وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِ ۟ۙوَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِۙ
آسمان کی قسم جو مینہ برساتا ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
By the sky which returns [rain]
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz
وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِ ۟ۙوَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِۙ
آسمان کی قسم جو مینہ برساتا ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
By the sky which returns [rain]
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz
Read the whole surah · Surah At-Taariq
قسم ہے بارش برسانے والے آسمان کی
آسمان کی قسم جو مینہ برساتا ہے
بارش والے آسمان کی قسم!
قسم ہے بارش بھرے آسمان کی۔
آسمان کی قسم! جس سے مینھ اترتا ہے
اس آسمانی کائنات کی قَسم جو پھر اپنی ابتدائی حالت میں پلٹ جانے والی ہے،
قسم ہے آسمان کی جو بار بار بارش برسانے والا ہے !
قسم ہے آسمان کی جو بار بار بارش برساتا ہے
شاہد ہے آسمان ،
قسم ہے آسمان کی جو کہ بارش برساتا ہے
قسم ہے بارش والے آسمان کی
قسم ہے اس آسمان کی جو بارش برساتا ہے وقفے وقفے سے۔
آسمان کی قسم جو مینہ برساتا ہے۔
By the heaven with its recurring cycle of rain,
I swear by the sky that rains,
I swear by the sky that rains,
By the sky which gives rain, again and again.
By the heaven which giveth the returning rain,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
By the sky which returns [rain]
By the rotating heavens
I swear by the raingiving heavens,
By the heaven which returneth,
By the Firmament which returns (in its round),
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 11–17
صداقت قرآن کا ذکر رجع کے معنی بارش، بارش والے بادل، برسنے، ہر سال بندوں کی روزی لوٹانے جس کے بغیر انسان اور ان کے جانور ہلاک ہوجائیں سورج چاند اور ستاروں کے ادھر ادھر لوٹنے کے مروی ہیں زمین پھٹتی ہے تو دانے گھاس اور چارہ نکلتا ہے یہ قرآن حق ہے عدل کا مظہر ہے یہ کوئی عذر قصہ باتیں نہیں کافر اسے جھٹلاتے ہیں اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں طرح طرح کے مکر و فریب سے لوگوں کو قرآن کے خلاف اکساتے ہیں اے نبی تو انہیں ذرا سی ڈھیل دے پھر عنقریب دیکھ لے گا کہ کیسے کیسے بدترین عذابوں میں پکڑے جاتے ہیں جیسے اور جگہ ہے آیت (نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ 24) 31۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
سورة الطَّارِق 6 آسمان کے لیے ذات الرجع کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ رجع کے لغوی معنی تو پلٹنے کے ہیں، مگر مجازاً عربی زبان میں یہ لفظ بارش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، کیونکہ وہ بس ایک ہی دفعہ برس کر نہیں رہ جاتی بلکہ بار بار اپنے موسم میں اور کبھی خلاف موسم پلٹ پلٹ کر آتی ہے اور وقتاً فوقتاً برستی رہتی ہے۔ ایک اور وجہ بارش کو رجع کہنے کی یہ بھی ہے کہ زمین کے سمندروں سے پانی بھاپ بن کر اٹھتا ہے اور پھر پلٹ کر زمین پر ہی برستا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
والسماء ذات الرجع، رجع کے معنے اس بارش کے ہیں جو پے درپے ہو کہ ایک مرتبہ بارش ہو کر ختم ہوجائے اور پھر لوٹے۔
Read the full tafseer →حیات بعد الموت پر آفاقی شہادت: اوپر حیات بعد الموت اور روز جزا پر انسان کی خلقت سے شہادت پیش کی ہے۔ اب اسی دعوے پر ایک آفاقی دلیل کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ’رَجْعٌ‘ کی تشریح اہل لغت نے ’المطر بعد المطر‘ سے کی ہے۔ یعنی وہ بارش جو یکے بعد دیگرے ہوتی اور زمین کو زندگی و شادابی بخشتی ہے۔
Read the full tafseer →11۔ 1 عرب بارش کو رجع کہتے ہیں اس لئے بارش کو رَجْع کہا اور بطور شگون عرب بارش کو کہتے تھے تاکہ وہ بار بار ہوتی رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
2: اس سے مراد وہ مادہ منویہ ہے جس سے انسان کی تخلیق ہوتی ہے، اور اس کے پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے دھڑ کا یہ درمیانی حصہ ہی اس مادے کا اصل مرکز ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
الرجع کے معنی ہیں لوٹنے کے ، آسمان بار بار بارش برساتا ہے اور الصدع کے معنی پھٹنے کے ہیں اور بارش کے بعد جب زمین سے نباتات اگتے ہیں تو وہ پھٹتی ہے اور اس سے پودے پھوٹتے ہیں۔ یہ دونوں باتیں زندگی کی ایک قسم کا اظہار کرتی ہیں۔ یعنی نباتات اور ان کی پہلی زندگی کہ آسمانوں سے پانی برستا ہے اور پھر نباتات اگتے ہیں۔ یہ تمثیل اس سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے کہ نطفے کا پانی اچھل کر برسے ، اور آسمان کے بجائے ریڑھ اور سینے کی ہڈیوں سے نکلے اور رحم کے اندھیروں سے بچہ نمودار ہو۔ گویا ایک ہی زندگی ہے اور ایک ہی منظر ہے ، ایک ہی قسم کی حرکت ، ایک ہی نظام اور ایک ہی قسم کی تخلیق ہے اور دونوں سے ثابت ہوتا ہے کہ…
Read the full tafseer →7 یا بارش لانے والے کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
آیت 12{ وَالْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ۔ } ”اور قسم ہے اس زمین کی جو پھوٹ پڑتی ہے۔“ آسمان سے بارش ہوتی ہے اور بارش کی وجہ سے نباتات زمین کو پھاڑتے ہوئے اُگ آتے ہیں۔ یعنی آسمان اور زمین اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ :
Read the full tafseer →9 ذات الرجع رجوع کے معنی اپنی اصل کی طرف لوٹنا ہے مگر مجازاً رجع کا لفظ بارش کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور آسمان کو ذات الرجع کہنے کی ایک وجہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ سمندر سے آبی بخارات اٹھتے ہیں وہ جب آسمان کی بلندیوں پر پہنچتے ہیں تو ان بلندیوں کی ٹھنڈک ان آبی بخارات کو پھر سے پانی میں تبدیل کردیتی ہے اور بارش شروع ہوتی ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ بارش برسنے کا عمل فقط ایک بار ہی نہیں ہوتا بلکہ بار بار اور وقتاً فوقتاً ہوتا ہی رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
4۔ قول فیصل حق اور باطل کے باب میں بھی، اور قول فیصل اپنے ثبوت اعجاز کے اعتبار سے بھی .... تاکید اور زور کے موقع پر قسمیں کھانا اسلوب عرب میں عام تھا۔ (آیت) ” ذات الصدع “۔ زمین جو بیج نکلتے وقت شق ہوجاتی ہے، اس کی طرف اشارہ ہے۔ مفسر تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ جس طرح بارش آسمان سے آتی ہے، اور عمدہ زمین کو فیضیاب کرتی ہے، اس طرح قرآن مجید بھی آسمان ہی سے اترا ہے، اور جس سینہ میں قبول کی قابلیت ہوگی، اسے مالا مال کردے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
والسماء ذات الرجع، رجع کے لغوی معنی لوٹنا، پلٹنا کے ہیں، بارش کو رجع اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ پلٹ کر بار بار آی ہے۔
Read the full tafseer →والسماء ذات الرجع . بارش والے آسمان کی قسم ( رَجْعٌ لوٹانا) بارش کو رجع کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ہر سال بارش لوٹ لوٹ کر آتی ہے۔ آسمان صاحب رجع ہے یعنی آسمان کے جس حصہ سے ستارے حرکت شروع کرتے ہیں ‘ 24 گھنٹہ میں یا ایک مہینہ میں یا سال بھر میں اسی مقام پر آجاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
(11۔ 13) قسم ہے آسمان کی جس سے بار بار بارش ہوتی ہے، اور زمین کی جو نباتات کے لیے پھٹ جاتی ہے یا یہ کہ جو میخوں والی ہے یہ قرآن کریم ایک فیصلہ کردینے والا کلام ہے یا یہ کہ منجانب اللہ ایک حکم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
(والسمآء ذات الرجع…:”الرجع“ کی تفسیر مجاہد نے بارش کی ہے۔ (دیکھیے بخاری، التفسیر، باب سورة الطارق، بعد ح : 3930) اکثر مفسرین نے یہی معنی کیا ہے۔ ”الرجع“ کا لفظیم عن لوٹنا یا لوٹانا ہے، چونکہ بارش بار بار پلٹ کر برستی ہے، اس لئے اسے ”رجع“ کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ سمندر کا پانی بھپا بنتا ہے، وہ بھاپ پلٹ کر پھر بارش کی صورت میں برستی ہے، پھر وہ پانی اڑتا ہے پھر بسرتا ہے، اس لئے اسے ”رجع“ کہا ہے۔”الصدع“ کا معنی پھٹنا ہے۔
Read the full tafseer →والسماء ذات الرجع۔۔۔۔ تا۔۔ اکید کیدا۔ والسماء ذات الرجع۔ قسم ہے آسمان کی جو بارش والا ہے، ہر سال بارش کے بعد بارش لاتا ہے، عام مفسرین نے یہی کہا ہے، اہل لغت نے یہ کہا ہے، الرجع کا معنی بارش ہے، انہوں نے عمدہ چیز چننے والے کے لیے شعر کہا وہ ایسی تلوار کی صفت بیان کرتا ہے جس کو اس نے پانی سے تشبیہ دی ہے۔ ابیض کا الرجع رسوب اذا، ماثاخ فی محتفل یختلی۔ سفید رنگت والی تلوار اور بارش کی مانند ہے جس میں گہرائی تک جانے والی جب وہ دھنس جائے جسم کے موٹے حصے میں جبکہ وہ اسے کاٹ رہی ہو۔ ثاخت قدمہ فی الوحل تثوخ وتثیخ قدم کیچڑ میں غائب ہوگیا۔ خلیل نے کہا : رجع کا معنی بارش ہے، رجع کا معنی زمین کی نباتا بھی…
Read the full tafseer →1۔ عبدالرزاق والفریابی وعبد بن حمید والبخاری فی تاریخہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والسماء ذات الرجع قسم ہے آسمان بارش والے کی یعنی ایک بارش کے بعد دوسری بارش آیت والارض ذات الصدع قسم ہے زمین کی جو پھت جای ہے یعنی نباتات سے زمین کا پھٹنا ہے۔ 2۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر، عکرمہ، ابو مالک، ابن ابزی اور ربیع بن انس رحمہم اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔ 3۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت والسماء ذات الرجع سے مراد وہ بادل ہے جو بارش برساتا ہے۔ پھر بارش کے ساتھ لوٹتا ہے آیت والارض ذات الصدع سے مراد ہے وادیوں کے علاوہ تنگ…
Read the full tafseer →[وَالسَّمَاۗءِ : قسم ہے آسمان کی ][ ذَاتِ الرَّجْعِ : جو بارش والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
گزشتہ آیات میں انسان کی پیدائش بیان فرمائی اور یہ بھی بتایا کہ جس ذات پاک نے انسان کو ابتدائً ایسے ایسے پانی سے پیدا فرمایا وہ موت دینے کے بعد دوبارہ پیدا فرمانے پر بھی قادر ہے اس کے بعد دو آیتوں میں قیامت کے دن کی پیشی اور وہاں جو انسان کی مجبوری ہوگی اس کو بیان فرمایا۔ ارشاد فرمایا کہ جس روز انسان کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور محاسبہ کے لیے پیشی ہوگی اس وقت سری بھید کی چیزوں کی جانچ کرلی جائے گی۔ سارا کچا چٹھا سامنے آجائے گا جو بھی کچھ کیا تھا وہ نظر کے سامنے ہوگا۔ ﴿وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا﴾ (اور جو کچھ کیا تھا سب حاضر پائیں گے) ۔ انسان کی بدحالی اور مجبوری کا یہ عالم ہوگا کہ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
دعوت فکر در تخلیق انسانی وشہادت ارض وسماء ونجوم برمسئلہ بعث بعد الموت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء والطارق ...... الی ....... امھلہم رویدا “۔ (ربط) گذشتہ سورت ایمان اور ایمان پر استقامت اور راہ خداوندی میں صبر اور قربانی کے مضمون پر مشتمل تھی اور اس امر پر کہ دنیا کی طاقت ایمان کو کفر کی طرف نہیں لوٹا سکتی، اب اس سورت میں قیامت اور بعث بعد الموت کا مسئلہ ثابت کرنے کے لئے انسان کو اس امر کی دعوت دی ہے کہ وہ خود اپنی تخلیق وپیدائش میں غور وفکر کرے، ارض وسماء اور روشن ستاروں کو دیکھے اور یہ کہ زمین کس طرح شق ہو کر اپنے اندر سے نباتات اور سبزہ باہر نکالتی ہے اور وہ تخم جو زمین میں دب کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
5:۔ ” والسماء ذات الرجع “ یہ حشر و نشر پر دوسرا عقلی شاہد ہے۔ ” ذات الرجع “ بارش والا۔ کیونکہ بارش آسمان کی طرف سے برستی ہے۔ ” ذات الصدع “ نباتات والی۔ کیونکہ زمین کے شق ہونے سے نباتات اگتی ہے۔ جواب قسم محذوف ہے ای کذلک تخرجون۔ یعنی جس طرح ہم آسمان سے بارش برساتے ہیں اور زمین سے نباتات اگاتے ہیں اسی طرح قیامت کے دن تمہیں بھی پیدا کرکے زمین سے نکال لیں گے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
(طارق کیا ہے ) ارشاد ہوتا ہے والسماء والطارق قسم ہے آسمان کی اور رات کو اندھیرے میں آنے والے کی ۔ پھر خود ہی اس کی تفصیل بیان فرمانی وما ادرک ما الطارق اور آپ کو کیا علم کہ طارق کیا ہے ۔ اس کا جواب بھی خود ہی ارشاد فرمایا النجم الثاقب وہ چمکتا ہوا ستارہ ہے۔ جو رات کے اندھیرے میں طلوع ہوتا ہے ۔ گویا طارق سے مراد ستارہ ہے جو رات کے وقت طلوع ہوتا ہے ۔ اور اس کی روشنی بھی نظر آتی ہے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے آسمان اور رات کو آنے والے ستارے کی قسم اٹھا کر یہ بات سمجھائی ہے کہ انسان کے تمام اعمال محفوظ ہیں اور قیامت کا ایک دن آنے والا ہے جب ہر عمل کی جزا مل کر رہیگی۔ (دیگر معانی ) عربی زبان میں…
Read the full tafseer →وَالسَّمَاۗءِ ذَاتِ الرَّجْعِ 11 ۙ رجع الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود، ( ر ج ع ) الرجوع اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے کے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
ترکیب ¦ یوم منصوب برجعہ وقیل بقادر وقیل العامل مقدر ای یرجعہ اواذکر فیکون مفعولا بہ والسرائر جمع سریرۃ والسر جمعہ اسرار وھو الذی یکتم والابتلا الاختبار والا متحان قال ابو مسلم بلوث یقع علے اظہار الشی وعلے امتحانہ والسماء الوا بہ للقسم ذات الرجع صفتہ للسما قال الزجاج الرجع المطر لانہ یجی ویرجع ویتکرر وقال الخلیل الرجع المطرنفسہ والرجع نبات الربیع وقال الواحدی الرجع المطر فی قول المفسرین وقال ابن زید الراجع الشمس والقمر والنجوم یرجعن فی السماء تطلع من ناحیتہ وتغیب فی ناحیتہ وقال القفال معناہ ذات ( ؟ ؟ ؟ ؟ ) وقال ابن عباس الرجع المطر والارض معطوف علے السماء ذات الصدع صفتہ للارض الصدع ہوالشق قال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
وَالسَّمَآئِ ذَاتِ الرَّجْعِ ۔ وَالْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ ۔ اِنَّـہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ۔ وَّمَا ھُوَبِالْھَزْلِ ۔ (الطارق : 11 تا 14) (قسم ہے بارش برسانے والے آسمان کی۔ اور پھٹ جانے والی زمین کی۔ کہ یہ دوٹوک بات ہے۔ یہ کوئی ہنسی مذاق نہیں۔ ) قرآن کے قول فیصل ہونے پر آفاقی شہادت رَجْعٌ … اس کے لغوی معنی تو پلٹنے کے ہیں، لیکن مجازاً اس لفظ کا استعمال المطربعدالمطر کے معنی میں ہوتا ہے۔ یعنی ایسی بارش جو پے درپے ہو، کہ ایک مرتبہ بارش ہو کر ختم ہوجائے اور پھر لوٹے۔ اس لیے اس میں رجع کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ صَدْعٌ … اس کے معنی پھٹنے کے ہیں۔ یعنی جب بارش ہوتی ہے تو زمین کے مسامات کھل جاتے ہیں۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
فہم القرآن ربط کلام : جس خالق نے انسان کو پیدا کیا ہے وہ ہر صورت اسے قیامت کے دن اٹھا کر اپنی بارگاہ میں پیش کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر یہ بات فرما کر زمین و آسمان کی قسم اٹھائی ہے کہ قسم ہے اس آسمان کی جو بارش برساتا ہے اور قسم ہے اس زمین کی جو پھٹ جاتی ہے کہ ” اللہ “ کا فرمان فیصلہ کن ہے یہ کوئی بےمقصد بات نہیں ہے۔ یہاں تک جو لوگ تدبیریں اور سازشیں کررہے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم بھی تدبیر کرنے والے ہیں اور ہماری تدبیر کے مقابلے میں کسی کی تدبیر اور سازش اسے فائدہ نہیں دے سکتی لہٰذا کفار کو تھوڑی سی مزید مہلت دیں۔ اس مقام پر آسمان کے لیے ” ذات الرجع “ اور زمین کے لیے ” ذَات…
Read the full tafseer →11 : وَالسَّمَآئِ ذَاتِ الرَّجْعِ (اور قسم ہے آسمان کی جس سے بارش ہوتی ہے) الرجعؔ بارش۔ اس کو رجع کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ بار بار لوٹتی ہے۔
Read the full tafseer →11 ۔ پھر دوسری قسم ذکر کرتے ہوئے فرمایا ” والسماء ذات الرجع “ یعنی بارش والا، اس لئے کہ وہ سال لوٹتی ہے اور اس کا تکرار ہوتا ہے اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ بادل ہیں جو بارش کے ساتھ لوٹتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
11۔ 17۔ امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے کہ رجع سے مراد بارش ہے چناچہ حاکم کی روایت میں صحیح سند سے یہ قول حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا ثابت ہوا ہے۔ اسی واسطے امام بخاری نے صحیح 1 ؎ بخاری کی کتاب التفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے شاگرد مجاہد کی روایت سے اس قول کو لیا ہے ترجمہ میں چکر مارنے والا آسمان جو ترجمہ کیا گیا ہے سلف میں سے یہ قول عبد الرحمن بن زید بن اسلم تبع تابعی کا ہے ان عبد الرحمن نے تفسیر کی روایات اپنے باپ زید بن اسلم کوفی سے لی ہیں یہ زید بن اسلم مشہور مفسر اہل مدینہ میں سے ہیں لیکن عبد الرحمن کو بعض علماء نے ضعیف کہا ہے غرض یہ قول پہلے قول کے مرتبہ کا نہیں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
(فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ ) یعنی اس کے پاس اپنی طاقت نہیں ہوگی جس کے ذریعے سے وہ مدافعت کرسکے (وَّلَا نَاصِرٍ ) اور نہ خارج سے کوئی مددگار ہوگا جس سے مدد لے سکے، عمل کرنے والوں پر یہ قسم ان کے عمل کرنے کے وقت اور ان کی جزا وسزا کے وقت ہے پھر اللہ تعالیٰ نے دوسری قسم کھائی جو قرآن کی صحت پر ہے، چناچہ فرمایا (وَالسَّمَاۗءِ ذَاتِ الرَّجْعِ 11ۙوَالْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ 12ۙ ) بارش والے آسمان کی قسم، اور پھٹنے والی زمین کی قسم۔ یعنی آسمان ہر سال بارش لے کر لوٹتا ہے زمین نباتات کے اگنے کے لیے شق کی جاتی ہے پس اس پر انسان اور حیوانات زندہ رہتے ہیں نیز آسمان ہر وقت قضا وقدر اور شئون الٰہی کے ساتھ…
Read the full tafseer →(8) بعث بعد الموت پر آفاقی شہادت کا ذکرو بیان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور بعث بعد الموت پر آفاقی شہادت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " قسم ہے آسمان کی جو کہ بارش برساتا ہے "۔ جس سے مردہ زمین کو نئی زندگی ملتی ہے اور وہ گل گلزار بن کے لہلہانے لگتی ہے۔ " رجع " کے اصل معنی لوٹنے اور واپس ہونے کے ہیں، اور بارش کو " رجع " اس لیے کہا جاتا ہے کہ ایک تو یہ بار بار برستی اور مردہ زمین کو زندگی اور تازگی بخشتی رہتی ہے، اور دوسرے اس لیے کہ یہ بخارات کی شکل میں نیچے سے اٹھ کر اوپر جاتی ہے، اور پھر واپس وہاں پر برستی ہے۔ اور اس طور پر کہ سمندروں کا کھاری اور کڑا پانی اوپر جاکر قدرت خداوندی سے فلٹر ہو کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
قرآن کی سچائی اور کامیابی کی خوشخبری تشریح : یہاں آسمان کی یہ ڈیوٹی کہ بارش برساتا ہے اور زمین کا یہ فرض کہ نباتات کو اگاتی ہے (اللہ کے حکم سے) تو یہ دونوں کام ہر وقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ معمول کا کام ہے مگر غور و فکر کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کس قدر عجیب و غریب ' مشکل اور انسان کی قدرت سے باہر کام ہے۔ تو ان دونوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ بتا رہے ہیں کہ قرآن پاک بڑی محکم ' مقدس اور سچی کتاب ہے اس کا ہر ہر لفظ ہر ہر مضمون اور ہر ہر بات اسی طرح حقیقت پر مبنی ہے جس طرح تم یہ تمام مظاہر قدرت دیکھ رہے ہو۔ تو اس قرآن حکیم میں دی گئی یہ خبر ہے کہ کفار کی تمام تدبیریں دھری رہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
سورة الطارق۔ آیات 1 تا 17۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے آسمان کی اور اندھیروں میں چمکنے والے ستارے کی ، وہ جو تاریکی میں ظاہر ہوتا ہے یعنی جس طرح آسمان پرستارے موجود ہیں مگر جب دن ختم ہوتا ہے توجگمگانے لگتے ہیں ایسے ہی انسانی اعمال کا نظام ہے کہ ہر عمل محفوظ ہے جب موت کا اندھیراچھائے تو سامنے آجاتا ہے اور یقینا ہر متنفس پر نگہبان فرشتے جو اس کے کردار کو لکھتے ہیں۔ حدیث شریف میں یہ بھی ارشاد ہے کہ ہر متنفس پہ محافظ فرشتے مقرر ہیں جو اسے ہر بلا سے محفوظ رکھتے ہیں سوائے اس کے کہ کوئی اللہ کی طرف سے اس پر آئے۔ ذرادوبارہ زندگی کا انکار کرنے والا انسان یہ تو دیکھے کہ اسے کس طرح پیدا فرمایا اور کس چیز نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
ف 5 اصل لفظ رجع استعمال ہوا ہے جس کے لفظ معنی پلٹنے کے ہیں۔ اکثر مفسرین نے اس سے مراد بارش ہی لی ہے کیونکہ وہ آتی ہے اور پلٹ پلٹ کر برستی ہے اور یوں بھی جو پانی آسمان سے برستا ہے وہ دراصل زمین ہی سے یعنی سمندروں اور دریائوں سے بھاپ بن کر اوپر گیا ہوتا ہے۔ اور پھر ٹھنڈا ہو کر زمین کی طرف پلٹتا ہے (قرطبی وغیرہ)
Read the full tafseer →(86:11) والسماء ذات الرجع۔ جملہ قسمیہ ہے ذات الرجع مضاف مجاف الیہ مل کر صفت السماء کی۔ الرجع (باب ضرب) مصدر پھر آنا۔ لوٹ آنا۔ مینہ، بارش۔ یہاں بطور اسم بمعنی بارش۔ استعمال ہوا ہے۔ یعنی قسم ہے آسمان بارش والے کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
لغات القرآن۔ الطارق۔ اندھیرے میں آنے والا۔ چمکنے والا۔ دافق۔ اچھلنے والا۔ الصلب۔ پیٹھ۔ الترائب (تریبۃ) ۔ سینے کے اوپر کا حصہ۔ سرائر (سریر) ۔ پلنگ۔ مسہریاں۔ ذات الرجع۔ بار بار لوٹنے والا۔ ذات الصدع۔ پھٹ جانے والا۔ چکر لگانے والا۔ الھزل۔ ہنسی کھیل ۔ مذاق۔ اکید۔ میں تدبیر کرتا ہوں۔ مھل۔ مہلت دیدے۔ روید۔ کچھ دن۔ تھوڑے دن۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے سورة الطارق میں چار اہم باتوں کی طرف متوجہ فرمایا ہے۔ 1۔ اللہ تعالیٰ نے رات کو آسمان پر چمکنے والے ستاروں کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ ” الطارق “ یعنی ستارے کیا ہیں ؟ خود ہی جواب عنایت فرمایا کہ وہ روشن ستاروں کا ایک سلسلہ ہے۔ اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
(ف 4) ان سب کی قسم کہ قرآن قول فیصل وحکم الٰہی ہیے یہ قران باطل و خرافات نہیں یہ قرآن دنیا میں نیک راستہ بتلانے اور بدی سے روکنے اور عقبی میں جزا وسزا کی خبر سنانے کا ایک فیصلہ قطعی ہے اگر یہ لوگ قرآن کو جھٹلائیں تو تھوڑے دنوں تک ان سے درگزر کی جائے کوئی مکروفریب تو ان لوگوں کو قرآن سے روکنے میں اللہ کی تدبیر کے آگے نہیں چل سکتا بلکہ تھوڑے دنوں کے بعد اللہ کی تدبیرکا نتیجہ سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا، چناچہ نبی ﷺ کی حیات میں ہی کچھ قرآن کے مخالف لوگ ذلت و خواری سے ہلاک ہوگئے اور اکثر قرآن کے حامی بن گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
[8] یعنی جس طرح آسمان سے پانی کا برسنا اور زمین کا شق ہو کر نباتات کا اپنے اندر سے اگلنا کوئی مذاق نہیں ہے اسی طرح قرآن کا یہ خبر دینا کہ مرنے کے بعد پھر اپنے اللہ کی طرف لوٹنا ہے کوئی ہنسی کی بات نہیں ہے بلکہ ایک سنجیدہ اور دوٹوک بات ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
ف 1: والسماء ذات الرجع سے معلوم ہوتا ہے کہ عربوں کے سامنے یہ حقیقت بالکل واشگاف طور پر موجود تھی کہ بخارات سمندر سے اٹھتے ہیں اور اس کے بعد یہی بخارات ابر کی صورت اختیار کرلیتے ہیں اور پھر یہی برستے ہیں ۔ اسی لئے اس کو ذات الرجع کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے کہ ایسے ابر جو اس امانت کو جو انہوں نے سمندروں سے لی ہے ۔ پھر سمندروں کو لوٹا دیتے ہیں ۔ زمین کو بھی تمثیل میں پیش کیا ہے ۔ جس میں سبزیاں نکلتی ہیں اور وہ پھٹ جاتی ہے ۔ وجہ تشبیہہ یہ ہے کہ جس طرح ابر برستا ہے اور کھیت لہلہا اٹھتے ہیں اور جس طرح زمین بوقلمون سبزیوں کو اگلتی ہے ، اسی طرح قرآن فیضان الٰہی ہے اور اس سے دلوں کے کھیت شگفتہ و شاداب…
Read the full tafseer →(11) قسم ہے آسمان بارش والے کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
ف 4۔ یعنی سب مخفی باتیں از قبیل عقائد باطلہ و نیاة فاسدہ ظاہر ہوجائیں گی اور دنیا میں جس طرح موقع پر جرم سے مکر جاتے ہیں اس کو چھپا لیتے ہیں یہ بات وہاں ممکن نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →اور قسم ہے آسمان کے رب کی جب وہ لوٹ آتا ہے 11 ؎ پیچھے انسانی تخلیق کی بات بتائی گئی تھی کہ اس کی پیدائش کے لیے اللہ تعالیٰ نے کیا قانون بنایا ہے اور قانون کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ جس اللہ نے انسانی تخلیق کے لیے یہ قانون بنایا اور اس کے مطابق انسان بنتے چلے جا رہے ہیں اس طرح اس نے انسان کو دوبارہ لوٹائے جانے کے لیے بھی ایک قانون بنا رکھا ہے جب انسان کیا اس پورے نظام کو ختم کردیا جائے گا تو نئے سرے سے سارا نظام بنایا جائے گا اس وقت انسانوں کو دوبارہ پیدا کر کے ان سے ان کے اعمال کے متعلق باز پرس ہوگی ۔ زیر نظر آیت میں بیان کیا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آسمان زمین کا جوڑا بھی بنایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجْعِ (I swear by the sky that rains...86:11) The word raj refers to 'the rain that comes down repeatedly'. In other words, the rain that comes down and stops and then returns.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
6 The words dhat ar-raj`e have been used for the sky. Literally raj`e means to return, but metaphorically this word is used for the rain in Arabic, for rain does not fall just once, but returns over and over again in the season and of season as well. Another reason for calling the rain raj `e is that vapour from the oceans of the earth and then falls back as rain on the sometimes out water rises as the same earth.
Read the full tafseer →