2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 2:208–210

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً١۪ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:208 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائو اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔ بیشک وہ تمہارے لئے کھلا دشمن ہے

فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:209 in the Quran reader

پس اگر تم پھسل گئے بعد اس کے کہ تمہارے پاس واضح باتیں آگئی ہیں۔ پس جان لو کہ بیشک اللہ تعالیٰ زبردست اور حکمت والا ہے

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیَهُمُ اللّٰهُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 2:210 in the Quran reader

یہ لوگ نہیں انتظار کر رہے مگر اس بات کا کہ آئے اللہ تعالیٰ ان کے پاس آئے بادلوں کے سائبانوں میں اور فرشتے بھی اور فیصلہ کردیا جائے معاملے کا اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے سب کام

مکمل اسلام گزشتہ آیات میں منافقین کی مذمت اور مخلص ایمان والوں کی تعریف بیان کی گئی تھی کہ وہ اپنی جان اور مال ہر چیز اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے قربانی کرنے کو تیار ہوتے ہیں اب ان مخلص مئومنین سے خطاب ہے۔ یایھا الذین امنوا داخلوا فی السلم کآفۃ اے ایمان والو ! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائو۔ کافۃ کا معنی جمیعاً ہوتا ہے۔ یعنی انسان اپنے جسم کے لحاظ سے اور ادھر احکام شریعت کے لحاظ سے پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوجائیں۔ وفاداری صرف اور صرف اسلام سے ہو ، باقی تمام ادیان ، بدعات ، رسومات باطلہ وغیرہ سے مکمل طور پر علیحدگی ہو۔ کیونکہ یہ چیزیں اسلام کے منافی ہیں۔ اگر اسلام کے ساتھ ساتھ ایسی قبیح چیزوں کے ساتھ بھی تعلق قائم رکھے گا ، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایسا شخص مکمل طور پر اسلام میں داخل نہیں ہوا۔ کافۃ کا دوسرا معنی یہ بھی ہے کہ انسان کے ظاہر و باطن اور عقیدے اور عمل میں کسی قسم کا تضاد نہ ہو جو کچھ دل کے اندر ہے زبان پر بھی وہی آنا چاہئے اور عقیدہ ہے عمل بھی اس کے مطابق ہو۔ زبانی دعویٰ کچھ ہو اور عملی طور پر اس کی تردید ہوتی ہو تو یہ اسلام میں مکمل طور پر داخلہ نہیں ہوگا۔ اگر عقیدہ توحید کا ہو اور عمل میں شرک پایا جائے۔ زبان پر اتباع سنت کا دعویٰ ہو ، مگر رواج بدعات کو دیا جا رہا ہے تو یہ چیز کافۃ کے منافی ہوگی۔ شیخ الند اور ترجمہ قرآن حضرت مولانا شیخ الہند محمود الحسن برصغیر کے بلند پایہ مفسر قرآن ہوئے ہیں انہوں نے حضرت شاہ عبدالقادر محدث دہلوی کے ترجمہ قرآن پاک کو آسان بنایا۔ ان کے زمانے میں جو ا لفاظ متروک زبان ہوچکے تھے انہیں آسان اور عام فہم الفاظ کے ساتھ بدل دیا یہ بامحاورہ ترجمہ آپ نے اسیری کے دوران مالٹا جیل میں مکمل کیا اور ساتھ دو سورتوں کا حاشیہ بھی لکھا مگر زندگی نے وفا نہ کی چناچہ بقیہ قرآن پاک کا حاشیہ آپ کے شاگرد شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی نے مکمل کیا۔ اس وقت برصغیر میں اردو زبان کا سب سے بہتر حاشیہ یہی ہے جو مختصر اور صحیح ہے۔ تفسیریں اور حاشیے تو اور بھی بہت سے ہیں۔ کوئی لمبا کوئی مختصر عربی اور فاسری زبانوں میں بھی بیشمار حواشی موجود ہیں۔ مگر یہ ترجمہ اور حاشیہ سب سے بہتر ہے۔ جو تمام عالمانہ خصوصیات کا حامل ہے۔ اس میں بدعات کا خاص طور پر روکا گیا ہے۔ کہتے ہیں کہ جب شیخ الہند مالٹا سے بذریعہ بحری جہاز واپس آ رہے تھے ۔ تو سمندر میں طوفان آ گیا اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب جہاز کے بچ نکلنے کی کوئی امید باقی نہ رہی تو آپ نے ایک شاگرد کو جو ہمراہ تھا فرمایا کہ اس ترجمہ کو اپنے سینہ سے باندھ لو۔ اگر جہاز کی تباہی کی صورت میں تیرنا بھی پڑے تو اس ترجمہ کو ساتھ لیجانا۔ یہ مولانا عزیز گل سخاکوٹ پشاور کے رہنے والے تھے۔ اور تیرنا جانتے تھے۔ حضرت شیخ الہند کے ہمراہی پانچ شاگردوں میں سے مولانا عزیز گل ماشاء اللہ آج بھی 1 ؎ بقیہ حیات ہیں ۔ سمندری طوفان کے دوران اگر آپ کو کسی چیز کی فکر لاحق ہوئی تو وہ ترجمہ قرآن پاک تھا۔ جو آپ نے نہایت عرق ریزی سے لکھا تھا۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے مہربانی فرمائی اور جہاز صحیح سلامت طوفان سے بچ نکلا۔ الغرض حضرت شیخ الہند کو اس ترجمہ قرآن پاک کی اتنی فکر تھی کہ اور کسی چیز کی پروا نہ کی۔ آپ کو صرف اسی گوہر نایاب کی فکر لاحق ہوئی۔ شیخ الہند بڑے خدا پرست انسان تھے۔ محمد ث اور فقیہہ تھے۔ انگریزوں کے سخت دشمن تھے۔ انہیں ایک آنکھ دیکھنا بھی پسند نہ فرماتے آپ سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کے دین ، مذہب اور قوم کو خراب کرنے والے انگریز ہی ہیں۔ مسئلہ کشمیر ، فلسطین ، قبرص ، شا م اور لبنان سب انگریز کے پیدا کردہ مسائل ہیں۔ یہ امریکہ تو کل کی پیداوار ہے۔ اصل فتنہ پرداز انگلینڈ والے ہیں۔ جو یہاں سے بھاگ کر امریکہ چلے گئے اور وہاں حکومت قائم کرلی۔ عیسائی خواہ امریکی ہوں یا برطانوی یا روسی انہوں نے ہمیشہ مسلمانوں کی مخالفت کی۔ انہوں نے ہندوستان میں ہندوئوں کے ساتھ ملا کر مسلمانوں کے ساتھ سازشیں کیں ان کو ذلیل و خوار کیا گیا۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران میں سب پیروں اور مولویوں نے ترکی کے خلاف کفر کا فتویٰ دے دیا۔ یہ صرف حضرت مولانا شیخ الہند تھے جنہوں نے انگریز کی ڈٹ کر مخالفت کی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کو گرفتار کر کے مالٹا میں قید کردیا گیا۔ بد عات کی تردید حضرت شیخ الہند نے اپنے ترجمہ قرآن میں کافۃ کا معنی یہی لکھا ہے کہ اسلام میں اس طرح داخل ہو جائو کہ تمہارا کوئی عمل احکام اسلام کے خلاف نہ ہو۔ اپنی عقل یا دوسرے کے کہنے سے دین میں کوئی چیز داخل نہ کرو کہ یہ بدعت ہے۔ مگر لوگ اسے اسلام کے نام کار ثواب سمجھ کر کرتے ہیں۔ کیونکہ بدعت نام ہی اس عمل کا ہے۔ جسے اچھا سمجھ کر دین میں اپنی طرف سے شامل کرلیا جائے۔ حالانکہ دین کا اس سے کوئی تعلق نہ ہو۔ فرماتے ہیں کہ اس کی مثال ایسے ہے ۔ جیسے نماز اور روزہ افضل ترین عبادات میں سے ہیں۔ لیکن جب کوئی شریعت کی مقررہ نماز کے علاوہ ؎ اب وفات پا چکے ہیں۔ (فیاض) اپنی طرف سے کوئی نماز ایجاد کریگا تو وہ بدعت ہوگی ۔ مثلاً عید کے روز عید گاہ میں نوافل ادا کرنا اگرچہ نماز ہے مگر اسے بدعت کہیں گے۔ کیونکہ دین میں اس کی اصل نہیں ہے۔ اسی طرح ہزارہ روزہ رکھنا بھی بدعت میں شمار ہوگا۔ کیونکہ اپنی طرف سے دین میں شامل کیا گیا ہے۔ ایصال ثواب کی تمام رسوم بھی اسی قبیل سے ہیں۔ تیرا ، دسواں چہلم وغیرہ کار ثواب اور مزدے کے لئے باعث اجر سمجھ کر کیا جاتا ہے مگر شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں۔ اسی طرح حضور ﷺ کی مدح سرائی کے لئے نعت خوانی اور محافل میلاد منعقد کی جاتی ہیں اور مختلف مقامات پر مختلف طریقے اختیار کئے جاتے ہیں۔ مگر یہ سب کچھ شریعت کی منشا اور اس کے حکم کے بغیر ہوتا ہے۔ ملا علی قاری اور دیگر فقہائے کرام لکھتے ہیں۔ کہ نماز جنازہ کی سلام پھیرنے کے بعد دعا نہیں کرنی چاہئے۔ کیونکہ یہ جنازہ میں اپنی طرف سے اضافہ تصور ہوگا۔ یہ چیز شارع (علیہ السلام) سے ثابت نہیں ہے۔ اسی طرح جب اقامت صلوۃ کے آخری کلمات لا الہ الا اللہ کہے جاتے ہیں تو دوسرے لوگ محمد رسول اللہ کہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بھی بہت بڑی نیکی اور ثواب کی خاطر کیا جاتا ہے حالانکہ حضور ﷺ سے قطعاً ثابت نہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ آج کے مسلمان کو حضور ﷺ کے طریقے پر یقین نہیں آیا۔ لہٰذا اس میں اضافہ کرلیا ہے۔ اذان سے پہلے درود شریف بہت بڑی سعادت سمجھ کر پڑھا جاتا ہے۔ حالانکہ حضور ﷺ نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا۔ اس قسم کی بدعات کا ارتکاب محض اپنی عقل کی پیروی میں کیا جاتا ہے۔ نوافل کی ادائیگی بلاشبہ خیر کثیر ہے۔ مگر اس کی جماعت ثابت نہیں ۔ فقہائے کرام نے اسے بھی بدعت سے تعبیر کیا ہے۔ ہاں جن نمازوں کی جماعت حضور ﷺ سے ثابت ہے ، وہ درست ہے۔ ان میں نماز تراویح ، صلوۃ کسوف اور نماز استسقاء وغیرہ مگر صلوۃ التسبیح کی جماعت کہاں سے آگئی۔ علمائے احناف اسے بھی بدعت قرار دیتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ کے مسلک میں درست نہیں ہے۔ حالانکہ یہ نماز ہے اور اعلیٰ درجے کی عبادت ہے۔ الغرض ! خلاصہ ان آیات کا یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ ایمان لائو اور بدعات سے بچتے رہو اور اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائو۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی بعض لوگ مکمل طور پر اسلام میں داخل نہیں ہوتے۔ اس ضمن میں اہل کتاب کی مثال موجود ہے۔ یہودی علماء میں سے حضرت عبداللہ بن سلام کو اللہ تعالیٰ نے توفیق بخشی اور وہ اسلام لائے۔ بعض دوسرے یہودی بھی مشرف بہ اسلام ہوئے حضرت شیخ الہند لکھتے ہیں کہ اگرچہ وہ پورے اخلاص کے ساتھ مسلمان ہوئے تھے۔ مگر ان کا خیال تھا کہ قرآنی احکام کے ساتھ ساتھ تورات کے احکام کی بھی رعایت ہونی چاہئے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس خیال کی تردید فرما دی کہ اسلام کے ساتھ ساتھ کسی اور شریعت یا دین کی رعایت اسلام میں مکمل داخلے کی نفی ہوگی۔ لہٰذا باقی تمام شرائع اور ادیان کو چھوڑ کر اسلام میں پورے پورے داخل ہو جائو۔ تورات میں حکم موجود ہے کہ ہفتہ کے روز سوائے عبادت الٰہی کے اور کوئی کام نہ کرو۔ گویا اس دن دنیوی کاروبار مکمل طور پر بند کرنے کا حکم تھا۔ حتیٰ کہ چولہا بھی گرم نہیں کیا جاسکتا تھا۔ نہ زراعت ، نہ دکانداری اور نہ کوئی اور کام کرنے کی اجازت تھی۔ اسی طرح یہودیوں کے دین میں اونٹ کا گوشت کھانا اور دودھ پینا ممنوع تھا۔ تو نو مسلم یہودیوں نے خیال کیا کہ اسلام میں جمعہ کو افضل دن قرار دیا گیا ہے۔ ہم اس کو تسلیم کرتے ہیں اور سا کے ساتھ ساتھ پرانے طریقے پر اگر ہفتہ کی تعظیم بھی روا رکھی جائے اور ممنوعات کی پابندی کی جائے تو کیا حرج ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسی بات سے منع فرما دیا اور حکم دیا کہ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائو۔ اب اسلامی احکام کے ساتھ دوسری شریعت کی پابندی روا نہیں ہے اگر اب بھی ایسا کیا جائے تو یہ فعل بدعث شمار ہوگا۔ کیونکہ شریعت محمدی نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا۔ ظاہر و باطن میں یکسانگی ادخلوا فی السلم کآفۃ ایک جامع آیت ہے۔ اسلام میں مکمل داخلہ صرف ظاہری اعمال تک ہی موقوف نہیں۔ بلکہ باطنی طور پر بھی اسلام کے احکام پر پورا پورا یقین ہونا چاہئے۔ ظاہراً تمام اعضاء مثلاً ہاتھ ، پائوں ، کان اور آنکھ احکام اسلام پر کاربند ہوں جس طرح بعض روایات میں آتا ہے کہ روزہ صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ آنکھ ، کان ، زبان اور دیگر تمام اعضاء جوارح کا روزہ ہونا چاہئے اسی طرح باطناً دل میں بھی پورا ایمان و یقین ہو کہ ان احکام کو پورے خلوص نیت کے ساتھ انجام دینا ہے۔ اگر ایسی کیفیت پیدا ہوجائے ، تو سمجھ لیجیے کہ آپ نے کآفۃ کا مفوہم پا لیا ہے اور اگر ایسا نہیں ہے۔ ظاہر و باطن میں تضاد پایا جاتا ہے۔ کچھ حصہ اسلام کا لے لیا اور کچھ بدعات کو بھی اپنا لیا یا کوئی عبادت اسلام سے لے لی اور کچھ چیزیں کسی اور شریعت یا مقامی رسم و رواج سے حاصل کرلیں تو اسلام میں مکمل داخلہ تصور نہیں ہوگا۔ آپ کو یاد ہے سابقہ حکومت نے نعرہ لگایا تھا کہ دین تو مہارا اسلام ہے۔ مگر معیشت ہماری سوشلزم اور رسالت ہماری جمہوریت ہوگی تو بتائیے یہ اسلام کی مکمل اتباع کیونکہ ہوگی۔ یہ تو تثلیث بنا کر رکھ دی۔ یقینا یہ اس آیت کریمہ کی نفی ہے۔ اللہ تعالیٰ تو حکم دیتا ہے کہ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائو اور یہ کہتے ہیں کہ ہم ایک تہائی اسلام کا لیں گے اور باقی دو تہائی کے لئے دوسروں کے دروازے پر جائیں گے ہم نے اسی وقت کردیا تھا کہ یہ نعرہ اسلام کے سراسر منافی ہے اگر دین اسلام ہے تو پھر معیشت اور سیاست بھی اسلام یہ سے کرنا ہوگی۔ ورنہ یہ قول و فعل میں تضاد اور ظاہر و باطن میں عدم یکسانیت ہوگی۔ حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) کے ارشاد عالیہ کتب احادیث بخاری و مسلم وغیرہ میں مرتب شکل میں دستیاب ہیں ان میں نظام حکومت کا مکمل خاکہ موجود ہے۔ خلفاء راشدین کے نظام حکومت کی تفصیلات موجود ہیں۔ شاہ ولی اللہ کی ازالتہ الخفاء اور یدگر کتب میں دستور مملکت موجود ہے۔ مگر آپ اس کو چھوڑ کر غیروں کے نظام تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود اسلام کے نام پر قائم ہونے والے پاکستان میں ابھی تک انگریز کا قانون نافذ ہے۔ قوانین دیوانی و فوجداری ، تجارت و معیشت وغیرہ سب انگریزی قانون ہیں انگریز کے زمانہ میں ان قوانین کو قبول کرنا تو ہماری مجبوری تھی ، اب کیا تکلیف ہے ہم اسلامی نظام کیوں نافذ نہیں کرسکتے کیا کار پرداز ان حکومت کو اسلام کے قوانین و نظریات پر اعتماد نہیں ہے۔ اگر اعتماد ہوتا تو انگریزی قوانین پہلے دن سے تبدیل کردیئے جاتے۔ اسلام انقلابی مذہب ہے اصل بات یہ ہے کہ اس وقت اسلام کو انقلابی مذاہب ہم خود اور ہمارے حکمران تسلیم نہیں کرتے۔ اسی لئے وہ اسلام کا نفاذ بتدریج چاہتے ہیں نتیجہ یہ ہوگا۔ کہ جس طرح پہلے حکمران نفاذ نہیں ہوگا۔ اور اس کے بعد تیسرا آجائے گا وہ اپنا طور طریقہ اپنا ئیگا۔ ہر کہ آمد عمارت نو ساخت مگر لوگ اسلام کی برکات سے محروم ہی رہیں گے۔ جب تک اسلام کو انقلابی اقدام کے طور پر نافذ نہیں کیا جائے گا۔ کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس ضمن میں حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) کا طریقہ دیکھیے ۔ فتح مکہ کے روز حضور نے انقلابی اعلان فرمایا تھا کہ جاہلیت کی ہر رسم آج میرے پائوں کے نیچے روند دی گئی ہے۔ آج کے بعد کسی مشرک کو برہنہ حالت میں طواف کعبہ کی اجازت نہیں ہوگی کسی غیر مسلم کو مکہ مکرمہ میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ آج کے بعد تمام سودی کاروبار بند کئے جاتے ہیں۔ یہ سب انقلابی مذہب کے انقلابی پروگرام تھے جو غلط پروگرام کی جگہ فی الفور نافذ کردیئے گئے۔ مقصد یہ کہ اگر عقیدہ اسلام کا ہے تو پھر قوانین بھی اسلامی نافذ ہونے چاہئیں جو ہر شعبہ زندگی پر حاوی ہوں۔ ملکی مسائل معاشی ہوں یا معاشرتی ، عبادات ہوں یا رسم و رواج ہر معاملہ میں اسلام سے راہنمائی حاصل کرنا ہوگا۔ آدھا تیتر اور آدھا بٹیر سے کام نہیں چلے گا۔ ہمارے پاس ہر ہر شعبہ کے لئے قوانین موجود ہیں ، ضرورت صرف عمل کی ہے۔ اسلام کی عملداری میں نہ انگریز کی جمہوریت چلے گی ، نہ سوشلزم کی اقتصادیات ہوں گی اور نہ کارل مارکس کی اشتراکیت کا کوئی حصہ ہوگا۔ بلکہ پورے کا پورا نظام نظام اسلامی ہوگا۔ حتیٰ کہ دیوانی اور فوجداری قوانین بھی وہی نافذ ہوں گے جو اسلام نے عطا کئے ہیں حق دار کی حق رسی انہی قوانین کے ذریعے ممکن ہے اور ظالم کو ظلم کا بدلہ یہی قوانین دلا سکتے ہیں۔ یہی وہ قوانین ہیں ، جن کے ذریعے دنیا میں امن وامان قائم ہو سکتا ہے۔ ادخلوا فی السلم کافۃ کا یہی مطلب ہے۔ شیطان کے نقش قدم یہودیوں میں بھی یہی خصلت پائی جاتی ہے کہ وہ بھی اپنی کتاب پر مکمل ایمان نہیں رکھتے تھے۔ کسی حکم کو مانتے تھے اور کسی کا انکار کردیتے تھے۔ جبھی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں جتلایا افتومنون ببعض الکتب وتکفرون ببعض کیا تم کتاب کے کسی حصے کے ساتھ ایمان لاتے ہو اور کسی حصے کو نہیں مانتے۔ یہ تمہارا ایمان کیسا ہے۔ یہ تو سرا سر منافقت ہے۔ اس روش کو چھوڑ کر پورے کے پورے ایمان میں داخل ہو جائو ولا تتبعوا خطوت الشیطن اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ گویا بدعات پر چلنا شیطان کے نقش قدم پر چلنا ہے۔ انہ لکم عدو مبین۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اس کے بہکاوے میں نہ آجانا۔ مطلب یہ کہ جو کوئی دین اسلام کا راستہ چھوڑ کر ہندوانہ رسم و رواج کو اپنائے گا۔ انگریزوں اور اشتراکیوں کا قانون اختیار کرے گا۔ وہ شیطان کے نقش قدم پر چلے گا اور ظاہر ہے کہ دشمن ہمیشہ دشمنی کرتا ہے۔ وہ کبھی خیر خواہی کی بات نہیں کرتا۔ وہ تمہیں پستی کی طرف لے جائے گا۔ شیطان کا تو کام ہی یہ ہے۔ یدعوا حزبہ لیکونوا من اصحب السعیر وہ تو اپنا بڑے سے بڑا گروہ لے کر جہنم کی طرف رواں ہے اور اپنے نقش قدم پر چلنے والوں کو اس کی طرف دعوت دے رہا ہے۔ وعید خداوندی اللہ تعالیٰ نے اسلام کے مکمل نفاذ کی ترغیب دینے کے بعد اس سے روگردانی کرنے والوں کو وعید بھی سنائی ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ فان زللتم من بعد ماجآء تکم البینت اور اگر تم پھسل گئے بعد اس کے کہ تمہارے پاس نشانیاں آگئیں۔ فاعلموا تو یاد رکھو ان اللہ عزیز حکیم بیشک اللہ تعالیٰ زبردست ہے اور حکمت والا ہے وہ کمال قدرت کا مالک ہے اس کی سزا سے بچ نہیں سکتے۔ اس کی حکمت کے مطابق دیر ہو سکتی ہے ۔ مگر گرفت سے بچائو ممکن نہیں۔ وہ تمہارے کئے کا ضرور بدلہ دے گا۔ دوسرے مقام پر فرمایا قد تببین الرشد من الغنی نیکی اور بدی کی واضح نشان دہی ہوچکی اب تمہارا کوئی عذر قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان واضح ہدایت کے بعد نیکی یا بدی کا اختیار کرنا تمہارے بس میں ہے اور اس پر جزا یا سزا دینا اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے ذمہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے احکام نہ ماننے والوں کے متعلق یہ ارشاد ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے وہ کیوں ایمان نہیں لاتے۔ انہیں کس چیز کا انتظار ہے۔ جسے دیکھ کر ایمان لائیں گے۔ ھل ینظرون الا ان یاتیھم اللہ فی ظلل من الغمام والملئکۃ یہ لوگ محض اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ان کے پاس بادلوں کے سائے میں آئیں مطلب یہ کہ منکرین کی خواہش یہ ہے کہ جو چیز قیامت کو ظاہر ہونے والی ہے۔ وہ آج ہی ہوجائے۔ بادلوں کے سائبانوں پر نزول اجلال تو قیامت کے روزہو گا جب اللہ تعالیٰ خود نزول اجلال فرمائیں گے اور سائبان جو ہوں گے۔ وہ نار ، نور اور پانی کے ہوں گے۔ ستر ہزار حجاب میں اللہ تعالیٰ نزول اجلال فرمائے گا۔ اردگرد فرشتے تسبیح پڑھ رہے ہوں گے۔ اس وقت عدالت قائم ہوگی اور اللہ تعالیٰ ہر ایک کا فیصلہ فرمائیں گے۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ یہ سب کچھ آج ہی ہوجائے۔ بھلا قبل از وقت یہ کیسے ممکن ہے۔ دوسری جگہ فرمایا ” فبای حدیث بعدہ یومنون “ قرآن پاک اللہ کی آخری کتاب ہے ، اس کے آجانے کے بعد یہ اور کس کتاب کے منتظر ہیں ۔ جس پر ایمان لائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر خاتم النبین تشریف لا چکے۔ اب ان کی راہنمائی کے لئے اور کون سا نبی آئے گا۔ جس کا یہ لوگ انتظار کر رہے ہیں اب کوئی شریعت ، کوئی پروگرام نہیں جو باقی ہے اور جس کا انتظار کیا جائے۔ الغرض فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا بادلوں کے سائبانوں میں نزول اجلال تو قیامت کے روز ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی تجلی ستر ہزار پردوں کے اندر ظاہر ہوگی۔ کائنات کی ہر چیز درہم برہم ہوجائے گی۔ اور سخت ناراضگی کا ظہور ہوگا۔ چناچہ اس وقت وقضی الامر فیصلہ کردیا جائے گا مگر یاد رکھو والی اللہ ترجع الامور تمام کام اللہ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا قانون اٹل ہے۔ اس کا مقرر کردہ ہر کام وقت پر ہوگا۔ اسی کے قانون کے مطابق انسانوں کو اس دنیا پر مہلت دی جاتی ہے۔ مگر آخری فیصلہ اور نزول اجلال قیامت کے روز ہی ہوں گے۔ یہ چیزیں قبل از وقت وقوع پذیر نہیں ہوں گی۔
Ayahs 2:211–212

سَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ كَمْ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ اٰیَةٍۭ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 2:211 in the Quran reader

آپ بنی اسرائیل سے پوچھیں کہ ہم نے ان کو کتنی واضح نشانیاں دیں اور جو کوئی اللہ کی نعمت کو تبدیل کرے گا۔ اس کے بعد کہ وہ نعمت اس کے پاس پہنچ چکی۔ پس بیشک اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔

زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ یَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۘ وَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 2:212 in the Quran reader

مزین کی گئی ہے ۔ دنیا کی زندگی ان لوگوں کے لئے جنہوں نے کفر کیا اور وہ ٹھٹھا کرتے ہیں ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائے اور وہ لوگ جو ڈرتے رہے۔ وہ ان کے اوپر (بلند) ہوں گے قیامت کے دن اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے بغیر حساب کے روزی دیتا ہے۔

واضح نشانیاں گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے متنبہ کیا تھا۔ کہ اس کے واضح احکامات آجانے کے بعد ان کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہئے۔ بلکہ احکام الٰہی کی تعمیل ہونی چاہئے واضح نشانات کے بعد بھی اگر کوئی شخص پھسل جائے۔ تو وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آسکتا ہے۔ اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے بطور مثال ارشاد فرمایا ہے۔ سل بنی اسرآئیل ، آپی ذرا بنی اسرائیل سے دریافت تو کریں کم اتینھم من ایۃ بینہ ہم نے ان کو کتنی واضح نشانیاں عطا کیں۔ واضح یا کھلی نشانیوں میں تعلیم بھی آتی ہے۔ اور معجزات بھی آتے ہیں۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے توسط سے تمہیں کس قدر واضح معجزات عطا کئے۔ ان کی تفصیل پہلے آ چکی ہے منجملہ ان کے ابر کا سایہ کرنا پتھروں سے بارہ چشمے جاری کر کے بنی اسرائیل کو سیراب کرنا ، ان کے لئے من وسلویٰ کی خوراک مہیا کرنا ، دشمن کو آنکھوں کے سامنے ہلاک کرنا ، بنی اسرائیل کے لئے سمندر میں راستے بنا دینا وغیرہ وغیرہ ایسے واضح نشان اور معجزات ہیں جو بنی اسرائیل کو عطا کئے گئے ۔ مگر اس کے باوجود انہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکامات کا انکار کیا اور پے در پے غلطیاں اور کوتاہیاں کیں جن کا ذکر اس سورة مبارکہ میں آ چکا ہے اور جن کی تعداد کم و بیش چالیس ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر بار معاف فرمایا۔ بنی اسرائیل بہت بڑی قوم تھی۔ دنیا میں جاہ و وقار کی مالک تھی۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کو اللہ نے علم و حکمت اور بادشاہی عطا کی۔ تمام دنیوی نعمتوں سے مالا مال کیا مگر اس کے باوجود جب ان کی سرکشی حد سے تجاوز کرگئی تو اللہ تعالیٰ نے ذلیل و خوار کر کے عذاب میں مبتلا کردیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے۔ ومن یتبدل نعمۃ اللہ من بعد ما جآء تہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کے پہنچ جانے کے بعد جو اسے بدل ڈالے فان اللہ شدید العقاب تو اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔ انبیاء نعمت الٰہی ہیں انبیاء (علیہم السلام) کا وجود بھی خدا تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہوتا ہے۔ اور عام لوگوں کے لئے معیار اور نمونہ ہوتا ہے۔ جسے دیکھ کر لوگ اپنے ظاہر و باطن کو درست کرسکتے ہیں۔ انبیاء کا وجود انسانوں کے لئے ایک بہت بڑی نعمت ہے چناچہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو اسی نعمت سے تعبیر کیا ہے۔ ” الم تر الی الذین بدلوا نعمۃ اللہ کفراً کیا تم نے مشرکین عرب کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کے ساتھ کفر کیا۔ اس نعمت سے مراد حضور پاک ﷺ کی ذات مبارکہ ہے۔ آپ پر ایمان لانے اور آپ کا اسوہ اختیار کرنے سے اعراض کیا۔ لہٰذا خود بھی جہنم میں گئے اور قوم کو بھی جہنم رسید کیا۔ علم اور عمل انسان کے لئے لازمی چیزیں ہیں۔ ان کے بغیر کامیابی ممکن نہیں علم اللہ تعالیٰ کی جانب سے بذریعہ وحی حاصل ہوتا ہے اور عمل انبیاء سے ملتا ہے۔ انبیاء معیار ہوتے ہیں انہیں دیکھ کر اعمال درست کئے جاتے ہیں۔ قرآن پاک نے فرمایا لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ اللہ کے رسول تمہارے لئے اسوہ حسنہ ہیں۔ زندگی کے ہر موڑ پر اس اسوہ کی ضرورت ہے۔ خوشی کا موقع ہو یا غمی کا ، صلح کی حالت ہو یا جنگ کی ، نبی کی ذات ہر حالت میں نمونہ ہوتی ہے اور یہ بہت بڑی نعمت ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو تبدیل کرے گا۔ تو اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے ایسے شخص کو اپنا انجام دیکھ لینا چاہئے۔ انعامات کی ناقدری جس طرح پیغمبر (علیہ السلام) کی ذات بابرکات انعام خداوندی ہے۔ اسی طرح قرآن پاک بھی اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے مگر افسوس کہ مسلمانوں نے اس نعمت کی بھی قدر نہیں کی۔ آپ ہر خطبہ میں سنتے ہیں خیر الکلام کلام اللہ تمام کلاموں سے بہتر اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ وخیر الھدی مدی محمد صلی اللہ لعیہ وسلم اور بہترین طریقہ حضور ﷺ کا طریقہ ہے۔ مگر آج کون ہے۔ جو ان دونوں انعامات سے مستفید ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں ہمارے لئے راہ ہدایت ہیں۔ مگر جب کسی خوشی غمی ، قومی و ملکی ، سیاسی و معاشرتی معاملات میں راہنمائی کی ضرورت پیش آتی ہے ، تو ان سے راہنمائی حاصل کرنے کی بجائے رسم و رواج کا سہارا لیتے ہیں۔ یا دوسرے غیر اسلام ازموں کی طرف دیکھتے ہیں۔ کیا یہ انعامات کی ناقدری نہیں۔ گزشتہ چوبیس سال میں ہمارے پاس صرف ایک آدمی آیا ہے جس نے طلاق کے مسئلہ میں صحیح راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی ہے کہنے لگا کہ ہمارے بچے اور بیوی میں تنازعہ ہے۔ دو سال سے مصالحت کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر کامیابی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ نوبت طلاق تک پہنچ چکی ہے۔ لہٰذا آپ ہمیں طلاق کا شرعی طریقہ بتائیں تاکہ ہم عند اللہ ماخوذ نہ ہوں اس ایک کیس کے علاوہ ہمیشہ یوں ہوا ہے کہ از خود تین طلاقیں دے دیں اس کے بعد جب ندامت ہوئی تو ہمارے پاس آگئے کہ جلد ی میں طلاق دیدی ہے۔ اب کوئی ایسا طریقہ بتائیں جس سے مطلقہ دوبارہ حلال ہوجائے۔ اللہ کے بندو ! بغیر سوچے سمجھے ، بغیر مسئلہ دریافت کئے ایسا کام کیوں کرتے ہو ، جسے خود تمہیں تکلیف ہو اور جو تمہارے والدین اور پورے خاندان کے لئے باعث اذیت ہو چاروں مذاہب میں تیسری طلاق کے بعد بیوی حرام ہوجاتی ہے۔ اگر زبردستی حلال کرنے کی کوشش کرو گے ، تو حلال نہیں ہوگی۔ اولاد بھی مشکوک اور حرام ہوگی۔ پھر جا کر شیعوں اور اہل حدیثوں سے مسئلہ دریافت کرتے ہیں۔ کہ کسی طرح حلت کا فتویٰ مل جائے۔ یہ سب انعامات خداوندی کی ناقدری ہے۔ اس نعمت کو بروقت استعمال کرنا چاہئے اور شیطان کے نقش قدم پر نہیں چلنا چاہئے۔ جس قوم کے پاس قرآن و حدیث جیسی نعمت موجود ہو اسے کس چیز کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے ؟ کبھی امریکہ کی طرف دوڑتے ہیں۔ کبھی برطانیہ اور فرانس کی طرف دیکھتے ہیں کہ ہمیں سکیم دو ۔ کوئی ایڈوائزر بھیجو جو ہماری راہنمائی کریں یہ کس قدر کفران نعمت کی بات ہے فکر اور عقیدہ فاسد ہے۔ جس کی وجہ سے راہ راست میسر نہیں آ رہا ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو تبدیل کرے گا۔ تو اللہ تعالیٰ خود سخت سزا دینے والا ہے۔ اس کی نعمتوں سے روگردانی کر کے ، قرآن و سنت کا دامن چھوڑ کر عزت کہاں نصیب ہو سکتی ہے ۔ ایسی صورت میں تو عذاب و سزا کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ اپنے اردگرد نظر مار کر دیکھ لیں ، کوئی قوم سلطنت کے چھ جانے کے عذاب میں مبتلا ہے کہیں بدعات اور رسوم باطلہ کا دور دورہ ہے۔ محتاجی ہے۔ دین محبوس ہوگیا ہے ۔ نیکی سے محرومی ہے۔ بدی کا چرچا ہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناقدری کی سزا ہے۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ، جس باویہ میں جس کنوئیں پر تین آدمی موجود ہوں اور وہ نماز با جماعت ادا نہ کریں۔ استخوذ علیھم الشیطن ان پر شیطان قابو پا لیتا ہے۔ مقصد یہ کہ جب بھی کوئی قوم اسلام کے خلاف چلے گی ، اس پر شیطان قابو پا لے گا۔ اور یہی عذاب ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کے انعامات کی قدر کرنا چاہئے۔ بنی اسرائیل نے ان نعمتوں کی قدر نہ کی ، معجزات کو ٹھکرایا ، نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آئے اپنی سازشی ، تخریبی اور گندی ذہنیت کی بناء پر بدترین قوم بن کر رہ گئے۔ اسی طرح جو بھی قوم اللہ تعالیٰ کے انعامات کی ناقدری کریگی ذلیل و خوار ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے آخری نبی کو مبعوث فرمایا۔ آپ کے ساتھ ایک معیاری جماعت کو پیدا کیا ، خلفائے راشدین اور دیگر صحابہ کرام آنے والی نسلوں کے لئے نمونہ تھے۔ ان کی پیروی کرنے والے دنیا اور آخرت میں سرخرو ہوئے۔ دنیا میں عروج حاصل ہوا فتوحات نصیب ہوئیں اور آخرت میں بھی بہترین اجر وثواب کے مستحق ہوئے۔ حب دنیا اس کے بعد دنیا کی حقیقت کو واضح فرمایا کہ کفار کے نزدیک دنیا کی کیا حیثیت ہے اور اہل ایمان کی حالت دنیا میں کیا ہے اور آخرت میں ان کے لئے کون سے انعامات تیار کئے گئے ہیں۔ فرمایا زین للذین کفروالحیوۃ الدنیا جن لوگوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا ، ان کے لئے دنیا کی زندگی مزین کی گئی ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جو سارے شر و فساد کی جڑ ہے۔ جب کوئی شخص دنیا کی محبت میں اس قدر غرق ہوجائے کہ صرف اسی کو اپنا مقصد حیات بنا لے تو پھر طرح طرح کی خرابیاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔ دوسروں کی حق تلفی ، قتل و غارت ، عیش و عشرت یہ سب دنیا سے غیر معمولی محبت کا ثمرہ ہے۔ حضور لعیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے۔ حب الدنیا راس کل خطیئۃ دنیا کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے۔ محبت سے مراد ایسی محبت ہے۔ جس سے آخرت بھی فراموش ہوجائے۔ دین ختم ہوجائے عبادت رہ جائے خدا پرستی کے طور طریقے ناپید ہوجائیں اور حالت یہ ہوجائے کہ یعلمون ظاھراً من الحیوۃ الدنیا وہ دنیا کی تمام ظاہری چیزوں کو جانتے ہیں وھم عن الاخرۃ غفلون مگر آخرت کے بارے میں بالکل غافل ہیں ، کچھ نہیں جانتے بظاہر بڑے عقل و دانش کے مالک ہیں۔ مگر معاد کے متعلق ذرہ بھر بصیرت نہیں رکھتے۔ اسی کا نام گمراہی ہے انسان جس قدر دنیوی محبت میں گرفتار ہوگا نیکی سے دور ہوتا چلا جائے گا۔ اسی کے متعلق فرمایا کہ کافروں کے لئے دنیا کی زندگی کو مزین کیا گیا ہے۔ اہل ایمان سے ٹھٹھا فرمایا جو لوگ دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں۔ ان کی ایک قبیح حرکت یہ ہے کہ ویسخرون من الذین امنوا وہ اہل ایمان کو تمسخر کا نشانہ بناتے ہیں۔ ایمان والوں کو ظاہری کمزوری ، ان کا فقر و فاقہ دنیا داروں کے لئے ٹھٹا بن جاتا ہے ان پر آوازے کستے ہیں۔ دوسری جگہ فرمایا واذا مروابھم یتغامزون کافر لوگ غریب مسلمانوں کو دیکھ کر اشارے کرتے ہیں کہ دیکھو یہ جنت کے وارث جا رہے ہیں۔ پھٹے پرانے کپڑے ، نہ زمین نہ باغات ، نہ رہنے کو مکان ، مگر دعویٰ جنت کا ہے۔ ظاہر ہے کہ جن کے دل میں محض دنیا کی محبت گھر کرچکی ہے۔ ان کے لئے دنیا کے لوازمات اور آسائش ہی معیار ہے۔ ان کے نزدیک ایسا شخص حقیر ہے جس کے پاس دنیا کا مال و دولت نہیں ہے اور اس ساری خرابی کی بنیادی وجہ یہی ہے۔ اہل تقویٰ فرمایا اہل دنیا کے برخلاف والذین اتقوا جو لوگ اہل تقویٰ ہیں جو دنیا سے بےرغبت اور آخرت پر نظر رکھتے ہیں۔ فوقھم یوم القیمۃ وہ قیامت کے دن اہل دنیا سے بلند تر درجات پر فائز ہوں گے۔ تقویٰ ، کفر شرک اور معصیت سے پرہیز گاری کا نام ہے یعنی التقویٰ عن الشرک والکفر والنفاق والعصیان غرضیکہ عقائد و اعمال کی ہر برائی سے بچ جانا ہی تقویٰ ہے شیخ عبدالقادر جیلانی آیت پاک ” ان اللہ یامر بالعدل والاحسان “ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ متقی وہ لوگ ہیں جو عدل و انصاف پر قائم ہیں اور جو لوگ ظالم ہیں ، عدل و انصاف سے عاری ہیں۔ وہ متقی نہیں ہو سکتے۔ الغرض ! فرمایا کہ دنیا میں تو یہ لوگ اہل ایمان سے ٹھٹھا کرتے ہیں۔ مگر قیامت کے دن اہل ایمان ان سے بالا ہوں گے۔ حضرت علی کی روایت میں آتا ہے کہ جو شخص کسی مومن سے اس کی ناداری کی بناء پر پٹھا کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایسے شخص کو تمام اولین اور آخرین کے سامنے ذلیل و رسوا کرے گا جو کوئی شخص کسی مومن پر ایسا عیب لگاتا ہے جو اس میں نہیں پایا جاتا تو قیامت کے روز عیب لگانے والے کو آگ کے ٹیلے پر کھڑا کیا جائیگا اور کہا جائے گا کہ سب کے سامنے خود اپنی تکذیب کرو۔ میں نے اس پر جھوٹ کہا تھا۔ درحقیقت اس مرد مومن میں یہ عیب نہیں پایا جاتا تھا۔ آج تو یہ لوگ طرح طرح کے مذاق کرتے ہیں ، عیب جوئی کرتے ہیں اور بہتان لگاتے ہیں۔ مگر انہیں قیامت کے دن پتہ چلے گا۔ جب دنیوی زندگی میں کمزور ناتواں مومن ان پر حاوی ہوں گے اور بلند مراتب پر فائز ہوں گے۔ یہ مقام انہیں تقویٰ کی وجہ سے حاصل ہوگا۔ قرآن پاک میں متقین کا ذکر بار بار ہے۔ جیسے ھدی للمتقین سورة بقرہ کی ابتداء میں ہے۔ کہ یہ قرآن پاک ، یہ ہدایت متقیوں کے لئے ہے۔ دوسری جگہ فرمایا اولئک الذین صدقوا واولئک ھم المتقون یعنی جن لوگوں کا ایمان اعمال اور اخلاق اچھا ہے۔ جن میں تہذیب نفس پایا جاتا ہے۔ وہی لوگ سچے ہیں اور ایسے ہی لوگ متقی ہیں۔ دوسری بات یہ کہ دنیا میں اگر ظاہری اسباب کے لحاظ سے کوئی شخص نادار اور کمزور ہے تو اس کو حقیر نہیں سمجھنا چاہئے کیونکہ مدار کا ر دولت مندی اور ناداری نہیں ، بلکہ ایمان ، تقویٰ اور نیکی ہے۔ کیونکہ ” ان اکرمکم عند اللہ اتقکم “ اللہ کے نزدیک قدر و منزلت کا معیار تقویٰ ہے۔ ایک مزدور بڑی محنت و مشقت سے اپنی روزی کماتا ہے۔ اس کا عقیدہ بھی درست ہے۔ فرائض کو ادا کرتا ہے ، تو ایک بڑے سے بڑا دولت مند اس کے خاک پا کے برابر بھی نہیں ۔ چہ جائیکہ ایک مالدار ایک مزدور کو حقیر سمجھے۔ یہ تو باعث لعنت ہے۔ ایسا شخص عذاب کا مستحق ہے۔ رزق کی فراوانی فرمایا واللہ یرزق من یشآء بغیر حساب اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق دیتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ رقز کی فراوانی اللہ تعالیٰ کے مقرب ہونے کی دلیل نہیں اور نہ ہی یہ اللہ کی رضا کا معیار ہے۔ رزق کا بست و کشاد مالک الملک کی مصلحت پر موقوف ہے۔ اللہ یبسط الرزق لمن یشآء و یقدر “ اللہ تعالیٰ جس کا چاہے رزق فراخ کردیتا ہے اور جس کا چاہے تنگ کردیتا ہے۔ اس کی مصلحت کو انسان نہیں جان سکتا۔ یہ اس کا اپنا پروگرام ہے۔ چاہے تو کافر دنیا میں دندناتے پھریں اور مومن کمزور محض ہو کر رہ جائے۔ مگر یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر نافرمان دنیا میں خوشحال ہوا اور ہر مومن تنگ دست ہو ۔ بلکہ کلا نمد۔ ھولآء وہ سب کو دیتا ہے مومن کو بھی ، کافر کو بھی مگر حقیقی کمال یہ ہے کہ حضور ﷺ کے صحابہ کرام اور سلف صالحین کو بلندی کیسے نصیب ہوئی ہے۔ یہ چیز صرف اور صرف تقویٰ کی بنا پر حاصل ہوتی ہے۔ مال کے تین مصرف حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) کا ارشاد گرامی ہے کہ اے ابن آدم تیری زبان میرا مال میرا مال کہتے نہیں تھکتی تو ہمیشہ مالی مالی کہتا رہتا ہے کبھی میری دکان کبھی میری زمین ، میرا کاروبار ، میرا باغ تیرے ورد زبان رہتا ہے۔ حالانکہ ھل مالک الامآ اکلت تیرا مال وہ ہے جو تو نے کھالیا۔ اولبست یا تو نے پہن لیا اور بوسیدہ کرلیا اور قدمت یا آگے بھیج دیا ۔ اس کے علاوہ تیرا اور کوئی مال نہیں ہے۔ حضور ﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے۔ الدنیا دار … من لا رارلہ یعنی دنیا تو اس شخص کا گھر ہے جس کا کوئی گھر نہ ہو۔ اس کا مال ہے ، جس کا مال نہ ہو ، اور صرف دنیا کی خاطر وہی انسان جمع کرتا ہے۔ جس کی عقل نہ ہو۔ کیونکہ صاحب عقل آخرت کی بھی فکر کرے گا۔ ایمان دار کو یہ فکر دامن گیر ہوگی کہ آخرت کا سامان ہوجائے ۔ وہاں پہنچ کر کہیں خالی ہاتھ نہ رہ جائیں۔ کیونکہ بعد میں وہاں کون لے کر آئیگا۔ لہٰذا آخرت کے لئے توشہ پہلے ہی بھیج دے۔ کس نیارد نہ پس تو پیش فرست الغرض ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ جسے چاہتا ہے۔ بغیر حساب کے روزی عطا کردیتا ہے اور کمال مدار ایمان اور تقویٰ ہے۔ سلف صالحین کو اسی چیز سے عروج حاصل ہوا۔ کافر لوگ حب دنیا کی وجہ سے اہل ایمان سے ٹھٹا کرتے ہیں حالانکہ یہی چیز خرابی کی اصل جڑ ہے۔ دنیا کو استعمال کرنے کی ممانعت نہیں ہے مگر اس کو معبود بنا کر اس کی پرستش شروع کردینا اور اس کی وجہ سے فرائض اور امور آخرت سے غافل ہوجانا باعث وبال ہے۔
Ayah 2:213

كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً١۫ فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١۪ وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْهِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْهُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ۚ فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:213 in the Quran reader

سب لوگ ایک ہی امت (دین ملت) پر تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے نبی بھیجے۔ خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے اور ان نبیوں کے ساتھ سچی کتاب اتاری ، تاکہ وہ لوگوں کے درمیان اس بات میں فیصلہ کریں ، جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں اور نہیں اختلاف کیا اس میں مگر ان لوگوں نے جنہیں کتاب دی گئی بعد اس کے کہ ان کے پاس واضح باتیں آ چکی تھیں (یہ اختلاف کیا انہوں نے ) آپس میں سرکشی کرتے ہوئے پس اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ہدایت دی اپنے حکم سے جو ایمان لائے اس بات میں جس میں وہ اختلاف کرتے تھے حق سے ، اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہے سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے۔

گزشتہ سے پیوستہ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی تھی کہ جو شخص نعمت الٰہی کے حصول کے بعد اس کی تکذیب کرتا ہے ، وہ سزا کا مستحق ہوتا ہے۔ اللہ جل جلالہ ، نے بنی اسرائیل کا بطور مثال ذکر فرمایا کہ ہم نے انہیں بہت سی نعمتوں سے نوازا مگر اس قوم نے ناشکر گزاری کی اور طرح طرح کی مصیبتوں میں گرفتار ہوئی۔ گویا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنی۔ گزشتہ درس میں یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ فتنہ و فساد کی اصل جڑ حب دنیا ہے۔ دنیا کی محبت میں گرفتار کفار اہل ایمان سے ٹھٹا کرتے ہیں اور ان کو حقیر جانتے ہیں۔ حالانکہ کامیابی کا اصل دار و مدار مال و دولت پر نہیں بلکہ تقویٰ و پرہیز گاری پر ہے۔ اہل تقویٰ قیامت کے دن اہل دنیا پر برتری حاصل کرلیں گے۔ امت واحدہ آیت زیر درس میں اللہ تعالیٰ نے دین و ملت کی وحدت کا تذکرہ فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے کان الناس امۃ واحدۃ سب لوگ ایک ہی ملت پر تھے ، ملت اس جماعت کو کہتے ہیں ، جس کے افراد کے افکار و خیالات ایک جیسے ہوں۔ ملت حق بھی ہوتی ہے اور ملت باطل بھی۔ مگر اس آیت میں جس ملت کا ذکر ہو رہا ہے اس سے مراد ملت حق ہے۔ تمام لوگ ایک ہی ملت پر کب تھے۔ اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس کا تعلق عالم ارواح سے ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح کو حاضر کر کے ان سے سوال کیا تھا۔ الست بربکم “ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ تو سب نے یک زبان ہو کر کہا تھا۔ ” قالوا بلی “ اے مولا کریم ! کیوں نہیں ، تو ہی ہمارا رب ہے۔ اس وقت تمام لوگ امت واحدہ تھے یعنی ایک ہی ملت پر قائم تھے۔ اس قسم کے اشارات سورة اعراف اور بعض دوسری سورتوں میں بھی ملتے ہیں مقصد یہ کہ اس وقت تمام روحوں نے ملت واحدہ پر ہونے کا اقرار کیا تھا تو اس دنیا میں اس سے انکار کی کیا وجہ ہے۔ یہ تو بڑی ناانصافی کی بات ہے۔ اس ضمن میں مشہور تر تشریح جو اکثر مفسرین کرام نے بیان فرمائی ہے۔ وہ یہ ہے کہ ملت واحدہ کا زمانہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت ادریس (علیہ السلام) تک کا ہے اس عرصہ میں تمام لوگ ایک ہی امت تھے اور وہ ملت واحدہ پر قائم تھے۔ ان کا دین بعینہ وہی تھا جو حضرت آدم (علیہ السلام) کا تھا۔ ان میں کوئی اختلاف نہ تھا۔ اس کے بعد اختلافات پیدا ہونے لگے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے تک ان کا دائرہ بہت وسیع ہوگیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے زمانے میں لوگوں کی وسیع پیمانے پر تطہیر ہوئی ان کی اکثریت ہلاک ہوئی اور صرف گنتی کے وہ افراد بچ گئے جو دین حق پر قائم تھے۔ کہ کشتی میں سوار ہو کر بچ جانے والوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی اور بیٹا تک شامل نہیں تھے ، کیونکہ وہ دین حق سے رو گردانی کرچکے تھے۔ کشتی کے ذریعے ہلاکت سے محفوظ رہنے والے لوگ کافی عرصہ تک دین توحید اور ایمان خالص پر کار بند رہے۔ حتیٰ کہ ایک زمانہ ایسا آیا ، جب اختلاف نے پھر زور پکڑ لیا اور امت میں غلط ملط عقیدے پیدا ہوگئے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ امت واحدہ کا زمانہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد کا زمانہ ہے۔ آپ کے بعد ڈیڑھ ہزار سال تک لوگ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کے سچے دین پر قائم رہے۔ تان کہ حضور نبی کریم ﷺ کی بعثت مبارکہ سے تقریباً ساڑھے چار سو سال پہلے عمرو بن لحی جسے عمرو ابن قمیہ بھی کہتے ہیں۔ اس نے عربوں میں بت پرستی کو رواج دیا۔ اس کے بعد چند صدیوں میں بت پرستی کو اس قدر عروج حاصل ہوا کہ اللہ کا پاک گھر بیت اللہ شریف بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکا جب نبی کریم نے مکہ کو فتح کیا تو اس پاک گھر کو بتوں سے پاک کیا اور پھر حضور ﷺ کی حیات مبارکہ ہی میں عرب کا ہر حصہ کفر و شرک کی نجاست سے پاک ہوگیا۔ یہ سب تفسیریں ملتی ہیں ۔ مگر زیادہ مشہور تفسیر وہ ہے۔ جس میں حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت ادریس (علیہ السلام) تک کا زمانہ بیان کیا جاتا ہے۔ بعثت انبیاء امت واحدہ کے تذکرے کے بعد فرمایا فبعث اللہ النبین پس اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو مبعوث فرمایا۔ اب آیت کے ان دونوں حصوں کا ترجمہ یوں ہوگا کہ تمام لوگ ایک ہی ملت پر تھے ، پھر اللہ نے انبیاء کو مبعوث فرمایا۔ یہاں پر اشکال پیا ہوتا ہے کہ ملت کا دین حق سرکار بند ہونا بعثت کی علت نہیں بنتا۔ اس سلسلہ میں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ آیت کے ان دو جملوں کے درمیان لفظ فاختلفوا محذوف ہے اس لفظ کو درمیان میں لانے سے اشکال دور ہوجائے گا کیونکہ اب پورا جملہ اس طرح ہوگا کہ سب لوگ ایک ہی دین حق پر تھے پھر ان میں اختلاف پیا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو وقتاً فوقتاً مبعوث فرمایا ۔ جب لوگ اختلاف کی بنا پر دین سے ہٹ جاتے تھے تو اصل دین کی نشاندہی کے لئے انبیاء کو بھیجا گیا۔ وہ لوگوں کو بتاتے تھے کہ تم اصل دین سے ہٹ چکے ہو ، صحیح راستہ یہ ہے ، اس کی طرف آئو۔ اس بات کی مزید وضاحت سورة انبیاء میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام ابنیاء (علیہم السلام) سے فرمایا ” ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ وانا ربکم “ اے گروہ انبیاء تم سب کی ایک ہی جماعت ہو جو سچا دین بتلانے والی ہے اور میں تم سب کا رب ہوں۔ شب معراج میں جب نبی کریم ﷺ نے تمام انبیاء سے دریافت فرمایا کہ آپ کی بعثت کا مقصد کیا ہے۔ تو سب نے یہی جواب دیا۔ بعثنا بالتوحید ہمیں توحید کی اشاعت کے لئے بھیجا گیا ہے تاکہ لوگوں کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرسکیں۔ فرمایا ان تمام انبیاء کی ایک صفت یہ ہے مبشرین کہ یہ مبشرین ہیں۔ ایمان اور نیکی کا راستہ اختیار کرنے والوں کو جنت کی خوش خبری دیتے ہیں۔ انہیں بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں تم اعلیٰ مقام پر فائز کئے جائو گے۔ خدا تعالیٰ تم پر راضی ہوگا اور پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آرام و سکون حاصل ہوجائے گا برخلاف اس کے جو لوگ کفر شرک اور معصیت کا راستہ پکڑیں گے۔ ان کے لئے یہی پیغمبر منذرین ہیں ان کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کے دوزخ کے عذاب سے ڈراتے ہیں سورة مدثر میں اللہ تعالیٰ نے یہی حکم حضور خاتم النبین کو دیا قم فانذر ، آپ کھڑے ہوجائیں اور ان کفار و مشرکین کو ان کے برے انجام سے ڈرائیں ۔ ان کو اچھی طرح خبردار کردیں تاکہ کل کو یہ عذر پیش نہ کرسکیں کہ ہمارے پاس کوئی بشیر یا نذیر نہیں آیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو بھیج کر یہ حجت پوری کردی ہے۔ ” لئلایکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل “ انبیاء کے آنے کے بعد یہ عذر باقی نہیں رہا کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا نہیں۔ نبی کا فرض منصبی ہی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام امت تک پہنچا دے۔ علم عقائد والوں نے نبی کی تعریف یوں کی ہے۔ ھو انسان بعثہ اللہ لتبلیغ مآ اوحہ اللہ الیہ۔ یعنی نبی ایک انسان ہوتا ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ شرعی احکام کی تبلیغ کے لئے مبعوث فرماتا ہے۔ مطلب یہ کہ چونکہ تبلیغ انسانوں کو کرنا مقصود ہوتی ہے۔ لہٰذا نبی بھی انسانوں میں سے بھیجا جاتا ہے کوئی فرشتہ یا کسی دوسری نوع سے نہیں ہوتا۔ تاہم نبی کا یہ بہت بڑا اعزاز ہے کہ اللہ تعالیٰ نزول وحی کے لئے اسے منتخب فرماتا ہے۔ نبی معصوم عن الخطا یعنی خطائوں سے پاک ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ خود اس کی حفاظت کرتا ہے۔ کتب سماویہ فرمایا انبیاء کی بعثت کے علاوہ وانزل معھم الکتب بالحق ان کے ساتھ سچی کتاب بھی نازل فرمائی۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی اور پیغمبر بھیجے اور ایک سو چار کتابیں نازل فرمائیں ان میں چار بڑی کتابیں ہیں۔ زبور ، تورات ، انجیل اور قرآن پاک اور ایک سو چھوٹے چھوٹے صحیفے ہیں جو مختلف انبیاء پر نازل وئے۔ تاہم تمام کتب سماویہ کا موضوع ایک ہی تھا یعنی سچے دین کی تبلیغ اور لوگوں کو ان کی غلطیوں پر آگاہ کرنا ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات اتاری اور پھر آپ کے پیچھے آنے والے کئی ہزار پیغمبر اس کی اتباع و تبلیغ کرتے رہے۔ انبیاء کے ساتھ کتابوں کے نزول کی وجہ یہ ہے کہ بنی تو انسان ہوتا ہے ، جسے دوام حاصل نہیں۔ لہٰذا جب نبی اپنا کام ختم کر کے اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے تو اس کے بعد اس کی لائی ہوئی کتاب آنے والی نسلوں کی راہنمائی کرتی رہتی ہے۔ نبی کالا یا ہوا علم اور اس کی شریعت کتاب کی صورت میں موجود رہتا ہے۔ فرمایا انبیاء کے ساتھ کتابیں نازل کرنے کا مقصد یہ ہے لیحکم بین الناس فیما اختلفوا فیہ تاکہ وہ لوگوں کے درمیان اس بات کا فیصلہ کریں جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ یدگر کتب سماویہ کی طرح قرآن پاک کے نزول کا مقصد بھی یہی بیان کیا گیا ہے۔ ” لتحکم بین الناس بما ارئک اللہ جو چیز اللہ تعالیٰ نے آپ کو سمجھائی ہے ، اس کے مطابق فیصلہ کریں ۔ گویا نبی کتاب کے ذریعے اللہ کی وحی کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔ وجہ اختلاف آگیا اس امر کی وضاحت کی جا رہی ہے کہ اہل کتاب میں اختلاف کسی غلط فہمی کی بنا پر نہیں ہوا تھا۔ بلکہ یہ احکام الٰہی سے بغاوت اور سرکشی کی وجہ سے تھا۔ ارشاد ہوتا ہے وما اختلف فیہ الا الذین اوتوہ من بعد ما جآء تھم البینت بغیاً بینھم اور اس میں صرف انہی لوگوں نے اختلاف ہوئے اور اس کی وجہ ان کی خود غرضی ، ضد اور حسد تھا۔ جیسا کہ یہود … کے متعلق پہلے بھی آ چکا ہے۔ یعرفونہ کما یعرفون ابنآء ھم یہ لوگ حضور خاتم النبین ﷺ کو اپنی اولاد کی طرح پہچانتے تھے۔ مگر آپ سے اختلاف کی وجہ ” حسداً من عند انفسھم “ محص حسد تھا کہ نبوت بنو اسماعیل میں کیوں منتقل ہوگئی ہے۔ یہ لوگ اپنی برتری کو قائم و دائم دیکھنا چاہتے تھے اور کسی صورت اقتدار کو ہاتھ سے جانے نہ دینا چاہتے تھے مگر یہ تو مشیت ایزدی تھی کہ ختم نبوت کا تاج حضور خاتم النبین ﷺ کے سر پر رکھا گیا۔ حدیث شریف میں موجود ہے کہ قیصر روم نے زبان سے اقرار کیا تھا کہ حضور نبی کریم ﷺ کے آخری نبی ہیں جن کا ذکر سابقہ کتابوں میں موجود ہے مگر وہ ایمان کی دولت سے محض اس لئے محروم رہا کہ اس کی زد اس کے جاہ و مال اور حکومت و اقتدار پر پڑتی تھی۔ ایمان لا کر وہ اپنی بادشاہت اور مطلق العنانی کو قائم نہیں رکھ سکتا تھا۔ لہٰذا وہ کفر پر اڑا رہا۔ مقصد یہ کہ حق سے اختلاف کی وجہ اکثر و بیشتر حسد ، بغض ، عناد ، خود غرضی وغیرہ ہی ہوتی ہے۔ اگرچہ بعض اوقات غلط فہمی کی بنا پر بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ مگر یہ شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ اصل وجہ اختلاف وہی ہے جس کی نشاندہی کردی گئی ہے۔ اس ضمن میں یہود و نصریٰ کی واضح مثالیں موجود ہیں۔ حق و باطل میں تمیز کفر و شرک ، بغض و حسد ، اور حب مال و جاہ کے اندھیروں میں کہیں کہیں شمع ہدایت بھی نظر آتی ہے۔ اور یہ مالک الملک کا خاص کرم ہوتا ہے فھدی اللہ الذین امنوا لما اختلفوا فیہ من الحق باذنہ ط پس اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اپنے حکم سے حق سے مختلف فیہ امور میں ہدایت بخشی۔ اختلافی معاملات میں ہدایت کی تلاش حضور نبی کریم رئوف الرحیم ﷺ کا ہمیشہ طرہ امتیاز رہا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ حضور ﷺ نوافل کے دوران سجدے کی حالت میں دعا فرماتے تھے اللھم فاطر السموت والارض عالم الغیب والشھادۃ انت تحکم بین عبادک فیما کانوا فیہ یختلفون اھدنی لما اختلف فیہ من الحق باذنک انک تھدی من تشآء الی صراط مستقیم اے خالق ارض و سماء اے عالم ظاہر و اطن ! تو ہی مختلف فیہ امور میں اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہے ۔ حق سے اختلافی معاملات میں اپنے حکم سے میری راہنمائی فرما۔ تو جسے چاہتا ہے ، راہ راست کی طرف راہنمائی فرماتا ہے۔ ایک دعا میں یہ الفاظ بھی منقول ہیں اللھم اریا الحق حقاً اے اللہ ! ہمیں حق بات سچ کر کے دکھا اور اس کا اتباع بھی نصیب فرما۔ والباط باطلاً اور باطل کو باطل کی صورت میں ہی کھا۔ وارزقنا اجتنایہ اور ہمیں اس سے اجتناب کرنے کی توفیق بھی عطا کر۔ ولا تجعلہ ملتبساً اور اسے خلط ملط نہ بنا کر کہیں ہمارے لئے حق و باطل کی تمیز ہی نہ اٹھ جائے۔ حضرت مولانا شیخ الہند نے یہاں پر بڑا عمدہ نوٹ لکھا ہے۔ فرماتے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد ایک مدت تک ایک ہی سچا دین یعنی دین توحید قائم رہا۔ اس کے بعد لوگوں نے اس میں اختلاف پیدا کیا تو اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کو بھیجا ، جو اہل ایمان کو اطاعت اور ثواب کی بشارت دیتے تھے اور اہل کفر و باطل کو عذاب سے ڈراتے تھے۔ ان انبیاء کے ساتھ سچی کتاب بھی نازل فرمائی تاکہ لوگوں کے درمیان پیدا ہونے والا نزاع دور ہو سکے۔ اہل کتاب یہود و نصاریٰ محض ضد اور حسد کی بنا پر اختلاف کیا۔ حالانکہ وہ حق کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اہل حق کی راہنمائی فرمائی اور انہیں گمراہی اور اختلاف سے بچا لیا جیسا کہ آپ کی امت کو عقیدہ و عمل میں امر حق کی تعلیم فرمائی اور اہل کتاب جیسی افراط وتفریط سے محفوظ رکھا۔ آپ فرماتے ہیں کہ اس آیت مبارکہ سے دو باتیں معلو م ہوئیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو متعدد نبی اور کتابیں بھیجیں تو ان کا مقصد لوگوں کو ہر نبی کے علیحدہ علیحدہ فرقہ میں تبدیل کرنا نہیں تھا۔ بلک ایک ہی راستہ کی طرف راہنمائی کرنا مقصود رہا ہے جب لوگ اصل دین کو چھوڑ کر گمراہی کی طرف راغب ہوتے ۔ تو اللہ تعالیٰ ایک اور نبی اور کتاب بھیج کر اصل راستہ کی پہچان کرا دیتا تاکہ لوگ اسی صراط مستقیم کی طرف لوٹ آئیں۔ اس کی مثال آپ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ انسانی جسم کے لئے صحت فقط ایک چیز ہے مگر بیماریاں لاتعداد ہیں۔ جب کسی انسان کے جسم میں کوئی ایک بیماری پیدا ہوتی ہے۔ تو معالج اس بیماری کے مطابق دوائی اور پرہیز تجویز کرتا ہے۔ پھر دوسرا مرض پیدا ہوتا ہے تو اس کے مطابق دوسرا علاج اور پرہیز تجویز کیا جاتا ہے۔ یہی حال امتوں کا ہے۔ جب کسی قوم میں کوئی روحانی بیماری پیدا ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اور کتاب بھیج کر اس بیماری کا علاج کیا۔ پھر دوسری بیماری پیدا ہوئی تو اس کے حساب حال نبی اور کتاب آئی۔ اور پھر آخر میں نبی آخر الزماں اور آخری کتاب قرآن پاک بھیج کر تمام روحانی بیماریوں کا شافی علاج کردیا۔ تاکہ لوگ قیامت تک پیدا ہونے والی بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔ صبر و استقامت حضرت مولانا شیخ الہند فرماتے ہیں کہ اس آیت سے دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اہل حق کو صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے۔ یہ سنت اللہ ابتداء سے جاری ہے کہ ہر نبی اور ہر کتاب آسمانی کی مخالفت بڑے لوگ کرتے ہیں۔ کیونکہ حق کو تسلیم کرلینے کی زد ان ہی کے اقتدار پر پڑتی ہے نبی اور کتاب اللہ کی مخالفت ہمیشہ انہی لوگوں کا شیوہ رہا ہے۔ لہٰذا اہل ایمان کو تسلی دی گئی ہے کہ ان لوگوں کے ٹھٹا کرنے ، بدسلوکی اور ایذا رسانی سے گھبرائیں نہیں۔ بلکہ صبر و استقامت سے ہر تکلیف کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ ہدایت ربانی فرمایا انبیاء (علیہم السلام) اور کتابوں کو بھیجنے کے باوجود ہدایت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ واللہ یھدی من یشآء الی صراط مستقیم وہ جسے چاہتا ہے راہ راست کی طرف راہنمائی فرما دیتا ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ ہدایت اسی کو نصیب کرتا ہے جس کے اندر حصول ہدایت کی طلب اور صلاحیت ہوتی ہے اور جو کوئی ظلم و جفا پر اڑا رہتا ہے اسی کے متعلق دوسرے مقام پر فرمایا ” واللہ لایھدی القوم الظلمین “ ایسے لوگوں کی قسمت میں ہدایت نہیں ہوتی۔ بہرحال لمن یشآء سے واضح ہے کہ ہدایت ہر ایک کے حصہ میں نہیں آتی بلکہ اللہ تعالیٰ کی یہ رحمت اہل حق کو ہی حاصل ہوتی ہے۔