2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعالم العرفان

Ayah 2:273

لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ١٘ یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ١ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:273 in the Quran reader

( صدقات و خیرات) ان فقراء کے لیے ہیں جنہیں روک دیا گیا ہے۔ اللہ کے راستے میں ، وہ زمین میں سفر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ، انہیں ناواقف آدمی ، مالدار گمان کرتا ہے۔ سوال سے بچنے کی وجہ سے ، تم کو ان کی نشانیوں سے پہچانو گے وہ لوگوں سے لجاجت کے ساتھ سوال نہیں کرتے ، اور تم مال سے جو کچھ بھی خرچ کرو اللہ تعالیٰ اس کو جاننے والا ہے

ربط آیات صدقہ و خیرات سے متعلق اس سے پہلے چھ باتیں بیان ہوچکی ہیں ۔ آج کے درس میں ساتویں اور آخری بات کا بیان ہے ، جیسا کہ گزتہ دروس میں ذکرآ چکا ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ کے سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ صدقہ و خیرات دیکر احسان نہ جتلائو ، دوسری بات یہ ہے کہ جس کو صدقہ دیا ہے اس کو ایذا نہ پہنچائو ، تیسری بات یہ ہے کہ اس کام میں ریا کاری کو دخل نہ ہو ، چوتھی شرط یہ ہے کہ پاکیزہ مال اور اعلیٰ چیز صدقہ میں دی جائے پانچویں یہ کہ صدقہ کھلے طور پر بھی دیا جاسکتا ہے اور پوشیدہ طور پر بھی بشرطیکہ نیت درست ہو یعنی انفاق محض رضا الٰہی کے لیے ہو ، چھٹی بات یہ ہے کہ صدقہ غیر مسلم مستحق کو بھی دیا جاسکتا ہے۔ یہ صرف مسلمان تک محدود نہیں ، کیونکہ ہدایت دینے کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے ، وہ جسے چاہے ہدایت سے نوازے ۔ ہاں حربی کافر صدقے کا مستحق نہیں ، اس کا ذمی ہونا ضروری ہے ۔ البتہ عشر اور زکوٰۃ جو فرائض میں سے ہے ، وہ خالص مسلمانوں کے لیے وقف ہیں ، لہٰذا کسی قسم کے غیر مسلم کو نہیں دیے جاسکتے۔ فقیر اور مسکین آج کے درس میں ساتویں اور آخری بات یہ ہے کہ صدقات و خیرات کے سب سے زیاد ہ مستحق کون لوگ ہیں ، چناچہ ارشاد ہوتا ہے کہ صدقات للفقراء فقیروں کے لیے ہیں ۔ لفظ فقیر اصل میں فقار سے مشتق ہے اور فقار ایسے معذور شخص کو کہتے ہیں جسکی کمر کا مہرہ ٹوٹا ہوا ہو ، اور وہ چلنے پھرنے سے عاجز ہو ۔ اسی مناسبت سے عام اصطلاح میں فقیر سے مراد وہ شخص ہے ، جو اپنی جائز ضروریات زندگی پورا کرنے کے لیے دوسروں کا محتاج ہو ۔ ایسے محتاجوں کا ذکر سورة حشر اور دیگر کئی صورتوں میں آتا ہے۔ سورة توبہ میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان کیے گئے ہیں جن میں فقراء اور مساکین سب سے پہلے آتے ہیں ۔ فقہائے کرام نے فقیر اور مسکین کی مختلف تعریفیں کی ہیں ۔ بعض کہتے ہیں کہ فقیر زیادہ مستحق ہے اور بعض مسکین کو پہلے نمبر پر لاتے ہیں ، تا ہم ان کی عام تعریف کے مطابق وہ فقیر ہے جس کے پاس بالکل کچھ نہ ہو اور مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ ہو ، مگر وہ اسکی جائز ضروریات کے لیے کافی ہو۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے صرف فقیر کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ صدقات و خیرات کے سب سے زیادہ مستحق فقراء جن کے پاس ضروریات زندگی کے لیے کچھ بھی نہیں ، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان پر خرچ کرنے کا حکم دیا ہے۔ محصور فقراء آیت زیر درس میں فقراء میں ان خاص فقراء پر خرچ کرنے کی ترغب دی گئی ہے۔ جو روک دیئے گئے ہوں ۔ یعنی محصور ہو کر رہ گئے ہیں ۔ للفقراء الذین احصروا فی سبیل اللہ صدقات ان فقراء کے لیے ہیں ، جو اللہ کے راستے میں روک دیے گئے ہیں ۔ لا یستطیعون ضربافی الارض اور زمین میں سفر کر نیکی طاقت نہیں رکھتے ، ایک مقام پر پابند ہو کر رہ گئے ہیں ۔ احصار کا معنی ہے روک دیتا ہے ، جیسا کہ حج کے احکام میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ جو لوگ حج یا عمرہ کے ارادہ سے نکلیں پھر راستہ میں روک دیے جائیں ۔ احرام باندھ چکے ہیں ۔ مگر دشمن نے راستہ روک دیا ہے ، کوئی بیمار ہوگیا ، کوئی حادثہ پیش آ گیا ہے ، تو محصور شخص کو چاہیے کہ وہ قربانی کا جانور دوسرے شخص کے ہاتھ بھیج دے جسے حرم شریف میں جا کر ذبح کردیا جائے ۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے فتویٰ کے مطابق ایسی صورت میں محرم احرام کھول دیگا ۔ اور پھر آئندہ موقع پر حج یا عمرہ جیسی بھی صورت ہو اسکی قضا دیگا ۔ یہاں پر بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ صدقہ و خیرات ان لوگوں کا حق ہے۔ جو اللہ کے راستے میں روک دیے گئے ہیں اور سفر کی طاقت نہیں رکھتے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ کے راستے میں روک دیے جانے والے لوگوں میں دو قسم کے لوگ شمار ہوتے ہیں ۔ فی سبیل اللہ سے عموماً جہاد مراد لیا جاتا ہے ، لہٰذامطلب یہ ہوگا کہ جو لوگ اس قدر نادار ہیں کہ جہاد پر محض اس لیے نہیں جاسکتے کہ انہیں ضروریات زندگی کے لیے محنت مزدوری کرنا ہوتی ہے ۔ اگر جہاد پر چلے جائیں تو پیچھے ان کے بچوں کی کفالت ممکن نہیں اور اگر کاروبار میں لگے رہتے ہیں تو جہاد پر نہیں جاسکتے اس طرح وہ جہاد پر جانے سے روک دیے جاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسے لوگ صدقہ و خیرات کے زیادہ مستحق ہیں اگر ان کی اعانت کردی جائے تو جہاد کے فریضہ پر جاتے وقت وہ گھر کی کفالت سے بھی بےفکر ہوجائیں گے ، ان پر خرچ کرنا گویا جہاد کے راستے میں حائل رکاوٹ کو دور کرنا ہے۔ محصورین کی دوسری قسم میں وہ لوگ آتے ہیں ، جو دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں ، حصول تعلیم کے لیے وہ مدسہ میں پابند ہو کر رہ گئے ہیں ، لہٰذا دیگر کام کاج کرنے سے عاجز ہیں ، اگر وہ حصول تعلیم کے ساتھ ساتھ دیگر کاروبار بھی کرنا چا ہیں ۔ تو ظاہر ہے کہ کسی ایک کام کی طرف بھی پوری توجہ نہیں دے سکیں گے ۔ گزر اوقات کے لیے محنت ، مزدوری ، ملازمت ، کاروبار ، کھیتی باڑی وغیرہ ہر کام کے لیے پوری توجہ اور محنت کی ضرورت ہے۔ اسی طرح دینی تعلیم کے لیے بھی پورا وقت درکا رہے۔ جب تک پورا وقت نہیں دے گا نہ قرآن پاک یاد کرسکتا ہے ، نہ قرآن ، حدیث اور فقہ کی تعلیم حاصل کرسکتا ہے۔ جزوقتی سے دونوں کام ادھورے رہ جائیں گے ، اور طالب علم کسی کام میں کامل نہیں ہو سکے گا ، بلکہ بعض اوقات اس طرح کا کام نقصان کا باعث بن جاتا ہے۔ ” نیم حکیم خطرہ جان اور نیم ملاخطرہ ایمان “ ایک مشہورمقولہ ہے۔ ناقص التعلیم شخص گمراہی پھیلا کر نقصان کا باعث ہی ہوگا ، لہٰذا جو شخص دینی تعلیم حاصل کرنا چا ہے اسے دیگر ضروریات سے بےنیاز بنانے کے لیے ان پر خرچ کرنا ہوگا ۔ مولانا اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ اس دور میں صدقہ و خیرات کے سب سے زیادہ مستحق یہی لوگ ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ دین حاصل کرنے والے لوگ نکمے ہوتے ہیں ۔ یہ کوئی دوسرا کام کاج نہیں کرسکتے ۔ اس کا جواب خود اللہ تعالیٰ نے دیا ہے کہ یہ لوگ احصروا فی سبیل اللہ اللہ کے راستے میں روک دیئے گئے ہیں انہیں مدرسوں میں دینی تعلیم کے لیے پابند کردیا گیا ہے۔ دیگر کاروبار کرنے سے ان کی تعلیم ادوھری رہ جائیگی ، لہٰذا یہ لوگ تمہارے صدقات و خیرات کے زیادہ مستحق ہیں۔ فقراء کی پہچان فرمایا مستحق فقراء کی ایک پہچان تو یہ ہے کہ یحسبھم الجاھل اعنیا من التعفف ناواقف لوگ ایسے مستحقین کو مالدارسمجھتے ہیں محض اس وجہ سے کہ وہ سوال نہیں کرتے ، حالانکہ وہ اعانت کے مستحق ہیں ۔ ایسے لوگوں کی مثال اصحاب صفہ ؓ کی ہے حضور ﷺ کی مسجد سے قریب ایک چبوترہ تھا ، اوپر کھجور کے پتوں کی چھت تھی ۔ اس مقام پر ایسے لوگ جمع رہتے تھے۔ جنہوں نے اپنی زندگیاں دین کے لیے وقف کر رکھی تھیں ۔ بعض اوقات چار چار سو آدمی بھی اکٹھے ہوجاتے تھے ، حضور ﷺ سے تعلیم حاصل کرتے تھے اور جہاد میں جانے کی ضرورت پڑی تو ادھر چل دیتے۔ کوئی کاروبار نہ کرتے تھے ، مگر مستحق ہونے کے باوجود سوال نہیں کرتے تھے۔ حضرت قبیضہ ؓ نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا ۔ حضرت ! میں بہت مقروض ہوگیا ہوں ، میری مدد فرمائیں یعنی زکوٰۃ صدقات میں سے کسی کچھ دلا دیں آپ نے فرمایا کہ اس وقت تو ہمارے پاس کچھ نہیں ، البتہ تم رک جائو ! جب کوئی چیز میسر آئیگی ، تو تمارے معاملے پر غور کریں گے ، پھر آپ نے فرمایا یا قبیصہ ان المسئلۃ لا تحل یعنی اے قبیصہ ! سوال کرنا حلا ل نہیں ۔ سوائے تین قسم کے آدمیوں کے اول وہ شخص جو ایسے فقر میں مبتلا ہوجائے کہ مٹی میں مل جائے یعنی اس کے پاس کوئی چیز باقی نہ رہے ۔ دوسرا وہ شخص جس پر کوئی تاوان پڑجائے یاقرضہ دینا ہے اور تیسرا وہ شخص جس کی قوم کے تین عقل مند آدمی گواہی دیں کہ واقعی یہ شخص بڑا ادار ہے ۔ فاقہ کشی کر رہا ہے اور اس کے پاس کچھ نہیں ۔ فرمایا ان تین شخصوں کے علاوہ جو کوئی سوال کرتا ہے ، وہ حرام کھاتا ہے۔ اس کے لیے سوال کرنا جائز نہیں ۔ حضور ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جس شخص کے پاس مال موجود ہو ، اس کے باوجود وہ سوال کرے ، تو ایسا شخص قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس حالت میں پیش ہوگا کہ اس کے چہرے پر گوشت ہی نہیں ہوگا ۔ ابو حنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ جس شخص کے پاس خوراک ، لباس اور رہنے کے لیے مکان کے علاوہ دو سو درہم کی مقدار میں مال موجود ہو ، وہ صاب نصاب بن جاتا ہے۔ ایسے شخص کے لیے سوال کرنا حلال نہیں ہے۔ امام مالک (رح) فرماتے ہیں جس کے پاس چالیس درہم ہوں ، وہ بھی سوال نہیں کرسکتا۔ امام سفیان ثوری (رح) پچاس درہم کے مقداربتاتے ہیں حتیٰ کہ ایک اور حدیث میں حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے کہ جس شخص کے پاس دو وقت کا کھانا موجود ہو ، اس کے لیے بھی سوال کرنا جائز نہیں ہے۔ بعض اہل حرفت یا پیشہ ور ہوتے ہیں ، جنہیں کچھ اوزار کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ایسے لوگوں کے پاس اگر چالیس ، پچاس یا دو سو درہم سے کم مال ہو تو ان کے لیے سوال کر نیکی گنجائش ہے۔ ورنہ سوال کرنا حرام ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ اصحاب صفہ ؓ میں سے ہیں ، ان کے متعلق ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ کے منبر اور حضرت عائشہ ؓ کے حجرہ کے درمیان غش کھا کر گر پڑتے تھے۔ فرماتے ہیں کہ لوگ میری گردن پر پائوں رکھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ مجھے جنون کا درورہ پڑگیا ہے حالانکہ مابہ الا الجوع یہ صرف بھوک کی وجہ سے ہوتا تھا۔ اس قدر زبوں حالی کے باوجود آپ نے کبھی دست سوال دراز نہیں کیا ، یہ ان صحابہ ؓ کا حال تھا ، جنہیں اپنی عزت نفس اس قدر عزیز تھی ۔ اس آیت میں اسی بات کو بیان کیا گیا ہے کہ خوش پوش ہونے اور سوال نہ کرنے کی بناء پر ناواقف آدمی سمجھتے ہیں کہ یہ شخص بڑا مالدار ہے ، حالانکہ وہ اپنی عزت نفس کی خاطر سوال سے گریزاں ہے ۔ اکبر الٰہ آبادی (رح) نے اسی چیز کی یوں ترجمانی کی ہے ؎ یہ دنیا رنج و راحت کا غلط اندازہ کرتی ہے خدا ہی خوب واقف ہے کسی پر کیا گزرتی ہے آج کے ملحدانہ دور میں بھی عزت نفس کی پاسداری کی جاتی ہے ۔ آج تو اشتراکی بھی کہتے ہیں ۔ الخبز بالکرامۃ یعنی ہر آدمی کو باعزت روٹی ملنی چاہئے تا کہ اسے سوال کر کے ذلیل نہ ہونا پڑے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ سوال کرنے سے پاک دامن ہیں ۔ وہ صدقات و خیرات کے زیادہ مستحق ہیں ۔ مستحق فقراء کی دوسری پہچان یہ فرمائی تعرفھم بسیمھم تم انہیں ان کی نشانیوں سے پہچانو گے۔ واضح نشانی یہ ہے کہ بھوک کی وجہ سے لا غر ہوں گے ، ان کے چہروں پر زردی چھائی ہوگی مزید برآں لا یسئلون الناس الحافا ً وہ لوگوں سے لپٹ کر سوال نہیں کرتے ۔ اگر یہ امر مجبوری سوال کرنا ہی پڑے تو پر وقار طریقے سے کرتے ہیں ۔ پیشہ ور بھکاریوں کی طرح پیچھے نہیں پڑجاتے کہ ضرور لے کر ہی چھوڑ ینگے ۔ امام ابوبکر جصاص (رح) فرماتے ہیں کہ لحافاً سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ لجاجت سے سوال نہیں کرتے ، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بالکل ہی سوال نہیں کرتے ، کیونکہ اگر سوال کریں گے تو لوگوں کو علم ہوجائے گا کہ نادر ہیں مگر وہ تو اپنی ناداری کو ظاہر ہونے ہی نہیں دیتے ۔ اسکی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پہلے ہی فرما چکے ہیں کہ سوال نہ کرنے کی وجہ سے تو لوگ انہیں غنی یعنی مالدارتصور کرتے ہیں ۔ اس لیے ایسے لوگ مطلقاً سوال کرتے ہی نہیں۔ گداگری حرام ہے یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ پیشہ ور بھکاری فقرا کی فہرست میں شامل نہیں ہیں ، کیونکہ بھیک مانگنا تو سخت معیوب ہے اور جن ناداروں کا یہاں ذکر ہو رہا ہے ان کی اللہ تعالیٰ نے تعریف فرمائی ہے کہ وہ اس قدر خودار ہیں کہ سخت ضروریات کے باوجود سوال سے گریز کرتے ہیں ۔ مسلم ممالک میں عموماً اور ہمارے ہاں خصوصاً لوگ جگہ جگہ بھیک مانگتے نظر آتے ہیں ۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ جس طرح چوری ، ڈاکہ ، قمار بازی وغیرہ اکساب ضارہ ہیں ، اسی طرح گداگردی بھی اسی فہرست میں شامل ہے۔ یہ بھی ناجائز اور حرام ہے۔ یورپ کی عیسائی ، یہودی اور دہریہ اقوام میں آپ کو کہیں بھکاری نظر نہیں آئے گا ۔ ان کی حکومتیں اپنے ناداروں کی کفالت کرتی ہیں ۔ برطانیہ میں تو بےروزگاروں کو باقاعدہ گزارہ الائونس ملتا ہے۔ جب تک کسی شخص کو کام مہیا نہیں کیا جاسکتا ، اسے گزر اوقات کے لیے وظیفہ دیا جاتا ہے ، لہٰذا وہاں پر گدا گری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ سوال سے بچنے کا اصول تو اسلام نے پیش کیا تھا مگر اسے اغیار نے اپنا لیا اور خود مسلمان اس سے محروم ہوگئے ۔ ہمارے حکمران اس طرف کوئی توجہ نہیں دیتے گدا گری بڑی بر ی خصلت ہے اور عزت نفس کے خلاف ہے اس کا سد باب ہونا چاہئے۔ دین کی خدمت فرمایا وما تنفقوا من خیر اے ایمانوالو ! تم جو کچھ اپنے مال سے خرچ کرو فان للہ بہ علیم اسے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ صدقات سے متعلق احکام میں اللہ نے آخری بات یہ سمجھائی کہ تمہارے صدقات کے سب سے زیادہ حقدار کون ہیں ۔ یعنی وہ لوگ جو دین کا کام خاموشی کے ساتھ انجام دے رہے ہیں ۔ مگر سوال نہیں کرتے ، سلف صالحین میں ایسے بزرگوں کی بہت سی مثالیں موجود ہیں ۔ امام احمد بن حنبل (رح) ان کے استاد عبد الراق (رح) ، امام ابن ہمام (رح) ، امام ابو یوسف (رح) ، امام شافعی (رح) ، امام بخاری (رح) وغیرہم ایسے بزرگ ہیں کہ علم دین کی خاطر لمبے لمبے پیدل سفر کیے۔ بڑی بڑی تکلیفیں برداشت کیں ۔ مگر سوال نہیں کیا امام ابن جریر (رح) کے متعلق آتا ہے کہ حصول تعلیم کے لیے رخصت ہونے لگے تو والدہ نے دو سو کلچہ تیار کرکے ساتھ دے دیا ۔ فرماتے ہیں کہ پورے دو سو دن ان کلچوں پر گزارہ کیا ۔ ہر روز ایک کلچہ کھا کر پانی پی لیتا اور اللہ کا شکر بجا لاتا مگر کسی سے سوال نہیں کیا ۔ یہ وہی مفسر قرآن ہیں ، جنہوں نے قرآن پاک کی سب سے بڑی تفسیر لکھی ہے۔ آپ چالیس سال تک بغداد میں مقیم رہے ، ہر روز چالیس ورق لکھتے تھے ، آپ کی وفات کے بعد حساب لگایا گیا تو معلوم ہوا کہ آپ نے زندگی میں پانچ سو پونڈ سیاہی استعمال کی ۔ یہ ان لوگوں کے کام کی برکات ہیں کہ دین کا قافلہ چل رہا ہے ، ورنہ اگر اس زمانے کے بھکاریوں والی بات ہوتی ، تو پھر دین کا اللہ ہی حافظ تھا۔ اسی لیے فرمایا کہ تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو ، اللہ تعالیٰ اچھی طرح جانتا ہے کہ کس نیت سے خرچ کر رہے ہو اور کس پر خرچ کر رہے ہو ۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے خرچ کی بہترین مد بھی بیان فرما دی۔
Ayahs 2:274–277

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ Open ayah 2:274 in the Quran reader

وہ لوگ جو اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں رات کے وقت اور دن کے وقت پوشیدہ طور پ ر اور ظاہری طور پر ان کے لیے ان کے رب کے پاس بدلہ ہے ، اور نہ ان پر خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا١ۘ وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا١ؕ فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ١ؕ وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:275 in the Quran reader

وہ لوگ جو سود کھاتے ہیں ، وہ نہیں کھڑے ہوں گے ، مگر اس شخص کی طرح جس کے حواس شیطان مختل کردیتا ہے چمٹنے کی وجہ سے ، یہ اس لیے کہ بیشک انہوں نے کہا کہ بیشک سوداگری بھی سود کی مثل ہے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے سوداگری کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ پس جس کے پاس نصیحت آگئی اسکے رب کی طرف سے ، پس وہ رک گیا پس جو کچھ ہوچکا وہ اسکے لیے ہے اور اسکا معاملہ اللہ کی طرف ہے اور جس نے پلٹ کر کیا ، پس یہی لوگ دوزخ والے ہیں ، اس میں ہمیشہ رہیں گے

یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِیْمٍ Open ayah 2:276 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ ناشکر گزار اور گناہ گار کو پسند نہیں کرتا

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:277 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے کام کیے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی ، ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہے ، ان پر نہ خوف ہوگا ، اور نہ وہ غمگین ہوں گے

صدقہ بمقابلہ سود گزشتہ کئی دروس میں صدقہ کا بیان آتا ہے اور گزشتہ درس میں صدقات سے متعلق ساتویں بات یعنی اس کے بہترین مصرف کا ذکر تھا۔ اب آج کے درس میں پہلے صدقات ہی کے ضمن میں ان کی فضلیت بیان کی گئی ہے اور پھر اس کے مقابلے میں سود کی مذمت ہے ، صدقہ و خیرات کرنے سے انسان کے اندر فیاضی کا مادہ پیدا ہوتا ہے اور بخل دور ہوتا ہے۔ اس کے سبب انسان کے اندر بنی نوع انسان کے لیے جذبہ ہمدردی پیدا ہوتا ہے ، مکارم اخلاق کی تکمیل ہوتی ہے ، اور پھر یہی خصائل انسان کی نجات کا ذریعہ بن جاتے ہیں ۔ بر خلاف اس کے سود خور میں بخل کا مادہ پیدا ہوتا ہے۔ اخلاق کا جنازہ نکلتا ہے اور لا محدودپیمانہ پر مال جمع کرنے کی حرص پیدا ہوتی ہے۔ انسانی ہمدردی اور فیاضی اٹھ جاتی ہے سود خود سنگ دل اور ظالم بن جاتا ہے۔ جسکی وجہ سے اس کا دین تباہو بربادہو جاتا ہے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت برستی ہے ۔ حدیث شریف میں آتا ہے۔ لعن اللہ اکل الربو و موکلہ۔۔۔۔۔ الخ اللہ تعالیٰ نے سود لینے والے اور دینے والے پر ، اسکی دستاویز کے کاتب اور گواہان سب پر لعنت کی ہے ادھر صدقہ و خیرات کرنے والوں پر اللہ کی حمتوں کا نزول ہوتا ہے تو ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے دونوں متضاد چیزوں کو اکٹھا بیان کیا ہے۔ صدقہ کے چار مواقع اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے خیرات کے چار مستحسن مواقع بیان کیے ہیں ۔ الذین ینفقون اموالھم بالیل والنھار وہ لوگ جو اپنے مالوں کو خرح کرتے ہیں رات اور دن سرا وعلانیۃ چھپا کر اور ظاہر کر کے یعنی اہل ایمان چارحالتوں میں خرچ کرتے ہیں ، وقت کے لحاظ سے رات ہوگی یا دن ہوگا اور حالت کے لحاظ سے پوشیدہ طور پر ہوگا یا ظاہر ہوگا ، چناچہ حضور ﷺ کے صحابہ کرام ؓ اس آیت کے مکمل مصداق تھے۔ امیر المومنین حضر ت علی ؓ کے پاس اگر چاردرہم آگئے ہیں ، تو انہوں نے ایک رات خرچ کردیا ، ایک دن کے وقت ایک پوشیدہ طور پر خیرات کردیا اور ایک کسی عام مجلس کے اندر اور اس طرح اس آیت کریمہ پر پورا پورا عمل کیا ۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس چالیس ہزار درہم آئے ، انہوں نے بھی قرآن پاک کے حکم کے مطابق انہیں چار حصوں میں تقسیم کیا ۔ دس ہزاردرہم رات میں خرچ کیے ، دس ہزار دن پھر دس ہزار پوشیدہ طور پر اور دس ہزار علانیہ خرچ کیے ۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ بہت بڑے تاجر اور مالدار تھے ۔ آپ بھی خرچ کرتے وقت چاروں مواقع کا خیال رکھتے تھے۔ یہاں سے یہ بات اخذ ہوتی ہے کہ صدقہ خیرات کے لیے کوئی خاص وقت یا کوئی خاص جگہ معین نہیں ہے ، بلکہ رات دن کے چوبیس گھنٹوں اور ظاہرا ً باطنا ً ہر حالت میں خرچ کیا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا فلھم اجرھم عند ربھم ایسے لوگوں کے لیے ان کے رب کے ہاں اجر ہے ، وہ ضرو ر اس جر سے مستفید ہوں گے ۔ جس کا نتیجہ یہ ہے ولا خوف علیھم وہ مستقبل میں پیش آنے والے کسی خطرہ سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔ ولا ھم یحزنون اور نہ ہی گزری ہوئی زندگی پر انہیں کسی قسم کا افسوس اور غم ہوگا کیونکہ انہوں نے دنیا میں نیکی اور بھلائی کا کام کیا ہے ، وہ عند اللہ ماجورہوں گے۔ ایصال ثواب کے لیے تعین وقت اس آیت پاک سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صدقہ و خیرات کے لیے کوئی خاص وقت یا دن مقرر نہیں کیا کہ ضرو ر فلاں دن اور فلاں وقت پر ہو ، بلکہ ہر روز اور ہر وقت خیرات ہو سکتی ہے۔ مگر اکثر لوگ اس کے لیے جمعرات کا روز یا ہر ماہ کی گیارہویں تاریخ مقرر کرتے ہیں ۔ شعبان کی پندرہویں اور رمضان کی ستائیسویں تاریخ بھی بطور خاص مقرر کی جاتی ہے ، یہ چیز اصولاً غلط ہے ، اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کی ، البتہ جس چیز کی پابندی ہونی چاہئے وہ یہ ہے کہ جو کچھ خرچ کیا جا رہا ہے ، وہ حلال کمائی سے ہو ۔ دن رات اور تاریخ کا کوئی تعین نہیں ، غرباء مساکین کی خدمت کرنی ہے تو کسی وقت بھی کی جاسکتی ہے ، نیت درست ہونی چاہئے ۔ محض اللہ کی رضا کے لیے ہو ، مردوں کو ایصال ثواب کے لیے تیسرا دن ، ساتواں ، دسواں یا چالیسواں دن ہی کیوں ضروری ہے۔ اسی طرح مردوں کے ثواب کے لیے جمعرات کی تخصیص بھی ناقابل فہم ہے یہ محض ڈھونگ اور غلط طریقہ ہے ۔ صدقہ و خیرات کے لیے کوئی تاریخ اور کوئی وقت مقرر نہیں ہے ، یہ جو کچھ ہو رہا ہے ، خود ساختہ شریعت کے احکام ہیں ۔ سود خور کی حالت زار سود کی مذمت اور حرمت کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے الذین یاکلون الربوا یعنی جو لوگ سود کھاتے ہیں ، ان کی مثال ایسی ہے ، امام بیضاوی (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سود کھانے کا ذکر فرمایا ہے لیکن مراد اس سے لینا دینا ہی ہے ، صرف کھانا مراد نہیں ۔ یہاں پر کھانے کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ انسانی زندگی کھانے پینے پر منحصر ہے اور یہ انسان کی اولی ضروریات میں سے ہے۔ اس لیے جب بھی کوئی محنت مزدوری ، کام کاج کرتا ہے تو کہتے ہیں کہ پیٹ کی خاطر یہ کچھ کیا جا رہا ہے۔ آدمی کو دو وقت کی روٹی تو ضرور ملنی چاہئے ، باقی چیزیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں ۔ تو امام صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ اس مقام پر کھانے کا ذکر انہی معنوں میں کیا گیا ہے۔ تا ہم سود کھانے سے مراد سود کا لینا دینا اور ہر قسم کے استعمال میں لانا ہے ۔ فرمایا جو لوگ سود کھاتے ہیں لا یقومون وہ قیامت کے دن نہیں کھڑے ہونگے اپنی قبروں سے الا کما یقوم الذین یتخبطہ الشیطن م المس مگر اس شخص کی طرح جسے شیطان نے چمٹ کر مخبوط الحواس کردیا ہو۔ جب کسی شخص پر جن اثر ڈالتا ہے ، جسے جن کا سایہ یا جن کا چمٹنا کہتے ہیں تو وہ شخص اپنے ہوش و حواس قائم نہیں رکھ سکتا ۔ اچھے طریقے سے کھڑا نہیں ہو سکتا ، طرح طرح کی حرکتیں کرتا ہے۔ تو فرمایا قیامت کے دن سود خود کی بھی یہی حالت ہوگی ، جب وہ قبروں سے اٹھیں گے ، تو ان کے پائوں لڑکھڑاتے ہوں گے اور ان پر جنون کی سی کیفیت طاری ہوگی یہ ان کے لیے سود خوری کی سزا ہوگی۔ جن کا سایہ جن کا انسان کو چمٹ جانا اکثر مشاہدہ میں آتا رہتا ہے۔ جب کوئی شخص ایسی غلط کرتا ہے ۔ جس سے شیاطین کو تکلیف پہنچتی ہے ، تو وہ لوگوں کو چمٹ کر تکلیف میں مبتلا کردیتے ہیں ۔ جنات کی مختلف قسمیں ہیں ۔ جیسا کہ سورة جن میں آتا ہے ” منا المسلمون ومنا القسطون “ جس طرح انسانوں میں مومن اور کافر فاسق وغیرہ ہوتے ہیں ، اسی طرح جنوں میں بھی ہوتے ہیں ۔ فرق یہ ہے کہ وہ انسانوں کو نظر نہیں آتے کیونکہ ان کا مادہ تخلیق زیادہ لطیف ہے۔ انسانی آبادی کی طرح یہ دنیا جنوں سے بھی بھری ہوئی ہے وہ بعض اوقات انسانوں کو چمٹ جاتے ہیں ، من المس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے ۔ مگر یہاں پنجاب میں کچھ مصنوعی اور جعلی کاروبار بھی ہوتا ہے عامل لوگ ایسے واقعات اور بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں ۔ اکثر عورتوں کو بعض بیماریاں ہوتی ہیں مگر عاملین اسے بھی جنات چمٹنے پر محمول کرتے ہیں ۔ حالانکہ بیماری کا علاج طبی طور پر ہی کرنا چاہئے ، یہ اعتقاد کی کمزوری اور جہالت کا نتیجہ ہے ، وگرنہ حقیقی طور پر جن چمٹنے کی کیفیت تو سب کو معلوم ہی ہے کہ انسان کیسی کیسی حرکتیں کرتا ہے اور کس طرح حواس باختہ ہوجاتا ہے۔ تجارت بمقابلہ سود فرمایا سود خور قیامت کے روز قبر سے حواس باختہ اٹھے گا ۔ ذلک بانھم اس کی وجہ یہ ہے کہ قالوا انما البیع مثل الربوا انہوں نے کہا تجارت سود کی مانند ہے۔ دونوں چیزوں میں کوئی فرق نہیں ، لوگ تجارت کرتے ہیں ، کاروبار کرتے ہیں ، اور پھر اس میں نفع کماتے ہیں ۔ اس طرح ساہو کار بھی اپنی رقم لگاتا ہے اور اس پر نفع لیتا ہے ۔ سود خور کا یہ نظریہ ظاہر کرتا ہے کہ دنیا میں اسے سرمایہ جمع کرنے اور حلال حرام میں عد م تمیز کا جنون ہوچکا ہے ۔ اسی لیے یہ سود کو تجارت کے برابر قرار دے رہا ہے ، حالانکہ منافع کس جنس کے بدلے میں ہوتا ہے ، ایک شخص کوئی چیز بیچتا ہے اور اپنی لاگت سے زیادہ وصول کر کے نفع کماتا ہے ، مگر سود میں تو کسی چیز کا تعلق ہی نہیں ہوتا ۔ سود خور نہ کوئی چیزخریدتا ہے اور نہ اسے بیچتا ہے ، بلکہ صرف روپیہ ادھار دیکر اس پر سود لیتا ہے جو قطعاً حرام ہے۔ سود دو شکلوں میں ہوتا ہے ، ادھار کی شکل میں یا اجناس کی صورت میں ، اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو قرض کے طور پر کچھ رقم دیتا ہے اور پھر مقررہ مدت کے بعد اصل رقم کے ساتھ کچھ زائد بھی لیتا ہے تو یہ صریحاً سود ہے ، کیونکہ قرض دینے والے نے نہ اس میں محنت کی ہے ، نہ وقتدیا اور نہ صلاحیت صرف کی ہے ۔ وہ محض اپنی رقم کے بل بوتے پر مقررہ نفع حاصل کرنا چاہتا ہے جو سود ہے۔ جنس کی صورت میں یہ ہے کہ کوئی شخص جنس کسی دوسرے شخص کو مقررہ مدت کے لیے دے اور پھر واپسی پر ادا شدہ جنس سے زیادہ لے ۔ یہ بھی سود ہوگا ۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے۔ الذھب بالذھب یعنی جب جنس کا لین دین ہو اور ایک جنس کا تبادلہ ہو تو برابر برابر ہونا چاہئے ، سونے کے بدلے سونا ہو ، چاندی کے بدلے چاندی ہو ، نمک کے بدلے نمک ہو ، جو کے بدلے جو ہو ، گندم کے عوض میں گندم ہو تو یہ تبادلہ برابری کی بنیاد اور دست بدست ہونا چاہئے ، جو کوئی ایک سیر گندم دیکر سوا سیر گندم واپس لے گا تو یہ سود ہوگیا اسی طرح ایک سیر گندم دے کر کچھ مدت کے بعد ایک سیر چاول واپس لے تو یہ بھی سود ہوگا ۔ ہاں اگر اجناس مختلف ہوں تو شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے ، مثلاً ایک سیر گندم کے بدلے میں دو سیر جو لے سکتا ہے ، ایک تولہ سونے کے عوض کئی گنا زیادہ چاندی حاصل کی جاسکتی ہے ، علی ہذا القیاس ، مگر یہاں پر شرط یہی ہے کہ سودا دست بدست ہو ۔ اگر اس میں ادھار کیا ہے اور اس مدت کے معاوضہ میں کچھ زیادہ حاصل کرلیا تو یہ سود ہوجائیگا ۔ امام مالک (رح) فرماتے کہ جو چیز بطور خوراک استعمال ہو سکتی ہے ، جیسے گندم ، جو ، چنا وغیرہ اور وہ اپنی قیمت بھی رکھتی ہے۔ اس میں اگر ادھار کی بنیاد پر کمی بیشی ہوگی ، تو یہ سود ہوگا ۔ امام شافعی (رح) اور امام احمد (رح) بھی خوراک والی اشیاء میں یہی حکم لگاتے ہیں ۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ ایسی جنس جس کا وزن یا پیمائش ہو سکتی ہے۔ اس کے تبادلے میں کمی بیشی کریگا ، تو سود شمار ہوگا ۔ لوہے کا ایک سر یا دیکر دوسرے نہیں لے سکتا ، ایک من چونا دیکر ڈیڑھ من وصول نہیں کرسکتا ۔ غرضیکہ ہر وہ چیز جو وزن یا ناپ یا پیمائش میں آسکتی ہے۔ اس کا تبادلہ برابری کی بنیاد پر ہو تو اجازت ہے ، اگر زیادہ وصول کیا ، تو پھر یہ سود ہوگا ۔ سابقہ سود کی معافی فرمایا سود خوروں کا نظریہ یہ ہے کہ تجارت سود کی مثل ہے۔ واحل اللہ البیع وحرم الربو حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے ۔ تجارت میں کبھی منافع ہوتا ہے اور کبھی نقصان کا احتمال بھی ہوتا ہے ، جب کہ سود ایک مقرر منافع ہے ، جو بہر صورت رقم دہندہ کو وصول ہوتا رہتا ہے ، چناچہ فتح مکہ کے اندر حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ، سود بالکل چھوڑ دو ، سابقہ تمام سود ختم ہوگئے ۔ فرمایا میرے حاندان والے جو سود وصول کرتے تھے ، وہ بھی میں نے ختم کردیا ، اب کسی کو سو د کی رقم لینے کی اجازت نہیں ۔۔۔ سب سے پہلے حضور ﷺ نے اپنے چچا حضرت عباس ؓ کا سود ختم کیا اور فرمایا کہ اصل قرضہ واپس لے سکتا ہے ، مگر سود کا ایک پیسہ تک لینے کی اجازت نہیں ، تمام سود مٹا دیے گئے۔ فرمایا فمن جاء ہ موعظۃ من ربہ جس شخص کے پاس اس کے رب کی طرف سے نصیحت آگئی۔ یعنی سود کی حرمت کا حکم پہنچ گیا ۔ فانتھی تو اس شخص نے سود لینا چھوڑ دیا ۔ فلہ ما سلف تو جو کچھ ہوچکا وہ اس کے لیے ہے ، یعنی جو سود حاصل کرچکا ہے ۔ اس کا کچھ مواخذہ نہیں یعنی حرکت سود کا قانون آنے سے پہلے سود کی جو رقم لے چکا ہے۔ وہ اس کی ہوگئی ، اب اس کی واپسی کی ضرورت نہیں۔ وامرہ الی اللہ اس کا معاملہ اللہ کی طرف ہے۔ وہ اسے معاف کرنے پر قادر ہے ، تا ہم یہ اس کی نیت پر منحصر ہے کہ اس نے دل سے اللہ کے حکم کو قبول کرلیا ہے یا محض دکھاوے کے لیے سود لینا بند کیا ہے ، اسی لیے فرمایا کہ ایسے شخص کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ ومن عاد اور جو کوئی دوبارہ سودی کاروبار شروع کر دے گا۔ فاولئک اصحب النار یہی لوگ اہل جہنم ہیں ھم فیھا خلدون وہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے ۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجانے کے بعد جو شخص سودی لین دین سے باز نہ آیا ، تو وہ اسی لائق ہے کہ جہنم کے گڑھے میں پھینک دیا جائے۔ جہاں سے کبھی چھٹکارا نہ ہو ، اگر اس نے سود کو حلال سمجھ کر کھایا ہے تو پھر تو قطعی کافر ہے ، اور حلال تو نہیں جانتا مگر کھا رہا ہے ، تو بھی شدید درجے کا گناہ گار ہے اور دوزخ کا مستحق ہے۔ حرمت سود کی حکمت سود کے واضح احکام بیان کرنے کے بعد اسکی حکمت بھی بیان فرما دی ۔ یمحق اللہ الربوا اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے ، سود کا جتنا بھی مال اکٹھا کرلو ، مگر انجام کار اس سے فائدے کی بجائے نقصان ہی پہنچے گا ۔ ایسا مال اکثر تعیش کے کاموں ، لہو و لعب ، بینڈباجے ، اتش بازی ، بےجا فیش یا غلط رسم و رواج کی نظر میں ہوجاتا ہے۔ مال حرام بود بجائے حرام رفت کے مصداق حرام کے مال سے صحیح نتائج مرتب نہیں ہو پاتے اس میں خیر و برکت نہیں آتی ۔ انسان سکون قلب سے محروم رہتا ہے ، حرص بڑھتی رہتی ہے ، باقی لوگ خواہ بھوکوں مر جائیں ، اسے مال اکٹھا کرنے سے غرض رہے ، یہ سب نقصان دہ چیزیں ہیں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے۔ ویربی الصدقت اور صدقات کو بڑھاتا ہے ، زکوٰۃ و صدقات دینے والے کے مال میں اللہ تعالیٰ برکت عطا کرتا ہے۔ صدقات کا جذبہ بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی اور خیر سگالی کا جذبہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کے مال میں دنیا میں بھی اضافہ کرتا ہے اور آخرت میں تو سات سو گنا تک بلکہ اس سے بڑھا چڑھا کر اجر عطا ہوگا۔ اللہ مالک الملک کھجور کے ایک دانے کو احد پہاڑ جتنا بڑھا کر معاوضہ دیگا ۔ صدقہ و خیرات کی یہ برکات ہیں ، گویا اللہ تعالیٰ صدقات کو بڑھاتا ہے۔ واللہ لا یجب کل کفار اثیم اللہ تعالیٰ ناشکرگزار اور گناہ گار آدمی کو پسند نہیں کرتا ، جو شخص اللہ تعالیٰ کی عط کردہ نعمت کو چند دن کے لیے کسی کو ادھار نہیں دے سکتا ، کسی غریب و لاچار کی مدد نہیں کرسکتا۔ کسی بھوکے کو کھانا نہیں کھلا سکتا ، اللہ ایسے ناشکر گزار کو پسند نہیں کرتا اور پھر جو شخص الٹا کسی کی بیماری سے فائدہ اٹھا کر اسے سود پر قرض دیتا ہے۔ اس کا خواہ چوستا ہے ، وہ پہلے ہی کمزور ہے ، اس پر اور مالی بوجھ ڈالتا ہے ، وہ شخص سخت گناہ گار ہے اور اللہ ایسے آدمی کو بھی ہرگز پسند نہیں کرتا۔ اہل ایمان کے لیے بشارت احکام الٰہی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے بر خلاف ان الذین امنوا جو لوگ ایمان لائے وعملو الصلحت اور نیک اعمال کئے ، یعنی اولاً وہ اہل ایمان ہیں ۔ ان کا عقیدہ صحیح ہے ، توحید خداوندی پر پورا یقین رکھتے ہیں ۔ بعث بعد الموت پر یقین ہے ، کتب سماویہ پر ایمان ہے اور ثانیا ً وہ اچھے اور شائستہ کا م انجام دیتے ہیں ۔ برائی سے بچتے ہیں ۔ بالخصوص واقاموالصلوٰۃ نماز کو قائم کرتے ہیں ۔ جو کہ امام العبادۃ المقریہ اللہ کا تقرب دلانے والی چیز ہے ۔ اسلام کی جڑ اور بنیاد ہے ، اس کے علاوہ واتوالزکوۃ زکوٰۃ بھی ادا کرتے ہیں ۔ یعنی بدنی عبادت کے ساتھ ساتھ مالی عبادت بھی کرتے ہیں ۔ ان کے دل میں انسانی ہمدردی کا جذبہ موجود ہے ۔ بخل سے محفوظ ہیں ۔ لھم اجرھم عند ربھم ان کے لیے ان کے رب کے ہاں اجر مقرر ہے۔ ان کے نیک اعمال کا ایک ایک ذرہ محفوظ ہے ، اگر رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی عمل ہے تو اللہ اسے ضائع نہیں کرتا بلکہ اس کا بدلہ سات سو گنا تک یا اس سے بھی بڑھا چڑھا کر عطا کرتا ہے ، ایسے ہی نیکو کار لوگوں کے متعلق فرمایا ولا خوف علیھم نہ انہیں اس دنیا میں کسی قسم کا خوف ہوگا ۔ ولا ھم یحزنون اور نہ ہ آخرت میں وہ کسی غم و فکر میں مبتلا ہوں گے۔ قیامت کا ڈر تو ہر ایک کو ہونا چاہئے ، مگر حقیقت میں وہ اپنے اچھے اعمال کی وجہ سے مامون ہونگے بر خلاف اس کے اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرنے والے سخت مغمول ہوں گے۔ ایسے لوگ قیامت کے دن اپنے کیے پر پشیمان ہونگے ۔ اور کہیں گے یحسرتی علی ما قرطت فی جنب اللہ افسوس اللہ کی دی ہوئی مہلت سے میں نے کوئی فائدہ نہ اٹھایا اور آج قیامت کے دن نقصان اٹھانے والوں میں شمار ہوگا ۔ بہر حال ایمان اور اعمال صالحہ کے حامل لوگوں کو نہ خوف ہوگا اور نہ کسی قسم کا غم ہوگا ۔
Ayahs 2:278–281

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:278 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو ، اور جو سود باقی رہ گیا ہے ، اسے چھوڑ دو ، اگر تم ( حقیقت میں) ایماندار ہو

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ١ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:279 in the Quran reader

اور اگر تم نے ایسا نہ کیا ، پس سن لو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لڑائی کا چیلنج اور اگر تم توبہ کرلو ، تو تمہارے اصل مال تمہارے ہی ہیں نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائیگا

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍ١ؕ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:280 in the Quran reader

اگر وہ شخص تنگدستی والا مقروض ہے ، پس اس کو مہلت دینی چاہئے ، آسودگی تک اور یہ کہ تم صدقہ کرو ( بخش دو ) یہ تمہارے لیے بہتر ہے ، اگر تم جانتے ہو

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:281 in the Quran reader

اور اس دن سے ڈرو ، جس دن تم اللہ کے سامنے لوٹائے جائو گے ، پھر ہر نفس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کمایا ، اور ان پر کسی طرح ظلم نہیں کیا جائیگا

ربط آیات صدقہ و خیرات کی فضلیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے سود کی حرمت مذمت بیا ن فرمائی۔ گزشتہ درس میں سود خور کی قیامت کے دن دوبارہ اٹھنے کی حالت کا تذکرہ تھا کہ وہ اپنی قبروں سے اس طرح مخبوط الحواس اٹھیں گے جیسے ان کو جن چمٹ گیا ہو ، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ دنیا میں مال جمع کرنے کی فکر میں اس قدر اندھے ہوگئے کہ ان کے نزدیک تجارت اور سود میں کوئی امتیاز نہ رہا ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ سود کی حرمت کے نفاذ کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے دو طریقے بتائے ہیں ۔ پہلا طریقہ تو گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے۔ فمن جاء ہ موعظۃ من ربہ یعنی وعط و نصیحت کے ذریعے سود خور کو سود سے باز رکھنے کی کوشش کی جائے ، اگر وہ اللہ کا حکم مان کر سود سے کنارہ کش ہوجائے تو بہتر وگرنہ ایسے لوگ اصحب النار ہیں ۔ ان کا گناہ ناقابل معافی ہے۔ ھم فیہا خلدون یہ دائمی جہنمی ہے۔ سود کی لعنت سے نجات دلانے کا دوسرا طریقہ تعزیری عمل ہے جو آج کے درس میں بیان کیا گیا ہے اور یہ اس صورت میں ممکن ہے جب کہ حکومت اسلامی ہو اور وہ اسلامی احکام کا نفاذ کرے اور پھر ان کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تعزیری کارروائی کرے ، کسی بھی ملک و قوم کے لیے معاشی مسائل بنیادی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ، اگر یہ نظام درست ہوجائے ، تو لوگوں کے بیشتردنیوی مسائل حل ہوجاتے ہیں ، اسلام کے اقتصادی نظام میں سود ایک بنیادی رخنہ ہے۔ جسے دور کیے بغیر لوگوں کی معاشی حالت درست نہیں ہو سکتی ، لہٰذا ایک اسلامی حکومت کا اولین فریضہ ہے کہ ملک کو سود کو لعنت سے پاک کرے اور اس راستے میں آنے والے ہر روڑے کو ہٹا دے اور یہ چیز تعزیری قوانین کے ذریعے حاصل ہوگی ، جس کا ذکر آج کے درس میں آ رہا ہے۔ شان نزول زمانہ جاہلیت میں طائف میں آباد قبیلہ بنو ثقیف کے کچھ لوگ سودی کاروبار کرتے تھے ، مکہ میں آباد بنو مغیرہ والے ثقیف کے مقرو ض تھے ، انہوں نے سود پر روپیہ لے کر رکھا تھا ، جب اسلام کی شمع نے خطہ عرب کو منور کیا ، تو یہ دونوں قبیلے مسلمان ہوگئے چونکہ بنو ثقیف کی رقم بنو مغیرہ کی طرف واجب الاداء تھی ۔ اول الذکر نے اپنی اصل رقم بمعہ سود مطالبہ کیا ، تو بنو مغیرہ نے جواب دیا کہ اسلام میں تو سود کا لین دین جائز نہیں ہے ۔ لہٰذا اب تمہارا دعویٰ درست نہیں ہے۔ آخر معاملہ حضور ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرما کر مسئلہ حل کردیا ۔ یا یھا الذین امنوا اتقوا اللہ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو وذرواصا بقی من الربوا اور سود کی بقیہ رقم چھوڑ دو ، یعنی مطالبہ نہ کرو ، اب یہ تمہارے لیے روا نہیں ہے۔ ان کنتم مومنین اگر تم فی الحقیقت مومن ہو ، یعنی اگر سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لا چکے ہو ، تو سود کا خیال قطعاً دل سے نکال دو ۔ سود خوروں کے لیے تعزیر اس آیت پاک میں سود خوروں کے لیے تعزیر کا بیان ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس ایت کی رو سے مسلمان حاکم کا فرض ہے کہ سودی کاروباری کو ختم کرنے کا انتظام کرے اور اگر سود خوری سے باز نہ آئیں تو پھر ان کے خلاف جہاد کیا جائے چناچہ ارشاد ہوتا ہے فان لم تفعلوا اور اگر تم نے ایسا نہ کیا یعنی سود لینے سے باز نہ آئے ، تو پھر فاذ نوا بحرب من اللہ ورسولہ تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لڑائی کا چیلنج سن لو تمہارے خلاف جنگ ہوگی یہاں تک کہ تم اس قبیح حرکت سے باز آ جائو ۔ وان تبتم پھر اگر تم نے توبہ کرلی ، سودی کاروبار کو ختم کردیا فلکم رء وس اموالکم تو تمہارا اصل زر تمہیں مل جائے گا ، اور اس رقم پر جو سود لگایا گیا ہے ، وہ نہیں ملے گا ، وہ چھوڑنا ہوگا ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ یہ بھی فرماتے ہیں کہ مسلمان حاکم کا فرض ہے کہ سود خور سے توبہ کرائے کہ آئندہ کے لیے سود ی کام سے قطعاً دست بردار ہوجائے ، اگر اس نے ایسا کرلیا تو معاملہ ختم ہوگیا اور اگر کوئی شخص توبہ سے انکار کرتا ہے ، تو حاکم اسے سزا دینے کا پابند ہے ، اور یہ سزا سزائے موت بھی ہو سکتی ہے ، حضرت حس بصری (رح) اور ابن سیرین (رح) جو تابعین میں سے ہیں ، وہ فرماتے ہیں کہ اگر سود خور توبہ نہ کرے تو اسلامی نظام کے تحت ایسے شخص کا سر تلوار سے قلم کردینا چاہئے۔ اب سود لینے والا دو طرح کا ہو سکتا ہے اگر ایساشخص جو سود کو حرام نہیں سمجھتا ، تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے اور مرتد سمجھاجائے گا ، کیونکہ اس نے اسلام کے ایک قطعی حکم کا انکار کیا ہے ، لہٰذا اس کے خلاف جہاد ضروری ہوجائے گا ، جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے منکری زکوٰۃ کے خلاف جہاد کیا تھا اور پھر یہ ہے کہ مرتد نے جو مال اسلام کے دور میں کمایا تھا ، وہ اس کے مسلمان ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا اور جو مال اس نے ارتداد کے بعد کمایا تھا ، وہ اسلامی بیت المال میں جمع ہوجائے گا ۔ سود خود کی دوسری حیثیت یہ ہے کہ وہ اسے حرام تو سمجھتا ہے ، مگر لے رہا ہے ایسا شخص دین کا باغی ہے اور ایسے شخص کے خلاف بھی جنگ ضروری ہے ۔ حضرت صدیق اکبر ؓ کے زمانے میں منکرین زکوٰۃ کی فرضیت کا انکار نہیں کیا تھا۔ بلکہ وہ کہتے تھے کہ ہم زکوٰۃ کا مال بیت المال میں جمع نہیں کرائیں گے ، بلکہ اپنی مرضی سے اسے خرچ کریں گے ، تو ایسے لوگوں کے خلاف حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جہاد کیا تھا۔ اسی طرح جو لوگ سود کو حرام سمجھتے ہوئے بھی اسے وصول کرتے ہیں ۔ وہ باغی ہیں اور ایک اسلامی حکومت کو ایسے باغیوں کے خلاف جہاد کا حکم ہے اور پھر باغی کا مال بھی چھین لیا جاتا ہے اگر وہ توبہ کرے تو مال واپس دے دیا جائے گا اور اگر تائب نہ ہو ، تو اس کا مال حکومت کے حق میں ضبط ہوجائے گا ۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ ارتداد کے لیے صرف فرائض کا انکار ہی ضروری نہیں بلکہ اگر کوئی شخص سنت کا بھی انکار کریگا تو مرتد ہوجائے گا ، امام محمد (رح) نے فرمایا ہے کہ اگر کسی بستی کے لوگ اذان دینا ترک کردیں تو ان کے خلاف بھی جہاد ہوگا ۔ اگرچہ اذان دینا فرض نہیں ہے بلکہ سنت ہے ، اسی طرح اگر بعض مسلمان ختنہ کرنا چھوڑ دیں اور سمجھانے پر بھی اس پر آمادہ نہ ہوں ، تو ایسے لوگ بھی باغی سمجھے جائیں گے اور اسلامی قانون کے مطابق ان کے خلاف جہاد ہوگا ۔ ختنہ کرنا بھی سنت ہے ، فرض واجب نہیں ہے مگر اس کے تارکین کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جائے گا ۔ جیسا کہ فرائض کے تارکین کے ساتھ روا ہے۔ فرمایا اگر تم اللہ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے سود کو چھوڑ دو ، تو تمہارا اصل مال تمہارا ہی ہے ، وہ تم لے سکتے ہو ، لا تظلمون ولا تظلمون نہ تم کسی پر زیادتی کرو اور نہ تمہارے ساتھ ظلم کیا جائیگا ، چناچہ حجۃ الوداع کے موقع پر حضور ﷺ نے اعلان فرما دیا کہ جاہلیت کی تمام رسومات کو اللہ تعالیٰ نے میرے پائوں کے نیچے روند دیا ہے۔ تمام سودی کا روباری ختم ہوگئے ہیں ، لہٰذا سب سے پہلے میں اپنے خاندان کے لوگوں کے سودی کاروبار ختم کرتا ہوں ۔ حضرت عباس ؓ کا سودی کاروبار بڑا وسیع تھا۔ آپ نے یکسر ختم کردیا اور سود کا ایک پیسہ تک لینے کی اجازت نہیں دی فرمایا کہ اپنی اصل رقم لے سکتے ہوتا کہ تمہیں بھی نقصان نہ ہو اور سود لے کر دوسروں کو بھی نقصان مت پہنچائو۔ تنگدست مقروض کیلئے مہلت اس کے بعد مقروض سے متعلق ایک خصوصی مسئلہ بیان کیا گیا ہے وان کان ذوعسرۃ اور اگر مقروض تنگدست ہے وعدہ کے مطابق قرض واپس نہیں کرسکتا فنظرہ الی میسرۃ تو اسے آسودگی تک مہلت دے دینی چاہئے۔ محدثین اور فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ آیت کی رو سے تنگ دست کو مہلت دینا واجب ہوجاتا ہے اور اگر مقروض جان بوجھ کو ٹا ل مٹول کرتا ہے ، تو وہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے ، کیونکہ سرمایہ موجود ہونے کے باوجود ٹال مٹول کرنا اور قرض کی ادائیگی سے اعراض کرنا ظلم کے مترادف ہے ، اور ظالم شخص تعزیر کا مستحق ہوتا ہے ، لہٰذا اگر شبہ ہو کہ مقروض کے پاس مال موجود ہے مگر ادا نہیں کرتا تو قرض خواہ عدالتی چارہ جوئی کرسکتا ہے اور حاکم ایسے مقروض کو قید میں ڈال سکتا ہے اگر اس کے پاس مال موجود ہے تو قرضہ ادا کر کے رہائی حاصل کرلے گا اور اگر عدالت کو یقین ہوجائے کہ یہ شخص قرضہ لوٹانے کے قابل نہیں ہے تو اسے مہلت دی جاسکتی ہے۔ معاف کردینا بہتر ہے فرمایا وان تصدقوا خیر لکم اگر مقروض اس قدر مفلوک الحال ہے کہ قرضہ ادا کرنے کے قابل نہیں ، تو ایسی حالت میں قرضہ بالکل معاف کردینا ہی بہتر ہے۔ ان کنتم تعلمون اگر تم کچھ جانتے ہو۔ بخاری اور مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے من انظر معسرا جس نے تنگ دست مقروض کو مہلت دی او وضع عنہ یا اسے بالکل معاف ہی کردیا ، تو فرمایا نبی ﷺ نے کہ قیامت کے دن ایسا شخص اللہ تعالیٰ کے عرش کے سائے میں ہوگا ۔ اور وہ ایسا دن ہوگا جس دن عرش کے سائے کے سوا کوئی سایہ ہیں ہوگا ۔ بخاری شریف میں ہے حضور ﷺ نے کسی سابقہ امت کے ایک شخص کا واقعہ بیان فرمایا ہے کہ ایک شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہوگا جس کے پاس کوئی نیکی نہ ہوگی ، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔۔۔۔۔۔ دیکھو اس نے کوئی نیکی کی ہے ۔ دریافت کرنے پر وہ شخص عرض کریگا کہ میرے پاس نیکی تو کوئی نہیں ہے البتہ ایک بات یہ ہے کہ میں تجارت کرتا تھا نوکر چاکر تھے۔ لوگ مجھ سے قرضہ بھی لیتے تھے۔ میں نے نوکروں کو حکم دے رکھا تھا کہ تنگدست کو مہلت دے دیا کرو ، ایسے شخص پر سختی نہ کیا کرو ۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے فرمائے گا نحن احق ہم در گزر کرنے کے زیادہ لائق ہیں ، یہ شخص دنیا میں تنگدستوں سے در گزر کرتا تھا ، لہٰذا آج میں نے اسے معاف کردیا ، اسی لیے فرمایا کہ اگر تم قرضہ معاف کر دو ، تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے ، اگر تم اس عمل کی حقیقت کو جانتے ہو۔ حکومت وقت کی ذمہ داری سودی نظام کی بیخ کنی کے لیے حکومت وقت پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ مولاناعبید اللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ جو حکومت سودی نظام کی سرپرستی کرتی ہے ، وہ مٹا دینے کے قابل ہے ورنہ لوگوں کو کبھی سکو نصیب نہیں ہو سکتا ۔ فرماتے ہیں کہ زمین میں دو چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔ ایک اللہ وحدہٗ لا شریک کی عبادت اور دوسرے سود کا قلع قمع ، سودی نظام کا قیام یہودیت کی سرپرستی ہے۔ ناجائز مافع خوری مخرب اخلاق چیز ہے اور قابل مذمت ہے۔ اسلام نے اس کو مٹانے کا سختی سے حکم دیا ہے ، مگر آج کی دنیا میں کتنے ملک ہیں جو سودی نظام سے پاک ہیں ؟ ہر ملک کے ہر بینک میں سودی کا روبار ہو رہا ہے ۔ حالانکہ مسلمان ممالک میں غیر مسلموں کو بھی سودی کاروبار کی اجازت نہیں ، غیر مسلموں کے ہاں شراب نوشی جائز ہے ، لہٰذا وہ پی سکتے ہیں ، مگر اسلامی حکومت میں اس کی تجارت نہیں کرسکتے ، اسی طرح وہ سور کا گوشت حلال سمجھ کر کھا سکتے ہیں ، مگر سود حرام ہے ، وہ نہیں لے سکتے ، یہ اتنی بری چیز ہے ۔ بہر حال سود کے متعلق بعض تفصیلات بیان ہوگئیں ، کچھ مزید باتیں سورة آل عمران اور سورة روم میں بھی آئیں گی۔ آخرت میں محاسبہ سود کے مسائل بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ اگر ان احکام پر عمل نہ کرو گے ۔ تو واتقوا یوماً ترجعون فیہ الی اللہ اس دن سے ڈر جائو ، جس میں تم اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جائو گے یعنی قیامت کا دن آنے والا ہے۔ وہاں پر ہر شخص کا محاسبہ ہوگا ثم تو فی کل نفس ما کسبت پھر ہر نفس کو اس کے کئے کا بدلہ دیا جائیگا وھم لا یظلمون اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا ۔ مفسرین کرام (رح) فرماتے ہیں کہ قرآن پاک کی سب سے آخر میں نازل ہونے والی یہی آیت ہے۔ اس کے بعد کوئی آیت نازل نہیں ہوئی ، اس سے پہلے حضور ﷺ کی وفات سے تین ماہ قبل حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ اور جمعہ کے دن الیوم اکملت لکم دینکم والی آیت نازل ہوئی تھی ، مگر یہ آیت واتقوا یوما ۔۔۔۔ سب سے آخر میں نازل ہوئی ۔ بعض روایات کے مطابق اس ایت کے نزول کے بعد آپ اس دنیا میں 23 دن تک تشریف فرما رہے ۔ شاہ رفیع الدین (رح) کی تفسیر کے مطابق آپس صرف تین دن بعد خالق حقیقی سے جا ملے ۔ بہر حال حجۃ الوداع والی آیت کے ذریعہ اللہ نے تکمیل دین کا اعلان فرمایا اور پھر اس آخری آیت میں محاسبہ کی یاد دہانی کرا کے وحی کا سلسلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کردیا ۔ اس آیت کو سورة بقرہ میں اسی مقام پر رکھنے کا حکم بھی خود اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے دیا۔