At-Taariq 86:10

At-Taariq · from ayah 10

86:10

فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّلَا نَاصِرٍ ۟ؕفَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ وَّلَا نَاصِرٍؕ

تو انسان کی کچھ پیش نہ چل سکے گی اور نہ کوئی اس کا مددگار ہو گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then man will have no power or any helper.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah At-Taariq

All translations of 86:10

اُس وقت انسان کے پاس نہ خود اپنا کوئی زور ہوگا اور نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہوگا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو انسان کی کچھ پیش نہ چل سکے گی اور نہ کوئی اس کا مددگار ہو گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

تو نہ ہوگا اس کے پاس کچھ زور نہ مدددگار

— مولانا محمد جوناگڑہی

تو انسان کے پاس نہ اپنا کوئی زور ہوگا نہ کوئی مددگار۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو آدمی کے پاس نہ کچھ زور ہوگا نہ کوئی مددگار

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر انسان کے پاس نہ (خود) کوئی قوت ہوگی اور نہ کوئی (اس کا) مددگار ہوگا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو اس کے پاس نہ کوئی قوت ہوگی اور نہ کوئی مددگار۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تو انسان کے پاس نہ کوئی اپنا زور ہوگا اور نہ ہی کوئی اس کی مدد کرنے والا ہوگا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو اس وقت اس کے پاس کچھ زور نہ ہوگا اور نہ کوئی مددگار۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر انسان کو (اپنے بچاؤ کے لیے) نہ تو خود اپنی کوئی طاقت ہوگی اور نہ ہی کوئی دوسرا اس کا مددگار ہوگا

— مولانا اسحاق مدنی

تو انسان کو نہ خود قوت ہوگی اور نہ کوئی (اس کا) مددگار ہوگا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو نہیں ہوگی کسی انسان کے لیے کوئی طاقت اور نہ ہوگا اس کا کوئی مددگار۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو انسان کی کچھ پیش نہ چل سکے گی اور نہ کوئی اس کا مددگار ہوگا

— محترمہ رفعت اعجاز

he shall have no power, and no helper.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and he will have neither strength (to defend) , nor a supporter.

— Muhammad Taqi Usmani

and he will have neither strength (to defend) , nor a supporter.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then he will have no power, nor any helper.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then will he have no might nor any helper.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then man will have no power or any helper.

— Saheeh International

he will have no power, nor anyone to help him.

— Muhammad Sarwar

He shall have neither strength nor helper.

— Muhammad Habib Shakir

Then he shall have no power nor any helper.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 86:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–10

تخلیق انسان اللہ تعالیٰ آسمانوں کی اور ان کے روشن ستاروں کی قسم کھتا ہے طارق کی تفسیر چمکتے ستارے سے کی ہے وجہ یہ ہے کہ دن کو چھپے رہتے ہیں اور رات کو ظاہر ہوجاتے ہیں ایک صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ کوئی اپنے گھر رات کے وقت بیخبر آجائے یہاں بھی لفظ طروق ہے، آپ کی ایک دعا میں بھی طارق کا لفظ آیا ہے ثاقب کہتے ہیں چمکیلے اور روشنی والے کو جو شیطان پر گرتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے ہر شخص پر اللہ کی طرف سے ایک محافظ مقرر ہے جو اسے آفات سے بچاتا ہے جیسے اور جگہ ہے کہ آیت (لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 10–11

سورة الطَّارِق 6 آسمان کے لیے ذات الرجع کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ رجع کے لغوی معنی تو پلٹنے کے ہیں، مگر مجازاً عربی زبان میں یہ لفظ بارش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، کیونکہ وہ بس ایک ہی دفعہ برس کر نہیں رہ جاتی بلکہ بار بار اپنے موسم میں اور کبھی خلاف موسم پلٹ پلٹ کر آتی ہے اور وقتاً فوقتاً برستی رہتی ہے۔ ایک اور وجہ بارش کو رجع کہنے کی یہ بھی ہے کہ زمین کے سمندروں سے پانی بھاپ بن کر اٹھتا ہے اور پھر پلٹ کر زمین پر ہی برستا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–10

انہ علی رجعہ لقادر، رجع کے معنے لوٹا دینے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ جس خالق کائنات نے اول انسان کو نطفہ سے پیدا کیا ہے وہ اس کو دوبارہ لوٹا دینے یعنی مرنیکے بعد زندہ کردینے پر بدرجہ اولیٰ قادر ہے۔ یوم تبلی السرائر، تبلی کے لفظی معنے امتحان لینے اور آزمانے کے ہیں اور سرائر کے معنی ہیں مخفی امور مطلب یہ ہے کہ قیامت کے روز انسان کے تمام عقائد و خیالات اور نیت وعزم جو دل میں پوشیدہ تھی دنیا میں اس کو کوئی نہ جانتا تھا اسی طرح وہ اعمال و افعال جو اس نے چھپ کر کئے دنیا میں کسی کو ان کی خبر نہیں، محشر میں سب کا امتحان لیا جائے گا یعنی سب کو ظاہر کردیا جائے گا، حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اس دن آدمی کے پاس نہ اس کی اپنی ذاتی قوت ہو گی جس سے وہ مدافعت کر سکے اور نہ اس کے اعوان و انصار اور شرکاء و شفعاء میں سے کوئی اس کی حمایت کے لیے اٹھے گا۔ ہر ایک کا ظاہر و باطن کھلی کتاب کی طرح سامنے ہو گا اور صرف خدائے علیم و خبیر ہی کا فیصلہ بے چون و چرا نافذ ہو گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

10۔ 1 یعنی خود انسان کے پاس اتنی قوت نہ ہوگی کہ وہ خدا کے عذاب سے بچ جائے نہ کسی اور طرف اس کو کوئی ایسا مددگار مل سکے گا جو اس کو اللہ کے عذاب سے بچا دے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 7–11

2: اس سے مراد وہ مادہ منویہ ہے جس سے انسان کی تخلیق ہوتی ہے، اور اس کے پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے دھڑ کا یہ درمیانی حصہ ہی اس مادے کا اصل مرکز ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فمالہ .................... ناصر (10:86) ” اس وقت انسان کے پاس نہ خود اپنا کوئی زور ہوگا اور نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہوگا “۔ یعنی نہ ذاتی قوت ہوگی اور نہ خارج سے کوئی امداد ملے گی۔ اور کوئی بات پوشیدہ بھی نہ رہے گی اور انسان کی تمام کمزوریاں ظاہر ہوجائیں گی تو یہ بہت ہی سخت گھڑی ہوگی۔ ایسے حالات کا احساس انسان پر گہرا اثر ڈالتا ہے ، کہ یہ کائنات ، پھر نفس انسانی ، پھر تخلیق انسانی کے مختلف مدارج اور آخر کار قیامت کے دن انسان کی بےبسی کہ جب تمام راز کھل جائیں گے ، اور تمام قوتیں اور سہارے ختم ہوں گے۔ شاید اب بھی کسی قدر شک باقی رہ گیا ہے۔ نفس انسانی کے اندر کچھ خلجان موجود ہے اور بعض اوقات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 اس وقت مجرم نہ اپنے زور و قوت سے مدافعت کرسکے گا نہ کوئی حمایتی ملے گا جو مدد کر کے سزا سے بچا لے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 9–12

آیت 12{ وَالْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ۔ } ”اور قسم ہے اس زمین کی جو پھوٹ پڑتی ہے۔“ آسمان سے بارش ہوتی ہے اور بارش کی وجہ سے نباتات زمین کو پھاڑتے ہوئے اُگ آتے ہیں۔ یعنی آسمان اور زمین اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

8 یعنی اس دن کسی انسان کو بھی اتنی قوت حاصل نہ ہوگی کہ وہ اس دن پیش آنے والے مصائب کی مدافعت کرسکے۔ نہ ہی کوئی اس کی مدد کرنے کو وہاں موجود ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 9–10

3۔ یعنی نہ خود اس میں مدافعت کی قوت ہوگی، اور نہ باہر سے کوئی حمایتی ہاتھ آئے گا۔ (آیت) ” یوم تبلی السرآئر “۔ یہ وقت وہ ہوگا جب انکشاف حقائق ہر قسم کا واقع ہو کر رہے گا، اور اخفاء کسی قسم کا کسی سے ممکن نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 7–10

یخرج من بین الصلب و الترائب ” صلب “ ریڑھ کی ہڈی کو کہتے ہیں اور ترائب، تریبۃ کی جمع ہے سینے کے اس حصہ کو کہتے ہیں جہاں ہار پہنا جاتا ہے، انسان کا مادہ تولید اس حصہ سے نکلتا ہے جو صلب اور سینے کے درمیان واقع ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فمالہ من قوۃ ولا ناصر . جب منکر قیامت آدمی دوبارہ پیدا ہوجائے گا تو اس کے پاس نہ اپنی ذاتی قوّ ت ایسی ہوگی جس کی وجہ سے عذاب سے بچ سکے ‘ نہ کوئی ایسا مددگار ہوگا جو مدد کر کے عذاب سے بچا لے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 8–10

(8۔ 10) اور اللہ تعالیٰ اس پانی کو شرمگاہ میں دوبارہ واپس کرنے پر قادر ہے، یا یہ مطلب ہے کہ وہ اس کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قدرت رکھتا ہے جس روز سب کی مخفی باتیں ظاہر ہوجائیں گی پھر نہ اس انسان کو عذاب کی مدافعت کی خود قوت ہوگی اور نہ اس کا کوئی معین و مددگار ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(فمالہ من قوۃ ولا ناصر : آدمی گرفتار ہوجائے تو اپنی قوت سے چھوٹ جاتا ہے یا کسی کی مدد سے ، مگر اس دن اس میں نہ خود بچ نکلنے کی قوت ہوگی اور نہ کوئی اس کی مدد کو آنے والا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فمالہ من قوۃ ولاناصر۔ انسان میں کوئی قوت نہ ہوگی، جو اس کو محفوظ رکھے اور نہ ہی مددگار ہوگا جو اس کی اس معاملہ میں مدد کرے گا جو اس پر مصیبت نازل ہوئی ہے۔ عکرمہ سے اس کی تفسیر میں یہ قول مروی ہے : ان سے مراد بادشاہ ہیں جن میں قیامت کے روز نہ ایسی طاقت ہوگی جس کے ذریعے وہ اپنا دفاع کرسکیں گے اور نہ ایسا مددگار ہوگا جوان کی مدد کرے، سفیان نے کہا، قوۃ سے مراد قبیلہ ہے، اور ناصر سے مراد حلیف ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، فمالہ من قوۃ سے مراد ہے کہ اس کے بدن میں کوئی قوت نیہں، اور ناصر سے مراد ہے کہ کوئی اور مددگار نہیں جس کے ذریعے وہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے محفوظ رہ سکے، قتادہ کے قول کا بھی یہی مقصود…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 9–10

32۔ عبد بن حمید نے ربیع بن خیثم (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم تبلی السرائر جس دن بھید ظاہر کیے جائیں گے یعنی وہ بھید جس کو تم لوگ سے چھپاتے ہو۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک وادی میں ہی۔ تم ان کا ان کی دوا کے ساتھ علاج کرو۔ عرض کیا ان کی دوا کیا ہے ؟ فرمایا ان کی دوا یہ ہے کہ تو توبہ کرے اور پھر ان کی طرف نہ لوٹ یعنی ان گناہوں کا اعادہ نہ کرے 33۔ ابن المنذر نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم تبلی السرائر سے مراد ہے روزہ، نماز اور غسل جناب۔ 34۔ ابن المنذر نے یحییٰ بن ابی کثیر (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 35۔ البیہقی نے شعب الایمان میں ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اللہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَمَا لَهٗ : تو نہیں ہوگی اس کے لیے ][ مِنْ قُوَّةٍ : کوئی بھی قوت ][ وَّلَا نَاصِرٍ : اور نہ کوئی بھی مدد کرنے والا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 9–12

گزشتہ آیات میں انسان کی پیدائش بیان فرمائی اور یہ بھی بتایا کہ جس ذات پاک نے انسان کو ابتدائً ایسے ایسے پانی سے پیدا فرمایا وہ موت دینے کے بعد دوبارہ پیدا فرمانے پر بھی قادر ہے اس کے بعد دو آیتوں میں قیامت کے دن کی پیشی اور وہاں جو انسان کی مجبوری ہوگی اس کو بیان فرمایا۔ ارشاد فرمایا کہ جس روز انسان کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور محاسبہ کے لیے پیشی ہوگی اس وقت سری بھید کی چیزوں کی جانچ کرلی جائے گی۔ سارا کچا چٹھا سامنے آجائے گا جو بھی کچھ کیا تھا وہ نظر کے سامنے ہوگا۔ ﴿وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا﴾ (اور جو کچھ کیا تھا سب حاضر پائیں گے) ۔ انسان کی بدحالی اور مجبوری کا یہ عالم ہوگا کہ نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–17

دعوت فکر در تخلیق انسانی وشہادت ارض وسماء ونجوم برمسئلہ بعث بعد الموت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء والطارق ...... الی ....... امھلہم رویدا “۔ (ربط) گذشتہ سورت ایمان اور ایمان پر استقامت اور راہ خداوندی میں صبر اور قربانی کے مضمون پر مشتمل تھی اور اس امر پر کہ دنیا کی طاقت ایمان کو کفر کی طرف نہیں لوٹا سکتی، اب اس سورت میں قیامت اور بعث بعد الموت کا مسئلہ ثابت کرنے کے لئے انسان کو اس امر کی دعوت دی ہے کہ وہ خود اپنی تخلیق وپیدائش میں غور وفکر کرے، ارض وسماء اور روشن ستاروں کو دیکھے اور یہ کہ زمین کس طرح شق ہو کر اپنے اندر سے نباتات اور سبزہ باہر نکالتی ہے اور وہ تخم جو زمین میں دب کر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 8–10

4:۔ ” انہ علی رجعہ “ جس طرح اللہ تعالیٰ ابتداءً انسان کو نطفہ سے پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے اسی طرھ وہ اس کو دوبارہ زندہ کرنے اور موت سے حیات کی طرف لوٹانے پر بھی قادر ہے۔ ” یوم تبلی السرائر “ ظرف ” رجعہ “ کی متعلق ہے۔ (کشاف) بعض نے کہا ہے اس کا متعلق ” یرجعہ “ محذوف ہے۔ جس پر ” رجعہ “ دلالت کرتا ہے۔ ” تبلی “ تکشف (مدارک) ۔ انسان کی دوبارہ حیات اس دن ہوگی جس میں تمام چھپے بھید بھی ظاہر کردئیے جائیں گے اس دن انسان کے پاس کوئی قوت نہیں ہوگی جس سے وہ اپنی جان کی حفاظت نہ کرسکے اور نہ کوئی اس کا مددگار ہی ہوگا جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا لے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–17

(طارق کیا ہے ) ارشاد ہوتا ہے والسماء والطارق قسم ہے آسمان کی اور رات کو اندھیرے میں آنے والے کی ۔ پھر خود ہی اس کی تفصیل بیان فرمانی وما ادرک ما الطارق اور آپ کو کیا علم کہ طارق کیا ہے ۔ اس کا جواب بھی خود ہی ارشاد فرمایا النجم الثاقب وہ چمکتا ہوا ستارہ ہے۔ جو رات کے اندھیرے میں طلوع ہوتا ہے ۔ گویا طارق سے مراد ستارہ ہے جو رات کے وقت طلوع ہوتا ہے ۔ اور اس کی روشنی بھی نظر آتی ہے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے آسمان اور رات کو آنے والے ستارے کی قسم اٹھا کر یہ بات سمجھائی ہے کہ انسان کے تمام اعمال محفوظ ہیں اور قیامت کا ایک دن آنے والا ہے جب ہر عمل کی جزا مل کر رہیگی۔ (دیگر معانی ) عربی زبان میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَمَا لَہٗ مِنْ قُوَّۃٍ وَّلَا نَاصِرٍ۝ 10 ۭ قوی القُوَّةُ تستعمل تارة في معنی القدرة نحو قوله تعالی: خُذُوا ما آتَيْناكُمْ بِقُوَّةٍ [ البقرة/ 63] ( ق وو ) القوۃ یہ کبھی قدرت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ خُذُوا ما آتَيْناكُمْ بِقُوَّةٍ [ البقرة/ 63] اور حکم دیا کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی اس کو زور سے پکڑے رہو ۔ نصر النَّصْرُ والنُّصْرَةُ : العَوْنُ. قال تعالی: نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] وَما لَهُمْ فِي الْأَرْضِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ [ التوبة/ 74] ، وَكَفى بِاللَّهِ وَلِيًّا وَكَفى بِاللَّهِ نَصِيراً [ النساء/ 45] ، ما لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–17

ترکیب ¦ یوم منصوب برجعہ وقیل بقادر وقیل العامل مقدر ای یرجعہ اواذکر فیکون مفعولا بہ والسرائر جمع سریرۃ والسر جمعہ اسرار وھو الذی یکتم والابتلا الاختبار والا متحان قال ابو مسلم بلوث یقع علے اظہار الشی وعلے امتحانہ والسماء الوا بہ للقسم ذات الرجع صفتہ للسما قال الزجاج الرجع المطر لانہ یجی ویرجع ویتکرر وقال الخلیل الرجع المطرنفسہ والرجع نبات الربیع وقال الواحدی الرجع المطر فی قول المفسرین وقال ابن زید الراجع الشمس والقمر والنجوم یرجعن فی السماء تطلع من ناحیتہ وتغیب فی ناحیتہ وقال القفال معناہ ذات ( ؟ ؟ ؟ ؟ ) وقال ابن عباس الرجع المطر والارض معطوف علے السماء ذات الصدع صفتہ للارض الصدع ہوالشق قال…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَمَالَـہٗ مِنْ قُوَّۃٍ وَّلاَ نَاصِرٍ ۔ (الطارق : 10) (اس وقت انسان کے پاس نہ کوئی زور ہوگا اور نہ کوئی مددگار۔ ) جب انسان کے ہر عمل کی جانچ پڑتال ہوگی تو نہ اس کے پاس کوئی ذاتی قوت ہوگی جس سے وہ مدافعت کرسکے اور نہ اس کا کوئی مددگار ہوگا، نہ کوئی شفاعت کرنے والا جو اس کی حمایت کے لیے اٹھے۔ انسان بےدست و پا اپنے اعمال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کھڑا ہوگا اور صرف اس کے افکار و اعمال کے حوالے سے ایک بےلاگ فیصلہ ہوگا جسے بےچون و چرا قبول کرنا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 5–10

فہم القرآن ربط کلام : جس خالق نے انسان پر نگران مقرر کیے ہیں وہی انسان کو ٹپکتے ہوئے پانی سے پیدا کرنے والا ہے اور اسی نے اسے قیامت کے دن زندہ کرنا اور اپنے حضور کھڑا کرنا ہے۔ قرآن مجید نے کئی مقامات پر انسان کو اس کی تخلیق کے بارے میں متوجہ کیا اور فرمایا ہے کہ اے انسان ! تجھے اپنی پیدائش پر غور کرنا چاہیے کہ تیرے رب نے تجھے کن مراحل سے گزار کر پیدا کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تیری ابتدا اچھلتے ہوئے پانی کے ایک قطرے سے ہوئی ہے جو مرد کی پیٹھ اور عورت کے سینے کی ہڈیوں سے نکلتا ہے۔ یقین جان ! کہ تیرا رب تجھے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے نہ صرف تجھے دوبارہ پیدا کرے گا بلکہ اس دن دلوں کے تمام راز…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

10 : فَمَا لَہٗ مِنْ قُوَّۃٍ وَّ لَانَاصِرٍ (پھر اس انسان کو نہ تو خود قوت ہوگی اور نہ کوئی اس کا حمایتی ہوگا) لَہٗ سے مراد انسان کیلئے من قوۃ ؔ اس کی ذات میں کوئی قوت جو آئی مصیبت کو ٹال سکے۔ ولا ناصرؔ ایسا مددگار جو مدد کر کے اس سے یہ مصیبت ہٹا سکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

10 ۔” فمالہ من قوۃ ولا ناصر “ یعنی اس انسان کے لئے جو بعث کا انکار کرنے والا ہے، کوئی ایسی قوت نہیں ہے جو اس کو اللہ کے عذاب سے بچادے اور نہ کوئی مددگار ہے جو اس کو اللہ تعالیٰ سے مدد کرے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10۔ طارق رات کو آنے والی چیز کو کہتے ہیں صبح کا تارا اور تاروں کی طرح شام سے نہیں نکلتا بلکہ رات کا بڑا حصہ گزر جانے کے بعد نکلتا ہے اس واسطے اس کو بھی طارق کہتے ہیں ثاقب چمک دار چیز کو کہتے ہیں یہ تارا خوب روشن اور چمک دار ہوتا ہے اس لئے اس کو ثاقب فرمایا اس قسم کے بعد یہ بات فرمائی کہ ہر جاندار کے لئے اللہ کی طرف سے محافظ اور نگہبان مقرر ہیں سورة رعد میں صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث گزر چکی ہے کہ حفاظت اور نیکی بدی لکھنے کے لئے رات اور دن کے الگ الگ فرشتے ہر انسان پر خدا کی طرف سے مقرر ہیں صبح کی نماز کے وقت دن کو تعینات رہنے والے فرشتے اور عصر کے وقت رات کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 10–12

(فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ ) یعنی اس کے پاس اپنی طاقت نہیں ہوگی جس کے ذریعے سے وہ مدافعت کرسکے (وَّلَا نَاصِرٍ ) اور نہ خارج سے کوئی مددگار ہوگا جس سے مدد لے سکے، عمل کرنے والوں پر یہ قسم ان کے عمل کرنے کے وقت اور ان کی جزا وسزا کے وقت ہے پھر اللہ تعالیٰ نے دوسری قسم کھائی جو قرآن کی صحت پر ہے، چناچہ فرمایا (وَالسَّمَاۗءِ ذَاتِ الرَّجْعِ 11۝ۙوَالْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ 12۝ۙ ) بارش والے آسمان کی قسم، اور پھٹنے والی زمین کی قسم۔ یعنی آسمان ہر سال بارش لے کر لوٹتا ہے زمین نباتات کے اگنے کے لیے شق کی جاتی ہے پس اس پر انسان اور حیوانات زندہ رہتے ہیں نیز آسمان ہر وقت قضا وقدر اور شئون الٰہی کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(7) یوم حساب میں انسان کی بےبسی کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور انسان کو یوم حساب کی بےبسی کی تذکیر و یاد دہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر نہ تو اس کے پاس کوئی اپنی طاقت ہوگی اور نہ کوئی مددگار "۔ یعنی کوئی ایسا مددگار جو اس موقع پر اس کی کوئی مدد کرسکے، کیونکہ اس کے سب فرضی سہارے اس روز ھباء منثورا ہوچکے ہوں گے، اور ناصر حقیقی وحدہ لاشریک سے اس نے تعلق جوڑا نہیں تھا اس لیے اس کی طرف سے اس کو کوئی مدد نہیں مل سکے گی، اور دوسرے جن فرضی سہاروں پر ایسوں نے تکیہ وآسرا کر رکھا تھا وہ کچھ کام آنے کے قابل تھے ہی نہیں کہ وہ سب غرضی وہمی اور خود ساختہ تھے اس لیے ایسوں کا اس روز نہ کوئی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–10

قیامت اٹل ہے اور حق کامیاب ہو گا تشریح : یہ چھوٹی سی سورت بیشمار حکمتوں کا مجموعہ ہے۔ کیونکہ اس میں عالم افلاک اجرام سماوی ' نگران فرشتے ' انسانی پیدائش کا جو ہر مادہ منویہ ' اس کے اجزا کو اکٹھا کرنے کی جگہ یعنی مادہ منویہ کو جمع کر کے سینہ و پیٹھ کے کارخانے میں آخری شکل دی جاتی ہے جو اچھلتے ہوئے پانی کی شکل میں عورت کے رحم میں پہنچا دیا جاتا ہے اور یوں انسانی جسم مادی دنیا میں وارد ہونے کے لیے تیار ہونے لگتا ہے۔ تیاری کے تمام مدارج جو 6 سے 9 ماہ تک پورے ہوجاتے ہیں۔ تفصیلاً بیان کئے جاچکے ہیں۔ اس کے بعد انسان اپنی طبعی عمر جو اللہ کی طرف سے اس کے لیے مقرر کی جاچکی ہے، اس دنیا میں گزارتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–17

سورة الطارق۔ آیات 1 تا 17۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے آسمان کی اور اندھیروں میں چمکنے والے ستارے کی ، وہ جو تاریکی میں ظاہر ہوتا ہے یعنی جس طرح آسمان پرستارے موجود ہیں مگر جب دن ختم ہوتا ہے توجگمگانے لگتے ہیں ایسے ہی انسانی اعمال کا نظام ہے کہ ہر عمل محفوظ ہے جب موت کا اندھیراچھائے تو سامنے آجاتا ہے اور یقینا ہر متنفس پر نگہبان فرشتے جو اس کے کردار کو لکھتے ہیں۔ حدیث شریف میں یہ بھی ارشاد ہے کہ ہر متنفس پہ محافظ فرشتے مقرر ہیں جو اسے ہر بلا سے محفوظ رکھتے ہیں سوائے اس کے کہ کوئی اللہ کی طرف سے اس پر آئے۔ ذرادوبارہ زندگی کا انکار کرنے والا انسان یہ تو دیکھے کہ اسے کس طرح پیدا فرمایا اور کس چیز نے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 10–11

ف 5 اصل لفظ رجع استعمال ہوا ہے جس کے لفظ معنی پلٹنے کے ہیں۔ اکثر مفسرین نے اس سے مراد بارش ہی لی ہے کیونکہ وہ آتی ہے اور پلٹ پلٹ کر برستی ہے اور یوں بھی جو پانی آسمان سے برستا ہے وہ دراصل زمین ہی سے یعنی سمندروں اور دریائوں سے بھاپ بن کر اوپر گیا ہوتا ہے۔ اور پھر ٹھنڈا ہو کر زمین کی طرف پلٹتا ہے (قرطبی وغیرہ)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(86:10) فما لہ من قوۃ ولاناصر۔عاطفہ بمعنی پھر۔ ما نافیہ۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب الانسان کے لئے ہے۔ من قوۃ جار مجرور۔ طاقت، زور، پھر نہ تو (اس روز) انسان کا کوئی زور ہوگا اور نہ کوئی مددگار (جو اسے عذاب سے بچالے) ناصر کا عطف قوۃ پر ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–17

لغات القرآن۔ الطارق۔ اندھیرے میں آنے والا۔ چمکنے والا۔ دافق۔ اچھلنے والا۔ الصلب۔ پیٹھ۔ الترائب (تریبۃ) ۔ سینے کے اوپر کا حصہ۔ سرائر (سریر) ۔ پلنگ۔ مسہریاں۔ ذات الرجع۔ بار بار لوٹنے والا۔ ذات الصدع۔ پھٹ جانے والا۔ چکر لگانے والا۔ الھزل۔ ہنسی کھیل ۔ مذاق۔ اکید۔ میں تدبیر کرتا ہوں۔ مھل۔ مہلت دیدے۔ روید۔ کچھ دن۔ تھوڑے دن۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے سورة الطارق میں چار اہم باتوں کی طرف متوجہ فرمایا ہے۔ 1۔ اللہ تعالیٰ نے رات کو آسمان پر چمکنے والے ستاروں کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ ” الطارق “ یعنی ستارے کیا ہیں ؟ خود ہی جواب عنایت فرمایا کہ وہ روشن ستاروں کا ایک سلسلہ ہے۔ اس کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 3) یعنی اس وقت مجرم نہ اپنے زور قوت سے مدافت کرسکے گانہ کوئی ایسا مددگار ہوگا جو اسے عذاب سے بچاسکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–14

[8] یعنی جس طرح آسمان سے پانی کا برسنا اور زمین کا شق ہو کر نباتات کا اپنے اندر سے اگلنا کوئی مذاق نہیں ہے اسی طرح قرآن کا یہ خبر دینا کہ مرنے کے بعد پھر اپنے اللہ کی طرف لوٹنا ہے کوئی ہنسی کی بات نہیں ہے بلکہ ایک سنجیدہ اور دوٹوک بات ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 7–10

حشر ونشر پر استدلال 1: قرآن حکیم کے انداز بیان کی یہ خصوصیات میں سے ہے کہ وہ پا افتادہ حقائق کو پیش کرتا ہے اور ان سے علم الٰہی کے نہایت دقیق مسائل کا استنباط کرتا ہے اور بتلاتا ہے کہ اگر تم لوگ کوتاہی نظر سے کام نہ لو تو تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ جو کچھ فرماتے ہیں ، وہ بالکل درست اور واقعہ ہے ۔ چناچہ ارشاد فرمایا کہ تم یہ روز مرہ دیکھتے ہو کہ وہ چھلکتا ہوا پانی جو بدن کے ہر حصے سے نچڑ کر نکلتا ہے ، وہ بےجان پانی ہوتا ہے مگر ایک جیتے جاگتے انسان کو منصہ شہود پر جلوہ گر کردیتا ہے ۔ یہ اس لئے کہ حلیم و حکیم خدا نے یہی مناسب اور موزوں سمجھا کہ اس معزز اور مفتخر انسان کو سا طریق اور اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(10) اس دن نہ تو انسان کو خود کوئی زور ہوگا اور نہ اس کی کوئی مدد کرنے والا ہوگا۔ یعنی سب کی مخفی باتیں آشکارا ہوجائیں گی بھید جانچے جانے کا مطلب یہی ہے کہ جو باتیں اور جو گناہ اور جو کمزوریاں اپنی ہوشیاری سے چھپا لیتا ہے اور کسی کو وہ کمزوریاں معلوم نہیں ہوتیں لیکن اس دن تمام پوشیدہ باتوں پر سے پردہ اٹھادیاجائے گا اور ہر چیز زیر بحث آجائے گی اور خفیہ سے خفیہ بات جانچی جائیگی پھر اس وقت یہ حالت ہوگی کہ نہ تو اس میں خود کوئی مدافعت کی طاقت ہوگی اور نہ کوئی مدد کرنے والا ہوگا کہ کسی بھید کی بات کو چھپا سکے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 9–13

ف 4۔ یعنی سب مخفی باتیں از قبیل عقائد باطلہ و نیاة فاسدہ ظاہر ہوجائیں گی اور دنیا میں جس طرح موقع پر جرم سے مکر جاتے ہیں اس کو چھپا لیتے ہیں یہ بات وہاں ممکن نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پھر نہ تو اس کا کوئی زور چلے گا اور نہ ہی اس کا کوئی معاون ہو گا 10 ؎ ( مطلب یہ ہے کہ اس کا کھلا چٹھا جب اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا اور ایک ایک بات اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھے گا نہ تو ان سے انکار کرسکے گا اور نہ ہی اس کے پاس ایسا زور ہوگا کہ وہ اس زور کے بل بوتے پر ان نتائج کو ظاہر نہ ہونے دے جو ان اعمال کے ساتھ لازم ہیں جیسا کہ اس نے دنیا میں کیا تھا کہ اپنی برائیوں پر اپنی طاقت و قوت سے پردہ ڈال رکھا تھا اور کسی کی جرأت نہ تھی کہ اس کی برائیوں کا کوئی نام تک ہی لے اور اس طرح ان برائیوں کے نتائج بھی اس نے ساری زندگی ظاہر نہ ہونے دیئے اور اگر کسی نے بہت زور لگایا اور عدالت تک پہنچ گیا تو اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–10

إِنَّهُ عَلَىٰ رَجْعِهِ لَقَادِرٌ (Surely He is Powerful to bring him back...86:8) The word raj means 'to bring back'. The verse signifies that Allah Who has created him from a drop of seminal fluid is well able to bring him back to life after death a fortiori. يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ (on a day when all the secrets will be searched out.. 86:9). The word tubla literally means 'to test/examine' and sara'ir means 'secrets'. On the Day of Reckoning, the secrets will be tested and examined and laid bare. Man's beliefs, his thoughts, and his motives and intentions that were hidden in this…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–11

6 The words dhat ar-raj`e have been used for the sky. Literally raj`e means to return, but metaphorically this word is used for the rain in Arabic, for rain does not fall just once, but returns over and over again in the season and of season as well. Another reason for calling the rain raj `e is that vapour from the oceans of the earth and then falls back as rain on the sometimes out water rises as the same earth.

Read the full tafseer →