Ayahs 2:37–39گزشتہ سے پیوستہ : جب حضرت آدم (علیہ السلام) نے اس درخت کا پھل کھالیا۔ جس سے انہوں منع کیا گیا تھا۔ تو ان سے انعام و اکرام لے لئے گئے۔ اور انہیں حکم ہوا کہ زمین پر اتر جاؤ۔ بعض تمہارے بعض کے دشمن ہیں۔ اور تمہارے لیے زمین میں ٹھکانا ہے۔ اور تمہیں ایک وقت تک فائدہ اٹھانا ہوگا۔ اب آدم (علیہ السلام) کو بڑی پریشانی ہوئی۔ کہ انہیں زمین پر اتر نے کا حکم مل گیا ہے۔ بعض روائتوں میں یہ بھی آتا ہے (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 182) کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل اور میکائیل (علیہما السلام) آئے اور آدم (علیہ السلام) کے سر سے تاج اتار لیا اور ان کے جسم سے بہشت کا لباس بھی اتار لیا اور انہیں برہنہ کردیا۔ چناچہ انہوں نے ستر ڈھانپنے کیے جنت کے پتے استعمال کیے۔ کیونکہ دوسروں کے سامنے ستر کا کھلنا خلافِ فطرت ہے۔
حضرت آدم (علیہ السلام) کی توبہ : اس کے بعد کیا ہوا۔ “ فتلقی ادم من ربہ کلمت ” پس آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھے۔ تلقی کا معنی پانا یا سیکھنا ہے۔ ان کلمات کا اللہ تعالیٰ نے الہام کیا یا آدم (علیہ السلام) کے دل میں ڈالا۔ ان کلمات کے ساتھ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے سامنے دعا کی ۔ جیسا کہ سورة اعراف میں آتا ہے۔ “ قالا ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخسرین ” یعنی اے پروردگار ! بیشک ہم نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا اگر تم ہمیں معاف نہیں کرے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا۔ تو ہم نقصان اٹھانے والے ہوجائیں گے۔ اس کے علاوہ حدیث میں ان دعائیہ کلمات کا ذکر ہے جن کے ذریعے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی نتیجہ یہ ہوا۔ کہ “ فتاب علیہ ” اللہ تعالیٰ نے رجوع کیا۔ آدم (علیہ السلام) کی طرف مہربانی کے ساتھ “ تاب ” کا معنی رجوع کرنا ہے۔ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جائے تو اس کا مطلب ہوتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے رجوع کیا اپنی عاجزی کے اعتراف کے ساتھ اور برائی کے ترک کرنے کے ساتھ ۔ گویا توبہ کی صفت کا تعلق خالق اور مخلوق دونوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ جب ہم کہتے ہیں “ توبوا الہ اللہ ” تو اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ گناہوں کو چھوڑ دو اور عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو۔ اس سے معافی مانگو۔ “ انہ ھو التواب الرحیم ”۔ بیشک وہ رجوع کرنے والا بڑا مہربان ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی لغزش کو معاف کردیا۔
امام بیہقی (رح) نے اپنی مشہور کتاب شعب الایمان میں روایت کی ہے (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 15) کہ اپنی لغزش پر آدم (علیہ السلام) اس قدر روئے کہ “ لووزن دموع ادم بجمیع دموع ولدہ لرجح دموعہ علی جمیع دموع ولدہ ” 185 بحوالہ بیہقی شعب الایمان) یعنی آدم (علیہ السلام) نے جس قدر آنسو بہائیے اگر ان کا مقابلہ ان کی قیامت تک آنے والی ساری اولاد کے ساتھ کیا جائے تو آدم (علیہ السلام) کے آنسو غالب آجائیں۔ اور بیہقی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے یہ روایت بھی مروی ہے (2 ۔ درمنثور ج 1 ص 54 بحوالہ بہیتی شعب الایمان) ۔ “ ما حملک علی ان اکلت من الشجرۃ ” اے آدم ! تم کو اس درخت کا پھل کھانے پر کس نے امادہ کیا۔ “ التی نھیتک ” جس سے میں نے منع کیا۔ “ قال یا رب زینتہ لی حوآء ” اے اللہ ! اس کو میرے لیے حوا نے مزین کیا۔ یعنی اس درخت کا پھل کھانے کے لیے حوا ؓ نے مجھے ترغیب دی تھی ۔ تاکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وہیں رہ جائیں گے۔ یہ شیطان کا وسوسہ تھا۔
حضور ﷺ کی حضرت آدم (علیہ السلام) پر فضیلت : خطیب بغدادی نے روایت بیان کی ہے۔ اور بیہقی (رح) نے دلائل النبوۃ میں اس کو نقل کیا ہے کہ حضور بنی کریم ﷺ نے فرمایا (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پ 1 ص 152 اللہ تعالیٰ نے مجھے آدم (علیہ السلام) پر دو باتوں میں برتری عطا فرمائی ہے ۔ اول یہ کہ ہر آدمی کے ساتھ قرین اور شیطان مقرر ہے۔ جو اسے بہکاتا ہے۔ مگر میرا قرین اور شیطان “ کان شیطانی مسلما ” وہ مطیع اور منقاد ہے۔ صحیح روایت میں آتا ہے (2 ۔ مسلم ج 2 ص 376) “ فلا یامرنی الا نحیر ” وہ مجھے برائی کا حکم نہیں دیتا بلکہ بھلائی کی دعوت ہی دیتا ہے۔ چونکہ آدم (علیہ السلام) کے ساتھ ابلیس تھا۔ اس نے وسوسہ اندازی کی جس سے حضرت حوا ؓ ابھی متاثر ہوئیں۔ اور انہوں نے آدم (علیہ السلام) کو درخت کا پھل کھانے کی ترغیب دی۔
فرمایا (3 ۔ تفسیر عزیزی پ 1 ص 192) آدم (علیہ السلام) پر مجھے دوسری فضیلت یہ ہے کہ ان کی بیوی نے برائی کی طرف ترغیب دی۔ جب کہ میری ازواج دین کے معاملے میں میرے ساتھ تعاون کرتی ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ازواج مطہرات کی تعریف فرمائی ہے۔ ایک موقع پر ان سے معمولی سی لغزش ہوئی تھی۔ جب انہوں نے زیادہ خرچہ کا مطالبہ کیا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی جس پر وہ اپنے مطالبہ سے دست بردار ہوگئیں۔ اور دنیا کے مقابلہ میں رسول اللہ ﷺ اور آخرت کو اختیار کیا۔ گویا حضور ﷺ کی بیویاں آپ کے امور میں معاون تھیں۔ ویسے بھی آپ کا فرمان ہے (4 ۔ ) کہ وہ انسان نیک بخت ہے۔ جس کی بیوی دین کے معاملہ میں اس کی معاون ہو۔
زمین پر اترنے کا حکم : صحاح ستہ کی روایت میں حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے (5 ۔ بخاری ج 1 ص 465 ، مسلم ج 1 ص 405) “ لولا بنواسرائیل ” اگر بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کے نبی کے حکم میں خیانت نہ کرتے۔ یعنی نبی نے حکم دیا تھا ۔ کہ من اور سلویٰ کھاؤ پیو۔ مگر اسے ذخیرہ نہ کرنا۔ مگر انہوں نے ذخیرہ کرنا شروع کردیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا یہ دی کہ گوشت گلنا سڑنا شروع ہوگیا۔ آج کل گرمی کے موسم میں تو ایک دو دن سے زیادہ گوشت نہیں رہ سکتا۔ بدبو آنے لگتی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا اگر بنی اسرائیل اپنے نبی کے حکم کی پاسداری کرتے۔ گوشت کو ذخیرہ نہ کرتے تو یہ کبھی خراب نہ ہوتا۔ خواہ کتنا ہی عرصہ پڑا رہتا۔
دوسری بات آپ نے یہ فرمائی “ لولا حوآء لہ تخن انثی زوجھا ”۔ یعنی اگر حوا اپنے خاوند کی خیانت نہ کرتی ۔ تو دنیا کی کوئی عورت اپنے خاوند کے ساتھ خائن نہ ہوتی۔ حوا کی خیانت یہ تھی کہ انہوں نے آدم (علیہ السلام) کو درخت کا پھل کھانے کی ترغیب دی تھی۔ بہرحال جب آدم (علیہ السلام) نے پھل کھالیا۔ اور برہنہ ہوگئے تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا۔ “ قلنا اھبطوا منھا جمیعا ” تم سب زمین پر اتر جاؤ۔ یہ حکم شیطان آدم (علیہ السلام) اور حوا ؓ سب کے لیے تھے۔ تو یہ تو قبول ہوگئی مگر زمین پر اتر جانے کا حکم صادر ہوگیا۔
بائبل اور بعض تاریخی روایات (1 ۔ درمنثور ج 1 ص 53 ، معالم التنزیل ج 1 ص 22 ، ابو السعود ج 1 ص 73) میں مور اور سانپ کا ذکر بھی آتا ہے کہ وہ بھی آدم (علیہ السلام) کو جنت سے نکالنے میں معاون ہوئے تھے۔ اور یہ کہ شیطان سانپ کے منہ میں بیٹھ کر جنت میں داخل ہوگیا تھا۔ مگر یہ روایت درست نہیں ہے صحیح بات یہی ہے کہ شیطان نے جنت کے باہر وسوسہ اندازی کی تھی۔ اس نے دروازے سے باہر جنیہ سے مباشرت کی تھی۔ جسے آدم (علیہ السلام) دیکھ رہے تھے۔ اور اس کی بات بھی سن رہے تھے۔ اسی بات سے آپ کو وسوسہ پیدا ہوا اور آپ نے وہ کام کرلیا۔ جس سے منع کیا گیا تھا۔ لہٰذا آپ کو زمین پر اترنے کا حکم ہوگیا۔
آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا ؓ کی حاجات : آدم (علیہ السلام) نے پھل کھایا ہوا تھا۔ ادھر زمین پر اتارا گیا۔ آپ کو بول و براز کی حاجت ہوئی۔ پیٹ میں درد پیدا ہوا۔ آپ پریشان ہوگئے کہ اس سے پہلے یہ تکلیف کبھی نہیں ہوئی تھی۔ آپ کی پریشانی دیکھ کر جبرائیل (علیہ السلام) آئے۔ اور آپ کو بتایا کہ اس تکلیف سے نجات حاصل کرنے کے لیے اس طریقے سے فراغت حاصل کریں۔ آپ نے ایس اہی کیا تو براز سے بدبو آنے لگی۔ آپ کو اور پریشانی ہوئی۔ رونے لگے کہ یہ کیا مصیبت ہے۔ کہتے ہیں کہ آپ ستر دن تک روتے رہے۔ اس واقعہ کو ابن ابی الدنیا نے روایت کیا ہے (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پ 1 ص 193) اور امام دار قطنی نے بھی کتاب الافراد میں حضرت عمر ؓ سے بیان کیا ہے (2 ۔ درمنثور ج 1 ص 54 بحوالہ کتاب الاذاد) کہ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو اس وقت بھیجا جب حضرت حوا ؓ کو حیض کی حاجت ہوئی ۔ جنت میں تو ہر طرح کی پاکیزگی حاصل تھی۔ زمین پر آکر یہ پریشانی لاحق ہوگئی مائی حوا ؓ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو آواز دی۔ کہ دیکھو یہ کیا معاملہ ہے ۔ مجھے وقفہ وقفہ سے خون آرہا ہے۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا۔ اے حوا ؓ ! یہ بات تم پر اور تمہاری بنات پر ہمیشہ کے لیے مسلط رہے گی۔
بخاری اور مسلم کی روایت میں آتا ہے (3 ۔ بخاری ج 1 ص 43 ، مسلم ج 1 ص 311) کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو ایام حج میں حیض کی حالت لاحق ہوگئی۔ آپ نے احرام باندھا ہوا تھا۔ حیض آنے پر سخت افسردہ ہوئیں اور رونے لگیں۔ حضور ﷺ تشریف لائے۔ تو آپ سے بیان کیا آپ نے فرمایا پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں۔ “ ھذا شیء کتبہ اللہ علی بنات آدم ” یہ ایسی چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی بیٹیوں پر لازم کردیا ہے۔
الغرض ! جبرائیل (علیہ السلام) نے حوا ؓ کو یہی کہا۔ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری بیٹیوں پر یہ چیز لازم کردی ہے۔ یہ تمہارے گناہوں کا کفارہ بنے گا۔ اور تمہارے لیے پاکیزگی کا ذریعہ ہوگا۔ اس کی وجہ سے عورت جسمانی طور پر صحت حاصل کرتی ہے۔ اور اگر نیک بخت ہے تو باطنی طور پر بھی اس کو طہارت نصیب ہوگی۔
جنت کے تحفے : جب حضرت آدم (علیہ السلام) زمین پر اترے تو بعض روایات (4 ۔ تفسیر عزیزی پ 1 ص 152) کے مطابق تیس قسم کے پھلوں کے بیج ان کے ساتھ آئے۔ بعض دوسری روایات (5 ۔ ) میں ہزار قسم کا ذکر آتا ہے۔ بعض روایات میں خوشبو کا تذکرہ ملتا ہے۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ خوشبو جنت کا تحفہ ہے اگر کوئی پھول یا گلدستہ پیش کرے تو اس کو رد نہیں کرنا چاہئے۔ “ فانہ خرج من الجنۃ (6 ۔ شمائل مع ترمذی ص 582) کیونکہ یہ جنت سے آئی ہوئی ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پ 1 ص 152) میں آتا ہے کہ سدن ، چمٹا اور ہتھوڑا بھی آدم (علیہ السلام) کے ساتھ نازل ہوا ۔ تاکہ دنیا میں کام کاج کرسکیں۔ حجر اسود بھی جنت سے اترا۔ پہلے اس کو جبل ابو قبیس پر رکھا گیا۔ یہ دودھ کی طرح سفید تھا۔ اور رات کو سورج کی طرح چمکتا تھا آہستہ آہستہ انسانوں کے گناہوں کی تاریکیوں سے اس پتھر کو سیاہ کردیا ۔
حضرت آدم (علیہ السلام) کا مقام نزول : حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت (2 ۔ ابن کثیر ج 1 ص 80) میں آتا ہے۔ کہ آدم (علیہ السلام) ہندوستان کی سرزمین شرق الہند میں اترے تھے۔ چناچہ سبحۃ المرجان فی اثار ہندوستان کے مصنف لکھتے ہیں کہ آدم (علیہ السلام) کا نزول شرق الھند میں اور حضرت حوا ؓ کا نزول جدہ میں ہوا۔ جدہ کا لفظی معنی دادی یا نانی ہے۔ غالباً اسی مناسبت سے اس مقام کا نام جدہ مشہور ہوگیا۔ صاحب سبحۃ المرجان بڑے پائے کے محدث اور عالم تھے۔ اور امام شاہ ولی اللہ (رح) کے ہم عصر تھے۔
بعض انبیاء (علیہ السلام) کے پیشے : حضرت آدم (علیہ السلام) کھیتی باڑی کرتے تھے اور کپڑے بننے کا کام بھی آپ ہی سے شروع ہوا۔ دراہم اور اشرفیاں بھی حضرت آدم (علیہ السلام) نے بنائیں۔ دیگر انبیاء (علیہم السلام) میں سے حضرت نوح (علیہ السلام) بخاری یعنی بڑھی کا کام کرتے تھے۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) درزی کا کام کرتے تھے۔ حضرت ہود اور صالح (علیہما السلام) تاجر تھے۔ حضرت ابراہیم اور لوط (علیہما السلام) نے کھیتی باڑی کا پیشہ اختیار کیا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) مویشی پالتے تھے۔ اور ان کا دودھ اور اون وغیرہ فروخت کرتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا پیشہ گلہ بانی تھا۔ داؤد (علیہ السلام) ذرہ بناتے تھے حضرت سلیمان (علیہ السلام) روئے زمین کی عظیم سلطنت کے بادشاہ ہونے کے باوجود اپنی گزراوقات کے لیے ٹوکریاں اور زنبیلیں بناتے تھے (3 ۔ تفسیر عزیزی پ 1 ص 192)
توبہ کی قبولیت : امام بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں روایت نقل کی ہے (4 ۔ تفسیر عزیزی پ 1 ص 184) کہ جب آدم (علیہ السلام) سے لغزش سرزد ہوئی تو وہ بہت نادم ہوئے۔ انہوں نے عرش پر نگاہ کی۔ تو وہاں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا پایا۔ آپ نے خیال کیا کہ جس شخص کا نام اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔ یہ ضرور کوئی عظیم شخصیت ہے۔ چناچہ انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ معافی مانگی۔ “ اسئلک بحق محمد الاغفرت لی ”۔ اے اللہ ! میں حضرت محمد (ﷺ) کے طفیل سے دعا کرتا ہوں کہ میری لغزش کو معاف فرما دے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے آدم ! تمہیں کیا علم کہ محمد (ﷺ ) کون ہیں۔ انہوں نے جواب دیا۔ مولا کریم ! میں اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتا کہ تیرے نام کے ساتھ محمد (ﷺ) نام لکھا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے آدم ! تیری اولاد میں یہ آخری نبی ہوں گے۔ اور میری پوری مخلوق میں ان کی فضلیت کو کوئی خاطر ان کو قبول کرلیا جاتا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی لغزش کو معاف کردیا۔ بیہقی کے علاوہ یہ روایات طبرانی ، حاکم اور ابو نعیم میں بھی موجود ہیں۔ اور روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ آدم (علیہ السلام) کو دنیا میں ابو البشر کی کنیت سے پکارا جاتا ہے۔ اور قیامت کے دن حضور ﷺ کی طرف نسبت کرتے ہو ابو محمد کی کنیت سے پکارا جائے گا۔ گویا آپ کو ابو البشر اور ابو محمد دونوں اعزاز حاصل ہیں۔
بخاری اور مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے (1 ۔ مسلم ج 1 ص 108 ، بخاری ج 2 ص 971) کہ قیامت کے روز جب لوگ آدم (علیہ السلام) کے پا س جائیں گے تو کہیں گے کہ اے آدم “ انت ابو البشر ” آپ تمام نسل انسانی کے جد امجد ہیں۔ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ حساب کتاب شروع کریں۔ حضرت آدم (علیہ السلام) انکار کردیں گے اور کہیں گے لو میں یہ کام نہیں کرسکتا حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس جاؤ حضرت ابو ذر غفاری ؓ کی روایت میں آتا ہے (2 ۔ تفسیر عزیزی پ 1 ص 188) کہ حضور بنی کریم ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ آدم (علیہ السلام) خدا تعالیٰ کے نبی تھے۔ فرمایا ہاں۔ “ بنیا رسولا کلمہ اللہ ” آپ نبی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے کلام کیا۔ آپ پر وحی نازل ہوئی تھی۔ اول الانبیاء ادم اور خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔
توبہ کی تین شرائط : توبہ ایک ایسا عمل ہے جس سے انسان کی سابقہ کوتاہیوں کی معافی ہوجاتی ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے (1 ۔ ابن ماجہ ص 313) التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ یعنی گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہی ہے جیسا اس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو۔ مگر توبہ کی قبولیت کے لیے بعض شرائط بھی ہیں۔ اگر ان شرائط کے ساتھ توبہ کی ہے تو قبول ہوگی ورنہ نہیں ۔ توبہ میں تین چیزیں پائی جاتی ہیں۔ یعنی علم حال اور عمل۔
علم سے مراد یہ ہے کہ آدمی جانتا ہے کہ میں نے واقعی یہ غلط کام کیا ہے۔ اور اس کے ارتکاب پر گناہ اور اس کے ضرر کا احساس ہوتا ہے۔ حال کا مطلب یہ ہے کہ انسان اس غلط کام کو ترک کر دے۔ اور آئندہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرے یہ عمل ہے۔ اس ضمن میں ندامت کا ذکر بھی آتا ہے (2 ۔ ابن ماجہ ص 313 فیص القدیر ، شرح جامع صغیر ج 3 ص 285) التوبۃ الندم اور اگر کچھ فرائض رہ گئے ہوں تو ان کو ادا کیا جائے۔ کوئی حقوق تلف ہوئے ہوں تو ان کو پورا کیا جائے۔ تب انسان کی توبہ قبول ہوتی ہے۔
امام دار قطنی نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت بیان کی ہے (3 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 196) جس میں آدم (علیہ السلام) سے متعلق مختلف باتیں ہیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی وفات پر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے مسجد خیف میں (جو کہ منیٰ میں واقع ہے) حضرت آدم (علیہ السلام) کی نماز جنازہ پڑھی اور چار تکبیریں کہیں۔ فرشتوں کی ایک جماعت بھی آپ کے ساتھ تھی۔ اور حضرت آدم (علیہ السلام) کو لحد میں دفن کیا گیا۔ اور ان کی قبر کو بان دار بنائی گئی۔ جیسا کہ عام طور پر آج کل بنائی جاتی ہے۔ بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے (4 ۔ درمنثور ج 1 ص 56 ، تفسیر عزیزی پارہ 1 ص 197) کہ آدم (علیہ السلام) نے ہندوستان کی سرزمین سے چالیس حج پیدل کیے۔
زمین پر اتارنے کی حکمت : ان آیات میں اھبطوا یعنی اتر جاؤ کا لفظ دو دفعہ آیا ہے ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں (5 ۔ ابن کثیر ج 1 ص 82) کہ پہلی دفعہ اللہ تعالیٰ نے اتر جانے کا عام حکم دیا تھا۔ مگر جب اس حکم کی فوری تعمیل نہ ہوئی تو دوبارہ سخت آرڈر ہوا کہ فوراً زمین پر اتر جاؤ۔
یہاں پر یہ نکتہ قابل غور ہے کہ زمین پر اترنے کا حکم کسی سزا کے طور پر نہیں تھا۔ بلکہ اس میں بھی حکمت خداوندی تھی۔ تخلیق آدم کے وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا “ انی جاعل فی الارض خلیفۃ ” کہ میں زمین میں نائب بنانے والا ہوں۔ چناچہ اس ارادے کی تکمیل یعنی خلافت ارضی کے لیے حضرت آدم (علیہ السلام) کو زمین پر اتارا گیا۔ آپ نے نیابت کے کام کی ابتداء کی ۔ اور پھر یہ فرض آپ کی آنے والی اولاد میں منتقل ہوگیا۔ گویا زمین پر اترنے کا حکم سزا نہیں بلکہ ایک اعزاز تھا۔ جو آدم (علیہ السلام) کے حصے میں آیا کہ انہیں نیابت الٰہی کا فریضہ سونپا گیا۔
خوفِ محشر کی حقیقت : حضرت آدم (علیہ السلام) کے حصے میں آیا کہ اللہ تعالیٰ نے مزید حکم یہ دیا کہ “ فاما یاتینکم منی ھدی ” جب میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے۔ یعنی جب انبیاء (علیہم السلام) میرا پیغام اور ہدایت لے کر آئیں “ فمن تبع ھدای ” تو جس نے میری ہدایت کی پیروی کی۔ “ فلا خوف علیہم ” ان پر انجام کے لحاظ سے کوئی خوف نہیں ہوگا “ ولاھم یحزنون ” اور نہ وہ غم کھائیں گے۔
یہاں پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ قیامت کے دن تو بہت زیادہ خوف ہوگا۔ عام انسانوں کا تو کیا حال ہوگا۔ خود نبیوں کے متعلق آتا ہے کہ وہ “ نفسی نفسی ” پکاریں گے۔ اس کے جواب میں مفسرین کرام فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 191) کہ ظاہری طور پر تو یہ واقعی خوف ہوگا۔ مگر انجام کے اعتبار سے بالکل خوف نہیں ہوگا ۔ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی قہری صفات کا ظہور ہوگا۔ تو خوف و ہراس طاری ہوگا۔ جیسے کسی مقدمہ میں ملزم بڑا گھبراتا ہے۔ مگر وکیل مقدمے کی مثل دیکھ کر کہہ دیتا ہے کہ خطرے کی کوئی بات نہیں ۔ تسلی رکھو۔ آخر کار انجام بخیر ہوگا۔ اسی طرح جو لوگ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آمدہ ہدایت کی پیروی کریں گے۔ انہیں اگرچہ قیامت کے دن وقتی طور پر خوف پیدا ہوگا۔ مگر اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق آخر کار انہیں خوف نہیں ہوگا۔
ہدایت کے متبعین : ہدایت اصل میں دین کی روح اور حکمت کو کہا جاتا ہے ۔ اور دین حق دائمی قانون کا نام ہے۔ جو انسانیت کے اصلی تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ اسی ہدایت کے مفصلات میں نبی ، رسول ، بینات ، معجزات ، کتب سماویہ اور شریعت وغیرہ آتے ہیں۔ ان تمام چیزوں کا اتباع ہی ہدایت کا اتباع ہے۔ قرآن پاک میں “ بینات ” کا لفظ لاتعداد مقامات پر آیا ہے۔ اور ہدایت کا لفظ بھی آیات ہے۔ “ بینات ” وہ ہوتے ہیں ۔ جو بالکل واضح اور بدیہہ ہوں۔ مثلا اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو ماننا بینات میں سے ہے۔ اسی طرح صبر و شکر کرنا اور خدا تعالیٰ کا ذکر کرنا بینات ہیں۔ ہدایت وہ چیز ہوتی ہے جس کی تعلیم کی ضرورت پڑتی ہے۔ مثلاً شعائر اللہ کی تعظیم ، احکام شرع میں استاد کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ چیزیں تعلیم کے بغیر حاصل نہیں ہوتی ہیں۔ چناچہ یہ کتابیں ، انبیاء (علیہم السلام) وغیرہ ہدایت میں شامل ہیں۔ اسی لیے فرمایا ۔ جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ۔ نہ ان پر خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
کفار و مکذیبن : والذین کفروا اور جنہوں نے کفر کیا۔ وکذبوا بایتنا اور ہماری آیات کو جھٹلایا “ اولئک اصحب النار ” وہ دوزخ والے ہیں “ ھم فیھا خلدون ” اس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 191) کہ انسان کی سعادت اور شفاوت کا دار و مدار ایمان اور کفر پر ہے۔ یا ہدایت و رضالت پر ہے۔ اور پھر یہ ہے کہ “ انما الاعمال بالخوائیم ” (2 ۔ بخاری ج 2 ص 977) اعمال کا دارو مدار خاتمے پر ہے۔ جس کا ایمان پر خاتمہ ہوگیا۔ یعنی جو ایمان کی دولت ساتھ لے گیا وہ مومن ہے۔ اور جس کا خاتمہ کفر پر ہوا۔ وہ کافر ہوگیا اب قانون یہ مقرر ہوگیا کہ ایک دفعہ جنت سے نکلنے کے بعد اب دوبارہ داخلہ ایمان اور نیکی کی بناء پر ہوگا۔ اس کے بغیر جنت میں دوبارہ داخلے کی کوئی صورت نہیں۔
Ayahs 2:40–42تاریخ بنی اسرائیل : “ یایھا الناس اعبدوا ” سے تمام بنی نوع انسان سے عمومی خطاب تھا۔ پھر حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق اور خلافت ارضی کا ذکر تھا۔ اس کے بعد “ واذ قال ربک للمئکۃ ” میں بھی عمومی نعمت کا ذکر ہوا۔ جو حضرت آدم (علیہ السلام) کے ذریعے تمام انسانوں کو حاصل ہوئی۔ اب یہاں سے بنی اسرائیل کو خصوصی خطاب ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتیں یاد دلائی ہیں۔ اور ان معجزات کا ذکر کیا ہے۔ جو ان میں ظاہر ہوئے۔ بنی اسرائیل کے بالکل شکوک و شبہات کا ازالہ بھی کیا ہے۔ اور اس قوم میں جو خرابیاں پیدا ہوگئی تھیں۔ ان کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ یہ بیان یہاں سے شروع ہو کر “ واذابتلی ابراھیم ربہ بکلمت ” تک چلا جائے گا ۔
خلافت ارضی عمومی نعمت ہے جو آدم (علیہ السلام) اور اس کی اولاد کو نصیب ہوئی۔ یہ خلافت بنی اسرائیل میں عرصے تک قائم رہی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ نعمت چھین لی اور بنی اسرائیل کو حاصل ہوگئی۔ یہاں پر بنی اسرائیل کی ان خرابیوں کا ذکر ہوگا جن کی وجہ سے اس عزت شرافت اور فضیلت سے وہ محروم ہوگئے۔
اسرائیل یعقوب (علیہ السلام) کا نام ہے۔ ان دونوں خاندانوں یعنی بنی اسرائیل اور بنی اسمعیل کے جد امجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ جن کا وطن مالوف موجودہ بغداد سے ستر میل دور بابل شہر تھا۔ آپ کی پیدائش کے وقت بابل بہت بڑا شہر اور تہذیب کا مرکز تھا۔ یہ چالیس مربع میل میں پھیلا ہوا تھا۔ اور بہت بڑی سلطنت کا پایہ تخت تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہاں سے ہجرت کی جیسا کہ فرمایا “ انی مھاجر الیٰ ربی ” اور مصر کے راستے شام پہنچے۔ کچھ عرصہ وہاں قیام فرمایا۔ اور پھر حجاز آئے اور مکہ مکرمہ بھی گئے۔ آپ اصلاً عراقی تھے۔ پھر شامی پر حجازی ہوئے۔ اس زمانے میں فلسطین کو کنعان کہتے تھے۔ اور یہ شام ہی کے ماتحت تھا۔ بعد میں اس کو بڑی شہرت حاصل ہوئی۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی ہاجرہ ؓ سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) تولد ہوئے۔ آپ کے بارہ فرزند تھے پھر ان کے آگے بیشمار قبیلے ہوئے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دوسری بیوی آپ کی چچا زاد حضرت سارہ ؓ تھیں۔ جن کا ذکر قرآن پاک میں بھی آتا ہے۔ آپ کے بطن سے حضرت اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور پھر ان سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے عظیم نبی ہوئے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ان کی زندگی میں ہی بشارت سنا دی تھی۔ “ ومن ورآء اسحاق یعقوب ” یعنی تمہارے فرزند اسحاق (علیہ السلام) سے ان کے بیٹے یعقوب (علیہ السلام) ہوں گے۔ پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ بیٹے ہوئے “ اثنتی عشرۃ اسباطا امما ” سورة اعراف میں موجود ہے۔ یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک تیسری بیوی قطورا بھی تھی (1 ۔ ارض القرآن ج 2 ص 2) جس کی اولاد بنی قطورا کہلاتی ہے مگر انہیں زیادہ شہرت حاصل ہے نہ ہوئی۔
واقعہ اس طرح ہے کہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے دو بیٹے یعنی عیص اور یعقوب جڑواں بچے تھے۔ البتہ عیص ذرا پہلے پیدا ہوئے اور یعقوب (علیہ السلام) بعد میں ۔ یعقوب کا لفظی معنی پیچھے آنے والے کے ہیں۔ خدا کی قدرت کہ اسحاق (علیہ السلام) کو عیص کے ساتھ زیادہ محبت تھی۔ اور ان کی بیوی کو یعقوب (علیہ السلام) زیادہ پیارے تھے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) زیادہ صحت مند اور مضبوط جسم کے مالک تھے اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) نے انہیں یہ فریضہ سونپ رکھا تھا۔ کہ وہ دروازے پر موجود رہیں۔ جب تک میں عبادت میں مصروف رہوں۔ کسی کو اندر آنے کی اجازت نہ دیں تاکہ عبادت میں خلل واقع نہ ہو۔ ایک موقع پر انسانی شکل میں فرشتہ آیا اور اندر جانا چاہا ۔ مگر یعقوب (علیہ السلام) نے روکا۔ جب اسحاق (علیہ السلام) باہر آئے تو دیکھا کہ یعقوب (علیہ السلام) فرشتے کے ساتھ الجھ رہے ہیں تو انہوں نے تحسین فرمائی۔ کہ واقعی تم نے اپنی ڈیوٹی پوری پوری ادا کی ہے۔ فرشتے نے آپ کا نام دریافت کیا تو انہیں یعقوب بتایا گیا۔ اس نے کہا اس کا نام اسرائیل ہے۔ سریانی یا جبرانی زبان میں اسرا کا معنی بندہ اور ایل کا معنی اللہ ہے۔ گویا فرشتے نے یعقوب (علیہ السلام) کا نام اسرائیل یعنی اللہ تعالیٰ کا بندہ رکھا۔ جو کہ عبد اللہ کے مترادف ہے یہیں سے آپ کا نام اسرائیل مشہور ہوا (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 200) اور آپ کی اولاد بنی اسرائیل کہلائی۔ چونکہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی محبت عیص کے ساتھ زیادہ تھی۔ اس لیے انہوں نے عیص سے فرمایا۔ کہ میں آخری وقت میں تیرے لیے خصوصی دعا کروں گا جب ماں کو پتا چلا تو اس نے چاہا کہ یہ دعا یعقوب (علیہ السلام) کے حق میں ہو۔ چناچہ اس نے یعقوب (علیہ السلام) کو عیص کا لباس پہنا کر ان کے باپ کے پاس بھیج دیا۔ اور ساتھ نصیحت کی کہ باپ کے سامنے آہستہ بولنا تاکہ وہ تمہیں پہچان نہ سکیں ۔ چونکہ اس وقت حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی نظر کمزور ہوچکی تھی۔ وہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو عیص سمجھے اور ان کے حق میں دعا فرمائی۔ کہ اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد میں نبوت کو جاری رکھے۔ یہ خصوصی دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی ۔ چناچہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک اللہ تعالیٰ نے چار ہزار نبی اور رسول اس خاندان میں مبعوث فرمائے۔
کچھ عرصہ بعد عیص نے باپ کو یاد دلایا کہ آپ نے میرے حق میں دعا کا وعدہ فرمایا تھا تو انہوں نے کہا کہ وہ دعا تو میں نے کردی ہے۔ عیص نے کہا کہ وہ دعا تو آپ نے یعقوب (علیہ السلام) کے حق میں فرمائی ہے تو انہوں نے کہا ۔ مجاوہ تو اس کے لیے ہوگئی۔ تمہارے لئے دعا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے خاندان میں بادشاہت قائم رکھے (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 201) چناچہ آپ کی دعا سے بادشاہت کا زیادہ تر سلسلہ عیص کی اولاد میں ہی رہا۔
جب حضرت اسحاق (علیہ السلام) اس دنیا میں رخصت ہوئے تو ان کے سارے مال واسباب پر عیص نے قبضہ کرلیا اور یعقوب (علیہ السلام) کو کچھ نہ ملا۔ اسی مال و دولت کی وجہ سے لوگوں کا رجوع بھی حیص کی طرف ہوگیا۔ اور یعقوب (علیہ السلام) نادار ہونے کی وجہ سے کسی شمار میں نہ آتے تھے۔ ان کے ماموں کسی دوسری جگہ مقیم تھے۔ اور بڑے مالدار تھے۔ ماں نے مشورہ دیا کہ ان کے پاس چلے جاؤ۔ ان کے پاس مال و دولت بھی ہے۔ اور اس کی بیٹی بھی ہے۔ جس کے ساتھ وہ تمہارا نکاح بھی کر دے گا۔ چناچہ آپ اپنے لایان نامی ماموں کے پاس پہنچے۔ وہ آپ کو دیکھ کر بڑا خوش ہوا۔ اور کہا اپنے بھائی کی بدسلوکی سے دل برداشتہ نہ ہونا۔ میں تمہاری ہر طرح سے مدد کروں گا۔ چناچہ اس نے اپنے سارے مال و اسباب کا متصرف حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو بنا دیا۔ اور اپنی بیٹی کا نکاح بھی کردیا۔
اس بیوی سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو چار بیٹے عطا کیے۔ اور اس کے بعد بیوی کا انتقال ہوگیا۔ ماموں نے آپ پر مزید احسان کیا۔ کہ دوسری بیٹی کا نکاح کردیا۔ اس سے دو فرزند پیدا ہوئے اور وہ بھی فوت ہوگئی۔ اس کے بعدماموں نے تیسری لڑکی آپ کے نکاح میں دے دی۔ اس سے ایک لڑکی اور دو لڑکے پیدا ہوئے اس کے بعد وہ بھی اللہ تعالیٰ کو پیاری ہوگئی۔ پھر ماموں نے اپنی چوتھی لڑکی راحیل کا نکاح کردیا۔ اس وقت تک حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی عمر چالیس برس ہوچکی تھی ۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت عطا فرمائی اور حکم دیا کہ اس مقام کو چھوڑ کر کنعان چلے جاؤ۔ اور وہاں پر تبلیغ کا فریضہ انجام دو ۔ جب ماموں کو پتا چلا تو اس نے کہا کہ تمہاری جدائی سے تکلیف تو ضرور ہوگی۔ مگر اللہ تعالیٰ کی رضا ہر چیز پر مقدم ہے۔ چناچہ آپ نے بخوشی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو کنعان چلے جانے کی اجازت دے دی۔ اور بیوی بچوں کو بھی ساتھ بھیج دیا۔ اور ان کی خدمت کے طور پر پانچسو گھوڑے ، پانچسو اونٹ ، پانچسو گائے ، پانچسو خچر ، پانچسو بھیڑیں اور بہت سادیگر سامان ہمراہ کردیا۔
کنعان پہنچ کر آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے تبلیغ کا کام شروع کردیا۔ وہاں پر آپ کی چوتھی بیوی راحیل کے بطن سے دو بیٹے یوسف اور بنیامین پیدا ہوئے۔ یوسف (علیہ السلام) ابھی دو سال کے تھے کہ راحیل بھی فوت ہوگئی۔ جب ماموں کو پتا چلا تو اس نے اپنی پانچویں بیٹی بھی نکاح میں دے دی۔ اور اسے یعقوب (علیہ السلام) کے نکاح میں بھیج دیا۔ تاکہ بچوں کی پرورش ہوسکے۔ اس طرح یعقوب (علیہ السلام) کے کل بارہ بیٹے ہوئے۔ جن سے اگے بارہ خاندان ظہور میں آئے (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پ 1 ، ص 202)
اللہ تعالیٰ نے عیص کو بھی اس فضیلت سے محروم نہ رکھا۔ جیسا حضرت یعقوب (علیہ السلام) کنعان کی طرف آرہے تھے تو راستہ میں عیص نے بھی آپ کا استقبال کیا۔ اور عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت کے ذریعے مجھر پر فضیلت بخشی ہے۔ آپ دعا کریں ۔ کہ اللہ تعالیٰ میرے خاندان میں بھی نبوت جاری فرمائے۔ آپ نے دعا فرمائی۔ تو وحی نے خبر دی۔ کہ اللہ تعالیٰ عیص کے خاندان میں ایک نبی ایوب (علیہ السلام) کو پیدا فرمائے گا۔ اور ایک عظیم المرتبت بادشاہ ذوالقرنین بھی آپ کے ہی خاندان میں ہوگا۔ چناچہ آگے چل کر ایسا ہی ہوا (2 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پ 1 ص 203) ۔
بنی اسرائیل پر انعامات : ان آیات میں ان انعامات کا تذکرہ ہے جو اللہ رب العزت نے بنی اسرائیل پر کیے۔ “ یبنی اسرائیل اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم ” اے بنی اسرائیل ! میرے ان انعامت کو یاد کرو جو میں نے تم پر کیے۔ ان میں سے دو بنیادی انعام تھے۔ یعنی اس قوم میں انبیاء (علیہم السلام) مبعوث کیے اور بادشاہت بھی عطا کی ۔ سورة مائدہ میں موجود ہے “ اذ جعل فیکم انبیآء وجعلکم ملوکا ” اللہ تعالیٰ نے کتنا عظیم احسان اس قوم پر کیا اس وقت اس کے برابر دنیا بھر میں کوئی دوسری قوم نہیں تھی۔ ان کو عزت ، دولت اور شہرت حاصل تھی۔ مگر آہستہ آہستہ ان میں بگاڑ پیدا ہونے لگا ۔ حتیٰ کہ مسیح (علیہ السلام) کے زمانے تک ان کی ذلت انتہاء کو پہنچ گئی ۔ انجیل اور تواریخ کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں بہت زیادہ خرابیاں پیدا ہوچکی تھیں۔ ہزاروں سال گذرنے کے بعد نزول قرآن کا زمانہ نہ آیا۔ خاتم النبین ﷺ دنیا میں تشریف لائے اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام اور شریعت نازل ہوئے۔ اس وقت بھی بیشمار خرابیوں کے باوجود یہی لوگ صاحب علم سمجھے جاتے تھے۔ چناچہ قرآن پاک نے اس مقام پر بنی اسرائیل کو ہی دعوت فکر دی ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو جنہیں تم اپنی خرابی کی وجسہ سے کھوچکے ہو۔ لہٰذا اب بھی راہ راست پر آجاؤ۔ نبی آخر الزمان پر ایمان لے آؤ۔ اور خدا تعالیٰ کے آخری پیغام کو تسلیم کرلو تو تمہاری چھنی ہوئی عزت واپس آسکتی ہے۔ اور اگر ایسا نہیں کرو گے۔ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہوگے۔ تو تمہارے حصے میں ذلت اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں ہوگا چناچہ اگلے رکوع میں ذکر آئے گا۔ کہ بنی اسرائیل میں کس طرح خرابیاں پیدا ہوئیں۔
بنی اسرائیل کی عہد شکنی : اللہ تعالیٰ نے انعامات کا تذکرہ کرنیکے بعد فرمایا “ واوفوا بعھدی ” اے بنی اسرائیل میرے عہد کو پورا کرو۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے یہی عہد تو لیا تھا کہ میر ی اطاعت کرنا انبیاء علیھم السلام کی اطاعت کرنا۔ اور فرائض کو پورا کرنا۔ فرمایا اس کے بدلے میں “ اوف بعھدکم ” میں تمہارا عہد پورا کروں گا۔ تمہارا عہد یہ ہے کہ تمہارے گناہ معاف کرکے تمہیں بخش دوں گا اور جنت تک پہنچاؤں گا۔ تمام بنی نوع انسان نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا ہے۔ آگے اس کے مطالبے یعنی میثاق کا ذکر بھی آئے گا۔ بنی اسرائیل سے کہا گیا کہ وہ میثاق بھی پورا کرو۔ “ الذی واثقکم بہ ” جو تم نے پختہ عہد کیا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے کہا تھا کہ صحیح دین اور سچی بات کو مت چھپانا۔ مگر انہوں نے کیا کیا۔ “ فنبذوہ ورآء ظھورھم ” اس عہد کو پس پشت ڈال دیا۔ نزول قرآن کے وقت تک بنی اسرائیل میں ۔۔۔ اور کتمان حق کی بیماری اپنے عروج پر تھی۔ یہ لوگ توراۃ ، انجیل اور دیگر کتب میں موجود آخری نبی (علیہ السلام) کے متعلق پیشن گوئیوں کو چھپاتے تھے۔ اور اس حسد میں مبتلا تھے کہ نبی آخر الزمان بنی اسرائیل کی بجائے بنی اسمعیل میں کیوں آیا ہے۔ یہ لوگ صاحب علم ہونے کے باوجود معتصب تھے ۔ مشرکین نے تو ایمان قبول کرلیا۔ مگر یہ لوگ اپنی ضد پر اڑے رہے۔ جیسا کہ “ ولکن کثیر منھم فسقون ” یعنی ان کی اکثریت نافرمانوں کی ہے۔ جب کہ نہایت ہی قلیل تعداد راہ راست پر آئی ہے چناچہ ان میں سے حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ جیسے چند حق پرستوں نے اسلام کی دعوت قبول کی۔ الغرض فرمایا تم میرا عہد پورا کرو۔ میں تمہارا عہد پورا کروں گا۔ “ وایای فارھبون ” اور خاص مجھ ہی سے ڈرو میں ہی تمہارا خالق اور مالک ہوں۔ میں نے تم پر پہلے بھی انعام کئے۔ آئندہ بھی کروں گا۔ بشرطیکہ مجھ سے ڈر کر
سیدھے راستے پر آجاؤ۔
ایمان بالقرآن : بنی اسرائیل کو خطاب کرتے ہوئے مزید فرمایا “ وامنوا بما انزلت ” اور جو چیز میں نے نازل کی ہے۔ اس پر ایمان لاؤ۔ اور یہ چیز “ مصدقا لما معکم ” اس چیز کی تصدیق کرتی ہے۔ جو تمہارے پاس موجود ہے۔ یعنی توراۃ اور دیگر سابقہ کتب یہاں پر یہ نکتہ یاد رہے۔ کہ قرآن پاک سابقہ کتب کی ہر چھوٹی بڑی چیز کی تصدیق نہیں کرتا۔ بلکہ اصولی طور پر بعض اہم باتوں کی تصدیق کرتا ہے۔ جس طرح ہر نبی کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ سابقہ بنی کی تصدیق کرے مگر اس کی شریعت اور احکام کی من و عن تصدیق نہیں کرتا کیونکہ بسا اوقات دوسرا نبی پہلے نبی کی بعض چیزیں منسوخ کردیتا ہے۔ اسی طرح قرآن پاک بھی سابقہ کتب کی تصدیق کرتا ہے۔ لہٰذا تم اس قرآن پاک کو بحیثیت کلام الٰہی تسلیم کرلو۔ اور اس پر عمل پیرا ہوجاؤ۔ “ ولاتکونوا اول کافر بہ ” اور تم لوگ قرآن پاک کے اولین منکرین نہ بن جاؤ۔
قرآن پاک کا نزول مکہ مکرمہ میں شروع ہوا۔ اور سب سے پہلے انکار کرنے والے تو کفار تھے۔ پھر جب حضور ﷺ ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تو وہاں ہود نے اس کا انکار کیا۔ تو اس لحاظ سے قرآن پاک کے اولین منکرین کفار مکہ ہیں ۔ نہ کہ یہود مدینہ ۔ مگر یہاں بنی اسرائیل کو خطاب ہو رہا ہے کہ تم اولین مکذبین نہ بن جاؤ۔ مفسرین کرام اس کی توجیہہ یہ بیان فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر عزیزی پارہ 1 ص 206 ، 209) کہ مکہ والوں کے پاس تو کوئی کتاب نہیں تھی۔ کتاب یعنی توراۃ تو مدینے کے یہود کے پاس تھی۔ لہٰذا اہل کتاب میں سے اولین کافرین یہی لوگ تھے ۔ اسی لیے ان کو کہا گیا کہ تم اولین منکرین میں سے نہ ہوجانا۔ اس کا دوسرا مطلب مفسرین کرام یہ بھی بیان فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل سے کہا گیا کہ اگر تم موجودہ نسل والے انکار کر دو گے تو تمہارے بعد آنے والی نسلیں بھی تمہاری روش پر چل کر انکار کردیں گی۔ اس طرح پیچھے آنے والی نسلوں کی گمراہی کے ذمہ دار بھی تم ہی ٹھہرؤ گے اس لیے اولین منکرین نہ بن جاؤ۔
دنیا کی محبت : پھر فرمایا “ ولا تشتروا بایتی ثمنا قلیلا ” اور مت خریدو میری آیتوں کے بدلے تھوڑی قیمت۔ تھوڑی قیمت سے مراد دنیا کی حقیر مال ہے ۔ جیسا کہ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 208) کہ دنیا کی چار چیزیں ایسی ہیں جن کے پیچھے لوگ مرتے ہیں۔ یعنی کھانا ، پینا ، پہننا اور نکاح کرنا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کھانے کا انجام گندگی اور پینے کا انجام بول ہے۔ اچھے سے اچھا لباس بھی کچھ عرصہ بعد پھٹ جاتا ہے۔ اور اسے پھینک دیا جاتا ہے رہا نکاح تو اس کی وجہ سے انسان طرح طرح کی پریشانیوں میں مبتلا ہوتا اور اذیتیں برداشت کرتا ہے یہ چاروں چیزیں عقیدے کو فاسد اور دین کو بگاڑنے والی ہیں۔ مگر لوگ ان حقیر اشیاء کے حصول کے لیے قیمتی اور اعلیٰ چیز یعنی ایمان کو خراب کرلیتے ہیں۔
فرمایا “ وایای فاتقون ” اور مجھ ہی سے ڈرو۔ آخرت کی خبر لو۔ دنیا کے پیچھے مت پڑو آخرت میں میرے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔ حساب و کتاب ہوگا۔ اور پھر تمہیں اپنے کئے کی جزا یا سزا بھگتنا ہوگی۔ لہٰذا مجھ سے ڈرتے رہو۔
تلبیس اور کتمان حق : “ ولا تلبسوا الحق بالباطل ” اور حق کو باطل کے ساتھ غلط ملط نہ کرو۔ “ وتکتموا الحق ” اور نہ ہی حق کو چھپاؤ یہ بنی اسرائیل کی عام عادت تھی۔ کہ وہ اپنی کتاب میں موجود سچی بات چھپا لیتے تھے۔ آگے آئے گا۔ کہ یہ لوگ قرآن پاک اور نبی آخر الزمان ﷺ کو اسی طرح پہچانتے تھے۔ جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتے تھے۔ مگر پھر بھی انکار کردیتے تھے۔ یہ لوگ واضح علامات کو بگاڑ کر پیش کرتے تھے ۔ اور ان میں تحریف کے مرتکب ہوتے تھے۔ یہ عیسائی اور یہودی تحریف میں بڑے ماہر ہیں۔ خود عیسائیوں کے بڑے بڑے پادریوں نے تسلیم کیا ہے کہ انجیل میں تین ہزار تحریفیں ہوچکی ہیں (1 ۔ تقریر دلپذیر) ظاہر ہے کہ جہاں اس قدر تحریف کا عمل آزمایا گیا ہو۔ وہاں کس قدر بگاڑ پیدا ہوگا۔ اور جس کتاب کے ساتھ یہ سلوک ہوا ہو۔ اس کا کیا سے کیا بن گیا ہوگا۔
حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے (2 ۔ ترمذی ص 379) کہ جس طرح آپ کی امت میں بھی پیدا ہوگا۔ آج کے دور میں دیکھ لیں کہ بدقماش قسم کے علماء محض دنیوی مفاد کی خاطر کس طرح غلط فتوے جاری کرتے ہیں۔ یہ چیز کتمان حق سے ہی پیدا ہوتی ہے اسی قسم کے لوگ امراء اور بادشاہوں کو خوشی کرنے کے لیے غلط فتوے دیتے ہیں۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ حاکم وقت راضی ہوجائے تو اپنی عیش ہے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ظالم بادشاہ اور فاسق امراء آخرت سے بےخوف ہو کر کمزور طبقے پر ظلم و جور کے پہاڑ توڑتے ہیں ۔ یہ لوگ علماء سو کے فتوے کی آڑ لے کر اپنی من مانی خواہشات کی تکمیل کرتے ہیں۔ یہی حال وزیروں اور دیگر دفتری اہلکاروں کا ہے۔ قانون کی آڑ میں عوام کے حق غصب کرتے ہیں۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے (3 ۔ فیض القدیر شرح جامع صغیر ج 6 ص 370 بحوالہ سنن سعید بن منصور ومسند احمد دحلیۃ الاولیاء) “ ویل لمن لا یعلم وحد من الویل ” جو کسی چیز کو نہیں جانتا۔ اس کے لیے ایک بار ہلاکت ہے مگر “ ویل لمن یعلم ولا یعمل سبع من الویل ” جو جاننے کے باوجود اس پر عمل پیرا نہیں ہوتا۔ اس پر سات بار ہلاکت ہے۔ مقصد یہ کہ کتمان حق کرنے والے دنیا پرست لوگ حق بات کو جاننے کے باوجود اس کو چھپاتے ہیں۔ اور حق پر عمل نہیں کرتے۔ لہٰذا یہ سات گنا سزا کے مستحق ہیں۔
پیروں ، گدی نشینوں اور علمائے سوء کا حال دیکھ لیں۔ انہیں فرائض کا کوئی خیال نہیں کہ پورے ہو رہے ہیں یا نہیں۔ مگر مستحبات اور چھوٹی چھوٹی چیزوں کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں جنہیں چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ لوگ ملک پہ کافر کی حکومت برداشت کرلیں گے جیسا کہ پیروں اور علماء سوء نے انگریز کی حمایت کی ۔ مگر یہ اپنے خود ساختہ عقیدے کے خلاف کوئی چیز برداشت کرنے کے لیے کبھی تیار نہ ہوں گے۔ ایسے ہی لوگ کتمان حق کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
آجکل دین کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے۔ نہ کسی کو فرائض کی پروا ہے۔ اور نہ واجبات کی۔ معمولی معمولی باتوں کو نشانہ بنا کر ان کی تشہیر ہو رہی ہے۔ پراپیگنڈا جاری ہے۔ تفرقہ بازی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اور پھر کالی گلوچ تک نوبت پہنچتی ہے۔ یہ سب کیا ہے ۔ بنی اسرائیل کے شیوہ کو اپنایا جا رہا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا (1 ۔ ترمذی ص 379) جو بیماریاں۔ بنی اسرائیل میں پائی جاتی تھیں۔ اے میری امت تم میں بھی وہی بیماریاں عود کر آئیں گی “ حذرا لنعمل بالنعل ” جس طرح ایک جوتا دوسرے کے مطابق ہوتا ہے۔ اسی طرح میری امت کی خرابیاں بنی اسرائیل کی خرابیوں کے مشابہ ہوں گی۔
فرمایا حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور نہ حق کو چھپاؤ۔ “ وانتم تعلمون ” اور تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہو رہا ہے ۔ غرضیکہ اس مقام پر بنی اسرائیل کی خرابیوں کا اجمالاً بیان ہوا ہے اگلے رکوعات میں تفصیل کے ساتھ ایک ایک خرابی کی نشان دہی ہوگی۔ آج بھی یہ خطاب موجود ہ دور کے بنی اسرائیل کے لیے موجود ہے۔ ان کے بڑوں کی خرابیوں کو ان کے سامنے رکھا جا رہا ہے۔ اور جو خرابیاں ان کے اندر پائی جاتی ہیں۔ ان کی نشاندہی بھی ہو رہی ہے۔ گویا یہ دعوت الی القرآن ہے کہ “ امنوا بما انزلت ” جس چیز کو میں نے نازل کیا ہے۔ یعنی قرآن پاک آؤ آج بھی اس پر ایمان لے آؤ تو فلاح پا جاؤ گے۔ قرآن پاک پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔ اور آخرت نوشتہ اور صحیفہ ہے اس پر ایمان لائے بغیر اور اس کے پیش کردہ پروگرام پر عمل کیے بغیر فلاح نصیب نہیں ہوسکتی۔