اَرَءَیْتَ اِنْ كَانَ عَلَی الْهُدٰۤی ۟ۙاَرَءَيۡتَ اِنۡ كَانَ عَلَى الۡهُدٰٓىۙ
بھلا دیکھو تو اگر یہ راہِ راست پر ہو
— Fateh Muhammad Jalandhari
Have you seen if he is upon guidance
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
اَرَءَیْتَ اِنْ كَانَ عَلَی الْهُدٰۤی ۟ۙاَرَءَيۡتَ اِنۡ كَانَ عَلَى الۡهُدٰٓىۙ
بھلا دیکھو تو اگر یہ راہِ راست پر ہو
— Fateh Muhammad Jalandhari
Have you seen if he is upon guidance
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Alaq
تمہارا کیا خیال ہے اگر (وہ بندہ) راہ راست پر ہو
بھلا دیکھو تو اگر یہ راہِ راست پر ہو
بھلا بتلا تو اگر وه ہدایت پر ہو
بھلا بتلاؤ کہ اگر وہ (نماز پڑھنے والا) ہدایت پر ہو۔
بھلا دیکھو تو اگر وہ ہدایت پر ہوتا،
بھلا دیکھئے تو اگر وہ ہدایت پر ہوتا،
کیا تو نے دیکھا اگر وہ ہدایت پر ہو۔
ذرا سوچو تو، اگر وہ بندہ راہ راست پر ہو
بھلا دیکھو تو، اگر وہ ہدایت پر ہوا
بھلا دیکھو تو سہی کہ اگر وہ (عظیم الشان بندہ) راہ راست پر ہو
کیا تو نے دیکھا کہ وہ بندہ اگر حق پر ہو
کیا تم نے غور کیا اگر وہ شخص ہدایت پر ہوتا ؟
بھلا دیکھو تو اگر یہ راہ راست پر ہو
Did you consider: what if he is on the Right Way,
Tell me, if he is on the right path,
Tell me, if he is on the right path,
Have you seen if he is on the guidance
Hast thou seen if he relieth on the guidance (of Allah)
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Have you seen if he is upon guidance
What will happen if the praying person is rightly guided
Have you considered if he were on the right way,
Bethinkest thou, if he is himself guided,
Seest thou if he is on (the road of) Guidance?-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 6–19
طالب علم اور طالب دنیا : فرماتا ہے کہ انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اسکے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیے اور خیال رکھنا چاہیے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہوگا کہ لایا کہاں سے خرچ کہاں کیا ؟ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑافرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضامندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیاکا لالچی سرکشی اور خود پسندی میں بڑھتا رہتا ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
سورة العلق 10 بندے سے مراد خود رسول اللہ ﷺ ہیں۔ اس طریقے سے حضور کا ذکر قرآن مجید میں متعدد مقامات پر کیا گیا ہے، مثلا سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا (بنی اسرائیل 1) " پاک ہے وہ جو لے گیا اپنے بندے کو ایک رات مسجد حرام سے مسجد اقصی تک "۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلٰي عَبْدِهِ الْكِتٰبَ (الکہف۔ 1) " تعریف ہے اس خدا کے لیے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی " وَّاَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوْهُ كَادُوْا يَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِ لِبَدًا (الجن 19) " اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ اس کو پکارنے کے لیے کھڑا ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
ارءیت الذی ینھی عبداً اذا صلی، اس آیت سے آخر سورة تک ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہی کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو نماز پڑھنے کا حکم دیا اور آپ نے نماز پڑھنا شروع کی تو ابوجہل نے آپ کو نماز پڑھنے سے روکا اور دھمکی دی کہ آئندہ نماز پڑھیں گے اور سجدہ کریں گے تو وہ معاذ اللہ آپ کی گردن کو پاؤں سے کچل دے گا، اس کے جواب اور اس کو زجر کرنے کے لئے یہ آیات آئی ہیں ان میں فرمایا الم یعلم بان اللہ یریٰ یعنی کیا وہ یہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے، یہاں یہ ذکر نہیں فرمایا کہ کس کو دیکھ رہا ہے اس لئے عام اور شامل ہے کہ نماز پڑھنے والی بزرگ ہستی کو بھی دیکھ رہا ہے اور اس سے روکنے والے بدبخت کو بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
اقدام سے پہلے سوچنے کی ضرورت: یعنی اس مجنونانہ اقدام سے پہلے اسے سونچنا تھا کہ اسلام دشمنی کے جوش میں اسے اتنا اندھا نہیں بن جانا چاہیے کہ اپنے انجام کا بھی ہوش نہ رہے۔ آخر امکان اس بات کا بھی تو ہے کہ یہ اللہ کا بندہ نیکی اور ہدایت پر ہو اور اپنے قول و عمل سے تقویٰ کی راہ دکھا رہا ہو اور یہ اس کو اس سے روک کر اپنی شامت کو دعوت دے رہا ہو! مطلب یہ ہے کہ آخر کس دلیل سے وہ اپنے کو برحق سمجھ کر وہ کام کرنے اٹھ کھڑا ہوا جو شیطان کے کرنے کا ہے!
Read the full tafseer →11۔ 1 یعنی جس کو یہ نماز پڑھنے سے روک رہا ہے، وہ ہدایت پر ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–17
4: یعنی اپنے مال و دولت اور سرداری کی وجہ سے اپنے آپ کو بےنیاز اور بےپرواہ سمجھتا ہے کہ کوئی مجھے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا، اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ سب کو آخر کار اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹنا ہے، وہاں یہ ساری بےنیازی اور بےپروائی دھری رہ جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
قرآن اس تصویر کو نہایت ہی گھناﺅنی شکل میں لیکن نہایت ہی واضح انداز میں پیش کرتا ہے۔ انداز قرآن کا اپنا ہے ، جسے کوئی ادیب تحریری انداز نہیں دے سکتا۔ یہ ایک زندہ اور تابندہ تقریری انداز ہے جس میں نہایت ہی مختصر جھلکیوں کی شکل میں ، نہایت آسانی اور ہلک پھلکے انداز میں اور نہایت ہی تیز رفتار فلم کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔ ارءیت ” کیا تم نے دیکھا ؟ “۔ اس قسم کا مکروہ منظر بھی کبھی نظروں سے گزرا ہے۔ کیا آپ یقین کرسکتے ہیں کہ یوں بھی ہوسکتا ہے۔ ارءیت ........................ صلی (10:96) ” تم نے دیکھا اس شخص جو ایک بندے کو منع کرتا ہے جبکہ وہ نماز پڑھنے سے “۔ تم دیکھتے نہیں کہ یہ کس قدر برا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
1 یعنی نیک راہ پر ہوتا بھلے کام سکھاتا تو کیا اچھا آدمی ہوتا۔ اب جو منہ موڑا تو ہمارا کیا بگاڑا۔ کذا فی موضح القرآن وللمفسرین اقوال فی تفسیر ھا من شاء الاطلاع علیھا فلیراجع، روح المعانی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
آیت 12{ اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰی۔ } ”یا وہ تقویٰ کی تعلیم دیتا !“ جیسا کہ سورة اللیل کی آیت 10 کے ضمن میں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ ابوجہل کے کردار میں بہت سی مثبت خصوصیات بھی پائی جاتی تھیں۔ مثلاً وہ مال خرچ کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ صاف گو بھی تھا۔ اپنے ایمان نہ لانے کی وجہ بتاتے ہوئے اس نے بالکل کھری اور سچی بات کہی تھی کہ میں محمد ﷺ کو جھوٹا نہیں سمجھتا لیکن ہمارے خاندان نے چونکہ غرباء کو کھانے کھلانے اور حاجیوں کی خدمت کرنے میں ہمیشہ بنوہاشم کا مقابلہ کیا ہے ‘ اس لیے اب میں محمد ﷺ کی نبوت کی شہادت دے کر اپنے حریف خاندان کی بڑائی تسلیم نہیں کرسکتا۔ وہ جری اور بہادر ایسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
9 آپ کے بیت اللہ میں نماز پڑھنے پر ابوجہل کا سیخ پا ہونا اور متعدد بار حملے کرنا :۔ ایک دفعہ ابو جہل نے قریشی سرداروں سے کہا : محمد ﷺ تم لوگوں کے سامنے اپنا چہرہ خاک آلود کرتا ہے۔ (یعنی بیت اللہ میں نماز ادا کرنے کے دوران سجدہ کرتا ہے) لوگوں نے کہا : ہاں کہنے لگا : لات و عزیٰ کی قسم ! اگر میں نے اسے اب اس حال میں دیکھ لیا تو اس کی گردن روند ڈالوں گا اور اس کا چہرہ مٹی پر رگڑ دوں گا۔ اس کے بعد جب اس نے آپ کو کعبہ میں نماز پڑھتے دیکھا تو اس برے ارادے سے آپ کی طرف بڑھا۔ پھر اچانک پیچھے ہٹنے لگا۔ سرداران قریش نے جب اپنے رئیس کو اس حال میں دیکھا تو حیرانی سے پوچھا : ابوالحکم کیا ہوا ؟ وہ گھبرایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
8۔ (تو اسے عبادت سے روکنا کس درجہ اپنی شقاوت وخباثت کا ثبوت دینا ہے) (آیت) ” ان ..... بالتقوی “۔ یعنی وہ بندہ، کمالات لازمی ومتعدی کا جامع ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
دوسرے حصہ کا شان نزول : کلا ان الانسان لیطغنی اس سورت کا یہ حصہ اس وقت نازل ہوا جب رسول اللہ ﷺ نے حرم میں اسلامی طریقہ پر نماز پڑھنی شروع کی، ابوجہل نے آپ ﷺ کو ڈرا دھمکا کر اس سے روکنا چاہا، حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ ابوجہل نے قریش کے لوگوں سے کہا کہ محمد (ﷺ) تمہارے سامنے زمین پر اپنا منہ ٹیکتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا ہاں، اس نے کہا لات وعزی کی قسم اگر میں نے حرم میں ان کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو ان کی گردن پر پائوں رکھ دوں گا اور ان کا منہ زمین میں رگڑ دوں گا، پھر ایک روز ایسا ہوا کہ آنحضرت ﷺ کو حرم میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر وہ آگے بڑھا، تاکہ آپ ﷺ کی گردن پر پائوں رکھے، مگر…
Read the full tafseer →ارء یت . رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہے۔ اے محمد ﷺ ! کیا تم کو معلوم ہے کہ۔ ان کان علی الھدی . اگر وہ بندہ ہدایت پر ہو ‘ نماز پڑھنے میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
(9۔ 13) اگلی آیات ابو جہل کے بارے میں نازل ہوئی ہیں اس نے حالت نماز میں رسول اکرم ﷺ کی گردن مبارک پر پیر رکھنے کا ارادہ کیا تھا تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں بھلا اس شخص کا حال تو بتلا جو محمد کو نماز پڑھنے سے روکتا ہے اور وہ ہدایت یعنی نبوت واسلام پر ہیں اور دوسروں کو توحید کا حکم دیتے ہیں اور بوجہل توحید کو جھٹلاتا اور ایمان سے اعراض کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
(ارء یت الذی ینھی…: ان آیات میں ابوجلہ کے رویے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ فرمایا اے مخاطب ! بھلا تو نے اس شخص کو دیکھا جو اللہ کے بندے یعنی رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھنے سے منع کرتا ہے ؟ بھلا یہ بھی کوئی جرم ہے جس سے وہ منع کر رہا ہے ؟ پھر تو نے دیکھا، اگر یہ نماز پڑھنے والا راہ راست پر ہو یا امر بالمعروف کر رہا ہو تو کیا اس سے یہ سلوک ہونا چاہیے ؟ پھر کیا تو نے دیکھا کہ اگر یہم نع کرنے والا جھٹلا رہا ہو اور منہ موڑ رہا ہو تو کیا اسے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے ؟ آیت :(ارء یت ان کان علی الھدی ، او ام بالتقویٰ) کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ کیا تو نے دیکھا کہ یہ نماز سے منع کرنے والا نماز سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
ارءیت ان کان علی الھدی۔ او امر بالتقوی۔ اے ابوجہل بتاؤ، اگر محمد اس صفت (ہدایت) پر ہوں تو کیا تقوی اور نماز سے روکنے والاہلاک ہونے والا نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
1۔ ابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مکہ مکرمہ میں سب سے پہلے قرآن میں سے آیت اقرا باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وابن الضریس وابن الانباری فی المصاحف والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ وابو نعیم فی الحلیہ نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ آیت اقرا باسم ربک پہلی صورت ہے جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی۔ 3۔ بیہقی نے الدلائل میں ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو محمد بن عباس بن جعفر المخزومی (رح) نے یہ حدیث بیان کی اور انہوں نے اپنے بعض علماء سے سنا کہ قرآن مجید میں سے سب سے پہلے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر نازل فرمایا وہ آیت اقرا باسم ربک سے مالم یعلم تھا اور…
Read the full tafseer →اَرَءَيْتَ : کیا آپ ﷺ نے غور کیا ][ ان كَان : اگر وہ ہوتا ][ عَلَي الْهُدٰٓى: ہدایت پر ] (آیات۔ 11 ۔ 13) ان دونوں آیات میں اِنْ شرطیہ ہے۔ دونوں کا جوابِ شرط محذوف ہے جسے ترجمہ میں ظاہر کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
﴿ اَرَءَيْتَ اِنْ كَانَ عَلَى الْهُدٰۤىۙ0011﴾ (مخاطب تو ہی بتا کہ بندہ ہدایت پر ہے اور تقویٰ کا حکم دیا ہے اس کو نماز سے روکنا کتنی بڑی قبیح اور شنیع بات ہے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
آغاز وحی بامر قراۃ باسم رب العالمین ومذمت وتہدید برمخالفت رسول ﷺ خدا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اقراباسم ربک الذی خلق ...... الی ...... واسجد واقترب “۔ یہ بات اجماع امت سے ثابت ہے کہ وحی الہی کا آغاز سورة اقرا کی پہلی پانچ آیات یعنی (آیت) ” اقرا باسم ربک سے علم الانسان مالم یعلم “۔ تک کے نزول سے ہوا جمہور صحابہ اور روایات صحیحہ سے بھی ثابت ہے پھر تعلیم سوال اور نماز میں پڑھنے کے لیے سورة فاتحہ نازل ہوئی تو سورتوں میں نازل ہونے والی یہ پہلی سورت ہوئی، اسی بناء پر حضرت علی ؓ سے ایک روایت میں سورة فاتحہ کی اولیت بیان کی گئی، ان پانچ آیات کے نازل ہونے کے بعد کچھ عرصہ سلسلہ وحی منقطع رہا، اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
7:۔ ” ارایت الذی “ یہ ابو جہل اور دیگر مشرکین کے لیے زجر ہے۔ ” عبدا “ سے رسول اللہ ﷺ مراد ہیں۔ ” ارایت ان کان “ ضمیر غائب رسول اللہ ﷺ سے کنایہ ہے۔ ” ارایت ان کذب یہاں “ ضمیر غائب ابو جہل وغیرہ سے کنایہ ہے۔ ” الم یعلم بان اللہ یری “ یہ گذشتہ سارے مضمون کی جزاء ہے۔ یعنی یہ تو بتاؤ کہ اگر ہمارا بندہ (محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ۔ ہدایت پر بھی ہو اور تقوی و طہارت کا حکم بھی دیتا ہو اور ابو جہل اس کو نماز پڑھنے سے روکتا بھی ہو اور حق کو جھٹلاتا اور اس سے اعراض بھی کرتا ہو تو اسے معلوم نہیں کہ یہ سب اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔ فائدہ : ارایت، بمعنی اخبرنی ہے، یعنی اگر تجھے معلوم ہے تو بتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
گزشتہ سے پیوستہ سورۃ کی ابتدائی آیات میں انسان کا ذکر ہوا۔ اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تعلیم حاصل کرنے کا حکم دیا۔ جہالت کی تاریکی کو لفظ اقرا سے دور کیا۔ علم بالقلم سے قلم کی اہمیت واضح کی اور پھر علم الانسان مالم یعلم کے ذریعے انسان پر علم کی فضیلت بیان فرمائی کہ انسان میں کمال تعلیم کے ذریعے پیدا ہوتا ہے۔ اگر تعلیم نہ ہو ، تو انسان بیکار محض ہے۔ اس کی مثال علقہ یعنی گوشت کے لوتھڑے کی ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ بستہ خون کے لوتھڑے کو اپنی صفت تخلیق کے ساتھ اشرف المخلوقات انسان کی شکل میں پیدا فرماتا ہے اسی طرح وہ انسان کو جہالت اور نادانی کی تاریکیوں سے نکال کر علم کی روشنی سے منور کرتا ہے۔…
Read the full tafseer →اَرَءَيْتَ اِنْ كَانَ عَلَي الْہُدٰٓى 11 ۙ كان كَانَ «3» : عبارة عمّا مضی من الزمان، وفي كثير من وصف اللہ تعالیٰ تنبئ عن معنی الأزليّة، قال : وَكانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيماً [ الأحزاب/ 40] ، وَكانَ اللَّهُ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيراً [ الأحزاب/ 27] وما استعمل منه في جنس الشیء متعلّقا بوصف له هو موجود فيه فتنبيه علی أن ذلک الوصف لازم له، قلیل الانفکاک منه . نحو قوله في الإنسان : وَكانَ الْإِنْسانُ كَفُوراً [ الإسراء/ 67] وَكانَ الْإِنْسانُ قَتُوراً [ الإسراء/ 100] ، وَكانَ الْإِنْسانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا [ الكهف/ 54] فذلک تنبيه علی أن ذلک الوصف لازم له قلیل الانفکاک منه، وقوله في…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
ترکیب ¦ کلا فیہا اقوال (1) انھا بمعنی حقاد ھو مذہب الکسائی۔ لانہ لیس قبلھا رولا بعدھا شیء تکون کلار دًالہ ذکرہ الجر جانی صاحب النظم (2) روع دزجر لمن کفر الغامہ تعالیٰ بطغیا نہ وان لم یتقدم لہ ذکر (3) مذھب ابی حبان انھا بمعنی اَلَا التنبیہ نحوالا انھم ھم المفسدون فیقف علی ما قبلھا و علی الاول الوقف علیھا ان راہ بالنصب قال الاخفش اصلہ لان راہ فخذفت اللام کما یقال انکم لتطغون أن رایتم غناء کم۔ وقال ابن الصائغ ھو مفعول لہ ای یطغی لذاک۔ والرویۃ ھٰھنا بمعنی العلم ولو کانت بصریۃ لا تمنع الجمع بین الضمیرین فی فعلھا لشیء واحد لان ذلک من خواص علم و مثلہ فالمفعول الاول الضمیر فی رآء والثانی استغنیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
اَرَئَ یْتَ اِنْ کَانَ عَلَی الْھُدٰٓی۔ اَوْاَمَرَ بِالتَّقْوٰی۔ (العلق : 11، 12) (بھلا دیکھو تو اگر وہ (عبد) ہدایت پر ہوا۔ یا نیکی کا حکم دینے والا ہوا۔ ) امکانات پر غور کی ترغیب اوپر کی آیت میں جس شخص کی احمقانہ حرکت پر اظہارِنفرت کیا گیا اور لوگوں کو اس کی شناعت پر توجہ بھی دلائی گئی، اسی کے حوالے سے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ جس شخص نے یہ حرکت کی اور جن لوگوں نے اس پر اظہارِتحسین یا رضامندی کا اظہار کیا، انھیں ایک لمحہ کے لیے اس پر سوچ لینا چاہیے تھا کہ آخر امکان تو اس بات کا بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا نیک بندہ ہدایت پر ہو۔ یا وہ تبلیغ و دعوت کے ذریعے لوگوں کو تقویٰ کی راہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–19
فہم القرآن ربط کلام : باغی انسانوں میں ایک باغی کی مثال اور گھناؤنا کردار۔ مفسرین کی اکثریت نے اس آیت کا پہلا مصداق ابوجہل قرار دیا ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک دن ابوجہل قریشی سرداروں کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ جونہی محمد ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو اس کا سر کچل دوں گا۔ وہ یہ بات کررہا تھا کہ اچانک اللہ کے رسول ﷺ بیت اللہ میں داخل ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ اس کے ساتھیوں نے ابوجہل سے کہا کہ اٹھو اور اپنا وعدہ پورا کرو نبی ﷺ اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوئے تو ابوجہل پتھر لے کر آگے بڑھا ابھی آپ سے چند قدم دور تھا کہ گھبرا کر اپنے ساتھیوں کی طرف مڑا۔ اس کے ساتھیوں نے…
Read the full tafseer →11 : اَرَ ئَ یْتَ اِنْ کَانَ عَلَی الْھُدٰٓی (اے مخاطب بھلا یہ تو بتلا اگر وہ بندہ ہدایت پر ہو) یعنی اگر وہ روکنے والا سیدھے راستہ پر ہو اس بات میں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روکتا ہے۔
Read the full tafseer →11 ۔” ارایت ان کان علی الھدیٰ “ یعنی وہ بندہ جس کو روکا گیا ہے اور وہ محمد ﷺ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
6۔ 19۔ ان آیتوں کے شان نزول حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں جو ہے ان روایتوں کا حاصل یہ ہے کہ ابوجہل نے اپنے بتوں کی قسم کھا کر یہ کہا تھا کہ حرم شریف میں آنحضرت کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھے گا تو پیروں سے روند ڈالے گا ایک دن اس نے آپ ﷺ کو حرم میں نماز پڑھتے دیکھ کر قدم آگے بڑھایا کہ اپنی قسم پوری کرے لیکن پھر پیچھے ہٹ آیا لوگوں نے اس سے پیچھے ہٹ آنے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا مجھ کو ایک آگ کی خندق اور کچھ پر دار بازو نظر آئے۔ آنحضرت ﷺ نے اس کی یہ بات سن کر فرمایا کہ اگر ابوجہل ذرا میرے پاس اور اتا تو فرشتے اس کی بوٹیاں کر ڈالتے۔ اسی قصہ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اس طرح فرمایا کہ پہلے عام…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ اس متکبر اور سرکش سے فرماتا ہے (اَرَءَيْتَ اِنْ كَانَ عَلَي الْهُدٰٓى) بندہ جب نماز پڑھے اس کو نماز پڑھنے سے روکنے والے مجھے بتا بھلا نماز پڑھنے والابندہ اگر حق کا علم رکھنے والا اور اس پر عمل کرنے والا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
10 ۔ صفت عبدیت ایک نہایت ہی محمود و مطلوب صفت : سو ارشاد فرمایا گیا " کیا تم نے دیکھا نہیں اس شخص کو جو روکتا ہے اللہ کے بندے کو جبکہ وہ نماز پڑھتا ہے ؟ " یعنی کیا تم نے اس کے حال پر غور نہیں کیا کہ وہ کتنا بڑا شقی اور کس قدر بدبخت ہے کہ خود اپنے خالق ومالک کے آگے جھکنا تو درکنار، وہ دوسروں کو بھی اس سے روکتا ہے۔ صحیحین وغیرہ کی روایات میں ہے کہ ایسا ابو جہل لعین نے کیا تھا، جیسا کہ اگلے حواشی میں آرہا ہے، اس لیے حضرات مفسرین کرام کا اجماع و اتفاق ہے کہ ان آیات کریمہ کا اولین مصداق ابو جہل ہی ہے، انسان پر سب سے بڑا، سب سے پہلا، سب سے مقدم اور سب سے اہم جو حق واجب ہوتا ہے وہ اس کے اس خالق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
انسان کی سرکشی اور اس کا انجام تشریح : ان آیات میں انسان کی غلط سوچ عمل اور خراب انجام کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کو دلیل کے ساتھ ثابت کیا گیا ہے۔ کہ جو بھی ماحول ہو زمانہ ہو یا دنیا کا کوئی بھی علاقہ ہو وہاں یعنی ہمیشہ انسان کا یہی رویہ رہا ہے کہ کچھ تو اللہ کو اس کی رحمتوں سے پہچان کر اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اس کا شکر ادا کرتے ہیں جس کا بہترین طریقہ ہے اللہ کے حضور سجدہ کرنا اور کچھ ایسے خبیث فطرت ' ہٹ دھرم ' خود پسند اور نافرمان بیوقوف ہوتے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ خود ہی اللہ سے لاپرواہ اور نافرمان ہوجاتے ہیں بلکہ جو ان کے سامنے اللہ کی بات کرتے ہیں یا سجدہ کرتے ہیں وہ ان کو بھی برا بھلا کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة العلق۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ یہ پہلی پانچ آیات سب سے پہلی وحی ہیں جو غارحرا میں جبرائیل امین لائے تفصیل کتب میں دیکھی جاسکتی ہے مختصرا یہ کہ آپ غار حرا میں خلوت گیر ہوکرذات باری میں تفکر فرماتے اور ظہور کمال کی طلب بڑھتی کہ جبرائیل امین تشریف لائے پڑھنے کا حکم دیا جس پر آپ ﷺ نے فرمایا میں پڑھ نہیں سکتا تو انہوں نے تین بار بازوں میں لے کردبایا اور ہر بار پڑھنے کے لیے کہا اور یہ آیات نازل ہوئیں آپ پرہیبت وحی طاری ہوگئی کلام ذاتی تھا جس کے ساتھ ذاتی تجلیات بھی تھیں۔ حضرت خدیجہ پڑھی لکھی تھیں۔ آپ ﷺ گھرتشریف لائے حضرت خدیجہ سے فرمایا مجھے کمبل اوڑھا دیجئے انہوں نے صورت حال سنی تو عرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
ف 8 مطلب یہ ہے کہ ابوجہل مردود چاہے سیدھے راستہ پر ہو (جیسا کہ وہ اپنے آپ کو سمجھتا تھا اور چاہے دین حق کا منکر دونوں صورتوں میں اسے سمجھنا چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کی ہر حرکت کو دیکھ رہا ہے اور وہ یہ کبھی پسند نہیں کرتا کہ اس کے کسی بندے کو نماز پڑھنے سے روکا جائے۔
Read the full tafseer →(96:11) ارایت ان کان علی الھدی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔ اقرا۔ پڑھ۔ علق۔ جما ہو اخون۔ الاکرم۔ زیادہ محترم۔ یطغی۔ وہ سرکشی کرتا ہے۔ ینھی۔ وہ روکتا ہے۔ لم ینتہ۔ باز نہ آیا۔ نسفع۔ ہم گھسیٹیں گے۔ الناصیۃ ۔ پیشانی۔ نادیہ۔ اپنی جماعت کو۔ سندع۔ ہم بلائیں گے۔ الزبانیۃ۔ پیادے۔ اقترب۔ تو قریب ہوجا۔ تشریح : شب قدر میں قرآن کریم کی سب سے پہلی وہ آیات جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئیں سورة العلق کی ابتدائی پانچ آیات ہیں۔ اس کے بعد سورة مدثر کی ابتدائی آیتیں اور کافی عرصہ بعد سورة علق کی بقیہ چوہ آیات نازل ہوئی۔ امام بخاری (رح) نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ایک روایت نقل کی ہے جس کے ذریعہ سب سے پہلی وحی کی کیفیات کی تفصیلات کا علم پوری امت کو حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
(ف 3) یعنی آپ اس کی ہرگز پرواہ نہ کیجئے اور اس کی کسی بات پر کان نہ دھریے جہاں چاہو شوق سے اس کی عبات کرو اس کی بارگاہ میں سجدے کرکے بیش از بیش قرب حاصل کرتے رہو، نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ بندہ سب حالتوں سے زیادہ سجدہ میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
[6] ان آیات میں اشارہ ہے ابو جہل کی طرف جو رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھنے سے روکتا تھا اور دھمکی دیتا تھا کہ اگر آپ نماز پڑھیں گے تو وہ (نعوذ باللّٰہ) آپ کی گردن کو پاؤں سے دبا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
ابوجہل کی گستاخی 1: ان آیتوں میں ایک خاص واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ جب عبدکامل اظہار عبودیت ونیامندی کے لئے اللہ کے حضور میں کھڑے ہوتے ہیں تو ایک بدبخت ازلی مضحکہ اڑاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں ان کو ان کے سامنے جھکنے نہیں دوں گا ۔ اور اگر اب کی جھکیں گے تو ان کی گردن ناپوں گا ۔ گویا نماز سے روکتا ہے ۔ عبادت سے منع کرتا ہے ۔ محض اس جرم میں کہ وہ راہ راست پر گامزن کیوں ہیں اور تقویٰ وپرہیزگاری کی کیوں تلقین کرتے ہیں ۔ یہ محروم وبدنصیب دلائل نبوت کو دیکھتا ہے اور تکذیب و روگردانی کرتا ہے ۔ کیا یہ نہیں جانتا کہ اللہ اس کی ان حرکات کو جانتا ہے ۔ یہ عبد کامل حضور ﷺ ہیں ۔ اور یہ بدبخت ازل ابوجہل ہے ۔ حل…
Read the full tafseer →(11) اے مخاطب بھلا یہ تو بتا اگر وہ بندہ صحیح راہ پر قائم ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–17
ف 4۔ یہ آیت ابوجہل کے متعلق نازل ہوئی تھی جس نے آنحضرت ﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا تھا۔
Read the full tafseer →کیا تو نے دیکھا ہے کہ اگر وہ بندہ راہ راست پر ہو 11 ؎ زیر نظر آیت میں اس شخص کو مخاطب کیا گیا ہے جو اللہ کے بندے کو نماز پڑھنے سے روکنے والا ہے اور روکنے والے کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ جس کو تو نماز سے روکتا ہے اگر وہ ہدایت پر ہو تو تیرا کیا بنے گا ذرا انداز بیان پر غور کرو حالانکہ نماز پڑھنے والے کے ہدایت پر ہونے میں کیا شک ہے لیکن انداز بیان ایسا اختیار کیا گیا ہے کہ روکنے والے کی گر تفہیم ہوجائے تو وہ زیادہ بہتر ہے بجائے اس کے کہ اس کو جزبز کر کے متنفر کردیا جائے ۔ دوسرا مفہوم اس کا اس طرح ہے کہ فرمایا جا رہا ہے کہ اگر نماز سے روکنے والا ہدایت قبول کرلیتا اور لوگوں کو بھی نماز کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
Verses [ 9-10] أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَىٰ عَبْدًا إِذَا صَلَّىٰ أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَىٰ (Have you seen him who forbids a slave of Allah when he prays?) From here to the end of the Surah, the verses allude to an incident. When the Holy Prophet was enjoined to perform the salah, he started performing it at first privately, later in public in the Sacred Mosque. Abu Jahl stopped him from performing salah and threatened him that if he were to perform salah and prostrate, he would [ God forbid!] trample his neck. Verse [ 14] أَلَمْ يَعْلَم بِأَنَّ اللَّـهَ يَرَىٰ (Does he not know that…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
10 "A Servant" : the Holy Messenger of Allah himself. The Holy Prophet has been mentioned by this epithet at several places in the Qur'an. For example, "Glory be to Him Who transported His servant one night from the Masjid alHaram to the distant Temple." (Bani Isra'il: 1) ; "All praise is for Allah Who has sent down this Book to His servant." (AI-Kahf: 1) ; "And that when the servant of Allah stood up to pray, the people got ready to assault him." (Al-Jinn: 19) . This shows that it is a special style of love by which Allah makes mention of His Messenger Muhammad (upon whom be His peace and…
Read the full tafseer →