2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 2:65–66

وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَۚ Open ayah 2:65 in the Quran reader

اور البتہ تحقیقی تم جانتے ہو ان لوگوں کو جنہوں نے تم میں سے ہفتے کے دن زیادتی کی تھی۔ پس ہم نے ان کو کہا کہ ذلیل بندر بن جاؤ

فَجَعَلْنٰهَا نَكَالًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهَا وَ مَا خَلْفَهَا وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:66 in the Quran reader

اور بنا دیا ہم نے ان لوگوں کو عبرت ان کے لیے جو اس وقت موجود تھے۔ اور جو پیچھے آنے والے تھے۔ اور متقیوں کے لئے نصیحت بنا دیا

یہود کا مقدس دن ہفتہ : گزشتہ آیات میں اس عہد و پیمان کا ذکر ہوا۔ جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے لیا تھا۔ کہ وہ توراۃ پر عمل پیرا ہوں گے۔ اب ان آیتوں میں خداوندی تعالیٰ نے بنی اسرائیل کا وہ واقعہ یاد دلایا ہے جس میں ان نافرمانوں کو سزا دی گئی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ “ ولقد علمتم الذین اعتدوا منکم فی السبت ” یعنی اے اسرائیلیو ! تم ان لوگوں کو جانتے ہو جنہوں نے ہفتے کے دن تعدی اور زیادتی کی تھی ہفتے کے دن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے توراۃ میں حکم نازل فرمایا تھا۔ کہ اس دن کوئی شخص کوئی کام کاج نہ کرے۔ نہ تجارت کرے نہ زراعت کرے۔ نہ مزدوری کرے اور نہ کوئی دوسرا کام انجام دے ، حتیٰ کہ گھر میں کھانے پکانے کی بھی ممانعت کردی۔ اور حکم دیا کہ اس روز صرف عبادت کی جائے۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا کام نہ کیا جائے اور ساتھ تنبیہ کردی کہ جو کوئی ہفتے کے روز اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ۔ کوئی کاروبار کرے گا وہ ہلاک ہوجائے گا جمعہ کی فضیلت : یہودیوں کے لیے ہفتہ اور نصاریٰ کے لیے اتوار کا دن مقدس ہے۔ مگر اہل اسلام کے لیے جمعہ کا دن مبارک ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا (1 ۔ بخاری ج 1 ص 120 ، مسلم ج 1 ص 282) کہ اللہ تعالیٰ نے پہلی امتوں کو بہکا دیا کہ وہ جمعہ کا دن نہ پاسکیں۔ بلکہ یہ فضیلت اللہ تعالیٰ نے آخری امت کے لیے مخصوص کر رکھی تھی کیونکہ جمعہ تمام ایام سے زیادہ فضیلت والا دن ہے۔ آپ نے فرمایا “ الیھود غدا ” یعنی یہود نے جمعہ سے اگلا دن اختیار کیا۔ “ والنصری بعد غد ” اور نصاری نے اس کے بعد یعنی اتوار کا دن منتخب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں کسی حد تک اختیار دے دیا تھا کہ وہ اپنے لیے بہتر دن منتخب کرلیں۔ اور انہوں نے یہ ایام پسند کیے۔ اور جمعہ کو منتخب نہ کیا۔ جو کہ مسلمانوں کے مقدر میں تھا۔ یہودیوں نے ہفتے کا دن اس لیے اختیار کیا کہ کائنات کی تخلیق ہفتہ کے روز شروع ہوئی تھی۔ اس لیے ان کے ہاں یہ سب سے متبرک دن سمجھا گیا۔ یہود کی قانون شکنی : جیسا کہ بیان ہوچکا ہے اللہ تعالیٰ نے ہفتے کا دن خالص عبادت کے لئے مقرر کیا تھا اور اس روز دیگر ہر قسم کے کام کی ممانعت کردی تھی۔ مگر یہود نے اس حکم کی خلاف ورزی شروع کردی۔ اس خلاف ورزی کی تفصیل قرآن پاک میں کئی ایک مقامات پر آئی ہے۔ تاہم سورة اعراف میں ایک پورا رکوع اسی موضوع پر ہے۔ وہاں پر ہفتے کے روز تعدی کرنے والوں کا حال بیان کیا گیا ہے۔ کہ یہ لوگ بحیرہ قلزم کے کنارے واقع بستی میں رہتے تھے۔ توراۃ کے مطابق اسی بستی کا نام ایلہ تھا۔ جسے آج کل عقبہ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ چونکہ یہ ساحلی لوگ تھے۔ ان کا پیشہ عام طور پر ماہی گیری تھا۔ تاہم انہیں ہفتہ کے علاوہ باقی چھ دنوں میں مچھلیاں پکڑنے کی عام اجازت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا امتحان لینا چاہا۔ کہ یہ لوگ کس حد تک میرے حکم کی پابندی کرتے ہیں۔ لوگوں نے مشاہدہ کیا کہ ہفتہ کے روز بہت زیادہ مچھلیاں نظڑ آتی تھیں۔ جب کہ باقی دنوں میں خال خال ہی پکڑی جاتی تھیں۔ تو انہوں نے زیادہ تعداد میں مچھلیاں حاصل کرنے کے لیے یہ تدابیر اختیار کی کہ سمندر کے کنارے حوض بنائے۔ جن میں ہفتے کے روز سمندر کا پانی چھوڑ دیتے جب بہت سی مچھلیاں ان حوضوں میں جمع ہوجاتیں تو پیچھے بند لگا دیتے تاکہ یہ مچھلیاں واپس سمندر میں نہ چلی جائیں۔ چناچہ وہ لوگ ہفتہ کے روز واقعۃً مچھلیوں کو نہ پکڑتے بلکہ انہیں حوض میں جمع کرکے اگلے روز یعنی اتوار کو پکڑ لیتے ۔ گویا اس طرح وہ حیلہ سازی سے احکام الٰہی کی خلاف ورزی کرتے جب ان سے کہا جاتا کہ بھائی ! اللہ تعالیٰ نے ہفتے کے روز مچھلیاں پکڑنے سے منع کر رکھا ہے ۔ تم ایسا کیوں کرتے ہو تو وہ کہتے کہ ہم ہفتے کے روز شکار نہیں کرتے بلکہ اگلے روز کرتے ہیں لہٰذا یہ کوئی خلاف ورزی نہیں ہے۔ شاہ عبد العزیز (رح) اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 274) کہ یہ لوگ کافی عرصہ تک یہی حیلہ استعمال کرتے رہے۔ حتیٰ کہ جب حضرت داؤد (علیہ السلام) کا زمانہ آیا تو انہوں نے لوگوں کو سختی سے منع کیا اور بتایا کہ اس روز شکار کرنا حرام ہے۔ یہ حیلہ سازی بہت بری بات ہے۔ وہ کہنے لگے کہ یہ کام تو ہم اپنے آباؤ اجداد سے کرتے چلے آرہے ہیں۔ اس میں کوئی برائی کی بات نہیں ہے۔ کفار مکہ بھی یہی کہتے تھے کہ جس چیز کو تم شرک بتاتے ہو یہ کام تو ہم نسلا بعد نسل کرتے چلے آرہے ہیں۔ اگر یہ واقعی برائی کا کام ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور ہمیں روکنے کے لیے ہمارے ہاتھ بند کردیتا۔ چونکہ آج تک ایسا نہیں ہوا۔ لہٰذا یہ کوئی برا کام نہیں۔ یہود کے تین گروہ : الغرض ! حضرت داؤد (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا پیغام سنایا۔ انہیں نیکی کی تلقین کی اور برائیوں سے منع کیا۔ انہوں نے اچھی طرح تنبیہہ کی کہ اگر تم اپنی بری خصلتوں سے باز نہیں آؤ گے تو اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آجاؤ گے۔ آپ کی اس تبلیغ سے تقریباً بارہ ہزار لوگ نہ صرف خود اس غلط کام سے باز آگئے۔ بلکہ انہوں نے دوسروں کو بھی روکنا شروع کردیا۔ اس کے باوجود بہت بڑی تعداد ان لوگوں کی تھی۔ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے باز آنے کے لئے تیار نہ تھے۔ گویا ایک گروہ فاسقین کا تھا۔ تو ان کے مقابلے میں صالحین کا ایک گروہ بھی پیدا ہوگیا۔ ان کے علاوہ ایک تیسرا گروہ ایسا تھا۔ جو خود تو برائی کا ارتکاب نہ کرتا تھا۔ مگر دوسروں کو روکتا بھی نہ تھا۔ آگے قرآن پاک میں آتا ہے کہ یہ گروہ برائی سے منع کرنے والوں کو کہتا تھا کہ تم انہیں کیوں روکتے ہو ۔ کیوں اپنا وقت ضائع کرتے ہو۔ انہیں اپنے حال پر چھوڑ دو ۔ مگر صالحین کا گروہ انہیں جواب دیتا “ معذرۃ الی ربکم ولعلھم یتقون ” کہ بھائی ! اللہ تعالیٰ کے سامنے غداری کے لیے انہیں روکتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے پوچھ لیا کہ تم نے انہیں برائی سے کیوں نہ روکا تو ہمارا کیا جواب ہوگا۔ قیامت کے روز ندامت اٹھانی پڑے گی۔ اہل علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا فرمان اور اس کی عطا کردہ شریعت لوگوں تک پہنچائیں۔ اور تبلیغ کا حق ادا کریں۔ ہو سکتا ہے کہ ان کی تبلیغ سے کوئی شخص راہ راست پر آجائے اسی واسطے بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے (1 ۔ بخاری ج 2 ص 606 ، مسلم ج 2 ص 279) کہ جب آنحضرت ﷺ نے حضرت علی ؓ کو جھنڈا عطا کیا اور جہاد کے لیے روانہ کیا تو فرمایا “ لان یھدی اللہ بک رجلا واحدا خیر لک من ان یکون لک حمر النعم ” اگر ایک آدمی نے بھی تمہاری وجہ سے ایمان قبول کرلیا۔ تو یہ تمہارے لیے دنیا کی بڑی سے بڑی نعمت سے بھی بہتر ہوگا۔ جہاد کا اصل مقصد جنگ وجدال نہیں بلکہ اس کا مقصد فتنہ و فساد کو مٹانا اور درندہ صفت لوگوں کو راستے سے ہٹانا ہے۔ انسان بندر بن گئے : وقت گزرتا گیا۔ اور یہ تینوں گروہ اپنی اپنی بات پر اڑے رہے۔ آخر کار صالحین نے سوچا کہ ہم ان نافرمانوں کے ساتھ کب تک گزارا کریں گے۔ کیوں نہ ہم ان سے الگ ہوجائیں۔ کہیں ایسانہ ہو کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آئے اور ہم بھی اس میں مبتلا ہوجائیں۔ چناچہ انہوں نے باقی دو گروہوں کا بئیکاٹ کردیا اور قریب ہی اپنے علیحدہ علاقے میں منتقل ہوگئے۔ ان دونوں علاقوں کے درمیان دیوار یا کوئی اور آڑ تھی جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کو دیکھ نہیں سکتے تھے۔ البتہ ایک دوسرے کی آوازیں سنتے تھے۔ ایک دن ایسا ہوا کہ صالحین کے گروہ نے دوسرے گروہ کے کسی آدمی کی آواز نہ سنی اور نہ ہی ان کی کوئی حرکت وغیرہ محسوس کی۔ کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد جب انہوں نے جھانک کر دیکھا۔ تو اللہ تعالیٰ کا حکم آچکا تھا “ فقلنا لھم کونوا قردۃ خاسئین ” پس ہم نے کہا کہ تم سب ذلیل بندر بن جاؤ۔ چناچہ صالحین نے دیکھا۔ کہ اس گروہ کے بڑے بوڑھے خنزیروں کی شکل میں اور نوجوان طبقہ بندروں کی صورت میں تبدیل ہوچکا ہے۔ شکلیں تبدیل ہوچکی ہیں ۔ مگر شعور باقی ہے۔ اپنے کیے پر نادم ہیں اور زارو قطار رو رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں کہ یہ ہمارے فلاں رشتہ دار ہیں۔ اور یہ فلاں رشتہ دار ہیں۔ اس مقام پر صرف بندروں کا ذکر ہے تاہم دوسرے مقام خنازیر بھی آتا ہے ۔ “ وجعل منھم القردۃ الخنازیر ” کہتے ہیں کہ یہ لوگ اس شکل و صورت میں تین دن تک زندہ رہے۔ اس کے بعد ہلاک ہوگئے۔ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ انسان بندر اور خنزیر کیسے بن گئے۔ حالانکہ اس زمانے میں ڈارون کی تھیوری کا بھی عام چرچا ہے جو کہتا ہے کہ موجودہ انسان بندروں کی ترقی یافتہ نسل ہے پہلے سب بندر ہی تھے۔ مگر ترقی کرتے کرتے انسان بن گئے۔ اس کا دعویٰ اس دلیل پر مبنی ہے کہ بندر کی شکل انسانی شکل کے مشابہ ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان بندر یا خنزیر کی نسل نہیں ہے۔ اور نہ بندر انسان کی نسل سے ہیں۔ بلکہ یہ ہمیشہ ساتھ ساتھ رہے ہیں۔ بندر اور انسان پہلے بھی علیحدہ علیحدہ نسلیں تھیں اور آج بھی ویسی ہی ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ معترضین ڈارون کی تھیوری کو تسلیم کرنے میں تو کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے ۔ مگر جب قرآن پاک کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان انسانوں کو بندروں کی شکلوں میں تبدیل کردیا۔ تو انہیں یقین نہیں آتا۔ حید سازی بڑی فضیلت ہے : بخاری اور مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے (1 ۔ مسلم ج 2 ص 23 ، بخاری ج 1 ص 286) کہ حضور ﷺ نے فرمایا “ لعن اللہ الیھود والنصاری ” یہود و نصاریٰ پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو منع کیا تھا کہ تمہارے لیے چربی کا استعمال جائز نہیں ۔ خواہ حلال جانور ہی کی ہو۔ مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم میں اس طرح حیلہ سازی کی۔ کہ چربی خود تو نہیں کھاتے تھے مگر اسے پگھلا کر فروخت کردیتے تھے ۔ اور اس کی قیمت کھا جاتے تھے۔ جب ان سے کہا جاتا کہ تمہارے لیے چربی حرام ہے تم اسے کیوں کھاتے ہو ۔ تو وہ کہتے کہ ہم چربی تو نہیں کھاتے ، بلکہ اسے فروخت کردیتے ہیں۔ اسی لیے حضرت (علیہ السلام) کا ارشاد گرامی ہے (2 ۔ تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 107) “ لاترتکبوا ما ارتکبت الیھود ” اے ایمان والو ! اس چیز کا ارتکاب نہ کرو۔ جس کا یہود کرتے تھے۔ “ فتستحلوا محارم اللہ باذنی الحیل ” کہ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حیلے بہانے سے حلال کرلیتے تھے۔ کہیں تم بھی ان کی پیروی کرکے مغضوب علیہ نہ بن جاتا۔ یہود بعض برائیاں کھلے عام کرتے تھے ۔ مثلاً سود علی الاعلان کھاتے تھے اسی طرح دوسروں کا مال ناحق کھا جاتے تھے۔ مگر ان برائیوں پر اللہ تعالیٰ نے ان کی شکلیں مسخ نہیں کیں۔ ایسا کیا ہے تو ان جرائم پر جن کا ارتکاب انہوں نے حیلے بہانے سے کیا۔ معلوم ہوا کہ ناجائز حیلہ سازی بہت بری خصلت اور بہت بڑا جرم ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں خنزیروں اور بندروں کی صورت میں تبدیل کردیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا۔ تم حیلہ سازی سے خدا تعالیٰ کے قانون کو نہ توڑنا ، یہ بڑا سخت جرم ہے ایسا کرنے والوں کی اگرچہ اب شکلیں تو تبدیل نہیں ہوں گی۔ مگر ان کا باطن بالکل ایسا ہی ہوگا اب کیا کچھ نہیں ہوتا۔ زکوٰۃ سے بچنے کے لیے حیلہ سازی کی جاتی ہے۔ سود اور رشوت کی تاویلیں کی جاتی ہیں۔ اور اس کے حواز کا فتویٰ لیا جاتا ہے۔ سب کچھ جلد سازی اور حرام ہے۔ جائز حیلہ سازی : اگر نیت نیک ہو اور حیلہ سازی حرام سے بچنے کے لئے کی جائے تو یہ جائز ہے۔ حضور ﷺ نے بعض امور میں خود حیلہ سازی کا طریقہ بتلایا ہے۔ مثلاً حدیث شریف میں آتا ہے (1 ۔ سنن نسائی ج 1 ص 206 ، بخاری ج 2 ص 1012) کہ حضرت بلال ؓ اور بعض دوسرے صحابہ ؓ خیبر سے بہت اعلیٰ قسم کی کھجوریں لائے۔ آپ نے دریافت فرمایا “ اکل تمر خیر ھکذا ” کیا خیبر کی سب کھجوریں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ حضور ! بعض گھٹیا اور ناقص قسم کی کھجوریں بھی وہاں پائی جاتی ہیں آپ کے مزید دریافت کرنے پر صحابہ ؓ نے بتایا کہ ہم ادنیٰ قسم کی دو صاع کھجوروں کے عوض اعلیٰ قسم کی ایک صاع کھجوریں لے لیتے ہیں آپ نے فرمایا “ ذلک الربوا ” یہ تو سود ہوگیا۔ ایک ہی جنس کا لین دین تو برابری کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔ نہ کہ کم و بیش۔ ایسانہ کرو۔ یہ حرام ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تمہارے مسئلہ کا حل یہ ہے کہ پہلے ادنیٰ قسم کی کھجوروں کو کسی دوسری جنس مثلاً گندم ، جو کے عوض بیچ ڈالو۔ یا ان کی نقد قیمت وصول کرلو۔ اور پھر اس سے اعلیٰ درجے کی کھجوریں خریدو یہ حیلہ جائز ہے۔ اس قسم کی مثالیں قرآن پاک میں بھی ملتی ہیں۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کسی معمولی بات پر ناراض ہوگئے۔ تو قسم کھائی کہ تندرست ہوگیا۔ تو بیوی کو سو لاٹھیاں یا کوڑے ماروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تمہاری بیوی نیک خاتون ہے۔ اس کے ساتھ ایسا سلوک نہ کرو۔ بلکہ اپنی قسم پوری کرنے کے ت لیے سو چھڑیوں کا ایک گٹھا لے لو۔ اور ایک ہی دفعہ بیوی کو ضرب لگا دو یہ کافی ہے۔ گویا سو کوڑوں کی سزا سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ حیلہ سازی بتلائی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی حیلہ سازی کا ذکر آتا ہے کہ آپ اپنے بھائی بنیامین کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے۔ مگر اس ملک کے قانون کے مطابق وہ انہیں نہیں روک سکتے تھے۔ ادھر اسرائیلی قانون کے مطابق جو شخص چوری کا ارتکاب کرے اسے سال بھر غلامی کرنا پڑتی تھی چناچہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائی کو روکنے کے لیے اسرائیلی قانون کا سہارا لیا۔ اور اس کے لیے حیلہ یہ بنایا کہ اس کے سامان سے پیمانہ برآمد کرلیا اسی حیلہ سازی کو قرآن پاک نے اس طرح بیان فرمایا “ کذلک کدنا لیوسف ” ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو ایسا کرنے کی تدبیر بتائی تھی۔ البتہ ناجائز حیلہ سازی بہرحال حرام ہے۔ مثلاً زکوٰۃ کی ادائیگی سے بچنے کے لیے زیور بیوی کے نام ہبہ کردیا۔ جب اس کے پاس سال پورا ہونے لگا تو بیوی نے خاوند کے نام ہبہ کردیا گویا نہ کسی کے ہاں زیور پر پورا سال گزرے اور نہ اس کی زکوٰۃ دینی پڑے۔ یہ حیلہ سازی ناجائز ہے اسی طرح کسی بھی فرض ، روزہ ، نماز ، جہاد وغیرہ سے بچنے کے لیے کوئی حیلہ سازی کرے گا تو مجرم ٹھہرے گا۔ تبدیلی اشکال کی توجیہہ : یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان نافرمانوں کو جانوروں کی شکل میں اور خاص طور پر خنزیروں اور بندروں کی شکل میں کیوں تبدیل کیا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک قانون مقرر کیا تھا۔ کہ ہفتے کے دن سوائے عبادت کے کوئی کاروبار نہیں کریں گے۔ مگر انہوں نے حکم خداوندی کو توڑ کر مچھلی کا شکار شروع کردیا۔ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں سزا کے طور پر خنزیر اور بندر بنا دیا۔ محققین فرماتے ہیں (1 ۔ الہام الرحمن فی تفسیر القرآن از حضرت سندھی ج 1 ص 49 مطبوعہ کبیر والا) کہ اس ضمن میں پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان اور جانور میں یہی فرق ہے کہ انسان قانون کی پابندی کرتا ہے۔ اور جانور اس سے مستثنیٰ ہے۔ اب اگر انسان بھی قانون کی خلاف ورزی شروع کر دے تو ظاہر ہے کہ وہ انسانیت کے درجے سے گر کر حیوانیت کے درجے پر آگیا۔ اور ظاہری شکل و صورت کے اعتبار سے انسان بندر سے زیادہ مشابہ ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے انہیں بندر کی شکل میں تبدیل کردیا۔ شکل و صورت کے علاوہ بندر حس اور شعور میں بھی انسان سے مشابہ ہوتا ہے۔ یہ بڑا نقال جانور ہے۔ جس طرح انسان کو کرتے ہوئے دیکھ لے اسی طرح کرنے لگتا ہے۔ تو گویا اللہ تعالیٰ نے ان نافرمانوں کو جانوروں کی اس قسم میں تبدیل کیا جو ان سے زیادہ مشابہ ہیں مفسرین فرماتے ہیں (1 ۔ الہام الرحمن فی تفسیر القرآن ج 1 ص 49) کہ جب اکیلا آدمی کسی ضابطے کی پابندی کرتا ہے۔ تو اسے اخلاق کا نام دیا جاتا ہے۔ اور جب کوئی دو افراد آپس میں کوئی معاملہ طے کرتے ہیں تو اسے قانون کہا جاتا ہے۔ قانون کی ادنیٰ ترین صورت میاں بیوی کے درمیان نکاح کا ضابطہ ہے۔ جس کی پابندی دونوں فریقوں پر لازم ہے۔ اگر کوئی فریق اس قانون کو توڑے گا۔ تو وہ انسانیت کے درجے سے گر کر حیوانیت کے زمرے میں شامل ہوجائے گا۔ اس کی مزید وضاحت یوں سمجھیں کہ عقد نکاح کے قانون کے مطابق کوئی عورت ایک ہی مرد کے ساتھ مختص ہوتی ہے۔ یہ ایک معاہدہ یا (Agreement) ہوتا ہے۔ جس کی پابندی ضروری ہے۔ اگر اسی ضابطے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عورت ایک مخصوص مرد کی بجائے کسی دوسرے مرد کی خلوت میں بھی چلی جائے تو ظاہر ہے کہ وہ جانور کی سطح پر آجائے گی جس پر کسی ایسے قانون کی پابندی لازم نہیں اسی طرح مرد اگر اپنی منکوحہ عورت کی عالوہ کسی دوسرے عورت کی طرف نظر بد سے دیکھتا ہے تو وہ قانون کی خلاف ورزی کرکے انسانیت کے درجے سے گر جائے گا۔ اب نکا ح کی بھی شرائط ہیں۔ نکاح ایسے مرد اور عورت کے درمیان ہو سکتا ہے جو آپس میں محرمات میں سے نہ ہوں اگر محرم ہوں گے تو نکاح جائز نہیں ہوگا۔ اگر ایسا کریں گے تو قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں ۔ کہ ان تمام شرائط کے ساتھ جو کام ہوگا وہ درست ہوگا۔ ورنہ قانون شکنی کی زد میں آجائے گا۔ اسی طرح مباشرت کے لیے بھی بعض شرائط ہیں کہ کوئی شخص اپنی عورت کے ساتھ ایسا کرسکتا ہے کسی دوسرے مرد کے ساتھ جائز نہیں۔ جب مرد اور عورت آپس میں ملیں گے۔ وہ بھی فطری طریقے سے غیر فطری راستے سے انتفاع بھی خلاف قانون ہے ۔ جو کسی طرح جائز نہیں۔ قانون شکنی پر خنزیر اور بندر کی سزا اللہ تعالیٰ نے اس واسطے دی ہے۔ کہ یہ دونوں جانور اخلاقی طور پر دوسرے جانوروں کی نسبت زیادہ گرے ہوئے ہیں خنزیر ایک ایسا جانور ہے کہ اس کی مادہ کے ساتھ کئی کئی نر بیک وقت جفتی کرتے ہیں۔ یہ اس قسم کا بےغیر جانور ہے۔ اور بندر کی ایک بہت بری خصلت یہ ہے کہ یہ اپنے ہی ہم جنس بندر کے ساتھ بھی قضائے شہوت کرلیتا ہے خنزیر قانون کی ایک شق کی خلاف ورزی کرتا ہے تو بندر دوسری شق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سور کا گوشت کھانے والے لوگ بےغیرت ہوتے ہیں۔ انگریز اور سکھ جو خنزیر کا گوشت کھاتے ہیں۔ ان میں بےغیرتی کا مادہ کثرت سے پایا جاتا ہے۔ الغرض جب یہود نے اللہ تعالیٰ کے قانون کو توڑ ڈالا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی شکلیں ان جانوروں میں تبدیل کردیں جو خود قانون شکن ہے۔ نماز کا ایک اہم قانون ہے کہ مقتدی امام سے آگے نہ نکلے۔ رکوع ، سجود ، قومہ ، قعدہ ، ہر مقام پر امام کی اقتداء میں رہے۔ اور اگر کوئی نمازی امام سے آگے نکلنے کی کوشش کرے گا تو اس کی مثال گدھے کے ساتھ دی گئی ہے۔ جو کہ بڑا بیوقوف جانور ہے۔ گویا جو شخص نماز کے قانون کو توڑتا ہے وہ گدھے کی مانند ہے ۔ یہ تو اس کی باطنی صورت ہے۔ فرمایا (1 ۔ بخاری ج 1 ص 96 ، مسلم ج 1 ص 181) امام سے آگے نہ نکلوں ایسا نہ ہو “ یجعل اللہ صورتہ صورۃ حمار ” کہ اللہ تعالیٰ اس کی شکل گدھے کی نہ بنا دے یعنی کہیں ظاہری طور پر بھی قانون شکن گدھا ہی نہ بن جائے قانون شکنی پر سخت وعید آئی ہے۔ نشان عبرت : فرمایا اے بنی اسرائیل ! تم جانتے ہو ان لوگوں کو جنہوں نے ہفتے کے د ن تعدی کی اور حکم بجانہ لائے۔ بلکہ حیلہ سازی سے اس کی حرمت کو توڑا۔ تو ہم نے انہیں کہا۔ کہ ذلیل و خوار بندر بن جاؤ۔ پھر جب وہ بندروں کی شکلوں میں تبدیل ہوگئے تو باقی دنیا کے لیے نشان عبرت بن گئے۔ “ فجعلنھا نکالا لما بین یدیھا وما خلفھا ” ہم نے نہیں موجودہ اور آئندہ آنے والے لوگوں کیلئے عبرت کا نشان بنا دیا۔ لوگوں کی زبانوں پر اور تاریخ کی کتابوں میں محفوظ ہوگیا۔ کہ فلاں قوم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں خنزیر اور بندر بنا دیا۔ یہ اس لیے کہ اس واقعہ کو یاد کرکے آئندہ نسلیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچیں۔ فرمایا تبدل اشکال محض عبرت کے لیے ہی نہیں بلکہ اسے “ وموعظۃ للمتقین ” بھی بنا دیا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے لیے اس واقعہ میں نصیحت ہے۔ کہ اگر آئندہ بھی کسی نے اللہ تعالیٰ کے قانون کو توڑا۔ تو اس کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جاسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے متقیوں کے لیے اس واقعہ کو نصیحت بنا دیا۔
Ayah 2:67

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا١ؕ قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 2:67 in the Quran reader

اور جب کہا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے بیشک اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم ایک گائے ذبح کرو۔ تو انہوں نے کہا کیا تو بناتا ہے ہم کو ٹھٹھا کیا ہوا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا۔ پناہ بخدا۔ اس بات سے کہ میں جاہلوں میں سے ہوجاؤں

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی حیلہ سازی کا تذکرہ بیان فرمایا تھا۔ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قانون کو کس طرح توڑتے تھے۔ اس جرم کی پاداش میں ان کی شکلوں کو تبدیل کردیا گیا۔ اور بالآخر وہ ہلاک ہوگئے۔ آیت زیر درس میں بنی اسرائیل کے ایک اور واقعہ کی طرف اشارہ ہے جس میں اس قوم کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا۔ مگر انہوں نے اس حکم کو ٹالنا چاہا۔ اور اس ضمن میں طرح طرح کے سوال کئے۔ گویا بال کی کھال اتار رہے ہیں۔ من حیث القوم یہ خرابی بھی بنی اسرائیل میں موجود تھی اس آیت میں اسی بات کا ذکر کیا گیا ہے۔ واقعاتی ربط : دراصل گائے ذبح کرنے کا حکم ایک خاص مقصد کے تحت دیا گیا تھا۔ جس کا ذکر اگلے رکوع کی پہلی آیت میں ہے “ واذقتلتم نفسا فادرءتم فیھا ” جب تم نے ایک شخص کو قتل کر ڈالا ۔ اور الزام ایک دوسرے کے سر تھوپنے لگے “ واللہ مخرج ما کنتم تکتمون ” اور اللہ تعالیٰ ظاہر کرنے والا ہے۔ جس کو تم چھپاتے ہو۔ قتل تو ہوگیا۔ مگر قاتل کا پتا نہیں چلتا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ تم ایک گائے ذبح کرو اور اس کا ایک ٹکڑا مقتول کے جسم پر مارو ، تو وہ زندہ ہو کر خود بتا دے گا۔ کہ اس کا قاتل کان ہے ، چناچہ قاتل کا پتہ چلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تھا۔ جس کا تذکرہ آیت زیر درس میں ہو رہا ہے۔ اس مقام پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس مقصد کی خاطر گائے ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ اس کو تو بعد میں بیان کیا ہے۔ مگر اس حکم کا تذکرہ پہلے کردیا گیا ہے۔ گویا واقعات کے تقدم و تاخر کو ملحوظ نہیں رکھا گیا۔ اس کے متعلق مفسرین کرام بیان کرتے ہیں (1 ) کہ قرآن پاک کا اسلوب بیان یہ ہے کہ جو چیز زیادہ ضروری ہوتی ہے اسے پہلے بیان کیا جاتا ہے۔ اس واقعہ کے دو اجزاء ہیں۔ ایک اصل قتل ۔ جس میں مقتول کا حق ضائع ہوا۔ اور دوسرا جزو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے “ ان اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ ” اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ گائے ذبح کرو۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم بندوں کے حق پر مقدم ہے اس لئے گائے ذبح کرنے کے واقعہ کو مقد رکھا ، اور اصل واقعہ قتل کو مؤخر کردیا گیا ہے۔ قرآن پاک میں بعض دوسری مثالیں بھی ملتی ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کے حق کو بندوں پر مقدم رکھا گیا ہے۔ مثلاً “ وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ وبالوا الدین احسانا ” تیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ اور والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ۔ گویا اللہ تعالیٰ نے اپنا حق پہلے بیان کیا اور والدین یعنی بندوں کا بعد میں بیان کیا ہے۔ اسی طرح سورة لقمان میں آتا ہے “ وان جاھدک علی ان تشرک بی ما لیس لک بہ علم فلا تطعھما ” اگر ماں باپ اللہ تعالیٰ کے حقوق ضائع کرنا چاہیں یعنی تمہیں شرک پر آمادہ کریں تو ان کی اطاعت مت کرو۔ یہاں پر اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کو والدین کے حق پر مقدم رکھا اس واقعہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے ذبح گائے کو مقدم رکھا۔ کہ یہ اس کا اپنا حق ہے اور مقتول کے حق یعنی دیت یا قصاص وغیرہ کو مؤخر کردیا۔ اس واقعہ سے حیات بعد الممات کا مسئلہ بھی حل ہوتا ہے۔ “ کذلک یحی اللہ الموتی ” کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر اس مردہ کو دوبارہ زندہ کردیا۔ اور اس نے اپنے قاتل کی نشاندہی کردی اسی طرح اللہ تعالیٰ قیامت کے روز تمام مردوں کو دوبارہ زندہ کر دے گا۔ اور پھر حساب کتاب اور جزا و سزا کے تمام واقعات پیش آئیں گے۔ وجہ قتل : ملا علی قاری (رح) دسویں صدی کے بڑے پائے کے محدث گزرے ہیں آپ کا اصل وطن ہرات تھا۔ مگر مکہ میں آباد ہوگئے تھے۔ انہوں نے عربی میں مرقات کے نام سے مشکوۃ شریف کی بلند پایہ شرح لکھی ہے۔ اپنی اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک بڑا دولتمند شخص تھا۔ جس کی ایک بیٹی تھی۔ کسی نے اسے نکاح کا پیغام بھیجا مگر اس شخص نے قبول نہ کیا جس کی وجہ سے اسے قتل کردیا گیا۔ عام طور پر مفسرین کرام وجہ قتل یہ بیان کرتے ہیں (1 ۔ تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 108) کہ عامیل نامی ایک دولت مند شخص تھا جو کہ لاولد تھا۔ اس کے بھائی کے لڑکے اس کی جائیداد کے وارث تھے۔ چناچہ اس کے بھتیجے اس تاک میں تھے کہ یہ مرے تو اس کی جائیداد پر قبضہ کریں ۔ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (رح) لکھتے ہیں (2 تفسیر عزیزی فارسی ص 278 پارہ 1) کہ اس شخص کے بھتیجے مناسب موقع کی تلاش میں رہے۔ آخر ایک دن اسے کسی کام کے بہانے کہیں دوسری جگہ لے گئے اور ویرانے میں جا کر قتل کردیا۔ اس کے بعد انہوں نے خود ہی رونا پیٹنا شروع کردیا کہ کسی نے ان کے چچا کو قتل کردیا ہے۔ حتیٰ کہ قریبی بستی والوں پر قتل کا الزام لگایا۔ اور ان سے دیت بھی طلب کی۔ مگر بستی والوں نے اس قتل میں ملوث ہونے کی نفی کی اور کہا کہ ہم اس معاملہ میں بالکل بےگناہ ہیں “ نادرءتم فیھا ” میں یہی بات بیان کی گئی ہے۔ کہ تم قتل کا الزام ایک دوسرے پر لگا رہے تھے۔ قانون قسامت : قانون قسامت یہ ہے (3 ۔ ہدایہ ج 4 ص 526 ، 547) کہ اگر کسی مقتول کے قاتل کا پتا نہ چلتا ہو۔ تو وقوعہ قتل سے قریب تریب بستی کے لوگوں سے قتل کے متعلق دریافت کیا جائے گا۔ اگر وہ انکار کریں تو ان میں سے پچاس آدمی منتخب کرکے قسم دلائی جائے گی۔ کہ نہ انہوں نے خود قتل کیا ہے۔ اور نہ وہ قاتل کو جانتے ہیں۔ ایسا کرنے سے وہ لوگ قتل کے الزام سے تو بری ہوجائیں گے۔ تاہم انہیں مقتول کے ورثا کو دیت یعنی خون بہا دینا پڑیگا۔ اس واقعہ کے متعلق مفسرین کرام کی مختلف آراء ہیں۔ بعض کہتے ہیں (4 ۔ تفسیر عزیزی فارسی ص 278 پارہ نمبر 1) کہ قتل کے اس واقعہ کے وقت بنی اسرائیل میں قسامت کا قانون رائج تھا۔ جس کا ذکر توراۃ میں بھی موجود ہے۔ اور یہ ہماری شریعت میں بھی موجود ہے۔ بنی اسرائیل کا قانون قسامت یہ تھا۔ کہ قاتل نامعلوم ہونے کی صورت میں وقوعہ کی قریبی بستی سے معتبرین کو نکالا جائے گا۔ اور وہ لوگ بچھیا (گائے) لیں جس نے نہ حل چلایا ہو ۔ بلکہ درمیانی عمر کی ہو۔ اور بےعیب ہو ۔ وہ لوگ بچھیا کو پاس بہنے والی ندی پر لیجا کر اسکی گردن توڑ دیں۔ اور پھر لادی خاندان کے کا من اس پر کچھ پڑھیں پڑھائیں۔ یہ لوگ اس ندی پر اپنے ہاتھ دھوئیں اور یوں کہیں کہ اے پروردگار ہم اس خون سے بری ہیں نہ ہم کو علم ہے کہ یہ خون کس نے کیا ہے جب وہ ایسا کریں گے۔ تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دے گا۔ کثرت سوال سے بچو : بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں (1 ۔ معالم التنزیل ج 1 ص 32) کہ جس وقت قتل کا یہ واقعہ پیش آیا اس وقت تک توراۃ نازل ہی نہیں ہوئی تھی۔ چونکہ ان کے پاس اس مسئلہ کا حل موجود نہیں تھا۔ اس لیے وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے نبی بھی تھے اور ظاہری طور پر حکومت بھی موسیٰ (علیہ السلام) کی تھی۔ چناچہ آپ نے ان لوگوں کو فرمایا کہ بھائی ! ایک گائے ذبح کرو تو تمہارے مسئلہ کا حل نکل آئے گا۔ صحیح حدیث میں آتا ہے (2 ۔ تفسیر مظہری ج 1 ص 80 ، درمنثور ج 1 ص 77 ، ابن کثیر ج 1 ص 21) کہ اگر بنی اسرائیل اس وقت لیت ولعل نہ کرتے بلکہ کوئی بھی گائے ذبح کردیتے تو بات بن جاتی۔ مگر ان کی طبعیتوں میں تعمق تھا۔ وہ بال کی کھال اتارنا جانتے تھے۔ انہوں نے پیغمبر کا حکم ماننے کی بجائے طرح طرح کے سوالات کرنے شروع کردیے نتیجہ یہ ہوا ۔ کہ جوں جوں سوال کرتے گئے توں توں سختی بڑھتی گئی حتیٰ کہ بیچ نکلنے کا کوئی راستہ باقی نہ رہا اور وہ مجبور ہوگئے ۔ مگر اس حیلہ سازی میں کافی عرصہ گزر گیا۔ اور انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حکم پر عمل نہ کیا۔ اسی لیے حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے (3 ) کہ تعمق اچھا نہیں ہر بات میں بال کی کھال نہ اتارو بلکہ حکم پر عمل کرو۔ جس قدر زیادہ باریکی میں جاؤ گے۔ اسی قدر سختی میں مبتلا ہوگے۔ اور آخر مجبور ہوجاؤ گے۔ قاتل کی تلاش کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک لمبا راستہ اختیار کیا ۔ کہ اس طرح گائے ذبح کرو اور پھر اس کے جسم کا ایک ٹکڑا مقتول کی لاش پر مارو تو وہ خود اپنے قاتل کا نام بتا دے گا۔ حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے نبی تھے۔ انہیں بذریعہ وحی بھی قاتل کی خبر مل سکتی تھی اور وہ ان کو بتا سکتے تھے۔ اس کے متعلق مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اسرائیلیوں کے دماغوں میں تعمق بھرا ہوا تھا۔ اگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) براہ راست قاتل کی نشاندہی کردیتے تو قوم بگڑ جاتی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کی عادات کو خوب سمجھتے تھے۔ جب وہ توراۃ لے کر آئے تھے۔ تو اس وقت بھی اسرائیلیوں نے اسے اللہ تعالیٰ کی کتاب ماننے سے انکار کردیا تھا۔ آخر مجبور ہو کر انہوں نے اسے تسلیم کیا۔ پھر انہوں نے عہد و پیمان کو بھی توڑا۔ اور جب ان پر جبر کیا گیا کوہ طور ان کے سروں پر معلق کردیا گیا۔ پھر وہ راہ راست پر آئے۔ اور توراۃ پر عمل کرنے کا وعدہ کیا۔ نبی سے قطع تعلقی : امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں (1 ) کہ اس قسم کی برائیاں نبی کے علم و عمل سے علیحدگی کی بنا پر پیدا ہوتی ہیں۔ اور نبی سے لاتعلقی تین وجوہ سے ہوتی ہے۔ اولاً بیخبر ی یعنی امتی کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ نبی کا عمل اور عقیدہ کیا ہے۔ ثانیاً یہ کہ طبیعتوں میں بگاڑ پیدا ہوجائے۔ امتی اصل راستے سے بھٹک جائیں تو بھی نبی سے تعلق کمزور پڑجاتا ہے۔ تیسری وجہ ماحول کا اثر ہے۔ جب لوگ معاشرے کے دیگر لوگوں سے متاثر ہو کر ان کا طریقہ اختیار کرلیں۔ تو پھر بھی اپنے نبی سے قطع تعلقی پیدا ہوجاتی ہے۔ بنی اسرائیل میں یہ تینوں بیماریاں موجود تھیں جن کی وجہ سے وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بات بات میں تکرار کرتے تھے۔ حجت بازی اور حیلہ بازی کرتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کے احکام کو ٹالنے کی کوشش کرتے تھے۔ یہ بیماریاں آج امت محمدیہ میں بھی موجود ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا (2 ۔ بخاری ج 2 ص 1088 ، مسلم ج 2 ص 339) “ لتتبعن سنن من کان قبلکم ” یعنی اے میری امت ! ایک وقت آئے گا۔ جب تم بھی پہلی قوموں کی طرح ہی ہوجاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ ان کمزوریوں سے محفوظ رکھے۔ اور نبی (علیہ السلام) کی صحیح اتباع کی توفیق عطا فرمائے۔ ٹھٹھا حرام ہے : ارشاد ہوتا ہے “ واذ قال موسیٰ لقومہ ان اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ ” اس واقعہ کو یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ گائے ذبح کرو۔ بقرہ کا لفظ عربی زبان میں عام طور پر گائے پر بولا جاتا ہے۔ مگر یہ لفظ اسم جنس کے طور پر بھی اختیار کیا جاتا ہے یعنی نر اور مادہ یا گائے اور بیل دونوں پر استعمال ہوتا ہے بعض (3 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 281 ، 282) کہتے ہیں کہ جس جانور کو اللہ تعالیٰ نے ذبح کرنے کا حکم دیا تھا۔ وہ گائے نہیں بلکہ بیل تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیکر تمہارے مسئلہ کا حل فرمایا ہے۔ تم حکم کے مطابق گائے یا بیل ذبح کرکے اس کے گوشت کا ٹکڑا مقتول کے جسم پر لگاؤ تو یہ زندہ ہو کر خود اپنے قاتل کا نام بتا دے گا ۔ مگر وہ ظالم قوم تعمیل حکم کی بجائے کہنے لگی۔ اے موسیٰ (علیہ السلام) “ قالوا اتتخذنا ھزوا ” کیا آپ ہمارے ساتھ ٹھٹھا (مذاق) کرتے ہیں بھلا ایسا بھی کبھی ہوا ہے کہ مردہ دوبارہ زندہ ہوجائے۔ اور اپنے قاتل کی نشاندہی کرے۔ یہ تو آپ ہمارے ساتھ مذاق کر رہے ہیں ۔ “ ھزوا ” مصدر بمعنی للمفعول ہے۔ لفظی معنی یہ ہے کہ کیا تم ہمیں ٹھٹھا کیا ہوا بناتا ہے۔ دیکھو ! حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کا عظیم اور صاحب کتاب نبی ہے۔ مگر قوم اس قدر بگڑی ہوئی ہے کہ معجزہ کا انکار کر رہی ہے۔ حالانکہ تھوڑا عرصہ قبل ہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر کئی ایک معجزات کا مشاہدہ کرچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں فرعون کی غلامی سے نجات دلائی پھر یہ چالیس سال تک صحرا میں سرگرداں پھرتے رہے۔ من وسلویٰ کھاتے رہے۔ پانی کے لیے بارہ چشمے جاری ہوئے۔ اس کے باوجود مزاج فاسد ہیں۔ صاف کہہ دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کیا تو ہم سے ٹھٹھا کرتا ہے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس بات سے کہ جاہلوں میں سے ہوجاؤں۔ اے نادانوں ! تم کیسی باتیں کر رہے ہو۔ میں خدا تعالیٰ کا نبی ہو کر خدا تعالیٰ کا حکم سنا رہا ہوں۔ تم کہتے ہو کہ مخول کر رہا ہوں۔ یہ تو جاہلوں کا کام ہے ۔ اسی لیے ہماری شریعت میں ٹھٹھا حرام ہے۔ سورة حجرات میں آتا ہے ۔ “ لا یسخر قوم من قوم ” کوئی قوم کسی قوم سے ٹھٹھا نہ کرے۔ یہ ہنسی مذاق جس سے دوسرے کی تحقیر ہوتی ہو۔ سخت منع ہے۔ ہاں ایسا مذاق جس سے دوسرے کی تحقیر کا پہلو نہ نکلتا ہو جائز ہے۔ تاہم اس کی زیادتی بھی مناسب نہیں۔ خوشی طبعی جائز ہے : صحابہ کرام ؓ فرماتے ہیں (1 ۔ ترمذی ص 293 وشمائل مع ترمذی ص 585) کہ بعض اوقات حضور ﷺ ہمارے ساتھ خوش طبعی بھی فرمایا کرتے تھے۔ ہم نے عرض کیا۔ کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہو کر خوش طبعی کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ہاں میں خوش طبعی کرتا ہوں۔ مگر میری خوش طبعی اور عام لوگوں کی خوش طبعی میں بنیادی طور پر فرق ہے۔ “ ان لا اقول الا حقا ” میں حق کے بغیر کچھ نہیں کہتا۔ خواہ خوش طبعی ہی ہو۔ حدیث شریف میں موجود ہے (2 ۔ ترمذی ص 293 وشمائل مع ترمذی ص 585) کہ ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ اور عرض کیا حضور ! میں جہاد میں شریک ہونا چاہتا ہوں۔ مگر میرے پاس سواری نہیں ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا۔ تمہیں اونٹ کے بچے پر سوار کردیں گے۔ اس نے سمجھا کہ شاید حضور اونٹ کا کوئی بچہ عنایت فرمائیں گے۔ کہنے لگا مگر میں اس پر سواری کیا کروں گا۔ اس کی تو حفاظت کرنی پڑے گی۔ نامعلوم کتنے سال بعد وہ بچہ سواری کے قابل ہوگا۔ اس کی یہ بات سن کر حضور ﷺ مسکرائے اور فرمایا کہ تم نے اونٹ کے بچے کو بالکل چھوٹا بچہ کیوں سمجھ لیا۔ بڑا اونٹ بھی تو کسی اونٹ کا بچہ ہی ہوتا ہے میں تمہیں اونٹ کا وہ بچہ دوں گا جو سواری کے قابل ہوگا ۔ اسی طرح ایک بڑھیا حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا۔ اللہ تعالیٰ کے نبی ! میرے لیے جنت کی دعا فرمائیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا ۔ اے اُم فلاں ! کوئی بڑھیا جنت میں داخل نہیں ہوسکتی۔ وہ بیچاری پر یان ہوگئی۔ جب وہ روتی ہوئی جانے لگی تو حضور ﷺ نے اسے واپس بلوایا ، اور فرمایا کہ میں نے صحیح بات کی ہے۔ جنت میں بوڑھی عورت نہیں جائیگی۔ بلکہ جو بھی جائے گی۔ جوانی کے عالم میں جائے گی۔ جنتی مرد اور عورتیں سب تیس پینتس سال کے پیٹے میں ہوں گے۔ جب وہ جنت میں جائیں گے۔ الغرض ! حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا پناہ بخدا کہ میں ٹھٹھا کر کے جاہل بن جاؤں یہ ان نبوت کے خلاف ہے میں تو تمہیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا رہا ہوں۔ اس کا حکم سن رہا ہوں اور تم اسے ٹھٹھے پر محمول کر رہے ہو۔ اب وہ سمجھے کہ یہ تو سنجیدہ بات ہے۔ چناچہ انہوں نے سوالات کرنے شروع کردیے جن کا ذکر آگے آرہا ہے ۔
Ayahs 2:68–73

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّ لَا بِكْرٌ١ؕ عَوَانٌۢ بَیْنَ ذٰلِكَ١ؕ فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 2:68 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اپنے پروردگار سے دعا کر۔ ہمارے لیے بیان کرے کہ وہ گائے کیسی ہے (موسیٰ (علیہ السلام) نے ) کہا بیک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ گائے نہ عمر خوردہ (بوڑھی) اور نہ بچھیا (نو عمر) ہو۔ بلکہ اس کے درمیان میں ہو۔ پس کر ڈالو جو تم کو حکم دیا جاتا ہے

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَآءُ١ۙ فَاقِعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ Open ayah 2:69 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کریں کہ وہ ہمارے لیے بیان کرے کہ اس گائے کا رنگ کیا ہے (موسیٰ (علیہ السلام) نے) کہا بیشک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ زرد رنگ کی گائے ہے۔ اس کا رنگ گہرا ہے۔ جو دیکھنے والوں کو خوش کرتی ہے

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ۙ اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَیْنَا١ؕ وَ اِنَّاۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:70 in the Quran reader

ان لوگوں نے کہا کہ ہمارے لیے اپنے پروردگار سے دعا کریں کہ وہ ہمارے لیے بیان کرے کہ وہ گائے کیسی ہے۔ بیشک گائے ہم پر متبہ ہوگئی ہے۔ اور بیشک اگر اللہ نے چاہا تو ہم راہ پالیں گے

قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَ لَا تَسْقِی الْحَرْثَ١ۚ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِیَةَ فِیْهَا١ؕ قَالُوا الْئٰنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ١ؕ فَذَبَحُوْهَا وَ مَا كَادُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 2:71 in the Quran reader

(موسیٰ (علیہ السلام) نے) کہا کہ بیشک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ایسی گائے ہے۔ جو کہ نہ محنت کرنے والی ہو جو جوتتی (پھاڑتی) ہو زمین کو اور نہ سیراب کرتی ہو کھیتی کو۔ صحیح سلامت ہو۔ اور اس میں کوئی داغ نہ ہو۔ ان لوگوں نے کہا۔ کہ اب آپ ٹھیک بات لائے ہیں۔ پس انہوں نے اس گائے کو ذبح کیا۔ اور وہ ایسا کرنے کے قریب نہیں تھے

وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءْتُمْ فِیْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 2:72 in the Quran reader

اور (اے بنی اسرائیل) اس واقعہ کو دھیان میں لاؤ۔ جب تم نے ایک جان کو قتل کر ڈالا ۔ اس میں تم جھگڑا کرنے لگے۔ (ایک دوسرے کے سر پر دھرنے لگے) اور اللہ تعالیٰ ظاہر کرنے والا ہے ، اس چیز کو جس کو تم چھپاتے تھے

فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُحْیِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى١ۙ وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:73 in the Quran reader

پس ہم نے کہا کہ مارو اس مردہ کو گائے کے بعض حصے کے ساتھ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا۔ اور اسی طرح وہ تم کو اپنی قدرت کی نانیاں دکھاتا ہے۔ تاکہ تم سمجھ (اور غوروفکر کرو)

ربط آیات : گزشتہ درس میں بنی اسرائیل کی حیلہ سازی کا ذکر ہوچکا ہے۔ انہوں نے احکام الٰہی حیلے بہانے سے ٹالنے کی کو کی۔ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے تعمق اختیار کیا۔ اور طرح طرح کے سوالات کرنے لگے۔ پھر جوں جوں سوالات کرتے گئے۔ توں توں ان کی سختیاں بڑھتی گئیں آخر انہوں نے مجبور ہو کر گائے کو ذبح کیا۔ اور اس کا ایک ٹکڑا مردہ کے جسم کے ساتھ لگایا۔ تو وہ زندہ ہوگیا۔ پھر اس نے بتایا کہ اسے اس کے بھتیجوں نے دولت پر قبضہ کرنے کے لئے قتل کیا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کی مخفی بات کو ظاہر کردیا۔ قاتل کا یہ بھی ارادہ تھا کہ وہ مقتول چچا کی لڑکی کو حاصل کرلے گا۔ کیونکہ اس کی جائیداد کی وارث تو وہی تھی۔ نیز وہ اس لالچ میں تھا کہ مقتول کی لاش کو جس علاقے میں پھینکا گیا ہے۔ اس کی قریبی بستی کے لوگوں سے مقتول کی دیت بھی وصول کرلے گا۔ یہ تمام باطل خیالات اس کے دل میں جاگزیں تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس چیز کو تم چھپاتے ہو۔ اس کو اللہ تعالیٰ ظاہر کرنے والا ہے۔ چناچہ ان کی ساری تدبیر ناکام ہوگئی۔ جب وہ قتل کا یہی مقدمہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس لے کر گئے۔ تو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے۔ کہ گائے ذبح کرو۔ یہ سن کر پہلے تو وہ بگڑ گئے۔ کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) کیا آپ ہم سے ٹھٹھا کرتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کے نبی نے کہا۔ کہ میں ٹھٹھا نہیں کرتا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جو تمہیں پہنچا رہا ہوں۔ ٹھٹھا کرنا تو جاہلوں کا کام ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اس بات کو سنجیدگی سے لیا۔ حدیث ریف میں آتا ہے (1 ۔ تفسیر در منثور ج 1 ص 77 ، تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 111) کہ اگر بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کے حکم کی فوراً تعمیل کردیتے اور کوئی بھی گائے ذبح کردیتے۔ تو ان کا مسئلہ حل ہوجاتا۔ مگر ان کے مزاج میں فساد آچکا تھا۔ وہ لیت و لعل کرنے لگے۔ چناچہ سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اور وہ خود ہی پابندیوں میں جکڑے گئے۔ مصلحت الٰہی : مفسرین کرام فرماتے ہیں (2 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 279) کہ بنی اسرائیل کے سوالات کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے جس قسم کی گائے کے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ اس کی تلا میں کافی وقت گزر گیا۔ تاہم اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی خاص مصلحت یہ تھی کہ اس طریقہ سے ایک غریب آدمی کی پرورش مقصود تھی روایات میں آتا ہے (3 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 279) کہ بنی اسرائیل کا ایک پرہیز گار آدمی فوت ہوگیا۔ اور اپنے پیچھے بیوہ۔ ایک بچہ اور ایک بچھڑا چھوڑ گیا۔ اس کے علاوہ اسکی کوئی جائیداد نہیں تھی۔ مرنے سے قبل اس شخص نے دعا کی تھی کہ مولا کریم میرے بچے کے لیے اس بچھڑے میں برکت ڈال دے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا کو شرف قبولیت بخشا۔ اس بچے کی نیک بختی اور سعادت مندی کے متعلق دو آیات آتی ہیں۔ امام ابن کثیر (رح) نے یہ واقعہ نقل کیا ہے (4 ۔ تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 109) کہ ایک دفعہ اس کا باپ سویا ہوا تھا۔ اتنے میں باہر سے کوئی تاجر آیا۔ ہیرا فروخت کرنا چاہتا تھا۔ اس نے بچے کو اسی ہزار میں ہیرا فروخت کرنے کی پیش کش کی۔ مگر بچے نے جواب دیا کہ میں اپنے باپ کی اجازت کے بغیر تم سے سودا نہیں کرسکتا۔ جب وہ اٹھے گا تو بات کریں گے ۔ تاجر نے کہا کہ باپ کو جگا لو۔ میں کم قیمت پر بھی ہیرا بیچ دوں گا۔ مگر لڑکا باب کے آرام میں مخل ہونے پر رضا مند نہ ہوا۔ تاجر کم سے کم قیمت لینے پر بھی تیار ہوا۔ مگر لڑکے نے کہا ۔ کہ میں اسی ہزار کی بجائے ایک لاکھ روپیہ دینا پسند کروں گا ۔ مگر باب کو بےآرام نہیں کرونگا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس لڑکے کی نیکی کی بدولت اللہ تعالیٰ نے اسے برکت سے نوازا۔ بعض دوسری روایتوں میں آتا ہے (5 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 287 ، معالم التنزیل ج 1 ص 33) کہ اللہ تعالیٰ کا فرشتہ انسانی شکل میں اس بچے کے پاس آیا اور بچھڑے کی قیمت دریافت کی۔ اور پھر دو دینار کی پیش کش بھی کردی۔ لڑکے نے کہا کہ میں اپنی والدہ سے پوچھے بغیر قیمت طے نہیں کروں گا۔ جب والدہ سے دریافت کیا تو وہ اتنی قیمت پر رضا مند نہ ہوئی۔ فرشتے نے زیادہ قیمت لگا دی۔ بچے نے پھر کہا کہ میں اپنی والدہ سے پوھ کر بتاؤں گا۔ مگر والدہ نے پھر انکار کردیا۔ غرض ! فرشتہ قیمت بڑھاتا رہا۔ اور لڑکا بار بار والدہ سے مشورہ کرتا رہا ۔ مگر والدہ کسی قیمت پر بھی بچھڑا بیچنے پر راضی نہ ہوئی۔ لہٰذا بچے نے گاہک کو مطلقا جواب دیدیا۔ اب فرشتے نے کہا ۔ کہ تم بڑے سعادت مند بیٹے ہو جو اپنی والدہ کی رائے کے بغیر ایک قدم نہیں چلتے تو سنو ! اس بچھڑے کو خریدنے کے لیے تمہارے پاس لوگ آئیں گے۔ مگر تم تھوڑی قیمت پر بچھڑا فروخت نہ کرنا یہ تمہیں مالدار کر دے گا۔ ادھر بنی اسرائیل کو ایسے بچھڑے کی تلا ہوئی جو اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ نشانیوں پر پورا اترے پھرتے پھراتے انہیں یہی بچھڑا مل گیا۔ جس میں بیان کردہ تمام صفات پائی جاتی تھیں۔ جب انہوں نے قیمت چکانا چاہی۔ تو سودا نہ بن سکا۔ چناچہ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آکر بتایا کہ مطلوبہ بچھڑا تو مل گیا ہے ۔ مگر ا س کا مالک مناسب قیمت پر بیچنے کو تیار نہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس شخص کو بلا بھیجا ، اور بچھڑا نہ دینے کی وجہ دریافت کی اس نے عرض کیا۔ کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ آپ ہی بتائیں ۔ جب کہ میں اس کا مالک ہوں کیا میں اپنی مرضی کے مطابق اس کو تصرف میں لانے کا مجاز نہیں ہوں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا بیشک تجھے اپنی مرضی کے مطابق تصرف کی اجازت ہے تو اس نے کہا کہ میں اس بچھڑے کے بدلے اس کا ہم وزن سونا لوں گا۔ اس سے کم قیمت پر راضی نہیں ہوتا۔ بعض دوسری روایتوں میں آتا ہے (1 ۔ درمثور ج 1 ص 76 ، تفسیر طبری ج 1 ص 255) کہ اس نے بچھڑے کی عام قیمت سے دس گناہ زیادہ قیمت طلب کی۔ تاہم ہم وزن سونے والی روایت زیادہ مشہور ہے۔ چناچہ بنی اسرائیل نے وہ بچھڑا اس کے وزن کے برابر سونا دے کر حاصل کیا (2 ۔ تفسیر طبری ج 1 ص 255) اور پھر اسے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ذبح کیا۔ گائے کی نشانیاں : الغرض ! بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں فوری طور پر کوئی گائے یا بچھڑا لے کر ذبح نہ کیا۔ بلکہ اس کے متعلق سوالات کرنے شروع کردیے اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں سوال و جواب کی تفصیل بتائی ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے کہ جب انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم ہوا۔ تو کہنے لگے “ قالوا ادع لنا ربک یبین لنا موھی ” اے موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب سے دعا کیجئے۔ کہ وہ ہمیں تفصیل سے بتائے کہ جس گائے کو ذبح کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے وہ کیسی ہو۔ “ قال انہ یقول ” موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے “ انھا بقرۃ لافارض ولا بکر ” وہ گائے نہ تو بوڑھی ہے۔ اور نہ نو عمر بلکہ “ عوان بین ذلک ” دونوں عمروں کے درمیان ہو۔ “ فافعلوا ما تؤمرون ” پس کر ڈالو جس چیز کا تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ مقصد یہ تھا کہ اب بھی زیادہ سوال و جواب کے چکر میں نہ پڑو۔ بلکہ درمیانی عمر کی کوئی گائے لے کر ذبح کردو۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ جس کی فوری تعمیل ہونی چاہئے۔ مگر وہ بدبخت قوم پھر بھی تعمیل حکم پر آمادہ نہ ہوئی۔ بلکہ دوسرا سوال کردیا “ قالوا ادع لنا ربک ” یعنی اے موسیٰ (علیہ السلام) ہمیں اپنے رب سے یہ پوچھ دیں “ یبین لنا ” وہ ہمیں واضح طور پر بتائے “ ما لونھا ” کہ اس گائے کا رنگ کیسا ہو۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے پھر اللہ تعالیٰ سے دریافت کرکے انہیں بتایا “ قال انہ یقول ” بیشک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے “ انھا بقرۃ صفرآء فاقع لونھا ” وہ گائے زرد رنگ کی صفت ہے۔ کہ وہ زرد بھی ہو اور گہرا بھی ہو۔ یہ رنگوں کے مختلف نام ہیں۔ اور پھر آگے ان کی صفات ہیں سفید رنگ کو ابیض اور سرخ کو احمر کہتے ہیں تو اس گائے کے رنگ کے متعلق فرمایا کہ وہ گہرا زرد ہو۔ “ تسر النظرین ” جو لوگوں کا دل لبھانے والا ہو۔ جسے دیکھ کر لوگ خوش ہوجائیں۔ بنی اسرائیل کے دل و دماغ میں تعمق کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ انہوں نے تیسرا سوال کردیا۔ “ قالوا ادع لنا ربک ” اے موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب سے دعا کریں “ یبین لنا ماھی ” وہ ہمارے لیے بیان کرے کہ وہ گائے کیسی ہو۔ “ ان البقر تبہ علینا ” بیشک گائے ہم پر مشتبہ ہوگئی ہے۔ یعنی ہم ابھی تک اس کی ٹھیک ٹھیک نانشانیاں نہیں جان سکے اگر ہمیں اس کی پوری تفصیل سے آگاہ کردیا جائے “ وانا ان شآء اللہ لمھتدون ” تو بیشک اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہم راہ پالیں گے۔ اس دفعہ انہوں نے اپنے مطالبہ کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ساتھ منسک کیا گویا یہ آخری بات تھی جو انہوں نے دریافت کی عام قانون بھی ہے “ ولا تقولن لشای ، انی فاعل ذلک غدا (23) الا ان یشآء اللہ ” یعنی جب کبھی کوئی مستقبل میں کام کرنا ہو۔ تو یوں نہ کہو کہ کل یا پرسوں ضرور کر دوں گا۔ بلکہ اس فعل کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ساتھ معلق کرو ۔ کہ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ایسا کردوں گا۔ مومن کی یہی شان ہے ، کہ وہ ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی توفیق کا طلب گار ہوتا ہے۔ اس آخری سوال کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا “ قال انہ یقول ” کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ “ انھا بقرۃ لاذلول تثیر الارض زلول ” کے لفظی معنی ہے ہموار کی گئی۔ اس لیے جس اونٹنی کو سواری کے لیے ہموار کرنے کے لئے محنت کی ضرورت ہوتی ہے تو یہاں “ لاذلول ” کا مطلب یہ ہے کہ اس سے محنت نہ کرائی گئی ہو۔ کہ “ تثیر الارض ” کہ وہ زمین اکھاڑتی ہو۔ یعنی وہ کبھی ہل میں بھی نہ جوتی گئی ہو۔ “ ولا تسقی الحرث ” اور اس نے کبھی کھیتی کو سیراب نہ کیا ہو۔ یعنی کبھی اس سے پانی کھینچنے کی محنت بھی نہ لی گئی ہو۔ بلکہ گائے ایسی ہونی چاہئے۔ “ مسلمۃ ” جو بالکل صحیح سلامت ہو۔ “ لایۃ فیھا ” اس میں کوئی عیب نہ ہو۔ بالکل بےداغ ہو۔ بالآخر مجبور ہوگئے : الغرض ! حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو ان کے تمام سوالات کے جوابات دے دیے کہ مطلوبہ گائے کس عمر کی ہو۔ اس کا رنگ کیسا ہونا چاہئے۔ اور پھر وہ ایسی ہونی چاہئے جس سے محنت کا کوئی کام نہ کیا گیا ہو۔ بلکہ صحیح سلامت اور بےداغ ہونی چاہئے۔ اب ان کے لیے فرار کا کوئی راستہ باقی نہ رہا ۔ آخر مجبور ہو کر کہنے لگے ۔ “ قالوا الئن جءت بالحق ” اے موسیٰ (علیہ السلام) اب آپ نے ٹھیک بات کہی ہے۔ حالانکہ بات تو انہوں نے پہلے بھی درست ہی بتائی تھی۔ مگر ان کے اپنے دماغ خراب تھے۔ جو عملدرآمد میں لیست و لعل کر رہے تھے اب انہوں نے سوچا کہ تعمیل حکم کرنی ہی پڑے گی۔ “ فذبحوھا ” تو مطلوبہ گائے تلاش کرنے اور اس کی بھاری قیمت ادا کرنے کے بعد اسے ذبح کر ہی دیا۔ “ وما کادوا یفعلون ” حقیقت یہی ہے کہ وہ ایسا کرنے پر تیار نہیں تھے۔ مگر اب مجبور ہوگئے تھے۔ فضول رسومات کا اخسانہ : جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ بنی اسرائیل خود اپنے اوپر پابندیاں عائد کرکے مجبور ہوگئے۔ یہ اصول آج بھی جاری ہے کہ جو شخص خود اپنے اوپر کوئی پابندی لگالے گا ۔ وہ خود ہی تنگ ہوگا۔ آج کل فضول رسومات میں کی اہو رہا ہے۔ جون جون لوگ بری رسمیں اپنے اوپر عائد کر رہے ہیں۔ ان میں جکڑے جا رہے ہیں۔ نہ خدا راضی اور نہ اس کا رسول راضی اور نہ خود ہی راضی رہ سکتے ہیں۔ یہی جہیز کی رسم کو لے لیں اس نے کس حد تک طول پکڑا ہے۔ فلاں چیز چاہئے۔ لڑکے والے خود مطالبہ کر رہے ہیں۔ کبھی ٹیلی ویژن کی فرمائش کبھی ریفریجریٹر چاہئے۔ کبھی کوٹھی اور کار کا مطالبہ یہ سب کچھ کیا ہے۔ ایک ایک کرکے اشیاء میں اضافہ ہوتا گیا۔ حتیٰ کہ ایک آدمی کی دسترس سے باہر ہوگیا۔ یہ سب اپنی ہی عائد کردہ پابندیوں کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔ واقعہ قتل : فرمایا “ واذقلتم نفسا فادرءتم فیھا ” جب تم نے ایک جان کو قتل کیا پھر ایک دوسرے کے سرتھوپنے لگے۔ یہ ہے وہ اصل واقعہ جس کی وجہ سے بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم ہوا۔ اور جسے بظاہر مقدمہ آنا چاہئے تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ کے حکم کو پہلے رکھا گیا اور اس واقعہ کو موثر کیا گیا۔ یہ واقعہ بھی میں نے عرض کردیا ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک دولتمند عامیل نامی آدمی کو اس کے بھتیجوں نے دل و دولت اور اس کی بیٹی کے حصول کی خاطر قتل کردیا اور پھر خود دیت وصول کرنے کے لئے قریبی بستی کے لوگوں پر قسامت کا مقدمہ دائر کردیا۔ مگر وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو تمام ظاہر اور مخفی چیزوں کو جانتا ہے۔ اس پروردگار نے ان کا راز فاش کردیا اور یہ طریقہ بتایا کہ گائے ذبح کرکے اس کے جسم کا ایک حصہ مقتول کو لگاو تو وہ زندہ ہو کر خود اپنے قاتل کا نام بتانے کا۔ اللہ تعالیٰ اسی چیز کو یہاں بیان فرما رہے ہیں۔ کہ تم تو حقیقت کو چھپا رہے تھے۔ “ واللہ مخرج ما کنتم تکتمون ” مگر اللہ تعالیٰ ظاہر کرنے والا ہے۔ اس چیز کو جو تم چھپاتے ہو۔ زر ، زن اور زمین کی خاطر ظلم و ستم اور قتل و غارت ہر زمانے میں معمول رہا ہے اور آج بھی موجود ہے۔ مگر یہ چیز ہر خوہشمند ۔۔۔ حاصل نہیں ہوسکتا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے کہ وہ کسی کو کس طرح عطا کرتا ہے۔ یہاں تو بڑی بڑی عقلوں والے محروم رہ جاتے ہیں۔ اور بڑی بڑی تکالیف اٹھاتے ہیں۔ مگر ایک احمق آدمی زر و جو ہرات سے کھیل رہا ہوتا ہے۔ یہ تو منشائے یزدی ہے کسی مخلوق کے بس کی بات نہیں۔ احیلہ موتی بطور معجزہ : الغرض ! قاتل کا پتا چلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے گائے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ اور فرمایا “ فقلنا اضربوا ببعضھا ” یعنی گائے کے گوشت کا ایک حصہ اس مقتول کی لاش پر مارو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا “ کذلک یحی اللہ الموتی ” اس طریقے سے اللہ تعالیٰ اس مردے کو زندہ کر دے گا۔ اور وہ تمہیں بتا دے گا کہ اس کے قاتل کون ہیں۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ اور مردہ زندہ ہوگیا۔ اس چیز میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ کہ گائے کا کون سا حصہ تھا جو مردہ پر مارا گیا۔ بعض روایات میں ۔۔۔ آتا ہے۔ بعض میں قلب اور بعض میں زبان بیان کیا گیا ہے (1 ۔ تفسیر مظہری ج 1 ص 83 ، معالم التنزیل ج 1 ص 23 ، تفسیر مدارک ج 1 ص 561 ، تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 289) بہرحال یہ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا۔ اور معجزانہ طور پر ایسا ہوا تھا ۔ گائے کے گوشت میں ایسی کوئی تاثیر نہیں تھی۔ جس سے مردہ زندہ ہوجاتا ہے۔ اگر ایسا ہو تو قصاب ہزاروں جانور روز ذبح کرتے ہیں۔ وہ تو تمام مردے زندہ کرلیں۔ احیائے موتیٰ بالکل اسی طرح کا معجزہ تھا۔ جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا۔ “ فقلنا اضرب بعصاک الحجر ” کہ اس پتھر پر اپنی لاٹھی مارو تو اس سے بارہ چشمے جاری ہوگئے۔ لاٹھیاں ہمارے پاس بھی ہیں۔ اور پتھر بھی بیشمار ہیں۔ مگر پانی نہیں نکلتا۔ اسی طرح جب اللہ تعالیٰ نے پانی میں مارنے کا حکم دیا تو بارہ راستے بن گئے۔ یہ سب معجزات تھے۔ بہرحال گائے کا ایک ٹکڑا مردے کو لگانے سے معجزانہ طور پر مردہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس سے پوچھا کہ تمہیں کس نے قتل کیا تھا۔ تو اس نے صاف بتا دیا کہ اس کے قاتل اس کے بھتیجے ہیں اور یہ راز مجمع عام میں کھلا۔ لوگوں کو حقیقت کا علم ہوگیا۔ اس کے بعد وہ مردہ پھر اپنی مردہ حالت میں تبدیل ہوگیا۔ اس واقعہ میں یہ سبق پایا جاتا ہے۔ کہ جو مالک الملک اپنے حکم سے ایک مردہ کو زندہ کرسکتا ہے۔ وہ قیامت کے روز نماز مردوں کو قبروں سے زندہ نکالنے پر بھی قادر ہے اور اس قسم کے واقعات کا مشاہدہ اس لیے کرایا جاتا ہے۔ “ ویریکم ایتہ ” کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی نشانیاں دکھا دے جس سے تم عبرت حاصل کرو۔ “ لعلکم تعقلون ” تاکہ تم غور و فکر کرسکو۔ اللہ تعالیٰ کی ان آیات کے پی نظر اپنے لیے آخرت کی راہ متعین کرسکو۔ قاتل وراثت سے محروم ہے : بھتیجوں نے چچا کو اس لیے قتل کیا تھا کہ وہ اس کی وراثت میں اس کا مال حاصل کرنا چاہئے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ قاتل نہ صرف وراثت سے محروم ہوگئے۔ بلکہ الٹا انہیں مقتول کی دیت ادا کرنا پڑی۔ ہماری شریعت میں بھی قاتل وراثت سے محروم ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے (1 ۔ احکام القرآن للجصاص ج 1 ص 26) “ القاتل لایرث ” قاتل وراثت کا حقدار نہیں ہوتا۔ اس نے جرم ہی ایسا بڑا کیا ہے۔ کہ وہ اپنے جائز حصے سے بھی محروم ہوگیا۔ امام مالک (رح) کا مسلک یہ ہے کہ اگر قتل عمداً کیا ہو تو قاتل کی وراثت سے محروم ہوگا۔ اور اگر خطاء قتل ہوا ہے۔ تو وراثت کا حقدار ہے۔ باقی ائمہ اس بات کے قائل ہیں کہ قتل خواہ عمداً ہو یا غلطی سے۔ ہر حالت میں قاتل اپنے مقتول مورث کی وراثت سے محروم ہوجائے گا (2 ۔ احکام القرآن جصاص (رح) ج 1 ص 32) اسی طرح مسلمان غیر مسلم کا اور غیر مسلم مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا۔ حضور ﷺ کا فرمان (3 ۔ بخاری ج 2 ص 1001 ، مسلم ج 2 ص 33) ہے۔ “ لایرث المسلم الکافر ولا الکافر المسلم ” مثلاً اگر بیٹا مرزائی ہوجائے۔ تو وہ مسلمان باپ کی وراثت سے محروم ہوجائے گا۔ اسی طرح اگر باپ مذہب تبدیل کرلے تو وہ بیٹے کی وراثت سے حصہ نہیں پاسکے گا۔