At-Taariq 86:9

At-Taariq · from ayah 9

86:9

یَوْمَ تُبْلَی السَّرَآىِٕرُ ۟ۙيَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآئِرُۙ‏

جس دن دلوں کے بھید جانچے جائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

The Day when secrets will be put on trial,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah At-Taariq

All translations of 86:9

جس روز پوشیدہ اسرار کی جانچ پڑتال ہوگی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس دن دلوں کے بھید جانچے جائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس دن پوشیده بھیدوں کی جانچ پڑتال ہوگی

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس دن تمام پوشیدہ باتوں کی جانچ ہوگی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جس دن چھپی باتوں کی جانچ ہوگی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جس دن سب راز ظاہر کر دیے جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جس دن چھپی ہوئی باتوں کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جس دن اسرار کی جانچ پڑتال کی جائے گی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس دن ساری چھپی باتیں پرکھی جائیں گی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس دن جانچ پڑتال کی جائے گی چھپی باتوں کی

— مولانا اسحاق مدنی

(سو) جس روز (سب) راز فاش ہوجائیں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس دن تمام چھپے ہوئے رازوں کی جانچ پڑتال ہوگی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس دن دلوں کے بھید جانچے جائیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

On the Day when man's deepest secrets shall be put to the test

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

on a day when all the secrets will be searched out,

— Muhammad Taqi Usmani

on a day when all the secrets will be searched out,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The Day when all the secrets will be examined.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

On the day when hidden thoughts shall be searched out.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The Day when secrets will be put on trial,

— Saheeh International

On the day when all secrets will be made public,

— Muhammad Sarwar

On the day when hidden things shall be made manifest,

— Muhammad Habib Shakir

On a Day whereon secrets shall be out.

— Abdul Majid Daryabadi

The Day that (all) things secret will be tested,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 86:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–10

تخلیق انسان اللہ تعالیٰ آسمانوں کی اور ان کے روشن ستاروں کی قسم کھتا ہے طارق کی تفسیر چمکتے ستارے سے کی ہے وجہ یہ ہے کہ دن کو چھپے رہتے ہیں اور رات کو ظاہر ہوجاتے ہیں ایک صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ کوئی اپنے گھر رات کے وقت بیخبر آجائے یہاں بھی لفظ طروق ہے، آپ کی ایک دعا میں بھی طارق کا لفظ آیا ہے ثاقب کہتے ہیں چمکیلے اور روشنی والے کو جو شیطان پر گرتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے ہر شخص پر اللہ کی طرف سے ایک محافظ مقرر ہے جو اسے آفات سے بچاتا ہے جیسے اور جگہ ہے کہ آیت (لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الطَّارِق 5 پوشیدہ اسرار سے مراد ہر شخص کے وہ اعمال بھی ہیں جو دنیا میں ایک راز بن کر رہ گئے، اور وہ معاملات بھی ہیں جو اپنی ظاہری صورت میں تو دنیا کے سامنے آئے مگر ان کے پیچھے جو نیتیں اور اغراض اور خواہشات کام کر رہی تھیں اور ان کے جو باطنی محرکات تھے ان کا حال لوگوں سے چھپا رہ گیا۔ قیامت کے روز یہ سب کچھ کھل کر سامنے آجائے گا اور جانچ پڑتال صرف اسی بات کی نہیں ہوگی کہ کس شخص نے کیا کچھ کیا، بلکہ اس بات کی بھی ہوگی کہ جس وجہ سے کیا، کس غرض اور کس نیت اور کس مقصد سے کیا۔ اسی طرح یہ بات بھی ساری دنیا سے، حتی کہ خود ایک فعل کرنے والے انسان سے بھی مخفی رہ گئی ہے کہ جو فعل اس نے کیا اس کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–10

انہ علی رجعہ لقادر، رجع کے معنے لوٹا دینے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ جس خالق کائنات نے اول انسان کو نطفہ سے پیدا کیا ہے وہ اس کو دوبارہ لوٹا دینے یعنی مرنیکے بعد زندہ کردینے پر بدرجہ اولیٰ قادر ہے۔ یوم تبلی السرائر، تبلی کے لفظی معنے امتحان لینے اور آزمانے کے ہیں اور سرائر کے معنی ہیں مخفی امور مطلب یہ ہے کہ قیامت کے روز انسان کے تمام عقائد و خیالات اور نیت وعزم جو دل میں پوشیدہ تھی دنیا میں اس کو کوئی نہ جانتا تھا اسی طرح وہ اعمال و افعال جو اس نے چھپ کر کئے دنیا میں کسی کو ان کی خبر نہیں، محشر میں سب کا امتحان لیا جائے گا یعنی سب کو ظاہر کردیا جائے گا، حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آخرت کے احتساب کی نوعیت: اس دن جس طرح کے احتساب سے لوگوں کو سابقہ پیش آئے گا یہ اس کا بیان ہے۔ فرمایا کہ اس دن مخفی باتیں بھی جانچی اور پرکھی جائیں گی۔ یعنی صرف ظاہری اقوال و اعمال ہی زیربحث نہیں آئیں گے بلکہ مخفی اعمال، دلوں کے کھوٹ اور نیتوں کے فساد بھی پرکھے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے پاس ایسے آلات ہیں جو مخفی سے مخفی گوشوں میں کیے ہوئے اعمال و اقوال کا بھی کھوج لگا لیں گے، اور ہر عمل کو پرکھ کر بتا دیں گے کہ کس کے اندر کتنا کھوٹ ہے اور کتنا اخلاص۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اس دن آدمی کے اعضاء و جوارح بھی ان تمام اعمال کی گواہی دیں گے جو انسان نے کیے ہوں گے۔ تو جب اعضاء و جوارح بھی گواہ بن کر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

9۔ 1 یعنی ظاہر ہوجائیں گے کیونکہ ان پر جزا و سزا ہوگی بلکہ حدیث میں آتا ہے کہ ہر غدر (بدعہدی) کرنے والے کے سرین کے پاس جھنڈا گاڑ دیا جائے گا اور اعلان کردیا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی غداری ہے۔ (صحیح بخاری)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 7–11

2: اس سے مراد وہ مادہ منویہ ہے جس سے انسان کی تخلیق ہوتی ہے، اور اس کے پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے دھڑ کا یہ درمیانی حصہ ہی اس مادے کا اصل مرکز ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یوم تبلی السرآئر (9:86) ” جس روز پوشیدہ اسرار کی جانچ پڑتال ہوگی “۔ جب چھپے ہوئے راز کھلیں گے اور وہ پردے جن کی تہوں میں راز پوشیدہ ہوں گے ہٹ جائیں گے ، ان رازوں کی جانچ ہوگی وہ ظاہر اور کھلے ہوں گے اور راز نہ رہیں گے ، جس طرح چمکتا ہوا تارہ اندھیروں سے نمودار ہوتا ہے اور جس طرح نفس انسانی پردوں کے اندر ملفوف ہوتا ہے اور اس کا حافظ اس کی ہر بات جانتا ہے تو جس دن انسان کے پاس نہ قوت ہوگی اور نہ اس کا کوئی مددگار ہوگا ، اس دن سب کچھ سامنے آجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی سب کی قلعی کھل جائے گی۔ اور کل باتیں جو دلوں میں پوشیدہ رکھی ہوں یا چھپ کر کی ہوں ظاہر ہوجائیں گی اور کسی جرم کا اخفاء ممکن نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 9–12

آیت 12{ وَالْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ۔ } ”اور قسم ہے اس زمین کی جو پھوٹ پڑتی ہے۔“ آسمان سے بارش ہوتی ہے اور بارش کی وجہ سے نباتات زمین کو پھاڑتے ہوئے اُگ آتے ہیں۔ یعنی آسمان اور زمین اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 اسرار کی جانچ کے مختلف پہلو :۔ پوشیدہ اسرار سے مراد ہر انسان کے وہ اعمال بھی ہیں جن کا تعلق نیت اور ارادہ سے تھا اور وہ پورے نہ ہوسکے اور بس ایک راز ہی بن کر رہ گئے۔ نیز وہ اعمال بھی جو دنیا کے سامنے تو آئے مگر جس غرض کے تحت وہ سرانجام دیئے گئے تھے اور جو اغراض اور خواہشات ان کی محرک بنی تھیں ان کا کسی کو علم نہ ہوسکا اور وہ اعمال بھی جن کو کرنے والا تو کرکے مرگیا مگر ان کے اثرات مدتوں نوع انسانی پر پڑتے رہے ایسے سب اسرار اس دن کھل کر سامنے آجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 9–10

3۔ یعنی نہ خود اس میں مدافعت کی قوت ہوگی، اور نہ باہر سے کوئی حمایتی ہاتھ آئے گا۔ (آیت) ” یوم تبلی السرآئر “۔ یہ وقت وہ ہوگا جب انکشاف حقائق ہر قسم کا واقع ہو کر رہے گا، اور اخفاء کسی قسم کا کسی سے ممکن نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 7–10

یخرج من بین الصلب و الترائب ” صلب “ ریڑھ کی ہڈی کو کہتے ہیں اور ترائب، تریبۃ کی جمع ہے سینے کے اس حصہ کو کہتے ہیں جہاں ہار پہنا جاتا ہے، انسان کا مادہ تولید اس حصہ سے نکلتا ہے جو صلب اور سینے کے درمیان واقع ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یوم تبلی السرائر . یعنی انسان کو اس روز دوبارہ پیدا کیا جائے گا جس روز پوشیدہ اعمال اور مخفی عقائد اور ارادے اور دلوں میں چھپی باتیں ظاہر ہوجائیں گی۔ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا : قیامت کے دن اللہ ہر راز کو ظاہر کر دے گا۔ پوشیدہ راز چہروں پر نمودار ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 8–10

(8۔ 10) اور اللہ تعالیٰ اس پانی کو شرمگاہ میں دوبارہ واپس کرنے پر قادر ہے، یا یہ مطلب ہے کہ وہ اس کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قدرت رکھتا ہے جس روز سب کی مخفی باتیں ظاہر ہوجائیں گی پھر نہ اس انسان کو عذاب کی مدافعت کی خود قوت ہوگی اور نہ اس کا کوئی معین و مددگار ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 8–9

انہ علی رجعہ لقادر ، یوم تبلی السرآئر :”تبلی“ ”بلایبلو“ (ن) آزمائش کرنا، جانپ ڑتال کرنا، یہاں ظاہر کیا جانا مراد ہے، کیونکہ جان پڑتال تبھی ہوگ ی جب چھپے ہوئے اعمال ظاہر ہوں گے۔”السرآئر“ ”سریرۃ“ کی جمع ہے۔”سر“ اور ”سریرۃ“ اس چیز کو کہتے ہیں جو چھپائی جایئ۔ (قاموس) اس سے مراد وہ ارادے، نیتیں اور عقائد ہیں جن کا علم خود آدمی کے علاوہ کسی کو نہیں ہوتا اور وہ اعمال بھی جن کا علم کسی دوسرے کو نہیں ہوسکتا۔ ”یوم تبلی السرآئر“ ”رجعہ“ کا ظرف ہے، یعنی اللہ تعالیٰ انسان کو اس دن دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے جس دن چھپی ہوئی باتوں کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یوم تبلی السرائر۔ اس میں دو مسئلے ہیں : لغوی تشریح۔ مسئلہ نمبر 1۔ یوم میں عامل کون ہے ؟ جس نے یہ معنی کیا ہے وہ انسان کو دوبارہ اٹھانے پر قادر ہے ان کے نزدیک اس کا عامل لقادر ہے، رجعہ کا لفظ اس میں عامل نہیں کیونکہ صلہ اور موصول کے درمیان ان کی خبر حائل ہے، انہ علی رجعہ لقادر، رجعہ کا لفظ اسمیں عامل نہیں کیونکہ صلہ اور موصول کے درمیان ان کی خبر حائل ہے، انہ علی رجعہ لقادر میں جو دوسرے اقول میں ان کے نزدیک یوم میں عامل فعل مضمر ہے، لقادر اس میں عامل نہیں کیونکہ یوم سے مراد دنیا میں ہے۔ تبلی کا معنی ہے امتحان اور آزمائش لی جائے گی ابوالغلول طہوی نے کہا : ولاتبلی بسالتھم وان ھم صلوابالحرب حینا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 9–10

32۔ عبد بن حمید نے ربیع بن خیثم (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم تبلی السرائر جس دن بھید ظاہر کیے جائیں گے یعنی وہ بھید جس کو تم لوگ سے چھپاتے ہو۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک وادی میں ہی۔ تم ان کا ان کی دوا کے ساتھ علاج کرو۔ عرض کیا ان کی دوا کیا ہے ؟ فرمایا ان کی دوا یہ ہے کہ تو توبہ کرے اور پھر ان کی طرف نہ لوٹ یعنی ان گناہوں کا اعادہ نہ کرے 33۔ ابن المنذر نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم تبلی السرائر سے مراد ہے روزہ، نماز اور غسل جناب۔ 34۔ ابن المنذر نے یحییٰ بن ابی کثیر (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 35۔ البیہقی نے شعب الایمان میں ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اللہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 9–12

گزشتہ آیات میں انسان کی پیدائش بیان فرمائی اور یہ بھی بتایا کہ جس ذات پاک نے انسان کو ابتدائً ایسے ایسے پانی سے پیدا فرمایا وہ موت دینے کے بعد دوبارہ پیدا فرمانے پر بھی قادر ہے اس کے بعد دو آیتوں میں قیامت کے دن کی پیشی اور وہاں جو انسان کی مجبوری ہوگی اس کو بیان فرمایا۔ ارشاد فرمایا کہ جس روز انسان کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور محاسبہ کے لیے پیشی ہوگی اس وقت سری بھید کی چیزوں کی جانچ کرلی جائے گی۔ سارا کچا چٹھا سامنے آجائے گا جو بھی کچھ کیا تھا وہ نظر کے سامنے ہوگا۔ ﴿وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا﴾ (اور جو کچھ کیا تھا سب حاضر پائیں گے) ۔ انسان کی بدحالی اور مجبوری کا یہ عالم ہوگا کہ نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–17

دعوت فکر در تخلیق انسانی وشہادت ارض وسماء ونجوم برمسئلہ بعث بعد الموت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء والطارق ...... الی ....... امھلہم رویدا “۔ (ربط) گذشتہ سورت ایمان اور ایمان پر استقامت اور راہ خداوندی میں صبر اور قربانی کے مضمون پر مشتمل تھی اور اس امر پر کہ دنیا کی طاقت ایمان کو کفر کی طرف نہیں لوٹا سکتی، اب اس سورت میں قیامت اور بعث بعد الموت کا مسئلہ ثابت کرنے کے لئے انسان کو اس امر کی دعوت دی ہے کہ وہ خود اپنی تخلیق وپیدائش میں غور وفکر کرے، ارض وسماء اور روشن ستاروں کو دیکھے اور یہ کہ زمین کس طرح شق ہو کر اپنے اندر سے نباتات اور سبزہ باہر نکالتی ہے اور وہ تخم جو زمین میں دب کر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 8–10

4:۔ ” انہ علی رجعہ “ جس طرح اللہ تعالیٰ ابتداءً انسان کو نطفہ سے پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے اسی طرھ وہ اس کو دوبارہ زندہ کرنے اور موت سے حیات کی طرف لوٹانے پر بھی قادر ہے۔ ” یوم تبلی السرائر “ ظرف ” رجعہ “ کی متعلق ہے۔ (کشاف) بعض نے کہا ہے اس کا متعلق ” یرجعہ “ محذوف ہے۔ جس پر ” رجعہ “ دلالت کرتا ہے۔ ” تبلی “ تکشف (مدارک) ۔ انسان کی دوبارہ حیات اس دن ہوگی جس میں تمام چھپے بھید بھی ظاہر کردئیے جائیں گے اس دن انسان کے پاس کوئی قوت نہیں ہوگی جس سے وہ اپنی جان کی حفاظت نہ کرسکے اور نہ کوئی اس کا مددگار ہی ہوگا جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا لے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–17

(طارق کیا ہے ) ارشاد ہوتا ہے والسماء والطارق قسم ہے آسمان کی اور رات کو اندھیرے میں آنے والے کی ۔ پھر خود ہی اس کی تفصیل بیان فرمانی وما ادرک ما الطارق اور آپ کو کیا علم کہ طارق کیا ہے ۔ اس کا جواب بھی خود ہی ارشاد فرمایا النجم الثاقب وہ چمکتا ہوا ستارہ ہے۔ جو رات کے اندھیرے میں طلوع ہوتا ہے ۔ گویا طارق سے مراد ستارہ ہے جو رات کے وقت طلوع ہوتا ہے ۔ اور اس کی روشنی بھی نظر آتی ہے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے آسمان اور رات کو آنے والے ستارے کی قسم اٹھا کر یہ بات سمجھائی ہے کہ انسان کے تمام اعمال محفوظ ہیں اور قیامت کا ایک دن آنے والا ہے جب ہر عمل کی جزا مل کر رہیگی۔ (دیگر معانی ) عربی زبان میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَوْمَ تُبْلَى السَّرَاۗىِٕرُ۝ 9 ۙ بلی يقال : بَلِيَ الثوب بِلًى وبَلَاءً ، أي : خلق، ومنه قيل لمن سافر : بلو سفر وبلي سفر، أي : أبلاه السفر، وبَلَوْتُهُ : اختبرته كأني أخلقته من کثرة اختباري له، وقرئ : هُنالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ ما أَسْلَفَتْ [يونس/ 30] ، أي : تعرف حقیقة ما عملت، ولذلک قيل : بلوت فلانا : إذا اختبرته، وسمّي الغم بلاءً من حيث إنه يبلي الجسم، قال تعالی: وَفِي ذلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ [ البقرة/ 49] ( ب ل ی ) بلی الثوب ۔ بلی وبلاء کے معنی کپڑے کا بوسیدہ اور پرانا ہونے کے ہیں اسی سے بلاہ السفرہ ای ابلاہ ۔ کا تج اور ہ ہے ۔ یعنی سفر نے لا غر کردیا ہے اور بلو تہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–17

ترکیب ¦ یوم منصوب برجعہ وقیل بقادر وقیل العامل مقدر ای یرجعہ اواذکر فیکون مفعولا بہ والسرائر جمع سریرۃ والسر جمعہ اسرار وھو الذی یکتم والابتلا الاختبار والا متحان قال ابو مسلم بلوث یقع علے اظہار الشی وعلے امتحانہ والسماء الوا بہ للقسم ذات الرجع صفتہ للسما قال الزجاج الرجع المطر لانہ یجی ویرجع ویتکرر وقال الخلیل الرجع المطرنفسہ والرجع نبات الربیع وقال الواحدی الرجع المطر فی قول المفسرین وقال ابن زید الراجع الشمس والقمر والنجوم یرجعن فی السماء تطلع من ناحیتہ وتغیب فی ناحیتہ وقال القفال معناہ ذات ( ؟ ؟ ؟ ؟ ) وقال ابن عباس الرجع المطر والارض معطوف علے السماء ذات الصدع صفتہ للارض الصدع ہوالشق قال…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یَوْمَ تُبْلَی السَّرَآئِرُ ۔ (الطارق : 9) (اس روز ساری چھپی باتوں کی جانچ پڑتال ہوگی۔ ) قیامت کے پس پردہ محرکات کا بھی حساب ہوگا یعنی قیامت کے دن جس طرح ہر شخص کے اعمال کا حساب لیا جائے گا اسی طرح اس کے اعمال کے پس پردہ جو محرکات رہے، جو اغراض اور خواہشات کام کرتی رہیں اور جن نیتوں کے ساتھ وہ کام کیے گئے سب کا حساب ہوگا۔ جانچ پڑتال صرف اس بات کی نہیں ہوگی کہ کس شخص نے کیا کچھ کیا، بلکہ اس بات کی بھی ہوگی کس وجہ سے کیا، کس غرض، کس نیت اور کس مقصد سے کیا۔ اور ایک ایسی بات کی بھی جانچ پڑتال ہوگی جسے کرنے والا بھی نہیں جانتا۔ وہ یہ کہ کرنے والے نے جو فعل کیا اس کے دنیا میں کیا اثرات ہوئے، وہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 5–10

فہم القرآن ربط کلام : جس خالق نے انسان پر نگران مقرر کیے ہیں وہی انسان کو ٹپکتے ہوئے پانی سے پیدا کرنے والا ہے اور اسی نے اسے قیامت کے دن زندہ کرنا اور اپنے حضور کھڑا کرنا ہے۔ قرآن مجید نے کئی مقامات پر انسان کو اس کی تخلیق کے بارے میں متوجہ کیا اور فرمایا ہے کہ اے انسان ! تجھے اپنی پیدائش پر غور کرنا چاہیے کہ تیرے رب نے تجھے کن مراحل سے گزار کر پیدا کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تیری ابتدا اچھلتے ہوئے پانی کے ایک قطرے سے ہوئی ہے جو مرد کی پیٹھ اور عورت کے سینے کی ہڈیوں سے نکلتا ہے۔ یقین جان ! کہ تیرا رب تجھے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے نہ صرف تجھے دوبارہ پیدا کرے گا بلکہ اس دن دلوں کے تمام راز…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

9 : یَوْمَ تُبْلٰی السَّرَآ ئِرُ (جس روز سب کی قلعی کھل جائے گی) یومؔ یہ رجعہٖ کی وجہ سے منصوب ہے۔ نمبر 2۔ اس فعل مضمر کی وجہ سے جس پر رجعہ دلالت کرتا ہے۔ ای مبعثہٗ ۔ تبلی کا معنی ظاہر کرنا ‘ کھول دیا جانا۔ السرائر ؔ دلوں میں چھپے عقائد اور نیات اور مخفی اعمال۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

9 ۔” یوم تبلی السرائر “ اور یہ قیامت کا دن ہے کہ مخفی چیزیں ظاہر کی جائیں گی۔ قتادہ اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں امتحان لیا جائے گا۔ عطاء بن ابی رباح (رح) فرماتے ہیں ” السرائ “ فرض اعمال جیسے نماز، روزہ، وضو، جنابت سے غسل کرنا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے اور بندہ کے درمیان راز ہیں۔ پس اگر چاہے بندہ تو کہے میں نے روزہ رکھا حالانکہ اس نے روزہ نہیں رکھا اور میں نے نماز پڑھی حالانکہ اس نے نماز نہیں پڑھی۔ اور میں نے غسل کیا حالانکہ اس نے غسل نہ کیا ہو۔ پس وہ آزمایا جائے گا حتیٰ کہ وہ ظاہر کردے گا کہ اس نے اس ک وادا کیا اور کس نے اس کو ضائع کردیا۔ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10۔ طارق رات کو آنے والی چیز کو کہتے ہیں صبح کا تارا اور تاروں کی طرح شام سے نہیں نکلتا بلکہ رات کا بڑا حصہ گزر جانے کے بعد نکلتا ہے اس واسطے اس کو بھی طارق کہتے ہیں ثاقب چمک دار چیز کو کہتے ہیں یہ تارا خوب روشن اور چمک دار ہوتا ہے اس لئے اس کو ثاقب فرمایا اس قسم کے بعد یہ بات فرمائی کہ ہر جاندار کے لئے اللہ کی طرف سے محافظ اور نگہبان مقرر ہیں سورة رعد میں صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث گزر چکی ہے کہ حفاظت اور نیکی بدی لکھنے کے لئے رات اور دن کے الگ الگ فرشتے ہر انسان پر خدا کی طرف سے مقرر ہیں صبح کی نماز کے وقت دن کو تعینات رہنے والے فرشتے اور عصر کے وقت رات کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–9

(يَّخْرُجُ مِنْۢ بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَاۗىِٕبِ ) جو نکلتی ہے پیٹھ اور سینے کے بیچ سے۔ اس میں اس معنی کا احتمال ہے کہ یہ منی مرد کی صلب سے اور عورت کے سینے یعنی اس کی چھاتی سے نکلتی ہے دوسرا احتمال یہ ہے کہ اچھل کرنکلنے والی منی جو کہ مرد کی منی ہے اس کا مقام جہاں سے وہ نکلتی ہے صلب اور سینے کے درمیان ہے۔ شاید یہ معنی صحیح زیادہ ہے، کیونکہ اللہ نے اس آیت میں اچھل کر نکلنے والی پانی (منی) کا وصف بیان کیا ہے۔ جس کو محسوس کیا جاتا ہے اور اس کے اچھل کر باہر نکلنے کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ مرد کی منی ہے اسی طرح (الترآئب) کا لفظ مرد کے لیے استعمال ہوتا ہے کیونکہ مرد کا سینہ بمنزلہ عورت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(6) یوم حساب کی تزکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور اس یوم حساب کی تذکیر و یاد دہانی کراتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " جس دن جانچ پڑتال کی جائے گی چھپی باتوں کی " یعنی اس کی ان باتوں کی جو اس نے اپنے نہاں خانہ دل میں چھپا رکھی تھیں، جس میں تمام گندے عقیدے، برے خیالات، فاسد نظریات اور بری نیتیں وغیرہ سب کچھ آگیا، نیز اس کے وہ اعمال بھی جو انسان دوسروں سے چھپا چھپا کر کیا کرتا تھا اور سمجھتا تھا کہ ان کی خبر کسی کو نہیں۔ اور واقعہ بھی یہی ہے کہ بہت سے لوگوں کو ان کا پتہ نہیں ہوتا تھا، مگر اس خالق ومالک سے اس کی کوئی حرکت اور کوئی کیفیت کیسے اور کیونکر مخفی و مستور رہ سکتی ہے ؟ جو کہ عالم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–10

قیامت اٹل ہے اور حق کامیاب ہو گا تشریح : یہ چھوٹی سی سورت بیشمار حکمتوں کا مجموعہ ہے۔ کیونکہ اس میں عالم افلاک اجرام سماوی ' نگران فرشتے ' انسانی پیدائش کا جو ہر مادہ منویہ ' اس کے اجزا کو اکٹھا کرنے کی جگہ یعنی مادہ منویہ کو جمع کر کے سینہ و پیٹھ کے کارخانے میں آخری شکل دی جاتی ہے جو اچھلتے ہوئے پانی کی شکل میں عورت کے رحم میں پہنچا دیا جاتا ہے اور یوں انسانی جسم مادی دنیا میں وارد ہونے کے لیے تیار ہونے لگتا ہے۔ تیاری کے تمام مدارج جو 6 سے 9 ماہ تک پورے ہوجاتے ہیں۔ تفصیلاً بیان کئے جاچکے ہیں۔ اس کے بعد انسان اپنی طبعی عمر جو اللہ کی طرف سے اس کے لیے مقرر کی جاچکی ہے، اس دنیا میں گزارتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–17

سورة الطارق۔ آیات 1 تا 17۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے آسمان کی اور اندھیروں میں چمکنے والے ستارے کی ، وہ جو تاریکی میں ظاہر ہوتا ہے یعنی جس طرح آسمان پرستارے موجود ہیں مگر جب دن ختم ہوتا ہے توجگمگانے لگتے ہیں ایسے ہی انسانی اعمال کا نظام ہے کہ ہر عمل محفوظ ہے جب موت کا اندھیراچھائے تو سامنے آجاتا ہے اور یقینا ہر متنفس پر نگہبان فرشتے جو اس کے کردار کو لکھتے ہیں۔ حدیث شریف میں یہ بھی ارشاد ہے کہ ہر متنفس پہ محافظ فرشتے مقرر ہیں جو اسے ہر بلا سے محفوظ رکھتے ہیں سوائے اس کے کہ کوئی اللہ کی طرف سے اس پر آئے۔ ذرادوبارہ زندگی کا انکار کرنے والا انسان یہ تو دیکھے کہ اسے کس طرح پیدا فرمایا اور کس چیز نے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(86:9) یوم تبلی السرائر : یوم سے مراد یوم قیامت ہے۔ اور فعل محذوف اذکر کے مفعول ہونے کی وجہ سے یوم منصوب ہے۔ تبلی فعل مضارع مجہول واحد مؤنث غائب۔ وہ آزمائی جائے گی۔ وہ جانچی جائے گی اس کا امتحان کیا جائے گا۔ بلاء ، بلو (باب نصر) مصدر۔ ب ل ی، ب ل و مادہ۔ صاحب ضیاء القرآن تبلی کے متعلق اپنی تفسیر کے حاشیہ میں لکھتے ہیں۔ تبلی کے دو معنی بتائے گئے ہیں :۔ (1) تبلی بمعنی تظھر یعنی اس دن تمام راز (فاش) ظاہر کر دئیے جائیں گے۔ کوئی بات پوشیدہ نہیں رہے گی۔ (2) دوسرا معنی۔ تبلی ، تمتحب ، تختبر (قرطبی) ان کو پر کھاجائے گا۔ کھوٹا کھرا الگ الگ کردیا جائے گا۔ جن اسرار کو فاش کرنے کا ذکر فرمایا جا رہا ہے ان…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–17

لغات القرآن۔ الطارق۔ اندھیرے میں آنے والا۔ چمکنے والا۔ دافق۔ اچھلنے والا۔ الصلب۔ پیٹھ۔ الترائب (تریبۃ) ۔ سینے کے اوپر کا حصہ۔ سرائر (سریر) ۔ پلنگ۔ مسہریاں۔ ذات الرجع۔ بار بار لوٹنے والا۔ ذات الصدع۔ پھٹ جانے والا۔ چکر لگانے والا۔ الھزل۔ ہنسی کھیل ۔ مذاق۔ اکید۔ میں تدبیر کرتا ہوں۔ مھل۔ مہلت دیدے۔ روید۔ کچھ دن۔ تھوڑے دن۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے سورة الطارق میں چار اہم باتوں کی طرف متوجہ فرمایا ہے۔ 1۔ اللہ تعالیٰ نے رات کو آسمان پر چمکنے والے ستاروں کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ ” الطارق “ یعنی ستارے کیا ہیں ؟ خود ہی جواب عنایت فرمایا کہ وہ روشن ستاروں کا ایک سلسلہ ہے۔ اس کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 2) چھی باتوں سے مراد عقائد اور نیتیں ہیں اور وہ اعمال ہیں جن کو آدمی چھپاتا ہے روز قیامت اللہ ان سب کو ظاہر کردے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[7] یعنی مخفی اعمال، دلوں کے کھوٹ اور نیتوں کے فساد بھی پرکھے جائیں گے اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سب کو ظاہر کر دے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 7–10

حشر ونشر پر استدلال 1: قرآن حکیم کے انداز بیان کی یہ خصوصیات میں سے ہے کہ وہ پا افتادہ حقائق کو پیش کرتا ہے اور ان سے علم الٰہی کے نہایت دقیق مسائل کا استنباط کرتا ہے اور بتلاتا ہے کہ اگر تم لوگ کوتاہی نظر سے کام نہ لو تو تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ جو کچھ فرماتے ہیں ، وہ بالکل درست اور واقعہ ہے ۔ چناچہ ارشاد فرمایا کہ تم یہ روز مرہ دیکھتے ہو کہ وہ چھلکتا ہوا پانی جو بدن کے ہر حصے سے نچڑ کر نکلتا ہے ، وہ بےجان پانی ہوتا ہے مگر ایک جیتے جاگتے انسان کو منصہ شہود پر جلوہ گر کردیتا ہے ۔ یہ اس لئے کہ حلیم و حکیم خدا نے یہی مناسب اور موزوں سمجھا کہ اس معزز اور مفتخر انسان کو سا طریق اور اس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 9–13

ف 4۔ یعنی سب مخفی باتیں از قبیل عقائد باطلہ و نیاة فاسدہ ظاہر ہوجائیں گی اور دنیا میں جس طرح موقع پر جرم سے مکر جاتے ہیں اس کو چھپا لیتے ہیں یہ بات وہاں ممکن نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس دن جب پوشیدہ بھید ظاہر کیے جائیں گے 9 ؎ انسان نے جو کچھ کیا ہوگا خواہ وہ رات کے اندھیروں میں کیا ہے یا دن کی روشنی میں ، اندر سے بھی اندر چھپ کر کیا ہے یا سب لوگوں کے سامنے کیا ہے ، اچھا کیا ہے یا برا کیا ہے بہر حال جو کچھ بھی کیا ہے اس کے سامنے لا کر رکھ دیا جائے گا ۔ عین ممکن ہے کہ وہ خود ایک کام کرنے کے بعد اس کو بھول گیا ہو لیکن ریکارڈ خداوندی سے وہ غائب نہیں ہوگا ۔ اس لیے کوئی بات بھی چھوٹی ہوگی یا بڑی اس سے پوشیدہ نہیں رہے گی ۔ یہاں تک کہ اس وقت نیتوں کے فساد بھی کھول کر اس کے سامنے رکھ دیئے جائیں گے۔ اس فطری مشین کے بارے میں جو کچھ یہ ہوتی ہے اور کرسکتی ہے انسانی دماغ کیا کچھ سوچتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–10

إِنَّهُ عَلَىٰ رَجْعِهِ لَقَادِرٌ (Surely He is Powerful to bring him back...86:8) The word raj means 'to bring back'. The verse signifies that Allah Who has created him from a drop of seminal fluid is well able to bring him back to life after death a fortiori. يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ (on a day when all the secrets will be searched out.. 86:9). The word tubla literally means 'to test/examine' and sara'ir means 'secrets'. On the Day of Reckoning, the secrets will be tested and examined and laid bare. Man's beliefs, his thoughts, and his motives and intentions that were hidden in this…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

5 "The hidden secrets": the acts of every person which remained a secret to the world as well as those affairs which came before the world only in their apparent form, but the intentions, aims and secret motives working behind them remained hidden from the people. On the Resurrection Day aII this will be laid bare and not only will the acts and deeds of every person be examined but it will also be seen what was his motive and intention and object of so acting. Likewise, it also remained hidden from the world, even from the doer of the act himself, what effects and influences of his act…

Read the full tafseer →