86. Surah At-Taariq

الطارقThe Morning Star · 17 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 86:1–3

وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِۙ Open ayah 86:1 in the Quran reader

آسمان اور رات کے وقت آنے والے کی قسم

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الطَّارِقُۙ Open ayah 86:2 in the Quran reader

اور تم کو کیا معلوم کہ رات کے وقت آنے والا کیا ہے ؟

النَّجْمُ الثَّاقِبُۙ Open ayah 86:3 in the Quran reader

وہ تارا ہے چمکنے والا

والسماء والطارق۔۔۔ تا۔۔۔۔ الثاقب۔ یہاں دو قسمیں ہیں السماء ایک قسم ہے اور الطارق دوسری قسم ہے الطارق سے مراد ستارہ ہے اللہ تعالیٰ نے وما ادراک ما الطارق، النجم الثاقب۔ میں اس کی وضاحت کی، اس میں اختلاف ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ زحل ستارہ ہے یہ ایسا ستارہ ہے جو ساتویں آسمان میں ہوتا ہے، اس کا ذکر محمد بن حسن، نے اپنی تفسیر میں کیا ہے اور اس کے بارے میں کئی روایات ذکر کیں، اللہ تعالیٰ ہی اس کی صحت کے بارے میں زیادہ آگاہ ہے۔ ابن زید نے کہا، اس سے مراد ثریا ہے ان سے یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد زحل ہے، یہ فراء کا قول ہے حضرت ابن عباس نے کہا، اس سے مراد جدی ہے، حضرت ابن عباس، حضرت علی شیر خدا اور فراء سے مروی ہے، کہ نجم ثاقب سے مراد ساتویں آسمان میں ایک ستارہ ہے اس ساتویں آسمان میں اس ستارے کے سوا کوئی ستارہ نہیں جب ستارے آسمان میں اپنی جگہ جگہ لے لیتے ہیں تو یہ ان کے ساتھ نیچے آتا ہے اور ان کے ساتھ ہوتا ہے پھر ساتویں آسمان کی طرف لوٹ جاتا ہے، یہ زحل ستارہ ہے، یہ نیچے آتا ہے تو طارق ہوتا ہے جب اوپر جاتا ہے تب زحل ہوتا ہے، فراء نے کہا، ثقب الطائر، جب پرندہ بلند ہو ابوطالح نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ابوطالب کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو ایک ستارہ نیچے آیا اس نے زمین کو نور سے بھر دیا ابوطالب گھبرا گئے تو یہ آیت نازل ہوئی، والسماء والطارق۔ حضرت ابن عباس نے یہ بھی مروی ہے کہ قسم ہے آسمان کی اور اس کی جو اس میں داخل ہے حضرت ابن عباس اور عطا سے یہ مروی ہے کہ الثاقب سے مراد وہ ستارہ ہے جو شیاطین کو مارا جاتا ہے قتادہ نے کہا، یہ تمام ستاروں میں عام ہے کیونکہ اس کا طلوع رات کے وقت ہوتا ہے اور جو تیرے پاس رات کے وقت آئے وہ طارق ہے شاعر نے کہا : الم تریانی کلما جئت طارقا، وجدت بھاطیبا وان لم تطیب۔ کیا تم دونوں نے مجھے نہیں دیکھا میں جب بھی رات کے وقت اس کے پاس آیاتو اس کے ہاں خوشبو پائی گئی اگرچہ اس نے خوشبو نہیں لگائی تھی۔ طارق سے مراد ستارہ ہے یہ اسم جنس ہے اسے یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ یہ رات کے وقت ظاہر ہوتا ہے اس معنی میں حدیث ہے کہ نبی کریم نے اس چیز سے منع کیا کہ مسافر رات کے وقت گھرآئے تاکہ عورت اپنے بال صاف کرلے اور بالوں میں کنگھی کرلے، عرب ہر ایسے قاصد کو طارق کہتے ہیں جو رات کے وقت آتا ہے، یہ جملہ بولا جاتا ہے، طارق فلاں یہ اس وقت کہتے ہیں جب وہ رات کے وقت آئے اس کا باب یو چلتا ہے، طرق یطرق طروقھا فھوطارق۔ ابن رومی نے کہا : یاراقد اللیل مسروا باولہ، ان الحوادث قد یطرقن اسحارا۔ اے رات کے وقت سونے والے اس کے پہلے حصہ پر خوش ہونے والے بیشک حوادثات بعض اوقات سحری کے وقت آجاتے ہیں۔ لاتفرجن بلیل طالب الوہ، فرب آخر لیل اجج النارا۔ اس رات پر خوش نہ ہو جس کا پہلاحصہ اچھا ہو بعض راتوں کے آخر آگ کو بھڑکادیتے ہیں۔ صحاح میں طارق سے مراد ایساستارہ ہے جسے صبح کا ستارہ کہتے ہیں اسی معنی میں ہند کا شعر ہے۔ نحن بنات طارق نمشی علی النمارق، ہم اس کی بیٹیاں جو شرف میں ستارے کی مانند ہے اور ہم عمدہ قالینوں پر چلتی ہیں۔ ماوردی نے کہا : طرق کا اصل معنی کھٹکھٹانا ہے، اس معنی میں مطرقہ ہے، رات کے وقت آنے والے کو طارق کہتے ہیں کیونکہ جب وہ پہنچتا ہے تو اسے کھٹکھٹانے کی ضرورت پڑتی ہے ایک قوم نے یہ کہا یہ تو کبھی دن کے وقت بھی ہوتا ہے عرب کہتے ہیں، اتیتک الیوم طرقتین، میں تیرے پاس آج دو دفعہ آیا، اس معنی میں رسول اللہ کا ارشاد ہے، اعوذبک من شر طوارق اللیل والنھار الاطارقا یطرق بخیریارحمن۔ میں رات اور دن کے وقت آنے والوں کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں مگر ایسے آنے والے سے جو بھلائی لائے اے رحمن، جریر نے طروق کے معنی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا : طرقتک صائدۃ القلوب ولیس ذا، حین الزیارۃ فارجعی بسلام۔ دلوں کو شکار کرنے والی تیرے پاس آئی جبکہ وہ زیارت کے وقت نہیں تھا پس توسلامتی کے ساتھ لوٹ جا۔ ثاقب سے مراد روشن ہے، اس معنی میں شھاب ثاقب ہے، باب یوں چلایا جاتا ہے، ثقب یثقب ثقبا وثقابہ، جب وہ روشن ہوثقوبہ، اس کی روشنی، عرب کہتے ہیں، اثقب نارک، اپنی آگ روشن کرکے، شاعر نے کہا : اذاع بہ فی الناس حتی کا نہ، بعلیاء نار اوقدت بثقوب۔ وہ اس کے ذریعے لوگوں میں مشہور ہوگیا یہاں تک کہ گویا وہ بلند جگہ پر آگ ہے جسے لکڑیوں کے ساتھ روشن کیا گیا ہے، ثقوب سے مراد وہ باریک لکڑیاں ہیں جن کے ساتھ آگ روشن کی جاتی ہے مجاہد نے کہا، ثاقب سے مراد روشن ہے، قشیری نے کہا، عمومی رائے یہ ہے کہ طارق اور ثاقب اسم جنس ہے اس سے عمومی معنی مراد لیا جاتا ہے جس طرح ہم نے مجاہد سے ذکر کیا ہے۔ وما ادراک ما الطارق۔ مقسم بہ کی عظمت شان کو بیان کرنے کے لیے اسے ذکر کیا گیا ہے سفیان نے کہا : قرآن حکیم میں جہاں بھی وما ادراک کے الفاظ ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو اس بارے میں آگاہ کردیا اور جہاں بھی ومایدریک فرمایا، اس کے بارے میں آگاہ نہیں کیا۔
Ayah 86:4

اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْهَا حَافِظٌؕ Open ayah 86:4 in the Quran reader

کہ کوئی متنفس نہیں جس پر نگہبان مقرر نہیں

ان کل نفس لما علیھا حافظ۔ قتادہ نے کہا حافظ سے مراد حفظہ ہیں جو تیرے رزق، تیرے عمل اور تیری اجل کی حفاظت کرتے ہیں ان سے یہ بھی مروی ہے اس سے مراد اس کا قرین ہے جو اس کے اچھے برے عمل کی حفاظت کرتا ہے یہ جواب قسم ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے جواب انہ علی رجعہ لقادر ہے امام ترمذی کے قول کے مطابق، یہاں قائل محمد بن علی ہے، ان مثقلہ سے مخففہ ہے اور ماتاکید یہ ہے تقدیر کلام یوں ہوگی ان کل نفس لعلیھا حافظ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی یہ ہے کوئی نفس نہیں مگر اس پر ایک نگہبان ہے جو آفات سے اسے محفوظ رکھتا ہے یہاں تک کہ اس کے حق میں جو مقدر ہوتا ہے اس کے سپرد کردیتا ہے فراء نے کہا، اللہ تعالیٰ کی جانب سے محافظ ہے وہ اس نفس کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ اس نفس کو مقادیر کے سپرد کردیتا ہے یہ کلبی کا قول ہے، ابوامامہ نے کہا، نبی کرم نے ارشامایا۔ ترجمہ۔ ہر مومن کے لیے ایک سوساٹھ فرشتے مقرر کیے گئے ہیں جو اس سے ان چیزوں کو دور کرتے ہیں جوان کے حق میں مقدر نہیں ہوتیں لمحہ بھر سات فرشتے اس کا دفاع کررہے ہوتے ہیں جس طرح شہد کے پیالے سے مکھیوں خودور کیا جاتا ہے اگر انسان کو پلک جھپکنے کے عرصہ میں اس کے سپرد کردیا جائے تو شیاطین اس کو اچک لیں۔ ابن عامر، عاصم اور حمزہ کی قرات میں لما ہے یعنی کوئی نفس نہیں مگر اس پر ایک نگہبان ہے یہ ہذیل کی لغت ہے ان کا قائل کہتا ہے، نشدتک لما قمت میں نے تجھے بلایا جب میں کھڑا ہوا، باقی قراء نے اسے لما پڑھا ہے کہ یہ زائدہ ہے اور تاکید کے لیے ہے اس آیت کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، لہ معقبت من بین یدیہ ومن خلفہ یحفظونہ من امر اللہ۔ انسان کے لیے یکے بعد دیگرے آنے والے فرشتے ہیں اس کے آگے اور اس کے پیچھے بھی وہ نگہبانی کرتے ہیں اس کی اللہ تعالیٰ کے حکم سے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، حافظ سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اگر نفس کو اللہ تعالیٰ کی حفاظت میسر نہ ہوتی تو وہ باقہ نہ رہتا، ایک قول یہ کیا گیا ہے، حافظ اس کا عقل ہے جو اسے اس کی مصلحتوں کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور اسے تکلیف دہ امور سے روکتا ہے۔ میں کہتا ہوں : عقل اور دوسری چیزیں وسائل ہیں حقیقت میں حافظ اللہ تعالیٰ ہے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، فاللہ خیرحفظا۔ یوسف 64) اللہ تعالیٰ بہتر نگہبان ہے اور فرمایا (قل من یکلوکم بالیل والنھار من الرحمن۔ الانبیاء 42) آپ پوچھیے اے منکرو، کون ہے جو نگہبانی کرسکتا ہے تمہاری رات بھر اور دن بھر خدائے رحمن سے۔
Ayah 86:5

فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَؕ Open ayah 86:5 in the Quran reader

تو انسان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کا ہے سے پیدا ہوا ہے

فلینظرالانسان مم خلق۔۔۔ تا۔۔۔ لقادر۔ فلینظرالانسان مم خلق۔ انسان سے مراد ابن آدم ہے اس کا ماقبل سے اتصال ہے کہ انسان کو اپنے امر کی ابتدا کی طرف دیکھنے کا خصوصی کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ اسے علم ہوجائے جس ذات نے اسے پہلی دفعہ پیدا کیا ہے وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے اور اس کو بدلہ دینے پر قادر ہے پس وہ اعادہ اور جزاء کے دن کے لیے عمل کرے اور وہ اپنے محافظ پر کوئی ایسی چیز املاء نہ کرائے مگر جو اسے انجام کارخوش کرے، مم خلق، یہ استفہام ہے معنی ہے اسے کس چیز سے پیدا کیا گیا پھر فرمایا، خلق من ماء دافق۔ اس سے مراد مادہ منویہ ہے۔ دفق کا معنی پانی بہنا ہے، دفقت الماء ادفقہ دفقا۔ میں نے اسے بہایا ووہ بہایا گیا ہوگیا، جس طرح سرکاتم کا معنی ہے سر مکتوم، چھپایا گیا راز کیونکہ یہ تیرے اس قول سے ماخوذ ہے، دفق الماء فعل مجہول ہے اور الماء اس کا نائب الفاعل ہے یہ نہیں کہتے، دفق الماء یہ جملہ بولتے ہیں، حلق اللہ روحہ، جب اس کے لیے موت کی دعا کیجائے، فراء اور اخفش نے کہا، من ماء دافق سے مراد ہے ایسا پانی جو رحم میں ٹپکایا جائے زجاجن نے کہا، اس کا معنی ہے من ماء ذی اندفاق جس طرح یہ کہتا جاتا ہے، دارع، فارس، اور نابل۔ یہ ذوفرس، ذودر، اور ذونبل کے معنی میں ہے یہ سیبویہ کا نقطہ نظر ہے یعنی اسم فاعل کا وزن نسبت کے معنی میں ہے الدافق سے مراد وہ پانی ہے جو قوت کی شدت کے ساتھ ٹپکے، اس سے مراد وہ پانی ہے جو مرد اور عورت کے پانی کا آمیزہ ہو، کیونکہ انسان ان دونوں پانیوں سے پیدا ہوتا ہے، لیکن ان کے باہم ملنے کی وجہ سے ایک پانی بنادیا گیا ہے عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے یہ قول نقل کیا ہے اس کا معنی ہے چکناہٹ والا۔
Ayahs 86:6–7

خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍۙ Open ayah 86:6 in the Quran reader

وہ اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا ہوا ہے

یَّخْرُجُ مِنْۢ بَیْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآئِبِؕ Open ayah 86:7 in the Quran reader

جو پیٹھ اور سینے کے بیچ میں سے نکلتا ہے

یخرج من بین الصلب واترائب۔ یخرج کی ھوضمیر سے مراد پانی ہے، صلب سے مراد پشت ہے اس میں چار لغتیں ہیں، صلب، صلب صلب اور صالب۔ پہلی دو کے ساتھ اسے پڑھا گیا ہے اس معنی میں حضرت ابن عباس کا قول ہے، تنقل من صالب الی رحم تجھے پشت سے رحم کی طرف نقل کیا جاتا رہا، ترائب سے مراد سینہ ہے اس کا واحد تریبہ ہے یہ سینے کی وہ جگہ ہے جہاں ہار ہوتا ہے۔ شاعر نے کہا، مھفھۃ بیضاء غیر مفاضۃ، ترائبھا مصقولۃ کالسجنجل۔ وہ تھوڑے گوشت والی سفید رنگت والی، ڈھیلے پیٹ والی نہیں اس کے سینے کی ہڈیاں یوں صیقل شدہ ہیں جیسے سونے کا پانی۔ صلب مرد کی اور ترائب عورت کی، حضرت ابن عباس نے فرمایا ترائب سے مراد ہار لٹکانے کی جگہ ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے اس سے مراد پستانوں کے درمیان کی جگہ ہے عکرمہ نے کہا، حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ ترائب المراۃ سے مراد ونوں ہاتھ، دونوں پاؤں اور دونوں آنکھیں ہیں، ضحاک نے بھی یہی کہا ہے، سعید بن جبیر نے کہا، اس سے مراد گردن ہے، مجاہد نے کہا، اس سے مراد کندھوں اور سینے کے درمیان کی جگہ ہے، ان سے یہ بھی مروی ہے اس سے مراد سینہ ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ ہنسلی کی ہڈیاں۔ ابن جبیر نے کہا، حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ترائب سے مراد اس جانب کی چار پسلیاں ہیں زجاج نے کہا، ترائب سے مراد سینے کی دائیں جانب کی چار پسلیاں اور چارپسلیاں بائیں جانب کی ہیں معمر بن ابی حبیبہ مدنی نے کہا، ترائب سے مراد دل کا نچوڑ ہے اس سے بچہ ہوتا ہے کلام عرب میں مشہوریہ ہے کہ اس سے مراد سینے اور نحر کی ہڈیاں ہیں، درید بن صمہ نے کہا، فان تدبرو ناخذکم فی ظھورکم، وان تقبلوا ناخذکم فی الترائب۔ اگر تم پیٹھ پھیرو تو ہم تمہاری پشتوں پروار کریں گے اور اگر تم سامنا کرو تو ہم تمہارے سینوں کی ہڈیوں پروار کریں گے۔ ایک اور شاعر نے کہا : والزعفران علی ترائبھا شرق بہ اللبات والنحر۔ زعفران اس کے سینے کی ہڈیوں پر ہے جس سے قلادہ اور نحر کیج گہ بھری ہوئی ہے۔ عکرمہ نے کہا، ترائب سے مراد سینہ ہے پھر یہ شعر پڑھا، نظام در علی ترائبھا۔ موتیوں کا ہار اس کے سینے پر ہے۔ ذورمہ نے کہا : ضرجن البرود عن ترائب حرۃ۔ ضرجن کا معنی ہے انہوں نے پھاڑا، اس میں ضرجن کا بھی مروی ہے یعنی انہوں نے پھینکا، صحاح میں ہے، تریبہ ترائب کا واحد ہے یہ سینے کی ہڈیاں ہیں جو ہنسلی اور ثندوہ کے درمیان ہوتی ہیں۔ جوہری کے علاوہ دوسرے علماء سے یہ مروی ہے کہ ثندوہ مرد کا وہی عضو ہے جو عورت کا پستان ہوتا ہے، اصمعی نے کہا : ثندوہ پستان کے گاڑھنے کی جگہ ہے ابن سکین نے کہا، اس سے مراد وہ گوشت ہے جو پستان کے اردگرد ہوتا ہے۔ تفسیر میں ہے : مرد کے پانی سے پیدا ہوتا ہے جو اس کی پشت یعنی ہڈی اور پٹھے سے نکلتا ہے اور عورت کے پانی سے پیدا ہوتا ہے جو اسکے سینے کی ہڈیوں یعنی گوشت اور خون سے نکلتا ہے، یہ اعمش کا قول ہے سورة آل عمران میں ایک مرفوع حدیث گزرچکی ہے اور سورة الحجرات آیت 13 میں اناخلقنکم من ذکر وانثی، میں یہ بحث گزرچکی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے مرد کا پانی دماغ سے نازل ہوا ہے، پھر خصیتین میں جمع ہوتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان، من بین الصلب کے معارض نہیں کیونکہ اگر یہ دماغ سے اترتا ہے توریڑھ کی ہڈی اور سینے سے گزر کر ہی آتا ہے قتادہ نے کہا، اس کا معنی ہے یہ مرد کی ریڑھ کی ہڈی اور عورت کے سینے کی ہڈیوں میں سے نکلتا ہے فراء نے کہا، اس کی مثل عربوں سے منقول ہے اس وجہ سے من بین الصلب کا معنی یہ ہوگا ریڑھ کی ہڈی سے حضرت حسن بصری نے کہا، وہ مرد کی ریڑھ کی ہڈی اور مرد کے سینے کی ہڈیوں سے عورت کی ریڑھ کی ہڈی اور اس کے سینے کی ہڈیوں سے نکلتا ہے پھر ہم جانتے ہیں کہ نطفہ بدن کے تمام جزاء سے جنم لیتا ہے اس وجہ سے بچہ اکثر اپنے والدین کے مشابہ ہوتا ہے یہی حکمت ہے کہ مادہ منویہ کے نکلنے کی صورت میں تمام بدن کو دھویا جاتا ہے اور جو زیادہ جماع کرتا ہے اس کی پشت اور ریڑھ کی ہڈی میں درد ہوتا ہے یہ صرف اس وجہ سے ہوتا ہے کہ اس کی پشت اس پانی سے خالی ہوتی ہے جس کو وہ پہلے روکے ہوئے تھی اسماعیل نے اہل مکہ سے الصلب کو لام کے ضمہ کے ساتھ نقل کیا ہے، عیسیٰ ، ثقفی سے بھی یہی مروی ہے مہدوی نے یہ حکایت بیان کی ہے جس نے یہ کہا کہ منی مرد کی پیٹھ اور اس کی سینے ہڈیوں نکلتی ہے تو اس صورت میں یخرج کی ضمیر پانی کے لیے ہوگی جس نے یہ کہا کہ مرد کی ریڑھ کی ہڈی اور عورت کے سینے کی ہڈیوں سے نکلتا ہے تو اس صورت میں ضمیر انسان کے لیے ہوگی، اسے الصلب بھی پڑھا گیا ہے اسمیں چارلغتیں ہیں، صلب صلب صلب اور صالب، عجاج نے کہا، فی صلب مثل العنان۔ المودم۔ اور نبی کریم کی مدح میں ہے، تنقل من صالب الی رحم۔ تجھے ریڑھ کی ہڈی سے رحم کی طرف منتقل کیا جاتا رہا، اشعار مشہور ومعروف ہیں۔
Ayah 86:8

اِنَّهٗ عَلٰى رَجْعِهٖ لَقَادِرٌؕ Open ayah 86:8 in the Quran reader

بیشک خدا اس کے اعادے (یعنی پھر پیدا کرنے) پر قادر ہے

انہ علی رجعہ لقادر۔ مجاہد اور ضحاک نے اس طرح کہا ہے ان دونوں سے یہ بھی مروی ہے، اس کا معنی ہے وہ پانی کو ریڑھ کی ہڈی میں لوٹانے پر قادر ہے، یہ عکرمہ کا قول ہے ضحاک سے بھی اسی طرح کا قول مروی ہے کہ معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو پانی کی طرف لوٹانے پر قادر ہے جس طرح وہ پہلے تھا ان سے یہ بھی مروی ہے کہ معنی ہے وہ انسان کو بڑھاپے سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپے کی طرف لوٹانے پر قادر ہے، مہدوی نے کہا، ماوردی اور ثعلبی نے کہا، بچپنے کی طرف اور بچپنے سے نطفہ کی طرف لوٹانے پر قادر ہے، حضرت ابن عباس قتادہ، حسن بصری اور عکرمہ نے یہ بھی کہا وہ انسان کو موت کے بعد لوٹانے پر قادر ہے، یہ طبری کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے ثعلبی نے کہا، یہ قول سب سے قوی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے یوم تبلی السرائر۔ الطارق) جس روز راز افشاں کردیے جائیں گے ماوردی نے کہا یہ احتمال موجود ہے کہ آخرت میں دوبارہ اٹھائے جانے کے بعد وہ دنیا کی طرف لوٹانے پر قادر ہے کیونکہ کفار آخرت میں اللہ تعالیٰ سے مطالبہ کریں گے کہ وہ انہیں دنیا میں بھیجے۔
Ayah 86:9

یَوْمَ تُبْلَى السَّرَآئِرُۙ Open ayah 86:9 in the Quran reader

جس دن دلوں کے بھید جانچے جائیں گے

یوم تبلی السرائر۔ اس میں دو مسئلے ہیں : لغوی تشریح۔ مسئلہ نمبر 1۔ یوم میں عامل کون ہے ؟ جس نے یہ معنی کیا ہے وہ انسان کو دوبارہ اٹھانے پر قادر ہے ان کے نزدیک اس کا عامل لقادر ہے، رجعہ کا لفظ اس میں عامل نہیں کیونکہ صلہ اور موصول کے درمیان ان کی خبر حائل ہے، انہ علی رجعہ لقادر، رجعہ کا لفظ اسمیں عامل نہیں کیونکہ صلہ اور موصول کے درمیان ان کی خبر حائل ہے، انہ علی رجعہ لقادر میں جو دوسرے اقول میں ان کے نزدیک یوم میں عامل فعل مضمر ہے، لقادر اس میں عامل نہیں کیونکہ یوم سے مراد دنیا میں ہے۔ تبلی کا معنی ہے امتحان اور آزمائش لی جائے گی ابوالغلول طہوی نے کہا : ولاتبلی بسالتھم وان ھم صلوابالحرب حینا بعد حین۔ ان کی شجاعت نہ پہچانی گئی اگرچہ وہ جنگ میں لمحہ بہ لمحہ داخل ہوئے۔ اسے تبلی بسالتھم روایت کیا گیا ہے جس نے اسے تبلی روایت کیا ہے اس نے اس کا معنی امتحان لینا کیا ہے اس روایت کی صورت میں اس کا معنی کراہت ہوگا گویا یہ کہا اسمیں ان کی ناپسندیدگی نہ پہچانی گئی، اور تبلی تعرف کے معنی میں ہے راجز نے کہا، قدکنت قبل الیوم تزدرینی، فالیوم ابلوک وتبتلینی۔ تو آج سے قبل میری ہتک کیا کرتا تھا آج میں تجھے پہچانوں گا اور تو مجھے پہچانے گا۔ جس نے اسے تبلی روایت کیا ہے معنی یہ ہوگا وہ جنگ سے کمزور پڑتے اگرچہ ان پر جنگ کئی بار واقع ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ جب سخت مشکلات انسان پر بار بار واقع ہوں تو اسے کمزور کردیتی ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی ہے اس کے مخفی اسرار وعیاں اور ظاہر کردیے جائیں گے اس سے مراد ہر وہ اچھائی یا برائی ہے جسے انسان پوشیدہ رکھتا ہے اور ایمان وکفر میں سے جسے پوشیدہ کردیے جائیں گے اس سے مراد ہر وہ اچھائی یا برائی ہے جسے انسان پوشیدہ رکھتا ہے ایمان وکفر میں جسے پوشیدہ رکھتا ہے اسے ظاہر کردیا جائے گا جس طرح احوص نے کہا۔ سیبقی لھا فی مضمر القلب والحشا، سریرہ ود یوم تبلی السرائر۔ اس کے لیے دل اور پیٹ میں اس وقت تک مخفی محبت رہے گی جس روز راز عیاں کردیے جائیں گے۔ سرائر سے کیا مراد ہے ؟ مسئلہ نمبر 2۔ نبی کریم سے مروی ہے، اء تمن اللہ تعالیٰ خلقہ علی اربع، علی الصلاۃ والصوم والزکاۃ والغسل وھی السرائر التی یختبر اللہ عزوجل یوم القیامہ، اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق انسانوں کو چار چیزوں پرامین بنایا ہے نماز، روزہ، زکوۃ اور غسل یہی وہ راز ہے جن کو اللہ تعالیٰ قیامت کے روزا فشاد کرے گا، حضرت ابن عمر نے کہا نبی کریم نے ارشاد فرمایا، ثلاث من حافظ علیھا فھو ولی اللہ حقا من اختانھن فھر عدواللہ حقا۔ الصلاۃ والصوم والغسل من الجنابۃ۔ تین چیزیں ایسی ہیں جس نے ان پر دوام اختیار کیا تو وہ یقینا اللہ تعالیٰ کا ولی ہے اور جس نے ان تینوں چیزوں میں خیانت کی وہ یقنا اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے نماز، روزہ اور جنابت کا غسل، ثعلبی نے یہ ذکر کیا ہے ماوردی نے زید بن اسلم سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا امانتیں تین ہیں نماز، روزہ اور جنابت، اللہ تعالیٰ نے انسان کو نماز پرامین بنایا ہے اگر چاہے تو کہے میں نے نماز پڑھی ہے جب کہ اس نے نماز نہ پڑھی ہو، اللہ تعالیٰ نے انسان کو روزے پر امین بنایا ہے اگر چاہے تو کہے میں نے غسل کرلیا ہے جبکہ اس نے غسل نہ کیا ہو چاہو تو یہ آیت پڑھو، یوم تبلی السرائیر۔ یہ ثعلبی نے عطا سے نقل کیا ہے امام مالک نے اشہب سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے ان سے اللہ تعالیٰ کے فرمان یوم تبلی السرائر، کے بارے میں پوچھا اور کہا، کیا آپ کو یہ بات پہنچی ہے کہ وضو بھی رازوں میں سے ایک راز ہے ؟ فرمایا لوگ جو کہتے ہیں ان میں سے ی بات مجھے پہنچی ہے جہاں تک حدیث جسے میں بیان کرتا ہوں اس میں یہ چیز نہیں نماز رازوں میں سے ایک راز ہے روزہ داروں میں سے ایک راز ہے اگر چاہے تو کہے میں نے نماز پر ھی ہے جب کہ اس نے نماز نہ پڑھی تھی رازوں میں سے وہ چیز بھی ہے جو دلوں میں ہے جس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ بندوں کو جزا دیتا ہے ابن عربی نے کہا، حضرت ابن مسعود نے کہا شہید کے تمام گناہ بخش دیے جاتے ہیں مگر امانت، وضو، امانت میں سے ہے نماز اور زکوۃ امانت میں سے ودیعت امانت میں سے ہے ان سب میں سے شدید ودیعت ہے قیامت والے دن ودیعت کو اس کے لیے ایک مثالی شکل میں ظاہر کیا جائے گا اور اس ودیعت کو جہنم کی گہرائی میں ڈال دیا جائے گا پھرا سے کہا جائیگا تو وہ دیعت اس سے پھسل جائے گی وہ پھر اس کے پیچھے جائے گا یہ سلسلہ کئی زمانوں تک جاری رہے گا، حضرت ابی بن کعب نے کہا، امانت میں سے یہ بھی ہے کہ عورت، اشہب نے کہا، مجھے سفیان نے کہا، حیض اور حمل میں، اگر وہ کہے مجھے حیض نہیں آیا کہا میں حاملہ ہوں تو اس کی تصدیق کی جائے گی جب تک وہ کوئی ایسی چیز نہ لائے جس کے بارے میں معروف ہو کہ وہ جھوٹی ہے، حدیث میں ہے جنابت کا غسل امانت ہے، حضرت ابن عمر نے کہا، اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ہر مخفی راز کو ظاہر کردے گا کچھ ان میں سے چہروں میں زینت ہوں گے اور کچھ ان میں سے چہروں میں عیب ہوں گے اللہ تعالیٰ ہر شی کو جاننے والا ہے لیکن فرشتوں اور مومنوں کی علامات ظاہر ہیں۔
Ayah 86:10

فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّ لَا نَاصِرٍؕ Open ayah 86:10 in the Quran reader

تو انسان کی کچھ پیش نہ چل سکے گی اور نہ کوئی اس کا مددگار ہوگا

فمالہ من قوۃ ولاناصر۔ انسان میں کوئی قوت نہ ہوگی، جو اس کو محفوظ رکھے اور نہ ہی مددگار ہوگا جو اس کی اس معاملہ میں مدد کرے گا جو اس پر مصیبت نازل ہوئی ہے۔ عکرمہ سے اس کی تفسیر میں یہ قول مروی ہے : ان سے مراد بادشاہ ہیں جن میں قیامت کے روز نہ ایسی طاقت ہوگی جس کے ذریعے وہ اپنا دفاع کرسکیں گے اور نہ ایسا مددگار ہوگا جوان کی مدد کرے، سفیان نے کہا، قوۃ سے مراد قبیلہ ہے، اور ناصر سے مراد حلیف ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، فمالہ من قوۃ سے مراد ہے کہ اس کے بدن میں کوئی قوت نیہں، اور ناصر سے مراد ہے کہ کوئی اور مددگار نہیں جس کے ذریعے وہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے محفوظ رہ سکے، قتادہ کے قول کا بھی یہی مقصود ہے۔
Ayah 86:11

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِۙ Open ayah 86:11 in the Quran reader

آسمان کی قسم جو مینہ برساتا ہے

والسماء ذات الرجع۔۔۔۔ تا۔۔ اکید کیدا۔ والسماء ذات الرجع۔ قسم ہے آسمان کی جو بارش والا ہے، ہر سال بارش کے بعد بارش لاتا ہے، عام مفسرین نے یہی کہا ہے، اہل لغت نے یہ کہا ہے، الرجع کا معنی بارش ہے، انہوں نے عمدہ چیز چننے والے کے لیے شعر کہا وہ ایسی تلوار کی صفت بیان کرتا ہے جس کو اس نے پانی سے تشبیہ دی ہے۔ ابیض کا الرجع رسوب اذا، ماثاخ فی محتفل یختلی۔ سفید رنگت والی تلوار اور بارش کی مانند ہے جس میں گہرائی تک جانے والی جب وہ دھنس جائے جسم کے موٹے حصے میں جبکہ وہ اسے کاٹ رہی ہو۔ ثاخت قدمہ فی الوحل تثوخ وتثیخ قدم کیچڑ میں غائب ہوگیا۔ خلیل نے کہا : رجع کا معنی بارش ہے، رجع کا معنی زمین کی نباتا بھی ہیں، ایک قول یہ کیا گیا ہے، ذات الرجع سے مراد نفع والا، بارش کو اوب بھی کہتے ہیں جس طرح اسے رجع کہتے ہیں، شاعر نے شعر میں اوب سے مراد بارش لی ہے۔ رباء شماء لایادی لقل تھا، الا السحاب والا الاوب والسبل۔ عبدالرحمن بن زید نے کہا، سورج، چاند اور ستارے، آسمان میں لوٹتے ہیں ایک طرف سے طلوع ہوتے ہیں اور دوسری طرف میں غائب ہوجاتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد فرشتوں والا ہے کیونکہ وہ بندوں کے اعمال لے کر آسمان کی طرف لوٹتے ہیں یہ قسم ہے۔
Ayah 86:12

وَ الْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِۙ Open ayah 86:12 in the Quran reader

اور زمین کی قسم جو پھٹ جاتی ہے

والارض ذات الصدع۔ یہ ایک قسم ہے، یعنی زمین میں، نباتاتب، درختوں، پھلوں اور نہروں سے پھٹتی ہے اس کی مثل، ثم شققناالارض شقا۔ عبس) پھر ہم نے زمین کو پھاڑا، صدع کا معنی پھاڑنا ہے کیونکہ وہ زمین کو پھاڑتی ہے پس زمین اس کے ساتھ پھٹ جاتی ہے گویا کلام یوں کی گئی ہے قسم ہے زمین کی جو نباتات والی ہے کیونکہ نباتات زمین کو پھاڑنے والی ہے مجاہد نے کہا، قسم ہے زمین کی جو راتوں والی ہے جسے پیدل چلنے والے پھاڑتے ہیں، ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ کھیتی والی ہے کیونکہ کھیتی اسے پھاڑتی ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ مردوں والی ہے کیونکہ دوبارہ اٹھانے کے لیے ان مردوں سے اسے پھاڑا جائے گا۔
Ayah 86:13

اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌۙ Open ayah 86:13 in the Quran reader

کہ یہ کلام (حق کو باطل سے) جدا کرنے والا ہے۔

انہ لقول فصل۔ یہ جواب قسم ہے، یعنی قرآن حق اور باطل میں فرق کرتا ہے، کتاب کے مقدمہ میں یہ گزرچکا ہے جسے حارث نے حضرت علی شیر خدا سے روایت نقل کی کہ میں نے رسول اللہ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا، یہ ایسی کتاب ہے جس میں پہلوں کی خبریں ہیں اور مابعد کا حکم ہے یہ فیصلہ کن ہے ان میں سے کوئی بھی ہنسی مذاق نہیں۔ جبار میں سے جس نے بھی اسے ترک کیا اللہ تعالیٰ اسے توڑ کر رکھ دے گا جس نے کسی اور میں ہدایت کو چاہاتو اللہ تعالیٰ اسے گمراہ کردے گا، ایک قول یہ کیا گیا ہے، لقول فصل سے مراد اس سورت میں جو وعید گزری، وہ ہے انہ علی رجعہ لقادر، یوم تبلی السرائر۔
Ayah 86:14

وَّ مَا هُوَ بِالْهَزْلِؕ Open ayah 86:14 in the Quran reader

اور بیہودہ بات نہیں

وماھوا بالھزل۔ یعنی قرآن حکیم باطل اور کھیل نہیں ھزل بامقصد کی ضد ہے، یوں اس کا باب چلتا ہے، ھزل، یھزل، کمیت نے کہا، یجد، بنافی کل یوم ونھزل، ہر روز ہمارے ساتھ بامقصد بات کی جاتی ہے جب کہ ہم ہنسی مذاق کرتے ہیں۔
Ayahs 86:15–16

اِنَّهُمْ یَكِیْدُوْنَ كَیْدًاۙ Open ayah 86:15 in the Quran reader

یہ لوگ تو اپنی تدبیروں میں لگ رہے ہیں

وَّ اَكِیْدُ كَیْدًاۚۖ Open ayah 86:16 in the Quran reader

اور ہم اپنی تدبیر کر رہے ہیں

انھم یکیدون کیدا۔ واکید کیدا۔ اللہ کے دشمن ہیں، حضرت محمد اور آپ کے صحابہ کے ساتھ مکروفریب کرتے ہیں اور میں ان کے مکر کی انہیں جزا دیتا ہوں، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد وہ سزا ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں غزوہ بدر کے موقع پر قتل اور قید کی صورت میں دی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد وہ سزا ہے جو اللہ تعایل نے انہیں غزوہ بدر کے موقع پر قتل اور قید کی صورت میں دی، ایک قول یہ کیا گیا ہے، کیداللہ سے مراد ان کے ساتھ استدراج ہے جسے وہ نہ جانتے تھے، سورة بقرہ میں اللہ یستھزی بھم، البقرہ 15) کے ضمن میں اس پر مفصل بحث گزرچکی ہے۔
Ayah 86:17

فَمَهِّلِ الْكٰفِرِیْنَ اَمْهِلْهُمْ رُوَیْدًا۠ Open ayah 86:17 in the Quran reader

تو تم کافروں کو مہلت دو بس چند روز ہی مہلت دو ۔

فمھل الکافرین امھلھم رویدا۔ یعنی کفار کو مہلت دیں اللہ تعالیٰ سے ان کی جلد ہلاکت کا سوال نہ کریں اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں جو تدبیر فرماتا ہے اس پر راضی ہوجائیں، پھر یہ آیت فاقتلوالمشرکین حیث وجدتموہم، توبہ 5) مشرکوں کو جہاں پاؤ ان کو قتل کردو، سے منسوخ کردی گئی۔ امھلھلم یہ تاکید ہے دونوں کا معنی ایک ہے جس طرح نزل اور انزل کا معنی ایک ہے امھلہ یعنی اسے مہلت دیجئے، اس کا اسم مھلہ ہے استمھال کا معنی الاستنظار ہے، تمھل فی امرہ، یعنی اس امر میں آہستگی کارویہ اپنایا، اتمھل اتمھلال، اعتدال کا مظاہرہ کیا، اس کا معنی سکون اور شگفتگی بھی ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، مھلایافلان، اے فلان، نرمی اور سکون سے کام لو۔ رویدا کا معنی ہے قریب۔ حضرت ابن عباس کا نقطہ نظر ہے قتادہ نے کہا، اس کا معنی قلیل ہے تقدیر کلام یہ ہوگی امھلھلم امھالا قلیلا۔ کلام عرب میں الروید، یہ رود کی تصغیر ہے، ابوعبید نے یہی کہا ہے یہ شعرپڑھاـکانھا ثمل بمشی علی رود، گویا وہ شراب سے مخمور ہے اور نرمی سے چل رہا ہے۔ رویدا کی تفسیر آہستگی ہے۔ رویدک کا معنی ہے تو نرمی کر کیونکہ کاف اس وقت داخل ہوتا ہے، جب یہ افعل کے معنی میں ہو دال کو نصب اجتماع ساکنین کی وجہ سے ہے اس کو نصب مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے ہے یہ اسم مصغر ہے اور مامور بہ ہے کیونہ یہ ارواد کی ترخیم کی تصغیر ہے، یہ ارود یرود کا مصدر ہے اس کی چارصورتیں ہیں اسم مفعل، صفت، ھال اور مصدر، اس کا اسم جسیے روید ہے یعنی عمرو کو مہلت دو ، صفت جیسے ساراسیرارویدا۔ وہ آہستہ چلے حال جیسے سارالقوم رویدا۔ جب یہ معرفہ کے ساتھ متصل ہو تو زید اس کا حال ہوگا، مصدر جسے روید عمرو، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، فضرب الرقاب۔ یہ سب اقوال جوہری کے ہیں آیت میں ان وجودہ میں سے یہ مصدر کی صفت ہوسکتا ہے یعنی امھال رویدا۔ یہ بھی جائز ہے کہ، یعنی امھلھم غیر مستعجل لھم العذاب، انہیں مہلت دیجئے عذاب میں جلدی نہ کیجئے۔