2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 2:23–25

وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ١۪ وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:23 in the Quran reader

اور اگر تم اس چیز سے شک میں ہو جس کو ہم نے نازل کیا ہے اپنے بندے (یعنی حضرت محمد ﷺ) پر ، پس لاؤ تم ایک سورة اس کے مانند۔ اور بلاؤ اپنے مددگاروں کو اللہ تعالیٰ کے سوا۔ اگر تم سچے ہو

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ١ۖۚ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:24 in the Quran reader

پھر اگر تم نہ کرسکے اور ہرگز نہ کرسکو گے۔ پس بچو اس آگ سے جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے جو کفر کرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے

وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا١ۙ قَالُوْا هٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١ۙۗ وَّ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:25 in the Quran reader

اور آپ خوشخبری سنا دیں ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے عمل کیے ، کہ بیشک ان کے لیے باغات ہیں۔ جن کے سامنے نہریں بہتی ہیں۔ جب بھی وہ ان بہشتوں میں پھلوں سے روزی دیے جائیں گے تو کہیں گے کہ یہ تو وہی ہے جو ہمیں اس سے پہلے روزی دی گئی اور وہ اس میں دئیے جائیں گے ، ایک دوسرے کے مشابہ پھل اور ان کے لئے ان بہشتوں میں پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے

گزشتہ سے پیوستہ : سورة کے ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے “ اھدنا الصراط المستقیم ” کا جواب “ ذلک الکتب لاریب فیہ ” سے دیا۔ پھر انسانون کے تین گروہ بیان فرمائے۔ پہلا مومنین ، متقین کا گروہ۔ اور اس کے اوصاف بیان فرمائے۔ اس کے بعد دوسرے گروہ کفار کا ذکر کیا جو ظاہراً اور باطناً اللہ تعالیٰ کی توحید اس کے دین اور قیامت کے منکر ہیں اس کے بعد تیرہ آیات میں منافقین کا حال ذکر کیا۔ جو سب سے زیادہ خطرناک گروہ ہے ان کی علامات کارنامے اور ان کی ذہنیت کا بیان ہوا۔ اس کے بعد مثالوں کے ذریعے ہر قسم کے منافقوں کی نشاندہی کی ۔ جو کفر میں پکے ہوچکے ہیں یا پھر ابھی متردد ہیں۔ اور پھر ان کے برے انجام کا بھی ذکر فرمایا۔ سورة بقرہ دو سو چھیاسی آیات کی سب سے لمبی سورة ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس سے پہلے مکی زندگی میں جس قدر سورتیں نازل ہوئیں اور ان میں جتنی تعلیم دی گئی۔ سب کا خلاصہ اس سورة میں آگیا ہے اس کے علاوہ اور بھی بہت سے احکام اس میں آگئے ہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے نظام کو مکمل طور پر اس میں بیان فرما دیا ہے۔ چناچہ سب سے پہلی بنیادی تعلیم جس پر تمام کتب آسمانی متفق ہیں اس کا حکم دیا کہ “ یایھا الناس اعبدوا ربکم الذی خلقکم ” یعنی عبادت خالصتاً اللہ تعالیٰ ہی کی کرنا۔ اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں اس کے بعد معرفت الٰہی پر زور دیا کہ اللہ تعالیٰ کی پہچان ضروری ہے۔ اس کے بغیر عبادت بھی کسی کی کار آمد نہیں۔ مشرکین اور یہود و نصاریٰ اگرچہ خدا تعالیٰ کو مانتے تھے مگر صحیح پہچانتے نہیں تھے۔ اسی لیے وہ ناکام ہوئے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ کی پہچان اس کی ذات سے نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ وہ انسانی عقل و فکر سے بلند ہے۔ وہاں تک کی رسائی نہیں اللہ تعالیٰ کی وہ صفات جو عالم جبروت سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کا پہچاننا بھی بڑا مشکل ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی صفت کی پہچان اس کی مخلوق اور اس کی مصنوعات میں غور کرنے سے ہوتی ہے۔ جب کوئی انسان اللہ تعالیٰ کی صفات کو پہچان لیتا ہے تو پھر وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو بھی پہچان لیتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان صفات کا ذکر کیا “ ربکم الذی خلقکم ” تمہارا رب رہ ہے۔ جس نے تمہیں پیدا کیا۔ اس کے سوا نہ کوئی خالق ہے نہ قادر مطلق ہے اور نہ علیم کل ہے۔ عبادت کے لائق وہی ذات ہے جو ان صفات کی مالک ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ربوبیت اور خالقیت کو بیان کیا کہ دیکھو ! اللہ تعالیٰ نے کس طرح زمین کو تمہارے لیے بچھونا اور فرش بنا دیا۔ اور آسمان کو چھت کی مانند کھڑا کردیا۔ آسمان سے پانی اتار کر پھلوں کے ذریعے تمہاری روزی کا سامان مہیا کردیا۔ لہٰذا عبادت صرف اسی کی کرو۔ “ فلا تجعلوا للہ ان دادا ” کسی چیز میں بھی خدا کا شریک نہ بناؤ۔ تم جانتے ہو کہ خدا کے سوا دوسرا کوئی کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ سارے محتاج اور اس کی عاجز مخلوق ہیں ، خواہ وہ انسان ہوں جن ہوں یا فرشتے۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی ان آیات میں چار عمدہ مضامین کا ذکر کیا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید کہ یہ بنیادی مسئلہ ہے۔ اس کے بعد رسالت ہے۔ کہ نبی پر ایمان لائے بغیر اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کے اوامر اور نواہی کا علم نہیں ہو سکتا۔ بڑے بڑے یونانی حکماء محض اس لیے گمراہ ہوئے کہ انہوں نے نبیوں کی اتباع کی ضرورت کو محسوس نہ کیا۔ وہ تو کہتے تھے کہ یہ تو جاہل لوگوں کے لیے ضروری ہے ہم تو بڑے عقل مند ہیں۔ تیسرا مضمون خود قرآن پاک کی صداقت ہے۔ کہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ اور چوتھا مضمون قیامت پر ایمان ہے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا قیامت پر منحصر ہے۔ لہٰذا اس پر بھی ایمان لانا ضروی ہے۔ قرآن پاک خاص معجزہ ہے : ان حالات میں قرآن پاک اور پیغمبر (علیہ السلام) کا اکٹھا تذکرہ فرمایا ہے “ وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا ” اگر تمہیں اس چیز کے بارے میں شک ہے جو ہم نے اپنے بندے یعنی محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل کیا ہے۔ کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے۔ گویا اس کلام الٰہی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے نبی کی نبوت کی تصدیق مطلوب ہے۔ نبی دعویٰ کرتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا فرستادہ ہوں۔ تو اسکی تصدیق کے لیے کسی معجزہ کا ہونا ضروری ہے ۔ احادیث میں حضور ﷺ کے تین ہزار سے زیادہ معجزات کا ذکر آتا ہے۔ مگر قرآن پاک حضور ﷺ کا خصوصی معجزہ ہے۔ آپ نے فرمایا (1 ۔ مسلم ج 1 ص 86) اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو کوئی نہ کوئی خصوصی معجزہ عطا فرمایا ہے۔ پھر جس کی قسمت میں ٹھہرا وہ ایمان لے آیا۔ فرمایا میرا خصوصی معجزہ وحی الٰہی ہے۔ جس کے ذریعے قرآن پاک جیسا بیمثال معجزہ عطا ہوا۔ اسی لیے آپ نے ارشاد فرمایا “ ارجعو ان اکون اکثرھم تابعا یوم القیمۃ ” یعنی مجھے امید ہے کہ قیامت کے روز سب سے زیادہ پیروکار میرے ہوں گے۔ کیونکہ میرا خصوصی معجزہ پائیدار اور دائمی ہے باقی پیغمبروں کے معجزات عارضی تھے۔ جو وقت کے ساتھ ختم ہوگئے۔ مگر حضور ﷺ کا معجزہ ہمیشہ قائم رہنے والا ہے۔ عبد باعزت لفظ ہے : اس آیت میں حضور ﷺ کے لیے عبد کا لفظ استعمال ہوا ہے جو کہ بڑا باعزت لفظ ہے “ نزلنا علی عبدنا ” کسی پیغمبر کی عبدیت کا اظہار اس کی بہت بڑی صفت ہے کیونکہ کامل درجے کی عبدیت انبیاء کرام (علیہم السلام) میں ہوتی ہیں ۔ اور پھر تمام نبیوں میں حضور ﷺ اکمل ترین بندے ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ قرب نصیب ہے۔ قرآن پاک میں جہاں بھی عبد کا لفظ آیا۔ وہاں پر خاص انعام کا ذکر ہے۔ جیسے “ سبحن الذی اسری بعبدہ ” دوسری جگہ فرمایا “ نزل الفرقان علی عبدہ ” ایک اور جگہ ارشاد ہے “ فاوحی الی عبدہ ما اوحی ” الغرض یہ عبد کا لفظ نہایت اعلیٰ مقام کا حامل ہے۔ نماز میں جب تک کوئی “ اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ ” نہ کہے۔ اس کی نماز کامل ہی نہیں ہوتی۔ تمام انبیاء (علیہم السلام) اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں۔ نہ تو خدا تعالیٰ کے بیٹے ہیں۔ نہ اوتار ہیں اور نہ خدا نے ان میں حلول کیا ہے۔ نہ ان میں الوہیت کی صفت پائی جاتی ہے وہ تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے اس کے عبد یعنی بندے ہیں۔ معبود صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ بعض لوگ جہالت کی وجہ سے غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ انبیاء ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) بشر یا انسان نہیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ انسان ہونا فخر کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ “ انی خالق برا من طین ” میں تو مٹی سے انسان جیسی برگزیدہ ہستی کو پیدا کرنے والا ہوں۔ بشر ہونا کوئی بےعزتی کی بات نہیں ہے۔ خاص طور پر عبدیت تو بہت اعلیٰ صفت ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ عطا کر دے حقیقت یہ ہے کہ ہمارے اندر تو عبدیت والی بات ہی نہیں پائی جاتی۔ ہماری عبدیت کی حالت خراب ہے۔ ہم گندے انسان ہیں۔ جو گناہوں سے آلودہ ہیں۔ جنہیں عبدیت کا مقام حاصل ہے وہ تو پاکیزہ نفوس ہیں جو ہر وقت خدا تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت میں مشغول رہتے ہیں۔ قرآن پاک بطور چیلنچ : خود قرآن پاک اس بات کا گواہ ہے کہ مشرکین اسے خدا تعالیٰ کا کلام ماننے کے لئے تیار نہ تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس خیال کے رد کے طور پر قرآن پاک میں تین قسم کی آیات نازل فرمائیں۔ اولا سورة بنی اسرائیل میں ارشاد فرمایا کہ یہ قرآن پاک کسی انسان کا وضع کردہ نہیں ہے۔ اور نہ ہی یہ انسان کے بس کی بات ہے۔ بلکہ “ لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمثل ھذا القرن لا یاتون بمثلہ ولو کان بعضھم لبعض ظھیرا ” یعنی تمام انسان اور تمام جن مل کر بھی اس قرآن پاک کی مثل لانا چاہیں تو نہیں لاسکتے۔ اگرچہ یہ ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں۔ گویا یہ ساری مخلوق عاجز ہے۔ اس بات سے کہ قرآن پاک جیسا کوئی کلام پیش کرسکیں۔ دوسری جگہ فرمایا۔ کہ اگر تمہیں اس کلام پاک کے منجانب اللہ ہونے میں کسی قسم کا شک ہے۔ یعنی یہ کہ یہ انسانی کلام ہے تو “ فاتوا بعثر سور مثلہ ” تو اس جیسی دس سورتیں ہی بنا کرلے آؤ۔ خواہ چھوٹی ۔ چھوٹی ہی ہوں۔ پتا چل جائے گا۔ کہ واقعی یہ خدا تعالیٰ کا کلام نہیں ہے۔ بلکہ کوئی انسان بھی ایسی چیز پیش کرسکتا ہے۔ مگر کوئی بھی اس چیلنچ کا جواب نہ دے سکا۔ اب تیسرے نمبر پر آیت پاک میں آخری چیلنچ دیا جا رہا ہے۔ کہ اگر تم کو اس کلام پاک میں شک ہے۔ فاتوا بسورۃ من مثلہ ، تو اس جیسی ایک سورة ہی بنا کرلے آؤ چاہے وہ تین آیات کو چھوٹی سے چھوٹی سورة ہی کیوں نہ ہو امام ابوبکر جصاص (رح) چوتھی صدی ہجری میں ہوئے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں (1 ۔ احکام القرآن ج 1 ص 28) کہ قرآن پاک کے اس چیلنج کو صدیاں گزر جانے کے باوجود کسی نے اس کا جواب دینے کی جرات نہیں کی اور اگر مسیلمہ کذاب جیسے کسی شخص نے حماقت کی تو اسے منہ کی کھانی پڑی۔ اس کے ہم عصر کافروں نے اس کے منہ پر تھوک دیا تھا۔ کہ تم پر لعنت ہو۔ کیا تمہارا وضع کردہ کلام محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والے کلام کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ یہ تمہارے بس کا روگ نہیں ہے۔ قرآن پاک کا یہ اعجاز چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود قائم و دائم ہے۔ اور آج تک کوئی ایک سورة بھی بنا کر پیش نہیں کرسکا۔ عام مفسرین کرام فرماتے ہیں (2 ۔ تفسیر مظہری ج 1 ص 37) کہ یہ چیلنج قرآن پاک کی فصاحت وبلاغت کے لحاظ سے ہے۔ امام ابوبکر جصاص (رح) بھی انہیں مفسرین میں شامل ہیں ۔ جو فرماتے ہیں کہ قرآن پاک ایسا فصیح وبلیغ کلام ہے۔ کہ اس جیسی فصاحت و بلاغت آج تک کوئی دوسرا کلام پیش نہیں کرسکا۔ مگر یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے ۔ اگر یہ چیلنج فصاحت و بلاغت تک ہی محدود ہے تو پھر یہ خطہ عرب تک ہی محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ جہاں عربی زبان بولی جاتی ہے۔ کیونکہ قرآن پاک عربی زبان میں نازل ہو ! مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ چیلنچ تسلیم کیا جائے۔ تو اسکا مطلب یہ ہوگا۔ کہ فصاحت و بلاغت کے علاوہ نہ کوئی دوسرا کلام اس جیسا ہے نہ اس میں دیے ہوئے نظام جیسا کوئی نظام دیا جاسکتا ہے۔ اور نہ ہی اس جیسا کوئی دوسرا دستور پی کیا جاسکتا ہے۔ حضور ﷺ کے ماحول جیسی اجتماعیت کوئی دوسرا قانون پیش نہیں کرسکتا۔ حتی کہ سابقہ کتب آسمانی اور صحیفے بھی ایسا اجتماعی نظام نہیں دے سکتے۔ جیسا قرآن پاک نے عطا کیا۔ اسی لیے فرمایا کوئی ایک سورة لاکر دکھاؤ۔ جو قرآن جیسی جامعیت پیدا کرسکے۔ حضرت مولانا عبید اللہ سندھی (رح) برصغیر جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ صرف سولہ سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی فرمائی۔ اور آپ سکھ مت چھوڑ کر اسلام کی دولت سے مالا مال ہوئے۔ حضرت مولانا احمد علی لاہوری (رح) کے والد محترم شیخ حبیب اللہ حضرت سندھی (رح) کے دوست تھے اور آپ کے ساتھ ہی اسلام لائے۔ رشتے کے لحاظ سے حضرت مولانا سندھی حضرت مولانا لاہوری کے خسر تھے۔ تو مولانا عبید اللہ سندھی نے اپنی ڈائری میں لکھا ہے (1 ۔ سرگزشت کابل ص 80) کہ دنیا بھر کی اقوام اگر انصاف کی نظر سے دیکھیں تو ان پر واضح ہوجائے گا۔ کہ جو پروگرام اور نظام عدل اسلام اور قرآن پاک نے پیش کیا ہے دنیا کی کوئی قوم پیش نہیں کرسکتی۔ خواہ وہ ہندو ہوں یا عیسائی یا یہودی۔ انہیں یہ حقیقت تسلیم کرنی پڑے گی کہ اسلام جیسا اٹل ، مضبوط اور غیر تغیر پذیر قانون کہیں سے نہیں مل سکتا۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں (2 ۔ تفسیر ابن کثیر ج 4 ص 547) کہ قرآن پاک کی چھوٹی سی سورة “ والعصر ” اتنی جامع سورة ہے کہ ساری کائنات کی ہدایت کے لیے یہی کافی ہے۔ بشرطیکہ بنی نوع انسان اس پر غور و فکر کرکے اس سے راہنمائی طلب کریں۔ الغرض ! فرمایا اگر ہمارے نازل کردہ کلام میں تمہیں کوئی شک ہے تو اس جیسی ایک سورة ہی بنا کر لاؤ۔ صرف یہی نہیں بلکہ “ وادعوا شھدآء کم من دون اللہ ان کنتم صدقین ” اور اس کام کے لیے اللہ تعالیٰ کے علاوہ اپنے گواہ بھی بلالو۔ یعنی خود بھی آجاؤ اور اپنے دیگر مددگار اور حمایتی بھی بلا لو۔ مگر تم اس کلام جیسی ایک سورة بھی پیش نہیں کرسکو گے۔ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ یہ خدا تعالیٰ کا کلام نہیں ہے تو اس چیلنج کو قبول کرو ۔ یہ قرآن پاک عربی زبان میں ہے۔ یہ تمہاری مادری زبان ہے۔ حضور ﷺ نے اسی تمہارے ماحول سے عربی زبان سکھی ہے۔ آپ مکہ میں رہے ہیں۔ یاد یار نبی بکر میں ۔ یہ اسی علاقے کی زبان ہے اگر حضور ﷺ خود کلام بنا سکتے ہیں۔ تو پھر تم بھی کوئی سورة بنا کر دکھاؤ۔ حضور نبی کریم ﷺ کے زمانہ مبارک میں عربی زبان اپنے انتہائی عروج پر تھی اس انتہا پر پہنچنے کے بعد تنزل کی ہی توقع کی جاسکتی ہے۔ مگر کسی شاعر نے قرآن پاک کی مثل لانے کی جرات نہیں کی۔ جو بھی قرآن پاک کی کوئی آیت سنتا تھا ۔ دم بخود رہ جاتا تھا۔ حضرت ابو ذرغفاری ؓ کے بھائی حضرت انس ؓ کہتے تھے (1 ۔ مسلم ج 2 ص 296) کہ میں شاعروں کا کلام بھی جانتا ہوں اور ساحروں کا بھی اور کاہنوں کا بھی۔ میں نے کلام الٰہی کا ان سب کلاموں کے ساتھ موازنہ کیا ہے۔ مگر ان میں سے کوئی بھی قرآن پاک کا مقابل نہیں۔ خدا کا کلام تمام کلاموں سے منفرد اور ممتاز ہے۔ منکرین قرآن کی سزا : قرآن پاک نے چیلنج پیش کرنے کے بعد پھر خود ہی اس کا جواب دیا “ فان لم تفعلوا ولن تفعلوا ” پس اگر تم نہ کرسکے اور تم ہرگز نہیں کرسکو گے ۔ گویا پیشگوئی بھی کردی۔ کہ تم اس کلام کی مثل ہرگز پیش نہیں کرسکو گے ۔ تو خبردار فرمایا “ فاتقوا النار ” اس آگ سے بچو “ التی وقودھا الناس والحجارۃ ” جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں گویا دوزخ کی آگ میں اس کلام کے مکذبین خود کفار جلیں گے۔ اور پھر جلانے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کوئلے سے جلائی گئی آگ سخت ہوتی ہے۔ اسی طرح پتھر سے جلنے والی آگ شدید تر ہوگی۔ یا پتھر سے مراد وہ پتھر کے بت ہیں جن کی پوجا کی جاتی تھی۔ وہ بھی دوزخ کی آگ میں جلائے جائیں گے (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 132 ، ابن کثیر ج 1 ص 61) فرمایا یہ ایسی آگ ہے “ اعدت للکفرین ” جو کفار کے لیے تیار کی گئی ہے۔ کفار لوگ اسی آگ کا ایندھن بنیں گے۔ ایمانداروں کے لئے بشارت : اس مقام پر بھی اللہ تعالیٰ نے ترہیب و ترغیب کو ساتھ ساتھ بیان فرمایا ہے۔ کفار کا انجام بیان کرنے کے بعد ایمانداروں کے لیے بشارت سنائی “ وبشر الذین امنوا وعملوا الصلحت ” آپ ان لوگوں کو خوشخبری سنا دیں۔ جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور نبی کی رسالت پر ایمان لائے۔ کلام الٰہی کو سچا کلام تسلیم کیا۔ قیامت کو برحق جانا اور پھر اس کے ساتھ شائستہ کام بھی انجام دیے۔ یعنی نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ جیسے فرائض پورے کئے۔ صدقہ و خیرات کیا۔ حلال و حرام میں امتیاز روا رکھا۔ کہ “ ان لھم جنت تجری من تحتھا الانھر ” ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے باغات تیار کر رکھے ہیں۔ جن کے نیچے نہریں جا ری ہیں۔ پھلوں میں مشابہت : فرمایا “ کلما رزقوا منھا من ثمرۃ رزقا ” جب وہ ان بہشتوں میں پھلوں سے روزی دیے جائیں گے “ قالوا ھذا الذی رزقنا من قبل ” تو کہیں گے یہ تو وہی ہے ۔ جو ہمیں اس سے پہلے دی گئی “ واتوابہ متشابھا ” اور وہ اس میں دیے جائیں گے ایک دوسرے کے مشابہ پھل۔ مقصد یہ کہ ایک دفعہ جنتیوں کو پھل پی کیے جانے کے بعد جب دوسری دفعہ ان سے ملتے جلتے پھل دیے جائیں گے تو جنتی لوگ کہیں گے کہ یہ وہی پھل ہیں جو ہمیں اس سے پہلے دے گئے تھے۔ مگر جب وہ انہیں کھائیں گے تو ان کا ذائقہ پہلے پھلوں سے بالکل مختلف ہوگا یا اس کا معنی یہ ہے کہ جنت کے پھل دنیا کے پھلوں سے مشابہ ہوں گے اور جنتی انہیں دیکھ کر دنیا کے پھلوں پر قیاس کریں گے۔ مگر ان دونوں قسم کے پھلوں میں ذائقے کے اعتبار سے بڑا تفاوت ہوگا۔ حضرت مولانا شاہ اشرف علیٰ تھانوی (رح) فرماتے ہیں (2 ۔ ) کہ پھلوں میں مشابہت کی ایک اور توجیہ یہ ہے کہ فطرت سلیمہ رکھنے والے اس دنیا میں جب ی کی اور اطاعت کے کام کرتے تھے تو انہیں لذت محسوس ہوتی تھی۔ اس کے نتیجے میں جب بہشت میں انہیں پھل دیے جائیں گے تو وہ لوگ کہیں گے کہ ان میں وہی لذت پائی جاتی ہے۔ جو دنیا میں نیکی کرتے وقت حاصل ہوتی تھی۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے (1 ۔ ترمذی ص 499) کہ جنت کی زمین خالی ہے “ سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ” کہنا اس خالی زمین میں درخت لگانے کے مترادف ہے۔ جب کوئی مومن دل کی گہرائیوں سے الحمدللہ کہتا ہے تو جنت میں اس کے لیے ایک درخت لگا دیا جاتا ہے۔ جب اس درخت کا پھل انہیں میسر ہوگاتو وہ کہیں گے کہ اس کا ذائقہ تو بالکل وہی ہے جیسا ذائقہ ہمیں دنیا میں نیکی کی توفیق پر حاصل ہوتا تھا۔ اسی نیکی کے صلے میں آج ہمیں جنت میں یہ نعمتیں حاصل ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا میں آرام و راحت کا جو بھی تصور کیا جاسکتا ہے۔ وہ سب جنت میں حاصل ہوگا۔ خواہ وہ لباس کی صورت میں ہو خوراک کی صورت میں ہو یا اعلیٰ مقام کی صورت میں۔ ہر چیز وہاں حاصل ہوگی اور اسی کو پھلوں کی مشابہت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ پاکیزہ بیویاں : جنتیوں کے ایک اور انعام کے متعلق فرمایا “ ولھم فیھا ازواج مطھرۃ ” اور ان کے لیے پاکیزہ بیویاں ہوں گی ان مادی نعمتوں کے علاوہ دوسرے مقام پر روحانی نعمتوں کا بھی ذکر ہے۔ فرمایا “ ولکم فیھا ما تشتھی انفسکم ” اس میں تمہارے لیے ہر وہ چیز ہوگی جس کے لیے تمہارا جی چاہے گا۔ جنت کی نعمتوں کی ایک اور خصوصیت یہ ہوگی کہ وہ نہ ختم ہونے والی ہونگی۔ دنیا میں کسی چیز کے میسر آجانے کے بعد بھی ہر وقت خطرہ لگا رہتا ہے۔ کہ یہ کسی وقت چھن بھی سکتی ہے یا ختم ہو سکتی ہے۔ مگر جنت کی نعمتیں دائمی ہوں گی۔ ان کے لیے زوال کا کوئی خطرہ نہیں ہوگا اسی لئے فرمایا کہ جنتی لوگ کسی محدود عرصے کے لیے جنت کی نعمتوں سے مستفید نہیں ہوں گے۔ بلکہ “ وھم فیھا خلدون ” اور وہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وہیں رہیں گے اور ان کے انعامات میں اضافہ ہی ہوتا رہے گا۔ ان آیات میں قرآن پاک پر ایمان لانے والوں کا انجام بھی بیان فرما دیا اور اس کی تکذیب کرنے والوں کے حشر سے بھی اللہ تعالیٰ نے آگاہ کردیا۔
Ayahs 2:26–27

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَا١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ۘ یُضِلُّ بِهٖ كَثِیْرًا١ۙ وَّ یَهْدِیْ بِهٖ كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَۙ Open ayah 2:26 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ نہیں شرماتا اس بات سے کہ بیان کرے مثال مچھر کی یا اس سے بڑی ۔ بہرحال جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ حق ہے ان کے رب کی طرف سے اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ، پس وہ کہتے ہیں کہ ارادہ کیا اللہ تعالیٰ نے اس مثال کے ساتھ ؟ اللہ تعالیٰ گمراہ کرتا ہے اس کے سبب سے بہتوں کو اور ہدایت دیتا ہے اس کے سبب سے بہتوں کو۔ اور نہیں گمراہ کرتا اس کے سبب سے مگر فاسقوں کو

الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ١۪ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 2:27 in the Quran reader

وہ جو توڑتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے عہد کو اس کو مضبوط کرنے کے بعد اور قطع کرتے ہیں اس چیز کو جس کو اللہ تعالیٰ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اور زمین میں فساد کرتے ہیں۔ یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

گزشتہ سے پیوستہ : پچھلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت ، صداقت اور اس کے منزل من اللہ ہونے اور حضور ﷺ کی رسالت کا ذکر کیا تھا۔ اس سے پہلے توحید اور ردشرک کے متعلق بیان تھا۔ لوگوں کے اس خیال کی تردید تھی کہ یہ قرآن خدا تعالیٰ کا کلام نہیں۔ بلکہ پیغمبر (علیہ السلام) کا اپنا وضع کردہ ہے۔ اور پھر اس ضمن قرآن پاک کے چیلنج کا ذکر تھا۔ کہ اگر تمہیں اس کے منزل من اللہ ہونے میں کسی قسم کا شک و بہ ہے۔ تو اس جیسی ایک ہی سورة بنا کر لاؤ۔ اس کے ساتھ پی گوئی کردی گئی تھی کہ قیامت تک تم اس قرآن کی مثل نہیں لاسکو گے لہٰذا یاد رکھو کہ جب ایسا کلام پیش کرنا انسانی طاقت سے باہر ہے تو پھر اس کلام سے انکار کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم ایسی دوزخ میں ڈالے جاؤ گے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔ اس کے ساتھ ایمان والوں کو بشارت تھی کہ آخرت میں وہ کامیاب ہوں گے اور ان کا انجام نہایت اچھا ہوگا۔ حقیر چیزوں کی مثالیں : کفار قرآن پاک کے متعلق یہ اعتراض پیش کرتے تھے کہ اس میں بعض چھوٹی چھوٹی اور حقیروں چیزوں کا ذکر ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے کلام کے شایان شان نہیں۔ کہیں مکھی کا ذکر ہے اور کہیں مکڑی کا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔ اس کا کلام بھی بہت اعلیٰ باتوں پر مشتمل ہونا چاہئے۔ کیونکہ یہ ایک عام محاورہ ہے “ کلام الملوک ملوک الکلام ” یعنی بادشاہوں کا کلام کلاموں کا بادشاہ ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات بلندو برتر ہے۔ اسی طرح اس کا کلام بھی اعلیٰ وارفع ہونا چاہئے۔ اس میں مکھی ، مچھر جیسی ادنیٰ چیزوں کا ذکر نہیں ہونا چاہئے۔ اس اعتراض کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا “ ان اللہ لا یستحی ان یضرب مثلا ما بعوضۃ فما فوقھا ” یعنی اللہ تعالیٰ کی شان اور عظمت کے یہ ہرگز منافی نہیں کہ وہ مچھر یا اس سے کسی بڑی چیز کی مثال بیان فرمائے۔ کیونکہ ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کی مثالیں انسانوں کے سمجھانے کے لیے بیان کی جاتی ہیں۔ یہ تو بعض لوگوں کی عقل یا انکے عرف کی کمزوری کی دلیل ہے کہ وہ بعض حقیر چیزوں کا تذکرہ مناسب نہیں سمجھتے۔ مگر حکمت کے اصول کے تحت ایسی چیزوں کے بیان کو ترک نہیں کیا جاسکتا۔ اور نہ ہی کسی سے خوفزدہ ہو کر یا کسی کو خوش کرنے کے لیے کسی چیز کا بیان روکا جاسکتا ہے۔ حقیر چیزوں میں بڑے مفید پہلو بھی ہوتے ہیں قرآن پاک میں مکھیوں اور مکڑی کا ذکر ہے۔ اور ان کی مثال دے کر بڑی مفید باتیں سمجھائی گئی ہیں لہٰذا ایسی مثالوں کے ترک کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ اس قسم کی مثالیں اکثر حکماء کے کلام میں پائی جاتی ہیں۔ خود عرب کہتے ہیں “ ما البق وشحمہ ” یعنی کیا مچھر اور کیا اس کی چربی۔ اسی طرح “ ما الجر ادوطعمہ یعنی کیا ٹڈی اور کیا اس کا گوشت وغیرہ۔ حضور ﷺ نے بھی تفہیم حقیقت کے لیے مثال بیان فرمائی ہے۔ مسند احمد ، ابن ماجہ اور ترمذی شریف میں یہ الفاظ موجود ہیں (1 ۔ مسند احمد ، ابن ماجہ ص 302 ، ترمذی ص 337) “ لوکانت الدنیا تزن عند اللہ جناح بعوضۃ ما سقی کافرا منھا قطرۃ ابدا ” یعنی اگر اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی قدروقیمت ایک مچھر کے پر کے برابر ہوتی تو کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی کبھی بھی عطا نہ فرماتے۔ کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کا نافرمان ہے۔ یہ مچھر کی مثال آپ نے اس لیے بیان فرمائی کہ ساری دنیا کی قیمت اللہ تعالیٰ کے نزدیک اتنی بھی نہیں جتنی مچھر کے ایک پر کی ہوتی ہے۔ اسی لیے تو کفار اس دنیا میں آرام و عی کی زندگی بسر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ کچھ نہیں آخرت میں جب ان کا حساب کتاب پیش ہوگا تو سخت سزا میں مبتلا ہوں گے۔ مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے (2 ۔ بخاری ج 1 ص 66 ، مسلم ج 1 ص 146) کہ ام سلیم ؓ نے حضور ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا اور تمہید کے طور پر عرض کیا “ ان اللہ لا یستحی من الحق ” یعنی اللہ تعالیٰ تو حق بات سے نہیں شرماتے۔ میں آپ سے مسئلہ دریافت کرنا چاہتی ہوں ۔ کیا عورت کو بدخوابی ہوجائے تو اس پر غسل واجب ہوتا ہے یا نہیں حضور ﷺ نے فرمایا “ نعم یا ام سلیم اذا ذات المآء ” ہاں جب مادہ خارج ہوجائے تو اس پر غسل آتا ہے۔ جس طرح مرد کو احتلام ہوتا ہے اسی طرح عورت کو بھی بدخوابی ہوتی ہے۔ الغرض اس حدیث میں بھی یہی الفاظ آتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حق بات کو ظاہر کرنے سے نہیں شرماتا۔ حیا کی مختلف قسمیں : حیا انسان کی اس انکساری اور شکستگی کو کہتے ہیں جس کی وجہ سے کوئی شخص قبیح امور سے باز آجاتا ہے ۔ حیا انسانوں سے بھی ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ سے بھی ہوتی ہے۔ اسی لیے جب کوئی شخص برائی کا ارادہ کرتا ہے۔ تو وہ چھپ کر کرتا ہے۔ کیونکہ اسے انسانوں سے حیا آتی ہے کہ اگر وہ دیکھ لیں گے تو کیا ہوگا۔ خدا تعالیٰ اگرچہ نظر نہیں آتا۔ مگر جب یہ یقین ہوجائے کہ اس کی نظر سے کوئی فعل پوشیدہ نہیں ہے تو پھر ذرہ بھر بھی خوف خدا رکھنے والا شخص فعل قبیح کے ارتکاب کے وقت اللہ تعالیٰ سے حیا کرے گا۔ اگرچہ کوئی دوسرا انسان اس کو نہ دیکھ رہا ہو۔ حیا کی ایک قسم حیا عبودیت ہے۔ ایک عابد و زاہد اپنی تمام قویٰ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں صرف کرنے کے باوجود یہی سمجھتا ہے کہ وہ اس کی عبادت کا حق ادا نہیں کرسکا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر جس قدر انعامات کئے ہیں اگر وہ ساری عمر بھی عبادت میں لگا دے یعنی پیدائش کے وقت ہی اللہ تعالیٰ اس کو فہم عطا کرے اور سجدے میں گر جائے اور ساری عمر اسی ایک سجدہ میں گزار دے۔ اور وہیں اس کی موت آجائے۔ تو وہ بارگاہ رب العزت میں عرض کریگا۔ کہ مولا کریم ! میں تیری عبادت کا حق ادا نہیں کرسکا۔ حیا عبودیت اسی چیز کا نام ہے۔ حیا خود اپنے نفس سے بھی ہوتی ہے جب اسے کوئی شخص دیکھنے والا نہ ہو تو بعض اوقات انسان خود اپنے جی میں شرم محسوس کرنے لگتا ہے۔ کہ میں کیا کر رہا ہوں اور کسے دھوکا دے رہا ہوں۔ یہ نفس کی حیا ہے۔ حیا کی ایک قسم حیا کرم ہے۔ خود خصور نبی کریم ﷺ کا واقعہ ہے کہ آپ نے بعض صحابہ ؓ کو کھانے پر بلایا۔ کھانا کھا چکنے کے بعد وہ لوگ وہیں بیٹھ کر بات چیت کرنے لگے۔ یہ چیز حضور ﷺ کو ناگوار گزری مگر آپ نے حیاء کرم کی وجہ سے انہیں زبان مبارک سے کچھ نہ کیا بلکہ اٹھ کر باہر چلے گئے تاکہ یہ لوگ بھی چلے جائیں۔ مگر وہ بیٹھے رہے اور باتیں کرتے رہے۔ حتیٰ کہ حضور ﷺ پھر تشریف لے آئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیات نازل فرمائیں۔ کہ جب نبی (علیہ السلام) کے گھر پر کھانا کھانے کے لیے جاتے ہو تو وہاں بیٹھ کر بات چیت میں وقت نہ گزارو۔ اللہ تعالیٰ کا نبی تو حیا کرم کی وجہ سے تمہیں نہیں کہتا۔ مگر تم خود ہی احساس کرو۔ اور کھانا کھا کر واپس چلے جایا کرو۔ بیشک اللہ تعالیٰ حق بات کہنے سے نہیں شرماتا۔ ہدایت اور گمراہی : فرمایا جب اللہ تعالیٰ اس قسم کی مثالیں بیان فرماتے ہیں تو مومن اور کافر پر ان کے مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ “ فاما الذین امنوا فیعکمون انہ الحق من ربھم ” ایماندار لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ چھوٹی چھوٹی مثالیں بےمعنی نہیں ہیں۔ بلکہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے ، ان کا بیان کرنا حکمت کے منافی نہیں۔ لہٰذا وہ اس سے برا نہیں مناتے “ واما الذین کفروا ” جن لوگوں نے کفر کیا “ فیقولون ” پس وہ کہتے ہیں “ ما ذا اراد اللہ بھذا مثلا ” اللہ تعالیٰ نے اس مثال کے ساتھ کیا ارادہ کیا ہے۔ وہ لوگ طعن کرتے ہیں۔ اور بطور استہزاء اور تحقیر کے کہتے ہیں کہ ایسی معمولی چیزوں کی مثال بیان کرنے سے اللہ تعالیٰ کو کیا حاصل ہوا۔ اگر مثال ہی بیان کرنا تھی تو کسی اعلیٰ چیز کی بیان کی ہوتی۔ مکھی اور مچھر کی مثال کی کیا حیثیت ہے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس مثال کو معمولی چیز نہ سمجھو۔ کیونکہ “ یضل بہ کثیرا ” اللہ تعالیٰ اسی مثال کے ذریعے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیتا ہے۔ ایسی بات بعض لوگوں کے ذہن میں فٹ نہیں بیٹھتی۔ جس کی وجہ سے وہ طرح طرح کے اعتراض کرتے ہیں۔ حالانکہ نہ تو وہ حکمت کے اصولوں سے واقف ہوتے ہیں اور نہ ہی انہیں کلام کی حقیقت کا علم ہوتا ہے۔ لہٰذا فضول اعتراض پیش کرتے ہیں اور گمراہ ہوجاتے ہیں۔ فرمایا ایسی مثالیں صرف گمراہ ہی نہیں کرتیں بلکہ “ ویھدی بہ کثیرا ” اللہ تعالیٰ انہیں مثالوں کے ذریعے ہدایت بھی دیتا ہے۔ جو لوگ مثال کے ذریعے بات کو آسانی سے سمجھ جاتے ہیں ، وہ حقیقت کو پالیتے ہیں۔ لہٰذا ہدایت یافتہ ہوجاتے ہیں۔ فرمایا تاہم “ وما یضل بہ الا الفسقین ” یعنی گمراہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو فاسق ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی کرتے ہیں ۔ کوئی ایمانداروں منصف مزاج اور حق کا طالب گمراہ نہیں ہوتا۔ فاسق کا معنیٰ : فسق کا معنی خروج یا باہر نکلنا ہے۔ عربی میں کہتے ہیں “ فسقۃ الرطبۃ عن قشرھا ” پھل اپنے چھلکے سے باہر آگیا یا کہتے ہیں “ فسقۃ النواۃ من الثمرۃ ” گٹھلی کھجور سے باہر نکل گئی۔ اسی اصطلاح میں فاسق اس شخص کو کہتے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باہر نکل جاتا ہے۔ ریعت کے عرف میں فاسق دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے پہلے معنی میں فاسق اس شخص کو کہتے ہیں ۔ جس کے دل میں ایمان موجود ہے۔ مگر وہ اطاعت کی بجائے صغیرہ یا کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ ایسا شخص مسلمان ہے۔ اور اس کے متعلق امید ہے کہ اسے آخرت میں شفاعت نصیب ہوجائے گی۔ اور وہ نجات پاجائے گا۔ کیونکہ بہرحال وہ مسلمان ہے۔ مگر نافرمان ہے وہ نماز کو فرض سمجھتا ہے مگر پڑھتا نہیں۔ زکوٰۃ کو فرض جان کر ادا نہیں کرتا۔ گویا نیکی کو صحیح سمجھتے ہوئے اس کی طرف مائل نہیں ہوتا۔ شریعت کی اصطلاح میں فاسق کہلاتا ہے۔ دوسری قسم کا فاسق وہ ہے جو کفر میں حد سے بڑھ جائے۔ سرکش ہوجائے۔ جیسا کہ اعتقادی منافقوں یا سخت کافروں کے متعلق فرمایا “ اولئک ھم الفسقون ” ان یہودیوں کو فاسق کہا گیا ہے۔ جو بڑے سرکش ، ضدی اور نافرمان ہیں اور کفر میں بڑے پکے ہیں۔ فاسق کے یہ دونوں معنی قرآن پاک میں استعمال ہوئے ہیں۔ اس مقام پر بطور تشریح یوں کہہ سکتے ہیں کہ فاسق وہ ہیں جو قرآن پاک کی بیان کردہ مثالوں سے گمراہ ہوجاتے ہیں۔ مقصد یہ کہ جو شخص قرآن کے پروگرام کی خلاف ورزی کرتا ہے وہ فاسق ہے۔ قرآن پاک کا پروگرام یہ ہے کہ “ الذین یؤمنون بالغیب ویقیمون الصلوۃ ومما رزقنھم ینفقون (3) والذین یؤمنون بما ۔۔۔۔۔ ھم یوقنون (4) ” نیز قرآن پاک کا پروگرام یہ ہے “ یایھا الناس اعبدوا ربکم ” فلاح کا پروگرام تو یہ ہے مگر جو شخص اس کے خلاف کرے گا۔ وہ فاسقوں کی فہرست میں رکھا جائے گا یہود و منافقین کی عہد شکنی : آگے اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی تشریح کرتے ہوئے ان کی تین بری خصلتوں کا ذکر کیا ہے پہلی بات یہ ہے کہ “ الذین ینفقون عھد اللہ من بعد میثاقہ ” فاسق وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑتے ہیں اس کو پختہ کرنے کے بعد ۔ اگر وہ اشخاص منافق ہیں تو وہ زبان سے اقرار کرتے ہیں کہ “ امنا باللہ وبالیوم الاخر ” ہم اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان لائے ہیں۔ مگر یہ عہد کو پورا نہیں کرتے ۔ عملی طور پر ان کا ایمان نہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہے اور نہ آخرت کے دن پر۔ اور اگر فاسقوں سے مراد یہود ہیں۔ تو ان سے تو پہلی کتابوں میں عہد لیا گیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے نبیوں پر ایمان لائیں گے اور خاص طور پر نبی آخر الزمان پر ایمان لائیں گے۔ ا س کا ساتھ دیں گے اور اس کی نصرت کریں گے۔ نیز یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر جو ہدایت نازل فرمائی ہے۔ اسے چھپائیں گے نہیں۔ بلکہ ظاہر کریں گے۔ مگر ان لوگوں نے اس عہد کو توڑ دیا۔ گویا فاسقوں کی پہلی خصلت یہ بیان فرمائی کہ وہ عہد کرنے کے بعد اس کو توڑتے ہیں۔ عہد شکن لوگوں کا دوسرا گروہ معاند کافر ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق فرمایا “ سواء علیھمء انذرتھم ام لم تنذرھملا یؤمنون ” انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس عہد کو توڑا۔ جو ازل میں ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا تھا “ الست بربکم ” کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں۔ سب نے بیک زبان ہو کر کہا تھا “ بلی ” اے مولا کریم ! کیوں نہیں بیشک تو ہمارا رب ہے۔ اس عہد کی یاد دہانی کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف رسول بھیجے۔ کتابیں نازل کیں ۔ مگر انہوں نے اس پختہ عہد کو توڑ دیا۔ لہذا یہ بھی عہد شکنوں کی صف میں شامل ہوئے ایک عام مومن جب لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حضور ﷺ کی رسالت کا عہد کرتا ہے۔ ان کے احکام کو تسلیم کرنے اور ان پر کاربند ہونے کا عہد کرتا ہے۔ مگر جب وہ اس کے خلاف چلتا ہے۔ گویا عہد شکنی کرتا ہے۔ ایسا شخص بھی فاسق یا منافق کی فہرست میں لکھا جائے گا۔ عہد کی خلاف ورزی کرنا منافق کی واضح نشانی ہے۔ قطع رحمی : فاسقوں کی دوسری خصلت یہ بیان فرمائی “ ویقطعون ما امر اللہ بہ ان یوصل ” جس چیز کا اللہ تعالیٰ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اسے قطع کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو قرابتداروں کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم دیا ہے۔ مگر یہ اس کے برخلاف قطع رحمی کے مرتکب ہوتے ہیں جیسے کافروں کے متعلق فرمایا کہ وہ قطع رحمی کرتے ہیں۔ اور کسی مومن کے بارہ میں نہ تو عہد و پیمان کا خیال رکھتے ہیں ورنہ قرابت داری کو خاطر میں لاتے ہیں۔ بلکہ انہیں ہر طرح سے ایذا پہنچاتے ہیں۔ حالانکہ قطع رحمی بہت بڑا جرام ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے (1 ۔ بخاری ج 2 ص 855 ، مسلم ج 2 ص 315 ، ترمذی ص 285) کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص جوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے ۔ میں بھی اس کو جوڑوں گا اور جو قطع کرتا ہے۔ میں بھی ا س کو کاٹ دوں گا۔ صلہ رحمی : اللہ تعالیٰ نے صلہ رحمی کی بہت تاکید فرمائی ہے رحم یعنی قرابت داری کو اپنے نام رحمن سے نکالا ہے۔ اور رحمن کا معنی بیحد مہربان ہے۔ لہٰذا ہر انسان کو اپنے رشتہ داروں کے ساتھ نہایت مہربانی سے پیش آنا چاہئے۔ فرمایا “ واتقوا اللہ الذی تسآءلون بہ والارحام ” یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ اور قرابتداری کا خیال رکھو۔ صلہ رحمی بہت بڑا عمل ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ اس میں انسان کے تمام حقوق آجاتے ہیں۔ جن کی ادائیگی کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ فرمایا (2 ۔ ) “ ات کل ذی حق حقہ ” ہر حقدار کا حق ادا کرو۔ یہی صلہ رحمی ہے۔ فساد فی الارض : منافقین کی تیسری خصلت یہ بیان فرمائی۔ “ ویفسدون فی الارض ” وہ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔ فساد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ اور کافر لوگوں کو ایمان سے متنفر بناتے ہیں۔ ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ لوگ ایمان نہ لائیں۔ اسی لیے تو وہ اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں۔ کیونکہ اس میں مکھی اور مچھر جیسی حقیر چیزوں کی مثالیں بیان کی گئی ہیں۔ یہی وہ پروپیگنڈا ہے۔ جس کی بدولت وہ لوگوں کو ایمان سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ اور اسی کو فساد فی الارض سے تعبیر کیا گیا ہے۔ امام بیضاوی (رح) فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر بیضاوی ج 1 ص 22) کہ کفر ، شرک اور شرائع کو خراب کرنا۔ اللہ تعالیٰ کے قوانین کی خلاف ورزی کرنا فساد فی الارض ہے۔ زمین و آسمان کی اصلاح اطاعت سے ہوتی ہے۔ کفر شرک اور معاصی کی وجہ سے اس میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ تمام قسم کی قبیح رسول بھی فساد فی الارض کے قبیل سے ہی ہیں ، شرک ، بدعت ، ناچ گانا ، عریانی اور فحاشی یہ سب قبیح رسوم ہیں۔ قبروں پر عرس منانا ، قبر پرستی کو رواج دینا یہ بھی انہیں رسوم میں سے ہے۔ اور فساد فی الارض ہے۔ تیسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ منافق لوگ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی بجائے اس کے غضب کو دعوت دیتے ہیں۔ ان کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ ان کی ہر خواہش پوری ہوجائے۔ ان کے کسی فعل میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ اور وہ اپنی من مانی کرتے رہیں۔ الغرض عہد شکنی ، قطع رحمی اور فساد فی الارض یہ تین بری خصلتیں ہیں۔ جو فاسقوں یا منافقوں میں پائی جاتی ہیں اور جن سے اجتناب کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ فاسقین کی ناکامی : فاسقوں کی علامات بیان کرنے کے بعد فرمایا “ اولئک ھم الخسرون ” یہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں ۔ ناکام و نامراد ہونے والے ہیں۔ یہ لوگ اپنی خصلتوں کی وجہ سے دنیا میں بھی ناکام ہیں۔ کیونکہ فساد فی الارض کی بدولت دنیا میں امن و سکون پیدا نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا یہ طرح طرح کی پریشانیوں میں مبتلا رہیں گے۔ اور آخرت میں ہمیشہ کے لئے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑیگا۔ اسی لیے فرمایا “ کسر الدنیا والاخرۃ ذلک ھو الخسران المبین ” یہ دنیا اور آخرت ہر دو جگہ کی ناکامی ہے۔ اور یہی بہت بڑی ناکامی ہے۔ ابتدائے سورة میں متقین کے متعلق فرمایا تھا “ اولئک علی ھدی من ربہم واولئک ھم المفلحون ” یعنی یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں اور یہی کامیاب ہیں۔ اس مقام پر فاسقین کے متعلق فرمایا “ اولئک ھم الخسرون ” یہی لوگ ناکام ہیں۔
Ayahs 2:28–29

كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْ١ۚ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:28 in the Quran reader

کس طرح تم کفر کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ، حالانکہ تم بےجان تھے پس اللہ تعالیٰ نے تم کو زندگی بخشی۔ پھر وہ تم پر موت طاری کرتا ہے۔ پھر وہ تم کو دوبارہ زندہ کرے گا پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۗ ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:29 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ وہی ہے جس نے پیدا کیا ہے ۔ تمہارے لیے جو کچھ زمین میں ہے سب۔ پھر وہ متوجہ ہوا آسمان کی طرف۔ پس برابر کردیا ان کو سات آسمان۔ اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے

گزشتہ سے پیوستہ : اس سے پہلی آیات میں ان لوگوں کا رد فرمایا۔ جو قرآن کریم کے منزل من اللہ ہونے کا انکار کرتے تھے کیونکہ اس کلام میں مچھر ، مکھی جیسی حقیر چیزوں کا بیان ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اعلیٰ وارفع ہے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مچھر یا اس سے بھی کم تر چیز کی مثال بیان کرنے سے نہیں شرماتا۔ کیونکہ اس کی کوئی بات حکمت سے خالی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات اد نیٰ چیزوں میں بھی اہم باتیں ہوتی ہیں۔ اس لیے ایسی کسی چیز کے بیان سے اجتناب کرنا خلاف حکمت ہوتا ہے۔ معترضین کا اس قسم کا اعتراض ان کی ناسمجھی کی دلیل ہے۔ البتہ ایمان والے خوب سمجھتے ہیں کہ قرآن پاک ان کے رب کی طرف سے حق ہے۔ ناسمجھ لوگ کہتے ہیں کہ ایسی حقیر چیز کی مثال بیان کرنے سے اللہ تعالیٰ کو کیا مقصود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایسی ہی مثال کے ذریعے وہ بہتوں کو ہدایت سے نوازتا ہے۔ اور بہتوں کو گمراہ کردیتا ہے مگر گمراہ وہی لوگ ہوتے ہیں ۔ جو نافرمان ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی تین خصلتیں بیان فرمائیں۔ کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد و پیمان کو توڑتے ہیں۔ جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے یہ لوگ انہیں توڑتے ہیں۔ اور یہ لوگ زمین میں فساد برپا کرتے ہیں۔ فرمایا یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں گویا قرآن کا انکار ، معاد کا انکار ، رسالت کا انکار یا خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا اور اس کی صفات کا انکار سب کا مال (انجام) ایک ہی ہے ۔ ان سب باتوں پرا یمان لانا ضروری ہے۔ ورنہ انسان کافر ہوجاتا ہے۔ ان میں سے ایک چیز کا انکار بھی۔ اللہ تعالیٰ کے انکار کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر : اس مقام پر اللہ تعالیٰ اپنی بعض نعمتوں کا ذکر کرکے انسان کو مخاطب فرماتے ہیں۔ کہ “ کیف تکفرون باللہ ” یہ انعام پانے کے باوجود تم اللہ تعالیٰ کی ذات کا کیسے انکار کرتے ہو۔ تمہارا انکار محض جہالت ، ضد اور ہٹ دھرمی کی بناء پر ہے ورنہ اس کے حق میں تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ دوسرے مقام پر فرمایا “ ومن یدع مع اللہ الھا اخر ، لا برھان لہ بہ فانما حسابہ عند ربہ ” یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارتا ہے۔ یعنی شرک کرتا ہے۔ اس کے پاس ایسا کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ اور اس کا حساب تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ یہی بات یہاں پر بیان کی گئی ہے کہ تمہارے پاس کفر کرنے کی کون سی دلیل ہے “ کیف تکفرون ” تمہارے لیے کفر کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ تکفرون باللہ میں نہ صرف خدا تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے کا بیان ہے بلکہ اس میں ایمان لانے کی دوسری چیزیں بھی شامل ہیں۔ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان کیوں نہیں لاتے ا س کے کلام کا کیسے انکار کرتے ہو۔ اس کے بھیجے ہوئے رسولوں کو کیوں نہیں مانتے۔ اور معاد پر تمہارا ایمان کیوں نہیں ہے۔ گویا “ کیف تکفرون باللہ ” میں وہ تمام چیزیں آگئیں جن کا کفار انکار کرتے تھے۔ مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 67) کہ “ کیف تکفرون باللہ ” کا تعلق گزشتہ آیت “ یایھا الناس اعبد وا ربکم الذی خلقکم ” کے ساتھ ہے وہاں پر بھی بعض انعامات کا تذکرہ فرمایا۔ کہ اے لوگو ! اس پروردگار کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا تمہارے لیے زمین و آسمان کو پیدا کیا ، پھر آسمان سے بھی پانی نازل کرکے زمین کو سیراب کیا۔ اور تمہارے لیے پھل پیدا کیے۔ اس مقام پر موت وحیات اور زمین سے پیدا ہونے والی نعمتوں کا ذکر کرکے ایک دوسرے انداز سے بیان ہو رہا ہے کہ ان نعمتوں کے ہوتے ہوئے تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کس طرح کفر کرتے ہو۔ برخلاف اس کے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو مانتا ہے۔ اور اسی کی عبادت کرتا ہے۔ اس کے سامنے معرفت الٰہی کی لاکھوں کروڑوں عقلی اور نقلی دلیلیں موجود ہیں۔ اس کے آس پاس آسمانی کتابیں موجود ہیں۔ جو اس بات کی شہادت دیتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت انسان کے ذمے قرض ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا (1 ۔ مسلم ج 1 ص 44) “ حق اللہ علی العباد ان یعبدوا اللہ ولا یشرکو بہ شیئا ” یعنی اللہ تعالیٰ کا بندوں پر حق یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں (2 ۔ شرح فقہ اکبر ملا علی قاری ص 168 ، 169 مطبع مجتبائی دہلی) کہ کوئی شخص پہاڑ کی چوٹی پر زندگی بسر کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اسے عقل و شعور جیسے اعلیٰ حواس سے نوازا ہے۔ وہ زمین و آسمان کے نظام کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ اور اس کے باوجود وہ کفر کرتا ہے۔ تو پکڑا جائے گا۔ اسے معافی نہیں مل سکتی۔ کیونکہ مشاہدات قدرت کو دیکھنے کے باوجود اگر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لایا تو اس کی بدنصیبی ہے۔ گویا عقلی طور پر بھی اللہ تعالیٰ کو پہچاننا واجب ہے۔ ایک شخص عملاً نماز نہیں پڑھتا یا روزہ نہیں رکھتا۔ مگر اللہ تعالیٰ وحدت پر ایمان ہے۔ تو اس کی بچاؤ کی صورت پیدا ہو سکتی ہے۔ مگر کفر کرنے کی صورت میں وہ قابل گرفت ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے تمہیں عقل دی۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بخشی۔ تمہارے اردگرد نشانیاں پھیلا دیں اس کے باوجود تم نے ایمان کی بجائے کفر کا راستہ اختیار کیا۔ لہٰذا تمہارا معاملہ ناقابل معافی ہے۔ موت وحیات تصرف الٰہی میں ہے : اسی لیے فرمایا کہ تم ان تمام دلائل کے باجود “ کیف تکفرون باللہ ” تم اللہ تعالیٰ کی ساتھ کیسے کفر کرتے ہو۔ “ وکنتم امواتا ” حالانکہ تم بےجان تھے۔ “ فاحیاکم ” پس اللہ تعالیٰ نے تم کو زندگی بخشی۔ مطلب یہ کہ تم اپنے باپوں کی پشتوں میں بالکل بےجان چیز تھے پھر اس نے تمہیں ماؤں کے رحموں میں قطرہ آب یا نطفہ کی شکل میں منتقل کیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہیں زندگی بخشی اور تمہیں وجود جیسی نعمت عطا کی۔ گویا تمہیں نیستی سے ہستی میں تبدیل کیا۔ اس کے بعد پھر ایک وقت ایسا آئے گا ۔ “ ثم یمیتکم ” پھر وہ تم پر موت طاری کرے گا۔ “ ثم یحییکم ” پھر قیامت کے دن تم کو زندہ کرے گا۔ دیکھو یہ سب تصرف خدا تعالیٰ کا ہے۔ جو پیدا کرتا ہے موت بھی وہی طاری کتا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ کوئی متصرف نہیں۔ نہ کوئی کچھ دے سکتا ہے۔ نہ کوئی چھین سکتا ہے۔ اسی بات کو سورة واقعہ میں اس طرح بیان فرمایا کہ دیکھو تم کیسے بےبس ہو۔ جب ہمارے کارندے آتے ہیں۔ تو کون ہے جو انہیں روک سکے بڑے بڑے بادشاہ اور بڑے بڑے طاقتور عاجز آجاتے ہیں۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ تمام چیزوں کا تصرف خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ متصرف فی الامور وہی ہے۔ اور ایک ایماندار کا عقیدہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جاندار بنایا وہی موت طاری کرتا ہے اس کے بعد پھر زندہ کرے گا۔ محاسبے کا عمل : فرمایا موت وحیات کی اس کشمکش کے بعد انسان کو یونہی نہیں چھوڑ دیا جائے گا۔ بلکہ وہ انسانی اعمال کا محاسبہ بھی کریگا “ ثم الیہ ترجعون ” پھر اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے پیشی ہوگی اور تم سے پوچھا جائے گا کہ میں نے تم کو وجود کی نعمت دی۔ تمہاری پرورش کی اور تمہاری ضروریات و آسائش کے تمام سامان مہیا کیے۔ تمہارے جسم میں ہدایت کی مشیزی نصب کی علم حاصل کرنے کے لئے حواس ظاہرہ باطنہ سے نوازا۔ قوت متخیلہ عطا کی غور و فکر کے ذرائع بخشے۔ قوت حافظہ دی۔ جوڑ توڑ کرنے کی طاقت بخشی۔ اس کے علاوہ بہت بڑی مہربانی یہ فرمائی کہ راہنمائی کے لیے انبیاء (علیہم السلام) کو مبعوث کیا “ رسلا مبشرین و منذرین ” انہیں بشیر اور منذر بنایا اور دوسری جگہ فرمایا “ وانزلنا معھم الکتب والمیزان ” ان کے ساتھ کتابیں نازل فرمائیں۔ وحی نازل کی شریعت دے کر بھیجا “ لیقوم الناس بالقسط ” تاکہ لوگ انصاف کے ساتھ قائم رہیں۔ “ ان الشرک لظلم عظیم ” یہ شرک تو بہت بڑا ظلم ہے۔ اور کفر سے بڑا اور کوئی ظلم نہیں “ والکفرون ھم الظلمون ” سب سے بڑے ظالم تو کافر ہیں۔ یہ تمام ہدایت دے کر حجت پوری کردی۔ تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ انہیں کوئی سمجھانے والا نہیں آیا۔ “ لئلا یکون للناس حجۃ بعد الرسل ”۔ میت دفن کرنے کے آداب : مشکوٰۃ میں حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے (1 ۔ مشکوٰۃ ص 452 بحوالہ شرح السنۃ والبیہقی فی شعب الایمان) “ لیس من شیء یقربکم الی الجنۃ ویباعدکم من النار الا قد امرتکم بہ ” یعنی جو چیز جنت سے قریب کرنے والی اور دوزخ سے بچانے والی ہے وہ سب میں نے تمہیں بتا دی ہے ۔ اب تمہارے پاس انکار کی کیا دلیل ہے موت وحیات اور تصرفات کے بنیادی عقائد بیان ہوگئے ہیں جن کی قرآن پاک میں تعلیم دی گئی ہے۔ فرمایا (2 ۔ ترمذی ص 170 ابن ماجہ ص 161 ، مستدرک حاکم ج 1 ص 366) میت کو دفن کرتے وقت یوں کہو “ بسم اللہ وعلیٰ ملۃ رسول اللہ ” اور اسی طرح قبر پر مٹی ڈالتے وقت یہ آیت پڑھنی چاہئے (3 ۔ مستدرک حاکم ج 2 ص 379 ، حصن حصین ص 394) ۔ “ منھا خلقنکم وفیھا نعیدکم ومنھا نخرجکم تارۃ اخری ” مگر لوگ اس کی بجائے زور زور سے کلمہ شریف پڑھنے لگتے ہیں کلمہ طیبہ بیشک افضل الذکر ہے۔ مگر اس مقام پر وہی کچھ کہنا چاہئے جس کی تعلیم دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا بھی فرمان ہے کہ ہم نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا اسی میں اس کو لوٹائیں گے۔ اور پھر اسی میں سے دوبارہ زندہ کرینگے “ ثم الیہ ترجعون کا یہی مطلب ہے ۔ تمام چیزیں انسان کے لیے ہیں : انسان کی موت وحیات کا تذکرہ کرنے کے بعد دیگر انعامات کا اجمالی خالہ پیش کیا “ ھو الذی خلق لکم ما فی الارض جمیعا ” اللہ تعالیٰ نے زمین میں جو کچھ بھی پیدا کیا ہے۔ وہ سب تمہارے فائدے کے لیے ہے۔ غذا ، لباس ، پانی ، ہوا ، نباتات ، خوشبو ، آلات ، نیک بختی اور کمال حاصل کرنے کے ذرائع سب انسانی مفاد کے واسطے ہیں۔ بعض چیزیں براہ راست انسانی مفاد میں ہیں۔ اور بعض بالواسطہ۔ حتیٰ کہ موذی جانور بھی تمہارے فائدے کے لیے ہیں۔ بعض اوقات زہریلے جانوروں کا زہر بھی تریاق کا کام دیتا ہے۔ کسی موسم میں انسان مکھیوں سے تنگ آجاتا ہے۔ مگر یہ بھی فائدے سے خالی نہیں۔ یہ غلاظت کے ڈھیر جو بیماری کا باعث بنتے ہیں انہیں مکھیاں ہی چاٹ جاتی ہیں یہ تو انسان پر احسان کرتی ہیں۔ کہ غلاظت کے خاتمے کا سبب بنتی ہیں۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز انسان کے فائدے کے لیے پیدا کی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی تخلیق والی روایت میں ہے (1 ۔ مسلم ج 2 ص 371 ، تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 69) کہ اللہ تعالیٰ نے مٹی کو ہفتے کے دن پیدا کیا ۔ اور جمعہ کے روز نماز عصر کے بعد آدم (علیہ السلام) کی تخلیق ہوئی۔ یہ سب چیزیں پہلے پیدا کردی گئی تھیں۔ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ نوع انسانی کی مصلحت فرشتوں کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ اس لیے انسان کی تخلیق سے کروڑوں سال پہلے فرشتوں کو پیدا کیا۔ ان میں جبرائیل اور میکائیل (علیہما السلام) اور ملاء اعلیٰ کے دوسرے فرشتے ہیں۔ ان میں مقرب فرشتے بھی ہیں ان میں ملاء سافل کے فرشتے اور فضائی اور ہوائی فرشتے بھی ہیں۔ یہ سب کے سب انسان کی مصلحت کے لیے ہیں۔ تاکہ انسان درجہ کمال تک پہنچ سکے۔ موت سامان عبرت ہے : اللہ تعالیٰ نے موت کو پیدا کیا اور یہ ایک بڑی خطرناک چیز ہے۔ مگر اسمیں بھی انسان کے لیے عبرت کا سامان موجود ہے۔ یہ بھی فائدے سے خالی نہیں۔ شیخ سعدی (رح) نے اس کی وضاحت ایک مثال کے ذریعے کی ہے (2 ۔ ) بادشاہ اور وزیر خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ بادشاہ کہنے لگا کاش کہ اگر میں موت نہ بودے ، چہ خوش بودے ، یعنی اگر یہ موت نہ ہوتی۔ تو کیا اچھا ہوتا۔ ہماری بادشاہت ہمیشہ قائم رہتی۔ نہ موت وارد ہوتی اور نہ بادشاہت کا خاتمہ ہوتا۔ وزیر بڑا دانا آدمی تھا۔ کہنے لگا ، اگر موت نہ بودے ایں سلطنت ترا کے رسیدے یعنی اگر موت نہ ہوتی تو یہ سلطنت تم تک کیسے پہنچتی۔ یہ موت ہی ہے جس کے ذریعے یہ بادشاہت تم تک پہنچی ہے ، ورنہ تمہارے آباؤ اجداد تک ہی محدود رہتی۔ آگے نہ چلتی۔ مقصد یہ کہ موت جیسی چیز بھی انسان کے لئے مفید ہے۔ کہ اس سے عبرت حاصل ہوتی ہے۔ اس مقام پر فقہائے کرام اور محدثین ایک اور مسئلہ بیان کرتے ہیں (3 ۔ تفسیر بیان القرآن ج 1 ص ، تفسیر کشاف ج 1 ص 122) اور وہ یہ کہ اشیاء میں اصل چیز اباحت ہے خلق لکم ما فی الارض جمیعا ” یعنی زمین کی تمام چیزیں تمہارے لیے پیدا کیں۔ اصلاً تمام چیزیں مباح یعنی جائز ہیں۔ البتہ جس چیز کے متعلق حرمت کی دلیل آئے گی صرف وہی حرام ہوگی۔ باقی سب جائز سمجھی جائے گی۔ ہر قسم کے جانور اور ہر قسم کے پھل انسان کے لیے مباح ہیں۔ مگر جہاں حکم آگیا کہ خنزیر حرام ہے ۔ مردار حرام ہے۔ یا فلاں قسم کا جانور حرام ہے تو وہ حرمت کے زمرہ میں آگیا۔ باقی سب جائز ٹھہرے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کمی وضع ہی ایسی رکھی ہے۔ کہ انہیں انسان کے فائدے کے لیے بنایا ہے۔ البتہ جس چیز کو حرام قرار دیا ہے۔ اس میں ضرور کوئی روحانی یا جسمانی قباحت ہوگی۔ جس کی وجہ سے اسے ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ ورنہ سب چیزیں مباح ہیں۔ یہاں پر ایک دوسرا سوال پیدا ہوتا ہے۔ کہ اگر اباحت کے اس اصول کو من وعن تسلیم کرلیا جائے تو اسکا مطلب یہ ہوگا کہ ہر چیز ہر حالت میں مباح قرار پائے گی۔ مگر ایسا نہیں ہے ہر چیز کے لیے کوئی نہ کوئی ضابطہ مقرر کیا گیا ہے۔ مثلاً ہر چیز کا ہر شخص مالک نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے قبضہ اور ملک کا قانون مقرر کیا ہے۔ ہر شخص اپنی اپنی حدود میں رہ کر کسی چیز کا قابض یا مالک ہوگا۔ کسی صاحب جائیداد کی موت کے بعد ہر شخص اس کی جائیداد کا حقدار نہیں ہوسکتا۔ بلکہ یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس جائداد پر قبضہ کس کا ہے۔ وراثت کے طور پر اس کا کون حقدار ہے۔ عطیہ کے طور پر کسی کو مل ہے یا نہیں۔ یا کسی اور قانون کے تحت اس کا کون حقدار ہے یہ سب قانون شریعت میں موجود ہیں۔ اور انہیں کے مطابق حقوق کا تعین ہوگا ہر شخص حقدار نہیں ہوسکتا اسی طرح ایک عورت صرف ایک آدمی کے نکاح میں آسکتی ہے۔ اسکی موجودگی میں کوئی دوسرا دعویدار نہیں ہوسکتا۔ بجز اس کے کہ خاوند کی وفات یا طلاق کی صورت میں وہ عورت کسی دوسرے شخص کے نکاح میں جاسکتی ہے لہٰذا باحت کے اس کلیے کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے۔ آسمانوں کی تخلیق : زمین کی تمام اشیاء کی تخلیق کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا کہ اے انسان ! میں نے تمہارے لیے صرف زمین کی چیزیں ہی پیدا نہیں کیں۔ بلکہ “ ثم استوی الی السماء ” پھر اللہ تعالیٰ آسمانوں کی طرف متوجہ ہوا “ فسوھن سبع سموت ” پس برابر کردیا ان کو سات آسمان۔ یعنی تہ در تہ سات آسمان پیدا فرمائے۔ اور زمین سے آسمان تک اور ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اتنے دبیز آسمان پیدا کیے ہیں۔ یونانی فلکیات کے ماہرین آسمانوں کی تعداد نو بتاتے ہیں اس میں بھی کوئی اعتراض نہیں ۔ سات آسمانوں کے ساتھ عرش اور کرسی کو شامل کرلیں۔ تو نو بن جاتے ہیں کیونکہ عرش الگ ہے۔ اور کرسی الگ ہے۔ وہ آسمانوں سے بھی وسیع تر ہیں اور ذات خداوندی ان تمام چیزوں سے وراء الوراء ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تجلی عرش پر واقع ہوتی ہے۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) اسے تجلی اعظم کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ اس تجلی سے اول سارا عرش رنگین ہوتا ہے ۔ پھر تمام کائنات رنگین ہوتی ہے اس کے نیچے تمام اثرات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ تمام مراحل طے کرنے کے بعد وہ تجلی واپس پلٹ جاتی ہے۔ علیم کل صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے : فرمایا “ وھو بکل شیء علیہم ” یعنی وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ اس کے علاوہ ہر چیز کو جاننے والا اور کوئی نہیں۔ لہٰذا عبادت بھی اسی کی کرنی چاہئے۔ جو علیم کل اور قادر مطلق ہے “ ان اللہ علی کل شیء قدیر ” جو قادر ہے۔ جو خالق اور رب ہے۔ اس کے علاوہ الٰہ بھی کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ غرضیکہ ذرے ذرے کو جاننے والا وہی ہے اور محیط علم صرف خدا تعالیٰ کا ہے نہ جبرائیل (علیہ السلام) اور دیگر فرشتوں کا ۔ نہ نبیوں کا نہ ولیوں کا۔ اس لیے معبود برحق بھی صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔ اللہ تعالیٰ کی پہچان کی یہ صفات جس طرح قرآن پاک میں بیان ہوئی ہیں۔ اسی طرح توراۃ اور انجیل میں بیان ہوئی ہیں۔ مگر لوگوں نے دین کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے حقیقت یہ ہے کہ نافع اور ضار بھی وہی ذات ہے۔ خدا تعالیٰ کے سوا غائبانہ طور پر نہ کوئی نفع پہنچا سکتا ہے۔ اور نہ نقصان ۔ نہ کوئی فریاد سن سکتا ہے اور نہ کوئی بگڑی بنا سکتا ہے نہ کسی کو تفصیل سے علم ہے کہ کسی کو کیا تکلیف یا پریشانی ہے کیونکہ علیم کل صرف ذات خداوندی ہے۔ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ عبادت الٰہی لازم ہے : “ کیف تکفرون ” سے لے کر “ وھو بکل شیء علیم ” تک دو آیات کا تعلق “ یایھا الناس اعبدوا ” کے ساتھ ہے۔ یعنی اے لوگو ! تم اپنے رب کی عبادت کرو۔ کہ یہ تمہارے لیے لازمی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں وجود کی نعمت بخشی ، زندگی دی۔ پھر موت کا طاری کرنا اور دوبارہ زندہ کرنا۔ اسی کے قبضہ قدرت میں ہے پھر اس نے تمہیں زمین کی تمام نعمتیں مہیا کیں۔ دوسری جگہ فرمایا کہ زمین کی تمام سبزیاں اور پھل پیدا کئے۔ اے انسان “ متاء لکم ولانعمامکم ” یہ سب چیزیں تمہارے اور تمہارے مویشیوں کے فائدے کے لیے ہیں۔ یہ مویشی بھی تمہاری ہی خدمت کے لیے پیدا کئے گئے ہیں۔ ان پر سواری کرتے ہو۔ ان سے کھیتی باڑی میں مدد لیتے ہو۔ اور پھر ان کا گوشت بھی کھاتے ہو۔ یہ سب چیزیں تمہاری خاطر پیدا کی ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے (1 ۔ ) “ خلق الدنیا لکم وخلقتم الاخرۃ ” اے انسان ! یہ ساری دنیا تیرے لیے پیدا کی ہے۔ اور تو آخرت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ تم اس کی معرفت حاصل کرو۔ اور اسی کی عبادت کرو۔ “ وما خلقت الجن والانس الا یعبدون ” قرآن پاک شاہد ہے۔ کہ انسانوں اور جنوں کی تخلیق محض عبادت الٰہی کے لئے ہوئی۔ قرآن پاک میں موجود ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے زمین کا مادہ پیدا کیا۔ آسمان دخان (دھواں) کی شکل میں تھا۔ پھر اس کو برابر کردیا۔ زمین کا پھیلاؤ اس کے بعد عمل میں آیا۔ “ والارض بعد ذلک دحہا ” زمین کا مادہ کثیف ہے۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) تفہیمات الٰہیہ میں فرماتے ہیں (2 ۔ تضیمات علیہ جلد اول تفہیم ص 67) کہ جس طرح زمین مختلف عناصر کا مجموعہ ہے۔ اسی طرح آسمان بھی کئی عناصر پر مشتمل ہے مگر آسمان کے عناصر زمین کی نسبت لطیف ہیں۔ اسی لیے وہاں شفافیت نظر آرہی ہے۔ اور کوئی چیز جس قدر لطیف ہوگی ، اسی قدر طاقتور ہوگی۔ دیکھئے روح لطیف چیز ہے۔ اس لیے اس میں قوت بھی زیادہ ہے۔ اور جتنی کوئی چیز کثیف ہوتی ہے ۔ اتنی ہی کمزور اور ضعیف ہوتی ہے۔ الغرض فرمایا “ وھو بکل شیء علیہم ” ہر چیز کا جاننے والا خدا تعالیٰ ہے لہٰذا عبادت بھی اسی کی ہونی چاہئے۔