپنایا۔ لہٰذا آپ مانگ نہیں نکالا کرتے تھے۔ مگر یہودی سخت متعصب تھے۔ ان پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔ لہٰذا بعد میں آپ نے مانگ نکالنا شروع کردیا (1 ۔ شمائل مع ترمذی ص 570) آپ نے دیکھ لیا کہ یہ لوگ کسی طرح راہ راست پر آنے کے لیے تیار نہیں ۔ اس کے بعد آپ نے دوسرا طریقہ اختیار فرمایا۔ اور اکثر اعمال میں اہل کتاب کی مخالفت شروع کردی ۔ چناچہ ایسے کئی ایک مسائل ہیں جن میں اہل کتاب خصوصاً یہودیوں کی مخالفت کا حکم ہے یہود محرم الحرام کی دسویں تاریخ کا روزہ رکھتے تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا (2 ۔ مسلم ج 1 ص 359) کہ تم ان کی مخالفت کرو اور دسویں تاریخ کے ساتھ نویں تاریخ کا روزہ بھی رکھا کرو۔ اسی طرح یہود حیض والی عورت کو گھر میں نہیں رکھتے تھے۔ بلکہ علیحدہ کردیتے تھے۔ آپ نے فرمایا تم عورت کو ہر حالت میں اپنے گھر میں رکھو۔ فرمایا (3 ۔ مسلم ج 1 ص 142) حیض والی عورت گھر کے سارے کام انجام دے سکتی ہے۔ سوائے اس کے کہ اس کے ساتھ مباشرت جائز نہیں۔ میاں بیوی اکٹھے لیٹ سکتے ہیں ایک برتن میں کھانا کھا سکتے ہیں تاہم مباشرت نہیں کرسکتے۔ اہل کتاب بالوں کو رنگنا ناجائز سمجھتے تھے۔ حضور ﷺ نے اس کام کی اجازت مرحمت فرمائی (4 ۔ ترمذی ص 266) ۔ یہ ان سے مخالفت کی بنا پر تھا۔ اسی طرح یہود یہ بند نہیں باندھتے تھے۔ آپ نے شلوار پہننے اور تہ بند باندھنے کا حکم دیا مقصد یہ کہ شروع شروع میں مدینہ کے یہودیوں کی خاطر ان کی موافقت میں بعض امور انجام دیے۔ مگر جب یہ ثابت ہوگیا کہ یہ بڑے ضدی اور ہٹ دھرم لوگ ہیں تو آپ نے ان کے بعض امور کی مخالفت کا حکم دیا۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ اسی بات کو بیان فرما رہے ہیں۔ کہ اے اہل ایمان ! تم اہل کتاب سے کسی موافقت کی امید نہ رکھو۔ بلکہ یہ تو سخت عنادی لوگ ہیں۔ یہ کبھی تمہاری بات ماننے پر تیار نہیں ہوں گے۔ بلکہ ان کا وطیرہ تو یہ رہا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کا کلام سننے کے بعد اس پر عمل نہ کیا۔ بلکہ اس میں تحریف شروع کردی۔ منافقین کی چالاکیاں : اہل کتاب میں سے تو ایک گروہ ایسا تھا ۔ جو علانیہ طور پر حضور ﷺ کا انکار کرتا تھا اور آپ کی مخالفت کرتا تھا۔ البتہ ایک مختصر گروہ ایسا بھی تھا جو بظاہر تو دائرہ اسلام میں داخل ہوچکا تھا۔ مگر در پردہ ان کی ہمدردیاں یہودیوں کے ساتھ تھیں۔ اگلی آیت میں ایسے ہی لوگوں کی دو عملی کو بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ “ واذا القوا الذین امنوا قالوا امنا ” یعنی ایسے لوگ جب اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لا چکے ہیں “ واذا خلا بعضھم الی بعض ” اور جب یہ الگ ہوتے ہیں اہل ایمان کے علاوہ بعض دوسرے لوگوں کے ساتھ تو “ قالوا اتحدثونہم بما فتح اللہ علیکم ” کہتے ہیں کیا تم مسلمانوں کو ایسی باتیں بتاتے ہو۔ جو اللہ تعالیٰ نے تم پر ظاہر کی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا۔ “ لیحاجوکم بہ عند ربکم ” یہ مسلمان اللہ تعالیٰ کے ہاں اس بات میں تمہارے ساتھ جھگڑا کریں گے ۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ تم مسلمانوں کو توراۃ کے احکام سے کیوں آگاہ کرتے ہو۔ جن میں لکھا ہے کہ نبی آخر الزمان کی یہ نشانیاں ہیں۔ اور یہ کہ توراۃ قرآن پاک کی تصدیق کرتی ہے۔ وہ کہتے تھے کہ ایسی باتیں اہل ایمان کو نہ بتاؤ ۔ یہ آخرت میں اسی سے تمہارے خلاف دلیل قائم کریں گے۔ کہتے تھے کہ یہ ایسی گہری بات ہے۔ جو ہمارے خلاف جاتی ہے۔ “ افلا تعقلون ” کیا تم نہیں سمجھتے ۔ یعنی تمہیں اس نکتہ کی کیوں سمجھ نہیں آتی کہ یہ چیزیں ہمارے حق میں نہیں ہیں۔ اہل کتاب کی ان تمام تر چالاکیوں کے متعلق ارشاد خداوندی ہے۔ کہ ان کی ہوشیاری کسی کام نہیں آئے گی۔ “ اولا یعلمون ان اللہ یعلم ما یسرون وما یعلنون ” کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ان کی ہر اس بات کو جانتا ہے۔ جو یہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ یہ ظاہر کرتے ہیں وہ سمجھتے تھے۔ کہ منافقت کا یہ چکر چلا کر وہ اہل کتاب اور اہل ایمان دونوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھ سکیں گے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کا پردہ فاش کردیا۔ اور فرمایا کہ یہ لوگ جو بےایمانی کر رہے ہیں۔ احکام کی غلط تاویلیں کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے۔ ان کی کوئی چال کامیاب نہیں ہوگی۔ یہودیوں کی موہوم آرزوئیں : فرمایا تحریف ۔۔ اور منافقت۔ تو عام لوگوں کی بیماریاں تھیں۔ یعنی یہ خصائل ان لوگوں کے تھے۔ جو تھوڑا بہت علم رکھتے تھے۔ ان کے علاوہ بعض لوگ ایسے بھی تھے “ ومنھم امیون لا یعلمون الکتب ” جو بالکل ان پڑھ تھے انہیں کتاب کا بالکل علم نہیں تھا۔ فرمایا ایسے لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ کچھ نہیں جانتے “ الا اماتی ” سوائے چند خود ساختہ آرزوؤں کے جن کا آکر آگے آئیگا یعنی یہ کہ جنت صرف یہودیوں کے لیے وقف ہے یا یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دوزخ کے دروازے پر کھڑے ہوں گے۔ اور قیامت کے دن کسی یہودی کو جس نے ختنہ کی ہوگی اس میں نہیں گرنے دیں گے۔ یا اگر بنی اسرائیل دوزخ میں چلے بھی گئے تو محدود کے اتنے ایام کے لیے جتنے دن ان کے آباؤ اجداد نے بچھڑے کی پوجا کی تھی۔ اس کے بعد پھر جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ بنی اسرائیل کے جاہل اور ان پڑھ اس قسم کی آرزوئیں لیے بیٹھے تھے بلکہ ان کا عقیدہ یہاں تک تھا کہ عربوں کا مال ہضم کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ سود کو حلال کرنے کے لئے طرح طرح کی تاویلیں کرتے تھے۔ رشوت کو جائز قرار دیتے تھے “ وان ھم الا یظنون ” اور نہیں ہیں مگر وہ گمان کرتے ۔ توراۃ میں تحریف : تحریف کی الکتاب کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ بنی اسرائیل کا حال یہ ہے کہ اس جرم کی بنا پر “ فویل للذین یکتبون الکتب بایدیھم ” ہلاکت ہے۔ ان لوگوں کے لیے جو اپنے ہاتھ سے کتاب یعنی توراۃ لکھتے ہیں “ ثم یقولون ھذا من عند اللہ ” پھر کہتے یہ ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ گویا اپنی تحریر کو اللہ تعالیٰ کی تحریر کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اس قدر ظالم لوگ ہیں۔ اور یہ تحریف اس لیے کرتے ہیں “ لیشتروا بہ ثمنا قلیلا ” تاکہ اس کے ذریعے حقیر سا معاوضہ وصول کرلیں۔ مثلاً جب کسی زانی کو رجم کی سزا سے بچانا مقصود ہوتا تو کہہ دیتے تھے کہ تواراۃ کا حکم یہ ہے کہ ایسے شخص کا منہ کا لا کرو اور گدھے پر سوار کرکے شہر پھر ادو یا زیادہ سے زیادہ کوئی جرمانہ کر دو ۔ اس طرح زانی کی جان بچا لیتے۔ اس کے علاوہ ان کے اور بھی بیشمار من گھڑت مسائل تھے جنہیں توراۃ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ تحریف کی دونوں صورتیں ان میں پائی جاتی تھیں۔ یا تو الفاظ ہی بدل دیتے تھے ۔ جیسا کہ بیان ہوا۔ یا پھر الفاظ تو نہیں بدلتے تھے ، بلکہ ان کی تاویل غلط کرکے اپنا مقصد پورا کرلیتے تھے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی یہ قباحت بھی بیان کردی کہ وہ کتاب الٰہی میں تحریف جیسی قبیح حرکت کے مرتکب ہوتے تھے تحریف اور مسلمان : تحریف کا دائرہ مسلمانوں تک وسیع ہوچکا ہے۔ آج کے دور میں انصاف کی نظر سے دیکھیں گے تو پتا چلے گا کہ اکثریت کے عقیدے خراب ہوچکے ہیں۔ کتنے خود ساختہ اور جھوٹے عقیدے ہیں ۔ جنہیں آج کل کے نام نہاد علماء قرآن و سنت کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ یہ تحریف فی الکتاب و سنت نہیں تو اور کیا ہے۔ آج کے واعظ قبر پرستی ، رسومات ۔۔۔۔۔ دیگر بدعات سے متعلق کتنی بناوٹی حدیثیں لوگوں کو سناتے ہیں یہ بالکل یہودیوں کا طریقہ ہے۔ جو مسلمانوں نے بھی اختیار کرلیا ہے۔ اس دور میں نیکی کا وہ معیار کہاں رہ گیا ہے۔ جو کتاب اللہ سنت رسول ﷺ یا اقوال صحابہ ؓ کا تھا۔ اصل دین کہاں چلا گیا۔ دور حاضر میں دین چند رسومات اور جھوٹے عقائد تک محدود ہو کر وہ گیا ہے۔ قرآن و سنت کی طرف کون رجوع کرتا ہے۔ نہ اسے سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اور نہ عمل کرنے کی ، شرک و بدعت پر دین کا دارومدار ہے۔ اس کی تبلیغ کرنے والے وہ لوگ ہیں۔ جو جھوٹے قصے کہانیاں بیان کرتے ہیں۔ یہی چیزیں نعتوں میں ہیں اور غزلوں میں ہیں اور انہیں پر عمل ہو رہا ہے۔ بڑے دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ آج چند رسوم کو دین کا نام دے دیا گیا ہے ۔ اور لوگ حقیقت سے بہت دور ہوچکے ہیں۔ دین کو سمجھنے والے لوگ بالکل قلیل تعداد میں ہیں۔ آج کتنے لوگ ہیں جو مفسرین ، فقہاء اور ائمہ دین کی طرز پر ریسرچ کا بیڑا اٹھائیں۔ اور دین کو اس کا صحیح مقام دلائیں ۔ حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے (1 ۔ موارد الظلمان ص 458) قرب قیامت میں فتنوں کا دور آئے گا۔ اس وقت دین کو ہاتھ میں پکڑنا اس قدر مشکل ہوجائے گا۔ جیسے جلتے ہوئے کوئلوں کو پکڑنا۔ آج آپ کسی قبیح رسم کی تردید کرکے دیکھیں ، ساری برادری اور خاندان ناراض ہوجائے گا۔ شادی بیان کی رسمیں دیکھ لیں۔ پیدائش اور فوتگی کی رسوم کی طرف نگاہ ڈالیں ، میلوں اور عرسوں کی طرف دیکھیں۔ کیا کچھ ہو رہا ہے۔ قبروں پر چادریں چڑھائی جا رہی ہیں۔ میلے لگائے جا رہے ہیں۔ قوالیاں ہو رہی ہیں۔ خواجہ نظام الدین اولیاء کی قبر پر دو ہزار روپے کی چادر لے کر ایک آدمی گیا ۔ یہ کون سا دین ہےَ مسٹر جناح کی قبر پر پیش قیمت گنبد کی تعمیر کون سی شریعت ہے ؟ ہر جگہ عرسوں کی بھرمار ہے۔ قبروں کو غسل دیا جا رہا ہے۔ یہ کس شریعت کی باتیں ہیں ؟ کیا یہ یہود کا طریقہ نہیں ہے ؟ دین کی بعض چیزیں ایسی ہیں جنہیں بدلنے کے لئے لوگ علماء کو مجبور کرتے ہیں اور پھر دین فروش علماء ان کی اس خواہش کو تحریف کے ذریعے پورا کرتے ہیں۔ اس ضمن میں نکاح و طلاق کے مسائل کی مثال واضح ہے ۔ جلد بازی میں طلاق دے دیتے ہیں جب اپنے کیے پر ندامت ہوتی ہے تو اس کے لئے راستہ تلاش کرنے لگتے ہیں۔ طلاق کے کتنے ہی ایسے معاملات ہیں جن میں لوگ غلط فتوےٰ حاصل کرلیتے ہیں۔ حالانکہ چاہئے تو یہ تھا کہ طلاق جیسی اہم اور ۔۔ چیز کو عائد کرنے سے پہلے اس پر اچھی طرح غور کیا جاتا ، کسی سائب الرائے عالم سے مشورہ کیا جاتا طلاق دینے اور پھر اس کے اثرات کے متعلق پوچھا جاتا۔ مگر ہمارے معاشرے کا اصول یہ ہے کہ طلاق دینے کے بعد اس کے ازالے کے لیے فتوی حاصل کرنے آتے ہیں کہ جی غلطی ہوگئی ہے ۔ لڑکے نے غصے میں آکر طلاق دے دی ہے۔ اب اس کا کوئی حل بتائیں۔ ہم چوبیس سال سے یہی کچھ دیکھ رہے ہیں ۔ اتنے عرصے میں صرف ایک آدمی نے طالق دینے سے پہلے مشورہ کیا ہے۔ کہ میرا بیٹا اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہے پوری کوشش کے باوجود نباہ کی صورت نظر نہیں آتی۔ آپ ہمیں طلاق دینے کا صحیح طریقہ بتائیں۔ ورنہ باقی سب طلاق دینے کے بعد ہی آئے ہیں۔ کہ اب کسی طرح حلال کر دو ۔ یہ دین میں تحریف نہیں اور کیا ہے۔ تحریف کرنے والوں کو وعید : اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تحریف کرنے والوں کے متعلق ارشاد فرمایا “ فویل لھم مما کتبت ایدیھم ” پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے لکھا یعنی خود لکھ کر اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا اور تحریف کے مرتکب ہوئے “ وویل لھم مما یکسبون ” اور ہلاکت ہے ان کے لیے جو انہوں نے کمایا ہے۔ یعنی غلط فتوے دیکر اور تحریف کرکے جو دنیا انہوں نے کمائی وہ ان کے لیے باعث ہلاکت ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر حلال کی بجائے حرام کمایا ہے۔ اور حرام کھایا ہے تو اس کی قسمت میں تباہی ہی آئے گی۔ اسی بات کو دوسرے مقام پر یوں بیان فرمایا “ ان کثیر من الاجار والرھبان لیاکلون اموال الناس بالباطل ” یعنی کہتے ہیں پیر اور عالم ہیں جو لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھا جاتے ہیں۔ یہ باطل طریقے ہی ہیں جو شرکیہ اور بدعتیہ رسوم کو اپنا کر اختیار کیے جاتے ہیں۔ جھوٹی کہانیاں سنا کر اور باطل عقیدے پھیلا کر لوگوں کا مال ہضم کیا جاتا ہے۔ اور ان کے ایمان ضائع کئے جاتے ہیں تو فرمایا اس قسم کی کمائی پر بھی لعنت ، تباہی اور بربادی ہے۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کے باطل عقائد کی تفصیل آرہی ہے۔ اور قانون نجات کا دوبارہ تذکرہ ہوگا۔ جیسا کہ پہلے بھی ہوچکا ہے۔
Ayahs 2:80–82

وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَةً١ؕ قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗۤ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:80 in the Quran reader

اور (یہ یہودی) کہتے ہیں کہ ہرگز نہیں چھوئے گی ہم کو دوزخ کی آگ مگر چند دن کے لیے۔ (اے پیغمبر) آپ فرما دیجئے کیا تم نے پکڑا ہے اللہ تعالیٰ کے پاس کوئی عہد پس ہرگز نہیں خلاف کرے گا اللہ تعالیٰ اپنے عہد کا۔ بلکہ تم اللہ تعالیٰ پر وہ بات کہتے ہو ، جو تم نہیں جانتے

بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَیِّئَةً وَّ اَحَاطَتْ بِهٖ خَطِیْٓئَتُهٗ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:81 in the Quran reader

کیوں نہیں جس شخص نے برائی کمائی اور گھیر لیا ا س کو اس کے گناہوں نے ، وہی لوگ دوزخ والے ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:82 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے۔ وہی لوگ جنت والے ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

یہود یوں کے باطل عقائد : اس رکوع میں اہل کتاب کی خرابیوں کا ذکر ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کافروں سے امید قطع کرنے کا حکم دیا۔ کہ یہ بڑے متعصب لوگ ہیں۔ آپ ان سے ایمان لانے کی امید نہ رکھیں۔ اس کے بعد ان کے دو طبقوں یعنی اہل علم اور ان پڑھ لوگوں کا ذکر ہوا۔ کہ ان جاہل لوگوں کے پا س دین نہیں۔ بلکہ چند جھوٹی آرزوئیں ہیں مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کی ایک جھوٹی آرزو یہ ہے کہ “ وقالوا لن تمسنا النار ” وہ کہتے ہیں کہ ہم دوزخ میں نہیں جائیں گے “ الا ایمان معدودۃ ” مگر چند دن کے لیے جنت تو ہمارے لیے مقدر ہوچکی ہے۔ دوسری جگہ ان کی بات کو یوں بیان فرمایا “ لن یدخل الجنۃ الا من کان ھودا او نصری ” آگے اسی سورة میں آرہا ہے کہ یہود کا ادعایہ ہے کہ جنت میں صرف وہ جائیں گے۔ اور نصاری کہتے ہیں کہ جنت صرف ان کے لیے ہے۔ اس قسم کی اور بھی باتیں ان کے عقائد میں داخل ہیں۔ مثلاً توراۃ کی شرح اور ان کی دیگر دینی کتابوں میں لکھا ہے۔ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دوزخ کے دروازے پر کھڑے ہوں گے۔ اور وہ کسی مختون اسرائیلی کو دوزخ میں نہیں جانے دیں گے۔ ختنہ کی ابتدا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ہی ہوئی تھی۔ البتہ مشرکوں میں بعض کہتے ہیں اور بعض نہیں کرتے۔ وہ کہتے تھے کہ بالفرض اگر ہم دوزخ میں چلے بھی گئے تو چند دن سے زیادہ وہاں نہیں رہیں گے۔ بلکہ جنت میں چلے جائیں گے۔ “ الا ایاما معدودۃ ” سے کیا مراد ہے۔ اس میں مختلف آراء ہیں بعض کہتے ہیں (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 302 ، تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 118 ، معالم التنزیل ج 1 ص 36) کہ یہودیوں کا اعتقاد یہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال ہے۔ اور ہر ہزار سال کے بدلے ایک دن یہودی دوزخ رہیں گے۔ گویا زیادہ سے زیادہ سات دن انہیں دوزخ میں رہنا پڑے گا۔ بعض کہتے ہیں (2 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ ص 306 ، تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 118 ، معالم التنزیل ج 1 ص 36) کہ اتنے دن دوزخ میں رہیں گے۔ جتنے دن موسیٰ (علیہ السلام) طور پر اعتکاف بیٹھے تھے اور انہوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی یعنی چالیس دن ایک تیسرے گروہ کا خیال ہے۔ کہ جتنی عمر انہوں نے اس دنیا میں گزاری ہے۔ اتنے سال ، مہینے ، دن دوزخ میں گزار کر پھر بہشت میں پہنچ جائیں گے۔ الغرض ! اس سلسلے میں مختلف قیاس آرائیاں ہیں۔ جو یہودیوں نے پھیلا رکھی ہیں۔ عہد خداوندی : حضور ﷺ نے فرمایا (3 ۔ تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 188) یہ سب ان کی خام خیالیاں ہیں جنت اور دوزخ میں جانے کا یہ اصول ہرگز نہیں۔ جو بنی اسرائیل نے خود بنا رکھا ہے۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو یہ پیغام دیا “ قل اتخذتم عند اللہ عھدا ” آپ ان سے فرما دیں ۔ کیا تم نے اللہ تعالیٰ سے کوئی عہد پکڑ رکھا ہے۔ کہ تم ضرور ہی جنت میں جاؤ گے اور یہ کہ تم چند دن سے زیادہ دوزخ میں نہیں رہو گے۔ وہ کون سا عہد ہے۔ جس کی پابندی اللہ تعالیٰ ضرور کرے گا۔ “ فلن یخلف اللہ عھدہ ” اور اللہ تعالیٰ اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے ایسا کوئی وعدہ تم سے نہیں کر رکھا ہے۔ “ ام یقولون علی اللہ مالا تعلمون ” بلکہ تم اللہ تعالیٰ پر وہ بات کہتے ہو۔ جو تم نہیں جانتے۔ البتہ ایمانداروں نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کر رکھا ہے جو حضور نبی کریم ﷺ نے دعا میں سکھایا۔ کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اس طرح کہا کرو (1 ۔ تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 138) “ اللھم الی اعھد الیک فی ھذہ الحیوۃ الدنیا ” یعنی اے اللہ ! میں تیرے سامنے اس دنیا کی زندگی میں عہد کرتا ہوں۔ “ بانک وحدک لاشریک لک ” یہ کہ تو ایک ہے۔ اور تیرا کوئی شریک نہیں “ وان محمد عبدک ورسولک ” اور بیشک حضرت محمد مصطفے ﷺ تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔ “ وانی لا اثق الا برحمتک ” اور مجھے صرف تیری رحمت پر ہی بھروسہ ہے۔ “ ان تکلنی الی نفسی ” کہ تو مجھے میرے نفس کی طرف سونپ دے گا۔ “ تقربنی من الشر ” تو مجھے شر سے قریب کر دے گا۔ “ وتباعدتی من الخیر ” اور نیکی اور بھلائی سے دور کر دے گا۔ “ فاجعل لی عندک عھدا توفنہ یوم القیمۃ ” پس تو میرے لیے عہد بنا دے کہ اس کو قایمت والے دن پورا کرے۔ “ انک لا تخلف المیعاد ” بیشک تو وعدے کا خلاف نہیں کرتا۔ حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص اس دعا کو دنیا میں پڑھے گا۔ تو اس کو قیامت والے دن اس کا بدلہ ملے گا۔ اور ظاہر ہے کہ اگر کوئی عہد کرنا ہو تو وہ ایمان کے ساتھ ہی ہوسکتا ہے ایمان کے بغیر کوئی عہد نہیں ہوسکتا۔ جو انسان کے لیے دوزخ سے نجات کا ذیرہ بن سکے۔ مگر اے بنی اسرائیل تمہارے پاس تو ایمان موجود نہیں۔ لہٰذا تم یہ دعویٰ کیسے کرسکتے ہو کہ ہم اول تو دوزخ میں جائیں گے نہیں۔ اور اگر گئے بھی تو چند روز سے زیادہ نہیں ٹھہرایں گے۔ بلکہ جنت میں آجائیں گے۔ یہ تو تمہارا عقیدہ بالکل فاسد ہے۔ باطل عقائد کی بنیاد : فرمایا اللہ تعالیٰ کے ہاں بنی اسرائیل کے عقائد باطلہ کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ جنت میں پہنچنے اور دوزخ سے نجات کا قانون تو آگے آرہا ہے۔ جس چیز کو بنی اسرائیل بیان کر رہے ہیں۔ اس کی حقیقت کچھ نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جب امت کا رشتہ علم و عمل بنی سے منقطع ہوجاتا ہے۔ تو آرزوئیں اور خواہشات عقیدے بن جاتے ہیں۔ یہی حال یہودیوں کا تھا ان کے تمام افعال نبی سے قطع تعلقی پر دلالت کرتے ہیں۔ انہوں نے نبی کی تعلیم کو پس پشت ڈال کر اپنی مرضی کے عقیدے وضع کئے ہوئے ہیں۔ اور انہیں من گھڑت عقیدوں بلکہ خواہشات کی بنا پر وہ اس زعم میں مبتلا ہیں۔ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) انہیں دوزخ سے بچالیں گے۔ مسلمانوں کے باطل عقائد : اس قسم کے غلط عقیدوں کا دائرہ یہودیوں تک ہی محدود نہیں بلکہ مسلمانوں تک وسیع ہوچکا ہے۔ شفاعت کا مسئلہ ہی لے لیں۔ یہاں پر “ یاشفیع المذنبین ” کے نعرے مارے جاتے ہیں۔ کہ ہم جو چاہے کرتے پھریں۔ حضور ﷺ ہماری شفاعت کردیں گے اور ہم نجات پاجائیں گے۔ حالانکہ شفاعت کا مسئلہ قرآن پاک نے بالکل واضح کردیا ہے کہ شفاعت لوگوں کی خواہش پر نہیں ہوگی۔ بلکہ یہ تو اللہ جل جلالہ کی مرضی پر موقوف ہے۔ “ لایشفعون الا لمن ارتضی ” اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر تو کوئی بھی سفارش نہیں کریگا۔ تم کس زعم میں مبتلا ہو۔ یہ عقیدہ کہ فلاں ضرور ہماری سفارش کریں گے۔ اور اللہ تعالیٰ اسے ضروری قبول فرماے گا یہ تو یہودیوں والا عقیدہ ہے ۔ محض میلاد منعقد کرلیتا۔ جلوس نکال لینا یا گیارہویں منا لینا کافی سمجھ رکھا ہے۔ بس شفاعت کے حقدار ہوگئے شیعہ بھی یہی کہتے ہیں۔ حضرت حسین ؓ کا نام لے لو۔ ماتم برپا کرلو۔ بس بخشے جاؤ گے ، کسی نماز روزے کی ضرورت نہیں۔ اس قسم کے باطل عقیدے اس وقت پیدا ہوتے ہیں۔ جب علم و عمل کا تعلق نبی سے کٹ جاتا ہے۔ پھر خواہشات عقیدے بن جاتے ہیں۔ اور ساری عمر لوگ اسی ڈھول کو پیٹتے رہتے ہیں۔ یہ یہودیوں والے عقائد ہیں۔ سفارش کا یہ مطلب ہرگز نہیں۔ جو لوگوں نے سمجھ لیا ہے۔ کہ خدا چاہے راضی ہو یا ناراض ، نبی ، ولی ، جبری سفارش کریں گے۔ اور ہمیں بچالیں گے یہودیوں نے بھی یہیں ٹھوکر کھائی۔ اور ہم بھی اسی راستے پر چل نکلے ہیں۔ ان میں اور ہم میں کیا فرق رہ گیا ہے۔ قانون نجات : فرمایا اے بنی اسرائیل ! نجات کا قانون وہ نہیں ہے جو تم نے بنا رکھا ہے۔ کہ جنت میں پہنچنے کے لیے صرف یہودی ہونا کافی ہے۔ “ بلی ” بلکہ قانون نجات یہ ہے کہ “ من کسب سیئۃ واحاطت بہ خطیتہ ” جس شخص نے بھی گناہ کمایا اور اسکے گناہوں نے اسے گھیر لیا۔ “ فاولئک اصحب النار ” یہی لوگ دوزخی ہیں۔ “ ھم فیھا خلدون ” جو ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وہی گناہ انسان کو گھیرے گا۔ جو سب سے بڑا ہوگا۔ اور چاروں طرف چھایا ہوگا۔ اور یہ گناہ کفر و شرک کے علاوہ اور کوئی نہیں۔ آدمی بہت سے گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے۔ مگر وہ گناہوں سے گھرا ہوا نہیں ہوتا۔ جب تک کفر و شرک کا ارتکاب نہ کرے۔ قرآن پاک میں آتا ہے۔ “ والکفرون ھم الظلمون ” سب سے بڑے ظالم کافر ہیں۔ نیز فرمایا “ ان الشرک لظلم عظیم ” شرک بہت بڑا ظلم ہے اللہ تعالیٰ نے وضاحت کے ساتھ فیصلہ کردیا۔ “ ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ” مشرک کے لئے معافی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ البتہ “ ویغفر ما دون ذلک لمن یشآء ” اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے معاف فرما دے۔ وہ قادر مطلق ہے اللہ تعالیٰ چاہے تو بغیر توبہ کے بھی کسی کو معاف فرما دے۔ وہ مالک ہے ۔ مگر شرک اور کفر جیسے عظیم گناہوں کو معاف نہیں کریگا۔ یہ اس کا اٹل فیصلہ ہے۔ ہاں اگر سکراتِ موت طاری ہونے سے پہلے پہلے اس نے توبہ کرلی۔ تو وہ معاف کر دے گا۔ کیونکہ توبہ کا دروازہ اس وقت تک کھلا ہے۔ جب تک کسی پر موت کے آثار ظاہر نہ ہوجائیں۔ فرمایا (1 ۔ ترمذی ص 508) “ ان اللہ یقبل توبۃ العبد مالم یغزغر ” انسان کی توبہ غرغرہ طاری ہونے سے پہلے پہلے مقبول ہے اس کے بعد نہیں۔ کافر اور مشرک دائمی جہنمی ہیں : اسی لیے فرمایا “ ومن یکفر باللہ وملئکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الاخر ” جس شخص نے اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں اور آخرت کے دن کا انکار کیا “ فقد ضل ضلال بعیدا ” ایسا شخص گمراہ ہو کر دور جا پڑا۔ اور ابدی جہنمی ہے۔ اس کے لیے دوزخ سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں۔ یہ ایسے شخص کی مثال ہے۔ جسے ایمان کی دولت نصیب نہیں ہوئی۔ بلکہ کھلم کھلا کفر پر اڑا رہا۔ البتہ ایک دوسری صورت یہ بھی ہے۔ کہ انسان اللہ تعالیٰ پر اور دوسری چیزوں پر ایمان لائے۔ اور ساتھ ساتھ شرک کا ارتکاب بھی کرتا جائے یعنی اس نے اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ ملا لیا ہے۔ اور اپنے ایمان کو خراب کرلیا ہے۔ قرآن پاک نے اس مضمون کو بڑی تاکید کے ساتھ بیان کیا ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) منادی کرتے تھے۔ اے لوگو ! خوب اچھی طرح سن لو “ اعبدواللہ ربی وربکم ” اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے۔ اور تمہارا بھی رب ہے۔ اپنی حاجتوں میں غیر اللہ کو مت پکارو ، اور نہ ان کی ایسی تعظیم کرو۔ جو اللہ تعالیٰ کو سزا وار ہے ، ورنہ شرک میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ اور نجات سے محروم ہوجاؤ گے۔ “ انہ من تشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ ” جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کردی ہے۔ “ وماوہ النار ” اور اس کا ٹھکانا دوزخ میں ہوگا۔ اسی طرح کافروں کے متعلق فرمایا کہ ان کے لیے آسمانوں کے دروازے نہیں کھلیں گے۔ “ لاتفتح لھم ابواب السمآء ولا یدخلون الجنۃ حتی یلج الجمل فی سم الخیاط ” یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں گزر جائے نہ اونٹ سوئی کے ناکے میں گزرے اور نہ کفار کے لیے جنت کے دروازے کھلیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر جنت حرام کردی ہے۔ جنت کی چابی : جس طرح کفر اور شرک عظیم گناہ ہیں۔ اسی طرح ایمان عظیم ترین نیکی ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ صحابہ ؓ نے عرض کیا “ ای الاعمال افضل ”۔ حضور ! کونسا عمل افضل ترین ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا (1 ۔ مسلم ج 1 ص 62) اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا یہ تمام اعمال کی جڑ اور بنیاد ہے۔ اسی لیے فرمایا “ والذین امنوا ” جو لوگ ایمان لائے “ وعملوا الصلحت ” اور نیک اعمال کئے۔ نماز ، روزہ ، زکوٰۃ ، حج ادا کیا۔ اس کے بعد جہاد اور نیکی کے دیگر کام انجام دیے ، ان کے متعلق فرمایا “ اولئک اصحب الجنۃ ” یہی لوگ جنت والے ہیں۔ جنت کی چابی ان کے پاس ہے اور یہ کوئی عارضی مقام نہیں ہوگا۔ بلکہ “ ھم فیھا خلدون ” وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ وہاں سے کبھی بھی نکالے نہیں جائیں گے۔ الغرض ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا قانونِ نجات ہمارے پاس ہے۔ تم کفر اور شرک کا ارتکاب کرتے ہو۔ دنیا کی دیگر برائیوں میں ملوث ہوتے ہو۔ اس کے باوجود اس خوش فہمی میں مبتلا ہو کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تمہیں دوزخ میں نہیں گرنے دیں گے۔ یہ بالکل باطل خیال ہے ۔