2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعالم العرفان

Ayah 2:246

اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى١ۘ اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ هَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا١ؕ قَالُوْا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَبْنَآئِنَا١ؕ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:246 in the Quran reader

کیا آپ نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کی طرف نہیں دیکھا ، موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ، جب انہوں نے اپنی نبی سے کہا کہ آپ ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کردیں تاکہ ہم اللہ کی راہ میں لڑیں۔ اس پیغمبر نے کہا کہ اگر تم پر لڑائی فرض کردی جائے تو شاید تم نہ لڑو۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کیا ہے کہ ہم نہ لڑیں حالانکہ ہم اپنے گھروں سے نکالے گئے ہیں اور اپنی اولادوں سے علیحدہ کیے گئے ہیں۔ پھر جب ان پر لڑائی فرض کردی گئی تو ان لوگوں نے روگردانی کی مگر بہت تھوڑے لوگوں نے ان میں سے ۔ اور اللہ خوب جانتا ہے ظلم کرنے والوں کو

ربطہ آیات گذشتہ درس کی آیت کریمہ جہاد کے مسئلہ میں بمنزلہ تمہید تھی۔ اس میں جہاد بالمال اور جہاد بالنفس کی ترغیب دی گئی تھی۔ اور اس سلسلہ میں ایک واقعہ کا ذکر بھی ہوا۔ جب کہ کچھ لوگ جہاد کے خوف سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کردیا۔ اور نبی زمانہ کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے انہیں پھر زندہ کیا۔ اس سے یہ ثابت ہوا تھا کہ لڑائی سے راہ فرار اختیار نہیں کرنی چاہئے۔ کیونکہ موت وحیات تو قبضہ قدرت میں ہے موت اپنے وقت معینہ پر ہی آتی ہے۔ اس میں تقدیم و تاخیر کا کوئی امکان نہیں۔ پھر اسی آیت کے اگلے حصے میں لڑائی کا واضح حکم بھی دیا۔ کیونکہ جو قوم جہاد سے جی چراتی ہے۔ وہ مغلوب ہو کر قعر مذلت میں جاگرتی ہے۔ آج کے درس میں جہاد ہی کے متعلق تنظیم کا تذکرہ ہے جہاد ایک اجتماعی مسئلہ ہے اور اس کے لیے تنظیم کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ اس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔ گویا یہاں سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے سیاسی نظام کے اصول و قواعد بیان فرمائے ہیں اور اس کے طریق کار کی وضاحت فرمائی ہے۔ اسلام کا سیاسی نظام دنیا بھر کا سیاسی نظام اجتماعیت سے تعلق رکھتا ہے۔ قرآن پاک نے اسلام کے سیاسی نظام کے خدوخال سورة بقرہ کے علاوہ بعض دوسری سورتوں مثلاً سورة صف ، سورة حج ، سورة انفال اور سورة توبہ وغیرہ میں بیان کیے ہیں بلکہ ان سورتوں کے بعض مقامات تو اس نظام کے متعلق مستقل ابواب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چونکہ یہ ایک اجتماعی مسئلہ ہے اس لیے اس نظام کو چلانے کے لیے حاکم یا امیر کا تقرر لازمی ہے۔ خصوصاً جہاد جیسے اجتماعی کام کے لیے امیر لشکر کا ہونا ضروری ہے۔ جس کی سرکردگی میں قوم جہاد میں حصہ لے سکے۔ بخاری ، مسلم اور حدیث کی دیگر کتابوں میں امارات یا خلافت پر باب موجود ہیں اور اس میں مسلمانوں کی راہنمائی کیلئے مکمل تعلیم ہے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی ایک مثال کے ذریعے اس مسئلہ کو سمجھایا ہے۔ بنی اسرائیل کا زوال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے کافی عرصہ بعد تک بنی اسرائیل کے حالات درست رہے۔ اگرچہ اس عرصہ میں کہیں کہیں کوئی قباحت بھی پائی گئی مگر مجموعی طور پر ان کے حالات اچھے رہے۔ وہب ابن منبہ (رح) کی روایت کے مطابق بنی اسرائیل کے حالات بڑی دیر بعد بگڑنے شروع ہوئے۔ ان میں بھی شرک کی بیماری پیدا ہوگئی۔ انبیاء کی نافرمانی اور ان کا قتل قرآن پاک میں مذکور ہے۔ فسق و فجور بہت بڑھ گیا۔ جس طرح اس زمانہ میں مسلمانوں میں ہر قسم کی برائیاں پائی جاتی ہیں اس زمانہ میں بنی اسرائیل طرح طرح کی خرابیوں میں ملوث تھے۔ جب وہ نیکی کو چھوڑ کر بدی کی طرف راغب ہوگئے تو ان کا زوال شروع ہوگیا۔ اس زمانے میں عمالقہ بڑی طاقتور قوم تھی۔ انہوں نے بنی اسرائیل کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کرلیا۔ یہ قوم بنی اسرائیل کی قریبی ہمسایہ تھی ، لہٰذا وہ آسانی سے ان پر غالب آگئے ان کے مردوں کو قتل کیا ، عورتوں کو لونڈیاں بنایا۔ اسرائیلی روایات میں آتا ہے کہ عمالقہ نے تیس ہزار نوجوان لڑکیوں کو لونڈیاں بنالیا۔ حضرت سموئیل (علیہ السلام) (SAMUEL) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نبوت کا سلسلہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں جاری رہا۔ حتیٰ کہ لاوی خاندان میں کوئی نیک آدمی باقی نہ رہا۔ تمام کے تمام مرد نالائق اور نابکار تھے۔ ایک نیک آدمی دشمنوں کے مقابلہ میں مارا گیا ، اس کی بیوی اس وقت حاملہ تھی۔ قحط الرجال کے اس زمانہ میں اس عورت نے دعا کی کہ مولا کریم ! مجھے نیک اور صالح بیٹا عطا کر۔ اتفاق کی بات کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بیٹا عطا کردیا جسکا نام اس نے سمائل یا سموئیل رکھا یہ عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دعا کو سن لیا اور بیٹا عطا کیا گویا یہ لفظ اسماعیل کا ہم معنی ہے جب یہ لڑکا بڑا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اسی نبی بنایا اس پر یہ وحی نازل فرمائی یہ واقعہ جو بیان ہورہا ہے یہ اسی نبی سموئیل (علیہ السلام) کے زمانے کا واقعہ ہے اس کے بعد حضرت دائود (علیہ السلام) ، مسیح (علیہ السلام) سے گیارہ بارہ یا تیرہ سو سال پہلے مبعوث ہوئے اس کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس بیت المقدس میں جمع ہوئے۔ اور ان سے درخواست کی کہ ہمارے لیے تنظیم بنائیں ہمارا امیر مقرر کریں جس کی سرکردگی میں ہم دشمن کا مقابلہ کرکے اپنے کھوئے ہوئے علاقے واپس لے سکیں۔ آغاز واقعہ ارشاد ہوتا ہے الم ترالی الملامن بنی اسرائیل من بعد موسیٰ کیا آپ نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کی طرف نہیں دیکھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ، اذ قالو النبی لھم ابعث لنا ملکاً جب انہوں نے اپنے بنی سے کہا کہ ہمارے لیے ایک امیر بادشاہ مقرر کردیں جس کی سرکردگی میں نقاتل فی سبیل اللہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ لفظ ملک کی تشریح لفظ ملک وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ عربی زبان میں ملک ، سردار امیر ، حاکم یا خوشحال آدمی کے لیے بولاجاتا ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس کچھ لوگ آئے ، اپنی مالی حالت کا تذکرہ کیا اور مدد کی درخواست کی۔ فرمایا اگر تم چاہتے ہو تو تمہارے ملک ( حاکم) کے پاس سفارش کیے دیتا ہوں ، اور اگر چاہوتو ہمارے پاس ٹھہرو حسب توفیق ہم تمہاری خدمت کریں گے یا اگر چاہوتو صبر کرو کیونکہ صبر کا نتیجہ آخرت میں بہترین ہوگا۔ چناچہ ان لوگوں نے سوال کرنے کی بجائے صبر کو پسند کیا۔ یہاں پر ملک بمعنی حاکم استعمال ہوا ہے۔ ایک اور شخص آیا کہنے لگا میرے حالات بہت خراب ہیں۔ میری کچھ مدد کریں آپ نے فرمایا۔ کیا تمہارے پاس مکان ہے۔ کہا ہے۔ پھر پوچھا تمہاری بیوی ہے۔ اس نے کہا کہ ہاں بیوی بھی ہے۔ پھر آپ نے دریافت کیا۔ تیرے پاس کوئی خادم بھی ہے تو اس نے اس بار بھی اثبات میں جواب دیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا کہ تیرے پاس مکان ہے۔ تیری بیوی موجود ہے۔ خدمت کے لیے نوکر بھی ہے۔ تو پھر تو کیسا فقیر ہے۔ انت من الملوک تُو تو بادشاہوں میں سے ہے۔ مطلب یہ کہ تو خوشحال آدمی ہے جس کے پاس ضروریات کی یہ چیزیں موجود ہیں۔ وہ ملک کہلانے کا مستحق ہے۔ ملوکیت کا تصور بہرحال عربی زبان میں ملک کے مختلف معانی ہیں جن میں بادشاہ یا امیر بھی شامل ہے صاحب امر یعنی حاکم وقت بھی مراد ہے۔ مگر ملوکیت کا جو تصور اس وقت دنیا میں موجود ہے۔ اسلام ہرگز اس کی تائید نہیں کرتا۔ آج ہم سمجھتے ہیں کہ بادشاہ وہ ہے جو کسی ملک کے ہر سیاہ وسفید کا مالک ہے جو چاہے کرے ا س کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ قانون کا درجہ رکھتا ہے۔ مگر ملوکیت کا یہ تصور غیر فطری اور اسلامی تعلیم کے سراسرمنافی ہے اور ڈکٹیٹر شپ بھی اسی حاکمیت کا نام ہے جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو شورائی نظام سیاست عطا کیا ہے۔ اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی آیات نازل فرمائی ہے۔ جن کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام کا سیاسی نظام (POLITICAL SYSTEM) کیا ہے۔ ان کا امیر کیسا ہو ، اس کی کیا ذمہ داریاں ہیں۔ اور وہ کن امور کا پابند ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کی جماعت کن اوصاف کی حامل ہونی چاہئے۔ اس کے حقوق و فرائض کیا ہونگے وغیرہ ویرہ مگر افسوس کہ اموری دور کے بعد مسلمانوں میں بھی غیر اسلامی تصور ملوکیت سرایت کرگیا۔ اور یہ آج بھی مسلمانوں میں موجود ہے۔ ہمارے قریبی زمانہ میں چوہدری افضل حق (رح) بڑے فاضل آدمی ہوئے ہیں۔ زمین و مکانات کی صورت میں لاکھوں کی جائیداد کے مالک تھے۔ انگریزی دور میں اسمبلی کے ممبر تھے۔ سرکاری ملازمت میں انسپکٹر بھی رہے۔ مگر انگریزوں کی غلامی کا طوق اتار کر ان کے خلاف جہاد میں شامل ہوگئے۔ مجلس احرار سے منسلک ہوئے۔ زمین و مکان ہر چیز اللہ کی راہ میں قربان کردی ، حتیٰ کہ ان کا جنازہ مجلس احرار کے دفتر سے اٹھایا گیا۔ آپ نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں جن میں حضور ﷺ کی سیرت طیبہ پر بھی ایک نہایت عمدہ کتاب ہے۔ فرقہ واریت کے خلاف کتاب لکھی ، سورة فاتحہ کی تشریح قلمبند کی۔ آپ نے ملوکیت کے متعلق ایک نہایت عمدہ بات کی ہے۔ فرماتے ہیں ” افسوس کہ بنو امیہ کے بعد مسلمانوں نے اسلام کا اجتماعی اور سورائی نظام چھوڑ کر اسکی جگہ شنہشاہیت کا ٹاٹ بچھا دیا ہے۔ وہ ملوکیت اور شہنشاہیت جو قیصر و کسریٰ کا طرہ امتیاز تھا اور جس کو مٹانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی کو معبوث فرمایا۔ یہی نظام اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ مسلمانوں میں پھر رائج ہے “۔ کابل کے امیر امان اللہ خان مرحوم کا باپ امیر حبیب اللہ خاں مرحوم بھی اپنے وقت کا بادشاہ تھا۔ اس کے متعلق حضرت مولانا عبیداللہ سندھی (رح) لکھتے ہیں کہ آخری دور میں انکی حالت اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ متعدد بیویاں ( تین صد بیویاں) رکھنے کے باوجود شریف لوگوں کی بہو بیٹیوں پر ہاتھ مارتا تھا۔ ایسا عیاش آدمی تھا۔ بڑی حیثیت کا مالک تھا مگر اس قسم کی حرکتیں شہنشاہیت کا خاصہ ہوتا ہے۔ آخر وہ قتل ہوا مگر قاتل کا پتہ بھی نہ چل سکا۔ باقی نوابوں اور بادشاہوں کا بھی یہی حال ہے۔ نواب حیدر آباد جب مرا تو اس وقت اس نے بھی تقریباً پونے دو سو عورتیں ( داشتہ) اکٹھی کر رکھی تھیں۔ جماعت کی اہمیت بہر حال بنی اسرائیل نے حضرت سموئیل سے کہا۔ کہ آپ ہمارے لیے کوئی امیر سردار یا مالک مقرر کردیں ، جس کی کمان میں ہم دشمن سے جنگ کرسکیں۔ اگرچہ اس وقت اللہ کے نبی موجود تھے۔ مگر وہ کافی بوڑھے اور کمزور ہوچکے تھے۔ اور جنگ میں بنفسِ نفیس شرکت سے معذور تھے۔ البتہ ہدایات دینے کے لیے وہ کافی تھے۔ لہٰذا انکی قوم نے عرض کیا کہ ہمارے لیے کوئی قابل امیر مقرر کردیں جو جنگ میں ہماری قیادت کرسکے۔ ظاہر ہے کہ جنگ کرنے کے لیے جماعت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اسلام میں جماعت کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ جماعت کے بغیر سیاسی نظام چل ہی نہیں سکتا۔ جیسے فرمایا اسلام الا بالجماعۃ یعنی جماعت کے بغیر اسلام کا کوئی تصور نہیں اور لا جماعۃ الا بالامیر اور امیر کے بغیر جماعت کسی کام کی نہیں اسی لیے فرمایا کہ سفر میں اکیلا آدمی نہ جائے۔ اس کے ساتھ جماعت ہونی چاہئے ایک اور دو… شیطان ہیں۔ مگر تین کی تعداد جماعت ہے۔ اور اگر چار آدمی جمع ہوجائیں تو فرمایا خیر الجماعۃ اربعۃ بہتر جماعت چار آدمیوں کی ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ جب سفر پر روانہ ہونے لگو تو اپنے میں سے ایک کو امیر مقرر کرلو ، اور اسکی سرکردگی میں ، اس کی ہدایت کے مطابق عمل کرو انفرادی حالت میں شیطان کے غلبے کا خدشہ ہے۔ اس لیے سفر بھی بحیثیت جماعت اختیار کرو۔ شیطان کے شر سے محفوظ رہوگے۔ نبی اور قوم میں مکالمہ الغرض ! جب قوم نے خود نبی سے درخواست کی کہ ان کے لیے ا یک امیر مقرر کردیاجائے جسکی سرکردگی میں وہ جہاد کریں۔ قال ھل عسیتم ان کتب علیکم القتال الا تقاتلوا تو نبی نے کہا۔ کہ اگر تم پر لڑائی فرض کردی جائے تو شاید تم نہ لڑ سکو ، نبی نے اس خدشہ کا اظہار کیا۔ کہ جنگ فرض ہونے کے بعد اگر تم نے اس میں لیت و لعل کیا۔ تو اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں آ جائو گے۔ لہٰذا فرضیتِ جہاد سے پہلے خوب اچھی طرح سوچ سمجھ لو۔ قالوا وما لنا الا نقاتل فی سبیل اللہ قوم کہنے لگی۔ کہ ہمیں کیا ہے کہ ہم لڑائی نہ کریں اللہ کے راستے میں وقد اجرجنا من دیارنا حالانکہ ہم اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے ہیں۔ دشمن نے ہماری زمین اور ہمارے مکانات پر قبضہ کرلیا ہے وابناء نا اور انہوں نے ہمیں ہماری اولادوں سے جدا کردیا ہے۔ ہماری عورتوں کو لونڈیاں اور بچوں کو غلام بنالیا ہے۔ اب نہ لڑنے کی ہمارے پاس کوئی وجہ باقی نہیں رہی ۔ لہٰذا ہم ضرور اپنے دشمن سے جنگ کریں گے۔ آپ ہمارے لیے امیر لشکر مقرر کردیں۔ بنی اسرائیل کی روگردانی بنی اسرائیل کے اس قدر اصرار کے بعد فلما کتب علیھم القتال جب ان پر لڑائی فرض کردی گئی تولوا الا قلیلاً من ھم تو ان میں سے ایک قلیل تعداد کے سوا سب اپنے وعدے سے پھرگئے۔ انہوں نے جہاد سے منہ موڑ لیا۔ اس کی تفصیلات اگلے رکوع میں آرہی ہیں۔ تاہم آگے یہ بیان بھی آرہا ہے جس میں تھوڑے لوگوں نے ہمت اور جوانمردی سے دشمن کا مقابلہ کیا اور پھر وہ غالب آئے۔ آج مسلمانوں کی حالت بھی اس زمانے کے بنی اسرائیل سے کم خراب نہیں۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کے حالات اس قدر بگڑے ہوئے ہیں کہ اصلاح کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ وجہ ایک ہی ہے کہ جہاد سے روگردانی کر رہے ہیں۔ دوسروں کے دست نگر ہیں۔ مگر آپس میں دست و گریبان ہیں۔ ذرا غور کریں فلسطینیوں کے ساتھ کیا کچھ ہورہا ہے۔ ان کی ہزاروں لڑکیاں غیر مسلموں کے قبضہ میں چلی گئی ہیں۔ انہیں رہنے کے لیے زمین پر کوئی ٹھکانہ میسر نہیں آرہا۔ فلپائن کی عیسائی اکثریت نے مسلمان اقلیت کا عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے۔ وہ مسلمانوں کو مارو یعنی ڈاکو کہتے ہیں۔ حالانکہ وہ بیچارے قلیل تعداد میں ہیں۔ مگر انہیں بھی جینے کا حق نہیں دیا جارہا ہے۔ قبرص میں بھی مسلمانوں کا یہی حال ہورہا ہے۔ صرف چند سال پہلے چالیس ہزار قبرصی ترکوں کو ختم کردیا گیا۔ اب انہوں نے ایک جزیرہ میں پناہ لے رکھی ہے مگر عیسائی قوتیں انہیں وہاں بھی اکٹھا نہیں دیکھ سکتیں۔ ان کی سکیم یہ ہے کہ کسی طرح ان کو علیحدہ علیحدہ کرکے ان کی جمعیت کو ختم کردیاجائے۔ ظالم اور عادل فرمایا واللہ علیم بالظلمین اللہ تعالیٰ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ ظالم بزدل ہوتا ہے اور جہاد سے جی چراتا ہے۔ وہ خود بھی کوئی اچھا کام نہیں کرسکتا بلکہ برائی کی طرف رغبت رکھتا ہے۔ اس سے اچھے نظام کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ ہمارے لیڈر ظالم ہیں۔ اس قسم کے مولویوں ، مشائخ ، امیروں تاجروں سے اچھائی کی کیا امید ہوسکتی ہے البتہ اچھائی کی امید عادل شخص سے ہوسکتی ہے۔ وہی نظام اسلام قائم کرسکتا ہے ۔ وہی جہاد کرسکتا ہے۔ اور قوم کو ذلت سے نکال کر عزت و آبرو کی زندگی دے سکتا ہے۔ اس ایک جملہ واللہ علیم بالظلمین میں ان سب چیزوں کی طرف اشارہ ہے۔ امام بیضاوی (رح) منافقین کے متعلق لکھتے ہیں جب انہیں کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا راز فاش کرتے ہوئے فرمایا الا انھم ھم المفسدون اصل فسادی یہی لوگ ہیں ان کا اصلاح کا دعویٰ محض فریب ہے۔ کفر ، شرک ، معصیت ، حدود اللہ کو توڑنا ، بدعت کا اجرائ ، چوری ، ڈاکہ ، قتل ، دوسروں کے حق کا ضیائع وغیرہ سب ظلم کی مختلف شاخیں ہیں۔ ظالم سے اسی قسم کے افعال سرزد ہوں گے۔ البتہ جب عادل حاکم آئے گا۔ تو تمام برائیاں ختم ہوجائیں گی۔ حق و عدل کا دور دور ہ ہوگا کہ عدل نظام اسلام میں سب سے بڑا ستون ہے۔ حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ ایمان چار ستونوں میں قائم ہے یعنی صبر ، عدل ، جہاد اور یقین ، لہٰذا عادل شخص کے ایمان کی گواہی دی جاتی ہے۔ اور ظالم آدمی بےایمان اور کافر ہوتا ہے۔ اسی لیے فرمایا واللہ علیم بالظلمین اللہ تعالیٰ ان ظالموں کو اچھی طرح جانتا ہے۔
Ayahs 2:247–248

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا١ؕ قَالُوْۤا اَنّٰى یَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَیْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ١ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَیْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤْتِیْ مُلْكَهٗ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:247 in the Quran reader

اور ان کے نبی نے ان سے کہا بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے طالوت کو بادشاہ مقرر کیا ہے۔ وہ کہنے لگے ، ہم پر ان کی حکومت کیسے ہوگی ۔ اور ہم اس سے حکومت کے زیادہ مستحق ہیں۔ اور وہ مال میں وسعت بھی نہیں دیا گیا۔ ان کے پیغمبر نے ان سے کہا ، بیشک اللہ تعالیٰ نے اسے تمہارے اوپر منتخب کیا ہے اور اس کو علم اور جسم کی فراخی کے لحاظ سے زیادہ کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہے بادشاہی دیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 2:248 in the Quran reader

اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ بیشک اس کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ ۔ تمہارے پاس ایک صندوق آئیگا۔ جس میں تمہارے رب کی طرف سے دل کی تسلی ہے۔ اور کچھ بچی ہوئی چیزیں ہیں۔ جن کو موسیٰ اور ہارون (علیہا السلام) کی اولاد نے چھوڑا ہے۔ اس کو فرشتے اٹھا کر لائیں گے بیشک اسمیں تمہارے لیے نشانیاں ہیں اگر تم یقین رکھنے والے ہو

ربطہ آیات گذشتہ درس میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل میں بگاڑ پیدا ہوگیا۔ وہ مغلوب ہوگئے دشمن نے ان کے بہت سے علاقے پر قبضہ کرلیا۔ ان کے بچوں کو غلام اور عورتوں کو لونڈیاں بنالیا۔ انہوں نے نبی وقت حضرت سموئیل (علیہ السلام) سے عرض کیا کہ ہمارے لیے کوئی بادشاہ مقرر کردیں۔ جس کی سرکردگی میں ہم دشمن سے جنگ کرکے اپنے کھوئے ہوئے علاقے واپس لے سکیں اور اپنے گھروں کو لوٹ سکیں نیز اپنے مردوں اور عورتوں کو دشمن کی غلامی سے نجات دلائیں ان کے نبی نے فرمایا کہ دیکھنا کہیں اپنے وعدے سے پھر نہ جانا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ ایسا نہیں ہوگا۔ ہم آپ کی طرف سے مقرر کیے گئے بادشاہ یا امیر کی اطاعت کریں گے۔ آج کے درس میں بنی اسرائیل کے لیے طالوت بادشاہ کے تقرر اور بنی اسرائیل کے انکار کا بیان آرہا ہے۔ طالوت بطور بادشاہ ارشاد ہوتا ہے۔ وقال لھم نبیھم ان کے نبی نے بنی اسرائیل سے کہا ان اللہ قد بعث لکم طالوت ملکاً بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے طالوت کو بادشاہ مقرر کیا ہے۔ لہٰذا تم اس کی سرکردگی میں اپنی تنظیم قائم کرو اور پھر دشمن سے جہا د کرو۔ مگر اس قوم کے آسودہ حال لوگوں کو طالوت کا انتخاب پسند نہ آیا۔ قالوا کہنے لگے الی یکون لہ الملک علینا طالوت ہمارا بادشاہ کیسے ہوسکتا ہے۔ وہ تو غریب اور کمزور حیثیت کا مالک ہے۔ وہ ہمارا بادشاہ بننے کا اہل نہیں ونحن احق بالملک منہ اس سے زیادہ بادشاہ بننے کا ہمارا حق ہے۔ ولم یوت سعۃً من المال ان کے پاس تو مال بھی نہیں ہے۔ وہ ہمارا سردار یا امیر بننے کے بالکل اہل نہیں ہے۔ دراصل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بادشاہی تو زیادہ تر یہودا کے خاندان میں رہی جن میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی تھے۔ اور نبوت زیادہ تر لاوی خاندان میں رہی جس سے حضرت ہارون (علیہ السلام) تھے۔ یہ طالوت بن کش حضرت یوسف (علیہ السلام) کے چھوڑے بھائی بن یامین کی اولاد سے تھا اور یہ نسبتاً چھوٹا خاندان سمجھاجاتا ہے۔ مگر حضرت سموئیل (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے اسے بنی اسرائیل کا بادشاہ مقرر فرمادیا ، ان کے خاندان کو دیگر خاندانوں کی طرح عزت حاصل نہیں تھی ، یہ کم تر لوگ تھے۔ خود طالوت کپڑے رنگنے کا کام کرتا تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ تیلی تھا۔ لہٰذا بنی اسرائیل اس کے بطور امیر تقرر پر رضا مند نہ ہوئے۔ دراصل مالی کمزوری نبوت کو تسلیم کرنے میں ہمیشہ رکاوٹ رہی ہے جب بھی کسی نبی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ تو اس کی قوم نے یہی جواب دیا کہ تو تو ہماری قوم کا گھٹیا آدمی ہے۔ تیرے پاس نہ مال و دولت ہے۔ نہ زمین و مکانات ہیں نہ سونا چاندی ہے۔ تو نبی کیسے ہوسکتا ہے۔ یہی چیز طالوت کو بادشاہ تسلیم کرنے میں مانع ہوئی کیونکہ وہ شخص قوم کا ایک ادنیٰ فرد سمجھا جاتا تھا۔ اور دنیاوی مال و متاع سے محروم تھا۔ تفسیری روایات میں آتا ہے کہ جب بنی اسرائیل نے اپنے پیغمبر سے امیر مقرر کرنے کی درخواست کی ، اس وقت طالوت کی عمر تیس 30 سال کے قریب تھی یہ سب لوگ پیغمبر کے پاس جمع تھے اور ان سے سوال و جواب کر رہے تھے طالوت کے باپ کا گدھا گم ہوگیا تھا ، وہ تلاش کرتا ہوا اس طرف جا نکلا جہاں بنی اسرائیل کے لوگ جمع تھے۔ چناچہ وہ بھی ان کے قریب پہنچ گیا۔ اُدھر اللہ کے نبی کو وحی کے ذریعے خبر دی جاچکی تھی کہ بنی اسرائیل کا بادشاہ ایسے شخص کو مقرر کیا جائے۔ جس کا قد نبی کے پاس موجود لاٹھی کے برابر ہو۔ نیز یہ کہ وہ آدمی آرہا ہے۔ اس کے پہنچنے پر نبی کے پاس خوشبودار تیل والی شیشی میں جوش پیدا ہوگا۔ لہٰذا جس شخص پر یہ نشانیاں صادق آجائیں اسے امیر مقرر کرلیاجائے۔ جب طالوت اس مجمع میں پہنچا تو تیل کی شیشی میں جوش پیدا ہوگیا۔ جب اس کا قد ماپا گیا ، تو لاٹھی کے برابر نکلا ، چناچہ اللہ کے نبی نے طالوت کو بادشاہ یا امیر مقرر کردیا مگر بنی اسرائیل نے اسے اپنا امیر تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ امیر کی خصوصیات اللہ کے نبی نے اپنی قوم کو سمجھایا۔ کہ محض مال و دولت یا اعلیٰ خاندان کا ہونا ہی امارات کے لیے کافی نہیں بلکہ اس کام کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کچھ اصول مقرر ہیں جن کی بناء پر کسی شخص کو امارات کے عہدے پر فائز کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلی بات جو پیغمبر نے کہی قال ان اللہ اصطفہ علیکم اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے منتخب فرمایا ہے۔ لہٰذا اس میں کسی کے ذاتی اختلاف کو دخل نہیں ہوناچاہئے اور دوسری بات یہ کہ وزادہ بسطۃً فی العلم والجسم اللہ نے اسے علم اور جسم میں وسعت دی ہے یعنی اس میں یہ خوبی ہے کہ وہ علم میں بھی تم سے زیادہ ہے۔ اور جسمانی طاقت کے لحاظ سے بھی تم میں سے زیادہ قوی ہے۔ یہاں پر علم سے مراد سیاسی علم یعنی نظام حکومت چلانے کی صلاحیت ہے۔ جہاں تک دینی علم کا تعلق ہے وہ تو نبی کے پاس تھا ، تاہم اللہ تعالیٰ نے سیاسی علم طالوت کو عطا کیا تھا۔ امیر کے لیے جسمانی طور پر صحت مند ہونا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ غیر صحت مند یا بیمار اور لاغر شخص نظام حکومت کو بطریق احسن انجام نہیں دے سکتا۔ طالوت تیس سال کا وجیہہ نوجوان تھا۔ قدر آور صحت مند تھا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اسے اس کام کے لیے منتخب فرمایا تھا اور اس انتخاب پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا تھا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کو نبی منتخب فرمایا۔ اسی طرح اس نے طالوت کو بادشاہت کے لیے منتخب فرمایا۔ خلیفہ کا انتخاب بعض اوقات اللہ تعالیٰ خلیفہ کا انتخاب بھی خود کرتا ہے جیسے دنیا میں سب سے پہلے خلیفہ آدم (علیہ السلام) تھے۔ انی جاعل فی الارض خلیفۃً میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا ” یدودانا جعلنک خلیفۃً فی الارض “ اے دائود (علیہ السلام) ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا ۔ سلیمان (علیہ السلام) کی خلافت کا ذکر بھی آتا ہے۔ چونکہ اب وحی کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے۔ اس لیے اب یہ تو ممکن نہیں کہ ملت اسلامیہ کے لیے اللہ تعالیٰ خود کسی کو خلیفہ منتخب فرمادے۔ اب خلیفہ کے انتخاب کے لیے کئی ایک صورتیں ہیں۔ پہلا طریقہ تو یہ ہے کہ سمجھدار ، دانا اور صاحب حل و عقد مسلمان خود خلیفہ کا انتخاب کریں۔ جس طرح حضور ﷺ کے بعد لوگوں نے حضرت صدیق اکبر ؓ کو منتخب کیا تھا۔ انتخاب کی دوسری صورت یہ ہے کہ خلیفہ خود اپنا جانشین مقرر کردے۔ جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے حضرت عمر ؓ کو مقرر فرمایا تھا۔ یہ بھی درست ہے کہ خلیفہ خود مستحق ترین شخص کو اس کام کے لیے نامزد کردے۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ کوئی شخص طاقت کے زور پر خود بخود اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لے۔ اس کی مثال حضرت امیر معاویہ ؓ کی ہے جنہوں نے غالب آکر خلافت کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔ اس طرح مسند اقتدار پر آنے والا شخص اگر اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق حکومت کا نظم و نسق چلائے۔ تو یہ صورت بھی قابل قبول ہے۔ خلافت کے معاملہ میں اہل اسلام میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں اہل سنت والجماعت کے نزدیک مسلمانوں کی جماعت پر واجب ہے کہ وہ خلیفہ کا انتخاب کریں۔ اگر وہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر عمل کرتا ہے تو ٹھیک ہے۔ ورنہ مسلمانوں کی یہی جماعت اسے معزول بھی کرسکتی ہے کیونکہ خلیفہ بھی ایک انسان ہوتا ہے اور وہ بھی غلطی کرسکتا ہے۔ برخلاف اس کے شیعہ کا عقیدہ یہ ہے ۔ خلیفہ یا امام معصوم ہوتا ہے اور اس کا انتخاب من جانب اللہ ہوتا ہے اس کی خلافت مستقل ہوتی ہے اور کوئی اسے معزول نہیں کرسکتا۔ حالانکہ یہ عقیدہ درست نہیں ہے۔ خارجی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حاکم صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔ خلیفہ کی ضرورت ہی نہیں ہے یہ عقیدہ بھی باطل ہے۔ خلیفہ کا انتخاب اس قدر اہم مسئلہ ہے کہ حضور ﷺ کی وفات کے بعد صحابہ کرام ؓ ؓ نے یہ مسئلہ آپ کے کفن دفن سے پہلے طے کرلیا۔ کیونکہ ہر اجتماعی کام میں امیر کی ضرورت ہوتی ہے اور پھر تمام امور اس کے احکام کے تحت انجام دئیے جاتے ہیں۔ ابو دائود شریف کی روایت میں ہے کہ جب تین آدمی سفر پر روانہ ہوں تو اپنے میں سے ایک کو امیر بنالیں تاکہ سفر کے تمام معاملات تنظیم کے تحت حل ہوں۔ مولانا عبیداللہ سندھی (رح) اسی آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جو لوگ عزت و آبرو کی زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں چاہئے کہ ملک کا نظام ایسے ہاتھوں میں دیں جو اللہ تعالیٰ کا قانون نافذ کرسکیں۔ اور یہ کام وہی لوگ کرسکتے ہیں جو خود ایماندار اور عادل ہوں ۔ مولانا تشریح فرماتے ہیں کہ جن ممالک میں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہ دل سے چاہتے ہیں کہ ان کے ملک میں اسلامی نظام نافذ ہو ، مگر جب حکومت منتخب کرنے کا وقت آتا ہے تو ہمیشہ غلط فیصلہ کرتے ہیں۔ مولانا کا ارشاد ہے کہ اسمبلی کا ممبر اس شخص کو چُنو جو کتاب اللہ کا عالم اور حضور ﷺ کی سنت اور خلفائے راشدین ؓ کے دور کو سب سے زیادہ جاننے والا ہو۔ جو شخص کتاب و سنت اور آثار صحابہ سے واقف نہیں ، وہ اسلامی نظام کیسے لائیگا ممبرایسا ہوناچاہئے۔ جو قومی مفاد پر ذاتی مفاد کو قربان کردے۔ اس کے دل میں خدا کا خوف ہو اور آخرت میں محاسبے کا ڈر ہو۔ صرف ایسے لوگ ہی اللہ کا قانون جاری کرسکتے ہیں۔ وہ جب پارلیمنٹ میں جائیں تو سربراہ بھی صحیح منتخب کریں گے اور قانون بھی ٹھیک ٹھیک وضع کریں گے۔ مولانا عبیداللہ سندھی (رح) مولانا عبیداللہ سندھی (رح) ہمارے اکابرین میں سے ہیں۔ آپ اجتماعیات اور اقتصادیات کے ماہر تھے۔ آپ سکھوں کے گھر میں پیدا ہوئے۔ مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ سولہ سال کی عمر میں مسلمان ہو کر حضرت خواجہ محمد صدیق (رح) کے دست حق پر ست پر بیعت کی۔ خواجہ صاحب نے انہیں اپنا منہ بولا بیٹا بنالیا اس عمر میں ان کا ختنہ بھی کرایا۔ مولانا بھی اپنے آپ کو خواجہ صاحب کا روحانی فرزندہ کہتے ہیں۔ حضرت خواجہ محمد صدیق (رح) اپنے زمانے کے اس پایہ کے بزرگ تھے۔ جس پایہ کے حضرت جنید بغدادی (رح) ہوئے ہیں۔ ان کے دو مرید خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ایک مولانا غلام محمد دین پوری (رح) اور دوسرے مولانا سید تاج الدین امروٹی (رح) ، مولانا دین پوری (رح) علم میں زیادہ وسعت نہیں رکھتے تھے تاہم حاجی امداد اللہ (رح) کی طرح نسبت بہت اونچی تھی۔ جنوبی پنجاب اور سندھ میں اس دور میں ان جیسا کوئی بزرگ نہیں ہوا۔ سید تاج الدین امروٹی (رح) میں دونوں خوبیاں پائی جاتی تھیں آپ عالم بھی تھے اور مجاہد بھی۔ آپ کے ہاتھ میں تقریباً سات ہزار ہندو سکھ مسلمان ہوئے۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسن (رح) کے دوست اور رفیق ان کی طرح انگریز کے سخت دشمن تھے ، آپ نے قیدو بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ جب مولانا عبیداللہ سندھی (رح) تحصیل علم کے لیے ہندوستان جا رہے تھے۔ تو حضرت خواجہ محمد صدیق (رح) نے ان کے حق میں دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کو کسی صحیح عالم دین کے پاس پہنچا دے اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی۔ اور چلے چلتے مولانا سندھی دارالعلوم دیوبند پہنچ کر حضرت مولانا شیخ الہند (رح) کی خدمت میں پہنچ گئے۔ جملہ علوم آپ سے حاصل کیے۔ اور حدیث کا درس حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی سے گنگوہ میں جاکر لیا آپ مدرسہ دیوبند کے سرپرست تھے مگر قیام گنگوہ میں تھا۔ مولانا سندھی (رح) کی ذہانت کا یہ عالم تھا کہ خود لکھتے ہیں کہ علم میراث کی کتاب سراجی صرف دو گھنٹے میں پڑھ لی اور صحاح ستہ میں سے ابن ماجہ اور نسائی دو دن میں ختم کرلی۔ جب آپ علم حاصل کرکے واپس اپنے پیر صاحب کے ہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ خواجہ صاحب وفات پا چکے ہیں ۔ آپ نے آخری وقت میں اپنے دونوں شاگردان کو وصیت فرمائی تھی کہ جب عبیداللہ (رح) واپس آئے تو اسے اپنا بیٹا سمجھنا۔ ان دو بزرگوں نے آپ کو باپ کی سی شفقت دی۔ مولانا سندھی (رح) خود فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بڑا احسان کیا کہ تحصیل علم کے بعد میں نے اٹھارہ سال تک اپنے استاد محترم مولانا محمود الحسن (رح) کی خدمت میں رہ کر اسلامی سیاست اور حکمت سیکھی۔ شیخ الہند (رح) سیاسیات کے بہت بڑے امام تھے ۔ مولانا سندھی (رح) کا چھوٹا سا قد مگر اللہ تعالیٰ نے ان میں وہ صلاحیت رکھی تھی کہ انگریز جیسا جابر حکمران آپ سے بہت خائف تھا۔ آپ کے پیچھے ہر وقت جاسوس لگے رہتے تھے۔ آپ بارہ سال تک مکہ معظمہ میں رہائش پذیر رہے۔ عرب حکومت نے بھی سیاست میں حصہ لینے پر پابندی لگا رکھی تھی۔ اس کے باوجود انگریزوں کو ہمیشہ ان کی طرف سے طوفان اٹھنے کا خطرہ رہتا تھا۔ انگریزوں نے ایک مولوی کو جاسوسی کے لیے مکہ مکرمہ بھیج دیا۔ آپ کو پتہ چلا تو فرمایا کہ بڑے افسوس کا مقام ہے کہ اللہ کے گھر میں بھی میرا پیچھا کر رہے ہو۔ تقسیم ہند سے پانچ سال قبل آپ نے کلکتہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے انگریز کی سلطنت کی جڑیں کھوکھلی کردی ہیں۔ اب یہ اس ملک میں نہیں رہ سکتا۔ اگر یہ زیادہ عرصہ ہندوستان میں ٹھہر گیا تو میری قبر پر تھوک دینا کہ تو نے جھوٹ کہا تھا۔ مگر اس کے بعد دو سال کے اندر اندر انگریز کو ہندوستان خالی کرنا پڑا۔ شرائط خلافت جیسا کہ اس آیت سے واضح ہے کہ خلافت کے لیے اعلیٰ خاندان کا ہونا اور خلیفہ کے پاس مال و دولت کا ہونا کوئی شرط نہیں ہے بلکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے طالوت کی جو صفات بیان کی ہیں۔ وہ یہ ہیں کہ علم اور صحت کے لحاظ سے دوسروں سے بہتر تھا اور پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے خود اسے اس کام کے لیے منتخب کیا تھا۔ اسی لیے امام ابوبکر حصاص (رح) اور دیگر مفسرین کرام (رح) فرماتے ہیں کہ خلیفہ کے لیے خاندان قریش سے ہونا ضروری نہیں ہے۔ حدیث شریف الائمۃ من القریش کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ یہ اس زمانے کی بات ہے جب قریش کے علاوہ لوگ کسی دوسرے پر متفق نہیں ہوسکتے تھے۔ اس وقت قریش میں خلافت کا کام انجام دینے کی پوری صلاحیت موجود تھی۔ بخاری شریف میں ہے کہ اگر دو آدمی بھی خاندان قریش سے باصلاحیت ہوں گے تو خلافت کسی اور طرف منتقل نہیں ہوگی۔ مگر عباسیوں کے دور میں اسقدر بگاڑ پیدا ہوگیا کہ دو آدمی بھی با صلاحیت موجود نہ رہے۔ لہٰذا خلافت ان کے ہاتھ سے نکل گئی۔ دوسری جگہ آتا ہے ما اقامو جب تک انصاف پر قائم رہیں گے۔ خلافت ان کے پاس رہیگی۔ چناچہ ساڑھے چھ سو سال تک خلافت اسی خاندان میں رہی پھر جب اس اہلیت سے محروم ہوگئے تو خلافت سے محروم ہوگئے۔ آج بھی من حیث القوم مسلمانوں میں صلاحیت ناپید ہے۔ مسلمان خود اپنا صحیح خلیفہ منتخب نہیں کرسکتے۔ آج وہ مسلمان کہاں سے پیدا ہوں جو قومی درد رکھنے والے ہوں۔ اور اپنے ذاتی مفاد کو اجتماعی مفاد پر قربان کرسکیں۔ جب تک مسلمانوں میں یہ جذبہ پیدا نہیں ہوگا یہ قوم قعر مذلت سے نہیں نکل سکتی۔ الغرض ! فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بعض خصوصیات کی بنا پر طالوت کو بادشاہ منتخب فرمایا ہے۔ واللہ یوتی ملکہ من یشاء اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنا ملک عطا کرتا ہے واللہ واسع علیم اور اللہ تعالیٰ وسعت والا اور علم والا ہے وہ جس کو بادشاہی دیتا ہے اس کو مال و دولت سے بھی نواز سکتا ہے۔ اور جس کے اندر خود اس نے صلاحیت رکھی ہے۔ اس کو امیر بنادیتا ہے۔ یہ سب کچھ اس کے علم میں ہے۔ تابوت سکینہ اللہ کے نبی نے اللہ کے حکم سے اپنی قوم کے سامنے ایک معجزانہ نشانی کا اظہار فرمایا۔ تاکہ ان کی تسلی ہوجائے کہ طالوت کے متعلق اللہ تعالیٰ کا انتخاب بالکل درست ہے۔ قوم جانتی تھی کہ جب دشمن نے ان پر غلبہ حاصل کیا تھا تو سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے کا وہ مقدس صندوق بھی اٹھا کر قریہ پاریم میں لے گئے تھے۔ جس میں آل موسیٰ اور آل ہارون کے تبرکات تھے۔ جن میں موسیٰ کی لاٹھی ، تختی کے ٹکڑے ، تورات کا کچھ حصہ ، آپ کا لباس اور پاپوش وغیرہ تھے۔ یہ ایسی بابرکت چیز تھی کہ بنی اسرائیل سفرو حضر میں ہمیشہ اسے ساتھ رکھتے تھے یہ تابوت جنگ میں بھی اپنے ساتھ رکھتے تھے جسکی برکت سے اللہ انہیں فتح دیتا۔ تابوت سکینہ حضرت سلیمان کے زمانے تک بنی اسرائیل میں رہا۔ پھر آپ نے بیت المقدس میں ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے وقت وہاں رکھ دیا۔ اس کے بعد اس کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔ بعض کہتے ہیں کہ ہیکل سلیمانی میں دفن ہے غالباً اس لیے یہودی وہاں پر کھدائی کر رہے ہیں تاکہ وہ تابوت مل جائے۔ اگرچہ بنی اسرائیل کو تبرکات کے کھو جانے کا بڑاقلق تھا مگر وہ مجبور تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وقال لھم نبیھم ان کے نبی نے ان سے کہا ان اٰیۃ ملکہ ان یاتیکم التابوت تمہارے پاس وہ صندوق خود بخود آجائے گا فیہ سکینۃ من ربکم جس میں تمہارے رب کی طرف سے تسکین قلب ہے۔ و بقیۃ مما ترک اٰل موسیٰ واٰل ھٰرون اور کچھ بچی ہوئی چیزیں ہیں جنہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کی اولاد نے چھوڑا ہے۔ تحملہ الملکۃ اسے فرشتے اٹھا کر لائیں گے۔ یہ صندوق بیس سال تک دشمن کے قبضہ میں رہا۔ اللہ کی قدرت وہ جس بستی میں صندوق کو رکھتے تھے۔ وہاں وباء پھوٹ پڑتی اور وہ بستی تباہ ہوجاتی تھی۔ اس طرح پانچ بستیاں تباہ ہوگئیں تو ان لوگوں نے فیصلہ کیا کہ اس صندوق کو کسی طرح نکال دیاجائے۔ چناچہ انہوں نے صندوق بیل گاڑی پر رکھ کر بیلوں کو ایک طرف ہانک دیا۔ بیل چلتے چلتے طالوت کے دروازے پر پہنچ گئے اور اس طرح صندوق ان کے پاس آگیا۔ شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ صندوق اگرچہ بظاہر بیل گاڑی پر آیا تھا مگر اللہ کے حکم کے مطابق اسے فرشتے لائے تھے جو عام لوگوں کو نظر نہیں آتے تھے۔ انہوں نے ہی بیلوں کو طالوت کے دروازے پر لاکھڑا کیا تھا ان فی ذلک لایۃ لکم اس میں تمہارے لیے نشانیاں ہیں ان کنتم مومنین اگر تمہیں یقین و ایمان ہے۔ ان نشانیوں کو دیکھ کر بنی اسرائیل طالوت کے بادشاہ مقرر ہونے پر مطمئن ہوگئے۔ چناچہ قوم نے ان کی سرکردگی میں جہاد کرنے کا عزم بھی کرلیا۔ اب اللہ کا نبی سموئیل بھی موجود تھا اور طالوت بادشاہ بھی موجود تھا چناچہ وہ دشمن سے جنگ کے لیے نکلے جس کا ذکر اگلے درس میں آئے گا۔
Ayah 2:249

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِیَدِهٖ١ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:249 in the Quran reader

جب طالوت اپنے لشکر کے ہمراہ باہر نکلے تو انہوں نے کہا ، بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں آزمانے والا ہے ا یک نہر سے۔ پس جس نے نہر سے پانی پی لیا وہ مجھ سے نہیں ہے ۔ اور جس نے اس سے نہ چکھا بیشک وہ میرا ہے۔ ہاں جس نے ہاتھ سے پانی کا چلو بھر لیا وہ مستنثاء ہے۔ پس لوگوں نے اس میں سے پی لیا سوائے تھوڑے آدمیوں کے۔ پھر جب طالوت اور اس کے ہمراہ اہل ایمان نہر سے پائر ہوئے تو کہنے لگے کہ آج جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی ہمیں طاقت نہیں ہے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا یقین رکھتے تھے ، کہنے لگے کہ بہت دفعہ ایسا ہوا ہے کہ چھوٹی جماعتیں بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں اللہ کے حکم سے۔ اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

ربطہ آیات گذشتہ درس میں طالوت کے بطور بادشاہ تقرر کا بیان آچکا ہے جب اللہ کے نبی نے بنی اسرائیل کی درخواست کے مطابق طالوت کو بادشاہ مقرر کیا تو انہوں نے اسے اپنا امیر تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ کہنے لگے کہ یہ تو ایک غریب آدمی ہے اس کے پاس مال و دولت نہیں ہے ہم اسے اپنا بادشاہ کیسے تسلیم کرلیں۔ اس سے زیادہ تو بادشاہت کے ہم حقدار ہیں مگر اللہ کے نبی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے طالوت کو علم اور جسمانی طاقت سے نوازا ہے نیز یہ انتخاب اللہ تعالیٰ کا ہے جس کو چاہے بادشاہت دے دے۔ لہٰذا تمہیں اس پر معترض نہیں ہوناچاہئے۔ اللہ کے پیغمبر نے فرمایا کہ دیکھو طالوت کے تقرر کی ایک خاص نشانی یہ ہے کہ تمہارا وہ مقدس صندوق جس میں انبیائے سابقین کے بعض تبرکات محفوظ ہیں اور جسے تمہارے دشمن اٹھا کرلے گئے تھے۔ وہ تمہارے پاس فرشتے لے کر آئیں گے چناچہ ایسے ہی ہوا وہ مقدس صندوق ایک بیل گاڑی کے ذریعے خود بخود طالوت کے دروازے پر پہنچ گیا۔ اب قوم نے طالوت کو بادشاہ تسلیم کرلیا اور اس کی سرکردگی میں دشمن سے جنگ کے لیے تیار ہوگئے آج کے درس میں لشکر طالوت کی دشمن کے مقابلے کے لیے روانگی اور پھر راستے میں پیش آنے والے واقعات کا تذکر ہے۔ لشکر طالوت اور جالوت طالوت بادشاہ کی سرکردگی میں فوج کی تیاری شروع ہوئی۔ عام اعلان کیا گیا۔ کہ تمام کے تمام صحت مند جوان فوج میں بھرتی ہوجائیں۔ چناچہ اسی 80 ہزار کا لشکرجرار تیار ہوا دشمن بھی بڑا طاقتور تھا۔ قوم عمالقہ کا سردار جالوت تھا۔ دس فٹ قد کا یہ جوان بڑا طاقتور تھا اسے دیکھ کر دہشت آتی تھی۔ بائیبل کی روایتوں میں آتا ہے کہ جالوت کی ڈھال تین من وزنی تھی چہرہ چھوڑ کر اس کا باقی سارا جسم زرہ میں محبوس ہوتا تھا اس کے علاوہ بھی بڑے بڑے کڑیل جوان موجود تھے مگر سب کافر اور مشرک تھے۔ لشکر طالوت کا ان لوگوں کے ساتھ مقابلہ تھا۔ سپاہی کے اوصاف اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی لشکر بعض مخصوص اوصاف کا حامل ہوناچاہئے تاکہ اسے دشمن کے مقابلہ میں کامیابی حاصل ہو۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ کسی سپاہی میں حرص کا مادہ نہ ہو۔ اگر ان میں حرص اور لالچ پیدا ہوگیا تو وہ ناکام ہوجائیں گے۔ اس کے بجائے طبیعت میں استقلال ہوناچاہئے۔ چھوٹی چھوٹی آزمائشوں میں گھبرانا نہیں چاہیے۔ اسلام کے سپاہی کے لیے مستقل مزاجی ایک اچھی علامت ہے اس کے علاوہ صبر ملت ابراہیمی کا بہت بڑا اصول ہے۔ صبر ، شکر ، اللہ کا ذکر ، نماز عقیدہ توحید پر پختگی تعظیم شعائر اللہ اور دعا سب ایسے اصول ہیں۔ جو مسلمانوں کا طرہ امتیاز ہیں حضور ﷺ کے صحابہ کرام ؓ کے صبرو استقلال اور مصائب کو برداشت کرنے کے کتنے واقعات حدیث کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ انہوں نے بھوک ، پیاس اور ہر قسم کے ابتلا کو برداشت کیا مگر جہاد سے منہ نہیں موڑا۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابو عبیدہ ؓ کی معیت میں ایک اسلامی لشکر جہاد پر روانہ ہوا راستے میں راشن کی کمی واقع ہوگئی اور اس کی مقدار مٹھی بھر فی کس رہ گئی جب راشن بالکل تھوڑا رہ گیا تو ایک ایک کھجور حصے میں آنے لگی اور پھر وہ وقت بھی آیا جب کھجور کی گٹھلیوں کو چوس لیا جاتا اور اوپر سے پانی پی کر اللہ کا شکر ادا کیا جاتا جب بالکل کچھ نہ رہا تو درختوں کے پتے کھانے شروع کردئیے۔ کڑوے پتے کھا کھا کر صحابہ ؓ کی باچھیں پھٹ گئیں۔ حدیث کے لفظ تقرقت افواھھم ان کے منہ پھٹ گئے مگر اس قدر مصیبتیں جھیلنے اور تکلیفیں برداشت کرنے کے باوجود ان کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی بلکہ دشمن کے مقابلے میں سینہ سپر رہے اور اللہ تعالیٰ سے فتح و کامرانی کے لیے دعائیں کرتے رہے۔ اس کا بیان آگے آئے گا۔ لشکر کی آزمائش بعض اوقات سالار لشکر اپنے لشکر کی آزمائش بھی کرتا ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ فوج ہر قسم کی سختیاں برداشت کرنے کے قابل ہے یا نہیں اور بعض اوقات اس میں خاص مصلحت بھی ہوتی ہے جو امیر لشکر کے ذہن میں ہوتی ہے تو اس لحاظ سے ا میر کو حق حاصل ہے کہ وہ حالات کے پیش نظر فوج کو کوئی حکم دے ۔ جس کی بظاہر کوئی افادیت نہ ہو۔ حضور علیہالسلام کے اپنے زمانہ مبارک کا واقعہ ہے۔ حضرت عمرو بن العاص ؓ کو امیر لشکر بنا کر روانہ کیا۔ حضرت ابوبکر ؓ اور عمر ؓ فوج میں بطور سپاہی شامل تھے۔ جب دشمن کے قریب پہنچے تو ایک جنگل میں ڈیرہ لگایا۔ رات سخت سرد تھی مگر امیر لشکر نے حکم دیدیا کہ کوئی شخص آگ نہ جلائے۔ لوگ سخت حیران ہوئے کہ سردی میں ٹھٹھر رہے ہیں مگر آگ جلانے کی بھی ممانعت کردی گئی۔ نہ آگ جلی ، نہ کھانا پکا۔ لوگوں نے حضرت ابوبکر ؓ اور عمر ؓ سے گذارش کی کہ امیر لشکر کے پاس سفارش کریں۔ کہ آگ جلانے کی اجازت دیں ، مگر شیخین ؓ نے یہ کہ سفارش کرنے سے انکار کردیا کہ اس شخص کو حضور ﷺ نے امیر مقرر کیا ہے ا س کی اطاعت ہم پر لازم ہے آگ نہ جلانے میں بھی کوئی مصلحت ہوگی آخر علی الصبح امیر نے دشمن پر حملہ کرنے کا حکم دیدیا وہ لوگ اسلامی لشکر کی آمد سے بیخبر تھے۔ اچانک حملہ ہواتو ان کے پائوں اکھڑ گئے اور لشکر اسلام کو فتح نصیب ہوئی اس وقت لوگوں کو معلوم ہوا کہ اگر رات کو آگ روشن کرتے تو دشمن کو ہماری آمد کا پتہ چل جاتا اور وہ جنگ کے لیے تیار ہوجاتے۔ طالوت نے بھی اپنے لشکر کو اللہ کے حکم سے آزمائش میں ڈالا فلما فصل طالوت بالجنود جب طالوت لشکر کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ قال ان اللہ مبتیکم بنھرٍ کہا اللہ تعالیٰ تمہیں ایک نہر کے ذریعے آزمانا چاہتا ہے کہتے ہیں۔ کہ یہ ایک چھوٹی سی نہر ہے جو جیرون میں شمالاً جنوناً بہتی ہے پیچ و خم کے راستے اس کی کل لمبائی دو سو میل کے قریب ہے۔ تاہم براہ راست قریب ترین فاصلہ پینسٹھ میل بنتا ہے بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد دریائے اردن ہے جسے عبور کرکے دشمن کے مقابلہ پر جانا تھا جب لشکر اس نہر کے قریب پہنچا تو امیر لشکر نے اعلان کیا کہ تمہاری آزمائش کا وقت آگیا ہے۔ اگرچہ تم پیاس کی شدت میں مبتلا ہو مگر اللہ کا حکم یہ ہے کہ یہاں سے پانی نہیں پینا فمن شرب منہ فلیس منی جو کوئی اس حکم کی خلاف ورزی کرکے نہر کا پانی پی لیگا۔ وہ مجھ سے نہیں ہے یعنی میرا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ ومن لم یطعمہ فانہ منی اور جس نے اس پانی کو بالکل نہ چکھا ، بلاشبہ وہ مجھ سے ہے یعنی وہ میرے لشکر میں شامل رہیگا۔ ہاں اتنی گنجائش ہے الا من اعترف غرقۃ بیدہ کہ جو کوئی اپنے ہاتھ سے چلو بھرلے تو اس کی اجازت ہے اس سے زیادہ پانی پینے کی اجازت نہیں۔ فلیس منی کے الفاظ بہت سی احادیث مبارکہ میں بھی ملتے ہیں جہاں کہیں حضور ﷺ نے امت کو کسی کام سے روکا ، فرمایا جو ایسا کریگا فلیس منی وہ مجھ سے نہیں ہے۔ جیسے فرمایا من رغب عن سنتی فلیس منی جو میری سنت سے اعراض کرے ، وہ مجھ سے نہیں ہے یا جیسے فرمایا من لم یکرم ضیفنا فلیس منا جو ہمارے مہمان کی عزت نہیں کرتا وہ ہم سے نہیں یعنی وہ ہماری جماعت سے خارج ہے ایک اور مقام پر فرمایا من حمل علینا السلاح فلیس منا جو ہم پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ من غشنا فلیس منا جو کسی مسلمان کو دھوکا دے وہ بھی ہم میں سے نہیں ہے۔ وغیرہ وغیرہ اکثریت کی ناکامی غرض ! طالوت کے پانی سے منع کرنے کے باوجود فشربوامنہ الا قلیلاً منھم اسی ہزار کے لشکر میں سے اکثریت نے خوب پیٹ بھر کر پانی پیا ، سوائے ایک قلیل تعداد کے جنہوں نے امیر لشکر کے حکم پر صبرو استقامت کا دامن تھامے رکھا کہتے ہیں کہ ا س قلیل تعداد میں سے بعض نے تو بالکل نہ پیا اور بعض نے چلو بھر پانی لے لیا۔ جس کی اجازت تھی۔ حدیث شریف میں ان کی تعداد 313 آتی ہے اور یہ تعداد بدر کے جانثاروں کی تعداد کے برابر ہے بعض روائتوں میں 319 کا ذکر بھی آتا ہے۔ اسی ہزار کے لشکر میں صرف یہ قلیل تعداد آزمائش میں پوری اتری ، باقی کی غالب اکثریت پانی پینے کے بعد سستی اور کاہلی کا شکار ہوگئی حتیٰ کہ وہ آگے بڑنے سے بھی معذور ہوگئے اور نہر کے اسی پار ہی رک گئے۔ تین گروہ فلما جاوزہ ھو والدین اٰمنو معہ جب طالوت اور اس کے ہمراہی اہل ایمان نہر سے پار پہنچے تو سامنے جالوت کا لشکر موجود تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور دوسرے مفسرین کرام کے حوالہ سے مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ اس وقت طالوت کا لشکر تین گروہوں میں تقسیم ہوچکا تھا پہلا گروہ ناقص الایمان تھا ، جنہوں نے حکم کے خلاف سیر ہو کر پانی پیا اور لڑائی کے قابل نہ رہے دوسرا گروہ کامل الایمان لوگوں کا تھا جنہوں نے چلو بھر پانی پیا مگر یہ گروہ اپنی قلت تعداد کی بناء پر دشمن کے لشکر سے خوفزدہ تھا کہ اتنے بڑے لشکر سے مقابلہ کیسے ہوگا۔ کہتے ہیں کہ تیسرا گروہ اکمل الایمان تھے جن کا ایمان اتنا پختہ تھا کہ قلت و کثرت ان کے نزدیک بےمعنی چیز تھی۔ غرض ! پہلا گروہ وہ تو تھک ہار کر بیٹھ گیا۔ انہوں نے تو جنگ کی طرف منہ کرنے کی ہمت ہی نہیں کی۔ دوسرا گروہ کہنے لگا قالوالا طاقۃ لنا الیوم بجالوت و جنودہ اپنی قلت تعداد کی وجہ سے ہم جالوت اور اس کے لشکر سے لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اگر لڑائی شروع کی تو ہم مغلوب ہوجائیں گے۔ اسی ہزار کا لشکر لے کر نکلے تھے مگر اب صرف 313 باقی ہیں۔ یہ دشمن سے کیسے نبرد آزما ہوں گے تیسرا گروہ قال الذین یظنون انھم ملقو اللہ اور یہ ایسا گروہ تھا جسے یقین کامل تھا کہ انہیں ایک دن اللہ کے دربار میں حاضر ہونا ہے اگر بزدلی سے مر جائیں گے تو بھی اللہ کے ہاں پیشی ہے اور اسکی رضا کے لیے سر دھڑ کی بازی لگادیں گے تو پھر بھی جانا تو وہیں ہے وہ ہماری نیتوں سے واقف ہے لہٰذا انہوں نے لشکریوں کو تسلی دی کہ دیکھو تعداد کی قلت اور کثرت کی وجہ سے جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ اس کے لیے بامقصد اور پرخلوص جذبے کی ضرورت ہے۔ تم اپنی ہمت کے مطابق پوری قوت کے ساتھ ٹکرا جائو اور نتیجہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دو ۔ کیا تم تاریخی واقعات کو بھول چکے ہو۔ کم من فیۃ قلیلۃ کتنے ہی قلیل تعداد کے لشکر تھے غلبت فئۃً کثیرۃً باذن اللہ جو اللہ کے حکم سے کثیر التعداد لشکروں پر غالب آئے۔ تاریکی واقعات صحابہ کرام ؓ کے ایسے کتنے ہی واقعات تاریخ میں ملتے ہیں جن میں صحابہ ؓ کی قلیل تعداد دشمن کی کثیر تعداد پر غالب آئی۔ حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں ایک جنگ کا جو نقشہ سامنے آتا ہے۔ اس میں دشمن کا لشکر ساٹھ ہزار افراد پر مشتمل ہے جب کہ مسلمانوں کی تعداد صرف ساٹھ تھی اس واقعہ کے متعلق کسی شاعر نے کیا خوب کہا ؎ غراستون وھم ستون الفاً مع ھذا تولوا مدبرین اس معرکہ میں ایک ایک مومن ایک ایک ہزار کافر کے مقابلہ میں تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا کی۔ صرف دس مسلمان شہید ہوئے جب کہ کفار کے دس ہزار جہنم واصل ہوئے۔ بخاری شریف میں حضرت زبیر ؓ کا واقعہ آتا ہے آپ پونے دو لاکھ کفار کے لشکر میں تن تنہا کود گئے اور تلوار چلاتے ہوئے ایک سرے سے دوسرے سرے تک چلے گئے۔ گھوڑا دوڑاتے ہوئے پھر واپس آئے اور بیشمار کفار کو ہلاک کیا۔ جنگ احد کے متعلق طبری کی روایت ہے کہ پیغمبر خدا ﷺ کے روبر ایک بڑا سخت مرحلہ پیش آگیا۔ ساتھی تتر بتر ہوگئے اور آپ اکیلے رہ گئے اس نازک موقع پر انصار مدینہ میں سے حضرت ابو دجانہ ؓ نے حضور ﷺ کی حفاظت کیلئے اپنی پشت کو بطور ڈھال استعمال کیا۔ اور تلوار اور نیزے کے چوراسی زخم کھائے مگر آپ کی حفاظت کی۔ ایک اور موقع پر حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی تلوار میان سے نکالی اور فرمایا ، کون ہے جو اس کا حق ادا کرے گا۔ سب خاموش تھے کو ابو دجانہ ؓ بول اٹھے۔ حضور ! یہ مجھے عطا فرمائیں ، میں اس کا حق ادا کروں گا۔ اور پھر آپ نے واقعی اس کا حق ادا کر دکھایا۔ جب مسلیمہ کذاب نے دعویٰ نبوت کیا تو اس کے پاس چالیس ہزار کا لشکر تھا جو قلعہ بلند ہوچکا تھا مسلمانوں کا ایک قلیل لشکر حضرت خالد بن ولید ؓ کی قیادت میں سرکوبی کیلئے پہنچا مگر مضبوط قلعہ سر نہیں ہوتا تھا۔ آخر حضرت ابو دجانہ ؓ نے ایک تدبیر بتائی۔ کہنے لگے مجھے ٹوکری میں ڈال کر رات کی تاریکی میں کسی طرح قلعے کے اندر اتاردو باقی کام میں خود کرلوں گا۔ ایسا ہی کیا گیا حضرت ابو دجانہ ؓ نے ٹوکری سے نکل کر بےدریغ تلوار چلانا شروع کردی۔ دشمن میں افراتفری پیدا ہوگئی وہ سمجھے کہ مسلمانوں کا لشکر قلعے میں داخل ہوگیا ہے لہٰذا انہوں نے خود ہی قلعے کا دروازہ کھول دیا اس معرکے میں مسلمہ کے 28 ہزار آدمی مارے گئے کئی ہزار کفار صرف ابو دجانہ ؓ کی تلوار کا شکار ہوئے۔ غرض ! اُن اکمل الایمان لوگوں نے باقی سپاہیوں کو حوصلہ دیا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ اللہ ہماری قلیل تعداد کو کثیر تعداد پر غالب کریگا۔ لہٰذا تم صبر و استقامت کے ساتھ جنگ میں کو دجائو۔ واللہ مع الصبرین اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔ صبر ایسی ضروری چیز ہے جس کے بغیر نہ نماز ادا ہوسکتی ہے نہ روزہ کی بھوک پیاس برداشت ہوتی ہے۔ نہ جہاد میں حصہ لیا جاسکتا ہے اور نہ ہی تبلیغ کا کام کماحقہ ادا ہوسکتا ہے۔ صبر ملت ابراہیمی کا ایک اہم اصول ہے اس کو اپنانے والے ہمیشہ کامیاب و کامران ہوتے ہیں۔