Ayahs 2:102–103شیطان کا اتباع : ان آیات میں بنی اسرائیل کی انتہائی پستی اور ان کے انحطاط کا ذکر ہو رہا ہے گزشتہ آیت میں یہ بات بیان کی گئی تھی کہ بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کو اس طور پر پس پشت ڈال دیا کہ اس سے بالکل لاتعلق ہوگئے ۔ گویا کہ وہ جانتے ہی نہیں کتاب اللہ کی تلاوت اور اس پر عمل درآمد کی بجائے “ واتبعوا ما تتلوا الشیطین علی ملک سلیمن ” انہوں نے اس چیز کی پیروی کی جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے میں جنوں اور انسانوں کا اختلاط ہوتا تھا۔ کیونکہ جن بھی آپ کے ماتحت تھے۔ لہٰذا اس دور میں جو کلام یا دیگر چیزیں جن پڑھتے تھے۔ بنی اسرائیل نے ان کا تباع کیا۔ اس طرح سحر یا جادو انسانوں تک پہنچ گیا۔ اسی بات کو اس آیت میں یوں بیان فرمایا کہ بنی اسرائیل شیاطین یا جنوں کی تلاوت کہ وہ چیزوں کی پیروی کرنے لگے۔ گویا جادو میں ملوث ہوگئے اور کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دیا۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر جادو گر ہونیکا الزام : جادو کو شیطانی کھیل جان کر کھیلتے رہتے تو اور بات تھی۔ مگر بنی اسرائیل نے ستم بالائے ستم یہ کیا کہ اس جادو کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف منسوب کردیا۔ حالانکہ سحر پر اعتقاد رکھنا اور اس پر عمل کرنا صریحا کفر ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی برات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا “ وما کفر سلیمن ” سلیمان (علیہ السلام) نے کفر نہیں کیا۔ یعنی انہوں نے یہ جادو وغیرہ تمہیں نہیں سکھایا۔ “ ولکن الشیطن کفروا ” بلکہ یہ تو شیطانوں نے کفر کا ارتکاب کیا۔ جنہوں نے لوگوں کو جادو سکھایا ہے۔
سحر کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف منسوب کرنا بنی اسرائیل کا قبیح فعل ہے وہ تو اللہ تعالیٰ کے نبی اور صاحب شریعت رسول تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جنوں اور شیاطین کو آپ کے مطیع کردیا تھا۔ اور ہوا کہ آپ کے لیے مسخر کردیا تھا۔ “ فسخرنالہ الریح ” آپ ان چیزوں سے حسب منشا کام لیتے تھے۔ وہ کیسے جادو سکھا سکتے تھے۔ امام بن جریر (رح) نے ایک روایت (1 ۔ تفسیر طبری ج 1 ص 451) بیان کی ہے۔ “ قال بعض احبار الیھود ” یہودیوں کے بعض علماء نے کہا “ الا تعجبون من محمد ” اے لوگو ! تم محمد پر تعجب نہیں کرتے۔ “ یزعم ان ابن داؤد کان نبیا ” جو یہ کہتے ہیں کہ ابن داؤد (سلیمان علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے نبی تھے حالانکہ “ ما کان الا ساحرا ” وہ تو جادوگر تھے۔ گویا یہودیوں کا حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے متعلق یہ اعتقاد تھا۔ اس لیے فرمایا کہ سلیمان (علیہ السلام) نے کفر نہیں کیا بلکہ شیاطین نے کفر کیا۔ جو کہ “ یعلمون الناس السحر ” لوگوں کا جادو کا علم سکھاتے تھے۔ اس بات کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف منسوب کرنا صریح کفر ہے۔
جادو کے ذرائع : مفسرین کرام فرماتے ہیں (1 ) کہ جادو دو ذرائع سے دنیا میں آیا۔ اس کا پہلا ذریعہ تو جنات ہیں۔ یعنی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے میں جادو شیاطین سے انسانوں میں رائج ہوا۔ جادو کا دوسرا ذریعہ ہاروت اور ماروت دو فرشتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے آزمائش کے لیے دنیا پر بھیجا۔ اسی کے متعلق فرمایا “ وما انزل علی الملکین بابل ھاروت وما روت ”
ہاروت اور ماروت کون تھے : عام مفسرین (2 ۔ معالم التنزیل ج 1 ص 42 ، ابو السعود ج 1 ص 108 ، تفسیر عزیزی پارہ 1 ص 371) نے یہی لکھا ہے کہ ہاروت اور ماروت دو فرشتے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے آزمائش کے لیے بابل کے مقام پر اتارا ۔ یہ بابل شہر وہی ہے جو کلدانیوں کا دار السلطنت اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی جائے پیدائش ہے۔ وہاں سے ہجرت کرکے آپ شام اور فلسطین پہنچے۔ اور پھر حجاز میں خانہ کعبہ کی تعمیر کی۔ بہرحال لفظ “ ملکین ” سے مراد دو فرشتے ہی ہیں کیونکہ “ ملک ” فرشتے کو کہتے ہیں ۔
تفسیر روائتوں میں آتا ہے (3 ۔ تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 138 ، معالم التنزیل ج 1 ص 42) کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) یا کسی اور نبی کے زمانہ میں دنیا پر معصیت عام تھی لوگ فسق و فجور میں مبتلا تھے تو آسمان پر فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور شکایت کی کہ مولا کریم ! تو نے یہ کیسی مخلوق پیدا کی ہے جو اس قدر گناہ میں ملوث ہوچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ کہ میں نے انسان میں مختلف قومیں پیدا کی ہیں جیسے قوت شہوانیہ ، قوت بہیمیہ اور قوت غضبیہ وغیرہ وغیرہ اور ان کے ساتھ ساتھ نیکی کرنے کی طاقت بھی عطا کی ہے۔ اس لیے تم دیکھتے ہو کہ کچھ لوگ اگر گناہ کی زندگی بسر کرتے ہیں ۔ تو کچھ نیکوکار بھی ہیں۔ کیونکہ ان کے اندر ساری قومیں موجود ہیں۔ برخلاف اس کے فرشتوں کو میں نے قوت ملکوتی سے نوازا ہے۔ اگر تم تجربہ کرنا چاہتے ہو تو میں تم کو زمین پر بھیجتا ہوں تم اپنے میں سے دو فرشتے منتخب کرو۔ پھر دیکھیں گے کہ وہ کس طرح گناہ سے بچتے ہیں۔ الغرض فرشتوں نے اس آزمائش کے لیے ہاروت اور ماروت کو منتخب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں قوت شہوانیہ بھی رکھ دی۔ اور پھر انہیں بابل کے مقام پر اتار دیا۔ انہیں خاص طور پر نصیحت کی گئی کہ برائی سے باز رہنا۔ زنا اور دیگر معصیت سے اجتناب کرنا اور عدل و انصاف سے وقت گزارنا۔
ایک دفعہ ایسا واقعہ پیش آیا کہ ایک خوبصورت عورت ایک چھکڑے پر سوار جا رہی تھی۔ اس نے کسی ضرورت کے تحت منہ سے کپڑا ہٹایا تو اسے دیکھ کر فرشتے بےقابو ہوگئے۔ یہ ان کی آزمائش کا مرحلہ تھا۔ انہوں نے اس عورت سے فرصت میں ملاقات کی خواہش کی۔ جسے اس نے منظور کرلیا۔ بوقت ملاقات فرشتوں نے اس سے نفسانی خواہش کی تکمیل کی درخواست کی اس عورت نے اس خواہش کی تکمیل کے لیے یہ شرط پیش کی کہ مجھے وہ اسم اعظم سکھا دو جسے پڑھ کر تم آسمانوں پر چلے جاتے ہو اور پھر واپس آجاتے ہو۔ فرشتوں نے اسم اعظم اس عورت کو سکھادیا۔ پھر اس نے کہا کہ میرے ساتھ یہ لڑکا ہے۔ اس کو قتل کر دو ۔ ورنہ یہ ہمارا راز فاش کر دے گا۔ فرشتوں نے ایسا کرنے سے معذرت کی۔ عورت نے کہا۔ اچھا یہ شراب ہی پی لو یہ بڑی لذیذ چیز ہے۔ فرشتوں نے شراب پی لی۔ پھر نشے میں آکر انہوں نے لڑکے کو بھی قتل کردیا اور زنا کے مرتکب بھی ہوئے۔ گویا سارے معاصی میں مبتلا ہوگئے۔ عورت تو اسم اعظم پڑھ کر اوپر چلی گئی۔ کہتے ہیں کہ زہرہ ستارے میں جا کر نابود ہوگئی اور فرشتے سزا میں مبتلا ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا کہ ان گناہوں کی سزا دنیا میں بھگتا چاہتے ہو یا آخرت میں انہوں نے دنیا کی سزا کو پسند کیا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی شکلیں مسخ کرکے انہیں کسی تاریک اور عمیق کنوئیں میں الٹا لٹکا دیا۔ آج تک وہ اسی میں لٹکے ہوئے ہیں ان کے نیچے سے دھواں اٹھ رہا ہے۔ اور وہ سخت اذیت پا رہے ہیں۔ جب قیامت آئے گی۔ تو اس وقت وہ اس عذاب سے نجات پائیں گے۔ دیگر اسرائیلی روایتوں کی طرح یہ بھی ایک اسرائیلی روایت ہے تاہم اس کی سچائی پر یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔
ہاروت اور ماروت کی عینی شہادت : امام ابن منذر (رح) نے ایک واقعہ نقل کیا ہے (1 ۔ تفسیر عزیزی پارہ 1 ص 373) کہ ایک موقع پر ایک بوڑھا آدمی عبد الملک بن مروان کے ساتھ تکئے پر بیٹھا تھا۔ نووارد نے تعجب کیا۔ کہ یہ کون آدمی ہے۔ جو خلیفہ کے ساتھ بیٹھا ہے تو انہوں نے بتایا۔ کہ یہ آدمی ہاروت ماروت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آیا ہے۔ لہٰذا اس کی عزت افزائی کی گئی ہے۔ اس شخص نے آگے بڑھ کر بزرگ آدمی کو سلام کیا۔ اور عرض کیا حضرت ہاروت ماروت سے ملاقات کا کچھ حال مجھے بھی سناؤ۔ اس پر اس شخص کے آنسو جاری ہوگئے۔ اور اس نے واقعہ یوں سنانا شروع کیا۔ کہ بھائی ! میں ابھی بچہ تھا۔ گھر میں مال و دولت کی فراوانی تھی۔ جسے میں فراخ دلی سے خرچ کرتا۔ جب باپ فوت ہوگیا تو ماں سے دولت حاصل کرتا اور خوب اڑاتا۔ ایک دن میں نے ماں سے دریافت کیا۔ کہ ماں یہ تو بتائیں کہ ہمارے پاس یہ مال و دولت کہاں سے آیا تھا۔ جو اتنا خرچ کرنے سے بھی کم نہیں ہوتا۔ ماں نے کہا ، بیٹا تم جتنی چاہو دولت لٹاؤ یہ ختم ہونے والی نہیں ہے۔ پھر اس نے مجھے دولت سے بھرے ہوئے کمرے دکھائے۔ لڑکے میں شعور پیدا ہوچکا تھا۔ اس نے دوسرا سوال کیا کہ میرے باپ نے یہ مال کس طریقے سے کمایا تھا۔ ماں نے بتایا کہ تیرا باپ ساحر تھا اور اس نے یہ ساری دولت سحر کی وجہ سے کمائی لڑکے کو خیال آیا کیوں نہ میں بھی وہی چیز سیکھ لوں جس کی وجہ سے میرے باپ نے ا تنا مال پیدا کیا۔ اس نے سوچا کہ سحر کا علم اس کے باپ نے اپنے کسی شاگرد کو بھی سکھایا تھا۔ اس کا پتہ کرکے اس سے یہ علم سیکھنا چاہئے۔ چناچہ تلاش کرنے پر اسے ایک شخص مل گیا۔ جو اس کے باپ کا شاگرد تھا۔ لڑکے نے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو وہ کہنے لگا۔ یہ بڑا خطرناک علم ہے۔ اسے نہ ہی سیکھو تو بہتر ہے لڑکے نے اصرار کیا تو اس نے کہا کہ اچھا اگر تم ضرور ہی یہ علم سیکھنا چاہتے ہو تو میرے پیچھے پیچھے آجاؤ۔ مگر یاد رکھو جہاں ہم جا رہے ہیں۔
وہاں جاکر خدا کا نام نہ لینا۔
لڑکا بیان کرتا ہے کہ میں اپنے باپ کے شاگرد کے پیچھے ہوگیا۔ حتیٰ کہ ہم ایک غار پر پہنچے اور اس میں اتر گئے۔ ہم تین سو سیڑھیاں نیچے اترے تو وہاں ایک کنواں نظر آیا۔ کنوئیں کے اندر دو شخص نظر آئے۔ جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے الٹے لٹک رہے تھے۔ ان کی شکلیں عجیب و غریب تھیں۔ ان کی آنکھیں ڈھال کی طرح بڑی بڑی اور بڑی چمکدار تھیں۔ یہ منظر دیکھ کر میرے دل میں خوف پیدا ہوا۔ اور میری زبان سے بےساختہ کلمہ لا الہ الا اللہ نکل گیا۔ یہ کلمہ سن کر وہ دو شخص اور زیادہ مضطرب ہوئے۔ میں پھر گھبرایا اور میرے منہ سے پھر وہی کلمہ نکلا۔ دو تین دفعہ ایسا ہی ہوا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا۔ کہ تو کون ہو ؟ میں نے ان سے اپنا تعارف کرایا۔ پھر میں نے ان سے پوچھا کہ تم کون ہو ؟ اور اس حال میں کس وجہ سے ہو ؟ اس پر انہوں نے بتایا کہ ہم ہاروت اور ماروت ہیں۔ اور یہاں سزا بھگت رہے ہیں۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ تم کس امت میں ہو تو میں نے بتایا کہ نبی آخر الزمان ﷺ کی امت میں ہوں۔ انہوں نے دریافت کیا کہ کیا آخری نبی کا ظہور ہوگیا ہے ؟ میں نے اثبات میں جواب دیا۔ انہوں نے کچھ علامتیں بھی دریافت کیں جو میں نے ان کو بتائیں۔ وہ دونوں بعض علامات پر خوش ہوئے۔ اور بعض پا ناراض ہوئے۔ میں نے اس کی و کہ پوچھی تو کہنے لگے کہ ہم ان علامات پر خوش ہوئے ہیں۔ جو قرب قیامت سے متعلق ہیں کیونکہ قیامت برپا ہونے پر ہم اس عذاب سے رہائی پالیں گے۔
الغرض ! وہ لڑکا اللہ تعالیٰ کا نام لینے کی وجہ سے سحر سے تو محروم ہوگیا ۔ تاہم اسے حقیقت معلوم ہوگئی اور وہ ہاروت ماروت کا عینی شاہد بن گیا۔
ہاروت ماروت کے واقعہ سے انکار : بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر بیضاوی ج 1 ص 71 ، مظہری ج 1 ص 107 ، طبری ج 1 ص 452) “ وما انزل علی الملکین ببابل ہاروت وماروت ” میں لفظ “ ما ” نافیہ ہے یعنی بابل کے مقام پر ہاروت ماروت پر کوئی چیز نہیں اتاری گئی۔ یہ سب جھوٹے قصے ہیں۔ جو بیان کیے جاتے ہیں۔ یہ ان مفسرین کی ذاتی تحقیق ہے۔
بعض اصحاب یہ بھی کہتے ہیں (2 ۔ بیان القرآن ج 1 ص 246) کہ ہاروت ماروت کا سارا قصہ کہانی محض ہے چناچہ بشار ابن برد شاعر سے کسی نے پوچھا کیا آپ نے ال سلیمان سادات خاندان کے متعلق بھی کوئی قصیدہ لکھا ہے ؟ یہ اونچے درجے کا شاعر تھا۔ کہنے لگا۔ اس خاندان کے متعلق کچھ زیادہ تو نہیں لکھا۔ صرف یہ دو شعر کہتے ہیں (1 ۔ الکامل المبرد ج 3 ص 112)
؎ دینار ال سلیمان ودرھمھم کبابلیین حقا بالعفاریت
لایرجیان ولا یرجی نوالھما کما سمعت بھاروت وماروت
ال سلیمان بڑے کنجوس لوگ ہیں۔ ان کے درہم و دینار ایسے ہیں۔ جیسے دو بابلیوں کے اردگرد بہت سے بھوت جمع ہوں۔ اور وہ کسی کو نظر بھی نہ آئیں۔ اس طرح ال سلیمان کا مال و دولت بھی کسی کو نظر نہیں آتا۔ نہ ان سے کسی عطیے کی توقع ہے۔ اور نہ ان کے درہم و دینار کو دیکھنے کی امید۔ ان کی دولت ایسے ہی ہے جیسے تم نے ہاروت ماروت کا نام تو سن رکھا ہے۔ مگر ان کی حقیقت کچھ نہیں ۔ غرضیکہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں۔ جو ہاروت ماروت کے قصے کو افسانہ نے زیادہ حیثیت نہیں دیتے۔
سحر کیا ہے : تاہم اکثر مفسرین کہتے ہیں (2 ۔ تفسیر کبیر ج 3 ص 220 ، 221) کہ ہاروت ماروت فرشتے تھے۔ اگرچہ
زہرہ والا واقعہ مصدقہ نہیں ہے۔ مگر ان فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے سحر کا علم دیکر نازل کیا تھا۔ تاکہ سحر اور معجزے میں فرق قائم کیا جاسکے۔ لغوی اعتبار سے سحر کا معنی لطیف ، باریک یا مخفی شئ ہے۔ سحر میں چونکہ کوئی چیز ظاہری طور پر نظر نہیں آتی۔ اس لحاظ سے اسے سحر کہتے ہیں
سحر کا دوسرا معنی غذا ہے۔ جب انسان کوئی بھی گذا کھاتا ہے۔ تو ہضم ہو کر باریک باریک رگوں کے ذریعے جسم کے ہر حصہ میں پہنچتی ہے۔ یہ لطیف بھی ہوتی ہے کہ نظر نہیں آتی۔ گویا اس میں اخفاء اور پیچیدگی بھی پائی جاتی ہے۔ زمانہ جاہلیت کے ایک مشہور شاعر امرء القیس کا کہنا ہے
؎ ارنا موضعین لا مرغیب ونسحر بالطعام وبالشراب
ہم دیکھتے ہیں کہ ہم اپنی سواریاں دوڑا رہے ہیں۔ مگر کسی ایسی منزل کی طرف جس کا ہمیں علم نہیں ۔ یعنی پردہ غیب میں ہے اور ادھر ہم پر کھانے پینے کے ذریعے سغر کیا جاتا ہے۔ یعنی خوراک کھا کر ہم غافل ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ جسم میں تیز رفتاری سے سواریاں دوڑا رہے ہیں۔ جسم کی مشینری اتنی تیزی سے کام کر رہی ہے گویا ہزاروں میل کی رفتار سے چلنے والے ہوائی جہازوں سے بھی زیادہ تیز رفتاری سے لیکن یہ سب کچھ پردہ غیب میں ہے۔
اسی طرح ایک شخص یوں کہتا ہے۔
؎ فان تسئلینا فیم نحن فاننا عصافیر من ھذا الانام المسحر
اگر تو ہم سے پوچھے کہ ہم کس حال میں ہیں ۔ تو میں کہوں گا کہ ہم تو سحر زدہ مخلوق میں سے چڑیوں کی مانند ہیں۔ جو کھانے پینے کے ذریعے اڑتے پھرتے رہتے ہیں۔
عربی زبان میں سحر کا ایک معنی پھیپھڑا بھی ہوتا ہے۔ وہ بھی مخفی ہوتا ہے۔ نظر نہیں آتا۔ لہٰذا اس لحاظ سے بھی سحر میں اخفا کا معنی پایا جاتا ہے۔
کیا ہاروت ماروت انسان تھے ؟ بعض فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر کبیر ج 3 ص 218) کہ ہاروت ماروت فرشتے نہیں بلکہ انسان تھے اور نیک آدمی تھے ان کے متعلق رجلین صالحین کے لفظ آتے ہیں۔ وہ بابل میں رہتے تھے اور سحر کا علم جانتے تھے۔ تاہم جب وہ لوگوں کو یہ علم سکھاتے تھے۔ تو انہیں خبردار بھی کرتے تھے کہ یہ علم اچھا نہیں ہے۔ اس سے بچ جاؤ تو بہتر ہے۔ ورنہ ایمان ضائع کر بیٹھو گے۔ کیونکہ سحر پر اعتقاد رکھنا اور اس پر عمل کرنا کفر میں داخل ہے۔ تاہم اس علم کے نزول میں کوئی خاص قباحت نہیں ہے۔ یہ ایک علم ہے۔
بعض کہتے ہیں (2 ۔ تفسیر کبیر ج 3 ص 318) کہ ہاروت ماروت “ ملکین ” (فرشتے) نہیں بلکہ ” ملکین ” یعنی بادشاہ تھے اور بڑی سلطنت کے مالک تھے۔ ان کے پاس یہ علم تھا ۔ ان کا خیال یہ ہے کہ “ ملک ” کا اطلاق فرشتوں کے علاوہ نیک آدمیوں پر بھی ہوتا ہے۔ جیسے سورة یوسف میں ملک کا لفظ یوسف (علیہ السلام) کیلئے بھی بولا گیا ہے “ ان ھذا الا ملک کریم ” وہ انسان نہیں بلکہ بزرگ فرشتہ ہے۔
کیا سارا جادو کفر ہے : امام ابو منصور تریدی (رح) اور ابو الحسن اشعری (رح) تیسری چوتھی صدی کے بلند پایہ
امام گزرے ہیں۔ یہ امام اعظم (رح) کے شاگردوں کے شاگرد ہیں۔ آپ بڑے متکلم ہے اور علم کلام میں آپ کو بڑا مرتبہ حاصل ہے۔ امام ابو منصور ما تریدی (رح) فرماتے ہیں کہ سحر کو مطلقا کفر کہنا درست نہیں کیونکہ اس کی بعض قسمیں کفر ہیں۔ بعض فسق اور بعض بدعت ۔ مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) بھی اپنی تفسیر بیان القران میں فرماتے ہیں (1 ۔ بیان القرآن ج 1 ص 50 مطبوعہ محتبائی دہلی) کہ سحر اسی صورت میں کفر ہے جب کہ اس میں کفر یہ یا شرکیہ کلمات پائے جائیں مثلاً استعانت بالشیاطین ہو یا مافوق الاسباب ذرائع سے مدد طلب کی جائے۔ تو ایسا سحر کفر ہوگا۔ کیونکہ غائبانہ استعانت صرف اللہ تعالیٰ سے روا ہے۔ کسی دوسرے سے طلب نہیں کی جاسکتی۔ “ ایاک نعبدو وایاک نستعین ” کا یہی مطلب ہے کہ مافوق الاسباب اعانت اسی ذات خداوندی سے ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ایسی استعانت خواہ شیاطین سے ہو ۔ کواکب سے ہو اصنام یا بتوں سے مطلوب ہو۔ سب شرک میں داخل ہے۔ ارواح خبیثہ کی تعظیم ، غیر اللہ کے نام کی نذر ماننا یا غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنا یہ بھی کفر و شرک میں داخل ہے۔ اگر ایسا کرے گا تو یقیناً کفر کا مرتکب ہوگا۔
اگر سحر میں پڑھے جانے والے کلمات شرکیہ نہ ہوں بلکہ مباح یا جائز کلام ہو۔ تو پھر اس کی حیثیت مختلف ہوگی۔ اگر اس سحر کے ذریعے کوئی خلاف شرع کام مطلوب ہے۔ کسی کی ایذا رسانی مقصود ہے تو ایسی صورت میں یہ سحر فسق اور معصیت ہوگا۔ اور اگر سحر کے کلمات بھی مباح ہیں ۔ شرکیہ نہیں ہیں۔ اور اس سے غرض بھی فاسد نہیں ہے۔ خلاف شرع نہیں ہے تو اس صورت میں سحر تو بہرحال ناجائز ہوگا۔ مگر اسے زیادہ سے زیادہ بدعت کا دراہ دے سکتے ہیں۔ اسے یہ کام نہیں کرنا چاہئے۔ تاہم یہ کفر س شرک کے زمرہ میں نہیں آئے گا اور اگر کلمات مباح ہیں۔ ایذا رسانی بھی مقصود نہیں اور مطلوبہ کام بھی جائز ہے تو اس کو سحر نہیں کہیں گے۔ بلکہ اس کا عام اصطلاح میں عملیات اور عزیمت کہتے ہیں۔ جھاڑ پھونک ، گنڈا تعویز وغیرہ اسی ضمن میں آتے ہیں۔
جادوگر کی سزا : فقہاء اور محدثیں کرام فرماتے ہیں (2 ۔ احکام القرآن للجصاص ج 18 ص 15 کواکب امدری ج 2 ص 405) کہ اگر جادو کے نتیجے میں کسی کی جان ضائع ہوجائے تو اس کے بدلے میں ساحر کو قتل کردینا چاہئے اگر سحر کی وجہ سے جان بچ گئی ہے۔ کوئی دوسرا نقصان ہوا ہے۔ تو نقصان کی مناسبت سے ساحر کو تعزیری سزا دی جائے گی۔ ساحر کو پکڑنا مشکل کام ہے۔ کیونکہ جب تک مکمل ثبوت نہ ہو۔ کسی پر جادو کرنے کا الزام نہیں لگایا جاسکتا۔ تاہم اگر ایسا ممکن ہو یا ساحر خود اقرار کرلے تو پھر مذکورہ سزا کا مستوجب ہوگا۔ بشرطیکہ حکومت بھی اسلامی ہو۔
امام ابوحنیفہ (رح) کے مسلک کے مطابق اگر ساحرہ عورت ہو تو اس کو قتل نہیں کیا جائے گا (1 ۔ احکام القرآن جصاص ج 1 ص 50) بالکل اسی طرح جس طرح مرتدہ عورت کو قتل کی سزا نہیں دی جاتی بلکہ اسے قید میں رکھا جاتا ہے۔ اسی طرح ساحرہ کو بھی قید کردیا جائے گا۔ البتہ بعض ائمہ عورت کو بھی قتل کرنے کے حق میں ہیں۔ اگر انسان جان کی تلف سے کم تر نقصان ہوا ہے۔ یعنی محض ایذا رسانی کا ارتکاب ہوا ہے۔ تو ساحرہ کو وہی سزا دی جائے گی۔ جو ڈکیتی کے مقدمہ میں دی جاتی ہے۔ قرآن پاک نے ڈاکو کے لیے چار قسم کی سزائیں مقرر کی ہیں۔ یعنی سولی پر لٹکانا ، قتل کرنا۔ الٹے سیدھے ہاتھ اور پاؤں کاٹنا ، اور حبس یعنی قید میں ڈال دینا۔ لہٰذا ساحر کو بھی اس کے جرم کے مطابق اسی قسم کی سزا دی جائے گی۔
میاں بیوی میں جدائی : بہرحال اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا “ وما یعلمن من احد حتی یقولا انما نحن فتنۃ فلا تکفر ” وہ دو فرشتے ہاروت اور ماروت جب کسی انسان کو جادو کا علم سکھاتے تھے۔ تو اسے واضح کردیتے تھے کہ ہم تو آزمائش ہیں۔ تم یہ کفر نہ کرو۔ اگر ایسا کروگے تو ایمان ضائع کر بیٹھو گے۔ مگر اس کے باوجود لوگ ان سے جادو کا علم سکھتے تھے۔ جن میں اہل کتاب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ “ فیتعلمون منہما ” اور وہ ان فرشتوں سے ایسی چیزیں سیکھتے تھے “ ما یفرقون بہ بین المرء وزوجہ ” جن کے ذریعے وہ میاں بیوی میں جدائی ڈال دیتے تھے۔ یہ ایسا برا عمل ہے۔ جس پر شیطان بہت زیادہ خوش ہوتا ہے (2 ۔ مسلم ج 2 ص 376) اور جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہے۔ تاہم سحر بھی ایک فن ہے۔ جس طرح دیگر فنون ہیں جیسے سائنس ، ٹیکنالوجی ، انجیرنگ وغیرہ وغیرہ۔
نافع اور ضار علم : فرمایا اگرچہ جادو ایذا رسانی کا ذریعہ ہے ۔ مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اٹل ہے۔ کہ “ وما ھم بضارین بہ من احد الا باذن اللہ ” ایسا عمل کرنے والے ساحر اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر ازخود کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ تاہم جادو کرنا۔ اس پر یقین رکھنا۔ چونکہ قباحت سے خالی نہیں۔ یہ مضر ہے ۔ مفید نہیں۔ اس لیے حضور ﷺ کی دعا ہے (1 ۔ نسائی ج 2 ص 321) “ اللھم انی اعوذ بک من علم لا ینفع ” اے اللہ ! میں ایسے علم سے پناہ مانگتا ہوں۔ جو نفع مند نہ ہو آپ فرمایا کرتے تھے۔ “ علمنی ما ینفعنی ” اے اللہ ! مجھے وہ علم عطا کر جو نفع بخش ہو۔ دنیا میں بھی اس سے فائدہ اٹھاؤں اور آخرت میں بھی فائدہ مند ہو۔ اسی بات کو فرمایا “ ویتعلمون ما یضرھم ولا ینفعھم ” یہ لوگ ایسا ہی علم سیکھتے ہیں۔ جو نفع کی نجائے انہیں نقصان پہنچاتا ہے
فرمایا “ ولقد علموا لمن اشترہ ما لہ فی الاخرۃ من خلاق ” یہ لوگ خوب جانتے ہیں کہ انہوں نے اس علم کے ذریعے کیا خریدا ہے۔ یہ لوگ یاد رکھیں کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ ظاہ رہے کہ آخرت میں ساحر کو اس علم کا کیا فائدہ ہوگا وہ تو الٹا عذاب میں مبتلا ہوگا۔ خاص طور پر اگر اس نے ایسا جادو کیا ہے۔ جس میں کفر و شرک پایا جاتا ہے۔ تو وہ یقیناً آخرت سے محروم رہے گا۔ آگے فرمایا “ ولبئس ما شروا بہ انفسھم ” انہوں نے بہت ہی بری چیز کے بدلے میں اپنی جانوں کو بیچا ہے۔ ان کا یہ سودا بہت ہی خسارے کا سودا ہے۔ “ لو کانوا یعلمون ” اگر ان میں کچھ بھی سمجھ ہوتی تو ایسا کام نہ کرتے۔
یہودیوں سے موافقت : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر یہودیوں کی بد اعمالیوں کا ذکر فرمایا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس وقت امت محمدیہ کا حال بھی ان سے زیادہ مختلف نہیں ہے جب لوگ اللہ تعالیٰ کے دین سے غافل ہوجائیں۔ جہاد فی سبیل اللہ کو ترک کردیں۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے تہی دامن ہوجائیں۔ تو پھر پستی کی طرف ہی جانا ہوگا۔ آج انڑوپاک میں دیکھ لیں۔ دیگر ممالک پر نظر ڈال لیں۔ ہر طرف گندگی پھیلی ہوئی ہے۔ کتاب الٰہی کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے اور دین کے لیے سعی وجہد کو ترک کردیا گیا ہے۔ دین کا دارو مدار عملیات پر رہ گیا ہے اس کام کے لیے یہ عمل کرلو۔ اس کام کے لیے وہ وظیفہ کافی ہے علم و عمل ختم ہوچکا ہے۔ علمائے حق کا ایک مدہم سا دیا ٹمٹما رہا ہے۔ ورنہ ساری دنیا کفر و ضلالت کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی ہے۔
اہل کتاب کی طرح ہماری امت میں بھی حق و باطل غلط ملط ہوچکا ہے۔ صحیح اور غلط کی پہچان ایک عام شخص کے لیے مشکل ہوچکی ہے۔ دیہات میں حالات اور بھی خراب ہیں جہاں کے امام کے فرائض میں نماز پڑھانا بھی ہے۔ اور مردے کو غسل دینا بھی ۔ بچے کی پیدائش پر کان میں اذان بھی وہی کہتا ہے۔ عقیقہ کے لیے جانور ذبح کرنا ہو۔ تو امام صاحب کو بلایا جاتا ہے۔ اور تعویز گنڈے کی ضرورت پڑجائے تو بھی میاں صاحب دیں گے ، ان کا علم خطبہ جمعہ بھی تعارفی مسائل تک ہوتا ہے۔ دین کے علم سے بیچارے بےبہرہ ہوتے ہیں۔ غرض یہ حالت یہودیت سے مشابہت ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا (1 ۔ بخاری ج 1 ص 1088 ، مسلم ج 2 ص 239 ، ترمذی ص 279) کہ میری امت بھی پہلے لوگوں کے نقش قدم پر بالکل اسی طرح چلے گی۔ جس طرح ایک جوتا دوسرے کے مشابہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔
بعض علاقوں میں چار چار گاؤں کا ایک ہی امام ہے۔ بلکہ ہم نے خود سفر میں ملاحظہ کیا۔ کہ ایک علاقہ میں چھ سات گاؤں کا ایک ہی امام تھا۔ کہیں نکاح کرنا ہو۔ جنازہ پڑھانا ہو۔ وہی مولوی صاحب انجام دیں گے۔ تعویز گنڈے کا کاروبار چل رہا ہے۔ نقش سلیمانی والی کتابیں ہیں۔ لکھنؤ والے کی کتاب نافع الخلالق ہے۔ یا تعویز گنڈے والی دہلوی کی کتاب ۔ فالنامہ ہے۔ کسی مسئلہ کا حل مطلوب ہو۔ کتاب کھول کر معلوم کرلو۔ حتیٰ کہ چوری تک کی تفتیش عملیات کے ذریعے ہوتی ہے۔ یہ کالا علم جھاڑ پھونک وغیرہ سفلی عملیات ہیں۔ یہی چیزیں یہودیوں میں رائج تھیں اور آج ہم میں بھی یہی پائی جاتی ہیں۔ بعض صحیح وظائف بھی ہیں۔ جیسے سورة یسین کا ورد ہے۔ سورة مزمل کی روزانہ تلاوت ہے۔ رزق کی فراوانی کسی جائز چیز کے حصول ۔ یا کسی مصیبت سے رہائی کے لیے کسی کو کوئی اچھی بات بتا دی۔ مگر عام طور پر یہ گنڈے تعویز یہودیوں ولے ہیں۔ ذرا گھوم پھر کے دیکھ لیں۔ ماہرین عملیات کے ہاں عورتوں کی بھرمار ہے کوئی نہیں دیکھتا کہ مقصد جائز ہے یا ناجائز ، کفر ہے یا شرک ، سب ایک ہی گاڑی میں سوار چلے جا رہے ہیں۔ یہی یہودیت کی موافقت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا “ ولو انھم امنوا واتقوا ” اگر یہ لوگ جادو کا کاروبار چلا نے کی نجائے ایمان لاتے اور تقویٰ کی راہ اختیار کرتے۔ شرک و بدعات سے اجتناب کرتے “ لمثوبۃ من عند اللہ خیر ” تو وہ اللہ تعالیٰ کے بہتر اجر وثواب کے مستحق ہوتے ۔ “ لو کانوا یعلمون ” اگر انہیں علم ہوتا۔
Ayahs 2:104–107ربط آیات :
گذشتہ آیات میں بنی اسرائیل کی پستی اور انحطاط کا ذکر تھا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کو پس پست ڈال دیا دین کی سربلندی کے کام کو ترک کردیا ، جہاد سے منہ موڑ گئے اور سحرجادو ٹونے ٹونکے جیسے سفلی اعمال کو ہی اپنا سب کچھ سمجھ لیا انہوں نے ان برائیوں خاص طور پر سحر کو انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب کیا جو کہ ان کی ذلت کا انتہائی درجہ تھا ۔
(بنی اسرائیل کی اخلاقی بستی)
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی اخلاقی پستی کا ذکر فرمایا ہے جس کے ذریعے وہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام کو ذہنی تکلیف پہنچاتے تھے ، یہودیوں نے اپنی اس ذلیل حرکت کا ارتکاب نہ صرف سابقہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے زمانے میں کیا بلکہ حضور خاتم النبیین ﷺ کے مبارک زمانہ میں بھی اس حرکت سے باز نہ آئے ، اور آپ کو مختلف طریقوں سے ایذا پہنچائی ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی اس حرکت کا تذکرہ کرکے اہل اسلام کو خبردار کیا کہ وہ کبھی کوئی ایسی بات نہ کریں جس سے معاذ اللہ بنی کریم ﷺ کی توہین کا پہلو نکلتا ہو۔
اس مقام پر جس خاص بات کی طرف اشارہ ہے وہ یہ ہے کہ جب یہودی آپ کی مجلس میں آتے تھے تو آپ کی توجہ مبذول کرانے کے لیے ” راعنا “ کا لفظ استعمال کرتے تھے جو کہ ” انظرنا “ کا ہم معنی ہے مطلب یہ ہے کہ آپ ہماری رعایت کریں یعنی ہماری طرف توجہ فرمائیں ” انظرنا “ کا معنی بھی یہی ہے آپ ہماری طرف ذرا دیکھیں ، نظر کریں ، ہماری بات غور سے سنیں ، بظاہر دونوں الفاظ کا معنی ایک ہی ہے مگر یہودی اپنی گندی ذہنیت کے اظہار کے لیے ” راعنا “ کا لفظ استعمال کرتے تھے ، اور پھر اس لفظ کو کھینچ کر اور گھما کر ” راعینا “ بولتے تھے ، حدیث شریف میں آتا ہے (1) (تفسیر ابن کثیر ص 148۔ ج 1 ، تفسیر طبری ص 472۔ ج 1) (آیت) ” لیا بالسنتھم “۔ زبان میں ہیر پھیر کرکے لفظ ادا کرتے تھے جس کی وجہ سے ” راعینا “ کہتے یعنی ہمارا چرواہا ، مزید برآں یہودیوں کی زبان یہ لفظ گالی کی طور پر بھی استعمال ہوتا تھا جس کا معنی احمق اور بیوقوف ہے ، گویا اس طرح یہ لوگ اپنی گندی ذہنیت کا اظہار کرتے تھے ۔
(حضور ﷺ کی نظر التفات)
اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خبردار کیا کہ تم اہل کتاب کی پیروی نہ کرنا ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تقولوا راعنا “۔ اے ایمان والو ! جب تم نبی کریم ﷺ کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانا چاہو تو (آیت) ” راعنا “۔ کا لفظ استعمال نہ کرو ، کیونکہ اس سے نعوذ باللہ نبی کریم ﷺ کی توہین کا پہلو نکلتا ہے اور نبی کی توہین کفر کے مترادف ہے ۔
سورة مجادلہ میں یہودیوں کی ایک اور قبیح حرکت کا بھی ذکر آتا ہے جب یہ بدبخت حضور ﷺ کی مجلس میں آتے تھے تو ” السلام علیکم “ کی بجائے ” السام علیکم “ کہتے تھے ، سام کا معنی موت یا ہلاکت ہے گویا السلام کا لفظ بگاڑ کر السام کہتے تھے ، اسی لیے حضور ﷺ نے فرمایا (1) (مسلم ص 213۔ ج 2۔ ترمذی ص 386) کہ جب یہودی سلام کریں ان کے سلام کا جواب وعلیکم السلام کی بجائے صرف علیکم دیا کرو ، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ جو کچھ تم نے کہا وہ تم پر ہی ہو یعنی اگر السلام کی بجائے اسام بولا جائے تو یہ ہلاکت تمہیں نصیب ہو ، الغرض اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی اسی حرکت کے متعلق فرمایا ” حیوک بما لم یحیک بہ اللہ “ یہ لوگ آپ کو ایسی دعا دیتے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ نے نہیں دی بہرحال اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو متنبہ فرمایا کہ حضور ﷺ کے لیے کوئی ایسا لفظ استعمال نہ کریں ۔ جس سے آپ کی شان اقدس میں فرق آنے کا احتمال ہو ۔ (آیت) ” وقولوا انظرنا “۔ اور (آیت) ” راعنا “ کی بجائے (آیت) ” انظرنا “۔ کہو یعنی ہماری طرف نظر کرم فرمائیں ۔
ّ (اہل ایمان کو خطاب)
سورة بقرہ میں یہ پہلا موقع ہے جس میں ایمان کو خطاب کیا گیا ہے اس سے پہلے عام لوگوں کو خطاب ہوتا رہا ہے ، جیسے (آیت) ” یایھا الناس اعبدوا ربکم “۔ اے نوع انسان ! اپنے رب کی عبادت کرو ، یا بنی اسرائیل کو خطاب فرمایا (آیت) ” یبنی اسرائیل اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم “۔ یعنی اے بنی اسرائیل ! میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر کی ، اب یہاں سے اہل ایمان سے خطاب ہو رہا ہے ، اور پورے قرآن پاک میں اٹھاسی (88) مرتبہ اہل ایمان کو خطاب کیا گیا ہے ، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں (2) (2) تفسیر عزیزی فارسی ص 387 پارہ 1) کہ سابقہ کتب سماویہ میں اہل ایمان سے براہ راست خطاب نہیں ہوتا تھا بلکہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے خطاب ہوتا تھا جو آنے اپنی اپنی امت تک احکام الہی کو پہنچاتے تھے یہ صرف آخری امت کو شرف حاصل ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے براہ راست اہل ایمان کو خطاب کیا ہے ۔
زوائد مسند احمد میں یہ روایت ہے ، اور امام بیہقی (رح) نے اسے شعب الایمان میں بھی بیان کیا ہے (1) (تفسیر ابن کثیر 148۔ ج 1 ، تفسیر عزیزی فارسی ص 38 ، پارہ 1) کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا ، حضور ! مجھے کوئی نصیحت فرمائی ، آپ نے فرمایا اے عبداللہ ! جب تم قرآن میں یہ خطاب پڑھو (آیت) ” یایھا الذین امنوا “۔ تو پورے دل کے ساتھ متوجہ ہوجایا کرو کہ اللہ تعالیٰ تم سے براہ راست خطاب فرما رہے ہیں اس سے بڑی نصیحت اور وصیت کیا ہو سکتی ہے ، مقصد یہ تھا کہ یہ ایسی اعلی چیز ہے کہ پوری توجہ کے ساتھ ہمہ تن گوش ہو کر سنا کہ اللہ تعالیٰ کیا حکم فرما رہے ہیں کس چیز کے کرنے کا حکم ہے اور کس چیز سے رک جانے کی بات ہے ۔
الغرض ! اس خطاب میں اہل ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ حضور ﷺ کی توجہ مبذول کرانے کے لیے (آیت) ” راعنا “ کا لفظ استعمال نہ کرو بلکہ (آیت) ” انظرنا “ سے خطاب کیا کرو ، اس خطاب میں امر اور نہی دونوں چیزیں پائی جاتی ہیں ، اس کے ساتھ ہی تاکید فرمایا (آیت) ” واسمعوا “۔ یعنی جو حکم ہو رہا ہے ، اسے خوب غور سے سنو ، کیونکہ یہ ایک بڑا اہم حکم ہے ۔
(مشتبہ الفاظ کے استعمال کی ممانعت)
حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے ۔ (2) (مسلم ص 238 پارہ 2) کہ عام گفتگو میں مشتبہ الفاظ استعمال نہ کرو کوئی شخص اپنے غلام یا لونڈی کو ” عبدی “ اور ” امتی “ کہہ کر نہ پکارے ، لفظ ” عبد “ سے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ پکارنے والا شاید اپنے آپ کو معبود سمجھ رہا ہے ، حالانکہ معبود تو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ” عبد “ کا لفظ استعمال ہو سکتا ہے ، مگر معاملہ بالکل واضح ہونا چاہئے ، کسی قسم کا شبہ نہیں رہنا چاہئے اسی طرح لونڈی کو بندی کہہ کر پکارنے کی بجائے لونڈی کہہ کر پکارو ، غلام اور لونڈی کو فتای اور فتاۃ کہہ کر بھی بلایا جاسکتا ہے یعنی اے جوان یا اے لونڈی ، حضور ﷺ نے فرمایا ، عبد کا لفظ اس لیے مناسب نہیں کہ ” کلکم عبید اللہ “ کہ تم اللہ تعالیٰ کے بندے ہو ، اسی طرح ساری عورتیں اللہ تعالیٰ کی بندیاں ہیں ، یہ کسی انسان کے بندے یا بندیاں نہیں ہیں ۔
لفظ ” مولی “ بھی مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے ، اس کو بلا تخصیص ہر جگہ استعمال کرنا اشتباہ پیدا کرسکتا ہے ، مولی کے کئی معنے ہیں ، جیسے دوست ، صاحب ، آقا ، غلام ، غلام آزاد کرنے والا وغیرہ وغیرہ ، اس لیے حضور ﷺ نے یہ بات سمجھائی کہ اس لفظ کو غلط طور مت استعمال کرو ، جس سے شبہ پیدا ہو ، مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے (1) (مسلم ص 238) حضور ﷺ نے فرمایا ” لا تقولوا للعنب الکرم “۔ یعنی انگور کو کرم مت کہو بلکہ عنب کہو ، یا حبلہ کہہ سکتے ہو ، اس کی وجہ یہ ہے کہ کرم تو مومن کا دل ہے جس میں ایمان پایا جاتا ہے اور جس میں اخلاق حسنہ ہوتے ہیں ، ایسی چیز کو انگور کے معنوں میں استعمال کرنا درست نہیں ، انگور سے عام طور پر شراب تیار کی جاتی ہے ، جب لوگ شراب کی تعریف کرتے ہیں تو اس میں جب کرم کا نام آتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ شراب کرم یعنی بخشش اور فیاضی سے کشیدگی گئی ہے گویا اس لفظ سے بالواسطہ شراب کی تعریف ہوتی ہے ، لہذا انگور کے لیے کرم کا لفظ استعمال کرنے سے حضور ﷺ نے منع فرمایا ۔
(پیغمبر ﷺ کے لیے لفظ لیڈر کا استعمال درست نہیں)
لیڈر کا لفظ انگریزی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی راہنمائی کرنے والا ہے بلاشبہ پیغمبر بھی امت کی راہنمائی کرتا ہے ، مگر یہ ایک ایسا لفظ ہے جو ہر قسم کے راہنما کے لیے استعمال ہوتا ہے ، عام طور پر اس کا اطلاق سیاسی لوگوں پر ہوتا ہے خواہ وہ اخلاقی اقدار اور دیانتداری سے بےبہرہ ہوں اور خواہ ان کی فکر بھی فاسد ہو ، اہل اسلام میں سے ہوں یا غیر مسلم ، متقی ہوں یا فاسق فاجر یہ لفظ سب کے ساتھ یکساں طور پر استعمال ہوتا ہے اور بین الاقوامی طور پر یہ لفظ چرچل ، بزرنیف ڈبگال ، ریگن وغیرہ قسم کے لوگوں پر بولا جاتا ہے ، لہذا اس قسم کا مشتبہ لفظ پیغمبر اسلام ﷺ کے ہرگز شایان شان نہیں ، ہمارے زمانے کے بعض مفسرین نے اپنی تصانیف میں یہ لفظ حضور ﷺ کے لیے استعمال کیا ہے ، جو قطعا نامناسب ہے ، حضور ﷺ نے فرمایا کہ مشتبہ لفظ کسی عام چیز کے لیے بھی استعمال نہ کیا جائے چہ جائیکہ خود حضور والا صفات (علیہ السلام) کی ذات اقدس کے لیے ایسا لفظ بولا جائے پیغمبر کے لیے انگریزی کے متبادل الفاظ MESSENGE میسنجر یا پر افٹ PROPHIT) وغیرہ استعمال کیے جاسکتے ہیں ۔
الغرض فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کی ذات کے متعلق کوئی ایسا لفظ استعمال نہ کرو جو آپ کی شان کے خلاف ہو اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو یاد رکھو (آیت) ” وللکفرین عذاب الیم “۔ کلمہ کفر کہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے ۔
ّ (بنو اسماعیل سے عہد)
فرمایا (آیت) ” مایود الذین کفروا من اھل الکتب ولا المشرکین ان ینزل علیکم من خیر من ربکم “۔ کفار اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرکین میں سے وہ نہیں پسند کرتے کہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر کوئی بہتری کی چیز اتاری جائے ، مشرکین مکہ میں ابوجہل ، ابولہب ، عتبہ اور شیبہ جیسے بڑے بڑے سردار تھے ، وہ حضور ﷺ سے حسد کرتے تھے کہ اگر وہ آپ کو نبی تسلیم کرلیتے تو ان کی سرداری حضور ﷺ کو منتقل ہوجاتی تھی اور وہ بزعم خویش ناچیز ہو کر رہ جاتے تھے ، دوسری طرف اہل کتاب تھے ، جو امید لگائے بیٹھے تھے کہ نبی آخرالزمان بنی اسرائیل میں آئے گا ، جب آخری نبی ہونے کا دعوی بنو اسماعیل کے قبیلہ قریش میں سے ہوا ، تو وہ بھی حسد کی آگ میں جلنے لگے لہذا انہوں نے آپ کو اللہ تعالیٰ کا آخری نبی تسلیم کرنے سے انکار کردیا ، اسی رکوع میں آگے آئے گا (آیت) ” حسدا من عند انفسھم “۔ انہوں نے حسد کیا اور ایمان کی دولت سے محروم رہے اسی لیے فرمایا کہ اہل کتاب اور مشرکین نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ کا قرآن آپ پر نازل ہو۔
اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ یہاں پر تمہاری خواہشات اور توقعات کی بات نہیں بلکہ (آیت) ” واللہ یختص برحمتہ من یشآء واللہ ذوالفضل العظیم “۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کیلئے خاص کرلیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے اس نے یہ پسند کیا ہے اپنی رحمت خاصہ بنو اسماعیل میں حضور ﷺ کی ذات اقدس پر نازل فرمائے ، اس سے پہلے اللہ تعالیٰ بنو اسحاق پر بیشمار رحمتیں نازل کرچکا ہے ، اس قوم میں بڑے بڑے بادشاہ اور جلیل القدر رسول بھیجے ‘ (آیت) ” اذ جعل فیکم انبیآء وجعلکم ملوکا “۔ کا تفصیل تذکرہ کسی گذشتہ درس میں گذر چکا ہے ۔ (1) (درس 19 ۔ ص 187) اس قوم میں اللہ تعالیٰ نے ہزاروں نبی مبعوث فرمائے ، اور کتنوں کو بادشاہت بھی عنایت کی ، ایسی حکومت اور بادشاہت جو دنیا میں کسی اور کو نصیب نہیں ہوئی تو اب کیا اللہ تعالیٰ نے کوئی وعدہ کر رکھا ہے کہ نبوت بنو اسحاق سے باہر نہیں جائے گی ، اللہ تعالیٰ کی مشیت اسی میں ہے کہ سلسلہ نبوت کو بنو اسماعیل پر ختم کرنا تھا ، لہذا اس میں بنواسحق کے لیے حسد کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔
(تنسیخ آیات کی وجوہات)
بنی اسرائیل اور مشرکین کا ایک اعتراض یہ تھا کہ جب قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور یہ پہلی کتابوں کا مصدق بھی ہے ، تو پھر یہ سابقہ کتب کے احکام کو منسوخ کر کے نئی شریعت کیوں نافذ کرتا ہے ، نیز اپنے ہی احکام کو بعض اوقات تبدیل کردیتا ہے بقول ان کے اس کا مطلب تو یہ ہے کہ معاذ اللہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کو معاملے کا پوری طرح علم نہیں ہوتا تو حکم جاری کردیتا ہے مگر جب اس کا پوری طرح علم ہوجاتا ہے تو حکم میں ترمیم کردیتا ہے ۔
دیانند سرسوتی ہندوؤں کی آریہ سماج تنظیم کا مشہور لیڈر ہوا ہے اپنی نوعیت کا شرارت پسند آدمی تھا یہی اعتراض ، اس نے اپنی کتاب میں بھی کیا تھا کہ کسی اپنے ہی حکم کو منسوخ کردینا جہالت پر دلالت کرتا ہے ، اس کا جواب حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) نے دیا تھا ۔ (1) (انتصار الاسلام) کہ احکام کی تنسیخ جہالت کی بناء پر نہیں بلکہ حکمت کی بناء پر ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے ، اس کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں ہوتا بلکہ ہر حکم حالات کے تقاضوں کے مطابق جاری ہوتا ہے جب حالات متقاضی ہوتے ہیں ، تو پہلا حکم منسوخ کرکے دوسرا جاری کردیا جاتا ہے اس کی مثال اس طرح بیان کی جاسکتی ہے کہ ڈاکٹر یا حکیم کسی مریض کو صبح کے لیے اور دوا دیتا ہے اور شام کے لیے دوسری ، یا ایک ہفتہ ایک دوا استعمال کرتا ہے تو دوسرے ہفتے کے کوئی اور تجویز کرتا ہے بلکہ ڈاکٹر مریض کے حالات کے مطابق دوا کو منسوخ کردیتا ہے یا تبدیل کردیتا ہے ، اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی کسی قوم کے حالات کے تقاضے کے مطابق احکام نازل فرماتے ہیں ، جیسا کہ ضرورت ہوتی ہے بعض احکام کو تبدیل کردیتے ہیں یا اپنی حکمت کی بناء پر احکام میں ترمیم کرتے ہیں ، قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے جو کہ تمام اقوام کے لیے یکساں طور پر نافذ العمل ہے ، لہذا اس نے پہلے شرائع کو منسوخ کر کے ابدی احکام نافذ کردیے ہیں ۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں (1) (حجۃ اللہ البالغہ ، جلد اول باب الحاجۃ الی دین ینسخ الادیان) کہ دین تو ہمیشہ ایک ہی رہا ہے یہ کبھی منسوخ نہیں ہوا البتہ مختلف شرائع میں بعض اختلافات رونما ہوتے رہے ہیں ، مثلا کسی شریعت میں اونٹ کا گوشت حرام تھا ہماری شریعت میں حلال ہے ۔
کسی شریعت میں دو سگی بہنیں ایک نکاح میں آسکتی تھیں ہمارے ہاں حرام ہے (آیت) ” ان تجمعوا بین الاختین “۔ البتہ دین کے بنیادی اصول کبھی منسوخ نہیں ہوئے ۔
تنسیخ آیات کو ایک دوسری مثال سے بھی سمجھا جاسکتا ہے ، کہ تکوینی امور میں جوں جوں حالات بدلتے ہیں احکام بھی بدلتے رہتے ہیں جب انسان بچہ ہوتا ہے تو اس کی ضروریات اس کی عمر اور اس کے حالات کے مطابق ہوتی ہیں جب جوان ہوتا ہے ، تو اس پر دوسرے احکام نافذ ہوتے ہیں پھر جب بوڑھا ہوجاتا ہے تو حالات کا تقاضا کچھ اور ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے احکام بھی اقوام عالم کے حالات کے تقاضوں کے مطابق تبدیل ہوتے رہے ہیں ، یہ ایسی اعتراض والی بات نہیں ہے ۔
الغرض ارشاد باری تعالیٰ ہے (آیت) ” ماننسخ من ایۃ اوننسھا “۔ ہم کسی آیت کو منسوخ نہیں کرتے یا اسے نہیں بھلا دیتے ، (آیت) ” نات بخیر منھا “۔ مگر ہم اس سے بہتر آیت یا حکم لیے آتے ہیں (آیت) ” او مثلھا “۔ یا کم از کم اس جیسا ہی لے آتے ہیں ، نیا حکم بہرحال پہلے سے بہتر ہوتا ہے کمتر نہیں ہوتا ، بہتر سے مراد یہ ہے کہ نیا حکم پہلے کی بنسبت اجر میں بہتر ہوتا ہے ، آیت یا حکم بھلا دینے کا مطلب یہ ہے کہ نبی کے ذہن سے ایسی آیت فراموش کرا دی جائے آیات کا یاد کرانا یا بھلانا ، اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت میں ہے سورة اعلی میں فرمایا (آیت) ” سنقرئک فلا تنسی “۔ ہم عنقریب آپ کو اس طرح پڑھائیں گے کہ آپ بھولیں گے نہیں (آیت) ” الا ما شآء اللہ “۔ ہاں جس کو اللہ بھلانا چاہیں ، وہ آپ بھول جائیں گے یہاں پر بھی ” ننسھا “ کا مطلب یہی ہے کہ جس حکم کو تبدیل کرنا مقصود ہوتا ہے اسے کلیتا منسوخ کردیا جاتا ہے ، یا اسے پیغمبر (علیہ السلام) کے ذہن سے محو کردیا جاتا ہے ، فرمایا (آیت) ” الم تعلم ان اللہ علی کل شیء قدیر “۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے وہ اپنی حکمت اور منشاء کے مطابق آیات نازل کرتا ہے بعض کو قائم رکھتا ہے اور بعض کو منسوخ کردیتا ہے پھر ان سے بہتر یا ان جیسی اور لے آتا ہے ایسا کرنا عقل ونقل کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس پر اعتراض کرنا حماقت کی نشانی ہے ۔
(بادشاہی اللہ تعالیٰ کی ہے)
پھر فرمایا (آیت) ” الم تعلم ان اللہ لہ ملک السموت والارض “۔ اے مخاطب ! کیا تم جانتے نہیں کہ زمین وآسمان کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے جب وہ مالک الملک ہے ، تو کیا اسے یہ اختیار حاصل نہیں کہ کسی حکم کو منسوخ کر دے یا تبدیل کر دے ، معاذ اللہ کیا وہ مجبور ہے کہ ہر حالت میں ایک ہی حکم کو جاری رکھے ، اگر ایسا تسلیم کرلیا جائے تو پھر اس کی حاکمیت کو ثابت کرنا مشکل ہوجائے گا ، لہذا وہ تنسیخ احکام پر پوری طرح قادر ہے اور یہ اس کا حق بھی ہے ۔
فرمایا یاد رکھو ! کہیں بھٹک نہ جانا (آیت) ” ومالک من دون اللہ من ولی ولا نصیر “۔ اس کے سوا تمہارا کوئی حمائتی اور مددگار نہیں ہے ، ولی کا معنی عام طور پر سرپرست ہوتا ہے امام بیضاوی (رح) (1) (تفسیر بیضاوی ص 72۔ 30) فرماتے ہیں کہ بعض اوقات سرپرست کمزور بھی ہوتا ہے جو کہ مدد کرنے کے قابل نہیں ہوتا ، مگر نصیر وہ ہوتا ہے جو فی الواقع مدد کے قابل ہو ، دوسرے الفاظ میں اسے یوں کہہ سکتے ہیں کہ ولی وہ ہوتا ہے جو زبانی طور پر مدد کرتا ہے ، اور نصیر وہ ہے جو عملی طور پر مددگار ثابت ہو ، گویا اللہ تعالیٰ ان دونوں صفات کا مالک ہے وہ اپنی مخلوق کا ہر طرح مددگار ہے وہ قادر مطلق بھی ہے اور علیم کل بھی ہے جونسا حکم چاہے ، نافذ کر دے اور جسے چاہے منسوخ کر دے اس کے ارادہ اور قدرت میں کوئی دوسرا مخل نہیں ہو سکتا ، وہ خود ہی احکام جاری کرتا ہے اور اپنی مشیت سے بعض کو منسوخ کردیتا ہے اس پر اعتراض نامناسب ہے ۔