Ayahs 86:1–10قیامت اٹل ہے اور حق کامیاب ہو گا
تشریح : یہ چھوٹی سی سورت بیشمار حکمتوں کا مجموعہ ہے۔ کیونکہ اس میں عالم افلاک اجرام سماوی ' نگران فرشتے ' انسانی پیدائش کا جو ہر مادہ منویہ ' اس کے اجزا کو اکٹھا کرنے کی جگہ یعنی مادہ منویہ کو جمع کر کے سینہ و پیٹھ کے کارخانے میں آخری شکل دی جاتی ہے جو اچھلتے ہوئے پانی کی شکل میں عورت کے رحم میں پہنچا دیا جاتا ہے اور یوں انسانی جسم مادی دنیا میں وارد ہونے کے لیے تیار ہونے لگتا ہے۔ تیاری کے تمام مدارج جو 6 سے 9 ماہ تک پورے ہوجاتے ہیں۔ تفصیلاً بیان کئے جاچکے ہیں۔ اس کے بعد انسان اپنی طبعی عمر جو اللہ کی طرف سے اس کے لیے مقرر کی جاچکی ہے، اس دنیا میں گزارتا ہے۔ اچھی یا بری۔ جب مرجاتا ہے تو مسلمان اسے نہلا دھلا کر کفن پہنا کر اللہ سے دعاؤں ' نماز کے ساتھ زمین میں دفن کردیتے ہیں دوسرے مذاہب میں کوئی جلا دیتا ہے کوئی پانی میں بہا دیتا ہے۔ غرض اس کے مادی جسم کو کسی نہ کسی صورت انسانوں کی نظروں سے اوجھل کردیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ تو ایسے ہی ہر روز انسان کی آنکھوں کے سامنے ہوتا رہتا ہے جیسا کہ آسمان کو اپنی آنکھوں سے دن کی روشنی میں دیکھتے رات کو دیکھتے اور پھر ان تاروں کو دیکھتے ہیں۔ جن کا ذکر قرآن پاک میں کبھی کوکب، کبھی نجم اور ابھی ثاقب کے الفاظ میں کیا گیا ہے۔
بہر حال ان تمام موجود ظاہر اور دیکھی جانے والی چیزوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ انسان کو اس غیب کی خبر دے رہا ہے کہ یہ ان دیکھی خبر موجود چیزوں کی طرح بالکل سچ اور حقیقت پر مبنی خبر ہے کہ تم قیامت کے بعد دوبارہ اپنی اسی مادی حالت میں دوبارہ ضرور زندہ کئے جاؤ گے۔ وہ اس لیے تاکہ اس دنیا میں کئے گئے کام، سوچے گئے منصوبے اور بنائی گئی سکیموں کا تم سے پورا پورا حساب کتاب لیا جائے اور یوں تمہاری اس زندگی کا مقصد پورا ہو سکے تاکہ تمہیں اچھے برے بدلے دئیے جاسکیں۔ اور پھر مزید اطلاع یہ بھی دی گئی ہے کہ یہ ہرگز نہ سوچو کہ تم اللہ کو اس سلسلے میں کبھی بھی کوئی بھی دھوکہ دے سکو گے۔ ہرگز نہیں یہ دھوکہ بازی ' جھوٹ اور فریب یہاں اس دنیا میں تو چل سکتا ہے مگر وہاں اللہ کے دربار میں اس کی ہرگز کوئی گنجائش نہ ہوگی۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ وہاں کی رہائی کا بندوبست ابھی اسی جہان میں نیکی ' تقویٰ اور پرہیز گاری کے عمل سے کرلو۔ یہی بہتر ہے۔ شروع سورت میں اجرام سماوی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خاص طور سے النجم الثاقب کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس کا مطلب ہے وہ ستارہ جو ظلمت شب کو چیرتا ہوا چلا جائے کئی آیات میں ثاقب ٹوٹنے والے ستاروں کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ مثلاً سورة الصٰفٰت کی آیت 10 میں ہے۔
'' ہاں جو کوئی فرشتوں کی کسی بات کو چوری جھپٹ لینا چاہتا ہے تو جلتا ہوا انگارہ اس کے پیچھے لگتا ہے ''۔
یعنی یہاں ان ستاروں کا ذکر نہیں جو اپنے مداروں میں گھوم رہے ہیں۔ کچھ روشن ہیں اور کچھ سورج کی روشنی سے چمکتے ہین۔ بلکہ یہاں '' ثاقب '' کا لفظ استعمال کیا گیا ہے یعنی ٹوٹنے والے تارے جن کو شہاب ثاقب کا نام دیا گیا ہے۔ جو قران پاک کی روشنی میں وہ انگارے ہیں جو شیطانوں کو بھگانے کے لیے پھینکے جاتے ہیں۔
بہر حال سب اللہ تعالیٰ کی تخلیقات ہیں آسمان ' زمین ' چاند ' ستارے سورج چاہے وہ کسی بھی نام سے پکارے جائیں عطارد ' زہرہ ' مشتری ' مریخ یا زحل ہوں یا پھر وہ اربوں کھربوں تارے ہوں، کہکشائیں ہوں۔ سب ہی خدائے واحد لاشریک کی پیدائش ہیں اس کے حکم سے چل رہے ہیں اسی کے حکم سے ختم ہوجائیں گے۔ البتہ دوبارہ پیدا کیا جانا قرآن میں بار بار بیان کیا گیا ہے۔ انسان تو اپنے مادی جسم کے ساتھ پیدا کیا جائے گا۔ کائنات کس صورت سے بنائی جائے گی یہ تو اللہ ہی جانے۔
البتہ ہمارا حساب کتاب ضرور ہوگا جو بڑا مشکل مرحلہ ہوگا۔ مگر ہوگا ضرور ' اسی لیے تو اللہ میاں گھڑی گھڑی بار بار خبردار کر رہے ہیں کہ '' ہوشیار خبردار ''۔
Ayahs 86:11–17قرآن کی سچائی اور کامیابی کی خوشخبری
تشریح : یہاں آسمان کی یہ ڈیوٹی کہ بارش برساتا ہے اور زمین کا یہ فرض کہ نباتات کو اگاتی ہے (اللہ کے حکم سے) تو یہ دونوں کام ہر وقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ معمول کا کام ہے مگر غور و فکر کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کس قدر عجیب و غریب ' مشکل اور انسان کی قدرت سے باہر کام ہے۔ تو ان دونوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ بتا رہے ہیں کہ قرآن پاک بڑی محکم ' مقدس اور سچی کتاب ہے اس کا ہر ہر لفظ ہر ہر مضمون اور ہر ہر بات اسی طرح حقیقت پر مبنی ہے جس طرح تم یہ تمام مظاہر قدرت دیکھ رہے ہو۔ تو اس قرآن حکیم میں دی گئی یہ خبر ہے کہ کفار کی تمام تدبیریں دھری رہ جائیں گی۔ اسلام کی سر بلندی عنقریب ہو کر رہے گی۔
نبی اکرم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ ﷺ بس تھوڑ ا صبر اور کریں اور پھر دیکھیں کفر کی ناکامی اور اسلام کی سربلندی و کامیابی۔ یہاں صبر کی تلقین کی گئی ہے پوری عالم انسانیت کو صبر کے میٹھے پھل کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ صبر تو دراصل ہے ہی کامیابی کی پالیسی۔ آنحضرت ﷺ کی پوری زندگی صبر و استقامت کی زندہ مثال ہے۔ چاہے میدان جنگ ہو چاہے ذاتی زندگی ہو۔ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ '' کسی شخص کو صبر سے زیادہ بہتر اور کشادہ عطیہ نہیں دیا گیا ''۔ (فتح الباری بشرح صحیح البخاری)
قرآن پاک تو ہے ہی حکمتوں ' رحمتوں اور برکتوں کا خزانہ۔ القرآن :- '' پس اے نبی ﷺ ! کافروں کی بات ہرگز نہ مانو اور اس قرآن کو لیکر ان کے ساتھ جہاد کبیر کرو ''۔ (الفرقان : 52)
ایمان کی حفاظت تجھے مطلوب اگر ہے
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلمان
علامہ اقبال (رح) تعالیٰ
خلاصہ سورة الطارق
مقصد یہ ہے اس سورت کا کہ ایک تو یوم حساب ضرور آئے گا اور دوسرے قرآن کی حفاظت اور حق کی فتح کا وعدہ اللہ نے کر رکھا ہے۔ تیسرے صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ بفضل خدا سورة الطارق ختم ہوگئی۔ الحمد للہ۔