87. Surah Al-A'laa

الأعلىThe Most High · 19 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 87:1–3

سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ Open ayah 87:1 in the Quran reader

اے پیغمبر اپنے رب اعلیٰ کے نام کی تسبیح کرو

الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰى۪ۙ Open ayah 87:2 in the Quran reader

جس نے پیدا کیا پھر اس نے ٹھیک کیا

وَ الَّذِیْ قَدَّرَ فَهَدٰى۪ۙ Open ayah 87:3 in the Quran reader

جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی

اسم اعظم رب اعلیٰ کی وضاحت تشریح : میں تمام مفسرین حضرات سے معذرت چاہتے ہوئے ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب کی تحریر کی روشنی میں تشریح کرنا چاہوں گی۔ سورت ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے کہ اپنے رب اعلی کے نام کی تسبیح کرو۔ یعنی انسان کو توحید کی تعلیم کی طرف متوجہ کیا جارہا ہے۔ انسان کو ہمیشہ ایک ایسے سہارے کی ضرورت رہی کہ جو اس کو مصیبت ' پریشانی ' دکھ درد میں سہارا دے۔ جب بچہ لاچار ہوتا ہے تو ماں کا طلب گار ہوتا ہے جب شعور کو پہنچتا ہے تو پھر ماں سے مضبوط سہارا تلاش کرتا ہے۔ اس سہارے کی وضاحت اس سورة مقدسہ میں کی گئی ہے۔ کہ صرف اس کی طرف توجہ کرو ' سجدہ کرو اور مدد مانگو جو سب سے اعلی وارفع ہے۔ تو اس بات کا ثبوت کیا ہے ؟ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ اس نے انسان اور تمام کائنات کو تخلیق کیا اور ایسے تخلیق کیا کہ جس کا راز اور جس کی وضاحتیں ' اسباب اور اندازے آج تک انسان پوری طرح جان نہیں سکا۔ خوبصورت اور متناسب بنایا ' اس کا پورا پروگرام تیار کیا پھر اس پروگرام پر عمل کرنے کی ہدایات دیں۔ موصوف لکھتے ہیں۔ '' زندگی کی کہانی دراصل پروگرام مہیا کرنے کا معاملہ ہے کیونکہ پودے ' کیڑے ' بھیڑ اور انسان جو ایک دوسرے سے بےحد مختلف مخلوقات ہیں اور یہ فرق (DNA) کے خولوں میں داخل کئے گئے پروگراموں کے اختلاف میں مضمر ہے۔ دوسرے لفظوں میں بنیادی تعمیراتی بلاک کا خلیہ جو دماغ میں ہو یا ایک پھول یا ایک تتلی میں ہو ایک ہی سا ہوتا ہے۔ مگر ان کی زندگیوں میں جو فرق بھی ہوتا ہے وہ ان کی جینی اکائیوں کے ریاضیاتی پروگراموں میں تفاوت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ رب العٰلمین نے ہر ایک کو ایک مخصوص تقدیر عطا کی ہوئی ہے اور اسے اس تقدیر کے حصول میں مدد بھی دی جاتی ہے۔ (نباتات و حیوانات اور تمام اجرام فلکیات اور ارضیات کو جبلت کے ذریعہ اور انسان کو پیغمبر اور کتاب کے ذریعے) یہی وہ مقام ہے جس تک علم حیاتیات کی سائنس ابھی حالیہ سالوں میں ہی پہنچی ہے۔ یہ آیات وہ بنیادی قانون ہے جس پر علم طبیعیات کا انحصار ہے ''۔ (از قرآنی آیات اور سائنسی حقائق) اب اگلی آیات کا مطالعہ کرتے ہیں۔
Ayahs 87:4–5

وَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى۪ۙ Open ayah 87:4 in the Quran reader

اور جس نے چارہ اگایا

فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحْوٰىؕ Open ayah 87:5 in the Quran reader

پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کردیا۔ ( سیلاب میں تبدیل کردیا)

قرآن میں تیل کی نشان دہی تشریح : ان آیات میں علم ارضیات کے شعبہ سے متعلق معلومات دی گئی ہیں۔ یعنی زمین کے اندر تیل کی موجودگی اور اس کے بننے کی طبیعیاتی وجوہات بیان کی گئی ہیں میں ان آیات کی تشریحات میں بھی ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب کی کتاب سے مدد لونگی کیونکہ انہوں نے بڑی منفرد باتیں بتائی ہیں۔ '' جیسا کہ ہر کوئی جانتا ہے کہ زمین پہلے پہل نباتات ' دیوہیکل درختوں اونچے گھاس کے میدانوں پر مشتمل تھی۔ یہ عظیم جنگلات جو کرہ ارض پر زندگی کی نشانیوں میں سے تھے۔ بعد میں عظیم ارضیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے یہ عظیم جنگلات زیر زمین چلے گئے اور ایک خاص کیمیائی عمل کی وجہ سے تیل کی صورت اختیار کر گئے ''۔ یہ بھی اللہ کے مقررہ پروگرام اور توازن نظام کی ایک خاص وجہ دکھائی دیتی ہے جیسا کہ مصنف موصوف لکھتے ہیں۔ '' عظیم نباتات اور عظیم جنگلات اس قدر زیادہ تھے کہ مزید برقرار رہتے تو فضاء میں آکسیجن کا توازن بگڑ جاتا اور دنیا جل اٹھتی۔ لہٰذا جب ان کے موجود ہونے کا مقصد پورا ہوگیا تو ان کو ایک دوسرے مقصد کے تحت زمین میں دفن کردیا گیا۔ اور وہ ایک طویل مدت کے بعد کیمیائی عمل سے تیل میں تبدیل ہوگئے۔ '' غثائً اَحوٰی ''۔ اسی کی نشاندہی میں فرمایا گیا ہے۔ سبحان اللہ۔ یہ ہمارے ہی دور میں ثابت ہوا کہ تیل جو کہ سیاہ سیال ہے۔ زیر زمین سیاہ دریاؤں کی صورت میں بہتا ہے۔ غثاء ًکھلے طور پر تیل کے بہاؤ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ رازمدت دراز پہلے قرآن نے کیسی خوبصورتی سے چند الفاظ میں بتا دیا ''۔ سبحان اللہ قربان جائیں اس کی حکمتوں ' قدرتوں اور عظمتوں پر۔ مزید لکھتے ہیں۔ '' علم ارضیات کے تحت یہ کہا جاسکتا ہے کہ زمین کی اصل حالت ایک آگ کے گولے کی طرح تھی جس کو موجودہ حالت میں آنے تک چار مستند حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ زمین کی اوپری سطح کے جم جانے کا زمانہ ان چار حصوں سے الگ ہے۔ یہ دور ساڑھے چار ارب سال تک قائم رہا۔ پہلا دور تقریباً نصف ارب سال پر مشتمل ہے یہ دور عظیم الجثہ جھاڑیوں اور جنگلات کا زمانہ تھا۔ پٹرولیم بھی اس دور میں تشکیل پذیر ہوا۔ دوسرا دور 17 کروڑ سالوں پر مشتمل ہے۔ تیسرا دور ساڑھے چھ کروڑ سالوں پر مشتمل ہے۔ چوتھا دور زمین کی موجودہ شکل ہے جو 25 لاکھ سالوں پر مشتمل ہے زمینی عمر معلوم کرنے کے کئی طریقے ہیں ''۔ جو کافی لمبی بحث پر مشتمل ہے۔ بہرحال تیل بننے کے کچھ اور اسباب بھی ہیں۔ جن کو معزز مصنف یوں لکھتے ہیں۔ '' تیل عام طور پر پانی یا سمندر کے کناروں پر پیدا ہونے والی عظیم نباتات کے گلنے سڑنے کے عمل سے بنا جو چٹانوں کے سلسلوں میں پھنس گئے اور مختلف جراثیم کے عمل سے ہوا۔ تیل کی تشکیل کے اور بھی بہت سے نظریات ہیں۔ مثلاً سمندر کے اندر کی نباتات اور ساحلی جنگلوں کے گلنے سڑنے سے ہوئی یہ ارضیاتی تہوں میں اکٹھا ہو کر دریاؤں کی طرح بہنے لگا۔ اسی طرح تیل کی زیر زمین جھیلیں بن گئیں یہ چھوٹی سی آیات زمین میں تیل کی موجودگی اور تیل بننے کا پورا پروگرام بتارہی ہیں۔
Ayahs 87:6–19

سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤىۙ Open ayah 87:6 in the Quran reader

ہم تمہیں پڑھا دیں گے کہ تم فراموش نہ کرو گے

اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ وَ مَا یَخْفٰىؕ Open ayah 87:7 in the Quran reader

مگر جو اللہ چاہے وہ کھلے کو بھی جانتا ہے اور چھپے کو بھی جانتا ہے

وَ نُیَسِّرُكَ لِلْیُسْرٰىۚۖ Open ayah 87:8 in the Quran reader

ہم تم کو آسان طریقے کی توفیق دیں گے

فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 87:9 in the Quran reader

سو جہاں تک نصیحت کے فائدہ مند ہونے کی امید ہو نصیحت کرتے رہو۔

سَیَذَّكَّرُ مَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 87:10 in the Quran reader

جو خوف رکھتا ہے وہ تو نصیحت پکڑے گا

وَ یَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَىۙ Open ayah 87:11 in the Quran reader

اور بےخوف بد نصیب اس (نصیحت) سے لاتعلقی۔ (لاپرواہی) کرے گا

الَّذِیْ یَصْلَى النَّارَ الْكُبْرٰىۚ Open ayah 87:12 in the Quran reader

جو قیامت کو بڑی تیز آگ میں داخل ہوگا

ثُمَّ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰىؕ Open ayah 87:13 in the Quran reader

پھر وہاں نہ مرے گانہ جیئے گا

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 87:14 in the Quran reader

بیشک وہ مراد کو پہنچ گیا جو پاک ہوا

وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰىؕ Open ayah 87:15 in the Quran reader

اور اپنے رب کے نام کا ذکر کرتا رہا۔ اور نماز پڑھتا رہا

بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا٘ۖ Open ayah 87:16 in the Quran reader

مگر تم لوگ تو دنیا کی زندگی کو اختیار کرتے ہو

وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰىؕ Open ayah 87:17 in the Quran reader

حالانکہ آخرت کا گھر بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے

اِنَّ هٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰىۙ Open ayah 87:18 in the Quran reader

یہی بات پہلے صحیفوں میں لکھی گئی ہے

صُحُفِ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى۠ Open ayah 87:19 in the Quran reader

یعنی ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں

اللہ بہترین امتحان لینے والا ہے تشریح : نبی کریم ﷺ قرآن پاک کے ان الفاظ کو جو جبریل وحی کے ذریعے سناتے تھے اس خوف سے کہ وہ بھول نہ جائیں جلدی جلدی دہرانے لگتے اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی پاک ﷺ کو یقین دلایا کہ آپ وحی کو غور سے سنا کریں ہم خود ہی آپ کو یاد کرانے کا ذمہ لیتے ہیں آپ بےفکر رہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ قرآن حرف بحرف آپ کے حافظہ میں محفوظ کردیا گیا تھا اور یہ ایک بہت بڑا معجزہ ہے اس کے بعد اعمال کے بارے میں اور انسان کے انجام کے بارے میں ذکر ہے نیکی اور بدی ' اچھائی اور برائی ' سچائی اور جھوٹ ' روشنی اور اندھیرا ' کفر اور ایمان ' فرشتہ اور شیطان یہ شروع دن سے پیدا کئے گئے ہیں اور ان کو اختیار کرنے یا ان میں سے خود اپنے لیے انتخاب کرنے کے لیے پیغمبر کتاب آسمانی دے کر بھیجے گئے تاکہ لوگوں کو راہیں اختیار کرنے میں آسانی ہوسکے پھر پابندی صرف یہ لگائی گئی ہے کہ اپنے ارادے اور عقل سے راہ اختیار کرو مگر یاد رکھو تمہاری نیتیں ' ارادے اور اعمال بڑی صحت کے ساتھ ٹھیک ٹھیک فلمائے جارہے ہیں۔ اتنے ٹھیک کہ کوئی شخص ان کو نہ بدل سکتا ہے نہ چیلنج کرسکتا ہے۔ یہ نظام کائنات کی پیدائش کے ساتھ ہی نافذ کردیا گیا تھا کیونکہ یہ '' نظام '' نظامِ کائنات کا ایک ضروری حصہ ہے۔ یہ دنیائے اشیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ نگاہوں میں نہیں آتا مگر مکاں سے لامکاں تک یہ نظام پھیلا ہوا ہے۔ اس کا کمال یہ ہے کہ یہ منہ سے نکلے ہوئے ہر جملہ کو ریکارڈ کرلیتا ہے اسی طرح عمل میں آئی ہوئی ہر حرکت کی تصویر بنا کر ہمیشہ کے لیے ریکارڈ میں محفوظ کرلیتا ہے۔ یہ بات رب الاعلی نے قرآن میں اسی طرح فرمائی ہے '' جب آدمی کے منہ سے کوئی بات نکلتی ہے تو ایک چوکس نگران اسے لکھ لیتا ہے ''۔ (ق : 18) پھر فرمایا۔ '' ان لوگوں کے اعمال کتابوں میں محفوظ ہیں ان میں ہر چھوٹی بڑی چیز درج ہے ''۔ (قمر : 53-52) پھر فرمایا '' ہم اس روز ان کے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ پاؤں بول بول کر ان کے اعمال پر شہادت دیں گے ''۔ (یٰس : 65) ان باتوں کو انسان کے سامنے ظاہر کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک چھوٹا سا نمونہ پیش کیا۔ ہوا یوں کہ '' امریکہ میں ایک ٹیوی کمپنی بنی وہ اپنے پروگرام نشر کرتی رہی اور 1944؁ء میں ختم ہوگئی۔ اپریل 1956؁ء میں ایک روز اسی کمپنی کا کوئی پروگرام جو سترہ برس پہلے نشر ہوا تھا دوبارہ ٹیوی سیٹس (Sets) میں آنے لگا اور دنیا کو یقین ہوگیا کہ آواز کبھی فنا نہیں ہوتی۔ (ریڈرڈائجسٹ (امریکی ایڈیشن) کی اشاعت مئی 1959؁ء میں یہ واقعہ درج ہے۔ بحوالہ '' من کی دنیا '' ) اب بھی اگر انسان ہوش میں نہ آئے پیغمبر کے پیغام پر غور نہ کرے نیکی اختیار نہ کرے تو پھر اس کی مرضی جائے جہنم میں اور اگر نیکی اختیار کرے تو پھر جائے جنت میں۔ یہ پیغام محبت ' شفا اور کامیابی آج کا پیغام نہیں یہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک دیا گیا ہے۔ بڑی صحت و صفائی اور بڑی محکم دلیلوں کے ساتھ بڑے صاف اور آسان الفاظ میں دیا جاتا رہا ہے۔ بائیبل میں درج ہے۔ '' اللہ کے ایک لفظ سے آسمان پیدا ہوئے ''۔ پھر '' اللہ نے کہا کہ اجالا ہوجائے تو فوراً اجالا ہوگیا ''۔ (پیدائش : 3-1) حضرت مسیح (علیہ السلام) نے فرمایا۔ '' میرا پیغام میرے ماننے والوں کو زندگی دے گا اور ان کے جسموں کو صحت بخشے گا '' القرآن :-'' وہ ایمان دار جو اپنے ایمان میں گناہ کو داخل نہیں ہونے دیتے وہ امن و سکون اور ہدایت کی نعمت سے بہرہ و رہوں گے ''۔ ( انعام :83) نیکی ' اچھائی ' پاکیزگی کے اچھے اثرات انسانی زندگی اور جسم پر بھی اچھے ہی پڑتے ہیں اس حقیقت کو مشرکین کی مذہبی کتابوں میں مانا گیا ہے۔ مثلاً '' جو شخص حواس اور عقل کو ضبط میں لانے کے بعد خواہشات کو ترک کردیتا ہے ' وہ تمام دکھوں سے رہائی پا لیتا ہے ''۔ (گیتا :5/28) اسی طرح اس حقیقت کا اظہار مہاتما بدھ یوں کرتے ہیں۔ '' تندرستی نیکی کا نام ہے ' جب لالچ ' نفرت ' اور فریب کی آگ بجھ جاتی ہے تو مکمل چین اور سکون مل جاتا ہے ''۔ (بدھ مت) ٍ حضرت مسیح کا ارشاد ہے۔ '' جو لوگ تم سے نفرت کرتے ہیں ان سے بھلا کرو ''۔ اور قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ یوں فرماتے ہیں۔ '' جو لوگ اللہ تعالیٰ کو اپنا آقا تسلیم کرنے کے بعد اس راہ پر جم جاتے ہیں۔ ان پر فرشتے اترتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ڈرو مت ' نہ غم کھاؤ اور اپنی موجودہ جنت کے حصول پر خوشیاں مناؤ۔ ہم اس زندگی اور اگلی زندگی میں تمہارے دوست رہیں گے اور جو چاہو گے وہاں مل جائے گا ''۔ (حم سجدہ : 31-30) کیسا پیارا وعدہ ہے اللہ تعالیٰ کا۔ یہی وہ پیغام ہے اور یہی خلاصہ جو ہمیں توحید کے یقین آخرت کے یقین اور قرآن و سنت پر یقین کی وجہ سے غیر مسلم کفار و مشرکین سے علیحدہ کرتا ہے۔ ورنہ نیکی کا سبق تو سب نے ہی دیا ہے۔ مگر توحید ایمان باللہ والرسول ' یقین آخرت اور تمام اصول و قوانین جو ہم مسلمانوں کو دئیے گئے ہیں۔ ہماری نجات دارین کا پکا پکاٹکٹ ہیں۔ تو آج سے اسی راہ مستقیم پر چلنے کا پکا ارادہ کرلیجئے۔ اللہ ہماری مدد فرمائے اے رب ہمارے ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے مددمانگتے ہیں اے اللہ ہماری مدد فرما ہمیں نیک راہ پر چلنے کی توفیق دے ان لوگوں کی راہ پر جن پر تو نے انعام کیا نہ ان لوگوں کی راہ پر کہ جن پر تو ناراض ہوا۔ اور نہ گمراہوں کی۔ (سورۃ الفاتحہ : 7-6-5-4) اللہ کے فضل و کرم اور خاص مہربانی سے سورة الاعلیٰ ختم ہوئی الحمد للہ۔