86. Surah At-Taariq

الطارقThe Morning Star · 17 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم ا۔ سورة کا عمود اور سابق سورة سے تعلق یہ سورة سابق سورة کی توام ہے۔ دونوں کا عمود بالکل ایک ہے۔ صرف اسلوب بیان اور نہج استدلال الگ الگ ہیں۔ تمہید اور خاتمہ کے پہلو سے بھی دیکھئے تو دونوں میں حیرت انگیز مشابہت پائی جاتی ہے۔ آفاق وانفس کے شواہد اور خالق کائنات کی صفات کی روشنی میں یہ حقیقت ان میں مبرہن فرمائی گئی ہے کہ قرآن جس روز جزاء و سزا سے ڈرا رہا ہے اس کو ہنسی مسخری نہ سمجھو۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے۔ اس کے ظہور میں جو دیر ہو رہی ہے تو اس کو تکذیب کا بہانہ نہ بنائو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لئے ڈھیل ہے کہ اس کی حجت تمام ہوجائے اور تم اپنا پیمانہ اچھی طرح بھر لو۔ خدا کی تدبیر نہایت محکم ہوتی ہے اس وجہ سے وہ سرکشوں کو پکڑنے میں عجلت نہیں کرتا۔ لیکن جب پکڑتا ہے تو کوئی اس کے پنجہ عذاب سے چھوٹ نہیں سکتا۔ ب۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ سورة کے مطالب کی ترتیب اس طرح ہے : (١۔ ٤) آسمان اور اس کے ستاروں کی شہادت اس بات پر کہ خدا کی نگاہوں سے کوئی چیز بھی اوجھل نہیں۔ اس نے ہر جان پر پہرے بٹھا رکھے ہیں۔ جن ہوں یا انسان سب کی نگرانی ہو رہی ہے۔ وہ جس کو جب چاہے پکڑ سکتا اور سزا دے سکتا ہے کوئی اس کے قابو سے باہر نہیں ہے۔ (٥۔ ٨) منکرین قیامت کو اس حقیقت پر غور کرنے کی دعوت کہ انسان کی خلقت کسی ایسے نایاب جوہر سے نہیں ہوئی ہے جو خدا کی دسترس سے باہر ہو بلکہ وہ پانی کی ایک بوند سے پیدا ہوتا ہے جو اسی کے اندر سے نکلتی ہے۔ جب اسی کے اندر سے ٹپکی ہوئی ایک بوند کو اللہ تعالیٰ اپنی صنعت گری سے انسان بنا دینے پر قادر ہے تو اس کو دوبارہ پیدا کرنے اور اٹھا کھڑے کرنے سے کیوں عاجز رہ جائے گا ! (٩۔ ١٠) اس حقیقت کا اظہار کہ خدا ہر ایک کے ہر قول و فعل بلکہ دلوں کے بھیدوں اور پس پردہ رازوں سے بھی اچھی طرح باخبر ہے۔ ایک دن سارے راز پرکھے اور جانچے جائیں گے۔ اس دن کسی کے پاس نہ اس کی اپنی کوئی قوت و جمعیت ہوگی جو اس کے کام آسکے اور نہ کسی کی سعی و سفارش اس کو کچھ نفع پہنچانے والی بنے گی۔ (١١۔ ١٤) ایک عام آفاقی شہادت کا حوالہ اس امر کے حق میں کہ قرآن جس قیامت سے ڈرا رہا ہے وہ کوئی ہنسی مسخری کی چیز نہیں ہے بلکہ یہ ایک حقیقت ہے جو پیش آ کے رہے گی۔ لوگوں کو چاہئے کہ اس کے لئے تیاری کریں نہ کہ اس کا مذاق اڑائیں۔ (١٥۔ ١٧) پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی کہ مخاطبین تمہاری تکذیب کے لئے جو جو چالیں چل رہے ہیں اس سے مایوس نہ ہو بلکہ ان کو ابھی کچھ دن مہلت دو ۔ تمہارے رب نے ان کے لئے استدراج کا جو دام بچھایا ہے یہ اس میں پھنس چکے ہیں۔ ان کا انجام اب ان کے سامنے آیا ہی چاہتا ہے۔

Ayah 86:1

وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِۙ Open ayah 86:1 in the Quran reader

شاہد ہیں آسمان اور رات میں نمودار ہونے والے

آسمان اور ستاروں کی قسم: جس طرح سابق سورہ میں برجوں والے آسمان کی قسم کھائی ہے اسی طرح اس سورہ میں آسمان اور اس کے دمکتے ستاروں کی قسم کھائی ہے اور یہ قسم، جیسا کہ وضاحت ہو چکی ہے، بطور شہادت اس دعوے پر دلیل پیش کرنے کے لیے کھائی ہے جو آگے آ رہا ہے۔ ’طَارِقٌ‘ کے لغوی معنی تو شب میں آنے والے کے ہیں لیکن یہاں اس سے مراد شب میں نمودار ہونے والے ستارے ہیں۔ اس کی وضاحت خود قرآن ہی نے ’اَلنَّجْمُ الثَّاقِبُ‘ کے الفاظ سے کر دی ہے۔
Ayah 86:2

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الطَّارِقُۙ Open ayah 86:2 in the Quran reader

اور تم کیا سمجھے کہ کیا ہیں رات میں نمودار ہونے والے !

’وَمَآ اَدْرٰکَ‘ کا سوال اس شہادت کی عظمت و اہمیت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی اس شہادت کو معمولی شہادت نہ گمان کرے۔ یہ بہت بڑی شہادت ہے بشرطیکہ غور کرنے والے اس پر غور کریں اور سمجھیں، اس کو مذاق بنانے کی کوشش نہ کریں۔
Ayah 86:3

النَّجْمُ الثَّاقِبُۙ Open ayah 86:3 in the Quran reader

دمکتے ستارے !

’اَلنَّجْمُ الثَّاقِبُ‘ سے کوئی خاص ستارہ مراد نہیں ہے بلکہ جس طرح ’وَبِالنَّجْمِ ہُمْ یَہْتَدُوْنَ‘ (النحل ۱۶: ۱۶) اور بعض دوسری آیات میں یہ لفظ جنس کے مفہوم میں آیا ہے اسی طرح یہاں بھی یہ جنس ہی کے مفہوم میں ہے۔ البتہ ’ثَاقِبٌ‘ کی صفت سے یہ اشارہ فرما دیا ہے کہ اس سے مراد وہی ستارے ہیں جن کی روشنی ازخود ہم تک پہنچتی ہے اور جن کی جستجو کے لیے ہمیں ترقی یافتہ دوربینوں کی ضرورت پیش نہیں آتی بلکہ ہر دیکھنے والا ان کو دیکھ اور ان سے وہ سبق حاصل کر سکتا ہے جو قرآن یہاں دینا چاہتا ہے۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ ستارے صرف اتنے ہی نہیں ہیں جتنے ہمیں نظر آتے ہیں۔ یہ تو مشتے نمونہ از خردارے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کون جان سکتا ہے کہ کتنے جہان اور کتنے ستارے ہیں!
Ayah 86:4

اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْهَا حَافِظٌؕ Open ayah 86:4 in the Quran reader

کہ کوئی جان نہیں کہ اس پر نگہبان نہیں۔

ستاروں کی شہادت اس دعوے پر کہ ہر جان پر خدا کے نگران ہیں: یہ مقسم علیہ یا اصل دعویٰ ہے جس کو ثابت کرنے کے لیے مذکورہ بالا قسم کھائی گئی ہے۔ ’لَمَّا‘ کا استعمال یہاں ذرا نادر ہے اس وجہ سے اس کی توجیہ میں اہل نحو نے اختلاف کیا ہے۔ ہم اس کی تحقیق سورۂ ہود آیت ۱۱۱ اور سورۂ زخرف آیت ۳۵ کے تحت بیان کر چکے ہیں۔ ستاروں کی شہادت اس دعوے پر کہ اللہ تعالیٰ نے ہر جان پر نگران مقرر کر رکھے ہیں ایک تو اس پہلو سے ہے کہ انسان سوچے کہ جس خدا کی مقرر کی ہوئی اتنی ان گنت آنکھیں رات بھر جاگتی اور ٹکٹکی لگائے زمین والوں کو گھورتی رہتی ہیں کس کی مجال ہے کہ اس کے دام سے بچ کے نکل سکے۔ سائنس کی ایجاد کردہ بڑی سے بڑی دوربینوں کے اندر بھی وہ طاقت نہیں ہے جو آسمان کے معمولی سے معمولی ستاروں کے اندر ہے جن کی روشنی تہ بہ تہ فضاؤں کو چیرتی ہوئی زمین تک پہنچ جاتی ہے۔ جو خدا اپنی قدرت کی یہ شان ہر شب میں ہمیں دکھا رہا ہے اس کے متعلق یہ تصور کہ اس کی نگاہوں سے کوئی چیز بھی اوجھل رہ سکتی ہے صرف اس شخص کے اندر پیدا ہو سکتا ہے جو عقل سے بالکل عاری ہو۔ دوسرا پہلو اس کا وہی ہے جس کی طرف ہم سابق سورہ میں بھی اشارہ کر چکے ہیں اور جو قرآن کے دوسرے مقامات میں بھی بیان ہوا ہے کہ انہی ستاروں کے اندر خدا نے ایسے برج بنائے ہیں جہاں سے ان شیاطین پر شہاب ثاقب کی مار پڑتی ہے جو خدا کے ممنوعہ حدود میں دراندازی کی جسارت کرتے ہیں۔ قدرت کا یہ انتظام اس بات پر شاہد ہے کہ یہ دنیا بے راعی کا گلہ نہیں ہے بلکہ اس کے چپہ چپہ پر خدا نے اپنے پہرہ دار بٹھا رکھے ہیں جو شب و روز ہر چیز کی نگرانی کر رہے ہیں اس وجہ سے لازماً اس کے بعد ایک یوم الحساب آنا ہے جس کے احتساب سے کوئی بھی اپنے کو بچا نہ سکے گا۔
Ayah 86:5

فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَؕ Open ayah 86:5 in the Quran reader

انسان غور کرے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے !

انسان کا وجود خود شاہد ہے کہ خدا اس کو دوبارہ اٹھا سکتا ہے: یہ اس احساس ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی ہے جو ہر اس انسان کے اندر پیدا ہونا چاہیے جو اس حقیقت کو پا گیا ہے کہ یہ دنیا کوئی اندھیر نگری نہیں ہے بلکہ اس کا خالق ایک ایک چیز پر نگاہ رکھے ہوئے ہے اور جب وہ نگاہ رکھے ہوئے ہے تو لازم ہے کہ وہ ایک ایسا دن بھی لائے جس میں نیکوں کے سامنے ان کی نیکی اور بدوں کے سامنے ان کی بدی اپنے حقیقی نتائج کی صورت میں بے نقاب ہو۔ ’فَلْیَنظُرِ الْإِنسَانُ مِمَّ خُلِقَ‘۔ یہ انسان کو خود اس کے وجود کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اگر وہ اپنی ہی خلقت پر غور کرے تو خدا کی قدرت، حکمت اور اس کی صفت گری کی ایسی شانیں ظاہر ہوں گی کہ وہ پکار اٹھے گا کہ جو خدا پانی کی ایک حقیر بوند سے اس کو ان اعلیٰ صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کر سکتا ہے وہ مرنے کے بعد اس کو دوبارہ اٹھا سکنے پر بھی قادر ہے۔ جزا و سزا کے منکرین کا سب سے بڑا شبہ یہی تھا کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کیے جانے کو بعید از امکان تصور کرتے تھے۔ ان کے اس شبہ کو دور کرنے کے لیے قرآن نے جگہ جگہ ان کو خود ان کی خلقت پر غور کرنے کی دعوت دی ہے۔ سورۂ عبس میں اسی طرح کے لوگوں کو ان الفاظ میں تنبیہ فرمائی ہے: قُتِلَ الْإِنۡسَانُ مَا أَکْفَرَہٗ ۵ مِنْ أَیِّ شَیْءٍ خَلَقَہٗ ۵ مِنۡ نُّطْفَۃٍ خَلَقَہٗ فَقَدَّرَہٗ ۵ ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَہٗ ۵ ثُمَّ أَمَاتَہٗ فَأَقْبَرَہٗ ۵ ثُمَّ إِذَا شَآءَ أَنۡشَرَہٗ (عبس ۸۰: ۱۷-۲۲) ’’انسان غارت ہو، کتنا ناشکرا ہے! اس کو خدا نے کس چیز سے پیدا کیا؟ پانی کی ایک بوند سے! اس کو پیدا کیا، پھر اس کے لیے ایک اندازہ ٹھہرایا، پھر اس کے لیے راہ آسان کی؛ پھر اس کو موت دی اور اس کو قبر میں رکھوایا۔ پھر جب چاہے گا اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔‘‘
Ayahs 86:6–7

خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍۙ Open ayah 86:6 in the Quran reader

وہ پیدا کیا گیا ہے ذرا سے اچھلتے پانی سے

یَّخْرُجُ مِنْۢ بَیْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآئِبِؕ Open ayah 86:7 in the Quran reader

جو نکلتا ہے ریڑھ اور پسلیوں کے بیچ سے۔

’خُلِقَ مِنۡ مَّآءٍ دَافِقٍ ۵ یَخْرُجُ مِنۡ بَیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ‘۔ یہ اس پانی کی نوعیت، اس کے خروج کی صورت اور اس کی جگہ کے حدود اربعہ کی وضاحت فرما دی تاکہ انسان پر یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ یہ پانی نہ کوئی جوہر نایاب ہے اور نہ یہ کسی ایسی ولایت سے آتا ہے جو خدا کی خدائی کے حدود سے باہر ہو بلکہ انسان ہی کی ریڑھ اور اس کی چھاتیوں کے بیچ سے اچھلتا ہے اور قدرت اسی کو اپنے سانچے میں جس شکل و صورت پر چاہتی ہے ڈھالتی ہے اور پھر اس کو بطن مادر سے باہر لاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس خدا کی اس عظیم قدرت و حکمت کا مشاہدہ ہر شخص خود اپنے وجود کے اندر کر رہا ہے کیا اس کے لیے اس کو دوبارہ زندہ کرنا ناممکن ہو جائے گا! اسی حقیقت کی طرف سورۂ انفطار میں یوں توجہ دلائی ہے: یٰٓاَیُّہَا الْإِنۡسَانُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ ۵ الَّذِیْ خَلَقَکَ فَسَوَّاکَ فَعَدَلَکَ ۵ فِیْ أَیِّ صُوۡرَۃٍ مَّا شَآءَ رَکَّبَکَ ۵ کَلَّا بَلْ تُکَذِّبُوۡنَ بِالدِّیْنِ (الانفطار ۸۲: ۶-۹) ’’اے انسان، تجھے تیرے اس رب کریم کے باب میں کس چیز نے مغالطے میں ڈال رکھا ہے؟ جس نے تیرا خاکہ بنایا، پھر تیرے نوک پلک سنوارے۔ اور تجھے بالکل ٹھیک ٹھاک کیا اور جس شکل پر چاہا تجھے مشکّل کر دیا! (اس خدا کی قدرت کے باب میں کسی شک کی گنجائش) ہر گز نہیں ہے لیکن تم جزا و سزا کو جھٹلانا چاہتے ہو (اس وجہ سے اس قسم کے شبہات ایجاد کر رہے ہو)۔‘‘
Ayah 86:8

اِنَّهٗ عَلٰى رَجْعِهٖ لَقَادِرٌؕ Open ayah 86:8 in the Quran reader

بیشک وہ اس کے لوٹا سکنے پر پوری طرح قادر ہے۔

’اِنَّہٗ عَلٰی رَجْعِہٖ لَقَادِرٌ‘۔ یعنی جس خدا نے انسان کو پیدا کرنے میں اپنی قدرت و حکمت کی یہ شانیں دکھائی ہیں وہ اس کے مرکھپ جانے کے بعد اس کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی ضرور قادر ہے۔ ’رَجْعِہٖ‘ میں ضمیر کا مرجع انسان ہے جس کو آیت ’فَلْیَنۡظُرِ الْإِنۡسَانُ مِمَّ خُلِقَ‘ (۵) میں غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ اگرچہ لفظ عام استعمال ہوا ہے لیکن اصل روئے سخن قریش ہی کی طرف ہے جو اس قسم کے لاطائل شبہات پیدا کر کے قرآن کے انذار کو غیر مؤثر بنا دینا چاہتے تھے۔
Ayah 86:9

یَوْمَ تُبْلَى السَّرَآئِرُۙ Open ayah 86:9 in the Quran reader

اس دن ساری چھپی باتیں پرکھی جائیں گی

آخرت کے احتساب کی نوعیت: اس دن جس طرح کے احتساب سے لوگوں کو سابقہ پیش آئے گا یہ اس کا بیان ہے۔ فرمایا کہ اس دن مخفی باتیں بھی جانچی اور پرکھی جائیں گی۔ یعنی صرف ظاہری اقوال و اعمال ہی زیربحث نہیں آئیں گے بلکہ مخفی اعمال، دلوں کے کھوٹ اور نیتوں کے فساد بھی پرکھے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے پاس ایسے آلات ہیں جو مخفی سے مخفی گوشوں میں کیے ہوئے اعمال و اقوال کا بھی کھوج لگا لیں گے، اور ہر عمل کو پرکھ کر بتا دیں گے کہ کس کے اندر کتنا کھوٹ ہے اور کتنا اخلاص۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اس دن آدمی کے اعضاء و جوارح بھی ان تمام اعمال کی گواہی دیں گے جو انسان نے کیے ہوں گے۔ تو جب اعضاء و جوارح بھی گواہ بن کر اٹھ کھڑے ہوں گے تو کسی راز کے راز رہنے کا کیا امکان باقی رہا۔
Ayah 86:10

فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّ لَا نَاصِرٍؕ Open ayah 86:10 in the Quran reader

تو اس وقت اس کے پاس کچھ زور نہ ہوگا اور نہ کوئی مددگار۔

اس دن آدمی کے پاس نہ اس کی اپنی ذاتی قوت ہو گی جس سے وہ مدافعت کر سکے اور نہ اس کے اعوان و انصار اور شرکاء و شفعاء میں سے کوئی اس کی حمایت کے لیے اٹھے گا۔ ہر ایک کا ظاہر و باطن کھلی کتاب کی طرح سامنے ہو گا اور صرف خدائے علیم و خبیر ہی کا فیصلہ بے چون و چرا نافذ ہو گا۔
Ayah 86:11

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِۙ Open ayah 86:11 in the Quran reader

شاہد ہے آسمان ،

حیات بعد الموت پر آفاقی شہادت: اوپر حیات بعد الموت اور روز جزا پر انسان کی خلقت سے شہادت پیش کی ہے۔ اب اسی دعوے پر ایک آفاقی دلیل کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ’رَجْعٌ‘ کی تشریح اہل لغت نے ’المطر بعد المطر‘ سے کی ہے۔ یعنی وہ بارش جو یکے بعد دیگرے ہوتی اور زمین کو زندگی و شادابی بخشتی ہے۔
Ayah 86:12

وَ الْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِۙ Open ayah 86:12 in the Quran reader

پر ازباراں اور زمین، پر شگاف

’صَدْعٌ‘ کے معنی پھٹنے کے ہیں۔ یعنی جب بارش ہوتی ہے تو زمین کے مسامات کھل جاتے ہیں اور وہ پانی جذب کر کے پھول جاتی اور دیکھتے دیکھتے لہلہا اٹھتی ہے۔ اگرچہ یہاں لہلہا اٹھنے کا ذکر لفظوں میں نہیں ہے لیکن قرینہ اس پر دلیل ہے۔ اسلوب قسمیہ ہے اس وجہ سے بات اشاروں میں کہہ دی گئی ہے۔ قرآن کے دوسرے مقامات میں مختلف اسلوبوں سے یہ بات ثابت کی گئی ہے کہ مرنے کے بعد لوگوں کو ازسرنو زندہ کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے ذرا بھی مشکل نہیں ہے۔ جو لوگ اس بات میں شک کر رہے تھے ان کو ملامت کی گئی ہے کہ تم ایک ایسی بات میں شک کر رہے ہو جس کا مشاہدہ آئے دن تمہیں ہوتا رہتا ہے۔ سورۂ انبیاء میں اسی طرح کے شکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: أَوَلَمْ یَرَ الَّذِیْنَ کَفَرُوۡا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاہُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ (الانبیاء ۲۱: ۳۰) ’’کیا جنھوں نے قیامت کا انکار کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں بند ہوتے ہیں پس ہم ان کو کھول دیتے ہیں اور ہم نے پانی سے ہر چیز کو زندہ کیا۔‘‘ اس آیت کی تفسیر اس کے محل میں دیکھ لیجیے۔ آسمان و زمین کے بند ہونے سے اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ نہ آسمان سے پانی برستا نہ زمین سبزہ اگاتی لیکن جب اللہ تعالیٰ آسمان کے دریچے کھول کر پانی برسا دیتا ہے تو زمین بھی اپنے خزانوں کے دروازے کھول دیتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ جب چاہے گا زمین سے ان سارے لوگوں کو زندہ اٹھا کھڑا کرے گا جو اس میں دفن ہیں۔
Ayahs 86:13–14

اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌۙ Open ayah 86:13 in the Quran reader

کہ یہ دو ٹوک بات ہے

وَّ مَا هُوَ بِالْهَزْلِؕ Open ayah 86:14 in the Quran reader

او یہ کوئی ہنسی مسخری نہیں

مکذبین قیامت کو تنبیہ: جس طرح سابق سورہ کے آخر میں مکذبین قیامت کو متنبہ فرمایا ہے کہ قرآن کے اس انذار کا مذاق نہ اڑاؤ، یہ لوح محفوظ سے اترا ہوا نہایت برتر کلام ہے، اسی طرح اس سورہ کے آخر میں بھی ایک نئے اسلوب سے آگاہ فرمایا کہ یہ قرآن جس روز حساب سے تمہیں آگاہ کر رہا ہے وہ ایک امرقطعی اور اٹل ہے جس سے تمہیں لازماً سابقہ پیش آنا ہے تو اس کو مذاق کا موضوع نہ بناؤ بلکہ دانش مندی اور عاقبت بینی کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو توجہ سے سنو، سمجھو اور آنے والے دن کی تیاری کرو۔
Ayah 86:15

اِنَّهُمْ یَكِیْدُوْنَ كَیْدًاۙ Open ayah 86:15 in the Quran reader

وہ چل رہے ہیں ایک چال

پیغمبر صلعم کو تسلی: یہ پیغمبر ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ تمہارے انذار کا مذاق اڑانے کے لیے لوگ جو سخن سازیاں کر رہے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان کے دل میں فی الواقع کچھ شبہات ہیں جو کسی جواب یا کوئی معجزہ دکھا دینے سے دور ہو جائیں گے۔ یہ شبہات محض حقیقت سے فرار کے لیے گھڑے جا رہے ہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ نہ یہ خود تمہاری بات مانیں نہ اپنے عوام کو ماننے دیں تاکہ ان کی سیادت قائم رہے اور اپنی جن خواہشوں کی پیروی کر رہے ہیں بدستور ان کی پیروی کرتے رہیں۔
Ayah 86:16

وَّ اَكِیْدُ كَیْدًاۚۖ Open ayah 86:16 in the Quran reader

اور بھی کر رہا ہوں ایک دائو۔

’وَأَکِیْدُ کَیْدًا‘۔ فرمایا کہ ان کی اس چال کے توڑ کے لیے میں بھی ایک چال چل رہا ہوں۔ وہ یہ کہ ان کو پکڑنے میں جلدی کرنے کے بجائے ان کو ڈھیل دے رہا ہوں تاکہ یہ اپنا پیمانہ اچھی طرح بھر لیں اور جب پکڑے جائیں تو ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے۔ یہ نادان اس ڈھیل کو اپنی کامیابی گمان کر رہے ہیں لیکن حقیقت میں یہ خدا کے استدراج کے پھندے میں اس طرح پھنسے ہوئے ہیں کہ جتنی ہی ان کی رسی دراز ہو رہی ہے اتنی ہی اس کی گرفت مضبوط ہو رہی ہے۔ یہ گویا اسی بات کی دوسرے الفاظ میں وضاحت ہے جو سابق سورہ میں ’وَاللہُ مِنۡ وَرَآئِہِمۡ مُّحِیْطٌ‘ (البروج ۸۵: ۲۰) کے الفاظ سے بیان ہوئی ہے۔
Ayah 86:17

فَمَهِّلِ الْكٰفِرِیْنَ اَمْهِلْهُمْ رُوَیْدًا۠ Open ayah 86:17 in the Quran reader

تو ان کافروں کو مہلت دے، ان کو چھوڑ ذرا دیر کو

یعنی جب یہ ہر طرف سے اللہ تعالیٰ کے گھیرے میں ہیں تو خواہ ان کو کتنی ہی ڈھیل ملے اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ یہ خدا کی گرفت سے باہر نکل جائیں گے، تو تم بھی ان کو ڈھیل ہی دو۔ یعنی ان کے طعنوں اور مطالبات سے تنگ آ کر یہ تمنا نہ کرو کہ اب ان کو کوئی نشانئ عذاب دکھا ہی دی جائے یا سرے سے ان کا قصہ ہی پاک کر دیا جائے۔ ’اَمْہِلْہُمْ رُوَیْدًا‘۔ یہ اوپر کے ٹکڑے ہی کی وضاحت ہے کہ اس ڈھیل سے یہ مطلب نہیں ہے کہ کسی غیر محدود مدت کے لیے ان کو ڈھیل دی جائے بلکہ بس ذرا سی ان کی رسی دراز کر دی جائے تاکہ جو کلیلیں یہ کرنی چاہتے ہیں کر لیں بالآخر تو ان کو اپنے انجام سے دوچار ہونا ہی ہے۔ یہاں کلام کا یہ پہلو خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ ڈھیل دینے کی ہدایت پیغمبر ﷺ کو فرمائی جا رہی ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اب ان کی قسمت کی باگ دراصل پیغمبر ہی کے ہاتھ میں خدا نے دے دی ہے۔ البتہ وہ پسند یہ فرماتا ہے کہ پیغمبر ان کو ذرا سی ڈھیل مزید دے دیں۔