وَالْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ ۟ۙوَالۡاَرۡضِ ذَاتِ الصَّدۡعِۙ
اور زمین کی قسم جو پھٹ جاتی ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And [by] the earth which cracks open,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz
وَالْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ ۟ۙوَالۡاَرۡضِ ذَاتِ الصَّدۡعِۙ
اور زمین کی قسم جو پھٹ جاتی ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And [by] the earth which cracks open,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz
Read the whole surah · Surah At-Taariq
اور (نباتات اگتے وقت) پھٹ جانے والی زمین کی
اور زمین کی قسم جو پھٹ جاتی ہے
اور پھٹنے والی زمین کی قسم!
اور پھوٹ پڑنے والی زمین کی۔
اور زمین کی جو اس سے کھلتی ہے
اس زمین کی قَسم جو پھٹ (کر ریزہ ریزہ ہو) جانے والی ہے،
اور زمین کی جو پھٹنے والی ہے !
اور زمین کی جو پھٹ جاتی ہے
پر ازباراں اور زمین، پر شگاف
اور قسم ہے زمین کی جو کہ پھٹ جاتی ہے
اور پھٹ جانے والی زمین کی
اور قسم ہے اس زمین کی جو پھوٹ پڑتی ہے۔
اور زمین کی قسم جو پھٹ جاتی ہے۔
and by the earth ever bursting with verdure,
and the earth that cracks open (for plants) ,
and the earth that cracks open (for plants) ,
And the earth which splits.
And the earth which splitteth (with the growth of trees and plants)
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And [by] the earth which cracks open,
and the replenishing earth,
And the earth splitting (with plants);
And by the earth which splitteth,
And by the Earth which opens out (for the gushing of springs or the sprouting of vegetation),-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 11–17
صداقت قرآن کا ذکر رجع کے معنی بارش، بارش والے بادل، برسنے، ہر سال بندوں کی روزی لوٹانے جس کے بغیر انسان اور ان کے جانور ہلاک ہوجائیں سورج چاند اور ستاروں کے ادھر ادھر لوٹنے کے مروی ہیں زمین پھٹتی ہے تو دانے گھاس اور چارہ نکلتا ہے یہ قرآن حق ہے عدل کا مظہر ہے یہ کوئی عذر قصہ باتیں نہیں کافر اسے جھٹلاتے ہیں اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں طرح طرح کے مکر و فریب سے لوگوں کو قرآن کے خلاف اکساتے ہیں اے نبی تو انہیں ذرا سی ڈھیل دے پھر عنقریب دیکھ لے گا کہ کیسے کیسے بدترین عذابوں میں پکڑے جاتے ہیں جیسے اور جگہ ہے آیت (نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ 24) 31۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
سورة الطَّارِق 7 یعنی جس طرح آسمان سے بارشوں کا برسنا اور زمین کا شق ہو کر نباتات اپنے اندر سے اگلنا کوئی مذاق نہیں ہے بلکہ ایک سنجیدہ حقیقت ہے، اسی طرح قرآن جس چیز کی خبر دے رہا ہے کہ انسان کو پھر اپنے خدا کی طرف پلٹنا ہے، یہ بھی کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں ہے بلکہ ایک دو ٹوک بات ہے، ایک سنجیدہ حقیقت ہے، ایک اٹل قول حق ہے جسے پورا ہو کر رہنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
والسماء ذات الرجع، رجع کے معنے اس بارش کے ہیں جو پے درپے ہو کہ ایک مرتبہ بارش ہو کر ختم ہوجائے اور پھر لوٹے۔
Read the full tafseer →’صَدْعٌ‘ کے معنی پھٹنے کے ہیں۔ یعنی جب بارش ہوتی ہے تو زمین کے مسامات کھل جاتے ہیں اور وہ پانی جذب کر کے پھول جاتی اور دیکھتے دیکھتے لہلہا اٹھتی ہے۔ اگرچہ یہاں لہلہا اٹھنے کا ذکر لفظوں میں نہیں ہے لیکن قرینہ اس پر دلیل ہے۔ اسلوب قسمیہ ہے اس وجہ سے بات اشاروں میں کہہ دی گئی ہے۔ قرآن کے دوسرے مقامات میں مختلف اسلوبوں سے یہ بات ثابت کی گئی ہے کہ مرنے کے بعد لوگوں کو ازسرنو زندہ کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے ذرا بھی مشکل نہیں ہے۔ جو لوگ اس بات میں شک کر رہے تھے ان کو ملامت کی گئی ہے کہ تم ایک ایسی بات میں شک کر رہے ہو جس کا مشاہدہ آئے دن تمہیں ہوتا رہتا ہے۔ سورۂ انبیاء میں اسی طرح کے شکیوں کی طرف اشارہ…
Read the full tafseer →12۔ 1 یعنی زمین پھٹتی ہے تو اس سے پودا باہر نکلتا ہے، زمین پھٹتی ہے تو اس سے چشمہ جاری ہوتا ہے اور اسی طرح ایک دن آئے گا کہ زمین پھٹے گی، سارے مردے زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے۔ اس لیے زمین کو پھٹنے والی اور شگاف والی کہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
3: یعنی اس زمین کی جو پانی برسنے کے بعد کونپل کو باہر نکالنے کے لیے پھٹ پڑتی ہے۔ یہاں بارش اور زمین کے پھٹ پڑنے کی قسم کھانے سے بظاہر یہ اشارہ مقصود ہے کہ بارش کے پانی سے وہی زمین فائدہ اٹھاتی ہے جس میں اگنے کی صلاحیت ہو، اسی طرح قرآن کریم سے وہی شخص فائدہ اٹھاتا ہے جس کے دل میں حق کو قبول کرنے کی گنجائش ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
الرجع کے معنی ہیں لوٹنے کے ، آسمان بار بار بارش برساتا ہے اور الصدع کے معنی پھٹنے کے ہیں اور بارش کے بعد جب زمین سے نباتات اگتے ہیں تو وہ پھٹتی ہے اور اس سے پودے پھوٹتے ہیں۔ یہ دونوں باتیں زندگی کی ایک قسم کا اظہار کرتی ہیں۔ یعنی نباتات اور ان کی پہلی زندگی کہ آسمانوں سے پانی برستا ہے اور پھر نباتات اگتے ہیں۔ یہ تمثیل اس سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے کہ نطفے کا پانی اچھل کر برسے ، اور آسمان کے بجائے ریڑھ اور سینے کی ہڈیوں سے نکلے اور رحم کے اندھیروں سے بچہ نمودار ہو۔ گویا ایک ہی زندگی ہے اور ایک ہی منظر ہے ، ایک ہی قسم کی حرکت ، ایک ہی نظام اور ایک ہی قسم کی تخلیق ہے اور دونوں سے ثابت ہوتا ہے کہ…
Read the full tafseer →8 یعنی اس میں سے پھوٹ نکلتے ہیں کھیتی اور درخت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
آیت 12{ وَالْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ۔ } ”اور قسم ہے اس زمین کی جو پھوٹ پڑتی ہے۔“ آسمان سے بارش ہوتی ہے اور بارش کی وجہ سے نباتات زمین کو پھاڑتے ہوئے اُگ آتے ہیں۔ یعنی آسمان اور زمین اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ :
Read the full tafseer →10 ذَات الصَّدْعِ ۔ صدع کے معنی کسی چیز کا اس طرح پھٹنا ہے کہ ٹکڑا جدا نہ ہو اور بقول امام راغب ٹھوس اجسام جیسے لوہا، شیشہ، زمین وغیرہ میں شگاف یا سوراخ ہوجاتا ہے اور زمین کو اس لیے ذات الصدع کہا گیا ہے کہ وہ پودوں اور درختوں کی نرم و نازک کونپلوں کو پھٹ کر زمین سے باہر نکلنے کا راستہ دے دیتی ہے۔ علاوہ ازیں اس سے پانی کے چشمے بھی پھوٹ نکلتے ہیں۔ حالانکہ زمین ٹھوس اور سخت چیز ہے اور پانی سیال اور زمین کے مقابلہ میں بہت نرم اور کمزور۔ اس کے باوجود زمین پھٹ کر پانی کو باہر نکلنے کا راستہ دے دیتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
4۔ قول فیصل حق اور باطل کے باب میں بھی، اور قول فیصل اپنے ثبوت اعجاز کے اعتبار سے بھی .... تاکید اور زور کے موقع پر قسمیں کھانا اسلوب عرب میں عام تھا۔ (آیت) ” ذات الصدع “۔ زمین جو بیج نکلتے وقت شق ہوجاتی ہے، اس کی طرف اشارہ ہے۔ مفسر تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ جس طرح بارش آسمان سے آتی ہے، اور عمدہ زمین کو فیضیاب کرتی ہے، اس طرح قرآن مجید بھی آسمان ہی سے اترا ہے، اور جس سینہ میں قبول کی قابلیت ہوگی، اسے مالا مال کردے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
والسماء ذات الرجع، رجع کے لغوی معنی لوٹنا، پلٹنا کے ہیں، بارش کو رجع اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ پلٹ کر بار بار آی ہے۔
Read the full tafseer →والارض ذات الصدع . اور شگاف والی زمین کی قسم ‘ سبزہ پیدا ہونے اور چشمے پھوٹنے سے اور بعض دوسری وجوہ سے زمین میں شگاف پیدا ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
(11۔ 13) قسم ہے آسمان کی جس سے بار بار بارش ہوتی ہے، اور زمین کی جو نباتات کے لیے پھٹ جاتی ہے یا یہ کہ جو میخوں والی ہے یہ قرآن کریم ایک فیصلہ کردینے والا کلام ہے یا یہ کہ منجانب اللہ ایک حکم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
(والسمآء ذات الرجع…:”الرجع“ کی تفسیر مجاہد نے بارش کی ہے۔ (دیکھیے بخاری، التفسیر، باب سورة الطارق، بعد ح : 3930) اکثر مفسرین نے یہی معنی کیا ہے۔ ”الرجع“ کا لفظیم عن لوٹنا یا لوٹانا ہے، چونکہ بارش بار بار پلٹ کر برستی ہے، اس لئے اسے ”رجع“ کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ سمندر کا پانی بھپا بنتا ہے، وہ بھاپ پلٹ کر پھر بارش کی صورت میں برستی ہے، پھر وہ پانی اڑتا ہے پھر بسرتا ہے، اس لئے اسے ”رجع“ کہا ہے۔”الصدع“ کا معنی پھٹنا ہے۔
Read the full tafseer →والارض ذات الصدع۔ یہ ایک قسم ہے، یعنی زمین میں، نباتاتب، درختوں، پھلوں اور نہروں سے پھٹتی ہے اس کی مثل، ثم شققناالارض شقا۔ عبس) پھر ہم نے زمین کو پھاڑا، صدع کا معنی پھاڑنا ہے کیونکہ وہ زمین کو پھاڑتی ہے پس زمین اس کے ساتھ پھٹ جاتی ہے گویا کلام یوں کی گئی ہے قسم ہے زمین کی جو نباتات والی ہے کیونکہ نباتات زمین کو پھاڑنے والی ہے مجاہد نے کہا، قسم ہے زمین کی جو راتوں والی ہے جسے پیدل چلنے والے پھاڑتے ہیں، ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ کھیتی والی ہے کیونکہ کھیتی اسے پھاڑتی ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ مردوں والی ہے کیونکہ دوبارہ اٹھانے کے لیے ان مردوں سے اسے پھاڑا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
5۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والارض ذات الصدع سے مراد ہے وادیوں کا پھٹ جانا۔ 6۔ ابن مندہ والدیلمی نے معاذ بن انس ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ آیت والارض ذات الصدع سے مراد ہے کہ زمین پھٹ جاتی ہے اللہ کی اجازت سے اموال اور نباتات کے ساتھ۔ آسمان سے رزق کا اترنا 7۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت والسماء ذات الرجع۔ کے بارے میں روایت کیا کہ قسم ہے آسمان کی جو ہر سال بندوں کی طرف ان کے رزق کے ساتھ لوٹتا ہے اگر ایسا نہ ہو تو لوگ بھی اور ان کے مویشی بھی ہلاک ہوجائیں آیت والارض ذات الصدع۔ اور زمین جو نباتات اور پھلوں کے ساتھ پھٹ جاتی ہے جیسے تم دیکھتے ہو آیت انہ لقول فصل۔ یعنی یہ قرآن…
Read the full tafseer →[وَالْاَرْضِ : اور قسم ہے زمین کی ][ ذَاتِ الصَّدْعِ : جو دراڑ والی ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
گزشتہ آیات میں انسان کی پیدائش بیان فرمائی اور یہ بھی بتایا کہ جس ذات پاک نے انسان کو ابتدائً ایسے ایسے پانی سے پیدا فرمایا وہ موت دینے کے بعد دوبارہ پیدا فرمانے پر بھی قادر ہے اس کے بعد دو آیتوں میں قیامت کے دن کی پیشی اور وہاں جو انسان کی مجبوری ہوگی اس کو بیان فرمایا۔ ارشاد فرمایا کہ جس روز انسان کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور محاسبہ کے لیے پیشی ہوگی اس وقت سری بھید کی چیزوں کی جانچ کرلی جائے گی۔ سارا کچا چٹھا سامنے آجائے گا جو بھی کچھ کیا تھا وہ نظر کے سامنے ہوگا۔ ﴿وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا﴾ (اور جو کچھ کیا تھا سب حاضر پائیں گے) ۔ انسان کی بدحالی اور مجبوری کا یہ عالم ہوگا کہ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
دعوت فکر در تخلیق انسانی وشہادت ارض وسماء ونجوم برمسئلہ بعث بعد الموت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء والطارق ...... الی ....... امھلہم رویدا “۔ (ربط) گذشتہ سورت ایمان اور ایمان پر استقامت اور راہ خداوندی میں صبر اور قربانی کے مضمون پر مشتمل تھی اور اس امر پر کہ دنیا کی طاقت ایمان کو کفر کی طرف نہیں لوٹا سکتی، اب اس سورت میں قیامت اور بعث بعد الموت کا مسئلہ ثابت کرنے کے لئے انسان کو اس امر کی دعوت دی ہے کہ وہ خود اپنی تخلیق وپیدائش میں غور وفکر کرے، ارض وسماء اور روشن ستاروں کو دیکھے اور یہ کہ زمین کس طرح شق ہو کر اپنے اندر سے نباتات اور سبزہ باہر نکالتی ہے اور وہ تخم جو زمین میں دب کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
5:۔ ” والسماء ذات الرجع “ یہ حشر و نشر پر دوسرا عقلی شاہد ہے۔ ” ذات الرجع “ بارش والا۔ کیونکہ بارش آسمان کی طرف سے برستی ہے۔ ” ذات الصدع “ نباتات والی۔ کیونکہ زمین کے شق ہونے سے نباتات اگتی ہے۔ جواب قسم محذوف ہے ای کذلک تخرجون۔ یعنی جس طرح ہم آسمان سے بارش برساتے ہیں اور زمین سے نباتات اگاتے ہیں اسی طرح قیامت کے دن تمہیں بھی پیدا کرکے زمین سے نکال لیں گے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
(طارق کیا ہے ) ارشاد ہوتا ہے والسماء والطارق قسم ہے آسمان کی اور رات کو اندھیرے میں آنے والے کی ۔ پھر خود ہی اس کی تفصیل بیان فرمانی وما ادرک ما الطارق اور آپ کو کیا علم کہ طارق کیا ہے ۔ اس کا جواب بھی خود ہی ارشاد فرمایا النجم الثاقب وہ چمکتا ہوا ستارہ ہے۔ جو رات کے اندھیرے میں طلوع ہوتا ہے ۔ گویا طارق سے مراد ستارہ ہے جو رات کے وقت طلوع ہوتا ہے ۔ اور اس کی روشنی بھی نظر آتی ہے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے آسمان اور رات کو آنے والے ستارے کی قسم اٹھا کر یہ بات سمجھائی ہے کہ انسان کے تمام اعمال محفوظ ہیں اور قیامت کا ایک دن آنے والا ہے جب ہر عمل کی جزا مل کر رہیگی۔ (دیگر معانی ) عربی زبان میں…
Read the full tafseer →وَالْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ 12 ۙ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ صدع الصَّدْعُ : الشّقّ في الأجسام الصّلبة کالزّجاج والحدید ونحوهما . يقال : صَدَعْتُهُ فَانْصَدَعَ ، وصَدَّعْتُهُ فَتَصَدَّعَ ، قال تعالی: يَوْمَئِذٍ يَصَّدَّعُونَ [ الروم/ 43] ، وعنه استعیر : صَدَعَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
ترکیب ¦ یوم منصوب برجعہ وقیل بقادر وقیل العامل مقدر ای یرجعہ اواذکر فیکون مفعولا بہ والسرائر جمع سریرۃ والسر جمعہ اسرار وھو الذی یکتم والابتلا الاختبار والا متحان قال ابو مسلم بلوث یقع علے اظہار الشی وعلے امتحانہ والسماء الوا بہ للقسم ذات الرجع صفتہ للسما قال الزجاج الرجع المطر لانہ یجی ویرجع ویتکرر وقال الخلیل الرجع المطرنفسہ والرجع نبات الربیع وقال الواحدی الرجع المطر فی قول المفسرین وقال ابن زید الراجع الشمس والقمر والنجوم یرجعن فی السماء تطلع من ناحیتہ وتغیب فی ناحیتہ وقال القفال معناہ ذات ( ؟ ؟ ؟ ؟ ) وقال ابن عباس الرجع المطر والارض معطوف علے السماء ذات الصدع صفتہ للارض الصدع ہوالشق قال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
وَالسَّمَآئِ ذَاتِ الرَّجْعِ ۔ وَالْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ ۔ اِنَّـہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ۔ وَّمَا ھُوَبِالْھَزْلِ ۔ (الطارق : 11 تا 14) (قسم ہے بارش برسانے والے آسمان کی۔ اور پھٹ جانے والی زمین کی۔ کہ یہ دوٹوک بات ہے۔ یہ کوئی ہنسی مذاق نہیں۔ ) قرآن کے قول فیصل ہونے پر آفاقی شہادت رَجْعٌ … اس کے لغوی معنی تو پلٹنے کے ہیں، لیکن مجازاً اس لفظ کا استعمال المطربعدالمطر کے معنی میں ہوتا ہے۔ یعنی ایسی بارش جو پے درپے ہو، کہ ایک مرتبہ بارش ہو کر ختم ہوجائے اور پھر لوٹے۔ اس لیے اس میں رجع کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ صَدْعٌ … اس کے معنی پھٹنے کے ہیں۔ یعنی جب بارش ہوتی ہے تو زمین کے مسامات کھل جاتے ہیں۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
فہم القرآن ربط کلام : جس خالق نے انسان کو پیدا کیا ہے وہ ہر صورت اسے قیامت کے دن اٹھا کر اپنی بارگاہ میں پیش کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر یہ بات فرما کر زمین و آسمان کی قسم اٹھائی ہے کہ قسم ہے اس آسمان کی جو بارش برساتا ہے اور قسم ہے اس زمین کی جو پھٹ جاتی ہے کہ ” اللہ “ کا فرمان فیصلہ کن ہے یہ کوئی بےمقصد بات نہیں ہے۔ یہاں تک جو لوگ تدبیریں اور سازشیں کررہے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم بھی تدبیر کرنے والے ہیں اور ہماری تدبیر کے مقابلے میں کسی کی تدبیر اور سازش اسے فائدہ نہیں دے سکتی لہٰذا کفار کو تھوڑی سی مزید مہلت دیں۔ اس مقام پر آسمان کے لیے ” ذات الرجع “ اور زمین کے لیے ” ذَات…
Read the full tafseer →12 : وَالْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ (اور زمین کی جو پھٹ جاتی ہے) وہ زمین جس میں نبات کی وجہ سے شگاف پڑجاتا ہے۔
Read the full tafseer →12 ۔” والارض ذات الصدع “ یعنی نباتات درختوں اور نہروں سے پھاڑی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
11۔ 17۔ امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے کہ رجع سے مراد بارش ہے چناچہ حاکم کی روایت میں صحیح سند سے یہ قول حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا ثابت ہوا ہے۔ اسی واسطے امام بخاری نے صحیح 1 ؎ بخاری کی کتاب التفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے شاگرد مجاہد کی روایت سے اس قول کو لیا ہے ترجمہ میں چکر مارنے والا آسمان جو ترجمہ کیا گیا ہے سلف میں سے یہ قول عبد الرحمن بن زید بن اسلم تبع تابعی کا ہے ان عبد الرحمن نے تفسیر کی روایات اپنے باپ زید بن اسلم کوفی سے لی ہیں یہ زید بن اسلم مشہور مفسر اہل مدینہ میں سے ہیں لیکن عبد الرحمن کو بعض علماء نے ضعیف کہا ہے غرض یہ قول پہلے قول کے مرتبہ کا نہیں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
(فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ ) یعنی اس کے پاس اپنی طاقت نہیں ہوگی جس کے ذریعے سے وہ مدافعت کرسکے (وَّلَا نَاصِرٍ ) اور نہ خارج سے کوئی مددگار ہوگا جس سے مدد لے سکے، عمل کرنے والوں پر یہ قسم ان کے عمل کرنے کے وقت اور ان کی جزا وسزا کے وقت ہے پھر اللہ تعالیٰ نے دوسری قسم کھائی جو قرآن کی صحت پر ہے، چناچہ فرمایا (وَالسَّمَاۗءِ ذَاتِ الرَّجْعِ 11ۙوَالْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ 12ۙ ) بارش والے آسمان کی قسم، اور پھٹنے والی زمین کی قسم۔ یعنی آسمان ہر سال بارش لے کر لوٹتا ہے زمین نباتات کے اگنے کے لیے شق کی جاتی ہے پس اس پر انسان اور حیوانات زندہ رہتے ہیں نیز آسمان ہر وقت قضا وقدر اور شئون الٰہی کے ساتھ…
Read the full tafseer →(9) شہادت ارضی کا ذکر وبیان : سو آفاقی دلیل کے ذکرو بیان کے بعد اب ارضی شہادت کے ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا " اور قسم ہے زمین کی جو پھٹ جاتی ہے "، اور اس طرح وہ لوگوں کے فائدے کے لیے طرح طرح کی پیداواریں نکالتی ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقّاً ۔ فَأَنبَتْنَا فِیْہَا حَبّاً ۔ وَعِنَباً وَقَضْباً ( عبس 26 تا 28 پ 30) " صدع " کے معنی پھٹنے کے آتے ہیں، یعنی جب بارش ہوتی ہے تو زمین کے مسام ایک نہایت ہی پر حکمت طریقے سے کھل جاتے ہیں اور وہ پانی کو جذب کر کے ایک خاص طرح کی انگڑائی لیتی اور پھول جاتی ہے، اور دیکھتے دیکھتے لہلہا اٹھتی ہے، اور طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
قرآن کی سچائی اور کامیابی کی خوشخبری تشریح : یہاں آسمان کی یہ ڈیوٹی کہ بارش برساتا ہے اور زمین کا یہ فرض کہ نباتات کو اگاتی ہے (اللہ کے حکم سے) تو یہ دونوں کام ہر وقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ معمول کا کام ہے مگر غور و فکر کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کس قدر عجیب و غریب ' مشکل اور انسان کی قدرت سے باہر کام ہے۔ تو ان دونوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ بتا رہے ہیں کہ قرآن پاک بڑی محکم ' مقدس اور سچی کتاب ہے اس کا ہر ہر لفظ ہر ہر مضمون اور ہر ہر بات اسی طرح حقیقت پر مبنی ہے جس طرح تم یہ تمام مظاہر قدرت دیکھ رہے ہو۔ تو اس قرآن حکیم میں دی گئی یہ خبر ہے کہ کفار کی تمام تدبیریں دھری رہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
سورة الطارق۔ آیات 1 تا 17۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے آسمان کی اور اندھیروں میں چمکنے والے ستارے کی ، وہ جو تاریکی میں ظاہر ہوتا ہے یعنی جس طرح آسمان پرستارے موجود ہیں مگر جب دن ختم ہوتا ہے توجگمگانے لگتے ہیں ایسے ہی انسانی اعمال کا نظام ہے کہ ہر عمل محفوظ ہے جب موت کا اندھیراچھائے تو سامنے آجاتا ہے اور یقینا ہر متنفس پر نگہبان فرشتے جو اس کے کردار کو لکھتے ہیں۔ حدیث شریف میں یہ بھی ارشاد ہے کہ ہر متنفس پہ محافظ فرشتے مقرر ہیں جو اسے ہر بلا سے محفوظ رکھتے ہیں سوائے اس کے کہ کوئی اللہ کی طرف سے اس پر آئے۔ ذرادوبارہ زندگی کا انکار کرنے والا انسان یہ تو دیکھے کہ اسے کس طرح پیدا فرمایا اور کس چیز نے…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی جس میں شگا پڑتے ہیں اور ان شگافوں سے درخت پودے اور چشمے وغیرہ پھوٹ کر باہر آتے ہیں۔
Read the full tafseer →(86:12) والارض ذات الصدع۔ مضاف مضاف الیہ مل کر صفت ہے الارض کی اور قسم ہے زمین کی۔ ذات الصدع مضاف مضاف الیہ مل کر صفت ہے الارض کی۔ الصدع : صدع یصدع (باب فتح) مصدر سے بمعنی شگافتہ ہونا۔ پھٹنا، شق ہونا یہاں زمین سے کھیتی کا پھوٹ نکلنا مراد ہے۔ قسم ہے زمین کی جس سے کھیتی پھوٹ نکلتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
لغات القرآن۔ الطارق۔ اندھیرے میں آنے والا۔ چمکنے والا۔ دافق۔ اچھلنے والا۔ الصلب۔ پیٹھ۔ الترائب (تریبۃ) ۔ سینے کے اوپر کا حصہ۔ سرائر (سریر) ۔ پلنگ۔ مسہریاں۔ ذات الرجع۔ بار بار لوٹنے والا۔ ذات الصدع۔ پھٹ جانے والا۔ چکر لگانے والا۔ الھزل۔ ہنسی کھیل ۔ مذاق۔ اکید۔ میں تدبیر کرتا ہوں۔ مھل۔ مہلت دیدے۔ روید۔ کچھ دن۔ تھوڑے دن۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے سورة الطارق میں چار اہم باتوں کی طرف متوجہ فرمایا ہے۔ 1۔ اللہ تعالیٰ نے رات کو آسمان پر چمکنے والے ستاروں کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ ” الطارق “ یعنی ستارے کیا ہیں ؟ خود ہی جواب عنایت فرمایا کہ وہ روشن ستاروں کا ایک سلسلہ ہے۔ اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
(ف 4) ان سب کی قسم کہ قرآن قول فیصل وحکم الٰہی ہیے یہ قران باطل و خرافات نہیں یہ قرآن دنیا میں نیک راستہ بتلانے اور بدی سے روکنے اور عقبی میں جزا وسزا کی خبر سنانے کا ایک فیصلہ قطعی ہے اگر یہ لوگ قرآن کو جھٹلائیں تو تھوڑے دنوں تک ان سے درگزر کی جائے کوئی مکروفریب تو ان لوگوں کو قرآن سے روکنے میں اللہ کی تدبیر کے آگے نہیں چل سکتا بلکہ تھوڑے دنوں کے بعد اللہ کی تدبیرکا نتیجہ سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا، چناچہ نبی ﷺ کی حیات میں ہی کچھ قرآن کے مخالف لوگ ذلت و خواری سے ہلاک ہوگئے اور اکثر قرآن کے حامی بن گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
[8] یعنی جس طرح آسمان سے پانی کا برسنا اور زمین کا شق ہو کر نباتات کا اپنے اندر سے اگلنا کوئی مذاق نہیں ہے اسی طرح قرآن کا یہ خبر دینا کہ مرنے کے بعد پھر اپنے اللہ کی طرف لوٹنا ہے کوئی ہنسی کی بات نہیں ہے بلکہ ایک سنجیدہ اور دوٹوک بات ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
ف 1: والسماء ذات الرجع سے معلوم ہوتا ہے کہ عربوں کے سامنے یہ حقیقت بالکل واشگاف طور پر موجود تھی کہ بخارات سمندر سے اٹھتے ہیں اور اس کے بعد یہی بخارات ابر کی صورت اختیار کرلیتے ہیں اور پھر یہی برستے ہیں ۔ اسی لئے اس کو ذات الرجع کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے کہ ایسے ابر جو اس امانت کو جو انہوں نے سمندروں سے لی ہے ۔ پھر سمندروں کو لوٹا دیتے ہیں ۔ زمین کو بھی تمثیل میں پیش کیا ہے ۔ جس میں سبزیاں نکلتی ہیں اور وہ پھٹ جاتی ہے ۔ وجہ تشبیہہ یہ ہے کہ جس طرح ابر برستا ہے اور کھیت لہلہا اٹھتے ہیں اور جس طرح زمین بوقلمون سبزیوں کو اگلتی ہے ، اسی طرح قرآن فیضان الٰہی ہے اور اس سے دلوں کے کھیت شگفتہ و شاداب…
Read the full tafseer →(12) اور قسم ہے زمین کی جو پھٹ جاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
ف 4۔ یعنی سب مخفی باتیں از قبیل عقائد باطلہ و نیاة فاسدہ ظاہر ہوجائیں گی اور دنیا میں جس طرح موقع پر جرم سے مکر جاتے ہیں اس کو چھپا لیتے ہیں یہ بات وہاں ممکن نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →اور قسم ہے زمین کے رب کی جب وہ پھٹ جاتی ہے 12 ؎ فرمایا جب آسمان زمین کی طرف مراجعت کرتا ہے تو قدرت خداوندی کے مطابق زمین شق ہونے لگتی ہے اور جونہی زمین شق ہوتی ہے تو اس میں طرح طرح کی انگوری نکل آتی ہے اور پھر یہی بارش اس کی خوراک کا کام دیتی ہے کہ جب زمین پر برستی ہے تو اس کی بارش سے زمین کے اندر کی قوت نمو سے اس کی خوراک حاصل ہونے لگتی ہے اور وہ پانی جو اس زمین پر برسایا گیا تھا جتنی زمین کی ضرورت ہوتی ہے اس کے مطابق اس میں رک جاتا ہے اور باقی پانی دوبارہ بھاپ بنا کر اڑا لا جاتا ہے۔ قدرت نے کیا قانون بنایا ہے کہ زمین بھی پانی جذب کرتی چلی جا رہی ہے اور زائد پانی کو کس طرح بھاپ بنا کر اڑایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجْعِ (I swear by the sky that rains...86:11) The word raj refers to 'the rain that comes down repeatedly'. In other words, the rain that comes down and stops and then returns.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
7 That is, just as the falling of rain froth the sky and the splitting of the earth to put out shoots is no jest but a serious reality, so also the news which the Qur'an gives that ntan has to return to his God is no jest but a definite and decisive reality and an unchangeable truth which has to be fulfilled.
Read the full tafseer →