Ayahs 86:1–6اللہ تعالیٰ نے آسمان کی اور چمکتے ہوئے ستارہ کی قسم کھا کر فرمایا کہ دنیا میں جو لوگ بھی رہتے اور بستے ہیں ان کے اعمال کی نگرانی کے لیے ہم نے فرشتے لگا رکھے ہیں ہر جان کے ساتھ فرشتہ لگا ہوا ہے۔ یہ فرشتے انسانوں کے اعمال کو لکھتے ہیں اور اعمالنامہ کو محفوظ کرلیتے ہیں پھر جب قیامت کا دن ہوگا تو یہ اعمال نامے انسانوں کے سامنے آجائیں گے۔ یہ حافظ ( کی ایک تفسیر ہے جو آیت کریمہ ﴿ وَ اِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَۙ0010﴾ کے مطابق ہے بعض مفسرین نے فرمایا ہے اس سے وہ فرشتے مراد ہیں جو ہر انسان کی حفاظت کے لیے مقرر ہیں جس کا سورة ٴ رعد کی آیت ﴿ لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ ﴾ میں ذکر ہے یعنی اللہ پاک نے ہر انسان کے لیے فرشتے مقرر فرما دیئے ہیں جو رات دن آفات سے انسان کی حفاظت فرماتے ہیں البتہ جو تکلیف مقدر ہے وہ تو پہنچ کر ہی رہے گی۔ سیاق کلام کے اعتبار سے پہلا معنی مراد لینا ہی اظہر و اقرب ہے کیونکہ قیامت کے دن کی آزمائش اور پیشی کا ذکر ہے چونکہ انسانوں کی موت کے بعد زندہ کرنے کے بارے میں شک و شبہ رہتا ہے اس لیے ان کے شبہ کو دور کرنے کے لیے یہ فرمایا، پھر فرمایا : ﴿ فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَؕ005﴾ (سو انسان غور کرے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے) ۔
پھر خود ہی اس کا جواب ارشاد فرمایا ﴿ خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍۙ006﴾ وہ ایک اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔
Ayahs 86:7–8﴿ يَّخْرُجُ مِنْۢ بَيْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآىِٕبِؕ007﴾ (وہ پانی پشت اور سینہ کے درمیان سے نکلتا ہے) ۔
اس میں یہ بتایا ہے کہ انسان نطفہ منی سے پیدا کیا گیا ہے جسے سورة ٴ الم سجدہ میں ماء مھین (ذلیل پانی) سے تعبیر فرمایا ہے۔
انسان جو قیامت کا منکر ہے اور یوں کہتا ہے کہ موت کے بعد کیسے اٹھائے جائیں گے اور مٹی میں ملے ہوئے ذرات آپس میں کیسے ملیں گے اس کا جواب دے دیا کہ تو دیکھ لے تیری اصل کیا ہے تجھے اپنی حقیقت اور نشوونما کا علم ہے پھر بھی ایسی باتیں کرتا ہے جس نے تجھے نطفہ سے پیدا فرمایا وہ دوبارہ بھی پیدا فرما سکتا ہے، اسی کو فرمایا : ﴿ اِنَّهٗ عَلٰى رَجْعِهٖ لَقَادِرٌؕ008﴾ (بلاشبہ وہ اس کے لوٹانے پر قادر ہے) ۔
سورة القیامہ میں فرمایا ﴿اَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِيٍّ يُّمْنٰىۙ0037 ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ0038 فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ0039 اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ يُّحْيِۧ الْمَوْتٰى (رح) 0040﴾ کیا انسان ایک قطرہ منی نہ تھا جو ٹپکایا گیا تھا، پھر وہ خون کا لوتھڑا ہوگیا پھر اس نے بنایا پھر اعضاء درست کیے پھر اس کی دو قسمیں کردیں، مرد اور عورت۔ کیا وہ اس بات پر قدرت نہیں رکھتا کہ مردوں کو زندہ کر دے۔
نطفہ منی کو ﴿ مَّآءٍ دَافِقٍۙ﴾ (اچھلتے ہوئے پانی) سے تعبیر فرمایا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ وہ پشت اور سینہ کے درمیان سے نکلتا ہے۔ عربی میں الصلب پشت کو کہتے ہیں اور الترائب جمع ہے تریبۃ کی، سینہ کی ہڈیوں کو ترائب کہا جاتا ہے۔ بچہ کی تخلیق مرد عورت دونوں کی منی کے امتزاج سے ہوتی ہے اور ماء دافق کا مفرد کا صیغہ لانا اس اعتبار سے ہے کہ مرد کا نطفہ ہی اصل ہے اور وہ دافق یعنی اچھلنے والا ہے اس کے بغیر تخلیق نہیں ہوتی۔ صاحب بیان القرآن نے یہ توجیہ کی ہے کہ دونوں نطفے مل کر چونکہ شئی واحد ہوجاتے ہیں اس لیے مفرد کا صیغہ لایا گیا اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ عورت کی منی میں بھی قدرت اندفاق یعنی اچھال ہوتا ہے۔
قال صاحب الروح و وصفہ بالدفق قیل باعتبار احد جزئیہ وھو منی الرجل وقیل باعتبار کلیھما ومنی المراة دافق ایضاً الی الرحم۔
عورت کی منی ہونا اور بچہ کی تخلیق میں اس کے مادہ منویہ کا شریک ہونا یہ تو حدیث شریف سے ثابت ہے۔
كما روی مسلم عن عائشة ؓ ان امراة قالت لرسول اللہ ﷺ : ھل تغتسل المراہ اذا احتملت وابصرت الماء ؟ فقال ” نعم “ فقالت لھا عائشة : تربت یداک : قالت فقال رسول اللہ ﷺ دعیھا۔ وھل یکون الشبہ الامن قبل ذلك۔ اذا علا ماؤھا ماء الرجل اشبہ الولد اخوالہ واذا علاماء الرجل ماء ھا اشبہ اعمامہ۔
مادیہ منویہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ پشت اور سینہ کے درمیان سے نکلتا ہے، یہاں اس طب جدید کی تحقیق کو سامنے رکھتے ہوئے کچھ اشکال کیا گیا ہے۔ اطباء کا کہنا ہے کہ نطفہ ہر عضو سے نکلتا ہے اور بچہ کا ہر عضو اس جزو نطفہ سے بنتا ہے جو مرد و عورت کے اسی عضو سے نکلا ہے۔ اگر اطباء کا کہنا صحیح ہو پھر بھی قرآن کی تصریح پر کوئی حرف نہیں آتا کیونکہ قرآن مجید میں نہ مرد عورت کی کوئی تخصیص فرمائی ہے اور نہ کلام میں کوئی حرف حصر موجود ہے جو یہ بتاتا ہو کہ نطفہ صرف پشت اور سینہ سے ہی نکلتا ہے، اگر سارے بدن سے نکلتا ہو تو پشت اور سینہ کا ذکر اس کے معارض نہیں ہے۔
البتہ یہ سوال رہ جاتا ہے کہ تمام اعضاء میں سے صرف پشت اور سینہ ہی کو کیوں ذکر فرمایا اس کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ سامنے اور نیچے کے اہم اعضاء کو ذکر کر کے سارے بدن سے تعبیر کردیا گیا۔
قال صاحب الروح وقیل لوجعل مابین الصلب والترائب کنایة عن البدن کلہ لم یبعد وکان تخصیصھا بالذکر لما انھا کالوعاء للقلب الذی ھو المضغة العظمی فیہ۔
Ayahs 86:9–12گزشتہ آیات میں انسان کی پیدائش بیان فرمائی اور یہ بھی بتایا کہ جس ذات پاک نے انسان کو ابتدائً ایسے ایسے پانی سے پیدا فرمایا وہ موت دینے کے بعد دوبارہ پیدا فرمانے پر بھی قادر ہے اس کے بعد دو آیتوں میں قیامت کے دن کی پیشی اور وہاں جو انسان کی مجبوری ہوگی اس کو بیان فرمایا۔ ارشاد فرمایا کہ جس روز انسان کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور محاسبہ کے لیے پیشی ہوگی اس وقت سری بھید کی چیزوں کی جانچ کرلی جائے گی۔ سارا کچا چٹھا سامنے آجائے گا جو بھی کچھ کیا تھا وہ نظر کے سامنے ہوگا۔
﴿وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا﴾ (اور جو کچھ کیا تھا سب حاضر پائیں گے) ۔
انسان کی بدحالی اور مجبوری کا یہ عالم ہوگا کہ نہ تو اسے عذاب کے دفعہ کرنے کی کوئی قوت ہوگی اور نہ اس کا کوئی مددگار ہوگا اس کے بعد آسمان اور زمین کی قسم کھائی اور قسم کھا کر قرآن کے بارے میں فرمایا کہ وہ فیصلہ کرنے والا کلام ہے فرمایا : قسم ہے آسمان کی جو بارش والا ہے اس کی طرف سے زمین پر بار بار بارش کا نزول ہوتا ہے اور قسم ہے زمین کی جو پھٹ جانے والی ہے (جب اس میں بیج ڈالا جاتا ہے تو پھٹ جاتی ہے اور اس سے پودے اور کھیتیاں نکل آتی ہیں) ۔
Ayahs 86:13–15﴿اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌۙ0013﴾ (بلاشبہ یہ قرآن ایک کلام ہے فیصلہ دینے والا) اس میں جو کچھ بتایا ہے سب صحیح ہے حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا ہے۔ ﴿ وَّ مَا هُوَ بالْهَزْلِؕ0014﴾ (اور یہ کوئی لغو چیز نہیں) ۔ ﴿ اِنَّهُمْ يَكِيْدُوْنَ كَيْدًاۙ0015﴾ (بلاشبہ یہ لوگ حق کو دبانے کے لیے قرآن سے خود دور رہنے اور دوسروں کو اس سے دور کرنے کے لیے طرح طرح کی تدبیریں کر رہے ہیں آپ کو تکلیف بھی دے رہے ہیں مکہ معظمہ آنے والوں کے راستہ میں بیٹھ کر انہیں آپ کے پاس آنے سے روکتے ہیں۔ قرآن کو شعر اور اساطیر الاولین بتاتے ہیں اہل ایمان کو مارتے پیٹتے ہیں۔
Ayahs 86:16–17﴿وَّ اَكِيْدُ كَيْدًاۚۖ0016﴾ (اور میں طرح طرح کی تدبیریں کرتا ہوں) ان لوگوں کی تدبیروں کا کاٹ مجھے معلوم ہے ان کی تدبیریں فیل ہوں گی میری تدبیر غالب آئے گی۔ ﴿ فَمَهِّلِ الْكٰفِرِيْنَ ﴾ (سو کافروں کو چھوڑیئے) یعنی ان کی حرکتوں سے غمگین نہ ہوجایئے۔ ﴿اَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا (رح) 0017﴾ (انہیں تھوڑے دنوں کے لیے مہلت دیجئے) ۔
اس میں رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ آپ غمگین نہ ہوں آپ اپنا کام کرلیجئے تھوڑے دنوں بعد ہم ان پر عذاب نازل کریں گے، ہر کافر کو موت کے بعد عذاب تو ہونا ہی ہے۔ موت سے پہلے بھی عذاب ہوسکتا ہے جیسا کہ قریش مکہ غزوہٴ بدر میں مبتلائے عذاب ہوئے۔
وھذا آخر سورة الطارق والحمد للہ العلی الخلاق