85. Surah Al-Burooj

البروجThe Constellations · 22 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 85:1

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِۙ Open ayah 85:1 in the Quran reader

آسمان کی قسم جس میں برج ہیں

والسماء ذات البروج۔ یہ قسم ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے قسم اٹھائی ہے بروج میں چار قول ہیں۔ (1) ستاروں والا، یہ حضرت حسن بصری، قتادہ اور مجاہد اور ضحاک کا قول ہے۔ (2) محلات، یہ حضرت ابن عباس، عکرمہ اور مجاہد کا قول ہے، عکرمہ نے کہا، یہ آسمان میں محلات ہیں مجاہد نے کہا، ایسے برج جن میں نگہبان ہوتے ہیں۔ (3) اچھی صورت والا، یہ منہال بن عمرو کا قول ہے۔ (4) منازل والا، یہ ابوعبیدہ اور یحییٰ بن سلام کا قول ہے، یہ بارہ برج ہیں یہ ستاروں، چاند اور سورج کی منازل ہیں۔ چاند ایک برج میں دو دن اور ایک تہائی دن چلتا رہتا ہے، یہ اٹھائیس دن ہوجاتے ہیں پھر دوراتیں وہ چھپ جاتا ہے اور اس سورج ہر برج میں ایک ماہ تک چلتا رہتا ہے وہ برج یہ ہیں، حمل، ثور، جوزائ، سرطان، الاسد، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی، دلو اور حوت۔ کلام عرب میں بروج سے مراد محلات ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ولوکنتم فی بروج مشیدہ، النساء 78) اگرچہ تم مضبوط محلات میں ہو۔
Ayahs 85:2–3

وَ الْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِۙ Open ayah 85:2 in the Quran reader

اور اس دن کی جس کا وعدہ ہے

وَ شَاهِدٍ وَّ مَشْهُوْدٍؕ Open ayah 85:3 in the Quran reader

اور حاضر ہونے والے کی اور جو اس کے پاس حاضر کیا جائے اس کی

والیوم الموعود، وشاھدومشھود۔ یوم موعود سے مراد وہ دن ہے جس کا وعدہ کیا گیا ہے یہ دوسری قسم ہے جو یوم قیامت ہے علماء کی تاویل میں کوئی اختلاف نہیں، حضرت ابن عباس نے کہا، آسمان اور زمین والوں سے وعدہ کیا گیا ہے کہ اس میں جمع ہوں۔ شاھد اور مشھود کی تعبیر میں علماء نے اختلاف کیا ہے حضرت علی، حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر، اروحضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ شاہد سے مراد یوم جمعہ ہے اور مشہود سے مراد یوم عرفہ ہے، یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ حضرت ابوہریرہ نے ایک مرفوع روایت نقل کی ہے یوم موعود سے مراد قیامت ہے، یوم مشھود سے مرا اد یوم عرفہ اور شاھد سے مراد یوم جمعہ ہے ابوعیسی ترمذی نے اپنی جامع میں اسے نقل کیا ہے کہا، یہ حدیث حسن غریب ہے ہم اسے موسیٰ بن عبیدہ کے سو انہیں جانتے اور موسیٰ بن عبیدہ کو حدیث میں ضعیف قرار دیا جاتا ہے اسے یحیٰی بن سعید اور دوسرے علماء نے ضیعف قرار دیا ہے شعبہ، سفیان ثوری واردوسرے ائمہ سے اس سے روایات نقل کی ہیں، قشیری نے کہا، یوم جمعہ ہر عمل کرنے والے پر گواہی دے گا جو اس نے عمل کیا ہوگا۔ میں کہتا ہوں : سارے دن اس طرح ہیں ہر دن شاہد ہے ہر رات شاہد ہے اس کی دلیل وہ روایت ہے جو ابونعیم حافظ نے معایہ بن قرہ سے نقل کی ہے وہ معقل بن یسار سے وہ نبی کریم سے روایت کرتے ہیں، لیس من یوم یاتی۔۔۔ مثل ذالک۔ ترجمہ۔ جو دن بھی بندے پر آتا ہے وہ اس میں دنا کرتا ہے اے ابن آدم میں تازہ مخلوق ہوں جو کچھ تو اس میں کرے گا میں تجھ گواہ ہوں، مجھ میں اچھا عمل کر میں کل تیرے حق میں گواہی دوں گا اگر میں گزر گیا تو مجھے کبھی بھی نہیں دیکھ سکے گا رات بھی اسی طرح کہتی ہے، معاویہ کی یہ روایت غریب ہے زید عمی نے ان سے روایت کرنے میں متفرد ہے میں اس سند کے علاوہ اس روایت کو مرفوع نہیں دیکھتا۔ قشیری نے، حضرت ابن عمر اور حضرت ابن زبیر سے روایت نقل کی ہے کہ شاہد سے مراد یوم اضحیٰ ہے سعید بن مسیب نے کہا، شاہد سے مراد یوم ترویہ ہے اور مشہود سے مراد یوم عرفہ ہے۔ اسرائیل نے ابواسحق سے وہ حارث سے وہ حضرت علی سے روایت کرتے ہیں کہ مشہود سے مراد یوم قیامت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ذالک یوم مجموع لہ الناس وذالک یوم مشھود۔ ہود) یہ وہ دن ہے جس دن اکٹھے کیے جائیں گے سب لوگ اور یہ وہ دن ہے جب سب کو حاضر کیا جائے گا۔ میں کہتا ہوں : اس وجہ سے شاہد کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد اللہ کی ذات ہے۔ حضرت ابن عباس اور حضرت حسن بصری، حضرت سعید بن جبیر سے بھی یہی مروی ہے کہ اسکی وضاحت ان آیات میں ہے۔ وکفی باللہ شھیدا، النسائ) اللہ تعالیٰ گواہ کافی ہے۔ قل ای شئی اکبر شھادۃ۔ الانعام 19) بتاؤ کون سی چیز شہادت میں اس سے بڑھ کر ہے، قل اللہ، شھید بینی وبینکم۔ الانعام 19) فرمادیجئے اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد حضرت محمد کی ذات ہے یہ حضرت ابنعباس اور حضرت حسین بن علی سے مروی ہے بطور دلیل حضرت ابن عباس نے یہ آیت نقل کی فکیف اذا جئنامن کل امۃ بشھید وجئنا بک علی ھولاء شھیدا۔ النسائ) تو کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور ہم آپ کو ان سب پر گواہ لائیں گے، اور حضرت حسین نے یہ آیت بطوردلیل پڑھی، یا ایھا النبی اناارسلنک شاھدوامبشراونذیرا۔ الاحزاب) اے نبی ہم نے آپ کو شاہد اور مبشر اور نذیر بناکربھیجا ہے۔ میں کہتا ہوں میں خود بطور دلیل یہ آیت پڑھتا ہوں، ویکون الرسول علیکم شھیدا۔ البقرہ 143 ) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انبیاء اپنی امتوں پر گواہی دیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، فکیف اذآ جئنا من کل امتہ بشھید۔ النساء 41) ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس سے مراد حضرت آدم کی اولاد ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد حضرت عیسیٰ بن مریم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وکنت علیھم شھیدمادمت فیھم۔ المائدہ 117) جب تک میں ان میں رہا میں ان پر گواہ تھا، مشہود سے مراد آپ کی امت ہے، حضرت ابن عباس اور محمد بن کعب سے مروی ہے شاہد سے مراد انسان ہے، اس کی دلیل، کفی بنفسک الیوم علیک حسیبا۔ الاسرائ) آج تجھ پر تیرا نفس ہی محاسب کافی ہے، مقاتل نے کہا، اس سے مراد اعضاء ہیں اس کی دلیل یہ آیت ہے، یوم تشھد علیھم الستنتھم وایدیھم وارجلھم بماکانوایعلمون۔ النور) اس روز ان پر ان کی زبانیں ان کے ساتہھ اس کے پاؤں ان کے اعمال پر گواہ ہوں گے حسین بن فضل نے کہا، شاہد یہ امت ہے اور مشہود باقی امتیں ہیں، اس کی وضاحت یوں ہے، وکذالک جعلناکم امۃ وسطا لتکونوا شھداء علی الناس) بقرہ 143) اس لیے ہم نے آپ کو بہترین امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہوجاؤ ایک قول یہ کیا گیا ہے شاہد سے مراد حفظہ فرشتے ہیں اور مشہود سے مراد انسان ہیں، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد راتیں اور دن ہیں اس کی وضاحت ہم پہلے کرچکے ہیں۔ میں کہتا ہوں : مالک مالک کے خلاف گواہی دے گا زمین اس کے بارے میں گواہی دے گی جو اس پر عمل کیا گیا صحیح میں مسلم میں نبی کریم سے مروی ہے، ان ھذالمال خضر حلود نعم صاحب المسلم ھو لمن اعطی منہ المسکین۔ والیتیم وابن السبیل وانہ من یاخذہ بغیر حق کان کالذی یاککل ولایشبع ویکون علیہ شھیدا یوم القیامہ، یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے اس کا مالک مسلمان کتنا اچھا ہے جو اس مال سے مسکین، یتیم اور مسافر کو دیتا ہے یا جس طرح رسول اللہ نے فرمایا جو آدمی اسے بغیرحق کے لیتا ہے اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا، یہ قیامت کے روز اس کے خلاف گواہ ہوگا۔ ترمذی شریف میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے اسی آیت، یومئذ تحدث اخبارھا، اس روز وہ اپنی خبریں بیان کرے گی پوچھا کیا تم جانتے ہو کی اس کی خبریں کیا ہیں ؟ صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا اس کی خبریں یہ ہیں یہ ہر مرد اور عورت پر گواہی دے گی جو اس پر عمل کیا گیا وہ کہے گی یہ یہ عمل کیا گیا فرمایا یہی اس کی خبریں ہیں، فرمایا یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے شاھد سے مراد مخلوق ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی واحدانیت کی شہادت دی اور مشہود سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے مشہود سے مراد یوم جمعہ ہے جس طرح حضرت ابودرداء نے روایت کی، رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، اکثرواعلی من الصلوۃ یوم الجمعہ فانہ یوم مشھود شھدہ، الملائکہ۔ جمعہ کے روز مجھ پر کثرت سے درود پڑھو کیونکہ یہ یوم مشہود ہے اس میں ملائکہ حاضر ہوتے ہیں اسے ابن ماجہ اور دوسرے محدثین نے ذکر کیا ہے۔ میں کہتا ہوں : اس اعتبار سے یوم عرفہ مشہود ہے کیونکہ ملائکہ اس روز حاضر ہوتے ہیں اور اللہ کی رحمت اس میں نازل ہوتی ہے اسی طرح یوم النحر بھی ہے، ابوبکر عطار نے کہا، شاہد سے مراد ہجراسود ہے، جس آدمی نے صدق، اخلاص اور یقین کے سات ھ اسے مس کیا اسے کے حق میں یہ گواہی دے گا اور مشہود سے مراد حاجی ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے، شاہد سے مراد انبیاء اور مشہود سے مراد حضرت محمد ہیں، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، واذاخذاللہ میثاق النبین لما اتیتکم من کتب واحکمۃ، وانامعکم من الشاھدین۔ آل عمرا) یاد کرو اسوقت کو جب اللہ تعالیٰ نے انبیاء سے پختہ وعدہ لیا جو میں نے تمہیں کتاب اور حکمت دی، میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔
Ayah 85:4

قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِۙ Open ayah 85:4 in the Quran reader

کہ خندقوں (کے کھودنے) والے ہلاک کر دئیے گئے

قتل اصحب الاخدود۔۔۔ تا۔۔۔ شھود۔ قتل اصحب الاخدود۔ ان پر لعنت کی گئی، حضرت ابن عباس نے فرمایا، قرآن حکیم میں جہاں بھی قتل کے الفاظ آئے ہیں اس کا معنی ہے لعنت۔ فراء کے قول کے مطابق یہ جواب قسم ہے، اس میں لام مضمر ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے والشمس وضحھا، پھر فرمایا، قدافلح من زکھا۔ اصل میں لقدافلح، تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس میں تقدیم وتاخیر ہے یعنی اصحاب اخدود پر لعنت ہے قسم ہے برجوں والے آسمان کی یہ ابوحاتم سجستانی نے کہا، ابن انباری نے کہا، یہ غلط ہے کیونکہ کسی کہنے والے کے لیے یہ جائز نہیں کہ کیونکہ ان دونوں کے درمیان گفتگو طویل ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ جواب قسم ان الذین فتنوا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے جواب قسم محذوف ہے تقدیر کلام یوں ہے، اوالسماء ذات البروج التبعثن ؟ یہ ابن انباری کا اختیار ہے۔ الاخدود کا معنی زمین میں بڑا اور طویل گڑھا ہے جس طرح خندق ہوتی اس کی جمع اخادید آتی ہے اس سے لفظ خد ہے جہاں آنسو بہتے ہیں اسی مخدہ کا لفظ ہے کیونکہ رخسار پر رکھا جاتا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، تخذدد وجہ الرجل، جب زخم کی وجہ سے اس میں گڑھے پڑجائیں۔ طرفہ نے کہا : ووجہ کان الشمس حلت رداء ھا، علیہ نفی اللون لم یتخدد۔ وہ ایسا چہرہ ہے گویا سورج نے اپنی چادر وڑھادی اس کا رنگ صاف ہے اس پر گڑھے نہیں۔
Ayah 85:5

النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِۙ Open ayah 85:5 in the Quran reader

(یعنی) آگ (کی خندقیں) جس کا ایندھن (جھونک رکھا) تھا

النارذات الوقود :، النار، الاخدود سے بدل ہے، یہ بدل اشتمال ہے عام قرات وقود میں واؤ کے فتحہ کے ساتھ ہے جس کا معنی ایندھن ہے، قتادہ اور ابورجاء اور نصر بن عاصم نے واؤ کے ضمہ کے ساتھ مصدر کی صورت میں پڑھا ہے یعنی شعلوں والی، ایک قول یہ کیا گیا ہے لوگوں نے بدنوں کو جلانے والی، ابن اشہب، عقیلی اور ابوسمال عدوی اور ابن سمقیع نے النارذات دونوں کو مرفوع پڑھا ہے یعنی اسے ایسی آگ میں جلادیا جو ایندھن والی ہے۔
Ayah 85:6

اِذْ هُمْ عَلَیْهَا قُعُوْدٌۙ Open ayah 85:6 in the Quran reader

جبکہ وہ ان (کناروں) پر بیٹھے ہوئے تھے

اذھم علیھا قعود۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے خندقوں کو کھودا تھا اس پر بیٹھے تھے ان میں مومنوں کو پھینکتے تھے یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ، اور حضرت محمد کے درمیان کا عرصہ تھا یہ نجران کے لوگ تھے ان کے بارے میں مختلف واقعات ہیں، معنی قریب قریب ہے صحیح مسلم میں حضرت صہیب سے مروی ہے، کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا تم سے قبل کے دور میں ایک بادشاہ تھا اس کا ایک جادوگر تھا جب وہ بورھا ہوگیا اس نے بادشاہ سے کہا، میں بوڑھا ہوگیا ہوں میرے پاس ایک بچہ بھیج دو جس کو میں جادو سکھادوں بادشاہ نے اس کے پاس ایک بچہ بھیج دیا تاکہ وہ اسے علم سکھائے جس راستہ سے وہ جاتا اس کے راستہ میں ایک راہب رہتا تھا وہ اس کے پاس بیٹھتا اس کی گفتگو سنتا اور خوش ہوجاتا جب وہ بچہ ساحر کے پاس آتا تو راہب کے پاس سے گزرتا اور اس کے پاس بیٹھ جاتا جب وہ بچہ ساحر کے پاس آتا تو وہ اسے مارتا، بچے نے اس کی شکایت راہب سے کی راہب نے کہا، جب تجھے ساخر سے خوف آئے تو کہہ دینا، میرے اہل نے مجھے روک لیا تھا، جب تجھے گھروالوں سے ڈرو تو کہہ دینا مجھے جادوگر نے روک لیا تھا، وہ اس طرح آتا جاتا تھا کہ اس کا گزر ایک جانور کے پاس سے ہوا جس نے لوگوں کو روک رکھا تھا اس نے کہا، آج مجھے اس کا علم ہوجائے گا کہ جادوگر افضل ہے یا راہب افضل ہے ؟ اس نے ایک پتھر اٹھایا اس نے یوں دعا کی اے اللہ اگر راہب کا معاملہ تیری بارگاہ میں جادوگر کے امر سے زیادہ محبوب ہے تو اس جانور کو مار ڈال یہاں تک کہ لوگ گزرسکیں اس بچے نے وہ پتھر اسے مارا اور اسے قتل کردیا، اور لوگ چلے گئے وہ راہب کے پاس آیا اور اسے تمام واقعہ سنایا اسے کہا، اے بیٹے آج تم مجھ سے افضل ہوتیرا معاملہ وہاں تک پہنچ گیا جو میں دیکھتا ہوں تجھے آزمایاجائے گا اگر تجھے آزمائش میں ڈالاجائے تو میرے بارے میں کچھ نہ بتانا وہ بچہ مادرزاد اندھوں، برص کے مریضوں کو درست کردیتا اور لوگوں سے تمام بیماریوں کو دور کردیتا، بادشاہ کے درباری نے اس بارے میں سنا جو نابینا ہوچکا تھا وہ بہت سے ہدایالایا اور کہا اگر تو مجھے درست کردے تو میں تیرے لیے یہ مال جمع کردوں گا، اس بچے نے کہا، میں تو کسی کو شفا نہیں دیتا، شفا تو اللہ دیتا ہے اگر تو اللہ پر ایمان لائے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا وہ تجھے شفا دے گا وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لایاتو اللہ تعالیٰ نے اسے شفا دی، وہ بادشاہ کے پاس آیا اور اس کے پاس بیٹھا جس طرح پہلے اس کے پاس بیٹھا کرتا تھا بادشاہ نے اس سے پوچھا کس نے تیری نظر لوٹائی اس نے کہا، میرے رب نے، بادشاہ نے پوچھا تیرا میرے علاوہ بھی کوئی رب ہے ؟ درباری نے کہا، میرا اور تیرا رب اللہ ہے، بادشاہ نے اسے پکڑ لیا اور وہ اسے لگاتار عذاب دیتارہا یہاں تک کہ اس نے غلام کے بارے میں راہنمائی کی اس بچے کو لایا گیا بادشاہ نے اس سے پوچھا اسے بیٹے کیا تو جادو کے ذریعے اس مقام تک پہنچ گیا جس کے ذریعے تومادرزاد اندھے اور برص کے مریضوں کو شفا دیتا ہے اور تو یہ یہ کرتا ہے، اس نے کہا، میں تو کسی کو شفا نہیں دیتا شفا تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے بادشاہ نے بچے کو پکڑ لیا وہ اس کو لگاتار عذاب دیتا رہا یہاں تکہ بچے نے اسے راہب کے بارے میں بتادیا اس راہب کو لایا گیا اسے کہا گیا تو اپنے دین سے ارتداد اختیار کر لواس نے ایسا کرنے سے انکار کردیا، بادشاہ نے آری منگوائی اس نے آری راہب کے سر کے درمیان رکھی اسے دوٹکڑے کردیا گیا پھر بادشاہ کے مصاحب کو لایا گیا اسے کہا گیا اپنے دین سے پھرجاؤ، اس نے ایسا کرنے سے انکار کردیا بادشاہ نے آری سے اس کے سر کی مانگ میں رکھوائی اسے دوٹکڑے دوٹکڑے کیا تو وہ دوٹکڑے ہوگیا۔ پھر بچے کو لایا گیا اسے کہا گیا، اپنے دین سے پھر جا اس نے انکار کردیا اس نے بچہ اپنے چند ساتھیوں کے حوالے کردیا اور کہا، اسے فلاں فلاں پہاڑ کی طرف لے جاؤ، اسے پہاڑ پر چڑھا دو جب تم اس کی چوٹی پر پہنچ جاؤ اگر وہ اپنے دین سے پھرجائے تو بہتر ورنہ اسے اس چوٹی سے نیچے گرادو، وہ اسے لے گئے اور پہاڑ کی چوتی پر چڑھایا تو بچے نے یہ دعامانگی اے اللہ میری جانب سے تو انہیں کافی ہوجاجو بھی تو چاہے پہاڑ ان کے ساتھ لرزنے لگا وہ نیچے گر گئے وہ پیدل بادشاہ کے پاس پہنچ گیا بادشاہ نے اس سے پوچھا تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا ؟ بچے نے جواب دیا اللہ تعالیٰ انہیں میری طرف سے کافی ہوگیا، اس نے اسے اپنے ساتھیوں کے حوالے کردیا اور کہا اسکولے جاؤ اگر وہ اپنے دین سے پھر آئے توٹھیک ورنہ اسے سمندر میں پھنک دو لوگ اسے لے کرگئے اس نے دعا مانگی اے اللہ جو توچاہتا ہے میری طرف سے انہیں کافی ہوجا، کشتی ٹوٹ گئی وہ غرق ہوگئے وہ پیدل بادشاہ کے پاس آیا بادشاہ نے اسے کہا تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا ؟ اس نے جواب دیا اللہ انہیں میری جانب سے کافی ہوگیا، اس نے بادشاہ سے کہا تو مجھے قتل نہیں کرسکتا، یہاں تک کہ تو وہ کرے جو میں تجھے کہوں، بادشاہ نے پوچھا ہو کیا ہے بچے نے کہا تو لوگوں کو کھلے میدان میں جمع کرے مجھے سولی پر لٹکائے پھر میرے ترکش سے ایک تیر نکالے پھر تیر قوس پر چڑھائے پھر کہے اللہ جو غلام کا رب ہے اس کے نام سے پھر تو وہ تیر مجھے مارے اگر تو ایسا کرے گا تو مجھے قتل کردے گا۔ بادشاہ نے لوگوں کو ایک میدان میں جمع کیا اور بچے کو سولی پر لٹکادیا پھر اس نے بچے کو ترکش سے تیر لیا پھر تیرکمان پر چڑھایا پھر کہا اللہ جو اس بچے کا رب ہے اس کے نام سے پھر تیر پھینکا تیر اس کی کنپٹی میں لگا اس بچے نے اپناہاتھ تیر کی جگہ اپنی کنپٹی پر رکھا اور مرگیا لوگوں نے کہا، ہم بچے کے رب پر ایمان لے آئے ہم بچے کے رب پر ایمان لائے ہم بچے کے رب پر ایمان لائے۔ بادشاہ کے پاس کوئی آیا اس نے کہا بتاؤ تو کس چیز سے ڈرتا تھا ؟ اللہ کی قسم تیرا ڈر تجھے آپہنچا لوگ ایمان لاچکے ہیں اس نے گلیوں کے سروں پر خندقیں کھودنے کا حکم دیا خندقیں کھودی گئیں اور ان میں آگ روشن کردی گئی بادشاہ نے کہا، جو آدمی اپنے دین سے نہ پھرے اسے اس میں جلادیا جائے اسے کہا جائے اس میں داخل ہوجا۔ انہوں نے اسی طرح کیا یہاں تک کہ ایک عورت آئی اس کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا وہ اس میں داخل ہونے سے ہچکچائی، بچے نے اسے کہا، اے ماں، صبر کر کیونکہ تو حق پر ہے، امام ترمذی نے اس کے ہم معنی روایت نقل کی ہے اس میں یہ الفاظ بھی ہیں بچے کے راستہ میں عبادت گاہ میں ایک راہب رہتا تھا، معمر نے کہا، میرا خیال ہے ان دونوں میں گرجا گھروں میں اطاعت گزار رہتے تھے اس میں یہ تصریح بھی ہے کہ جس جانور نے لوگوں کو روک رکھا تھا وہ شیر تھا اور یہ بھی ذکر ہے کہ بچے کو دفن کردیا گیا اس کے بارے میں یہ بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب کے زمانے میں اسے نکالا گیا تو اس کی کنپٹی پر ہاتھ تھا جس طرح اس نے اس وقت رکھا جب اسے قتل کیا گیا اور کہا یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ نجران کا ایک بادشاہ تھا اس کی رعیت میں ایک آدمی تھا، جس کا ایک بچہ تھا اس نے اس بچے کو ساحر کے پاس بھیجا تاکہ اسے یہ جادو سکھائے اس نوجوان کا راستہ راہب کے پاس سے ہو گزرتا تھا وہ انجیل پڑھا کرتا تھا بچہ راہب سے جو سنتا وہ اسے خوش کرتا بچہ راہب کے دین میں داخل ہوگیا ایک دن وہ آیاتو ایک بڑا سانپ جس نے لوگوں کا راستہ روکا ہوا تھا اس بچے نے ایک پتھر اٹھایا اور کہا، اس اللہ کے نام سے جو آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان جو ہے اس کا رب ہے اور اس جانور کو مارڈالا اور سابقہ واقعہ کی طرح ذکر کیا، جب بادشاہ نے اسے تیر مارا اور اسے قتل کردیا تو اس کی مملکت کے لوگوں نے کہا کوئی معبود نہیں مگر عبداللہ بن ثامر کا معبود، عبداللہ بن ثامر اس بچے کا نام تھا بادشاہ ناراض ہوگیا اس نے حکم دیا خندقیں کھودی گئی ان میں لکڑیاں اور آگ جمع کی گئی اور مملکت کے لوگ ان خندقوں پر لائے گئے جس نے توحید سے رجوع کرلیا اور اس نے اسے چھوڑ دیا جو اپنے دین پر ثابت قدم رہا اسے آگ میں پھینک دیں گے وہ عورت ڈرگئی اور ارتداد کا ارادہ کیا دودھ پیتے بچے نے اسے کہا، اے ماں جس دین پرتو ہے اس پر ثابت قدم رہ، یہ آگ بجھنے والی ہے، لوگوں نے اس عورت اور اس کے بیٹے کو آگ میں ڈال دیا۔ ابوصالح نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ آگ خندقوں سے بلند ہوئی وہ بادشاہ اور اس کے ساتھیوں پر چالیس ہاتھ اوپراٹھی اور انہیں جلادیا، ضحاک نے کہا، یہ نصرانی لوگ تھے وہ رسول اللہ کی بعثت سے چالیس سال قبل یمن میں رہتے تھے انہیں سوف بن شراحیل بن تبع حمیری نے پکڑلیا، یہ اسی سے کچھ اوپر افراد تھے ان کے لیے اس نے خندقیں کھودوائیں اور انہیں آگ میں جلادیا، یہ ماوردی نے بیان کیا ہے۔ ثعلبی نے ان سے یہ بیان کیا ہے کہ اصحاب اخدود بنی اسرائیل میں سے تھے، انہوں نے کچھ مرد اور عورتیں پکڑ لیں ان یہودیوں نے ان کے لیے خندقیں کھودیں اور ان میں آگ جلائی پھر مومنوں کو ان پر کھڑا کیا انہیں کہا گیا تم اپنے نئے دین کا انکار کرو یا تمہیں آگ میں ڈال دیاجائے، علماء کا خیال ہے وہ حضرت دانیال اور آپ کے صحابہ تھے یہ عطیہ عوفی کا قول ہے، اس کی مثل حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ ایک بادشاہ نے شراب پی اور اپنی بہن سے اپنی خواہش پوری کی، اس نے یہ ارادہ کیا کہ وہ اپنی رعیت میں اسے قانون بنادے رعایا نے اس کی بات قبول نہ کی اس کی بہن نے اسے مشورہ دیا کہ وہ لوگوں کو خطبہ دے کہ اللہ تعالیٰ نے بہنوں کے ساتھ نکاح حلال کردیا ہے پھر بھی اس کی بات نہ سنی گئی اس بہن نے مشورہ دیا کہ وہ ان لوگوں کے لیے خندقیں کھودوائیں اور جو یہ بات نہ مانے اسے ان خندقوں میں ڈال دے اس بادشاہ نے ایسا ہی کیا یہ بھی کہا، ان کے باقی ماندہ لوگ اپنی بہنوں سے عقد نکاح کرتے ہیں وہ مجوسی ہیں جبکہ پہلے یہ اہل کتاب تھے، حضرت علی شیر خدا سے یہ بھی مروی ہے کہ اصحاب خدود کا سبب یہ تھا ایک نبی کو اللہ تعالیٰ نے حبشہ کی طرف بھیجا کچھ لوگوں نے اس نبی کی اطاعت کی اس کی قوم نے ان لوگوں کے لیے خندقیں کھودیں جس نے اس نبی کی اتباع کی اسے خندق میں پھینک دیا گیا، ایک عورت لائی گئی جس کا ایک دودھ پیتا بچہ بھی تھا وہ عورت گھبرائی اس بچے نے ماں سے کہا، اے ماں، آگے بڑھ اور نہ گھبرا۔ ایوب نے عکرمہ سے روایت نقل کی ہے کہ یہ تیری قوم سجستان کے لوگ تھے کلبی نے کہا، یہ نجران کے نصاری تھے وہاں ان لوگوں نے مومنوں کو پکڑ لیا اور سات خندقیں کھدوائیں ہر خندق کی لمبائی چالیس ہاتھ تھی اور اس کی چوڑائی بارہ ہاتھ تھی پھر ان خندقوں میں مٹی کا تیل اور ایندھن پھینکا گیا پھر لوگوں کو ان خندقوں پر کھڑا کیا گیا جس نے بات نہ مانی اسے اس میں پھینک دیا گیا ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ نصاری کی ایک قوم تھی یہ قسطنطییہ کے دور میں رہتے تھے مقاتل نے کہا، اصحاب اخدود تین گروہ ہوگزرے ہیں ایک نجران میں دوسرے شام میں اور آخری فارس میں، جو شام میں تھا وہ اطنیاسو رومی تھا جو فارس میں تھا وہ بخت نصر تھا جو عرب کے علاقہ میں تھا وہ یوسف بن ذی نواس تھا اور جو فارس اور شام میں تھا اس کے بارے میں قرآن نازل نہیں ہوا جس کے بارے میں قرآن نازل ہوا وہ نجران میں تھا اس کی وجہ یہ بنی کہ وہ مسلمان آدمی تھے ان میں سے ایک تہامہ میں تھا اور دوسرا نجران میں تھا ان میں سے ایک نے اپنے آپ کو مزدوری پر لٹکایا وہ عمل کرتا اور انجیل پڑھتا مساتجر کی بیٹی نے انجیل کی قرات میں ایک نور دیکھا اور اپنے باپ کو بتایا وہ مسلمان ہوگیا ان مسلمانوں کی تعداد ستاسی ہوگئی یہ حضرت عیسیٰ کے اس دنیا سے اٹھ جانے کے بعد ہوا، یوسف بن ذی نواس بن تبع حمیری نے ان کے لیے خندقیں کھدوائیں انہیں کفر اختیار کرنے کو کہا، جس نے کفر سے انکار کیا اسے آگ میں ڈال دیا گیا اور کہا، جس نے حضرت عیسیٰ کے دین سے ارتداد نہ کیا اسے نہ پھینکا جائے ایک عورت تھی جس کے ساتھ ایک چھوٹا سابچہ تھا جو ابھی گفتگو نہیں کرتا تھا وہ عورت واپس لوٹ آئی اس کے بیٹے نے اسے کہا، اے میری ماں میں تیرے سامنے ایسی آگ دیکھتا ہوں جو کبھی سردنہ ہوگی ان دونوں نے اپنے آپ کو آگ میں ڈال دیا یا اللہ تعالیٰ نے اس عورت اور اس کے بیٹے کو جنت میں داخل کردیا، اس ایک روز میں ستتر آدمیوں کو خندقوں میں ڈالا گیا۔ ابن اسحاق نے وہب بن منبہ سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت عیسیٰ کے دین کے پیروکاروں میں سے ایک آدمی تھا جسے قیمون کہا جاتا تہ ایک نیک، مجتہد، زاہد اور مستجاب الدعوات تھا وہ بستیوں میں گھومتا پھرتا رہتا تھا کسی بستی میں ابھی اس کی پہچان نہ ہوئی مگر وہ وہاں سے چلا جاتاوہ مستری تھا اور مٹی سے گھربناتا۔ محمد بن کعب قرظی نے کہا : اہل نجران مشرک تھے وہ بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے نجران ان کے قریب ان کے دیہاتوں میں سے ایک دیہات میں ایک جادوگر رہتا تھا وہ نجران کے لوگوں کے بچوں کو جادو کی تعلیم دیتا جب وہ قیمیون فروکش ہو اس نے نجران اور ساحر کے بستی کے درمیان اپنا خیمہ لگالیا، نجران کے لوگ اپنے بچے اس جادوگر کے پاس تعلیم کے لیے بھیجتے تھے ثامر نے عبداللہ بن ثامر کو اس جادوگر کے پاس بھیجا وہ نجران کے لوگوں کے بچوں کے ساتھ ہوتا تھا عبداللہ جب اس خیمہ والے کے پاس سے گزرتا تو اس کی نماز عبادت سے متعجب ہوجاتا وہ اس کے پاس بیٹھنے لگا اور اس کی بات سننے لگا یہاں تک کہ وہ اسلام لے آیا اس بچے نے اللہ کی توحید کا اقرار کرلیا، اور اس کی عباسدت کی اور اس راہب سے اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم پوچھنے لگا راہب اسے تعلیم دیتارہا مگر اسم اعظم کو اس سے مخفی رکھا اور کہا، اے بھتیجے تو اس کو برداشت نہیں کرسکتا میں تیرے بارے میں ڈرتا ہوں کہ تو اس سے کمزور ہے اس بچے کا باپ یہی گمان کرتا تھا، کہ اس کا بیٹا جادوگر کے پاس جاتا ہے جس طرح دوسرے بچے جاتے ہیں جب عبداللہ نے یہ دیکھا کہ اس کا راہب اللہ تعالیٰ کا اسم بتانے میں بخیل ہے تو اس نے تیر اکٹھے کیے پھر اس نے اللہ تعالیٰ کے جو بھی اسماء سیکھے تھے ان میں سے کوئی بھی نہ چھوڑا مگر ایک ایک تیر پر ایک ایک نام لکھا یہاں تک کہ جب سب کا شمار کرلیا تو اس کے لیے آگ روشن کی پھر اس آگ میں ایک ایک تیر پھینکنے لگایہاں تک کہ جب اسم اعظم کا مرحلہ آیا اس آگ میں وہ تیر پھینکا وہ تیرا چھلایہاں تک کہ وہ آگ سے نکل گیا اور اس تیر کو آگ نے کچھ نقصان نہیں پہنچایا تھا تو اس بچے نے اس تیر کو پکڑا اور راہب کے پاس گیا اسے بتایا کہ اس نے اسم اعظم کو جان لیا ہے۔ جس کو راہب نے اسے چھپایا تھا وہ اسم کون سا ہے ؟ بچے نے بتایا یہ یہ، پوچھا تو نے کیسے جانا تو بچے نے جو عمل کیا تھا اس کے بارے میں بتایا، راہب نے اسے کہا اے بھتیجے تو نے صحیح جانا ہے اسے اپنے تک محدود رکھ میرا خیال نہیں کہ تو ایسا کرے گا، عبداللہ بن ثامر جب بھی نجران جاتا وہ کسی بھی آدمی کو دیکھتا جسے کوئی تکلیف ہوتی تو اسے کہتا، اے عبداللہ کیا تو اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرتا ہے میرے دین میں داخل ہوتا ہے تو میں تیرے حق میں دعا کروں گا تو تو جس بیماری میں مبتلا ہے اس سے تجھے ٹھیک ہوجائے گا وہ کہتا ہاں، وہ اللہ تعالیٰ کی واحدانیت کا اقرار کرتا اور اسلام قبول کرلیتا، وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا اس کے ھق میں دعا کی اسے عافیت ہوگئی یہاں تک کہ اس کا معاملہ بادشاہ تک جاپہنچا بادشاہ نے اس بچے کو بلایا اس سے پوچھا تو نے میری بستی کو میرے خلاف کردیا ہے تو نے میرے دین اور میرے آباء کے دین کی مخالفت کی ہے تو میں تجھے ضرور عبرت کی مثال بنادوں گا بچے نے کہا، تو اس پر قادر نہیں بادشاہ نے اسے اونچے پہاڑ کی طرف بھیجا اسے اس کی چوٹی سے نیچے پھینکا گیا وہ زمین پر گرتا جبکہ اسے کچھ تکلیف نہ ہوتی وہ اسے نجران کے پانیوں کی طرف بھیجتا اسمیں کوئی چیز نہ پھینکی جاتی مگر وہ ہلاک ہوجاتی اسے ان میں پھینکا جاتا وہ باہر نکلتا جب کہ اسے کوئی ضرر نہ ہوتا جب بچہ اس پر غالب آگیا توعبداللہ نے بادشاہ سے کہا، اللہ کی قسم تو میرے قتل پر قادر نہیں ہوگا یہاں تک کہ تو اللہ کی توحید کا اقرار کرے اورس پر ایمان لائے جس پر میں ایمان لایا ہوں اگر تو نے ایسا کیا تو تجھے مجھ پر غلبہ ہوجائے گا اور تو مجھے قتل کردے گا اس بادشاہ نے اللہ کی واحدنیت کا اقرار کیا اور اس کی گواہی دی پھر ایک چھڑی بچے کو ماری جس نے بچے کو تھوڑا سازخمی کردیا جو بڑا نہ تھا اور اس بچے کو مارڈالا اور بادشاہ بھی اسی جگہ مرگیا نجران کے لوگ عبداللہ بن ثامر کے دین اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جو پیغام لائے تھے اس پر اکٹھے ہوگئے پھر انہیں بھی وہ آزمائش آئی جوان کے ہم دین لوگوں کو آزمائش آئی تھی اسی وجہ سے نجران میں عیسائیت مضبوط ہوئی۔ ذونواس یہودی جو بنوحمیر سے اپنے لشکر لے کر ان کی طرف چلا انہیں یہودیت کی طرف دعوت دی اور انہیں یہودیت اور قتل کے درمیان اختیار دیا لوگوں نے قتل کو ترجیح دی، ذونواس نے ان کے لیے خندقیں کھدوائیں ان میں آگ جلائی اور تلوار کے ساتھ انہیں قتل کیا اور عبرت کانشانہ بنایا یہاں تک کہ ان میں سے بیس ہزار افراد کو قتل کیا۔ وہب نے کہا، جب اریاط یمن پر غالب آیاتوذونواس بھاگ کھڑا ہوا وہ اپنے گھوڑے کے ساتھ سمندر میں داخل ہوگیا اور اس میں غرق ہوگیا ابن اسحاق نے کہا، ذونواس اس کا نام ذرعہ بن تبان اسعد حمیری تھا اس کا نام یوسف بھی تھا اس کے بالوں کی مینڈھیاں جو لہراتی رہتیں اس وجہ سے اس کا نام ذونواس ہوا اس نے اہل نجران کے ساتھ یہ سلوک کیا ان میں سے ایک آدمی جس کا نام دوس بن ثعلبان تھا بچ نکلا حبشہ والے اس کا انتقام لینے آئے وہ یمن کے مالک بن گئے اور ذونواس سمندر میں ہلاک ہواجس میں اس نے اپنے آپ کو ڈالا تھا اس کے بارے میں عمرو معدیکرب کہتا ہے۔ اتوعدنی کا نک ذورعین، بانعم عیشۃ اوذنواس کیا تو مجھے دھمکی دیتا ہے گویا تو اچھی زندگی میں ذوعین ہے یا ذونواس ہے۔ ذورعین حمیر کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھا رعین اس کا ایک قلعہ تھا یہ بادشاہ حرث بن عمرو بن حمیر بن سبا کا بیٹا تھا۔ مسئلہ : ہمارے علماء نے کہا، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس امت کے مومنوں کو بتایا جوان سے قبل موحدین نے مصائب برداشت کیے اس کے ساتھ مومنوں کو مانوس کرنا تھا نبی کریم نے مومنوں کے سامنے بچے کا واقعہ ذکر کیا تاکہ انہیں جو دکھ اور مشکلات آتی ہیں اور ان پر صبر کریں اور اس بچے کی طرح صبر کریں جو اس نے صبر کیا حق میں پختگی اپنائی، اس کے ساتھ مضبوطی سے وابستہ رہا، دعوت حق کے اظہار میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، چھوٹی عمر ہونے کے باوجود بیشمار لوگوں کو دین میں داخل کیا اور عظیم صبر کا اظہار کیا اسی طرح راہب نے حق کو مضبوطی سے پکڑے رکھا یہاں تک کہ اسے آری سے چیز دیا گیا اس کے باوجود اس نے صبر کیا اس طرح بیشمار لوگ جب اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان لائے، ایمان ان کے دلوں میں راسخ ہوگیا تو انہوں نے آگ میں پھینکے جانے پر صبر کیا اور وہ دین سے مرتدن نہ ہوئے ابن عربی نے کہا، ہمارے نزدیک منسوخ ہے جس طرح پہلے سورة النحل میں گزرچکا ہے۔ میں کہتا ہوں : ہمارے نزدیک یہ منسوخ نہیں بیشک وہ آدمی جس کا نفس قوی ہو اس کا دین مضبوط ہو اس کا صبر کرنا اولی ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت لقمان کے بارے میں خبر دیتے ہوئے کہا، یبنی اقسم الصلوۃ وامر بالمعروف ونہ عن المنکر واصبر علی ما اصابک، ان ذالک من عزم الامور۔ لقمان) میرے پیارے بچے نماز صحیح ادا کیا کرو نیکی کا حکم دیا کرو اور برائی سے روکتے رہو اور صبر کیا کرو ہر مصیبت جو تمہیں پہنچے بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں۔ حضرت ابوسعید خدری نے نبی کریم سے روایت نقل کی ہے، ان من اعظم الجھاد کلمۃ عدل عند سلطان جائز۔ سب سے بڑا جہاد ظالم حاکم کے سامنے حق کلمہ کہنا ہے اسے امام ترمذی نے نقل کیا ہے، کہا یہ حدیث حسن غریب ہے، محمد بن سنجر (امین سجر) نے حضرت امیمہ سے روایت نقل کی ہے کہ میں رسول اللہ کو وضو کرایا کرتی تھی کہ ایک آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا، مجھے وصیت کیجئے، رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، لاتشرک باللہ شیا وان قطعت اوحرقت بالنار۔ تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا اگرچہ تجھے ٹکڑے ٹکرے کردیا جائے یا تجھے آگ میں جلادیاجائے۔ ہمارے علماء نے کہا : بہت سے صحابہ کرام کو قتل کیا گیا، سولی عذاب میں مبتلا کیا گیا انہوں نے صبر کیا اور وہ کسی چیز کی طرف متوجہ نہ ہوئے تیرے لیے حضرت عاصم، حضرت خبیب اور ان کے ساتھیوں کا قصہ کافی ہے اسی طرح انہوں نے جو جنگیں، امتحانات، قتل، قید، جلانا اور دوسری آزمائشیں دیکھیں سورة النحل میں یہ بات گزرچکی ہے جو آدمی قوت رکھتا ہے اس کے بارے میں اس پر اجماع ہے وہاں اس پر غور کرلے۔ قتل اصحب الاخدود۔ ان کفار کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کی بددعا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ ان مومنین کے قتل کی خبر جارہی ہے کہ وہ آگ کے ذریعے قتل کیے گئے پھر بھی انہوں نے صبر کیا، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ ان ظالموں کے بارے میں خبر دی جارہی ہے کیونکہ یہ روایت کی گئی ہے کہ ان مومنوں کے آگ میں گرنے سے پہلے ان کی روحیں قبض کرلی گئیں تھیں اور خندقوں سے آگ نکلی تھی اور جو لوگ کناروں پر بیٹھے تھے انہیں جلادیا تھا، ایک قول یہ کیا گیا ہے مومن تو نجات پاگئے تھے اور آگ نے کناروں پر بیٹھے لوگوں کو جلادیا تھا، یہ نحاس نے ذکر کیا ہے، علیھا کا معنی سندھا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، علیھا سے مراد ہے اس آگ کے قریب جو خندق کے کنارے تھے وہ مراد ہے جس طرح شاعر نے کہا : وبات علی النار الندی والمحلق، یہاں علی النار سے مراد اس کے قریب ہے۔ اذ میں عامل قتل ہے یعنی اس وقت ان پر لعنت کی گئی۔
Ayah 85:7

وَّ هُمْ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُهُوْدٌؕ Open ayah 85:7 in the Quran reader

اور جو (سختیاں) اہل ایمان پر کر رہے تھے ان کو سامنے دیکھ رہے تھے

وھم علی مایفعلون بالمومنین شھود۔ شھود سے مراد حضور ہے یعنی کفار حاضر تھے، وہ مومنوں پر کفر کو پیش کرتے تھے جو ارتداد سے انکار کرتا اسے آگ میں پھینک دیتے تھے یہ ان کے دل کی سختی تھی اور اس میں انتہائی تگ ودو کرنے کی صفت بیان کی جارہی ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، علی، مع کے معنی میں ہے یعنی مومنوں کے ساتھ جو سلوک کیا جارہا تھا اس پر گواہ تھے۔
Ayahs 85:8–9

وَ مَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 85:8 in the Quran reader

ان کو مومنوں کی یہی بات بری لگتی تھی کہ وہ خدا پر ایمان لائے ہوئے تھے جو غالب (اور) قابل ستائش ہے

الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌؕ Open ayah 85:9 in the Quran reader

وہی ہے جس کی آسمانوں اور زمین میں بادشاہت ہے۔ اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

ومانقموا منھم۔۔۔ تا۔۔۔ شھید۔ ابوحیوۃ نے نقمو پڑھا ہے یعنی قاف کے نیچے کسرہ۔ جبکہ فصیح فتحہ ہے سورة البراء میں اس بارے میں گفتگو ہوچکی ہے یعنی بادشاہ اور اس کے ساتھی ان لوگوں سے جن کو انہوں نے آگ میں جلایا تھا کسی بات پر ناراض نہ ہوتے تھے مگر یہ کہ ان لوگوں نے اللہ جو غالب اور ہر حال میں محمود ہے کی تصدیق کی، اس اللہ تعالیٰ کا زمین و آسمان میں کوئی شریک اور مقاتل نہیں وہ اپنی مخلوقات کے اعمال سے آگاہ ہے، اس پر کوئی چیز مخفی نہیں۔
Ayah 85:10

اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَ لَهُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِؕ Open ayah 85:10 in the Quran reader

جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا (اور) عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی ہوگا

ان الذین فتنوالمومنین۔۔۔ تا۔۔۔ الکبیر۔ ان الذین فتنوالمومنین والمومنت۔ جنہوں نے مومنوں کو آگ میں جلایا عرب کہتے ہیں، فتن فلان الدرھم، والدینار۔ جب اسے بھٹی میں داخل کیا تاکہ اس کی عمدگی کو جانے، اس طرح یہ لفظ کہا جاتا ہے، دنیار مفتون دراہم، ودنانیر بنانے والے کو ختان کہتے ہیں اسی طرح شیطان کو فتان کہتے ہیں۔ ورق فتین، ایسی چاندی جس میں کھوٹ جلادیا گیا ہوحرہ کو فتین کہتے ہیں گویا اس سرزمین نے آگ کے ساتھ پتھروں کو جلادیا، یہ نام ان پتھروں کے سیاہ ہونے کی وجہ سے دیا جاتا ہے۔ ثم لم یتوبو افلھم عذاب جہنم ولھم عذاب الحریق۔ انہوں نے اپنے قبیح اعمال پر توبہ نہ کی جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس بادشاہ اور اس کی قوم کے لیے اس بچے کے ہاتھ پر آیات اور بینات کو ظاہر فرمایا، ان کے لیے ان کے کفر پر جہنم کا عذاب ہے اور دنیا میں اس کے لیے جلانے کا عذاب ہے کیونکہ انہوں نے مومنوں کو آگ کے عذاب میں جلایا، اس بارے میں حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ ایک قول یہ کیا گیا ہے ان کے لیے آخرت میں عذاب ہے جوان کے کفر کے عذاب سے زائدہ ہے یہ اس جہ سے ہے کہ انہوں نے مومنوں کو آگ میں جلایا تھا ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی ہے ان کے لیے عذاب ہے اور ان کے لیے جہنم حریق کا عذاب ہے حریق جہنم کے ناموں میں سے ایک نام ہے جس طرح سعیر کیونکہ جہنم کے کئی گڑھے اور اس کی انواع ہیں اور ہر ایک کے الگ الگ نام ہیں گویا جہنم میں انہیں زمہریر کے ساتھ عذاب دیا جائے گا پھر انہیں عذاب حریق کے ساتھ عذاب دیا جائے گا پہلاٹھنڈک کا عذاب ہے اور دوسرا گرمی کا عذاب ہے۔
Ayah 85:11

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۣؕ۬ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 85:11 in the Quran reader

(اور) جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کے لئے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے

ان الذین آمنوا وعملوالصالحات لھم جنت تجری من تحتھا الانھار، ذالک الفوز الکبیر۔ یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے، اس کی تصدیق کی، اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہیں جن کا پانی بدبودار نہیں ہوتا ایسے دودھ کی نہریں رواں ہیں جن کا ذائقہ تبدیل نہیں ہوتا، ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لیے لذت کا باعث ہیں اور صاف و شفاف شہد کی نہریں ہیں، یہ ایسی کامیابی ہے جس کی مثل کامیابی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔
Ayah 85:12

اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِیْدٌؕ Open ayah 85:12 in the Quran reader

بیشک تمہارے پروردگار کی پکڑ بہت سخت ہے

ان بطش ربک لشدید۔۔۔ تا۔۔۔ لمایرید۔ ان بطش ربک لشدید۔ جب وہ جابروں اور ظالموں کو پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ بڑی سخت ہوتی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وکذالک اخذ ربک اذا اخذالقری وھی ظالمۃ، ان اخذہ الیم شدید۔ ہود) اور یوں ہی گرفت ہوتی ہے آپ کے رب کی جب وہ پکڑتا ہے بستیوں کو دراں حالیکہ وہ ظالم ہوتی ہیں بیشک اس کی پکڑ دردناک اور سخت ہوتی ہے یہ پہلے گزرچکا ہے مبرد نے کہا، ان بطش ربک یہ جواب قسم ہے معنی یہ ہوگا قسم ہے برجوں والے آسمان کی تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے درمیان میں جو بھی کلام ہے وہ جملہ معترضہ ہے اور قسم کی تاکید کے لیے ذکر ہوا ہے حکیم ترمذی نے، نوادرالاصول، میں یہی بات ذکر کی ہے، پکڑ کی شدت کے ساتھ جو صفت ذکر کی گئی ہے قسم اس کے بارے میں واقع ہورہی ہے۔
Ayah 85:13

اِنَّهٗ هُوَ یُبْدِئُ وَ یُعِیْدُۚ Open ayah 85:13 in the Quran reader

وہ پہلی دفعہ پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ (زندہ) کرے گا

انہ ھویبدی ویعید۔ اکثر علماء کی رائے ہے وہی مخلوقات کو پہلی دفعہ پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ انہیں اٹھائے گا، عکرمہ نے کہا، کفار نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا۔ حضرت ابن عباس نے کہا، وہ دنیا میں انہیں آگ میں جلائے جانے کا عذاب دے گا پھر آخرت میں دوبارہ عذاب دے گا یہ طبری کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔
Ayah 85:14

وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُۙ Open ayah 85:14 in the Quran reader

اور وہ بخشنے والا اور محبت کرنے والا ہے

وھوالغفور الودود۔ وہ اپنے مومن بندوں کے گناہوں کو چھپانے والا ہے وہ انہیں ذلیل ورسوا نہیں کرے گا وہ اپنے اولیاء سے محبت کرنے والا ہے۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے وہ اس طرح محبت کرتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بھائی کے لیے خوش خبری اور محبت کو پسند کرتا ہے، ان سے یہ بھی مروی ہے کہ ودود کا معنی ہے اپنے دوستوں سے مغفرت کے ساتھ دوستی کرنا، مجاہد نے کہا، اپنے دوستوں سے محبت کرنے والا یہ مفعول بمعنی فاعل ہے، ابن زید نے کہا، اس کا معنی ہے رحم فرمانے والا، مبرد نے اسماعیل بن اسحاق قاضی سے روایت نقل کی ہے کہ ودودا سے کہتے ہیں جس کی اولاد نہ ہو۔ اور شاعر کا یہ شعر پڑھا۔ وارکب فی الروع عریانہ، ذلول الجناح لقاحا وودودا۔ میں جنگ میں ایسے گھوڑے پر سوار ہوتا ہوں جس کے بال نہیں وہ مطیع ہے اس کی اولاد نہیں۔ ودودا کا معنی ہے جس کی اولاد نہ ہو کہ جس کی طرف وہ مشتاق ہو، آیت کا معنی یہ ہوگا وہ اپنے بندوں کی بخشش کرتا ہے اس کی کوئی اولاد نہیں کہ اس بچے کی وجہ سے انہیں بخشے یہ اس لیے ہے تاکہ وہ مغفرت کے ساتھ فضل و احسان فرمانے والا ہو اور اس میں کسی جز کا کوئی عمل دخل نہیں، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہاں ودود، مودود کے معنی میں ہے جس طرح رکوب اور حلوب، یعنی اسے اس کے صالح بندے محبت کرتے ہیں۔
Ayah 85:15

ذُو الْعَرْشِ الْمَجِیْدُۙ Open ayah 85:15 in the Quran reader

عرش کا مالک بڑی شان والا

ذوالعرش المجید۔ عاصم کے علاوہ کوفہ کے قراء نے اسے ذی پڑھا ہے کیونکہ یہ عرش کی صفت ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ لربک کی صفت ہے معنی یہ ہوگا تیرے باعظمت رب کی پکڑ بڑی سخت ہے، یہاں موصوف صفت میں جدائی صفت بننے میں مانع نہیں کیونکہ تشدید میں یہ صفت کے قائم مقام ہے باقی قراء نے اسے مرفوع پڑھا ہے کیونکہ یہ ذو کی صفت ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، یہ ابوعبید اور ابوحاتم کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے کیونکہ مجد سے مراد کرم اور فضل میں انتہا کو کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات ہی اس صفت کے ساتھ موصوف ہے۔ اگرچہ سورة المومنون کے آخر میں عرش کی صفت بھی کرم کے ساتھ لگائی گئی ہے عرب کہتے ہیں : فی کل شجرنا واستمجد المرخ العفار۔ ہر درخت میں آگ ہے مرخ، (درخت) عفار (ایک درخت) ان میں سے بڑھ کر ہیں، یہاں تک کہ ان دونوں سے آگ روشن کی جاتی ہے، ذوالعرش کا معنی ہے ملک اور مملکت والا جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، فلاں علی سریر ملکہ فلاں اپنے ملک کے تخت پر ہے اگرچہ وہ تخت پر نہ بیٹھا ہو، یہ جملہ بولا جاتا ہے ثل عرشہ یعنی اس کی حکومت چلی گئی، اس کی وضاحت سورة الاعراف میں گزرچکی ہے، خصوصا کتاب السنی فی شرح اسماء اللہ الحسنی، میں وضاحت گزرچکی ہے۔
Ayah 85:16

فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُؕ Open ayah 85:16 in the Quran reader

جو چاہتا ہے کردیتا ہے

فعال لما یرید۔ وہ چیز جس کا ارادہ کرے وہ اس پر ممتنع نہیں، یہ زمخشری کا نقطہ نظر ہے، یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے یہ ان فعال کا لفظ ذکر کیا ہے کیونکہ جس کا وہ ارادہ کرتا ہے، اور افعال کرتا ہے وہ کثیر ہوتے ہیں فراء نے کہا، فعال کو تکرار اور استیناف کی وجہ سے رفع دیا گیا ہے کیونکہ یہ نکرہ محضہ ہے طبری نے کہا، فعال کو رفع دیا گیا ہے جبکہ وہ نکرہ محضہ ہے کیونکہ یہ اعراب میں الغفور الودود کے اعراب کے تابع ہے، ابوسفر (سعید ہمدانی) سے مروی ہے کہا، کچھ صحابہ حضرت ابوبکر صدیق کی عیادت کے لیے حاضر ہوئے انہوں نے کہا، کیا ہم آپ کے لیے طبیب نہ بلائیں ؟ فرمایا اس نے مجھے دیکھا ہے، صحابہ نے پوچھا اس نے آپ کو کیا کہا ہے، ؟ جواب دیا اس نے فرمایا میں جس کا ارادہ کرلوں اس کو گزرنے والا ہوں۔
Ayahs 85:17–19

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْجُنُوْدِۙ Open ayah 85:17 in the Quran reader

بھلا تم کو لشکروں کا حال معلوم ہوا ہے

فِرْعَوْنَ وَ ثَمُوْدَؕ Open ayah 85:18 in the Quran reader

(یعنی) فرعون اور ثمود کا

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ تَكْذِیْبٍۙ Open ayah 85:19 in the Quran reader

لیکن کافر (جان بوجھ کر) تکذیب میں (گرفتار) ہیں

ھل اتاک حدیث الجنود۔۔۔ تا۔۔۔ فی تکذیب یعنی اے محمد یقینا آپ تک ان کافر جماعتوں کی خبر پہنچی ہے جنہوں نے انبیاء کو جھٹلایا اور اس کے ذریعے آپ کو مانوس کیا جارہا ہے اور آپ کو تسلی دی جارہی ہے پھر ان جماعتوں کی وضاحت کی اور فرمایا، فرعون وثمود، یہ دونوں الجنود سے بدل ہیں معنی اس کا یہ ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ جو کیا ہے آپ نے اس پہچان لیا ہے جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا بلکہ یہ لوگ جو آپ پر ایمان نہیں رکھتے وہ آپ کو جھٹلا رہے ہیں جس طرح پہلے لوگوں کا طریقہ تھا فرعون اور ثمود کو خاص کیا گیا کیونکہ قوم ثمود عرب علاقوں میں سے تھی اور ان کا قصہ مشہور ومعروف تھا اگر چیہ یہ لوگ متقدمین میں شمار ہوتے تھے فرعون کا معاملہ اہل کتاب اور دوسرے لوگوں کے ہاں بھی معروف تھا وہ ہلاک ہونے میں سے متاخرین تھے ان دونوں کے ذریعے ہلاکت میں ان کی مثل پر دلالت کی۔
Ayahs 85:20–22

وَّ اللّٰهُ مِنْ وَّرَآئِهِمْ مُّحِیْطٌۚ Open ayah 85:20 in the Quran reader

اور خدا (بھی) ان کو گردا گرد سے گھیرے ہوئے ہے

بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌۙ Open ayah 85:21 in the Quran reader

(یہ کتاب ہزل و بطلان نہیں) بلکہ یہ قرآن عظیم الشان ہے

فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ۠ Open ayah 85:22 in the Quran reader

لوح محفوظ میں (لکھا ہوا)

واللہ من ورائھم محیط۔۔ تا۔۔۔ محفوظ یعنی اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ ان پر ایسا عذاب نازل فرمائے جو اس نے فرعون پر نازل کیا تھا، محاط بہ محصور کی طرح ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں آگاہ ہے اس لیے وہ ان کو جزا عطا فرمائے گا بلکہ قرآن حکیم شرف، کرم، اور برکت میں انتہا کو پہنچنے والا ہے لوگوں کو دین ودنیا کے احکام میں جو اس کی احتیاج ہے اس کا بیان ہے یہ اس طرح نہیں جس طرح مشرکین کا گمان ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ مجید کا معنی ہے وہ غیرمخلوق ہے وہ لوح میں لکھا ہوا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس چیز سے محفوظ ہے کہ شیاطین اس تک پہنچ سکیں ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ ام الکتاب ہے اس سے قرآن اور دوسری کتب لکھی گئی ہیں۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ لوح سرخ یاقوت کی ہے اس کا اوپر والاحصہ عرش سے باندھا گیا ہے اور اس کا نیچے والاحصہ فرشتے کی گود میں ہے جسے ماطریون کہتے ہیں اس کی کتاب نور ہے اس کا قلم نور ہے اللہ تعالیٰ اس میں ہر روز تین سو ساتھ دفعہ دیکھتا ہے اس کی نظروں میں سے کوئی نظر نہیں ہوتی مگر وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ حضرت انس بن مالک اور مجاہد نے کہا : لوح محفوظ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے وہ حضرت اسرافیل کو پیشانی میں ہے، مقاتل نے کہا، لوح محفوظ عرش کی دائیں جانب ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، لوح محفوظ وہ ہے جس میں خلق وخلیقہ کی مختلف اصناف ہیں ان کے احوال کا بیان ہے ان کی مدتوں، رزقوں اور اعملا کا ذکر ہے جوان میں فیصلے نافذ ہوتے ہیں اور ان کے امور کے انجام کا ذکر ہے وہ ام الکتاب ہے حضرت ابن عباس نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں سب سے پہلے جو چیز لکھی ہوئی وہ یہ تھی، انی انا اللہ لا الہ الاانامحمدرسولی۔ جس نے میرے فیصلے کے سامنے سرتسلیم خم کیا، میری آزمائش پر صبر کیا میری نعمتوں پر شکر ادا کیا میں اسے صدیق لکھ دوں گا اسے صدیقین کے ساتھ اٹھاؤں گا جس نے میرے فیصلے کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا، میری آزمائش پر صبر نہ کیا میری نعمتوں پر شکرادا نہ کیا تو وہ میرے سوا کوئی معبود بنالے، حجاج نے حضرت محمد بن حنفیہ کی طرف دھمکی آمیز خط لکھا حضرت ابن حنفیہ نے اسے جواب دیا مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہر روز تین سوساٹھ نظریں لوح محفوظ میں ہوتی ہیں وہ عزت دیتا ہے وہ ذلیل کرتا ہے وہ آزماتا ہے، وہ خوش کرتا ہے، اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے شاید ان میں سے ایک نظر نے تجھے تیرے بارے میں مشغول کردیا ہے تو اس کے مشغول رہتا ہے اور فارغ نہیں ہوتا۔ ایک مفسر نے کہا : لوح ایک ایسی چیز ہے جو فرشتوں کے لیے ظاہر ہوتی ہے وہ اسے پڑھتے، ابن سمیقع اور ابو حیوہ نے اسے قران مجید اضافت کی صورت میں پڑھا ہے، یعنی قرآن مجید نافع نے اسے محفوظ پڑھا ہے کہ یہ قرآن کی صفت ہے بلکہ وہ قرآن مجید ہے جو لوح محفوظ میں ہے، جبکہ باقی قراء نے اسے لوح کی صفت بناتے ہوئے مجرور پڑھا ہے، قراء اس بات پر متفق ہیں کہ لوح کالام مفتوح ہے مگر جو یحییٰ بن یعمر سے ایک روایت مروی ہے اس میں لوح کے لام پر ضمہ ہے یعنی وہ چمکتا ہے نور، بلندی اور شرف والا ہے، زمخشری نے کہا، لوح سے مراد ہوا ہے یعنی وہ ہوا جو ساتوں آسمان سے اوپر ہے، جس میں لوح ہے صحاح میں ہے، لاح الشئی یلوح لوحا یعنی وہ چیز چمکی، لاحہ السفر اسے تبدیل کردیا، لاح لوحا ولواحا وہ پیاسا ہوا، التاح کا معنی بھی یہی ہے، لوح کا معنی کندھا اور ہر چوڑی ہڈی کو کہتے ہیں لوح سے مراد وہ چیز ہے جس میں لکھا جاتا ہے لوح جب ضمہ کے ساتھ ہو تو اس سے مراد وہ ہوا ہے جو آسمان اور زمین کے درمیان ہوتی ہے۔