Ayahs 2:8–12گزشتہ سے پیوستہ : ہدایت کے اعتبار سے انسانوں کے تین گروہوں کا ذکر آچکا ہے۔ پہلا گروہ وہ ہے جو ظاہراً اور باطنا ہدایت کو قبول کرتے ہیں ، وہ مومن اور متقی کہلاتے ہیں۔ سورة بقرہ کی پہلی چار آیتوں میں ان کا حال بیان ہوا ہے۔ دوسرا گروہ وہ ہے جو ظاہر اور باطناً ہدایت الٰہی کا انہار کرتا ہے۔ وہ کافروں کا گروہ ہے۔ اگلی دو آیات میں ان کا حال بیان ہوچکا ہے اب ان آیات میں تیسرے گروہ منافقین کا تذکرہ ہے جو ظاہر میں تو ہدایت کو تسلیم کرتے ہیں مگر ان کے باطن میں کفر ہوتا ہے۔ اگلی تیرہ آیات میں منافقین کی خرابیاں ، انکی سازشوں اور چال بازیوں کا حال ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے مثالوں کے ذریعے سارا معاملہ سمجھایا ہے
منافقین کا گروہ : قرآن کریم میں منافقین کا حال مختلف سورتوں میں تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ بعض سورتیں صرف منافقین کے نام پر ہیں۔ مثلاً سورة منافقون ۔ اسی طرح نزول کے اعتبار سے آخری سورة توبہ میں بھی منافقین کی سازشوں سے آگاہ کیا گیا ہے۔ اور ان سے خبردار رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
امام ابوبکر جصاص (رح) بہت بڑے مفسر قرآن ہوئے ہیں امام یزید بن مبرد (رح) بھی بہت بڑے عالم گزرے ہیں انہوں نے علوم عربیہ میں “ کامل ” نامی عظیم کتاب لکھی ہے۔ یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں (1 ۔ احکام القرآن ج 1 ، ص 26) کہ نفاق کا اشتقاق نافقا الیربوع سے ہے جس کا معنی ہے جنگلی چوہے کا بل ۔ مشہور ہے کہ گوہ یا جنگلی چوہے کے چار بل (سوراخ) ہوتے ہیں جن کی وجہ سے یہ شکاری کو دھوکا دیتا ہے یہ کسی ایک سوراخ سے ظاہر ہوتا ہے۔ شکاری اس کو کھودتے ہیں ، تو وہ کسی دوسری طرف غائب ہوجاتا ہے۔ منافق کا حال بھی یہی ہے ۔ یہ شرک کو پوشیدہ رکھتا ہے۔ اور ایمان کو ظاہر کرتا ہے جنگلی چوہے کی طرح یہ بھی خداع یعنی دھوکے باز ہوتا ہے۔ شریعت میں منافق کی تعریف اس طرح کرتے ہیں لمن یظھر الایمان ویسر الکفر جو ایمان کو ظاہر کرتا ہے۔ اور کفر کو چھپاتا ہے۔
منافقین کی قسمیں : اب منافق کی کئی قسمیں ہیں۔ پہلی قسم کا منافق وہ ہے جو ایمان کو ظاہر کرتا ہے مگر باطن میں کفر بھرا ہوا ہے ۔ اور وہ اس پر مطمئن ہے۔ دوسری قسم کا منافق وہ ہے جو ظاہری اور باطنی ہر لحاظ سے متذبذب ہوتا ہے۔ وہ ظاہراً اور باطنا شک میں ہوتا ہے ایسا منافق مذبذبین بین ذلک کا مصداق ہوتا ہے ان دونوں قسم کے منافقین کا نفاق شدید ہوتا ہے ان کے اعتقاد فاسد ہوتا ہے۔ اور اس مقام پر جن منافقین کا ذکر ہے۔ وہ یہی اعتقادی منافق ہیں۔ جن کے عقیدے میں کفر بھرا ہوا ہے ۔
تیسری قسم کا منافق وہ ہے جو اخلاقی اور عملی منافق ہوتا ہے ایسا شخص اپنے گناہوں کی وجہ سے آخرت کے نقصان کو دنیا کے نقصان پر ترجیح دیتا ہے ۔ اور دنیا کے نفع کو آخرت کے نفع پر ترجیح دیتا ہے۔ یہ ایسے منافق ہوتے ہیں کہ اگرچہ ان میں ایمان موجود ہوتا ہے۔ مگر یہ لوگ آخرت کو دنیا پر ترجیح نہیں دے سکتے۔
یہاں پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے “ ومن الناس من یقول امنا باللہ وبالیوم الاخر ” بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں “ وما ھم بمؤمنین ” حالانکہ وہ مؤمن نہیں ہیں۔ ایسے لوگ دھوکے باز ہیں ۔ “ یخدعون اللہ والذین امنوا ” یہ اللہ تعالیٰ اور ایمانداروں کو دھوکا دیتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے “ وما یخدعون الا انفسھم ” کہ یہ اپنی جانوں کو دھوکا دے رہے ہیں۔ یہ لوگ خدا تعالیٰ یا ایمان والوں کا کیا بگاڑیں گے۔ یہ تو اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں ۔ اور اپنا ہی انجام خراب کر رہے ہیں۔ اور یہ سوچتے بھی نہیں “ وما یشعرون ” یہ اتنا شعور بھی نہیں رکھتے کہ خود اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں آخرت کو برباد کر رہے ہیں “ فی قلوبھم مرض ” ان کے دلوں میں بیماری ہے۔ اور یہ بیماری شک کی بیماری ہے۔ اکثر صحابہ کرام ؓ خصوصاً حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے یہی معنی کیا ہے (1 ۔ تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 48) کہ ان لوگوں کے دلوں میں شک ہے ۔
نفاق دینی بیماری ہے : نفاق کی بیماری جسمانی بیماری نہیں بلکہ دین کی بیماری ہے۔ جس طرح اجسام کی بیماریاں ہوتی ہیں ، اسی طرح دین اور عقیدے کی بھی بیماریاں ہوتی ہیں۔ تو اس بیماری سے مراد عقیدے کی بیماری ہے۔ امام بیضاوی (رح) فرماتے ہیں (2 ۔ تفسیر بیضاوی ج 1 ص 21) کہ جو شخص اعتدال کی حالت سے نکل جاتا ہے۔ وہ بیماری میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ جسم کے مختلف عناصر اور اجزاء جب تک اعتدال پر قائم رہیں انسان کی صحت درست رہتی ہے۔ اور جب یہ اعتدال خراب ہوجائے تو جسم بیماری ہوجاتا ہے۔ عقیدے کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ جب آدمی اعتدال کا راستہ چھوڑ دیتا ہے۔ تو پھر بد عقیدگی ، حسد ، کینہ ، اور گناہوں کے ساتھ محبت کا راستہ کھل جاتا ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جو انسانوں کو فضیلت کی باتوں سے روکتی ہے۔ اور ابدی اور حقیقی زوال کا باعث بنتی ہے اسی لئے عربی زبان میں مرض کا لفظ نفاق پر بھی بولا جاتا ہے۔ کینے اور حسد کو بھی نفاق کہتے ہیں ۔ نفاق کا کام یہ ہے کہ خیر کو ظاہر کرتا ہے اور شر کو چھپاتا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان اچھائی کا کام کر رہا ہے۔ مگر باطن میں فتنہ پوشیدہ ہوتا ہے۔
مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں (1 ۔ بیضاوی) کہ اس آیت سے دل کی بیماریوں کا پتہ چلتا ہے۔ “ فی قلوبھم مرض ” ان کے دلوں میں بھی بیماری ہوتی ہے۔ اور یہ بیماری خون ، صٖغرا وغیرہ کی ظاہری بیماری نہیں ہوتی جو ظاہری جراثیم سے پیدا ہوتی ہے۔ بلکہ اس کے محرک باطنی جراثیم یعنی گناہ ہوتے ہیں۔ اور سب سے بڑے گناہ شرک ، کفر ، نفاق ، شک ، تردد اور الحاد وغیرہ ہیں۔ اور ان سے پیدا ہونے والی روحانی بیماریاں ہوتی ہیں۔
فرمایا “ فزادھم اللہ مرضا ” اللہ تعالیٰ نے ان کی بیماری کو بڑھا دیا کیونکہ اللہ کی سنت اسی طرح جاری ہے کہ جب علاج نہیں کیا جاتا تو بیماری بڑھ جاتی ہے دیکھ لیجئے اسلام کو ترقی نصیب ہو رہی ہے۔ مگر منافقوں کی بیماری روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ ان کے باطن میں پوشیدہ حسد اور کینہ ، اسلام کی مخالفت اور بد عقیدگی بڑھتی جا رہی ہے ۔ اسی کو فرمایا فزادھم اللہ مرضا اب اس بیماری کا نتیجہ یہ ہوگا “ ولھم عذاب الیم ” کہ ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ اور یہ سزا انہیں اس جرم کی پاداش میں ملے گی۔ “ بما کانوا یکذبون ” کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔ زبان سے حق کا اقرار کرتے تھے۔ اہل ایمان کی رفاقت کا دم بھرتے تھے۔ مگر دل سے کفر کے ساتھ ہوتے تھے۔ گویا وہ زبان سے جھوٹ بولتے تھے۔ چناچہ فرمایا ان کے اس جھوٹ کی وجہ سے انہیں ہولناک عذاب کا مزہ چکھنا ہوگا۔ یہ ان کے نفاق یا حسد کی سزا ہے۔
فساد فی الارض : فرمایا حقیقت یہ ہے کہ منافقین اپنے نفاق کی وجہ سے فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہیں اور اس سلسلے میں جب ان سے کہا جاتا ہے “ واذا قیل لھم لا تفسدوا فی الارض ” کہ زمین میں فساد برپا نہ کرو “ قالوا انما نحن مصلحون ” تو کہتے ہیں کہ ہمیں فسادی کون کہہ سکتا ہے۔ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔
فساد اور اصلاح متضاد چیزیں ہیں۔ اعتدال کی حالت کو اصلاح اور اعتدال سے خروج کو فساد کہتے ہیں۔ لڑائی بھڑکانا ، فتنہ برپا کرنا ، کافروں سے دوستی ، مسلمانوں سے دھوکا ۔ ان کے رازوں کا افشاہ گناہوں کا اظہار ، دین کی اہانت ، قوانین شریعت کی خلاف ورزی یہ سب فساد فی الارض کے کام ہیں (1 ۔ بیضاوی ج 1 ص 22) ان لوگوں کے نزدیک فلاح اور اصلاح محض معا کی درستگی ہے۔ یہ لوگ نظام حق کو بگارتے ہیں۔ عبادت الٰہی کی بجائے کفر و شرک کے مرتکب ہوتے ہیں۔ غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہی فساد ہے۔
امام طبری (رح) اور ابن کثیر (رح) متعدد مفسرین کرام سے روایت کرتے ہیں (2 ۔ تفسیر طبری ج 1 ص 125 ، تفسیر ابن کثیر ج 1 ، ص 49) کہ “ اصلاح الارض والسمآء بالطاعۃ ” زمین و آسمان کی اصلاح اطاعت کے ذریعے سے ہو سکتی ہے ۔ اطاعت ہوگی تو ارض وسما کے معاملات درست ہوں گے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے قانون اور اس کے رسول کی اطاعت نہیں ہوگی تو زمین پر فساد کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ اور منافق یہی کچھ کرتے ہیں۔
منافقین کی دھوکہ دہی : اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق فرمایا “ یخدعون اللہ ” یہ اللہ کو دھوکا دیتے ہیں حالانکہ دھوکا تو وہاں دیا جاسکتا ہے۔ جہاں کوئی حالات سے ناواقف ہو۔ اللہ تعالیٰ تو علیم کل ہے اسے دھوکا کیسے دیا جاسکتا ہے۔ اس اشکال کے متعلق امام بیضاوی (رح) اور دوسرے مفسرین کرام فرماتے ہیں (3 ۔ تفسیر بیضاوی ج 1 ص 21) کہ اللہ کو دھوکا دینے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کو دھوکا دیتے ہیں اور وہ اس طرح کہ زبان سے کہتے ہیں ہم آپ کے ساتھ ہیں آپ کے پیروکار اور فدائی ہیں ، مگر قلب کفر سے بھرپور ہے۔ ایمان کی مقدار ایک رائی کے دانے کے برابر بھی نہیں ہے۔ اور ویسے محاورے کے طور پر کرسکتے ہیں کہ جو اہل اللہ کو دھوکا دیتے ہیں۔ وہ گویا خدا تعالیٰ کو دھوکا دیتے ہیں مقصد یہ کہ اللہ کے رسول کو دھوکا دیتے ہیں۔ قرآن پاک میں اس کی مثال موجود ہے “ ” ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ ” یعنی اے پیغمبر ! جو لوگ آپ کے دست مبارک پر بیعت کرتے ہیں ، وہ گویا اللہ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں۔ اسی طرح فرمایا “ من یطع الرسول فقد اطاع اللہ ” جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ کیونکہ رسول خدا کا نائب اور اس کا پیغام مخلوق تک پہنچانے والا ہوتا ہے۔ اور وہ تمام امور اس کی رضا کے لیے انجام دیتا ہے ۔ اسی طرح اللہ کو دھوکا دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ اللہ کے رسول کو دھوکا دیتے ہیں ۔
منافقین کا طریقہ واردات بھی وہی ہے۔ جو ایک عام دھوکا باز کا ہوتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ اس طریقہ سے ہم اپنے مفاد بھی حاصل کرلیں گے اور ہمیں نقصان بھی نہیں پہنچے گا۔ اس طرح ہم اس بدعقیدگی پر قائم رہ سکیں گے۔ گویا اسلام کا دعوے بھی کرتے رہیں اور کفر کے پروگرام کو بھی ساتھ ہی جاری رکھتے ہیں۔
حالانکہ یہ دو متضاد پروگرام ہیں اور کسی صورت میں ان کے درمیان ہم آہنگی پیدا نہیں ہو سکتی۔ اسلام کا پروگرام نہایت ترقی یافتہ پروگرام ہے۔ جب کہ کفر انتہائی رجعت پسندانہ نظام ہے۔ یہ دونوں اکٹھے نہیں چل سکتے۔
ایک طرف توحید ، ایمان اور تقویٰ کا پروگرام ہے۔ اور دوسری طرف کفر ، شرک اور باطنی بیماریوں کا نظام ہے۔ معاصی اور جنگ وجدل کا نظریہ رکھنے والے یہی لوگ فساد فی الارض کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے واضح کردیا “ الا انھم ھم المفسدون ” اصل فسادی یہی ہیں۔ جو زبان سے اسلام کا نام لیتے ہیں “ ولکن لا یعرون “ مگر یہ لوگ سمجھتے نہیں ان کا نفاق ظاہر ہوچکا ہے اور فساد ثابت ہوگیا ہے۔
حکومتی سطح پر نفاق : غور سے دیکھا جائے تو آج کل کی حکومتیں بھی اسی نفاق کا شکار ہیں۔ یہ بھی حق و باطل کو یکجا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ حالانکہ یہ ممکن نہیں۔ خود ہماری حکومت کا کیا حال ہے۔ اسلام کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔ اور یورپ کے غیر اسلامی پروگرام بھی ساتھ چل رہے ہیں انگریز کا قانون بھی رائج ہے اور اسلامی قوانین بھی جاری کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ دونوں پروگرام اکٹھے نہیں چل سکتے۔ صرف ایک نظام کو اپنانا ہوگا۔ ورنہ فساد فی الارض کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اسی طرح اسلام کے نظام تعلیم اور انگریزی تعلیم کو یکجا چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے ایک نظام کا منبی ہی فساد ہے اور دوسرے کا ایمان ، تو یہ اکٹھے کیسے ہو سکتے ہیں جب تک تمام باطل نظاموں کو ختم کرکے صرف اسلامی نظام کو قائم نہیں کریں گے۔ کبھی فلاح حاصل نہیں ہوسکتی ۔ میں نے یہ بات اشارۃً کردی ہے۔
عذاب عظیم اور عذاب الیم میں فرق : مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس سے قبل کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے بارے میں فرمایا “ ولھم عذاب عظیم ” اور منافقوں کے متعلق فرمایا “ ولھم عذاب الیم ” یعنی کافروں کے لیے بڑا عذاب ہے۔ اور منافقوں کے لیے دردناک عذاب ۔ اس کے متعلق شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی ص 103 پارہ 1) کہ کافر مردود اور محروم ازلی ہے۔ اس کی استعداد تو ابتدا ہی سے خراب ہے۔ کافروں نے اپنی استعداد کو بگاڑ کر بابکل محرومی کی حالت اختیار کرلی ہے لہٰذا ان کے لیے عذاب اول سے آخر تک بڑا ہی ہوگا۔
جہاں تک منافقین کا تعلق ہے۔ ان میں استعداد تو موجود تھی ، مگر انہوں نے اس استعداد میں بگاڑ پیدا کر کے اپنے اندر خود محرومی پیدا کرلی۔ جب سزا کی نوبت آئے گی ، تو ان کو اس کا احساس ہوگا اور دکھ پیدا ہوگا۔ کہ افسوس ہمارے اندر استعداد تو موجود تھی مگر ہم نے اس کو نظر انداز کردیا لہذا ان کو مولم عذاب ہوگا۔ یعنی جس قدر احساس ہوگا۔ اسی قدر تکلیف ہوگی۔
اس کے علاوہ مفسرین کرام ایک اور بات بھی بیان فرماتے ہیں (2 ۔ تفسیر عزیزی فارسی ص 102 پ 1) کہ کافروں نے تو ایمان کا ذائقہ چکھا ہی نہیں۔ وہ تو اول و آخر کافر ہی رہے۔ برخلاف اس کے منافقین نے اگرچہ دل سے حق کو قبول نہیں کیا۔ مگر زبان سے تو ایمان کا ذائقہ چکھا ہے۔ اور جو آدمی کسی چیز کا ذائقہ چکھ لیتا ہے۔ اس کا حکم اور ہوتا ہے۔ لہٰذا ان کے لیے عذاب الیم مقرر کیا گیا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ بکثرت پھل پیدا کرنے والے علاقے کے لوگ کسی ایسی جگہ جاتے ہیں۔ جہاں ایسے پھل نہیں ہوتے۔ تو انہیں احساس محرومی ہوتا ہے۔ اور بڑی تکلیف پہنچتی ہے۔ بڑا مشہور واقعہ ہے کہ ابدالی نے جب پانی پت کا معرکہ سر کیا تو دلی کے بعض لوگوں نے کہا کہ آپ یہیں ٹھہر جائیں تو انہوں نے یہ تاریخی جملہ کہا تھا۔ “ ایں جا انار قندھار کجا است ”۔ یعنی قندھار کا انار کہاں ہے۔ جو میں یہاں قیام کرلوں۔ وہ قندھاری انار کے ذائقہ سے واقف تھا۔ اس لیے وہ وہاں ٹھہر کر اس ذائقے سے محروم نہیں ہونا چاہتا ہے۔
منافقین کا حال بھی یہی ہوگا ۔ چونکہ انہوں نے زبان سے ایمان کا ذائقہ چکھا تھا۔ اس لیے آخرت میں انہیں محرومی کا سخت احساس ہوگا اور اس احساس کی وجہ سے ان کے دکھ اور درد میں اضافہ ہوگا ، اسی لیے اس کو عذاب الیم کہا گیا ہے۔
Ayahs 2:13–16گزشتہ سے پیوستہ : ہدایت کے اعتبار سے تیسرا گروہ منافقین کا ہے۔ کل بھی ان کا ذکر ہوا تھا۔ اور آج کی آیت میں بھی منافقین کا ہی ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین کی خرابیوں کو ذرا تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے پہلی آیات میں آیا تھا کہ بعض لوگ زبان سے کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی نفی فرما دی ہے۔ کہ یہ لوگ مومن نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور ایمانداروں دونوں سے دغا بازی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو تو دھوکا نہیں دے سکتے اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو بھی ان کے دھوکے سے بچائے گا۔ کیونکہ ان کا دھوکا ان کی اپنی ہی جانوں پر ہے اور یہ ان باتوں کو سوچتے تک نہیں۔ ان کے دلوں میں ک ، تردد اور نفاق کی بیماری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بیماری کو بڑھا دیا ہے۔ اور ان کے لئے عذاب الیم ہے۔ کیونکہ یہ جھوٹ بولتے تھے ظاہر اسلام کرتے تھے مگر ان کے باطن میں کفر تھا۔ ان کے ایک اور بیماری فساد فی الارض تھی جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو۔ تو اکڑ جائے اور کہتے کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں ہمیں کوئی فسادی کیسے کہہ سکتے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہی لوگ فسادی ہیں مگر یہ سمجھتے نہیں ۔
حقیقی ایمان : اب ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کی ایک اور خرابی کا تذکرہ فرمایا ہے “ واذا قیل لھم امنوا کما امن الناس ” جب ان منافقوں سے کہا جاتا ہے کہ تم بھی اسی طرح ایمان لاؤ، جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے “ قالوا ” تو جواب میں کہتے ہیں “ انؤمن کما امن استفھاء ” کیا ہم بھی اسی طرح ایمان لائیں جس طرح یہ بیوقوف ایمان لائے ہیں فرمایا “ الا انھم ھم السفھآء ” سن لو ! بیوقوف خود وہی ہیں “ ولکن لا یعلمون ” مگر یہ جانتے نہیں
یہاں یہ اشکال وارد ہوتا ہے کہ منافقین تو برملا ایمان کا انکار نہیں کرسکتے تھے کیونکہ بظاہر تو وہ ایمان لا چکے تھے۔ تو پھر وہ یوں کیسے کہہ سکتے تھے۔ کہ ہم بیوقوفوں کی طرح کیسے ایمان لائیں اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ ایسی بات وہ برملا مسلمانوں کے سامنے نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے خاص معتمد آدمیوں کے روبرو کرتے تھے۔ جنہیں اپنا رازداں سمجھتے تھے کہ وہ ایسی بات کا برا نہیں منائیں گے۔
اس مقام پر ایک اور نکتہ قابل غور ہے اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا ہے ایمان لاؤ، حالانکہ ایمان کا دعوے تو وہ پہلے ہی کر رہے ہیں تو ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ محض زبانی طور پر ایمان نہ لاؤ بلکہ حقیقی اور صحیح ایمان لاؤ، جیسے دوسرے مسلمان ایمان لائے ہیں کیونکہ فلاح کا دارومدار اسی ایمان پر ہے۔ لذات فانیہ ، شہوات نفسانیہ ، ریا کاری ، طلب جاہ وغیرہ حقیقی ایمان کی بدولت ہی دفع ہوتی ہیں ، کسی باطل مقصد کے لیے خالی ایمان کا اظہار ہرگز مفید نہیں ہوسکتا۔ اسی لیے فرمایا کہ حقیقی ایمان لاؤ۔ یعنی دل کی پوری تصدیق اور اخلاص کے ساتھ ایمان کو قبول کرو۔ دوسرے مقام پر آتا ہے “ یایھا الذین امنوا امنوا ” اے ایمان والو ! ایمان لاؤ یعنی محض زبانی کلامی ایمان کافی نہیں بلکہ حقیقی اور مخلصانہ ایمان اختیار کرو۔
اسی لیے منافقین سے کہا گیا ہے کہ دوسرے لوگوں کی طرح ایمان لاؤ۔ وہ دوسرے لوگ کون ہیں ؟ بلاشبہ وہ حضور ﷺ کے صحابہ کرام ؓ ہیں۔ جو حضور ﷺ پر اخلاص کے ساتھ ایمان لائے۔ ابن عساکر (رح) جو بہت بڑے مؤرخ ہیں انہوں نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے (1 ۔ تفسیر درمنثور ج 1 ، ص 30 بحوالہ بن عساکر و تفسیر عزیزی فارسی پارہ نمبر 1 ص 107) کہ آیت پاک کا مطلب یہ ہے۔ کہ تم اس طرح ایمان لاؤ کما امن ابوبکر و عمر وعثمان وعلی یعنی جس طرح حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عمر ؓ ، حضرت عثمان ؓ اور حضرت علی ؓ ایمان لائے ہیں ، اس طریقے پر تم بھی ایمان لاؤ۔ ان کا ایمان خلوص اور حقیقت پر مبنی ہے۔ ان کے معیار پر پورے اترو محض زبانی دعویٰ سے بات نہیں بنے گی تم تو جھوٹے ہو “ وما ھم بمؤمنین ” یہ لوگ قطعاً مومن نہیں ہیں۔
معیار حق : اسی سورة میں آگے چل کر یہودیوں کے متعلق اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں “ فان امنوا بمثل ما امنتم بہ فقد اھتدوا ” اگر یہ لوگ بھی تمہاری طرح ایمان لے آئیں تو یہ بھی ہدایت پاجائیں گے یہاں سے معیار حق ہونے والی بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ حضور ﷺ کے صحابہ کرام ؓ خصوصاً خلفائے راشدین معیار حق ہیں یہ اصحاب کیا اگرچہ نبی کی طرح معصور تو نہیں ہیں۔ مگر امت کے لیے نمونہ ہیں۔ وہ اپنے اخلاص اور حقیقی ایمان کی وجہ سے ان خوابیوں سے محفوظ تھے جو ایمان کے باوجود انسان کے اندر پیدا ہوجاتی ہیں اور جن کی وجہ سے آدمی کا نام ہوجاتا ہے معیار حق اسی کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر قرآن پاک میں فرمایا ہے : “ لتکونوا شھدآء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا ” شاہ عبد القادر محدث دہلوی (رح) عنہ اس کا مطلب یوں بیان کرتے ہیں (2 ۔ قرآن مجید مترجم شاہ عبد القادر (رح) ص 46 مطبوعہ تاج کمپنی)
تاکہ ہوجاؤ تم لوگوں کو بتانے والے اور معلم اور اللہ کا رسول تمہیں بتانے والا ہے ۔
گویا اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام ؓ کو نمونے کی جماعت تیار کرکے ان سے خدمت اسلام کا کام لیا ہے حضور نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کے متعلق یہ بھی فرمایا (1 ۔ مسلم ج 1 ص 308) انتم شھدآء اللہ فی الرض خدا کی زمین پر تم اللہ کے گواہ ہو۔ یعنی جس کی اچھانی کی گواہی تم دو گے وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہوگا اور جس کی تم سرائی کی گواہی دو گے وہ اللہ کے ہاں برا ہوگا۔ اے صحابہ ! تم اللہ کے گواہ ہو اور خصوصا اے خلفائے راشدین ! تم اللہ کے گواہ ہو۔ آپ نے یہ جملہ تین دفعہ فرمایا۔
ترمذی شریف کی روایت میں ہے (2 ۔ ترمذی ص 528) کہ حضور ﷺ نے امیر المؤمنین عمر فاروق ؓ کے متعلق فرمایا “ ان اللہ جعل الحق علی لسان عمر وقلبہ ” یعنی اللہ تعالیٰ نے عمر ؓ کی زبان اور دل پر حق رکھ دیا ہے یعنی وہ حق کے سوا کوئی بات نہیں کرتا۔ ظاہر ہے کہ جس شخص کے قلب و زبان پر اللہ تعالیٰ نے حق رکھ دیا ہے۔ کیا وہ معیار حق نہ ہوگا ؟
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت پہلے بیان ہوچکی ہے کہ اس طرح ایمان لاؤ جس طرح حضرت ابوبکر ؓ ، عمر ؓ ، عثمان ؓ ، علی ؓ اور ان کے ساتھی ایمان لائے ہیں۔ ان کا ایمان حقیقی ایمان ہے جو خلوص سے بھرپور ہے۔ ایسا ہی ایمان انسان کی فلاح کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
انسان اور اس کا دل : الناس یعنی انسان انس کے مارے سے ہے۔ انسان اس لیے انسان ہے۔ کہ اس میں الفت اور مانوس ہونے کا مادہ پایا جاتا ہے۔ عربی میں اسے ما سمی الانسان الا لانسہ کہتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے قلب کو قلب اس لیے کہتے ہیں کہ یہ الٹا ہوتا ہے ما القلب الا انہ یتقلب ایک تو یہ اپنی وضع کے اعتبار سے الٹا ہوتا ہے ۔ یعنی اس کا پیندا اوپر اور سر نیچے ہوتا ہے۔ اور دوسرے یہ کہ دل میں پلٹیاں آتی رہتی ہیں۔ اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے خبردار کیا “ واعلموا ان اللہ یحول بین المرء وقلبہ اللہ تعالیٰ انسان اور اس کے دل کے درمیان رکاوٹ ڈال دیتا ہے۔ اس لیے محتاط رہنا چاہئے ۔ ذرا سی غلطی پر خدا تعالیٰ دل بدل کرسکتا ہے۔ اسی لیے دعا میں سکھایا گیا ہے (3 ۔ ترمذی ص 312) یا مقلب القلوب ثبت قلبی علیٰ دینک اے دلوں کو پلٹنے والے اللہ کریم ! ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔ بہر حال انسان کو انسان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کے اندر انس کا مادہ ودیعت کیا گیا ہے۔
حقیقی انسان کون ہیں ؟ : شاہ عبد العزیز محدث دہلوی ؓ یہاں پر ایک نکتہ بیان فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 106) کہ اس مقام پر منافقوں کو کہا جا رہا ہے کہ تم بھی اسی طرح ایمان لاؤ۔ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کہلا نے کے وہی لوگ مستحق ہیں ، جو حقیقی ایمان سے معمور ہیں۔ یہی لوگ انسانیت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہیں اور انہی کی وجہ سے دنیا کا نظام درست رہتا ہے جو لوگ حقیقی ایمان سے محروم ہیں۔ ان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا “ اولئک کالانعام بل ھم اضل ” یہ تو جانوروں کی مانند ہیں یا ان سے بھی بدتر ، یہ انسان کہلانے کے حق دار نہیں ہیں یہ لوگ جانوروں کی طرح کھانے پینے اور جفتی کے سوا کچھ نہیں جانتے۔ لہٰذا حقیقی انسان وہ ہیں جو حقیقی ایمان کی دولت سے
مالا مال ہیں۔
بیوقوف کون ہیں ؟ پہلے گزر چکا ہے کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ دوسرے لوگوں کی طرح راسخ ایمان لاؤ۔ تو وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان لائیں حالانکہ حقیقت میں منافق ہی بیوقوف ہیں۔ مگر انہیں علم نہیں یہ لوگ ایمانداروں کو اس لیے بیوقوف سمجھتے ہیں کہ یہ دنیا کے نقد سودے کو چھوڑ کر آخرت کی فکر کرتے ہیں۔ اس کو حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں مگر وہ بیوقوف یہ بات نہیں سمجھتے کہ عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان نقصان سے بچ جائے اور فائدہ حاصل کرے ایماندار دنیا کے اسی عارضی فائدے کی پروا نہ کرتے ہوئے آخرت کے ابدی فائدے تو حاصل کرتے ہیں۔ لہٰذا صحیح معنوں میں عقلمندیہی ہیں اور منافق بیوقوف ہیں۔ جو آخرت کو چھوڑ کر یعنی حقیقی اور ابدی فائدہ کی بجائے دنیا کا عارضی اور فانی فائدہ تلاش کرتے ہیں ۔ مگر یہ اپنے آپ کو عقلمند سمجھتے ہیں۔ اور دوسروں کو بیوقوف جانتے ہیں۔ اور اس طرح اس فریب سے دنیا کا مفاد حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا “ الا انہم ھم السفھآء ” حقیقت میں یہی بیوقوف ہیں “ ولکن لا یعلمون ” مگر یہ حقیقت حال کو نہیں جانتے ۔
منافقوں کی دوزخی پالیسی : اللہ تعالیٰ نے منافقوں کا پردہ فاش کرتے ہوئے فرمایا “ واذا لقوا الذین امنوا ” جب یہ ایمانداروں سے ملتے ہیں تو خوشامد کرتے ہیں “ قالوا امنا ” کہتے ہیں کہ ہم تو ایمان لے آئے ہیں تاکہ مسلمان کہیں اپنی پارٹی کے آدمی سمجھیں۔ مگر حقیقت یہ ہے “ واذا خلوا الی شیطینھم ” جب یہ اپنے شیطانوں کے پاس جاتے ہیں۔ قالوا انا معکم تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں انما نحن مستھزءون یہ تو ہم مسلمانوں کا محض تمسخراڑا رہے ہیں۔ گویا ہم ان کی حمایت کا دعویٰ کرکے انہیں بیوقوف بنا رہے ہیں۔ یہاں پر شیاطین سے مراد منافقوں کے بڑے بڑے سردار اور سرغنے ہیں۔ جو نفاق کے پروگرام کے بانی تھے ۔
بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ تبلیغی نقطہ نظر سے ان لوگوں کو بیوقوف یا شیطان کا لقب دینا کسی قدر زیادتی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان کو یہ القاب اس وقت دیے گئے ہیں جب تبلیغ کے تمام تقاضے پورے ہوچکے ہیں۔ اور یہ ثابت ہوگیا ہے کہ یہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اپنی کرتوتوں سے باز آنے والے نہیں ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ تبلیغ کے ابتدائی دور میں اس قسم کے القاب دینا درست نہیں۔ مگر اتمام حجت کے بعد ایسا کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔
استہزاء من اللہ کا مفہوم : منافقین نے کہا تھا کہ مسلمانوں کا تمسخر اڑا رہے ہیں تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اللہ یستھزی بھم اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہنسی کرتا ہے ویمدھم فی طغیانھم اور مہلت دیتا ہے ، ان کی سرکشی میں یعمھون وہ اندھے اور سرگردان ہو رہے ہیں ۔ یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کسی کے ساتھ ہنسی کرنا ، اس کا تمسخر اڑانا تو فعل عبث اور ناجائز ہے اس کی کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کیسے ہو سکتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ تمام عیوب سے مبرا ہے۔ اس کے جواب میں بعض مفسرین فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 51 ، معالم التنزیل ج 1 ص 16 ، روح المعانی ج 1 ص 185) کہ یہ استہزاء نہیں بلکہ مشاکلت ہے۔ یعنی جو سلوک منافقین نے مسلمانوں کے ساتھ کیا ، ویسا ہی سلوک اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے پسند کیا۔ اس قسم کی مثالیں دوسرے مقامات پر بھی ملتی ہیں۔ مثلاً جزاؤ اسیئۃ سیئۃ برائی کی جزا برائی ہے حالانکہ جزا تو عدل کا نام ہے۔ اور عدل برائی نہیں ہوتی۔ تو یہاں پر بھی مراد یہی ہے۔ کہ جیسا سوال ہے اس کا ہم شکل جواب ہے۔ یہی بات ہے ومکروا مکرا وم کرنا مکرا میں بھی پائی جاتی ہے۔ یہ عربی زبان کی لطافت ، بلاغت اور فصاحت ہے۔ اور اسے مشاکلت کہتے ہیں ۔
اس طرز کلام کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ منافقین کے تمسخر کا نقصان انہی کی طرف لوٹتا ہے۔ اللہ خود ٹھٹھا نہیں کرتا بلکہ منافقین کے تمسخر کا ضرر خود انہی کی طرف جاتا ہے۔ وہ خدا کو کیا ضرر پہنچائیں گے ۔ نبی (علیہ السلام) اور مؤمنین کو اللہ تعالیٰ ان کے شر سے محفوظ رکھے گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ مؤمنین کو منافقین کی چالوں سے آگاہ کر دے گا ، تاکہ وہ ان کے ضرر سے بچ سکیں اللہ یستھزی بھم کا یہی مطلب ہے۔ استہزاء منجانب اللہ کا ایک اور مطلوب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ منافقین کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہے۔ جیسا ٹھٹھا مذاق کرنے والوں کے ساتھ ہونا چاہئے ۔ چونکہ منافقین محض زبانی دعوے کی بنا پر جماعت المسلمین میں شریک ہوتے ہیں اور مفاد حاصل کرتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ بھی کہتا ہے۔ اچھا ان کو ایسا کرنے دو ۔ وہ نمازیں پڑھیں ، صدقہ دیں ، جہاد میں شرکت کریں۔ مگر ان کا کوئی عمل قبول نہیں ہوگا ۔ کیونکہ وہ دل سے تو ایمان لائے نہیں لہٰذا ان کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوگا جو مذاق کرنے والے کے ساتھ ہونا چاہئے۔ یہ بھی گویا ان کے ساتھ ایک قسم کا تمسخر ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن منافقین دوزخ کے گڑھے میں پہنچ جائیں گے۔ تو جنت کا دروازہ کھولا جائے گا ، گویا انہیں جنت میں جانے کی اجازت مل گئی ہے۔ جنتی ان منافقوں کی طرف دیکھیں گے تو وہ محسوس کریں گے کہ واقعی انہیں جنت میں داخلے کی اجازت مل گئی ہے۔ چناچہ وہ دوڑ کر جنت کے دروازے پر پہنچیں گے مگر اتنے میں دروازہ بند ہوجائے گا۔ اور منافق نامراد رہ جائیں گے۔ اللہ یستھزی بھم کی یہ بھی ایک صورت ہے یہ لوگ اس دنیا میں اس قسم کی چالاکی کر رہے ہیں ، توکل قیامت کے دن ان کے ساتھ بھی تمسخر ہوگا۔
گائے کا واقعہ اس سورة میں آرہا ہے ۔ بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ ہمارا آدمی قتل ہوگیا ۔ مگر قاتل کا پتہ نہیں چلتا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں کہا کہ گائے ذبح کریں ، تو اس موقع پر ان لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا ، کیا آپ ہمارے ساتھ ٹھٹھا کرتے ہیں۔ تو آپ نے جواب دیا “ اعوذ باللہ ان اکون من الجھلین ” میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں تم سے ٹھٹھا کرکے جاہلوں میں شمار ہوجاؤں۔ خدا کے بندو ! میں تو اللہ کا حکم تم کو سنا رہا ہوں کہ گائے ذبح کرو۔ اس کے گوشت کا ٹکڑا مردے پر مارو۔ تو قاتل کا پتہ چل جائے گا۔ میں تم سے ٹھٹھا نہیں کر رہا ہوں۔
الغرض ! فرمایا ، اللہ تعالیٰ ان کی سرکشی میں ان کو مہلت دیتا ہے اور وہ اندھے ہو رہے ہیں یہاں پر یعمھون سے مراد دل کا اندھا ہونا ہے جیسا کہ سورة حج میں ہے کہ دیکھو ظاہری آنکھیں اکثر اندھی نہیں ہوتیں “ تعمی القلوب التی فی الصدون ” وہ دل اندھے ہوتے ہیں ۔ جو سینوں میں موجود ہیں۔ نہ وہ صحیح بات کو دیکھتے ہیں نہ اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سے پہلی آیت میں کافروں کے دلوں میں مہر لگانے کا بھی ذکر آیا ہے۔ آگے ان کی مثالیں بھی آرہی ہیں ۔
ہدایت کے بدلے گمراہی : فرمایا “ اولئک الذین اشتروا الضللۃ بالھدی ” یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے خرید لیا ہے گمراہی کو ہدایت کے بدلے میں۔ ظاہر میں انہوں نے زبان سے یہی کہا تھا کہ ہم ایمان لے آئے ہیں مگر افسوس کہ اس ہدایت کو چھوڑ کر انہوں نے باطن کی بد عقیدگی اور گمراہی کو اختیار کیا “ فما ربحت تجارتہم ” پس ان کی تجارت نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا “ وما کانوا
مھتدین ” اور نہیں تھے وہ ہدایت یافتہ۔
یہ تجارت کا لفظ بھی بڑا معنی خیز ہے۔ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی ص 109 پ 1) اللہ تعالیٰ جب انسان کو دنیا میں بھیجتا ہے۔ تو عمر اور تمام اسباب دیکر بھیجتا ہے کہ یہ تمہاری پونجی ہے اس کے ساتھ اعمال خریدو اس سے تمہیں آخرت کی دائمی زندگی میں فائدہ پہنچے گا۔ عمر کی یہ پونجی برف کی مانند ہے۔ اوپر سے بھادوں کی تپش پڑ رہی ہے۔ اور یہ برف پگھلتی جا رہی ہے۔ اگر اس کے پگھلنے سے پہلے اس سے قیمتی اشیاء ایمان اور اعمال صالحہ خرید لو گے تو یہ عمر کی پونجی ٹھکانے لگے گی۔ اور تم ہمیشہ کے لیے راحت پاؤ گے۔ اور اگر تم نے عمر عزیز کے بدلے کفر ، شرک ، بدعقیدگی ، معاصی اور لہو و لعب خریدا ، تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خسارے میں مبتلا ہوجاؤ گے ، اسی لیے فرمایا کہ منافقین کی تجارت نے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا ۔ اس کی ایک اور مثال ایسی ہے کہ انسان تریاق کے بدلے زہریلا ہل خریدے۔ اگر تریاق حاصل کرلیا تو ہر قسم کی تکلیف سے بچ جائے گا۔ زندگی آسودہ ہوجائے گی۔ اور اگر خدانخواستہ اس نے زہر کو پسند کیا تو تباہ ہوجائے گا۔ اس قسم کی تجارت نے کوئی نفع نہ دیا۔ “ وما کانوا مھتدین ” اور یہ لوگ ہدایت یافتہ نہ تھے۔ بلکہ ابدی خسارے میں مبتلا ہوئے۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی بعض خرابیاں بیان فرمائی ہیں۔ اگلی آیات میں مثال کے ذریعے ان کی مزید خرابیاں اور ان کا انجام بیان فرمایا۔
Ayahs 2:17–18گزشتہ سے پیوستہ : بدبختی اور شقاوت کے لحاظ سے دوسرا گروہ منافقین کا ہے اللہ تعالیٰ نے منافقین کا حال بیان فرمایا ہے کہ ان کا کام جھوٹ بولنا ، فریب دینا ، زمین میں فساد کرنا ہے وہ ایمانداروں کو بیوقوف کہتے تھے ۔ اور اپنے آپ کو اصلاح کرنے والے سمجھتے تھے۔ جب انہیں حقیقی مؤمنوں کی طرح ایمان لانے کی دعوت دی جاتی تو کہتے کہ ہم بیوقوفوں کی طرح کیوں ایمان لائیں۔ مسلمانوں کی جماعت کے روبرو اپنے آپ کو مسلمان کہلاتے ۔ تاکہ ان کی جان و مال محفوظ رہے۔ اور ان کے حقوق کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ مگر جب اپنے سرداروں کے پاس جاتے تو کہتے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ہم تو مسلمانوں کے ساتھ تمسخر اور ہنسی کرتے ہیں ۔ حقیقت میں ہم ان کے ساتھ نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین کی ایک نشانی یہ بھی بتائی کہ انہوں نے ہدایت کے بدلے میں گمراہی کو خریدا۔ اور اس تجارت نے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا۔ بلکہ ایسے لوگ ابدی نقصان میں مبتلا رہے۔
کتب آسمانی اور امثلہ : اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے منافقین کی دو مثالیں بیان فرمائی ہیں جن سے منافقوں کے حالات پر مزید روشنی پڑتی ہے۔ کسی مسئلہ میں مثال بیان کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ معاملہ واضح اور قریب الضم ہوجائے۔ جو چیز فامض اور باریک ہو اسے واضح کردیا جائے ۔ ایسی مثالیں تمام آسمانی کتب میں بیان کی گئی ہیں۔ توراۃ ، زبور اور انجیل میں ایسی بیشمار مثالیں موجود ہیں ۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے صحیفہ اور دیگر تمام آسمانی صحیفوں میں مثالیں بیان کی گئی ہیں۔ خود قرآن پاک میں ہزاروں مثالیں موجود ہیں۔ جن سے بات کو سمجھنے میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔ چناچہ قرآن پاک کا اپنا بیان ہے “ وتلک الامثال نضربھا للناس وما یعقلھا الا العالمون ” یعنی ہماری ان مثالوں سے اہل علم ہی صحیح فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اور مقصد کو پالیتے ہیں
شیخ ابوبکر ابن العربی مالکی (رح) نے تفسیر احکام القرآن مکمل کی ہے۔ آپ کی تفسیر میں تین چار کتابیں ہیں۔ حدیث کی شروحات ، فتوی ، نحو اور دوسرے علوم و فنون میں بھی بیشمار کتابیں ہیں وہ فرماتے ہیں (1 ۔ ) کہ صرف سورة بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار مثالیں بیان کی ہیں۔ گویا قرآن ، دیگر آسمانی کتب اور تمام حکماء کے کلام میں مثالیں موجود ہیں۔ حضرت لقمان ؓ ان کی طرف منسوب کتب ، نیز ہر زبان کے فصیح وبلیغ لوگوں کے کلام میں مثالیں پائی جاتی ہیں۔
تفاسیر احکام القرآن : احکام القرآن کے نام سے بہت سے مفسرین نے کتابیں لکھی ہیں جن میں قرآن پاک کی صرف انہیں آیات کی تفسیر و تشریح کی گئی ہے ۔ جن میں حلال و حرام کے احکام بیان ہوئے ان میں سب سے اہم کتاب ابوبکر جصاص رازی (رح) کی احکام القرآن ہے۔ دوسرے نمبر پر ابوبکر ابن العربی اندلسی (رح) ہیں۔ آپ کی احکام القرآن مالکی مسلک کے مطابق ہے۔ اسی طرح کشف و تصوف کے بہت بڑے امام شیخ ابن عربی (رح) کی تفسیر احکام القرآن ہے۔ اس میں زیادہ تر تصوف کے مسائل بیان کیے گئے ہیں۔ امام جلال الدین سیوطی نے بھی ایک چھوٹی سی تفسیر لکھی ہے جس کا نام اکلیل فی استنباط التنزیل ہے۔ اس میں قرآن کریم کی ان آیات کی مختصر تفسیر ہے ۔ جن سے احکام مستنبط ہوتے ہیں۔ آپ نویں اور دسویں صدی کے حافظ الحدیث ہوئے ہیں۔ عمر بھی کوئی زیادہ نہیں پائی۔ باسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی مگر پانچ سو کتابوں کے مصنف ہیں۔ آپ کے بعد کوئی حافظ الحدیث نہیں ہوا۔ حافظ الحدیث وہ بلند پایہ ہستی ہوتی ہے جسے ایک لاکھ حدیث بمع سند زبانی یاد ہو۔
آپ کے بعد بڑے بڑے محدثین ہوئے ہیں مگر حافظ الحدیث کوئی نہیں ہوا۔ البتہ آپ سے پہلے ہزاروں کی تعداد میں حافظ الحدیث گزرے ہیں۔ جن میں بخاری شریف کے شارح ابن حجر شافعی (رح) اور علامہ عینی حنفی (رح) وغیرہ ہیں۔ اسی طرح صحاح ستہ کے تمام مؤلفین حفاظ حدیث تھے۔ ان کو کم از کم ایک لاکھ حدیث مع سند اور رجال کے زبانی یاد تھی۔
مثال کی حکمت : الغرض مثال بیان کر نیکی حکمت یہ ہوتی ہے کہ کسی باریک چیز کو انسانوں کے ذہن کے قریب تر کردیا جائے۔ اور عقلی چیز کو محسوس بنا دیا جائے۔ مثال کے ذریعے کہیں کسی چیز سے نفرت دلانا مقصود ہوتا ہے۔ تو کہیں کسی چیز کو ثابت کونا مطلوب ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہودیوں کی برائی اور قباحت اس طرح بیان فرمائی ہے “ مثل الذین حملوا التورۃ ثم لم یحملوھا کمثل الحمار یحمل اسفار ” حاملین توراۃ نے توراۃ کو بگاڑ دیا۔ انہوں نے اسے اس طرح نہ اٹھایا۔ جس طرح اٹھانے کا حق تھا۔ تو ان کی مثال گدھے کی سی ہے ، جس پر کتابوں کا دفتر لاد دیا گیا ہو۔ جو ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ گدھے کو علم ہی نہیں کہ اس کی پشت پر کتابوں کا بوجھ ہے یا لکڑیوں کا گٹھا ، تو یہی مثال اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی بیان فرمائی۔ کہ توراۃ کے حاملین ہونے کے باوجود اس سے مستفید نہیں ہوسکے۔
منافقین کی مثال : منافقین کی دو مثالوں میں پہلی مثال آج کے درس میں بیان ہوئی ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 56) کہ یہ مثال ان منافقوں کے بارے میں ہے جن کے دل میں کفر پختہ ہوچکا ہے۔ اور دوسری مثال جو آگے آرہی ہے۔ ان منافقوں کے متعلق ہے جو ابھی متردد ہیں اور شک میں مبتلا ہیں۔ الغرض ! اس پہلی مثال کے مصداق پختہ کفر والے منافقین ہیں۔ جن کے ہدایت پانے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ اور جن کے متعلق پہلی آیات میں گزر چکا ہے کہ انہوں نے اپنی کوتاہ نظر ی اور غلط فہمی کی بناء پر ہدایت کے بدلے میں گمراہی کو خرید لیا۔
فرمایا “ مثلھم کمثل الذی ستو قدنارا ” ان منافقوں کی مثال اس شخص کی طرح ہے۔ جس نے جنگل میں سخت اندھیرے کی حالت میں آگ جلائی۔ تاکہ اس سے روشنی اور گرمی حاصل کرلے۔ یہ دونوں چیزیں ضروریات زندگی میں سے ہیں جن کے بغیر گزارا نہیں۔ چناچہ ان منافقوں نے بھی اپنی فطری استعداد کے مطابق اپنے اندر ایمان کی شمع روشن کی۔ اور پیغمبر (علیہ السلام) کی صحبت اختیار کی ان لوگوں نے اہل ایمان کی رفاقت بھی حاصل کی۔ اور زبان سے اقرار کیا “ امنا باللہ وبالیوم الاخر ” چاہئے تو یہ تھا کہ ایمان کی اس روشنی سے ان پر تمام حقائق روشن ہوجاتے۔ مگر انہوں نے تو صحیح معنوں میں ایمان قبول ہی نہیں کیا تھا۔ محض وقتی مفاد حاصل کر نیکی خاطر ایمان کا دعویٰ کیا تھا ، اگر وہ دل سے نور ایمان کی آگ کو روشن کرتے تو ان میں اطاعت الٰہی کا جذبہ پیدا ہوتا۔ اور ان کے دل میں ذکر الٰہی کا شوق پیدا ہوتا۔ ان کے دل بھی توحید خالص سے منور ہوجاتے۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تھا۔ وہ تو وقتی طور پر ایمان کا اعلان کرکے اپنے مال و جان کی حفاظت چاہتے تھے۔ کیونکہ اسلام کا قانون یہ ہے (1 ۔ مسلم ج 1 ص 37) “ من قال لا الہ الا اللہ فقد عصم منی مالہ ونفسہ ” حضور ﷺ نے فرمایا جس نے زبان سے “ لا الہ الہ اللہ ” کا اقرار کرلیا اس کا جان و مال اور عزت و آبرو محفوظ ہوگئی۔ اس لیے یہ منافقین اپنی فطری صلاحیت کو برؤے کار لاتے ہوئے زبانی ایمان لے آئے۔ ان کا یہ ایمان لانا گویا جنگل کے اندھیرے میں آگ جلانے کے مترادف تھا۔
فلما اضاءت ما حولہ جب اس آگ نے آگ جلانے والے شخص کے اردگرد کو روشن کردیا۔ اسے تھوڑا بہت گردوپیش کا پتہ چل گیا۔ تو پھر کیا ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آگ کو بجھا دیا۔ یہاں پر اطفاھا اللہ محذوف ہے۔ اسی طرح کہ موت طاری ہوگئی جب وہ آگ بجھ گئی جس کی روشنی میں لوگ اپنی جان و مال کی حفاظت کر رہے تھے۔ تو پھر ذھب اللہ بنورھم اللہ تعالیٰ ان کی روشنی کو لے گیا۔ وترکھم فی ظلمت اور انہیں بےپناہ اندھیروں میں چھوڑ دیا ، پھر ان کی حالت یہ ہوگئی کہ لا یبصرون کچھ بھی دیکھ نہیں سکتے۔ روشنی تو عارضی تھی۔ جب وہ منقطع ہوگئی تو وہ اپنی اختیار کردہ باریوں کے اتھاہ اندھیروں میں گم ہوگئے۔
اندھیروں کی مختلف قسمیں : اس مقام پر جن اندھیروں کا ذکر ہے۔ اور جن میں منافقین سرگرداں ہیں ان کی بہت سی قسمیں ہیں اور وہ ساری کی ساری منافقین کی جماعت پر صادق آتی ہیں۔
سب سے پہلا اندھیرا کفر کا ہے یہ لوگ صرف زبان سے ایمان کا اقرار کرتے تھے ۔ مگر ان کے باطن میں کفر کا اندھیرا بھرا ہوا تھا۔ قرآن پاک میں جگہ جگہ موجود ہے۔ “ اللہ ولی الذین امنوا یخرجھم من الظلمت الی النور ” یعنی اللہ تعالیٰ ایمانداروں کا والی اور کارساز ہے وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر ایمان اور ہدایت کی روشنی کی طرف لاتا ہے۔ جس کی وجہ سے دل میں روشنی اور بصیرت پیدا ہوتی ہے۔ اور یہ روشنی آگے چل کر حقیقی روشنی میں تبدیل ہوجائے گی۔
فرمایا دوسرا اندھیرا جو منافقین میں پایا جاتا ہے۔ وہ مکرو فریب کا اندھیرا ہے۔ “ یخدعون اللہ والذین امنوا ” یہ وہی دھوکے اور فریب کا اندھیرا ہے۔ جو وہ اہل ایمان کے ساتھ روا رکھتے ہیں۔
اسی طرح تیسرا اندھیرا دروغ گوئی افتراء کا ہے۔ جیسا فرمایا “ بما کانوا یکذبون ” یہ کہتے ہیں ہم مومن ہیں۔ حالانکہ یہ صریح جھوٹ بول رہے ہیں۔ یہ لوگ ہرگز مومن نہیں۔ انکے دل میں کفر رچا ہوا ہے۔ لہٰذا یہ ایمان کے دعوے میں جھوٹے ہیں۔ منافقین کا چوتھا اندھیرا طعن وتشنیع کا اندھیرا ہے۔ یہ لوگ اہل ایمان کو احمق اور بیوقوف کہتے تھے۔ حالانکہ ایمان والے آخرت کے طلب گار ہیں ۔ انہوں نے دنیا کو چھوڑ کر آخرت کو اختیار کیا ہے۔ مگر منافق ان کو بیوقوفی کا طعنہ دیتے ہیں۔ یہ ان کا چوتھا اندھیرا ہے۔
جہالت دو قسم کی ہے۔ جہل بسیط اور جہل مرکب۔ کوئی شخص کسی چیز سے ناواقف ہو یہ جہل بسیط ہے۔ جب بھی ایسا شخص متعلقہ چیز سے واقفیت حاصل کرلے گا۔ وہ اس جہل سے نکل جائے گا۔ دوسری قسم کا جہل ، جہل مرکب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان غلط بات کو صحیح سمجھنے لگے ۔ برے عقیدے کو اچھا خیال کرے۔ یہ بہت خطرناک جہالت ہے کیونکہ اس سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں ہے ۔ ایسا شخص نہ غلط کو غلط سمجھے گا اور نہ وہ اس جہالت سے نکلے گا۔
منافقین کا پانچواں اندھیرا یہی جہل مرکب ہے۔ وہ اپنے دھوکے اور فریب کو بڑا اچھا سمجھ رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کو دھوکا دے رہے ہیں۔ حالانکہ وہ پانچویں قسم کے اندھیرے میں مبتلا ہیں۔
چھٹا اندھیرا معاصی اور شہوات کا اندھیرا ہے۔ اطاعت روشنی ہے اور معاصی اندھیرے ہیں جن خواہشات کی تکمیل میں یہ لوگ سرگردان ہیں۔ وہ اندھیرا ہی اندھیرا ہیں۔
شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 110) ۔ ساتواں اندھیرا قبر کا اندھیرا ہے۔ مسلم شریف کی روایت میں حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے (2 ۔ مسلم ج 1 ص 310) “ ان ھذہ القبور مملوہ ظلمۃ علیٰ اھلھا ” یہ قبریں اپنے مکینوں کے لیے اندھیروں سے بھری پڑی ہیں۔ ہاں جو شخص اپنے دل میں نور ایمان رکھتا ہوگا۔ اس کو وہاں بھی روشنی میسر ہوگی جس نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر نماز پڑھی اس کی قبر میں روشنی ہوگی۔ ایمان والوں کے دل سے روشنی کی لاٹ نکلے گی نیز ان کے اعمال صالحہ کی روشنی انہیں حاصل ہوگی۔
بخاری شریف کی روایت میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے (3 ۔ بخاری ج 1 ص 331) “ الظلم ظلمات یوم القیمۃ ” اس دنیا میں کسی پر کیا گیا ظلم قیامت کے دن اندھیروں کی شکل میں سامنے آئے گا۔ یہ قبر میں جا کر پتہ چلے گا کہ ظلم کا اندھیرا کس قدر شدید ہے۔ پل صراط سے گذرتے وقت حشر کے میدان میں اور پھر دوزخ کی گہرائیوں میں اندھیروں کا احساس ہوگا۔ الغرض ! یہ تمام اندھیرے ہیں جو منافقین پر وارد ہوں گے اور یہ لوگ غضب الٰہی کا شکار ہوں گے ۔
منافقین کی بدبختی : ان لوگوں کی بد نصیبی کی حالت یہ ہے کہ صم یہ بہرے ہیں۔ انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو اس قدر خراب کرلیا ہے کہ صحیح بات کو سننے کے لئے تیار نہیں ۔ یہ لوگ اس بدبختی کی بنا پر “ بکم ” یعنی گونگے ہیں۔ ان کی زبان سے کبھی سچی بات نہیں نکلتی۔ دھوکے فریب اور جھوٹ کے سوا ان کی زبان پر کچھ نہیں آتا۔ پھر یہ بھی ہے ۔ کہ یہ لوگ حسن و قبح ہیں ، اچھائی اور برائی میں امتیاز نہیں کرسکتے۔ اس لحاظ سے یہ لوگ “ عمی ” یعنی اندھے بھی ہیں۔ ان کی ظاہری آنکھیں تو موجود ہیں۔ مگر ان کے دل اندھے ہیں۔ جو حق و باطل میں فرق نہیں کرسکتے۔ ایمان و شرک ، سنت اور بدعت ان کے نزدیک برابر ہیں۔ ان کے نزدیک ان میں کوئی امتیاز نہیں۔
فرمایا یہ لوگ کفر و شرک اور معاصی میں اس قدر آگے نکل چکے ہیں۔ “ فھم لا یرجعون ” کہ اب ان کے نیکی کی طرف واپس پلٹ آنے کی کوئی امید باقی نہیں رہی۔ اللہ تعالیٰ نے پکے منافقوں کا یہ حال بیان فرما دیا۔
“ لایرجعون ” کا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جو شخص مرگیا اس کی واپسی کا کوئی امکان نہیں ۔ کہ واپس آکر کوئی نئی کمائی کرلے گا۔ انسان جو اعمال دنیوی زندگی میں کما گیا۔ ان میں تغیر تبدل نہیں ہوسکے گا۔ دنیا میں تو کئی چیزیں منسوخ بھی کردی جاتی ہیں۔ مگر آخرت میں پہنچ کر دنیا میں کیے گئے اعمال میں کوئی ردوبدل نہیں ہوسکے گا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے “ وکل انسان الزمنہ طیرہ فی عنقہ ” ہر انسان کا اعمال نامہ اس کی گردن میں لٹکا دیا جاتا ہے اور پھر مرنے کے بعد “ ویخرج لہ یوم القیمۃ کتبا ” قیامت کے دن ہم نکال کر سامنے کردیں گے کہ یہ تیرا اعمال نامہ ہے۔ لو خود پڑھ لو۔ لطف یہ ہے کہ پڑھنے کی صلاحیت بھی اس وقت پیدا ہوجائے گی اللہ تعالیٰ فرمائیں گے لو خود پڑھ لو الغرض “ فھم لا یرجعون ” کا مطلب یہی ہے کہ یہ پلٹ کر نہ ہدایت کی طرف آسکتے ہیں ۔ اور نہ ہی دنیا کی طرف آسکتے ہیں۔ اور نہ ہی کوئی کمائی کرسکیں گے۔ یہ ان منافقوں کا حال ہے جن کے دل کفر میں راسخ ہوچکے ہیں۔