Ayahs 2:113–115(یہود ونصاری آمنے سامنے)
یہودیوں اور نصاری کی منجملہ خرابیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایک گروہ دوسرے کو باطل قرار دیتا ہے اور اپنے آپ کو راہ راست پر سمجھتا ہے تیسرا گروہ مشرکین کا ہے جو یہود ونصاری دونوں کو باطل کہہ کر اپنے آپ کو صحیح العقیدہ سمجھتا ہے تو گویا یہود ونصاری ایک دوسرے کا ابطال کرتے ہیں ان آیات میں اسی چیز کو بیان کیا گیا ہے (آیت) ” وقالت الیھود لیست النصری علی شیئ “۔ یہودی کہتے ہیں کہ نصرانی کسی چیز پر نہیں ہیں (آیت) ” وقالت النصری لیست الیھود علی شیئ “۔ اور نصرانی کہتے ہیں کہ یہودی کسی چیز پر نہیں ہیں یعنی ان کا دین سچا نہیں ہے ، اس طرح جب یہ اکھٹے ہوتے ہیں تو آپس میں دست و گریبان ہوتے ہیں ، یہودیوں کا اعتراض یہ ہے کہ عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا تعالیٰ کا بیٹا کہہ کر کفر کیا ، اور عیسائیوں کا نظریہ یہ ہے کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تو یہودیوں نے نہ صرف ان کا انکار کیا ، بلکہ انجیل کو تسلیم کرنے سے بھی انکار کردیا ، لہذا یہ گمراہ ہوئے فرمایا یہ دونوں فرقے ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے ہیں (آیت) ” وھم یتلون الکتب “۔ حالانکہ یہ دونوں گروہ ہی اللہ تعالیٰ کی کتاب یعنی تورات اور انجیل کی تلاوت کرتے ہیں اس کے باوجود ان میں اس قدر اختلاف پایا جاتا ہے ۔
(کتب سماویہ برحق ہیں)
حقیقت یہ ہے کہ توراۃ انجیل ، زبور ، قرآن پاک اور دیگر صحائف سب کے سب برحق ہیں اللہ تعالیٰ نے اصل دین انہی کتب کے ذریعے نازل فرمایا ، مگر ان بدبختوں نے تحریف کرکے دین کو مسخ کردیا تاہم اصل دین ان کی کتابوں میں اب بھی موجود ہے جنہیں یہ پڑھتے ہیں ، لہذا کسی کتاب کا بالکل انکار کردینا کہ اس میں کچھ بھی نہیں انصاف کے خلاف ہے اور اہل کتاب کی ہٹ دھرمی کی دلیل ہے ہاں یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ یہودیوں کا اصل دین تو ٹھیک تھا ، مگر انہوں نے خرابیاں پیدا کردیں ، یانصاری کا دین اور کتاب برحق ہے مگر ان کی تحریفات نے اسے کچھ اور بنا دیا ہے ایک دوسرے مذہب کو بالکل ہی باطل قرار دینا درست نہیں ۔
(حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر الزام تراشی)
جب قرآن پاک نازل ہوا تو اس نے توراۃ اور انجیل کی تصدیق کی کہ یہ دونوں آسمانی کتابیں ہیں ، انہیں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ، اس کے علاوہ تمام صحف سماویہ کی بھی تصدیق کی البتہ قرآن پاک نے ان مقامات کی ضرور نشاندہی کی جہاں جہاں سے یہ لوگ بھٹکے ہیں اور جہاں جہاں انہوں نے کتب میں تحریف کی ہے ، پہلے گذر چکا ہے کہ یہودیوں نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف کفر کا کلمہ منسوب کیا ، اور کہا کہ ان کی سلطنت سحر پر قائم تھی ، لہذا ہم بھی ان کی سنت پر عمل کرتے ہوئے سحر کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” وما کفر سلیمن “۔ یعنی سلیمان (علیہ السلام) نے جادو کر کے کفر کا ارتکاب نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود کفر کا ارتکاب کیا ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) تو اللہ تعالیٰ کے صاحب شریعت رسول تھے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیمثال حکومت عطا کی تھی ، ان سے سحر کی توقع کرنا بعید از قیاس ہے ، انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی (آیت) ” رب اغفرلی وھب لی ملکا لاینبغی لاحد من بعدی “۔ یا اللہ ! مجھے ایسی سلطنت عطا کر جو میرے بعد کسی کو عطا نہ ہو ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو شرف قبولیت بخشا اور آپ کے لیے ہوا اور جنات کو مسخر کردیا ، مگر ان ظالموں نے سمجھا کہ یہ جادو کا اثر ہے ، العیاذ باللہ ۔
(مشرکین کا نظریہ)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ادھر مشرکین کا حال بھی یہود ونصاری سے کم نہیں ، (آیت) ” کذلک قال الذین لا یعلمون مثل قولھم “۔ عرب کے مشرکین بھی وہی بات کرتے ہیں ، جو اہل کتاب نے کی یہ کہتے ہیں کہ نہ یہود ونصاری حق پر ہیں اور نہ مسلمان حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ کچھ بھی نہیں جانتے ، یہ تو جاہل مطلق ہیں ، نہ ان کے پاس کوئی کتاب ہے جس سے یہ راہنمائی حاصل کرسکیں اور نہ ہی دو (2) ہزار سال کے عرصہ میں ان کے پاس کوئی نبی آیا ہے حضرت اسمعیل کے بعد تقریبا ڈیڑھ ہزار سال تک عرب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے دین پر قائم رہے ، اس کے بعد ان میں بگاڑ پیدا ہونا شروع ہوا ، اور پھر ایسا وقت بھی آیا کہ سب کے سب شرک کی طرف مائل ہوگئے ، ہزاروں میں سے کوئی اکا دکا ہی موحد ملتا تھا ، ورنہ سب دین سے ہٹ چکے تھے ۔
(آخری فیصلہ عدالت الہی میں ہوگا)
الغرض ! یہود ونصاری اور مشرکین تینوں گروہوں نے ایک دوسرے کی تکذیب کی اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ جو کچھ چاہے کہتے اور کرتے رہیں (آیت) ” فاللہ یحکم بینھم یوم القیمۃ “۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہی ان کے درمیان فیصلہ کرے گا کہ کون حق پر ہے اور کون اصل دین سے پھر چکا ہے ، ان کا فیصلہ ہر اس معاملہ میں ہوجائے گا ۔ (آیت) ” فیما کانوا فیہ یختلفون “۔ جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں فرمایا ان کے درمیان قطعی فیصلہ تو قیامت کو ہوگا تاہم جہاں تک ہدایت اور گمراہی کا تعلق ہے تو اس کے متعلق اسی سورة میں آگے آ رہا ہے : (آیت) ” قد تبین الرشد من الغی “۔ ہدایت اور گمراہی بالکل واضح ہوچکی ہیں دنیا میں حق کے متلاشی کے لیے اللہ تعالیٰ بیشمار ذرائع پیدا فرما دیے ہیں ، وہ حق وصداقت کی پہچان کرسکتا ہے ، سورة انفال میں ہے (آیت) ” ویحی من حی عن بینہ “۔ جو ہلاک ہوا وہ بھی واضح دلیل کے کے ساتھ اور جو زندہ ہے وہ بھی واضح دلیل کے ساتھ زندہ ہے حق و باطل کی تفریق ہوچکی ہے جنگ بدر کے مقتولین یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کے پاس واضح دلیل نہیں آئی تھی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کا نبی آیا ، اللہ تعالیٰ کی کتاب آئی مگر انہوں نے انکار کر کے مقابلہ کیا اور ہلاک ہوئے ۔
مقصد یہ کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں باعتبار دلیل ، عقل ، دستور اور قانون ہدایت اور گمراہی کو بالکل واضح کردیا ہے ، اب کسی کا کوئی عذر قبول نہیں ہوگا ، تاہم قطعی اور اٹل فیصلہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں ہوگا بخاری شریف میں حضرت علی ؓ سے مروی ہے (1) (بخاری ص 565 ، ج 2) ” ان اول من یحبثو بین یدی الرحمن “۔ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن میں گھٹنے ٹیک کر رحمن کے سامنے بیٹھوں گا اور درخواست کروں گا کہ اے پروردگار ! آپ ان بدر والوں سے پوچھیں کہ یہ ہم سے کیوں لڑے تھے گویا اس دن حق و باطل کے تمام فیصلے اللہ تعالیٰ کے دربار میں ہوں گے ، اسی طرح ایک دوسرے کو باطل فرقہ کہنے والوں کا فیصلہ بھی اسی روز ہوگا ۔
اسی دنیا میں اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کی تفریق کے لیے تمام حجت پوری کردی ہے امام بیضاوی (رح) (آیت) ” اھدنا الصراط المستقیم “۔ کی تفسیر میں فرماتے ہیں (2) (تفسیر بیضاوی ص 7۔ ج 1) کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل وخرد عطا کی ، انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام مبعوث فرمائے کتابیں نازل فرمائیں اب کون سا عذاب باقی رہ گیا ہے ، قیامت کو کون کہے گا ما (آیت) ” ما جآء نا من بشیر ولا نذیر “۔ کہ ہمارے پاس خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا ، اب تو بشیر ونذیر آچکے ، لہذا قیامت کے دن کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا ، حضرت زبیر ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا تھا ۔ ” اتکرعلینا الخصومۃ “۔ حضرت ! قیامت کو ہمارا اور ان کا جھگڑا دوبارہ قائم ہوگا یہ فرمایا (1) (ترمذی ص 466 ، تفسیر ابن کثیر ص 52 ، ج 4) ہاں ! جن تنازعات کا فیصلہ دنیا میں نہیں ہوا ، ان کا فیصلہ رب العزت کی بارگاہ میں ضرور ہوگا ۔
حضور ﷺ نے فرمایا یہ تینوں فرقے یعنی یہود نصاری اور مشرک جو ایک دوسرے کو گمراہ کہتے ہیں یہ خود سارے کے سارے گمراہ ہیں ، یہودیوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو ماننے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ انہیں دجال کہا اور جب قرب قیامت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دوبارہ دنیا میں نزول فرمائیں گے ، تو اصفہان کے ستر ہزار یہودی جن میں ان کے بڑے بڑے علماء بھی ہوں گے اور پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ماننے کی بجائے دجال کے پیچھے لگیں گے اور اس کو مسیح سمجھیں گے یہی لوگ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو (العیاذ باللہ) دجال سمجھ کر انہیں سولی پر لٹکانے کیلے لے گئے ، ان کم بختوں کا یہ حال ہے ۔
(تحویل قبلہ)
جب حضور ﷺ ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو سولہ (16) یا (17) سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے رہے ، مقصد یہود کی دلجوئی تھی ، تاکہ وہ مسلمانوں کے قریب ہوں اور دین کی طرف راغب ہو سکیں ، تحویل قبلہ کی آیات قرآن پاک کے دوسرے پارہ کی ابتداء سے شروع ہوتی ہیں ، مگر اس معاملے میں بھی یہودیوں نے ہٹ دھرمی کا ثبوت دیا ، اپنے تعصب میں مبتلا رہے ، اور مسلمانوں کے قریب نہ آئے ، چونکہ حضور ﷺ کی دلی خواہش یہی تھی کہ مسلمانوں کے لیے بیت اللہ قبلہ مقرر ہو لہذا اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت میں تحویل قبلہ کا حکم دے دیا کہ مسلمان جہاں کہیں بھی ہوں بیت اللہ شریف کی طرف منہ کر کے نماز ادا کریں اسی طرح یہودی اپنی ضد اور عناد کی وجہ سے اسلام سے اور دور ہوگئے ۔
(عبادت میں رکاوٹ)
الغرض ! اللہ تعالیٰ نے ان برائیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ اس قدر عنادی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو عبادت کرنے سے بھی روکتے ہیں ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ومن اظلم ممن منع مسجد اللہ ان یذکر فیھا اسمہ وسعی فی خرابھا “۔ اس سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی مسجدوں میں اس کا نام لینے سے روکتا ہے اور ان کی بربادی کی کوشش کرتا ہے حضرت مولانا شیخ الہند (رح) فرماتے ہیں (1) (حاشیہ قرآن مترجم ص 22 ، مطبوعہ دارالتصنیف کراچی) کہ اس آیت کے مصداق نصاری ہیں ، جنہوں نے یہود کا مقاتلہ کرکے توراۃ کو جلایا تھا ، اور بیت المقدس کو ویران کیا تھا ، یہ آیت مشرکین مکہ پر بھی صادق آتی ہے ، جنہوں نے 6 ھ میں مسلمانوں کو حدیبیہ کے مقام پر روک لیا تھا ، اور حرم پاک میں عمرہ ادا نہیں کرنے دیا تھا حالانکہ مسلمان محض عمرے کی ادائیگی کے لیے آئے تھے ، ان کا لڑائی کرنے کا ارادہ نہیں تھا ، یہ تو اس وقت کے واقعات ہیں یہ آیت آج بھی اسی طرح نافذ ہے جس طرح یہ اپنے نزول کے وقت تھی آج بھی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی مسجدوں میں اس کا نام لینے سے روکتا ہے مسجد کی بربادی کا باعث بنتا ہے وہ اس آیت کی رو سے بہت بڑا ظالم ہے ۔
یہودی اور نصرانی ہمیشہ ایک دوسرے کو مساجد میں جا کر عبادت کرنے سے روکتے رہے ہیں ، تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی یہود کو موقع ملا انہوں نے نصاری کے ساتھ یہی سلوک کیا ، اور جب نصاری کو غلبہ حاصل ہوا ، تو ان ظالموں نے بیت المقدس کو اکھاڑ دیا تورات کو نذر آتش کیا اور عبادت خانوں کو برباد کیا ، مشرکین مکہ نے بھی مسلمانوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا ، مکی زندگی میں حضور ﷺ خانہ کعبہ میں نماز ادا نہیں کرسکتے تھے ، مشرکین مسلمانوں کو سخت اذیتیں دیتے تھے ، حضرت ابوذر غفاری ؓ کی پٹائی کا ذکر بخاری شریف میں موجود ہے (2) (بخاری ص 545 ، ج 1۔ مسلم ص 297 ، ج 2) ۔ ابوجہل کی حرکات کا ذکر خود قرآن پاک نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے (3) (بخاری ص 740 ، ج 2) (آیت) ” ارء یت الذی ینھی “۔ عبدا اذا صلی “۔ کیا تم نے اس بدبخت شخص کو دیکھا جو اللہ تعالیٰ کے بندے کو نماز پڑھنے سے روکتا ہے ۔
دوسرے مقام پر جھوٹے مدعی نبوت کو بڑا ظالم کہا گیا ہے ، کہ اس سے بڑا کوئی ظالم ہو سکتا ہے ، جو نبوت کا جھوٹا دعوی کرتا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ اس سے بڑا کون ظالم ہے جس کے پاس خدا تعالیٰ کا نبی آئے ہدایت کی بات پیش کرے اور وہ اس سے انکار کر دے ۔ تاہم اس مقام پر ظالم کی تعریف یہ کی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ کے گھر میں اس کی مساجد میں عبادت کرنے سے ، نماز پڑھنے سے روکتا ہے یہ تو ظاہری رکاوٹ ہے کہ کسی کو عبادت کرنے سے روک دیا جائے ، یہ عبادت خانے کی بربادی کے مصداق ہے ، اس کے علاوہ ایک باطنی بربادی بھی ہے کہ وہاں پر غیر اللہ کی پرستش کی جائے ، بدعات کو فروغ دیا ، ایسا کرنے سے بظاہر تو عبادت خانہ آباد ہوگا ، مگر باطنی طور پر ہدایت سے خالی ہوگا اور یہ باطنی خرابی ہے ۔
(تمام عبادت خانے قابل تعظیم ہیں)
سورة حج میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عبادت خانہ یہود کا ہو یا نصاری یا کسی اور کا اسے گرانے کا حکم نہیں ہے ، مسلمانوں کی مساجد کا بھی یہی حکم ہے ان کو گرانے یا ان کی بےحرمتی کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ، مگر دیکھ لیجئے 1947 ء میں تقسیم ہند کے وقت کیا کچھ ہوا ، مشرقی پنجاب میں پچاس ہزار مساجد کی بیحرمتی ہوئی ، ہندؤں اور سکھوں سے کیا توقع کی جاسکتی تھی ادھر مغربی پنجاب میں بھی یہی کچھ ہوا کتنے مندر تھے جنہیں تباہ وبرباد کردیا گیا ، دونوں فریقوں نے غلط کام کیا عبادت خانے خواہ کسی سے متعلق ہوں ان کی بیحرمتی نہیں ہونی چاہئے ۔
ظہور اسلام کے وقت جو عرب قبائل شرک سے تائب ہو کر ایمان کی دولت سے سرفراز ہوئے انہوں نے اپنے مندر اور بہت خانے خود گرا دیے تھے اور وہاں پر مسجدیں تعمیر کی تھیں (1) (سنن نسائی ص 114۔ ج 1) یہاں تک تو درست ہے کہ ان لوگوں نے اپنے ہی تعمیر کردہ معاہد کی جگہ مسجدیں تعمیر کرلیں عبادت خانے کی جگہ عبادت خانہ ہی تعمیر ہوا ، تاہم مسلمانوں نے اپنے عروج کے زمانے میں بھی غیر مسلم اقوام کی عبادت گاہوں کو نقصان نہیں پہنچایا ، محمد بن قاسم جب سندھ پر حملہ آور ہوا تو ہندوؤں کے بعض مندروں کو نقصان پہنچا تھا مسلمانوں نے خود اس نقصان کی تلافی کی ، اور نقصان زدہ مندروں کو دوبارہ تعمیر کروایا کیونکہ کسی کے عبادت خانے کو گرانے کا حکم ہرگز نہیں ہے ۔
البتہ سلطان محمود غزنوی (رح) نے سومنات کے مندر کو گرا کر کوئی اچھا کام نہیں کیا تھا وقتی طور پر وہاں مسجد بھی بنا دی ، مگر وہ دیرپا ثابت نہ ہوئی ایک ہزار سال کے بعد ہندوؤں نے پھر وہاں پر مندر تعمیر کیا ، راجند پر شاد نے سوا لاکھ روپے کے عوض کابل سے مندر کا گیٹ بھی واپس منگوا کر اسی جگہ نصب کیا ، جہاں سے اکھاڑا گیا تھا ، ظاہر ہے کہ غلط کام کا نتیجہ کبھی صحیح نہیں ہو سکتا ۔
ترکوں نے بھی اپنے دور میں ابا صوفیہ کا گرجا گرا کر وہاں مسجد تعمیر کرلی ، جب انگریز کو وہاں غلبہ حاصل ہوا تو وہاں پر گرجا بنا ، اب چیختے ہیں کہ ہماری مسجد تھی ، بہت بڑی لائبریری تھی جو ضائع ہوگئی مگر جس طرح تم نے کیا ، اسی طرح کا جواب انہوں نے دیا اب چیخنے چلانے کا کیا مطلب ، وہاں اگر عیسائی خود مسلمان ہو کر اپنے گرجا کو مسجد میں تبدیل کردیں ، تو وہ جائز ہے مگر کسی کے عبادت خانے کو زبردستی گرانا بالکل نامناسب ہے ۔
(مسجد کے آداب)
جس طرح مسجد کا ظاہری طور پر پاک صاف رکھنا ضروری ہے ، اسی طرح مسجد کو باطنی خرابی سے محفوظ رکھنا بھی اہل اسلام کی ذمہ داری ہے ، باطنی خرابی یہ ہے کہ مسجد کو اس کے اصل مقصد کے علاوہ کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال کیا جائے مسجد عبادت خانہ ہے اس میں نماز ، تلاوت ، ذکر و اذکار ہونا چاہئے ، نہ کہ دنیا کے دوسرے کاروبار ، اسی لیے حضور ﷺ نے مسجد میں حد قائم کرنے سے منع فرمایا ہے (1) (ابوداؤد ص 261۔ ج 2) مسجد میں کسی مقدمے کا فیصلہ تو وہ سکتا ہے مگر ملزم کو سزا نہیں دی جاسکتی کہ اس سے مسجد کی بیحرمتی ہوتی ہے مسجد میں لڑائی جھگڑا کرنا ، فحش کلامی گالی گلوچ کرنا ، گندگی پھینکنا ، تجارت یا لین دین کرنا ، یہ سب مسجد کے آداب کے خلاف ہے حضور ﷺ نے گمشدہ چیز کا مسجد میں اعلان کرنے سے منع فرمایا (2) (ترمذی ص 74) بلکہ فرمایا کہ جو شخص میں مسجد گمشدگی کا اعلان کرے ، اس کے حق میں یوں دعا کرو ، کہ اللہ تعالیٰ تیری چیز تجھے واپس نہ لوٹائے (3) (مسلم ص 210 ۔ ج 1) تو نے آداب مسجد کا خیال نہیں رکھا اسی طرح فرمایا (4) (ترمذی 22 ، دارمی ص 266۔ ج 1) کہ مسجد میں تجارت کرنے والے کے حق میں کہو کہ اللہ تعالیٰ تجھے اس تجارت میں نفع نہ دے ۔
مسجد میں شعر گوئی سے بھی منع کیا گیا ہے ۔ (5) (ترمذی ص 74) ہاں البتہ اگر کوئی اچھی بات کہتا ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی تعریف کرتا ہے تو جائز ہے ایسی شعر گوئی حضور ﷺ کے صحابی حضرت حسان بن ثابت ؓ سے منقول ہے (6) ( ترمذی ، 74) موجودہ زمانے کی طرح مسجد میں ہر قسم کی شعر گوئی کی اجازت نہیں جس میں عشقیہ غزلیں گائی جاتی ہیں ، حضور ﷺ نے تناشد الاشعار سے منع فرمایا مسجد کی بےادبی کے بعض دوسرے ذرائع سے بھی کیا گیا ہے مثلا ابن ماجہ شریف کی روایت کے حضور نے فرمایا (1) (ابن ماجہ ص 54 ، مجمع الزوائد ص 26 ج 2 ، بحوالہ طبرانی) کہ چھوٹے بچوں یا کسی پاگل کو مسجد میں نہ آنے دو ، وہ مسجد کی بیحرمتی کا باعث بن سکتے ہیں چھوٹا پر پیشاب پاخانہ وغیرہ کر دے گا ، وہ ابھی شعور نہیں رکھتا ہاں جب بچہ پانچ سات سال کا ہوجائے تو مسجد میں آسکتا ہے ۔
الغرض ! فرمایا اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جو اللہ تعالیٰ کی مسجدوں میں اللہ تعالیٰ کا نام لینے سے منع کرتا ہے ، اور مسجدوں کی بربادی کے لیے کوشش کرتا ہے ، فرمایا (آیت) ” اولیک ما کان لھم ان یدخلوھا الا خائفین “۔ ان لوگوں کا اصل میں حق ہی نہیں ہے کہ وہ مسجدوں میں داخل ہوں مگر خوف کھاتے ہوئے یعنی کفار اس لائق ہی نہیں کہ مسجدوں میں داخل ہوں ، سوائے اس کے کہ وہ خوفزدہ ہوں ۔
(خشوع و خضوع)
(آیت) ” الا خائفین “۔ کا مطلب یہ بھی ہے کہ مسجد میں خشوع و خضوع کے علاوہ کوئی بات نہیں کرنی چاہئے آواز کو بلند کرنا قیامت کی نشانیوں میں سے بتایا گیا ہے (2) (ترمذی 322) مسجد میں چیخ و پکار اور ایسی ایسی دنیوی باتیں کرنے کی ممانعت ہے حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے ، (3) (ترمذی ص 505) ” اذا مررتم بریاض الجنۃ فارتعوا “۔ جب تم جنت کے باغوں میں جاؤ تو وہاں چرچگ لیا کرو ، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا حضور ! اس سے کیا مراد ہے ، فرمایا جب تم مسجد میں جاؤ تو وہاں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرو ، اس کی تسبیح وتہلیل بیان کرو ، تلاوت کرو ، درود پاک کا ورد کرو معتکف ہو کر خاموشی سے بیٹھو ، اگر اعتکاف کی نیت کرکے بالکل خاموش بھی بیٹھے گا ، تو باہر کی باتوں اور کئی گناہوں سے بچے گا اور اللہ تعالیٰ سے اجر بھی پائے گا مگر لوگ اکثر ایسا نہیں کرتے مسجد میں فضول گپیں مارتے ہیں خشوع و خضوع سے محروم رہتے ہیں ۔
حدیث شریف میں آتا ہے (4) (سنن دارمی ص 75۔ ج 1) کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب خشوع و خضوع اٹھ جائے گا آپ ایک بڑی مسجد میں داخل ہوں گے وہاں پانچسو آدمی موجود ہوں گے ، مگر ان میں ایک بھی ایسا نہیں ہوگا جس کے چہرے پر خشوع وعاجزی کے آثار نظر آتے ہوں سب فضول حرکات میں مصروف ہوں گے ۔
فرمایا جو شخص مساجد میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے سے روکتا ہے اور مسجد کی بربادی چاہتا ہے (آیت) ” لھم فی الدنیا خزی “۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی رسوائی ہے (آیت) ” ولھم فی الاخرۃ عذاب عظیم “۔ اور ان کے لیے آخرت میں بھی سخت عذاب ہوگا ۔
(استقبال قبلہ)
اہل ایمان کو مکہ چھوڑنے کا بڑا دکھ تھا پھر وہ بیت اللہ شریف کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے لگے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تسلی دی ، (آیت) ” وللہ المشرق والمغرب “۔ مشرق اور مغرب سب کچھ اللہ ہی کا ہے ، (آیت) ” فاینما تولوا “۔ تم جدھر بھی رخ کرو گے (آیت) ” فثم وجہ اللہ “۔ تم اللہ کی توجہ ادھر ہی پاؤ گے ، لہذا تم کسی قسم کی گھبراہٹ محسوس نہ کرو اللہ تعالیٰ ہر وقت تمہارے ساتھ ہے ۔
استقبال کعبہ کے متعلق حدیث شریف میں آتا ہے کہ سفر کے دوران اندھیری رات یا طوفان بادوباران میں اگر قبلہ کا رخ معلوم نہ ہوتا۔ تو ہر شخص جس طرف رخ ہوتا اسی طرح نماز ادا کرلیتا ، ترمذی شریف میں آتا ہے ۔ (1) (ترمذی ص 420) کہ ایسا ہی کوئی واقعہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو پیش آیا جب حضور ﷺ کو پتا چلا تو یہی آیت تلاوت فرمائی (آیت) ” فاینما تولوا فثم وجہ اللہ “۔ یعنی تم نے جس طرف بھی رخ کر کے نماز پڑھی ہے ، سب کی نماز درست ہے ، اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہے ، اگر قبلہ کا رخ درست نہیں تھا تب بھی نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں ۔
جب کوئی آدمی سواری پر سفر کر رہا ہو ، تو جس طرف بھی وہ جا رہا ہے اسی طرف نفلی نماز ادا کرسکتا ہے (2) (ہدایہ ص 98 ج 1 ، درمختار ص 98 ، ج 1 ، قدوری ص 48) صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین فرماتے ہیں (3) (ترمذی 421) کہ ایک موقع پر حضور ﷺ سفر پر تھے ، اگرچہ آپ کا رخ مبارک قبلہ کی طرف نہیں تھا ، پھر بھی آپ نفلی نماز ادا کرلیتے تھے ، تو ایسے ہی مواقع کے لیے فرمایا کہ تمہارا رخ جس طرف بھی ہو ، اللہ تعالیٰ ادھر ہی متوجہ ہے (آیت) ” ان اللہ واسع علیم “۔ اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا اور سب کو جاننے والا ہے وہ ہر شخص کو اس کے حالات کے مطابق بدلہ عطافرمائے گا ۔
Ayahs 2:116–119(اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے)
اہل کتاب کے غلط عقائد کی بحث مسلسل چلی آرہی ہے ان آیات میں ان کی ایک اور بدعقیدگی کا بیان ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے بیٹا بنا لیا ہے (آیت) ” قالوا اتخذ اللہ ولدا “۔ اس غلط عقیدے میں یہ تینوں گروہ شامل ہیں یعنی یہود ، نصاری اور مشرکین ” قالوا “ کی ضمیر ان تینوں کی طرف لوٹتی ہے ، سورة توبہ میں موجود ہے کہ یہودیوں کے ایک فرقہ نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بنایا ہے ، (آیت) ” وقالت الیھود عزیر ابن اللہ “۔ اگرچہ تمام یہود کا یہ عقیدہ نہیں ہے ، تاہم ایک گروہ ایسا ہے جو اہل کتاب میں شامل ہے مگر عقیدہ یہ رکھتا ہے اسی طرح نصاری کا عقیدہ تو واضح ہے کہ یہ کھل کر کہتے ہیں ” المسیح بن اللہ “۔ یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں ، قرآن پاک نے یہ بات تصریح کے ساتھ بیان کی ہے کسی مخلوق کو خدا کو بیٹا بنانا اتنا قبیح فعل ہے کہ اللہ تعالیٰ ناراض ہوجائے ، اس کے حکم سے زمین وآسمان پھٹ جائے اور خدا تعالیٰ کا قہر نازل ہوجائے ، اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی بات منسوب کرنا بڑی بیہودہ بات ہے مشرکین عرب کے متعلق تصریح موجود ہے کہ وہ فرشتوں کو خدا تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے تھے (آیت) ” وجعلوا الملئکۃ الذین ھم عبدالرحمن اناثا “۔
اس باطل عقیدے کے رد میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” سبحنہ “ اللہ کی ذات پاک ہے مبرا اور منزہ ہے ، بیٹے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنا دو وجوہ سے معیوب ہے اگر بیٹا غیر جنس کا ہو تو یہ انسان کے لیے عیب ہے اور اگر ہم جنس ہو تو یہ اللہ تعالیٰ کے لیے عیب ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، فرونیت اور یگانگت کے خلاف ہے ۔
مخلوق کے لیے اولاد کا ہونا اس لیے معیوب نہیں کہ مخلوق عاجز ہے اسے اولاد کی ضرورت ہے ، خاص طور پر انسان اولاد کے بڑے مشتاق ہوتے ہیں اولاد کی عدم موجودگی میں انہیں سلسلہ نسب منقطع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے ، اس کے علاوہ وہ آخری عمر میں خدمت سے محروم ہوتے ہیں ، برخلاف اس کے اللہ تعالیٰ تو ” احد “ ہے ، اس کی صفت تو غنی ہے ، وہ ” صمد “ ہے وہ ہر ایسی چیز سے بےنیاز ہے لہذا اس کی طرف اولاد کی نسبت کرنا بہت بری بات ہے ۔
یہ حقیقت بھی قابل غور ہے کہ اولاد کی پیدائش اس کے باپ کے مادہ سے ہوتی ہے جو اس کے جسم سے الگ ہو کر رحم مادر میں منتقل ہوتا ہے اور پھر وہ بچے کی صورت میں ماں کے جسم سے علیحدہ ہوتا ہے تو اس قسم کی تولید کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنا بہت قبیح حرکت ہے کیونکہ اللہ جل شانہ ہر ایسی چیز سے منزہ ہے ” سبحنہ “ سے یہی مراد ہے ۔
(تشبیہ اور شرک)
جب انسان کے عقیدے میں خرابی پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی معرفت میں نقصان آتا ہے تو اس کے نتیجے میں یا تو تشبیہ آتی ہے یا شرک پیدا ہوتا ہے تشبیہ مراد یہ ہے کہ مخلوق کی صفت اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کی جائے جیسے اولاد والد ہونا مخلوق کی صفت ہے اگر یہی صفت اللہ تعالیٰ میں ثابت کی جائے تو یہ تشبیہ کا ارتکاب ہوگا ، اور اگر اللہ تعالیٰ کی صفت مختصہ کو مخلوق میں ثابت کیا جائے تو شرک ہوجائے گا مثلا قادر مطلق علیم کل اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ، اور اگر یہ صفت کسی مخلوق میں مانی جائے تو شرک ہوگا ” سبحنہ “ کا لفظ اللہ تعالیٰ کی اس پاکیزگی پر دلالت کرتا ہے ۔
(سبحنہ کا معنی)
صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے حضور ﷺ سے ” سبحنہ “ کا مطلب پوچھا تو آپ نے فرمایا (1) (تفسیر عزیزی فارسی ص 422 پارہ 1 ، درمنثور ص 110 ، ج 1) ” تنزیہ اللہ من کل سوئ “۔ ہر قسم کی برائی اور عیب سے پاکیزگی کسی نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے دریافت کیا کہ حضرت اللہ اکبر “۔ کا معنی تو ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی سب سے بڑا ہے ” لا اللہ الا اللہ “۔ کا مطلب بھی سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ” الحمد للہ “ کا معنی یہ ہے کہ سب حمد وثنا اور تعریف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے حضرت سبحنہ کا مطلب آپ سمجھا دیں ، آپ نے جواب دیا یہ کون سی مشکل بات ہے ۔ ” سبحن اللہ “ ایک ایسا کلمہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف کے لیے منتخب فرمایا ہے اور فرشتوں کو بھی حکم دیا ہے کہ اس کلمے کے ساتھ میری تعریف کیا کرو ، الغرض ، یہ چاروں کلمات یعنی ” اللہ اکبر ، لا الہ الا اللہ “۔ الحمد للہ اور سبحن اللہ “ ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف کے لیے مقرر فرمائے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے تمام تعریفیں اسی ذات کے لیے ہیں ۔
(مالک اور مملوک)
فرمایا اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ (آیت) ” بل لہ ما فی السموت والارض “۔ آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے ، یعنی یہ تمام چیزیں مملوک ہیں اور اللہ جل شانہ ان کا مالک ہے گویا اللہ تعالیٰ اور انسان میں باپ اور بیٹے کی نسبت نہیں ہے بلکہ مالک اور مملوک کی نسبت ہے اور پھر مالک بھی ایسا ہے جسے ہر قسم کا اختیار حاصرحمۃ اللہ علیہ ہے اور اس کے حکم کو کوئی ٹال نہیں سکتا (آیت) ” کل لہ قانتون “۔ سب اسی کی اطاعت کرنے والے ہیں اس کے تکوینی حکم کی خلاف ورزی کی کسی میں مجال نہیں وہ کسی کو بیمار کر دے ، بیمار کو تندرست کر دے کسی پر موت طاری کر دے ، اس کے حکم کو کوئی ٹال نہیں سکتا کائنات کی ہر چیز کو اس کی فرمانبرداری کرنا ہوگی ،
ہاں شریعت کے احکام ایسے ہیں جسے انسان ٹال سکتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے نماز پڑھو ، زکوۃ ادا کرو ، جہاد کرو ، انسان ان احکام پر عملدر آمد میں کوتاہی کرسکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کے تکوینی حکم کے سامنے سب کو سرتسلیم خم کرنا پڑے گا جب موت کے فرشتے آجاتے ہیں تو پھر کون ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کو ٹال سکے ، خود مرنے والا اور اس کے سارے حمایتی دیکھتے ، رہ جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا تکوینی حکم پورا ہوجاتا ہے ، گویا یہاں پر اللہ تعالیٰ کی دو صفات کا ذکر ہوا ، اول یہ کہ وہ ہر چیز کا مالک ہے اور دوسری یہ کہ وہ ہر چیز کا متصرف بھی ہے جو چاہے کرے اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں آتی ۔
(صفت ابداع)
اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی تیسری صفت ابداع کا ذکر بھی ہے فرمایا (آیت) ” بدیع السموت والارض “۔ وہ آسمانوں اور زمین کا ایجاد کرنے والا ہے ، ابداع اس تخلیق کو کہتے ہیں جس کا پہلے نمونہ موجود نہ ہو کہ جسے دیکھ کر کوئی چیز تیار کی جاسکے ، اور پھر موجد بھی ایسا ہے کہ (آیت) ” واذا قضی امرا “۔ جب کسی کام کے کرنے کا فیصلہ کرتا ہے (آیت) ” فانما یقول لہ کن “۔ تو وہ کہتا ہے ہوجا (آیت) ” فیکون “ پس وہ ہوجاتی ہے ، یہ کن ایسا لفظ ہے جس میں سرعت اور تیزی کا حکم پایا جاتا ہے یعنی جب اللہ تعالیٰ کن فرماتے ہیں تو کسی چیز کے معرض وجود میں آنے کے لیے نہ کسی مادے کی ضرورت پڑتی ہے نہ ڈیزائن مطلوب ہوتا ہے اور نہ کسی کاریگر یا مددگار کی مدد درکار ہوتی ہے ، بلکہ اللہ تعالیٰ کا حکم صادر ہوتے ہی کام ہوجاتا ہے ، دراصل یہ کن کا لفظ بھی محض تعبیر کے لیے ہے ورنہ اس کی بھی ضرورت نہیں جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ فرما لیتے ہیں کہ کون سی چیز کس سطح پر مطلوب ہے تو وہ فورا ہوجاتی ہے ۔
(اللہ تعالیٰ کی طرف غلط نسبت)
اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد کی نسبت کرنا سخت بےادبی اور گستاخی ہے یہ بےمحل اور فضول بات ہے ، اللہ تعالیٰ کی ذات پاک اور منزہ ہے اس کی چار صفات کا بیان بھی ہوگیا ، حدیث میں شریف میں آتا ہے ۔ (1) بخاری 744 ج 2) کہ اللہ تعالیٰ یوں فرماتے ہیں ” کذبنی ابن ادم ولم یکن لہ ذلک “۔ انسان مجھ کو جھٹلاتا ہے حالانکہ اس کے لیے یہ بات مناسب نہیں اور انسان مجھ کو گالی دیتا ہے ، حالانکہ یہ بھی اس کے مناسب حال نہیں پھر فرمایا کہ ” فاما تکذیبہ ایای “۔ اس کا جھٹلانا یہ ہے کہ ” لن یعیدنی کما بدانی “۔ انسان کہتا ہے کہ مجھے دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا جس طرح کہ پہلی مرتبہ کیا یعنی انسان قیامت کا منکر ہے یہ اللہ تعالیٰ کو جھٹلانے کے مترادف ہے ، اور گالی اس لحاظ سے دیتا ہے کہ ہو میری طرف اولاد کی نسبت کرتا ہے حالانکہ نہ میری بیوی ہے اور نہ اولاد ہے اور نہ ہی مجھے ان کی ضرورت ہے جب کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیٹا بنا لیا ہے تو وہ گویا اللہ تعالیٰ کو گالی دیتا ہے ، نعوذ باللہ من ذلک ۔
ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی حقیقی بیٹا نہیں ہے اگر ایسا ہو تو وہ خدا کا جز ہوگا اگر خدا تعالیٰ کا جز مانا جائے گا تو اللہ تعالیٰ خود بھی حادث ہوگا ، بسیط نہیں رہے گا ، اسی طرح مجازا بھی کسی کو خدا کا بیٹا نہیں کہہ سکتے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کا اس قدر قرب حاصل کرلے کہ بیٹے کی طرح ہوجائے ، بیٹا چونکہ متصرف ہوتا ہے ، وہ باپ کی مرضی کے خلاف بھی کوئی کام کرسکتا ہے بعض اوقات باپ کو مجبورا بیٹے کی بات ماننا پڑتی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی صفت تو یہ ہے (آیت) ” کل لہ قانتون “۔ سب کے سب اس کے مطیع ہیں اس پر کوئی بھی تصرف نہیں کرسکتا ، لہذا یہ بات بھی غلط ہے کہ کسی کو مقرب الہی ہونے کی بناء پر خدا تعالیٰ کا بیٹا تسلیم کرلیا جائے جیسا کہ عیسائیوں میں یہ چیز پائی جاتی ہے ۔
(اللہ تعالیٰ سے کلام کی خواہش)
ایک اور غلط بات جو بعض لوگ کرتے ہیں وہ یہ ہے (آیت) ” وقال الذین لا یعلمون “ علم سے عاری ، جاہل لوگ کہتے ہیں (آیت) ” لولا یکلمنا اللہ “ اللہ تعالیٰ ہم سے براہ راست کلام کیوں نہیں کرتا ، (آیت) ” اوتاتینا ایۃ “۔ یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی جس کی بنا پر ہم اللہ تعالیٰ کے نبی اور اس کی کتاب کی تصدیق کرسکیں مفسرین کرام بیان کرتے ہیں (2) (تفسیر ابن کثیر ص 161 ج 1 ، درمنثور ص 110 ج 1) کہ مشرکین میں سے ایک شخص رافع بن حریملہ حضور ﷺ کے پاس آکر کہنے لگا آپ دعوی کرتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں تو آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے براہ راست کلام کرے ، یا وہ کوئی خاص نشانی ہمارے پاس بھیجے ، جسے دیکھ کر ہم تصدیق کریں ، فرمایا بیوقوفی اور حماقت کا سوال ہے ، (آیت) ” کذلک قال الذین من قبلھم مثل قولھم “۔ اس طرح کی باتیں تو ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی تھیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ، بلکہ پرانا بیہودہ سوال ہے آج کے دور کے کافر مشرک اور جاہل لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں کہ فلاں نشانی ہونی چاہئے یا اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ کلام کیوں نہیں کرتا ، فرمایا (آیت) ” تشابھت قلوبھم “۔ اس قماش کے تمام اگلے پچھلے لوگوں کے دل آپس میں ملتے جلتے ہیں اسی لیے تو وہ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں اور لایعنی سوال پیش کرتے ہیں ۔
(حضور ﷺ کے معجزات)
اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ لوگ کون سی نشانی طلب کرتے ہیں حالانکہ (آیت) ” قد بینا الایت لقوم یوقنون “۔ ہم نے تو یقین رکھنے والے لوگوں کے لیے بیشمار نشانیاں یا معجزات دکھا دے ہیں ، کسی ایک آدھ نشانی کی بات نہیں ، اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے دست مبارک پر تقریبا تین ہزار معجزات ظاہر فرمائے ، اور یہ سارے ان لوگوں کے سامنے ہیں کیا شق القمر کا معجزہ کوئی ڈھکی چھپی بات ہے کیا ان لوگوں نے کھجور کے خشک تنے کو روتے ہوئے نہیں دیکھا آپ کی انگلیوں سے پانی کی نہریں جاری ہوجانا کس کے علم میں نہیں یہ سب کچھ ان لوگوں کے سامنے ہے مگر یہ نشانیاں ان لوگوں کو نظر آتی ہیں ، جو یقین رکھتے ہیں اور جن کے دل میں ایمان کی دولت موجود ہے وہ سمجھ چکے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی ہیں اور جن کے دل میں عناد ہے اس قسم کی بےمعنی باتیں وہی کرتے ہیں البتہ نبی کے دل میں تکلیف ہوگی غم لاحق ہوگا ، کہ اتنی واضح نشانیاں موجود ہونے کے باوجود یہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی پر اڑے ہوئے ہیں یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے براہ راست باتیں کرکے فرشتوں کی صف میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا اپنے آپ کو انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے برابر سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے بات کرے ، یہ سب ناجائز مطالبات ہیں ۔
(حضور ﷺ کیلے تسلی)
جب کوئی شخص تمام تر نشانیاں دیکھنے کے باوجود ایمان نہ لائے تو یقینا دل میں افسوس پیدا ہوگا ، حضور ﷺ کے ساتھ یہی معاملہ تھا ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا (آیت) ” انا ارسلنک بالحق بشیرا ونذیرا “۔ اے پیغمبر ﷺ ہم نے آپ کو حق کے ساتھ نبی اور رسول بنا کر بھیجا ہے آپ اپنی امت کے لیے بشیر اور نذیر ہیں یعنی آپ اہل ایمان کو جنت کی خوشخبری سناتے ہیں اور منکرین کو دوزخ کی وعید بھی سناتے ہیں جو لوگ آپ کا انکار کرتے ہیں وہ لازما اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آئیں گے آپ ان کی حرکات پر غمگین نہ ہوں ، اور نہ ہی ان کے دوزخ میں جانے پر کوئی قلق محسوس کریں کیونکہ (آیت) ” ولا تسئل عن اصحب الجحیم “۔ آپ سے دوزخیوں کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا کہ یہ لوگ جہنم میں کیوں گئے ، بلکہ الٹا ان سے سوال ہوگا ، (آیت) ” ما سلککم فی سقر “۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا تمہاری جہنم رسید ہونے کی کیا وجہ تھی پھر وہ خود ہی اس کا جواب دیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے مسکین سے ہمدردی نہیں کرتے تھے فضولیات میں لگے رہتے تھے اور روز قیامت کی تکذیب کرتے تھے ، لہذا آپ ان کی حرکات سے دل برداشتہ نہ ہوں (آیت) ” انما علیک البلغ “۔ آپ کا کام صرف سمجھانا ہے باقی ان سے ہم خود نپٹ لیں گے ۔
Ayahs 2:120–123گذشتہ سے پیوستہ :
یہود ونصاری کی خرابیاں مختلف انداز میں بیان ہو رہی ہیں ، اس سے پیشتر اس بات کا ذکر بھی آچکا ہے کہ اہل کتاب چاہتے ہیں کہ جو لوگ ایمان لا چکے ہیں وہ بھی پہلے دین یعنی یہودیت یا نصرانیت کی طرف پلٹ آئیں ، ان کی خواہش یہ ہے کہ اہل ایمان کمزور ہوجائیں اگرچہ ان پر حق واضح ہوچکا ہے ، تاہم وہ حسد کی بنا پر نبی آخر الزمان پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے ، نبی کریم ﷺ بعض باتوں میں موافقت بھی کرنے تھے مقصد یہ تھا کہ شاید یہ لوگ ہمارے ہو کر ایمان لے آئیں چناچہ مسلمان بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے ہجرت کے بعد بھی سولہ (16) سترہ (17) ماہ تک قبلہ بیت المقدس ہی رہا مگر بعد میں یہی معلوم ہوا کہ مشرک تو نادانی کی وجہ سے حق کی مخالفت کرتے ہیں اور اہل کتاب حسد اور عناد کی بناء پر ایسا کرتے ہیں ، وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ مشرک یا تو ختم ہوگئے یا ایمان قبول کرلیا مگر یہود ونصاری باطل پر اڑے رہے ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر حضور نبی کریم ﷺ اور اہل ایمان کو خبردار کیا ہے کہ اہل کتاب سے آپ کوئی امید نہ رکھیں یہ دیدہ و دانستہ حق کی مخالفت کر رہے ہیں ۔
(رضا مندی کے لیے اہل کتاب کی شرط)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ولن ترضی عنک الیھود ولا النصری “۔ یہودی اور نصرانی آپ پر ہرگز راضی نہیں ہوں گے (آیت) ” حتی تتبع ملتھم “۔ جب تک کہ آپ ان کی ملت کا اتباع نہ کریں ان کا مذہب اختیار نہ کریں ، ان کا طریقہ نہ اپنائیں لفظ لن تاکید نفی کے لیے آتا ہے ، یعنی ہرگز راضی نہیں ہوں گے اہل کتاب کو حق بات سے کوئی سروکار نہیں ہے یہ تو مسلمانوں کو اپنے دین سے منحرف کرنا چاہتے ہیں یہ خود ہدایت قبول نہیں کریں گے ، اہل کتاب کی جملہ خرابیاں بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آخری بات کی کہ آپ ان سے کوئی امید وابستہ نہ کریں کہ شاید یہ ایمان لے آئیں گے بلکہ یہ تو الٹا مسلمانوں کو اپنے دین پر لانا چاہتے ہیں جو کہ ناممکن ہے ۔
ّ (ہدایت الہی ہی اصل ہدایت ہے)
فرمایا یہ لوگ جس ملت پر آپ کو لانا چاہتے ہیں وہ ان کی خود ساختہ بات ہے ” قل “ آپ ان سے فرما دیجئے (آیت) ” ان ھدی اللہ ھوالھدی “۔ اللہ کی ہدایت ہی اصرحمۃ اللہ علیہ ہدایت ہے اگر آپ ہدایت الہی کو چھوڑ کر ان کی ملت کا اتباع کریں گے تو یہ ہوا کی پیروی بن جائیگی جو کہ ہدایت کی ضد ہے اور اگر حق واضح ہونے اور علم آجانے کے بعد آپ ان کی خواہشات کا اتباع کرنے لگیں (آیت) ” ولئن اتبعت اھواء ھم بعد الذی جآء ک من العلم “۔ تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا (آیت) ” مالک من اللہ من ولی ولا نصیر “۔ اللہ کی طرف سے آپ کا نہ کوئی حمائتی ہوگا اور نہ مددگار ، یعنی اے نبی کریم ﷺ اور اہل ایمان اب تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہدایت آچکی ہے ، اگر اس کو چھوڑ کو اہل کتاب کی خواہشات کے پیچھے چلنے لگے ، تو پھر اللہ تعالیٰ کی گرفت بھی آسکتی ہے ، اگرچہ یہ آپ سے قطعا ممکن نہیں کہ حق کو ترک کردیں تاہم قانون کے طور پر اللہ تعالیٰ نے یہ بات واضح کردی ، کہ اصل ہدایت اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے اسی کی پیروی کرنا ہے اور کسی دوسری چیز کے پیچھے نہیں چلنا ، یہ قاعدہ سب کے لیے ہے اور اس سے کوئی بھی بری الذمہ نہیں ، دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا (آیت) ” لئن اشرکت لیحبطن عملک ولتکونن من الخسرین “۔ اگر آپ سے بھی شرک سرزد ہوگیا ، تو آپ کے بھی سارے اعمال ضائع ہوجائیں گے اور آپ نقصان اٹھانے والوں میں ہوں گے ، یہ اصول صرف حضور ﷺ کے لیے ہی نہ تھا ، بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر یہی وحی بھیجی کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں لہذا آپ حق کی پیروی کرتے رہیں اور اہل کتاب کی خواہشات کی طرف توجہ نہ دیں ۔
یہود ونصاری کا دین اصلا تو کتاب الہی کے ذریعے ہی نازل ہوا تھا اور وہ برحق تھا ، مگر اب ان کی ملت تحریف کی وجہ سے بگڑ چکی تھی ، لہذا اب وہ قابل اتباع نہیں رہی ، بلکہ اب تو آخری بنی کا دین غالب آئے گا وہی قابل اتباع ہے ، دوسرے مقام پر فرمایا (آیت) ” ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ “۔ اللہ تعالیٰ وہ رحیم وکریم ذات ہے جس نے اپنے آخری نبی کو سچا دین دے کر بھیجا ہے تاکہ اس دین کو باقی ادیان پر غالب کر دے ، جب مقصد رسالت دیگر ادیان پر غالب ٹھہرا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ علم اور حق کی آمد کے بعد اہل کتاب کی خواہشات کی پیروی کی جائے ، حضور ﷺ کا فرمان ہے (1) (ترمذی ص 322 ، مسلم ص 396 ج 2) کہ کسری کی ہلاکت کے بعد کوئی دوسرا کسری پیدا نہیں ہوگا ، اور قیصر کی ہلاکت کے بعد کوئی دوسرا قیصر نہیں ہوگا مگر رومی یعنی عیسائی نزول مسیح (علیہ السلام) تک باقی رہیں گے اور تم ان تمام سے بادست و گریبان رہو گے ، کبھی ان کا غلبہ حاصل ہوگا اور کبھی تم غالب آؤ گے گویا یہ لوگ قرب قیامت تک باطل پر ڈٹے رہیں گے لہذا ان سے قبول حق کی کوئی امید نہیں رکھنی چاہئے ۔
ّ (اہل کتاب میں سے اہل ایمان)
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے ایک اصولی بات بیان فرمائی ہے کہ جب کسی قوم کی برائی بیان کی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس قوم کے سوفیصد لوگ ایسے ہی ہیں ، بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان کی اکثریت ان صفات کی حامل ہے ، ان میں بعض اچھے بھی ہو سکتے ہیں یہاں پر یہی چیز بتائی جا رہی ہے ، کہ اگرچہ اہل کتاب کی اکثریت ایسی ہے جو اپنی ہٹ دھرمی پر ڈٹی ہوئی ہے ، تاہم ان میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں (آیت) ” الذین اتینھم الکتب “۔ جنہیں ہم نے کتاب عطا کی ہے (آیت) ” یتلونہ حق تلاوتہ “۔ جو اس کی تلاوت کرتے ہیں جیسا کہ تلاوت کرنے کا حق ہے (آیت) ” اولئک یؤمنون بہ “۔ یہی لوگ ہیں جو حقیقت میں توراۃ اور انجیل پر ایمان رکھتے ہیں ، ظاہر ہے جو لوگ سابقہ کتب سماویہ پر صحیح معنوں میں ایمان رکھیں گے ، وہ نبی آخر الزمان کا انکار کیسے کرسکتے ہیں کیونکہ توراۃ وانجیل میں حضور ﷺ کی آمد کی واضح نشانیاں موجود ہیں اور جو حضور ﷺ پر ایمان لائے گا وہ قرآن پر بھی ایمان لائے گا یہ ساری کی ساری کتابیں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہیں اور ان سب پر ایمان لانا ضروری ہے مسلمان تو تمام کتب سماویہ پر ایمان رکھتے ہیں مگر یہ کم بخت قرآن پاک پر ایمان نہیں لاتے بہرحال فرمایا کہ اہل کتاب سارے کے سارے بےایمان نہیں ہیں بلکہ ان میں سے بھی ایسے ہیں جو کتاب کو صحیح طور پر پڑھتے ہیں لہذا ایسے لوگ ایمان دار ہیں ۔
(حق تلاوت)
تلاوت کا حق ادا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے احکام پر پورا پورا عمل کیا جائے جو شخص زبانی تلاوت تو کرے مگر اس کے احکام کی پروا نہ کرے یا اس کے احکام کو توڑ موڑ کر پیش کرے یا اس کی غلط تاویل کرے ، جیسا کہ اہل کتاب کرتے تھے تو ایسے شخص نے تلاوت کا حق ادا نہیں کیا ، قرآن پاک کی تلاوت میں بھی یہی اصول کار فرما ہے مستدرک حاکم کی روایت میں آتا ہے (1) (تفسیر عزیزی فارسی ص 433 پارہ 1 ، درمنثور ص 111 ج 1) کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حق تلاوت یہ ہے کہ کتاب کی حلال کردہ چیزو کو حلال اور حرام کردہ چیز کو حرام سمجھے ، ایک دوسری حدیث میں آتا ہے (1) (ترمذی 414) اس شخص کا کوئی ایمان نہیں ” من استحل محارمد “۔ جس نے قرآن پاک کی حرام کردہ چیز کو حلال سمجھ لیا ، لہذا لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حلال و حرام کی پوری پوری پاسداری کی جائے ، یہودیوں کی طرح اس کے الفاظ اور کلمات میں تحریف نہ کی جائے کتاب الہی کے محکم اور متشابہات تمام آیات پر ایمان ہونا چاہئے محکمات میں مستحبات بھی آتی ہیں ، ان پر بھی یقین ہونا چاہئے ، اور عمل کرنا چاہئے ، یہ حق تلاوت ہے ، ایمان لانے کے بعد احکام کا اتباع بھی ضروری ہے ، اگر عمل نہیں کرتا تو اس نے حق تلاوت ادا نہیں کیا ۔
(منکرین کے لیے خسارا)
فرمایا (آیت) ” ومن یکفر بہ “۔ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ کفر کرے گا یعنی اس کی تلاوت کا حق ادا نہیں کرے گا ، اس کے احکام کو چھپائے گا اس کی غلط تاویلیں کرے گا جیسا کہ یہودی کرتے تھے (آیت) ” فاولئک ھم الخسرون “۔ پس یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں اس دنیا میں تو شاید سزا سے بچ جائیں گے مگر ان کا انجام کار برا ہوگا ، اور آخرت میں یہ لازما خدا پانے والوں میں ہوں گے اس وقت انہیں معلوم ہوگا ، کہ انہوں نے احکام میں تحریف کرکے اور کتمان حق کے ذریعہ کتنا نقصان دہ سودا کیا تھا ۔
(حق و باطل کی پہچان)
اہل کتاب کے دو گروہوں کا ذکر ہوا ، ایک گروہ وہ ہے جس کی برائیاں مسلسل بیان ہو رہی ہیں اور جو اپنی ضد وعناد کی وجہ سے ایمان سے محروم ہوا دوسرا وہ گروہ ہے جو کتاب کو صحیح طریقے سے پڑھتا ہے ، اور پھر اس میں تحریف کرنے کی بجائے اس کے احکام پر ایمان لاتا ہے انہیں لوگوں میں حضرت عبداللہ بن سلام ؓ ہیں یہودی عالم تھے مگر منصف مزاج تھے حضور ﷺ سے پہلی ملاقات میں ہی ایمان قبول کرلیا یہ بار بار کہتے تھے کہ مجھے یقین ہے کہ آپ ہی اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں جن کی بشارت کتب سابقہ میں آچکی ہے ان کی اکثریت متعصب تھی جنہوں نے ایمان قبول نہیں کیا اور آج تک اسی ڈگر پر چلتے آرہے ہیں ان میں سے کوئی اکا دکا ایسا نکلتا ہے جو تعصب کو بالائے طاق رکھ کر کتاب کا مطالعہ کرتا ہے اور پھر حق کو قبول کرتا ہے ۔
انہی میں ایک حق پرست محمد اسد (لیوپولڈ) ہیں یہ بھی یہودی عالم تھے بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں انگریزی زبان میں روڈ ٹو مکہ (ROAD TO MAKKAH) یعنی مکہ کی طرف سڑک انہیں کی کتاب ہے انہوں نے ایک اور کتاب اسلام ایٹ کر اس روڈ (ISLAM AT CRESS ROAD) یعنی اسلام چورستے پر بھی لکھی ہے بڑے سمجھ دار اور تجربہ کار ہیں کچھ عرصہ پاکستان میں بھی قیام کیا ہے آجکل ادھر یورپ میں ہی کہیں مقیم ہیں بہرحال اللہ تعالیٰ نے انہیں ایمان کی دولت سے نوازا ۔
محمد پکھتال عیسائی دانشور تھے ، انہوں نے قرآن پاک کا مستند ترجمہ کیا ہے اسلام قبول کرنے کے بعد اسلام کی بڑی خدمت کی ہے ، اسی طرح ملکہ وکٹوریہ اول کے زمانے میں مسٹر کو یلم تھے ، آپ کا تعلق شاہی خاندان سے تھا ایمان کی دولت سے مشرف ہوئے وہ وضوء کے طریقہ سے متاثر ہوئے اور کہا کہ یہ طریقہ یقینا ایک سچے مذہب کا ہی ہو سکتا ہے اس نے اپنے خاندان کے اسی (80) اشخاص کو مسلمان بنایا ، عیسائی بڑے ناراض ہوئے تاہم وہ اپنا کام کر گیا ، بلکہ اس نے عیسائیوں کو ہمیشہ مناظرہ کی دعوت دی پیشے کے لحاظ سے بیرسٹر تھا کوئی اس کے مقابلے میں نہیں آتا تھا اس کا نام عبداللہ رکھا گیا ۔
الغرض ! یہود ونصاری کی اکثریت عنادی رہی ہے ، ان میں سے بہت کم لوگ ایمان لائے یہ لوگ سازشی ہیں ، اسلام اور پیغمبر اسلام کے متعلق ہمیشہ غلط پراپیگنڈا کرکے لوگوں کو بدظن کرتے ہیں ان کی کوشش یہ رہی ہے کہ کوئی مسلمان یہودی یا عیسائی نہ بھی نہ بن سکے تو کوئی بات نہیں ، اسے کم از کم مسلمان نہیں رہنا چاہئے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مسلمان کو بےدین ضرور بنا دیں ، اپنے دین پر اس کا عقیدہ متزلزل کردیں ، اور اس طرح ان کا رشتہ اپنے پیغمبر کے ساتھ کٹ جائے ، یہ ان کی سازش ہے جس کا شکار مسلمان ہر دور میں ہوتے رہے ہیں ۔
(بنی اسرائیل پر انعامات)
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی تقریبا چالیس برائیوں کی نشاندہی کے بعد انہیں آخر میں ناصحانہ انداز میں انعامات یاد کرائے اور فرمایا یبنی اسرآء یل اذکروا “۔ اے بنی اسرائیل یاد کرو (آیت) ” نعمتی التی انعمت علیکم “۔ میری ان نعمتوں کو جو میں نے تم پر انعام کیں ، (آیت) ” وانی فضلتکم علی العلمین “۔ اور میں نے تمہیں جہان والوں پر فضیلت دی بنی اسرائیل پر انعامات اور ان کی فضیلت کا تذکرہ ان دروس میں تفصیلا آچکا ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک مرتبہ پھر یاد دہانی کرائی مگر یہ ایسی ناشکر گذار قوم ہے کہ حسد کی آگ میں جل کر تمام احسانات فراموش کرگئی ،
(قیامت کا نقشہ)
فرمایا اے بنی اسرائیل ! تم نہ سمجھنا کہ ان تمام برائیوں کے باوجود تم آخرت میں کسی نہ کسی طریقے سے سرخرو ہوجاؤ گے ، (آیت) ” واتقوا یوما لا تجزی نفس عن نفس شیئا “۔ اس دن سے ڈرو جس دن کوئی کسی کے کچھ کام نہ آسکے گا اس دن انسان کے بچاؤ کے تمام ذرائع خواہ وہ قوت کے ذرائع ہوں یا گریہ وزاری کے سب ناکام ہوجائیں گے (آیت) ” ولا یقبل منھا عدل “۔ اور نہ اس سے بدلہ قبول کیا جائے گا دنیا میں تو مال یا جان یا کسی فدیہ کے بدلے کوئی جان چھڑائی جاسکتی ہے مگر قیامت کے دن مجرم سے کوئی چیز قبول نہیں کی جائے گی ، صرف اس کی اپنی جان ہی قابل مواخذہ ہوگی ، فرمایا (آیت) ” ولا تنفعھا شفاعۃ “۔ اس دن کسی کی سفارش بھی سود مند نہیں ہوگی ، اس دن کوئی کسی بدبخت کی سفارش بھی نہیں کرے گا تمہارا یہ عقیدہ باطل ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تمہیں دوزخ میں گرنے سے بچالیں گے ، سفارش تو ایماندار کی ہو سکتی ہے اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کی اجازت سے جس سفارش کے زعم میں اے بنی اسرائیل تم مبتلا ہو اس کی قطعا کوئی گنجائش نہیں ، اس لیے اب بھی سمجھ جاؤ اور ایمان قبول کرلو ،
فرمایا جب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آجائے گا تو پھر (آیت) ” ولا ھم ینصرون “ ان کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی اللہ رب العزت کی عدالت میں ٹھیک ٹھیک فیصلے ہوں گے ان فیصلوں کو بدل کر مجرمین کی مدد کرنے والی کوئی ہستی نہیں ہوگی ، اگلی آیات میں ملت ابراہیمی کی تاسیس سے شروع کر کے حضور ﷺ کی نبوت اور آپ کی صداقت کا بیان ہے ۔