الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَهٗ یَتَزَكّٰی ۟ۚالَّذِىۡ يُؤۡتِىۡ مَالَهٗ يَتَزَكّٰىۚ
جو مال دیتا ہے تاکہ پاک ہو
— Fateh Muhammad Jalandhari
[He] who gives [from] his wealth to purify himself
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz
الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَهٗ یَتَزَكّٰی ۟ۚالَّذِىۡ يُؤۡتِىۡ مَالَهٗ يَتَزَكّٰىۚ
جو مال دیتا ہے تاکہ پاک ہو
— Fateh Muhammad Jalandhari
[He] who gives [from] his wealth to purify himself
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Lail
جو پاکیزہ ہونے کی خاطر اپنا مال دیتا ہے
جو مال دیتا ہے تاکہ پاک ہو
جو پاکی حاصل کرنے کے لئے اپنا مال دیتا ہے
جو اپنا مال پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے (اللہ کے راستے میں) دیتا ہے۔
جو اپنا مال دیتا ہے کہ ستھرا ہو
جو اپنا مال (اﷲ کی راہ میں) دیتا ہے کہ (اپنے جان و مال کی) پاکیزگی حاصل کرے،
جو اپنا مال (اس لیے) دیتا ہے کہ پاک ہوجائے۔
جس نے پاکیزہ ہونے کی خاطر اپنا مال دیا
وہ خدا ترس جو اپنا مال پاکیزگی حاصل کرنے کو دیتا ہے
جو دیتا ہے اپنا مال (راہ حق میں) تاکہ وہ پاک ہوجائے (نفس کے رزائل سے)
جو اپنا مال اس لئے دیتا ہے کہ پاک صاف ہوجائے۔
جو اپنا مال دیتا ہے اپنے (نفس) کو پاک کرنے کے لیے۔
جو مال دیتا ہے پاکیزہ ہونے کی خاطر
the Godfearing who spends his wealth to purify himself;
who gives his wealth (in charity) to become purified,
who gives his wealth (in charity) to become purified,
He who gives of his wealth for self-purification.
Who giveth his wealth that he may grow (in goodness).
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
[He] who gives [from] his wealth to purify himself
and purify themselves will be safe from this fire.
Who gives away his wealth, purifying himself
Who giveth away his substance that he may be cleansed,
Those who spend their wealth for increase in self-purification,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 12–21
مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا : یعنی حلال و حرام کا ظاہر کردینا ہمارے ذمے ہے، یہ بھی معنی ہیں کہ جو ہدایت پر چلا وہ یقینا ہم تک پہنچ جائیگاجی سے فرمایا وعلی اللہ قصد السبیل آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے۔ میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کردیا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور بار بار فرماتے جاتے تھے لوگو ! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو ! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں، بار بار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
سورة الَّیْل 9 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نہایت شقی کے سوا کوئی آگ میں نہ جائے گا اور نہایت متقی کے سوا کوئی اس سے نہ بچے گا۔ بلکہ یہاں مقصود انتہائی متضاد کرداروں کو ایک دوسرے کے مقابلے میں پیش کر کے ان کا انتہائی متضاد انجام بیان کرنا ہے۔ ایک وہ شخص ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات کو جھٹلا دے اور اطاعت کی راہ سے منہ پھیر لے۔ دوسرا وہ شخص ہے جو نہ صرف ایمان لائے بلکہ انتہائی خلوص کے ساتھ کسی ریاکاری اور نام نمود کی طلب کے بغیر صرف اس لیے اپنا مال راہ خدا میں صرف کرے کہ وہ اللہ کے ہاں پاکیزہ انسان قرار پانے کا خواہاں ہے۔ یہ دونوں کردار اس وقت مکہ کے معاشرے میں سب کے سامنے موجود تھے۔ اس لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
وسیجبھا الاتقی الذی یوتی مالہ یتزکی یہ اہل شقاوت کے مقابل اہل سعادت تقویٰ شعار حضرات کی جزاء کا بیان ہے کہ جو آدمی اتقیٰ یعنی مکمل اطاعت حق کا خوگو رہو اور وہ اپنا مال اللہ کی راہ میں صرف اس لئے خرچ کرتا ہے کہ وہ گناہوں سے پاک ہوجائے ایسا شخص اس جہنم کی آگ سے دور رکھا جائے گا۔ الفاظ آیت کے تو عام ہیں جو شخص بھی ایمان کے ساتھ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتا ہے اس کے لئے یہ بشارت ہے لیکن شان نزول کے واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل مراد اس لفظ اتقیٰ سے حضرت صدیق اکبر ہیں ابن ابی حاتم نے حضرت عروہ سے روایت کیا ہے کہ سات مسلمان ایسے تھے جن کو کفار مکہ نے اپنے غلام بنایا ہوا تھا جب وہ مسلمان ہوگئے تو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
قریش کی طرف التفات: اصولی طور پر حقیقت بیان کر دینے کے بعد یہ خاص طور پر بھی قریش کو مخاطب کر کے واضح فرما دیا کہ ضروری تھا کہ تمہیں پہلے سے آگاہ کر دیا جائے اس وجہ سے میں نے تمہیں اس بھڑکنے والی آگ سے آگاہ کر دیا ہے جس میں وہی لوگ پڑیں گے جو نہات بدبخت، تکذیب کرنے والے اور منہ موڑنے والے ہوں گے۔ اور وہ اس سے محفوظ رکھے جائیں گے جو اپنا مال پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے خرچ کریں گے۔ ایک غلط فہمی کا ازالہ: یہ امر یہاں واضح رہے کہ مقابلہ یہاں کم شقی اور زیادہ شقی یا زیادہ متقی اور کم متقی میں نہیں ہے بلکہ رسول کی تکذیب کرنے والوں اور اس کی تصدیق کرنے والوں سے ہے۔ رسول اتمام حجت کا کامل ذریعہ ہوتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
18۔ 1 یعنی جو اپنا مال اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کرتا ہے تاکہ اس کا نفس بھی اور اس کا مال بھی پاک ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
6: یعنی اللہ تعالیٰ کے راستے میں جو کچھ خرچ کرتا ہے اس میں دکھاوا مقصود نہیں ہوتا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مقصود ہوتی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایسے خرچ کرنے سے انسان کو اخلاقی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیتیں حضرت ابوبکر صدیق کی تعریف میں نازل ہوئی ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں بہت خرچ کرتے تھے، تاہم الفاظ عام ہیں، اور ہر اس شخص کے لئے خوشخبری پر مشتمل ہیں جو ان صفات کا حامل ہے۔
Read the full tafseer →الذی ........................ یتزکی (18:92) ” جو پاکیزہ ہونے کی خاطر اپنا مال دیتا ہے “۔ یعنی وہ اپنا مال خرچ کرتا ہے تاکہ اس انفاق سے وہ پاک ہوجائے ، مال خرچ کرنے کا مقصد مال کی پاکیزگی ہے ، دکھاوا یا بڑائی حاصل کرنا نہیں ہے۔ وہ خوشی سے خرچ کرتا ہے اور اس لئے خرچ نہیں کرتا کہ کسی کا اس پر احسان تھا اور وہ اس کا بدلہ چکانا چاہتا تھا ، نہ اس لئے کہ لوگ اس کا شکر ادا کریں ، یہ خالص لو جو اللہ خرچ کرتا ہے ، جو اس کا اعلیٰ رب ہے۔
Read the full tafseer →5 یعنی نفس کو رذیلہ بخل و طمع وغیرہ سے پاک کرنا مقصود ہے۔ کسی طرح کا ریاء اور نمودونمائش یا دنیاوی اغراض پیش نظر نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
آیت 18{ الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَـہٗ یَتَزَکّٰی۔ } ”جو اپنا مال دیتا ہے اپنے نفس کو پاک کرنے کے لیے۔“ یعنی مال خرچ کرتے ہوئے دنیاداری کا کوئی مفاد اس کے پیش نظر نہیں ہوتا۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت ابوبکر صدیق رض نے حضرت بلال رض کو آزاد کرانے کے لیے امیہ بن خلف کو جب منہ مانگی قیمت ادا کی تو اس پر امیہ خود بھی حیران رہ گیا۔ دوسری طرف حضرت ابوبکر رض کے والد حضرت ابوقحافہ رض آپ رض فتح مکہ کے بعد ایمان لائے تھے نے بھی آپ رض سے گلہ کیا کہ اتنی بڑی رقم تم نے کسی طاقتور غلام پر کیوں نہ خرچ کی جو تمہارے کام بھی آتا ! اس زمانے میں اگر کوئی شخص کسی غلام کو آزاد کراتا تھا تو وہ غلام زندگی بھر اسی شخصیت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
9 یعنی جو مال اس نے خرچ کیا اس سے شہرت یا نمود و نمائش مقصود نہیں تھی بلکہ مقصود یہ تھا کہ اس کا دل بخل کے مرض سے پاک ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
8۔ (گناہوں سے) اس میں اشارہ ہے کہ متقی مخلص کا مقصود صرف مال سے صرف اللہ کی رضاجوئی ہی رہتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
شان نازل : وسیجنبھا الاتقیٰ الخ یہ اہل شقاوت کے مقابل اہل سعادت کا بیان ہے کہ جو آدمی اتقی یعنی مکمل اطاعت حق کا خوگر ہو اور وہ اپنا مال اللہ کی راہ میں صرف اس لئے خرچ کرتا ہے کہ وہ گناہوں سے پاک ہوجائے ایسا شخص اس جہنم کی آگ سے دور رکھا جائے، اگرچہ آیت کے الفاظ عام ہیں جو شخص بھی ایمان کے ساتھ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتا ہے اس کے لئے یہ بشارت ہے لیکن شان نزول کے واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مراد اتقی سے حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں ابن ابی حاتم ؓ نے حضرت عروہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ سات اشخاص ایسے تھے جن کو کفار مکہ نے اپنا غلام بنایا ہوا تھا جب وہ مسلمان ہوگئے تو ان کو طرح طرح کی ایذائیں دیتے تھے حضرت…
Read the full tafseer →الذی یوتی مالہ . جو اپنا مال غریبوں کو اور بردے آزاد کرنے کیلئے اور دوسرے مصارف خیر میں دیتا ہے۔ یتزکی . یؤتی سے بدل ہے یا یؤتی کے فاعل کی حالت کا اظہار ہے یعنی وہ مصارف خیر میں اس غرض سے مال خرچ کرتا ہے کہ وہ اللہ کے نزدیک پاک ہوجائے۔ ریاکاری اور شہرت طلبی اس کے پیش نظر نہیں ہوتی ‘ یا یتزکّٰی باب تفعل سے واحد مذکر مضارع غائب کا صیغہ ہے اور اس سے مراد ہے زکوٰۃ دینا۔ چونکہ مفہوم مخالف ہمارے نزدیک قابل اعتبار نہیں ‘ اس لیے آیت سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ جو اتقٰی نہ ہو یعنی تقی ہو وہ جہنم میں جائے گا اور شافعی (اگرچہ مفہوم مخالف کا اعتبار کرتے ہیں مگر ان) کے نزدیک بھی اس جگہ تقی کا داخل جہنم ہونا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
(17۔ 21) اور دوزخ سے ایسا شخص یعنی حضرت ابوبکر صدیق دور رکھا رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہے اور جو اپنا مال اللہ کی راہ میں محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے خرچ کرتا ہے سوائے اپنے عالیشان پروردگار کی رضا جوئی کے اس کے ذمہ کسی کا احسان نہ تھا کہ اس دینے سے اس کا بدلہ اتارنا مقصود ہو اور حضرت ابوبکر صدیق کو اس قدر ثواب اور بدلہ عطا کیا جائے گا کہ وہ خوش ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
وسیجنھا الاتضی …: جہنم سے وہی شخص دور رہے گا جو اپنا مال اس لئے دیتا ہے کہ وہ خود بھی پاک ہوجائے اور اس کا مال بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
تفسیر 17، 18۔ یعنی اس جہنم سے وہ آدمی دور ہوگا جو متقی اور ڈرنے والا ہے حضرت ابن عباس نے فرمایا، الاتقی سے مراد حضرت ابوبکر ہیں جنہیں جہنم میں داخل ہونے سے دور رکھاجائے گا، پھر الاتقی کی صفت ذکر کی جو مال اس لیے دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پاکیزہ ہوجائے وہ اس سے ریاکاری اور شہرت کا طالب نہیں بلکہ وہ صدقہ کرتا ہے تاکہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا کا طالب ہو۔ بعض علماء معانی نے کہا کہ الاتقی اور الاشقی سے مراد متقی اور شقی ہے جس طرح طرفہ کا قول ہے۔ تمنی رجال ان اموت وان امت فتلک سبیل لست فیھا باوحد۔ کچھ لوگوں نے تمنا کی کہ میں مرجاؤں اگر میں مرگیا تو وہ ایسا راستہ ہے جس میں میں اکیلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
32۔ ابن جریر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ تم ضرور جنت میں داخل ہوگے مگر جس نے انکار کیا (وہ داخل ہوگا) لوگوں نے پوچھا اور کون جنت میں داخل ہونے سے انکار کرے گا۔ تو انہوں نے یہ آیت پڑھی آیت الذی کذب وتولی جس نے جھٹلایا اور منہ موڑا۔ ہر مومن جنت میں داخل ہوگا۔ 33۔ سعید بن منصور وابن ابی حاتم وابن المنذر والطبرانی وابن مردویہ نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ اس امت میں کوئی باقی نہیں رہے گا مگر اس کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل فرمادیں گے۔ سوائے اس کے جو اللہ کی اطاعت اس طرح نکل جائے جیسے کہ شریر اونٹ اپنے مالک کی اطاعت سے بھاگ جاتا ہ۔ سو جس نے میری تصدیق نہیں کی تو بیشک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت…
Read the full tafseer →[الَّذِي يُؤْتِيْ مَالَهٗ : وہ جو دیتا ہے اپنا مال ][ يَتَزَكّٰى: پاکیزگی حاصل کرتے ہوئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
گزشتہ آیات میں ایمان اور کفر اور اعمال صالحہ اور اعمال سیہٴ کے نتائج کا فرق بیان فرمایا جس میں یہ بھی تھا کہ کفر عذاب میں مبتلا کرنے والی چیز ہے چونکہ یہ جلنے کا عذاب ہوگا کافر دوزخ میں داخل ہوں گے ان پر آگ مسلط ہوگی اس لیے دوزخ کے عذاب کی حقیقت بتادی اور فرما دیا کہ میں تمہیں ایسی آگ سے ڈراتا ہوں جو خوب اچھی طرح جلتی ہوگی۔ مزید فرمایا کہ اس میں صرف وہی داخل ہوگا جو سب سے بڑا بدبخت تھا جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی، آیت کے الفاظ سے جو حصر معلوم ہوتا ہے اس سے بظاہر فاسق مسلمانوں کے دوزخ میں داخلے کی نفی ہوتی ہے، صاحب روح المعانی نے یہ اشکال کیا ہے پھر یوں جواب دیا ہے کہ سخت ترین عذاب سب سے بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
تقسیم جہو عملیہ در حیات انسانی وترتب ثمرات سعادت وشقاوت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والیل اذا یغشی ....... الی ......... ولسوف یرضی “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں فوز و فلاح اور شقاوت وبدنصیبی کے اسباب پر کلام تھا اور یہ کہ انسانی نفس اگر طہارت وتزکیہ سے آراستہ ہو تو اس پر دنیا کی عزت وسربلندی اور آخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے اور اگر نفس کو شہوات کی گندگی میں آلودہ کرلیا جائے تو انسانی شرف سے محرومی کے بعد دنیا کی تباہی اور عذاب آخرت میں مبتلا ہونے کے سوا کوئی نتیجہ نہیں ہوتا، اور دنیا میں بڑی سے بڑی طاقت ور قومیں اسی شقاوت وبدنصیبی کا شکار ہو کر ہلاک ہوئیں اور تاریخ عالم اس کی گواہی دیتی ہے، تو اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
7:۔ ” وسیجنبہا “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ جہنم کی بھڑکتی آگ سے اس کو دور رکھا جائیگا جو نہایت متقی اور پرہیزگار ہوگا جو اپنا مال محض اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتا ہو اور چاہتا ہو کہ گناہوں سے پاک صاف ہو کر خدا کے یہاں حاضر ہو۔ ” وما لاحد عندہ “ اور کسی کا اس پر کوئی احسان نہیں کہ وہ اس کا بدلہ دے رہا ہو یعنی جن غریبوں اور مسکینوں پر وہ مال خرچ کرتا ہے ان کے کسی احسان کے بدلے ایسا نہیں کرتا، بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے خرچ کرتا ہے۔ ” الا ابتغاء وجہ ربہ الاعلی “ استثناء منقطع ہے اور ” الا “ بمعنی لکن ہے لیکن وہ اپنے رب اعلی کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے جو کچھ بھی کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
گزشتہ سے پیوستہ گزشتہ درس میں یہ بیان ہوا تھا کہ جس طرح رات اور دن میں اختلاف ہے اور جس طرح نر اور مادہ میں اختلاف ہے اسی طرح انسانوں کی سعی اور کوشش میں بھی اختلاف ہے۔ جس کی کوشش اس طرح کی ہے کہ اس نے مال اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور خدا تعالیٰ سے ڈرتا رہا برائیں سے بچتا رہا پھر اچھی بات یعنی کلمہ توحید اور کلمہ ایمان کی تصدیق کی ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم اس کو آہستہ آہستہ آسانی تک پہنچائیں گے اور جس نے بخل کیا ، مال کو راہ خدا میں صرف نہ کیا۔ کنجوسی سے اکم لیا اور اپنی جگہ مستغنی یعنی بےپرواہ رہا ، آخرت کی فکر نہ کی آخرت کی تکذیب کی۔ کلمہ توحید کی تکذیب کی۔ تو ہم اس کو آہستہ آہستہ…
Read the full tafseer →الَّذِيْ يُؤْتِيْ مَالَہٗ يَتَزَكّٰى 18 ۚ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ، وقوله تعالی: أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، وقوله : فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ [ النحل/ 26] ، أي : بالأمر والتدبیر، نحو : وَجاءَ رَبُّكَ [ الفجر/ 22] ، وعلی هذا النحو قول الشاعرأتيت المروءة من بابها فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
ترکیب ¦ للھدٰی اسم ان علینا خبرھا۔ ای علینا ان نبی ن طریق الھدٰی من طریق الضلال وقدفعلنا ذلک حیث بینا طریق کلا الفریقین ترغیبًا و ترہیبًا۔ قالہ الزجاج للآخرۃ معطوف علیہ والاولیٰ معطوف وکلاھما ان اسم ان لنا خبرھا والجملۃ معطوفتہ علی الجملۃ السابقۃ ومعناہ لنا کل ما فی الآخرۃ وکل ما فی الدنیا فمن ارادھما فلیطلب منا تلظٰی صفۃ نار و اصلہ تتلظی فحذفت احدی التاء ین تخفیفاً وقری علی الاصل ومعناہ تتوقد وتتلھب یقال تلظت النار تلظیا ومنہ سمیت جہنم لظٰی لا یصلاھا الجملۃ صفۃ ناروھوبیان لمنھی الا الاشقٰی استثناء متصل ای لا ید خلھا دخولا موبدا احد الا الاشقیٰ وھو الکافر والمشرک الذی کذب وتولیٰ وصف للاشقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
وَسَیُجَنَّـبُھَا الْاَتْقَی۔ الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَـہٗ یَتَزَکّٰی۔ (الیل : 17، 18) (اور اس آگ سے دور رکھا جائے گا وہ نہایت پرہیزگار۔ جو اپنا مال دیتا ہے اپنے دل کو پاک کرنے کے لیے۔ ) کفار سے برعکس صفات رکھنے والا جنت کا مستحق ہوگا آنحضرت ﷺ کو نبوت کی ذمہ داریاں ادا کرنے کے سلسلے میں جس طرح ان اشقیاء سے واسطہ پڑا جس کا ذکر اوپر کی آیت میں ہوا ہے۔ اسی طرح اس زمانے میں ایسے لوگ بھی تھے جنھوں نے انتہائی نامساعد حالات اور ناقابلِ برداشت اذیتوں میں اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کو قبول کیا۔ جنھوں نے تقویٰ کے اعلیٰ ترین مقام کو اپنی منزل بنایا اور دعوت حق کو کامیاب کرنے کے لیے بصدمسرت و افتخار اپنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
فہم القرآن ربط کلام : بدبخت شخص کے مقابلے میں نیک بخت کا کردار اور اس کا انعام۔ جہنم سے ہر وہ شخص دور رکھا جائے گا جس نے کفر و شرک سے توبہ کی اور اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی سے بچتا رہا اور اس نے اپنے مال کو پاک کرنے اور اپنے آپ کو بخل سے بچانے کے لیے صدقہ کیا۔ وہ کسی پر صدقہ اس لیے نہیں کرتا کہ اس نے اس کے احسان کا بدلہ چکانا ہے۔ کسی کے احسان کا بدلہ احسان کے ساتھ دینا نہایت ہی بہتر عمل ہے لیکن بہترین صدقہ یہ ہے کہ جس پر وہ خرچ کررہا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے سوا کسی قسم کا مفاد نہ پایا جائے۔ اسی بات کو سورة الدّھر میں یوں بیان کیا گیا ہے۔ ” اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور…
Read the full tafseer →18 : الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَہٗ یَتَزَکّٰی (جو اپنامال اس غرض سے دیتا ہے کہ پاک ہوجائے) مال فقراء پر خرچ کرتا ہے۔ یتزکیّٰ یہ الزکاۃ سے ہے وہ اس بات کا طالب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے لئے پاکیزگی کا ذریعہ بن جائے وہ مال کو خرچ کرنے سے ریاء و شہرت جیسی چیزوں کا خواہاں نہیں۔ نمبر 2۔ وہ زکوٰۃ ادا کرتا ہے۔ نحو : اگر یوتٰی سے بدل بنائیں تو یتزکٰی کا کوئی محل اعراب نہیں کیونکہ یہ اس صورت میں صلہ کے تحت داخل ہوگا اور صلات کا کوئی محل واعراب نہیں ہوتا۔ نمبر 2۔ اگر یوتیؔ کی ضمیر سے حال بنایا جائے تو پھر یہ محلاً منصوب ہے۔ قولِ ابو عبیدہ : الاشقی یہ شقی کے معنی میں ہے۔ اور وہ کافر ہے۔ اور الاتقٰی…
Read the full tafseer →18 ۔” الذی یوتی مالہ “ اپنا مال دے۔ ” یتزکی “ وہ طلب کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں پاک صاف ہوجائے نہ ریاکاری کرتا ہے اور نہ شہرت مقصود ہے۔ یعنی ابوبکر صدیق ؓ تمام کے قول میں۔ ابن زبیر ؓ فرماتے ہیں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کمزور لوگوں کو خرید کر آزاد کردیتے تھے تو ان کے والد نے کہا اے میرے بیٹے ! اگر تو ایسا غلام خریدتا جو تیری پیٹھ کو روکتا (یعنی کاموں میں تیری مدد کرتا) تو آپ ؓ نے فرمایا اپنی پیٹھ کے روکنے کا میں ارادہ رکھتا ہوں تو آیت نازل ہوئی ” وسیجنبھا الا تقیٰ “ سورة کے آخر تک اور محمد بن اسحاق (رح) نے ذکر کیا ہے کہ حضرت بلال ؓ بنو جمع میں سے بعض کے غلام تھے اور وہ بلال بن رباح ہیں اور ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
12۔ 21۔ مستدرک حاکم 2 ؎ مسند بزار تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ حضرت بلال ؓ اور عامر بن فہیرہ اور زنیرہ وغیرہ میں یہ سات شخص لونڈی غلام ایسے تھے جو اسلام لے آئے تھے اور وہ مشرک لوگ جن کے یہ لونڈی غلام تھے ان پر روز طرح طرح کی سختی اور مار پیٹ کیا کرتے تھے حضرت ابوبکر صدیق نے ان ساتوں مرد و عورتوں کو ان کے مشرک آقاؤں سے خرید کیا اور ساتوں شخصوں کو آزاد کردیا۔ حضرت ابوبکر صدیق کے باپ ابوقحافہ نے ایک روز حضرت ابوبکر صدیق سے کہا کہ تم کو اگر غلام آزاد کرنے منظور تھے ایسے قوی لوگ آزاد کئے ہوتے جو وقت پڑے پر تمہاری کچھ مدد کرسکتے۔ ان عورتوں کے آزاد کرنے سے کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(وَسَيُجَنَّبُهَا الْاَتْقَى۔ الَّذِيْ يُؤْتِيْ مَالَهٗ يَتَزَكّٰى) اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے۔ یعنی اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے نفس کا تزکیہ اور گناہوں اور عیوب سے اس کی تطہیر ہو ہم اسے بچالیں گے آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب انفاق مستحب ترک واجب، مثلا قرض اور نفقہ واجبہ کی عدم ادائیگی وغیرہ کو متضمن ہو یہ غیر مشروع ہے بلکہ بہت سے اہل علم کے نزدیک یہ عطیہ لوٹایاجائے گا کیونکہ وہ ایک مستحب فعل کے ذریعے سے اپنے نفس کا تزکیہ کررہا ہے اور اس پر واجب فوت ہورہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
14 ۔ انجام اور مآل کار کی تذکیر و یاد دہانی : سو آخر میں انجام اور مآل کار کی تذکیر و یاد دہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ میں نے تم لوگوں کو خبردار کردیا دہکتی بھڑکتی آگ سے جس میں وہی داخل ہوگا جو سب سے بڑا بدبخت ہوگا جس نے حق کو جھٹلایا اور اس سے منہ موڑا اور اس سے بچا لیا جائے گا اس خدا ترس کو جو اپنا مال دیتا ہے تاکہ وہ پاک ہوجائے۔ مال کی محبت اور دوسرے اخلاقی رذائل سے کیونکہ مال کی محبت جب کسی کے دل میں جڑ پکڑ لیتی ہے والعیاذ باللہ تو اس سے آگے کئی طرح کے مفاسد جنم لیتے اور خرابیاں رونما ہوتی ہیں، سو ایسا شخص اس طرح کے مفاسد سے بچنے اور ایسی خرابیوں سے پاک ہونے کے لیے اپنا مال خرچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
اچھی بری نیت اعمال اور بدلہ تشریح : اس سورت میں اللہ تعالیٰ قسم کھاتے ہیں کہ دن رات کی نرو مادہ کی اور خود اپنی ' اس بات کے لیے کہ ہر انسان کی فطرت انداز اور ماحول فرق ہوتا ہے اور انہی حالات کے مطابق سب کا رویہ بھی فرق ہوتا ہے یہ حقیقت ہے کہ ہر شخص کے کام کا انداز فرق ہوتا ہے اور پھر یہ اعمال کا انداز دوراہوں میں منقسم ہے۔ یعنی کچھ تو نیک فطرت ہوتے ہیں ان کو شیطان کتنا ہی بہلائے مگر وہ اس کا شکار نہیں ہوتے یعنی ان کی سرشت میں نیکی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ان کو برا راستہ ' برے کام اور برے لوگ بالکل اچھے نہیں لگتے یعنی ان کو کوئی بھی لالچ برائی پر آمادہ نہیں کرسکتا وہ کہتے ہیں کہ کسی کو دیکھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة اللیل۔ آیات 1 تا 21۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے رات کی جب چھاجاتی ہے اور دن کی جب روشن ہوتا ہے اور اس کی جس نے بقائے نسل کے لیے ایک جیسے دو بندوں کو نرومادہ پیدا فرمادیا یعنی یہ سب نظام اس بات پر گواہ ہے کہ تمہاری محنت ومشقت بھی دو طرح سے ہے جس طرح رات کا اثر تاریکی اور دن کا اجالا ہے یانر کا کام الگ اور مادہ کے اوصاف الگ ہیں ایسے ہی تمہارے کردار کے نتائج دو طرح کے ہیں کہ جن لوگوں نے دینے کارویہ اپنایا اور اللہ کی محبت اور قربت کی تلاش میں اپنایا اور ارشادات نبوی کی تصدیق کی دل سے زبان سے اور کردار سے۔ دینے کارویہ۔ زندگی کا مدار دینے پر ہے سورج ، چاند ، ہوا ، بادل ، بارش ، روئیدگی ، پیداوار سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
ف 12 یعنی بخل، ریاء، نمود و نمائش اور دوسری دنیوی اغراض سے اس کا نفس اور حرام کی ملاوٹ سے اس کا مال پاک ہو اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا شمار ان لوگوں میں ہو جو اپنے ہر کام سے صرف اسی کی رضا مندی چاہتے ہیں۔
Read the full tafseer →(92:18) الذی یؤتی مالہ یتزکی : الذی اسم موسول واحد مذکر یؤتی صلہ مالہ متعلق یؤتی ۔ یتزکی حال ہے ضمیر فاعل یؤتی سے ۔ جملہ صفت ہے۔ الاتقی کی۔ یؤتی مضارع واحد مذکر غائب۔ ایتاء (افعال) مصدر سے۔ وہ دیتا ہے۔ یتزکی مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب تذ کی (تفعل) مصدر سے۔ وہ پاک کرتا ہے (کہ وہ پاک ہوجائے) ۔ دونوں آیات کا ترجمہ ہوگا :۔ اور تحقیق اس آگ سے وہ پکا پرہیزگار محفوظ رکھا جائے گا جو اپنا مال (خدا کی راہ میں) خرچ کرتا ہے کہ وہ پاک رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
لغات القرآن۔ شتی۔ مختلف۔ الگ الگ۔ نیسر۔ ہم آسان کردیں گے۔ العسری۔ تنگی۔ تردی۔ وہ نیچے گرا۔ تلظی۔ بھڑک دار۔ یجنب۔ بچ جائے گا۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں رات، دن، نر اور مادہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جس طرح رات دن سے اور نر مادہ سے الگ اور مختلف چیزیں ہیں اسی طرح دنیا میں جتنے بھی انسان، ان کے گروہ اور قومیں ہیں وہ اپنے عمل اور کوششوں میں بہت مختلف ہیں۔ رات کے وقت دن کا تصور اور دن میں رات کا تصور ممکن نہیں ہے۔ نر مادہ ہوسکتا اور مادہ نر نہیں ہوسکتی اسی طرح نیکی اور برائیوں پر چلنے والے بھی اپنے انجام کے اعتبار سے یکساں نہیں ہوسکتے۔ ایک وہ شخص ہے جو نہایت خلوص اور اللہ کی رضا کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ اس میں کوئی شک نہیں راستہ باتنا ہمارا ہی کام ہے برائی کا ہو یا بھلائی کا سب دنیا کا انتظام ہماری ہاتھ میں ہے اور آخرت کا اختیار بھی ہے جب راستہ بتانا ہمارا کام ہے اس لیے تم کو بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈراتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اس آگ میں وہی شخص جائے جو خدا اور خدا کے رسول کی تکذیب کرتا ہے اور تقوی اور دین داری سے منہ پھیرتا ہے تقوی اہل شریعت کی اصطلاح میں یہ ہے کہ کفر سے اور گناہ کبیرہ اور صغیرہ سے بچتا رہے، اگر کبھی کوئی گناہ بھی ہوجائے تو سچی توبہ جھٹ پٹ کرلے، سچی توبہ کے معنی یہ ہیں کہ اس گناہ سے متنفر ہوجائے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پرہیز رکھے آگے فرمایا کہ جب راستہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
[6] یعنی ہماری حکمت اس کی مقتضی نہیں کہ کسی آدمی کو زبردستی نیک یا بد بننے پر مجبور کردیں۔ ہاں یہ ہم نے اپنے ذمے لیا ہے کہ لوگوں کو نیکی اور بدی کی راہ سمجھا دیں۔ پھر جو شخص جو راہ اختیار کرے دنیا اور آخرت میں اسی کے موافق ہم اس سے برتاؤ کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة الیل 1 ۔ یعنی جس طرح تاریک رات اور روشن دن میں اختلاف ہے اور خدا کی اس تقسیم میں اختلاف ہے اللہ تعالیٰ نے مرد کو بھی پیدا کیا اور عورت کو بھی ۔ نر کو بھی اور مادہ کو بھی ۔ اسی طرح کفر و ایمان کی مساعی یکساں نہیں ہیں ۔ نہ فطرت اور ساخت کے اعتبار سے اور نہ نتائج وثمرات کے اعتبار سے ۔ کفر ہمہ تاریکی ہے اور ایمان ہمہ روشنی ۔ کفر انوثیت اور نامرادی ہے اور ایمان جرات وجسارت ۔ نتائج وثمرات کے لحاظ سے بھی دونوں مختلف ہیں ۔ وہ شخص جو دولت ایمان سے بہرہ مندی کی وجہ سے اس کی راہ میں اپنا مال صرف کرتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے اور ہر نیک بات کی عمل سے تصدیق کرتا ہے ۔ اس کے لئے تیسیر کی نعمتیں اس کی طرف…
Read the full tafseer →(18) وہ ایسا ہے جو اپنا مال محض اس غرض سے خدا تعالیٰ کی راہ میں دیتا ہے کہ وہ اپنے کو پاک کرے یعنی اس آگ سے وہ شخص محفوظ رہے گا اور دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہے اس کی غرض اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرنے سے محض یہ ہوتی ہے کہ اس کا دل پاک ہو اور وہ اپنے کو پاک کرلے اور گناہوں سے پاک ہوجائے یعنی خرچ کرنے سے مقصدرہا اور دکھاوا یا کسی کا بدلا اتارنا نہیں ہوتا جیسا کہ آگے ارشاد فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
ف 8۔ ہرچند کہ آیت کے الفاظ عام ہیں مگر اس کا سبب حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا واقعہ ہے کہ انہوں نے حضرت بلال ؓ کو کافروں سے خرید کر للہ آزاد کردیا تھا۔
Read the full tafseer →جو اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تاکہ تزکیہ حاصل کرے 18 ؎ یہ وضاحت کی جا رہی ہے کہ گزشتہ آیت میں جو لفظ آیا ہے ( الا تقی) اس کی ۔ وہ بہت ڈرتا ہے فرمایا وہ بڑا ڈرانے والا اور بڑا پرہیز گار کون ہے ؟ وقی سے جس کے معنی بچنے اور پرہیز گاری کرنے کے ہیں ۔ فرمایا وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ۔ اللہ تعالٰ کی رضا ان کو مطلوب ہے۔ ہیں تو سب کے سب انسان لیکن ایک طرف وہ انسان ہیں جن کو قرآن کریم نے ( اشقی) قرار دیا ہے اور دوسری طرف وہ انسان ہیں جن کو قرآن کریم نے ( اتقی) قرار دیا ہے۔ کچھ وہ ہیں جو تکذیب کر رہے ہیں اور اسلام سے روگردانی اختیار کر رہے ہیں اور ایک طرف وہ ہیں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى الَّذِي يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّىٰ (And saved from it will be the most God-fearing one who gives his wealth [ in charity ] to become purified,....92:17-18). This verse describes the reward of the most God-fearing person, as opposed to the punishment of the most wretched in the preceding verse. The word atqa is the superlative form and signifies a man of taqwa, that is, the most God-fearing person, who spends his wealth in obedience of his Lord in order to purify himself from sins, will be kept far away from the fire of Hell. The wordings of the verse give good…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
9 This dces not mean that no one will enter the fire except the most wretched one, and no one will be saved from it except the most pious one but the object is to describe the extremely contradictory fate of the two extremely contradictory' characters. One of them is the person who belies the teachings of Allah and His Messenger and turns away from obedience; the other one is the person, who not only believes but also spends his wealth in the cause of Allah sincerely, without any desire for display and reputation, only in order to be regarded as a pure man in His eyes. Both these types of…
Read the full tafseer →