Ayah 86:1(1) قسم ہے آسمان کی اور قسم ہے رات میں ظاہر ہونے والے کی۔
Ayah 86:2(2) اور اے پیغمبر آپ کو کیا معلوم کہ وہ رات میں ظاہر ہونے والی کیا چیز ہے۔
Ayah 86:3(3) وہ روشن ستارہ ہے۔
Ayah 86:4(4) کہ کوئی شخص ایسا نہیں جس پر کوئی نگہبان مقرر نہ ہو۔ طارق کے معنی اصل میں کوٹنے والے کے ہیں پھر اس شخص پر بولا جانے لگا جو رات میں آکر دروازہ کھٹکھٹائے پھر کثرت استعمال کی وجہ سے ہر اس حادثے کو کہنے لگے جو رات میں پیش آئے۔
رات کے تخلیہ میں معشوق کے جو خیالات دل اور دماغ میں آتے ہیں ان کو بھی طارق کہنے لگے بہرحال ! یہاں طارق سے مراد وہ ستارہ ہے جو رات کو روشن اور بلند نظر اتٓا ہے اس سورت میں بھی مسئلہ معاد اور قیامت اور بعث کا ذکر کرنا مقصود ہے اس لئے اسی کی مناسبت سے قسمیں کھا کر فرماتے ہیں۔
قسم ہے آسمان کی اور قسم ہے طارق کی یعنی جو رات کے اندھیرے میں ظاہر ہونے والا ہے اس کی وضاحت فرمائی، اے پیغمبر آپ کو کیا معلوم ہے کہ وہ طارق کیا ہے وہ ایک روشن ستارہ ہے جو اپنے وقت مقررہ پر ظاہر ہوتا ہے کوئی شخص ایسا نہیں جس پر کوئی نگہبان مقرر نہ ہو، یعنی ہر شخص پر نگہبان موجود ہے خواہ کراماً کاتبین مراد ہیں یا وہ فرشتے مراد ہوں جو انسان کی حفاظت کرتے ہیں جیسا کہ سورة رعد میں گزر چکا ہے۔ لہ معقبت من بین یدیہ ومن خلفہ۔
یعنی حضرات نے فرمایا کہ حافظ سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس ہے وہی سب کا محافظ اور سب کا نگہبان ہے۔ ان الہ کا علیکم رقیباً لفظ علی اس معنی کا موید ہے کیونکہ لفظ علی متضمن ہے تفوق اور مہمینت کو۔
بہرحال مطلب یہ ہے کہ ہر چیز اپنے اپنے وقت پر نمایاں ہوتی ہے اور ہر چیز اپنی اپنی جگہ محفوظ ہے لہٰذا قیامت بھی اپنے وقت پر ظاہر ہوگی اور جب قیامت کا آنا یقینی ہے تو اس پر غور وفکر کرنا چاہیے اور اس کے دلائل کو سمجھنا اور سمجھ کر وقع قیامت کا یقین کرنا چاہیے۔
Ayah 86:5(5) سو انسان کو اس امر پر غور کرنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے بنایا گیا ہے۔
Ayah 86:6(6) وہ ایک اچھلٹے ہوئے پانی سے بنایا ہے۔
Ayah 86:7(7) جو پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے - اچھلتا ہوا پانی فرمایا نطفے کو جو مرد کے بدن سے کود کر نکلتا ہے جیسا کہ مشاہدہ ہے جو پیٹھ اور ترائب سے نکلتا ہے بعض مفسرین نے صرف مرد کی منی مراد لی ہے اور بعض نے صلب سے مرد کا مادہ منویہ لیا ہے اور ترائب سے مراد عورت کا مادہ منویہ لیا ہے کیونکہ ترائب جو تریبہ کی جمع ہے عورت کے سینے کی ہڈیوں کو کہتے ہیں جو لوگ مرد اور عورت دونوں کا مادہ کہتے ہیں وہ دونوں جگہ دفق کے قائل ہیں مرد میں زیادہ اور عورت میں کم۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہتے ہیں مرد کی منی آتی ہے پیٹھ سے اور عورت کی چھاتی سے ۔ وافق کو مفرد شاید اس لئے لائے کہ دونوں کے نطفے مل کر ایک ہی شکل اختیار کرلیتے ہیں حضرت حق تعالیٰ یہاں انسان کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ دیکھ جس پانی سے تو بنا ہے وہ کن دشوار اور سنگلاخ راستوں سے اور رگوں سے گزر کر یہاں تک یعنی عورت کے رحم تک پہنچتا ہے یا یوں سمجھو کہ نطفہ یا منی شریانی خون سے بنتی ہے اور شریان کا مخرج دل ہے اور دل صلب وترائب کے مابین واقع ہے۔
بہرحال ! قرآن کریم کو یہں کوئی طب کا مسئلہ بیان کرنا نہیں ہے جو یہ اعتراض کیا جائے کہ منی تمام بدن کانچوڑ ہے اور اس کا مرکز دماغ ہے وغیرہ وغیرہ۔
جن مقامات کا ذکر قرآن کریم نے کیا ہے ان دونوں کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ دونوں مقام یعنی پیٹھ اور سینہ تمام جسم انسان کے کنایہ ہیں اگر یہ تسلیم کرلیاجائے تو پھر کوئی شبہ نہیں رہتا اور اگر یہ بات نہ ہوتب بھی نخاع یعنی حرام مغز اس کے بہت سی شاخیں مقدم بدن کی طرف آئی ہوئی ہیں اور یہ دونوں مقام اس مادے کی جو دماغ سے چلتا ہے قابل ذکر گزرگاہ ہیں۔
بتانا یہ مقصود ہے جو اللہ تعالیٰ جسم انسانی کے نچوڑ سے آدمی کو پیدا کرتا ہے اور ایک پانی کے قطرے کو صفت حیات سے متصف کرسکتا ہے کیا وہ انسان کو دوبارہ پیدا کرسکتا اسی لئے آگے کی آیت میں ارشاد فرماتے ہیں۔
Ayah 86:8(8) بے شک وہ اللہ تعالیٰ اس انسان کے پھیرلانے پر قادر ہے یعنی دوبارا زندہ کرنے پر قادر ہے اور جب دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے تو قیامت کا وقوع مستبعد نہ رہا اب آگے قیامت کے وقوع اور اس کے حالات کا ذکر ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ پھیر لانے پر قادر ہے۔
بعض حضرات نے آیت کی اور طرح بھی تفسیر کی ہے لیکن ہم نے مشہور قول اختیار کی ہے۔
Ayah 86:9(9) جس دن تمام پوشیدہ بھید آشکارا ہوجائیں گے۔
Ayah 86:10(10) اس دن نہ تو انسان کو خود کوئی زور ہوگا اور نہ اس کی کوئی مدد کرنے والا ہوگا۔ یعنی سب کی مخفی باتیں آشکارا ہوجائیں گی بھید جانچے جانے کا مطلب یہی ہے کہ جو باتیں اور جو گناہ اور جو کمزوریاں اپنی ہوشیاری سے چھپا لیتا ہے اور کسی کو وہ کمزوریاں معلوم نہیں ہوتیں لیکن اس دن تمام پوشیدہ باتوں پر سے پردہ اٹھادیاجائے گا اور ہر چیز زیر بحث آجائے گی اور خفیہ سے خفیہ بات جانچی جائیگی پھر اس وقت یہ حالت ہوگی کہ نہ تو اس میں خود کوئی مدافعت کی طاقت ہوگی اور نہ کوئی مدد کرنے والا ہوگا کہ کسی بھید کی بات کو چھپا سکے۔
Ayah 86:11(11) قسم ہے آسمان بارش والے کی۔
Ayah 86:12(12) اور قسم ہے زمین کی جو پھٹ جاتی ہے۔
Ayah 86:13(13) بے شک یہ دو ٹوک بات ہے۔
Ayah 86:14(14) اور یہ کوئی لغو اور ہنسی کی بات نہیں ہے۔ یعنی بارش والے آسمان اور پھٹ جانے والی زمین کی قسم کھاتا ہوں۔ رجع کے معنی مینہ اور بارش کے ہیں یا چکر کھانے اور گھومنے والا، جیسا بعض حضرات نے کہا ہے چکر کھانے والا آسمان۔
بہرحال چکر کھانے والا یا بارش والا آسمان، زمین کا پھٹ جانا اور دڑاڑ کا پڑجانا، جیسا کھیتی آگتے وقت ہوتا ہے۔ جب دانہ پھوٹتا ہے تو ساتھ ساتھ زمین ابھرجاتی ہے اور اس میں شگاف پڑجاتا ہے یہ بات دوٹوک فیصل شدہ ہے یعنی معاد کی اور دوبارہ زندہ ہونے کی جو بات کہی ہے وہ دو ٹوک ہے جیسا کہ بعض نے کہا ہے یا یہ کہ یہ قرآن دوٹوک فیصلہ کرنے والا کلام ہے جیسا کہ بعض اہل تحقیق نے فرمایا ہے بہرحال یہ کوئی ہنسی اور مذاق کی بات نہیں ہے یا کوئی لغو اور باطل کلام نہیں ہے جیسا کہ دین حق کے منکر کہتے ہیں قول فیصل اس کلام کو کہتے ہیں جو حق کو باطل سے جدا کردے۔
انہ لقول فصل سے پر آن کا مراد لینا زیادہ راجح ہے کیونکہ معاد اور قیامت کے دلائل خود قرآن میں موجود ہیں ہم نے ترجمے میں راجح قول کو اختیار کیا ہے نیز قرآن کو بارش سے مناسبت بہت ہے اس لئے قسم اور جواب قسم میں مطابقت ہوجاتی ہے۔
آگے دین حق کے منکروں کی باطل تدابیر کا ذکر کیا اور اس کی جزا فرمائی۔
Ayah 86:15(15) بے شک یہ دین حق کے منکر مختلف چالیں چل رہے ہیں اور مختلف تدابیر اور مختلف دائوں کررہے ہیں۔
Ayah 86:16(16) اور میں بھی ان کی چالوں اور ان کے دائوں کے مختلف توڑکررہا ہوں - یعنی میں ان کو ڈھیل دے رہا ہوں ہم اس پر متعدد بار بحث کرچکے ہیں کہ جو کید یا مکر کفار کی طرف منسوب ہے اس کے اور معنی ہیں اور حضرت حق تعالیٰ کی طرف جو کید منسوب ہے وہ جواباً کید ہے ورنہ اس کید کی جزا ہے جو کفار کید کرتے ہیں۔
سورہ اعراب میں گزر چکا ہے واملی لھم ان کیدی متین بڑی خوبی کی بات یہ ہے کہ اس قسم کی تمام آیتوں کا ترجمہ ہم نے حضرت مفتی اعظم (رح) کے الفاظ میں کیا ہے یہ الفاظ بھی حضرت مفتی صاحب قبلہ کے بتائے ہوئے ہیں۔ (رح) تعالیٰ واد خلہ فی النعیم۔
Ayah 86:17(17) سو اے پیغمبر آپ ان کو مہلت دیجئے ان کو ان کی حالت پر اور تھوڑے دنوں کی مہلت دیجئے - یعنی جب میں ان کی تمام تدابیر اور مکروفریب کا توڑ کررہا ہوں تو آپ گھبرائیے نہیں اور عذاب طلب کرنے میں تعجیل نہ کیجئے اور ان کے معذب ہونے کی خواہش میں عجلت نہ کیجئے بلکہ ان کو یوں ہی رہنے دیجئے اور زیادہ دنوں کے لئے نہیں بلکہ تھوڑے دنوں کے لئے ان کو اور مہلت دے دیجئے پھر وقت آنے پر ان کو عذاب دیا جائے گا خواہ وہ دنیوی عذاب ہو اور سا کا وقوع قبل الموت ہو یا عذاب اخروی ہو اور بعد الموت ہو۔
بہرحال پیغمبر کو تسلی دی اور کفار کو وعید سنائی۔
تم تفسیر سورة الطارق