Ayah 2:158صفا اور مردہ
تہذیب الاخلاق کے تین اصول پہلی آیات میں بیان ہوچکے ہیں اور وہ ہیں ذکر الٰہی ، شکر الٰہی ، صبر اور دعا اس آیت میں ایک اور اہم اصول شعائر اللہ کا بیان ہے۔ منجملہ دیگر شعائر کے اس آیت میں صفاء اور مردہ کو خاص طور پر شعائر اللہ کہا گیا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ ان الصفا و المروۃ من شعآئر اللہ بیشک صفا اور مردہ اللہ کی نشانیوں (شعائر) میں سے ہیں۔ یہ دونوں پہاڑیاں بیت اللہ شریف سے متصل واقع ہیں۔ زیادہ اونچی نہیں ہیں۔ اس زمانہ میں بھی یہ چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں تھیں۔ بس اردگرد کے خطے سے ذرا بھری ہوئی تھیں۔ اب تو جغرافیہ ہی بدل چکا ہے …… ان کا بیشتر حصہ کاٹ دیا گیا ہے اور نشان کے طور پر تھوڑی تھوڑی چھوڑ دی گئی ہیں ان دونوں پہاڑیوں کے درمیانی جگہ پست ہے۔ جہاں پر سعی کی جاتی ہے اور جو حج وعمرہ کے ارکان میں سے ہے۔ لغوی طور پر صفا سخت قسم کی چکنی چٹان کو کہتے ہیں اور مردہ سفید رنگ کے پتھروں کو کہا جاتا ہے۔ شاید انہی خصوصیات کی بنا پر ان پہاڑویں کو یہ نام دیئے گئے۔
تہذیب اخلاق کا پانچواں اصول شعائر اللہ کی تعظیم ہے
یہاں پر صفا مروہ کو شعائر اللہ کہا گیا ہے قرآن کریم کے دوسرے مقام پر شعائر اللہ کی عظمت کے بیان میں فرمایا لاتحلوا شعآئر اللہ یعنی اللہ کے شعائر کی بےحرتمی مت کرو۔ بلکہ ان کی تعظیم کرو۔ اس کو شعیرہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی یاد کی علامت اور نشانی ہوتی ہے۔ اس کو دیکھ کر اللہ کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ شعائر اللہ کی تعظیم اللہ تعالیٰ کی تعظیم کے مترادف ہے۔ کیونکہ یہ چیزیں اللہ کی یاد آوری کا ذریعہ ہیں ان کو بت پرستی یا شرک اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ ہم ان چیزوں کی تعظیم ان کی ذات کی وجہ سے نہیں کرتے ہیں بلکہ حقیقت میں یہ اللہ تعالیٰ کی ہی تعظیم ہے جن کو دیکھ کر اس کی عظمت اور یاد دل میں آتی ہے۔
شعائر اللہ میں مکان کے علاوہ کئی قسم کے افعال بھی داخل ہیں۔ مثلاً امام شاہ ولی اللہ دہلوی فرماتے ہیں کہ من اعظم شعائر اللہ چار چیزیں اللہ کے شعائر میں سب سے بڑی ہیں اور ان میں خانہ کعبہ ، حضو ر (علیہ السلام) کی ذات مبارکہ ، نماز اور قرآن پاک شامل ہیں اسی طرح شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ، تفسیر عزیزی فرماتے ہیں کہ شعائر اللہ میں عرفات بھی داخل ہے۔ جہاں نو ذوالحجہ کو لوگ جمع ہوتے ہیں۔ یہاں کا وقوف ہی حج کا رکن اعلیٰ ہے۔ لوگ غروب آفتاب تک وہاں قیام کرتے ہیں اور خوب گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں مانگتے ہیں۔ اسی طرح شعر الحرام جسے مزدلفہ کہا جاتا ہے وہ بھی شعائر اللہ میں شامل ہے۔ منیٰ میں رمی جمار بھی شعائر اللہ میں داخل ہے۔ صفا ومروہ کا ذکر تو خود قرآن پاک نے کردیا۔ علاوہ ازیں تمام مساجد رمضان کا مینہ اور اشہر و الحرام صحرمت والے مہینے) یعنی رجب ، ذی قعدہ ، ذوالحجہ اور محرم الحرام یہ سب شعائر اللہ ہیں۔ یہ سب واجب الاحترام مہینے ہیں اور ان میں گناہوں سے بچنا زیادہ ضروری ہے۔ ان میں عبادت کا اجر وثواب بھی بڑھ جاتا ہے اور گناہ کا وزن بھی زیادہ ہوجاتا ہے۔
آپ فرماتے ہیں کہ عید الاضحی ، عید الفطر ، جمعہ ، ایام تشریق ، اقامت ، ختنہ ، نماز باجماعت ، رمل ، طواف ، ہدی قربانی اور صفا مروہ کی سعی سب شعائر اللہ میں داخل ہیں۔ قرآن پاک کا ارشاد ہے۔ ومن یعظم شعآئر اللہ فانھا من نقوی القلوب یعنی شعائر اللہ کی تعظیم دلوں کے تقویٰ کی بناء پر ہے جس کے دل میں خدا کا تقویٰ ہوگا ، وہی شعائر اللہ کی تعظیم کرے گا۔
تفسیری عزیزی
تفسیر عزیزی شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی مشہور تفسیر ہے جو کہ فاسری زبان میں لکھی گئی۔ آپ کے والد ماجد امام شاہ ولی اللہ نے سب سے پہلے قرآن پاک کا فاسری میں ترجمہ کیا جس کا نام فتح الرحمٰن رکھا۔
اس زمانے میں ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت تھی۔ کابل سے لے کر برما تک سارا علاقہ مسلمان کے زیر نگین تھا۔ سرکاری زبان فارسی تھی۔ ساتھ ساتھ عربی کو بھی اعلیٰ مقام حاصل تھا۔ اس وقت اردو زبان اپنے ابتدائی مراحل میں تھی اور محدود تھی البتہ مرہٹی اور تامل ناڈو زبانیں اپنے اپنے علاقوں میں مروج تھیں۔ ہندی کا بھی عام چرچا تھا تاہم ان دو بزرگوں نے فارسی زبان کو ذریعہ ابلاغ بنایا۔ امام شاہ ولی اللہ کی کتابیں فاسری اور عربی دونوں زبانوں میں پائی جاتی ہیں۔ آپ کی مشہور عالم تصنیف اصول تفسیر فاسری زبان میں ہے۔ ازالتہ الخفا بھی فارسی میں ہے موطا کی شرح ایک فاسری میں ہے اور ایک عربی میں مقصد بہرحال ابلاغ دین تھا ، جس میں آپ کے خاندان کو کما حقہ کامیابی حاصل ہوئی۔
الغرض ! آپ کے زمانہ میں رائج الوقت زبان فاسری تھی۔ دفتری خط و کتابت بھی اسی زبان میں ہوتی تھی ، جس طرح آج کل سکولوں ، کالجوں دفتروں اور بیرون ملک انگریزی زبان کا چرچا ہے۔ اسی طرح اس زمانے میں فاسری مروج تھی۔ لہٰذا آپ نے زیادہ فارسی کے ذریعے ہی دین کی اشاعت کا کام کیا۔
شاہ ولی اللہ کا خاندان برصغیر پاک و ہند میں بڑا نورانی خاندانی گزرا ہے آپ تمام مسلمانوں کے پیرو مرشد اور مربی تھے۔ برصغیر میں دینی تعلیم کا بیڑا آپ نے ہی اٹھایا۔ آپ وقت کے فقیہہ تھے۔ ان لوگوں نے تعلیم کے مراکز اور مدارس قائم کئے۔ شاہ ولی اللہ اپنے والد ماجد کے مدرسہ رحیمیہ میں تعلیم و تربیت اور درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے تھے۔ آپ حج کے لئے حجاز مقدس گئے تو وہاں دو سال تک قیام کیا اور وہاں کے علما سے علمی استفادہ کیا۔ واپس آ کر پھر درس و تدریس کے سلسلہ میں منہمک ہوگئے۔
شاہ عبدالعزیز نے لمبی عمر پائی ہے۔ آپ ساری عمر تدریس کے کام میں مشغول رہے۔ فتویٰ بھی دیتے رہے۔ آپ نے سنت جہاد کو دوبارہ زندہ کیا اور بڑے بڑے مجاہد پیدا کئے۔ آپ کے زمانہ میں برصغیر میں انگریز کا عمل دخل ہوچکا تھا۔ اسی زمانے میں آپ نے یہ تفسیر عزیزی لکھی۔ تفسیر عزیزی کے آخری دوپارے یعنی پارہ 29 اور 30 دو مختلف جلدوں میں ہیں۔ ابتداء میں سورة بقرہ کی نصف تک تفسیر لکھی تھی کہ زندگی نے ساتھ نہ دیا اور یہ کام وہیں رہ گیا۔ یہ عظیم تفسیر حکیمانہ فکر کے ساتھ لکھی گئی ہے جس میں اسلام کے حقائق کو خوب اجاگر کیا گیا ہے۔ حضرت انور شاہ صاحب کشمیری فرماتے ہیں کہ اگر تفسیر عزیزی مکمل ہوجاتی تو یہ سمجھا جاتا کہ قرآن پاک کا حق ادا ہوگیا ہے۔ اس وقت اس تفسیر کی صرف تین جلدیں موجود ہیں۔ تاہم یہ کمال درجہ کی چیز ہے۔ اس کا ترجمہ اردو میں بھی ہوچکا ہے۔
طواف و سعی
امام ابن جریر نے مفسر قرآن حضرت قتادہ سے روایت نقل کی ہے کہ صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی سنت ہے۔ حاکم نے مستدرک میں بیان کیا ہے کہ صفا مروہ کی سعی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ کی میراث ہے۔ ان سے یہ چیز بطور وراثت نقل ہوتی چلی آ رہی ہے حضرت ہاجرہ پہلی شخصیت ہیں۔ جنہوں نے صفا ومروہ کے درمیان سعی کی ام المومنین حضرت عائشہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور سرور کائنات ﷺ نے فرمایا ب یت اللہ شریف کا طواف ، صفا مروہ کی سعی اور رمی جمار اللہ کے ذکر کے اقامت کے لئے ہے طواف تو بجائے خود نماز کی مانند ہے کیونکہ حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے الطواف حول البیت مثل الصلوۃ یعنی بیت اللہ شریف کے گرد طواف کرنا نماز کی مثل ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ نماز کے دوران گفتگو کی قطعا ً اجازت نہیں جب کہ طواف کے دوران حسب ضرورت بات چیت کی جاسکتی ہے۔ تاہم بہتر یہ ہے کہ کلام سے اجتنبا کرے اور اللہ کے ذکر میں منہمک رہے۔ ذکر الٰہی کے لئے مختلف کلمات موجود ہیں۔ حضرت لاہوری کے بڑے فرزند مولانا حبیب اللہ طواف کے ساتھ چکروں میں پورا قرآن پاک ختم کرلیتے تھے۔ اللہ نے اس قدر توفیق بخشی تھی۔ آپ بڑے ہی عبادت گزار تھے۔ طواف میں دو تین گھنٹے صرف کرتے تھے۔ اور شدید ترین گرمی میں بھی طواف کرتے رہتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) لیہ السلام حج کے لئے آتے تو صفا ومروہ کے درمیان لبیک پکارتے ہوئے دوڑتے ادھر اللہ کی طرف سے بھی لبیک عبدی کی آواز سنتے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرماتے کہ تمہاری پکار پر میں بھی موجود ہوں۔ سعی کے دوران پڑھی جانے والی مشہور دعا رب اغفروارحم انک انت الاعززالاکرم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف منسوب کی گئی ہے۔ یعنی اے اللہ معاف فرما دے اور رحم فرما تو عزت والا اور بڑے کرم والا ہے۔ اس کے علاوہ سعی کی اور بھی دعائیں منقول ہیں جن میں لا الہ الا اللہ ہے۔ اس کے علاوہ ایمان پر ثابت قدمی کی دعا ہے۔ یعنی اللھم انی اسئلک کما ھدینی لایمان ان لاتنزع منی حتی توفنی علی ذلک اے اللہ ! جس طرح تو نے مجھے ایمان اور اسلام کی طرف ہدایت فرمائی ہے۔ میں تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ اسے مجھ سے نہ چھیننا یہاں تک میری موت آجائے۔
صفا مروہ کی سعی کی حیثیت کے متعلق مختلف آراء ہیں مشہور روایت یہ ہے کہ امام احمد کے نزدیک سعی سنت ہے البتہ امام شافعی اسے رکن کہتے ہیں اگر حج میں سعی نہیں کی تو حج نہیں ہوگا۔ امام ابوحنیفہ اسے واجب کہتے ہیں اگر سعی نہ ہو سکے تو دم دینا پڑے گا۔ جس سے اس کی تلافی ہوجائے گی واجب بھی بہت بڑا درجہ ہے۔ فرض کے بعد اسی کا نمبر ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ گرامی ہے۔ ایھا النسا اسعوا اے لوگو ! صفا ومروہ کے درمیان سعی کرو ان اللہ کتب علیکم السعی اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی کو ضروری قرار دیا ہے حضور ﷺ جب سعی کے لئے تشریف لاتے تو فرماتے ابدا بمابداللہ تعالیٰ میں وہیں سے شروع کرتا ہوں جہاں سے اللہ تعالیٰ نے ابتداء فرمائی ہے یعنی صفا سے کیونکہ آیت زیر درس میں ان الصفا والمروۃ فرمایا گیا ہے گویا صفا سے کیونکہ آیت زیر درس میں ان الصفا و المروۃ فرمایا گیا ہے گویا صفا سے ابتداء کی گئی ہے۔ الغرض ! حضور ﷺ سعی صفا سے شروع کر کے مردہ پر ختم کرتے آپ کی یہ سنت مبارکہ آج تک جاری ہے یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جسے محبوب سے محبت ہوتی ہے اسے اس کے متعلقات سے بھی محبت ہوتی ہے حج کے تمام شعائر منیٰ ، عرفات ، قربانی وغیرہ محبوب کے متعلقات ہیں۔ جب دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت جاگزیں ہوتی ہے۔ تو پھر وہ اس کے شعائر سے بھی محبت کرے گا ان کی تعظیم کرے گا صبر اور شکر ادا کرے گا ، یہی چیزیں تہذیب نفس کے حصول کی علامتیں ہیں۔
چاہ زم زم
چاہ زم زم کے اجراء کا واقعہ مشہور ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) بےآب وگیاہ وادی میں حضرت ہاجرہ اور اسماعیل (علیہ السلام) کو چھوڑ گئے۔ تھوڑی بہت کھجوریں اور چھا گل میں پانی تھا۔ جب پانی ختم ہوگیا تو مائی صاحبہ نے ادھر ادھر پانی کی تلاش شروع کردی آپ کبھی صفا پر جائیں اور وہاں سے مایوس ہو کر مردہ پہاڑی پر پہنچ جاتیں بچہ پیاس سے تڑپ رہا تھا۔ جب آپ کی پریشانی انتہا کو پہنچ جائیں بچہ پیاس تے تڑپ رہا تھا جب آپ کی پریشانی انتہا کو پہنچی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت تامہ سے جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا۔ انہوں نے اللہ کے حکم سے اپنا پر زمین پر مارا تو وہاں سے پانی جاری ہوگیا۔ یہ بڑا متبرک پانی ہے فاسی نے تاریخ مکہ میں روایت بیان کی ہے کہ یہ پانی کوثر اور سلسبیل سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ پانی کے اس چشمہ کو کئی حوادثات بھی آئے مگر بالآخر اسے کنواں کی صورت حاصل ہوگئی۔ جاہلیت کے زمانہ میں یہ کئی دفعہ بند ہوا اور کھولا گیا اب اس کنواں سے ساری دنیا سیراب ہوتی ہے۔ زائرین حرم خوب سیر ہو کر یہ پانی پیتے ہیں اور جاتے وقت دنیا کے اکناف و اطراف میں یہ تبرک کے طور پر لے جاتے ہیں ۔ اس وقت سے لے کر آج تک اس کی آبیاری جاری ہے۔ اور انشاء اللہ تاقیامت جاری رہے گی اس کا ذائقہ بھی عام پانیوں سے مختلف ہے۔ یہ پانی بیک وقت دوا شفا اور غذا کا قدرتی مجموعہ ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کے لئے اس سے بہتر کوئی پانی دنیا بھر میں موجود نہیں ہے۔
صفا اور دعوت توحید
صفا کی یہ وہی تاریخی پہاڑ ی ہے جس پر چڑھ کر حضور ﷺ نے قریش کو دعوت توحید دی۔ عربوں میں یہ طریقہ رائج تھا کہ کسی سخت خطرے کے وقت بلند جگہ پر چڑھ کر واصباحاہ کا نعرہ لگاتے جس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ دشمن آ گیا ہے یا اور کوئی خطرہ ہے۔ لہٰذا سب لوگ اکٹھے ہوجائیں اور پھر ایسا ہی ہوتا تھا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے بھی صفا پر چڑھ کر یہی نعرہ لگیا ا قوم کے لوگ اکٹھے ہوگئے کہ کوئی خطرے کی بات ہوگی جب سارے لوگ آگئے تو آپ نے فرمایا اگر میں تم سے یوں کہوں کہ صبح کے قوت اس پہاڑ کے پیچھے سے تمہارا دشمن حملہ آور ہو رہا ہے تو کیا تم میری بات کو تسلیم کرلو گے ۔ سب نے بیک زبان ہو ککر کہا ما جربنا علیک کذباً ہم نے کبھی آپ پر جھوٹ کا تجزبہ نہیں کیا۔ آپ ہمیشہ سچ فرماتے ہیں۔ اس پر آپ نے ارشاد فرمایا انی نذیر لکم اے لوگو میں تم کو اس بات سے ڈرانے کے لئے آیا ہوں کہ تم پر سخت عذاب آنے والا ہے۔ اگر اس سے بچنا چاہتے ہو تو میری بات مان لو قولوا لا الہ الا اللہ کلمہ طیبہ کا اقرار کرلو ، فلاح پا جائو گے۔ ان لوگوں میں حضور ﷺ کے چچا ابولہب بھی تھے۔ وہ اس بات سے بڑے سیخ پا ہوئے اور کہا تبالک یا محمد اے محمد ! آپ کے لئے ہلاکت ہوالھذا جمعتنا کیا تو نے اس لئے ہمیں جمع کیا تھا۔ ہم تو سمجھے تھے کہ کوئی خاص بات ہوگی ، مگر تو نے ہمیں ایسی بات بتا دی۔
فتح مکہ کے روز بھی آپ اسی صفا پر کھڑے ہوئے اور فرمایا الحمد للہ الذی انجز و عدہ ونصر عبدہ وھزم الاحزاب وحدہ یعنی اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے ، جس نے اپنا وعدہ پورا کیا ، اپنے بندے کی مدد فرمائی اور اس وحدہ لاشریک نے اکیلے ہی ان سب کو شکست دی۔ یہاں پر اللہ کے وعدے سے مراد ہی وعدہ ہے۔ جب مشرکین مکہ حضور ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف پہنچاتے تھے اور آپ کو مکہ میں رہنے نہیں دیتے تھے تو اللہ نے وعدہ فرمایا کہ یہ مکہ ایک دن فتح ہوگا اور یہ سب لوگ مغلوب ہوجائیں گے۔
بیت اللہ شریف میں شرک
بیت اللہ شریف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تعمیر کیا تھا۔ وہی ابراہیم (علیہ السلام) جنہوں نے بت خانے کے تمام بتوں کو پاش پاش کردیا تھا۔ مگر انہیں کے نام نہاد پیروں کاروں یعنی مشرکین مکہ نے اسی کعبہ شریف میں جگہ جگہ بت رکھے ہوئے تھے۔ خانہ کعبہ کے سامنے بت تھے۔ اس کی دیواروں پر بت تھے۔ چاہ زم زم کے پاس بت رکھے تھے۔ صفا اور مردہ پر بت موجود تھے۔ غرضیکہ مشرکین نے ہر چیز کو بگاڑ دیا تھا اور اس طرح خود خانہ کعبہ میں شرک کے مرتکب ہو رہے تھے۔
مشہور روایت کے مطابق صفا اور مردہ پر جو بت رکھے ہوئے تھے ان میں سے احناف مرد کا بت تھا اور وہ صفا پہاڑی پر تھا اور نائلہ عورت کا بت تھا اور وہ مروہ پر رکھا ہوا تھا۔ یہ مرد و زن مشرک تھے ۔ انہوں نے خانہ کعبہ میں برائی کا ارتکاب کیا تھا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے پتھر کی صورت میں مسخ کردیا۔ لوگوں نے ان پتھروں کو اٹھا کر باہر رکھ دیا تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں کہ برائی کا نتیجہ کیا ہوتا ہے وقت گزرنے کے ساتھ ان بتوں کی پوجا ہونے لگی اور یہ لوگوں کے معبود بن گئے پھر لوگوں نے ان میں سے ایک کو صفا پر رکھ دیا اور دوسرے کو مروہ پر۔
سعی قدیم
جب اسلام کا دور آیا تو مسلمانوں کو صفا ومروہ کی سعی کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس ہوئی۔ ان کا خیال تھا کہ یہ سعی شاید ان بتوں کی وجہ سے ہو۔ اس دور میں اس سے ملتی جلتی اور بھی مثالیں موجود تھیں۔ مثلاً اوس اور خزرج قبیلہ کے لوگ جب حج کے لئے آتے تھے ۔ تو منتا نامی بت کے نام پر احرام مدنیہ سے باندھتے تھے یہ بت کسی بزرگ کے نام سے موسوم تھا اور سمندر کے کنارے مشل کے مقام پر رکھا ہوا تھا یہ لوگ خانہ کعبہ کا طواف تو کرتے تھے مگر صفا ومروہ کی سعی نہیں کرتے تھے اس قسم کے نظریات اس وقت موجود تھے۔
مسلمانوں کے اس شک کو دور کرنے کے لئے قرآن پاک نے فرمایا ان الصفا و المروۃ من شعآئر اللہ صفا اور مردہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں اور یہ قدیم سلسلہ سے مسنلک ہیں۔ ان کے درمیان دوڑنا ان بتوں کی تعظیم کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ یہ تو محض اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اس کی رضا جوئی کے لئے ہے ۔ چناچہ ان بتوں کو وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ خطہ عرب کے تمام بتوں کو توڑ دیا گیا۔ بیت اللہ شریف کو ان کی نجاست سے پاک و صفا کردیا گیا اور اس طرح مرکز اسلام سے ایک دفعہ پھر توحید کی صدا بلند ہونے لگی۔
اسی لئے فرمایا کہ صفا مروہ شعائر اللہ میں سے ہیں۔ فمن حج البیت اواعتمر پس جو کوئی حج یا عمرہ کرے فلا جناح علیہ اس پر کوئی حرج نہیں ہے ان یطوف بھما کہ ان دونوں کا طواف کرے سعی احکام حج میں سے ہے اور قدیم سنت ہے۔
فرمایا ومن تطوع خیراً جس نے خوشی سے نیکی کا کام کیا فان اللہ شاکر علیہم تو اللہ تعالیٰ قدر دان اور جاننے والا ہے۔ یاد رہے کہ شکر سے فاعل کا صیغہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جائے تو اس کا معنی قدر دانی ہوتا ہے یعنی اللہ بڑا قدر دان ہے۔ اگر معمولی سی نیکی بھی خلوص نیت سے کی جائے تو اللہ تعالیٰ اس پر بھی بڑے سے بڑا اجر عطا کرتا ہے اور علیم سے مراد یہ ہے کہ وہ سب کچھ جاننے والا ہے۔ اس کے علم سے کوئی چیز مخفی نہیں حتیٰ کہ وہ انسان کی نیت اور باطنی ارادہ کو بھی جانتا ہے۔
Ayahs 2:159–163کتمان حق
گزشتہ آیات میں تہذیب الاخلاق کے پانچ اصول بیان ہوچکے ہیں۔ سابقہ درس میں منجملہ ان کے تعظیم شعائر اللہ کا ذکر تھا۔ تہذیب نفس کے جملہ مسائل جس بات پر متفرع ہوتے ہیں ، وہ مسئلہ توحید ہے۔ اس درس میں اسی مسئلہ کو بیان فرمایا گیا ہے اور اس سے پہلے مسئلہ کتمان حق کا بیان ہے۔ جیسا کہ گزشتہ دروس میں ذکر ہوچکا ہے۔ یہودیوں میں کتما حق کی بیماری بدرجہ اتم موجود تھی۔ پہلی آیات میں آ چکا ہے ” وتکتموالحق وانتم تعلمون “ یعنی اے اہل کتاب تم جان بوجھ کر حق کو چھپاتے ہو۔ سای طرح تحویل قبلہ کے متعلق فرمایا یعرفونہ کما یعرفون ابنآء ھم “ یعنی یہ لوگ اس حقیقت کو اسی طرح پہچانتے ہیں جیسا کہ اپنی اولدا کو مگر اس کے باوجود انکار کرتے ہیں۔ یہ ان کے کتمان حق کی واضح مثالیں ہیں یہ ظالم لوگ جو حضور بنی کریم ﷺ کے بارے پیشین گوئیوں کو چھپاتے تھے۔ اس کی بجائے لوگوں کے سامنے غلط ملط باتیں بیان کرتے تھے تو رات میں رجم کا حکم موجود تھا۔ مگر یہودیوں نے اسے چھپایا۔ اس کی تفصیل سورة مائدہ میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا۔ لتبینہ للناس ولا تکتمونہ کہ تم لوگوں کے سامنے حقیقت حال کی پوری پوری وضاحت کرو گے اور اسے چھپائو گے نہیں مگر اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا فنبذوہ ورآء ظھورھم ان لوگوں نے حقائق کو پس پشت ڈال دیا۔ ” کانھم لایعلمون “ گویا کہ وہ بالکل نہیں جاتنے۔
کتمان حق کی سزا
کتمان حق کی بیماری صرف یہودیوں تک ہی محدود نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں پر عام قانون کے طور پر اعلان فرمایا ان الذین یکتمون ما انزلنا من البینت والھدی جو لوگ بھی اللہ تعالیٰ کی واضح باتوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں من بعد ما بینہ للناس فی الکتب بعد اس کے کہ ہم نے اسے کتاب میں وضاحت سے بیان کردیا۔ اولئک یلعنھم اللہ ویلعنھم اللعنون یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی بھی لعنت ہے۔ اور دیگر لعنت کرنے والوں کی بھی لعنت ہے۔ ظاہر ہے کہ ان الذین میں تمام لوگ شامل ہیں جو اس آیت کے مصداق ہیں خواہ وہ کسی سابقہ امت سے ہوں یا نبی آخر الزمان کی موجودہ امت سے متعلق ہوں۔ ہر وہ شخص اس آیت کریمہ کا نشانہ ہے۔ جو حق بات کو چھپاتا ہے۔ حدیث شریف میں حضور ﷺ کا اشراد گرامی ہے من سئلک علماً جس سے کوئی علم کی بات پوچھی گئی جسے وہ جانتا ہے مثلاً کسی عقیدہ سے متعلق سوال ہے یا حلال و حرام کی وضاحت طلب کی گئی ہے فک تمہ تو صاحب علم شخص نے اسے چھپا دیا۔ معاملہ کو ظاہر نہ کیا۔ یا اسکی کما حقہ ، وضاحت نہ کی ، وجہ خواہ کچھ بھی ہو اسے کوئی نقصان کا خطرہ تھا یا اس کی مالی منفعت متاثر ہوتی تھی یا کوئی اور فاسد مقصد کار فرما تھا جس کی وجہ سے سے اس نے حق کو چھپا دیا تو حضور لعیہ السلام نے فرمایا الجم یوم القیمۃ بلجام من نار قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی۔ چونکہ دنیا میں اس شخص نے اپنی زبان سے حق کو ظاہر نہیں کیا تھا۔ اس لئے قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام ڈالی جائیگی۔ اتنی سخت سزا دی جائیگی کہ اس نے حق کو چھپایا تھا۔
مولانا عبید اللہ سندھی
حضرت مولانا عبداللہ سندھی ہمارے دور کے عظیم مفسر قرآن ہوئے ہیں آپ تعلیم یافتہ لوگوں کو چھ ماہ میں قرآن پاک سے کما حقہ ، واقف کرا دیتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسا ملکہ عطا کیا تھا۔ حضرت مولانا لاہوری ، مولانا سلطان محمود کٹھیالے والے حکیم فضل الرحمن وغیرہم نے آپ ہی سے قرآن پاک پڑھا تھا۔ آپ شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن کے شاگردوں میں سے تھے اور ان میں بڑا مقام رکھتے تھے۔ انگریز آپ سے بہت خوفزدہ تھا۔ ہندوستان میں آپ کا داخلہ بند کردیا تھا بلک ہسخت سزا رکھی تھی ، لہٰذا آپ نے 25 سال کا عرصہ جلا وطنی میں بسر کیا۔ آپ اپنے استاد محترم کا اشارہ پا کر کابل ہجرت کر گئے اور کابل کو انگریز کے پنجہ سے آزاد کرایا مگر انگریز نے وہاں بھی آپ کو جمنے نہیں دیا اور آپ کو روس جانا پڑا ۔ وہاں پر صرف ایک سال کا عرصہ گزارا۔ اس کے بعد آپ ترکی چلے گئے اور چار سال وہاں قیام کیا۔ آپ نے ترکوں کو خواب غفلت سے جگایا اور انہیں باور کرایا کہ تم بےدینی کی آغوش میں جا رہے ہو۔ قرآن پاک کی چند سورتوں کا مطلب سمجھ لو تو بےدینی سے بچ جائو گے۔ مگر ان لوگوں نے آپ کی دعوت کا خاطر خواہ جواب نہ دیا ، لہٰذا آپ ترکی سے حجاز مقدس چلے گئے۔ آپ بارہ سال تک مکہ مکرمہ میں مقیم رہے۔ انگریز آپ کے پیچھے لگا ہوا تھا۔ وہاں بھی آپ کی جاسوسی کی جاتی تھی۔ ایک دفعہ طواف کے دوران آپ نے دیکھا کہ جاسوس آپ کے پیچھے پیچھے آ رہا ہے آپ نے اسے پہچان لیا اور سخت ڈانٹ پلائی۔ فرمایا تمہیں شرم نہیں آتی ، یہاں بھی میرا پیچھا کر رہے ہو۔
خدا کا خوف کرو ، کم از کم حرم پاک کا ہی احترام کرو۔ آپ زبردست انقلابی ذہن کے مالک تھے اسی لئے تو انگریز آپ سے ڈرتا تھا آپ نے قیام پاکستان سے تین سال قبل وفات پائی آپ نے زندگی کے آخری ایام میں فرمایا تھا کہ میں نے انگریز کی جڑوں کو ہندوستان سے اکھاڑ دیا ہے اگر یہ چند سال کے اندر اندر اس ملک سے نہ بھاگا تو میری قبر پر آ کر لات مارنا اور کہنا کہ عبید اللہ نے جھوٹ بولا۔ چناچہ آپ کی یہ پیش گوئی حرف بحرف پوری ہوئی اور انگریز تین سال کے اندر اندر ہندوستان کو خیر باد کہہ گیا۔
کسی زمانہ میں برطانیہ ، برطانیہ عظمیٰ کہلاتا تھا۔ یہ اتنی بڑی سلطنت تھی کہ اس پر کبھی سورج نہیں ڈوبتا تھا۔ مقصد یہ کہ اس سلطنت کا رقبہ اتنا وسیع تھا کہ کسی نہ کسی حصے پر سورج موجود ہوتا تھا۔ اس کے مقابل ہمیں امریکہ ، روس ، جرمنی وغیرہ سب کمزور تھے ۔ مگر اس کے ظلم کی وجہ سے اللہ نے اتنی بڑی حکومت چھین لی اور اب یہ اپنے اصل ملک میں محصور ہو کر رہ گیا ہے۔ تو یہی وہ انگریز تھا جس نے مولانا عبید اللہ سندھی کو جلا وطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور کردیا تھا۔
مولا دینی طور پر محدث ہونے کے ساتھ ساتھ سیاستدان بھی تھے آپ خود فرماتے ہیں کہ قبول اسلام کے بعد ہم نے اٹھارہ سال تک شیخ الہند مولانا محمود الحسن کی خدمت میں رہ کر سیاست بھی سیکھی ہے اور دین بھی حاصل کیا ہے۔ آپ امام شاہ ولی اللہ کی حکمت کے بڑے ماہر تھے۔ نہایت نیک سیرت انسان تھے نو مسلم ہو کر اتنا شعور حاصل کرنا ۔ اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی تھی۔ جفاکشی کا یہ عالم تھا کہ آٹھ دس میل کا سفر پیدل طے کر کے نماز جمعہ کے لئے آتے تھے۔ جب کرایہ نہیں ہوتا تھا پیدل ہی چل دیتے۔ ایک دفعہ ملتان کے لئے سفر شروع کیا ۔ مظفر گڑھ کے ریلوے سٹیشن پہنچے تو پاس صر فاتنے ہی پیسے تھے۔ جس سے ملتان کے لئے ٹکٹ خرید لیا۔ اتنے میں ایک اور مسافر نے سوال کیا کہ سخت لاچار ہوں ، ملتان جانا ہے مگر ٹکٹ کے لئے پیسے نہیں ہیں۔ آپ نے خریدا ہوا ٹکٹ اس سائل کو دیدیا اور خود پیدل ہی ملتان کے لئے چل دیئے۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ آخر میں اشتراکی ہوگئے تھے ۔ حالانکہ یہ غلط ہے البتہ آپ سرمایہ دارانہ نظام کے لخاف تھے۔ آپ نے اپنی تفسیر میں اشتراکیت کے سخت خلاف لکھا ہے۔ کیونکہ اس دور میں اسلامی نظام سے ٹکر لینے والا اشتراکی نظام ہی ہے۔ آپ نے فرمایا تھا کہ اشتراکی نظام کے پاس کوئی پروگرام نہیں ہے۔ ایک وقت ضرورت آئے گا جب انہیں قرآنی پروگرام کی طرف متوجہ ہونا پڑے گا۔ اسلامی پروگرام سے بہتر کوئی پروگرام نہیں ملے گا۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جو بھی قوم قرآنی پروگرام سے اعراض کریگی وہ کبھی فلاح نہیں پا سکتی نہ دینی اعتبار سے کامیاب ہو سکتی ہے اور نہ ہی دنیوی لحاظ سے درجہ کمال حاصل کرسکتی ہے۔
تعلیم کی اہمیت
یہی مولانا عبداللہ سندھی ہیں جنہوں نے آپ زیر درس کے متعلق فرمایا کہ میں ان آیات سے یہ اصول اخذ کرتا ہوں کہ تعلیم جبری ہونی چاہئے تاکہ تعلیم حاصل کر کے ترقی کی منزل طے کی جاسکیں ، یورپی ممالک میں جہاں دنیوی تعلیم جبری ہے۔ وہاں مرد و زن کسی کو تعلیم سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا جاتا۔ سب کو لازماً تعلیم حاصل کرنا پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اقوام دنیوی اعتبار سے ترقی یافتہ ہیں۔ مگر ہمارے ہاں تعلیم پندرہ بیس فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ دینی تعلیم تو ویسے ہی بالکل کمزور ہے۔ صرف ایک دو فیصد لوگ ہی دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں ، دنیوی طور پر بھی ہمارے پچاس فیصد لوگ گنتی تک نہیں جانتے اردو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے اور نہ ہی حساب سے کچھ واقفیت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت عثمان کے زمانے تک مسلمان حصول تعلیم کے اصول پر عمل پیرا تھے ، اور ترقی کی منازل بھی طے کرتے تھے۔ لہٰذا لازم ہے کہ کسی مرد اور عورت کو ضروریات دین کی تعلیم سے بےپہرہ نہیں رہنا چاہئے۔
اس مقام پر کتمان حق کے متعلق یہ نکتہ بیان کیا گیا ہے کہ دیکھو جس قوم کے پاس بام عروج تک پہنچانے والی تعلیم موجود ہو ، وہ اسے لوگوں کے سامنے پیش کرنے کی بجائے اسے چھپائے تو ایسا شخص لعنت کا مستحق نہیں ہوگا تو اور کیا ہوگا۔ اس وقت دنیا جہنم کدہ بنی ہوئی ہے۔ جرائم کی بھرمار ہو رہی ہے۔ اور ہم خاموش بیٹھے ہیں حالانکہ ہمارے پاس وہ تعلیم اور وہ پروگرام موجود ہے جس سے جرائم کی بیخ کنی ہو سکتی ہے …… جس سے انسان کی ذہنی ترقی ہو سکتی ہے اور جس سے تہذیب الاخلاق پیدا ہو سکتا ہے مگر ہم اس تعلیم کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے تیار نہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایا کہ سخت ضرورت کے باوجود جب اس تعلیم کو عام نہیں کیا جائے گا تو اس کا وبال لعنت کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ اسی لئے مولانا عبید اللہ سندھی نے فرمایا تھا کہ ضروریات دین میں سے سب سے پہلا نمبر تعلیم کا ہے۔ اسے جبری طور پر نافذ کرنا چاہئے۔
بینات اور ہدایت
اسی آیت میں اللہ تعالیٰ نے دو چیزوں یعنی بینات اور ہدایت کا ذکر کر کے فرمایا کہ جو لوگ ان دو چیزوں کو چھپاتے ہیں ، وہ اللہ اور لوگوں کی لعنت کے سزاوار ہیں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ بنیات سے مراد وہ واضح باتیں ہیں جو معمولی توجہ سے سمجھ میں آجاتی ہیں۔ ان میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ، اس کی نعمتوں کا شکر اور صبر وغیرہ شامل ہیں اور ہدایت سے مراد ایسی باتیں ہیں جن کو سمجھنے کے لئے استاد کی راہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے ، ایسی چیزیں آسانی سے سمجھ میں نہیں آتیں ان میں شعائر اللہ کی تعظیم بھی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ ان تمام چیزوں کو ہم نے کتاب میں بیان کردیا ہے اس کے بعد اگر کوئی شخص انہیں چھپانے کی کوشش کرے گا تو وہ لعنت کا مستحق ٹھہرے گا۔
کتمان حق کی بیماری مسلمانوں کے لئے بھی ویسی ہی خطرناک ہے جس طرح یہود و نصاریٰ کے لئے مہلک ہے۔ اہل کتاب نے کتاب اللہ سے اعراض کیا اور دیگر خرافات میں لگ گئے لہٰذا ناکام ہوئے ادھر بھی یہی حال ہے مسلمانوں نے قرآن پاک کو پس پشت ڈال دیا ہے اور ٹونے ٹوٹکوں ، بدعات اور شرک پر گزارہ ہے۔ ظاہر ہے کہ ہمارا انجام بھی اہل کتاب سے مختلف نہیں ہو سکتا۔
معانی کا پروانہ
فرمایا لعنت کی اس تعزیر سے وہی بچ سکیں گے الا الذین تابوا جنہوں نے توبہ کرلی۔ واصلحوا اپنے آپ کی اصلاح کرلی۔ یعنی خود کو سنوار لیا۔ سابقہ فرائض و حقوق ادا کئے اور آئندہ کے لئے مستعد ہونے کا عہد کیا وبینوا اور جس چیز کو چھپا رہے تھے اسے واضح طور پر بیان کردیا۔ فرمایا فاولئک اتوب علیھم میں ایسے ہی لوگوں پر رجوع کرتا ہوں۔ وانا التواب الرحیم اور میں رجوع کرنے والا مہربان ہوں۔ مطلب یہ کہ جب کوئی شخص سابقہ کوتاہیوں اور غلطیوں سے تائب ہو کر راہ رسات پر آجائے تو میں اس کی تمام سابقہ لغزشیں معاف کردیتا ہوں۔ مجھ سے بڑھ کر معاف کرنے والا رحیم و کریم اور کوئی نہیں ۔ حتی کہ میں کفر و شرک جیسے اکبر الکبائر کو بھی معاف کردیتا ہوں۔
لعنت کے مستحقین
فرمایا اس کے برخلاف ان الذین کفروا جنہوں نے حق کو تسلیم کرنے کی بجائے اس کا انکار کردیا اور پھر اسی حالت میں ومانوا ان کو موت آگئی وھم کفار اور وہ کافر ہی رہے۔ اولئک علیھم لعنۃ اللہ والمئکۃ والناس اجمعین تو ایسے لوگوں پر اللہ ، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی۔ خلدین فیھا اس لعنت میں وہ ہمیشہ گرفتار رہیں گے۔ لایخفف عنھم العذاب ان کے لئے تخفیف عذاب کا بھی کوئی امکان نہیں ولا ھم ینظرون اور نہ ہی انہیں کوئی مہلت ملے گی۔ مقصد یہ کہ جو لوگ کفر کی حالت میں ہی مر جائیں گے وہ دائمی عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ نہ تو ان کے عذاب میں کچھ کمی کی جائے گی اور نہ ہی اس عذاب کو کچھ دیر کے لئے مئوخر کر کے انہیں مہلت دی جائے گی۔ لعنت کا عذاب اس قدر سخت ہوگا ۔
مسئلہ لعنت کے متعلق مفسرین اور فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ سکی پر لعنت نہیں کرنی چاہئے سوائے اس کے کہ یہ ثابت ہوجائے۔ اس کا خاتمہ کفر پر ہوا ہے کسی کافر پر بھی اس کی زندگی میں لعنت نہیں کرنی چاہئے ، کیونکہ ممکن ہے۔ کہ وہ موت سے پہلے تائب ہوجائے۔ ابلیس پر لعنت کرنا جائز ہے۔ کیونکہ اس کا کفر معلوم ہے۔ اس کے علاوہ برائی پر لعنت درست ہے۔ جیسا کہ صحابہ کرام کو برا بھلا کہنے والوں کے متعلق فرمایا لعنۃ اللہ لعی شرکم تمہارے شر پر خدا کی لعنت یا مثلاً برا کام کرنے الے پر لعنت ہے لعن اللہ … السارق یعنی چور پر اللہ کی لعنت ہو۔ یالعن اللہ … من سب والدیہ اپنے ماں باپ کو گالی دینے والے پر خدا کی لعنت ہو۔ سای طرح فرمایا لعن اللہ من غیر منار الارض مشترک زمین کے نشانتا مٹانے والے پر اللہ کی لعنت ہو۔ لعن اللہ من ذبح لفیر اللہ غیر اللہ کے تقرب کے لئے ذبح کرنیوالے پر اللہ کی لعنت ہو۔ وغیرہ وغیرہ
معبود صرف ایک ہے
فرمایا حقیقت یہ ہے ک ہوالھکم الہ واحدۃ تمہارا معبود صرف ایک ہی معبود ہے۔ کوئی اور معبود حق نہیں ہے۔ لہٰذا عبادت صرف اسی کی کرو ، کفر و شرک سے باز آ جائو۔ لفظ الہ میں محبت کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے اور اس کا معنی فریفتہ ہونے کا ہے۔ اس لئے الہ کا معنی دلربا بھی کیا جاتا ہے۔ شاہ فضل الرحمٰن گنج مراد آبادی نے اس کا ہندی ترجمہ من موہن بھی کیا ہے۔ غرضیکہ لفظ الہ میں محبت کا عنصر بھی پایا جاتا ہے اور محبوب حقیقی خدا تعالیٰ ہے۔ لہٰذا اس کی واحدانیت پر ایمان لانا چاہئے اور خلاص اسی کی عبادت کرنی چاہئے اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں بنانا چاہئے۔ یہ تمام مسائل کی بنیاد ہے ۔ اگر تہذیب اخلاق اس بنیاد پر قائم ہوگا تو درست ہوگا اور نہ ہی لہٰذا معبود وہ ہو سکتا ہے۔ جو مختار گل ، قادر مطلق ، علیم وخبیر نافع اور ضار ہو ، جو مشکل کشائی کرنیوالا ہو۔ ہمہ بیں ، ہمہ دان اور ہمہ تو ان ہو ، وہ جو چاہے کرے۔ لارآد لحکمہ اور جس کے حکم کو کوئی ٹال نہ سکے۔ لا الہ الا ھو اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے اور وہ ایسا معبود ہے الرحمٰن الرحیم جو رحمٰن اور رحیم ہے۔ رحمٰن سے مراد بیحد مہربان ہے اس کا بڑا فیضان ہے اور رحیم سے مراد خصوصی رحمت کرنے والا ہے۔ اہل ایمان کے لئے خصوصی رحمت کا اظہار قیامت کے روز ہوگا۔
امام شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ رحمٰن و رحیم کا تعلق تجلی اعظم سے ہے۔ جیسے الرحمٰن علی العرش استوی “ یعنی رحمٰن کی تجلی عرش پر پڑتی ہے اور جس شخص کا تعلق اس تجلی کے ساتھ ہوجاتا ہے۔ وہ کامیابی کی منزل پا لیتا ہے ۔ اسی لئے فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ تہذیب اخلاق یا تعظیم شعائر اللہ کا واحد مقصد یہ ہے کہ انسان کا تعلق اور رابطہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ قائم ہوجائے۔
یہ بڑی اہم آیت ہے حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ ان دو آیتوں میں اسم اعظم ہے یعنی والھکم الہ واحد لا الہ الا ھو الرحمٰن الرحیم اور آلم اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم اسم اعظم اللہ جلاجلالہ اللہ کا وہ اسم پاک ہے۔ جس کی خاصیت یہ ہے کہ جب اس نام کے ساتھ اسے پکارا جائے تو وہ بندے کی دعا کو سنتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے۔
Ayah 2:164گزشتہ سے پیوستہ
پہلے خانہ کعبہ کے مرکز ہدایت اور قبلہ ہونے کا بیان ہوا۔ اس کے بعد ملت اسلام کے اہم ترین اصول یعنی ذکر الٰہی ، شکر الٰہی صبر اور تعظیم شعائر اللہ کا ذکر ہوا۔ پھر کتاب اللہ کی تعلیم اور اس کی ضرورت و اہمیت بیان کرتے ہوئے ، ان لوگوں پر وبال کا ذکر کیا۔ جو تعلیم کو چھپاتے ہیں اور پھر آخر میں ان تمام چیزوں کی بنیاد توحید الھکم الہ واحد کا بیان ہوا۔ اور پھر آگے توحید کے دلائل کے طور پر دس چیزوں کا ذکر فرمایا ہے۔
کسب معاش
تہذیب الاخلاق کے بعد سوسائٹی کا دوسرا ہم مسئلہ کب معاش ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ ہر شخص کو اس سے واسطہ پڑتا ہے۔ گزر اوقات کے لئے معاش کا کوئی نہ کوئی ذریعہ اختیار کرنا ہی پڑتا ہے ، اس سے کوئی انسان لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں جگہ جگہ اس بات کا ذکر فرمایا ہے کہ ہم نے تمہیں زمین میں اپنا نائب مقرر کیا اور تمہارے لئے معیشت کے مختلف سامان پیدا کئے۔ حضور ﷺ کی حدیث پاک میں بھی آیا ہے کہ رزق حلال کی طلب فریضۃ من بعد الفرائض اللہ کے مقرر کردہ فرائض کے بعد یہ بھی ایک فریضہ ہے اور چونکہ وسائل معاش اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ ہیں۔ اس لئے انسان کے لئے ضروری ہے کہ رزق حلال کی تلاش کے ساتھ ساتھ عبادت بھی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی کرے۔ دوسرے مقام ر آتا ہے ” فابتغوا عند اللہ الرزق “ روزی اللہ کے پاس تلاش کرو۔ کیونکہ اس کے بغیر نہ کوئی رزاق ہے اور نہ کوئی معبود ہے۔ آیت زیردرس میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر کیا ہے۔ جنہیں اللہ نے وسائل معاش بنایا ہے اور انسان کو غور و فکر کی دعوت دی ہے کہ جب اللہ جلا اللہ نے تم پر اتنے بڑے بڑے انعامات کئے ہیں کہ جن کے بغیر تمہاری گذر اوقات ہی ممکن نہیں۔ بلکہ زندگی کا دار و مدار ہی ان چیزوں پر ہے تو پھر تم اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو کیسے معبود بنا لیتے ہو ۔ وسائل معاش کے ان انعامات میں تمہارے لئے توحید الٰہی کے واضح دلائل موجود ہیں۔
آسمانی کرے
اس آیت میں بیان کردہ دس احسانات میں سے اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے تخلیق آسمان کا ذکر فرمایا ان فی خل قالسموت یعنی آسمانوں کو پیدا کرنے میں صاحب عقل لوگوں کیلئے واضح نشانات موجود ہیں۔ تخلیق آسمانی کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے وہ تمام احسانات جتلائے ہیں جو آسمان کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ان میں وہ تمام کرے شامل ہیں جو آسمان کی فضائوں میں موجود ہیں اور باقاعدہ گردش کر رہے ہیں۔ پورا نظام شمسی جس سے کرہ ارض والے مستفید ہو رہے ہیں۔ آسمانی نظام کا ایک حصہ ہے۔ آسمانی کروں میں سورج ، چاند اور زمین بڑے اہم کرے ہیں۔ جن پر انسانی زندگی کا انحصار ہے۔ پھر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے
نہ صرف انہیں پیدا کیا ہے۔ بلکہ انہیں ایک خاص رفتار سے گردش میں لا کر نسل انسانی کی تمام ضروریات زندگی فراہم کردی ہیں۔ نوع انسانی کے لئے روشنی اور حرارت سورج کی مرہون منت ہے۔ اگر انسان کو یہ چیزیں میسر نہ ہوں تو نہ کوئی کام ہو سکے اور نہ خوراک کے لئے غلہ ، سبزیاں اور پھل پک سکیں اور پھر یہ ہے کہ سورج 365 دن میں ایک خاص رفتار سے اپنا چکر پورا کرتا ہے۔ جس سے موسموں کا تغیر و تبدل پیدا ہوتا ہے اور انسان گرما ، سرما ، بہار اور خزاں ہر موسم سے مستفید ہوتا ہے۔ پورے چوبیس گھنٹے کا چکر بھی دن اور رات کی تخلیق کا باعث ہے جس کی وجہ سے انسان کی روزمرہ زندگی میں باقاعدگی پیدا ہوتی ہے۔ اگرچہ موجودہ زمانے کی سائنس نے یہ ثابت کیا ہے کہ سورج اور چاند زمین کے گرد چکر نہیں لگاتے بلکہ زمین ان کے گرد چکر لگاتی ہے اور خود بھی اپنے محور کے گھومتی ہے۔ تاہم جس طریقہ سے بھی ہے آسمانی کروں کا یہ نظام اللہ تعالیٰ نے پیدا فرما کر انسان پر احسان عظیم کیا ہے۔ کیونکہ انسانی زندگی کا انحصار اس نظام کے ساتھ وابستہ ہے۔
زمین کے بعد چاند اپنی منزل 28 یا 29 دن میں پوری کرتا ہے۔ بعض سیارے دو سال میں اپنا چکر پورا کرتے ہیں۔ ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ ثوابت سیارے ایسے ہیں جو اپنا چکر 35 یا 36 ہزار سال میں مکمل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سورج کے متعلق خاص طور پر فرمایا کہ یہ ضیا ہے۔ اسی طرح چاند کی دھیمی دھیمی روشنی کے ذریعے اللہ تعالیٰ پھلوں میں رس پیدا فرماتے ہیں۔ اسی طرح سمندر کے مدو جزر کا تعلق بھی چاند کے بڑھنے گھٹنے کے ساتھ وابستہ ہے۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے تخلیق آسمانی کا ذکر کر کے اس سے وابستہ نظام اور اس سے انسانی مفاد بیان فرمایا ہے۔
زمین
ان فی خلق السموت والارض میں اللہ تعالیٰ نے جس دوسرے احسان کا ذکر کیا ہے وہ تخلیق زمین ہے۔ زمین کے ساتھ انسانی زندگی کی بقا کس حد تک وابستہ ہے۔ یہ روزمرہ کا مشاہدہ ہے۔ انسانی ضرورت کی ہر چیز زمین سے پیدا ہوتی ہے۔ غلہ ، سبزی ، پھل ، نباتات ، جمادات ، ہر چیز کا منبع زمین ہے۔ انسانی زندگی کی اہم ترین چیز پانی بھی زمین کے کھودنے سے نکل آتا ہے۔ اس کے علاوہ مع دنیات کے وسیع ذخائر مثلاً سونا ، چاندی ، کوئلہ ، تانبہ ، نمک ، گندھک ، تیل وغیرہ سب زمین کی پیداوار ہیں۔ لوہے کا تو اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر قرآن پاک میں تذکرہ کیا ہے ” وانزلنا الحدید فیہ باس شدید “ ہم نے بیحد زور والا لوہا پیدا کیا۔ اس میں لوگوں کے لئے بڑے بڑے فائدے رکھے ہیں۔ اس زمانے کو تو لوہے کا زمانہ (Aron Age) بھی کہا جاتا ہے۔ دیکھ لیجیے آج کی دنیا میں لوہا کتنا اہم عنصر ہے۔ ریل ، موٹر ، جہاز بحری ہو یا ہوائی ، چھوٹے چھوٹے اوزار سے لے کر بڑی بڑی مشینری تک تمام کے تمام لوہے کے محتاج ہیں۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے ذخائر بھی زمین ہی میں رکھے ہیں۔ اس کو کام میں لانے کے لئے اسے نرم کر نیکی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے لئے ایندھن بھی کوئلے کی صورت میں زمین ہی سے پیدا کیا ہے۔
قرآن پاک میں پہاڑوں کا ذکر بار بار آتا ہے۔ پہاڑوں کے ساتھ بھی انسانی زندگی کے بہت سے مفاد وابستہ ہیں۔ جن میں پتھر ، چشمے ، جڑی بوٹیاں اور مع دنیات شامل ہیں اور یہ پہاڑ بھی اللہ تعالیٰ نے زمین پر ہی پیدا کئے ہیں۔ کہیں فرمایا ” جعل فیھا رواسی “ زمین میں بوجھل پہاڑ جگہ جگہ رکھ دیئے کہیں فرمایا۔ ” والجبال اوتاداً “ پہاڑوں کو زمین میں میخوں کی طرح گاڑ دیا۔ الغرض پہاڑ بھی زمین ہی کا حصہ ہیں اور زمین ہی سے تمام ضروریات زندگی وابستہ ہیں اور بالآخر مرنے کے بعد زمین ہی اسے اپنی آغو ش میں لیتی ہے۔
رات اور دن کا تغیر
شب و روز کے تغیر و تبدل کے متعلق فرمایا۔ واختلاف الیل والنھار یعنی دن رات کے تغیر میں بھی قدرت الٰہی کے واضح نشانات موجود ہیں۔ عقلمند لوگ سمجھتے ہیں کہ دن رات کی تبدیلی میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے کس قدر منفعت رکھی ہے۔ دن کے وقت انسان کام کاج کر کے اپنی روزی پیدا کرتا ہے اور پھر جب دن بھر کے کام سے تھک جاتا ہے تو آرام کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے آرام کے لئے رات بنا دی تاکہ وہ آرام و سکون حاصل کر کے اگلے دن کی مشقت کے لئے پھر سے کمربستہ ہوجائے اگر ہمیشہ دن ہی رہتا یا ہمیشہ رات ہی چھائی رہتی تو گذر اوقات میں کس قدر مشکلات آتیں۔ سورة قصص میں فرمایا ذرا دیکھو تو سہی ” ان جعل اللہ علیکم الیل سرمد الی یوم القیامۃ من الہ غیر اللہ یاتیکم بضیآء “ اگر اللہ تعالیٰ قیامت تک کے لئے دن ہی قائم رکھتا تو تمہارے سکون و آرام کے لئے رات کو کون لاسکتا تھا۔ مقصد یہ کہ اللہ تعالیٰ نے دن اور رات میں اختلاف پیدا کر کے انسان پر احسان عظیم کیا ہے۔
بحری جہاز
اس کے بعد فرمایا والفلک التی تجری فی البحر دریا اور سمندر میں چلنے والی کشتیاں اور جہاز بما ینفع الناس جن سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں یہ بھی ایسی چیزیں ہیں جن میں عقل و شعور رکھنے والے لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ دریائی اور سمندری راستے زمانہ قدیم سے نقل و حمل کے معروف راستے ہیں۔ جوں جوں دنیا نے ترقی کی ہے۔ اذرائع میں خاطر خواہ ترقی ہوئی ہے۔ بادبانی کشتیوں کی جگہ بڑے بڑے مال بردار جہاز معرض وجود میں آئے ہیں۔ جن کے ذریعے لاکھوں ٹن مال ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاسکتا ہے۔ خشکی اور ہوائی ذرائع کی نسبت بحری ذرائع سے نقل و حمل آج بھی سستی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کسی ایک کونے میں پیدا ہونے والی چیز دنیا کے دوسرے کونے تک با آسانی پہنچ رہی ہے جس سے لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کشتی نوح کا ذکر کر کے اسے ہمیشہ کے لئے نمونہ بنا دیا ہے۔ لاکھوں ٹن وزنی بحری جہاز جدید ٹیکنالوجی اور علم ریاضی کے مرہون منت ہیں مگر ان فنون کی حقیقی ایجاد دراصل حضرت ادریس (علیہ السلام) کے ہاتھوں سے ہوئی ان کو اخنوج کہا گیا ہے تفسیر مدارک والے نے لکھا ہے کہ قلم کے ساتھ لکھنے کا سلسلہ بھی سب سے پہلے حضرت ادریس (علیہ السلام) سے شروع ہوا ، کپڑے سینے کا ہنر اور مشینری بھی ان کے ہاتھوں سے ایجاد ہوئی …… ستاروں سے متعلق معلومات ، علم حساب اور ناپ تول کے اوزان بھی انہوں نے رائج کئے مختلف مواقع پر استعمال ہونے والا اسلحہ بھی حضرت ادریس (علیہ السلام) کے ہاتھوں سے ظہور میں آیا۔
پانی کا نزول
نشانات قدرت ہی کے بیان میں فرمایا وما انزل اللہ من السمآء من مآء اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے آسمان سے پانی نازل کیا ہے فاحیابہ الارض بعد موتھا جس کے ذریع مردہ زمین کو دوبارہ زندہ کیا ہے۔ انسان اور جانوروں کے لئے خوراک کی پیداوار کا انحصار پانی پر ہے۔ اگر پانی نہ ہو تو کوئی چیز پیدا نہ ہو۔ آسمان سے نزول آب سے مراد بارش ہے۔ قرآن پاک میں بار بار آتا ہے کہ دیکھو ہم کس طرح بادلوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ چلاتے ہیں اور پھر ان کے ذریعے خشک زمین پر بارش برسات یہیں۔ جس کے ذریعے ہم کھیتیاں اگاتے ہیں ، جو تمہارے اور تمہارے جانوروں کے لئے خوراک بنتی ہیں۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا انعام ہے کہ کھیتی باڑی کا کام جدید طرز پر ہونے لگا ہے۔ آلات زراعت میں ترقی ہوئی ہے۔ ذرائع آبپاشی کی سہولتیں میسر آئی ہیں۔ نئی قسم کی کھادیں دریافت ہوئی ہیں جن سے پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ تمام چیزیں انسانی معیشت سے متعلق ہیں اور اللہ تعالیٰ کے انعامات ہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ ان میں عقل مند لوگوں کے لئے واضح نشانات ہیں۔
جانوروں کی نسل کشی
نزول آب کے بعد فرمایا وبث فیھا من کل دآبۃ یہ اللہ تعالیٰ کے واضح دلائل میں سے ہے کہ اس نے زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلا دیئے۔ ذرا غور فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی خدمت کے لئے اتنے جانور پیدا فرمائے ہیں جن کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔ انسانی زندگی کا جانوروں کے ساتھ گہرا تعلق ہے خصوصاً وہ مویشی جن کا گوشت ، دودھ ، کھال اور ہڈیاں لوگ استعمال کرتے ہیں انہیں انسانی معیشت میں بڑا عمل دخل ہے ۔ اونٹ گائے ، بھینس ، بھیڑ بکریاں ، نہ صرف دودھ مہیا کرتے ہیں۔ بلکہ یہ انسانی خوراک کا بھی حصہ ہیں۔ اسی طرح گھوڑے ، اونٹ اور گدھے وغیرہ بار برداری اور سواری کے کام آتے ہیں۔ مرغ ، بٹیر اور مچھلی خوراک کا حصہ ہیں۔ مرغی کے انڈے انسانی خوراک کا اہم جزو ہیں۔ شکاری جانور بھی انسان کے لئے خوراک مہیا کرتے ہیں۔ اب تو صید الحیوانات ایک مستقل سلسلہ اور پیشہ بن گیا ہے۔ یہ تمام چیزیں اسباب معاش میں داخل ہیں اور اللہ نے انہیں نشانات قدرت کے طور پر بیان فرمایا ہے۔
ہوائوں کی گردش
آگے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے اور نشانی ہوا کا ذکر ہے۔ فرمایا وتصریف الریح ہوائوں کی گردش بھی صاحب عقل لوگوں کے لئے نشان راہ ہے۔ ہر ذی جان کے لئے ہوا اس قدر ضروری ہے کہ اس کے بغیر انسان و حیوان چند منٹ بھی زندہ نہیں رہ سکتے ۔ ہوا ہمیشہ گردش کرتی رہتی ہے ، کبھی مشرق سے مغرب کی طرف اور کبھی مغرب سے مشرق کی طرف چلتی ہے۔ کبھی اس کا رخ شمالاً جنوباً ہوتا ہے۔ جو انسانوں اور جانوروں کے لئے سکون کا باعث ہوتا ہے۔ جب ہوا کی گردش رک جاتی ہے۔ تو لوگ گرمی میں تڑپ جاتے ہیں۔ پرانے زمانے میں ہوا کے ذریعے بادبانی کشتیاں چلتی تھیں ، اسی کے ذریعے لوگ بھوسے سے غلہ علیحدہ کرتے تھے۔ ہوا ہی بادلوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لیجانے کا باعث بنتی ہے اور دور دور تک بارش ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے تسخیر ہوا کا قانون بھی انسان کو سمجھایا۔ پانی سے بھاپ بنتی ہے جس سے ریل گاڑیاں چلتی ہیں اور ملوں میں بڑے بڑے کام لئے جاتے ہیں۔ بڑی سے بڑی مشینری حرکت میں آتی ہے جس کے ذریعے انسانی مفاد کی بیشمار چیزیں تیار ہوتی ہیں۔ دخانی جہاز بھی بھاپ سے چلتے ہیں۔ یہ سب تسخیر ہوا کے کرشمے ہیں۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے تیز ہوا یعنی آندھی کے وقت کے لئے دعا سکھائی اللھم انی اسئلک من خیرھا وخیر مافیھا اے اللہ میں ہوا اور جو کچھ اس کے اندر موجود ہے۔ اس کی خیر مانگتا ہوں۔ واعوذبک من شرھا و شرما فیھا اور میں تیری ذات کی ساتھ ہوا کے شر سے اور جو کچھ اس میں ہے اس کے شر سے پناہ مانگتا ہوں۔ دوسری جگہ فرمایا اللھم اجعلھا ریاحاً ولاتجعلھا ریحاً اے اللہ ! ہوا کو ریاح یعنی خوشگوار بنا اور اس کو ریج یعنی عذاب نہ بنا۔ قرآن پاک میں جہاں کہیں لفظ ریح استعمال ہوا ہے تو وہاں سزا کا ذکر ہے۔ جیسے فرمایا کہ ہم نے قوم عاد پر بانجھ قسم کی ہوا بھیجی ” اذا ارسلنا علیھم الریح العقیم “ یہی ہوا بعض اوقات بڑی نرم اور خوشگوار ہوتی ہے۔ فرمایا نصرت بالصبا میری مشرق سے چلنے والی خوشگوار ہوا سے مدد کی گئی ہے۔ اللہ نے مجھ پر مہربانی فرمائی ہے۔ اسی تند و تیز ہوا نے غزوہ خندق کے موقع پر کفار کے خیمے اکھاڑ دیے ، سامان درہم برہم کردیا اور انہیں وہاں سے بھاگنا پڑا۔ اسی طرح قوم عاد مغرب کی طرف سے چلنے والی گرم ہوا کا شکار ہوئی اور تباہ و برباد ہوگئی واما عاد فاھلکوا بریح صرصرعاتیۃ تو بہرحال ہوائوں کا چلنا بھی نشانتا قدرت میں سے ہے اور عقلمند لوگوں کے لئے باعث عبرت ہے۔
مسخر بادل
فرمایا والسحاب المسخربین السمآء والارض زمین و آسمان کے درمیان تسخیر شدہ بادل بھی لایت لقوم یعقلون صاحب عقل لوگوں کے لئے نشانات ہیں۔ بادلوں کی تسخیر کا مطلب یہ ہے کہ یہ مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں ہیں۔ وہ جس طرح چاہتا ہے ، ان سے کام لیتا ہے جس رخ پر چاہے انہیں موڑ دیتا ہے اور جہاں اس کی مشیت ہوتی ہے۔ ان سے بارش برسا دیتا ہے۔ جس سے فصلوں میں بہار آجاتی ہے۔ کھیتیاں ہری بھری ہوجاتی ہیں ، مگر جب انہیں بادلوں سے وافر پانی بہا دیا جاتا ہے۔ تو بڑے بڑے طوفانوں کا پیش خیمہ ہوتے ہیں اور تباہی اور بربادی کا باعث بنتے ہیں۔ جب اللہ کا حکم ہوتا ہے۔ تو انہی سحاب مسخر سے اولے برسنے لگتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے پکی پکائی فصلیں کوڑے کا ڈھیر بن جاتی ہیں۔ لہٰذا یہ بھی نشانات قدرت میں سے ہے کہ اللہ تعالیٰ سفید ، سایہ اور سرخ بادلوں کے ذریعے اپنی منشاء کے مطابق مختلف قسم کے کام لیتا ہے۔
نشانات قدرت
یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی وحدانیت کی دلیل ہیں۔ یہ تمام چیزیں ممکنات میں سے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہیں۔ اللہ کے سوا ان کو پیدا کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ یہ تمام چیزیں اپنے جسم ، مفاد ، اغراض اور بقا میں خود محتاج ہیں۔ اور اللہ کی وحدانیت کا ثبوت ہیں۔ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اسباب معاش بھی سمجھا دیئے۔ یہ تمام چیزیں اس کی قدرت کے نشان ہیں۔ مگر ان لوگوں کے لئے جو صاحب عقل ہیں اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم نہیں ہیں۔ مگر جو لوگ غور و فکر کی اہلیت سے محروم ہیں۔ انہیں قدرت کے یہ بڑے بڑے نشان بھی کچھ فائدہ نہیں دیتے ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایا ” یمرون علیھا وھم عنھا معرضون “ کہ لوگ اللہ کی نشانیوں سے گزر جاتے ہیں مگر وہ ان سے غافل رہتے ہیں۔ قدرت کی دلیلیں ان پر کچھ اثر نہیں کرتیں۔
الغرض ! اللہ تعالیٰ نے ” الھکم الہ واحد “ پر یہاں دس دلائل بیان فرمائے ہیں اور ساتھ یہ بات بھی سمجھا دی کہ تہذیب اخلاق کے بعد دوسرا مسئلہ کسب معاش کا آتا ہے اور معاش کے تمام اسباب خدا تعالیٰ کے پیدا کردہ ہیں لہٰذا عبادت بھی صرف اسی کی کرنی چاہئے۔