86. Surah At-Taariq

الطارقThe Morning Star · 17 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 86:1–8

وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِۙ Open ayah 86:1 in the Quran reader

قسم ہے آسمان کی اور رات میں آنے والے کی

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الطَّارِقُۙ Open ayah 86:2 in the Quran reader

اور آپ کیا جانیں کیا ہے رات میں آنے والا

النَّجْمُ الثَّاقِبُۙ Open ayah 86:3 in the Quran reader

(وہ) چمکتا ہوا تارا ہے۔

اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْهَا حَافِظٌؕ Open ayah 86:4 in the Quran reader

ایسی کوئی بھی جان نہیں کہ جس پر ایک محافظ مقرر نہ ہو۔

فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَؕ Open ayah 86:5 in the Quran reader

پھر آدمی آپ ہی دیکھے کہ وہ کا ہے سے بنایا گیا۔

خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍۙ Open ayah 86:6 in the Quran reader

ایک اچھلتے قطرہ سے

یَّخْرُجُ مِنْۢ بَیْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآئِبِؕ Open ayah 86:7 in the Quran reader

جو پشت اور سینہ کے درمیان سے نکلتا ہے۔

اِنَّهٗ عَلٰى رَجْعِهٖ لَقَادِرٌؕ Open ayah 86:8 in the Quran reader

بیشک وہ اس کے لوٹانے پر بھی قادر ہے۔

ترکیب ¦ وللقسم۔ السماء محبرور معطوف علیہ والطارق عطف علیہ۔ والطارق ما یاتی لیلا سوا کان کو کبا وغیرہ لطروق بشب آمدن (ععا ض 2) طارق بشب آیندہ و ستارہ و کشتی کردن فحل۔ از صراح) وما ادراک الجملۃ الاستفہامیۃ لتفخیم الطارق النجم الثاقب مستانفہ جواب سوال کانہ قیل ما ھو فقال النجم الثاقب۔ ثقوب افروختہ شدن آتش۔ ص۔ ان کل نفس لما علیہا حافظ قرء ابن کثیر و ابی عمر و نافع وکسائی لما بالتخفیف و قرء عاصم وحمزۃ والنخعی بالتشدید فمن خفف کانت ان عندہ الخففۃ من المثقلۃ واللام فی لماتد خل مع ان المخفۃ للفرق بین النافیۃ والمخفۃ وما صلۃ کما فی قولہ فبما رحمۃ ومن اثقل فان عندہ النافیۃ ولما بمعنی الاحافظ مبتداء علیھا خبر والجملۃ جواب القسم علی التقدیرین ای ان الشان کل نفس لعلیھا حافظ او ما کل نفس الاعلیھا حافظ خلق الخ الجملۃ مستانفۃ جواب۔ سوال مقدر والماء المنی والدفق الصب دافق ای مدفوق مصبوب فی الرحم یخرج الجملۃ صفۃ ماء والترائب جمع تریبۃ وھی موضع القلادۃ من الصدر والصلب والصدر لھما دخل عظیم فی تولد المنی لان للدماغ دخل تام ولہ خلیفۃ وھی النخاع وھی فی الصلب ولہ شعب کثیرۃ نازلۃ الی مقدم البدن وھو التریبۃ فلھذا السبب خصصھا اللہ بالذکروا لا مادۃ المنی فی الانثین تتولد من فضلۃ الھضم الرابع وتنفصل عن جمیع اجزا البدن حتی یاخذ من کل عضوا طبیعۃ وخاصیۃ فیصیر مستعدا لان یتولد منہ مثل تلک الاعضاء انہ الضمیر یرجع الی اللہ سبحانہ والضمیر فی رجعہ الی الانسان فالمصدر مضاف الی المفحول۔ تفسیر ¦ یہ سورت بھی مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ چونکہ لفظ طارق اس میں ہے اس لیے اس کا نام سورة طارق قرار پایا۔ اس کی سترہ آیات ہیں۔ مناسبت اس کی پہلی سورة سے آسمان کے ذکر اور مسئلہ مبداء و معاد کے ذکر سے اور نیز خاتمہ سے ظاہر ہے۔ سورة بروج میں فرمایا تھا کہ اللہ کے احاطہ میں لوگ ہیں۔ اور یہ بھی کہ قرآن لوح محفوظ میں بحفاظت ہے۔ اب ان دونوں باتوں کے متعلق دو چیزوں کا ذکر قسم کھا کر کرتا ہے۔ فقال والسماء قسم ہے آسمان کی اس میں پہلی بات کی تائید ہے کہ آسمان ہمارا بنایا ہوا ہے مگر اس نے سب کو گھیر رکھا ہے۔ صورۃ ًو معنیً ۔ جہاں جاؤ اور کسی ملک یا دریا میں چلے جاؤ آسمان سر پر موجود اور ہر طرف سے محیط ہے۔ ع بہر زمین کہ روی آسماں بروپیداست اور نیز آسمانی احکام سے کوئی سرتابی نہیں کرسکتا۔ موت ٗ حیات ٗ تندرستی ٗ بیماری ‘ فتح و شکست ‘ دولتمندی ‘ افلاس ‘ عزت ‘ ذلت سب آسمانی احکام ہیں بھلا کوئی ان کو ٹال تو دے۔ انہیں احکام کے ٹالنے میں اوہام باطلہ کہیں فال اور شگون سے مدد لیتے ہیں۔ کہیں کنڈے اور ٹوٹکے کرتے ہیں۔ کہیں بتوں سے مدد لیتے ہیں۔ کہیں قبور صلحاء و انبیاء سے مدد لیتے ہیں۔ کہیں ان کی ارواح طیبات کو پکارتے ہیں مگر آسمانی حکم ہو کر رہتا ہے۔ نہ کوئی تدبیر پیش چلتی ہے نہ کوئی حیلہ کارگر ہوتا ہے اب بھی معلوم ہوا کہ اللہ کے احاطہ میں ہر چیز ہے ؟ کس لیے کہ آسمان اس کے احاطہ میں ہے اور اس نے لوگوں کو احاطہ کر رکھا ہے۔ دوسری بات کے لیے یہ اشارہ ہوا والطارق اور قسم ہے ہمیں طارق کی۔ طارق کے لغوی معنی ہیں رات میں آنے والے کے خواہ کوئی آوے اور اسی لیے احادیث میں آیا ہے نعوذ باللہ من طوارق اللیل کہ اللہ کی پناہ ان حوادث سے جو رات میں یکایک آویں۔ اس لیے کہ رات میں ان کا تدارک استغاثہ تدبر علاج استعانت وغیرہ اسباب سے مشکل ہوتا ہے مگر اس جگہ کیا مراد ہے ؟ اس کو اللہ تعالیٰ آپ ہی تعظیم شان کے لیے سامعین سے دریافت کرکے وما ادراک ما الطارق کہ تو کیا سمجھا کہ طارق کیا ہے یعنی کوئی ویسی چھوٹی موٹی بات رات کی نہیں ہے۔ پھر آپ ہی بتلاتا ہے النجم الثاقب کہ وہ روشن ستارہ ہے۔ طارق کے معنی میں اقوال : پھر علماء کے اس میں کئی قول ہیں : (1) بعض کہتے ہیں جنس مراد ہے ہر ایک ستارے کو شامل ہے کسی کی خصوصیت نہیں۔ کس لیے کہ ہر ایک طارق ہے یعنی رات میں آنے والا اپنے آپ نمودار ہونے والا۔ (2) بعض کہتے ہیں ستارہ معین مراد ہے پھر اس تعین میں بھی کئی قول ہیں۔ بعض کہتے ہیں زحل مراد ہے کس لیے کہ ثقب چھید کرنے کو کہتے ہیں اور اس کی روشنی ساتوں آسمانوں کو چیر کے نیچے تک آتی ہے بعض کہتے ہیں۔ ثقوب روشنی کے معنی میں ہے اور ثریا کا گچھا بسبب اجتماع کے زیادہ روشن ہے۔ اس لیے وہ مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں شہاب ثاقب مراد ہے اور یہی اخیر قول زیادہ تر چسپاں ہے۔ کس لیے کہ حفاظت کا نمونہ دکھانا منظور ہے اور یہ بات شہاب ثاقب سے زیادہ حاصل ہے کس لیے کہ جب شیاطین عالم بالا میں اسرار غیبی لینے کو جاتے ہیں تاکہ لوگوں پر افشاء کرکے ان کے اعتقادات خراب کریں اور قرآن میں خلل اندازی کریں تو شہاب ثاقب ان پر دوڑ کرجاتا ہے اور ہانک دیتا ہے۔ گرچہ اور ستاروں سے بھی حفاظت ہے۔ عالم ارضی کی حفاظت اس لیے کہ نباتات کی روئیدگی اور ان کا پکنا پھولنا وغیرہ امور ستاروں کی شعاعوں سے متعلق ہیں اور نیز وہ اجسام نورانیہ ہیں اور نور سے بالطبع شیاطین کو نفرت ہے۔ کس لیے کہ ان کا مادہ ظلمانی ہے۔ اس لیے وہ ان شمعوں اور آسمانی چراغوں کی چکاچوند سے خیرہ ہو کر ہٹ آتے ہیں اور یہی سبب ہے کہ اندھیرے مکانوں میں اور رات کو جہاں کہ چراغ دار روشنی نہ ہو شیاطین و خبائث کا زیادہ گزر اور اثر ہوتا ہے۔ 1 ؎ 1 ؎ دن کو تو آفتاب کے چراغ اور رات کو ستاروں کی روشنی عالم بالا تک شیاطین کو نہیں جانے دیتی۔ اس محافظت کے مضمون کو جو مقصود اصلی اس مقام پر تھا اگرچہ ضمناثابت کیا گیا تھا مگر اس کو بصراحت ثابت کرتا ہے اور اس کے مؤکد کرنے کو اسی کو جواب قسم قرار دیتا ہے۔ فقال ان کل نفس لما علیہا حافظ کہ ہر نفس پر محافظ ہے یا یوں کہو ایسی کوئی جان یا چیز نہیں کہ جس پر وہ محافظ نہ ہو۔ پھر قرآن کی حفاظت کون سی بڑی بات ہے۔ نفس سے بعض علماء کے نزدیک مطلق ذات الشیء مراد ہے اس تقدیر پر حافظ اللہ ہے کس لیے کہ سوائے حق سبحانہ کے جو چیز ہے ممکن ہے اور ہر ممکن وجود و عدم میں مساوی الطرفین ہے۔ جانب وجود کسی مرجح کی ترجیح سے قائم ہوتی ہے اور وہ واجب تعالیٰ ہے۔ پس وہی حق سبحانہ ہر چیز کا قیوم ہے وہی موجودات کو باقی رکھتا ہے وہی حفاظت کرتا ہے۔ اس بات کو اللہ تعالیٰ اس آیت میں ظاہر فرماتا ہے۔ ان اللہ یمسک السماوات والارض ان تزولا اور اگر نفس انسانیہ یا حیوانیہ مراد ہوں تو بالخصوص ان کی قومیت کی طرف اشارہ ہوگا اور اس طرف بھی کہ وہی ہر وقت ان کی خبر گیری کرتا ہے۔ ان کے منافع و اسباب زندگی بہم پہنچاتا ہے ‘ مضرات سے بچاتا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ حافظ سے مراد ملائکہ ہیں جیسا کہ فرماتا ہے ویرسل علیکم حفظۃ ویخفطونہ من امر اللہ۔ ہر بلا سے وہی حفاظت بحکم ربی کرتے ہیں۔ اگر اس کی طرف سے حفاظت نہ ہو تو انسان کے حشرات الارض سے لے کر درندوں تک اور جن و شیاطین بلکہ ارضی و سماوی سینکڑوں جان لینے والے ہیں دریا میں اور خشکی پر وہی حفاظت کرتا ہے۔ انسان کے اندرونہ اعضاء کے افعال و قویٰ کی وہی محافظت کرتا ہے۔ جبکہ یہ ثابت کردیا گیا کہ وہی محافظت کرتا ہے۔ اسی نے امن دے رکھا ہے تو اس حالت میں اور اس فرصت میں اصلی مقصد کی تحصیل میں کوشش کرنا چاہیے۔ خصوصاً جبکہ انسان کے اعمال بھی حفاظت سے دفتر میں لکھے جاتے ہیں اور اعلیٰ مقاصد میں سے تمام اہل ادیان و اہل عقول کے نزدیک مبدء و معاد کی معرفت ہے اور یہ بھی متفق علیہ ہے کہ معاد کی معرفت سے مبداء کی معرفت مقدم ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے معرفت مبداء کے لیے پہلے یہ کلام ذکر فرمایا فقال فلینظر الانسان مم خلق کہ آدمی خود نظر کرے کہ وہ کا ہے سے پیدا کیا گیا ؟ وہ دیکھے کہ اس کی اصل کیا ہے اور کس نے اس کو کیونکر بنایا ہے ؟ پھر آپ ہی فرماتا ہے خلق من ماء دافق کہ ایک پانی کی بوند سے بنایا گیا جو اچھلی ہے یعنی منی کے قطرہ سے جو کود کر نکلتا ہے۔ یخرج من بین الصلب والترائب وہ قطرہ پیٹھ اور سینہ کے درمیان سے نکلتا ہے۔ منی کا سینہ اور پیٹھ کے درمیان سے نکلنا : گرچہ محققین کے نزدیک منی کا خزانہ انثیین ہے اور رحم میں پڑنے کے وقت وہیں سے نکلتی ہے لیکن اس مادہ کی تولید کا اصلی سبب قیام و درستی بدن ہے اور خصوصاً دماغ اور اسی لیے جب ضعف دماغ ہوتا ہے تو یہ قوت کم ہوجاتی اور کثرت مجامعت سے دماغ کو ضعف عارض ہوتا ہے اور اس کے بعد تمام بدن میں بھی نحافت محسوس ہوتی ہے اور دماغ سے پٹھے پشت کی طرف آئے ہیں جن کو نخاع کہتے ہیں اور اسی طرح اس کی شاخیں مقدم بدن کی طرف بھی آئی ہیں جو سینہ ہے اور عربی میں اس کو تریبہ کہتے ہیں اس لیے یہ کہنا بہت صحیح ہے کہ منی پیٹھ اور سینہ کے درمیان سے نکلتی ہے اور یہ مراد نہیں کہ پیٹھ اور سینہ میں منی موجود رہا کرتی ہے وہاں سے نکلتی ہے۔ بعض علماء نے یہ بھی کہا ہے کہ مرد کی منی دماغ سے نکل کر پیٹھ کی طرف سے انثیین کی رگوں میں آتی ہے اور عورت کی سینہ میں سے۔ آیت میں نہ اس بات کی تصریح ہے کہ انسان مرد و عورت دونوں سے بنتا ہے نہ اس بات کہ کہ صرف مرد کی منی سے اور جس کسی نے کچھ ثابت کیا ہے تو قرائن و استنباط سے۔ اگرچہ انسان حقیقی روح ہے اور وہ نہ کسی قطرہ منی سے بنی ہے نہ اور کسی مادہ ٔ عنصری سے لیکن اس روح کا مرکب عالم حسی میں بدن انسانی ہے اور عالم ناسوتی میں غالباً اسی پر اس لفظ کا استعمال ہوتا ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ منی کے قطرہ سے بنتا ہے۔ پھر اس کا بنانے والا کون ہے ؟ وہی قادر مطلق اس قطرہ کو رحم میں اس سانچے میں ڈھالتا اور کیا کیا کاریگریاں کرتا ہے۔ اس کے بعد معرفت معاد پر جو دلالت کرے اس کو ذکر فرماتا ہے فقال انہ علی رجعہ لقادر کہ وہ کہ جس نے اس کو ایک قطرہ سے بنایا ٗ مرنے کے بعد باردگر اس کو بنانے اور اس کی اس صورت کی طرف لوٹا دینے پر قادر ہے۔ وہ باردیگر پھر اس کو ویسا ہی بنا سکتا ہے جن اجزاء سے منی بنائی تھی۔ پھر کیا وہ ان اجزاء سے اس کی دوبارہ جسمیت کا مادہ مجتمع نہیں کرسکتا ؟ ضرور کرسکتا ہے۔ اس کلام کے یہ بھی معنی ہیں کہ وہ پھر اس کو انہیں اجزا کی طرف پلٹا سکتا ہے۔ پھر وہی منی کا ایک قطرہ کرسکتا ہے۔ انسان و حیوان و نباتات میں اس کی گردش ظاہر ہے جس قطرہ سے یہ بنا تھا۔ اس کے تمام جسم کا عطر پھر وہی قطرہ ہے جس سے پھر ویسا ہی انسان بنتا ہے۔
Ayahs 86:9–17

یَوْمَ تُبْلَى السَّرَآئِرُۙ Open ayah 86:9 in the Quran reader

جس دن کہ بھید کھل جائیں

فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّ لَا نَاصِرٍؕ Open ayah 86:10 in the Quran reader

پھر تو نہ اس کا کچھ زور ہوگا اور نہ کوئی مددگار۔

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِۙ Open ayah 86:11 in the Quran reader

قسم ہے آسمان بارش والے کی

وَ الْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِۙ Open ayah 86:12 in the Quran reader

اور زمین کی جس سے بوٹیاں پھوٹ کر نکلتی ہے

اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌۙ Open ayah 86:13 in the Quran reader

بیشک قرآن قطعی بات ہے

وَّ مَا هُوَ بِالْهَزْلِؕ Open ayah 86:14 in the Quran reader

اور یہ کچھ ہنسی نہیں۔

اِنَّهُمْ یَكِیْدُوْنَ كَیْدًاۙ Open ayah 86:15 in the Quran reader

وہ تو ایک داؤ کر رہے ہیں

وَّ اَكِیْدُ كَیْدًاۚۖ Open ayah 86:16 in the Quran reader

اور میں بھی ایک داؤ کر رہا ہوں

فَمَهِّلِ الْكٰفِرِیْنَ اَمْهِلْهُمْ رُوَیْدًا۠ Open ayah 86:17 in the Quran reader

پھر تو منکروں کو تھوڑی سی مہلت دو ۔

ترکیب ¦ یوم منصوب برجعہ وقیل بقادر وقیل العامل مقدر ای یرجعہ اواذکر فیکون مفعولا بہ والسرائر جمع سریرۃ والسر جمعہ اسرار وھو الذی یکتم والابتلا الاختبار والا متحان قال ابو مسلم بلوث یقع علے اظہار الشی وعلے امتحانہ والسماء الوا بہ للقسم ذات الرجع صفتہ للسما قال الزجاج الرجع المطر لانہ یجی ویرجع ویتکرر وقال الخلیل الرجع المطرنفسہ والرجع نبات الربیع وقال الواحدی الرجع المطر فی قول المفسرین وقال ابن زید الراجع الشمس والقمر والنجوم یرجعن فی السماء تطلع من ناحیتہ وتغیب فی ناحیتہ وقال القفال معناہ ذات ( ؟ ؟ ؟ ؟ ) وقال ابن عباس الرجع المطر والارض معطوف علے السماء ذات الصدع صفتہ للارض الصدع ہوالشق قال ابن عباس تنشق عن النبات والاشجارو وقال مجاہدہو الجبلان بینہما شق و طریق نافذ کما فی قولہ وجعلنا فیہا سبلا فجاجا وقال اللیث الصدع نبات الارض لانہ یصدع الارض فتصدع بہ انہ لقول الخ جواب القسم والضمیر فی انہ یرجع الی ما اخیر تکم بہ من قدرتی علیٰ احیاء کم یوم تبلی السرائر وقیل یرجع اے القرآن امہلہم بدل من مہل ومہل ومہل بمعنے واحد مثل نزل وانزل رواید منصوب علے انہ مصدر موکد للفعل المذکور اونعت لمصدر محذوف اے امہلہم امہالاً ۔ ویدا اے قلیلا او قریبا ویجوزان یکون حالا روید فی کلام العرب علی ثلاثتہ اوجہ (1) اسم للامر کقولک روید زید اے دعہ ولا تنصرف لانہا غیر متمکنتہ (2) ہو مصدر کسائر المصادر فیضاف الیٰ مابعدہ تقول روید زید کما تقول ضرب زید (3) ہو و نعت منصوب کقولک ساروا سیرا رویدا ً ور بما یحذفون المنعتو ویقیمون رویدا مقامہ من الکبیر۔ تفسیر ¦ اور وہ اعادہ کس روز ہوگا ؟ اس کو بتاتا ہے یوم تبلی السرائر جس روز کہ مخفی باتیں ظاہر ہوجاویں یعنی قیامت کے روز۔ اس جملہ میں قیامت کی بھی ایک صفت بیان ہوگئی کہ وہ ایسا روز ہے کہ جس میں آج جو کچھ مخفی کہا جاتا ہے ظاہر ہوجاوے گا۔ اس عالم ناسوتی میں احکام روح مخفی و مستور اور احکام اجسام ظاہر ہیں۔ گناہ در پردہ ہوں یا ظاہر ان کی کیفیت جسم پر ظاہر نہیں ہوتی۔ اسی طرح اخلاق ذمیمہ ‘ بخل ‘ حسد و کینہ حب جاہ مال سب مخفی ہیں اور اسی طرح ایمان وحب الٰہی و صداقت و ذکرِ الٰہی وغیرہ افعال و اخلاق محمود کا بھی کوئی اثر ظاہر بدن پر نہیں ہوتا لیکن قیامت کے روز معاملہ برعکس ہوگا۔ روحانی آثار ظاہر ہوجاویں گے۔ سرائر عام ہے پوشیدہ گناہوں اور مکر و حیلہ کو بھی شامل ہے کہ جن کے اخفا کی دنیا میں کوشش کیا کرتے تھے اور عقائدِ باطلہ دنیات فاسدہ کو بھی اسی طرح نیک کاموں کو بھی جن کو مخفی کرتے تھے۔ روزہ اور نماز تہجد اور مخفی خیرات اور دل کے ملکات کاملہ ‘ مواج جید و اشواق کو بھی اور ہر ایک معاملہ کو بھی جو اس میں اور خدا میں تھا۔ پھر اس روز کیا ہوگا۔ فمالہ من قوۃ پھر نہ اس کو خود قدرت ہوگی کہ اخفا کرسکے اور اظہار ہونے کے بعد اس کی سزا کو دور کرسکے ولا ناصر اور نہ اور کوئی دوسرا اس اخفاء میں اور اظہار کے بعد سزا دور کرنے میں مدد کرسکے گا جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا ہے۔ ان آیات میں دو باتیں ذکر ہوئی ہیں۔ اول یہ کہ انسان کو باردیگر فدا تعالیٰ ایسی ہی زندگانی عطا کرسکتا ہے۔ دوسری یہ کہ جس روز یہ زندگانی عطا ہوگی مخفی باتیں ظاہر ہوجاویں گی۔ اس لیے ان دونوں باتوں کے لیے دو مثالیں پیش کرتا ہے جن کا ہر ایک مشاہدہ کرتا ہے اور لطف یہ کہ ان دونوں مثالوں یا نمونوں کو قسم کھا کر بیان فرماتا ہے۔ اول نمونہ والسماء ذات الرجع کہ قسم ہے آسمان بارش والے کی رجع کے معنی اکثر مفسرین کے نزدیک بارش کے ہیں اور نفع کے بھی عرف عام میں بارش کا آسمان سے برسنا مشہور ہے۔ گو بادلوں سے برستی ہے اور اس لیے بادلوں کو بھی آسمان سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے آسمان کو بارش والا کہا گیا۔ اس میں بار دیگر زندگانی کا نمونہ ہے۔ برسات میں سبزہ اگتا ہے۔ ایک عمر طبعی کو پہنچ کر چورا چورا ہو کر نیست و نابود ہوجاتا ہے۔ اگلے سال پھر جو بارش ہوتی ہے تو وہ تمام نباتات بار دگر سرسبز ہوجاتے ہیں اور اپنی پہلی حالت کی طرف رجوع کر جاتے ہیں۔ انہ علی رجعہ لقادر اس جملہ میں اسی مضمون کی تصریح ہے۔ بعض علماء نے رجع کے معنی حرکت کرنے اور چکر لگانے کے بھی لیے ہیں۔ اس تقدیر پر (آسمان چکر لگانے والے) معنی ہوں گے۔ اس میں بھی یہ مضمون ثابت ہے جیسا کہ آسمان چکر لگاتا ہوا لوٹ آتا ہے۔ رات سے پھر دن ہوجاتا ہے۔ اسی طرح انسان کا بھی بار دیگر اپنی حالت پر لوٹ آنا کچھ بھی مشکل نہیں۔ دوسری بات کے لیے یہ دوسرا نمونہ پیش کیا جاتا ہے۔ والارض ذات الصدع کہ قسم ہے زمین پھٹنے والی کی۔ صدع کے معنی پھٹنے کے بھی ہیں اور نباتات کے بھی۔ دیکھو زمین میں جو قویٰ و ودیعت رکھے گئے ہیں۔ ایک وقت پر وہ ظاہر ہوجاتے ہیں۔ زمین پھٹ کر اس میں کیسی کیسی جڑی بوٹیاں موسم بہار میں نکل آتی ہیں اور چشمے اور معادن بھی ظاہر ہوجاتے ہیں۔ آسمان کا پانی بمنزلہ منی والد کے ہے اور زمین بمنزلہ رحم مادر کے ‘ نباتات و اشجار و دیگر اشیاء اس کے بچے ہیں جو ہر سال پیدا ہوتے ہیں اور مٹ جاتے ہیں اور پھر پیدا ہوتے ہیں اور پھر مٹ جاتے ہیں۔ یہی حال اس دنیا اور دار آخرت کا ہے کہ اس کے بعد پھر یہ زندگی عطا ہوگی۔ قسم کھا کر وہ جامع بات یہ بیان فرماتا ہے۔ انہا لقول فصل مر کر جینے اور مخفیات کے ظاہر ہوجانے کی بات قطعی اور دو ٹوک بات ہے۔ وما ھو بالہزل اور یہ ہنسی اور لغو بات نہیں۔ جیسا کہ انہم یکیدون کیدا وہ کفار کہتے ہیں کہ اجی وہاں کا حال کس نے دیکھا ہے۔ لوگوں کی ترغیب و ترتیب کے لیے حضرات انبیاء ایسے خیالی مضامین جنت دوزخ ‘ سزاء و جزا کی تراش کر بیان کردیا کرتے ہیں جیسا کہ بچوں کو خیالی باتوں سے پھسلایا اور ڈرایا کرتے ہیں۔ یہ تھا کفار کا کید۔ واکید کیدا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے مقابلہ میں بھی کید کر رہا ہوں۔ ان باتوں کو دلائلِ انفس و آفاق سے ثابت کر رہا ہوں۔ یہ اس کا کید ہے یا یوں کہو ان کا دار آخرت سے غافل ہو کر حصول دنیا کے لیے اور دین الٰہی کے برباد کرنے کے لیے تدابیر نکالنا یہ ان کا کید تھا اور اس کے مقابلہ میں اسلام کے غلبہ اور ہدایت کے سامان پیدا کرنا اور ان کی بربادی کا سامان قریب لانا۔ یہ کید الٰہی ہے علی وجہ المشاکلت کید کا اس فعلِ الٰہی پر اطلاق ہوا۔ چونکہ وقت قریب آلگا ہے فمھل الکافرین۔ ان کو مہلت دے۔ امہلہم رویدا ان کو اور تھوڑے دنوں مزہ کرلینے دیجئے ٗ بد دعا نہ کرو۔ پھر تو ہمیشہ کا عذاب ان کے لیے ہے یہ مہلت بھی کید الٰہی ہے۔