Ayahs 2:108–110ربط آیات :
بنی اسرائیل کی خرابیوں کا ذکر چلا آرہا ہے ، گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ” راعنا “ کا لفظ استعمال کرنے سے منع فرمایا تھا ، اس کی بجائے (آیت) ” انظرنا “۔ استعمال کرنے کا حکم دیا تھا کیونکہ یہودی دیدہ دانستہ ” راعنا “۔ کا لفظ بولتے تھے جس سے معاذ اللہ پیغمبر (علیہ السلام) کی توہین کا پہلو نکلتا تھا ، گذشتہ درس میں اس بات کا انکشاف بھی کیا گیا تھا کہ اہل کتاب اور مشرکین میں سے کوئی نہیں چاہتا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان پر کوئی بہتر چیز نازل فرمائے یہ لوگ نبی کے ساتھ حسد کرتے تھے ، پھر انہوں نے نسخ آیات کا مسئلہ بھی اٹھایا کہ اللہ تعالیٰ ایک حکم جاری کرنے کے بعد اسے منسوخ کیوں کردیتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس کی وضاحت فرماتی کہ ایسا کسی لاعلمی یا جہالت کی بنا پر نہیں ہوتا ، بلکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق ہوتا ہے وہ جس طریقے پر نوع انسانی کی بھلائی چاہتا ہے ، اس کے مطابق شریعت نازل فرماتا ہے ، اس کی مثال ایسے ہی ہے ، جیسے ایک ڈاکٹر کسی مریض کو مختلف اوقات میں مختلف دوائیں دیتا ہے ، کسی کو منسوخ کردیتا ہے ، کسی کو تبدیل کرتا ہے اور کسی کو جاری رکھتا ہے ، یہ مریض کے حالات پر منحصر ہوتا ہے ، اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی لوگوں کے حالات کے مطابق شریعت میں ردوبدل فرماتے ہیں ، وہ مالک الملک جس طرح چاہتا ہے حکم نازل فرماتا ہے ، اس کے کسی حکم پر اعتراض کرنا اس کے قادر مطلق ہونے پر اعتراض کرنے کی مترادف ہے ۔
ّ (یہودیوں کے سوالات)
ان آیات میں یہودیوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ تم نبی آخر الزمان سے ایسے سوالات کرتے ہو ، جیسے تمہارے آباؤ اجداد نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کیے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ام تریدون ان تسئلوا رسولکم کما سئل موسیٰ من قبل “۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں (1) (معالم التنزیل ص 15۔ 30 ، تفسیر کبیر ص 235۔ ج 3) کہ اس آیت میں روئے سخن اہل کتاب کی طرف ہی ہے ، یہی لوگ حضور ﷺ سے طرح طرح کے بیہودہ سوالات کرتے تھے ، جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم ان سے سوال کرتی ہے ، آگے سورة نساء میں اس کی تفصیل آئے گی (آیت) ” یسئلک اھل الکتب ان تنزل علیھم کتبا من السمآئ “۔ اہل کتاب آپ سے سوال کرتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کی کتاب بیک وقت اکٹھی کیوں نہیں لاتے ، جیسا کہ توراۃ مکمل طور پر نازل ہوئی ، اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں حضور نبی کریم ﷺ کو تسلی دی کہ آپ ان کے سوالات کو خاطر میں نہ لائیں (آیت) ” فقد سالوا موسیٰ اکبر من ذلک “۔ ان بدنصیبوں نے تو موسیٰ (علیہ السلام) سے اس سے بھی بڑا سوال کیا کہنے لگے (آیت) ” ارنا اللہ جھرۃ “۔ آپ اللہ تعالیٰ سے ہماری بالمشافہ ملاقات کرائیں ، تب ہم مانیں گے ، اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اتاری ہے سورة بقرہ میں بھی اس قسم کے سوالات گذر چکے ہیں ۔
(مشرکین کے سوالات)
بعض مفسرین فرماتے ہیں (1) (معالم التنزیل ص 45 ج 1 ، ابن کثیر ص 152 ، ج 1 ، تفسیر کبیر ص 235 ، ج 3) کہ اس آیت کے مخاطبین اہل کتاب کے علاوہ مشرکین بھی ہیں ، ان کے بیہودہ سوالات کا تذکرہ بھی قرآن پاک کے مختلف مقامات میں موجود ہے سورة بنی اسرائیل کے مطابق انہوں نے نبی کریم ﷺ سے فرمائش کی کہ آپ سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھ جائیں ، اور پھر وہاں سے کتاب لائیں ، مکہ کی سرزمین کو باغات میں تبدیل کردیں ، آپ کے اردگرد فرشتوں کی جماعت ہونی چاہئے ، اللہ تعالیٰ خود ہمارے سامنے آکر آپ کی رسالت کی تصدیق کرے وغیرہ وغیرہ ، اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے تمام سوالات کا ایک ہی جواب دیا ۔ (آیت) ” قل سبحان رب ھل کنت الا بشرا رسولا “۔ یعنی میں انسان ہوں اور اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں ، میں نے یہ کبھی دعوی نہیں کیا ، کہ میں قادر مطلق ہوں اور جو چاہوں کرسکتا ہوں ، یہ تو اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادہ ہے ، وہ جو چاہے کرتا ہے ، مقصد یہ کہ یہود کی طرح مشرکین بھی طرح طرح کے سوال کرتے تھے اس قسم کے سوالات کا مقصد محض نکتہ چینی ہوتا ہے اور کسی بات کو تسلیم نہ کرنے کا ایک بہانہ ہوتا ہے ۔
ّ (صریح گمراہی)
فرمایا اس طرح کے بےمعنی سوالات نہ کیا کرو ، کیونکہ اس کا نتیجہ بہت ہی برا ہوگا ، (آیت) ” ومن یتبدل الکفر بالایمان “۔ جو کوئی ایمان کے بدلے میں کفر اختیار کریگا ۔ (آیت) ” فقدضل سوآء السبیل “۔ وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا گمراہ ہوگیا ، کیونکہ اعتراض برائے اعتراض اور وہ بھی ایذا رسانی کے لیے کھلی گمراہی اور کفر ہے ، یہاں پر اگرچہ روئے سخن اہل کتاب اور مشرکین کی طرف ہے ، تاہم بات اہل ایمان کو بھی سمجھائی جارہی ہے کہ جو بھی اس قسم کے بیہودہ سوالات کرے گا ، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کو تسلیم نہیں کرے گا وہ بہرحال راستے سے بھٹک جائے گا ۔
(کثرت سوالات کی ممانعت)
بعض مفسرین فرماتے ہیں (1) (تفسیر ابن کثیر ص 152 ج 1۔ تفسیر کبیر ص 235 ، ج 3) کہ (آیت) ” ام تریدون “۔ کے مخاطب اہل ایمان میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو یہود اور مشرکین کی روش سے خبردار کیا ہے کہ تم ان کے طریقوں کو نہ اپنانا یعنی تم بھی اپنے آخر الزمان (علیہ السلام) سے بلاوجہ سوالات نہ کرنا جس طرح اس سے پہلے اہل کتاب نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کیے اور اس سوالات کی وجہ سے انہیں طرح طرح کی تکالیف برداشت کرنا پڑیں۔
حدیث شریف میں آتا ہے (2) (ترمذی 317 ، تفسیر کبیر ص 235 ج 3 ، تفسیر ابی السعود ص 113 ج 1) کہ غزوہ حنین کے موقع پر حضور ﷺ نے دیکھا کہ مشرکین ایک خاص قسم کے درخت کو متبرک خیال کرتے ہیں ، اس درخت کے ساتھ اپنے اسلحہ جات لٹکاتے تھے ، اس کو ذات انواط کہتے تھے ، یہ دیکھ کر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے حضور ﷺ سے عرض کیا ، حضرت ! ” اجعل لنا ذات انواط “۔ آپ ہمارے لیے بھی کسی درخت کو ذات انواط مقرر فرما دیں جس پر ہم اپنے ہتھیار لٹکایا کریں ، جیسا کہ مشرک کرتے ہیں ، آپ یہ سن کر سخت ناراض ہوئے اور فرمایا ” سبحان اللہ “۔ یہ تو اس قسم والی بات ہوگئی ، جب بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی معیت میں بحیرہ قلزم عبور کیا تو وہاں ایک قوم کو پایا (آیت) ” یعکفون علی اصنام لھم “۔ جو اپنے معبودوں پر جھکے ہوئے تھے ان کی پوجا کر رہے تھے ، یہ دیکھ کر بنی اسرائیل نے بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے عرض کیا (آیت) ” یموسی اجعل لنا الھا کما لھم الھۃ “۔ جس طرح ان لوگوں نے اپنے معبود بنا رکھے ہیں ، اسی طرح ہمارے لیے بھی معبود مقرر کردیں ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان سے ناراض ہوئے اور کہا اے بیوقوف قوم ! یہ لوگ تو کفر میں مبتلا ہیں کیا تم بھی اسی ہلاکت میں پڑنا چاہتے ہو ابھی ابھی اللہ تعالیٰ نے تمہیں طاقتور دشمن سے آزادی دلائی ہے تو پھر کفر وشرک میں مبتلا ہونا چاہتے ہو ، بلاوجہ ناجائز سوال نہ کیا کرو ۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے ۔ (3) (تفسیر ابن کثیر 152۔ ج 1) کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین بہت کم سوال کیا کرتے تھے ، کیونکہ سورة مائدہ میں اللہ تعالیٰ نے کثرت سوال سے منع فرما دیا ۔ (آیت) ” لا تسئلو عن اشیآء ان تبدلکم تسؤکم وان تسئلوا عنھا حین ینزل القران تبدلکم “۔ یعنی نزول وحی کے زمانے میں سوال نہ کیا کرو اگر بعض چیزوں کے متعلق سوال کرو گے تو وہ ظاہر کردیا جائے گا اور تم کو ناگوار گزرے گا تمہارے لیے بدنامی کا باعث ہوگا ، اس لیے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کثرت سوال سے اجتناب کرتے تھے ۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ہی کا بیان ہے وہ فرماتے ہیں کہ (1) (تفسیر ابن کثیر ص 30) کہ میں نے اصحاب محمد ﷺ سے بہتر کوئی قوم نہیں دیکھی ، وہ حضور ﷺ سے سوال نہیں کیا کرتے تھے ، ایسا کرنے سے ڈرتے تھے ، ان کی خواہش ہوتی تھی کہ باہر کا کوئی اعرابی سوال کرے تو وہ بھی مستفید ہوں ، خود سوال کرنے میں بہت محتاط ہوتے تھے ، قرآن پاک میں کل بارہ (12) سوالات کا ذکر آتا ہے ، جو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے حضور ﷺ سے کیے ، ان میں (آیت) ” یسئلونک عن الخمر “۔ اور یسئلونک عن الیتمی ۔ یسئلونک عن المحیض “۔ وغیرہ ایسے سوالات شامل ہیں ، حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے (2) (مسلم ص 262۔ ج 2) اے لوگو فضول اور بےمقصد سوال نہ کیا کرو ، کیونکہ پہلی امتیں بھی اسی وجہ سے ہلاک ہوئیں ” کثرۃ مسائلھم واختلافھم علی الانبیائ “۔ کثرت سوال کی وجہ سے انہوں نے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے اختلاف کیا اور ہلاک ہوئے ، لہذا کثرت سوال سے بچو ہاں ! کسی مسئلہ کی تحقیق کے لیے یا کسی کام کے جواز یا عدم جواز کے لیے سوال کرنے کی ممانعت نہیں ، زیادہ سوال کرنے میں قباحت یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ اس سوال کا جواب تمہیں ناگوار گذرے یا بدنامی کا باعث ہو ، اکثر سوال محض نکتہ چینی یا ایذا رسانی کے لیے کیے جاتے ہیں اس لیے منع کیا کہ اے اہل ایمان ! تم یہود کی روش پر نہ چلنا اور کثرت سوال سے اپنے آپ کو بچانا۔
مسلمانوں کو سوالات کی ممانعت کی ایک وجہ تھی کہ اہل کتاب مسلمانوں کو اکساتے تھے کہ اپنے نبی سے یہ سوال پوچھو ! اور اس سے ان کا مقصد فتنہ پردازی ہوتا تھا اہل ایمان کو یہ بھی نصیحت ہے ، کہ وہ یہودیوں کی باتوں پر اعتماد نہ کریں ، پہلے گذر چکا ہے کہ لوگ سحر کرتے تھے ، اس کے علاوہ اور بھی فضول باتیں کرتے تھے جس سے مسلمانوں کے دلوں میں شبہ ڈالنا مقصود تھا ، تاکہ اہل ایمان اسلام سے دستبردار ہوجائیں ، ان کی سازشوں سے محفوظ رہنے کے لیے فرمایا کہ ان پر اعتماد کرتے ہوئے بےمعنی سوال نہ پوچھا کرو ۔
(اہل کتاب کے باطنی ارادے)
مسلمانوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ یہودیوں کے ارادے بڑے خطرناک ہیں (آیت) ” ودکثیر من اھل الکتب لویردونکم من بعد ایمانکم کفار “۔ بہت سے اہل کتاب چاہتے ہیں کہ تمہیں پھر ایمان سے کفر کی طرف لوٹا دیں ، وہ ہر وقت اسی کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ کسی طرح مسلمان کمزور ہوجائیں ، جو لوگ ایمان لا چکے ہیں وہ بھی اپنے سابقہ دین پر پلٹ جائیں ، یہ تو نزول قرآن کے زمانہ کی بات ہے ، کہ اہل کتاب مسلمانوں کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتے تھے ، ان کی یہ کوشش آج تک جاری ہے کہ کسی طرح مسلمانوں کو دوبارہ کفر کی طرف لوٹا دیا جائے ، دنیا میں جتنی مشنریاں کام کر رہی ہیں یہ سب اسی کام کے لیے ہیں دوسرے مقام پر آتا ہے (آیت) ” فتکونون سوآئ “۔ سب برابر سرابر ہوجائیں جس طرح وہ خود گمراہ ہیں ، اسی طرح مسلمان بھی ان کی روش پر چل نکلیں جس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب اور انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام کا انکار کیا ، اسی طرح مسلمان بھی کرنے لگیں ، اہل کتاب کی دلی خواہش یہی ہے ۔
فرمایا اہل کتاب کی اس گندی ذہنیت کے پیچھے ان کی ایک اور خباثت کار فرما ہے یعنی (آیت) ” حسدا من عند انفسھم “۔ ان کے نفسوں میں چھپا ہوا حسد ہے جو انہیں مسلمانوں کے خلاف ابھار رہا ہے ، اور پھر یہ بھی ہے کہ وہ ایسا کسی غلط فہمی یا لاعلمی کی بنا پر نہیں کرتے بلکہ (آیت) ” من بعد ما تبین لھم الحق “۔ یہ سب کچھ حق کے اظہار کے بعد کر رہے ہیں ، انہیں حق اور باطل میں تمیز ہوچکی ہے ، مگر حسد اس بات پر کرتے ہیں کہ نبی آخر الزمان ﷺ بنو اسمعیل کی بجائے بنو اسحاق میں کیوں نہیں آیا ۔
(حسد بدترین بیماری ہے)
مفسرین کرام فرماتے ہیں (1) (تفسیر عزیزی فارسی ص 403 پارہ 1) کہ حسد دو وجوہ کی بنا پر ہوتا ہے اولا یہ کہ فلاں نعمت فلاں کو کیوں ملی ہے اور پھر اس کے زوال کی تمنا کی جاتی ہے ، دوسری وجہ یہ ہے کہ فلاں نعمت اس کی بجائے مجھے ملنی چاہئے ایسی خواہش کرنا حرام ہے ، یہ اخلاقی بیماری ہے ، ابن ماجہ شریف کی روایت میں یہ الفاظ آتے ہیں (1) (ابن ماجہ ص 310) ” ان الحسد یا کل الحسنات کما تاکل النار الحطب “۔ یعنی حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح خشک لکڑی کو آگ کھا جاتی ہے ، حسد اتنی بری چیز ہے ۔
امیہ ابن ابی صلت عرب کا عظیم شاعر اور حکیم تھا خدا کو مانتا تھا ، قیامت کا تصور ذہن میں موجود تھا ، اسی لیے سچے مذہب کا متلاشی تھا کبھی تورات کا مطالعہ کرتا کبھی انجیل پڑھتا کبھی اہل کتاب سے گفتگو کرتا ، تاکہ حق کو پا سکے مگر جب اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو نبوت سے سرفراز فرمایا تو یہ شخص حسد کی آگ میں جلنے جلنے لگا ، یہ چاہتا تھا کہ وحی اس پر نازل ہوتی ، محض حسد کی وجہ سے دین خالص کا مخالف ہوگیا ، اور اسی حالت میں اس کی موت واقع ہوئی ،
حسد تو قطعا حرام ہے ، البتہ غبط یا رشک جائز ہے ، غبط کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کے پاس نعمت دیکھ کر تمنا کرے کہ اللہ تعالیٰ اسے بھی ایسی نعمت سے سرفراز فرمائے حسد کا معنی تو یہ ہے کہ جس کو کوئی بہتری ملی ہے وہ اس سے محروم ہوجائے مگر غبط میں کسی کے زوال کی تمنا نہیں ہوتی بلکہ اس کے حصول کی خواہش ہوتی ہے ۔
بزرگان دین فرماتے ہیں ” ماخلا جسد عن حسد “۔ عام طور پر کوئی جسم حسد سے خالی نہیں ہوتا ، اسی لیے تعوذ کی تلقین کی گئی ہے ، (آیت) ” ومن شر حاسد اذا حسد “۔ اے اللہ میں حاسد کے حسد سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، بہرحال حسد ایک بہت بری بیماری ہے اللہ تعالیٰ اس سے محفوظ رکھے ۔
(غیر مسلم حاسد اقوام)
جیسا کہ عرض کیا ، غیر مسلم اقوام میں مسلمانوں کے خلاف حسد کی آگ نزول قرآن کے زمانے سے لے کر آج تک برابر بھڑک رہی ہے آپ کو معلوم ہے کہ اس وقت امریکہ ، برطانیہ جرمنی اور فرانس ، وغیرہ کی عیسائی طاقتیں اربوں روپیہ اس مقصد کے لیے خرچ کر رہی ہیں کہ کسی طرح مسلمان قوم کا تعلق قرآن پاک سے منقطع کردیا جائے ، مستشرقین کا فتنہ اسی مقصد کے لیے کام کر رہا ہے ، امیر شکیب ارسلان (رح) نے ” الحاضر العالم الاسلامی “ جو ان کی مشہور کتاب ہے ، اس میں لکھا ہے کہ یورپی عیسائیوں اور یہودیوں نے اور یہودیوں نے پیغمبر خدا ﷺ کی سیرت طیبہ کو مسخ کرنے اور قرآن پاک کی تردید میں چھ لاکھ کی تعداد میں کتابیں شائع کی ہیں تاکہ مسلمان اسلام سے بدظن ہوجائیں ان کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان اگر عیسائیت نہ بھی قبول کریں ، تو کم از کم مسلمان کی حیثیت میں باقی نہ رہیں ، مشنری سکول ہسپتال وغیرہ سب اسی مقصد کے لیے چل رہے ہیں ، لوگوں کو لالچ دیکر عیسائیت کی طرف مائل کیا جا رہا ہے یہ اسی حسد کی بنا پر چاہتے ہیں ، کہ مسلمانوں کا تعلق اپنے نبی سے کٹ جائے ، اور یہ قرآن پاک کی تعلیمات کو چھوڑ دیں ۔
(حد رجم پر اعتراضات)
حد رجم کا انکار بھی یہودیت کا شاخسانہ ہے ، اس شخص کی خباثت کی داد دو جس نے فیڈرل شریعت کورٹ میں دعوی دائر کیا ہے کہ رجم کی سزا کو کالعدم قرار دیا جائے کیونکہ بقول اس کے یہ شرعی حد نہیں ہے مقصد یہ کہ لوگ شکوک و شبہات میں مبتلا ہو کر دین سے بیزار ہوجائیں گے ، خارجیوں نے بھی یہی اعتراض کیا تھا اور آج کے زمانے کے پرویزی اور چکڑالوی بھی اسی قماش سے ہیں کہتے ہیں کہ قرآن پاک میں رجم کی سزا نہیں ہے بھئی ! صحیح سنت میں تو موجود ہے ، حضور ﷺ کے زمانہ میں رجم کے متعدد کیس ہوئے ، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے زمانے میں رجم کی سزا دی گئی ، اگرچہ عام طور پر رجم کی سزا اقرار جرم پر ہی دی گئی ، تاہم ا کے د کے ایسے واقعات بھی پیش آئے جن میں گواہی کی بنیاد پر رجم کی سزا دی گئی ، اس زمانے میں کسی کو رجم کی سزا ملی ہو یا نہ یہ الگ بات ہے ، مگر اس کے شرعی حد ہونے سے مجال انکار نہیں ہو سکتا ۔
(قرآن پاک کے خلاف سازش)
مستشرقین جنہیں محقق اور ریسرچ سکالر کا نام دیا جاتا ہے ، انہوں نے قرآن پاک اور حدیث نبوی ﷺ پر بھی نکتہ چینی کی ہے ان کا مقصد یہ ہے کہ کسی طرح مسلمان اپنے دین سے بدظن ہوجائیں ، گلیڈ سٹون نے برطانیہ کی پارلیمنٹ میں برملا کہا تھا کہ محمد کی کتاب قرآن اور ان کی تلوار انسانیت کی دشمن ہیں (العیاذ باللہ) اس نے قرآن پاک ہاتھ میں لیکر کہا تھا جب تک یہ کتاب دنیا میں موجود ہے یہ دنیا مہذرضی اللہ تعالیٰ عنہ نہیں بن سکتی ، لہذا اس کی عزت و توقیر لوگوں کے دلوں سے مٹانا ہوگی ، اس کا مطلب یہی تھا کہ قرآن پاک ایک ایسی کتاب ہے جو فحاشی سے روکتی ہے ، اور فحاشی اور عیاشی کے بغیر تہذیب نہیں آسکتی ان کے نزدیک انسان مہذب نہیں کہلا سکتا ، لہذا ان کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے ، کہ کسی طرح قرآن پاک کو دنیا سے محو کردیا جائے ،
فرمایا بہت سے اہل کتاب یہ پسند کرتے ہیں کہ تمہیں کفر کی طرف پلٹا دیں ، ایمان کے بعد ، حسد کرتے ہوئے ، بعد اس کے کہ حق واضح ہوچکا ہے ، اس کے باوجود مسلمانوں کو تلقین کی جا رہی ہے کہ اہل کتاب کے خلاف کسی قسم کا انتقامی جذبہ ذہن میں نہیں رکھنا بلکہ (آیت) ” فاعفوا “۔ پس معاف کر دو ، (آیت) ” واصفحوا “۔ اور در گذر کر دو (آیت) ” حتی یاتی اللہ بامرہ “۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم لے آئے ، گویا مسلمانوں کو انتقامی کارروائی کی بجائے حکم الہی کا انتظار کرنے کو کہا گیا تھا ، آخر اللہ تعالیٰ کا حکم آگیا ، اور مدینہ طیبہ بلکہ پورے عرب کو یہودیوں اور نصرانیوں سے پاک کردیا گیا ، فرمایا (آیت) ” ان اللہ علی کل شیء قدیر “۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ، وقت آنے پر وہ ان بدبختوں سے مواخذہ کرے گا ۔
(نماز اور زکوۃ)
اہل کتاب کی طرف سے چوکس رہنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنے فرائض پر کار بند رہنے کی تلقین بھی فرمائی (آیت) ” واقیموالصلوۃ واتوا الزکوۃ “۔ نماز کو قائم رکھو اور زکوۃ ادا کرتے رہو ، تمہاری طاقت کا منبع یہی دو چیزیں ہیں ، انہیں مضبوطی سے تھام لو ، تمہاری تمام تر قوت کا دارومدار تعلق باللہ پر ہے ، اور نماز زکوۃ اس کا مظہر ہے نماز کسی حالت میں بھی معاف نہیں ، اسے وقت پر ادا کرتے رہو ، اور اگر صاحب نصاب ہو تو زکوۃ ادا کرو ، بخل جیسی ، قبیح بیماری کا یہ بہترین علاج ہے ، اسے کبھی نظر انداز نہ کرو ، غیر مسلم اقوام مادی ترقی میں پیش پیش ہیں اس معاملہ میں وہ تمہیں اپنے برابر نہیں آنے دیں گی ، اگر تم یہ ہدف قائم کرو کہ پچاس برس میں امریکہ کے برابر مادی ترقی حاصل کرلو گے تو ممکن نہیں کیونکہ اس وقت امریکہ تم سے پچاس سال مزید آگے نکل چکا ہوگا ، لہذا تمہاری طاقت کا سرچشمہ مادی وسائل کی بجائے صلوۃ وزکوۃ ہے ، انہیں کے ذریعے ، اندر ایمان اور روحانیت پیدا ہوگی تعلق باللہ قائم ہوگا جو طاقت کا اصل سرچشمہ ہے ۔
(نیکی کا بدلہ نیکی)
فرمایا یاد رکھو (آیت) ” وما تقدمو لانفسکم من خیر تجدوہ عند اللہ “۔ تم اپنے نفسوں کے لیے جو بھی بھلائی آگے بھیجو گے ، کوئی نیکی ، کوئی عمل ، صدقہ خیرات کرو گے نماز ادا کرو گے ، اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ وہ کسی کا عمل ضائع نہیں کرتا ، اس کا واضح اعلان ہے (آیت) ” من یعمل مثقال ذرۃ “۔ ایک ذرے کے برابر کیا ہوا عمل بھی ضائع نہیں ہوگا بلکہ انسان اپنا اچھا یا برا عمل قیامت کے دن دیکھ لے گا ، یہاں بھی فرمایا کہ جو کچھ تم اعمال کے ذریعے آگے بھیجو گے (آیت) ” تجدوہ عند اللہ “۔ اسے اللہ کے ہاں پالو گے ہر چیز کا نتیجہ سامنے آجائے گا ، (آیت) ” ان اللہ بما تعملون بصیر “۔ اللہ تعالیٰ تمہارے ہر فعل کو دیکھ رہا ہے کوئی چیز اس کی نظروں سے مخفی نہیں ہے ، وہ جانتا ہے کہ تم کوئی کام کس نیت اور ارادے سے انجام دے رہے ہو ۔
Ayahs 2:111–112ربط آیات :
اہل کتاب کی خرابیوں کا ذکر ہو رہا ہے ، وہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے فضول سوال کرتے تھے ، اور پھر ان سے اختلاف بھی کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو ان کی روش سے منع فرمایا کہ تم یہودیوں والے کام نہ کرنا ، اور ان کے بہکاوے میں آکر دین میں شک نہ کرنے لگنا ، وہ تو چاہتے ہیں کہ اہل ایمان پر کفر کے طرف پلٹ آئیں ، اہل کتاب حاسد ہیں اسی بناء پر وہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر نکتہ چینی کرتے ہیں اور قرآن پاک میں نقص نکالتے ہیں تاکہ مسلمان اپنے دین سے برگشتہ ہوجائیں ، الغرض ! بنی اسرائیل کی یہ خرابیاں (آیت) ” یبنی اسرآء یل اذکروا نعمتی التی “۔ سے لے کر اگلے رکوع میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کی ملت اور خانہ کعبہ کے ذکر تک چلی گئی ہیں ، ساتھ ساتھ اہل ایمان کو ان خرابیوں سے بچنے کی تلقین کی جا رہی ہے ۔
(یہود و نصاری)
اہل کتاب میں یہودی اور نصرانی دونوں فرقے پائے جاتے ہیں یہودیوںٗ کی نسبت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف ہے اور اپنے آپ کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور توراۃ کی طرف منسوب کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ نہ ان کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر کامل ایمان ہے اور نہ توراۃ کو اللہ تعالیٰ کی کتاب تسلیم کرتے ہیں ، انہوں نے کتاب اللہ میں تحریف کرکے اس کا حلیہ بگاڑ دیا ، اس بات کا تذکرہ گذشتہ دروس میں آچکا ہے ، آج کل یہودیوں کو صیہونی بھی کہا جاتا ہے ، صہیون ایک پہاڑ کا نام ہے جو بیت المقدس کے قریب واقع ہے اسی نسبت سے انہیں صہیونی کہتے ہیں ۔
نصاری اپنی نسبت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل کی طرف کرتے ہیں ، حضرت مسیح (علیہ السلام) کی بستی کا نام ناصرہ تھا جس کی وجہ سے یہ لوگ نصاری کہلاتے ہیں تاہم مسلمان مفسرین کرام (1) (تفسیر عزیزی فارسی ص 268 پارہ 1 ، تفسیر ابن کثیر ص 103 ، ج 1) کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ایک موقع پر کہا تھا (آیت) ” من انصاری الی اللہ “۔ یعنی اللہ کے راستے میں میری کون مدد کرے گا ، تو حواریوں نے کہا تھا (آیت) ” نحن انصار اللہ “۔ ہم اللہ کے دین کی مدد کرنے والے ہیں لحاظ سے انہیں نصرانی کہا جاتا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ نصرانی نہ تو اللہ تعالیٰ کے پیغمبر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو مانتے ہیں اور نہ انجیل پر ایمان ہے انہوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو عبداللہ (اللہ کا بندہ) کہنے کی بجائے ابن اللہ (اللہ کا بیٹا) کہا بعض تین خداؤں میں انہیں تیسرا کہتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) میں حلول کر گیا تھا سورة مائدہ میں وضاحت موجود ہے (آیت) ” لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ھوالمسیح “۔ یعنی وہ لوگ کافر ہوگئے ، جنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہی مسیح ہے جو تینوں میں تیسرا ہے ، وہ قطعی طور پر ملعون ہیں ، آپ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا کہنے والے بھی کلمہ کفر ادا کرتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ تو اولاد سے پاک ہے (آیت) ” سبحنہ و تعلی عما یشرکون “۔ اللہ تعالیٰ ایسی تمام شرکیہ چیزوں سے منزہ ہے ، نصرانیوں نے انجیل کو بھی تحریف کے ذریعے بگاڑ دیا ہے ، اب ایک کی بجائے ایک سو بیس (120) انجیلیں بن چکی ہیں ، عام مشہور چار انجیلیں حنی یوحنا ، متی ، لوقا ، اور مرقس تو بائیبل کے ساتھ منسلک ہیں ، اس کے علاوہ ایک پانچویں انجیل بربناس بھی ہر جگہ دستیاب ہے ۔ اصلا انجیل سریانی زبان میں نازل ہوئی تھی ، مگر نصرانیوں نے اس کے تراجم کر کر کے اصل متن کو بالکل ضائع ہی کردیا ہے ، اس کے الفاظ تک اپنی حالت پر قائم نہیں رہے ۔
(نجات کا دارومدار)
الغرض ! یہودونصاری دونوں فرقوں کا یہ عقیدہ اور دعوی تھا کہ (آیت) ” وقالوا لن یدخل الجنۃ الا من کان ھود او نصری “۔ یعنی صرف یہودی اور نصرانی ہی جنت میں جائیں گے باقی سب کے لیے جنت کے دروازے بند ہیں ، وہاں کوئی نہیں جاسکتا ، اور اس پر لطف کی بات یہ ہے کہ ہر دو فرقے آپس میں بھی متفق نہیں تھے ، بلکہ یہودی کہتے تھے کہ جو یہودی ہوگا وہ جنتی ہے اور نصاری کہتے تھے جو ہماری پارٹی کا ممبر ہے ، صرف وہی جنتی ہے ، اس کے علاوہ جنت پر اور کسی کا حق نہیں ہے ، اسی دعوے کے جواب میں اللہ جل شانہ نے فرمایا (آیت) ” تلک امانیھم “۔ یہ ان کی باطل خواہشات ہیں وگرنہ اس دعوے کی حقیقت کچھ بھی نہیں گویا انہوں نے اپنی خواہشات کو عقیدے کا درجہ دے دیا ، پہلے کسی درس میں بیان ہوچکا ہے کہ جب امت کا علم ، عمل کا رشتہ پیغمبر سے کٹ جاتا ہے تو امت کی خواہشات عقیدہ بن جاتی ہیں ، اس سے پہلے یہودیوں کے ایک اور باطل عقیدے کا بھی ذکر آچکا ہے کہ کوئی اسرائیلی دوزخ میں نہیں جائے گا ، اگر بالفرض چلا بھی گیا تو صرف اتنے ایام کے لیے جائے گا ، جتنے دنوں ان کے آباؤواجداد نے بچھڑے کی پوجا کی تھی ، وہاں پر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس باطل عقیدے کو واضح کیا تھا اور پوچھا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کس نبی پر وحی کی تھی کہ اسرائیلی جو چاہیں کرتے پھریں وہ چند دن سے زیادہ دوزخ میں نہیں رہیں گے تمہارے پاس اس کا کیا ثبوت ہے ۔
اس مقام پر بھی اللہ تعالیٰ نے وہی بات دہرائی ہے نبی کریم ﷺ کو ارشاد ہوتا ہے ” قل “ آپ ان کے دعوے کے جواب میں فرما دیجئے (آیت) ” ھاتوا برھانکم ان کنتم صدقین “۔ اگر تم اس دعوے میں سچے ہو تو کوئی دلیل لاؤ ، برہان دلیل یا سند کو کہتے ہیں ، اس کی جمع براہین آتی ہے اور دلیل بھی ایسی ہونی چاہئے جسے صحیح العقل آدمی تسلیم کرے ، دعوی کسی بھی قسم کا ہو ، جب تک اس کے پیچھے دلیل نہیں ہوگی ، وہ باطل سمجھا جائے گا ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے متعلق کہا (آیت) ” برھان لہ بہ فانما حسابہ عند ربہ “۔ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں پس ان کا حساب ان کے رب کے پاس جا کر ہی ہوگا ایسے لوگوں کے پاس نہ کوئی نقلی دلیل ہوتی ہے اور نہ عقلی دلیل زیادہ سے زیادہ یہ لوگ رواج کو بطور دلیل پیش کریں گے کہ ہمارے آباؤاجداد یوں کرتے رہے ہماری قوم کا یہ رواج تھا ہمارے علاقے والے اس بات کو اپناتے تھے ، برخلاف اس کے توحید کے ہزاروں کروڑوں دلائل آپ کے مشاہدہ کے لیے موجود ہیں ۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہود ونصاری کا دعوی نجات غلط ہے ، یہ محض مخصوص فرقہ کی بنیاد پر جنت میں نہیں جاسکتے ، نجات کا یہ قانون ہرگز نہیں ہے۔
(اتباع خداوندی)
فرمایا ” بلی “ کیوں نہیں یہ حرف ایجاب ہے ، اور یہ اپنے سے پہلی بات کی نفی کرتا ہے پہلے دعوی تھا ، یہودونصاری کے سوا جنت میں کوئی نہیں داخل ہوگا ، فرمایا کیوں نہیں ہوگا ، بلکہ جنت میں داخل ہوگا مگر وہ (آیت) ” من اسلم وجھہہ للہ “۔ جس نے اپنے چہرے کو اللہ تعالیٰ کے تابع کردیا ، ذکر چہرے کا ہے مگر مراد اس سے ذات ہے ، کہ جس شخص نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں دے دیا ، وہ جنت میں ضرور داخل ہوگا ، (آیت) ” وجہہ “۔ کا یہ معنی دوسرے مقام پر بھی ہو آتا ہے جیسے (آیت) ” کل شیء ھالک الا وجھہ “۔ ہر چیز فانی ہے اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا خداوندی ” حی ، قیوم “ ہے وہ دائم ، قائم ، ازلی اور ابدی ہے ، اس کے علاوہ ہر چیز بالفعل فانی ہے فنا ہوچکی ہے یا آئندہ فنا ہوجائے گی ، قائم اور دائم ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے ۔
(آیت) ” من اسلم “ جس نے تابع کردیا اسلام کا معنی منقاد ہوجانا یا تابع ہوجانا ، آگے آرہا ہے ، اللہ تعالیٰنے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کا فرمایا ، ” اسلم “ یعنی مطیع ہوجاؤ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا ، (آیت) ” اسلمت لرب العلمین “۔ میں ظاہر و باطن طریقے سے اللہ رب العلمین کا فرمانبردار ہوں ، یعنی میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے لیے ہر لمحہ تیار ہوں ، چناچہ انہوں نے اپنے وعدے کو سچ کر دکھایا ، اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ، یہاں سے ہجرت کر کے فلسطین چلے جاؤ ، آپ نے تعمیل کی ، اللہ تعالیٰ نے کہا ، خانہ کعبہ تعمیر کرو ، ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا ، حاضر ہوں ، اللہ تعالیٰ نے حکم دیا بیوی بچوں کو وہیں چھوڑ دو ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ایسے ہی کیا گویا انہوں نے (آیت) ” اسلمت لرب العلمین “۔ میں نے جو اقرار کیا تھا اسے حرف بحرف پورا کر دکھایا ۔
(نیک نیتی)
فرمایا جنت میں جانے کا معیار یہ ہے (آیت) ” من اسلم “ یعنی جو اللہ تعالیٰ کا مطیع ہوگیا ، مقصد یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی تعمیل میں کمربستہ ہوجائے ، اس کا اعتقاد درست ہوجائے ، اس کی فکر پاک ہوجائے ، اس کا ایمان مکمل ہوجائے جس کا تعلق نیت اور عقیدے سے ہے ایمان کا تعلق چونکہ باطن سے ہے ، اس لیے سب سے پہلے انسان کی باطنی طہارت کی ضرورت ہے اس کے قلب وروح میں اللہ تعالیٰ کی واحدنیت سرایت کر جائے ، نہ اس کی ذات میں کوئی شریک ہے اور نہ اس کی صفات میں کوئی شریک ہے اگر دل کے کسی گوشے میں شرک کا معمولی سا شائبہ بھی موجود ہے تو ایسا شخص موحد نہیں ہو سکتا ، وہ مشرک ہے یا منافق ہے یا شک کرنے والا ہے ، بخاری اور مسلم شریف کی حدیث ہے (1) (مسلم 317 ج 2 ۔ ابن ماجہ 306) حضور ﷺ نے فرمایا ” ان اللہ لا ینظر الی صورکم والوانکم ولکن ینظر الی قلوبکم واعمالکم “۔ یعنی اللہ تعالیٰ تمہاری شکلوں اور رنگوں کو نہیں دیکھتا ، بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے کسی شخص کے اعمال کا دارومدار اس کی نیت پر ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت) ” فادعوا اللہ مخلصین لہ الدین “۔ اللہ کو پکارو ، خالص اسی کی اطاعت کرنے والے بن جاؤ ، حدیث شریف میں ہے (2) (بخاری ص 2 ، مسلم ص 140۔ ج 1) ” انما الاعمال بالنیات “۔ لہذا اپنے باطن کو درست کرو ، جنت میں داخلے کے لیے یہ اولین شرط ہے ۔
امام رازی (رح) نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا واقعہ بیان کیا ہے (3) (تفسیر کبیر ص 4 ، ج 4) کہتے ہیں کہ ایک ایماندار آدمی بھوک میں مبتلا تھا ، سفر پر جا رہا تھا ، راستے میں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے نظر آئے اس نے کہا کاش میرے پاس ریت کے ان ٹیلوں کے برابر اناج ہوتا تو میں سب بھوکوں میں تقسیم کردیتا ، چونکہ خود اس وقت بھوکا تھا اسے بھوک کی تکلیف محسوس ہوئی تو اس نے دوسروں بھوکوں کو خیال میں لاتے ہوئے یہ بات کی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو اس کی بات پسند آئی چناچہ اس وقت کے نبی پر وحی بھیجی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے تیری اس خالص نیت کو قبول کرکے تجھے ریت کے ٹیلوں کے برابر غلہ تقسیم کرنے کا ثواب عطا کردیا ہے ، اللہ تعالیٰ نے تیرا یہ صدقہ قبول کرلیا ہے ، جیسی تمہاری اچھی نیت تھی ہم نے ویسا ہی اچھا اجر عطا کیا ہے ،
(اعمال صالحہ)
جنت میں داخلے کا جو اصول اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ، اس کا پہلا جزیہ تھا کہ داخلے کا خواہشمند شخص اللہ تعالیٰ کا مطیع ہو ، اس کا دوسرا جزیہ یہ فرمایا (آیت) ” وھو محسن “۔ اور وہ نیکی کرنے والا ہو ، مقصد یہ کہ جنت میں داخلہ کسی فرقہ یا جماعت کی بنیاد پر نہیں ہوگا کہ وہ یہودی ہو یا عیسائی کہلاتا ہو ، بلکہ نجات کا قانون اس مقام پر یہ فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا مطیع ہو ، اسکی نیت اور ارادہ درست ہو ، اور اس کا عقیدہ صحیح ہو ، اور پھر دوسرے نمبر وہ اعمال صالحہ کرنے والا ہو ، ایسا شخص یقینا جنت کا حقدار ہوگا اور اس کو نجات حاصل ہوجائے گی ،
(فرقہ بندی ذریعہ نجات نہیں ہے)
حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں (1) کہ یاد رکھو نجات کا دارومدار کا کساب پر ہے نہ کہ انساب پر ، نسب کے لحاظ سے کوئی کتنے ہی اونچے خاندان سے تعلق رکھتا ہو یا کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتا ہو ، وہ نجات حاصل نہیں کرسکتا جب تک اس کا باطنی طور پر ایمان اور عقیدہ درست نہ ہو ، اور ظاہری طور پر اعمال صالحہ نہ انجام دیتا ہوں ، ہمارے ہاں بھی بہت سی فرقہ بندیاں پائی جاتی ہیں ، بعض جاہل یا کم فہم لوگ کسی خاص فرقے یا گروہ کو ہی نجات یافتہ تصور کرتے ہیں ، کہ فلاں مسلک والے جنت میں جائیں گے دوسرے نہیں جائیں گے حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی ان میں کتنے لوگ ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ تعصب رکھتے ہیں بعض حنفی ، حنابلہ کے ساتھ یا شافیع ، مال کیوں کے ساتھ عناد رکھتے ہیں ، ان کا عقیدہ یہ کہ صرف ہم ہی جنت کے وارث ہیں دوسرے اس میں داخل نہیں ہو سکتے ، اسی طرح سلوک اور تصوف کے سلسلے ہیں ، جیسے چشتی ، قادری ، سہروردی ، نقشبندی ، وغیرہ ، ان میں سے بھی بعض ایک دوسرے کے خلاف عناد رکھتے ہیں ، اور جنت کو صرف اپنی وراثت سمجھتے ہیں باقی سب لوگوں کو جہنمی خیال کرتے ہیں ، یہ تو محض فروعی اختلافات ہیں بنیادی طور پر چاروں مسالک یا سلسلہ ہائے تصوف میں کوئی اختلاف نہیں ۔
شاہ عبدالعزیز (رح) فرماتے ہیں (1) (تفسیر عزیزی فارسی ص 407 پارہ 1) کہ یہ چیزیں فروعات دین میں سے ہیں ، دین میں ان کی گنجائش موجود ہے ، مگر اس کی بناء پر دوسرے فرقہ یا گروہ کو جہنمی قرار دینا جہالت محض ہے دین میں جتنے مسلک اور جتنے سلوک ہیں سب کا مقصد واحد ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی ، کوئی حنفی ہو یا شافعی ، مالکی ہو یا حنبلی ، ہو یا قادری منزل مقصود تو سب کی ایک ہی ہے ، راستے مختلف ہیں ، طریقہ تعلیم مختلف ہے ، مگر مقصد تو مختلف نہیں ، لہذا اپنے آپ کو جنتی اور دوسرے کو جہنمی کہنا بذات خود گمراہی کی علامت ہے اس میں اور یہود ونصاری کی گمراہی میں کیا فرق رہ گیا ہے ، اس غلط فرقہ بندی نے مسلمانوں کو تباہ کیا ہے ، فروعات میں اختلاف رائے عین فطری امر ہے ، اور اس کی گنجائش ہے ، غور کرنے کی بات ہے کہ دو ڈاکٹر یا حکیم ایک ہی قسم کے مریض کے لیے مختلف دوائیں تجویز کرتے ہیں مگر کوئی نہیں کہتا کہ فلاں ڈاکٹر بیوقوف ہے ، اور فلاں حکیم درست ہے ، انہیں سب درست ہی مانتے ہیں کیونکہ مقصد سب کا ایک ہی ہے یعنی مریض کی صحت یابی مقصود ہے ، دوا کوئی بھی تجویز کی جاسکتی ہے جو اس کے مناسب حال ہو ، لہذا دین کے معاملہ میں ایسا تعصب کیوں اختیار کیا جائے کہ فلاں فرقہ ایسا ہے یا فلاں امام ایسا ہے ، بھائی یہ سب ایک ہی اللہ تعالیٰ کو ماننے والے تو ہیں ، ان کے متعلق کسی گروہ میں تعصب نہیں ہونا چاہئے ۔
اب دیکھئے ملک میں فوجداری قانون رائج ہے ، کسی ملزم کو ایک جج ، سزائے موت دیتا ہے ، تو دوسرا اسی قانون کے مطابق اسے بری کردیتا ہے ، مگر کبھی کسی نے کسی جج کو غلط نہیں کہا کیونکہ قانون میں مختلف فیصلہ جات کی گنجائش موجود ہے ، اسی طرح دین کے قانون کو ماننے والے سارے ہی ہیں خواہ کوئی حنفی ہو یا شافعی ، لہذا ان کے پیروکاروں میں بھی تعصب نہیں آنا چاہئے ، یہ کہنا کہ فلاں فرقے والے اس طرح نماز پڑھتے ہیں ، ان کی نماز نہیں ہوتی یا وہ جہنمی ہیں ، یہ بہت بری بات ہے اور من حیث القوم مسلمانوں کی تباہی کا باعث ہے یہ یہودیت اور نصرانیت ہے ، قرآن پاک نے اس کی مذمت بیان فرمائی ہے ۔
(قانون نجات)
الغرض ! فرمایا قانون نجات یہ ہے کہ جو شخص (آیت) ” من اسلم وجھہ للہ وھو محسن “۔ جس نے اپنی ذات کو اللہ تعالیٰ کے تابع بنا لیا ، اور وہ نیک کام کرنے والا ہے ، مجدد صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ جب (آیت) ” امنوا وعملوا الصلحت “۔ کا ذکر آتا ہے تو اس سے مراد بڑی بڑی چار عبادتیں ہیں ، یعنی نماز ، روزہ ، زکوۃ اور حج ، اس کے بعد پانچویں درجے میں جہاد آتا ہے علاوہ ازیں ان کے ساتھ دوسری نیکیاں بھی ہیں اس کو یوں بیان فرمایا (آیت) ” فمن یعمل من الصلحت “۔ جو کوئی بھی نیک کام کرے گا (آیت) ” وھو مومن “۔ بشرطیکہ وہ مومن ہو ، اس کا عقیدہ صحیح ہو ، تو اللہ تعالیٰ اس کے کسی عمل کی ناقدری نہیں فرمائیں گے اپنے ہر کام کا بدلہ وہ پالے گا ، ہاں اگر ایمان ہی مفقود ہے عقیدہ صحیح نہیں ہے ، تو پہاڑوں جتنی بڑی بڑی نیکیاں بھی گردوغبار کی طرح اڑ جائیں گی ، قیامت کے روز کچھ کام نہ آئیں گی ، (آیت) ” لایقدرون مما کسبوا “۔ ان کی کمائی میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا ، ان کی نیکیاں گردوغبار کی طرح اڑ جائیں گی ، گویا کہ وہ راکھ کے ذرات تھے جو آندھی کے آگے بالکل نہ ٹھہر سکے ، دوسرے مقام پر آتا ہے (آیت) ” عاملۃ ناصبۃ “۔ بڑے بڑے عامل ریاضتیں اور محنتیں کرنے والے کام کرکے تھک جانے والے ہوں گے مگر قیامت کے روز (آیت) ” تصلی نار حامیۃ “۔ جہنم میں ڈالے جائیں گے ، وجہ یہ ہے کہ وہ ایمان کی دولت سے محروم تھے ، سب نیکیاں رائیگاں جائیں گی ، بہرحال قانون نجات فرقہ بندی نہیں بلکہ اتباع خداوندی اور اعمال صالحہ ہیں ۔
(اجر عظیم)
فرمایا جس نے اپنی ذات کو اللہ تعالیٰ کے تابع کرلیا اور پھر وہ نیکی کرنے والا بن گیا (آیت) ” فلہ اجرہ عند ربہ “۔ پس ایسے شخص کے لیے اپنے رب کے ہاں اجر ہے نیکی کا بدلہ اس کو ضرور ملے گا (آیت) ” ولا خوف علیھم ولا ھم یحزنون “۔ ایسے اشخاص مستقبل میں کسی پریشانی میں مبتلا نہیں ہوں گے نہ ان پر کوئی خوف ہوگا ورنہ وہ غمگین ہوں گے ظاہر ہے کہ دنیا میں انسان ہر وقت پریشان رہتا ہے کم از کم موت کا ڈر تو اسے ہر وقت لگا رہتا ہے گویا موت ہر وقت اس کے پیش نظر ہے ، پھر دولت اور صحت کا خوف مسلط رہتا ہے پتا نہیں یہ دولت ہمارے پاس رہے گی یا نہیں ، پتا نہیں کل کو صحت بھی برقرار رہ سکے گی یا نہیں ، تو اس قسم کے خوف انسان کے ہمیشہ دامن گیر رہتے ہیں مگر جن کا عقیدہ صحیح ہوگا ، جو اعمال اچھے کرنے والے ہوں گے ، وہ ان تمام پریشانیوں سے محفوظ رہیں گے ، انہیں نہ اپنے ماضی پر افسوس ہوگا اور نہ انہیں مستقبل کا کوئی خدشہ ہوگا ، برخلاف اس کے جنہوں نے کوئی کمائی نہیں کی زندگی کی پونجی کو ضائع کردیا ، وہ افسوس کریں گے ، کہ ہم نے کتنی کوتاہی کی ، اللہ تعالیٰ نے مہلت دی تھی ، مگر ہم نے س سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا ، نہ عقیدہ درست کیا اور نہ نیکی کا کوئی کام کیا ، ایمان سے محروم رہے ، ایسے لوگ خوف اور پریشانی میں مبتلا ہوں گے اور اپنے کیے پر ہمیشہ افسوس کرتے رہیں گے ۔