Ayahs 86:1–4اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (وَالسَّمَاۗءِ وَالطَّارِقِ ) آسمان اور طارق کی قسم ! پھر (الطارق) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا (النَّجْمُ الثَّاقِبُ ) یعنی روشن ستارہ جس کی روشنی آسمانوں میں سوراخ کردیتی ہے آر پار چھید بن جاتا ہے حتی کہ زمین سے دکھائی دیتا ہے۔ ) مگر صحیح یہ ہے کہ یہ اسم جنس ہے جو تمام روشن ستاروں کو شامل ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد زحل ہے جو ساتوں آسمانوں کو چھید کر سوراخ کردیتا ہے اور ان میں سے دیکھا جاسکتا ہے اور اس کو (الطارق اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ رات کے وقت نمودار ہوتا ہے جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے وہ ہے اللہ کا ارشاد (اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَيْهَا حَافِـظٌ) ہر متنفس پر نگہبان مقرر ہے۔ جو نفس کے اچھے برے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور ہر نفس کو اس کے عمل کی جزا وسزا دی جائے گی جسے اس کے لیے محفوظ کردیا گیا ہے۔
Ayah 86:5(فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ ) یعنی انسان کو اپنی تخلیق اور اس کی ابتدا پر غور کرنا چاہیے۔
Ayah 86:6(خُلِقَ مِنْ مَّاۗءٍ دَافِقٍ ) ، پیدا کیا گیا ہے وہ اچھلتے ہوئے پانی سے۔ اس سے مراد منی ہے۔
Ayahs 86:7–9(يَّخْرُجُ مِنْۢ بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَاۗىِٕبِ ) جو نکلتی ہے پیٹھ اور سینے کے بیچ سے۔ اس میں اس معنی کا احتمال ہے کہ یہ منی مرد کی صلب سے اور عورت کے سینے یعنی اس کی چھاتی سے نکلتی ہے دوسرا احتمال یہ ہے کہ اچھل کرنکلنے والی منی جو کہ مرد کی منی ہے اس کا مقام جہاں سے وہ نکلتی ہے صلب اور سینے کے درمیان ہے۔ شاید یہ معنی صحیح زیادہ ہے، کیونکہ اللہ نے اس آیت میں اچھل کر نکلنے والی پانی (منی) کا وصف بیان کیا ہے۔ جس کو محسوس کیا جاتا ہے اور اس کے اچھل کر باہر نکلنے کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ مرد کی منی ہے اسی طرح (الترآئب) کا لفظ مرد کے لیے استعمال ہوتا ہے کیونکہ مرد کا سینہ بمنزلہ عورت کی چھاتیوں کے ہے اگر یہاں عورت مراد ہوتی تو کہا جاتا ہے (بین الصلب والژدین) پیٹھ اور دونوں پستانوں کے درمیان وغیرہ۔ واللہ اعلم۔ پس جس ہستی نے انسان کو اچھل کر نکلنے والے پانی سے وجود بخشا جو اس مشکل مقام سے خارج ہوتا ہے وہ آخرت میں اسے پیدائش کی طرف لوٹانے قیامت، حشر ونشر اور جزا وسزا کے لیے اس کی تخلیق کا اعادہ کرنے پر قادر ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ، اچھل کرنکلنے والے پانی کو واپس صلب لوٹانے پر قادر ہے یہ معنی اگرچہ صحح ہیں مگر آیت کریمہ سے معنی مراد یہ نہیں کیونکہ اس کے بعد فرمایا (يَوْمَ تُبْلَى السَّرَاۗىِٕرُ ) اس دن سینے کے بھید جانچے جائیں گے اور دلوں میں جو اچھائی یا برائی ہے وہ سب چہروں کے صفحات پر آشکار ہوجائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ۔ آل عمران 106) جس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے۔ دنیا کے اندر بہت سی چیزیں پوشیدہ رہتی تھیں اور لوگوں کے سامنے عیاں نہیں ہوتی تھیں۔ قیامت کے روز تو برابر کی نیکی اور فاجروں کا فسق وفجور صاف ظاہر ہوں گے اور علانیہ امور بن جائیں گے۔
Ayahs 86:10–12(فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ ) یعنی اس کے پاس اپنی طاقت نہیں ہوگی جس کے ذریعے سے وہ مدافعت کرسکے (وَّلَا نَاصِرٍ ) اور نہ خارج سے کوئی مددگار ہوگا جس سے مدد لے سکے، عمل کرنے والوں پر یہ قسم ان کے عمل کرنے کے وقت اور ان کی جزا وسزا کے وقت ہے پھر اللہ تعالیٰ نے دوسری قسم کھائی جو قرآن کی صحت پر ہے، چناچہ فرمایا (وَالسَّمَاۗءِ ذَاتِ الرَّجْعِ 11ۙوَالْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ 12ۙ ) بارش والے آسمان کی قسم، اور پھٹنے والی زمین کی قسم۔ یعنی آسمان ہر سال بارش لے کر لوٹتا ہے زمین نباتات کے اگنے کے لیے شق کی جاتی ہے پس اس پر انسان اور حیوانات زندہ رہتے ہیں نیز آسمان ہر وقت قضا وقدر اور شئون الٰہی کے ساتھ لوٹتا ہے قیامت کے روز مردوں سے زمین شق ہوجائے گی۔
Ayah 86:13(اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ) بلاشبہ یہ قرآن کریم حق اور صدق بین اور واضح ہے۔
Ayah 86:14(وَّمَا هُوَ بِالْهَزْلِ ) یہ بےہودہ کلام نہیں۔ بلکہ سنجیدہ کلام ہے یہ ایسا کلام ہے جو مختلف گروہوں اور مختلف مقالات کے مابین فیصلہ کرتا ہے اور مختلف خصومات میں امتیاز کرتا ہے۔
Ayah 86:15(اِنَّهُمْ ) یعنی رسول اللہ اور قرآن کریم کی تکذیب کرنے والے ( يَكِيْدُوْنَ كَيْدًا) سازشیں کرتے ہیں۔ تاکہ اپنی سازش کے ذریعے سے حق کو روک دیں اور باطل کی مدد کریں۔
Ayah 86:16(وَّاَكِيْدُ كَيْدًا) اور حق کو غالب کرنے کے لیے میں چال چلتا ہوں، خواہ کافروں کو ناگواری کیوں نہ گزرے تاکہ باطل کو روکا جائے جسے یہ لے کر آئے ہیں اور اس سے معلوم ہوجائے کہ کون غالب ہے ؟ کیونکہ انسان بہت کمزور اور حقیر ہے کہ اپنے سے زیادہ طاقت رکھنے والے اور اپنی چال سازی میں زیادہ مہارت اور علم رکھنے والے پر غالب آسکے۔
Ayah 86:17( فَمَــهِّلِ الْكٰفِرِيْنَ اَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا) یعنی کافروں کو تھوڑی سی مہلت دو ، پس عنقریب جب ان کو عذاب اپنی لپٹ میں لے لے گا تو انہیں اپنے انجام کا علم ہوجائے گا۔