Explained with ayahs 12–21
مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا :
یعنی حلال و حرام کا ظاہر کردینا ہمارے ذمے ہے، یہ بھی معنی ہیں کہ جو ہدایت پر چلا وہ یقینا ہم تک پہنچ جائیگاجی سے فرمایا وعلی اللہ قصد السبیل آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے۔ میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کردیا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور بار بار فرماتے جاتے تھے لوگو ! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو ! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں، بار بار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
سورة الَّیْل 10
یہ اس پرہیزگار آدمی کے خلوص کو مزید توضیح ہے کہ وہ اپنا مال جن لوگوں پر صرف کرتا ہے ان کا کوئی احسان پہلے سے اس پر نہ تھا کہ وہ اس کا بدلہ چکانے کے لیے، یا آئندہ ان سے مزید فائدہ اٹھانے کے لیے ان کو ہدیے اور تحفے دے رہا ہو اور ان کی دعوتیں کر رہا، بلکہ وہ اپنے رب برتر کی رضا جوئی کے لیے ایسے لوگوں کی مدد کر رہا ہے جن کا نہ پہلے اس پر کوئی احسان تھا، نہ آئندہ ان سے وہ کسی احسان کی توقع رکھتا ہے۔ اس کی بہترین مثال حضرت ابوبکر ؓ کا یہ فعل ہے کہ مکہ معظمہ میں جن بےکس غلاموں اور لونڈیوں نے اسلام قبول کیا تھا اور اس قصور میں جن کے مالک ان پر بےتحاشا ظلم توڑ رہے تھے ان کو خرید کر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
اسی کے مناسب آیت کا آخری جملہ ہے وما لاحد عندہ من نعمة تجزیٰ یعنی جن غلاموں پر حضرت صدیق اکبر نے یہ احسان عظیم فرمایا کہ زر کثیر خرچ کر کے خریدا اور آزاد کردیا، ان کا کوئی سابقہ احسان بھی ان کے ذمہ نہیں تھا جس کے بدلے میں یہ اقدام کرتے بلکہ الا ابتغآء وجہ ربہ الاعلیٰ یعنی ان کا مقصد اللہ تعالیٰ عالیشیان کی رضا جوئی کے سوا کچھ نہ تھا۔
مستدرک حاکم میں حضرت زبیر سے منقول ہے کہ صدیق اکبر کی یہ عادت بھی تھی کہ جس مسلمان کو کفار کے ہاتھ میں قیدی دیکھتے اس کو خرید کر آزاد کردیتے تھے اور یہ لوگ عموماً صنعفاء ہوتے تھے، صدیق اکبر کے والد حضرت ابوقحافہ نے ان سے فرمایا کہ جب تم غلاموں کو آزاد ہی کرتے ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
انفاق وہ مقبول ہے جو رضائے الٰہی کے لیے ہو:
یہ ’یُؤْتِیْ مَا لَہٗ یَتَزَکّٰی‘ کی وضاحت ہے۔ یعنی تزکیۂ نفس کے مقصد کے لیے وہ انفاق اللہ تعالیٰ کے نزدیک وزن رکھتا ہے جو صرف اس کی خوشنودی اور رضا جوئی کی خاطر کیا جائے، یہ غرض نہ ہو کہ کسی کو ممنون احسان کر کے اس سے کسی شکل میں اس کا بدلہ چاہا جائے۔ اوپر سورۂ دہر کی آیت
’لَا نُرِیْدُ مِنْکُمْ جَزَآءً وَّلَا شُکُوْرًا‘ (الدہر ۷۶: ۹)
(ہم کسی بدلے یا شکریہ کے طالب نہیں ہیں)
ہم نقل کر آئے ہیں۔ جومضمون اس آیت کا ہے۔ وہی مضمون دوسرے لفظوں میں یہاں بھی ہے۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ: بعض لوگوں نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ ’اور کسی کا اس پر احسان نہیں جس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
18۔ 1 یعنی جو اپنا مال اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کرتا ہے تاکہ اس کا نفس بھی اور اس کا مال بھی پاک ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
7: اس مختصر جملے میں نعمتوں کی ایک کائنات پوشیدہ ہے۔ یعنی جنت میں اس کو اپنے اعمال کا ایسا صلہ ملے گا کہ وہ صحیح معنوں میں خوش ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →وما لاحد ............................ الاعلی (20:92) ” اس پر کسی کا کوئی احسان نہیں ہے ، جس کا بدلہ اسے دینا ہو وہ تو صرف اپنے رب برتر کی رضاجوئی کے لئے یہ کام کررہا ہے “۔
ایسے شخص کو کیا انعام ملنے والا ہے ؟ جو متقی ہے ، جو اپنے مال کو محض پاک کرنے کے لئے خرچ کرتا ہے ، اور رب برتر کی خوشنوی کے لئے خرچ کرتا ہے۔ وہ جزاء اور وہ انجام جو ان صالح ارواح کو یہاں دکھائی جاتی ہے۔ بہت عجیب جزاء وانعام ہے۔ مروج طریقے سے ہٹ کر یہاں بالکل ایک نئے انعام کا اعلان کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
6 یعنی خرچ کرنے سے کسی مخلوق کے احسان کا بدلہ اتارنا مقصود نہیں۔ بلکہ خالص رضاء مولیٰ کی طلب اور دیدار الہٰی کی تمنا میں گھر بار لٹا رہا ہے، تو وہ اطمینان رکھے کہ اسے ضرور خوش کردیا جائے گا، اور اس کی یہ تمنا ضرور پوری ہو کر رہے گی۔ " ان اللہ لا یضیع اجرالمحسنین۔ " (تنبیہ) اگرچہ مضمون آیات کا عام لیکن روایات کثیر شاہد ہیں کہ ان آخری آیات کا نزول سیدنا حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی شان میں ہوا۔ اور یہ بہت بڑی دلیل ان کی فضیلت و برتری کی ہے زہے نصیب اس بندے کے جس کے اتقاء ہونے کی تصدیق آسمان سے ہو۔ ( اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ ) 49 ۔ الحجرات :13) اور خود حضرت حق سے اس کو ولسوف یرضٰی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
آیت 18{ الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَـہٗ یَتَزَکّٰی۔ } ”جو اپنا مال دیتا ہے اپنے نفس کو پاک کرنے کے لیے۔“
یعنی مال خرچ کرتے ہوئے دنیاداری کا کوئی مفاد اس کے پیش نظر نہیں ہوتا۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت ابوبکر صدیق رض نے حضرت بلال رض کو آزاد کرانے کے لیے امیہ بن خلف کو جب منہ مانگی قیمت ادا کی تو اس پر امیہ خود بھی حیران رہ گیا۔ دوسری طرف حضرت ابوبکر رض کے والد حضرت ابوقحافہ رض آپ رض فتح مکہ کے بعد ایمان لائے تھے نے بھی آپ رض سے گلہ کیا کہ اتنی بڑی رقم تم نے کسی طاقتور غلام پر کیوں نہ خرچ کی جو تمہارے کام بھی آتا ! اس زمانے میں اگر کوئی شخص کسی غلام کو آزاد کراتا تھا تو وہ غلام زندگی بھر اسی شخصیت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
9 یعنی جو مال اس نے خرچ کیا اس سے شہرت یا نمود و نمائش مقصود نہیں تھی بلکہ مقصود یہ تھا کہ اس کا دل بخل کے مرض سے پاک ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
9۔ (ان نعمتوں سے جو اسے جنت میں حاصل ہوں گی) حدیث صحیح میں آیا ہے کہ یہ بشارت جب نازل ہوئی، تو حضور ﷺ نے دوسری بڑی بشارت اپنی زبان مبارک سے دی، یعنی یہ فرماما کہ میں تو اسی وقت خوش ومطمئن ہوں گا، جب میری امت میں سے ایک فرد بھی دوزخ میں نہ رہ جائے، مفسرین نے کہا ہے کہ آیت سے اشارہ خصوصی صدیق امت حضرت ابوبکر ؓ کی جانب ہے، جس طرح کہ اس سے قبل کی آیتوں میں اس کے مقابل (آیت) ” الاشقی “۔ سے اشارۂ خصوصی ابوجہل کی طرف ہے۔ (آیت) ” ولسوف “ ‘۔ ل تاکید مضمون کے لئے ہے۔ واللام الداخلۃ علی سوف لام الابتداء المؤکدۃ لمضمون الجملۃ (مدارک) آیت سے مومن متقی کے کمال اخلاص کا اظہار منظور ہے۔ کسی کے احسان کا بدلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
شان نازل :
وسیجنبھا الاتقیٰ الخ یہ اہل شقاوت کے مقابل اہل سعادت کا بیان ہے کہ جو آدمی اتقی یعنی مکمل اطاعت حق کا خوگر ہو اور وہ اپنا مال اللہ کی راہ میں صرف اس لئے خرچ کرتا ہے کہ وہ گناہوں سے پاک ہوجائے ایسا شخص اس جہنم کی آگ سے دور رکھا جائے، اگرچہ آیت کے الفاظ عام ہیں جو شخص بھی ایمان کے ساتھ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتا ہے اس کے لئے یہ بشارت ہے لیکن شان نزول کے واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مراد اتقی سے حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں ابن ابی حاتم ؓ نے حضرت عروہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ سات اشخاص ایسے تھے جن کو کفار مکہ نے اپنا غلام بنایا ہوا تھا جب وہ مسلمان ہوگئے تو ان کو طرح طرح کی ایذائیں دیتے تھے حضرت…
Read the full tafseer →وما لاحد عندہ من نعمۃ تجزی . یعنی بلال یا کسی دوسرے غلام کا ابوبکر ؓ پر کوئی ایسا احسان نہ تھا ‘ جسکا
بدلہ دیا جاتا۔
بزار نے حضرت ابن زبیر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر ؓ کے متعلق نازل ہوئی تھی۔ پورا جملہ یؤتی کے فاعل سے حال ہے یامستانفہ ہے اور ایک وہمی سوال کا جواب ہے (سوال ہوسکتا تھا کہ ابوبکر پر اس غلام کا کچھ احسان ہوگا جس کے بدلہ میں حضرت نے اس کو خرید کر آزاد کیا تو اس کو دور کرنے کے لیے فرمایا کہ) کسی کا ابوبکر ؓ پر کوئی احسان نہ تھا کہ وہ مال خرچ کرتے اور اس کو خرید کر آزاد کرتے اور اس طرح احسان کا بدلہ چکاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
(17۔ 21) اور دوزخ سے ایسا شخص یعنی حضرت ابوبکر صدیق دور رکھا رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہے اور جو اپنا مال اللہ کی راہ میں محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے خرچ کرتا ہے سوائے اپنے عالیشان پروردگار کی رضا جوئی کے اس کے ذمہ کسی کا احسان نہ تھا کہ اس دینے سے اس کا بدلہ اتارنا مقصود ہو اور حضرت ابوبکر صدیق کو اس قدر ثواب اور بدلہ عطا کیا جائے گا کہ وہ خوش ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
وما لاحد عندہ من نعمۃ تجزی …: وہ مال اس لئے خرچ نہیں کرتا کہ کسی کے احسان کا بدلا اتارنا چاتہا ہے، بلکہ خرچ کرنے سے اس کی نیت یہ ہے کہ رب تعالیٰ کی رضا اور جنت میں اس کا دیدار نصیب ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
تفسیر 19 تا 21
وہ اس لیے صدقہ نہیں کرتا کہ وہ کسی احسان کا بدلہ اسے دینا ہو بجز اس کے کہ وہ اپنے برتر پروردگار کی خوشنودگی کا طلب گار ہے اور وہ ضرور (اس سے) خوش ہوگا۔ اور وہ اسلیے بھی صدقہ نہیں کرتا کہ وہ کسی احسان کا بدلہ چکائے وہ تو اپنے عظیم رب کی رضا چاہتا ہے وہ جزا پر ضرور راضی ہوگا عطا اور ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ مشرکوں نے حضرت بلال کو اذیتیں دیں اور حضرت بلال احد، احد، کہتے نبی کریم ان کے پاس سے گزرے تو ارشاد فرمایا، احد تجھے نجات دے گا۔ پھر حضرت ابوبکر سے فرمایا، اے ابابکر، حضرت بلال کو اللہ کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے حضرت ابوبکر صدیق رسول اللہ ﷺ کا ارادہ بھانپ گئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
41۔ البزار وابن جریر وابن المنذر والطبرانی وابن عدی وابن مردویہ وابن عساکر نے دوسری سند سے عامر بن الزبیر ؓ سے روایت وما لا حد عندہ من نعمۃ تجزی الا ابتغاء وجہ ربہ الاعلی۔ ولسوف یرضی۔ ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔
42۔ ابن جریر نے سعید ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت وما لاحد عندہ من نعمۃ تجزی ابوبکر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی کہ انہوں نے ایسے لوگوں کو آزاد کیا جن میں نہ کسی جزاء اور بدلے کی طلب کی اور نہ شکر کی امدی رکھی اور وہ چھ یا سات افراد تھے جن کو خرید کر آزاد کیا ان میں سے بلال اور عامر بن فہیرہ ؓ وغیرہ ہیں۔
43۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آتی وسیجنبہا الاتقی اور اس آگ سے وہ…
Read the full tafseer →[وَمَا لِاَحَدٍ : اس حال میں کہ نہیں ہے کسی ایک کا ][ عِنْدَهٗ : اس کے پاس (یعنی اس پر)][ مِنْ نِّعْمَةٍ : کوئی بھی ایسی نعمت (احسان) جس کا ][ تُجْزٰٓى: بدلہ دیا جانا ہو ]
(آیت۔ 19) عِنْدَہٗ میں ہٗ کی ضمیر اَلْاَتْقٰی کے لیے ہے۔ تُجْزٰی کا نائب فاعل ہونے کی وجہ سے مِنْ نِعْمَۃٍ محلاً حالت رفع میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
﴿وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤىۙ0019﴾ جو فرمایا ہے اس میں اسی بات کی فضیلت بیان فرمائی ہے یہ مطلب نہیں کہ بطور مکافات کسی کے ساتھ احسان کیا جائے تو اس میں ثواب نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
تقسیم جہو عملیہ در حیات انسانی وترتب ثمرات سعادت وشقاوت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والیل اذا یغشی ....... الی ......... ولسوف یرضی “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں فوز و فلاح اور شقاوت وبدنصیبی کے اسباب پر کلام تھا اور یہ کہ انسانی نفس اگر طہارت وتزکیہ سے آراستہ ہو تو اس پر دنیا کی عزت وسربلندی اور آخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے اور اگر نفس کو شہوات کی گندگی میں آلودہ کرلیا جائے تو انسانی شرف سے محرومی کے بعد دنیا کی تباہی اور عذاب آخرت میں مبتلا ہونے کے سوا کوئی نتیجہ نہیں ہوتا، اور دنیا میں بڑی سے بڑی طاقت ور قومیں اسی شقاوت وبدنصیبی کا شکار ہو کر ہلاک ہوئیں اور تاریخ عالم اس کی گواہی دیتی ہے، تو اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
7:۔ ” وسیجنبہا “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ جہنم کی بھڑکتی آگ سے اس کو دور رکھا جائیگا جو نہایت متقی اور پرہیزگار ہوگا جو اپنا مال محض اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتا ہو اور چاہتا ہو کہ گناہوں سے پاک صاف ہو کر خدا کے یہاں حاضر ہو۔ ” وما لاحد عندہ “ اور کسی کا اس پر کوئی احسان نہیں کہ وہ اس کا بدلہ دے رہا ہو یعنی جن غریبوں اور مسکینوں پر وہ مال خرچ کرتا ہے ان کے کسی احسان کے بدلے ایسا نہیں کرتا، بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے خرچ کرتا ہے۔ ” الا ابتغاء وجہ ربہ الاعلی “ استثناء منقطع ہے اور ” الا “ بمعنی لکن ہے لیکن وہ اپنے رب اعلی کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے جو کچھ بھی کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
گزشتہ سے پیوستہ
گزشتہ درس میں یہ بیان ہوا تھا کہ جس طرح رات اور دن میں اختلاف ہے اور جس طرح نر اور مادہ میں اختلاف ہے اسی طرح انسانوں کی سعی اور کوشش میں بھی اختلاف ہے۔ جس کی کوشش اس طرح کی ہے کہ اس نے مال اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور خدا تعالیٰ سے ڈرتا رہا برائیں سے بچتا رہا پھر اچھی بات یعنی کلمہ توحید اور کلمہ ایمان کی تصدیق کی ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم اس کو آہستہ آہستہ آسانی تک پہنچائیں گے اور جس نے بخل کیا ، مال کو راہ خدا میں صرف نہ کیا۔ کنجوسی سے اکم لیا اور اپنی جگہ مستغنی یعنی بےپرواہ رہا ، آخرت کی فکر نہ کی آخرت کی تکذیب کی۔ کلمہ توحید کی تکذیب کی۔ تو ہم اس کو آہستہ آہستہ…
Read the full tafseer →وَمَا لِاَحَدٍ عِنْدَہٗ مِنْ نِّعْمَۃٍ تُجْزٰٓى 19 ۙ
ما
مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف .
فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع .
فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي
نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] .
الثاني :
نكرة . نحو : نِعِمَّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
ترکیب ¦ للھدٰی اسم ان علینا خبرھا۔ ای علینا ان نبی ن طریق الھدٰی من طریق الضلال وقدفعلنا ذلک حیث بینا طریق کلا الفریقین ترغیبًا و ترہیبًا۔ قالہ الزجاج للآخرۃ معطوف علیہ والاولیٰ معطوف وکلاھما ان اسم ان لنا خبرھا والجملۃ معطوفتہ علی الجملۃ السابقۃ ومعناہ لنا کل ما فی الآخرۃ وکل ما فی الدنیا فمن ارادھما فلیطلب منا تلظٰی صفۃ نار و اصلہ تتلظی فحذفت احدی التاء ین تخفیفاً وقری علی الاصل ومعناہ تتوقد وتتلھب یقال تلظت النار تلظیا ومنہ سمیت جہنم لظٰی لا یصلاھا الجملۃ صفۃ ناروھوبیان لمنھی الا الاشقٰی استثناء متصل ای لا ید خلھا دخولا موبدا احد الا الاشقیٰ وھو الکافر والمشرک الذی کذب وتولیٰ وصف للاشقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
وَمَا لِاَحَدٍعِنْدَہٗ مِنْ نِّعْمَۃٍ تُجْزٰٓی۔ اِلاَّ ابْتِغَـآئَ وَجْہِ رَبِّہِ الْاَعْلٰی۔ (الیل : 19، 20)
(اس پر کسی کا کوئی احسان نہیں جس کا بدلہ اسے دینا ہو۔ بجز اس کے کہ وہ اپنے پروردگار کی خوشنودی کا طلبگار ہے۔ )
سابقہ آیت کی وضاحت
یہ سابقہ آیت کی وضاحت ہے کہ یہ اقلیمِ تقویٰ کا تاجدار اپنا مال اس لیے خرچ نہیں کررہا کہ وہ کسی کا احسان اتارنے کی فکر میں ہے یا وہ کسی کے حُسنِ سلوک کا معاوضہ دینا چاہتا ہے بلکہ اس کا یہ ایثار اور سخاوت ہر طرح کی آلائشوں سے پاک، ہر طرح کی کمزوریوں سے بالا ہے۔ اس کے پیش نظر صرف ایک ہی مقصد ہے کہ وہ اپنے بزرگ و برتر رب کی خوشنودی کو حاصل کرسکے۔
شانِ نزول کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
فہم القرآن
ربط کلام : بدبخت شخص کے مقابلے میں نیک بخت کا کردار اور اس کا انعام۔
جہنم سے ہر وہ شخص دور رکھا جائے گا جس نے کفر و شرک سے توبہ کی اور اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی سے بچتا رہا اور اس نے اپنے مال کو پاک کرنے اور اپنے آپ کو بخل سے بچانے کے لیے صدقہ کیا۔ وہ کسی پر صدقہ اس لیے نہیں کرتا کہ اس نے اس کے احسان کا بدلہ چکانا ہے۔ کسی کے احسان کا بدلہ احسان کے ساتھ دینا نہایت ہی بہتر عمل ہے لیکن بہترین صدقہ یہ ہے کہ جس پر وہ خرچ کررہا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے سوا کسی قسم کا مفاد نہ پایا جائے۔ اسی بات کو سورة الدّھر میں یوں بیان کیا گیا ہے۔
” اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور…
Read the full tafseer →19 : وَمَا لِاَحَدٍ عِنْدَہٗ مِنْ نِّعْمَۃٍ تُجْزٰٓی (اور اس کے ذمہ کسی کا احسان نہ تھا۔ کہ اس کا بدلہ اتارتا ہو)
Read the full tafseer →19 ۔” تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” وما لاحد عندہ من نعمۃ تجزی “ احسان جس کا وہ بدلہ دے رہا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
12۔ 21۔ مستدرک حاکم 2 ؎ مسند بزار تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ حضرت بلال ؓ اور عامر بن فہیرہ اور زنیرہ وغیرہ میں یہ سات شخص لونڈی غلام ایسے تھے جو اسلام لے آئے تھے اور وہ مشرک لوگ جن کے یہ لونڈی غلام تھے ان پر روز طرح طرح کی سختی اور مار پیٹ کیا کرتے تھے حضرت ابوبکر صدیق نے ان ساتوں مرد و عورتوں کو ان کے مشرک آقاؤں سے خرید کیا اور ساتوں شخصوں کو آزاد کردیا۔ حضرت ابوبکر صدیق کے باپ ابوقحافہ نے ایک روز حضرت ابوبکر صدیق سے کہا کہ تم کو اگر غلام آزاد کرنے منظور تھے ایسے قوی لوگ آزاد کئے ہوتے جو وقت پڑے پر تمہاری کچھ مدد کرسکتے۔ ان عورتوں کے آزاد کرنے سے کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
(وَمَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰٓى) یعنی اس متقی پر مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو، اس نے نعمت کا بدلہ اتار دیا ہے بسا اوقت لوگوں پر اس کا فضل و احسان باقی رہ جاتا ہے پس وہ بندے پر اللہ تعالیٰ کے لیے مخلصانہ ہمدردی وخیر خواہی کرتا ہے کیونکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کے احسان ہی کے زیر بار ہے۔ رہا وہ شخص جس پر لوگوں کا احسان باقی ہے اور اس نے اس کا بدلہ نہیں دیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کے لیے چھوڑ دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ ان کی خاطر کوئی ایسا فعل سرانجام دے گا جو اس کے اخلاص میں نقص ڈالے گا۔
آیت کریمہ کا مصداق اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
14 ۔ انجام اور مآل کار کی تذکیر و یاد دہانی : سو آخر میں انجام اور مآل کار کی تذکیر و یاد دہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ میں نے تم لوگوں کو خبردار کردیا دہکتی بھڑکتی آگ سے جس میں وہی داخل ہوگا جو سب سے بڑا بدبخت ہوگا جس نے حق کو جھٹلایا اور اس سے منہ موڑا اور اس سے بچا لیا جائے گا اس خدا ترس کو جو اپنا مال دیتا ہے تاکہ وہ پاک ہوجائے۔ مال کی محبت اور دوسرے اخلاقی رذائل سے کیونکہ مال کی محبت جب کسی کے دل میں جڑ پکڑ لیتی ہے والعیاذ باللہ تو اس سے آگے کئی طرح کے مفاسد جنم لیتے اور خرابیاں رونما ہوتی ہیں، سو ایسا شخص اس طرح کے مفاسد سے بچنے اور ایسی خرابیوں سے پاک ہونے کے لیے اپنا مال خرچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
اچھی بری نیت اعمال اور بدلہ
تشریح : اس سورت میں اللہ تعالیٰ قسم کھاتے ہیں کہ دن رات کی نرو مادہ کی اور خود اپنی ' اس بات کے لیے کہ ہر انسان کی فطرت انداز اور ماحول فرق ہوتا ہے اور انہی حالات کے مطابق سب کا رویہ بھی فرق ہوتا ہے یہ حقیقت ہے کہ ہر شخص کے کام کا انداز فرق ہوتا ہے اور پھر یہ اعمال کا انداز دوراہوں میں منقسم ہے۔ یعنی کچھ تو نیک فطرت ہوتے ہیں ان کو شیطان کتنا ہی بہلائے مگر وہ اس کا شکار نہیں ہوتے یعنی ان کی سرشت میں نیکی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ان کو برا راستہ ' برے کام اور برے لوگ بالکل اچھے نہیں لگتے یعنی ان کو کوئی بھی لالچ برائی پر آمادہ نہیں کرسکتا وہ کہتے ہیں کہ کسی کو دیکھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة اللیل۔
آیات 1 تا 21۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے رات کی جب چھاجاتی ہے اور دن کی جب روشن ہوتا ہے اور اس کی جس نے بقائے نسل کے لیے ایک جیسے دو بندوں کو نرومادہ پیدا فرمادیا یعنی یہ سب نظام اس بات پر گواہ ہے کہ تمہاری محنت ومشقت بھی دو طرح سے ہے جس طرح رات کا اثر تاریکی اور دن کا اجالا ہے یانر کا کام الگ اور مادہ کے اوصاف الگ ہیں ایسے ہی تمہارے کردار کے نتائج دو طرح کے ہیں کہ جن لوگوں نے دینے کارویہ اپنایا اور اللہ کی محبت اور قربت کی تلاش میں اپنایا اور ارشادات نبوی کی تصدیق کی دل سے زبان سے اور کردار سے۔
دینے کارویہ۔
زندگی کا مدار دینے پر ہے سورج ، چاند ، ہوا ، بادل ، بارش ، روئیدگی ، پیداوار سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
ف 12 یعنی بخل، ریاء، نمود و نمائش اور دوسری دنیوی اغراض سے اس کا نفس اور حرام کی ملاوٹ سے اس کا مال پاک ہو اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا شمار ان لوگوں میں ہو جو اپنے ہر کام سے صرف اسی کی رضا مندی چاہتے ہیں۔
Read the full tafseer →(92:19) وما لاحد عندہ من نعمۃ تجزی۔ جملہ فاعل یؤتی سے حال ہے۔ اور (حال یہ ہے کہ) اس پر کسی کا احسان بھی نہیں کہ جس کا بدلہ اسے تارنا ہو۔
لاحد کسی کا۔ عندہ میں ضمیر ہ واحد مذکر غائب مؤتی (خرچ کرنے والا) کی طرف راجع ہے۔
تجزی مضارع مجہول واحد مؤنث غائب جزاء (باب ضرب) مصدر سے وہ بدلہ دی جائے گی۔ اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ وہ بدلہ ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
لغات القرآن۔
شتی۔ مختلف۔ الگ الگ۔ نیسر۔ ہم آسان کردیں گے۔ العسری۔ تنگی۔ تردی۔ وہ نیچے گرا۔ تلظی۔ بھڑک دار۔ یجنب۔ بچ جائے گا۔
تشریح : اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں رات، دن، نر اور مادہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جس طرح رات دن سے اور نر مادہ سے الگ اور مختلف چیزیں ہیں اسی طرح دنیا میں جتنے بھی انسان، ان کے گروہ اور قومیں ہیں وہ اپنے عمل اور کوششوں میں بہت مختلف ہیں۔ رات کے وقت دن کا تصور اور دن میں رات کا تصور ممکن نہیں ہے۔ نر مادہ ہوسکتا اور مادہ نر نہیں ہوسکتی اسی طرح نیکی اور برائیوں پر چلنے والے بھی اپنے انجام کے اعتبار سے یکساں نہیں ہوسکتے۔
ایک وہ شخص ہے جو نہایت خلوص اور اللہ کی رضا کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
(ف 1) شان نزول : جب حضرت صدیق اکبر نے حضرت بلال کو بہت گراں قیمت پر خریدا اور آزاد کیا تو کفار کو حیرت ہوئی اور انہوں نے کہا کہ حضرت صدیق اکبر نے ایسا کیوں کیا ؟ شاید بلال کا ان پر کوئی احسان ہوگا، جو انہوں نے اتنی گراں قیمت دے کر خریدا اور آزاد کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ظاہر فرمادیا کہ حضرت صدیق اکبر کا یہ فعل محض اللہ کی رضا کے لیے ہے کسی کے احسان کا بدلہ نہیں، اور نہ ان پر بلال وغیرہ کا کوئی احسان ہے ، حضرت صدیق اکبر نے بہت سے لوگوں کو ان کے اسلام کے سبب خرید کر آزاد کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
[6] یعنی ہماری حکمت اس کی مقتضی نہیں کہ کسی آدمی کو زبردستی نیک یا بد بننے پر مجبور کردیں۔ ہاں یہ ہم نے اپنے ذمے لیا ہے کہ لوگوں کو نیکی اور بدی کی راہ سمجھا دیں۔ پھر جو شخص جو راہ اختیار کرے دنیا اور آخرت میں اسی کے موافق ہم اس سے برتاؤ کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة الیل
1 ۔ یعنی جس طرح تاریک رات اور روشن دن میں اختلاف ہے اور خدا کی اس تقسیم میں اختلاف ہے اللہ تعالیٰ نے مرد کو بھی پیدا کیا اور عورت کو بھی ۔ نر کو بھی اور مادہ کو بھی ۔ اسی طرح کفر و ایمان کی مساعی یکساں نہیں ہیں ۔ نہ فطرت اور ساخت کے اعتبار سے اور نہ نتائج وثمرات کے اعتبار سے ۔ کفر ہمہ تاریکی ہے اور ایمان ہمہ روشنی ۔ کفر انوثیت اور نامرادی ہے اور ایمان جرات وجسارت ۔
نتائج وثمرات کے لحاظ سے بھی دونوں مختلف ہیں ۔ وہ شخص جو دولت ایمان سے بہرہ مندی کی وجہ سے اس کی راہ میں اپنا مال صرف کرتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے اور ہر نیک بات کی عمل سے تصدیق کرتا ہے ۔ اس کے لئے تیسیر کی نعمتیں اس کی طرف…
Read the full tafseer →(19) اور اس پر کسی کا احسان نہیں جس کا بدلا اتارا جائے - یعنی مال خرچ کرنے کا یہ مقصد نہیں کہ اس پر کسی کا کوئی احسان ہے جس کا وہ بدلا اتارنا چاہتا ہو اس کا مقصد تو صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
ف 8۔ ہرچند کہ آیت کے الفاظ عام ہیں مگر اس کا سبب حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا واقعہ ہے کہ انہوں نے حضرت بلال ؓ کو کافروں سے خرید کر للہ آزاد کردیا تھا۔
Read the full tafseer →کسی کا اس پر احسان نہیں جس کو اتارنے کے لیے وہ خرچ کرتا ہے
19 ؎ گزشتہ آیت میں مال خرچ کرنے کا ذکر تھا اور اس بات کا کہ اس کا مال خرچ کرنا تزکیہ نفس کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے۔ زیر نظر آیت میں اس کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے کہ ان لوگوں میں سے جو شخص بھی اپنا مال خرچ کرتا ہے وہ کسی کا احسان اتارنے کے لیے خرچ نہیں کرتا اور کسی کی نیکی اور حسن سلوک کا معاوضہ ادا کرنے کے لیے نہیں خرچ کرتا بحمد اللہ اس کی نیت ان تمام آلائشوں سے پاک ہے ، اس کے پیش نظر فقط ایک ہی مقصد ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے وہ اپنا محنت سے کمالا ہوا خرچ کرنے کے لیے بےتاب ہے اور دل کی خوشی کے ساتھ مال کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُ مِن نِّعْمَةٍ تُجْزَىٰ (while no one has conferred any favour on him for which he would give a return,...92:19) Sayyidna Abu Bakr ؓ did this great favour by spending abundant wealth. The emancipated slaves had not done him any favour in the past, so that one could say that he was returning their favour. He took this step for one purpose only as the verse says:
إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَىٰ (but [ he gave his wealth in charity ] only to seek the Countenance of his Lord, the Most High....92:20). Mustadrak of Hakim records that it was a usual practice of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
10 This is further explanation of the sincerity of the pious man. He was not indebted in any way to the people on whom he spends his wealth so that he may be doing so in order to repay for favours received, or may be giving gifts and holding banguets to them in order to further benefit from them, but he is helping such people only in order to seek the goodwill of his Lord, the Supreme. He was neither indebted to them before, nor he expects any favours from them in the future. Its best illustration is the act of Hadrat Abu Bakr Siddiq (may Allah blesshim) , He would purchase and set free the…
Read the full tafseer →