Ayahs 86:1–2(1) طارق کا معنی و مفہوم اور اس سے مقصود و مراد ؟ " طارق " اصل میں بنا ہے " طرق " سے، جس کے معنی کوٹنے پیٹنے اور مارنے بجانے کے آتے ہیں، اسی لیے ہتھوڑے کو " مطرقہ " کہا جاتا ہے۔ یعنی کوٹنے پیٹنے کا آلہ، اور اسی لیے راستے کو " طریق " کہا جاتا ہے کہ سب لوگ اس کو لتاڑتے اور اس پر چلتے گزرتے ہیں، اور اسی لیے رات کو آنے والے مہمان کو بھی " طارق " کہا جاتا ہے کہ اس کو بھی بند دروازہ کھلوانے کے لیے پیٹنے کوٹنے اور دستک دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ پھر اس میں توسیع سے کام لے کر کے اس کا اطلاق چاند پر بھی کردیا جاتا ہے کہ وہ بھی رات کو ہی آتا ہے، پھر اس میں مزید توسیع سے کام لے کر ہر آنے والے اور مہمان پر بھی اس کا اطلاق کردیا جاتا ہے۔ اور یہاں اس کی تعیین آگے خود کلام ربانی میں " النجم الثاقب " سے فرما دی گئی ہے کہ یہاں پر اس سے مراد آسمان کے وہ تارے ہیں جو رات کو اندھیروں کو چیر کر دنیا کی راہنمائی کرتے ہیں، اور اس کائنات کے خالق ومالک کی عظمت اور اس کی وحدانیت کا درس دیتے ہیں، اور " وما ادراک " کا سوال اس شہادت کی عظمت و اہمیت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی اس شہادت کو معمولی نہ سمجھے، یہ بہت بڑی شہادت ہے، بشرطیکہ غور کرنے والے اس میں غور کریں اور اس کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اور اس کو یوں ہی مذاق میں اڑانے کی کوشش نہ کریں، والعیاذ باللہ العظیم، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین فی کل ان و حین و ھو العزیز الرحیم۔
Ayah 86:3(2) " النجم الثاقب " سے مقصود و مراد ؟ سو اس سے مراد جنس نجم ہے، پس یہ تمام ہی ستاروں کو عام اور شامل ہے، (محاسن التاویل، مدارک التنزیل، وغیرہ) پس جس طرح آسمان کی عظیم الشان چھت اور اس میں جھلمل جھلمل کرتے ان بےحدو وحساب اور ان گنت ستاروں پر سیاروں کی عظیم الشان و بےمثال کائنات اپنے خالق ومالک کا پتہ دے رہی ہے، اسی طرح یہ اپنی زبان حال سے پکار پکار کر اس بات کا اعلان کر رہی ہے کہ نہ یہ انسان بے خدا ہوسکتا ہے اور نہ ہی اسے شتر بےمہار کی طرح مہمل اور بےکار چھوڑا جاسکتا ہے، بلکہ یہ نہایت بامقصد مخلوق ہے، جس سے اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کی پوچھ ہونی ہے، اور بہرحال ہونی ہے اور اس کا پھل اس نے پانا ہے، اور بہرحال پانا ہے۔ اچھے عمل کا اچھا اور برے کا برا، والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف " النجم الثاقب " سے یہاں پر کوئی خاص ستارہ مراد نہیں، جیسا کہ اس لفظ کے افراد اور اس کی تعریف سے بظاہر اشتباہ ہوتا ہے، بلکہ اس سے مراد جیسا کہ ابھی اوپر بھی ذکر ہوا جنس نجم ہے، جیسا کہ سورة نحل میں ارشاد فرمایا گیا وَعَلامَاتٍ وَبِالنَّجْمِ ہُمْ یَہْتَدُون ( النحل 16 پ 14) اور " ثاقب " کی صفت سے اس طرف اشارہ فرما دیا گیا کہ اس سے مراد وہی ستارے ہیں جن کی روشنی از خود ہم تک پہنچتی ہے اور جن کی جستجو کے لیے ترقی یافتہ دور بینوں کی ضرورت نہیں پیش آتی بلکہ ہر دیکھنے والا ان کو بغیر کسی خارجی سہارے کی ضرورت کے اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے، اور اس سے درس عبرت و بصیرت حاصل کرسکتا ہے، جو کہ اصل مقصود ہے ان کے بارے میں غور و فکر سے کام لینے کا وباللہ التوفیق۔ اس موقع پر یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ ستارے صرف اتنے ہی نہیں جتنے کہ ہمیں نظر آتے ہیں، یہ تو مشتے نمونہ از خروارے کی حیثیت رکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی جان نہیں سکتا کہ کتنے جہاں اور کتنے ستارے ہیں، سائنسدان بھی ابھی تک کے ہزار جتنوں کے باوجود اب تک کچھ ہی معلومات اس بارے میں حاصل کرسکے ہیں اور بس۔ سو ان تمام بےحدو حساب اور عظیم الشان ستاروں کا وجود اور ان کی بقاء اور ان کی اس قدر پر حکمت اور محیر العقول طریقے سے سٹنگ وغیرہ سب امور اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت مطلقہ اور حکمت بالغہ کے رہین منت ہیں، پس وہی وحدہ لا شریک جو اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ہے، وہی معبود برحق ہے۔ پس جس طرح اس کی تخلیق و ایجاد میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں، اسی طرح اس کے حق اطاعت و بندگی میں بھی کوئی اس شریک وسہیم نہیں ہوسکتا، پس عبادت و بدنگی کی ہر قسم او اس کی ہر شکل اسی کا وحدہ لا شریک کا حق ہے، فلا معبود بحق سوائہ، ولا نعبد الا ایاہ جل وعلا۔
Ayah 86:4(3) ہر شخص کی نگرانی کا ذکرو بیان : سو مذکورہ بالا قسم کے جواب میں اور اثبات مدعا کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور ادوات حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " ہر جان پر ایک نگران مقرر ہے "۔ جو اس کی گونا گوں ضرورتوں اور طرح طرح کی حاجتوں کا نہایت ہی پر حکمت اور رحمتوں بھرے طریقے سے انتظام فرماتا ہے، اور اتنا اور اس قدر کہ اس کی ان رحمتوں اور عنایتوں کا احاطہ کرنا بھی کسی کے بس اور امکان میں نہیں۔ سو " لما " یہاں پر " الا " کے معنی میں ہے، اور " ان " نافیہ ہے، یعنی ایسا کوئی شخص نہیں جس پر ایک محافظ موجود نہ ہو۔ " حافظ " بمعنی " محافظ و نگران " کے ہے۔ جیسا کہ فاللہ خیر حافظا میں ہے، اس محافظ سے مراد حضرت ھق جل مجدہ ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ جیسا کہ سورة نساء سے لے کر اس کی موت تک اس کی نگرانی اور حفاظت فرماتی ہے، وہ نہ اس سے کبھی غافل ہوسکتی ہے اور نہ ہی اس کی کوئی حرکت اس سے مخفی اور پوشیدہ رہ سکتی ہے۔ اور نہ ہی وہ ذات اس کو اس قدر عنایات سے نوازنے کے بعد یوں ہی مہمل سا بےکار چھوڑ سکتی ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا أَفَمَنْ ہُوَ قَآئِمٌ عَلَی کُلِّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ ( الرعد 33 پ 13) یعنی " کیا وہ ذات جو ہر شخص کے کیے کرائے پر نظر رکھے ہوئے ہے اس سے غافل ہوسکتی ہے ؟ "۔ اور اس کا کوئی گوشہ عمل اس سے مخفی و مستور رہ سکتا ہے ؟ اور یہ اپنے کئے کرائے کے صلہ وثمرہ اور نتیجہ و انجام سے محروم یا اس سے دور رہ سکتا ہے ؟ اور استفہام یہاں پر انکار ہے، یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ یہ اس کے عدل و انصاف اور اس کی حکمت بالغہ کے تقاضوں کے خلاف اور منافی ہے، اسی لیے اس رحمن و رحیم اور ستار و کریم نے اس انسان کے کئے کرائے کو محفوظ رکھنے کے لیے اس پر اپنے نوری فرشتے مقرر فرما رکھے ہیں جو اس کے تمام اعمال کو محفوظ رکھتے اور ان کا ریکارڈ تیار کر رہے ہیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا وَإِنَّ عَلَیْْکُمْ لَحَافِظِیْنَ ۔ کِرَاماً کَاتِبِیْنَ ۔ یَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ ( الانفطار 10, 12 پ 30) یعنی " اور یقینا تم پر ایسے محافظ اور نگران فرشتے مقرر ہیں جو بڑے معزز و محترم ہیں، جو سب کچھ لکھتے جارہے ہیں اور وہ جانتے ہیں وہ سب کچھ جو تم لوگ اپنے شب و روز کے کسی بھی حصے میں کرتے ہو "۔ سو اس طرح تمہارا ریکارڈ پوری باقاعدگی سے تیار و ہورہا ہے، جو کل قیامت کے اس یوم عظیم میں پورے کا پورا تمہارے سامنے کھول کر رکھ دیا جائے گا، اور ہر شخص سے کہا جائے گا کہ تو اپنے نامہ اعمال کو خود پڑھ لے، اور تو اپنا محاسبہ خود کر کے بتاہ تو کس انجام کا مستحق ہے ؟ وَکُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاہُ طَآئِرَہُ فِیْ عُنُقِہِ وَنُخْرِجُ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کِتَاباً یَلْقَاہُ مَنشُوراً ۔ اقْرَأْ کَتَابَکَ کَفَی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْْکَ حَسِیْباً ( بنی اسرائیل 13, 14 پ 15) اور اسی مضمون اور اسی بات کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا گیا ہَذَا کِتَابُنَا یَنطِقُ عَلَیْْکُم بالْحَقِّ إِنَّا کُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ ( الجاثیہ 29 پ 25) یعنی یہ ہماری کتاب تمہارے بارے میں حق کہتی بتاتی ہے، ہم لکھوا لیا کرتے تھے وہ سب کچھ جو تم لوگ کرتے رہا کرتے تھے، سو جو انسان اس حد تک زیر نگرانی اور تحت النظر ہونے کے باوجود اپنے انجام محتوم اور مصیر موعود سے غافل اور لاپرواہ ہو اس سے بڑھ کر اس محروم و بدنصیب اور خائب وخاسر اور کون ہوسکتا ہے ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ نیز اس خالق ومالک اور رب رحمن و رحیم نے اپنی اس شاہکار مخلوق یعنی حضرت انسان کی حفاظت و نگرانی کے لیے اپنے نوری فرشتوں کی ایسی جماعتیں مقرر فرما رکھی ہیں جو اس امر و ارشاد کے مطابق اس کی حفاظت و نگرانی کرتی اور اس کے لیے وہ ادلتی بدلتی رہتی ہیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا لَہُ مُعَقِّبَاتٌ مِّن بَیْْنِ یَدَیْْہِ وَمِنْ خَلْفِہِ یَحْفَظُونَہُ مِنْ أَمْرِ اللّہِ إِنَّ اللّہَ لاَ یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی یُغَیِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِہِمْ وَإِذَا أَرَاد اللّہُ بِقَوْمٍ سُوء اً فَلاَ مَرَدَّ لَہُ وَمَا لَہُم مِّن دُونِہِ مِن وَال ( الرعد 11 پ 13) یعنی " ہر شخص کے آگے اور اس کے پیچھے ادلنے بدلنے والے ایسے فرشتے مقرر ہیں جو اس کی حفاظت و نگرانی کرتے رہتے ہیں اللہ کے حکم سے "۔ سو اس خالق ومالک کو بھولنا، اس سے منہ موڑنا اور اعراض و استکبار برتنا اور معصیت و نافرمانی کا رویہ اپنانا اور اس کی ان نعمتوں اور عنایتوں میں دوسروں کو اس کا شریک جاننا کس قدر ظلم اور کتنی بڑی بےانصافی ہے ؟ والعیاذ باللہ الذی لا الہ الا ھو۔ بہرکیف قدرت کا یہ عظیم الشان انتظام اس بات پر شاہد اور گواہ ہے کہ یہ دنیا کوئی بےراعی کا گلہ نہیں بلکہ اس کے چپے چپے پر حضرت حق جل مجدہ نے اپنے پہرے دار بٹھا رکھے ہیں، جو شب و روز ہر چیز کی نگرانی کرتے ہیں، سو اس بنا پر لازما اس کے بعد ایک یوم حساب آئے گا اور اس کو ضرور آنا چاہیے، تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور بدرجہ تمام و کمال پورے ہوں، سو اس کے احتساب سے کوئی بھی اپنے آپ کو نہیں بچا سکے گا، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب۔
Ayahs 86:5–7(4) انسان کو خود اپنے وجود میں غور و فکر کی دعوت : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " انسان ذرا خود اپنے وجود ہی کے بارے میں دیکھ اور سوچ لے کہ اس کو کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے ؟ اس کو پیدا کیا گیا ہے ایک ایسے اچھلتے پانی سے جو نکلتا ہے پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے "۔ " تربیہ " جمع ہے " ترائب " کی، جس کے معنی آتے ہیں سینے کی ہڈی اور پسلی۔ سو اس ضمن میں حضرت قادر مطلق جل جلالہ کی قدرت کا کرشمہ ملاحظہ ہو کہ کس طرح قسما قسم کی غذاوں سے چھن چھنا کر خون کا وہ جوہر پیدا ہوتا ہے جو کہ زندگی کا قوام ہے، اور پھر کس حیرت انگیز طریقے سے اس خون سے انسانی دھڑ کے اندر ہڈیوں پسلیوں کے درمیان سے مادہ تولید وجود میں آتا ہے، اور پھر مرد کے مادہ منویہ کا جرثومہ عورت کے بیضہ سے ملکر جنین کی شکل اختیار کرتا ہے اور وہ بڑھتے بڑھتے کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے، پھر کتنا ناشکرا اور کس قدر ظالم و بےانصاف ہے وہ انسان جو اس قادر مطلق اور رحمن و رحیم خداوند قدوس کو بھول جائے اور اس کی یاد دلشاد سے غافل ہو کر وہ خواہشات نفس کا بندہ اور غلام بن جائے، اور وہ انہی کے پیچھے بہتا اور لڑھکتا چلا جائے، اور اس سے بڑھ کر ظلم و بےانصافی یہ کہ وہ دوسروں کو وحدہ لا شریک کا شریک وسہیم ماننے لگے، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو انسان اگر خود اپنی ہی خلقت پر صحیح طریقے سے غور کرے تو اس کو اپنے خالق ومالک کی قدرت، اس کی حکمت اور اس کی صنعت گری کی ایسی عظیم شانیں نظر آئیں گی کہ وہ خود پکار اٹھے گا کہ جو قادر مطلق پانی کی ایک حقیر سے بوند سے ان کو ان اعلی صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کرسکتا ہے، اس نے اس کو یونہی بیکار پیدا نہیں کیا اور یہ کہ وہ اس کو مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے، سو انسان کے اس مادہ تولید میں غور و فکر سے ایک طرف تو حضرت حق جل مجدہ کی قدرت اس کی حکمت اور اس کی بےپایاں رحمت و عنایت کے ایسے عظیم الشان مظاہر سامنے آتے ہیں کہ انسان دل و جان سے اپنے اس خالق ومالک کے حضور جھک جھک جائے اور دوسری طرف اس سے یہ عظیم الشان درس عبرت بھی ملتا ہے کہ اس مادے سے اور اس طور طریقے سے پیدا ہونے والے اور وجود میں آنے والے انسان کو اکڑنے اور تکبر کرنے کا کیا حق ہوسکتا ہے ؟ جیسا کہ حضرت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ دو شرمگاہوں کے ذریعے وجود میں آنے والے انسان کو تکبر کرنے کا کیا حق حاصل ہوسکتا ہے ؟ اور تیسری طرف یہ کہ انسان کا یہ مادہ تولید و تخلیق کوئی نایاب چیز نہیں کہ اس کو دوبارہ وجود میں لانا حضرت حق جل مجدہ کے لیے مشکل ہوجائے، اللہ جب چاہے گا اس کو دوبارہ پیدا فرمادے گا۔
Ayah 86:8(5) انسان کا وجود خود اس کے عادہ خلق پر دلیل : سو انسان کے ان مراحل تخلیق وتکوین کی تذکیر و یاد دہانی کے بعد ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ وہ اس کو دوبارہ پیدا کردینے پر بھی پوری طرح قادر ہے " کہ جس قادر مطلق نے اس قدر لطف و عنایت اور ایسی حکمت بےغایت سے اسے وجود بخشا اور بےجان مادوں سے اسے اس طرح نکال کر موجود کیا، اس کو ہیست سے ہست کیا، طرح طرح کی قوتوں اور صلاحیتوں سے اس کو نوازا۔ آخر اس کے لیے اس انسان ضعیف کو مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کردینا کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو یہ انسان اگر اپنی اس خلقت کو بھول کر اس قادر مطلق کی قدرت اور اس کے وعدے کا انکار کرے اور اسی کے حضور منطق بگھارنے اور یوں کہنے لگے کہ کون زندگہ کرے گا ان ہڈیوں کو جب کہ یہ گل سڑ چکی ہوں گی، وَضَرَبَ لَنَا مَثَلاً وَنَسِیَ خَلْقَہُ قَالَ مَنْ یُحْیِیْ الْعِظَامَ وَہِیَ رَمِیْمٌ ( یسین 78 پ 23) تو اس سے بڑھ کر ظالم اور بےانصاف اور کون ہوسکتا ہے ؟ " رجع " کی ضمیر کا مرجع انسان ہے، سو جس قادر مطلق نے انسان کی تخلیق و پیدائش میں اپنی قدرت و حکمت کی یہ اور یہ شانیں دکھائی ہیں وہ یقینا اس پر بھی قادر ہے کہ وہ اس کو مر کھپ جانے کے بعد دوبارہ پیدا کرے، اور وہ ضرور پیدا کرے گا، کہ یہ اس کی قدرت و حکمت اور رحمت عنایت کا تقاضا ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو بعث بعد الموت عقل و نقل سب کا تقاضا ہے۔ وایاک نسال اللھم التوفیق للتقوی و ما تحب وترضی من القول و والعمل یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین۔
Ayah 86:9(6) یوم حساب کی تزکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور اس یوم حساب کی تذکیر و یاد دہانی کراتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " جس دن جانچ پڑتال کی جائے گی چھپی باتوں کی " یعنی اس کی ان باتوں کی جو اس نے اپنے نہاں خانہ دل میں چھپا رکھی تھیں، جس میں تمام گندے عقیدے، برے خیالات، فاسد نظریات اور بری نیتیں وغیرہ سب کچھ آگیا، نیز اس کے وہ اعمال بھی جو انسان دوسروں سے چھپا چھپا کر کیا کرتا تھا اور سمجھتا تھا کہ ان کی خبر کسی کو نہیں۔ اور واقعہ بھی یہی ہے کہ بہت سے لوگوں کو ان کا پتہ نہیں ہوتا تھا، مگر اس خالق ومالک سے اس کی کوئی حرکت اور کوئی کیفیت کیسے اور کیونکر مخفی و مستور رہ سکتی ہے ؟ جو کہ عالم الغیب والشھادۃ ہے اور جو نہاں وعیاں کو ایک برابر جانتا ہے، جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا أَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ (الملک 14 پ 29) یعنی کیا وہی نہیں جائے گا جس نے پیدا کیا، اور وہ بڑا ہی باریک بین اور نہایت ہی باخبر ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جو اپنے علم و آگہی کے اعتبار سے ہر حال میں تمہارے ساتھ ہے ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ أَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِیْ الْأَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْہَا وَمَا یَنزِلُ مِنَ السَّمَاء وَمَا یَعْرُجُ فِیْہَا وَہُوَ مَعَکُمْ أَیْْنَ مَا کُنتُمْ وَاللَّہُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیْرٌ ( الحدید 4 پ 27) قیامت کے اس یوم عظیم میں صرف ظاہری اعمال و اقوال ہی کو نہیں دیکھا جائے گا بلکہ ان نیتوں اور ارادوں کی جانچ پڑتال اور چھانٹ بھٹک کی جائے گی جو ان کے پیچھے کار فرما تھے، اور جو ان کو ان صل محرک تھے، سو اس روز مخفی اعمال دلوں کے کھوٹ اور نیتوں کے فساد کو بھی جانچا اور پرکھا جائے گا۔ اور پرکھ کر بتاد یا جائے گا کہ کس کے اندر کھوٹ کتنا ہے اور صدق و اخلاص کتنا ؟ اور اسی کے مطابق جزا و سزا جا فیصلہ کیا جائے گا، اس لیے اس وحدہ لا شریک کے ساتھ اپنے قلب و باطن اور نیتوں ارادوں کو بھی درست رکھنے کی ضرورت ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، اللہ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین و یا اکرم الاکرمین، یا من بیدہ ملکوت کل شیء و ھو یجیر ولا یجار علیہ۔
Ayah 86:10(7) یوم حساب میں انسان کی بےبسی کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور انسان کو یوم حساب کی بےبسی کی تذکیر و یاد دہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر نہ تو اس کے پاس کوئی اپنی طاقت ہوگی اور نہ کوئی مددگار "۔ یعنی کوئی ایسا مددگار جو اس موقع پر اس کی کوئی مدد کرسکے، کیونکہ اس کے سب فرضی سہارے اس روز ھباء منثورا ہوچکے ہوں گے، اور ناصر حقیقی وحدہ لاشریک سے اس نے تعلق جوڑا نہیں تھا اس لیے اس کی طرف سے اس کو کوئی مدد نہیں مل سکے گی، اور دوسرے جن فرضی سہاروں پر ایسوں نے تکیہ وآسرا کر رکھا تھا وہ کچھ کام آنے کے قابل تھے ہی نہیں کہ وہ سب غرضی وہمی اور خود ساختہ تھے اس لیے ایسوں کا اس روز نہ کوئی حمایتی ہوگا نہ مددگا، مَا لَہُم مِّن وَلِیٍّ وَلَا نَصِیْرٍ ( الشوری 8 پ 25) بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرمایا دیا گیا کہ حساب و کتاب کے اس یوم عظیم میں نہ کسی کے اندر اپنی کوئی قوت ہوگی جس سے وہ اپنا دفاع کرسکے، اور نہ ہی اس کے اعوان و انصار اور شرکاء و شفاء میں سے کوئی اس کی حمایت کے لیے اٹھنے والا ہوگا، ہر ایک کا ظاہر و باطن ایک کھلی کتاب کی طرح اس کے سامنے ہوگا اور صرف خدائے علیم وخبیر کا فیصلہ ہی اس روز بےچون چرا نافذ ہوگا، سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس سے یوم حساب کی اس بےبسی سے اس قدر صراحت و ضاحت کے ساتھ پیشگی اسی دنیا میں ہی آگاہ کردیا گیا، تاکہ غافل انسان ہوش کے ناخن لے اور اس یوم حساب کے پیش آنے سے پہلے اپنی اصلاح اور اپنے بچاؤ کی فکر کرے، قبل اس سے کہ عمر رواں کی فرصت محدود اس کے ہاتھ سے نکل جائے اور اس کے نتیجے میں اس کو ہمیشہ ہمیش کے لیے بھچتانا پڑے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ ہر مقام پر اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین و یا اکرم الاکرمین، یا من بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ۔
Ayah 86:11(8) بعث بعد الموت پر آفاقی شہادت کا ذکرو بیان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور بعث بعد الموت پر آفاقی شہادت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " قسم ہے آسمان کی جو کہ بارش برساتا ہے "۔ جس سے مردہ زمین کو نئی زندگی ملتی ہے اور وہ گل گلزار بن کے لہلہانے لگتی ہے۔ " رجع " کے اصل معنی لوٹنے اور واپس ہونے کے ہیں، اور بارش کو " رجع " اس لیے کہا جاتا ہے کہ ایک تو یہ بار بار برستی اور مردہ زمین کو زندگی اور تازگی بخشتی رہتی ہے، اور دوسرے اس لیے کہ یہ بخارات کی شکل میں نیچے سے اٹھ کر اوپر جاتی ہے، اور پھر واپس وہاں پر برستی ہے۔ اور اس طور پر کہ سمندروں کا کھاری اور کڑا پانی اوپر جاکر قدرت خداوندی سے فلٹر ہو کر دوبارہ میٹھے اور ستھرے پانی کی شکل میں برستا اور خلق خداوندی کی فیض رسانی کرتا ہے۔ سو پہلے حیات بعد الموت اور روز جزا پر انسان کی خلقت سے شہادت پیش کی گئی تھی، اور اب اسی دعوے پر ایک آفاقی دلیل کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے تاکہ غافل انسان چونک کر بیدار ہو، اور اپنی آخرت و انجام کے لیے فکر مند ہوسکے، اور اس کے لیے کوشش کرسکے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب ملھم الصدق والصواب۔
Ayah 86:12(9) شہادت ارضی کا ذکر وبیان : سو آفاقی دلیل کے ذکرو بیان کے بعد اب ارضی شہادت کے ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا " اور قسم ہے زمین کی جو پھٹ جاتی ہے "، اور اس طرح وہ لوگوں کے فائدے کے لیے طرح طرح کی پیداواریں نکالتی ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقّاً ۔ فَأَنبَتْنَا فِیْہَا حَبّاً ۔ وَعِنَباً وَقَضْباً ( عبس 26 تا 28 پ 30) " صدع " کے معنی پھٹنے کے آتے ہیں، یعنی جب بارش ہوتی ہے تو زمین کے مسام ایک نہایت ہی پر حکمت طریقے سے کھل جاتے ہیں اور وہ پانی کو جذب کر کے ایک خاص طرح کی انگڑائی لیتی اور پھول جاتی ہے، اور دیکھتے دیکھتے لہلہا اٹھتی ہے، اور طرح طرح کی عمدہ اور بارونق پیدواریں اگاتی ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی اس طرح تصریح فرمائی گئی ہے، وَتَرَی الْأَرْضَ ہَامِدَۃً فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَیْْہَا الْمَاء اہْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنبَتَتْ مِن کُلِّ زَوْجٍ بَہِیْجٍ ( الحج 5 پ 17) اور بعینہ یہی بات سورة حم السجدہ آیت نمبر 39 میں ارشاد فرمائی گئی وَمِنْ آیَاتِہِ أَنَّکَ تَرَی الْأَرْضَ خَاشِعَۃً فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَیْْہَا الْمَاء اہْتَزَّتْ وَرَبَتْ إِنَّ الَّذِیْ أَحْیَاہَا لَمُحْیِیْ الْمَوْتَی إِنَّہُ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ قَدِیْرٌسو یہ ارشاد امکان بعث کے لیے بھی دلیل ہے اور ضرورت بعث کے لیے بھی، سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayah 86:13(10) قرآن قطعی طور پر ایک فیصلہ کن کلام : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلا شبہ یہ ایک قطعی اور فیصلہ کن کلام ہے " یہ کوئی ہنسی مذاق والا کلام نہیں، یعنی جس طرح آسمان کا مینہ برسانا، زمین کا پھٹ کر طرح طرح کی پیداواریں نکالنا، کوئی ہنسی مذاق یا فرضی اور خیالی چیز نہیں، بلکہ ٹھوس واقعات اور اٹل و قطعی اور واضح حقائق ہیں، اسی طرح یہ قرآن مجید بھی کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں بلکہ یہ ٹھوس اٹل اور ابدی حقائق و واقعات کا آئینہ دار کلام اکہی اور قانون خداوندی ہے، اور جس روز قیامت سے یہ قرآن دنیا کو آگاہ کر رہا ہے وہ ایک قطعی امر اور اٹل حقیقت ہے۔ جس نے اپنے وقت مقرر پر بہاحال آکر اور واقع ہو کر رہنا ہے، پس عقل و دانش کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے آنے والے وقت کے لیے تیاری کی جائے اور اس کے بارے میں ملنے والی ہدایات وتعلیمات کو دل سے سنا اور صدق دل سے اپنایا جائے اور زندگی اسی کے مطابق گزاری جائے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب۔
Ayahs 86:14–15(11) منکرین کی چالبازی کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ ایک چال چل رہے ہیں "۔ یہ لوگ چال چل رہے ہیں اس نور حق کو مٹانے، اس کا راستہ روکنے اور اس کو نیچا دکھانے کے لیے یُرِیْدُونَ أَن یُطْفِؤُواْ نُور اللّہِ بِأَفْوَاہِہِمْ وَیَأْبَی اللّہُ إِلاَّ أَن یُتِمَّ نُورَہُ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُونَ ( التوبہ 32 پ 10) یعنی اللہ انکار کرتا ہے مگر یہ کہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے، اگر یہ بات بری لگے کافروں کو، بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ لوگ دعوت حق و ہدایت کے مقابلے میں جو سخن سازیاں کر رہے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں کہ ان کے دلوں میں فی الواقع کچھ ایسے شبہات ہیں جو کسی جواب دینے، یا کوئی معجزہ دکھانے سے دور ہوجائیں گے اور اس کے بعد یہ حق کو قبول کرلیں گے، سو نہیں ایسے نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں کی طرف سے یہ شبہات محض حق سے فرار کے لیے گھڑے اور پیش کئے جارہے ہیں، تاکہ ان کی جھوٹی سیادت قائم رہے۔ حق کا بول بالا نہ ہو، اور یہ اپنی جن خواہشات کی پیروی کرتے ہیں وہ بدستور کرتے رہیں، سو ان کی یہ چالبازیاں اور " اندر کچھ " اور باہر کچھ کی یہ پالیسیاں لوگوں سے تو مخفی و مستور رہ سکتی ہیں اور رہتی ہیں، لیکن اس ذات اقدس و اعلی سے کس طرح مخفی و مستور رہ سکتی ہیں جو کہ " علیم بذات الصدور " ہے ؟۔ اور جو نہاں وعیاں کو ایک برابر جاننے والی ذات اقدس ہے ؟ سبحانہ و تعالیٰ ، فلہ الحمد ولہ الشکر، جل وعلا، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو الھادی الی سواء السبیل، فعلیہ نتوکل و بہ نستعین، وفی کل ان و حین، وھو العزیز الرحیم۔
Ayah 86:16(12) منکرین کی چالبازیوں کے توڑ کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی ان چالبازیوں کے توڑ کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا " اور میں اپنی چال چل رہا ہوں "۔ یعنی ان کی چال کے توڑ کے لیے اور اس کے جواب میں، اور وہ چال یہ ہے کہ میں ان کو ڈھیل دیئے جا رہے ہوں، جس سے یہ اور مست ہو کر گمراہی میں پکے اور دائمی عذاب میں پھنستے جارہے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ ہمیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ وَأُمْلِیْ لَہُمْ إِنَّ کَیْْدِیْ مَتِیْنٌ ( القلم 45 پ 29) یعنی میں ان کو ڈھیل دے تم ہوں یقینا میری چال بڑی ہی سخت اور انتہائی مضبوط ہے اور اتنی سخت اور اس قدر مضبوط کہ کوئی اس کا مقابلہ تو کیا کرے گا، کسی کو اس کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ قدرت کے شکنجے میں کسا جارہا ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو ڈھیل دیئے جارہا ہوں۔ تاکہ اس طرح یہ لوگ اپنا پیمانہ اچھی طرح سے بھر لیں، اور جب پکڑے جائیں تو ان کے لیے عذر و معذرت کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے سو یہ مت کے مارے ہوئے تو اس ڈھیل کو اپنی کامیابی سمجھ رہے ہیں لیکن یہ اس حقیقت سے بیخبر ہیں کہ یہ اس استدراج کے پھندے میں پھنسے اور جکڑے ہوئے ہیں اور ایسے پھنسے اور جکڑے ہوئے ہیں کہ جتنی ان کی رسی دراز ہو رہی ہے اتنی ہی ان کی گرفت مضبوط ہو رہی ہے۔ سو یہ گویا اسی حقیقت کی دوسرے لفظوں میں وضاحت فرما دی گئی جس کو گزشتہ سورة میں " واللہ من ورائھم محیط " کے الفاظ سے بیان فرمایا گیا ہے، پس کفر و باطل اور معاصی وذنوب پر اللہ تعالیٰ کی گرفت و پکڑ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سے بچے رہنا کوئی خوشی کی بات نہیں، بلکہ یہ انتہائی ہولناک انجام کا پیشہ خیمہ ہے، جیسا کہ صحیح حدیث میں حضرت نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا جاتا ہے یہاں تک کہ جب اس کو پکڑتا ہے والعیاذ باللہ، تو پھر اس کو چھوڑتا نہیں، پھر آپ نے سورة ھود کی یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی وَکَذَلِکَ أَخْذُ رَبِّکَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَی وَہِیَ ظَالِمَۃٌ إِنَّ أَخْذَہُ أَلِیْمٌ شَدِیْدٌ ( ھود 102 پ 12) یعنی اسی طرح ہوتی ہے پکڑ تمہارے رب کی جبکہ وہ ظالم بستیوں کو پکڑتا ہے، یقینا اس کی پکڑ بڑی دردناک نہایت ہی سخت ہے، اللہ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین۔
Ayah 86:17(13) ہٹ دھرم منکرین سے بےاعتنائی برتنے کی ہدایت : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور ہٹ دھرم منکرین سے بےاعتنائی برتنے کی ہدایت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا " پس تم چھوڑ دو ان کافروں کو " یعنی ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو ، ان کا معاملہ ہمارے حوالے کردو، اور ان کی وجہ سے غم نہ اٹھاؤ کہ اپنے کفر و انکار کی وجہ سے یہ لوگ دائمی ہلاکت و تباہی کی جس راہ پر چلے جارہے ہیں وہ ان کے لیے کافی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا فَأَعْرِضْ عَن مَّن تَوَلَّی عَن ذِکْرِنَا وَلَمْ یُرِدْ إِلَّا الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا ( ، النجم 29 پ 27) یعنی " منہ موڑ لو ہر ایسے شخص سے جو پھر گیا ہماری یاد سے اور اس کا مقصود دنیاوی زندگی کے سوا کچھ رہ گیا، کہ ایسوں کے پیچھے لگنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ پس اس کا معاملہ ہمارے حوالے کردو، ہم ان سے خود ہی نپٹ لیں گے اور عدل و انصاف کے عین تقاضوں کے مطابق نمٹیں گے، سو عناد دھرمی محرومیوں کی محرومی ہے، والعیاذ باللہ العظیم من کل زیع و ضلال۔
(14) منکرین کی مہلت تھوڑی ہی سی ہوتی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ان کو مہلت دے، وہ تھوڑی سی مہلت "۔ یعنی دنیاوی زندگی کی یہ مہلت جو حیات اخروی کے مقابلے میں کچھ نہیں۔ یہ اپنے کفر و انکار اور عناد و ہٹ دھرمی کا بھگتان ہر حال میں بھگت کر رہیں گے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ایسوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا وَإِذْ قَالَ إِبْرَاہِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ ہَـَذَا بَلَداً آمِناً وَارْزُقْ أَہْلَہُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْہُم باللّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ قَالَ وَمَن کَفَرَ فَأُمَتِّعُہُ قَلِیْلاً ثُمَّ أَضْطَرُّہُ إِلَی عَذَاب النَّارِ وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ( البقرہ 126، پ 1) یعنی جس نے کفر کیا اس کو میں تھوڑا سا فائدہ پہنچا دوں گا پھر اس کو کشاں کشاں لے جاؤں گا دوزخ کے عذاب کی طرف اور بڑا ہی برا ٹھکانہ ہوگا وہ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کفر و انکار کا نتیجہ و انجام بڑا برا اور نہایت ہی ہولناک ہے، والعیاذ باللہ الذی لا الہ الا ھو ( پس آپ ان کے طعنوں اور مطالبات سے تنگ آکر ایسی تمنا نہیں کرنا کہ اللہ ان کا قصہ ہی تمام کر دے، کہ ان کی ڈھیل کا یہ مطلب نہیں کہ یہ کسی غیر محدود مدت کے لیے ہے۔ بلکہ یہ بہت تھوڑی سی ہے اس کے بعد یہ اپنے انجام کو بہرحال پہنچ کر رہیں گے، اور ان کی رسی ذرا سی دراز اس لیے کی گئی تاکہ جو چالبازیاں انہوں نے کرنی ہیں وہ کرلیں، اور اپنا پیمانہ جتنا بھرنا ہے بھر لیں، کہ ان کا یہ عیش بہرحال چند روزہ ہے، اور بس۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ایسوں کو خطاب کر رکے ارشاد فرمایا گیا کُلُوا وَتَمَتَّعُوا قَلِیْلاً إِنَّکُم مُّجْرِمُونَ ( المرسلات 46 پ 29) یعنی " تم لوگ تھوڑا سا عرصہ کھا پی لو اور کچھ عیش کرلو کہ تم لوگ یقینا مجرم ہو، اور ایسے مجرموں کو سخت عذاب بھگتنا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا نُمَتِّعُہُمْ قَلِیْلاً ثُمَّ نَضْطَرُّہُمْ إِلَی عَذَابٍ غَلِیْظٍ ( لقمان 24 پ 21) یعنی ان کو ہم تھوڑی سی ڈھیل دے رہے ہیں پھر ہم ان کو کشاں کشاں لے جائیں گے، ایک بڑے ہی سخت عذاب کی طرف، جہاں یہ اپنے کئے کرائے کا پورا پورا بدلہ پا کر رہیں گے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ پاک ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، وھو الھادی الی الحق والرشاد، ملھم الصدق والصواب، والیہ المرجع والمآب، فبہ ثقتنا وعلیہ الاعتماد، فی وجہ کل شر و فساد، وفع کل ظلم وعناد۔