Ayah 85:1لفظ ’برج‘ کی تحقیق: لفظ ’برج‘ قلعوں اور گڑھیوں کے لیے آتا ہے۔ عربی زبان اور قرآن دونوں میں یہ اس معنی میں استعمال ہوا ہے۔ آسمان کی صفت کے طور پر یہ جہاں آیا ہے اس سے مراد آسمان کے وہ قلعے اور دیدبان ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کے فرشتے برابر مامور رہتے ہیں کہ وہ خدا کی ملکوت میں شیاطین کو ایک خاص حد سے آگے یعنی ملاء اعلیٰ کے حدود میں داخل نہ ہونے دیں۔ اگر اس حد سے وہ آگے بڑھنے کی جسارت کرتے ہیں تو، جیسا کہ آپ مختلف سورتوں میں پڑھ چکے ہیں، ان پر شہاب ثاقب کی مار پڑتی ہے۔ مجال نہیں ہے کہ کوئی جن یا انسان ملاء اعلیٰ کے حدود میں داخل یا غیب کے اسرار کی کچھ سن گن لے سکے۔
قسم کی نوعیت: قسم یہاں، جیسا کہ جگہ جگہ وضاحت ہو چکی ہے، بطور شہادت یا اس دعوے پر بطور دلیل کھائی گئی ہے جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ اس سورہ میں مخاطب، جیسا کہ ہم تمہید میں اشارہ کر چکے ہیں، مکہ اور طائف کے وہ فراعنہ ہیں جو نشۂ اقتدار میں کمزور مسلمانوں کو مظالم کا ہدف بنائے ہوئے تھے اور اپنے قلعوں اور ایوانوں پر ان کو اتنا ناز تھا کہ ان کو کبھی خیال بھی نہ ہوتا تھا کہ جس خدائے علیم و قدیر پر ایمان لانے کے انتقام میں وہ اس کے کمزور بندوں پر ستم ڈھا رہے ہیں وہ کوئی کمزور ہستی نہیں ہے بلکہ وہی برجوں والے آسمان کا خالق و مالک ہے۔ وہ اپنی پیدا کی ہوئی اس دنیا سے غافل نہیں ہے بلکہ آسمانی قلعوں اور دیدبانوں سے اس کے کروبی ہر گوشہ کی نگرانی کر رہے ہیں۔ وہ جب چاہے آسمانی برجوں سے اپنی افواج قاہرہ بھیج کر یا زمین ہی سے کوئی آفت ارضی ابھار کر سارے قلعوں، گڑھیوں، ایوانوں کو مسمار اور ان پر ناز کرنے والوں کے غرور کو پامال کر کے رکھ دے۔
Ayah 85:2قیامت کی قسم خود قیامت پر:یہ اس روز قیامت کی قسم ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے۔ جس طرح سورۂ قیامہ میں اس کی قسم کھائی ہے اسی طرح یہاں بھی قسم کھائی ہے۔ قیامت کی قسم خود قیامت ہی سے ڈرانے کے لیے اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے جس سے کسی ذی ہوش کے لیے انکار کی گنجائش نہیں ہے۔ چنانچہ سورۂ قیامہ میں فرمایا ہے کہ اس کی شہادت خود انسان کے نفس ہی کے اندر موجود ہے، اس کو ثابت کرنے کے لیے کسی خارجی شہادت کی ضرورت نہیں ہے۔
’بَلِ الْإِنسَانُ عَلَی نَفْسِہِ بَصِیْرَۃٌ ۵ وَلَوْ أَلْقَی مَعَاذِیْرَہُ‘ (القیامہ ۷۵: ۱۴-۱۵)
(بلکہ انسان خود اپنے اوپر حجت ہے اگرچہ وہ کتنے ہی عذرات تراشے)۔
Ayah 85:3قیامت کے ان تمام شواہد کی طرف اشارہ جو آفاق میں موجود ہیں:
نکرہ یہاں تعمیم کے لیے ہے جس سے قیامت اور جزاء و سزا کے ان تمام دلائل و شواہد کی طرف اشارہ ہو گیا ہے جو آفاق کے ہر گوشے میں موجود ہیں بشرطیکہ انسان آنکھیں اور عبرت پذیر دل رکھتا ہو۔ مثلاً
۔۔۔ اس کائنات کی ہر چھوٹی بڑی چیز خالق کی قدرت، حکمت، رحمت، ربوبیت اور دوسری اعلیٰ صفات کی گواہی دیتی ہے۔ ان صفات کا بدیہی تقاضا، جیسا کہ قرآن نے وضاحت فرمائی ہے، یہ ہے کہ یہ دنیا نہ یوں ہی چلتی رہے اور نہ یوں ہی ایک حادثہ کے طور پر تمام ہو جائے بلکہ واجب ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں اللہ تعالیٰ اس کے نیکوں اور بدوں میں امتیاز کرے۔ جنھوں نے اس کے منشاء کے مطابق زندگی گزاری ہو وہ انعام پائیں اور جنھوں نے شتر بے مہار کی زندگی گزاری ہو وہ اس کی سزا بھگتیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس کائنات کے خالق کے نزدیک خیر اور شر، نیک اور بد میں کوئی فرق ہی نہیں ہے۔
۔۔۔ قرآن نے جا بجا رسولوں اور ان کی قوموں کی کشمکش اور اس کشمکش کے نتیجہ کی تفصیلات بیان فرمائی ہیں اور یہ دکھایا ہے کہ اس نے کس طرح ان لوگوں کو پامال کیا جنھوں نے اس کے رسولوں کی تکذیب کی اگرچہ وہ بڑی قوت و شوکت رکھنے والی قومیں تھیں۔ پھر ان کے آثار سے لوگوں کو سبق حاصل کرنے کی دعوت دی اور فرمایا ہے کہ ہم نے یہ آثار زمین میں محفوظ کیے ہی اس لیے ہیں کہ لوگ ان کو دیکھیں اور ان سے عبرت پکڑیں کہ اللہ نے جو کچھ ان کے ساتھ کیا ہے وہی ان کے ساتھ بھی کرے گا اگر انھوں نے بھی انہی کی روش اختیار کی اور انہی کی طرح اکڑ دکھائی۔
اس استدلالی پہلو کے ساتھ ساتھ ’شاہد‘ اور ’مشہود‘ کے الفاظ کے اندر ایک تخویف کا پہلو بھی ہے جو قیامت کے دن لوگوں کے سامنے آئے گا۔ وہ یہ کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ جو کچھ وہ دنیا میں کر رہا ہے ان میں سے کوئی چیز خدا سے مخفی ہے بلکہ وہ جو کچھ کرے گا ایک ایک کر کے وہ اس کے سامنے آئے اور ہر چیز وہ اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔ اس کے اعضاء و جوراح خود اس کے ہر قول و فعل کی گواہی دیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے ’کرامًا کاتبین‘ اس کے جملہ نیک و بد اعمال و اقوال کی رپورٹ پیش کریں گے، حضرات انبیاء علیہم السلام اور صالحین و مصلحین بھی گواہی دیں گے کہ انھوں نے کیا بتایا اور سکھایا اور لوگوں نے ان کے اور ان کی تعلیمات کے ساتھ کیا سلوک کیا۔
Ayah 85:4منکرین قیامت کو تنبیہ:
یہ مذکورہ قسموں کا جواب نہیں ہے بلکہ سورۂ ق اور بعض دوسری سورتوں میں جس طرح جواب قسم حذف ہو گیا ہے اسی طرح یہاں بھی جواب قسم حذف کر کے اس کی جگہ منکرین قیامت کے لیے تذکیر و تنبیہ کی آیتیں رکھ دی گئی ہیں۔ یہ طریقہ ان مواقع میں اختیار کیا جاتا ہے جہاں جواب قسم اس قدر واضح ہو کہ ذکر کے بغیر بھی ذہن اس کی طرف بے تکلف منتقل ہو سکے۔ اس سے کلام میں ایجاز بھی پیدا ہو جاتا ہے اور وہ ساری بات جواب قسم کی حیثیت سے محذوف بھی مانی جا سکتی ہے۔ جس کے لیے کلام کا سیاق و سباق مقتضی ہو۔ یہاں مذکورہ قسموں کی روشنی میں مقسم علیہ کو کھولیے تو یہ ہو گا کہ قیامت شدنی ہے، اللہ تعالیٰ کے احاطۂ قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے، اس دن ہر شخص اپنے کیے کا انجام دیکھے گا۔
’اُخْدُوْدٌ‘ کے معنی کھڈ، کھائی اور گڑھے کے ہیں۔ اس کی وضاحت ’النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ‘ سے فرما دی گئی ہے۔ یعنی یہ گڑھے ایندھن والی آگ سے بھرے ہوں گے۔ ایندھن والی آگ، کی صفت سے مقصود اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ اس آگ کے برابر بھڑکتے رہنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے وافر ایندھن فراہم کر رکھا ہے، کوئی یہ توقع نہ رکھے کہ ایندھن کی کمی کے سبب سے کبھی یہ دھیمی پڑ جائے گی۔ اس ایندھن کی نوعیت سورۂ بقرہ آیت ۲۴ میں یوں واضح فرمائی گئی ہے:
’فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَقُوْدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ‘
(پس اس آگ سے بچو جس کے ایندھن لوگ بنیں گے اور پتھر)۔
’اَصْحٰبُ الْأُخْدُوْدِ‘: ’اَصْحٰبُ الْأُخْدُوْدِ‘ کے تحت مفسرین نے ایک بادشاہ کا قصہ نقل کیا ہے لیکن اس کا کوئی نام یا زمانہ نہیں بتایا ہے۔ بس اتنا ہی بتاتے ہیں کہ اس نے اپنے دور کے بہت سے باایمان نصاریٰ کو محض اس جرم میں آگ کے گڑھوں میں پھنکوا دیا کہ انھوں نے اس کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اگرچہ اہل کتاب کی عقائدی چپقلش کے دور میں ایک دوسرے کو جلانے کے بعض واقعات تاریخوں میں مذکور ہیں لیکن خاص اس واقعہ سے متعلق مفسرین نے جو عجیب و غریب باتیں نقل کی ہیں وہ کسی طرح بھی قابل اعتبار نہیں ہیں، اس وجہ سے ہم ان سے صرف نظر کرتے ہیں۔ یہاں مخاطب، جیسا کہ ہم اشارہ کر چکے ہیں، قریش کے فراعنہ ہیں جو کمزور مسلمانوں کو ظلم و ستم کا ہدف بنائے ہوئے تھے۔ وہ ایک ایسے مجہول بادشاہ کے انجام سے کیا سبق حاصل کرتے جس کا نام تک نہ ان کو معلوم تھا نہ مفسرین کے علم میں ہے۔ علاوہ ازیں یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ ’اَصْحٰبُ الْأُخْدُوْدِ‘ کے لیے یہاں جو زجر اور وعید ہے وہ آخرت سے متعلق ہے نہ کہ اس دنیا سے متعلق۔ اگر اس کو اس دنیا سے متعلق مانیے تو اس سے ان کے ظلم کی ایک ہلکی سی تصویر تو ضرور سامنے آتی ہے لیکن ان کا کوئی ایسا عبرت انگیز انجام قرآن نے نہیں بتایا ہے جو قریش کے لیے سبق آموز ہو سکتا۔ یہ بات کہ ان کی بھڑکائی ہوئی آگ نے خود ان کو اور ان کی بستیوں کو جلا کر راکھ بنا دیا صرف مفسرین نے بیان کی ہے۔ قرآن نے کوئی اشارہ اس کی طرف نہیں کیا حالانکہ پیش نظر مقصد کے لیے اصل ظاہر کرنے کی بات یہی تھی۔
Ayah 85:5ہمارے نزدیک یہ قریش کے ان فراعنہ کو، جو مسلمانوں کو ایمان سے پھیرنے کے لیے طرح طرح کی اذیتوں کا تختۂ مشق بنائے ہوئے تھے، جہنم کی وعید ہے۔ ان کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر وہ اس شقاوت سے باز نہ آئے تو وہ جہنم کی اس خندق میں پھینکے جائیں گے جو کبھی نہ بجھنے والی آگ سے بھری ہو گی۔
Ayahs 85:6–7اشقیاء کے انجام کی تصویر:
یہ تصویر ہے ان اشقیاء کے انجام کی۔ فرمایا کہ یہ اس وقت کو یاد رکھیں جب وہ اس خندق کے کنارے بیٹھیں گے اور جو کچھ مسلمانوں کے ساتھ کر رہے ہیں اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ پہلے ان کو اس آگ بھری خندق کے کنارے پر بٹھایا جائے گا تاکہ وہ اپنا ٹھکانا دیکھ لیں اور پھر وہ اپنی ایک ایک ظالمانہ حرکت کا مزہ چکھیں گے۔ گویا لفظ ’شُہُوْدٌ‘ یہاں نتیجۂ فعل کے مفہوم میں ہے، جس کی مثالیں قرآن مجید میں بہت ہیں۔
یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مجرم کو اس کا اصل ٹھکانا اگر پہلے سے دکھا دیا جائے اور پھر اس کو اس کا مزہ چکھایا جائے تو اس کا عذاب دونا ہو جاتا ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ اس بات کی طرف اشارہ موجود ہے کہ مجرموں کو پہلے جہنم کے کناروں پر بٹھایا جائے گا تاکہ وہ دیکھ لیں کہ ان کو کہاں جانا ہے اور پھر ان کو اس میں پھینک دینے کا حکم دیا جائے گا۔ فرعون اور آل فرعون کے متعلق بھی قرآن میں یہ ذکر ہے کہ عالم برزخ سے ان کو صبح و شام دوزخ کی سیر کرائی جاتی ہے۔
ممکن ہے کہ کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ حرف ’اِذْ‘ گزرے ہوئے زمانہ کے کسی واقعہ کی یاددہانی کے لیے آتا ہے اور ہم نے مستقبل میں پیش آنے والی صورت حال کے بیان کے مفہوم میں لیا ہے، لیکن اس شبہ کا ازالہ یوں ہو جاتا ہے کہ قرآن میں جو احوال قیامت کی تفصیل جابجا ماضی کے صیغوں سے کی گئی ہے جس کی توجیہ علماء نے یہ کی ہے کہ مستقبل کی تعبیر ماضی کے اسلوب میں اس کی قطعیت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کی وضاحت جگہ جگہ ہو چکی ہے۔
Ayah 85:8ایمان والوں کی سب سے بڑی نیکی کافروں کے نزدیک سب سے بڑا گناہ ہے:
یعنی مسلمانوں پر یہ غیظ و غضب اس وجہ سے نہیں ہے کہ ان سے کوئی قصور صادر ہوا ہے، بلکہ ان کی سب سے بڑی نیکی ان اشقیاء کے نزدیک ان کا سب سے بڑا جرم ہے جس کے سبب سے وہ سزاوار تعذیب قرار پائے ہیں۔ ان کو سزا اس گناہ کی دی جا رہی ہے کہ یہ خدائے عزیز و حمید پر ایمان لائے۔ حالانکہ خدائے عزیز و حمید پر ایمان لا کر ان کے ان بندوں نے وہ سب سے بڑا حق ادا کیا ہے جو ان کے خالق و مالک کی طرف سے ان پر عائد ہوتا ہے۔ ان کا یہ اقدام لائق اعتراف و اکرام اور قابل تقلید تھا نہ کہ سزاوار عناد و انتقام، لیکن جن کی مت ماری جاتی ہے وہ اپنے خیر خواہوں کے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں۔
صفات عزیز و حمید کے تقاضے: یہاں اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے دو صفتوں۔۔۔ عزیز اور حمید۔۔۔ کا حوالہ ہے۔ صفت ’عزیز‘ اس کی عزت، قدرت، شان اور عظمت و جلال کو ظاہر کرتی ہے اور ’حمید‘ سے اس کی رحمت، ربوبیت اور سزاوار حمد و شکر ہونے کا اظہار ہوتا ہے۔ ان کے حوالہ سے مقصود اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ جو ذات ان صفات سے متصف ہے وہی حق دار ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے۔ جو اس پر ایمان لائے انھوں نے اس کا سہارا لیا ہے جس کا سہارا ہی اصل سہارا ہے اور وہی فلاح پانے والے ہوں گے۔ اس میں ضمناً مظلوم مسلمانوں کے لیے جو بشارت اور ان کے درپۓ آزار کفار کے لیے جو وعید مضمر ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے۔
Ayah 85:9یہ مذکورہ بالا بشارت اور وعید دونوں پر مزید روشنی ڈالی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جس کی بادشاہی ہے وہی حق دار ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے اور جو اس پر ایمان لائے ان کے لیے اسی کی پناہ کافی ہے۔
’وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ شَہِیْدٌ‘۔ یعنی جو مسلمان اعدائے ایمان کے ہاتھوں دکھ اٹھا رہے ہیں وہ اطمینان رکھیں کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک ان کے مصائب سے بے خبر نہیں ہے بلکہ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ تو جب وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے تو اپنی بادشاہی میں اپنے باایمان بندوں پر اعداء کے ظلم و ستم کو کب تک گوارا کرے گا! ساتھ کفار کے لیے اس میں وعید ہے کہ خدا کی ڈھیل سے مغرور نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کی ستم رانیوں سے بے خبر نہیں ہے۔ وہ سارا تماشا دیکھ رہا ہے۔ وہ وقت دور نہیں ہے جب وہ اپنے مظلوم بندوں کا انتقام لے گا اور بھرپور انتقام لے گا۔
Ayah 85:10مسلمانوں کو ستانے والوں کو واضح الفاظ میں وعید:
اوپر جو وعید اشارات کے پردے میں سنائی گئی ہے اس آیت میں وہ بالکل بے نقاب کر دی گئی ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ ایمان لانے والے مردوں اور ایمان لانے والی عورتوں کو دین سے پھیرنے کے لیے نشانۂ ستم بنائیں گے اور پھر توبہ نہیں کریں گے وہ یاد رکھیں کہ ان کے لیے جہنم کا عذاب، خاص کر آگ کا عذاب ہے۔
لفظ فتنہ یہاں خاص کر اس ظلم و ستم کے لیے آیا ہے جو کسی پر اس کے دین سے اس کو پھیرنے کے لیے کیا جائے۔ اس معنی میں یہ لفظ قرآن میں بار بار آیا ہے جس کی وضاحت ہو چکی ہے۔
’مُؤْمِنِیْنَ‘ کے پہلو بہ پہلو ’مُؤْمِنٰتٌ‘ کا ذکر یہاں خاص اہتمام سے اس لیے ہوا ہے کہ جس دور ابتلاء سے یہ آیات متعلق ہیں اس میں سب سے زیادہ ظلم کمزور عنصر ہونے کے سبب سے عورتوں، بالخصوص لونڈیوں پر ڈھائے گئے۔ ان ظلم ڈھانے والوں کو آگاہ فرمایا گیا ہے کہ سلامتی مطلوب ہے تو جلد سے جلد توبہ اور اصلاح کر لیں ورنہ یاد رکھیں کہ اسی حال میں اگر ان کا خاتمہ ہوا تو سیدھے جہنم میں اتریں گے۔
’عَذَابُ جَہَنَّمَ‘ کے ذکر کے بعد بظاہر ’عَذَابُ الْحَرِیْقِ‘ کے ذکر کی ضرورت نہیں تھی لیکن یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے۔ ’جَہَنَّمَ‘ عذاب کی جملہ اقسام و انواع کا مرکز ہے جس میں سب سے بڑا عذاب جلنے کا عذاب ہے۔ گویا ان لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ جہنم کے دوسرے عذابوں کے ساتھ ساتھ ان کو جلنے کے عذاب کا بھی مزا چکھنا پڑے گا۔ اس انجام کو اچھی طرح سوچ رکھیں۔
Ayah 85:11ثابت قدم رہنے والوں کو بشارت:
یہ ان اہل ایمان کی حوصلہ افزائی ہے جو ان پُر محن حالات کے باوجود اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے۔ فعل ’اٰمَنُوْا‘ قرینہ دلیل ہے کہ یہاں اپنے حقیقی اور کامل معنی میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ظالموں کے ان مظالم کے علی الرغم جو اہل ایمان اپنے ایمان پر جمے اور عمل صالح کی روش پر قائم و دائم رہیں گے ان کے لیے بے شک ایسے باغ ہوں گے جن میں نہریں بہہ رہی ہوں گی۔
’ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْکَبِیْرُ‘۔ یعنی کوئی اس کامیابی کو معمولی کامیابی نہ سمجھے۔ یہ دائمی اور ابدی کامیابی ہے، جس کو حاصل ہو گی وہی جانے گا کہ اس نے چند دنوں کی آزمائشوں کے صلے میں کیسی عظیم بادشاہی حاصل کی۔
Ayah 85:12مذکورہ باتوں کی تائید میں صفات الٰہی کا حوالہ:
اوپر کی آیات میں اہل ایمان کے ستانے والے کفار کو جو دھمکیاں اور مظلوم مسلمانوں کو جو بشارتیں دی گئی ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی مزید صفات کی یاددہانی سے ان کو مزید موکد و مدلل کر دیا ہے۔
’اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ‘۔ فرمایا کہ تیرے رب کی پکڑ بڑی ہی سخت ہے۔ کوئی اس مغالطہ میں نہ رہے کہ وہ اپنی جماعت و جمعیت یا اپنے شرکاء و شفعاء کے بل پر اس سے اپنے کو بچا لے گا۔ اللہ کی پکڑ سے نہ کوئی بچ سکتا نہ اس کو کوئی بچانے والا بن سکتا۔
’رَبِّکَ‘ کا خطاب اگر آنحضرت ﷺ سے مانا جائے تو یہ خطاب آپ سے ان مظلوموں کے وکیل کی حیثیت سے ہو گا۔
Ayah 85:13’إِنَّہُ ہُوَ یُبْدِئُ وَیُعِیْدُ‘۔ ظالموں کو اوپر جس عذاب جہنم کی دھمکی دی گئی ہے یہ اس کی دلیل بیان کر دی گئی ہے کہ کوئی اس مغالطہ میں بھی نہ رہے کہ آخرت اور جزا و سزا کا ڈراوا محض ڈراوا ہے، مرنے کے بعد نہ کوئی زندگی ہے نہ کوئی موت۔ فرمایا کہ خدا ہی ہے جو لوگوں کو اس دنیا میں پیدا کرتا ہے اور جب وہ پیدا کرتا ہے تو وہ ازسرنو ان کا اعادہ بھی کر سکتا ہے۔ جب پہلی بار اس کو پیدا کرنے میں کوئی مشکل نہیں پیش آئی تو دوبارہ یہ کام اس کے لیے کیوں مشکل ہو جائے گا؟
Ayahs 85:14–16’وَہُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُ ۵ ذُو الْعَرْشِ الْمَجِیْدُ ۵ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ‘۔ یعنی بخشنے والا اور محبت کرنے والا تنہا وہی ہے، جس کو لَو لگانی ہو تنہا اسی سے لگائے۔ کوئی اور نہیں ہے جو کسی کے کچھ کام آ سکے۔ عرش کا مالک اور عظمت والا وہی ہے۔ کوئی اس کے اقتدار اور اس کی عظمت میں شریک نہیں ہے۔ وہ جو چاہے کر ڈالنے والا ہے۔ نہ وہ کسی کا محتاج ہے نہ کوئی اس کے کسی ارادے میں مزاحم ہو سکتا۔
Ayahs 85:17–18تاریخ سے بعض مثالوں کا حوالہ:
انہی حقائق کو ثابت کرنے کے لیے جو اوپر مذکور ہوئے، یہ تاریخ کی بعض مثالوں کی طرف اشارہ فرما دیا۔ خدا کی پکڑ میں آنے والی جن قوموں کی سرگزشت قرآن نے سنائی ہے ان میں قوم ثمود اور فرعون کے جبر و ظلم اور طغیان و فساد کا ذکر خاص اہتمام سے فرمایا ہے۔ قریش کے لیڈروں پر ان دونوں قوموں کی عظمت و شوکت کی بڑی دھاک تھی۔ ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ دیکھ لو، جب خدا نے ان کو پکڑا تو چشم زدن میں وہ صفحۂ ہستی سے مٹ گئے اور کوئی ان کو بچانے والا نہ بن سکا!
Ayah 85:19انکار کا اصل سبب ضد ہے:
اس ’بَلْ‘ سے پہلے کلام کا کچھ حصہ بربنائے قرینہ محذوف ہے۔ اس کو کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہو گی کہ جو کچھ ان کو سنایا جا رہا ہے، ہے تو یہ حرف حرف حق۔ کسی کے لیے بھی اس سے انکار کی گنجائش نہیں ہے لیکن یہ قیامت کے منکرین جان بوجھ کر جھٹلانے کے درپے ہیں اور اب ایسی پچ آ پڑی ہے کہ کسی طرح اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
Ayah 85:20لفظ ’وَرَآءَ‘ آگے اور پیچھے دونوں معنوں میں آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ جھٹلانے ہی پر بضد ہیں تو اپنی ضد پر اڑے رہیں لیکن یاد رکھیں کہ ان کی تکذیب سے حقیقت جھوٹ نہیں ہو جائے گی۔ اللہ ان کے آگے پیچھے ہر طرف سے احاطہ کیے ہوئے ہے۔ وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہیں جا سکتے۔
Ayahs 85:21–22اس ’بَلْ‘ سے پہلے بھی بربنائے وضاحت قرینہ کچھ محذوف ہے۔ اس کو کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہو گی کہ یہ قرآن جس انجام سے تمہیں ڈرا رہا ہے یہ ایک حقیقت ہے۔ یہ ایک بزرگ و برتر کلام ہے۔ یہ شاعروں اور کاہنوں کے کلام کی طرح کی کوئی ہوائی چیز نہیں ہے بلکہ یہ خدا کی نازل کردہ وحی ہے اور اس کا منبع لوح محفوظ ہے جس تک کسی جن و انس کی رسائی نہیں ہے۔