Ayah 87:1(1) اے پیغمبر آپ اپنے بلند اور سب سے بالا پروردگار کے نام کی پاکی بیان کیجئے۔
Ayah 87:2(2) وہ جس نے بنایا سو ٹھیک بنایا۔
Ayah 87:3(3) اور وہ جس نے اندازہ کیا پھر راہ دکھائی۔
Ayah 87:4(4) اور وہ جس نے چارہ نکالا۔
Ayah 87:5(5) پھر اس کو خشک و سیاہ کوڑا کردیا - اس پروردگار کے نام کی پاکی بیان کیجئے جو سب سے بلند وبالا ہے نام سے مراد یا تو حضرت حق مجدہ کی ذات مراد ہے جیسا کہ عرب کا قاعدہ ہے اور اکثر مفسرین نے یہی معنی کئے ہیں کہ اس کی ذات کو ہر قسم کی آلودگیوں سے پاک اور منزہ سمجھئے اور مسلمانوں کو بھی اس کی ہدایت فرمائیے کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی ذات کو منزہ سمجھیں اور اس کی تسبیح و تقدیس بیان کریں۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، اجعلوھافی سجودکم یعنی سجدوں میں سبحان ربی الاعلیٰ کہا کرو جیسا کہ رکوع میں سبحان ربی العظیم کہنے کا حکم دیا اور اگر یہاں اسم سے ذات مراد نہ لی جائے تب بھی یہ مطلب ہوگا کہ اس کے نام کو شرک کی آلودگی اور بتوں کے نام کی نجاست سے پاک اور منزہ رکھیے جس نے ہرچیز کو بنایا پھر ٹھیک بنایا یعنی ہر جاندار کو اس کے مناسب اور معتدل اعضاء عطا فرمائے اور جس نے جانداروں کے لئے مناسب چیزوں کا اندازہ لگایا پھر ان کو راہ بتائی یعنی ہر جاندار کے لئے ایک خاص قسم کا رزق تجویز کیا اور اس کے حاصل کرنے کا راستہ بتایا یا رحم کی مدت مقرر کی پھر باہر نکلنے کا راستہ بتایا یا سعادت و شقاوت کا اندازہ لگایا پھر ہر ایک کو اس تجویز کے موافق راستہ دکھایا اور ہر حیوان کے لئے وہ چیز مقرر کی جس کا وہ محتاج ہے پھر ان حیوانات کی اس چیز کے لئے رہنمائی فرمائی یا ہر شخص کے لئے کمال اور ترقی کا ایک اندازہ لگایا پھر اس کے حصول کی راہ بتائی غرض بہت سے معنی مفسرین نے کئے ہیں۔
خلاصہ : یہ کہ قدرت ہرچیز کے لئے جو اندازہ اور جو تجویز کرتی ہے اس کے حصول کی راہ بتادیتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اول تقدیر لکھی پھر اس کے موافق دنیا میں لایا۔ اسی سلسلے میں فرمایا وہ پروردگار وہ ہے جس نے اپنی قدرت کاملہ سے وہ چیزیں پیدا کیں جو جانور اور چوپائے چرتے ہیں یعنی جانوروں کے لئے چارہ نکالا پھر سردی اور گرمی کے اثرات سے اس کی رطوبت کو خشک کردیا اور وہ سبزی خشک ہوکر سیاہ ہوگئی جیسا کہ سبز رنگ کا قاعدہ ہے۔
بہرحال حضرت حق تعالیٰ کی الوہیت اور ان کے وجود پر استدلال کا یہ طریقہ ملت ابراہیمی میں رائج ہے امام فخرالدین رازی (رح) نے فرمایا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے فرمایا۔
الذی خلقنی فھو یھدین حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے جواب میں کہا ربنا الذی اعطی کل شیء خلقہ ثم ھداٰ نبی آخر الزماں (علیہ السلام) کو ارشاد ہوا والذی قدر فھدیٰ اور یہ جو فرمایا فجعلہ غثاء احویٰ ۔
اس کے متعلق بعض اہل اشارات نے فرمایا ہے کہ اس میں اس عالم کی بےثباتی اور دنیوی زندگی کی ناپائیداری کو ظاہر فرمایا کہ جس طرح سبز چارے کو خشک کردیتا ہے اسی طرح دنیوی تنعمات اور یہاں کی ہری بھری زندگی کو ختم کردیتا ہے۔
غثا اس کوڑے کو کہتے ہیں جو سیلاب کے زمانہ میں پانی کے اوپر بہتا ہے اور پانی کے جذب ہوجانے کے بعد ہوا میں اڑتا پھرتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ جانوروں کے چارے کو خشک کردیتا ہے تاکہ تم اس کو ذخیرہ کرسکو جیسا کہ سوکھی ہوئی گھاس کو ذخیرہ کیا جاتا ہے اور لاکھوں گانٹھیں ادھر سے ادھر بھیجی جاتی ہیں۔
Ayah 87:6(6) ہم آپ کو قرآن پڑھا دیا کریں گے پھر آپ اس کو نہیں بھولیں گے - یعنی جس قدر قرآن کریم ہم آپ پر نازل کرتے ہیں ہم اس کو یاد کرادیں گے پھر آپ اس کو نہیں بھولیں گے یہ شاید حضور ﷺ کو مشقت سے بچانے کے لئے ارشاد فرمایا جیسا کہ سورة قیامت میں گزر چکا ہے کہ آپ بھول جانے کے خوف سے جلدی جلدی پڑھتے تھے۔
اس لئے فرمایا کہ ہم آپ کو پڑھادیں گے یعنی یاد کرادیں گے اور پھر آپ بھولیں گے نہیں یہاں شاید اس لئے ذکر فرمایا کہ چونکہ دین کی تبلیغ مقصود ہے اور اوپر دین حنیف کا خلاصہ بیان فرمایا اس لئے تبلیغ کے سلسلے میں قرآن کی طرف سے اطمینان دلادیا کہ جو قرآن کا حصہ ہم آپ کو یاد کرادیں گے آپ اس کو فراموش نہیں کریں گے اور بھولیں گے نہیں۔
Ayah 87:7(7) مگرہاں جو اللہ تعالیٰ چاہے وہ ہر ظاہر و پوشیدہ کو جانتا ہے - یعنی جن آیات یا جس حصے کو منسوخ کرنا مقصود ہو اس کو بھلا دینا اس سے مستثنیٰ ہے جیسا کہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے ماننسخ من ایۃ اوننسھا اس پر وہاں ہم مفصل بحث کرچکے ہیں اور نسخ کے معنی بھی بتا چکے ہیں کہ کسی حکم کی مدت پوری ہوجانے کا نام نسخ ہے اسی کو حکم کا رفع ہوجانا بھی کہتے ہیں یہ مطلب نہیں کہ کسی حکم کو غلط سمجھ کر واپس لیے لیا (معاذ اللہ) جیسا کہ بعض جہلاء کہتے ہیں، بہرحال نسخ کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اس حکم کو سینوں سے فراموش کردیا جائے اور وہ حکم کسی کو یادی ہی نہ رہے۔ نہ پیغمبر کو نہ پیغمبر کے ساتھیوں کو اسی لئے اس کو مستثنیٰ کردیا کہ ہمارے یاد کرادینے کی بعد آپ بھولیں گے نہیں مگر ہاں جس آیت کو ہم خود بھلانا اور جس حکم کو ہم خود بھلانا چاہیں وہ چاہیں تو بھلا دیں ۔ اور یہ جو فرمایا کہ وہ ظاہر اور پوشیدہ کو خوب جانتا ہے یعنی تمہارے کمال اور تمہاری استعداد ظاہری اور باطنی سے وہ خوب واقف ہے اور وہ تمہارے ہر قول اور ہر فعل کو خواہ وہ ظاہر ہو یا پوشیدہ خوب جانتا جس حکم کو تمہارے حافظ میں محفوظ رکھنا مصلحت ہوتا ہے اس کو محفوظ رکھتے ہیں اور اگر ان کی حکمت کا تقاضا بھلانے کا ہوتا ہے تو اس کو بھلا دیتے ہیں کیونکہ وہ تمہارے تمام اعمال سے واقف ہیں۔
Ayah 87:8(8) اور ہم اس دین کے لئے آپ کو آسانیاں بہم پہنچائیں گے۔ یسریٰ کے معنی بعض مفسرین نے شریعت کئے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی وحی کا یاد کرنا آسان ہوجائے گا۔ بہرحال ! دین یا شریعت جو حقیقت میں آسان ہے اس کو تبلیغ کے لئے ہر پیغمبر آسانیاں طلب کرتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قول مشہور ہے ویسرلی فی امری یعنی میرے کام میں آسانیاں بہم پہنچا، یہاں اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمادیا ونیسرک للیسری یعنی ہم بتدریج آپ کو آسانی تک پہنچا دیں گے وحی کی حفاظت ہو یا دین یسر کی تبلیغ ہو، نوفقک للشرایعۃ الیسری۔
بہرحال آپ کے کام میں آسانیاں پیدا کی جائیں گی وہ تبلیغ ہو یا تنظیم ہو یا سیاسی امور کی دیکھ بھال ہو نبی کریم ﷺ نے فرماایا الدین یسر بہرحال دین کی اشاعت اور اس کی عام مقبولیت میں آپ کو بتدریج کامیابی ہوگی۔
Ayah 87:9(9) سو اگر نصیحت کرنا کچھ مفید اور نافع ہوتا ہو تو آپ نصیحت کرتے رہیے۔ یہاں مفہوم مخالف معتبر نہیں ہے جیسا کہ قرآن میں بہت جگہ ایسا ہے کہ وہاں عدم تحقق شرط مشروط کے غیر متحقق ہونے کو مستلزم نہیں۔
سوہ نور میں گزر چکا ہے ولا تکرھوا فتیاتکم علی البغاء ان اردن تحصنا کا یہ مطلب نہیں کہ اگر لونڈیاں عصمت وعفت کا ارادہ نہ کریں تو ان کو زنا کرانے مجبور کرو۔ بعض حضرات نے تذکیر اور وعظ میں اور ربات احکام میں فرق کیا ہے اور کہا ہے کہ حضرت ﷺ کے لئے تذکیر اور وعظ ضروری نہیں بلکہ آپ کے لئے حکم الٰہی کا پہنچانا اور ڈرانا ضروری ہے خواہ کوئی قبول کرے یا نہ کرے مطلب یہ ہے کہ الزام حجت کیلئے تبلیغ احکام اور اندار تو ہر شخص کو کرنا چاہیے خواہ وہ مانے یا نہ مانے لیکن وعظ و تذکیر امر اختیاری ہے جہاں نافع ہو وہاں کریں جہاں مفید نہ ہو نہ کریں۔
جیسا کہ آگے سورة غاشیہ میں آتا ہے الامن تولیٰ وکفر۔
بہرحال انذار اور تبلیغ احکام میں یہ شرط نہیں ہے صرف وعظ و تذکیر میں یہ شرط ملحوظ ہے اور تذکیر میں یہ شرط تذکیر کی تاکید کے لئے ہے یعنی اگر کسی کی تذکیر نفع دے تو آپ ضرور تذکیر کیجئے اور یہ امر یقینی ہے کہ تذکیر عالم میں کسی نہ کسی کو نفع دے گی یعنی فی نفسہ تذکیر مفید ہے۔
جیسا کہ والذاریات میں گزر چکا ہے وذکر فان الذکری تنفع المومنین
اگر کسی چیز کو ایسی شئے پر معلق کیا جائے جس کا واقع ہوناضروری ہو تو یہ شرط محض تاکید کے حکم میں ہوتی ہے ہکذا قال الشاہ عبدالعزیز الدہلوی (رح)
Ayah 87:10(10) وہی شخص جلدی نصیحت قبول کرتا ہے جو ڈرتا ہے - یعنی وہی شخص سمجھائے سے سمجھتا ہے جس کے دل میں خدا کا ڈر ہو اور وہ اپنے انجام کی فکر رکھتا ہو۔
Ayah 87:11(11) اور وہ جو بڑا بدبخت اور سخت بدنصیب ہو وہی اس نصیحت سے بچتا اور بھاگتا ہے۔ یعنی جو شقی القلب ہے اور جو بدنصیب ہے اور جس کو انجام کا ڈر نہیں وہ نہیں سمجھتا بلکہ نصیحت سے بچتا اور پہلو بچاتا ہے۔
Ayah 87:12(12) وہ جو بڑی آگ میں داخل ہوگا یعنی آخر کار یہ بدبخت اور بدنصیب بڑی آگ یعنی جہنم کی آگ میں داخل ہوگا بڑی آگ فرمایا جہنم کو وہ آگ دنیا کی آگ سے تحمیت اور کیفیت دونوں میں بڑی ہے۔ العیاذ منھا ۔
Ayah 87:13(13) پھر وہ اس آگ میں نہ مرے گا اور نہ جئے گا - یعنی موت تو آنے ہی کی نہیں اور حیات بھی مثل لاحیات ہوگی وہ زندگی جس سے آدمی موت کو لاکھ درجے بہتر سمجھتا ہو وہ زندگی نہ جینے کے برابر ہے آگے ڈرنے والوں کی تفصیل ہے۔
Ayah 87:14(14) یقینا وہ شخص کامیاب ہوا اور من مانی مراد کو پہنچا جو پاک ہوگیا۔ یعنی قرآن سن کر عقائد خبیثہ اور اخلاق رذیلہ سے پاک ہوگیا اور اپنی اصلاح کرلی۔
Ayah 87:15(15) اور وہ اپنے پروردگار کا نام لیتا اور نماز پڑھتا رہا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا رہا اور نماز پڑھتا رہا ہوسکتا ہے کہ نماز سے مراد یہاں عید کی نماز اور پروردگار کے نام کو یاد کرنے سے مراد تکبیرات عیدہوں اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد۔
جیسا کہ متقدمین سے مروی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تزکی سے مراد صدقہ فطر ہو یعنی وہ شخص کامیاب ہوا جس نے صدقہ فطرانہ ادا کیا اپنے رب کے نام کو یاد کیا اور نماز پڑھی یا اپنے کو اخلاق رذیلہ سے پاک کیا تکبیر تحریمہ میں اپنے پروردگار کا نام لیا اور نماز پڑھی۔
مفسرین کے نزدیک یہ قول راجح اور صحیح ہے آگے منکروں کا ذکر ہے کہ تم قرآن کو سن کر ایمان نہیں لاتے اور آخرت سے غفلت برتتے ہو۔
Ayah 87:16(16) بلکہ اے منکرو ! حقیقت یہ ہے کہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو اور مقدم رکھتے ہو۔
Ayah 87:17(17) حالانکہ آخرت بدرجہا بہتر اور باقی رہنے والی ہے - یعنی تم نے دنیوی زندگی کو اختیار کررکھا اور اعتقاداً اور عملاً آخرت کو نظرانداز کررکھا ہے حالانکہ آخرت دنیا سے کہیں بہتر اور پائیدار ہے تعجب ہے کہ جو چیز ہر اعتبار سے افضل ہے اس کو چھوڑ رکھا ہے اور جو چیز مفضول اور گھٹیا ہے اسے اختیار کررکھا ہے۔
Ayah 87:18(18) بلاشبہ یہ مضامین گزشتہ صحیفوں میں بھی موجود اور مندرج ہیں
Ayah 87:19(19) جو ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفے ہیں - یعنی قدافلح من تزکیٰ سے لے کر خیر وابقی تک صرف قرآن ہی کا دعویٰ اور مضمون نہیں بلکہ پہلے اوراق اور گزشتہ صحائف میں بھی یہ مضمون ذکر کیا گیا ہے ان صحائف سے مراد حضرت الراہیم (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے صحائف ہیں۔ حضرت ابوذر ؓ نے دریافت کیا یارسو اللہ ﷺ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ پر کوئی ایسی چیز بھی نازل فرمائی ہے جس کا سابقہ صحائف میں ذکر ہو۔
آپ ﷺ نے فرمایا قدافلح من تزکیٰ سے پڑھ یہاں تک انہوں نے آخر آیت تک پڑھا۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہے آپ عام طریقہ سے وتروں میں سو رہ اعلیٰ اور سو رہ کافرون اور سورة قل ہو اللہ احد پڑھا کرتے تھے۔
تم تفسیر سورة ا الاعلیٰ