عَبْدًا اِذَا صَلّٰی ۟ؕعَبۡدًا اِذَا صَلّٰىؕ
(یعنی) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
A servant when he prays?
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
عَبْدًا اِذَا صَلّٰی ۟ؕعَبۡدًا اِذَا صَلّٰىؕ
(یعنی) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
A servant when he prays?
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Alaq
جو ایک بندے کو منع کرتا ہے جبکہ وہ نماز پڑھتا ہو؟
(یعنی) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے
جبکہ وه بنده نماز ادا کرتا ہے
جب وہ نماز پڑھتا ہے ؟
بندے کو جب وہ نماز پڑھے
(اﷲ کے) بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے۔ (یا:- (اللہ کے محبوب و برگزیدہ) بندے (محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب وہ نماز پڑھتے ہیں)،
ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے۔
جب بندہ نماز پڑھے۔
ایک بندے کو، جب وہ نماز پڑھتا ہے۔
(اللہ تعالیٰ کے) ایک عظیم الشان بندے کو جب کہ وہ نماز پڑھتا ہے
جب وہ نماز پڑھتا ہے۔
(ہمارے) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے۔
یعنی ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے۔
a servant (of Allah) when he prays?
a servant of Allah when he prays?
a servant of Allah when he prays?
A servant when he prays
A slave when he prayeth?
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
A servant when he prays?
a servant of Ours from prayer?
A servant when he prays?
A bondman of Ours when he prayeth *
A votary when he (turns) to pray?
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 6–19
طالب علم اور طالب دنیا : فرماتا ہے کہ انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اسکے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیے اور خیال رکھنا چاہیے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہوگا کہ لایا کہاں سے خرچ کہاں کیا ؟ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑافرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضامندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیاکا لالچی سرکشی اور خود پسندی میں بڑھتا رہتا ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
سورة العلق 10 بندے سے مراد خود رسول اللہ ﷺ ہیں۔ اس طریقے سے حضور کا ذکر قرآن مجید میں متعدد مقامات پر کیا گیا ہے، مثلا سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا (بنی اسرائیل 1) " پاک ہے وہ جو لے گیا اپنے بندے کو ایک رات مسجد حرام سے مسجد اقصی تک "۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلٰي عَبْدِهِ الْكِتٰبَ (الکہف۔ 1) " تعریف ہے اس خدا کے لیے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی " وَّاَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوْهُ كَادُوْا يَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِ لِبَدًا (الجن 19) " اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ اس کو پکارنے کے لیے کھڑا ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
ارءیت الذی ینھی عبداً اذا صلی، اس آیت سے آخر سورة تک ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہی کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو نماز پڑھنے کا حکم دیا اور آپ نے نماز پڑھنا شروع کی تو ابوجہل نے آپ کو نماز پڑھنے سے روکا اور دھمکی دی کہ آئندہ نماز پڑھیں گے اور سجدہ کریں گے تو وہ معاذ اللہ آپ کی گردن کو پاؤں سے کچل دے گا، اس کے جواب اور اس کو زجر کرنے کے لئے یہ آیات آئی ہیں ان میں فرمایا الم یعلم بان اللہ یریٰ یعنی کیا وہ یہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے، یہاں یہ ذکر نہیں فرمایا کہ کس کو دیکھ رہا ہے اس لئے عام اور شامل ہے کہ نماز پڑھنے والی بزرگ ہستی کو بھی دیکھ رہا ہے اور اس سے روکنے والے بدبخت کو بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
قریش کے گنڈوں کے طغیان کی ایک مثال: یہ ان کے اس طغیان کی ایک مثال بیان ہوئی ہے جس کا ذکر اوپر ہوا۔ فرمایا کہ بھلا دیکھو تو اس کو جو ایک بندے کو روکتا ہے جب کہ وہ نماز پڑھتا ہے! یہ قریش کے ان اشقیاء کی طرف اشارہ ہے جو آنحضرت ﷺ کو بھی اور دوسرے مسلمانوں کو بھی نماز سے روکتے تھے۔ بندے پر اس کے رب کا اولین حق اس کی بندگی ہے اور بندگی میں اولین درجہ نماز کا ہے اس وجہ سے جو بندہ نماز پڑھ رہا ہے وہ اپنے رب کا سب سے بڑا حق ادا کر رہا ہے اور سزاوار ہے کہ سب اس کے اس کام کو عزت و احترام کی نگاہوں سے دیکھیں اور اس کے عمل کو قابل تقلید جانیں۔ اگر کوئی اس چیز سے روکنے کی جسارت کرتا ہے تو اس کے معنی یہ…
Read the full tafseer →10۔ 1 مفسرین کہتے ہیں کہ روکنے والے سے مراد ابو جہل ہے جو اسلام کا شدید دشمن تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–17
4: یعنی اپنے مال و دولت اور سرداری کی وجہ سے اپنے آپ کو بےنیاز اور بےپرواہ سمجھتا ہے کہ کوئی مجھے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا، اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ سب کو آخر کار اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹنا ہے، وہاں یہ ساری بےنیازی اور بےپروائی دھری رہ جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
قرآن اس تصویر کو نہایت ہی گھناﺅنی شکل میں لیکن نہایت ہی واضح انداز میں پیش کرتا ہے۔ انداز قرآن کا اپنا ہے ، جسے کوئی ادیب تحریری انداز نہیں دے سکتا۔ یہ ایک زندہ اور تابندہ تقریری انداز ہے جس میں نہایت ہی مختصر جھلکیوں کی شکل میں ، نہایت آسانی اور ہلک پھلکے انداز میں اور نہایت ہی تیز رفتار فلم کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔ ارءیت ” کیا تم نے دیکھا ؟ “۔ اس قسم کا مکروہ منظر بھی کبھی نظروں سے گزرا ہے۔ کیا آپ یقین کرسکتے ہیں کہ یوں بھی ہوسکتا ہے۔ ارءیت ........................ صلی (10:96) ” تم نے دیکھا اس شخص جو ایک بندے کو منع کرتا ہے جبکہ وہ نماز پڑھنے سے “۔ تم دیکھتے نہیں کہ یہ کس قدر برا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
15 یعنی اس کی سرکشی اور تمرد کو دیکھو کہ خود کو تو اپنے رب کے سامنے جھکنے کی توفیق نہیں، دوسرا بندہ اگر خدا کے سامنے سربسجود ہوتا ہے اسے بھی نہیں دیکھ سکتا۔ ان آیات میں اشارہ ابو جہل ملعون کی طرف ہے۔ جب وہ حضرت کو نماز پڑھتے دیکھتا تو چڑاتا اور دھمکاتا تھا۔ اور طرح طرح سے ایذائیں پہنچانے کی سعی کرتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
آیت 10{ عَبْدًا اِذَا صَلّٰی۔ } ”ہمارے ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے۔“ یہ اشارہ ہے ابوجہل کی ان جسارت آمیز حرکات کی طرف جو وہ حضور ﷺ کو نماز سے روکنے کے لیے کیا کرتا تھا۔ مثلاً ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ خانہ کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے۔ ابوجہل نے آپ ﷺ کو دیکھا تو اونٹ کی اوجھڑی منگوا کر عین سجدے کی حالت میں آپ ﷺ کی پشت مبارک پر رکھوا دی۔ حضرت فاطمہ رض ابھی بچی تھیں ‘ ان کو پتا چلا تو آپ رض گھر سے بھاگم بھاگ حرم میں پہنچیں اور اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے اس غلاظت کو آپ ﷺ کے اوپر سے ہٹایا۔ اسی طرح ایک اور موقع پر ابوجہل نے آپ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھ کر آپ ﷺ کی گردن مبارک میں چادر ڈال کر اس قدر زور سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
9 آپ کے بیت اللہ میں نماز پڑھنے پر ابوجہل کا سیخ پا ہونا اور متعدد بار حملے کرنا :۔ ایک دفعہ ابو جہل نے قریشی سرداروں سے کہا : محمد ﷺ تم لوگوں کے سامنے اپنا چہرہ خاک آلود کرتا ہے۔ (یعنی بیت اللہ میں نماز ادا کرنے کے دوران سجدہ کرتا ہے) لوگوں نے کہا : ہاں کہنے لگا : لات و عزیٰ کی قسم ! اگر میں نے اسے اب اس حال میں دیکھ لیا تو اس کی گردن روند ڈالوں گا اور اس کا چہرہ مٹی پر رگڑ دوں گا۔ اس کے بعد جب اس نے آپ کو کعبہ میں نماز پڑھتے دیکھا تو اس برے ارادے سے آپ کی طرف بڑھا۔ پھر اچانک پیچھے ہٹنے لگا۔ سرداران قریش نے جب اپنے رئیس کو اس حال میں دیکھا تو حیرانی سے پوچھا : ابوالحکم کیا ہوا ؟ وہ گھبرایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
7۔ (اور وہ روکنے والا نماز اور عبادت کو مبغوض رکھتا ہے) (آیت) ” عبدا “۔ بندۂ خاص سے اشارہ رسول اللہ ﷺ کی جانب ہونا بالکل ظاہر ہے، اور روکنے والے سے مراد ابوجہل سے لی گئی ہے، فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر کسی مقتضائے شرعی ہی سے کسی کو نماز سے روکا جائے تو ظاہر ہے کہ وہ اس وعید میں نہیں آتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
دوسرے حصہ کا شان نزول : کلا ان الانسان لیطغنی اس سورت کا یہ حصہ اس وقت نازل ہوا جب رسول اللہ ﷺ نے حرم میں اسلامی طریقہ پر نماز پڑھنی شروع کی، ابوجہل نے آپ ﷺ کو ڈرا دھمکا کر اس سے روکنا چاہا، حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ ابوجہل نے قریش کے لوگوں سے کہا کہ محمد (ﷺ) تمہارے سامنے زمین پر اپنا منہ ٹیکتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا ہاں، اس نے کہا لات وعزی کی قسم اگر میں نے حرم میں ان کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو ان کی گردن پر پائوں رکھ دوں گا اور ان کا منہ زمین میں رگڑ دوں گا، پھر ایک روز ایسا ہوا کہ آنحضرت ﷺ کو حرم میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر وہ آگے بڑھا، تاکہ آپ ﷺ کی گردن پر پائوں رکھے، مگر…
Read the full tafseer →عبد اذا صلی الّذی سے صلّٰی تک ارء یت کا پہلا مفعول ہے اور دوسرا مفعول کیف یطعّٰی محذوف ہے۔ مگر حکم مذکور میں ہے ‘ اصل کلام اس طرح تھا : ارء یت الّذی ینھٰی عبدًا اذا صلّٰی کیف یطغٰی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
(9۔ 13) اگلی آیات ابو جہل کے بارے میں نازل ہوئی ہیں اس نے حالت نماز میں رسول اکرم ﷺ کی گردن مبارک پر پیر رکھنے کا ارادہ کیا تھا تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں بھلا اس شخص کا حال تو بتلا جو محمد کو نماز پڑھنے سے روکتا ہے اور وہ ہدایت یعنی نبوت واسلام پر ہیں اور دوسروں کو توحید کا حکم دیتے ہیں اور بوجہل توحید کو جھٹلاتا اور ایمان سے اعراض کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
(ارء یت الذی ینھی…: ان آیات میں ابوجلہ کے رویے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ فرمایا اے مخاطب ! بھلا تو نے اس شخص کو دیکھا جو اللہ کے بندے یعنی رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھنے سے منع کرتا ہے ؟ بھلا یہ بھی کوئی جرم ہے جس سے وہ منع کر رہا ہے ؟ پھر تو نے دیکھا، اگر یہ نماز پڑھنے والا راہ راست پر ہو یا امر بالمعروف کر رہا ہو تو کیا اس سے یہ سلوک ہونا چاہیے ؟ پھر کیا تو نے دیکھا کہ اگر یہم نع کرنے والا جھٹلا رہا ہو اور منہ موڑ رہا ہو تو کیا اسے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے ؟ آیت :(ارء یت ان کان علی الھدی ، او ام بالتقویٰ) کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ کیا تو نے دیکھا کہ یہ نماز سے منع کرنے والا نماز سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
ارءیت ان کان علی الھدی۔ او امر بالتقوی۔ اے ابوجہل بتاؤ، اگر محمد اس صفت (ہدایت) پر ہوں تو کیا تقوی اور نماز سے روکنے والاہلاک ہونے والا نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
1۔ ابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مکہ مکرمہ میں سب سے پہلے قرآن میں سے آیت اقرا باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وابن الضریس وابن الانباری فی المصاحف والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ وابو نعیم فی الحلیہ نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ آیت اقرا باسم ربک پہلی صورت ہے جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی۔ 3۔ بیہقی نے الدلائل میں ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو محمد بن عباس بن جعفر المخزومی (رح) نے یہ حدیث بیان کی اور انہوں نے اپنے بعض علماء سے سنا کہ قرآن مجید میں سے سب سے پہلے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر نازل فرمایا وہ آیت اقرا باسم ربک سے مالم یعلم تھا اور…
Read the full tafseer →[عَبْدًا اِذَا صَلّٰى: ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
﴿ اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يَنْهٰىۙ009 عَبْدًا اِذَا صَلّٰى ؕ0010﴾ ( اے مخاطب تو بتا کہ جو شخص بندہ کو منع کرتا ہے جب وہ نماز پڑھتا ہے اس کا کیسا عجیب اور قبیح حال ہے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
آغاز وحی بامر قراۃ باسم رب العالمین ومذمت وتہدید برمخالفت رسول ﷺ خدا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اقراباسم ربک الذی خلق ...... الی ...... واسجد واقترب “۔ یہ بات اجماع امت سے ثابت ہے کہ وحی الہی کا آغاز سورة اقرا کی پہلی پانچ آیات یعنی (آیت) ” اقرا باسم ربک سے علم الانسان مالم یعلم “۔ تک کے نزول سے ہوا جمہور صحابہ اور روایات صحیحہ سے بھی ثابت ہے پھر تعلیم سوال اور نماز میں پڑھنے کے لیے سورة فاتحہ نازل ہوئی تو سورتوں میں نازل ہونے والی یہ پہلی سورت ہوئی، اسی بناء پر حضرت علی ؓ سے ایک روایت میں سورة فاتحہ کی اولیت بیان کی گئی، ان پانچ آیات کے نازل ہونے کے بعد کچھ عرصہ سلسلہ وحی منقطع رہا، اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
7:۔ ” ارایت الذی “ یہ ابو جہل اور دیگر مشرکین کے لیے زجر ہے۔ ” عبدا “ سے رسول اللہ ﷺ مراد ہیں۔ ” ارایت ان کان “ ضمیر غائب رسول اللہ ﷺ سے کنایہ ہے۔ ” ارایت ان کذب یہاں “ ضمیر غائب ابو جہل وغیرہ سے کنایہ ہے۔ ” الم یعلم بان اللہ یری “ یہ گذشتہ سارے مضمون کی جزاء ہے۔ یعنی یہ تو بتاؤ کہ اگر ہمارا بندہ (محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ۔ ہدایت پر بھی ہو اور تقوی و طہارت کا حکم بھی دیتا ہو اور ابو جہل اس کو نماز پڑھنے سے روکتا بھی ہو اور حق کو جھٹلاتا اور اس سے اعراض بھی کرتا ہو تو اسے معلوم نہیں کہ یہ سب اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔ فائدہ : ارایت، بمعنی اخبرنی ہے، یعنی اگر تجھے معلوم ہے تو بتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
گزشتہ سے پیوستہ سورۃ کی ابتدائی آیات میں انسان کا ذکر ہوا۔ اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تعلیم حاصل کرنے کا حکم دیا۔ جہالت کی تاریکی کو لفظ اقرا سے دور کیا۔ علم بالقلم سے قلم کی اہمیت واضح کی اور پھر علم الانسان مالم یعلم کے ذریعے انسان پر علم کی فضیلت بیان فرمائی کہ انسان میں کمال تعلیم کے ذریعے پیدا ہوتا ہے۔ اگر تعلیم نہ ہو ، تو انسان بیکار محض ہے۔ اس کی مثال علقہ یعنی گوشت کے لوتھڑے کی ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ بستہ خون کے لوتھڑے کو اپنی صفت تخلیق کے ساتھ اشرف المخلوقات انسان کی شکل میں پیدا فرماتا ہے اسی طرح وہ انسان کو جہالت اور نادانی کی تاریکیوں سے نکال کر علم کی روشنی سے منور کرتا ہے۔…
Read the full tafseer →عَبْدًا اِذَا صَلّٰى 10 ۭ عبد والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب : الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] ، وعَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] . الثاني : عَبْدٌ بالإيجاد، وذلک ليس إلّا لله، وإيّاه قصد بقوله : إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] . والثالث : عَبْدٌ بالعِبَادَةِ والخدمة، والناس في هذا ضربان : عبد لله مخلص، وهو المقصود بقوله : وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] ، إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] ، نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
ترکیب ¦ کلا فیہا اقوال (1) انھا بمعنی حقاد ھو مذہب الکسائی۔ لانہ لیس قبلھا رولا بعدھا شیء تکون کلار دًالہ ذکرہ الجر جانی صاحب النظم (2) روع دزجر لمن کفر الغامہ تعالیٰ بطغیا نہ وان لم یتقدم لہ ذکر (3) مذھب ابی حبان انھا بمعنی اَلَا التنبیہ نحوالا انھم ھم المفسدون فیقف علی ما قبلھا و علی الاول الوقف علیھا ان راہ بالنصب قال الاخفش اصلہ لان راہ فخذفت اللام کما یقال انکم لتطغون أن رایتم غناء کم۔ وقال ابن الصائغ ھو مفعول لہ ای یطغی لذاک۔ والرویۃ ھٰھنا بمعنی العلم ولو کانت بصریۃ لا تمنع الجمع بین الضمیرین فی فعلھا لشیء واحد لان ذلک من خواص علم و مثلہ فالمفعول الاول الضمیر فی رآء والثانی استغنیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
اَرَئَ یْتَ الَّذِیْ یَنْھٰی۔ عَبْدًا اِذَا صَلّٰی۔ (العلق : 9، 10) (ذرا دیکھو تو اس کو جو روکتا ہے۔ ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے۔ ) قریش کے رویئے کی ایک مثال اَرَئَ یْتَ … یہ گفتگو کا ایک اسلوب ہے۔ اس اسلوب میں بات اس وقت کی جاتی ہے جب کسی شخص کی نہایت نامناسب حرکت پر لوگوں کو توجہ دلانا یا اس پر نکیر کرنا مقصود ہوتا ہے۔ جیسے ہم اپنی زبان میں کسی شخص کی نہایت مکروہ حرکت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ذرا اس کو تو دیکھو، تم نے ذرا اس کا حال دیکھا۔ اسی طرح یہاں بھی اشرافِ قریش میں سے کسی کی نہایت نازیبا حرکت پر اظہارِنفرین کیا جارہا ہے اور دوسرے لوگوں کو اس پر توجہ دلائی جارہی ہے۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–19
فہم القرآن ربط کلام : باغی انسانوں میں ایک باغی کی مثال اور گھناؤنا کردار۔ مفسرین کی اکثریت نے اس آیت کا پہلا مصداق ابوجہل قرار دیا ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک دن ابوجہل قریشی سرداروں کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ جونہی محمد ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو اس کا سر کچل دوں گا۔ وہ یہ بات کررہا تھا کہ اچانک اللہ کے رسول ﷺ بیت اللہ میں داخل ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ اس کے ساتھیوں نے ابوجہل سے کہا کہ اٹھو اور اپنا وعدہ پورا کرو نبی ﷺ اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوئے تو ابوجہل پتھر لے کر آگے بڑھا ابھی آپ سے چند قدم دور تھا کہ گھبرا کر اپنے ساتھیوں کی طرف مڑا۔ اس کے ساتھیوں نے…
Read the full tafseer →10 : عَبْدًا اِذَا صَلّٰی (ایک بندہ کو جب وہ نماز پڑھتا ہے) یعنی کیا تم نے ابو جہل کو دیکھا کہ وہ محمد ﷺ کو نماز سے منع کرتا ہے۔
Read the full tafseer →10 ۔ عبدا اذا صلی “ ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس نے نبی کریم ﷺ کو نماز سے روکا تھا۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں ابوجہل نے کہا کیا محمد ( ﷺ ) اپنے چہرے کو تمہارے سامنے خاک آلود کرتے ہیں ؟ کہا گیا ہاں تو اس نے لات وعزیٰ کی قسم، اگر میں نے ان کو دیکھ لیا تو میں ان کی گردن کو ضرور رونددوں گا اور میں ان کے چہرے کو مٹی میں خوب لت پت کردوں گا۔ فرماتے ہیں پھر ابوجہل رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ (علیہ السلام) نماز پڑھ رہے تھے۔ اس کا خیال تھا کہ وہ آپ ﷺ کی گردن روند دے گا۔ پس اچانک وہ اپنی ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹنے لگا اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے کسی چیز سے بچنے لگا۔ اس کو کہا گیا اے ابوالحکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
6۔ 19۔ ان آیتوں کے شان نزول حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں جو ہے ان روایتوں کا حاصل یہ ہے کہ ابوجہل نے اپنے بتوں کی قسم کھا کر یہ کہا تھا کہ حرم شریف میں آنحضرت کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھے گا تو پیروں سے روند ڈالے گا ایک دن اس نے آپ ﷺ کو حرم میں نماز پڑھتے دیکھ کر قدم آگے بڑھایا کہ اپنی قسم پوری کرے لیکن پھر پیچھے ہٹ آیا لوگوں نے اس سے پیچھے ہٹ آنے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا مجھ کو ایک آگ کی خندق اور کچھ پر دار بازو نظر آئے۔ آنحضرت ﷺ نے اس کی یہ بات سن کر فرمایا کہ اگر ابوجہل ذرا میرے پاس اور اتا تو فرشتے اس کی بوٹیاں کر ڈالتے۔ اسی قصہ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اس طرح فرمایا کہ پہلے عام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–10
(اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ ) پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے یعنی آپ کا رب بہت زیادہ اور وسیع صفات کا مالک ہے بہت زیادہ کرم و احسان اور بےپایاں جودو والا ہے جس کا کرم یہ ہے کہ اس نے مختلف انواع کے علوم کے ذریعے سے تعلیم دی اور (الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۔ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ۭ ) قلم کے ذریعے سے سکھایا اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماں کے پیٹ سے نکالا، وہ اس وقت کچھ نہیں جانتا تھا اس کو سماعت بصارت اور عقل سے بہرور کیا اس کے لیے حصول علم کے تمام اسباب آسان کیے اسے قرآن کی تعلیم دی حکمت سکھائی اور قلم کے ساتھ علم عطا کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
10 ۔ صفت عبدیت ایک نہایت ہی محمود و مطلوب صفت : سو ارشاد فرمایا گیا " کیا تم نے دیکھا نہیں اس شخص کو جو روکتا ہے اللہ کے بندے کو جبکہ وہ نماز پڑھتا ہے ؟ " یعنی کیا تم نے اس کے حال پر غور نہیں کیا کہ وہ کتنا بڑا شقی اور کس قدر بدبخت ہے کہ خود اپنے خالق ومالک کے آگے جھکنا تو درکنار، وہ دوسروں کو بھی اس سے روکتا ہے۔ صحیحین وغیرہ کی روایات میں ہے کہ ایسا ابو جہل لعین نے کیا تھا، جیسا کہ اگلے حواشی میں آرہا ہے، اس لیے حضرات مفسرین کرام کا اجماع و اتفاق ہے کہ ان آیات کریمہ کا اولین مصداق ابو جہل ہی ہے، انسان پر سب سے بڑا، سب سے پہلا، سب سے مقدم اور سب سے اہم جو حق واجب ہوتا ہے وہ اس کے اس خالق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
انسان کی سرکشی اور اس کا انجام تشریح : ان آیات میں انسان کی غلط سوچ عمل اور خراب انجام کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کو دلیل کے ساتھ ثابت کیا گیا ہے۔ کہ جو بھی ماحول ہو زمانہ ہو یا دنیا کا کوئی بھی علاقہ ہو وہاں یعنی ہمیشہ انسان کا یہی رویہ رہا ہے کہ کچھ تو اللہ کو اس کی رحمتوں سے پہچان کر اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اس کا شکر ادا کرتے ہیں جس کا بہترین طریقہ ہے اللہ کے حضور سجدہ کرنا اور کچھ ایسے خبیث فطرت ' ہٹ دھرم ' خود پسند اور نافرمان بیوقوف ہوتے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ خود ہی اللہ سے لاپرواہ اور نافرمان ہوجاتے ہیں بلکہ جو ان کے سامنے اللہ کی بات کرتے ہیں یا سجدہ کرتے ہیں وہ ان کو بھی برا بھلا کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة العلق۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ یہ پہلی پانچ آیات سب سے پہلی وحی ہیں جو غارحرا میں جبرائیل امین لائے تفصیل کتب میں دیکھی جاسکتی ہے مختصرا یہ کہ آپ غار حرا میں خلوت گیر ہوکرذات باری میں تفکر فرماتے اور ظہور کمال کی طلب بڑھتی کہ جبرائیل امین تشریف لائے پڑھنے کا حکم دیا جس پر آپ ﷺ نے فرمایا میں پڑھ نہیں سکتا تو انہوں نے تین بار بازوں میں لے کردبایا اور ہر بار پڑھنے کے لیے کہا اور یہ آیات نازل ہوئیں آپ پرہیبت وحی طاری ہوگئی کلام ذاتی تھا جس کے ساتھ ذاتی تجلیات بھی تھیں۔ حضرت خدیجہ پڑھی لکھی تھیں۔ آپ ﷺ گھرتشریف لائے حضرت خدیجہ سے فرمایا مجھے کمبل اوڑھا دیجئے انہوں نے صورت حال سنی تو عرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
ف 8 مطلب یہ ہے کہ ابوجہل مردود چاہے سیدھے راستہ پر ہو (جیسا کہ وہ اپنے آپ کو سمجھتا تھا اور چاہے دین حق کا منکر دونوں صورتوں میں اسے سمجھنا چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کی ہر حرکت کو دیکھ رہا ہے اور وہ یہ کبھی پسند نہیں کرتا کہ اس کے کسی بندے کو نماز پڑھنے سے روکا جائے۔
Read the full tafseer →(96:10) عبدا اذا صلی : ارایت (کیا تو نے دیکھا) بمعنی اخبرنی (تو مجھے بتا) آیا ہے۔ اس میں ہمزہ اولی محض استفہام کے لئے نہیں ہے بلکہ تقریر و تنبیہ کے لئے ہے۔ رایت کا فاعل ضمیر مستتر ہے یعنی انت الذی اسم موصول ینھی عبدا اس کا صلہ۔ (عبدا مفعول فعل ینہی کا) ۔ ینہی فعل مضارع واحد مذکر غائب نہی (باب فتح) مصدر سے۔ وہ منع کرتا ہے۔ وہ روکتا ہے) موصول اور صلہ مل کر ارایت کا مفعول ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ اے مخاطب : یعنی رسول کریم ﷺ کیا تو نے دیکھا بھلا بتاؤ تو سہی اس شخص کے متعلق جو منع کرتا ہے یا روکتا ہے ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے۔ اس میں نماز پڑھنے والے سے مراد رسول کریم ﷺ ہیں اور روکنے والا ابو جہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔ اقرا۔ پڑھ۔ علق۔ جما ہو اخون۔ الاکرم۔ زیادہ محترم۔ یطغی۔ وہ سرکشی کرتا ہے۔ ینھی۔ وہ روکتا ہے۔ لم ینتہ۔ باز نہ آیا۔ نسفع۔ ہم گھسیٹیں گے۔ الناصیۃ ۔ پیشانی۔ نادیہ۔ اپنی جماعت کو۔ سندع۔ ہم بلائیں گے۔ الزبانیۃ۔ پیادے۔ اقترب۔ تو قریب ہوجا۔ تشریح : شب قدر میں قرآن کریم کی سب سے پہلی وہ آیات جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئیں سورة العلق کی ابتدائی پانچ آیات ہیں۔ اس کے بعد سورة مدثر کی ابتدائی آیتیں اور کافی عرصہ بعد سورة علق کی بقیہ چوہ آیات نازل ہوئی۔ امام بخاری (رح) نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ایک روایت نقل کی ہے جس کے ذریعہ سب سے پہلی وحی کی کیفیات کی تفصیلات کا علم پوری امت کو حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
(ف 3) یعنی آپ اس کی ہرگز پرواہ نہ کیجئے اور اس کی کسی بات پر کان نہ دھریے جہاں چاہو شوق سے اس کی عبات کرو اس کی بارگاہ میں سجدے کرکے بیش از بیش قرب حاصل کرتے رہو، نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ بندہ سب حالتوں سے زیادہ سجدہ میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
[6] ان آیات میں اشارہ ہے ابو جہل کی طرف جو رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھنے سے روکتا تھا اور دھمکی دیتا تھا کہ اگر آپ نماز پڑھیں گے تو وہ (نعوذ باللّٰہ) آپ کی گردن کو پاؤں سے دبا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
ابوجہل کی گستاخی 1: ان آیتوں میں ایک خاص واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ جب عبدکامل اظہار عبودیت ونیامندی کے لئے اللہ کے حضور میں کھڑے ہوتے ہیں تو ایک بدبخت ازلی مضحکہ اڑاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں ان کو ان کے سامنے جھکنے نہیں دوں گا ۔ اور اگر اب کی جھکیں گے تو ان کی گردن ناپوں گا ۔ گویا نماز سے روکتا ہے ۔ عبادت سے منع کرتا ہے ۔ محض اس جرم میں کہ وہ راہ راست پر گامزن کیوں ہیں اور تقویٰ وپرہیزگاری کی کیوں تلقین کرتے ہیں ۔ یہ محروم وبدنصیب دلائل نبوت کو دیکھتا ہے اور تکذیب و روگردانی کرتا ہے ۔ کیا یہ نہیں جانتا کہ اللہ اس کی ان حرکات کو جانتا ہے ۔ یہ عبد کامل حضور ﷺ ہیں ۔ اور یہ بدبخت ازل ابوجہل ہے ۔ حل…
Read the full tafseer →(10) ایک خاص بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے - مطلب یہ ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نماز پڑھتے ہیں تو یہ نماز پڑھنے سے منع کرتا ہے یہ ابوجہل خبیث کی حالت ہے کہ ایک دن جب آپ نماز ادا کررہے تھے وہ بےادبی کی نیت سے چلا مگر قریب جاکر لوٹ آیا کسی نے دریافت کیا ان کی گردن پر کیوں نہیں کھڑا ہوگیا کہنے لگا میں نے وہاں پہنچ کر ایک آگ کی خندق دیکھی اورر اس میں کچھ پر دار چیزیں دیکھیں اس لئے میں لوٹ آیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–17
ف 4۔ یہ آیت ابوجہل کے متعلق نازل ہوئی تھی جس نے آنحضرت ﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا تھا۔
Read the full tafseer →روکا ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھتا تھا 10 ؎ ( عبد ًا) بندے کو اس لیے کہ اس وقت ابھی اجتماعی نماز فرض و لازم نہ تھی اور نہ ہی مکہ میں پڑھی جاتی تھی ۔ جو شخص بھی آپ ﷺ کو دیکھ کر نماز ادا کرتا تھا اسی طرح ادا کرتا تھا جس طرح آپ ﷺ پڑھتے تھے اور آپ ﷺ اسی طرح نماز ادا کرتے تھے جس طرح نماز فرض ہونے کے بعد ادا کرتے رہے کیونکہ مکہ میں جو نماز ادا کی جاتی تھی وہ بھی حرکات و سکنات کے لحاظ سے آپ ﷺ کے طریقہ کے مطابق تھی جو طریقہ آپ ﷺ نے وحی کے مطابق اختیار کیا تھا اگرچہ وہ بشارات اور خوابات نبوت کے مطابق تھا لیکن آج بھی خواہ کوئی کتنا غور کرے گا نماز کی حرکات کو عین عقل و فکر اور جذبہ سرشار محبت کے عین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
Verses [ 9-10] أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَىٰ عَبْدًا إِذَا صَلَّىٰ أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَىٰ (Have you seen him who forbids a slave of Allah when he prays?) From here to the end of the Surah, the verses allude to an incident. When the Holy Prophet was enjoined to perform the salah, he started performing it at first privately, later in public in the Sacred Mosque. Abu Jahl stopped him from performing salah and threatened him that if he were to perform salah and prostrate, he would [ God forbid!] trample his neck. Verse [ 14] أَلَمْ يَعْلَم بِأَنَّ اللَّـهَ يَرَىٰ (Does he not know that…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
10 "A Servant" : the Holy Messenger of Allah himself. The Holy Prophet has been mentioned by this epithet at several places in the Qur'an. For example, "Glory be to Him Who transported His servant one night from the Masjid alHaram to the distant Temple." (Bani Isra'il: 1) ; "All praise is for Allah Who has sent down this Book to His servant." (AI-Kahf: 1) ; "And that when the servant of Allah stood up to pray, the people got ready to assault him." (Al-Jinn: 19) . This shows that it is a special style of love by which Allah makes mention of His Messenger Muhammad (upon whom be His peace and…
Read the full tafseer →